چودھواں باب
جاری ہے۔
مجاہدۂ نفس
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
﴿وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾
"وہ لوگ جنہوں نے ہمارے معاملہ میں مجاہدہ کیا البتہ ہم انہیں اپنی راہ دکھا دیں گے۔"
اور حضور ﷺ نے فرمایا
اَلْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهٗ فِی اللّٰهِ۔
اور فرمایا
رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِهَادِ الْاَكْبَرِ۔ قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا الْجِهَادُ الْاَكْبَرُ؟ قَالَ: مُجَاهَدَةُ النَّفْسِ۔
۳۔ امام سیوطی اسے "الجامع الصغیر" (۸۵/۲) میں اور امام غزالی احیاء علوم الدین (۶/۳) میں ان الفاظ کے ساتھ لائے ہیں: قَدِمْتُمْ مِنَ الْجِهَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِهَادِ الْاَكْبَرِ، مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ۔
۳۶۳"مجاہدہ کرنے والا وہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں اپنے نفس کا مقابلہ اور اُس کی مخالفت کی۔"
"لَوٹے ہم چھوٹے جہاد یعنی غزوات سے بڑے جہاد کی طرف۔ صحابہ نے عرض کی: حضور بڑا جہاد کیا ہے۔ فرمایا نفس کا مقابلہ۔"
اس حدیث میں حضور ﷺ نے غزوات پر جہادِ نفس کی فضیلت ظاہر فرمائی اس لیے کہ نفس کے جہاد میں رنج زیادہ ہے اور وہ خواہشِ نفسانیہ کو دفع کرنا ہے اور جہادِ نفس یہ ہے کہ نفس کی خواہشات پر قہر کرنا۔
تو اب اچھی طرح یاد رکھو! خدا تمہیں عزتِ دین و دنیا عطا فرمائے! طریقِ مجاہدۂ نفس ظاہر اور واضح ہے اور تمام ادیان و ملل میں اسے پسند کیا ہے اور صوفیوں کے طریقہ میں مجاہدۂ نفس کا ملحوظ رکھنا مختصر ہے اور صوفیاء عوام و خواص مجاہدۂ نفس کو خاص طور پر لازم جانتے ہیں اور اس میں مشائخ کرام کے رموز اور ارشادات بہت زیادہ ہیں۔
حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ اس مجاہدۂ نفس کو اصلِ اصولِ تصوف قرار دیتے ہیں اور اس میں خاص مبالغہ فرماتے ہیں اور دلائلِ مجاہدہ ان کے بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ حضرت سہل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی یہ عادت بنا رکھی تھی کہ پندرہ روز بعد ایک بار کھانا تناول فرماتے اور اس قدر تقلیلِ غذا کرنے کے باوجود آپ کی عمرِ مبارک بہت طویل تھی۔ چنانچہ حضرت سہل رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مشاہدہ کے لیے مجاہدہ کو علت فرمایا اور عرفانِ حق کی طلب کے لیے مجاہدہ کو خاص طور پر موثر قرار دیا ہے۔ حضرت سہل رحمۃ اللہ علیہ ایسی حیاتِ دنیا کو جو طلبِ مشاہدہ میں ہو، اس حیاتِ اُخروی پر جزاء عمل کے لیے ہے بہتر ہو بزرگ فرماتے ہیں۔ اس لیے کہ جزاء اس حیات کے اعمال کا ثمرہ ہے۔ تو جب حیاتِ دنیا میں عمل کرے گا تو عاقبت میں ثمرِ قرب پائے گا بغیر خدمت و مجاہدہ قربت حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو انسان کو چاہیے کہ واصلِ بحق ہونے کی جو علت ہے یعنی مجاہدہ، اس میں اتنی سعی کرے جتنی اللہ تعالیٰ اُسے توفیق دے۔ اَلْمُشَاهَدَاتُ مَوَارِیْثُ الْمُجَاهَدَاتِ۔ "مشاہدات مجاہدوں کی میراث ہیں۔"
ایک کہتے ہیں کہ مجاہدہ وصول الی اللہ کی علت ہے، اس لیے کہ یہ تقربِ عطاءِ الٰہی سے ہے اور عطاءِ الٰہی کو کسی عمل اور مجاہدہ سے سروکار نہیں۔
تو مجاہدہ ضروری ہے تو صرف تہذیبِ نفس کی غرض سے، نہ کہ حقیقتِ قرب حاصل کرنے کے لیے۔ اس لیے کہ مجاہدہ کی طرف رجوع ہونا بندہ کی طرف سے ہے اور مشاہدہ فضلِ الٰہی سے تو
۳۶۴اندریں صورت مجاہدہ کا سبب بننا مشاہدہ کے لیے محال ہے یا مجاہدہ آلۂ مشاہدہ بننے بھی ناممکن۔
حضرت سہل رحمۃ اللہ علیہ اپنے دعوے کے ثبوت میں یہ آیۂ کریمہ پیش کرتے ہیں
﴿وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾
"جن لوگوں نے ہمارے لیے مجاہدہ کیا یقیناً ہم انہیں اپنی راہیں دکھا دیں گے۔"
اور حقیقت واقعہ یہی ہے کہ جدوجہد مشاہدۂ باری کرتا ہے وہ مشاہدہ حاصل کر لیتا ہے اور ورودِ جملہ انبیاء کرام علیہم السلام اور احقاقِ شریعت اور نزولِ کتب سماویہ اور بندوں کو مکلف احکام کرنا، یہ سب مجاہدہ ہے۔ اگر مجاہدہ علتِ مشاہدہ نہ ہوتا تو ان تمام امور کی حقانیت باطل ہو جاتی ہے۔ اور یہ بھی حقیقتِ واقعہ ہے کہ دین اور احوالِ عاقبت اور اس کے تمام احکام کسی علت کے ماتحت ہیں۔ تو جو علل احکام کی نفی کرتا ہے اس سے شرع اور رسوم سب اٹھ جاتی ہے۔ تو اصل میں مکلف باحکام ہونے کا ثبوت ہوگا نہ فرع میں۔
پھر ظاہر ہے کہ بھوک کے دفع کرنے کو کھانا اور کپڑا سردی گرمی دور کرنے کے لیے علت ہے اور نفیِ علت تمام معانی میں معلول کے معطل کرنے کو لازم ہے۔ تو افعال میں اسباب دیکھنا توحید ہے اور اس کا اٹھا دینا ترکِ افعال کرنا اور معطل ہو جانا ہے۔
چنانچہ مشاہدہ میں جو دلائل ہوتے ہیں تو دلائل کا انکار مشاہدہ کا انکار ہے اور صاف طور پر اسے "مکابرہ" کہا جا سکتا ہے۔ (مکابرہ کہتے ہیں اس گفتگو کو جس میں احقاقِ حق ملحوظ نہ ہو بلکہ اپنی شخصیت اور بڑائی دکھانی مطلوب ہو)
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ سرکش گھوڑے کو ریاضت کرا کر اس کی ہیبت دور کر دی جاتی ہے۔ ریاضت کے بعد وہی سرکش گھوڑا آدمی کی صفات حاصل کر لیتا ہے اور اس کی حیوانی اور بہیمی صفات انسانیت سے بدل جاتی ہیں۔
چنانچہ بعد ریاضت گھوڑا یکبارگی اٹھا کر اپنے سوار کو دو دیتا ہے، پولو میں گیند اٹھا کر سوار کو دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر ایک بے عقل عجمی لڑکے کو ریاضت کر کے عربی زبان میں "افصح الفصحاء" بنا لیتے ہیں اور اس کی گنوار زبان جو طبعی تھی ایک بلیغ ہو جاتی ہے کہ باید و شاید۔
ایک وحشی جانور بعد ریاضت اتنا سدھا لیا جاتا ہے کہ جب اُسے چھوڑ دیا جائے اور جب بلاؤ فوراً آ جائے۔ حتیٰ کہ اُسے وہ آزادی جو پہلے تھی، اب ریاضت کے بعد اس سے زیادہ قید پسند ہو جاتی ہے۔
۳۶۵گندے کتے کو دیکھو کہ ریاضت و مجاہدہ کے بعد اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کا مارا ہوا حلال ہو جاتا ہے اور بلا ریاضت و مجاہدہ کے اگر انسان بھی مارے تو وہ شرعاً حرام ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
تو ثابت ہوا کہ شرع اور رسم کا مدار بھی مجاہدہ و ریاضت پر ہے۔
پھر حضور سید یوم النشور ﷺ نے باوجود حصولِ قرب اور وصلِ مطلوب کے اور عاقبت کی طرف سے بے فکر کیے جانے کے اور عصمت و پاک دامنی محقق ہوتے ہوئے، دن بھر کی عبادتیں اور راتوں کی شب بیداریاں اس قدر زیادہ کیں جو مجاہدہ سے بھی آگے بڑھ گئیں۔ حتیٰ کہ قرآن کریم میں حکمِ باری تعالیٰ نازل ہوا: ﴿مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی﴾ "اے محبوب ہم نے تم پر قرآن پاک اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ آپ کو اس قدر مشقت میں ڈال دیں۔"
(نکتۂ عجیبہ) "طٰہٰ" میں ط اور ہ جو ہے اس کے عدد باعتبارِ اعدادِ ابجد چودہ ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ط کے عدد ۹ ہوتے ہیں اور ہ کے عدد پانچ۔ دونوں کو جمع کرنے سے ۱۴ کا عدد حاصل ہوتا ہے اور چودھویں رات کا چاند چونکہ کامل ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ پاک ﷺ کو اپنے کرمِ خاص سے فرمایا: اے ہمارے ماہِ کامل! ہم نے یہ قرآن تجھ پر مشقت بڑھانے کے لیے نازل نہیں فرمایا۔ (از مترجم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنابِ سرورِ عالم ﷺ تعمیرِ مسجد کے وقت پتھر اٹھا رہے تھے اور میں دیکھ رہا تھا کہ اس میں حضور ﷺ کو تکلیف ہو رہی ہے۔ میں نے عرض کی: حضور یہ خدمت میرے سپرد فرمایئے تاکہ حضور کی جگہ یہ کام میں کروں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: خُذْ غَیْرَهَا فَاِنَّهٗ لَا عَیْشَ اِلَّا عَیْشُ الْاٰخِرَةِ۔ "تم اور پتھر اٹھاؤ اس لیے کہ آرام دنیا کا کچھ نہیں، آرام تو آخرت کا ہے۔" اور یہ مقامِ مشقت و ریاضت ہے۔
اور حبان بن خارجہ راوی ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ غزوہ یعنی جہاد کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا
۳۶۶اِبْدَاْ بِنَفْسِكَ فَجَاهِدْهَا وَابْدَاْ بِنَفْسِكَ فَاغْزُهَا فَاِنَّكَ اِنْ قَتَلْتَ فَارًّا بَعَثَكَ اللّٰهُ فَارًّا وَاِنْ قَتَلْتَ مُرَائِیًا بَعَثَكَ اللّٰهُ مُرَائِیًا وَاِنْ قَتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَكَ اللّٰهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا۔
"اپنے نفس کے ساتھ جہاد شروع کر اور پھر اپنے نفس سے ہی جنگ کر، اس لیے کہ اگر تو نے اسے قتل کر لیا، بھاگتے ہوئے تو اللہ تجھے بروزِ قیامت اس کے بھگانے والوں میں اُٹھائے گا اور اگر تو نے اُسے قتل کیا دکھلاوے کے لیے تو اللہ تجھے نفس کی نگرانی کرنے والوں میں اُٹھائے گا اور اگر تو نے اُسے قتل کیا صبر کر کے آخرت کے اجر کی امید پر، تو اللہ تجھے قیامت کے روز صابر و محتسب اُٹھائے گا۔"
غرضیکہ جس قدر الفاظ و عبارات میں مجاہدہ کی تعریف کی گنجائش ہے اسی قدر مجاہدات کا اثر اصولِ تصوف میں ہے۔ جس طرح کہ یہاں عبارات اور تالیف بغیر تفریح کے مفید نہیں، ویسے ہی اصولِ تصوف میں مجاہدہ بغیر کسی قسم کا عمل درست نہیں اور جو اس کے سوا دعویٰ کرے وہ خاطی ہے۔ اس لیے کہ جہان اور اس کے حدوث کا ثبوت اس کے خالق کی معرفت پر دلیل ہے اور معرفتِ نفس اور اس سے مجاہدہ معرفتِ خدا کے لیے اصل الاصول ہے۔
اور وہ دوسری جماعت جو مجاہدہ کو سببِ تقربِ درِعرفان نہیں مانتی اس کی یہ دلیل ہے کہ یہ آیتِ کریمہ باعتبارِ تفسیر مقدم مؤخر ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ﴿وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾ اس کی تفسیریں ہے: وَالَّذِیْنَ هَدَیْنَا لَهُمْ سُبُلَنَا جَاهَدُوْا فِیْنَا۔ "جنہوں نے ہماری راہ میں مجاہدہ کیا، ہم نے انہیں اپنی راہ دکھا دی۔" یعنی جنہیں ہم نے راہ دکھائی، انہوں نے ہماری راہ میں مجاہدہ کیا۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا: لَنْ یَّنْجُوَ اَحَدُكُمْ بِعَمَلِهٖ۔ "کوئی تم سے
۳۶۷اپنے عملوں کے بدلے نجات نہیں پا سکتا۔" قِیْلَ: وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ عرض کیا گیا اور حضور آپ بھی؟
قَالَ: وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰهُ بِرَحْمَتِهٖ۔ فرمایا ہاں! اور میں بھی نجات نہیں پا سکتا مگر یہ کہ اللہ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے۔
تو معلوم ہوا کہ مجاہدہ و ریاضت بندہ کا فعل ہے اور یہ محال ہے کہ بندہ کا فعل بندہ کی نجات کا سبب ہو۔ تو بندہ کی خلاصی اور نجات ارادتِ اللہ سے متعلق ہے نہ کہ مجاہدہ سے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ۚ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا﴾ "جس کے ساتھ اللہ ارادہ فرمائے ہدایت کا، تو اس کا سینہ کھول دیتا ہے اسلام کے نور کی طرف اور جس کے ساتھ اللہ ارادہ فرمائے گمراہ کرنے کا، اس کا سینہ تنگ فرما دیتا ہے اور شکوک کی طرف مائل کر دیتا ہے۔" اور یہ بھی فرمایا: ﴿تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ﴾
۳۶۸وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ۔ "جس کو اللہ چاہے ملکِ ایمان عطا فرمائے اور جس سے چاہے مملکتِ ایمانی سلب فرمائے۔" ان آیات سے اپنے ارادہ کے مقابلے میں مخلوق کے ارادہ اور مجاہدہ کی نفی فرمائی ہے۔ تو گویا اگر مجاہدہ ہی حصول اور قربِ ذات کی علت ہوتا تو شیطان بڑا امرِ مردود نہ ہوتا اور اگر مجاہدہ قربِ الٰہی سے ردّ ہونے کی علت ہوتا تو آدم علیہ السلام ہرگز مقبول و مصطفیٰ نہ ہوتے۔
تو ہر معاملہ مسابقتِ الٰہیہ پر موقوف ہے نہ کہ کثرتِ مجاہدہ پر۔ جو زیادہ زہد و ریاضت کرنے والا ہے وہ مامونِ غضبِ جبار نہیں بلکہ جو مستحقِ عنایاتِ الٰہی ہے، وہی نزدیک تر ہے ذاتِ حقہ سے۔
ایک صومعہ میں مقرونِ اطاعت ہے مگر قربِ حق سے بعید و مردود ہے اور ایک رندِ خراباتی، مرتکبِ معاصی ہے، مگر ذاتِ حق سے نزدیک ہے۔ تو اب سب سے بہترین پہلو یہ ہے کہ جس کا ایمان قوی ہے وہی مقرب ہے اور بس۔ جولڑکا مکلفِ باحکام نہیں اس پر حکمِ ایمان کا ہے اور ایک شخص مجنوں ہے لیکن مجنون ہونا اس کے ایمان کے خلاف نہیں۔ اس پر بھی حکمِ ایمان کا ہوگا۔ تو سب سے بڑی چیز عطاءِ الٰہی ہے اور مجاہدہ و ریاضت ہرگز علتِ نجات و تقرب نہیں۔
اور میں (حضرت داتا گنج بخش علی بن عثمان الجلابی رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ یہ سب چیزیں جو مذکور ہوئیں عبارت میں تو ٹھیک ہیں لیکن حقیقتِ معنی اس کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ ایک کہتا ہے: مَنْ طَلَبَ وَجَدَ۔ "جو طلب کرتا ہے پالیتا ہے۔" دوسرا کہتا ہے: مَنْ وَجَدَ طَلَبَ "جو پالیتا ہے وہ طالب ہو جاتا ہے۔" تو کہیں پانا سببِ طلب کا ہے۔ کہیں طلب کرنا سببِ پانے کا کہا جاتا ہے۔ تو گویا ایک کے نزدیک مجاہدہ کرنے سے مشاہدہ ہوتا ہے۔ ایک کے نزدیک مشاہدہ کے بعد مجاہدہ کیا جاتا ہے۔
اور ان سب باتوں کی حقیقت یہ ہے کہ مجاہدہ، مشاہدہ میں بجائے توفیقِ اطاعت کے ہے اور وہ محض عطاءِ الٰہی ہے۔ تو جب حصولِ طاعت بے توفیقِ الٰہی محال ہے تو توفیق بھی بغیر اطاعت محال ہوگی۔ اور جب مشاہدہ بلا مجاہدہ موجود نہیں تو بے مجاہدہ مشاہدہ بھی محال ہوگا۔
تو ہر معاملہ میں لمعاتِ جمالِ جمیل کی ضرورت ہے تاکہ بندہ کو مجاہدہ کی راہنمائی ہو تو جب علتِ وجودِ مجاہدہ اس لمحہ کی تابانی کو ظاہر کر دے تو ہدایتِ حق مسابقت کرے گی مجاہدہ پر۔ لیکن جو جماعتِ سہل یہ حجت پیش کر رہی ہے کہ جو مجاہدہ کو سببِ مشاہدہ نہیں مانتا وہ جملہ انبیاء کرام و کتب و احکام و شرائع کا منکر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تکلیف کا دار و مدار مجاہدہ پر رکھتی ہے۔ بہتر یہ تھا کہ
۳۶۹وہ تکلیف کا دار و مدار ہدایتِ حق پر رکھتی۔ اس لیے کہ ثبوتِ حجت کے لیے ہے نہ کہ حقیقتِ وصل کے واسطے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰی وَحَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ﴾ "اگر ہم فرشتوں کو ان کی طرف نازل فرمائیں اور مردے ان سے کلام کر لیں اور قبروں سے نکل آئیں اور سب چیزیں ان پر ظاہر ہو جائیں تو جب تک اللہ نہ چاہے وہ ایمان نہ لائیں گے اور ان میں سے اکثر جاہل ہیں۔" کیونکہ علتِ ایمان ہماری مشیت ہے نہ کہ رویتِ دلائل اور ان کی کوشش۔ اور پھر فرمایا
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴾
"وہ لوگ جو کافر ہیں، برابر ہے ان کے نزدیک اظہارِ حجت اور بیانِ دلائل ہوں قیامت اور ان سے اعراض اور ترکِ ہدایت ایمان والوں کے ساتھ وہ کبھی مومن نہ ہوں گے۔"
اس لیے کہ ان کے دلوں کو ہم نے مختوم بشقاوت کیا ہوا ہے۔
تو ورودِ انبیاء علیہم السلام اور نزولِ کتب اور ثبوتِ شرائع اسبابِ وصول الی اللہ ہیں نہ کہ علت وصول۔ اس لیے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکلف باحکام تھے جس قدر کہ ابو جہل۔ مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاف کی روشنی میں فضیلتِ خلافت پر پہنچ گئے اور ابو جہل جہالت کی تاریکی میں اس فضیلت سے محروم رہ گیا۔
تو وصول کی علت عینِ وصول ہے نہ وصول کی طلب۔ کیونکہ اگر طالب و مطلوب دونوں ایک ہوتے تو طالب واجد ہوتا اور جب طالب واجد ہوتا تو طالب نہ رہتا۔ اس لیے کہ رسیدہ آسودہ ہوتا ہے اور طالب پر آسودگی و آرام درست نہیں اور حضور ﷺ نے فرمایا: مَنِ اسْتَوٰی یَوْمَاهُ فَهُوَ مَغْبُوْنٌ۔ "جس کے دو روز مساوی گزریں وہ نقصان میں ہے۔" اس لیے کہ طالب کا ہر
۳۷۰روز اوّل روز سے بہتر ہونا چاہیے۔ اور یہ درجہ طالبان کا طغریٰ امتیاز ہے۔ پھر ارشاد فرمایا
اِسْتَقِیْمُوْا وَلَنْ تُحْصُوْا۔
"استقامت حاصل کرو مگر ایک حال پر۔"
نہ ہو تو مجاہدات کو سبب تو فرما دیا (مگر علت نہ بتایا) اور سبب کو تحقیقِ الٰہیہ کی وصولی سے الگ کیا اور جو یہ کہتے ہیں کہ ہم گھوڑے کو ریاضتِ مجاہدہ سے دوسری صفت کی طرف پھیر لیتے ہیں، اس کے متعلق یہ اچھی طرح یاد رکھو کہ گھوڑے میں ایک پوشیدہ صفتِ اطاعت و فرمانبرداری کی ہوتی ہے۔ اس کے ظاہر کرنے کے لیے ریاضت سبب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھوڑا بغیر پھرائے اور ریاضت کرائے اپنی صفتِ باطنی کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔
لیکن گدھے میں یہ صفت نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ کسی ریاضت سے گھوڑا نہیں بن سکتا اور ریاضت سے گھوڑے کو گدھا نہیں بنا سکتے اس لیے کہ اگر ایسا ہو جائے تو ذات کا بدلنا مجاہدہ سے لازم آتا ہے۔
تو جو چیز عینِ ذات کو بدلنے پر قادر نہیں وہ حضورِ حق تعالیٰ میں اپنا اثر نہیں دکھا سکتی۔
۳۷۱حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ پر مجاہدہ اتنا وارد تھا کہ وہ اس سے آزاد تھے اور ان کی ذات سے اس کا بیان منقطع تھا۔ یعنی وہ خالص مجاہد تھے نہ لَسَّان یعنی زبانی خرچ کرنے والے۔ وہ اس گروہ کی طرح نہ تھے جس نے بغیر عمل اس عبادت کو مذہب بنا لیا اور یہ امر بھی محال ہے کہ عمل و اعتقاد صرف بیان پر موقوف ہو جائیں۔
مختصر یہ ہے کہ اہلِ طریقت کے لیے بالاتفاق مجاہدہ اور ریاضت لازمی ہیں لیکن مجاہدہ میں رویتِ مجاہدہ آفت ہے۔ تو جو مجاہدہ کی نفی کر رہا ہے اس سے عینِ مجاہدہ مراد نہیں ہے بلکہ رویتِ مجاہدہ مراد ہے تاکہ عجب و نخوت نہ پیدا ہو، اپنے عمل سے محلِ قدس میں۔ کیونکہ مجاہدہ فعلِ عبد ہے اور مشاہدہ کا وصول فعلِ معبود ہے۔ تو جب تک خداءِ عزّ اسمہٗ کا وصل نہ ہو، فعلِ عبد کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ خدا کی قسم! ایک دن تُو خود انصاف سے کہے گا کہ باایں آراستگی و مشاطگی کے تو نے فضلِ حق نہ پایا اور اس پر تو اس قدر اپنے عمل کی تعلّی مار رہا ہے۔
تو خلاصہ یہ نکلا کہ اعمال و افعال محبوبانِ افعالِ الٰہی ہوتے ہیں اور خود اس میں محض بے اختیار ہیں۔ صرف گزارش اور قہر بر نفس ان کا ہے اور گزارش تمام کی تمام نوازش ہے اور غافلوں کا مجاہدہ غافلوں کا ہر فعل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افعال و اعمال میں بوجہ ان کے اختیار کے تشویش و پریشانی اور پراگندہ ولی ہوتی ہے اور پراگندہ دلی کی آفت ان پر استیلا کرتی ہے۔
تو جہاں تک ہو سکے اپنے عمل کو اپنا فعل نہ بنا اور کسی حالت میں اتباعِ نفس و ہوئی نہ کر۔ اس لیے کہ تیرا وجود تیرے لیے ایسا حجاب ہے کہ اگر ایک فعل سے محجوب ہوگا تو دوسری طرف کے فعل سے اٹھ جائے گا تو پھر جب تیرا تمام وجود ہی حجاب ہے تو جب تک کلیۃً فنا نہ ہو، شائبۂ بقا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ لِاَنَّ النَّفْسَ كَلْبٌ بَاغٍ وَجِلْدُ الْكَلْبِ لَا یَطْهُرُ اِلَّا بِالدِّبَاغِ۔ "اس لیے کہ نفس ایک سرکش کتا ہے اور کتے کی جلد بغیر دباغت اور رنگائی کے پاک نہیں ہوتی۔"
ایک حکایت میں ہے کہ حضرت حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ کوفہ میں محمد بن حسین علوی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر جا کر اترے، اور حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بھی کوفہ تشریف لائے۔ جب انہیں حضرت حسین بن منصور رحمۃ اللہ علیہ کی خبر پہنچی، خدمت میں تشریف لائے۔ حضرت منصور نے فرمایا: ابراہیم! آپ کو اس کوچۂ طریقت میں رہتے ہوئے چالیس سال گزر گئے، اس میں آپ نے کیا چیز ایسی پائی جسے بالخصوص تسلیم کیا جائے۔ عرض کی: حضرت! مجھے تو سب سے بڑی چیز توکل نظر
۳۷۲آتی ہے۔
حضرت منصور نے فرمایا
اَفْنَیْتَ عُمُرَكَ فِیْ عِمْرَانِ بَاطِنِكَ فَاَیْنَ الْفَنَاءُ فِی التَّوْحِیْدِ۔
"ابراہیم نے اپنی عمر باطن کی طرف سے ضائع کی، توحید میں فنا ہونا کب ہوگا۔"
یعنی توکل ایک عمل ہے جو اپنی طرف سے اپنے ربّ کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کی محبت کے ساتھ پردۂ غیب سے ظہور میں آئے، اس پر بھروسہ رکھنا۔ تو جب تمام عمر معالجتِ باطنی میں گزار دی تو اب وہ ایک دوسری عمر کی ضرورت ہے جس میں علاج ظاہر کیا جائے۔ اس لیے کہ اس طرزِ عمل میں تو تقربِ حق کے بعد بھی حاصل نہیں ہوتی۔
حضرت شیخ ابو علی سیاہ مروزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے نفس کو دیکھا، اپنی صورت کے مماثل کہ کسی نے اس کے بال پکڑ رکھے ہیں۔ جب میں نے اُسے دیکھا تو اس شخص نے وہ بال میرے ہاتھ میں دے دیے۔ میں نے اسے درخت سے باندھ کر مارنے کا عزم کیا تو نفس مجھ سے بولا: اے ابو علی! محنت نہ کرو، میں شکرِ الٰہی سے ہوں، تم مجھے مٹا نہیں سکتے۔
حضرت محمد بن علیان نسوی سے مروی ہے، یہ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے مصاحبوں میں سے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مجھے ابتداء میں ہی آفاتِ نفس پر آگاہی ہو چکی تھی اور میں نے اپنے کنجِ قلب میں اس کی کمین گاہ معلوم کر لی تھی۔ مجھے اس سے سخت دشمنی تھی۔ ایک دن بلی کی صورت میں کوئی چیز میرے حلق سے نکلی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی شناخت کرائی۔ میں نے جانا کہ یہ نفس ہے۔ میں نے اُسے زمین پر ڈال کر لاتوں سے روندنا شروع کر دیا۔ مگر جوں جوں میں اُسے لاتیں مارتا تھا توں توں وہ بڑھتا جاتا تھا۔ میں نے کہا: اوخبیث! ہر چیز مار پیٹ سے گھٹتی ہے تو کس لیے بڑھ رہا ہے۔ نفس بولا: حضرت! میری آفرینش مخلوق کے برعکس ہے۔ جو چیزیں آپ کے لیے رنج دہ ہیں میرے لیے وہ موجبِ راحت ہیں اور جو چیزیں آپ کے لیے سببِ راحت ہیں میرے لیے موجبِ رنج ہیں۔
حضرت ابو الحسن شقانی رحمۃ اللہ علیہ امامِ وقت گزرے ہیں۔ فرماتے ہیں: میں ایک رات اپنے گھر آیا۔ ایک چھوٹا سا کتا زرد نظر آیا کہ ایک جگہ سو رہا ہے۔ میں سمجھا کہ محلہ میں سے کسی طرح یہاں آ کر سو گیا ہے۔ میں نے اُسے نکالنا چاہا تو وہ میرے دامن کے نیچے آیا اور غائب ہو گیا۔ حضرت ابو القاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ جو آج کے دن قطبِ مدار ہیں اَبْقَاهُ اللّٰهُ تَعَالٰی
۳۷۳وہ اپنے ابتدائی حالات سناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے نفس کو سانپ کی شکل میں دیکھا۔
ایک اور بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے نفس کو چوہے کی صورت میں دیکھا۔ میں نے کہا: تو کون ہے؟ کہنے لگا میں غافلوں کی ہلاکت ہوں۔ اس لیے کہ برائی کی طرف بلانے والا اور شر و سوء کا داعی میں ہوں اور محبوبانِ خدا کے حق میں نجات ہوں، اس لیے کہ میرا وجود آفت ہے۔ اگر میں محبوبانِ خاص کے ساتھ نہ ہوتا تو وہ اپنی پاک بازی پر مغرور ہو جاتے اور اپنے اعمال پر تکبر کرتے کیونکہ جب وہ دلوں کی پاکی اور اسرار کی صفائی اور ولایت کے انوار اور اطاعت پر استقامت دیکھتے ہیں تو ان کے تمام عیوب فنا ہو جاتے ہیں اور وہ ہر عیب سے پاک ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام باتیں اس امر پر دلیل ہیں کہ نفس ایک عین ہے نہ کہ صفت اور اس نفس کے لیے صفت علیحدہ ہے اور ہم صرف نفس کی صفتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
حضور ﷺ نے فرمایا
اَعْدٰی عَدُوِّكَ نَفْسُكَ الَّتِیْ بَیْنَ جَنْبَیْكَ۔
"تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا نفس ہے جو تیرے پہلو میں ہے۔"
تو جب معرفتِ نفس حاصل ہو گئی تو سمجھ لے کہ اب اسے ریاضت و مجاہدہ سے اپنے قبضہ میں لا سکے گا۔ لیکن نفس کا مایہ اور اس کی اصل نابود نہیں ہو سکتی۔ لیکن جب نفس کی شناخت صحیح ہو جاتی ہے، تو طالبِ حق کو اس کے باقی رہنے سے خوف نہیں ہوتا۔ لِاَنَّ النَّفْسَ كَلْبٌ نَبَّاحٌ وَاِمْسَاكُ الْكَلْبِ بَعْدَ الرِّیَاضَةِ مُبَاحٌ۔ "اس لیے کہ نفس ایک بھونکنے والا کتا ہے اور ریاضت و اصلاح کے بعد کتے کا باندھ رکھنا مباح ہے۔" تو مجاہداتِ نفس فناءِ اوصافِ نفس کے لیے ہیں، نہ کہ اس کے عیب کو فنا کرنے کے لیے۔
اگرچہ مشائخ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بحث میں بہت کچھ فرمایا ہے لیکن بخوفِ طوالتِ کتاب اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اب حقیقتِ ہوٰی اور ترکِ شہوات میں بیان شروع کرتے ہیں۔
حقیقتِ ہوٰی
قارئین! اللہ تمہیں عزت عطا فرمائے۔ اچھی طرح سمجھ لو کہ ہوا ایک جماعت کے نزدیک اوصافِ نفس میں ایک صفت کا نام ہے اور ایک گروہ کے نزدیک ہوٰی اس ارادہ کا نام ہے جو نفس
۳۷۴میں مدبر اور متصرف ہے، جیسے عقل روح سے اور ہر وہ روح جس میں عقل سے کوئی قوت نہ ہو وہ ناقص ہے اور ہر وہ نفس کہ اس میں ہوٰی کا کوئی قوہ نہ ہو وہ بھی ناقص ہے۔
تو نقصِ روح قربت ہے اور نقصِ نفس عینِ قربت، اور ہمیشہ ہر بندہ کے لیے عقل اور ہوٰی کی طرف سے دعوت رہتی ہے۔ لیکن جو عقل کی دعوت کا پیرو ہو وہ ایمان حاصل کر لیتا ہے اور جو ہوٰی کی دعوت قبول کرے وہ گمراہی اور کفر پر ہو گیا۔ تو ہوٰی واصلین کے لیے حجاب ہے اور مخذولوں، نامردوں کے حق میں ان کا ملجا و ماویٰ ہے۔
طالب اس جگہ سے ہمیشہ اعراض کرتے ہیں اور بندہ مخالفتِ نفس پر مامور ہے اور خواہشاتِ نفس کا مرتکب مجرم ہے۔ لِاَنَّ مَنْ رَكِبَهَا هَلَكَ وَمَنْ خَالَفَهَا مَلَكَ۔ "اس لیے کہ جو نفس کی پیروی پر لنگ گیا ہلاک ہو گیا اور جس نے اس کے خلاف کیا وہ ملکی صفات کو پہنچ گیا۔" جیسا کہ حضرت ربّ العزت جل مجدہٗ نے فرمایا: ﴿وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰی﴾ "جو اپنے ربّ کے سامنے کھڑے ہونے سے خائف رہا اور نفس کو اس کی خواہش و ہوٰی سے منع کرتا رہا" ﴿فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰی﴾ "اس کے لیے جنت آرام گاہ ہے۔" حضور ﷺ نے فرمایا: اَخْوَفُ مَا اَخَافُ عَلٰی اُمَّتِیْ اِتِّبَاعُ الْهَوٰی وَطُوْلُ الْاَمَلِ۔ "میری امت پر سب سے زیادہ خوفناک امر اتباعِ ہوٰی و حرص اور امید طویل ہے۔"
اور حضرت سید المفسرین ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ﴿اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: رَاَی الْهَوٰی اِلٰهًا مَعْبُوْدًا "یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا اس کو جس نے اپنی خواہشِ نفس اور ہوٰی و حرص کو معبود پکڑا۔" یعنی وہ شخص جس کا خدا اور معبود ہوٰی ہے اور شب و روز اس کی ہمتیں اپنی ہوٰی کے پورا کرنے میں صرف ہو رہی ہیں ان پر صرف افسوس ہے۔ اور ہوٰی کی دو قسمیں ہیں: ایک ہوائے لذت و شہوت، دوسری ہوائے جاہِ خلق و ریاست۔
وہ شخص جو متبعِ ہوائے لذات و شہوات ہے وہ مشغلِ خرابات کے لیے شراب خوری اور قمار خانہ میں ہے۔ اس سے مخلوق ہر قسم کے فتنہ کی طرف سے مامون ہے اور وہ جو تجمعِ جاہ و ریاست ہے
۳۷۵وہ صوامع اور دیر میں عزلت نشینی کرتا ہے۔ اس کا فتنۂ خلق لازمی ہے کہ اپنے کو راہِ ہدایت سے گرا کر خلق کو گمراہ راستہ پر بلا رہا ہے۔ فَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ مُتَابَعَةِ الْهَوٰی۔ تو جس کی تمام حرکات میں حرص و ہوٰی اور اتباعِ ہوٰی اُس کی عینِ رضا ہے، وہ خواہ آسمان پر ہی کیوں نہ پرواز کرے تقربِ حق سے بعید و محروم رہے گا ☆ اور وہ جس کو ہوئی و حرص سے برأت ہو اور اس کی اتباع سے اعراض، وہ اگرچہ بت خانہ میں کیوں نہ ہو مقربِ بحق تعالیٰ ہوگا۔
حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ روم میں ایک راہب ستر سال سے رہبانیت میں گرجا گھر کے اندر بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ تعجب ہے کہ رہبانیت کی انتہائی مدت چالیس سال ہے، یہ کس لیے ستر سال سے اس گرجا میں پڑا ہوا ہے۔ میں نے اس سے ملنے کا ارادہ کیا۔ جب اس کے پاس پہنچا تو اس نے دریچہ کھول کر مجھ سے کہا: "ابراہیم! مجھے معلوم ہے، جس کام کے لیے تم میرے پاس آئے ہو۔ میں ستر سال سے اس جگہ رہبانیت کے لیے نہیں بیٹھا ہوں بلکہ میرے پاس ایک کتا ہے جو حرص و ہوٰی سے شوریدہ ہے۔ میں اس جگہ اس لیے بیٹھا ہوں کہ اس کتے کی نگہبانی کروں اور اس کے شر سے لوگوں کو دور رکھوں۔ ورنہ میں وہ نہیں جو تمہارا اتنا بڑا اعتراض اپنے اوپر آنے دیتا۔"
جب میں نے اس سے یہ بات سنی تو میں نے بارگاہِ والٰہی میں عرض کی کہ مولا تو قادرِ علی الاطلاق ہے کہ اس راہب کو اس کی عینِ ضلالت میں طریقِ صواب و راست عطا فرمائے راہب مجھ سے کہنے لگا: ابراہیم! کب تک لوگوں کو ڈھونڈے گا، جا اپنے آپ کو تلاش کر، جب تو اپنے آپ کو پالے گا تو اسی کی نگرانی کر، کیونکہ ہر روز یہ ہوٰی کا کتا تن ساتھ بار لباسِ الوہیت پہن کر بندہ کو گمراہی کی طرف بلاتا ہے۔
اور یہ حقیقت واقعہ ہے کہ جب تک بندہ کے باطنِ قلب میں معصیت کی جرأت نہ ہو، ہوائے معصیت ظاہر نہیں ہوتی اور جب ہوائے عصیاں ظاہر ہو جاتی ہے تو شیطان اُسے اپنے جال میں لے کر انواع و اقسام کی دلآویز معصیت کی طرف لاتا ہے اور اس کے دل میں اپنی ظلمت کی تجلی کرتا ہے اور اسی کو وسواس کہتے ہیں۔
☆ بقول شخصے: ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔
۱۔ رہبانیت مذہبِ عیسوی میں تارکِ دنیا ہونے کو کہتے ہیں اور وہ ترکِ دنیا اتنے مبالغہ کا ہوتا ہے کہ اس کی ممانعت حضور ﷺ نے ہر مسلمان کو فرمائی اور حکم دیا: "لَا رَهْبَانِیَّةَ فِی الْاِسْلَامِ"۔ اسلام میں عیسائیوں کی سی ترکِ دنیا نہیں۔
۳۷۶تو ابتداءِ معصیت ہوٰی سے ہوتی ہے۔ وَالْبَادِیُ اَظْلَمُ "اور ابتدا کرنے والا بڑا ظالم ہے۔" اور اسی حقیقت کو فرمانِ الٰہی میں ظاہر کیا ہے، جب کہ ابلیس نے جنابِ باری میں عرض کی کہ اب میں تیرے بندوں کو اغوا کروں گا تو ارشاد ہوا: ﴿اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ﴾ "تجھے میرے خاص بندوں پر کچھ غلبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔" تو ثابت ہوا کہ شیطان درحقیقت نفس اور بندہ کی ہوٰی ہے۔
اس لیے سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا: مَا مِنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ غَلَبَهٗ الشَّیْطَانُ اِلَّا عُمَرُ فَاِنَّهٗ غُلِبَ شَیْطَانُهٗ۔ "تم میں سے کوئی نہیں مگر یقیناً شیطان اس پر غالب ہے مگر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہ وہ شیطان پر (یعنی اپنی ہوٰی پر) غالب ہیں۔"
تو یہ امر واضح ہے کہ ہوٰی و حرص اور شہوات ابنِ آدم کی طینت و سرشت میں داخل ہیں اور اس کی راحتِ جان ہو چکی ہیں۔ چنانچہ حضور سید یوم النشور ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: اَلْهَوٰی وَالشَّهْوَةُ مَعْجُوْنَتَانِ بِطِیْنَةِ ابْنِ اٰدَمَ۔ "حرص و ہوٰی اور شہوت، ابنِ آدم کی طینت میں گوندھی گئی ہے۔"
تو ہمیشہ یاد رکھو! ترکِ ہوئی بندہ کو امیر کرتی ہے اور اس کا اتباع اسیر بناتا ہے۔ جیسا کہ حضرت زلیخا نے اوّل ہوٰی کے اتباع کا ارتکاب کیا، امیر تھی، اسیر ہو گئی۔ یوسف علی نبینا و علیہ السلام نے ترکِ ہوٰی کیا، اسیر تھے، امیر ہو گئے۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا: مَا الْوُصْلُ؟ قَالَ تَرْكُ اِرْتِكَابِ الْهَوٰی۔ "وصل کیا ہے؟ کہا ہوٰی کے اختیار کرنے کی ترک۔" جو یہ چاہتا ہے کہ وہ وصلِ جمیل کے ساتھ اپنے کو معظم و اکرام بنائے وہ کیا کرے۔ فرمایا! اس سے کہہ دو
۳۷۷کہ ہوائے تن کی مخالفت کرے، اس لیے کہ پہاڑ کا ناخن سے کھود ڈالنا اس سے آسان ہے کہ مخالفتِ ہوٰی کرے۔
ایک حکایت میں ہے جو حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ ہوا پر اُڑ رہا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا یہ درجہ کس عمل کے بدلے میں پایا۔ بولا: میں نے حرص و ہوٰی کے راستے پر قدم نہ رکھا تو ہوا میں اُڑ رہا ہوں۔ حضرت محمد بن فضل بلخی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ فرمایا مجھے اس شخص پر تعجب ہے کہ جو متبعِ ہوٰی ہو کر جمالِ جمیل حاصل کر رہا ہو۔ (اگر وہ طالبِ جمیلِ حقیقی ہے تو) ہوا پر اپنا قدم کیوں نہیں رکھتا کہ مقصود تک پہنچے اور حاصل کرے۔
اور نفس کی زیادہ ظاہر جو صفت ہے وہ شہوت ہے، اور شہوت ان کی ایسی قوت دیدارِ یار حاصل کرے اور تمام حواس اس کے ساتھ ہیں اور بندہ ان کی نگہبانی پر مکلف ہے اور انسان ہر حس کے فعل کے ساتھ مسئول ہے۔
آنکھ کی شہوت دیکھنا ہے اور کان کی شہوت سننا اور جسم کی شہوت چھونا اور دل کی شہوت سوچنا تو طالب کے لیے لازم ہے کہ اپنی شہوات پر نگہبان اور حاکم ہو اور رات دن اسی کی نگرانی و نگہبانی میں گزارے تاکہ وہ دواعی ہوٰی جو حواس میں پیدا ہوتے ہیں ازخود منقطع ہو جائیں اور اپنے ربِّ حقیقی سے دست بدعا رہے کہ وہ تجھے ایسی صفت پر قائم کر دے کہ ایسے ارادے اور وساوس تیرے باطنِ قلب سے مدفوع ہو جائیں۔
اس لیے کہ جو شخص اس شہوت و ہوٰی کی دلدل میں پھنس گیا، وہ تمام وصال و جمال سے محجوب ہو گیا۔ تو اگر بندہ اس کو بتکلف اپنے سے دفع کرتا ہے تو اس کا رنج و محنت دراز ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ اجناسِ ہوائے و شہوت کا ورود متواتر جاری ہے۔ لیکن اس ارادہ اور اس طرح دفع کرنے کا جو طریقہ ہے وہ مسلّم و مقبول ہے اور بعد کامیابی ضرور مراد حاصل ہوتی ہے۔
حضرت ابو علی سیاہ مروزی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک حکایت ہے: فرماتے ہیں میں حمام میں گیا ہوا تھا اور سنت کے مطابق استرہ لے رہا تھا کہ دل میں خیال آیا کہ یہ عضوِ منبعِ شہوت ہے اور یہی تجھے آفتوں میں مبتلا رکھتا ہے، اسے اپنے آپ سے جدا کر دے تاکہ شہوات سے آزادی مل جائے کہ غیبی ندا آئی کہ اے ابو علی! ہماری ملکیت میں تصرف تو کرتے ہو لیکن ہماری موزوں کی ہوئی دنیاءِ جسم سے کسی عضو سے دوسرا اعضو اوئی ترنہیں ہے، ہماری عزت و جلال کی قسم! اگر تم نے یہ عضو اپنے سے جدا کر دیا تو تمہارے ہر بُنِ مُو میں اس موجودہ شہوت میں سوگنا شہوت اور ہوائے نفسانی رکھ دیں گے۔ اسی مضمون کی تائید میں کسی نے خوب کہا ہے
(صفحہ 377 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 378 پر ہے۔)
۳۷۸اَلَا یَا حَسَّانُ دَعْ اِحْسَانَكَ ۔ اُتْرُكْ بِخَشْوِ اللّٰهِ بَاذِنْجَانَكَ
ترجمہ: "اے حسان! چھوڑ اپنا احسان اور ترک کر اللہ تعالیٰ کی قوتِ باطن کے ساتھ اپنے باذنجانِ جسم کے تصرف کو۔"
غرضیکہ بندہ کو جسم کے خراب کرنے کی ولایت حاصل نہیں اور کسی قسم کے تصرف کا اُسے حق نہیں پہنچتا لیکن تبدیلیِ صفت میں بتوفیقِ الٰہی اُسے اختیار ہے اور وہ احکام کی تسلیم اور اپنی قوتِ ارادی سے بہتری حاصل کر سکتا ہے کہ یہ صفتیں کیسی ہیں۔
درحقیقت جب تسلیمِ امر کی توفیق ہو گئی، عصمت حاصل ہو گئی اور عصمتِ الٰہی بندہ کو حفظ اور فنا کے نزدیک تر کر دیتی ہے کہ یہ مجاہدہ ہے۔ لِاَنَّ نَفْیَ الذُّبَابِ بِالْمِکْنَسَةِ اَیْسَرُ مِنْ نَفْیِهَا بِالْمُذَبَّةِ۔ "یعنی مکھی کو جھاڑو سے دور کر دینا آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ اُسے اشارے سے دور کریں جو مکھی بیٹھنے کے وقت اشارہ کرتا ہے۔" تو محافظتِ حق تمام آفات کو زائل کرنے والی اور تمام علتوں کو دفع کرنے والی ہے اور بندہ کو اس کے ساتھ کسی صفت میں مشارکت نہیں سوائے اس کے کہ بندہ کو جتنا اختیار و تصرف عطا فرمایا ہے وہ ظاہر ہے مگر اس کی ملکیت میں تصرف نہیں۔ جب تک اس کی تقدیر میں عصمتِ حق نہ ہو بندہ اپنی کوشش سے کسی مقدر سے بچ نہیں سکتا۔ اس لیے کہ کوشش بعطاءِ قوۂ الٰہی کوشش ہے۔ یعنی جب تک من جانبِ اللہ بندہ کو قوہ عطا نہ ہو، کوئی کوشش اُسے سودمند نہیں اور قوتِ طاعت کوشش سے حاصل ہونے کی بجائے ساقط ہو جاتی ہے اور ہر قسم کی کوشش وقوت دو جگہ کوئی حیثیت رکھتی ہیں: یا تو اتنی کوشش و جہد کرے کہ تقدیرِ الٰہی اس کے لیے بدل جائے یا خود تقدیرِ الٰہی کے خلاف کسی قوت کو حاصل کرے اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں ناممکن ہیں۔ یعنی کوشش سے تغیرِ تقدیر ہرگز نہیں ہو سکتا اور کوئی کام بغیر تقدیر کے وجود میں نہیں آ سکتا۔
اس کی تائید میں ایک واقعہ ہے کہ شبلی رحمۃ اللہ علیہ بیمار ہو گئے۔ آپ کی خدمت میں طبیب حاضر ہوا۔ عرض کرنے لگا: حضور پرہیز کریں۔ آپ نے فرمایا: کس چیز سے پرہیز کروں؟ اس سے جو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے روزی میں مقدر فرما دیا ہے، یا اس سے جو میرے لیے مقسوم ہی نہیں ہے۔ تو اگر اس سے پرہیز کرانا چاہتا ہے جو میری قسمت میں مقدر ہے تو اس کی قوت مجھ میں نہیں اور اگر اس سے پرہیز کرانا چاہتا ہے جو میرے لیے روزی میں مقسوم نہیں تو وہ مجھے پہلے ہی نہیں مل سکتی۔ لِاَنَّ الْمُشَاهِدَ لَا یُجَاهِدُ۔ "جس کو خدا نے مشاہدہ عطا فرمایا ہے وہ مجاہدہ نہیں کرتا۔"
اب اس مسئلہ کو باحتیاط تمام ان شاء اللہ دوسری جگہ بیان کیا جائے گا۔
۳۷۹فرقۂ حکیمیہ
فرقۂ حکیمیہ کا تعلق حضرت ابو عبد اللہ بن علی الحکیم ترمذی رضی اللہ عنہ سے ہے۔ یہ اپنے وقت کے یکتا امام گزرے ہیں اور تمام علومِ ظاہری و باطنی میں فرد تھے۔ آپ کی بہت سی تصنیفات ہیں۔ آپ کا کلام اور طریقِ عمل ولایت و تصوف کے رنگ میں تھا اور اولیاء کملا صوفیاء کے مراتب کی خاص رعایت رکھتے تھے اور آپ کے مضامین میں بڑے بڑے عجوبہ مضمون مذکور ہیں۔ آپ کے اصول میں کشفِ ابتدائی درجہ میں ہے اور بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے دوست بھی دنیا میں ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے تخلوق سے برگزیدہ فرمایا ہے اور ان کی ارادت و خواہشات سب ان سے قطع کر کے اپنے قبضے میں کر لیے ہیں اور ان کے دعاوی نفس اور ہوائے دل سب اپنے قبضے میں لیے ہوئے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو ایک درجہ پر متمکن کیا ہے اور ان پر دروازۂ معانی کھول دیا ہے۔ غرضیکہ یہ بحث بہت طویل ہے۔ اس کی تشریح کے لیے بہت اصول اوّل بیان کرنے ضروری ہیں تاکہ معلوم ہو کہ وہ کون ہستیاں ہیں۔
اب ہم بر سبیلِ اختصار اس امر کی تحقیق بیان کرتے ہیں اور اس میں ان کے خلاف اوصاف اور مردانِ خدا کے بیانات بھی نقل کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اثباتِ ولایت
اچھی طرح جان لو کہ طریقۂ تصوف اور اصولِ معرفت کی بنیاد تمام ولایت اور اس کے ثبوت پر موقوف ہے اور تمام مشائخ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس امر پر متفق ہیں۔ لیکن ہر ایک کا طرزِ بیان علیحدہ علیحدہ ہے۔
محمد بن علی رضی اللہ عنہ اس کی حقیقت بیان فرمانے میں مخصوص طرز اختیار فرماتے ہیں۔ (چنانچہ ان کا ارشاد ہے) کہ وِلایت "واؤ" کے "زیر" سے لغت میں تصرف و ملکیتِ حق کے معنی دیتا ہے اور وَلایت "واؤ" کے "زبر" سے "امارت" کے معنی میں مستعمل ہے اور دونوں "ولی" کے مصدر ہیں۔
اس صورت میں یہ دونوں لغت ایسے ہیں جیسے دلالت اور دِلالت۔ اور ولایت بمعنی ربوبیت بھی مستعمل ہے۔ جیسے قرآن کریم میں ارشاد ہے: ﴿هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ﴾ "یعنی اس وقت تمام قبضہ و تصرف اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔" یعنی بروزِ قیامت کفار بھی
۳۸۰اللہ کی ذات کے ساتھ تولّی کر کے اپنے دنیاوی معبودوں سے تبرّی ظاہر کریں گے اور ولایت بمعنی محبت بھی مستعمل ہے۔
اور ہو سکتا ہے کہ ولی بروزن "فَعِیْل" بمعنی مفعول ہو۔ جیسے قرآن کریم میں فرمایا: ﴿وَهُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ﴾ "وہی ذات اپنے نیک بندوں کی حمایت کرنے والی ہے۔" گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کو اس کے افعال و اوصاف پر نہیں چھوڑا اور اپنے سایۂ حمایت میں رکھنے کی خوشخبری دی۔ اور ہو سکتا ہے کہ "فَعِیْل" کے وزن پر بمعنی مبالغہ استعمال ہو اور فاعل کے معنی دے کہ بندہ تولی بطاعتِ حق کرے اور اس کے حقوق مدعی رکھ کر اس کے اتباع میں مداومت رکھے اور اس کے غیر سے اعراض کرتا رہے تو پہلا جو بمعنی مفعول ہے وہ مرید ہوگا۔ اور دوسرا جو بمعنی فاعل بطریقِ مبالغہ ہے وہ مراد ہوگا اور یہ تمام پہلو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کی طرف یا بندہ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی طرف روا ہوتے ہیں۔
اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہی ناصر و مددگارِ محبوبانِ خاص ہوتا ہے اور اس کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام کو ارشاد ہوا: ﴿اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ﴾ "خبردار رہو اللہ کی نصرت قریب ہے۔" اور کافروں کو فرمایا: ﴿وَاَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَهُمْ﴾ اَیْ لَا نَاصِرَ لَهُمْ "اور بیشک کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں۔" یعنی ان کا مددگار نہیں۔ تو جب کفار کا وہ ناصر نہیں تو لامحالہ مومنین کا ناصر ہوا۔ تو کہیں عاقلوں کی مدد فرماتا ہے کہ وہ بنصرۃِ الٰہی استدلالِ آیات و بیانِ معانی اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں اور ان پر کشفِ براہین و اسرار ہوتا ہے اور کبھی نصرت فرماتا ہے مخالفتِ نفس اور شیطان پر اور نصرت فرماتا ہے موافقتِ امورِ خیر میں۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے بندگانِ خاص کو اپنی محبت اور دوستی کے لیے مخصوص فرما کر کل عداوت سے محفوظ رکھے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿یُحِبُّهُمْ وَیُحِبُّوْنَهٗ﴾ "انہیں اللہ محبوب رکھتا ہے وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں" حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے لیے اللہ کو محبوب رکھتے ہیں اور مخلوقات کے لطف کی طرف اُن کی نظر نہیں جاتی، جب ہی وہ ولیِ حق ہوتے ہیں اور یہی اولیاءِ الٰہی کہلاتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اقامت براطاعت حاصل کرانے کے لیے ایک کو منصبِ ولایت عطا ہو اور وہ اس منصب پر پہنچ کر اقامت حاصل کرے اور ہر قسم کی مخالفتِ حق سے پرہیز رکھے اور شیطان اس کے حس سے بھاگے۔
۳۸۱اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک کو ولایت عطا ہو، تاکہ اس کا حل (کشائش) مملکتِ الٰہی میں ہو اور اس کا عقد (بندش) عقد ہو (گویا ہر قسم کے سیاہ و سپید کا وہی مختار کر دیا جائے) اور اس کی دعا مستجاب ہو اور اس کے انفاس و اقوال مقبولِ بارگاہ۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ ذِیْ طِمْرَیْنِ لَا یُعْبَاءُ بِهٖ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰهِ لَاَبَرَّهٗ۔ "اکثر ایسے لوگ ہیں کہ ژولیدہ اور غبار آلودہ بال والے، پھٹے ہوئے کپڑوں میں کہ لوگ اس کو تین میں سمجھیں نہ کہ تیرہ میں۔ مگر (اس کا یہ مرتبہ ہے کہ) اگر وہ خدا کی قسم کسی معاملہ میں کھائے تو اللہ اسے پوری فرما دیتا ہے۔"
اس روایت ہے کہ عہدِ فاروقی میں دریائے نیل اپنی پرانی رسم کے مطابق خشک ہو گیا۔ اس لیے کہ زمانۂ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ ہر سال ایک آراستہ خوبصورت لونڈی اس میں بھینٹ چڑھایا کرتے تھے تو دریا جاری ہوتا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھ دیا کہ: اے پانی اگر تو خود زور کرتا ہے اور خشک ہوتا ہے تو ہرگز جاری نہ ہو اور اگر خدا کے حکم سے ٹھہرا ہے تو عمر کہتا ہے کہ روان ہو جا۔ چنانچہ جب رقعہ دریا میں ڈالا گیا فوراً پانی جاری ہو گیا اور درحقیقت حکومتِ حقیقی میں حکومت ہے۔
تو میری مراد ولایت اور اس کے ثبوت سے یہی ہے کہ انسان سمجھ بوجھ لے کہ ولایت کس کا حق ہے اور ولی کس کو کہا جاتا ہے اور کس کے لیے یہ نام موزوں ہے۔ مذکورہ صفات جب تک انسان میں موجود نہ ہوں وہ ولی نہیں ہو سکتا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ حال تھا جو ان کی تحریر سے ظہور میں آیا نہ کہ قال سے۔
اس سے قبل مشائخ کرام نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں (اور وہ میرے پاس تھیں) مگر میرے ایک عزیز کے ہاتھ وہ گم ہو گئیں۔ اب میں مذہبِ حکیمیہ کے پیشوا حضرت ابو عبد اللہ حکیم ترمذی کے مذہب کو روشنی میں لاتا ہوں۔ کیونکہ میرا عقیدہ اس بزرگ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت ہے۔ تاکہ پڑھنے والے کو اور اسے جو اس کتاب کے مطالعہ کی سعادت حاصل کرنے کا طالب ہے، اس طریقہ میں فائدہ پہنچے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
۳۸۲یہ اچھی طرح سمجھ! اللہ تجھے توفیق عطا فرمائے کہ یہ لفظ (یعنی ولی) تخلوقات میں متداول ہے اور کتاب و سنت میں اس لفظ کے ساتھ ناطق ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ عزّ اسمہٗ ہے: ﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾ "خبردار رہو بیشک اللہ کے محبوبوں اور ولیوں پر کوئی خوف اور غم نہیں۔" اور فرمایا: ﴿نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَةِ﴾ "ہم تمہارے مددگار ہیں حیاتِ دنیا و آخرت میں۔" اور فرمایا: ﴿اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ "اللہ ان کا مددگار ہے جو ایمان لائے۔"
اور حضور ﷺ نے فرمایا
اِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰهِ لَعِبَادًا یَغْبِطُهُمُ الْاَنْبِیَاءُ وَالشُّهَدَاءُ، قِیْلَ مَنْ هُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صِفْهُمْ لَنَا لَعَلَّنَا نُحِبُّهُمْ؟ قَالَ: قَوْمٌ تَحَابُّوْا بِرُوْحِ اللّٰهِ مِنْ غَیْرِ اَمْوَالٍ وَاِكْتِسَابٍ، وُجُوْهُهُمْ نُوْرٌ عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ، لَا یَخَافُوْنَ اِذَا خَافَ النَّاسُ وَلَا یَحْزَنُوْنَ اِذَا حَزِنَ النَّاسُ، ثُمَّ تَلَا: اَلَا اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۔
"اللہ کے بندوں میں ایسے بندے بھی ہیں جن پر انبیاء و شہداء غبطہ کرتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ وہ کون ہیں؟ ان کی صفات بیان فرمائیں شاید ہم ان سے محبت کریں۔ فرمایا وہ ایک قوم ہے جو خوش رہتی ہے اپنے ربّ کی خوشنودی میں بغیر مال و منال کے حاصل کیے۔ ان کے چہرے منور ہیں اور نوری منبروں پر بے فکر بیٹھے ہیں۔ وہ خائف نہیں ہوتے جب کہ انہیں لوگ ڈرائیں اور نہیں گھبراتے اور غمگین نہیں ہوتے جبکہ لوگ انہیں غمگین کرتے ہوں اور عوام گھبرا رہے ہوں۔"
پھر آیۂ کریمہ تلاوت فرمائی
۳۸۳﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ ربّ فرماتا ہے: مَنْ اٰذٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِیْ۔ "جس نے میرے کسی ولی کو ایذا دی اس نے اپنے لیے میری جنگ جائز کر لی۔" اس سے مراد واضح ہے کہ اولیاء کا اللہ تعالیٰ ناصر و مددگار ہے اور اس نے اپنی ان پاک ہستیوں کو اپنی دوستی اور ولایت کے لیے مخصوص کر لیا ہے اور وہ اللہ کی مِلک کے والی بنائے گئے ہیں اور ان کو اپنے افعال و قوت کا مظہر بنایا ہے اور انواع و اقسام کی کرامتیں ان کی ذات کے ساتھ مخصوص کر دی گئی ہیں اور آفاتِ طبع و ہوٰی سے ان کو پاک کر دیا ہے اور نفس کی پیروی سے انہیں آزاد کر دیا ہے۔ ان کی ہمت و ارادے سوائے قوتِ الٰہی کے ظہور میں نہیں آتے اور ان کے انس و محبت کا رابطہ سوائے اس فعالِ مطلق کے کسی کے ساتھ نہیں۔ یہ لوگ ہم سے قبل موجود تھے۔ زمانۂ گزشتہ میں تھے اور فرامینِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے ساتھ ایسے مجرد ہیں کہ متابعتِ نفس کی راہ ان پر مسدود ہے۔ حتیٰ کہ بارانِ رحمت جو آسمان سے نازل ہو رہی ہے، وہ ان کے دم قدم کے صدقہ سے ہے اور زمین سے جو سبزہ اگ رہا ہے وہ ان کی صفاء و حال کی برکت سے اگ رہا ہے اور کافر پر مومن کو غلبہ انہیں کی ہمت سے حاصل ہے، اور اس قسم کے اولیاء کرام چار ہزار کی تعداد میں لوگوں سے مکتوم و مخفی ہیں اور ایسے مخفی ہیں کہ ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے اور وہ خود اپنے جمالِ حال سے بے خبر ہیں۔ اور اپنے تمام احوال میں اپنے سے اور مخلوق سے مستور ہیں اور اس دعوے کے ثبوت میں احادیث وارد بھی موجود ہیں اور اب سے قیامت تک رہیں گے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امتِ مرحومہ کو یہ شرف عطا فرمایا ہے اور اس اُمت کی شرافت کو تمام امتوں پر فائز کر کے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ میں شریعتِ مطہرۂ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی نگرانی رکھوں گا۔
تو جب براہینِ حدیث و حججِ عقلی آج تک موجود ہیں اور علماء میں وہ عام طور پر شائع ہیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ براہینِ عین بھی موجود ہوں جو اولیاء کرام میں اور خاصانِ بارگاہ میں مخصوص ہوتے ہیں۔
اور اس بحث میں ہمارے مخالف دو گروہ ہیں: ایک معتزلہ اور دوسرے عام خشویہ۔ معتزلہ
۳۔ جیسا کہ ارشاد ہے: نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ یعنی ہم نے اس ذکرِ شریعت کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کے حفاظت کرنے والے ہیں۔
۳۸۴اولیاء میں اولیاء پر ایک دوسرے کی تخصیص کے منکر ہیں اور دوسرے عام خشویان کہتے ہیں کہ ایسے لوگ تھے، اور اولیاء میں باہم تخصیص (فضیلت) کی نفی گویا باہم انبیاء کی نفی ہے جو کفر ہے اور عام خشویان (خشویہ) تخصیص (فضیلتِ باہمی) جائز رکھتے ہیں البتہ یہ کہتے ہیں کہ ایسے لوگ ہوئے ہیں لیکن آج کل نہیں ہیں اور ان کا انکارِ ماضی و مستقبل دراصل ایک جیسا ہے اور اس لیے کہ مستقبل کی نفی، ماضی کی نفی سے زیادہ بُری ہے۔ اللہ تعالیٰ عزّ و جل شانہٗ نے برہانِ نبوی کو آج تک باقی رکھا ہوا ہے اور اولیاء اللہ کے ذریعہ اس برہان کا اظہار ہوتا رہتا ہے تاکہ حجت و صداقتِ محمدی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تعلق و پیہم نسب کا روشن اظہار ہوتا رہے اور ان اولیاء کو عالم (جہاں) والی کا حاکم فرمایا ہے تاکہ وہ اتباعِ سنت میں مشغول رہیں اور اسی راہ پر چل کر نفس کی پیروی کے راستے سے بچیں۔ اس بارے میں بہت سی احادیث وارد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ نفیِ تخصیصِ ولی تخصیصِ نبی کو مستلزم ہے اور یہ صریح کفر ہے۔
اور عام حشویہ تخصیص کو تو روا رکھتے ہیں لیکن یہ کہتے ہیں کہ اولیاء تھے اب نہیں رہے (اور اس خیال کا بھی یہی نتیجہ ہے کہ) انکارِ ماضی و مستقبل دونوں انکار ہیں۔ اس لیے کہ ایک طرف کا انکار دوسری طرف سے بدتر نہیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے برہانِ نبوت کو آج تک باقی رکھا ہے اور اولیاءِ کرام کو اس برہان کے اظہار کا سبب بنا لیا ہے تاکہ مسلسل آیات و حجتِ صداقتِ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پیوستہ طریق پر ظاہر و باہر ہیں اور ان ہستیوں کو خصوصیت سے والیانِ عالم بنایا ہے، اور اولیاء کرام کے اقوال اس کی تائید میں ناطق ہیں اور مجھے خود بھی اس بحث میں بحمد اللہ تعالیٰ بہت احادیث واضح طور پر پہنچی ہیں۔
لیکن ان چار ہزار اولیاء کرام میں جو اربابِ حل و عقد ہیں، جنہیں سرہنگانِ درگاہِ حق تعالیٰ کہا جاتا ہے، وہ تین سو نفوسِ قدسی ہیں جنہیں اصطلاحِ تصوف میں "اخیار" کہتے ہیں اور وہ چالیس ہستیاں ہیں جنہیں "ابدال" کہتے ہیں اور سات وہ ہیں جنہیں "ابرار" کہتے ہیں۔ چار وہ ہیں جنہیں "اوتاد" کہتے ہیں۔ تین وہ ہیں جنہیں "نقیب" کہتے ہیں۔ ایک وہ ہے جو "قطب" کہلاتا ہے اور اسے "غوث" بھی کہتے ہیں اور یہ تمام ایک دوسرے کو جانتے اور پہچانتے ہیں اور نظامِ معاملات و امورِ تصرف میں ایک دوسرے کے اذن و اجازت کے محتاج ہیں اور اس پر احادیث ناطق ہیں اور اربابِ حقیقت اس کی صحت پر متفق ہیں۔ اس کی مزید شرح و بسط کے لیے یہ جگہ موزوں نہیں، اس لیے کہ یہاں مقصود یہ نہیں ہے۔ اس جگہ عام طور پر عوام یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیا کہا گیا ہے وہ
۳۸۵خاصانِ بارگاہ ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے اور وہ ہر ایک ولی ہوتا ہے۔
لازم تو یہ ہے کہ ہر ایک ولی اپنی عاقبت کی طرف سے امن میں ہو اور یہ محال ہے کہ معرفتِ ولایت امن کی مقتضی ہو۔ اس لیے کہ جب یہ ممکن ہے کہ مومن اپنے ایمان سے عارف ہو مگر یہ ضروری نہیں کہ عرفانِ ایمان کے ساتھ مامون بھی ہو تو پھر یہ بھی ضرور ممکن ہے کہ ولی اپنی ولایت سے عارف ہو کر مامون نہ ہو۔ ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ بوجہِ کرامت حق تعالیٰ ولی کو اس کی صحتِ حال اور محافظتِ نفس کی وجہ سے نگاہ میں رکھے اور انہیں امنِ عاقبت کا بھی عارف فرمائے۔
اس میں مشائخ کرام کا اختلاف ہے اور اس اختلاف کی علت میں نے پیدا کی ہے۔ یعنی جو چار ہزار اولیاء مکتوم ہیں وہ اپنی ولایت کی معرفت بھی اپنے لیے روا نہیں رکھتے اور جو ان چار ہزار کے علاوہ اور ہیں وہ اپنے لیے معرفتِ ولایت روا رکھتے ہیں۔
فقہاء کرام میں سے بہت وہ ہیں جو پہلے گروہ کے موافق ہیں اور بہت سے وہ بھی ہیں جو دوسرے گروہ کے موافق ہیں اور متکلمین کا بھی یہی حال ہے۔
چنانچہ ابو اسحاق اسفرانی اور ایک جماعتِ متقدمین اسی پر ہے کہ ولی اپنے آپ کو نہیں پہچانتا کہ وہ ولی ہے۔ تو ہم نے اُن سے پوچھا کہ اس معرفت میں ولی کے لیے کیا نقصان و آفت ہے تو ان کا یہ جواب ہے کہ ولی اگر اپنے آپ کو ولی جاننے لگتا ہے تو معجب و متکبر ہو جاتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ میں ولی ہوں۔ اس کا جواب میں دیتا ہوں کہ شرطِ ولایت میں یہ چیز بھی ہے کہ اس کی نگہداشت اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو تو پھر آفاتِ عجب و تکبر سے محفوظ ہونا لازمی ہے اور ایسی صورت میں اس کا متکبر ہونا جائز نہیں ہو سکتا۔
لہٰذا یہ کہنا محض عامیانہ اور مبنی بر جہل ہے کہ ایک شخص ولی ہو اور اس سے خوارقِ عادات و کرامتیں سرزد ہوں اور وہ یہ نہ جان سکے کہ میں ولی ہوں یا اُسے اس امر کا علم نہ ہو کہ یہ خرقِ عادت جو امر ظہور میں آیا وہ کرامت ہے۔
ان تخیلات پر عوام میں سے ایک گروہ پہلی جماعت کا مقلد ہے اور ایک گروہ دوسری جماعت کا پیرو ہے لیکن ان کی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔ اب رہے معتزلہ، یہ کلیۃً تخصیصِ ولایت و کرامت دونوں کے منکر ہیں اور درحقیقت ولایت میں تخصیص و کرامت ہی مخصوص ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ تمام مسلمان اللہ کے دوست ہیں۔ جو مطیعِ الٰہی ہے، وہی ولیِ الٰہی ہے اور جو احکام اور ایمان پر قائم ہے اور صفاتِ ذروبیتِ الٰہی کا منکر ہو اور مومن کے خلودِ جہنم کو روا رکھے اور اس امر کا مقر ہو کہ انبیاء و رسل اور نزولِ کتب نہ بھی ہوں تو عقلاء مکلف باطاعت ہیں، پس وہ
۳۸۶ولی ہے اور مسلمان اُسے ولی مانتے ہیں۔ لیکن درحقیقت ایسے عقیدہ والا شیطان ہے (ولی نہیں) اور کہتے ہیں کہ اگر ولایت و کرامت ولی کے لیے واجب ہے تو سب مسلمانوں میں کرامت ضروری تھی۔ اس لیے کہ سب مسلمان ایمان میں مشترک ہیں اور چونکہ سب اصل اصول میں مشترک ہیں تو لازم آتا ہے کہ فرع میں بھی مشترک ہوں۔
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مومن و کافر دونوں میں کرامت ہونا جائز ہے۔ اور وہ اس بھوکے کی طرح ہے جو سفر میں ہے اور میزبان کا متلاشی ہے، یا اس مسافر کی طرح ہے جو تھک کر یہ چاہتا ہے کہ مجھے کوئی سواری پر بٹھا لے وغیرہ وغیرہ۔ اور بہت سی ایسی ہی باتوں میں سے ایک بات یہ بھی جو کہتے ہیں کہ اگر بڑی دراز مسافت کو کوئی ایک رات میں طے کر لیتا تو حضور ﷺ کے لیے بھی یہ روا ہوتا۔ مگر جب انہوں نے مکہ معظمہ کا قصد فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا
﴿وَتَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ﴾
"اور اٹھا لے جاتے ہیں تمہارے بوجھ اس شہر تک جہاں تم نہیں پہنچ سکتے تھے مگر جسمانی تکلیف سے۔"
اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ ان کا قول باطل و عاطل ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
﴿سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا﴾
"پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو تھوڑی سی رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک۔"
تو معنیِ حملِ اثقال اور سفرِ مکہ میں اجماعِ صحابہ ہے کہ مکہ سے مسجدِ اقصیٰ جانا یہ کرامتِ خاص تھی نہ کہ عام اور مکہ سے ہجرت میں جانا۔ اگر یہاں بھی وہی کرامت ہوتی تو کرامتیں عام ہو جاتیں اور ایمان بالغیب کے تمام احکام اُٹھ جاتے۔ اس لیے کہ ایمان اپنے مقام پر عموم کے درجہ پر ہے مطیع و عاصی کے لیے اور ولایت مختص ہے مطیع کے لیے۔ تو اللہ تعالیٰ کا وہ حکم جس میں حملِ اثقال فرمایا، وہ محلِ عموم میں تھا اور حضور ﷺ کو عمومی درجہ کے ساتھ مخاطب کیا۔ اور جہاں تخصیصِ ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ حکم فرمایا وہاں بتا دیا کہ تھوڑی سی شب میں اپنے محبوب کو مکہ
۳۸۷سے بیت المقدس پہنچا دیا۔ وہاں سے قاب قوسین اور زوایات و خبایائے عالم کا مشاہدہ کرا دیا (اور اس قدر سرعت سے یہ سب کچھ ہوا) کہ جب واپس تشریف لائے تو شب کا بہت سا حصہ باقی تھا۔
غرض کہ خلاصہ یہ ہے کہ حکمِ ایمان عوام کے لیے عام ہے اور حکمِ کرامت خاص ہے۔ خواص کے لیے، اور نفیِ تخصیص کرنا مکابرۂ عیان ہے۔ جیسے کہ نوکر کا حکم بادشاہ کے دربار میں، دربان، حاجب اور اُن کے افسر اور وزراءِ سلطنت سب کے لیے یکساں ہے، اگرچہ نوکر سب ہیں مگر ہر ایک کا منصب و مرتبہ علیحدہ علیحدہ ہے۔
اسی طرح اگرچہ بارگاہِ الٰہی میں ایمان لانے کی حیثیت میں سب یکساں ہیں لیکن ایک مومن عاصی ہے ایک مومن مطیع، ایک مومن عالم ہے ایک مومن عابد، ایک مومن جاہل ہے ایک مومن متورع۔ تو ثابت ہوا کہ انکارِ تخصیصِ مناصب و مراتب کرنا انکارِ کلِ معافی ہے۔
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
لفظ "ولایت" کی تحقیق میں مشائخ کرام نے بہت سے رموز بیان فرمائے ہیں۔ ہم اس مقام پر حتی الامکان ان کے مختار اقوال نقل کریں گے۔ ان شاء اللہ۔ تاکہ مطالعہ کرنے والوں کو فائدہ مند ثابت ہوں۔ حضرت ابو علی جرجانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلْوَلِیُّ هُوَ الْفَانِیْ فِیْ حَالِهٖ وَالْبَاقِیْ فِیْ مُشَاهَدَةِ الْحَقِّ لَمْ یَكُنْ لَهٗ عَنْ نَفْسِهٖ اَخْبَارٌ وَلَا مَعَ غَیْرِ اللّٰهِ قَرَارٌ۔ "ولی وہ ہے کہ اپنے حال سے فانی اور مشاہدۂ حق کے ساتھ باقی ہو، اس کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اپنے حال کی کچھ خبر کسی کو دے سکے اور سوائے ذاتِ حق کے غیر سے آرام پائے۔" اس لیے کہ خبر بندہ کے اپنے حال سے ہوتی ہے اور جب حال فانی ہو گیا تو پھر اُسے اپنے حال کی خبر دینا درست نہیں اور غیرِ حق سے آرام نہ پانا بھی صحیح ہے۔ اس لیے کہ اپنے حال کی غیر کو خبر دینا رازِ محبوب کا غیر کے سامنے منکشف کرنا ہے اور کشفِ رازِ حبیب، غیرِ حبیب بمحبّ کے لیے محال ہے اور یہ بھی ہے کہ جب رویتِ غیر ہی مشاہدۂ جمالِ یار میں محال ہے تو رویتِ غیر نہ ہونے کی شکل میں خلق کے ساتھ قرار کس طرح ممکن ہو سکتا ہے۔
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
اَلْوَلِیُّ اَنْ لَا یَكُوْنَ لَهٗ خَوْفٌ لِاَنَّ الْخَوْفَ تَرَقُّبُ مَكْرُوْهٍ یَحِلُّ فِی الْمُسْتَقْبَلِ وَانْتِظَارُ مَحْبُوْبٍ یَفُوْتُ فِی الْمُسْتَاْنِفِ وَالْوَلِیُّ ابْنُ الْوَقْتِ لَیْسَ لَهٗ وَقْتٌ مُسْتَقْبَلٌ فَیَخَافَ شَیْئًا وَكَمَا لَا خَوْفَ لَهٗ لَا
(صفحہ 387 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 388 پر ہے۔)
۳۸۸رَجَاءَ لَهٗ لِاَنَّ الرَّجَاءَ اِنْتِظَارُ مَحْبُوْبٍ یُحْصَلُ اَوْ مَكْرُوْهٍ یُكْشَفُ وَذٰلِكَ فِی الثَّانِیْ مِنَ الْوَقْتِ وَكَذٰلِكَ لَا حُزْنَ لِاَنَّ الْحُزْنَ مِنْ حَزْنَةِ الْوَقْتِ وَمَنْ كَانَ فِیْ ضِیَاءِ الرِّضَاءِ وَرَوْضَةٍ فَاِنَّ الْمُوَافَقَةَ یَكُوْنُ لَهٗ حُزْنٌ۔ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: اَلَا اِنَّ اَوْلِیَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۔
مراد اس قول سے یہ ہے جو فرمایا کہ: "ولی وہ ہے جس کو خوف نہیں ہوتا۔" اس لیے کہ خوف اس چیز سے ہوتا ہے جس کے آنے سے دل کراہت محسوس کرتا ہے کہ یہ آئندہ زمانہ پر وارد ہو یا اس سے خائف ہے کہ زمانۂ آئندہ میں وہ جو محبوب اس وقت موجود ہے، چلا جائے گا۔ ولی ابن الوقت یعنی صاحبُ الوقت ہوتا ہے۔ اس کو آئندہ ایسا وقت نہیں جس سے وہ ڈرے۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: خبردار رہو بے شک اللہ کے ولیوں کو نہ خوف ہے نہ غم) اور جس طرح ولی کو خوف نہیں ہوتا، امید بھی نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ رجاء وہ امید ہے جس میں آئندہ محبوب کے ملنے کی اُمید ہو یا اس امر کی امید کہ جو تختی آنی ہے وہ اس سے ٹل جائے اور ولی کا وہ وقت ہوتا ہے کہ اس میں اسے غم نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ غم کدورت سے ہوتا ہے۔ تو جو رضا کی روشنی میں آ گیا اور موافقت کے باغ میں متمکن ہو گیا، اُسے کب غم ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾
ہاں! عوام کو اس بحث میں یہ وہم پیدا ہو جاتا ہے کہ جب ولی کو خوف و رجا نہیں رہتا اور نہ ہی اندوہ و غم تو لامحالہ انہیں امن ہوگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ امن سے بھی مبرّا ہوتے ہیں اس لیے کہ امن غیب کے نہ دیکھنے اور وقت سے اعراض کرنے میں ہوتا ہے اور یہ صفت اس میں ہوتی ہے جسے نہ رویتِ بشریت ہو نہ صفت پر آرام۔ نہ خوف و رجا، نہ امن و حزن۔ اور امن و حزن، نفس کے نقیب ہیں۔ جب نفس فانی ہو گیا تو بندہ کی صفتِ رضا ہو جاتی ہے اور جب رضا حاصل ہو گئی تو وہ اپنے حال میں مستقیم ہو گیا اور رویتِ محبوب میں محول اور باقی تمام احوال سے اعراض پیدا ہو جاتا ہے۔ اس وقت ولایت کا دل کشف ہوتا ہے اور اس کے معنی کہ تمام اسرار اس پر ظاہر ہوتے ہیں۔
حضرت ابو عثمان مغربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلْوَلِیُّ قَدْ یَكُوْنُ مَشْهُوْرًا وَلَا یَكُوْنُ مَفْتُوْنًا۔ "ولی مخلوق میں مشہور ہوتا ہے لیکن مخلوق کے ساتھ مبتلا نہیں ہوتا۔" ایک اور فرماتے ہیں: اَلْوَلِیُّ قَدْ یَكُوْنُ مَسْتُوْرًا وَلَا یَكُوْنُ مَشْهُوْرًا۔ "ولی مستور ہوتا ہے اور مشہور نہیں ہوتا۔"
۳۸۹اور یہ احتراز از شہرت اس وجہ سے ہے کہ اس کی شہرت میں فتنہ ہوتا ہے۔
اور حضرت ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ نے جو یہ فرمایا کہ ولی کا شہرہ ممکن ہے مگر اس شہرت میں فتنہ اور ابتلا نہیں، اس کی وجہ ظاہر ہے کہ فتنہ کذب میں ہوتا ہے اور جب ولی اپنی ولایت میں صادق ہے اور ایسا ولی کذب پر واقع نہیں ہو سکتا اور اظہارِ کرامت بھی کذب کے ہاتھ سے محال ہے، تو لازم آتا ہے کہ ہر قسم کا فتنہ اس کے لیل و نہار سے ساقط ہو جائے۔ اور یہ دونوں قول اس اختلافی مضمون کی طرف جاتے ہیں کہ ولی اپنے آپ کو نہیں پہچانتا کہ وہ ولی ہے اور اگر پہچانتا ہے تو لازمی طور پر مشہور ہوگا اور اگر نہ پہچانے تو مفتون ہوگا۔ اور اس کی شرح طوالت کی مقتضی ہے اور طوالت مقصود نہیں۔
ایک حکایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم ادہم رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو فرمایا کہ کیا تو چاہتا ہے کہ اللہ کے ولیوں میں سے ولی ہو۔ عرض کی: ہاں، میں چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا
لَا تَرْغَبْ فِیْ شَیْءٍ مِنَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَفْرِغْ نَفْسَكَ لِلّٰهِ وَاَقْبِلْ بِوَجْهِكَ عَلَیْهِ۔
"دنیا اور عقبیٰ کی کسی شے سے رغبت نہ کر اس لیے کہ دنیا سے رغبت کرنا اپنے ربّ سے اعراض کر کے فانی کی طرف راغب ہونا ہے اور عقبیٰ کی طرف رغبت کرنا اپنے ربّ سے اعراض کر کے شے باقی کی طرف جانا ہے۔"
تو جب اعراضِ شے سے فانی ہوگا تو فانی فنا ہو جائے گا اور اعراض نیست ہو جائے گا اور اعراضِ شے باقی سے ہوگا تو بقا پر فنا روا نہیں ہوتی تو اس سے اعراض ہی درست رہے گا۔ تو اس کا مضمون یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طلب دنیا و عقبیٰ کے ساتھ نہ رکھو۔ فرمانا کہ اپنے دل کو اللہ کی محبت کے لیے دنیا و عقبیٰ سے خالی کر کے دل کو اپنے ربّ کی طرف رجوع کر تو حاصل یہ ہے کہ جب یہ اوصاف تیرے اندر موجود ہو جائیں گے، ولی ہو جائے گا۔
حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ ولی کون ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا
اَلْوَلِیُّ هُوَ الصَّابِرُ تَحْتَ الْاَمْرِ وَالنَّهْیِ۔
"ولی وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے امر و نہی پر صبر کرے۔"
اس لیے کہ جس کے دل میں اللہ کی دوستی جتنی ہوگی، اس کے حکم کی عظمت اتنی زیادہ ہوگی اور اس کی نہی سے اس کا جسم اتنا ہی بعید ہوگا۔
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک حکایت ہے۔ فرماتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ
۳۹۰فلاں شہر میں اللہ کے ولیوں میں سے ایک ولی ہے۔ میں اٹھا اور ان کی زیارت کا قصد کر کے چلا۔ جب ان کی مسجد میں پہنچا تو وہ گھر سے باہر تشریف لائے اور مسجد میں آ کر قبلہ کی طرف رخ کر کے مسجد میں تھوک دیا۔ میں اسی وقت بغیر سلام کیے وہاں سے پلٹ آیا اور میں نے کہا کہ ولی کو چاہیے کہ احکامِ شریعت پر پابند ہو، تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ نظرِ رحمت فرمائے۔ اگر یہ شخص ولی ہوتا تو مسجد میں قبلہ رو ہو کر کبھی تھوکا نہ کرتا یا اللہ تعالیٰ اس کی حرمتِ ولایت پر نگاہ رکھتا۔ فرماتے ہیں: اس شب میں نے حضور سید یوم النشور ﷺ کے جمالِ جہاں آراء سے شرف حاصل کیا۔ دیکھا کہ حضور ﷺ فرما رہے ہیں: ابو یزید! تم نے وہ کیا کام کیا جس کی برکت سے تم اس درجہ پر پہنچے۔ دوسرے روز میں اس درجہ پر پہنچ گیا جو تم دیکھ رہے ہو۔
ایک روایت سنی ہے کہ ایک شخص شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مسجد میں بایاں قدم رکھ کر داخل ہوا۔ آپ نے فرمایا: واپس ہو (اور دایاں قدم رکھ کر مسجد میں آ) اس لیے کہ جو دوست کے گھر میں آنے کے قاعدہ کو نہیں جانتا وہ ہمارے کام کا آدمی نہیں۔
ایک جماعت ملحدین لعنہم اللہ کی ہے جو صوفیاء کے طریقہ پر تعلق رکھ کر کہتی ہے کہ اتنی خدمتِ حق کرے کہ ولی ہو جائے اور جب ولی ہو جائے تو پھر اس پر سے تکلیفِ خدمت کا بار اٹھ جاتا ہے۔ حالانکہ یہ صریح گمراہی ہے اور صوفیاء کے یہاں ایسا کوئی مقام نہیں کہ جس پر صوفی کے آ جانے کے بعد کوئی رکن اور کامِ خدمت کا اٹھ جائے۔ اس کی مفصل شرح مکمل ان شاء اللہ اپنے مقام پر کی جائے گی۔
اثباتِ کرامت
اچھی طرح یاد رکھو کہ ظہورِ کرامت ولی کی طرف سے اس کی صحتِ حال اور مجاہدہ میں قطعی ممکن و روا ہے اور صوفیائے کرام اہلِ سنت و جماعت کا اس پر مکمل اتفاق ہے اور عقل بھی اسے ممکن مانتی ہے۔ اس لیے کہ یہ ایک قسم ہے جو قوتِ الٰہی کی مظہر ہے اور اس کا اظہار کہ اصلِ شرع و دلیل سے منافی نہیں اور عقل و اوہام بھی اس کے خلاف نہیں۔
کرامت درحقیقت صداقتِ ولایت پر دلیل ہے اور کذب سے اس کا صدور ناممکن۔ ہاں! کاذب سے علاماتِ کذب و عمل ظہور پذیر ہوں گے اور کرامت نام ہے ایک ایسے فعل کا جو عقل و اوہام کا ناقض ہوتا ہے اور صوفی پر تمام تکلیفاتِ شرع باقی ہوتے ہیں اور اگر تعریفِ حق پر وجہِ استدلالِ کذب کے مقابلہ میں صدق جان لے تو وہ بھی ولی ہے۔ اور ایک جماعت اہلِ سنت و جماعت کہتی ہے کہ کرامت صحیح ہے مگر حدِ معجزہ تک نہیں بلکہ وہ ایسے ہے جیسے قبولِ دعا یا تصرفِ ولی
۳۹۱سے کسی کی مراد حاصل ہونا اور وہ جو نقصِ عادات کی حد تک نہ ہو۔
ہم کہتے ہیں کہ تمہیں ظہورِ فعلِ ناقصِ عادات سے جو ولیِ صادق کے ہاتھ سے زمانہ تکلیف میں ہو، کیا صورتِ فساد نظر آئی۔ اگر وہ جواب میں کہیں کہ (معاذ اللہ) اتنی قوت عطا فرمانے کی خدا میں قدرت و قوت نہیں تو یہ خود ایک ضلالت و گمراہی ہے اور اگر کہیں کہ یہ ایک قسم کی قوتِ الٰہی ہے اور اللہ قادر ہے تو ولی کو ایسی قوت عطا فرما دے مگر ولی کے ہاتھ سے اس کا ظہور ابطالِ نبوت کو مستلزم ہے تو نفیِ تخصیصِ انبیاء یہ بھی محال ہے۔ اس لیے کہ ولی مختص بکرامت ہے اور نبی مختص بمعجزہ۔ اَلْمُعْجِزَةُ لَمْ تَكُنْ مُعْجِزَةً بِعَیْنِهَا اِنَّمَا كَانَتْ مُعْجِزَةً لِحُصُوْلِهَا وَمِنْ شَرْطِهَا اِقْتِرَانُ دَعْوَةِ النُّبُوَّةِ بِهَا وَالْمُعْجِزَاتُ تَخْتَصُّ بِالْاَنْبِیَاءِ وَالْكَرَامَاتُ تَكُوْنُ لِلْاَوْلِیَاءِ۔ "معجزہ ہرگز معجزہ بعینہٖ نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ معجزہ اسی وجہ میں معجزہ ہوتا ہے کہ اس کی شرط میں دعوائے نبوت لازمی ہے اور معجزہ انبیاء کرام کے لیے مخصوص ہے اور کراماتِ اولیاء کرام کے لیے۔"
تو جب ولی، ولی ہے اور نبی نبی، ان دونوں میں کسی قسم کی ایسی مشابہت نہیں کہ ان کے اندر احتراز کیا جائے۔ نبی کے شرف و مرتبتِ پیغمبری علیہ السلام، علوِ مرتبت و صفائے عصمت سے ہے نہ کہ فقط معجزہ یا کرامت سے یا خارق عادات امور کے ظاہر کرنے پر۔ اور بالاتفاق تمام انبیاء کرام کو وہ معجزے عطا ہوئے ہیں جو خارقِ عادات ہیں اور اصل میں وہ تمام معجزات مساوی ہیں لیکن درجات کے اعتبار سے ایک کو دوسرے پر بزرگی عطا ہوئی ہے۔ تو جب فضیلتِ درجات میں ایک ایک پر شرف و فضیلت رکھتا ہے تو یہ کیوں نہ ممکن ہو کہ خارقِ عادات امور و افعال میں بھی کسی کو دوسرے پر فضیلت ہو اور پھر کیوں زور نہ ہو۔ کیا انبیاء کے بعد اولیاء کرام کو بھی ایک درجہ خارقِ عادات امور کا عطا ہو اور اس کا نام کرامت رکھا جائے۔ اس پر لازمی طور پر یہ امر علم ہوگا کہ انبیاء کرام ان سے فاضل تر بلکہ اشرف ترین خلائق ہیں۔ تو جب یہ افعالِ ناقصِ عادات علتِ تفصیل و تخصیصِ انبیاء نہیں تو یقیناً خارقِ عادات امور علتِ تخصیصِ ولی بھی نہیں ہو سکتے، اور نبی ولی یکساں بھی نہیں ہو سکتے اور ہر عاقل جو اس دلیل کو سمجھ لے گا وہ نبی و ولی کے مابین اس شبہ کو اپنے سے اٹھا دے گا۔
اور اگر کسی کو یہ وہم پھرے کہ ولی کو بذریعۂ کرامت خارقِ عادات امور عطا ہوئے تو وہ نبوت کا دعویٰ کیوں نہیں کرتا۔ یہ محال ہے۔ اس لیے کہ شرطِ ولایت میں تصدیقِ قول ہے اور معنی کے خلاف دعویٰ کرنا کذبِ صریح ہے اور کذاب ولی نہیں ہو سکتا تو اگر ولی نبوت کا دعویٰ کرے تو یہ معجزہ کا توڑنا ہے اور وہ کفرِ صریح ہے۔ اور کرامت مومنِ مطیع کے سوا کسی کو نہیں ملتی اور کذب
۳۹۲معصیت شعاری ہے نہ کہ اطاعت۔ تو جب یہ امر واضح ہو گیا کہ ولی کی کرامت محبتِ نبی کے ثبوت کے لیے ہے تو پھر کرامت اور معجزہ میں اشتباہِ تساوی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ پیغمبر علیہ السلام معجزہ سے اپنی نبوت کا ثبوت دیتے ہیں اور ولی کرامت کے ذریعہ بھی انبیاء کرام کی نبوت کا ثبوت دیتے ہیں اور اپنی ولایت کے ذریعہ بھی ثبوتِ نبوت دیتے ہیں۔ اور ولی کی کرامت، معجزۂ انبیاء کا عین ہوتی ہے اور مومن کے لیے ولی کی کرامت کا مشاہدہ انبیاء کرام کی تصدیق میں زیادہ موثق درجہ پیدا کر کے یقین پیدا کرتی ہے۔
اس میں کسی قسم کا کوئی شبہ مشابہت نہیں۔ اس لیے کہ ان کا دعویٰ آپس میں مخالفت نہیں ہوتا جو ایک دوسرے کی نفی کرے بلکہ ولی کا دعویٰ نبی کے دعویٰ کا عین ہوتا ہے۔ جیسا کہ شریعتِ مطہرہ میں جب ایک گروہ ورثہ کا مدعی ہو تو جب ایک وارث کی دلیل ثابت ہو گئی تو یہی دلیل تمام ورثاء کے لیے ثبوتِ دعویٰ کی دلیل ہو جائے گی اور جب دعویٰ ایک دوسرے کے خلاف ہو تو ایسی صورت میں ایک دلیل دوسرے کے لیے دلیل نہیں ہو سکتی۔ تو جب نبی معجزہ کے دلائل سے مدعیِ نبوت ہوتا ہے اور ولی نبی کے دعویٰ پر تصدیق کے لیے کرامت سے خصم کو تسلیم کراتا ہے تو پھر اس میں شبہ شبیہ کا شبہ ناممکن ہے۔
معجزہ اور کرامت
یہ بات تو واضح و لائح ہو چکی ہے کہ معجزہ اور کرامت جھوٹے کے ہاتھ سے ناممکن ہے مگر اس سے زیادہ واضح فرق ظاہر ہونا ضروری ہے تاکہ جو واہمہ تھوڑا یا اقل قلیل بھی باقی ہے، وہ بھی رفع ہو جائے۔ لہٰذا اب سنو! اور اچھی طرح سمجھ لو کہ معجزات میں اظہار کرنا شرطِ معجزہ ہے اور کرامت میں ولی کی طرف سے کتمان کرامت شرط ہے۔ اس لیے کہ معجزہ کا فائدہ اور ثمرِ غیر (کی ہدایت و اصلاح) کے لیے ہے اور کرامت خاص صاحبِ کرامت کے لیے ہے۔
پھر معجزہ کو صاحبِ معجزہ قطع بھی کر سکتا ہے اور یہ اس کا عین اعجاز ہے۔
اور ولی بذریعہ کرامت جو چیز بصورت عذاب نازل کرا دے تو پھر اُسے دفع نہیں کر سکتا کیونکہ وہ کرامت ہے یا استدراج۔ پھر صاحبِ معجزہ شرعِ شریف میں تصرف کر سکتا ہے اور اس کی
۳۹۳ترتیبِ اوامرِ دنیاہی میں کرنے کا مجاز ہے اور اللہ تعالیٰ نے اُسے اس امر کا مجاز بنایا ہے۔
بر خلافِ صاحبِ کرامت کے کہ اسے بجز تسلیم و قبول کے چارہ نہیں۔ حتیٰ کہ ولی کسی وجہ اور کسی مشکل میں حکمِ شریعت اور احکامِ اسلامیہ اور شرعِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والسلام کے منافی کچھ کرنے کا مجاز ہی نہیں۔ اگر کوئی کہے کہ جب معجزہ خارقِ عادات ہے اور دلیلِ صدقِ نبی، تو جب اس کی جنس غیرِ غیرِ نبی کے لیے جائز رکھی تو یہ معتاد ہو جائے گی اور عینِ حجت اثباتِ معجزہ تمہارے لیے اثباتِ کرامت کو باطل کرتی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ کہنا خلافِ واقعہ ہے۔ اس لیے معجزہ ناقصِ عاداتِ خلق ہے اور کرامتِ ولی غیرِ معجزۂ انبیاء ہے اور وہ اس امر پر دلیل ہے کہ معجزۂ نبی کی یہ شان ہے تو پھر معجزہ معجزہ کا ناقض کیسے ہو سکتا ہے۔ تو نے دیکھا نہیں جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو کفرانِ مکہ نے سولی پر چڑھا دیا تو حضور سید عالم ﷺ مدینہ منورہ میں تھے اور مسجدِ نبوی میں جلوہ افروز۔ مگر مدینہ سے مکہ کا یہ تمام ماجرا ملاحظہ فرما رہے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو یہ سب کچھ بتا رہے تھے جو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے بھی حجاب اٹھا دیے۔ انہوں نے برسرِ دار اپنے ولیِ نعمت، مجسمۂ رحمت جنابِ سرورِ عالم ﷺ کا جمالِ جہاں آراء دیکھا اور نہایت مسرت و انبساط سے آدابِ دربارِ باری بجا لاتے ہوئے مؤدبانہ سلام عرض کیا۔ حضور ﷺ نے ان کا سلام سنا۔ حضور ﷺ نے جوابِ سلام دیا۔ وہ اللہ تعالیٰ نے گوشِ خبیب رضی اللہ عنہ تک پہنچایا۔ حضور ﷺ نے روبہ قبلہ ہو کر ان کے لیے دعا فرمائی۔
تو یہ معاملہ کہ حضور ﷺ خبیب رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے ملاحظہ کریں اور خبیب رضی اللہ عنہ مکہ سے مدینہ میں حضور ﷺ کو دیکھیں۔ ایک ایسا فعل ہے جو خارقِ عادت ہے اور معجزہ ہے حضور ﷺ کے لیے اور وہ جو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے مکہ سے مدینہ میں حضور ﷺ کے جمالِ جہاں آراء کا مشاہدہ کر رہے تھے، وہ کرامت تھی اور خارقِ عادت تھی۔
اس لیے بالاتفاق غائب کی رویت عادت کے خلاف ہے اور پھر زمان و مکان کی غیوبت میں کچھ فرق نہیں۔ چنانچہ خبیب رضی اللہ عنہ کی کرامت حضور ﷺ سے مکان کی غیوبت میں متقدمین کی کرامت کو ایک کرامت کی طرح تھی۔
یہ ایک فرقِ بیّن ہے اور برہانِ واضح جو ثابت کر رہا ہے کہ کرامت و معجزہ دونوں علیحدہ نہیں اس لیے کہ کرامت بغیر تصدیقِ صاحبِ معجزہ نہیں ہوتی اور ایسے مومن کے سوا جو مصدق و مطیع ہو، ظہور میں نہیں آتی اور وہ امتی سے ظہور پذیر ہوتی ہے اور جو کرامت امتی سے سرزد ہوتی ہے وہ
۳۹۴درحقیقت معجزۂ انبیاء کرام ہے۔ اس لیے کہ ان کی شریعت باقی ہے اور ان کی حجت و برہان بھی باقی ہیں۔ تو اولیاء کرام صدقِ رسالتِ رسل پر گواہ ہیں اور سوا ان کے کسی غیر امتی سے ظہورِ کرامت روا نہیں۔ اس کی تائید میں ایک حکایت مروی ہے جو حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ سے مشہور ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں ایک بار اپنی عادت کے مطابق جنگل میں اپنی تجرید و توحید کے ساتھ تھا کہ بعد چندے ایک گوشہ سے ایک شخص اٹھا اور میرے ساتھ ہم نشین ہونے کی خواہش ظاہر کرنے لگا۔ میں نے اس کے باطن پر نگاہ ڈالی تو مجھے اس سے نفرت پیدا ہوئی۔ میں نے سوچا کہ یہ کون ہے جو اس سے نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ تو وہ کہنے لگا۔ ابراہیم! فکر نہ کریں، میں نصاریٰ میں سے صابی ہوں اور اقصائے بلاد روم سے صرف آپ کی ہم نشینی کی نیت سے آیا ہوں۔ جواب سن کر مجھے اطمینان ہوا کہ نفرت یوں ہوئی تھی کہ بیگانہ ہے۔ میں نے اسے اپنی ہم نشینی کی اجازت دے دی اور کہا کہ اے راہب! (راہبِ نصاریٰ میں جو زاہد اور تارک الدنیا ہوتے تھے انہیں کہتے ہیں) ہمارے پاس اکل و شرب کا انتظام نہیں ہے، ہمیں اس امر کا خطرہ ہے کہ کہیں تمہیں اس جنگل میں ہماری معیت سے تکلیف نہ ہو۔ راہب کہنے لگا: حضرت! آپ کی اتنی زبردست شہرت عالم میں ہے مگر ابھی تک آپ طعام و شراب کے غم میں ہیں۔ مجھے اس کا یہ جواب پسند آیا۔ میں نے امتحاناً اُسے ہمراہ لیا کہ دیکھیں اپنے دعویٰ میں کہاں تک سچا ہے۔ سات شبانہ روز بادیہ پیمائی کرتے رہے۔ ساتویں روز اُسے بھوک پیاس نے اتنا تنگ کیا کہ کہنے لگا: ابراہیم! آپ کی کرامات و عرفان کا ڈھول دنیا میں لوگ بجاتے ہیں لیکن اب میں مجبور ہوں کہ آپ کی ولایت کا انکار کر دوں، اس لیے کہ اب بھوک پیاس نے میری تمام طاقت سلب کر لی ہے۔ میں نے سر بجز بارگاہِ بے نیاز میں جھکایا اور عرض کی: الٰہی! مجھے اس کافر کے سامنے رسوا نہ کر، اب تک اس کا خیال باوجود بیگانہ ہونے کے، میرے ساتھ اچھا ہے، تیرے کرم سے بعید نہیں کہ ایک کافر کے حسنِ ظن کو جو میرے ساتھ ہے حسنِ اعتقاد تک پہنچا دے۔ فرماتے ہیں: جب میں نے سر اٹھایا تو ایک طبق دیکھا جس میں دو روٹیاں اور دو پیالے پانی کے رکھے تھے۔ ہم دونوں نے وہ کھا پی کر تازگی حاصل کی اور چل دیے۔
جب سات روز گزر گئے تو میں نے اپنے دل سے کہا کہ آج میں اس راہب کا بھی تجربہ کروں۔ قبل اس کے کہ یہ میرا امتحان کرے اور کچھ مجھ سے مانگے۔ میں نے کہا: اے راہب! کچھ لا کہ آج تیری باری ہے، اپنے مجاہدہ کا پھل دکھلا۔ اس نے بھی سر زمین پر رکھا اور کچھ کہا کہ ایک طبق ظاہر ہوا جس میں چار روٹی اور چار پیالے پانی کے موجود تھے۔ مجھے اس پر سخت تعجب ہوا اور اپنے گزشتہ ایام کی یاد میں رنجیدہ ہو کر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے یہ کھانا نہیں ہے، اس لیے کہ کافر کے
۳۹۵لیے آیا ہے۔ اگر میں اس میں سے کھاؤں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ میں کافر سے مدد لوں۔
راہب کہنے لگا: ابراہیم کھاؤ۔ میں نے کہا: نہیں۔ کہنے لگا کیوں؟ میں نے کہا: اس لیے کہ تو اس امر کا اہل نہیں اور اس سے میں کرامت نہیں مانتا۔ اس لیے کہ کرامت تیرے حال سے بعید ہے مگر مجھے تعجب ضرور ہے اور میں فکر میں ہوں کہ اس کو میں کیا کہوں۔ اگر تیری کرامت کہتا ہوں تو کافر سے کرامت محال ہے اور اگر معونت کہوں جو کافر کے ساتھ ہو سکتی ہے تو بھی مدعی کو شبہ ضرور ہوتا ہے۔
راہب کہنے لگا: ابراہیم! نوش فرمائیں۔ میں آپ کو دو بشارتیں دیتا ہوں: پہلے یہ کہ میں مسلمان ہوں۔ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ۔ دوسرے یہ کہ آپ کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت بلند ہے۔ میں نے کہا: وہ کیسے؟ کہنے لگا: حضرت میرے پاس اس قسم کی قوت نہ تھی جو آپ نے دیکھی۔ مگر میں نے آپ کے وسیلہ سے سر زمین پر رکھا اور عرض کی: الٰہی! اگر دینِ محمد ﷺ حق ہے اور تیرا پسندیدہ ہے تو مجھے بھی دو قرص اور دو پیالہ پانی کے عطا فرما اور اگر ابراہیم خواص تیرا ولی ہے تو اس کی ولایت کے صدقے دو روٹی اور دو پیالہ پانی عطا فرما۔ جب سر اٹھایا تو یہ طبق میرے سامنے رکھا تھا۔ حضرت ابراہیم خواص رضی اللہ عنہ نے یہ سب قصہ سن کر اس طبق سے تناول فرمایا اور وہ راہب اس کے بعد اسلامی مشائخ کرام میں شمار ہوا۔ اور یہ نبی کریم ﷺ کا عینِ معجزہ ہے، جو کرامتِ ولی کے پردہ میں چھپا ہوا ہے اور بالخصوص یہ بہت نادر امر ہے کہ نبی کی غیبت میں غیر برہان دکھائے اور وہ بھی ایک ولی کی موجودگی میں اور غیر کے ذریعے کرامت ظاہر ہوئی۔
اور یہ بھی حقیقتِ واقعہ ہے کہ منتہیِ ولایت کو مبتدیِ ولایت کے سوا کوئی نہیں جان سکتا اور یہ راہب کے لیے ولایتِ ابراہیم خواص نہایت پوشیدہ چیز تھی اور (علم اللہ میں اسے ولی ہونا تھا) تو اللہ تعالیٰ نے اس پر مرتبہ ابراہیم خواص اور دینِ حق کی حقانیت اس صورت میں ظاہر فرما دی جیسے جادو گرانِ فرعون پر کہ انہوں نے اسلام لانے سے قبل موسیٰ علیہ السلام کا مرتبہ جان لیا تھا تو حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے معجزہ کی سچائی کا ثبوت دیا اور اس نے صداقتِ ولایت و حقانیتِ اسلام کا۔ اور معجزہ اور کرامت کے مابین فرق بین ہے۔
اس بحث میں بہت زیادہ مضامین ہیں۔ لیکن یہ کتاب ان سب کے بیان کی متحمل نہیں۔ اتنا یاد رکھو کہ کرامتِ اولیاء کرام میں یہ اور کرامت ہے کہ وہ اسے مخفی رکھیں کہ رفقاءِ کرامت میں شرطِ ولایت ہے۔
چنانچہ کوئی ولی اپنی کرامت بالا ارادہ تکلیف ظاہر نہیں فرماتا اور نہ انہیں ایسا کرنا زیبا ہے۔
۳۹۶میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر ولی اپنی ولایت ظاہر کر دے اور اس سے اپنی صحتِ حال کا دعویٰ قائم رکھے تو نقصان نہیں لیکن مظاہرۂ ولایت کے لیے بالا ارادہ بتکلف اگر ظاہر کرے تو اس سے رعونت پیدا ہوتی ہے اور یہ مضر ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔