السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کشف المحجوب

حصہ ۹ — چودھواں باب

حصہ ۹
صفحہ ۳۲۸

چودھواں باب

صوفیاء کے مختلف مکاتیب و مذاہب

قبل اس کے میں نے حضرت ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ کے ذکر میں بتایا تھا کہ صوفیائے کرام میں بارہ فرقے ہیں۔ ان میں سے دو فرقے مردود ہیں اور دس مقبول۔ یہ دس فرقے اعمال و طریقت میں نیک ہیں اور مجاہدہ و ریاضت میں ان کے آداب لطیف ہیں، مشاہدہ میں قوی الحال ہیں، اگرچہ ان کے مجاہدہ و ریاضت کے طریقوں میں اختلاف ہے۔ مگر اصول و فروعِ شرع میں اور عقیدۂ توحید میں سب متفق ہیں۔

حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اِخْتِلَافُ الْعُلَمَاءِ رَحْمَةٌ اِلَّا فِیْ تَجْرِیْدِ التَّوْحِیْدِ۔ "علماء کا اختلاف رحمت ہے مگر تجریدِ توحید میں سب کا اتفاق ہونا ضروری ہے۔" اور اس مضمون کے موافق ایک حدیث مشہور ہے۔

تو یہی اختلافِ عمل فی المجاہدہ والریاضت تصوف میں ہے اور روایات مشائخ میں تو درحقیقت سب متفق ہیں اور از روئے مجاز مختلف۔

اب میں یہاں بر سبیلِ اختصار مشائخ کے اقوال کے ساتھ اُن اختلافات کو تقسیم کروں گا اور ہر ایک کی وضاحت کے لیے ایک بساط بچھاؤں گا تاکہ آسانی سے سمجھ سکیں اور علماء کی اس سے اصلاح ہو اور مریدوں کے لیے اُس سے فائدہ اور محبوں کو کامیابی اور اہلِ عقل کو اس کا اندازہ اور تنبیہ ہو اور میرے لیے اس خدمت کا ثواب دونوں جہان میں ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔

فرقۂ محاسبیہ

فرقۂ محاسبیہ کا تعلق ابو عبد اللہ بن اسد محاسبی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ آپ بہ اتفاقِ صوفیاء کرام مقبولِ زمانہ اور مقتولِ نفس تھے اور علومِ اصول و فروع و حقائقِ تصوف میں بڑے ماہر، تجریدِ توحید کی حقیقت جاننے والے اور معاملاتِ ظاہری و باطنی میں نہایت ثابت قدم۔

آپ کا عقیدہ تھا کہ راضی برضا رہنا، یہ کوئی مقامِ تصوف نہیں ہے بلکہ یہ صوفی کا ایک حال ہے۔ مقامِ رضا کو مقام نہ ماننے کا دعویٰ سب سے پہلے آپ نے فرمایا۔ پھر اہلِ خراسان نے اُسے قبول کیا۔ پھر اہلِ عراق نے اس کا ردّ کیا اور کہا کہ رضا یقیناً ایک مقام ہے جو مقامِ توکل کا

۳۲۹

منتہیٰ ہے اور آج تک یہ اختلافِ عراقی اور خراسانیوں میں چلا آ رہا ہے۔ اب ان شاء اللہ اس قول کی شرح ہم کرتے ہیں۔

حقیقتِ رضا

اوّل ہم رضا کی حقیقت بیان کریں اور اس کی اقسام بتائیں (تاکہ متنازع فیہ کو سمجھنے سے مسئلہ واضح ہو جائے) اس کے بعد حال اور مقام کی وضاحت کی جائے گی۔ اوّل کتاب و سنت میں تحقیقِ رضا کے متعلق تصریح موجود ہے، وہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا

﴿رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ﴾ "اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں۔" اور فرمایا: ﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ﴾ "بے شک اللہ راضی ہوا مومنین سے، جب کہ انہوں نے تجھ سے بیعت کی شجر کے نیچے۔"

حضور سید یوم النشور ﷺ نے فرمایا

ذَاقَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰهِ رَبًّا۔

"اس نے ذائقۂ ایمان کا لطف حاصل کر لیا جو راضی ہوا اللہ کی ربوبیت پر۔"

اور رضا کی دو قسمیں ہیں: ایک رضاءِ حق جل و علا بندہ کے ساتھ اور ایک رضاءِ بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ تو رضاءِ حق تعالیٰ جو بندہ سے ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ سے حق تعالیٰ راضی ہو کر اُسے ثواب اور نعمتِ جنت اور کرامتِ عرفان عطا فرمائے۔ اور رضاءِ بندہ بحق تعالیٰ کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے فرمان پر قائم ہو کر گردنِ اطاعت جھکائے رکھے تو رضاءِ حق مقدم رضاءِ بندہ ہے۔

حتیٰ کہ جب تک رضاءِ حق بندہ کو توفیقِ اطاعت و امتثالِ امر نہ ملے، بندہ کبھی اُس کے حکم کے آگے سر جھکا نہیں سکتا اور اس کی مرضی پر قائم نہیں رہ سکتا۔

اس لیے کہ رضاءِ بندہ مقرون برضاءِ حق ہے اور رضاءِ بندہ کا قیامِ رضاءِ حق کے ساتھ نسبت حاصل ہونے پر ہے اور بندہ کی رضاء اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کا دل مستوی و مستقیم نہ ہو جائے قضائے الٰہی کے دونوں پہلوؤں پر۔ اس لیے کہ قضاءِ الٰہی کا ایک پہلو منعِ نعمت و فرحت ہے۔ دوسرا پہلو عطا و بخشش ہے۔

رضا کے محور پر بندہ کا قیام تب صحیح ہوتا ہے جب کہ وہ عطا و منع دونوں کا نظارہ چشمِ دل سے اس طرح کرے جس طرح احوالِ عالم کا نظارہ کیا جاتا ہے (یعنی عطا پر خرمی و شادی اور منع کرنے پر

۳۳۰

رنج و تعب اس کے دل پر اثر پذیر نہ ہو)۔ گویا شانِ جلالی یا شانِ جمالی جو بھی اُس کے مشاہدہ میں آئے اس پر اُس کی رضا کا مشاہدہ ہو۔

یعنی جب کہ اُسے منعِ نعمت یا عطائے نعمت کا علم ہو تو احساسِ شادی و غم سے مقدم وہ سابق برضا ہو اور ایسا راضی ہو کہ دونوں کیفیتیں اُس کے مساوی ہوں۔ خواہ آتشِ ہیبت و جلالِ حق میں جلایا جائے یا نورِ لطف و جمال میں منور کیا جائے۔ راضی برضا کے لیے جلنا اور مستعیر ہونا دونوں زبان و دل سے یکساں ہوں۔ اس لیے کہ راضی برضا شاہدِ حق ہوتا ہے اور من جانبِ حق جو ہوتا ہے، سب اچھا ہی ہوتا ہے۔

حضرت امیر المومنین شہزادۂ گلگوں قبا، شہیدِ دشتِ کربلا امام حسین بن علی سید الشہداء رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ سے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے اس قول کے متعلق سوال کیا گیا جو انہوں نے کہا تھا

اَلْفَقْرُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنَ الْغِنَاءِ وَالسَّقَمُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنَ الصِّحَّةِ۔

"مجھے درویشی تو انگری سے زیادہ پیاری ہے اور بیماری تندرستی سے زیادہ محبوب ہے۔"

تو حضرت شہزادہ صاحب نے فرمایا: رَحِمَ اللّٰهُ اَبَا ذَرٍّ، اَمَّا اَنَا فَاَقُوْلُ مَنْ اَشْرَفَ عَلٰی حُسْنِ اِخْتِیَارِ اللّٰهِ لَمْ یَتَمَنَّ غَیْرَ مَا اخْتَارَ اللّٰهُ لَهٗ۔ "اللہ رحم فرمائے ابو ذر پر اور اُن پر رحمتیں ہوں، لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ جو کچھ اللہ جل شانہٗ کے حسنِ اختیار سے پہنچے، اس کے سوا میں ہرگز تمنا نہ کروں، سوا اس کے جو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اختیار فرمایا۔"

اس لیے کہ جب بندہ اختیارِ الٰہی کو دیکھ چکا اور اپنے اختیارات سے اعراض کر چکا تو تمام اندوہ و ملال سے آزاد ہو گیا۔ اور یہ عقیدہ مقامِ غیبت میں کبھی صحیح نہیں ہوتا۔ اس یقین و اطمینان کے لیے حضور و شہود چاہیے۔ لِاَنَّ الرِّضَاءَ لِلْاَحْزَانِ نَافِیَةٌ وَلِلْغَفْلَةِ مُعَالِجَةٌ شَافِیَةٌ۔ "اس لیے کہ رضا مردِ خدا کو اندوہ و غم سے آزاد کر دیتی ہے اور غفلت سے چھڑا دیتی ہے اور اندیشۂ غیر کو دل سے زائل کر دیتی ہے اور قید و بندِ مشقت سے آزاد کر دیتی ہے۔" اس لیے کہ رضا کی صفت "رہانیدن" ہے یعنی بری و آزاد کر دینا۔ لیکن معاملۂ رضا کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ علمِ الٰہی کے ساتھ منع و عطا کو سمجھ کراسی کے علم پر قانع اور شاکر ہو جائے اور اس کا عقیدہ اس حال میں یہ ہو کہ تمام حالات کا دانا و بینا وہی ربّ جل مجدہٗ ہے۔

اس مسئلہ میں صوفیائے کرام کی چار اقسام ہیں

۳۳۱

☆ ایک گروہ وہ ہے جو راضی بحق ہے عطاءِ محبوب پر اور یہ درجۂ معرفت ہے۔

☆ ایک گروہ وہ ہے جو راضی ہے نعماءِ الٰہی پر اور یہ درجۂ دنیا ہے۔

☆ ایک گروہ وہ ہے جو راضی ہے بلا پر اور یہ درجۂ محنت و مجاہدہ ہے۔

☆ ایک گروہ تو وہ ہے جو راضی ہے اصطفا پر اور یہ درجۂ محبت ہے۔

وہ گروہ جو معطی سے عطا کو دیکھ کر بجان و دل قبول کر رہا ہے، اس کے دل سے کلفت و مشقت قطعی زائل ہو جاتی ہے۔ اور وہ گروہ جو عطا کو بمتی عطا دیکھ رہا ہے اور عطا کنندہ پر نظر رکھتا ہے وہ عطا پر رہ جاتا ہے اور بتکلف راہِ رضا کو عبور کرتا ہے۔

اس رضا میں سب رنج و تعب مستولی ہوتے ہیں اور معرفت اس وقت حقیقت بنتی ہے جب بندہ معرفتِ الٰہی میں مکاشفہ ہوتا رہے۔ اور جب معرفت اس کے لیے جس وحجاب ہو تو وہ معرفت ناشنا سائی ہوتی ہے۔ اور نعمت، قمت ہو جاتی ہے اور عطا، غطا بن جاتی ہے۔ اور جو خدا تعالیٰ سے دنیا پر راضی ہوتا ہے، وہ ہلاکت وزیاں کاری میں ہے اور بندہ کی یہ رضا سببِ بے نصیبی ہے بلکہ یہ رضا جہنم ہے۔ اس لیے کہ دنیا راز ہائے حق کے مقابلے میں کوئی قیمت نہیں رکھتی پھر اپنے دل کی دوستی کو اس میں ضائع کرے اور قسم قسم کے اندوہ اس کے ضمیر پر گزر کریں۔

نعمت اس وقت نعمت ہوتی ہے جس وقت راہِ منعم کی راہنمائی کرے اور یہ نعمت، منعم سے حجاب بنے تو وہ نعمت بلاءِ محض ہے۔ اور وہ اس ربّ مجید کی بلا پر راضی ہے، وہ وہ گروہ ہے کہ ہر بلا میں مبتلی کو دیکھتا ہے تو ہر قسم کی مشقت و تکلیف مشاہدۂ جمالِ یار کی مسرت میں وہ برداشت کر لیتا ہے، بلکہ وہ رنج اس مسرت سے جو مشاہدۂ جمالِ دوست سے حاصل ہوتی ہے رنج نہیں رہتا۔

اور وہ گروہ جو اصطفاء حق سے راضی ہے وہ محبانِ حق ہیں۔ یہ حالتِ رضا میں اور سخط و غضب میں بھی راضی رہتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی ہستی عاریت ہوتی ہے۔ یہ اپنی منازلِ دل کو سوائے حضرت جلت مجدہٗ عزّ اسمہٗ کے کہیں نہیں دیکھتے اور اپنی سرِ پردۂ اسرار کو سوائے روضۂ الفتِ محبوب کہیں نہیں پاتے۔ یہ حاضر ہوتے ہیں اور بظاہر غائب۔ یہ عرشی ہوتے ہیں اور بظاہر فرشی۔ روحانی ہوتے ہیں اور بظاہر جسمانی۔ لوگوں میں ہوتے ہیں مگر درحقیقت ربّانی تجلیات میں رہتے ہیں۔ مقامات و حالات میں ہوتے ہیں مگر ان کا دل منقطع ہوتا ہے۔ مخلوقات سے قطعِ تعلق کیے ہوئے دوست کے لیے کمر بستہ اور سر بکف حاضر۔

﴿وَلَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّلَا حَیٰوةً وَّلَا نُشُوْرًا﴾

۳۳۲

"وہ اپنے نفسوں کے لیے ضرر اور نفع کے مالک نہیں ہوتے اور نہ موت و حیات اور نشر کے۔" تو خدا کے سواغیر پر راضی ہونا خالص زیاں کاری ہے اور اس کی ذات کے ساتھ رضا میں خالص رضوانِ حق ہے، اس لیے کہ راضی ہونا مملکتِ دنیا اور ہدایت و عافیت ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا

مَنْ لَمْ یَرْضَ بِاللّٰهِ وَبِقَضَائِهٖ شَغَلَ قَلْبُهٗ وَتَعِبَ بَدَنُهٗ۔

"جو خدا اور خدا کی قضا پر راضی نہیں، اس کا دل مشغول بہ اسباب و نصیب ہے اور اس کا بدن اس کی طلب میں غمگین۔"

احادیث میں وارد ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا

اَللّٰهُمَّ دُلَّنِیْ عَلٰی عَمَلٍ اِذَا عَمِلْتُ رَضِیْتَ عَنِّیْ، فَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: اِنَّكَ لَا تُطِیْقُ ذٰلِكَ یَا مُوْسٰی، فَخَرَّ مُوْسٰی عَلَیْهِ السَّلَامُ سَاجِدًا مُتَضَرِّعًا، فَاَوْحَی اللّٰهُ اِلَیْهِ: یَا ابْنَ عِمْرَانَ اِنَّ رِضَائِیْ فِیْ رِضَاءِكَ لِقَضَائِیْ۔

"الٰہی! مجھے وہ عمل کرنے کی راہنمائی فرما جسے میں کروں، تُو مجھ سے راضی ہو جا۔ جنابِ باری تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا: اے موسیٰ! تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ تو موسیٰ علیہ السلام سجدے میں گر پڑے اور تفرع و زاری شروع کی۔ پھر جنابِ باری عزّ و جل نے آپ کو وحی فرمائی کہ اے ابنِ عمران! میری رضا و خوشنودی اسی میں ہے کہ تو میری قضا پر راضی رہے۔"

یعنی جب بندہ قضا و قدرِ الٰہی کے ساتھ راضی ہو جاتا ہے تو یہ اس امر کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے۔

حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ زہد اعلیٰ درجہ ہے یا رضا۔ حضرت فضیل نے فرمایا: اَلرِّضَاءُ اَفْضَلُ مِنَ الزُّهْدِ لِاَنَّ الرَّاضِیَ لَا یَتَمَنّٰی فَوْقَ مَنْزِلَتِهٖ۔ "رضا کا درجہ زہد سے بلند ہے، اس لیے کہ راضی برضا کی کوئی تمنا نہیں ہوتی اور زاہد میں تمنا ہوتی ہے۔"

یعنی منزلِ زہد پر ایک اور منزل ہے جس کی تمنا زاہد کرتا ہے اور رضا پر کوئی منزل نہیں جس کی تمنا راضی برضا کرے۔ تو پیش گاہ اس سے افضل ہے جو ابھی پایگاہ ہے (یعنی حاضرِ دربار اس

۳۳۳

سے افضل ہے جو ابھی حاضر ہونے کی سعی میں ہے۔)

یہ حکایت اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت محاسبی رحمۃ اللہ علیہ کا قول صحیح ہے کہ "رضا از حجلۂ احوال است۔" یعنی رضا منزل نہیں ہے بلکہ ایک حال ہے اور یہ حال وہی ہے جو مواہبِ الٰہیہ سے عطا ہوتا ہے نہ کہ کسبی، کہ مکاسب کے ذریعہ منازل پر پہنچا اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ راضی برضا کی کوئی تمنا نہیں ہوتی۔

حضور ﷺ کے متعلق روایت ہے کہ حضور ﷺ اپنی دعاؤں میں فرمایا کرتے تھے: اَسْاَلُكَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ "الٰہی میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے راضی رکھ اُس حال پر جو تیری قضا کے ذریعے مجھ پر آئے۔" یعنی مجھے ایسی صفت سے متصف کر کہ جب تیری طرف سے وہ قضا وارد ہو جو میرے لیے مقدر تھی، تو تُو مجھے راضی پائے۔

اس حدیث سے یہ امر بھی ثابت ہو گیا کہ رضا قبلِ ورودِ قضا صحیح نہیں ہے اس لیے کہ قبلِ ورودِ قضا جو رضا ہے وہ محض عزم ہے اور عزمِ رضا، عینِ رضا نہیں ہے۔

حضرت ابو العباس بن عطا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

اَلرِّضَاءُ نَظَرُ الْقَلْبِ اِلٰی قَدِیْمِ اخْتِیَارِ اللّٰهِ لِلْعَبْدِ۔

"بندے کے لیے رضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اختیارِ قدیم کے ساتھ اپنے دل کی نگہداشت کرے۔"

یعنی جو کچھ اُسے پہنچے اس میں یقین رکھے کہ مختارِ کائنات ربِّ مجید کے اختیارِ قدیم اور مقدر حکم کے ساتھ پہنچا ہے۔ اس سے نہ مضطرب ہونہ خرم و شاد۔

حضرت حارث محاسبی رضی اللہ عنہ صاحبِ مذہب فرماتے ہیں

اَلرِّضَاءُ سُكُوْنُ الْقَلْبِ تَحْتَ مَجَارِی الْاَحْكَامِ۔

"رضا سکونِ قلب کا نام ہے جو احکام کے راستوں کی طرف سے دل میں ہو۔"

اس تعریف کے تحت بھی حارث محاسبی کا مذہب قوی ہے۔ اس لیے کہ سکون و طمانیتِ قلب بندہ کے کسب سے نہیں بلکہ مواہبِ الٰہیہ کے ساتھ ہے۔ جب تک وہ سکون من جانبِ اللہ عطا نہ ہو، ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اور حضرت محاسبی رحمۃ اللہ علیہ دلیل کرتے ہیں کہ رضا حال بندہ کا نام ہے نہ مقام کا۔

۳۳۴

حضرت عتبہ الغلام ایک رات نہ سوئے اور صبح تک عرض کرتے رہے

اِنْ تُعَذِّبْنِیْ فَاَنَا لَكَ عَبْدُكَ مُحِبٌّ وَاِنْ تَرْحَمْنِیْ فَاَنَا لَكَ مُحِبٌّ۔

"اگر تو مجھے عذاب دے تو بھی میں تیرا بندہ و محبِّ فرمان بردار ہوں اور اگر رحم فرمائے تو مطیع فرمان و محب ہوں۔"

اگر بخشے زہے قسمت، نہ بخشے تو شکایت کیا سرِ تسلیم خم ہے، جو رضاءِ یار میں آئے

یعنی اَلم، عذاب و لذتِ نعمت تن پر ہے اور قلقِ دوستی دل میں۔ تو یہ اَلم و لذت اُسے نقصان نہیں دے سکتا۔ یہ بھی حضرت محاسبی کے دعویٰ کی تائید ہے۔ اس لیے کہ رضا ثمرۂ محبت ہے کہ محبّ اس کام سے ہر حال میں راضی ہے جو محبوب کرے۔ اگر عذاب میں رکھے تو محجوبِ محبت نہ ہو بلکہ خرم رہے اور اگر نعمت میں رکھے تو بھی دوستی سے محجوب نہ ہو اور اپنے اختیارات کو حق کے مقابلہ میں علیحدہ کرے۔

حضرت ابو عثمان خیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

مُنْذُ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً مَا اَقَامَنِیَ اللّٰهُ عَلٰی حَالٍ فَكَرِهْتُهٗ وَمَا نَقَلَنِیْ اِلٰی غَیْرِهٖ فَسَخِطْتُهٗ۔

"چالیس سال سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس حال میں رکھا، میں نے اسے مکروہ نہ سمجھا اور جب اس حال سے کسی حال کی طرف مجھے منتقل کیا تو میں اس حالت میں غصہ نہ ہوا۔"

اس مضمون میں دوامِ رضا و کمالِ محبت کی طرف اشارہ ہے۔

ایک حکایت میں ہے کہ ایک درویش دریائے دجلہ میں پھنس گئے اور تیرا کی نہیں جانتے تھے۔ ایک نے کنارے سے کہا اگر آپ چاہیں تو میں کسی کو بلاؤں تاکہ وہ تمہیں دریا سے نکالے۔ آپ نے کچھ جواب نہ دیا تو اس شخص نے کہا: تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو میرا ربّ چاہے وہ ہوگا مجھے چاہنے سے کیا کام۔

غرضیکہ مسئلۂ رضا میں مشائخ کرام کے بہت سے کلام ہیں جو اختلافِ عبارت کے ساتھ اس مفہوم کے مؤید ہیں اور سب کے فرامین کے یہی دو مفہوم ہیں جو ہم نے بیان کیے مگر ترکِ تطویل کر کے اس مختصر میں بیان کیا گیا۔ اب ہمیں ضروری ہے کہ حال و مقام کے فرق کی تشریح کریں تاکہ اس کی حدود اور اس کے معنی کا ادراک آسانی سے ہو سکے اور اچھی طرح سمجھ میں آ جائے۔

۳۳۵

مقام و حال

اچھی طرح یاد رکھو! یہ دو لفظ صوفیاء کے طبقہ میں مستعمل و جاری ہیں اور ان کی عبارتوں میں بولے جاتے ہیں اور محققین صوفیاء ان دو لفظوں کے ساتھ ایک طویل عبارت کا مفہوم حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا فنِ تصوف کے حاصل کرنے والوں کو ان کے سمجھے بغیر چارہ نہیں۔ اگرچہ یہ باب اس بحث کے بیان کا نہیں لیکن اس جگہ ان دو لفظوں کو سمجھے بغیر چارہ نہیں۔ سب توفیق، ہمت اور پاکیزگی اللہ کی طرف سے ہے۔

یاد رکھو! (مَقَام) عام طور پر برفعِ میم "بندہ کی اقامت" کو کہتے ہیں اور (مَقَام) بہ نصبِ میم، ظرف یعنی "اقامت کی جگہ" کے معنی میں مستعمل ہے۔ لیکن یہ تفصیل لفظ کے معنی میں جو کی گئی، وہ سہو ہے بلکہ غلط۔ درحقیقت (مُقَام) میم کے پیش سے اقامت اور جائے اقامت کے معنی میں مستعمل ہے اور (مَقَام) میم کے زبر سے قیام اور قیام کی جگہ کے معنی دیتا ہے۔ اور بندہ کی اقامت کی جگہ خدا کی راہ میں ہوتی ہے اور اس مقام میں حقِ الٰہی کی رعایت رکھنے اور اس کے ادا کرنے کا خیال کرنا لازمی ہے تاکہ جس قدر ہو سکے وہ اس کی کمالِ ذات کا ادراک کرے اور جب تک خدا ہی وہاں سے نہ گزارے اسے روا نہیں کہ اپنے مقام سے گزرے۔

پھر مقاموں کی ابتدا توبہ سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد انابت یعنی حق کی طرف لوٹنا، پھر زہد، اس کے بعد توکل اور مثلِ اس کے اور درجات بعد میں ملتے ہیں لیکن بندہ کو ہرگز روا نہیں کہ بلا توبہ دعویٰ انابت کرے، اور بلا انابت دعویٰ زہد کرے اور بے زہد دعویٰ توکل کرے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں زبانِ جبرائیل علیہ السلام سے خبر دی جیسا کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضور ﷺ کے سامنے عرض کی

وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ۔

"ہم میں کوئی ایسا نہیں جس کے لیے ایک مقام معلوم نہ ہو۔"

بہر حال اس کے معنی ہیں کہ کیفیت کا حق کی طرف سے دل میں پیدا ہونا۔ اُسے بندہ اپنے کسب کے ذریعہ دفع نہیں کر سکتا اور جب وہ کیفیت جاتی ہے تو بندہ اُسے اپنے کسب و تکلیف سے حاصل نہیں کر سکتا۔ تو مقام وہ راستہ ہے جس میں طالب کوشش کرے اور اپنی سعی و جہد کے ساتھ قدم رکھے اور اس کے لیے حضرت حق جل مجدہٗ نے طالب کے لیے کسب کرنے اور مجاہدہ سے تقرب حاصل کرنے کی ایک مقدار کا درجہ رکھا ہے اور حال، بلا تعلقِ مجاہدہ بندہ کے دل میں فضلِ الٰہی اور لطفِ محض کے ساتھ ایک کیفیت کا پیدا ہونا ہے۔

۳۳۶

تو خلاصہ یہ ہوا کہ مقام، اعمال کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور حال تمام کا تمام افضالِ حق سے دلی طلب میں آتا ہے۔ تو مقام مکاسبِ عبد سے ہوا اور حال مواہبِ حق سے۔ تو صاحبِ مقام اپنے مجاہدہ و ریاضت کے ساتھ قائم ہوگا جو حق تعالیٰ شانہٗ اس کے دل میں پیدا فرمائے۔ مشائخ کرام رحمہم اللہ اس جگہ مختلف ہیں۔ ایک جماعت تو وہ ہے جو حال کو دولنا روا رکھتی ہے۔ ایک جماعت وہ ہے جو حال کو دولنا نا روا مانتی ہے۔

فرقۂ محاسبیہ

حضرت محاسبی رحمۃ اللہ علیہ اسی گروہ کے امام ہیں جو حال کو دولنا روا رکھتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: محبت و شوق، قبض و بسط، یہ تمام احوال ہیں اگر ان کا دوام روا نہ ہو تو نہ محبّ، محبّ ہوگا، نہ مشاق، مشاق۔ تو جب تک حال بندہ کی صفت نہ ہو جائے تو اسمِ محبّ اور مشتاق اس پر صحیح نہ ہوگا۔ اس لیے آپ نے رضا کو حال فرمایا اور حضرت ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ نے جو فرمایا ہے: مُنْذُ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً مَا اَقَامَنِیَ اللّٰهُ عَلٰی حَالٍ فَكَرِهْتُهٗ۔ یہ اسی طرف مشد و مؤید ہے۔

اور دوسرا گروہ جو حال کی بقاء و دوام روا نہیں مانتا۔ جیسا کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اَلْاَحْوَالُ كَالْبُرُوْقِ فَاِنْ بَقِیَتْ فَحَدِیْثُ النَّفْسِ۔

"احوال مثلِ بجلیوں کے ہے جو نظر آتا ہے اور ٹھہرتا نہیں اور جو باقی رہتا ہے، وہ حال نہیں ہے بلکہ وہ حدیثِ نفس ہے جو محض ہوسِ طبع ہے۔" ☆

اور ایک گروہ کہتا ہے: حال بایں معنی ہے: اَلْاَحْوَالُ كَاَسْمِهَا یَعْنِیْ اَنَّهَا كَمَا تَحِلُّ بِالْقَلْبِ تَزُوْلُ۔ "حال مثلِ ایک نام کے ہے یعنی حال حلول کر کے ایک وقت دل میں ملتا ہے اور دوسرے وقت وہ حال زائل ہو جاتا ہے۔" اور جو باقی رہتا ہے وہ صفت ہو جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ قیامِ صفت موصوف پر ہے اور یہ امر بھی لازم ہے کہ موصوف کامل تر از صفت ہو اور یہ سب محال ہے، محال ہے۔

یہ تمام فرق ہم اس لیے بیان کر رہے ہیں تاکہ صوفیاء کی عبارات اس کتاب میں جہاں نقل ہوں وہاں حال و مقام کا لفظ جب نظر آئے تو بہ آسانی سمجھ میں آ سکے کہ یہاں حال و مقام سے کیا مراد ہے۔ فی الجملہ اب واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ رضا نہایت مقامات کا نام ہے اور حال ابتداءِ مقام کو کہتے ہیں۔ اور یہ وہ محل ہے کہ اس کی ایک طرف کسب و سعی میں ہے اور ایک طرف محبتِ حق اور جوش میں ہے۔ اس کے اوپر پھر کوئی مقام نہیں اور انقطاعِ مجاہدہ اسی جگہ ہو جاتا ہے، تو

☆ بگفت احوال ما برق جہانست ۔ دمے پیدا و دیگر گرم نہانست (سعدی)

۳۳۷

ابتداء کسب سے ہے اور انتہا بخششوں سے ہے۔ اب ایک احتمال پیدا ہوتا ہے کہ جس نے ابتداء میں اپنی رضا کو اپنے سے دیکھا، اس نے کہا مقام ہے اور جس نے انتہاء رضا کو اپنے ربّ سے دیکھا تو کہا حال ہے۔ یہی مذہبِ محاسبی کا حکم اصولِ تصوف میں ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

مگر اعمال میں سے کسی نے اختلاف نہیں کیا سوا اس کے کہ مریدوں کو اُن عبارات و معاملات سے منع کیا گیا جن میں ابہام، خطا و شبہ ہو، ہر چند کہ وہ دراصل درست ہی کیوں نہ ہوں۔

چنانچہ ایک روز حضرت ابو حمزہ بغدادی رحمۃ اللہ علیہ جو مرید محاسبی رحمۃ اللہ علیہ ہیں حضرت محاسبی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ مستمعین میں سے تھے (مستمع اصطلاحِ صوفیاء میں صاحبِ وجد و حال کو کہتے ہیں)۔ حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک سیمرغ پالا تھا جو اکثر بانگ کہا کرتا تھا۔ اتفاقاً حضرت ابو حمزہ کی حاضری کے موقع پر اس نے بانگ دی۔ حضرت ابو حمزہ نے ایک نعرہ مارا۔ حضرت حارث چھری لے کر اُٹھے اور حضرت ابو حمزہ سے فرمایا: كَفَرْتَ "تو نے کفر کیا"۔ اور حضرت حمزہ کے ذبح کرنے کا عزم فرمایا۔ حاضرینِ جلسہ میں جو خدامِ خاص تھے وہ حائل ہوئے اور آپ کے قدموں میں گر گئے اور عذر و معذرت کر کے حضرت حارث محاسبی کو ان سے علیحدہ کیا۔ مختصر یہ کہ حضرت حارث نے ابو حمزہ کو فرمایا: اَسْلِمْ یَا مَرْدُوْدُ "اے مردود اسلام قبول کر۔" لوگوں نے عرض کی حضور! ہم تمام لوگ انہیں خواصِ اولیاء سے جانتے ہیں اور خاص موحد سمجھتے ہیں، حضور نے انہیں مردود فرما دیا تو ایسی کیا بات ان سے ظاہر ہوئی؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے اس پر کوئی شبہ نہیں اور میں اس کے ظاہر و باطن کو مستغرقِ توحید جانتا ہوں لیکن اس نے ایک ایسی حرکت کی ہے جو حلولیوں کے افعال کے مشابہ تھی، یعنی مرغ حیوان ہے اور اس کی عادت ہے بانگ دینا ہے، اپنی مرضی و خواہش سے بانگ دیتا ہے، انہوں نے اس کی آواز پر کیوں نعرہ مارا، کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کو متجزی سمجھا، حالانکہ اس کی تجزی محال ہے اور جو موجوِ حق ہے اُسے سوائے محبوب کی آواز کے اور اس کی اطاعت کے سکون و آرام نہیں ملتا۔ اس نے اُس جلوہ کا حلول اس مرغ میں سمجھ کر نعرہ مارا یا آنکہ اس کی ذات کو حلول و نزول نہیں، وہ اپنی صفات میں قدیم ہے۔

حضرت ابو حمزہ نے شیخ کی طرف دیکھا اور عرض کی: حضور ہر چند کہ میں دراصل صحیح تھا لیکن چونکہ میرا فعل مشابہ کسی قوم کے ہو گیا میں توبہ کرتا ہوں اور آئندہ کے لیے عہد کرتا ہوں۔

حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ علیہ کا بہت ستودہ ہے اور اس میں سلامتی ہے اور کمالِ صحو پر دال ہے۔

حضور سید یوم النشور ﷺ نے فرمایا

(صفحہ 337 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 338 پر ہے۔)

۳۳۸

مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلَا یَقِفَنَّ مَوَاقِفَ التُّهَمِ۔

"جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے اور قیامِ قیامت کو مانے اُسے تہمت کے مقام پر ٹھہرنا نہیں چاہیے۔"

اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسا ہی معاملہ عطا فرمائے جو آج کل کے رسمی مکار پیروں کے مشابہ نہ ہو۔ حالانکہ یہ اتنے سخت ہیں کہ اگر اُن کی معصیت شعاری کی موافقت نہ کی جائے تو یہ سخت مخالف ہو جاتے ہیں اور دشمن ہو جاتے ہیں۔ فَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الْجَهْلِ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔

فرقۂ قصاریہ

صوفیاء کے فرقوں میں ایک فرقۂ قصاریہ ہے۔ اس کا تعلق حضرت ابو صالح بن حمدون بن عمارۃ القصار رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے۔ آپ بڑے پایہ کے بزرگ علماء اور سادات طریقہ مانے گئے ہیں۔

آپ کا طریقۂ اظہار و نشر، ملامت تھا۔ فنونِ معاملات میں آپ کا کلام بہت بلند ہے۔ آپ فرماتے ہیں: بایَد تا علمِ حق تعالیٰ نیکو تر ازاں باشد کہ علمِ خلق۔ "یعنی لازم ہے کہ تنہائی میں اپنے ربّ کے ساتھ نیک معاملہ اس سے زیادہ رکھا جائے جتنا اعلانیہ لوگوں کے سامنے رکھا جاتا ہے"، کہ وہ حجابِ اعظم ہے حق تعالیٰ سے اور وہ مشغول ہے دل کے ساتھ مخلوق میں۔ اور بابِ معاملات میں ہم نے اس بحث کو اوّل اس کتاب میں لکھ دیا ہے اسی وجہ سے یہاں اس بحث کو مختصر کر دیا ہے۔

ان کے عجیب و غریب واقعہ میں سے ایک حکایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک روز نیشاپور کے لیے شہر حیرہ پر جا رہا تھا کہ نوح نامی ایک بزرگ جو فتوت و زہد میں مشہور تھے اور تمام نیشاپور کے عباد و زہاد ان کے تابع فرمان تھے، میں نے انہیں راستہ میں دیکھا۔ میں نے اُن سے پوچھا: نوح! جوانمردی کیا چیز ہے؟ کہنے لگے: میری جوانمردی بتاؤں یا آپ کی۔ میں نے کہا: دونوں فرمائیں۔ نوح نے فرمایا: میری جوانمردی تو یہ ہے کہ میں قبا اُتار کر مرقعہ پوش بنوں اور احکام و اعمال

۳۳۹

میں سعی کرتا رہوں حتیٰ کہ صوفی بن جاؤں اور اللہ تعالیٰ کی شرم سے اس فرقہ کے اندر ہر قسم کی معصیت سے اجتناب کروں۔ اور آپ کی جوانمردی یہ ہے کہ مرقعہ اتار کر اتنی علیحدگی اختیار کرو کہ لوگ آپ سے اور آپ لوگوں سے فتنہ میں نہ پڑیں۔ تو گویا میری جوانمردی ظاہر احکامِ شریعت کا اتباع ہے اور آپ کی جوانمردی اسرارِ دین پر حقائق کا نگاہ میں رکھنا ہے اور یہ بڑی قوی دلیل واصل ہے۔

فرقۂ طیفوریہ

یہ فرقہ ابو یزید طیفور بن عیسیٰ بن سروشان بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے تعلق و تولّی رکھتا ہے۔ یہ رؤساءِ متصوفہ سے تھے اور قوم کے اندر کبرائے قوم سے مانے جاتے تھے۔ ان کا مسلک غلبۂ سکر و فرطِ شوق الی اللہ ہے اور ان کا یہ مسلک ہے کہ سکر و محبت کسبِ انسان کی جنس سے نہیں ہوتا اور جو چیز دائرۂ اکتساب سے خارج ہو اس پر دعویٰ کرنا باطل ہے اور اس کی تقلید محال۔ تو لامحالہ صاحی کی صفتِ سکر نہیں ہو سکتی اور انسان جلبِ سکر کی اپنے اندر کوئی طاقت نہیں رکھتا ("کیفِ صحہ" اصطلاحِ تصوف میں ہوشیاری کو کہتے ہیں اور صاحی ہوش میں رہنے والا ہے) اور اس کا سکر خود مغلوب ہوتا ہے، اسے مخلوق کے ساتھ التفات نہیں ہوتا کہ وہ کسی صفت کے ساتھ اور اوصافِ انسانی میں ظاہر ہو سکے اور مشائخِ تصوف کی رائے اس طرف ہے کہ اقتداء صرف اسی شخصِ مستقیم کی درست ہے جو گردشِ احوال سے آزاد ہو چکا ہے۔ اور ایک گروہ مشائخ کا اس طرف ہے کہ اقتداء صاحی اور صاحبِ سکر دونوں کی روا ہے تاکہ انسان بتکلف غلبہ اور سکر کی راہ پر چل سکے۔

اسی وجہ سے حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا: اِبْكُوْا فَاِنْ لَمْ تَبْكُوْا فَتَبَاكَوْا۔ "تم رویا کرو اور اگر نہ روسکو تو رونے والوں کی مانند رونے کی صورت بناؤ" اور اس کی دو وجہ ہیں: ایک یہ کہ اپنے آپ کو گروہِ با کی کی سی صورت بنا کر دکھانا ہو جو محض ریا ہے اور صوفیاء کے یہاں یہ شرکِ صریح ہے اور دوسرے اس ارادہ پر رونی شکل بناتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی اس درجہ پر

۳۴۰

پہنچا دے جس درجہ وہ ان کی سی صورت بنا رہا ہے۔ اگر یہ خیال ہے تو حدیث سرورِ عالم ﷺ کی موافقت ہو جائے گی اور حضور نے دوسری جگہ فرمایا: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ۔ "جو جس قوم کے ساتھ مشابہت کرے وہ انہیں میں سے ہے۔" تو جو کچھ انواعِ مجاہدات سے ہم نے بیان کیا اس پر عمل کرنا چاہیے اور درگاہ و واہب المراد سے اُمید رکھے تاکہ مبداء فیاض سے اس کے لیے درِ معانی کشادہ ہوں۔

مشائخِ کرام میں سے ایک فرماتے ہیں: اَلْمُشَاهَدَاتُ مَوَارِیْثُ الْمُجَاهَدَاتِ۔ "مشاہدات، مجاہدات کا ورثہ اور نتیجہ ہیں۔" میں کہتا ہوں: مجاہدات ہر حال میں اچھے ہیں لیکن سکر اور غلبہ میں کسبِ انسانی کا کوئی ایسا دخل نہیں کہ اس جدوجہد کے ذریعہ کیفیتِ سکر و غلبہ کا جلب ہو سکے۔

اور مجاہدات کبھی علتِ حصولِ سکر نہیں ہوں گے، اس لیے کہ مجاہدہ بحالتِ صحو یعنی ہوش میں انسان کر سکتا ہے اور صاحبِ صحو کو سکر کی طرف التفات نہیں ہو سکتا۔ (اسی وجہ میں صاحی کا سکر میں بذریعہ مجاہدہ آنا محال ہے)۔

اب ہم حقیقتِ سکر و صحو کو باختلافِ بیان مشائخ سناتے ہیں تاکہ اشکالِ سامع رفع ہو۔ ان شاء اللہ۔

سکر اور صحو

یاد رکھو! اللہ تمہیں نیکی دے، سکر و غلبہ یہ دو لفظ اربابِ معانی میں استعمال ہوتے ہیں۔ غلبہ سے مراد محبتِ جل شانہٗ ہوتی ہے اور صحو ایک ایسا لفظ ہے کہ "حصولِ مراد" اربابِ معانی کے معنی میں مستعمل ہے مگر اہلِ معانی کے اس میں سبب سے کلام نہیں۔ ایک جماعت تو صحو پر سکر کو فضیلت دیتی ہے اور وہ ابو یزید ہیں اور ان کی جماعت۔ وہ کہتے ہیں کہ صحو تمکین و اعتدال پر صفتِ آدمیت کی صورت پکڑ لیتا ہے اور یہ حجابِ اعظم ہے حق تعالیٰ شانہٗ سے، اور سکر زوالِ آفات اور نقصِ صفاتِ بشریت اور تدابیرِ دنیا و اختیارِ ذاتی کو دور کر دیتا ہے۔ اور صاحبِ سکر کے تمام تصرفات خیارِ حق کے ساتھ فنا ہو جاتے ہیں اور تمام تدابیر و اختیارات کی قوتیں زائل ہو جاتی ہیں اور وہ معنی جو اس کے وجود میں بصورتِ قوی اور خلافِ جنس ہیں، وہ اقویٰ ابلغ اتم و اکمل اُس کے حال میں ہوتے ہیں۔

جیسا کہ داؤد علیہ السلام جب بحالتِ صحو تھے اُن کے تمام افعال ان کی طرف سے وجود میں آئے تھے اور اس وقت تک ان کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف ہی مضاف فرمایا تھا جیسا

۱۔ اس حدیث مبارک کی مکمل تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔

۳۴۱

کہ ارشاد ہے: ﴿وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ﴾ "اور قتل کیا داؤد علیہ السلام نے جالوت کو۔" اور ہمارے آقا و مولیٰ حضور ﷺ حالتِ سکر میں تھے تو آپ کا ہر وہ فعل جو آپ کی طرف سے ظہور میں آیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنی طرف فرمائی اور کہا: ﴿وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰی﴾ "اور وہ کنکریاں تم نے اے محبوب نہیں پھینکیں، جب تم نے پھینکیں، وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھیں۔" فَشَتَّانَ مَا بَیْنَ عَبْدٍ وَعَبْدٍ۔ تو جو بندہ اپنی ذات کے ساتھ قائم تھا اور اپنی صفات کے ساتھ ثابت، اسے فرمایا تُو نے کیا منصبِ کرامت کے ساتھ، اور جو بندۂ معظم اپنے ربّ کے ساتھ قائم اور اپنی صفات کے ساتھ فانی تھا اُسے فرمایا: ہم نے کیا، جو کچھ تُو نے کیا۔ تو اضافتِ فعلِ بندہ ذات مستجمع الصفات کی طرف بہتر ہے۔ اس اضافت سے جو بندہ اپنی طرف قائم رکھے۔ تو جب فعلِ حق مضاف ہو بندہ کی طرف تو بندہ بخود قائم ہوتا ہے اور جب بندہ کا فعل حق کی طرف مضاف ہو تو بندہ بحق قائم ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ داؤد علیہ السلام کی نظر وہاں پڑی جہاں پڑنی نہ چاہیے تھی یعنی ایک عورت پر جو اوریا کی عورت تھی جسے دیکھا، وہ ان پر حرام تھی اور جب بندہ بحق قائم ہو گیا جیسے حضور ﷺ کہ نظر تو آپ کی بھی پڑی اس طرح زید (رضی اللہ عنہ) کی بیوی پر مگر وہ بیوی زید پر حرام ہو گئی۔ اس لیے کہ وہ نظر جو داؤد علیہ السلام کی تھی وہ محلِ صحو میں تھی اور یہ نظر جو حضور ﷺ کی تھی، یہ محلِ سکر میں تھی۔

پھر جو لوگ صحو کو سکر پر فضیلت دیتے ہیں وہ حضرت جنید رضی اللہ عنہ اور ان کے تابعین ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سکر محلِ آفت ہے کیونکہ وہ احوال تشویش اور ذہابِ صحت خود ہے اور اپنے سرِ رشتہ کا گم کر دینا ہے اور طالب کے ہر پہلو میں قاعدہ یہ ہے کہ نہ وہ فنا ہو یا برائے بقا ہو، محو ہو یا برائے اثبات قائم ہو، وہ صحیح الحال ہے۔ جب وہ نہیں رہا تو تحقیق کا فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔

اس لیے کہ اہلِ حق دل کو تمام موجودات سے مجرد رہنا چاہیے۔ اور بینائی کی بنیاد قیدِ اشیاء میں کبھی راحت نہیں پاتی اور آقا سے رستگاری نہیں ملتی اور مخلوق کا ماسوائے اللہ میں پھنسار ہنا اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اشیاء کو جیسی کہ وہ نہیں دیکھ سکتے اور اشیاء کا ملاحظہ جیسی کہ وہ ہیں، دو طرح پر ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ دیکھنے والا ہر شے کو بچشمِ فنا دیکھے۔ دوسرے یہ کہ اس شے کو بچشمِ بقا دیکھے۔ اگر وہ بچشمِ بقا میں دیکھے گا تو کل اشیاء اپنی بقا میں ناقص نظر آئیں گی کیونکہ اشیاء باقی رہنے کے حال میں اپنے سے باقی نہیں پاتا اور اگر بچشمِ فنا دیکھے گا تو کل اشیاء پہلوئے بقا واجب تعالیٰ میں فانی نظر آئیں گی۔ تو یہ دونوں نظریں موجودات کے دیکھنے والے کو اعراض پر مجبور کر دیتی ہیں۔

۳۴۲

اس لیے حضور ﷺ نے بحالتِ دعا فرمایا: اَللّٰهُمَّ اَرِنَا الْاَشْیَاءَ كَمَا هِیَ۔ "اے اللہ! ہمیں اشیاء کو اس حال میں دکھا جیسی کہ وہ ہیں۔" اس لیے کہ جس نے حقیقتِ اشیاء کماحقہٗ کو دیکھ لیا، وہ آسودہ ہو گیا اور یہی معنی فرمانِ جل مجدہ کے ہیں جو فرمایا: ﴿فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ﴾ "تو عبرت حاصل کرو اے آنکھ والو۔" اس لیے کہ جب تک حقیقتِ شے نہیں دیکھی جائے عبرت نہیں لی جاتی۔

تو یہ تمام کیفیت صحو میں آئے بغیر درست نہیں ہوتی اور اہلِ سکر کو اس معنی میں کچھ آگاہی نہیں۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام بحالتِ سکر تھے تو ایک تجلی کے ظہور کی تاب نہ لا سکے اور ہوش سے بے ہوش ہو گئے۔ ﴿وَخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا﴾ اس امر کا مظہر ہے۔

اور ہمارے حضور ﷺ جب بحالِ صحو تھے تو مکہ سے قاب قوسین تک عین تجلی میں گئے اور ہر لمحہ ہوشیار و بیدار تر رہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

اور میرے شیخ فرماتے ہیں جو مذہبِ جنیدی کے متبع تھے کہ سکر بازیگاہ کو دکان ہے اور صحو وفنا گاہِ مردان۔ اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رضی اللہ عنہ) کہتا ہوں کہ اپنے شیخ کی موافقت پر کمالِ صاحبِ سکر و صحو ہے اور کمترین درجہ صحو کا یہ ہے کہ صاحبِ صحو صفاتِ بشریہ کے دیکھنے سے دور ہو جاتا ہے۔ تو وہ صحو جو آفت دکھاتا ہے اس سکر سے بہتر ہے جو عینِ آفات ہے۔

اور حضرت ابو عثمان مغربی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک حکایت ہے کہ آپ نے ابتداءِ حال میں بیس سال عزلت نشینی فرمائی اور ایسے جنگلوں میں رہے جہاں انسان کا حس بھی نہ ہو۔ حتیٰ کہ بوجہ مشقت و مجاہدہ آپ کا جسم گھل گیا اور چشمہائے مبارک سوئی کے ناکہ کی رہ گئیں اور شبیہِ انسانی بدل گئی۔ بیس سال کے بعد حکم آیا کہ اب انسانوں میں صحبت کرو۔ آپ نے اپنے دل میں کہا کہ ابتدائے صحبت، اللہ کے بندوں اور اس کے متجوں سے کرنی چاہیے تاکہ برکت حاصل ہو۔ آپ نے مکہ معظمہ کا قصد کر لیا۔ مشائخ مکہ کو اپنے کشف سے آپ کی تشریف آوری کا حال معلوم ہو گیا۔

۳۴۳

استقبال کے لیے شہر سے باہر آئے۔ آپ کو بالکل مبدل پایا، سوائے اس کے کہ رمقِ جان نظر آتی تھی اور کچھ نہیں۔ سب نے کہا ابو عثمان! آپ بیس سال اس حالت میں جیئے ہیں کہ آدم اور اس کی ذریت اس زندگی سے عاجز ہے، ہمیں بتاؤ کہ تم کیوں گئے اور وہاں کیا دیکھا اور اس موت میں کیا حاصل کیا اور اب کس لیے واپس آئے؟

آپ نے جواب دیا کہ میں سکر میں گیا تھا اور آفاتِ سکر دیکھ کر نا اُمید ہوا اور عاجز آ کر واپس آیا۔ مشائخ کرام نے کہا کہ ابو عثمان! آپ کے بعد اب سب مہبروں پر حرام ہے کہ وہ صحو و سکر کی عبارت پر آئیں، اس لیے کہ آپ نے اس کا انصاف پورا کر دیا اور آفاتِ سکر کو واضح طور پر دکھا دیا۔ تو خلاصہ یہ ہوا کہ سکر تمام کا تمام مقتضیِ فنا ہے، عینِ بقا ضعف ہیں اور یہ حجاب ہے اور صحو تمام کا تمام فناضعت میں دیدارِ بقا ہے اور یہ عینِ کشف ہے اور اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ سکر بہ نسبتِ صحو نزدیک فنا ہے تو یہ محال ہے۔

اس لیے کہ سکر ایک ایسی صفت ہے جو صحو پر زیادہ ہے اور جب تک بندہ کی صفتیں زیادتی کی طرف رجوع ہوتی ہیں اس وقت تک وہ بے خبر رہتا ہے اور جب نقص کی طرف ہو جاتی ہے تو اس وقت اُس کی حالت امید افزا ہوتی ہے۔ اور صحو و سکر میں یہ حال کی انتہا و غایت ہے۔

حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے حکایت ہے۔ جب کہ مغلوب الحال ہو کر یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کو خط لکھا۔ اس شخص کے حال میں کیا حکم ہے جس نے ایک قطرۂ بحرِ محبت سے نہ لیا اور مست ہو گیا۔ حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ نے جواب لکھا کہ اس شخص کے معاملے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس کے لیے تمام دریائے علمِ شرابِ محبت بن گیا اور اس نے تمام کا تمام پی لیا اور ابھی تشنگی میں تڑپ رہا ہے۔ اس پر لوگوں کا خیال ہے کہ یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ نے سکر سے عبادت کی اور حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ نے صحو سے۔ اور اس میں خلاف یہ ہے کہ صاحبِ صحو وہ ہوتا ہے کہ اُسے ایک قطرہ کی تاب نہیں ہوتی اور صاحبِ سکر وہ ہوتا ہے کہ مستی میں وہ سب کچھ پی سکتا ہے اور پھر پیاسا رہتا ہے۔ اس لیے کہ شرابِ آلۂ سکر ہے اور جنس اپنی ہم جنس کے لیے بہتر ہوتی ہے اور صحو اس کی ضد ہے کہ وہ پینے سے آرام ہی نہیں پاتا۔

لیکن سکر دو قسم کا ہے۔ ایک سکر شرابِ مودت، دوسرا سکر کاسِ محبت۔ سکرِ محبت بلا علت ہوتا ہے اور محض رویتِ منعم سے پیدا ہوتا ہے۔ جس نے نعمت دیکھی تو گویا اپنے کو رنجور دیکھا، اگرچہ وہ سکر میں ہو۔ تو اس اُصول سے صحو بھی دو قسم پر ہے۔ ایک صحو برغفلت، دوسرا صحو برمحبت و اقامت۔ تو وہ صحو جس میں غفلت ہو وہ حجابِ عظیم ہے اور صحو جس میں محبت کی طرف راہ ملے وہ

۳۴۴

کشفِ مبین ہے۔

تو وہ شخص جو مقرون غفلت ہے اگرچہ صحو ہو، سکر ہے اور وہ جو محبت تک پہنچائے اگرچہ سکر ہو، صحو ہے۔ غرضیکہ جب اصل متحکم ہو تو محوشِ سکر ہو جاتا ہے اور سکر مثلِ صحو۔ اور جب اصل متحکم نہ ہو، صحو اور سکر دونوں بے فائدہ ہیں۔

فی الجملہ صحو و سکر مردانِ الٰہی کے قدم رکھنے کی جگہ میں باختلافِ علت معلوم ہوتے ہیں اور جب سلطانِ حقیقت اپنا جمال بے حجاب فرما دیتا ہے تو صحو و سکر دونوں طفیلی رہ جاتے ہیں۔ اس لیے کہ صحو و سکر دونوں رخِ معنی میں ایک دوسرے کے موصول ہیں۔ اور ہر ایک کی نہایت دوسرے کی ہدایت ہے اور یہ ہدایت و نہایت بھی سوائے اختلافِ نظر کے اور کچھ نہیں ہے۔

اور جس کی نسبت تفرقہ کے ساتھ ہو وہ حکمِ تساوی کا رکھتا ہے۔ اور اُن کا جمع کرنا تفریقوں کا جمع کرنا ہے۔ اس مفہوم کو کسی شاعر نے خوب ادا کیا ہے

اِذَا طَلَعَ الصَّبَاحُ بِنَجْمِ رَاحٍ ۔ تَسَاوٰی فِیْهِ سُكْرَانٌ وَصَاحٍ

"جب صبح دل کے خوش کرنے والے ستاروں سے طلوع ہو تو اس میں بے ہوش اور مدہوش والے برابر ہوتے ہیں۔"

مقامِ سرخس میں دو پیر تھے۔ ایک لقمان دوسرے ابو الفضل حسن رضی اللہ عنہما۔ ایک دن حضرت لقمان حضرت ابو الفضل کے پاس آئے تو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ میں کاغذوں کا ایک جز لیے ہوئے ہیں۔ لقمان نے پوچھا: حضرت ان جزوں میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں۔ حضرت ابو الفضل نے جواب دیا: وہی جو تم ترکِ اوراق میں ڈھونڈ رہے ہو۔ عرض کی پھر اختلاف کیوں؟ (یعنی میں ترک اوراق میں جو ڈھونڈ رہا ہوں آپ اُسے اوراق میں ڈھونڈ رہے ہیں) فرمایا: لقمان! تم خلاف دیکھتے ہو جب ہی مجھ سے پوچھ رہے ہو۔ "لقمان" مستی سے ہوشیار ہو جاؤ اور ہوشیاری سے بیدار ہو۔ تاکہ خلاف کا جھگڑا ہی اُٹھ جائے۔ خبر بھی ہے، میں اور تم ڈھونڈ رہے ہیں۔

تو طیفوری اور جنیدیوں میں صرف یہ اختلاف ہے جو ہم بیان کر چکے اور اعمال میں ان کا مذہب بالکل ترکِ صحبت اور گوشہ نشینی اختیار کرنا ہے اور سب نے مریدوں میں یہی حکم جاری کیا ہے اور یہ طریقِ محمود سیرت اور ستودہ صفت ہے۔ اگر خدا توفیق دے۔

فرقۂ جنیدیہ

اس فرقہ کا تعلق حضرت ابو القاسم جنیدی بن محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ یہ وہ بلند ہستی ہے کہ انہیں کے ہم چشم اور ہمعصر "طاؤس العلماء" کہتے ہیں۔ اپنی جماعت کے سردار اور امام الائمہ

۳۴۵

تھے۔ آپ کا مسلک صحو تھا اور یہ طیفوری مسلک کے خلاف ہے اور اس اختلاف کے دلائل ہم بیان کر چکے ہیں اگرچہ اس کے علاوہ بہت سے اختلافات ہیں مگر ہم نے بخوفِ طوالت اختصار کیا ہے۔ صوفیاء کرام میں معروف ترین مسلک جنیدی ہے اور ہمارے تمام مشائخ جنیدی مسلک ہی سے گزرے ہیں۔

اگر کوئی اس سے زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہے تو دوسری کتابوں میں دیکھے تاکہ اُسے اس سے بہتر معلومات حاصل ہوں۔ مگر میرا طریقہ اس کتاب میں اختصار ہے اسی وجہ سے طوالت کو ترک کیا گیا۔

حکایتوں میں ملتا ہے کہ حضرت حسین بن منصور حلاج اپنے غلبۂ حال میں عمرو بن عثمان سے بیزار ہو کر حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: کس لیے آئے ہو؟ عرض کی: فیضِ صحبت سے مستفیض ہونے کے لیے۔ آپ نے فرمایا: ہمارے یہاں مجانین کے لیے صحبت نہیں ہے، صحبت کے لیے صحت چاہیے۔ اگر تم آفتوں میں رہ کر ہماری صحبت میں رہو گے تو سہل بن عبد اللہ تستری کی سی صحبت ہوگی جو انہوں نے حضرت عمرو اکروی سے حاصل کی تھی۔ حسین بن منصور بولے

اَیُّهَا الشَّیْخُ الصَّحْوُ وَالسُّكْرُ صِفَتَانِ لِلْعَبْدِ وَمَادَامَ الْعَبْدُ مَحْجُوْبًا عَنْ رَبِّهٖ حَتّٰی یَفْنٰی اَوْصَافُهٗ۔

"حضور! صحو و سکر کی دو صفتیں ہیں، جب تک بندہ میں یہ صفتیں باقی ہیں وہ اپنے ربّ سے محجوب ہے اور جب اوصافِ عبد فنا ہو گئے (تو مشاہدہ و جمال حاصل ہو گیا)۔"

حضرت جنید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یَابْنَ مَنْصُوْرٍ اَخْطَاْتَ فِی الصَّحْوِ وَالسُّكْرِ "اے ابن منصور! تم صحو اور سکر کے بارے میں غلطی پر ہو۔" صحو اور سکر میں اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ صحو سے مراد صحتِ حال ہے اپنے ربّ کے ساتھ اور سکر سے مراد فرطِ شوق اور غایتِ محبت ہے اپنے ربّ کے ساتھ۔ اور یہ دونوں کیفیتیں صفت کے ماتحت اور اکتسابِ خلق کے ساتھ صحیح نہیں ہوتیں اور ابن منصور: ہمیں تمہارے کام میں زیادہ فضول نظر آتا ہے اور تمہاری عبادات بے معنی ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔

فرقۂ نوریہ

فرقۂ نوریہ کا تعلق حضرت ابو الحسن احمد بن نوری رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ یہ زبردست عالم اور صدر علماء متصوفہ تھے اور بوجہ مناقب روشن اور دلائل واضح کے آپ "نور" کے نام سے مشہور

۳۴۶

ہو گئے تھے۔ آپ کا مسلک تصوف میں پسندیدہ ہے اور آپ کے مسلک میں فقر پر تصوف کو فضیلت دینا ہے اور باقی تمام معاملات موافق مذہبِ جنیدیہ کے ہیں اور آپ کے طریقوں میں سے نادر و عجیب۔ طریقہ یہ ہے کہ محبت میں صاحبِ صحبت کے حق پر ایثار کیا جائے اور اپنے حق کو قربان کرے اور اس کے بغیر صحبت اختیار کرے تو یہ حرام ہے اور فرماتے ہیں کہ صحبت درویشوں کے لیے فرض ہے اور عزلت نشینی بری چیز ہے، اور ایثارِ حقِ صاحبِ صحبت پر کرنا ہی فرض ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ فرمایا: اِیَّاكُمْ وَالْعُزْلَةَ فَاِنَّ الْعُزْلَةَ مُقَارَنَةُ الشَّیْطَانِ وَعَلَیْكُمْ بِالصُّحْبَةِ فَاِنَّ فِی الصُّحْبَةِ رِضَاءَ الرَّحْمٰنِ۔ "عزلت نشینی سے پرہیز کرو کہ اس میں شیطان کے ساتھ مقارنت ہو جاتی ہے اور صحبتِ صاحبِ صحبت سے لازم رکھو کہ صاحبانِ بارگاہ کی صحبت میں اللہ کی رضا ہے۔"

اب ہم حقیقتِ ایثار بیان کرتے ہیں اور جب بابِ صحبت و عزلت میں پہنچیں گے تو وہاں اس کے رموز و شرح بیان کریں گے تاکہ عام طور پر فائدہ ہو۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی۔

حقیقتِ ایثار

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا

﴿وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾

"اور ایثار کرتے ہیں اگرچہ اس چیز کے وہ حاجت مند ہوں۔"

اس آیتِ کریمہ کی شانِ نزول فقراءِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہے۔ اور حقیقتِ ایثار یہ ہے کہ محبتِ حق میں اپنے پیشوا اور مالک کا حق ملحوظ رکھے اور اپنے حصہ میں اس کا حصہ ضرور نکالے، خود تکلیف برداشت کرے مگر اپنے پیشوا اور صاحب کی راحت کا خیال رکھے۔

لِاَنَّ الْاِیْثَارَ الْقِیَامُ بِمُعَاوَنَةِ الْاَغْیَارِ مَعَ اِسْتِعْمَالِ مَا اَمَرَهُ الْجَبَّارُ لِرَسُوْلِهِ الْمُخْتَارِ۔ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِیْنَ۔

"اس لیے کہ ایثار نام ہے امداد و اعانتِ اغیار پر قائم رہنے کا معہ اس حکم کی پیروی کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو دیا اور ارشاد فرمایا درگزر فرمانا

۳۴۷

اختیار کرو اور بھلائی کا حکم فرماؤ اور جاہلوں سے اعراض کرو۔"

اور یہ مسئلہ بابِ آدابِ صحبت میں زیادہ وضاحت سے بیان کیا جائے گا۔

یہاں مقصود بیان محض ایثار ہے۔ یہ دو قسم کا ہوتا ہے: ایک صحبت میں اس طرح جیسے کہ ذکر کیا گیا ہے، دوسرے محبت میں۔ اور ایثارِ حق صاحب میں ایک گونہ رنج و اندوہ بھی ہے لیکن دوست کے حق میں ایثار کرنے سے تمام راحت ہی راحت ہے۔

ایک حکایت میں ہے کہ جب غلام الخلیل نے حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ سے اپنی عداوت ظاہر کی اور ہر قسم کی خصومت اس سے ظاہر ہو گئی تو حضرت نوری اور رقام اور ابو حمزہ رحمہم اللہ علیہم کو حکومت نے گرفتار کر لیا اور دار الخلافت میں لے گئے۔ غلام الخلیل بکنے لگا کہ یہ قوم زنادقہ سے ہیں، اگر امیر المومنین ان کے قتل کا حکم صادر فرمائیں تو زندیقوں کی جڑ پوڑ کا پتہ چل جائے اس لیے کہ یہ سرگروہِ زنادقہ ہیں اور جس کے ہاتھ سے یہ امرِ خیر ہو جائے، اس کی حکومت و عزت کا میں ضامن ہوں۔

خلیفہ نے اُسی وقت ان مشائخ کے قتل کا حکم دے دیا۔ جلاد آ گیا اور ان مردانِ خدا کے ہاتھ باندھے گئے۔ جلاد نے بموجب حکم حضرت رقام کے قتل کا ارادہ کیا کہ حضرت نوری اُٹھے اور بڑے سرور سے رقام کی جگہ پر بیٹھ گئے۔ لوگوں کو تعجب ہوا۔ جلادوں نے کہا: اے جوانمرد! کیا تلوار بھی ایسی چیز ہے کہ اس سے اس قدر رغبت ہو جس سے تم آئے ہو حالانکہ ابھی تمہاری باری نہیں آئی؟

آپ نے جواب دیا: ہاں! ہمارے لیے تلوار ایسی ہی چیز ہے کہ میرے طریقِ ایثار کے ماتحت وہ مجھے مرغوب ہو اس لیے کہ دنیا میں سب سے زیادہ عزیز چیز زندگی ہے، میں چاہتا ہوں کہ یہ چند سانس ان بھائیوں کی خدمت میں ایثار کر دوں اس لیے کہ دنیا کا ایک سانس آخرت کے ہزار سال سے زیادہ محبوب ہے۔ کیونکہ دنیا سرائے خدمت ہے اور آخرت مقامِ قربت، تو مقامِ قربت میں یہ خدمت نہیں کی جا سکتی۔ جلاد نے یہ سب باتیں خلیفہ کو پہنچا دیں۔ خلیفہ نے اتنے بلند حوصلہ اور رقتِ سخن پر سخت تعجب کا اظہار کیا اور کسی کے ذریعہ کہلا بھیجا کہ ان کے قتل کو سردست موقوف رکھو اور ابو العباس بن علی قاضی القضاۃ کو بلا کر تینوں کو ان کے سپرد کر دیا۔ قاضی القضاۃ نے تینوں کی مشکیں کسی ہوئی رکھیں اور اپنے یہاں بلایا۔ پھر ان سے احکامِ شریعت کے متعلق سوال کیے۔ جواب سن کر ان میں عرفانی شان کی حقیقت پائی اور وہ مذہبی اتباع میں مکمل نکلے۔ قاضی بہت متاثر ہوا اور ان کے حالات سے بے خبر رہنے پر شرمسار۔ حضرت نوری نے فرمایا: قاضی تو نے جو کچھ دریافت کیا ہے یہ کچھ نہیں ہے جو پوچھنے کی بات تھی وہ تو نے نہیں پوچھی۔ فَاِنَّ لِلّٰهِ عِبَادًا یَاْكُلُوْنَ بِاللّٰهِ وَیَشْرَبُوْنَ بِاللّٰهِ وَیَجْلِسُوْنَ بِاللّٰهِ وَیَقُوْلُوْنَ بِاللّٰهِ۔ "اللہ کے بندوں کی ایسی جماعت بھی ہے کہ

(صفحہ 347 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 348 پر ہے۔)

۳۴۸

ان کا کھانا اللہ کے لیے اور پینا اللہ کے واسطے اور بولنا اللہ کے لیے ہے۔" وہ ایسے مردانِ خدا ہیں کہ ان کا قیام اللہ کے ساتھ اور قعود و نطق، حرکت و سکون سب اسی کے ساتھ ہے اور اُن کی زندگی اس کے ساتھ ہے اور وہ قائم بمشاہدہ ہیں۔ اگر ایک لحظہ مشاہدۂ حق اُن سے حجاب میں آ جائے تو ان کی دنیائے جسم میں جوش و خروش پھیل جائے۔

یہ سن کر قاضی متعجب ہوا اور ان کے کلام کی باریکی اور صحتِ حال کو پا کر خلیفہ کو لکھا کہ اگر یہ جماعتِ ملاحدہ ہے تو فَمَنِ الْمُوَحِّدُ فِی الْعَالَمِ۔ "پھر کون دنیا میں موحد ہو سکتا ہے۔" میں گواہی دیتا ہوں اور اپنے حکم سے فیصلہ کرتا ہوں کہ (ان کے مقابلہ کا) روئے زمین پر کوئی موحد نہیں ہو سکتا۔

خلیفہ نے قاضی القضاۃ کا یہ محاکمہ پڑھ کر ان بزرگوں کو بلایا اور عرض کی (کہ مجھ سے غلطی ہو گئی اور میں دھوکہ میں آ گیا) اب آپ اپنی حاجت ظاہر کریں۔ حضرت نوری وغیرہ مشائخ جو گرفتار تھے انہوں نے فرمایا کہ خلیفہ ہماری حاجت تجھ سے بس اتنی سی ہے کہ تو ہمیں بھلا دے اور ہم تیرے مقبول کرنے کو اپنی مردودیت سمجھتے ہیں اور اگر تو ہمیں اپنی بارگاہ سے مطرود کر دے گا تو ہم اسے عینِ مقبولیت جانیں گے۔ خلیفہ حضرت نوری رحمۃ اللہ علیہ کے اس دردناک جواب کو سن کر اس قدر متاثر ہوا کہ رو پڑا اور نہایت احترام کے ساتھ انہیں واپس کر دیا۔

ایک روایت نافع سے ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ایک روز مچھلی کی خواہش ہوئی۔ تمام شہر میں تلاش کی مگر نہ ملی۔ چند روز بعد وہ مجھے (یعنی حضرت نافع کو) ملی۔ حضرت نافع فرماتے ہیں: میں نے وہ مچھلی بنوائی اور حضرت ابن عمر کی خدمت میں حاضر کی۔ میں نے دیکھا کہ اس مچھلی کے پیش کرنے سے آپ مسرور ہوئے۔ اتنے میں ایک سائل نے باب عالی پر کھڑا ہو کر صدا دی۔ آپ نے حکم دیا کہ یہ مچھلی اس سائل کو دے دو۔ غلام نے عرض کی: حضور اتنی دیر میں تو یہ مچھلی میسر آئی ہے، اب آپ سائل کو عطا فرما رہے ہیں، اس کی بجائے کچھ اور بخشش کر دی جائے۔ فرمایا: اے غلام! یہ مچھلی کھانا مجھ پر حرام ہے اس لیے کہ میں نے ایک حدیث کے موافق اس مچھلی کو اپنے دل کی خواہش سے باہر کر دیا ہے۔ وہ حدیث یہ ہے جو میں نے حضور ﷺ سے سنی ہے: اَیُّمَا امْرِئٍ یَشْتَهِیْ شَهْوَةً فَرَدَّ شَهْوَتَهٗ وَاٰثَرَ الْاٰخِرَةَ عَلٰی نَفْسِهٖ غُفِرَ لَهٗ۔ "جو انسان کسی چیز کی خواہش کرے پھر اس

۳۴۹

چیز کی طرف سے دست بردار ہو کر آخرت کو نفس کی خواہش پر ترجیح دے تو لامحالہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔"

ایک حکایت میں ہے کہ جنگل بیابان میں راہ بھول کر دس درویش ٹھہرے اور پیاس نے انہیں ستایا اور ان کے پاس ایک قدح پانی سے زائد نہ تھا اور دس کے دس پیاسے تھے۔ جب ایک کو وہ قدح آب دیا جاتا وہ دوسرے کی طرف ایثار کر دیتا۔ دوسرے کا خیال اپنے رفیق کی پیاس پر جاتا وہ اُسے دے دیتا۔ غرضیکہ اسی طرح پیالہ پانی کسی نے نہ پیا اور شدتِ تشنگی سے سب مر گئے، صرف ایک بچے تھے۔ جب انہوں نے اپنے نو رفیق مرے ہوئے دیکھے تو وہ قدح آب پی لیا اور راستہ طے کرنا شروع کر دیا۔ کسی کے پاس یہ قصہ انہوں نے کہا تو اس نے کہا اگر وہ پانی تُو بھی نہ پیتا تو بہتر تھا۔

انہوں نے کہا: بے عقلمند! کیا حکمِ شرعی اتنا ہی جانتا ہے؟ تجھے معلوم نہیں کہ نو آدمیوں کے مر جانے کے بعد بھی اگر میں وہ پیالہ نہ پیتا تو خودکشی کا مجرم بنتا اور عتابِ الٰہی میں ماخوذ ہوتا۔ تو وہ کہنے لگا کہ آپ کے خیال میں وہ نو آدمی بھی خودکشی کے مجرم ہوئے۔ انہوں نے کہا نہیں، اس لیے کہ وہ ایثار کر رہے تھے۔ اپنی حاجت کے مقابلہ میں دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دیتے تھے۔ یہاں تک کہ عمل پر ایثار کرتے کرتے ہلاک ہو گئے۔ پھر جب کہ میں تنہا رہ گیا تو اب موقعِ ایثار نہیں تھا۔ اس لیے ایسے موقع پر وہ پانی مجھے پینا واجب تھا۔

دیکھو! جب امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ حضور ﷺ کے بستر پر سوئے اور ہجرت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور کی معیت میں گئے اور مکہ سے باہر آ کر غار میں ٹھہرے۔ اس شب کفار کا قصد حضور ﷺ کے شہید کرنے کا تھا تو جنابِ باری تعالیٰ عزّ اسمہٗ نے جبرائیل و میکائیل علیہم السلام کو فرمایا کہ میں نے تمہارے مابین بھائی چارہ رکھا ہے اور تمہاری زندگی بھی ایک دوسرے سے دراز کی ہے۔ بتاؤ تم میں سے کون ہے جو اپنے بھائی پر اپنی زندگی کا ایثار کرے اور مرنے کو تیار ہو۔ دونوں اپنی اپنی زندگی بارگاہِ الٰہی سے طلب کرنے لگ گئے۔ جنابِ باری تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ اے جبرائیل و میکائیل! دیکھو علی کی بزرگی و شرافت کہ وہ تم سے بلند ہے، ہم نے علی کے اور اپنے حبیب ﷺ کے مابین مواخاۃ کی تھی تو علی اپنے قتل و مرگ کو قبول کر کے ہمارے حبیب کی خوابگاہ پر سو گیا اور اپنی جان ہمارے حبیب پر فدا کر دی ہے۔ اب تم دونوں جاؤ اور اس کی محافظت دشمنوں سے کرو۔

چنانچہ جبرائیل و میکائیل (علیہما السلام) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں آئے۔

۳۵۰

ایک سرہانے بیٹھ گیا اور ایک پائینتی کی طرف بیٹھ گیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں زبانِ حال سے کہنے لگے: بَخٍ بَخٍ مَنْ مِثْلُكَ یَا ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اِنَّ اللّٰهَ یُبَاهِیْ بِكَ عَلٰی مَلَائِكَتِهٖ "زندہ باد اے علی! تمہارے مثل اس ایثار میں کون ہے، بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے اس ایثار کو ملائکہ میں پیش فرما کر اظہارِ خوشنودی فرما رہا ہے اور آپ اپنی خواب میں بے فکر سو رہے ہیں۔"

اسی وقت یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی جس میں شانِ مولائے کائنات کرم اللہ وجہہ ظاہر ہے۔ ارشاد ہوا: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ۖ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌ بِالْعِبَادِ﴾ "اور بعض اللہ کے بندے وہ ہیں جو اس کی رضا جوئی میں اپنی جان بیچتے اور قربان کرتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر شفقت کرنے والا ہے۔" اور جب جنگِ احد کے موقع پر حرب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں پر ابتلا فرمایا۔ ایک صحابیہ انصار میں سے آئیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں ایک کٹورا پانی لے کر اس نیت سے چلی کہ مجروحینِ اُحد میں سے کسی کی بھی خدمت کروں۔ جب میں میدانِ رزم میں پہنچی، ایک صحابی کو دیکھا کہ مجروح پڑے ہوئے اپنے لمحاتِ زندگی کے آخری سانس لے رہے ہیں۔ مجھے انہوں نے اشارہ کیا کہ پانی پلاؤں۔ میں ان کی طرف پانی لے کر گئی تو ایک دوسرے زخمی صحابی نے آواز دی کہ مجھے پانی پلاؤ۔ یہ آواز سنتے ہی وہ پہلے مجروح فرمانے لگے: جاؤ انہیں پلاؤ اور خود پانی نوش نہ فرمایا۔ جب وہ پانی ان کی طرف لے گئی تو ایک اور مجروح پکارے کہ مجھے پانی دو تو انہوں نے پانی نہ پیا اور مجھے فرمایا: جاؤ انہیں پانی دو۔ غرضیکہ اسی طرح سات صحابی تک وہ پانی لے کر چلی اور سب نے دوسرے کی آواز پر خود نہ پیا اور دوسرے کی طرف بھیج دیا۔ جب کہ ساتویں صحابی کی خدمت میں پانی لے کر میں پہنچی، وہ شہید ہو گئے۔ واپس لوٹی اور چھٹے کے پاس آئی تو وہ بھی جانِ بحق تسلیم فرما چکے تھے۔ غرضیکہ جب واپس آئی تو چھ کے چھ شہید تھے۔ آیتِ کریمہ حضور ﷺ پر ان شہداءِ احد کی شان میں نازل ہوئی جس میں ارشاد تھا کہ

﴿وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾

"وہ محبوبانِ بارگاہ اپنی جانوں کا ایثار کرتے ہیں اگرچہ انہیں سخت تنگی ہو رہی ہو۔"

بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا جس نے چار سو برس عبادت کی تھی۔ ایک دن وہ بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کرنے لگا: الٰہی! اگر تو ان پہاڑوں کو پیدا نہ فرماتا تو تیرے بندوں کو چلنے اور سفر کرنے میں آسانی رہتی۔ تو پیغمبرِ وقت صلوات اللہ علیہ و سلامہ کی طرف فرمان آیا کہ اس عابد کو فرما دو کہ جنابِ باری کا ارشاد ہے کہ تو نے بندہ ہو کر ہماری ملک میں تصرف کیا لہٰذا ہم نے تیرا نام

۳۵۱

دیوانِ سعد سے نکال دیا اور فہرستِ اشقیاء میں تجھے داخل کر دیا ہے۔

اس عابد نے یہ سنتے ہی اظہارِ مسرت کیا اور سجدۂ شکر کے لیے بحضورِ الٰہی جھک گیا۔ پیغمبرِ وقت علیہ السلام نے فرمایا: اے عقلمند! شقاوت کے درجے میں پہنچنے پر سجدۂ شکر ادا کر رہا ہے، یہ کونسا قانون ہے۔ عابد نے عرض کی حضور! اپنی شقاوت پر سجدہ نہیں کر رہا ہوں بلکہ اس امر پر سجدۂ شکر ادا کر رہا ہوں کہ خواہ کسی فہرست میں میرا نام ہو، مگر ہے تو اسی کے دفتر میں۔

اب میں ایک آرزو رکھتا ہوں، وہ حضور ﷺ اپنے ربّ کے دربار میں عرض کر دیں۔ آپ نے فرمایا: وہ آرزو کیا ہے؟ عابد نے عرض کی وہ یہ عرض ہے کہ جب مجھے جہنم میں ڈالا جائے تو مجھے اتنا عظیم الجثہ اور عریض و طویل کر کے ڈالا جائے کہ تمام موحدین کی جگہ مجھ سے بھر جائے تاکہ مجھ ایک کے جہنم جانے سے اتنا فائدہ تو ہو کہ باقی تمام موحدین بہشت میں جائیں۔ (اس ایثار اور خلوص پر دریائے رحمت جوش زن ہوا) ارشاد ہوا کہ: (اے پیغمبرِ وقت ہمارے بندہ کو) بشارت دو کہ یہ ابتلا و امتحان تیرے ذلیل کرنے کے لیے نہ تھا بلکہ تیرے ایثار و اخلاص کے ظاہر فرمانے کے لیے تھا۔ اب تیرا یہ مرتبہ ہے کہ قیامت کے دن تُو اور جس کی تُو شفاعت کرے گا، وہ سب تیرے ساتھ بہشت میں ہوں گے۔

میں نے ایک بار حضرت احمد حماد سرخسی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ آپ کی ابتدائے توبہ کیوں کر ہوئی تھی۔ فرمایا: میں سرخس سے ایک بار چلا اور ایک جنگل میں پہنچا۔ وہاں ایک مدت تک رہا اور اپنے اونٹ چرایا کرتا رہتا۔ میرے دل میں آیۂ کریمہ: ﴿وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ کے ماتحت اس چیز کی بہت تڑپ تھی کہ اپنی ضرورت کے مقابلہ میں دوسرے کی حاجت پوری کروں اور میرا اعقیدہ بھی صوفیائے کرام میں سے اسی جماعت کے اوپر تھا جو ایثار کو اولیٰ ترمانتی ہیں۔

ایک روز ایک بھوکا شیر نظر آیا اور اُس نے میرا اونٹ شکار کیا اور بلندی کی طرف چڑھ گیا اور ایک آواز ماری جس پر تمام درندے جنگل کے آ گئے۔ شیر نے اُونٹ کو چیر پھاڑ کر ڈال دیا اور خود کچھ نہ کھایا اور بالائے کوہ چلا گیا۔ اس شکار پر جس قدر درندے، لومڑی بھیڑیے اور بگھرے تھے، سب نے حملہ بول دیا اور خوب کھا پی کر چل دیے۔ اسی وقت شیر اترا اور ارادہ کیا کہ ایک ٹکڑا اس میں سے خود بھی کھائے کہ اتنے میں ایک لومڑی لنگڑی لولی دور سے آتی ہوئی نظر آئی۔ شیر پھر وہاں سے ہٹ گیا اور بالائے کوہ چلا گیا تا کہ وہ لومڑی بھی شکم سیر ہو جائے۔ چنانچہ جب وہ بھی کھا کر چلی

۳۵۲

گئی تو شیر نے آ کر ایک ٹکڑا اس میں سے لے کر کھایا۔

میں دور سے بیٹھ کر یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ شیر نے واپس جاتے ہوئے بزبانِ فصیح مجھے کہا

"یا احمد! ایثار بر لقمہ کارِ سگاں بود و مردانِ خدا جان و زندگانی ایثار کنند۔"

"اے احمد! لقمہ کا ایثار کرنا کتوں کا کام ہے اور مردانِ خدا جان اور زندگی کا ایثار کیا کرتے ہیں۔"

بس یہ سنتے ہی مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ اسی وقت میں نے تمام اشغالِ دنیا و دینیہ سے دستبرداری کی۔ یہ ہے میری توبہ کی ابتداء۔

حضرت ابو جعفر خلدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ اپنی خلوتِ خاص میں مشغولِ مناجات تھے۔ میں پوشیدہ طور گیا تاکہ اُن کی فصیح و بلیغ مناجات سنوں۔ آپ فرما رہے تھے: "بار خدایا! اہلِ دوزخ را عذاب کنی و جملہ آفریدگان تواند بعلمِ و قدرت و ارادتِ قدیم واگر ناچار دوزخ را از مردم پُر خواہی کرد قادری بدانکہ ہمن آں دوزخ و طبقاتِ آں پُر کنی ومرایشاں را بہ بہشت فرستی۔" "اے اللہ! تُو اہلِ دوزخ کو عذاب دے گا، حالانکہ سب تیرے علم و قدرت و ارادہ سے تیرے پیدا کردہ ہیں۔ اگر تُو لازمی طور پر دوزخ کو آدمیوں سے بھرنا چاہتا ہے تو اس پر بھی قادر ہے کہ دوزخ اور اس کے تمام طبقات صرف مجھ سے بھر دے اور باقی سب کو جنت میں داخل فرما دے۔"

حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ میں ان کی اس دعا سے حیران ہو گیا۔ شب کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ کوئی آنے والا آیا اور کہتا ہے کہ جعفر! جا اور ابو الحسن کو کہہ دے کہ ہم نے تجھے اس شفقت و محبت کی وجہ سے جو تجھے ہمارے بندوں سے اور ہم سے ہے، بخش دیا۔ اور حضرت ابو الحسن کو "نوری" اس وجہ سے کہا جاتا تھا کہ اگر کوئی تاریک گھر میں کچھ بات کرتا تو آپ نورِ باطن کی روشنی میں اس سے خبردار ہوتے تھے اور نورِ حق کی ضیاء باری سے آپ اپنے مریدوں کے تمام راز جانتے تھے۔ چنانچہ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: ابو الحسن جاسوسِ قلوب ست۔ "ابو الحسن جاسوسِ قلوب ہے۔" یہ ہے تخصیص اُن کے مسلک کی اور اہلِ بصیرت کی نظر میں یہ بہت قوی اصل ہے اور بڑا عظیم معاملہ ہے اور انسان پر بذلِ روح سے زیادہ سخت تر کوئی چیز نہیں۔

چنانچہ اپنے حبیبِ پاک ﷺ کو تمام نیکیوں کی کنجی انفاق و ایثار بتایا گیا اور صاف بتایا

۳۵۳

گیا کہ تمام نیکیوں کی کنجی محض بذل و انفاق ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ﴾ "بھلائیاں تم ہرگز حاصل نہیں کر سکتے جب تک محبوب ترین شے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔" اور جب کوئی اپنی روح اور جان کو اس کی راہ میں مبذول کرنا گوارا کر لے تو اس سے مال و حال و فرقہ و لقمہ کا کیا خطرہ ہو سکتا ہے اور اس طریقہ کا اصلی اصول یہی ہے۔

چنانچہ ایک شخص حضرت رویم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: حضور! مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: یَا ابْنَ لَیْسَ الْاَمْرُ غَیْرَ بَذْلِ الرُّوْحِ اِنْ قَدَرْتَ عَلٰی ذٰلِكَ وَاِلَّا فَلَا تَشْتَغِلْ بِتُرَّهَاتِ الصُّوْفِیَّةِ۔ "صاحبزادے! یہ طریقۂ تصوف بغیر بذلِ روح و جان کے نہیں ہے۔ اگر تو اس پر قدرت ہے تو (اس راستے میں آ، ورنہ) صوفیوں کی ان سخت باتوں میں نہ پڑ۔" اس لیے کہ صوفیاء کے یہاں اس کے سوا جو کچھ ہے وہ سب لغو و بیہودہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۖ بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَ﴾ "ان لوگوں کی طرف مرنے کا دل میں گمان بھی نہ کرنا جو راہِ مولیٰ میں شہید ہوئے بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے ربّ کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔" اور فرمایا: ﴿وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۖ بَلْ اَحْیَاءٌ﴾ "جو اللہ کی راہ میں شہید ہوئے انہیں مرا مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔" تو نتیجہ یہ نکلا کہ حیاتِ قربِ صرف سرمدی بذلِ روح کے بعد ملتی ہے اور اپنے حصہ کا ترک کر دینا امتثالِ امرِ الٰہی اور اتباعِ محبوبانِ بارگاہی ہے۔

لیکن ایثار و اختیار رویت و معرفت میں اختلاف ہے اور صوفیاء کے یہاں حقیقتِ ایثار اپنے نصیب کا ترک کر دینا ہی اصل نصیب ہے۔ اس لیے کہ جب تک طالب کی روش متعلق بہ کسب رہتی ہے، تمام کی تمام اس کی ہلاکت کا پیش خیمہ ہے اور جب جذبِ حق اپنے تصرفِ ولایت کو ظاہر کر دیتا ہے تو اس کے احوال و افعال تمام کے تمام اتنے منتشر ہو جاتے ہیں کہ اس کے لیے وہ عبارت ہی نہیں رہتی جس سے کچھ ظاہر کیا جا سکے اور نہ اُس کے وقت و زمانہ کے لیے کوئی لفظ ملتا ہے جس سے اُس کی کیفیت ظاہر کی جا سکے یا کسی چیز سے اس کی مثال دی جائے۔ اس حقیقت کو حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے خوب واضح کیا ہے

غِبْتَ عَنِّیْ فَمَا اُحِسُّ بِنَفْسِیْ ۔ وَتَلَاشَتْ بِهٖ صِفَاتِیَ الْمَوْصُوْفَةُ فَاَنَا الْیَوْمَ غَائِبٌ عَنْ جَمِیْعٍ ۔ لَیْسَ اِلَّا الْعِبَارَةُ الْمَلْهُوْفَةُ

۳۵۴

ترجمہ: تو مجھ سے غائب ہوا تو میں ایسا بے ہوش ہوا کہ اپنے آپ کو نہیں پہچانتا اور میری صفاتِ موصوفہ بھی اس کے ساتھ بکھر گئیں، تو آج کے دن سب سے ایسا غائب ہوں کہ عباراتِ ملہوفہ کے سوا کچھ نہیں ہوں۔

فرقۂ سہلیہ

فرقۂ سہلیہ کا تعلق حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ یہ محتشمانِ اہلِ تصوف سے ہیں اور کبرائے قوم میں مانے جاتے ہیں۔ ان کا ذکر پہلے ہو چکا۔ غرضیکہ اپنے وقت کے سلطان اور اربابِ حل و عقدِ طریقت تھے اور آپ کی براہین اس قدر زیادہ ہیں کہ ہر اور اک ان کے بیان سے عاجز ہے اور آپ کا طریقہ اجتہاد و مجاہدۂ نفس و ریاضت ہے اور آپ مریدوں کو مجاہدہ میں کمال درجہ پہنچا چکے ہیں۔

آپ کی ایک حکایت مشہور ہے کہ ایک مرید کو حکم ملا کہ تمام دن اللہ اللہ کرے۔ اس کے بعد تین روز تک یہی وردر کھے کہ خود گر ذکر ہو جائے۔ پھر فرمایا: اب جس طرح دن اللہ اللہ میں گزارا ہے، راتیں بھی اسی طرح گزارو۔ مرید حسبِ الحکم کرتا رہا۔ غرضیکہ مرید کا یہ حال ہو گیا کہ اگر اپنے کو خواب میں دیکھتا تو ذکر کرتا پاتا۔ یہاں تک کہ وہ ذکر مرید کی عادت سے طبعِ ثانی بن گیا۔ اب حکم ہوا کہ ذکرِ لسان سے لوٹ کر ذکرِ قلبی میں جا۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ حتیٰ کہ وہ ذکر اتنا غالب آیا کہ ایک روز وہ اپنے گھر میں تھا کہ ہوا سے لکڑی گری اور اس کا سر پھوڑ دیا۔ تو جو قطرات خون چکیدہ ہوئے تو ان سے بھی اللہ اللہ ہی منقش نظر آیا۔

غرضیکہ تربیتِ مریدان مجاہدات و ریاضات سے کرنا خاص طریقۂ سہلیہ ہے اور خدمتِ درویشاں اور تعظیم، حمد و بیان اور مراقبہ، طریقۂ جنیدی کا (یہ بھی ان کے یہاں لازمی ہے) اور ریاضت و مجاہدہ میں تمام کی تمام مخالفتِ نفس کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی نفس کو نہ پہچانے تو اس کے لیے مجاہدہ و ریاضت بے سود ہے۔

اب ہم نفس کی حقیقت اور اس کی تعریف بیان کریں تاکہ معلوم ہو کہ (یہ کیا بلا ہے) پھر مجاہدات اور مذاہب و مسلکِ صوفیاء ظاہر کریں گے تاکہ طالبِ علم پر ان کی تعریف روشن ہو جائے۔ ان شاء اللہ وباللہ التوفیق۔

حقیقتِ نفس و معنیِ ہوئی

یاد رکھو! نفس کے لغوی معنی وجودِ شے کے ہوتے ہیں یا حقیقتِ وذات کے معنی میں مرَوَّج

۳۵۵

ہے۔ لیکن عادتِ عوام و عباراتِ مردمان میں اس کے بہت سے معنی لیے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کا معنوی استعمال برخلاف یک دیگر ہی نہیں ہوتا بلکہ متضاد معنی میں استعمال کرتے ہیں۔

پھر باعتبارِ عرف ایک گروہ بمعنی "روح" کہتا ہے۔ ایک گروہ کے نزدیک "مروت" کے معنی میں نفس آتا ہے۔ ایک گروہ "جسد و جسم" کے معنی لیتا ہے۔ ایک گروہ "خون" کے معنی کرتا ہے۔ لیکن محققینِ صوفیاء کے نزدیک مذکورہ معنی سے کوئی معنیِ نفس کے صحیح نہیں بلکہ ان کی تحقیقِ نفس کے متعلق (مندرجہ ذیل ہے) اس امر پر سب توتفق ہیں کہ نفس نام ہے "متبعِ شر" اور "قائدِ سوء" کا۔

ایک جماعت کہتی ہے کہ نفس ایک ایسی عین شے ہے جو دل میں رکھی گئی ہے اور وہ انسان میں مثلِ روح کے لازم ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ نفس ایک ایسی صفت کا نام ہے جو قالبِ انسان میں مثلِ حیوۃ کے موجود ہے۔

لیکن تمام محققین صوفیاء اس امر پر متفق ہیں کہ نفس وہ ہے جس کے ذریعے اخلاقِ رذیلہ اور افعالِ خبیثہ کے ارادے پیدا ہوں اور یہ اُن افعالِ رذیلہ خبیثہ کا سبب ہے اور افعالِ رذیلہ خبیثہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک معاصی، دوسرے اخلاقِ رذیلہ جیسے تکبر، بخل، خشم، حسد اور مثلِ اس کے تمام ایسے ناستودہ افعال جو شرع و عقل برے بتائے۔

تو ریاضت و مجاہدہ سے صوفی ان اوصاف کو اپنے سے دفع کرتا ہے۔ جیسے توبہ کرنے سے معصیت سے اجتناب۔ تو فعلِ معصیت اوصاف سے ظاہر ہے اور معصیت شعاری کے اوصاف باطن سے ہے اور ریاضتِ افعالِ ظاہر سے ہے اور توبہ اوصافِ باطن سے۔ تو جو بُرے وصف باطن سے ظاہر ہوں ظاہری روش وصفوں سے پاک ہو جاتے ہیں۔ اور جو ظاہر میں جلوہ گر ہوں، باطنی اوصافِ پسندیدہ سے دور ہو جاتے ہیں۔

اور نفس و روح دونوں لطیفہ ہیں جو قالبِ انسان میں موجود ہیں۔ جیسے کہ دنیا میں شیاطین و ملائکہ اور بہشت و دوزخ۔ ان میں سے ایک محلِ خیر ہے اور ایک محلِ شر۔ جس طرح آنکھ محلِ نظر ہے اور کان محلِ سمع ہے اور زبان محلِ ذائقہ اور مثلِ اس کے تمام اعیان (ان کے لیے بھی ایک مقام اور محل ہے) اور بہت سے وصف ایسے ہیں جو قالبِ انسان میں ودیعت کیے گئے ہیں۔

چنانچہ نفس کی مخالفت میں تمام عبادات کا راز ہے اور کمالِ مجاہدہ بھی اسی مخالفتِ نفس کے لیے ہے اور بندہ بجز مخالفتِ نفس واصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ نفس کی موافقت ہلاکتِ انسان ہے اور مخالفتِ نفس میں بندہ کی نجات۔ چنانچہ حضرت ربّ العزت جل مجدہٗ نے اس کی مخالفت کا حکم فرمایا اور ان کی تعریف کی جو اس کی مخالفت کرنے والے ہیں اور اس کی مذمت کی جو موافقتِ نفس

۳۵۶

میں چل رہے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوا: ﴿وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰی ۙ فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰی﴾ "جنہوں نے نفس کی خواہشات کو روکا تو ان کی آرام گاہ جنت ہے۔" اور فرمایا: ﴿اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَهْوٰٓی اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ﴾ "کیا پس جب تمہارے پاس رسول تمہاری خواہشاتِ نفسانی کے خلاف حکم لائے تو تم نے سرکشی کی اور تکبر کیا۔"

اور حضرت یوسف صدیق علیہ السلام کی زبان سے ہمیں قرآن کریم میں خبر دی: ﴿وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ﴾ "اور میں اپنی جان کو پاک نہیں کرتا، بیشک نفس برائی کا حکم کرنے والا ہے مگر جو اللہ کے رحم سے بچ سکے۔"

اور حضرت سید یوم النشور ﷺ نے فرمایا: اِذَا اَرَادَ اللّٰهُ بِعَبْدٍ خَیْرًا بَصَّرَهٗ بِعُیُوْبِ نَفْسِهٖ "جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو چشم و بصیرت عطا فرماتا ہے کہ وہ اس سے اپنے نفس کے عیوب دیکھتا ہے۔"

اور احادیث میں وارد ہے کہ اللہ جل علا شانہٗ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو وحی فرمائی اور حکم دیا: یَا دَاوٗدُ عَادِ نَفْسَكَ فَاِنْ وُدِّیْ فِیْ عَدَاهَا۔ "اے داؤد! اپنے نفس سے دشمنی کر اس لیے کہ میری دوستی اس کی عداوت میں ہے۔"

یہ جو کچھ ہم نے بیان کیا یہ تمام اوصاف ہیں اور لامحالہ حقیقت کے لیے موصوف لازمی ہے تاکہ وہ اس صفت کے ساتھ قائم ہو۔ اس لیے کہ صفت قائم بالذات نہیں ہو سکتی اور معرفتِ صفت بغیر علم و شناخت قالب حاصل نہیں ہو سکتی اور طریقِ شناختِ ابدان و اجسام یہی ہے کہ اوصافِ انانیت کو سمجھے کہ یہ انسانیت کا جز ہے اور یہی سرِّ انسان ہے۔

اور حقیقتِ انسان کی تشریح میں بہت سے اقوال ہیں۔ یہاں تک کہ اس میں بھی بہت سے قول ہیں کہ اسمِ انسان کیا چیز ہے اور انسان کہلانے کا کون سزاوار ہے اور اس کا علم ہر طالبِ حقیقت پر فرض ہے۔ اس لیے کہ جو اپنے سے ہی جاہل ہے وہ غیر سے جاہل تر ہوگا اور جب کہ بندہ معرفتِ حق اور معرفتِ خود کے لیے مکلف ہے تاکہ وہ اپنے حدوث اور ذاتِ واجب تعالیٰ شانہٗ کے قدم کو جانے اور اپنی فنا اور ذاتِ حق کی بقا کو سمجھے۔

اور قرآنِ کریم کی نص بھی اس امر پر ناطق ہے کہ ربّ جل مجدہ نے کفار کو اپنی طرف

۳۵۷

سے جاہل فرمایا اور ارشاد ہوا: ﴿وَمَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرَاهِیْمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ﴾ "اور کون ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے دین سے منہ پھیرے سوا اس کے جس نے اپنے آپ کو نادانی اور جہالت کے حوالے کر دیا۔"

اور ایک مشائخ کرام میں سے فرماتے ہیں: مَنْ جَهِلَ نَفْسَهٗ فَهُوَ بِالْغَیْرِ اَجْهَلُ۔ "جو اپنے نفس کے ساتھ جاہل ہے وہ غیر سے جاہل تر ہے۔" اور حضور سید یوم النشور ﷺ نے فرمایا

مَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهٗ۔ اَیْ مَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ بِالْفَنَاءِ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهٗ بِالْبَقَاءِ وَیُقَالُ مَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ بِالذُّلِّ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهٗ بِالْعِزِّ وَیُقَالُ مَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ بِالْعُبُوْدِیَّةِ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهٗ بِالرُّبُوْبِیَّةِ۔

۳۵۸

"جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، یقیناً اس نے ربّ کو بھی پہچان لیا۔" شرح فرماتے ہیں یعنی جس نے اپنے نفس کی فنا کو سمجھ لیا، اس نے یقیناً ذاتِ باقی کی بقاء کو جان لیا۔ بعض نے کہا: جس نے اپنے نفس کو ذلت کے ساتھ جان لیا، اس نے اپنے ربّ کی عزت مان لی۔

تو سب کا خلاصہ یہ ہوا کہ جو اپنے کو نہ جانے وہ کل کی معرفت سے محجوب ہے۔

ان تمام تشریحات سے مراد معرفتِ انسانیت ہے اور اس حقیقت میں محققین کے اختلافات پر بہت سے اقوال ہیں

۱۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ انسان کی حقیقت سوائے روح کے کچھ نہیں ہے۔ یہ جسم تو محض اُس روح کے راہ و مکان ہیں یا اس کی آرام گاہ۔ تاکہ اس جسم میں رہ کر غلل طبائع سے محفوظ رہے اور حس و عقل یہ صفاتِ روح ہیں۔ مگر یہ تعریف بالکل باطل ہے۔

اس لیے کہ اگر روح کا نام انسان ہے تو جب جسم سے روح نکل جائے تو اسے انسان نہ کہنا چاہیے حالانکہ انسان کہتے ہیں۔ مردہ جسم سے نامِ انسان نہیں اٹھتا۔ مذکورہ اصول کے ماتحت جب تک اس مکان میں روح ہے انسان کہنا چاہیے مگر جب وہ روح پرواز کر جائے تو انسان نہ کہنا چاہیے۔ حالانکہ زندہ انسان جب تک بولا جاتا ہے جب تک اس میں روح ہے اور جب روح نہ رہے تو مردہ انسان کہلاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ رُوحِ قالبِ ستور یعنی گھوڑے میں بھی ہوتی ہے حالانکہ اُسے انسان نہیں کہا جاتا۔ اگر اسمِ انسان کی علت روح ہوتی تو یہ ضرور تھا کہ جہاں روح کا وجود ہوتا وہاں ہی اطلاقِ اسمِ انسان صحیح ہوتا۔ تو ثابت ہوا کہ مذکورہ قول بالکل باطل ہے۔

۲۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ انسان روح و بدن پر یکجا واقع ہوتا ہے اور ایک دوسرے سے جدا ہوتا ہے تو پھر یہ نام ساقط ہو جاتا ہے۔ جس طرح ایک گھوڑے پر دو رنگ مجتمع ہوں ایک سیاہ ایک سپید تو اُسے "ابلق" کہتے ہیں اور اگر فقط سپید رنگ ہو تو سپید کہتے ہیں۔ یہ بھی قرآن کریم کے حکم کے ماتحت بالکل باطل ہے۔

جیسا کہ ارشاد ہے: ﴿هَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا﴾ "کیا انسان پر وہ وقت آیا ہے کہ جب کوئی شے مذکور نہ تھا۔" حالانکہ آدمی بے جان مٹی کو بھی

۳۵۹

انسان کہا گیا۔ با آنکہ ابھی تک اس کے قالب میں جان پیوستہ نہیں ہوئی۔

۳۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ انسان ایک "جزو لا یتجزیٰ" ہے اور اس کا مقام دل ہے اور یہی قاعدہ اوصافِ انسانی ہے حالانکہ یہ بھی محال ہے۔ اس لیے کہ اگر انسان کو مار ڈالیں اور اس کے اندر سے دل نکال لیں تو اسمِ انسان اس سے نہیں جاتا اور روح سے قبل بالا تفاقِ محققین قالبِ انسان میں دل نہیں ہوتا۔

ہم کہتے ہیں کہ بالاتفاق جملہ عقلاء اسمِ انسان کا اطلاق مجانین و کفار و فساق سب پر ہے اور ان کے اندر اسرارِ الٰہیہ کے معنی میں سے کچھ نہیں۔ سب کے سب متغیر آکل شارب ہیں اور اس کے قالب اور وجود میں ایسی شخصیت مخصوص کہیں نہیں، جسے ان کی تعریف کے مطابق انسان کہا جائے۔

بلکہ حضرت ربّ العزت جل مجدہٗ نے انسان اس مجموعہ کا نام رکھا جس سے کہ انسان مرکب ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے

﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍ ۚ ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ ۚ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ ۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ﴾

"اور بے شک ہم نے پیدا کیا انسان کو گندھی ہوئی صاف مٹی سے۔ پھر کیا ہم نے اس میں قطرۂ منی کو ایک خاص جگہ ٹھہرنے والا۔ پھر کیا ہم نے نطفہ کو جما ہوا خون۔ پھر بنایا ہم نے جمے خون کو مضغۂ گوشت۔ پھر بنائے ہم نے مضغہ سے ہڈیاں۔ پھر چڑھایا ہم نے ہڈیوں پر گوشت، پھر نشو و نما فرمائی ہم نے دوسری پیدائش میں، تو بڑی برکت والا ہے اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہے۔"

تو حضرت ربّ العزت جل مجدہٗ نے جو اصدق الصادقین سے ہے، خاک سے اس صورت کو پیدا فرمایا اور جملہ تغیرات اس پر ہوئے مگر ہر زمانہ میں اس کا نام انسان ہی رکھا۔

۳۶۰

چنانچہ ایک جماعت اہلِ سنت و جماعت کی کہتی ہے کہ انسان "حیّ" ہے اور اس کی صفاتِ محمودہ ایسی ہیں کہ موت اس اسم کو اس سے نہیں اٹھا سکتی۔ حتیٰ کہ صورتِ معہودہ اس اسم کو آلاتِ موسوم ظاہر و باطن سے علیحدہ نہیں کر سکتی اور مراد صورت سے تندرستی و بیماری ہے اور آلات سے مراد موسومِ انسان کا مجنون و عاقل ہونا ہے۔

غرضیکہ بالاتفاق عقلاء انسان جس قدر صحت کی طرف ہوگا، کامل تر ہوتا چلا جائے گا اور مخلوق میں یہ سب سے کامل ہے۔ اب سمجھ لینا ضروری ہے کہ ترکیبِ انسانی جو کامل تر ہوتی ہے وہ محققین کے نزدیک تین معنی سے ہوتی ہے: (i) ایک روح (ii) دوسرے نفس (iii) تیسرے جسم۔ اور اس کے ہر عین میں ایک صفت ہوتی ہے جو اس عین کے ساتھ قائم ہے۔

چنانچہ روح کے لیے عقل اور نفس کے لیے ہوا اور بدن کے لیے حس۔ انسان نمونۂ عالم ہے۔ اور عالم دو جہان کا نام ہے اور دونوں جہانوں کے نشانات کا مجموعہ انسان ہے۔ اس جہان کے نشان تو انسان میں پانی، خاک، ہوا، آگ ہے اور ان کی ترکیب بلغم، خون، صفرا، سودا سے ہے اور اس جہان کے نشان بہشت، دوزخ اور عرصاتِ محشر ہیں۔

تو جانِ بہشت کی بجائے اپنی لطافت سے بنتی ہے اور دوزخ کی بجائے نفس اور آفات وحشت ہو جاتے ہیں اور جسم بجائے عرصاتِ محشر کے ہے، اور عرصۂ محشر میں جو جمالِ یار ہوگا وہ بھی دو معنی میں ہے۔ قہر کے ساتھ یا مؤانست کے ساتھ۔ تو بہشت نتیجۂ رضائے دوست ہے اور دوزخ نتیجۂ سخط و غضبِ یار ہے۔

اسی طرح روح مومن کو معرفتِ روح سے راحت ہے اور نفس کی وجہ میں حجاب و ضلالت۔ حتیٰ کہ مومن دوزخ سے اس وقت تک خلاصی نہ پائے گا اور بہشت نہ پہنچ سکے گا جب تک حقیقتِ رویت نہ پائے اور محبت کی صفائی کو حاصل نہ کر لے۔ اسی طرح جب تک بندہ دنیا میں نفس سے نجات نہ پائے، تحقیقِ ارادہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس لیے اس کی قائد روح ہے اور جب تک تحقیقِ ارادہ حاصل نہ ہو قربت و معرفتِ ذات کو نہیں پہنچ سکتا۔

تو خلاصہ یہ ہوا کہ جو دنیا میں اس ذات کو پہچان لے گا، غیروں سے اعراض کرے گا اور صراطِ شریعت پر قائم ہوگا تو قیامت کے دن دوزخ و پلِ صراط کو دیکھے گا۔

مختصر یہ کہ روحِ مومن وہ ہے کہ جس کو بہشت پکارتا اور بلاتا ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں وہ نمونۂ بہشت تھا، اور نفس وہ ہے کہ اس کو بلانے اور پکارنے والا دوزخ ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں وہ نمونۂ دوزخ تھا۔ تو مومن وہ ہے کہ جو کامل مدبر عقل ہے اور دوسرا وہ ہے جس کی قائد حرص و ہوائی

۳۶۱

ناقص ہے۔ تو ایک کی تدبیر صواب ہے، دوسرے کی تدبیر ناقص اور محض خطا ہے۔ تو طالبِ درگاہِ احدیت پر واجب ہے کہ ہمیشہ مخالفتِ نفس کرے تاکہ اُس کی مخالفت سے روح اور عقل کو مدد ملتی رہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔

جو کچھ مشائخ کرام نے نفس کے بارے میں لکھا ہے، وہ یہ ہے

حضرت ذوالنون مصری قدس سرہٗ فرماتے ہیں

اَشَدُّ الْحِجَابِ رُؤْیَةُ النَّفْسِ وَتَدْبِیْرُهَا۔

"سخت ترین بندہ کا حجاب نفس کا دیکھنا ہے اور ان کی تدبیر کا اتباع۔" اس لیے کہ مطابقتِ نفس، مخالفتِ حق عزّ و جل ہے اور مخالفتِ حق تمام حجابوں کا سرچشمہ ہے۔

اور حضرت ابو یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

اَلنَّفْسُ صِفَةٌ لَا تَسْكُنُ اِلَّا بِالْبَاطِلِ۔

"نفس ایک ایسی صفت ہے جسے سکون، بغیر باطل پرستی نہیں" اور حق سے اس کی سیری ہرگز نہیں ہوتی۔

حضرت محمد بن علی ترمذی قدس سرہٗ فرماتے ہیں

تُرِیْدُ اَنْ تَعْرِفَ الْحَقَّ مَعَ بَقَاءِ نَفْسِكَ فِیْكَ وَنَفْسُكَ لَا تَعْرِفُ نَفْسَهَا فَكَیْفَ تَعْرِفُ غَیْرَهَا۔

"اگر تو چاہتا ہے کہ اپنے ربّ کو پہچانے اور نفس کو سلامت رکھے تو تجھ میں تیرا نفس اپنے کو باقی رکھنے کی صورت میں تجھ کو نہیں پہچاننے دیتا۔ تو پھر تو غیر یا ذاتِ باقی کو کیسے پہچان سکتا ہے۔"

یعنی جب تک تیرا نفس باقی ہے تجھے خود بخود محجوب رکھے گا اور جب تو محجوب ہوگا تو کس طرح کشفِ جمال حاصل کر سکتا ہے۔

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

اَسَاسُ الْكُفْرِ قِیَامُكَ عَلٰی مُرَادِ نَفْسِكَ۔

"کفر کی جڑ تیرا قیام ہے مرادِ مقصودِ نفس پر۔"

اس لیے کہ نفس کو لطیفۂ اسلام سے مقارنت نہیں تو لامحالہ نفس ہمیشہ اعراضِ اسلام پر کوشاں رہے گا اور معرِض منکر ہوتا ہے اور جو منکر ہوتا ہے وہ بے گانہ ہوتا ہے۔

۳۶۲

حضرت ابو سلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

اَلنَّفْسُ خَائِنَةٌ بِالْاُلْفَةِ مَانِعَةٌ مِنَ الرِّضَاءِ وَاَفْضَلُ الْاَعْمَالِ خِلَافُهَا۔

"نفس خائن ہے امانتِ ایمان میں اور مانع ہے اعمالِ صالحہ سے اور طلبِ رضا کا مخالف ہے۔ لہٰذا بہترین اعمال سے مخالفتِ نفس ہے۔"

اس لیے کہ خیانتِ امانت میں مقتضیِ یگانگی ہے اور ترکِ رضا اپنا گم کرنا اور تباہ ہونا ہے۔ علاوہ اس کے بہت سے مشائخ کرام کے بہت سے ارشادات ہیں جن کا احصاء و حصر اس مختصر میں مشکل ہے۔ اب ہم اپنی مقصود کی طرف آتے ہیں اور مذہبِ سہل میں جو صحتِ مجاہدۂ نفس و ریاضت پر بڑا ثبوت ہیں، وہ بیان کرتے ہیں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔