یہ حضرت علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کشف المحجوب کا اردو ترجمہ ہے۔ فہرست میں باب کا نام لکھا ہے، اور ساتھ وہ صفحہ نمبر ہے جو چھپی ہوئی کتاب پر ہے۔ جو صفحہ اس نقل میں نہیں ملا، اس کی جگہ نشان ہے۔
پڑھنے کا طریقہ
آسان نسخہ کھولیں، اگر حوالے اور حواشی کے بغیر پڑھنا ہو۔
فہرست کھول کر باب کا نام چنیں۔
یا صفحہ نمبر لکھ کر «جائیں» دبائیں۔
یا کوئی لفظ لکھیں، تو صرف وہ صفحے رہ جائیں گے جن میں وہ لفظ ہے۔
رہنمائی
پہلا حصہ: مقدمہ
صفحہ ۱ سے ۳۳ اس نقل میں نہیں۔ یہاں مصنف، کتاب کے نام، اور لاہور کے حالات ہیں۔ اصل کتاب صفحہ ۸۳ سے شروع ہوتی ہے۔
صفحہ۳۴
جناب ابو سعید ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کی درخواست پر لکھی اور ان کے سوالات کی اساس پر یہ نورانی صحیفہ تیار ہوا۔ اس مبارک کتاب کی وجہ تسمیہ اور غایتِ تصنیف حضرت شیخ کے قلمِ اعجاز رقم نے یہ لکھی ہے:
یہ جو میں نے کہا ہے کہ اس کتاب کو کشف المحجوب (پنہاں کو عیاں کرنے والی) کے نام سے موسوم کیا ہے، اس سے میرا مقصد یہ ہے کہ کتاب کا نام ہی اس کے موضوع اور مطالب کو عیاں کر دے اور اہلِ بصیرت اس کا نام سنتے ہی جان لیں کہ اس میں کیا ہے اور واضح رہے کہ اولیاء اللہ اور عزیزانِ بارگاہِ خداوندی کے سوا تمام عالم (و عالمیاں) رموز و اسرارِ خداوندی کے حقائق کو سمجھنے سے محجوب و مستور ہیں۔ چونکہ یہ کتاب سیدھی راہ بتانے اور عارفانہ کلمات کی تشریح و توضیح اور بشریت کے حجاب رفع کرنے کی غرض سے لکھی گئی ہے، لہذا اسے کسی اور نام سے منسوب کرنا مناسب نہیں سمجھا اور حقیقت یہ ہے کہ جس طرح حجاب کا اٹھنا محجوب (پوشیدہ) کی موت ہوتا ہے اس طرح حجاب کا آنا مکاشف (ظاہر شدہ) کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔ (۱)
حضرت داتا گنج بخش نے یہ کتاب اپنی عمر کے آخری حصے میں تحریر فرمائی اور اس کا تین چوتھائی حصہ یقیناً لاہور میں لکھا۔ وہ ایک مقام پر رقم فرماتے ہیں:
اس وقت اس سے زیادہ ممکن نہیں، اس لیے کہ میری کتابیں غزنی (حرسہا اللہ) میں رہ گئی ہیں اور میں ہند کے شہر لاہور میں جو مضافاتِ ملتان میں سے ہے، ناجنسوں کے درمیان گرفتار ہوں۔ (۲)
حضرت نے اپنی کتابوں کے غزنی رہ جانے کا جو ذکر کیا ہے اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ان کے پاس کتابیں بالکل نہیں تھیں بلکہ وہ شاکی اس بات کے ہیں کہ ایک متبحر عالم اور فاضل مصنف کو جس بہتات سے کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ یہاں پوری نہیں ہو سکتی تھی۔
پروفیسر خلیق احمد نظامی لکھتے ہیں:
امام قشیری کی طرح شیخ ہجویری نے تصوف کو اسلامی شریعت سے قریب لانے (۳) اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ شیخ کے خیالات میں...
۱۔ کشف المحجوب طبع تہران، ص: ۴
۲۔ کشف المحجوب، طبع سمرقند، ص: ۱۱۵
۳۔ نظامی صاحب نے یہ فیشن کے طور پر لکھ دیا ہے وگرنہ وہ جانتے ہیں کہ تصوف اور شریعت جدا جدا نہیں ہیں۔
صفحہ۳۵
بڑی صفائی اور اندازِ بیان میں بڑی گہرائی ہے۔ تصوف کی جو کتابیں اب تک لکھی گئی تھیں وہ زیادہ تر عربی زبان میں تھیں اس لیے عوام کو استفادے کا موقع بہت کم ملتا تھا۔ یہ کمی اس کتاب کے ذریعے دور ہوئی (۱)۔
پھر لکھتے ہیں:
چونکہ اس کتاب نے ایک طرف تصوف سے متعلق عوام کی غلط فہمیوں کو دور کیا، دوسری طرف اس کی ترویج کی راہیں کھول دیں (۲)۔ چونکہ انہوں نے اپنی کشف المحجوب کے ذریعے تصوف کے خیالات کو عوام تک پہنچا کر تصوف کو ایک تحرک اور سلاسل قائم ہونے کا سامان بہم پہنچایا (۳)۔
کشف المحجوب صوفیائے کرام اور محققین کی نظر میں:
سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء قدس سرہ (م ۷۲۵ھ) کی نہایت اہم رائے (فوائد الفؤاد) (۴) میں خود جلی حرفوں میں درج ہے:
"و می فرمودند کشف المحجوب از تصنیفِ علی ہجویری چوں ایں را مطالعه کند او را پیر پیدا شود، من ایں کتاب را بہ تمام مطالعه کردہ اہم۔" (۵)
چنانچہ علینہ شاہ حضرت محبوبِ الٰہی جن کتبِ تصوف کے شائقانہ مطالعہ کرتے تھے ان میں کشف المحجوب شامل تھی۔ ضیاء الدین برنی لکھتا ہے:
۱۔ تاریخ مشائخ چشت طبع اول ۱۹۵۳ء ص: ۹۸
۲۔ ایضاً ص: ۹۹
۳۔ ایضاً ص: ۱۰۱
۴۔ فوائد الفؤاد کا ترجمہ اردو میں چھپ چکا ہے مگر اس وقت پیشِ نظر نہیں۔
۵۔ بحوالہ تصوفِ اسلام از عبد الماجد دریا بادی طبع علی گڑھ: بار اول ص ۲۵
صفحہ۳۶
"پیوستہ بودند در مطالعه کتبِ سلوک و صحائفِ احکامِ طریقت و اشراف و اکابر کہ بہ خدمتِ شیخ واقعہ می شد و کتابِ قوت القلوب و احیاء العلوم و ترجمۃ احیاء العلوم و عوارف و کشف المحجوب و شرحِ تعرف و رسالہ قشیری و مرصاد العباد و مکتوباتِ عین القضاۃ و لوائح و لوامعِ قاضی حمید الدین ناگوری و فوائد الفؤاد امیر حسن را بواسطہ ملفوظاتِ شیخ خریدارانِ بسیار پیدا آمدند و مردم کتابیاں پیشتر از کتبِ سلوک و حقائق پرس کردند۔" (۱)
سلطان تارکین رکن الدین (خلیفہ حضرت مخدوم جہانیاں جہانگشت) کے ایک عقیدت مند نے اپنے مرشدِ ارشد (حضرت رکن الدین) کی شان میں صدو پچاس صوفیانہ کتب کے اسماء سے جو قصیدہ لکھا ہے، اس میں کشف المحجوب کا بھی ذکر ہے۔ شعر ملاحظہ ہو:
گشت کشافِ کشف ہم محجوب
فہمِ ذو الطولِ اے فہیمِ قد ار (۲)
شہزادہ دارا الشکوہ (م ۱۰۶۹ھ) نے لکھا ہے:
"حضرت پیر علی ہجویری را تصانیفِ بسیار است اما کشف المحجوب مشہور و معروف است و ہیچ کس را بر آن سخن نیست و مرشدی است کامل در کتبِ تصوف بہ خوبی؛ در زبانِ فارسی کتابی تصنیف نہ شدہ۔" (۳)
حضرت حکیم شاہ تراب علی قلندر کاکوروی (م ۱۲۵۹ھ) اپنی تصنیف "انفاس الأدوَار" میں رقم طراز ہیں:
"صوفیاء کے طبقہ اول میں علوم و اسرارِ شایانِ طریقوں کو رموز و اشارات میں تعلیم کیے...
جاتے تھے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اور چند تصانیف بھی ان کی تھیں، جنہیں عوام پر ظاہر نہیں کرتے تھے مگر طبقہ ثانی میں جب سید الطائفہ جنید بغدادی، خواجہ ابو الحسن نوری، خواجہ ابو سعید خراز اور خواجہ ابو بکر شبلی (رحمہم اللہ تعالیٰ) کا دور دورہ ہوا تو انہوں نے رموز و اشارات یعنی اخفا کے طریقہ کو ترک کر کے طالبوں کو ان علوم کا علانیہ درس دینا شروع کر دیا۔ اس وقت سے ہر سلسلہ کے مشائخ نے تصوف پر کتابیں لکھنا شروع کر دیں جن کی تفصیل طوالت کا موجب ہوگی لہذا اس موقع پر صرف ان چند معتبر کتابوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن کا مطالعہ جمیع مشائخ کا معمول ہے۔ پہلی کتاب جو خانواده جنیدیہ میں لکھی گئی "طبقات صوفیہ" تصنیف ابو عبد الرحمن سلمی ہے اور اس کے بعد شیخ علی بن عثمان ہجویری غزنوی جنیدی نے "کشف المحجوب" لکھی۔ (۱) (ترجمہ بغیر سیر)
مفتی غلام سرور لاہوری مرحوم (م ۱۳۰۷ھ) لکھتے ہیں:
شیخ علی ہجویری را تصانیفِ بسیار است اما کشف المحجوب از مشہور و معروف ترین کتبِ وی است و ہیچ کس را بروی جائے سخن نی بلکہ پیش ازیں در کتبِ تصوف ہیچ کتابی بہ زبانِ فارسی تصنیف نہ شدہ بود۔ (۲)
محمد بن عبد الوہاب قزوینی (ایران) مقدمہ تذکرۃ الأولیاء میں رقم طراز ہیں:
ولی در زبانِ فارسی آنچہ در نظر است دو کتاب است کہ قبل از تذکرۃ الأولیاء تألیف شدہ، یکی کشف المحجوب لأرباب القلوب (۳) لابی الحسن علی بن عثمان الجلابی الهجویري الغزنوي المتوفی سنۃ ۴۶۵ و دیگر ترجمہ طبقات الصوفیہ... للسلمی کہ آن را شیخ الاسلام ابو اسماعیل عبد اللہ بن محمد الأنصاری الخزرجی المتوفی ۴۸۱ھ در مجالسِ وعظ و تذکیر املا نموده۔ (۴)
۳۔ کشف المحجوب کے نام کے ساتھ "لأرباب القلوب" کا اضافہ غلط ہے۔ اس غلطی کا سبب آئندہ بیان ہوگا۔
۴۔ مقدمہ تذکرۃ الأولیاء طبع تہران سوم ص: ۸
صفحہ۳۸
کشف المحجوب کو صوفیائے کرام اور مورخین ہی نے نہیں بلکہ دورِ جدید کے مفکروں اور نقادوں کی نظر میں بھی مقبولیت حاصل رہی ہے۔ حضرت خواجہ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ (م ۶۲۷ھ) نے اپنی معروف ترین کتاب "تذکرۃ الأولیاء" میں کشف المحجوب سے صوفیائے کرام کے حالات اور ان کے اقوال معمولی تبدیلی کے ساتھ نقل کیے ہیں۔
ملک الشعراء بہار نے لکھا ہے:
"عطار ظاہراً از کتابِ کشف المحجوب استفادہ کردہ است و غالباً عباراتِ آن بدونِ ذکرِ خودِ کتاب یا مؤلف با اندک تصرفی کہ تبدیلِ کہنہ بہ نو باشد نقل نموده است۔" (۱)
ملک الشعراء بہار نے سبک شناسی (ص ۳۰۲) میں اس کی واضح مثالیں بھی پیش کی ہیں۔
روس مستشرق ژوکوفسکی کی تحقیق یہ ہے:
"شیخ عطار در تذکرۃ الأولیاء خود مکرر از کشف المحجوبِ ہجویری جلابی غزنوی استفادہ کردہ و در مواردِ متعدد بدونِ ذکرِ مأخذ از او اقتباساتی کردہ است و در اغلبِ ایں موارد فقط بہ ذکرِ عبارت (نقلست) بسندہ ورزیدہ است۔" (۲)
حضرت شیخ عطار رحمۃ اللہ علیہ نے تذکرۃ الأولیاء میں صرف دو مقام پر حضرت داتا بخش قدس سرہ کا نامِ گرامی لے کر ان کے اقوال نقل کیے ہیں: اول: سیدنا حضرت امامِ اعظم...
۱۔ تذکرۃ الأولیاء طبع تہران، بار اول
۲۔ سبک شناسی یا تاریخِ تطورِ نثرِ فارسی از شادروان ملک الشعراء بہار، جلد دوم، ص: ۳۰۲
۳۔ ترجمہ مقدمہ ژوکوفسکی بر کشف المحجوب، طبع تہران، ص: ۷
صفحہ۳۹
ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ (م ۱۵۰ھ) کے حالات میں (۱)۔ دوم: حضرت ابن عطاء رحمہ اللہ تعالیٰ (م ۳۰۹ھ) کے ذکر میں (۲)۔
حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ کا استفادہ:
نفحات الانس میں مولانا جامی نے کشف المحجوب سے چند بزرگوں کے حالات لیے ہیں۔ مثلاً حضرت شیخ ختلی قدس سرہ کے حالات کشف المحجوب ہی سے ماخوذ ہیں۔ اسی طرح دیگر مقامات پر بھی اخذ و استفادہ کیا ہے۔۔۔ اس موقع پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ زمانہ قدیم میں اخذ و استفادہ کا یہی طریقہ تھا لہذا اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔
حضرت خواجہ شرف الدین یحییٰ منیری قدس سرہ (م ۷۸۲ھ) اپنے مکاتیبِ شریفہ میں کشف المحجوب کی عبارات بطورِ سند نقل کرتے ہوئے حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت کا یوں اعتراف کرتے ہیں:
"صاحبِ کشف المحجوب کہ مقتدائے عصرِ خود بودہ است" (۳)
حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ (م بعد از ۸۲۵ھ) کے مجموعہ ملفوظات "لطائفِ اشرفی" مرتبہ حضرت نظام غریب یمنی میں متعدد مقامات پر کشف المحجوب کے حوالے ملتے ہیں؛ مثلاً:
۱۔ "می فرمودند کہ صاحبِ کشف المحجوب را" (۴)
۲۔ "صاحبِ کشف المحجوب گوید" (۵)
حضرت خواجہ محمد پارسا رحمۃ اللہ علیہ (م ۸۲۲ھ) کا استفادہ:
حضرت خواجہ پارسا نے اپنی مایہ ناز تصنیف "فصل الخطاب" کی متعدد فصول اور مختلف مقامات پر کشف المحجوب کی عبارتیں نقل کی ہیں اور نہایت تعظیم و تکریم سے حضرت داتا گنج بخش...
۱۔ تذکرۃ الأولیاء طبع لاہور ص ۱۳۴؛ طبع تہران حصہ اول میں: ص ۱۹۰
۲۔ ایضاً ص ۳۵۰؛ طبع تہران، حصہ دوم، ص: ۵۸
۳۔ سہ صدی مکتوبات از شیخ یحییٰ منیری طبع لاہور، ۱۳۱۹ھ، حصہ اول میں: ۲۶۷
۴۔ لطائفِ اشرفی طبع دہلی ۱۲۹۸ھ، جلد اول ص ۱۵، ۱۷
۵۔ ایضاً، جلد دوم، ص: ۱۹، ۵۸
صفحہ۴۰
مالیہ کا ذکر کیا ہے ایک مقام پر لکھتے ہیں:
شیخِ عالم، عارف، زاہد، مجاہد، شیخ الشیوخ، الطریقۃ، کاشفِ اسرارِ الحقیقۃ ابو الحسن علی بن عثمان بن ابی علی الغزنوی رحمہ اللہ کہ از اقرانِ سلطانِ طریقہ و برہانِ حقیقت شیخ ابو سعید بن ابو الخیر فضل اللہ بن محمد بن احمد المیہنی است قدس اللہ تعالیٰ روحہ و اقتدائے ہر دو بزرگوار در طریقہ بزینِ اوتاد و شیخِ عباد ابو الفضل محمد بن الحسن السرخسی است قدس اللہ روحہ در کتابِ کشف المحجوب لأرباب القلوب آوردہ است۔۔۔۔۔۔ (۱)
التباسِ حضرتِ پارسا رحمہ اللہ:
حضرت خواجہ پارسا رحمہ اللہ نے جو یہ لکھا ہے کہ حضرت شیخ علی ہجویری اور حضرت ابو سعید بن ابی الخیر (رحمہما اللہ) حضرت ابو الفضل محمد بن الحسن سرخسی رحمہ اللہ کے مرید تھے صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں بزرگوں کے پیرانِ طریقت کا ایک ہی نام تھا مگر مسکن علیحدہ علیحدہ محض ہم نامی کی وجہ سے انہیں یہ اشتباہ ہو گیا۔ حضرت ابو سعید کے حالات کے سلسلے میں کشف المحجوب میں بتایا گیا ہے کہ ان کے مرشد سرخس میں رہتے تھے:
در آن وقت والیِ سرخس شیخ ابو الفضل حسن بود (۲)
مولانا جامی قدس سرہ نے شیخ ابو الفضل بن حسن السرخسی قدس سرہ کے حالات کے شروع میں لکھا ہے:
شیخ ابو الفضل بن حسن السرخسی قدس سرہ نامِ وی محمد بن الحسن است، وی مریدِ ابو نصر سراج است و پیرِ شیخ ابو سعید ابو الخیر (۳)
۱۔ فصل الخطاب (خطی) ص: (لائبریری حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ لاہور) یہ کتاب تاشقند سے طبع ہو چکی ہے مگر یہاں کمیاب ہے۔
۲۔ کشف المحجوب طبع تہران ص: ۲۰۶
۳۔ نفحات الانس طبع لکھنؤ ص: ۲۶۴
صفحہ۴۱
پھر حضرت ابو سعید کے حالات میں رقم فرماتے ہیں:
"پروے در طریقہ شیخ ابو الفضل بن حسن سرخسی است (۱)۔"
صاحب کے مرشدِ ارشد کے حالات لکھتے وقت شیخ روحی نے بھی وضاحت کر دی ہے: "ہم نامی کی وجہ سے جو التباس و اشتباہ پیدا ہو جاتا ہے اس کے پیشِ نظر حضرت داتا"
"ابو الفضل محمد بن الحسن الختلی قدس سرہ وی غیرِ ابو الفضل بن حسن سرخسی است" (۲)
رسالہ ابدالیہ معلوم ہوتا ہے فصل الخطاب حضرت خواجہ یعقوب چرخی کے پیشِ نظر رہی، اس لیے انہوں نے فصل الخطاب کے اس بیان پر اعتماد کرتے ہوئے لکھ دیا کہ حضرت ابو سعید ابوالخیر اور حضرت علی ہجویری دونوں بھائی (پیر بھائی) تھے (۴) اور خواجہ پارسا کی اتباع میں کشف المحجوب کے نام کے ساتھ "لأرباب القلوب" کا اضافہ بھی روا رکھا تھا۔۔۔ کشف المحجوب کے نام کے ساتھ لأرباب القلوب کے اضافے پر بحث آگے آئے گی۔ ان شاء اللہ۔
حضرت ابو سعید قطب اللہ سرہ العزیز (گیسو دراز حسینی) (م ۸۲۵ھ):
حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز نے اپنی متعدد تصانیف میں کشف المحجوب کے حوالے دیے ہیں، ان میں مکتوباتِ شریفہ کا مجموعہ بھی پیشِ نظر ہے۔ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:
"آن محققِ مدقق، آن شیخِ برحق، آن صوفیِ معنوی و صوری ابو علی عثمان (علی بن عثمان) ہجویری قدسی..."
بھی بھی غلطیاں رہ گئی ہیں۔ حضرت داتا صاحب کے نامِ گرامی کو جو "ابو علی عثمان" لکھا ہے، یہ متنِ مکتوبات غلطیوں سے پاک نہ ہونے کی امکان کی وجہ سے ہے، لیکن صاحبِ نقل کردہ ہے (۳)۔
کتاب کی زینت ہے؛ حسنِ تحریر، خاکسار نے اقتباس الانوار کے ماخذوں کی فہرست اس کے ص ۴۰ پر دی ہے جس میں کشف المحجوب کا نام درج ہے۔ روسی لکھتا ہے:
۱۔ نفحات الانس طبع لکھنؤ ص: ۲۹۰
۲۔ فہرست مخطوطاتِ فارسی از ڈاکٹر محمد بشیر حسین ص: ۷۱
۳۔ مکتوباتِ حضرت خواجہ گیسو دراز مترجمہ سید ناصر الدین مع ابو العلا فیض پوری طبع حیدرآباد، ص: ۱۶۷، ۱۶۸؛ ص: ۸۰
صفحہ۴۲
در تألیف و تدوینِ سفینۃ الأولیاء، خزینۃ الأصفیاء، نامۂ دانشوران (۱) و طرائق الحقائق (۲) نیز از کشف المحجوب استفادہہائے بسیار و اقتباساتِ مکرر و متعددی شدہ است (۳)۔
مراجع و منابعِ کشف المحجوب:
کشف المحجوب سے استفادہ و استفاضہ کرنے والے اولیائے کرام اور مورخین کے ذکر کے بعد حضرت گنج بخش قدس سرہ کی نورانی تصنیف کے مراجع و منابع کا بیان اشد ضروری ہے۔
(ا)۔ فیضِ عالمِ قدس: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ﴾ (۴) "جس شخص کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہدایت کرے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔" ﴿أَفَمَنْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِنْ رَبِّهِ﴾ (۵) "جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور (روشنی) پر ہوتا ہے۔" اور جسے اللہ تعالیٰ شرحِ صدر کی نعمت سے سرفراز فرماتا ہے تو اسے اپنے انوار و تجلیات سے نوازتا ہے اور عالمِ قدس سے جو انوار اس کے قلب پر وارد ہوتے ہیں ان کی برکات سے کشفِ حقائق ہوتا ہے اور رموزِ حقیقت و اسرارِ معرفت منکشف ہوتے ہیں، قرآنِ مجید اور احادیثِ مقدسہ کا صحیح فہم و ادراک حاصل ہوتا ہے۔ غرض کہ حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفِ منیف کا منبعِ اول یہی فیضِ عالمِ قدس ہے۔ وَذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔
(ب)۔ قرآنِ مجید
(ج)۔ احادیثِ نبویہ
پروفیسر ژوکوفسکی نے کشف المحجوب کے دقیق مطالعہ کے بعد اس کے منابع و ماخذ تلاش کیے ہیں اور اپنے مقدمۂ کشف المحجوب میں ان کے نام درج کیے ہیں:
۱۔ عصرِ حاضر کی مشہور تصنیف جو ایران کے متعدد فضلاء کی کاوش کا نتیجہ ہے۔
۲۔ طرائق الحقائق تألیف نائب الصدر حاجی میرزا معصوم بن رحمت علی شاہ قزوینی نعمت اللہ شیرازی متوفی ۱۳۴۴ھ، جلد ۲، تہران (فہرستِ فارسی کتب ہائے چاپی جلد اول از خان بابا مشار طبع تہران کالم ۱۰۹۰)
۳۔ ترجمہ مقدمہ روسی بہ فارسی کشف المحجوب طبع تہران، ص: ۲۱
۴۔ سورۃ الانعام: ۱۲۵
۵۔ سورۃ الزمر: ۲۲
صفحہ۴۳
۱۔ تاریخِ اہل الصفا - تألیف حضرت ابو عبد الرحمن سلمی متوفی ۴۱۲ھ (کشف ص: ۹۹) (۱)۔ حاجی خلیفہ نے کشف الظنون میں اس تألیف کا نام نہیں لکھا مگر "تاریخ اہل الصفوۃ" کا ذکر کیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ زیرِ بحث کتاب ہی ہو (جلد دوم نمبر شمار: ۲۱۶۸)۔
۲۔ کتابِ سلمی - (کشف ص: ۱۴۱) جو بعد میں "طبقات الصوفیہ" کے نام سے مشہور ہوئی۔
۳۔ کتابِ قشیری - (کشف ص: ۱۴۱) جو "الرسالۃ القشیریہ" کے نام سے معروف ہے۔
۴۔ کتابِ محبت - (کشف ص: ۳۹۹) تألیف عمر بن عثمان مکی (متوفی ۲۹۶ یا ۲۹۷ھ)۔ شیخ عطار نے بھی تذکرۃ الأولیاء میں اس سے استفادہ کیا ہے (تذکرہ طبع لاہور، ص: ۲۳۳)۔
۵۔ اللمع فی التصوف - تألیف ابو نصر سراج (یافعی نے مرآۃ الجنان میں لکھا ہے کہ اس کا سالِ اتمامِ تصنیف ۳۷۸ھ ہے)۔
۶۔ تاریخ المشائخ - تألیف محمد بن علی حکیم ترمذی (کشف ص: ۵۰)۔
۷۔ کتابِ مقدسی - (کشف ص: ۳۳۴) ممکن ہے کہ یہ وہی "رسائل اخوان الصفا" ہوں جن کے مؤلفین میں سے ایک ابو سلیمان البستی المقدسی ہے۔
۹۔ حکایات - حضرت علی ہجویری قدس سرہ نے کشف المحجوب میں بار بار فرمایا ہے: "اندر حکایات یافتم" بنا بریں یہ واضح ہے کہ یہ کتاب کشف المحجوب کے ماخذوں میں سے ہے۔
منابع درجہ دوم:
مشہور اور اہم کتابیں جو کشف المحجوب کی تصنیف کے وقت دوسرے درجہ پر حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پیشِ نظر رہیں ان کے نام یہ ہیں:
(۱) تصانیف حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ: کشف المحجوب کے بیان کے مطابق ان کی تعداد پچاس اور اقطار و اکنافِ خوزستان، فارس اور خراسان میں منتشر ہو چکی ہیں۔ (کشف ص: ۱۹۱)
(۲) تألیف ابو جعفر محمد بن مصباح صیدلانی: (کشف ص: ۲۱۴، ۳۳۴)
۱۔ کشف المحجوب کے صفحات نمبر چاپ تہران سے دیے گئے ہیں اور کشف سے مراد کشف المحجوب ہے۔
صفحہ۴۴
۱- تاریخ اہل صفہ - تالیف حضرت ابو عبد الرحمن سلمی متوفی ۴۱۲ھ (کشف ص: ۹۹) (۱) حاجی خلیفہ نے کشف الظنون میں اس تالیف کا نام نہیں لکھا مگر تاریخ اہل الصفوۃ کا ذکر کیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ زیر بحث کتاب ہی ہو (جلد دوم نمبر شمار: ۲۱۶۸)
۲- کتاب سلمی - (کشف ص: ۱۴۱) جو بعد میں طبقات الصوفیہ کے نام سے مشہور ہوئی۔
۳- کتاب قشیری - (کشف ، ص: ۱۴۱) جو "الرسالة القشیریہ" کے نام سے معروف ہے۔
۴- کتاب محبت - (کشف ، ص: ۳۹۹) تالیف عمر بن عثمان مکی (متوفی ۲۹۶-۲۹۷ھ) شیخ عطار نے بھی تذکرۃ الاولیاء میں اس سے استفادہ کیا ہے۔ (تذکرہ طبع لاہور ، ص: ۲۳۳)
۵- لمع فی التصوف - تالیف ابو نصر سراج (یافعی نے مرآۃ الجنان میں لکھا ہے کہ اس کا سال اتمام تصنیف ۳۷۸ھ ہے)۔
۶- تاریخ المشائخ - تالیف محمد بن علی حکیم ترمذی (کشف ، ص: ۵۰)
۷- کتاب مقدسی - (کشف ، ص: ۳۳۴) ممکن ہے کہ یہ وہی "رسائل اخوان الصفا" ہوں جن کے مؤلفین میں سے ایک ابوسلیمان البستی المقدسی ہے۔
۸- حکایات عراقیاں - (کشف ، ص: ۵۲) از تصانیف شیوخ صوفیاء عراق -
۹- حکایات - حضرت علی ہجویری قدس سرہ نے کشف المحجوب میں بار بار فرمایا ہے: "اندر حکایات یافتم" بنا بریں یہ واضح ہے کہ یہ کتاب کشف المحجوب کے ماخذوں میں سے ہے۔
منابع درجہ دوم:
مشہور اور اہم کتابیں جو کشف المحجوب کی تصنیف کے وقت دوسرے درجہ پر حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پیش نظر رہیں ان کے نام یہ ہیں:
(۱) تصانیف حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ: کشف المحجوب کے بیان کے مطابق ان کی تعداد پچاس اور اقطار و اکنافِ خوزستان ، فارس اور خراسان میں منتشر ہو چکی ہیں۔ (کشف ، ص: ۱۹۱)
(۲) تالیف ابو جعفر محمد بن مصباح صیدلانی: (کشف ، ص: ۲۱۴ ، ۳۳۴)
(حاشیہ ص ۱-۴۴) (۱) کشف المحجوب کے صفحات نمبر چاپ تہران سے دیئے گئے ہیں اور کشف سے مراد کشف المحجوب ہے۔
صفحہ۴۵
(۳) رسائل ابو العباس سیاری: حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے پیروؤں کو مرو اور نساء میں دیکھا، لہذا یہ رسائل بھی ان ہی شہروں میں دیکھے ہوں گے۔
(۴) رسائل حکیم ترمذی: یہ رسائل حضرت داتا صاحب قدس سرہ کی توجہ کا مرکز رہے۔ (کشف ، ص: ۱۷۸ ، ۴۳۹) اور ان کے نام یہ ہیں: بیان آداب المریدین، ختم الولایت، کتاب النهج اور نوادر الاصول (فی معرفۃ اخبار الرسول)۔
(۵) کتاب سماع - از ابو عبد الرحمن سلمی (کشف ، ص: ۵۲۳)
(۶) روایات - از ابوالفضل ختلی ، مرشد ہجویری رحمہما الله (کشف ، ص: ۱۱۰)
(۷) غلط الواجدین - از تصانیف ابو محمد رویمی (کشف ، ص: ۱۷۰)
اب ان کتابوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو مستقلاً حضرت ہجویری قدس سرہ کا مرجع نہیں رہیں بلکہ کبھی کبھی ان کی طرف رجوع کیا گیا:
(۱) تصحیح الاراده: از تصانیف حضرت جنید بغدادی قدس سرہ (کشف ، ص: ۴۳۹)
(۲) الرعایة بحقوق الله: از تالیف احمد بن خضرویہ۔ (کشف ، ص: ۴۳۹)
(۳) کتاب اندر اباحت سماع: مؤلف نا معلوم (کشف ، ص: ۵۲۴)
(۴) کتاب اندر مرقعه: از تصانیف ابو معمر اصفہانی (کشف ، ص: ۶۲)
(۵) کتاب رغایب: از تصانیف ابو عبد الله الحارث بن اسد المحاسبی ، در اصول تصوف (کشف ، ص: ۱۳۴) حاجی خلیفہ نے کشف الظنون میں اس کا ذکر کیا ہے۔
(۶) مرأة الحکماء: از تصانیف شاہ شجاع کرمانی (کشف ، ص: ۱۷۴)
آخر میں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مذکورۃ الصدر کتب و رسائل کے علاوہ اور تصانیف و توالیف بھی صاحب کشف المحجوب کے زیر نظر رہی ہیں جن کے مصنفین و مؤلفین کے صرف اسماء گرامی تحریر کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ مثلاً تصانیف یحییٰ رازی (کشف ، ص: ۱۵۳)، تالیف ابوبکر وراق (کشف ، ص: ۱۷۹ ، ۴۳۹)، آثار سہل بن عبدالله (کشف ، ص: ۴۳۹)، کتب مشائخ (کشف ، ص: ۳۳۴) اور ابوحمدون قصار و صوفیہ قصاریان کے اقوال مکرر نقل کیے ہیں۔ (کشف ، ص: ۳۲۸)۔ (۱)
(حاشیہ ص ۱-۴۵) (۱) بہ تغییر قلیل از مقدمہ کشف المحجوب طبع تہران ، ص: ۵۸-۲۰
صفحہ۴۶
رسالہ قشیریہ اور کشف المحجوب
حضرت امام ابو القاسم قشیری قدس سرہ (م ۴۶۵ھ) حضرت شیخ علی ہجویری قدس سرہ کے معاصر ہیں اور حضرت مخدوم ہجویری نے ان سے ملاقات بھی کی ہے اور کشف المحجوب میں ان کی جلالتِ شان کے معترف ہیں ۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ حضرت داتا صاحب کے اُستاد بھی ہیں ۔ مگر کشف المحجوب سے اس خیال کی تائید و تصدیق نہیں ہوتی ۔ امام قشیری نے "الرسالة القشیریہ" ۴۳۷ھ میں لکھنا شروع کیا اور اوائل ۴۳۸ھ میں مکمل کر لیا تھا اور رسالہ قشیریہ، کشف المحجوب کی تصنیف کے وقت حضرت داتا صاحب کے پیش نظر تھا۔ یہ دونوں کتابیں جو ایک ہی موضوع سے متعلق ہیں اور ہم عصر بزرگوں کی تصانیف ہیں، ان دونوں میں جو نمایاں فرق ہے، اسے سمجھنے کے لیے درج ذیل آراء مفید ثابت ہوں گی:
ڈاکٹر پیر محمد حسن مترجمِ رسالہ قشیریہ فرماتے ہیں:
"ہجویری نے اس کتاب (کشف المحجوب) میں قشیری کے رسالہ کا تتبع کیا ہے اور بعض ایسے امور سے بحث کی ہے ، جن کا رسالہ میں کوئی ذکر نہیں۔" (۱)
مخدومی پیر صاحب نے حضرت داتا صاحب کو امام قشیری کا تتبع لکھنے کے ساتھ یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ شیخ ہجویری نے بعض ایسے امور سے بحث کی ہے ، جن کا رسالہ میں کوئی ذکر نہیں ۔
مگر کشف المحجوب کے مصحح اور مقدمہ نگار ژوکوفسکی، امام قشیری کو حضرت داتا صاحب کے شیوخِ صحبت میں شمار کرنے کے باوجود یہ تسلیم نہیں کرتا کہ ہجویری نے اپنی تصنیف میں قشیری کا تتبع کیا ہے۔ لکھتا ہے :
"الرسالة القشيريه في علم التصوف للامام العالم ابي القاسم عبد الکریم ہوازن القشيري و كشف المحجوب ہجویری جلابی غزنوی، اولی بتازی ددومی بپارسی هر دو از کتب طراز اول تصوّف و ہردو در حدود اواسط قرن پنجم هجری تالیف شده است با وجود وحدت كامل موضوع، بر بحث، نه در کیفیت و کمیت مسائل مورد
نظر و نه در تعبير وتفسير مطالب مطروحه هیچ گونه وجه اشتراکی بین این دو اثر نفیس واصیل مشاهده نمی شود فقط گاه گاهی در بعضی اصطلاحات فنی اندک مشابہتی بین آن دو ملاحظه می گردد (فی المثل قشیری گوید: المحو و الاثبات) (ص: ۴۶ رساله) و هجویری می نویسد: النفى والا ثبات (ص: ۴۹۴ کشف) لاغير" (۱)
عبد الماجد دریا بادی، جو رسالہ قشیریہ اور کشف المحجوب میں سے کسی کے بھی دیباچہ نگار نہیں ہیں ، ان کی رائے یہ ہے :
"اس کتاب کے تقریباً ہم عمر امام ابو القاسم قشیری کا عربی "رسالہ القشیریہ" ہے۔ موضوع اس کا بھی تصوف ہے۔ دونوں کے طرزِ تصنیف میں فرق یہ ہے کہ امام موصوف نے زیادہ تر متقدمین کے اقوال و حکایات کے نقل کر دینے پر اکتفا کیا ہے ، بر خلاف اس کے مخدوم ہجویری ایک محققانہ ، مجتہدانہ انداز سے اپنے ذاتی تجربات ، مکاشفات ، واردات، مجاہدات وغیرہ بھی قلم بند کرتے جاتے ہیں اور مباحثِ سلوک پر رد و قدح کرنے میں تامل نہیں کرتے ، اس لیے ان کی کتاب کی حیثیت محض ایک مجموعہِ روایات و حکایات کی نہیں بلکہ ایک مستند محققانہ تصنیف کی ہے۔" (۲)
سبکِ کشف المحجوب
ملک الشعراء بہار نے کشف المحجوب کی نثر کو دورِ اول یعنی دورِ سامانیان میں شامل کیا ہے، لکھتے ہیں :
"این کتاب از حيث سبك بالاتر واصيل تر و بدوره اول نزدیک تر است تا سائر كتب صوفیه ، دمی توان آن را یکی از کتب طراز اول شمرد که هر چند در قرن پنجم تالیف شده و بیش از کتب قدیم را از دست خوش تازی ولغت های آن
(حواشی ص ۱-۴۷) (۱) ترجمہ مقدمہ کشف المحجوب ، روی برگاری طبع تہران ، ص: ۵۷ (۲) تصوفِ اسلام از عبد الماجد دریا آبادی طبع سوم ، ص: ۵۳-۵۴
صفحہ۴۸
زمان است اما باز نمونه سبک قدیم را از دست نداده و روی همرفته دارای سبك كهنه است. افعال ولغات كهنه وغريب واستعمالات دوره اوّل بتمامها دریں کتاب دیده می شود وازیں گزشته اصطلاحات خاصی نیز از خود دارد که غالب آن با بعد ازین در کتب تصوف مصر المح گردیده است. (۱)
اس کے بعد ملک الشعراء نے ذیل کے عنوانات کے تحت دادِ تحقیق دی ہے: لغات فارسی --- اصطلاحات و کلمات تازه عربی --- موازنہ وجمع --- حذف افعال بقرینہ (۲)
کشف المحجوب کے نام اور زبان کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ
کشف المحجوب کے تمام قدیم خطی نسخوں میں اس کا پورا نام "کشف المحجوب" ہی لکھا ہے اور قدیم ترین مصنفین نے بھی اس کا یہی نام تحریر کیا ہے۔ مگر بعض مصنفین نے اس کا پورا نام "کشف المحجوب لارباب القلوب" سمجھا ہے۔ اس اشتباہ کا سبب یہ ہے کہ حضرت خواجہ محمد پارسا رحمۃ اللہ علیہ نے فصل الخطاب میں یوں لکھا ہے :
"در کشف المحجوب لارباب القلوب آورده است" (۳)
چونکہ کشف المحجوب حاجی خلیفہ کے پیش نظر نہ تھی ، اس لیے انہوں نے "کشف الظنون" میں اس کا نام اور کیفیت "فصل الخطاب" سے نقل کی۔
ژوکوفسکی لکھتا ہے:
"درین مورد می توان گفت که مشار اليه (حاجی خلیفه) اصلا خود متن کتاب کشف المحجوب رانه ديده بوده است ، زیرا معمولاً حاجی خلیفه هنگام بحث از
(حواشی ص ۱-۴۸) (۱) سبک شناسی یا تاریخ تطور فارسی ، ص: ۱۸۷ (۲) ایضاً ص: ۱۸۷-۱۹۷ (۳) فصل الخطاب خطی ، ص : ۶۰ (مملوکہ حضرت مولانا ابوالبرکات سید احمد قادری لاہور)
صفحہ۴۹
کتابهای که شخصاً برای العین دیده ، آغاز و انجام نسخه نیز نقل می کند ولی در مورد کشف المحجوب چنین چیزی نیاورده است" (۱)
لہذا "کشف الظنون" پر اعتماد کرتے ہوئے متاخرین نے اس کا نام "کشف المحجوب لارباب القلوب" لکھنا شروع کر دیا۔
پھر لکھا ہے:
"خواجه محمد پارسا از عرفای طریقه نقشبندیه متوفی هشت صد و بیست و دو هجری قمری که در حدود دو قرن قبل از حاجی خلیفه می زیسته ، در تالیف خود بنام فصل الخطاب لوصل الاحباب اظهار داشته که کشف المحجوب عنوان اختصاری کتاب ہجویری است و نام کامل آن چنیں می باشد كشف الحجب المحجوب لارباب القلوب" (۲)
اور حاشیہ میں لکھا ہے:
"در فهرست آغاز نسخه بدین عنوان آمده کتاب کشف سر المحجوب لارباب القلوب باضافة كلمة سر" (۳)
اس اقتباس میں ژوکوفسکی کی دو باتیں محلِ نظر ہیں:
اول یہ کہ "فصل الخطاب" کے نام کے ساتھ "لوصل الاحباب" کا اضافہ غلط ہے۔ اس کتاب کا جو قلمی نسخہ راقم السطور کے پیش نظر ہے، اس سے بھی اس کی تائید نہیں ہوتی ۔
دوم: حاجی خلیفہ نے اس کا نام "فصل الخطاب فی المحاضرات" لکھا ہے۔ (۴) پھر آگے چل کر ایک اور کتاب کا تعارف کرایا ہے جس کا نام "فصل الخطاب لوصل الاحباب" ہے ۔ "کشف الظنون" کی عبارت ملاحظہ ہو:
فَصْلُ الْخِطَابِ لِوَصْلِ الْأَحْبَابِ. منظومة في اثني عشرة الف بيت للشيخ بدر الدين محمد بن محمد المعروف بابن رضی الدين الغزى م ۹۸۴ (۵)
معلوم ہوتا ہے کہ ژوکوفسکی کو کشف الظنون کے مطالعہ میں ٹھوکر لگی ہے۔ دوسرے جو یہ لکھا ہے کہ:
"فصل الخطاب میں اس امر کا اظہار کیا گیا ہے کہ کشف المحجوب اختصاری نام ہے اور پورا نام کشف الحجب المحجوب لارباب القلوب ہے"
عجیب بات ہے! ۷۰۱ صفحات پر مشتمل "فصل الخطاب" پیشِ نظر ہے، اس میں کہیں بھی ایسا اشارہ نہیں ملتا۔ اس پوری کتاب میں ساٹھ سے زائد "کشف المحجوب" کے اقتباسات صرف کشف المحجوب کے نام سے نقل ہوئے ہیں۔ بلا کسی وضاحت کے اور صرف دو مقام پر اس طرح کے نام آئے ہیں:
کشف المحجوب لارباب القلوب (۱)
کشف حجب المحجوب لارباب القلوب (۲)
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خواجہ پارسا جو عقیدت اور کتاب کے موضوع کی مزید وضاحت کی خاطر اپنی طرف سے الفاظ بڑھاتے رہے ہیں، جیسا کہ نسخۂ فلوگل و دانش گاہ لینن گراڈ کی روایت میں یہ اضافہ دیکھ سکتے ہیں: "کشف سر المحجوب لارباب القلوب"۔
غرض یہ کہ "فصل الخطاب" کے مطالعہ سے ہی "رسالہ ابدالیہ" اور "کشف الظنون" کے اشتباہات واضح ہو جاتے ہیں، اور معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کا نام صرف اور صرف "کشف المحجوب" ہی ہے۔
پروفیسر مجیب (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) جو بھارت کے مسلمانوں کے ذہن کو کمیونزم و الحاد کے زہریلے اثرات سے مسموم کرنے پر مامور تھے، اسی لیے انہیں داراشکوہ کے دور الہاد کے تذکرے بہت پسند تھے۔ یہ صاحب ۱۹۶۱ء میں لاہور آئے تو بقول ان کے حضرت نور بخشیو شارع کلاں صاحبِ کشف و شہود بازار رحمہ اللہ علیہ نے ان سے اس خیال کا اظہار کیا کہ کشف المحجوب اصل زبان عربی میں تھی، بعد میں اس کا فارسی ترجمہ ہوا، اور اصل عربی ضائع ہو گئی اور فارسی ترجمہ باقی رہ گیا۔ موصوف نے اس رائے کو قبول کر لیا اور آخر تک اس پر قائم رہے۔ (۳)
خدا جانے حضرت نور بخش نے کیا فرمایا اور انہوں نے کیا سمجھا! بہرحال یہ رائے بالکل غلط ہے۔ اس کتاب کی نثر قدیم ہے جو بعد میں نہیں لکھی جا سکتی تھی۔ نیز تمام قدیم نسخے اس کے مطابق ہیں۔ دیگر کتابوں میں جو اس کے اقتباسات ملتے ہیں، وہ بالکل اس کے مطابق ہیں۔
(حواشی ص ۱-۵۰) (۱) فصل الخطاب قلمی، ص: ۶۰ (۲) ایضاً ص: ۱۲۴ (۳) رسالہ میڈیول انڈیا مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، جلد ۳، ص: ۲۱
صفحہ۵۱
۷۔ نسخہ ژوکوفسکی طبع تہران: ژوکوفسکی کا صحیح کردہ نسخہ ادارہ انتشاراتِ امیر کبیر تہران نے ۱۳۳۶ھ / ۱۹۵۷ء میں شائع کیا۔ ژوکوفسکی کے مقدمہ کو فارسی میں منتقل کر کے شامل کیا گیا ہے۔ فاضل محمد عباسی نے اس کی ابتداء میں دو مقالے "تجلیاتِ تصوفِ ایرانی" اور "تحقیقاتِ نویں راجع بہ کشف المحجوب" شامل کر کے اس کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ محمد عباسی کے پہلے دو مقالے اور ژوکوفسکی کا مقدمہ ۶۲ صفحات کو محیط ہیں اور متنِ کتاب کے ۵۴۶ صفحات ہیں۔ آخری آٹھ فہرستوں کے ۲۱ صفحے ہیں۔ غرض کہ یہ بہترین نسخہ ہے۔
۸۔ مطبوعہ نامی پریس لاہور: سنِ اشاعت ندارد، صفحات ۳۲۸۔ کاغذ اور صحت کے لحاظ سے بہت ناقص ہے۔ اس پر سنِ اشاعت تحریر نہیں لیکن راقم کو معلوم ہے کہ قریباً ۱۹۶۰ء میں طبع ہوا تھا۔ اس کے آخر میں ۲۸ صفحات پر مشتمل فصول و ابواب کی وضاحتی فہرست موجود ہے۔
۹۔ نسخہ مولوی محمد شفیع: مطبوعہ نوائے وقت پرنٹرز لاہور، سنِ طباعت ۱۹۶۸ء، صفحات ۴۸۱، ناشر: احمد ربانی۔ اس کے شروع میں ڈاکٹر مولوی محمد شفیع صاحب کی نشری تقریریں بطورِ پیش لفظ اور مقدمہ دے دی گئی ہیں۔ چونکہ یہ نسخہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبہ نسخے کی نقل بتایا جاتا ہے، اس لیے حضرت زکریا قدس سرہ کے حالاتِ زندگی مرقومہ مولوی صاحب موصوف بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔ مگر اہل علم اس خطی نسخے کا حضرت زکریا سے انتساب صحیح نہیں سمجھتے۔ مولانا نور احمد خان فریدی، تذکرہ حضرت بہاء الدین و مؤلفِ کتبِ کثیرہ رقم فرماتے ہیں:
"...العزیز بہاولپور کے شمارہ فروری ۱۹۴۵ء میں ایک مضمون شائع ہوا تھا، جس میں صاحبِ مضمون نے تحریر کیا تھا کہ حضرت شیخ الاسلام نے سید ہجویری کی مشہورِ عالم تصنیف کشف المحجوب کو بھی اپنے ہاتھ سے سپردِ قلم فرمایا تھا، یہ قیمتی نسخہ جیسا کہ صاحبِ مضمون نے تحریر کیا، پیرزادہ مولوی محمد حسین صاحب ایم اے، مترجم عجائب الاسفار کے کتب خانہ میں موجود تھا، خاکسار نے ان کے قریبی رشتہ داروں سے ہر چند دریافت کرنے کی کوشش کی لیکن اس گنجِ شایگاں کا پتہ نہیں چل سکا۔ حال ہی میں جناب احمد ربانی صاحب نے محکمہ اوقاف کی اعانت سے کشف المحجوب کا ایک فارسی نسخہ طبع کرایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ وہی نسخہ ہے... جس کی ڈھنڈیا پڑ رہی تھی۔ انہوں نے اس نسخے کا پہلے اور آخری صفحے کا عکس بھی دیا ہے، مگر اسے حضرت شیخ الاسلام سے منسوب کرنے میں چند اشکال حائل ہیں۔ ایک یہ کہ اس پر تاریخِ ارقام ۶۶۴ھ درج ہے حالانکہ حضرت کا سنِ وصال بالاتفاق ۶۶۱ھ ہے۔ دوسرے یہ کہ ترقیمہ کی عبارت..."
صفحہ۵۲
"...بہاء الدین زکریا پر مشتمل ہے لیکن حضرت شیخ الاسلام کا نام صرف زکریا ہے۔ 'ابو محمد' کنیت اور 'بہاء الدین' لقب ہے۔ کوئی شخص اپنے نام کے ساتھ اپنے قلم سے لقب نہیں لکھا کرتا، چہ جائیکہ حضرت شیخ الاسلام جیسی منکسر المزاج شخصیت اپنے نام سے پہلے اپنے لیے 'بہاء الدین' لکھنا پسند کرتی۔ لہذا اس قلمی نسخے کا حضرت سے انتساب صحیح نہیں۔" (۱)
مولانا فریدی صاحب نے جو یہ تحریر فرمایا ہے کہ حضرت کا سنِ وصال بالاتفاق ۶۶۱ھ ہے، صحیح نہیں، اختلاف ہے۔ کسی نے ۶۶۱ھ تو کسی نے ۶۶۶ھ لکھا ہے۔ اگر ۶۶۱ھ ہی کو صحیح قرار دے دیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ان کی عمر ۹۵ برس سے کچھ اوپر ہوگی۔ کیا اس عمر میں وہ اتنی ضخیم کتاب کی نقل کی طرف متوجہ ہو سکتے تھے؟ مزید طرہ یہ کہ ترقیمہ میں "بہاء الدین" کو "بہاؤ الدین" واؤ کے اضافہ کے ساتھ اور "زکریا" کو "ذکریا" ذال کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے۔ حضرت شیخ الاسلام ہرگز ہرگز اس طرح کی غلطیاں نہیں کر سکتے تھے۔ لہذا اس نسخے کا حضرت شیخ الاسلام کی طرف انتساب کاتب کا جعل ہے۔ بہرحال یہ نسخہ صحت کے اعتبار سے سمرقندی نسخہ سے بہتر ہے۔
تراجم:
پروفیسر نکلسن (م ۱۹۴۵ء) نے کشف المحجوب کا انگریزی ترجمہ کیا جو پہلی بار ۱۹۱۱ء میں گب میموریل لندن نے شائع کیا۔ ۱۹۳۶ء میں اس کا نظرثانی شدہ ایڈیشن چھپا۔ پھر ۱۹۵۹ء اور ۱۹۶۷ء میں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا۔ یہ اس کتاب کی مقبولیت کی واضح دلیل ہے کہ اس کا انگریزی ترجمہ بھی چار بار چھپ چکا ہے۔
بیس سے زائد اردو تراجم چھپ چکے ہیں اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو بارہا شائع ہوئے۔ اس وقت ان سب تراجم کی تفصیل دینے کی گنجائش نہیں۔
سیاحت:
مردانِ خدا کی زیارت اور مزاراتِ اولیاء اللہ سے استفادہ و استفاضہ کی غرض سے سفر کی صعوبتیں برداشت کرنا بہت بڑا مجاہدہ ہے جو مشاہدہ کی دولت سے نوازتا ہے۔ حضرت داتا صاحب نے یہ مجاہدہ بھی حدِ کمال کو پہنچا دیا۔ تقریباً تمام عالمِ اسلام کی سیاحت کی اور وقت کے اعاظم مشائخ و صوفیاء سے اکتسابِ فیض کیا۔ انہوں نے جن جن ملکوں اور شہروں کے بزرگوں سے ملاقات کا شرف...
کشف المحجوب حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا سفرنامہ نہیں ہے۔ اس میں ان کے سفر و سیاحت کا ذکر ضمناً ہوتا چلا گیا ہے۔ لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے اتنے ہی ملکوں اور شہروں کی سیاحت کی، جن کے نام ان کی کتاب میں مذکور ہوئے ہیں اور ان کا سفرِ پاک و ہند بھی صرف اس حد تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ غزنی سے چل کر لاہور پہنچ گئے۔
کشف المحجوب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پاک و ہند کے اکثر شہروں کی سیاحت کی تھی، یہاں کے علماء سے ملے تھے اور یہاں کی تہذیب و تمدن و رسم و رواج اور ہندوؤں کے عقائد سے گہری واقفیت حاصل کی تھی۔ فناء و بقاء کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس مسئلے پر ہندوستان میں میرا صرف ایک عالم سے مناظرہ ہوا تھا۔ آپ فرماتے ہیں:
"ہندوستان کے اندر میں نے ایک ایسا شخص دیکھا جو تفسیر و تذکیر اور علم کا مدعی تھا۔ اس نے مجھ سے فناء و بقاء کے مسئلے پر مناظرہ کیا۔ جب میں نے اس کی تقریر سنی تو معلوم ہوا کہ یہ خود فناء و بقاء کو بالکل نہیں سمجھتا اور قدیم و محدث کے فرق کو بھی نہیں جانتا۔" (۱)
حلولیہ کے عقائدِ باطلہ کے بیان میں روح کے مسئلے پر گفتگو فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
"۔۔۔۔۔ اور جملہ اہل ہندو تبت اور چین و ماچین یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ شیعوں، قرامطیوں اور باطنیوں کا بھی اسی پر اجماع ہے۔۔۔۔۔" (۲)
محبت کی شہرت اور تعریف کی بحث کے دوران سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہنود کی قلبی ناراضی اور ان کی بے بسی کا ذکر نہایت لطیف پیرائے میں کیا ہے:
"ہندوؤں کے نزدیک محبت کی قید محمود کی قید سے بھی زیادہ مشہور ہے اور محبت کا زخم اور داغ ہندوؤں کے نزدیک اس زخم سے بھی زیادہ شہرت رکھتا ہے جو محمود نے انہیں لگایا تھا۔" (۳)
بابِ سماع الأصوات والألحان میں رقم طراز ہیں:
"یہ مشہور ہے کہ ہندوستان میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو جنگل میں جا کر گاتے ہیں اور..."
۱۔ کشف المحجوب طبع تہران، ص: ۳۱۳، ۳۱۴
۲۔ ایضاً، ص: ۳۳۷
۳۔ ایضاً، ص: ۳۹۹
صفحہ۵۴
...ہرن ان کی طرف آ جاتے ہیں اور شکاری ان کے گرد گھوم کر گاتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہرن گانے کی لذت سے مست ہو کر آنکھیں بند کر کے سو جاتے ہیں اور وہ انہیں پکڑ لیتے ہیں۔" (۱)
ذرا آگے چل کر فرماتے ہیں:
"میں نے دیکھا کہ ہندوستان میں ہر قاتل میں ایک کیڑا پیدا گیا تھا اور اس کا علاج ایک نہر میں ڈبکی تھی۔" (۲)
وہ بے سر و سامانی کہ انہوں نے نفس پر تصرفِ پیادہ اس طریقہ سے کیا کہ اس کے ذرا بھی انکار میں ایک بے سر و سامان مسافر کے تھکان کا تصور بھی لانا ناممکن ہے۔ چنانچہ ثمرات القدس میں لکھتے ہیں:
"مسافرتِ بسیار نموده و ریاضت و مجاہداتِ شاقہ کہ از طاقتِ بشری بیرون بود، کشیدہ۔" (۳)
اقبال:
خاکِ پنجاب از دمِ او زنده گشت
صبحِ ما از مہرِ او تابندہ گشت
داراشکوہ لکھتے ہیں کہ حضرت داتا صاحب قدس سرہ نے تجرید و توکل کی بنیاد پر بے حد طویل سفر کیے اور بہت زیادہ سیاحت کے بعد دار السلطنت لاہور میں اقامت گزیں ہوئے اور اس شہر و باشندے کے تمام ان کے مرید و معتقد ہو گئے:
"بارہا بر قدم و توکلِ تجرید و بسیار سفر کردہ اند و بعد از سیاحی دار السلطنتِ بسیار در لاہور رسیده اقامت ورزیدند، اہلِ آن دیار ہمہ مرید و معتقدِ او گشتند۔" (۴)
لاہور تشریف لا کر ایک مقام پر قیام پذیر ہوئے جہاں ان کا مزارِ انوار ہے۔ ثمرات القدس میں لکھتا ہے:
"اکنون قبرش در خطۂ ہمان لاہور در زمین است کہ روحِ پاکش از جسدِ مطہرِ وی مفارقت کردہ۔" (۵)
۱۔ کشف المحجوب طبع تہران: ص ۴۲۵
۲۔ ایضاً، ص: ۴۳۵
۳۔ ثمرات القدس (قلمی) مملوکہ صاحبزادہ نصرت نوشاہی، شجاع آباد شریف
۴۔ سفینۃ الأولیاء طبع کانپور: ۱۹۳۴ء
۵۔ ثمرات القدس
صفحہ۵۵
لاہور کب تشریف لائے
اس باب میں مختلف آراء ہونے کے سبب یہ مسئلہ نہایت پیچیدہ ہے۔ لالہ سبحان رائے بٹالوی رقم طراز ہے:
محمود غزنوی کے ہمراہ غزنی سے لاہور تشریف لائے اور یہیں فوت ہوئے ، سلطان کا عقیدہ تھا کہ لاہور کی فتح ان ہی کی توجہ سے ہوئی ۔ (۱)
یہ روایت واضح طور پر غلط ہے۔ اس لیے کہ بقول سید محمد لطیف مصنف " تاریخ لاہور" سلطان محمود غزنوی نے لاہور ۳۹۳ھ میں فتح کیا اور بقول لین پول سلطان محمود غزنوی ۳۹۲ھ میں پہلی بار پاک و ہند کی طرف متوجہ ہوا۔ گویا اس وقت تک حضرت داتا صاحب کی اس جہانِ رنگ و بو میں تشریف آوری بھی نہیں ہوئی تھی۔
فوائد الفواد میں ایک ایسی روایت درج ہے جو بعض غلط فہمیوں کا باعث ہوئی۔ لہذا وہ آج تک ہدفِ تنقید بنتی چلی آرہی ہے۔ وَهُوَ هَذَا
شیخ حسین زنجانی اور شیخ علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہا دونوں ایک ہی پیر کے مرید تھے اور وہ پیر اپنے عہد کے قطبِ وقت تھے۔ شیخ حسین زنجانی (شیخ علی ہجویری سے) پہلے ہی لاہور میں مقیم تھے۔ کچھ مدت کے بعد ان کے پیر نے خواجہ علی سے فرمایا کہ لاہور جاؤ اور وہیں مقیم ہو جاؤ ۔۔۔ شیخ علی ہجویری نے عرض کی کہ وہاں حسین زنجانی مقیم ہیں۔ پیر نے فرمایا: تم جاؤ، اور جب علی ہجویری ان کے حکم کے مطابق لاہور پہنچے تو رات کا وقت تھا، صبح ہوئی تو دیکھا کہ لوگ حسین زنجانی کا جنازہ باہر لا رہے ہیں۔ (۲)
اس روایت کی تکذیب و تردید میں راقم احقر اس قسم کی گرما گرم بحث نہیں کر سکتا، جس طرح کہ ڈاکٹر پیر محمد حسن اور پروفیسر محمد اسلم نے کی ہے، اس لیے کہ یہ ان ہی فضلاء کا حق ہے۔ (۳) مختصر یہ کہ حضرت شیخ حسین زنجانی رحمۃ اللہ علیہ جن کا مزار مبارک چاہ میراں لاہور میں مرجعِ خلائق ہے ، ان کا سالِ وفات "خزینۃ الاصفیاء" میں ۵۰۴ھ (۴) اور "تحقیقاتِ چشتی" میں...
۱۔ خلاصۃ التواریخ ، مترجم اردو از ڈاکٹر ناظر حسن زیدی ، ص: ۱۰۶
۲۔ فوائد الفواد، فارسی طبع لاہور ، ص: ۵۷
۳۔ ماہ نامہ فکر و نظر ، اسلام آباد ، ستمبر ۱۹۷۱ء ، مقالہ: سید علی ہجویری اور حسین زنجانی از مخدومی ڈاکٹر پیر محمد حسن اور تاریخی مقالات طبع لاہور از پروفیسر محمد اسلم ملاحظہ ہوں۔
۴۔ خزینۃ الاصفیاء ، جلد دوم : ص : ۲۵۰
صفحہ۵۶
۵۰۶ھ درج ہے اور ان کی لاہور میں آمد کے متعلق لکھا ہے کہ وہ سید یعقوب زنجانی کے ہمراہ آئے - اور سید یعقوب زنجانی کے حالات میں بیان کیا ہے کہ وہ ۵۳۵ھ میں واردِ لاہور ہوئے۔ (۱)۔۔۔
حضرت سید محمد معصوم شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ ساکن چک سادہ شریف (م ۱۳۸۸ھ) نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ "میں نے شیخ زنجانی کے مزار پر وہ پتھر نصب دیکھا ہے جس پر ان کا سنِ وصال ۶۰۰ھ تھا جو مزار کی مرمت کے وقت اُتار دیا گیا ۔۔۔" عجیب بات یہ ہے کہ مفتی غلام سرور اور مولوی نور احمد چشتی نے ان کا سنِ وصال ۶۰۰ھ اور ۵۰۶ھ اپنی اپنی کتابوں میں لکھنے کے باوجود "فوائد الفواد" کی اس روایت کو حضرت داتا صاحب کی لاہور میں آمد کے سلسلے میں درج کر کے اسے حضرت حسین زنجانی مدفون چاہ میراں پر منطبق کر دیا ہے۔ بہر حال یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت حسین زنجانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت داتا صاحب قدس سرہ سے قریباً ایک سو تیس سال بعد واصل بحق ہوئے اور ان سے حضرت خواجہ خواجگان معین الدین حسن سجزی (س، ج، زی) چشتی اجمیری قدس سرہ (۶۳۳ھ) نے لاہور میں ملاقات کی تھی۔ ان دونوں بزرگوں کی ملاقات کا ذکر معتبر کتابوں میں موجود ہے۔ مشہور تذکرہ نویس اور صوفی بزرگ حضرت شیخ جمالی (۹۴۲ھ) نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے :
حضرت شیخ المشائخ حسین زنجانی جو حضرت شیخ سعد الدین حمویہ قدس روحہ کے پیر ہیں (۲) ان دنوں بقیدِ حیات تھے ، حضرت زبدۃ المشائخ والاولیاء معین الحق والدین قدس سرہ اور حضرت شیخ المشائخ والاولیاء شیخ حسین زنجانی قدس سرہ کے درمیان حد سے زیادہ ربط و محبت کا اظہار ہوا۔ (۳)
ابو الفضل "آئین اکبری" میں ان دونوں بزرگوں کی ملاقات ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے :
شیخ حسن (حسین) زنجانی فراوان آگہی داشت
خواجہ معین الدین در لاہور بہ صحبت او رسید و خوابگاہِ او در آنجاست (۴)
۱۔ خزینۃ الاصفیاء جلد دوم : ص: ۲۵۲
۲۔ مآثر الکرام میں بھی لکھا ہے کہ سعد الدین حمویہ شیخ زنجانی کے مرید تھے، شیخ فخر الدین زنجانی پیرِ ارشاد شیخ سعد الدین حموی (ص: ۷) شیخ حمویہ ۶۵۰ھ میں فوت ہوئے۔ جملہ تذکروں میں ان کے پیر کا نام حضرت نجم الدین کبریٰ تحریر ہے۔ حضرت زنجانی سے بھی استفادہ کیا ہوگا۔
۳۔ سیر العارفین قلمی از شیخ جمالی مخزونہ پنجاب یونیورسٹی لائبریری، بحوالہ تاریخی مقالات از پروفیسر محمد اسلم ص: ۲۸۲
۴۔ آئین اکبری جلد سوم از ابو الفضل ، سرسید ایڈیشن ۱۲۷۲ھ ، ص: ۲۰۷
صفحہ۵۷
مولانا محمد غوثی شطاری رقم طراز ہیں :
جب خواجہ معین الأولیاء چشتی اجمیری ہند کو تشریف لائے تو اس وقت چند روز لاہور میں پیر زنجانی کی مصاحبت میں بھی قیام فرمایا تھا، باہم راز داری اور خدا شناسی کی باتیں ہوا کرتی تھیں۔ (۱)
ملا محمد صالح کمبوہ بھی ان بیانات کی تائید کرتا ہے:
بالجملہ در لاہور بہ صحبتِ شیخ حسین زنجانی رسیده وزآنجا توجّہ جانبِ دہلی اختیار فرمود (۲)
داراشکوہ کی تائیدِ مزید ملاحظہ ہو :
شیخ حسین زنجانی را در لاہور دیدہ اند (۳)
اس مقام پر یہ واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ حضرت خواجہ اجمیری قدس سرہ لاہور کب تشریف لائے؟
مولانا سید عبد الباری اجمیری اپنی تنقیدی تالیف "تاریخ السلف" میں لکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ بزرگ ۵۸۸ھ میں واردِ ہند ہوئے اور لاہور میں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد ۵۸۹ھ میں اجمیر شریف پہنچ گئے۔ (۴)
اندریں صورت "فوائد الفواد" کی اس روایت کو الحاقی سمجھ لینا کوئی گناہ نہیں۔ مگر جب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں کی تاریخ نے سب بزرگوں کے حالات کو محفوظ کر لیا ہے تو عنانِ فکر کو اس طرف بھی موڑا جا سکتا ہے کہ حضرت داتا صاحب سے پہلے تشریف لانے والے حسین زنجانی ان سے مختلف ہوں گے اور ان کا مزار اور حالات محفوظ نہیں رہ سکے ، مگر ہم نامی کی وجہ سے پہلے حسین زنجانی سے متعلق روایت کو بعد والے حسین زنجانی کی طرف منسوب کر دیا گیا۔ ہم نام بزرگوں کے حالات کے سلسلے میں اکثر ایسا ہوا ہے اور اس کی سینکڑوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ حضرت خواجہ پارسا قدس سرہ کے تسامح کا واقعہ مذکور ہو چکا ہے کہ انہوں نے حضرت داتا صاحب اور ابو سعید (رحمہما اللہ) دونوں کو ایک ہی پیر کا مرید قرار دے دیا یا جس طرح کہ جامی لاہوری کے قطعہ تاریخِ وفاتِ حضرت داتا صاحب کو حضرت عبد الرحمن جامی کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔ لہذا...
۱۔ اذکارِ ابرار ترجمہ گلزارِ ابرار از محمد غوثی، سال ۱۰۲۲ھ طبع آگرہ ، ص: ۲۵۰۷
۲۔ عملِ صالح (شاہ جہاں نامہ) طبع لاہور، جلد اول، ص : ۵۰
۳۔ سفینۃ الأولیاء طبع کانپور ص : ۹۳
۴۔ تاریخ السلف طبع آگرہ ، ۱۳۴۴ھ ، ص : ۹۷-۹۸
صفحہ۵۸
اس معاملہ میں بھی التباس و اشتباہ کا قوی امکان ہے۔
اندریں حال حضرت حسین زنجانی رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق روایت مندرجہ "فوائد الفواد" اس مسئلے کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھا دیتی ہے۔
بہر حال جس طرح حضرت داتا گنج بخش کی تاریخِ ولادت اور دیگر حالاتِ زندگی کے باب میں قدیم تاریخیں کوئی راہنمائی نہیں کرتیں ، اسی طرح ان کے لاہور میں ورودِ مسعود کے سلسلے میں کوئی نشاندہی نہیں کرتییں۔ لہذا اس کے متعلق بھی صرف قیاس ہی سے کام لیا گیا ہے۔
رائے بہادر کنہیا لال نے بسال ۱۸۸۴ء کسی مآخذ کا حوالہ دیے بغیر لکھا ہے:
یہ بزرگ سلطان مسعود ، سلطان محمود کے بیٹے کے ہمراہ لاہور میں آیا ۔ (۱)
سید محمد لطیف نے بسال ۱۸۹۲ء سنِ ورود کا تعین بھی کر دیا:
آپ سلطان مسعود ، پسرِ سلطان محمود کی فوج کے پیچھے ۴۳۱ھ میں لاہور تشریف لائے۔ (۲)
سید محمد لطیف نے سن کا تعین کر کے اس قیاسی سن کو مزید مشکوک بنا دیا ہے اس لیے کہ ۴۳۱ھ میں سلطان مسعود دورِ ابتلاء میں مبتلا ہو جاتا ہے ، اس سال ترکمانوں نے اس کے ملک پر حملہ کر کے اسے شکست دے دی تھی۔ اس کے بعد وہ اپنے خزائن کو لے کر لاہور آرہا تھا کہ دریائے جہلم کے کنارے اپنے ہی فوجیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر اپنے بھائی محمد کا قیدی بن گیا۔ (ملخصاً) (۳)
اس کے باوجود ۴۳۱ھ پر اکثر مورخین مطمئن نظر آتے ہیں۔ مگر رائے بہادر کنہیا لال کی "تاریخِ لاہور" سے ۳۲ سال قبل لکھی جانے والی کتاب "چار باغِ پنجاب" مؤلفہ گنیش داس میں ان کی تشریف آوری کا سال ۴۵۱ھ تحریر ہے:
"در ۴۵۱ چہار صد و پنجاہ و یک ہجری در لاہور تشریف آوردند ۔۔۔ بعد چہاردہ سال در سلطنتِ سلطان ابراہیم غزنوی بتاریخ ۴۶۵ چہار صد و شصت و پنجم ہجری در لاہور ودیعتِ حیات سپردند۔" (۴)
۲۔ تاریخِ لاہور انگریزی بحوالہ سوانح داتا گنج بخش از محمد الدین فوق ، ص: ۲۷
۳۔ تاریخِ بیہقی مجلد اول طبع تہران ، ص : ۲۸۳-۴
۴۔ چار باغِ پنجاب، فارسی از گنیش داس وڈیرہ مرتبہ پروفیسر کرپال سنگھ، شائع کردہ سکھ ہسٹری ڈیپارٹمنٹ خالصہ کالج امرتسر ، ۱۹۶۵ء ص: ۲۷۹
صفحہ۵۹
گزشتہ صفحہ کے اقتباس میں گنیش داس وڈیرہ نے جو ۴۵۱ھ لکھا ہے اور ۴۶۵ھ میں (داتا صاحب کا) ۱۴ سال لاہور میں قیام قرینِ قیاس ہے۔ اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو حضرت داتا صاحب سلطان ظہیر الدولہ ابراہیم بن مسعود بن محمود غزنوی کے ساتھ ہی لاہور تشریف لائے۔ لین پول نے ابراہیم کے ارائۂ سرِ سلطنت ہونے کا سال ۱۰۵۹ء/۴۵۱ھ لکھا ہے۔ مگر یہاں ایک اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت داتا صاحب کے شیخ طریقت شیخ ابوالفضل محمد بن حسن ختلی قدس سرہ کی تاریخِ وصال "خزینۃ الاصفیاء" میں ۴۵۳ھ درج ہے اور بقولِ بعض وہ ۴۶۰ھ میں واصل بحق ہوئے اور ان کے وصال کے وقت حضرت داتا صاحب بیت الجن (شام) میں تھے اور پیر نے مرید کی گود میں جانِ آفریںِ جاں کے سپرد کی تھی۔۔۔ ڈاکٹر پیر محمد حسن نے اس اشکال پر یوں بحث کی ہے:
"وہ اولاً لاہور ۴۵۲ھ کے بعد آئے یا ایک سے زیادہ دفعہ یہاں آئے" (۱)
تبلیغِ اسلام و اشاعتِ توحید:
اس نائبِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامِ دورانِ لاہور میں ہزارہا بت پرست کفار کو توحید کا ذاکر بنا کر منور کیا اور سینکڑوں کے سینوں کو نورِ اسلام سے پاک کیا۔ گمراہوں کو صراطِ مستقیم کا ہادی و رہنما کیا اور کتنے ہی خوش نصیبوں کو اپنی نظرِ کیمیا اثر کی بدولت ولایت کے بلند مراتب پر فائز کیا۔
یہ درست صورت ہے کہ محمود غزنوی کے قیام کے ساتھ ہی یہاں مسلمان ایک باقاعدہ قومی حیثیت سے رہنے لگے تھے اور یہاں کے کفار مسلم فاتحین سے بظاہر مرعوب مگر ان کے قلوب مسلمانوں کے ساتھ نہیں تھے اور وہ موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ مگر یہاں تشریف لانے والے صوفیائے کرام بالخصوص حضرت داتا صاحب کے ورودِ مسعود کے بعد یہاں کی آبادی میں سے بے شمار لوگ ان کی تعلیمات کے سبب حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے۔ چنانچہ یہاں کے باشندوں میں سے ایک مشترکہ ہمدردیاں دیسی مسلمان کے ساتھ ہونے لگیں، نظریۂ وطنیت پر خاک پڑ گئی اور دو قومی نظریے کی بنیادیں رکھ دی گئیں اور بعد میں آنے والے صوفیائے کرام کی مساعیِ جمیلہ سے اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا جس سے مسلمانوں کی حکومت مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گئی۔ (حاشیہ از ڈاکٹر مولوی محمد شفیع: ص ۸۷)
صفحہ۶۰
رہے کہ ان کی ایک ایک نگاہِ کرم نے لوگوں کو خداۓ واحد کا مخبت و مشتاق بنا دیا۔
علامہ اقبال علیہ الرحمۃ نے حضرت داتا صاحب قدس سرہ کی عظیم الشان دینی خدمات اور روحانی عظمت کو چند اشعار میں جو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے وہ ان ہی کا حصہ ہے۔ ذیل میں ان کے وجد آفریں اشعار ملاحظہ ہوں:
سیدِ ہجویر مخدومِ امم
مرقدِ او پیرِ سنجر (۱) را حرم
بندہائے کوہسار آسماں گسیخت
در زمینِ ہند تخمِ سجدہ ریخت
عہدِ جمالش فاروق از تازہ شد
حق ز حرفِ او بلند آوازہ شد
پاسبانِ عزتِ ام الکتاب
از نگاہش خانۂ باطل خراب
خاکِ پنجاب از دمِ او زندہ گشت
صبحِ ما از مہرِ او تابندہ گشت
عاشق و ہم قاصدِ طیارِ عشق ، از جنبش آشکار اسرارِ عشق
حضرت شیخ مجدد الف ثانی قدس سرہ نے لاہور کو "ارشاد و ہدایت" کا درجہ دیا ہے اور اس میں اس قطب الاقطاب (علی ہجویری) کو خراجِ تحسین ادا کیا ہے۔
حضرت شیخ مجدد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"فقیر کے نزدیک شہرِ لاہور تمام ہندوستان کے شہروں میں قطب (۲) ارشاد کی طرح ہے۔ اس شہر کی برکت تمام ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہے" (۳)
حضرت نے اپنی روحانی قوت سے کفرستانِ ہند میں جو تخمِ توحید بویا تھا، رائے بہادر کنہیا لال نے بعد میں ان الفاظ میں اس کا اعتراف کیا ہے:
"مسلمانی دین پھیلانے میں بڑی بکشش کی۔۔۔" (۴)
اور گنیش داس وڈیرہ رقم طراز ہے:
۱۔ پروفیسر لین پول کے نزدیک یہاں "سنجری" لکھنا صحیح ہے۔ استاد سعید نفیسی مرحوم نے لاہور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ڈاکٹر اقبال مرحوم کے شعر میں 'سنجری' کا لفظ سچ مچ غلط ہے۔ اس میں یہ شعر یوں ہونا چاہیے: سیدِ ہجویر مخدومِ امم / مرقدِ او پیرِ سجزی را حرم (ہلالِ فارسی، کراچی، کوئٹہ نمبر ۱، اگست ۱۹۶۶ء ص ۱۷)
۲۔ مکتوبات مجدد الف ثانی اردو ترجمہ مولانا محمد سعید احمد نقشبندی، دفتر اول حصہ سوم ص: ۸۳۲
۳۔ ایضاً
۴۔ تاریخِ لاہور از کنہیا لال: ص ۹۱
صفحہ۶۱
"دراں عہد اکثر قومِ گوجراں ہندو مشرب در لاہور وطن گاہ داشتند معتقدِ او شدہ اسلام قبول کردند۔" (۱)
مولوی نور احمد چشتی نقل کرتے ہیں :
"جب حضرت یہاں تشریف لائے تو اس وقت یہاں ایک شخص رائے راجو ، نائبِ حاکمِ پنجاب حضرت کا مرید ہو کر مسلمان ہوا اور اس کا نام شیخ ہندی رکھا گیا۔ اس کی اولاد تا حال خادم و مجاور ہے۔" (۲)
تعمیرِ مسجد اور ایک کرامت:
حضرت داتا صاحب قدس سرہ نے لاہور تشریف لاتے ہی اپنی فرودگاہ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کرائی۔ اس ضمن میں دارا شکوہ لکھتا ہے :
انہوں نے ایک مسجد تعمیر کرائی تھی جس کی محراب دیگر مساجد کی بہ نسبت جنوب کی طرف مائل ہے۔ کہتے ہیں کہ اس وقت کے علماء جو لاہور میں موجود تھے ، اس محراب کی سمت کے سلسلے میں حضرت شیخ پر معترض ہوئے۔ چنانچہ ایک روز حضرت نے سب علماء کو جمع کیا اور خود امامت کے فرائض سر انجام دیے اور بعد ادائے نماز حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا : دیکھو کعبہ شریف کس سمت میں ہے؟ دیکھا تو حجابات اٹھ گئے اور کعبہ شریف محراب کی سیدھ میں نمودار ہو گیا ۔۔۔۔ ان کا مزار بھی ان کی مسجد کی سمت کے مطابق ہے۔ (۳)
سالِ وصال:
حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ کے سالِ وصال میں بھی خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔
لعل بیگ لعلی نے "ثمرات القدس" اور شہزادہ داراشکوہ نے "سفینۃ الأولیاء" میں ان کے سنِ وفات ۴۵۶ھ اور ۴۶۴ھ رقم کیے ہیں۔ عہدِ جہانگیر کے عالم و عارف مولانا جامی لاہوری (مدفون بجوار حضرت طاہر بندگی رحمہ اللہ علیہ) نے اپنے قطعہ تاریخ میں ۴۶۵ھ نظم کیا ہے۔ میر غلام علی آزاد بلگرامی نے "مآثر الکرام" میں، گنیش داس وڈیرہ نے "چار باغِ پنجاب" میں، سامی بیگ نے "قاموس الاعلام" میں ۴۶۵ھ ہی لکھا ہے اور دیگر متعدد مؤلفین نے بھی یہی سن نقل کیا ہے۔ نکلسن نے ۴۶۵ھ تا ۴۶۹ھ کا کوئی سا سال کہا ہے۔ ڈاکٹر قاسم غنی نے "تاریخِ تصوف در اسلام" جلد دوم...
۱۔ چار باغِ پنجاب طبع امرتسر ص: ۲۷۹
۲۔ تحقیقاتِ چشتی طبع لاہور ۱۳۲۴ھ ص: ۱۴۷
۳۔ سفینۃ الأولیاء ، فارسی طبع کانپور، ص: ۱۶۴
صفحہ۶۲
...میں در حدود ۴۷۰ھ تجویز کیا ہے۔
مگر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع اور عبد الحی حبیبی قندھاری (کامل) ان سب سے آگے نکل گئے ہیں۔ مولوی صاحب نے ۴۷۹ھ (۱) اور حبیبی صاحب نے ۵۰۰ھ تک کا تعین کیا ہے۔ ان فاضلوں نے کشف المحجوب کے چند ایک مختلف ایڈیشن سامنے رکھ کر اس قسم کی داخلی شہادتیں فراہم کی ہیں کہ داتا صاحب نے فلاں فلاں بزرگ کے نام کے ساتھ رحمہ اللہ یا رضی اللہ عنہ لکھا ہے اور فلاں کا ذکر بہ صیغۂ ماضی کیا ہے۔ لہذا یہ کتاب بقول مولوی محمد شفیع ۴۷۹ھ اور بقول حبیبی ۴۸۱ھ کے بعد تک لکھی جا رہی تھی۔ حبیبی صاحب نے اپنی طویل بحث کا لبِ لباب ان الفاظ میں پیش کیا ہے :
"لازمی طور پر ۴۸۱ھ اور ۵۰۰ھ کے درمیان وفات پائی ہوگی۔" (۲)
مفصل بحث کا یہ مقام نہیں، مختصر یہ کہ بیشتر مقامات پر رحمہ اللہ اور رضی اللہ عنہ کاتبوں کے خود ساختہ اضافے ہیں اور اس طرح "ہست" کو "بود" بھی بنایا ہوا ہے۔ ایسی تحقیق کی بنیاد پر مصنف کا اپنا مکتوبہ نسخہ ہونا چاہیے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو قدیم ترین متعدد خطی نسخے پیشِ نظر ہونے چاہئیں۔ کاتبوں کی کمی بیشی تحقیق کا مدار نہیں بن سکتی۔ اس جدید تحقیق کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔ فاضل حبیبی نے کشف المحجوب نسخہ سمرقند سے ذیل کا اقتباس پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کتاب زیرِ تسوید تھی کہ حضرت امام قشیری قدس سرہ ۴۶۵ھ میں وفات پا گئے تھے:
"أُستاد إمام زين الإسلام أبو القاسم عبد الكريم بن ہوازن القشيري رضی الله عنه اندر زمانَۂ خود بديع بود و قدرش رفيع و منزلتش بزرگ۔" (۳)
مگر یہی عبارت ژوکوفسکی ایڈیشن میں اس طرح ہے:
"أُستاد و إمام زين الإسلام عبد الكريم أبو القاسم بن ہوازن القشيری اندر زمانَۂ خود بديع است و قدرش رفيع است و منزلت بزرگ" (۴)
پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں کشف المحجوب کا ایک خطی نسخہ مکتوبہ ۱۰۸۰ھ موجود...
۱۔ مقالاتِ دینی و علمی از ڈاکٹر مولوی محمد شفیع ، حصہ اول، ص: ۲۳۱
۲۔ مقالاتِ منتخبہ مجلہ دانشکدہ خاور شناسی، دانشگاه پنجاب ، مقالہ : تاریخِ وفات داتا گنج بخش علی ہجویری غزنوی از عبد الحی حبیبی - فاضلِ موصوف کا یہ مقالہ پہلی بار اورینٹل کالج میگزین شمارہ فروری ۱۹۶۰ء میں طبع ہوا تھا۔
۳۔ مقالاتِ منتخبہ ، ص: ۲۶۴
۴۔ کشف المحجوب طبع تہران ، ص: ۲۰۹
صفحہ۶۳
...ہے۔ اس میں بھی :
"اندر زمانَۂ خود بديع است۔" (۱)
تحریر ہے۔۔۔ گویا اس بحث برائے بحث یا تحقیق کی بنیاد محض اختلافِ نسخ اور کاتبوں کے اضافات پر رکھی گئی ہے۔ اگر اس پر اصرار کیا جائے کہ ان بزرگوں کے اسماء کے ساتھ رحمہ اللہ وغیرہ حضرت نے خود ہی لکھا ہے تو پھر ان کے اپنے اسمِ گرامی کے ساتھ شروعِ کتاب ہی میں رضی اللہ عنہ بھی لکھا ہوا ہے۔ اس کے متعلق کیا کہا جائے گا اور اگر انہوں نے اپنے لیے یہ دعائیہ کلمہ خود تحریر کیا ہے تو وہ دوسرے زندہ بزرگوں کے لیے بھی کر سکتے تھے۔۔۔ بہر حال حضرت کا صحیح سنِ وصال کسی معاصر نے نہیں لکھا لہذا ۴۵۶ھ قطعاً غلط ہے۔ ۴۶۵ھ تا ۴۶۹ھ ہی قرینِ صحت سمجھا جا سکتا ہے۔ (۲)
مزارِ پر انوار :
یوں تو جملہ اربابِ یقین کے قلوب حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ کے مزار میں ہیں مگر جہاں وہ محوِ استراحت ہیں ، وہ مقام بوسہ گاہِ عالم ، قبلۂ اہل صفا اور کعبۂ عشاق ہے۔ یہاں عوام کے علاوہ ہر وقت اولیائے ظاہرین و مستورین کا ہجوم رہتا ہے۔ پاکستان بھر میں یہ وہ متبرک و مقدس مقام ہے جہاں جملہ مقاماتِ مقدسہ سے زیادہ قرآن خوانی ہوتی ہے۔ جہاں سب سے زیادہ ذکرِ خدا اور ذکرِ محبوبِ خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوتا ہے اور یہ تبلیغِ اسلام اور روحانیت کا سب سے بڑا مرکز ہے ، جہاں ہر وقت حاجت مند زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے اور داتا (سخی) کے دریائے فیض کو دیکھ کر بے اختیار ان کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے:
گنج بخشِ فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیرِ کامل کاملاں را رہنما
حضرت کا مزارِ فائض الانوار زمانۂ قدیم سے مرجعِ خواص و عوام چلا آرہا ہے۔ بڑے بڑے عارفین اور سرخیلِ اولیاء یہاں سے فیض یاب ہوئے اور اس خانقاہ کی دھول کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنانا عینِ سعادت سمجھتے رہے۔ مولانا جامی لاہوری لکھتے ہیں : (۳)
۱۔ تفصیلی فہرست مخطوطاتِ فارسیہ، پنجاب پبلک لائبریری، مرتبہ منظور احسن عباسی ۱۹۶۳ء، نمبر ۲ ، ۲۹۷ ص: ۱۵۷
۲۔ عبد الحی حبیبی نے اس بحث کا اعادہ مقدمہ طبقات الصوفیہ میں بھی کیا ہے۔ اوّل اوّل میں نے ان کی یہ تحقیق اس میں دیکھی تھی اور میں ان کی ثقاہت کے پیشِ نظر اس کا قائل ہو گیا تھا اور مقدمہ مکتوباتِ امام ربانی لکھتے وقت ان کا اتباع کیا تھا مگر اب کشف المحجوب کے متعدد نسخے دیکھنے سے اس جدید تحقیق سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔
۳۔ مقدمہ کشف المحجوب از ڈاکٹر مولوی محمد شفیع ص: ۸
صفحہ۶۴
خانقاہِ علی ہجویری است خاک جاروب از درش بردار
طوطیاں کن بدیدہ حق بیں تا شوی واقف در اسرار
چون کہ سردارِ ملکِ معنی بود سالِ وصلش برآید از "سردار"
۴۶۵
میر عبد العزيز زنجانی جو غالباً شاہ جہاں کے زمانہ کا شاعر ہے، نے عرفی کے مشہور قصیدے کے جواب میں لاہور پر ایک قصیدہ لکھا ، اس میں حضرت داتا صاحب کے روضۂ انور و اظہر پر جو زائرین کا ہجوم رہتا ہے، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:
مزارِ در نثارِ شاہِ ہجویری ندیدستی
کہ محل آسا بہ پیرامونش جوشِ انس و جاں بینی
گدائے درگہش از منزلت شاہِ جہان یابی
غلامِ خادمش از رتبہ مخدومِ جہان بینی (۱)
داراشکوہ لکھتا ہے :
"ہر جمعرات کو خلقت اندوہ در اندوہ روضۂ منورہ کی زیارت سے مشرف ہوتی ہے اور مشہور ہے کہ جو کوئی چالیس جمعراتیں یا چالیس دن متواتر ان کے روضہ شریفہ کا طواف کرے ، اس کی ہر حاجت پوری ہو جاتی ہے۔ فقیر (داراشکوہ) نے بھی ان کے روضہ منورہ کی زیارت کی ہے۔" (۲)
مفتی علی الدین رقم طراز ہیں :
"ہر شبِ جمعہ و روزِ جمعہ ہزارہا مردم برائے زیارتِ ایشاں معِ نذورات میروند، مراداتِ دلی را مستدعی می شوند۔" (۳)
داراشکوہ مزار شریف کے محلِ وقوع کے بارے میں لکھتا ہے :
"قبر در میانِ شہرِ لاہور مغربیِ قلعہ واقع شدہ۔"
یعنی ان کی قبر لاہور شہر میں قلعہ سے مغرب کی جانب واقع ہے۔ (۴)
اس جملے کا محمد وارث کامل نے یوں ترجمہ کیا ہے:
"مزارِ مبارک لاہور کے مغربی قلعہ میں واقع ہے۔" (۵)
۱۔ مقدمہ کشف المحجوب از ڈاکٹر مولوی محمد شفیع ، ص ۸
۲۔ سفینۃ الأولیاء طبع کانپور ، ص : ۱۶۵
۳۔ عبرت نامہ طبع لاہور، مجلد دوم، ص: ۶۴
۴۔ سفینۃ الأولیاء طبع کانپور ، ص: ۱۶۵ (اردو ترجمہ از وارث کامل طبع لاہور ، ص: ۱۹۸)
۵۔ ایضاً
I will now generate the .txt file containing the complete transcribed text.
Kashf ul Mahjoob Extracted Text
Export
۶۵
لاہور کا نقشہ تبدیل ہو جانے کے سبب دارا شکوہ کی یہ تحریر مبہم ہو گئی ہے۔ پھر ترجمہ کرنے والے نے غلطی کھائی تو آج سے قریباً پندرہ سال قبل لاہور کے ایک ایسے مولوی صاحب نے جو صوفیاء کے مزارات پر حاضری بدعت و شرک سمجھتے تھے ، یہ اعلان داغ دیا کہ یہ مزار داتا صاحب کا نہیں ، اُن کا مزار تو قلعہ لاہور میں ہے ۔ اس وقت مولوی موصوف کے اس بیان کے خلاف متعدد مضامین شائع ہوئے تھے۔۔۔۔ داراشکوہ کی اس تحریر کے ابہام کو ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے اس طرح حل کیا ہے :
دارا شکوہ نے یہ کہا ہے کہ قبر شہر لاہور کے درمیان، قلعہ کے مغرب میں واقع ہے۔
یہ کچھ عجیب سا بیان ہے۔ اس لیے کہ قبر شہر کی فصیل کے باہر ہے۔ البتہ شہر کی بیرونی آبادی کے درمیان ہے اور قلعہ کے مغرب کی بجائے جنوب مغرب کہنا زیادہ صحیح تھا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دارا شکوہ کے زمانہ میں قلعہ سے مغرب کو آتے تھے تو بادشاہی مسجد جو کہ اس وقت تھی ہی نہیں، پہلا قابل ذکر مقام راوی کا گھاٹ تھا۔ دریا اس وقت قلعہ کے نیچے سے بہتا تھا۔ اس گھاٹ کو کابل جانے والی سڑک عبور کرتی تھی اور گھاٹ کے بعد داتا صاحب کے مزار والا علاقہ ہی قابل ذکر تھا۔ چنانچہ ایک انگریز سیاح فنچ نامی نے جو ۱۰۱۱ء یعنی جہانگیر بادشاہ کے عہد میں ساڑھے چھ ماہ کے قریب لاہور میں ٹھہرا رہا ، اسی ترتیب سے اس مواضع کا ذکر کیا ہے۔ گو وہ مسجد شکر گنج کہتا ہے بجائے مسجد گنج بخش کے۔ (۱)
حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ ظہیر الدولہ سلطان ابراہیم بن مسعود بن محمود کے عہد حکومت میں واصل الی اللہ ہوئے تھے اور اسی سلطان نے حضرت کا مزار تعمیر کرایا تھا اور یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت کے ساتھ جو دو قبریں ہیں وہ شیخ احمد حمادی سرمستی اور شیخ ابو سعید ہجویری کی ہیں۔ (۲)
واللہ اعلم بالصواب۔
۱- مقدمہ کشف المحجوب از ڈاکٹر مولوی محمد شفیع ص: ۶۵
۲- تحقیقات چشتی ، ص: ۶ ، ۱۴۵
حضرت علامہ مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادری خلفِ اکبر حضرت مولانا دیدار علی شاہ الوری (رحمۃ اللہ علیہ) علوم و فنون کے ماہر اور بے مثل خطیب اور قاری تھے۔ تحریکِ پاکستان اور دستورِ اسلامی کے نفاذ کے سلسلے میں ان کی مساعی ناقابلِ فراموش ہیں۔ جہادِ کشمیر میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ متعدد تصانیف و تالیفات کی ہیں۔ مولانا علیہ الرحمہ کی خدماتِ جلیلہ اس امر کی تقاضا کرتی ہیں کہ ان پر ضخیم کتاب شائع کی جائے نہ کہ ہم ان کے صاحبزادے کریم سے سید نبیل احمد قادری کی صرف ایک روایت نقل کرنے پر اکتفا کریں۔
سید نبیل احمد صاحب فرماتے ہیں:
"حضرت مولانا ابو الحسنات علیہ الرحمہ نے 'کشف المحجوب' کا جو ترجمہ کیا جس کا تاریخی نام 'کلام المحجوب' ہے، مکمل کیا تو اسی رات حضرت داتا گنج بخش رضی اللہ عنہ کی مکمل زیارت ہوئی۔ وہ اس طرح کہ حضرت داتا علیہ الرحمہ ایک بلند مقام پر جلوہ افروز ہیں اور چاروں طرف بہت زیادہ روشنی ہے۔ لوگوں کی قطاریں بنی ہوئی ہیں۔ حضرت داتا صاحب تقسیم فرمارہے ہیں اور لوگ لے کر ایک طرف ہوتے جا رہے ہیں۔ ان میں علامہ قطار میں ابو الحسنات بھی شامل ہیں۔ جس وقت وہ داتا صاحب کے سامنے ہوئے تو حضرت نے مسکرا کر دیکھا اور ہاتھ پکڑ کر اپنے دائیں طرف بٹھا لیا۔ اس کے بعد علامہ ابو الحسنات بیدار ہو گئے۔"
علامہ ابو الحسنات علیہ الرحمہ نے یہ خواب اپنے صاحبزادے سید نبیل احمد قادری کو سنایا اور اس انعام پر چند سال بعد تک مسرور رہے۔ بعد میں علیل ہو گئے اور بیماری نے طول کھینچا اور مرض شدّت اختیار کرتا چلا گیا۔ انتقال سے آدھ گھنٹہ قبل نزع کے آخری حصے میں سید نبیل احمد صاحب کو آواز دی اور جب وہ حاضر ہوئے تو فرمایا: "میرے گھٹنے دباؤ" اور دعا کے الفاظ کے بعد فرمایا: "مولانا غلام محمد ترنم علیہ الرحمہ آج میانی صاحب کے قبرستان کے کسی کونے میں لیٹے ہوئے ہیں، عنقریب ہم بھی ان کے ساتھ ایک کونے میں لیٹے ہوں گے۔" پھر فرمایا:
"ابو الحسنات! ابو الحسنات! کیا ابو الحسنات؟۔۔۔ یہ سب کوئی باتیں ہیں؟۔۔۔ اللہ! خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو حضرت داتا صاحب کے جوار میں آسودہ ہیں۔"
۶۷
۲ شعبان ۱۳۸۰ھ بروز جمعہ صبح کے وقت اپنے وظائف سے فارغ ہوئے اور یہ شعر زبان پر لائے:
حافظ رند زنده باش مرگ کجا و تو کجا
تو شده فنائے حمد ، حمد بود بقائے تو
اس کے بعد یہ شعر کہا:
کائنات عشق بس اتنی مریضِ غم کی تھی
ایک ہچکی میں طلسم آرزو باطل ہوا
اس کے بعد حزب البحر کا ورد شروع کر دیا اور سید خلیل احمد صاحب کو فرمایا کہ مجھے خوشبو لگا دو اور نئے کپڑے پہنا دو۔ جناب خلیل احمد صاحب نے عرض کیا ، کیا بات ہے؟ فرمایا جمعہ پڑھنے جانا ہے اور پھر ذکر میں مشغول ہو گئے اور اسی حال میں ایک ہچکی آئی اور اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ !
سید خلیل احمد صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت کی خواہش کے مطابق میں نے متعلقہ حکام سے رابطہ قائم کیا تو بہ تصرف داتا صاحب قدس سرہ بلا دقت حضرت داتا صاحب کے احاطہ مزار میں مولانا کو دفن کرنے کی اجازت مل گئی۔
مولانا کی وفاتِ حسرت آیات پر راقم السطور نے چند تاریخی مادے نکالے ہیں ان میں سے دو:
(۱) مشہورِ زمان مفسرِ قرآن ۱۳۸۰ھ
(۲) جلیل المراتب سید ابو الحسنات ۱۳۸۰ھ
ان کی مرقد منور پر کنندہ ہیں "لقد دخل الجنة مولانا" بھی ان کی تاریخ راقم ہی نے کہی تھی (۱۳۸۰ھ)۔
حضرت علامہ ابو الحسنات رحمۃ اللہ علیہ کا یہ ترجمہ جس طرح حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی خوشنودی کا باعث ہوا اسی طرح عاصم عاصی پُر معاصی کی بھی یہ نذرِ عقیدت (دیباچہ) ان کے حضور مقبول ہو اور ان کے غلاموں کے غلاموں کے ساتھ محشور ہونا نصیب ہو۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔
محمد موسٰی عفی عنہ
لاہور: ۲۱ صفر المظفر ۱۳۹۳ھ
۶۹
قطعہ تاریخ طباعت
نتیجہ فکر سید شریف احمد شرافت قادری نوشاہی مدظلہ
بحمد لله كتاب كشف محجوب
کہ رشد و معرفت زاں ہست مطلوب
ز تصنيف مُقدّس قطب عالم
کہ نامش گنج بخش پاک محبوب
بتوحيد و تصوف لوح عرفان
برائے سالکاں فیضے ست موہوب
مترجم شد دریں اُردو زبانی
زبو الحسنات احمد گشت مکتوب
چو افشائے رموزش شد بعالم
ہمہ اعدائے دیں گشتند مغلوب
باحوالش حكيم نيك موسى
بتحقيق وتفکر ہست محسوب
شرافت جست از سال طباعت
شدہ مسموع " باب علم مرغوب "
۵۱۳۹۳
فقیہِ عصر حضرت مفتی اعجاز ولی خان رضوی نے تاریخ طباعت کے حسبِ ذیل مادے نکالے ہیں:
"تمام حمد اس ذاتِ واجب الوجود کو ہیں جس نے اپنے مقربینِ خاص پر عالمِ ملکوتی کے امور کشف فرمائے اور اپنی صاف باطن ہستیوں پر عالمِ جبروتی کے راز کھولے اور اپنی شمشیرِ جلالی و بے نیازی کا محبوبوں سے اپنے خون کے بہائے اور عارفانِ کامل کو اپنے شمسِ تقرب کا ذرا چھایا۔ وہی ذاتِ مقدس مردہ دلوں کو اپنے صمدیت اور کبریائی کے نور سے زندہ فرمانے والی ہے اور وہی ان زندوں کو اپنے عرفان کی راحت و روحانیتِ ابدی عطا فرمانے والی اور اپنے اسماءِ ذاتی کے اثرات ان پر فرمانے اور رکھنے والی ہے۔
اور صلوۃ ہے بے حد اور سلام بے نہایت اس کے نواسہ رسول پر جس کا نام نامی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور ان کی آلِ پاک اور اولادِ اطہار پر، آپ کے اصحابِ کبار پر اور ازواجِ مطہرات پر۔۔۔ آمین!"
۷۰
حضرت علی بن عثمان بن علی الجلابی غزنویؒ فرماتے ہیں جو محلہ ہجویر غزنی کے رہنے والے ہیں کہ میں نے استخارہ کیا اور اغراضِ نفسانیہ کو دے نکالا اور اپنی دلی آرزو کے مطابق ثابت قدم ہو کر اس کتاب کو لکھنا شروع کیا۔ اللہ تعالیٰ سب کی مرادیں پوری فرمائے اور اس کتاب کا نام میں نے اس لیے کشف المحجوب (۴۵۹ھ) رکھا کہ پڑھنے والا مقصود کو نام سے سمجھ لے اور سائل کا جو مقصود ہوتا ہے، مجھے معلوم ہے اس کے ذریعہ اس کی مراد پوری ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا ہوں اور تکمیل کتاب کی توفیق چاہتا ہوں۔ مجھے اپنے ارادہ و قوت پر بھروسہ نہیں اور اس خیالِ خام سے میں اظہارِ برات کرتا ہوں۔
فصل :
ابتداءِ کتاب میں جو میں نے اپنا نام لکھا ، اس سے دو باتیں مطلوب ہیں: ایک خواص کے لیے، دوسری عوام کے لیے۔ عوام کے لیے تو یہ کہ جب جاہل بے علم کوئی نئی کتاب دیکھتا ہے اور اس پر مصنف کے نام کا پتہ نہیں ملتا، وہ اس کتاب کو اپنے نام پر شائع کر لیتا ہے اور اس رویہ سے مصنف کا جو مقصد ہوتا ہے وہ ضائع ہو جاتا ہے اور مصنف جو کتاب تالیف و تصنیف کرتا ہے، اس سے اس کا پہلا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس تصنیف کے ذریعہ اس کا نام زندہ رہے اور اس کتاب کے پڑھنے والے مصنف کو دعائے خیر سے یاد کرتے رہیں۔ مجھے یہ تلخ تجربہ دو بار ہوا۔ ایک بار کسی نے میرے اشعار کا دیوان عاریتہً لیا اور چونکہ صرف وہی ایک نسخہ میرے پاس تھا، اس نے میرے تمام دیوان میں میرے نام کی جگہ اپنا تخلص لگا کر شائع کر دیا اور میری تمام محنت ضائع کر دی ۔ اللہ تعالیٰ اس کی خطا کو معاف فرمائے ۔ دوسری بار ایسا اتفاق ہوا کہ میں نے ایک کتاب فنِ تصوف میں تالیف کر کے اس کا نام منہاج الدین رکھا۔ ایک متصوف نے اسے لے کر اپنے نام پر شائع کر دیا ۔ خدا کرے وہ گمنام ہو۔ اس نے عوام میں اس کتاب کو اپنی تالیف ظاہر کر کے شائع کیا ، حالانکہ جاننے والے اس کی اس حرکت پر استہزاء کرتے تھے۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حرکتِ ناموزوں کی وجہ سے برکت سلب فرمائی اور اپنی بارگاہ کے طالبوں میں سے اس کا نام محو فرما دیا۔
دوسری وجہ ابتداء میں نام لکھنے کی خواص کے لیے ہے، وہ یہ کہ جب وہ کسی کتاب کو دیکھتے ہیں تو پہلے مؤلف کا نام معلوم کرتے ہیں ، تاکہ اگر مؤلف کو وہ محقق اور عالمِ فن جانیں تو اس کے احترام میں خاص رعایت کرتے ہیں اور اس کے مطالعہ اور اشاعت میں کوشاں ہوتے ہیں۔
اس حقیقت کے اظہار سے مؤلف کی مراد واضح ہو گئی ہے۔ وَاللَّهُ تَعَالَى اَعْلَمُ.
۷۱
فصل:
میں نے جو لکھا ہے کہ میں نے استخارہ کیا ، اس سے میری مراد بھی رب العزت تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ کا ادب ملحوظ رکھنا ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے متبعین کو حکم فرمایا ہے: ﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيْمِ﴾ (۱) "اے محبوب! جب آپ قرآن پڑھنا چاہیں تو اول شیطان مردود سے اللہ کے ساتھ پناہ لیں۔" چنانچہ استعاذہ اور استخارہ اور استعانت سب کے معنی پناہ مانگنے اور اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ جل شانہ سے مدد لینے کے ہیں ۔ جس سے انسان ہر قسم کے فتنوں سے مامون ہو جاتا ہے۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور شافعِ یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کاموں میں قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق استخارہ تعلیم فرمایا کرتے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ تمام امور کی بہتری، کوشش اور تدبیر پر موقوف نہیں بلکہ ہر بلندی کی بھلائی و برائی خدائے قدوس جانتا ہے اور جو تکلیف و راحت بندے کو پہنچتی ہے وہ پہلے سے اس کی قسمت میں مقدر ہوتی ہے۔
اندریں صورت ہر بندے کو اپنا معاملہ قضاء و قدر کے سپرد کرنے اور اس کی تکمیل کے لیے موثرِ حقیقی سے مدد مانگنے کے سوا چارہ ہی نہیں ہے۔ لہذا ایسا ہی کرنا بہتر ہے تا کہ رب العزت تعالیٰ شانہ اس سے اس کے نفس کے بُرے اثرات دور فرمائے اور اس کام کی بہتریوں سے اسے متمتع کرے ۔ بنا بریں ہر مسلمان کو چاہیے کہ ہر کام کے لیے پہلے استخارہ کرے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے خطا و خلل اور ہر قسم کی آفتوں سے محفوظ رکھے۔
فصل:
میں نے جو یہ کہا کہ نفسانی اغراض سے دل کو پاک کر کے یہ کام شروع کیا ہے۔ اس کے اظہار سے غرض یہ ہے کہ جس کام میں غرضِ نفسانی آ جاتی ہے اس سے برکت اٹھ جاتی ہے اور دل راستی و دیانت کے راستہ سے نکل کر کسی کی زنجیروں میں پھنس جاتا ہے اور یہ صورت دو حال سے خالی نہیں ۔ یا تو نفس کی غرض پوری ہوگی یا نہ ہوگی ، اور نفسانی غرض پوری ہوئی تو اس میں تمام ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔ اس لیے کہ جہنم کے دروازہ کی کنجی مرادِ نفس کا حصول ہے اور اگر غرضِ نفس پوری نہ ہوئی تو ظاہر ہے کہ اس غرضِ بد کو پہلے ہی دل سے دور کیا ہوتا، اس لیے کہ نجات اسی میں...
۷۲
...ہے اور دروازۂ جنت اغراضِ نفسانی سے بند رہنا ہے۔ حضرت پروردگارِ تعالیٰ شانہ نے فرمایا:
"جس نے روکا اپنے نفس کو خواہشِ نفسانی سے، اس کا ٹھکانا جنت ہے۔"
اور ہمارے کاموں میں نفسانی اغراض نہ ہوں کہ:
انسان جو کام کرے اس کا بدلہ رضائے الٰہی اور عذابِ الٰہی سے نجات کے سوا کچھ اور نہ مانگے اور اقسام کے مکر اور تدبیروں کے حیلے جو وہ ڈالتا ہے ان پر انسان تعجب کر سکتا ہے۔ اگر خدا نے چاہا تو اس کتاب میں طہارت کے معرکہ کے باب میں اپنے اپنے مقام پر ایک باب مستقل آ جائے گا۔
ان شاء اللہ!
اور جو میں نے لکھا ہے کہ پختہ ارادہ کر کے دلی آرزو کے مطابق ثابت قدم ہو کر اس کتاب کو لکھنا شروع کیا ۔ اس سے یہ مطلب ہے کہ سائل نے مجھے تابِ سوال سمجھ کر مجھ سے دل کی بات اور تالیفِ کتاب کی آرزو زبانِ حال سے کی جس کی مراد کا پورا ہونا اس کی بہتری میں تھا، بنا بریں سوالِ سائل کا جواب دینا مجھ پر لازم تھا۔ تو جب سوالِ سائل کے تمام حقوق ادا کرنے مجھ پر لازم ہوئے تو میں نے عزم بالجازم کیا تاکہ میں اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤں، الا یہ کہ انسان کے لیے نیت کا ملنا ممکن ہے اور اس کے پورا کرنے کی قدرت نہ ہونا ممکن ہے۔ پس اگر اس کے اتمام میں خلل واقع ہو جائے تو وہ اس سے معذور ہے۔ جیسا کہ حضور شافعِ یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ" (۲)
"مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔"
۱- سورة النازعات: ۴۰، ۴۱
۲- اسے امام عسکری اور امام طبرانی نے بطریق نواس بن سمعان روایت کیا ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: "نية المؤمن خير من عمله، ونية الفاجر شر من عمله"۔ (بقیہ حواشی)
۷۳
جس کا مفہوم یہ ہے کہ کام شروع کرنے کی ابتداء میں نیت کرنا اس کام کے شروع کرنے سے بہتر ہے اور تمام معاملات میں نیت کو عمل میں بڑا دخل ہے اور اس پر یہ بدیہی دلیل ہے کہ انسان نیت کے ساتھ ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں آجاتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ ظاہر میں عمل ہو یا نہ ہو۔
مثلاً ایک شخص روزہ رکھنے کی نیت کے بغیر بھوکا رہے تو اس کو کچھ ثواب نہیں اور جب روزہ کی نیت سے بھوکا رہے تو اس بھوکے رہنے میں اسے اتنا ثواب ہوتا ہے کہ مقربینِ بارگاہ کی جماعت میں داخل ہو جاتا ہے۔ باوجودیکہ روزہ دار رہنے سے ظاہر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
(بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ سے)
"نية المؤمن خير من عمله، وعمل المنافق خير من نيته وكل يعمل على نيته فاذا عمل المؤمن عملاً ثار من قلبه نور"۔ امام ہیثمی کہتے ہیں: اس کے تمام راوی سوائے حاتم بن عباد بن دینار کے ثقہ ہیں۔ کسی نے بھی اس کا ذکر نہیں کیا اور حافظ عراقی نے اپنے طریق سے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
امام مناوی نے اسے "اسعاف الطلاب" میں ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے "نية المرء خير من عمله ونية الكافر شر من عمله" اور اسے امام طبرانی کی طرف سہل بن سعد کی روایت کے ساتھ منسوب کیا ہے۔ اس کے علاوہ ابن حبان ، امام بیہقی نے شعب الایمان، امام مسلم ، امام نسائی ، اور امام ابن ماجہ نے بطریق نواس بن سمعان اسے روایت کیا ہے۔
امام مناوی اسے الجامع الأزهر بطريق سہل بن سعد ساعدی بلفظ طبرانی لاتے ہیں اور اسے امام طبرانی کی طرف منسوب کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں، سوائے حاتم بن عباد بن دینار حارثی کے۔ میں نے اس کا ذکر کسی سے نہیں سنا۔
امام سیوطی اسے الجامع الصغیر میں بطریق سہل بن سعد لائے ہیں اور امام طبرانی کی طرف منسوب کیا ہے اسی طرح ثابت بنانی اسے ان الفاظ کے ساتھ لائے ہیں: "نية المؤمن أبلغ من عمله" اور اسے حکیم ترمذی اور امام عسکری کی "جمهرة الامثال" کی طرف منسوب کیا ہے اور ابو موسیٰ الاشعری سے بھی روایت کیا ہے جن کے الفاظ یہ ہیں "نية المؤمن خير من عمله وأن الله عز وجل ليعطى العبد على نيته مالا يعطيه على عمله" اور اس کو امام دیلمی کی طرف منسوب کیا ہے اور نواس بن سمعان سے مروی روایت کے الفاظ جسے "الأمثال للعسکری" کی طرف منسوب کیا ہے، یہ ہیں: "نية المؤمن خير من عمله ونية الفاجر شر من عمله"۔
حوالہ کے لیے ملاحظہ کیجئے: کشف الخفاء (حدیث : ۲۸۳۷)، المقاصد الحسنة (حدیث : ۱۲۲۰)، حلية الأولياء ۲۵۵/۳ ، تاريخ بغداد ۲۳۷/۹ ، تميز الطيب من الخبيث (۱۲۵۲)، الغماز على اللماز للسمهودى (حدیث : ۱۲۱۹)، الجامع الأزهر للمناوى ۲۱/۳ ، الجامع الكبير / ۸۵۸ ، فيض القدير للمناوى ، الدرر المنتشرة للسيوطي (۴۲۲)، الفوائد المجموعة للشوكاني (ص: ۲۵۰)۔
۷۴
علاوہ ازیں دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ جب کوئی مسافر کسی غیر شہر میں جا کر رہے تو جب تک وہاں قیامِ شرعی کی نیت نہ کرے (جو پندرہ یوم سے زائد ہے) مقیم نہیں ہو سکتا ، مسافر ہی رہے گا اور قیامِ شرعی کی نیت کرنے سے (جو پندرہ یوم سے زائد ہو) مقیم ہو جاتا ہے ۔ اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں۔
تو حاصلِ مقصود یہ ہوا کہ کام کی ابتداء میں نیک نیت کرنا ، اس کام کا حق ادا کرنے کے مترادف ہے۔ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ !
فصل:
اور جو ہم نے لکھا ہے اس کتاب کا نام ہم نے ”کشف المحجوب“ (۴۵۹ھ) رکھا، اس سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ کتاب میں ہے، اس کی ترجمانی اس کتاب کا نام ظاہر کر دے۔ جس کی چشمِ باطن کھلی ہو وہ جب کتاب کا نام سنتا ہے تو جان لیتا ہے کہ اس میں کیا کیا مضامین درج ہیں ۔
اور واضح رہے کہ مقربینِ بارگاہ کے سوا عوام حقیقت آشنائی سے محجوب ہیں اور محض بے خبر ۔ چونکہ یہ کتاب یہاں راہِ حق میں ہے اور کلماتِ تحقیق کی شرح اور کشفِ حجابِ شریعت کے موجب ہیں ، اس لیے اس کتاب کا نام اس کے سوا اور کوئی موزوں نہ تھا ۔ اور در حقیقت کشف، محجوب کے لیے ہلاکت ہے ، جیسے کشف میں حجاب یعنی جس طرح قرب متحملِ بعد نہیں ہوتا اس طرح بعد متحملِ قرب نہیں یا یوں سمجھنا چاہئے: جو کیڑا سرکہ میں پیدا ہوتا ہے وہ جس چیز میں پڑے گا مر جائے گا اور جو کیڑا دوسری چیزوں میں پیدا ہوا ہو وہ اگر سرکہ میں ڈالا جائے تو مر جائے گا۔
اسی طرح معانی اور تحقیقِ حقیقت کا راستہ اختیار کرنا اس کا کام ہے جو اس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے، بخلاف اس کے جو اس کام سے نابلد ہے۔ اگر وہ اس کام میں ڈالا جائے تو اسے اس کا پورا کرنا دشوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ (۱)
۱- اسے امام مسلم نے اپنی صحیح ۸/ ۴۸ (باب: کل عامل میسر لعملہ) میں مصعب بن سعد کے طریق سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اعملوا فكل ميسر لما خلق له"
امام سیوطی اسے الجامع الصغیر ۹۳/۲ میں، امام غزالی نے احیاء العلوم ۲۴۴/۴ میں، امام قضاعی مسند الشهاب ۳۹۳/۳ - (۴۴۱) میں لائے ہیں۔ ابن ابی عاصم نے السنہ (۱۷۳) میں اس کے مفہوم میں ابو حنیفہ کے طریق سے روایت کیا ہے، اگرچہ اس روایت میں نقاد محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے، لیکن یہ اپنی بکثرت شاہد روایات کے باعث صحیح ہے۔
صفحہ ۶۵ تا ۷۴ اس نقل میں موجود نہیں۔
صفحہ۷۵
یعنی جو انسان جس کام کے لیے بنایا گیا ہے ، اسے وہی کام آسان ہے۔ اور اس پر اس کام کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔
لیکن حجاب دو قسم کا ہوتا ہے: ایک حجاب رینی۔ یہ وہ حجاب ہے جس سے ہم اللہ کے ساتھ پناہ مانگتے ہیں ۔ اس لیے کہ یہ حجاب جس پر آیا پھر دُور نہیں ہوتا ۔ دوسرا حجاب غینی ہے، یہ جلد رفع ہو جاتا ہے۔ اس کی تصریح یوں ہے کہ ایک انسان وہ ہے کہ اس کی ذات تصدیق حق کے لیے جب حجاب ہو جاتی ہے تو اس کے نزدیک حق و باطل برابر ہو جاتا ہے۔ اور ایک انسان وہ ہوتا ہے جس کی ذات تصدیق حق کے لیے حجاب تو ہوتی ہے مگر اس کی جبلت طالب حق رہتی ہے اور باطل پرستی سے اجتناب کرتی ہے۔ تو وہ حجاب جو رہتی ہے کبھی اٹھتا ہی نہیں اور رین، ختم ، طبع ، مترادف المعنى ہیں—
"بے شک جو لوگ کافر قطعی ہیں برابر ہے اے محبوب ! خواہ انہیں خوف دلایا نہ دلاؤ ، ہرگز ایمان نہ لائیں گے"۔
خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ (3)
"اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے"۔
(بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ سے)
ایک اور حدیث جو ابو حمید الساعدی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"أجملوا في طلب الدنيا ، فإن كلا ميسر لما خلق له منها"
اسے ابن ماجہ نے اپنی سنن (2142) میں ، ابن ابی عاصم نے السنہ (418) میں ابن عیاش کے طریق سے روایت کیا ہے اور ابن عیاش اس میں ضعیف ہے کیونکہ وہ غیر شامیوں سے بھی روایت کرتا ہے لیکن امام حاکم نے المستدرک 3/2 میں، امام بیہقی نے السنن الکبری 264/5 میں ایک اور سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام حاکم نے کہا ہے کہ یہ صرف امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے ، اس کی سند میں عبد الملک بن سعید الانصاری ہے جس سے امام بخاری نے کوئی چیز روایت نہیں کی اور ابو نعیم الاصفہانی نے حلیۃ الاولیاء 265/3 میں ایک اور سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
(حوالہ صفحہ ہذا)
1- سورة المطففين : 14
2- سورة البقرة : 6
3- سورة البقرة : 7
صفحہ۷۶
اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور زنگ و رین کے سبب اور اس صفت کا حجاب جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے لطیف ایک خیال بھی بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ:
وہ سو حجاب ہے... اور خطراتِ نفسانی کا اگر صادر ہونا لازم اور ظاہر ہے کہ ذاتِ مومن پائیدار ہے اور اس میں پختگی بھی ہوتی ہے اور فانی جلد رفع ہو جائے گا، اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ہر ایک کی ذات میں ہے، اسی وجہ سے وہ جلدی رفع ہو جاتا ہے جیسے جلدی انکار ہو جائے ذات میں ظلمت و تاریکی سے اور جس کی ذات میں جلالی صفت دیکھنے سے جلا پا جائے گا میں بغار میں غینی سے زائل ہوگا اور شیش اور جلا...
کتاب اس لیے تالیف کا ذمہ لیا ہے کہ اس کے ذریعے حجاب کشف ہو جائے۔ پڑھنے سے ان میں حجاب ہیں حقیقت اور ہدایت کا نور قرآن میں موجود ہے۔ تالیفِ کتاب کہ اس کے سبب حجاب کھل جائے اور حقیقت کا راستہ مل جائے اور اربابِ فہم اور اتفاقِ کلی رکھنے والے ہیں وہ شاہراہِ ہدایت و حقیقت کی راہ نہیں پاتے۔ انہیں اس کتاب سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى نِعْمَتِهِ.
اور یہ جو میں نے لکھا ہے کہ مقصودِ سائل میں معلوم ہوگی اور سائل کی جو غرض و ہدایت ہے وہ اس کتاب میں مفصل مذکور ہے۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ جب تک مسؤل مقصودِ سائل نہ بنے اور سوال کا پورا جواب نہ دیا جائے تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
اور سائل عموماً مسؤل سے امورِ مشتبہ کا حل چاہتے ہیں۔ پھر جب مقصودِ سائل نہ سمجھا جائے اور ویسے ہی جواب دیا جائے تو اس سے مقصودِ سائل حل نہیں ہوتا اور اس جواب سے کوئی فائدہ بھی نہیں حاصل ہو سکتا۔ اور یہ امر واضح ہے کہ جب تک سوالِ اشکال یا غرضِ مسؤل ظاہر نہ ہو، اس کا حل ممکن نہیں۔
1- سورة النحل : 108
صفحہ۷۷
اور یہ جو ہم نے کہا کہ اس کتاب کے ذریعہ سائل کی مراد پوری ہوگی ، اس سے یہ مطلب ہے کہ جو سوال جامع ہو گا اس کا جواب بھی اس کتاب میں جامع ملے گا بشرطیکہ سائل اپنے سوال کے صغیر و کبیر درجات اور پہلوؤں کا عالم ہو اور اگر مبتدی سائل ہے تو اسے تفصیل کی احتیاج نہیں ۔ اس کے لیے حدود اور درجات کے بیان کی ضرورت ہی نہیں۔
الحاصل، خدا ہر سائل کی غرض نیک کرے۔ میرا مقصد اس کتاب کی تالیف سے یہی ہے کہ سوال سائل کی تفصیل پر ایک کتاب مرتب ہو جائے ۔
فصل:
اور میں نے جو یہ کہا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے اتمام کتاب کی توفیق اور مدد طلب کرتا ہوں، اس سے جو مراد ہے وہ یہ ہے کہ انسان کے لیے سوائے اس معین حقیقی کے ، کوئی ایسا ناصر نہیں جو اعمال صالحہ پر اس کی اعانت کرے اور اس کی تکمیل کی توفیق بخشے ۔
اب یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ توفیق کیا ہے؟
توفیق کہتے ہیں امور خیر میں انسان کے ہر فعل کے اندر فعال حقیقی جل مجدہ کی اعانت۔
اور امور خیر وہ ہیں جن کے نیک ہونے پر کتاب وسنت ناطق ہو اور ان کے استحسان پر اجماع امت پایا جائے اور لفظ "توفیق" کو سوائے جماعت معتزلہ اور گروہ قدر یہ سب اسی معنی میں لائے ہیں۔
بر خلاف معتزلہ و قدریہ کے کہ وہ اس لفظ توفیق کو تمام معانی سے خالی سمجھتے ہیں اور ایک جماعت مشائخ طریقت کے نزدیک توفیق کے معنی یہ ہیں :
"توفیق کیا ہے، یہ کہ انسان بوقت عمل اپنے میں قدرت اطاعت پائے“۔
اس لیے کہ جب بندہ اپنے رب جل مجدہ کی اطاعت کرتا ہے تو وہ اپنے میں منجانب اللہ بہ نسبت سابق بہت زیادہ استعداد پاتا ہے، کیونکہ وقتا فوقتا جو حرکات و سکنات اس سے سرزد ہوتی ہیں وہ منجانب اللہ اس کی پیدائش سے قبل اس کے لیے مقدر ہوتی ہیں تو اس فن کو جس سے انسان مطیع و فرمانبردار حکم الہی ہوتا ہے ، توفیق کہتے ہیں۔
اور اس کتاب میں اس مسئلہ کی تفصیل کے لیے گنجائش نہیں ۔ اس لیے کہ یہ مبحث جدا گانہ ہے۔ بنا بریں میں اپنے بیان کو اصل مطلب کی طرف لے جاتا ہوں اور اصل مدعا پر جانے سے قبل میں اس سوال کو بعینہ بیان کرتا ہوں ۔ حقیقتا کتاب ھذا کا شروع ہی اس سوال سے ہے۔
وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ !
صفحہ۷۸
فرماتے ہیں کہ ابو سعید ہجویر (1) نے بھی پوچھا اور سوال کیا کہ:
"اصولِ طریقت و تصوف کی کیفیت اور ان کے مقامات و مذاہب بیان کر اور واضح کر کہ اربابِ طریقت و تصوف کے رموز و اشارات کیا ہیں اور حق تعالیٰ کی ذات و صفات کے ساتھ ربط و محبت کیوں کر ہوتا ہے اور اس کی کیفیت اور اس کا ادراک کس طرح قلوبِ صوفیاء پر ہوتا ہے اور ان علوم کی ماہیت معلوم ہونے سے تصوف کا حجاب اور اس کی حقیقت آشنائی کس طرح ہوتی ہے تا کہ صوفیاء و صفائے سلوک کے طریقوں کو آراستہ کروں۔"
تو علی بن عثمان جلابی نے کہا: اس کے اس جواب دینے میں اللہ اعانت فرمائے۔
ہوگیا ہے معائن کہ ہمارے اس زمانہ میں علمِ حقیقت و معرفت مہجور اور محروم جیسا ہو گیا ہے اور رضا (2) و استقامت ان علم و عمل کی جگہ جہاں کے عوام خواہشاتِ نفسانی کے پیرو بن گئے ہیں اور راہِ حق سے منحرف!
اور عام طور پر علماءِ صوری نے حقیقت کو اس کی اصلیت کے برخلاف مان کر عوام کی بات بدل دی ہے۔ لہذا آؤ اور کرمت چست کرو: اس لیے کہ اس سوال کی خواص حقیقت تک کے سوا عوام کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا اور عوام اہلِ ارادہ کی عدمِ رسائی ان کے حصول کی امید سے نہیں ہیں!
اور درحقیقت حضرت جل مجدہ تعالیٰ شانہ خواص کے لیے علاوہ خدا مدعیانِ عرفان کی معرفت بے کار ہے۔ اس لیے کہ عوام نے معرفت سے مراد انس اور اس کے لغوی معنی لیے ہیں اور ہر دیوانہ اور نادان اس کے حجاب کے دعویدار ہو گئے ہیں اور ہر ایک کا تعلقاتِ تقدیر کے گرد دائر ہو گیا ہے تا کہ دہشت ان سے دور ہو گئی یا وہ جو کچھ بھی سمجھ گئے کہ بت اس عارف میں ہے اور خواص ان سے اس لیے خوش ہیں کہ ان دِلوں کے میں عرفان کی تمنا چاہتے ہیں اور سوزِ محبت ان میں دیکھتے تصوف ہیں اور مدعیانِ عرفان اپنے اپنے دعوے میں اس قدر گم ہیں کہ حقیقی معانی حاصل کرنے سے عاجز ہیں۔ پیرو و مرید دونوں نے مجاہدہ چھوڑ دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے اور انہوں نے اپنے موہوم خیالات کا نام مشاہدہ رکھ لیا۔ انہوں نے اس فن میں لکھنا چاہا مگر سب ضائع رہا۔
1- ابو سعید ہجویر مشارق و مغارب میں سے ہیں۔
2- رضا اصطلاحِ صوفیاء میں فاعلِ حقیقی کے ہر فعل پر خوش رہنے کو کہتے ہیں۔
صفحہ۷۹
اور مدعیانِ کاذب نے لوگوں کو دامِ تزویر میں پھنسانے کے لیے صوفیاء کے چند الفاظ یاد کر لیے ہیں، مفہوم اور اس کا اثر ضائع کر ڈالا اور قول کے سوا عمل میں کچھ نہیں اور اسے وہ کرامت جانتے ہیں۔
اور ایک گروہ علم حاصل کرنے کو آمادہ ہو کر بیٹھ گیا مگر کچھ حاصل نہ کر سکا۔ دوسرے گروہ نے فن پڑھا مگر اس کے معنی پر عبور حاصل نہ کر سکا اور عبارت یاد کر کے فخر کرتا ہے، پھر کہتے ہیں کہ ہم فنِ تصوف اور علمِ عرفان جانتے ہیں حالانکہ حقیقتِ اسرار سے زائل ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ معانی و حقیقت کا جاننا ایسا ہے جیسے کبریتِ احمر، جسے مل جائے وہ ایک دانگ (ایک چھوٹا حصہ) سے اتنی مقدار بنا سکتا ہے کہ ایک کو سونا بنا دے۔
غرضیکہ ہر شخص وہ دوا چاہتا ہے جو اس کے درد کے لیے نافع ہو اور اسی کے سوا اسے دیگر کی طلب نہیں ہوتی۔ بزرگوں میں سے کسی نے خوب کہا ہے:
فَكُلُّ إِمْرِئٍ فِي قَوْزِهِ وَرُمُوحِهِ
وَيَطْلُبُ شَيْئاً هُوَ فِي لَوْحِهِ
"ہر انسان جس کے دل میں درد ہے اور وہ اسی کا طالب ہے جو اس کے درد کو دور کرے۔"
جس مریض کی بیماری معمولی ہے اسے موتی اور مرجان کی کیوں تلاش ہو کہ وہ اسے قیمتی مروارید پیس کر دواءِ الٰہی میں ڈالے۔
در حقیقت حقیقت آشنائی اس وجہ سے بھی عزیز الوجود ہے کہ ہر کس و ناکس کے حصہ میں یہ دولت نہیں۔ (جس طرح میری تصانیف جامع ہیں...)
تصوف سے جاہل لوگوں نے بزرگانہ سلف کی کتابوں کو لے کر بعض بے باک ان کی تلافی کی، اس کے خزانے کو کلاہ فروشوں اور جلد سازوں کے ہاتھ بیچ کر ضائع کر دیا۔ انہوں نے اسے پھاڑ کر ٹوپیوں کے اوراق، پھاڑ کر استروں کے نیچے اور جلد سازوں کو لگا دیے تھے، ابو الدرداء کے دیوان اور جاحظ کی جلدوں کی طرح ان میں چپکا دیا۔
کیا ہوا ایسے راستے پر اگر کوئی بڑھیا مکان کے اوپر چلی گئی اور اس نے اس کے چھپر پر جھاڑو کا تنکا چھت میں ڈال دیا۔ رب العزت جل مجدہ نے ہمیں بھی ایسے زمانہ میں پیدا فرمایا کہ اہل زمانہ نے ہوا و ہوس کو شریعت اور طلبِ دنیا کو عزت و ریاست، اور مکر کو عزت و علم سمجھ لیا، اور ریاکار و دغل باز انسان کو خوفِ خدا کا پیکر قرار دے دیا، اور حسد و کینہ کو بحث و مباحثہ، اور تفرقہ ڈالنے کا نام مناظرہ دینی رکھ لیا۔ لڑائی جھگڑے کا نام غیرت رکھ لیا، نفاق کے علم کو دین سمجھ لیا اور غنائے فاسق کو ارادت...
صفحہ۸۰
جاری ہونا چاہیے۔ زبان درازی کا نام معرفت رکھ لیا اور کم دل اور بزدل کو قلبِ منیر مان لیا۔ اس طرح کے عالم کو فقیر کہہ دیا۔ جو خطرات دل میں پیدا ہوتے ہیں اس کا نام الہام و حدیثِ نفس رکھ لیا اور اپنی خودی سے کچھ اشعار کہہ ڈالے۔ زندقہ کا نام فناء فی اللہ ہونا رکھ لیا اور ترکِ احکام کا نام حقیقت پیمائی بنالیا۔ والعیاذ باللہ! اور اس آخری زمانہ میں سید صاحب الصلوات والسلام کی شریعت و طریقہ پر بہت کم لوگ قائم رہ گئے ہیں اور اہل سدوک ان دیر و دیروں سے الگ ہو گئے ہیں اور اغیار نے عوام پر بالکل غلبہ پالیا۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی یہ نظیر و دلائل واضح ہیں، بالخصوص حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو حقیقت آشنا اور مرشدِ کامل تھے، کیا فرمایا ہے، خوب فرمایا:
"کاش میں ایسے زمانہ کے ساتھ ابتلاء میں ہوتا جس کے اندر نہ آدابِ اسلام ہوتے اور نہ زمانہِ جاہلیت اور فضائلِ بے اخلاق و مروت کے طور طریقے باقی ہوتے۔"
اس کے مطابق عربی کا ایک شعر ہے:
لَعَنَتِ اللَّهُ دُنْيَا لَيْسَ فِيْهَا مُخَالِصٌ
فَكُلُّ صَدِيْقٍ مِنْهَا فَهُوَ خَائِبٌ (1)
"اس دنیا پر خدا کی لعنت ہو جس میں کوئی خالص دوست نہیں رہا، اس میں ہر وہ دوست جس سے امید رکھی جائے وہ خائب و خاسر ہے۔"
علمِ دنیا کو اسرارِ الٰہی کا مقام اور مخلوقات کو اس کی امانتِ خاص پایا اور موجودات و اعیانِ جنات کو اس کی نعمتیں دیکھیں۔ اے طالبِ حق! اللہ تجھے نیک کاموں کی توفیق دے۔ تو ایسا یقین جان کہ ان سب کو اسرارِ غیب پر پردہ پایا اور صنعتِ لطیف کا صدمہ دیکھا۔ جب تک انسان زندہ ہے، ان طبائعِ انسانی پر توحید میں مذکورہ اشیاء کے اثرات کو شرک سمجھا جاتا ہے۔
اور دل کو بھی ہے اور انسان اپنے وجود کے سبب حقیقتِ اشیاء سے بعید ہونے سے محجوب ہے، اپنے علم سے ہرگز رب العزت جل مجدہ نے اس جہانِ فانی کو منزلِ حجاب رکھ کر...
صفحہ۸۱
ارواح بھی رفاقتِ وجودِ انسانی کی بدولت مغرور ہو کر اپنے رب مجید کی تقریب اور اس جسم سے نجات پانے میں محروم ہو گئی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اسرارِ الٰہیہ بذریعہ عقل سمجھنا مشکل ، بلکہ محال ہیں۔ اسی وجہ سے لطائفِ حق سے روحِ انسانی محجوب ہو گئی اور مجسمہِ انسانی اپنے برزخی وجود سے دور ہو گیا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے :
"اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو حجاباتِ عنصر پر پیدا فرمایا، پھر ان پر تزکیہ و تصفیہِ قلب کے ذریعے اپنے نورِ خاص کی جھلک ڈالی"۔
پھر وہ حجابِ علم دنیا میں فریضہِ انسانی کے اندر مل گیا اور بتصرفِ عقل طبائعِ انسانی پر غالب آگیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس پر قناعت کر کے روح کی صفائی کی بجائے خریدارِ حجابات ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان من حیث الانسان اسرارِ حقیقی اور انوارِ کشف سے بے خبر رہ کر ان افعال سے گریز کرتا ہے جو اس کی نجات کے سبب ہیں۔ گویا وہ مثلِ بہائم و انعام ہو گیا جو بوئے توحید سے نا آشنا، جمالِ احدیت سے بے بہرہ ، ذوقِ وحدانیت سے بے خبر ہے۔ اس کی ترکیبِ حجابی مشاہدہ اور تحقیق سے عاجز ہے ۔ اسی وجہ سے مرضیاتِ الٰہیہ کو چھوڑ کر حرص و ہوائے دنیاوی کی طرف رجوع ہے۔ اپنی نظمِ حیوانی کے ساتھ حیاتِ ربانی کو مقہور کر کے خواہشاتِ نفسانیہ کی حرکتوں پر چلنے لگ گئے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مجسمہِ خواہشاتِ نفسانیہ بن گئے ۔ سونے، کھانے اور شہوانی کیفیتوں کی پیروی کرنے کے سوا اور کچھ خبر ہی نہیں۔
1- سورة العصر : 1-2
2- سورة الأحزاب : 72
3- سنن ترمذی 2/ 98 اور امام سیوطی نے اسے "الجامع الصغیر" 1/ 96 میں اور امام ابن عربی نے "الفتوحات المكية" 2/ 81 میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے: "إن الله تعالى خلق خلقه في ظلمة فألقى عليهم من نوره فمن أصابه من ذلك النور اهتدى، ومن أخطأه ضل"
صفحہ۸۲
رب جل مجدہ و عزاسمہ نے اپنے خاص دوستوں کو مذکورہ امور سے مجتنب رہنے کے لیے اس طرح ہدایت فرمائی :
"اے میرے محبوب! چھوڑ ان کو تاکہ کھائیں، زندگی کے عیش اڑائیں اور دنیاوی حرص و آرزو انہیں غافل رکھے ، پھر عنقریب جان لیں گے (کہ اس غفلت کا نتیجہ کیا ملا)"۔
چونکہ عوام الناس کی طبیعتوں کے غلبہ نے ان سے اسرارِ الٰہیہ پوشیدہ کر دیئے تو ان پر عنایاتِ الٰہی کی بجائے خواری و ذلت چھا گئی۔ اسی وجہ سے تمام نفسِ امارہ کے پیرو ہو گئے اور یہ سب سے بڑا حجاب ہے اور برائی کا منبع ۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ (2)
"بے شک نفس برائیوں کا حکم کرنے والا ہے"۔
اب میں اصل کتاب شروع کرتا ہوں اور مقصودِ طالب کو مقاماتِ خاص اور حجاب ہائے گوناگوں میں ظاہر کروں گا اور بیانِ لطیف کے ساتھ حکایاتِ فن سناؤں گا ، فرامینِ مشائخِ کرام کو اس سے تطبیق دوں گا اور اربابِ فن کی عبارات کو نہایت موزوں صورت میں چسپاں کروں گا۔
احوالِ بزرگانِ دین اور حالاتِ مقربین سے مفہوم سمجھانے میں امداد لوں گا، تا کہ طالبِ مفہوم کی مرادِ فہم پوری ہو ، تا کہ علماءِ ظاہر امداد دیں۔ علاوہ ازیں جو بھی اسے دیکھے ، جان لے کہ طریقِ تصوف کتنا ہموار ہے، اور شجرۂ طریقت کی جڑیں کس قدر مضبوط ہیں اور اس کی شاخیں کیسی بار آور ہیں اور ہر کوئی سمجھ سکے کہ تصوف تمام علوم کی اصل ہے اور اس سے علماءِ تصوف ہمیشہ اپنے مریدوں کو تحصیلِ علم کی ہدایت کرتے رہے اور لہو و لعب و ہزلیات کی پیروی سے روکتے رہے، اور اس فن کی ترویج و ترغیب سے ان کی تصانیف بھری ہوئی ہیں، جن میں وہ مضامین ہیں جو انہیں منجانب اللہ وارد و صادر ہوئے ۔
وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ !
1- سورة الحجر : 3
2- سورة يوسف : 53
رہنمائی
دوسرا حصہ: کتاب کا متن
یہاں سے حضرت ہجویری کی اپنی کتاب شروع ہوتی ہے۔ ہر باب کا نام سبز عنوان میں لکھا ہے۔
صفحہ۸۳
اثباتِ علم
اثباتِ علم و عزتِ علماء کی صفت میں حضرت رب العزت جل شانہ فرماتا ہے :
"ہر مسلمان مرد و عورت پر علمِ دین حاصل کرنا فرض ہے"۔
1- سورة فاطر : 28
2- یہ حدیث حضرت ابن مسعود، ابن عباس، ابن عمر، ابن عاص، انس اور ابو سعید الخدری رضوان اللہ علیہم سے مروی ہے لیکن اس کے صحیح اور ضعیف ہونے کے بارے میں اقوال و آراء کا اختلاف ہے۔ امام عراقی نے تخریج الاحیاء میں کہا کہ اس کا متن صحیح اور تمام ضعیف طرق سے مروی ہے۔ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ اس موضوع پر ہمارے نزدیک کوئی صحیح سند نہیں، اسی طرح امام ابن راہویہ کہتے ہیں کہ جہاں تک اس کا تعلق ہے متن صحیح ہے۔
بعض محدثین کہتے ہیں کہ اس کا اسناد معروف نہیں اور اسی طرح ابن جوزی نے "الموضوعات" میں کہا ہے اور ابن حبان کہتے ہیں کہ یہ باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں۔ فقط امام ابن عبد البر کا بیان ہے کہ اس میں کسی طرح کا کوئی شک نہیں۔ امام نووی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ضعیف ہے لیکن اس کا معنی صحیح ہے۔ امام ذہبی نے "تلخیص میزان الاعتدال" میں اس پر بات کی ہے۔ اور امام زرکشی نے "التذکرة" میں کہا ہے کہ اس کے طرق کثیر ہیں۔ اور سب سے قوی سند حافظ ابن عبد البر کی "جامع بیان العلم" میں ہے مگر وہ بھی معلول ہے۔ حافظ جمال الدین زیلعی کہتے ہیں کہ یہ حدیث کئی طرق سے مروی ہے۔ امام سیوطی نے "الجامع الصغیر" اور ابن عراق نے "تنززیہ الشریعۃ" میں اس کے بارے میں طویل بحث کی ہے۔
امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں انس بن مالک سے ان الفاظ کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے :
اور واضح رہے کہ اقسامِ علم بے حد ہیں اور عمرِ انسانی نہایت ناقص ۔۔۔ بنا بریں واضح ہو گیا کہ تمام علوم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض نہیں مثلاً علمِ نجوم، علمِ حساب، علمِ صنائع و بدائع وغیرہ وغیرہ۔
مگر ان علوم میں سے اتنا حاصل کرنا لازمی ہے جس کی شریعتِ مطہرہ کے اندر ضرورت...
(بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ سے )
سنن ابن ماجه 1/ 81 (باب فضل العلماء والحث على طلب العلم)، مجمع الزوائد للهيثمي 1/ 119-120، جامع بيان العلم للقرطبي 1/ 2، تاريخ بغداد للخطيب: 1/ 407، 4/ 156، 5/ 604، 6/ 387، المعجم الكبير للطبراني 10/ 240 ، المعجم الصغير 1/ 92 ، الجامع الكبير للسيوطى 2/ 2925 (حدیث: 5663، 5665، 5667) تاريخ دمشق لابن عساكر 1/ 248 ، المقاصد الحسنة للسخاوي (260)، كشف الخفا للعجلوني (1265)، اسنى المطالب (859)، تميز الطيب من الخبيث (حدیث: 823)، الموضوعات لابن الجوزي 1/ 215 ، الفوائد المجموعة للشوكاني (ص: 272)، الجامع الأزهر للمناوي 2/ 400، الغماز على اللماز للسمهودى ، الدرر المنتشرة للسيوطي (حدیث 283)، التذكرة للزركشى (ص: 43)، فيض القدير للمناوى 4/ 267 ، تذكرة الموضوعات للحافظ محمد بن طاهر المقدسي (حديث : 508)، الفقيه والمتفقه للخطيب 1/ 52، المطالب العالية 2/ 130 ، ميزان الاعتدال 3/ 95، تنزيه الشريعة لابن عراق 1/ 258، لسان الميزان للعسقلاني 3/ 25، كتاب المجروحين لابن حبان 1/ 141، اللآلي المصنوعة للسيوطي 1/ 193 ، العلل المتناهية لابن الجوزي (حديث 50 تا 74)، احياء العلوم للغزالي 1/ 12 ، مسند الشهاب للقضاعي 1/ 135 (حدیث : 130).
(حاشیہ صفحہ ہذا)
1- اسے امام بیہقی نے شعب الایمان میں ، امام سخاوی نے "المقاصد الحسنة" میں، خطیب نے "الرحلة" میں، ابن عبدالبر نے "جامع بیان العلم" میں اور دیلمی نے بھی روایت کیا ہے، اور ان تمام نے ابو عاتکہ طریف بن سلمان کے طریق سے روایت کیا ہے ، اور تنہا ابن عبد البر نے اسے عبید بن محمد کے طریق سے، انہوں نے ابن عیینہ سے، انہوں نے زہری سے اور ان دونوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ابن جوزی نے اسے الموضوعات میں ذکر کیا ہے ۔ ابن حبان نے کہا ہے کہ اس حدیث کا متن مشہور ہے لیکن اسانید ضعیف ہیں۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں : المقاصد الحسنة (125)، الفوائد المجموعة (ص: 272)، احیاء علوم الدین 1/ 16-23.
صفحہ۸۵
تک حفاظت؛ کوارِ ضلالت سے جانے۔ علم طب اس قدر پڑھا جائے جس سے انسان صحت کی حفاظت کر سکے اور بوقتِ حاجت علاج کر سکے۔ اسی طرح ریاضی اس قدر پڑھنا ضروری ہے جس سے فرائضِ آسمانی یعنی علمِ فرائض حل کر سکے۔ اسی طرح دنیاوی پیشے کا علم بھی اس قدر حاصل کرنا ضروری ہے جس سے ضروریاتِ شرعیہ پوری بھی ہوں اور تعیش و فخر کی طرف میلان نہ ہو۔ اسی لیے حضرت رب العزت جل جلالہ نے ارشاد فرمایا:
2- حضرت حفص بن عمرو سے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت حفص سے مروی روایت کا حصہ ہے جسے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اس طرح ہوتی تھی:
اسے امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند 3/283 میں، امام نسائی نے 8/284 میں، امام حاکم نے المستدرک 1/104 میں حفص کے طریق سے، ابن حبان نے اپنی صحیح (83) میں ابو الوفا کے طریق سے، ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف 6/48 میں، امام طبرانی نے الدعوات الکبیر (551) میں، امام بیہقی نے شعب الایمان (1359) میں چند سندوں سے، امام المنذری نے الترغیب والترہیب 4/88 میں، ابن ماجہ نے اپنی سنن (250) میں، امام ترمذی نے 3/103 میں، امام نسائی نے عمل اليوم والليلة (1016) میں روایت کیا ہے۔
صفحہ۸۶
ایسے شخص کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو خراسان سے مکہ مکرمہ جائے اور بغیر علمِ فقہ کے عبادت کرنے والا بن جائے۔ جس نے دن کی شدت اور شام کو جہاں تھا، وہیں رہا (1)۔ اور بے قاعدہ شرعی عبادت کا نتیجہ یہی ہے جو خراسان کے گدھے کا ہوا کہ دن بھر چلا مگر منزل طے نہ کر سکا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو علم کو فضیلت دیتے ہیں اور ایک جماعت میں نے عوام میں ایسی دیکھی کہ وہ جسمانی و روحانی دونوں طریقوں پر گمراہ تھے۔ اس لیے کہ عمل پر علم مقدم ہے اور درحقیقت عمل علم کا محتاج ہے۔ علم عمل کا رہنما اور مقدم ہے۔ علم کا صحتِ عمل میں ہونا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ نماز میں یہ ثواب یا درجہ ملے گا۔ جیسے نماز اور اس کی صحت کا علم ہو، پانی کے پاک ہونے کا علم ہو جائے، پڑھنے والا احکامِ طہارت کا علم حاصل نہ کر لے اور جب تک طہارت صحیح نہ ہو، وضو نہیں ہو سکتا۔
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر علم کی نماز درست نہیں، اب اسی طرح جب تک نیت کے متعلق علم نہ ہو، نماز کہاں درست ہو؟ حقیقت کا علم نہ ہو، نماز بے کار ہے۔ اسی طرح اگر ارکانِ نماز نہ جانے اور جہالت کی وجہ سے غلطی کرے تو بندگی سے بعید اور گناہ سے قریب ہوتا ہے۔ تو وہ جہالت پر عمل کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کا وجود افضل اور عمل پر فضیلت رکھتا ہے، جس پر قرآن و سنت اور عقلی دلائل شاہد ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"پھر پھینک دیا ایک جماعت نے ان میں سے جنہیں کتاب دی گئی تھی، اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھ کے پیچھے گویا کہ وہ بالکل جاہل ہیں"۔
گویا رب جل جلالہ نے علماء کو، ان کے نا علموں کی جماعت کی طرح عمل کرنے کی وجہ سے، علماء کے نام سے نکال دیا۔ اگرچہ پڑھنا، یاد کرنا اور یاد رکھنا اپنے مقصد کے موافق ہو، اس سے بھی بندہ کو اجر کا مستحق بننا چاہیے، لیکن جب عالم کا علم اس کے اعمال کے خلاف ہو...
1- الفوائد المجموعة، ص 92.
2- سورة البقرة : 101
صفحہ۸۷
اس کو یاد کرنے وغیرہ کا کچھ ثواب نہیں ملتا ہے۔
اس مسئلہ میں دو فرقے ہیں : ایک وہ کہ وجاہتِ خلق علم کے چہرے میں دیکھ کر اس کے مقابلے کی تاب نہیں رکھتا اور علم کی حقیقت تک خود پہنچ کر عمل کو علم سے جدا کرتا ہے۔ یہ وہ فرقہ ہے جو نہ علم کو سمجھا نہ عمل کو، حتیٰ کہ جاہلوں کو کہتا پھرتا ہے قال نہیں چاہیے، کار چاہیے۔
دوسرا فرقہ کہتا ہے کہ عمل کچھ نہیں علم چاہیے۔
حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے راستہ میں ایک پتھر پڑا دیکھا، اس پر لکھا ہوا تھا : "مجھے پلٹ اور پڑھ"۔ میں نے پلٹا تو اس پر یہ لکھا دیکھا :
"جب تو اپنے علم کے مطابق عمل سے قاصر ہے تو محال ہے کہ جس کا تجھے علم نہیں، اس کا علم (یا عمل) طلب کرے۔"
گویا یہ ہدایت اس پر منقش تھی کہ انسان اس حد تک عمل کوش رہے جس حد تک اسے علم ہے تاکہ اس کی برکت سے وہ بھی جان لے جو نہ جانتا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"علماء کا ہمت و مقصد درایت و فہمِ علم ہے اور جہلاء کا مقصد محض روایات کا نقل کر دینا ہے۔"
چونکہ علماء سے لوازماتِ جہالت منفی ہوتے ہیں اس وجہ سے وہ علم کو ذریعہ جاہ و عزتِ دنیا نہیں بناتے اور جو علم کے ذریعے جاہ طلبی کرتے اور دنیاوی فائدے چاہتے ہیں وہ لوازماتِ جہل میں ملوث رہ کر کوئی درجہ، درجاتِ اہل علم سے نہیں پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ علم بغیر کسی لطیفہ کے، ذریعہ خدا رسیدہ نہیں ہو سکتا اور علم کی برکت سے تمام مقامات کا مشاہدہ ہو جاتا ہے۔
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ!
فصل:
اب یہ سمجھنا چاہیے کہ علم دو ہیں: ایک علمِ الٰہی، دوئم علمِ خلق۔ اور علمِ خلق متناہی، علمِ الٰہی غیر متناہی ہوتا ہے۔ اس لیے کہ علمِ الٰہی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور صفتِ الٰہی ذاتِ الٰہی کے ساتھ قائم ہے اور صفاتِ الٰہیہ بے نہایت ہیں اور ہمارا علم (یعنی علمِ خلق) صفتِ خلق ہے اور صفتِ خلق مخلوق کے ساتھ قائم ہے اور مخلوق کی صفات متناہی ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"یعنی تم کو علم (تمہارے ظرف کے مطابق) قلیل دیا گیا ہے"۔
الغرض علم مدح کی صفتوں میں سے ہے اور اس کی تعریف احاطة المعلوم ہے، یعنی معلومات کا احاطہ کرنا یا تبیین المعلوم تعریفِ علم ہے، یعنی معلوم کا واضح طور پر بیان کرنا اور بہترین جامع و مانع تعریفِ علم یہ ہے کہ:
"یعنی علم ایک ایسی صفت ہے جس سے جاہل عالم ہو جاتا ہے"۔
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ (2)
"بے شک اللہ کافروں کو گھیرنے والا ہے"۔
اور فرماتا ہے:
وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (3)
"اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے"۔
اور علمِ الٰہی ایک ایسی صفت ہے جس سے وہ تمام وجودات و معدومات کو جاننے والا مانا گیا ہے اور ایسا عالم مانا گیا کہ اس جیسا عالم ہونے میں مخلوق کا کوئی جز شریکِ صفت نہیں ہو سکتا، اور اس علمِ ذاتی کی تجزئہ بھی نہیں ہو سکتی اور نہ یہ علم اس کی ذات سے کبھی جدا ہو سکتا ہے۔
اور اس علم پر اس کی ترتیبِ فعالی دلیل ہے اس لیے کہ ہر فعلِ محکم علم سے ظہور پذیر ہوتا ہے اور علیمِ الٰہی کی ہی یہ شان ہے کہ ہر مکتوم و ظاہر پر ہر آن محیط ہے۔
طالبِ حق کو لازم ہے کہ بوقتِ عمل یہ یقین کرے کہ وہ عالمِ غیب، حاکمِ حقیقی میرے اس عمل کو دیکھ رہا ہے جیسا کہ اس کا عقیدہ ہے کہ وہ ہماری ہر حرکت و سکون کو دیکھنے والا ہے۔
حکایت:
روایت ہے کہ ایک رئیسِ بصرہ کسی دن اپنے باغ میں گیا۔ اس کی نظر اپنے باغ کے مالی کی بیوی پر پڑی اور برا خیال پیدا ہو گیا۔ رئیس نے مالی کو کسی کام کے لیے بھیج دیا اور اس کی بیوی کو کہا: باغ کے سب دروازے بند کر دے۔ عورت نے آکر کہا: میں نے سب دروازے بند کر دیے...
1- سورة بني إسرائيل : 85
2- سورة البقرة : 19
3- سورة البقرة : 282
صفحہ۸۹
ہیں مگر ایک دروازہ ایسا ہے کہ میں اس کو بند نہیں کر سکتی۔ رئیس نے پوچھا وہ کون سا دروازہ ہے؟ مالی کی بیوی نے کہا وہ دروازہ وہ ہے جو میرے اور میرے رب کے مابین ہے۔ یہ سن کر رئیس شرمندہ ہوا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی مانگی۔
حاتم اصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے چار علم اختیار کیے ہیں اور دنیا کے تمام علوم سے آزاد ہوں۔ لوگوں نے پوچھا کہ حضرت وہ چار علم کون سے ہیں؟ فرمایا:
پہلا علم تو یہ ہے کہ میرا رزق جتنا میرے لیے مقسوم ہے، کم یا زیادہ نہیں ہو سکتا، اس وجہ سے میں زیادہ کی تلاش سے بے پرواہ ہوں۔
دوسرا علم یہ ہے کہ مجھ پر میرے رب جل مجدہ کے ایسے حقوق ہیں، جو میرے سوا دوسرا ادا نہیں کر سکتا، تو میں ان حقوق کی ادائیگی میں مشغول ہو گیا ہوں۔
تیسرا علم یہ ہے کہ میرا ایک طالب ہے جسے موت کہتے ہیں، اس سے بھاگنا ناممکن ہے، اس لیے میں اس کے لیے تیار ہوں۔
چوتھا علم یہ ہے کہ میرا رب جل مجدہ و تعالیٰ شانہ مجھے ہر لمحہ دیکھنے والا ہے، میں اس سے شرماتا ہوں اور نا کردہ کاری سے اجتناب کرتا ہوں اور ہر ایسے فعل سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں، جس کی وجہ سے کل قیامت کے دن شرمندہ ہونا پڑے۔
فصل:
بندہ کا علم اوامرِ الٰہیہ اور اس کی ذات کے جاننے میں ضروری ہے اور علمِ اوقات اور اوقات میں جو بندہ پر لازم ہے، اس کا جاننا بھی ضروری ہے۔ پھر احکامِ ظاہری و باطنی کا سمجھنا بھی ضروری ہے، اور ظاہر و باطن امور کے لحاظ سے علمِ مخلوق کی دو قسمیں ہیں: ایک علمِ اصول، دوسرا علمِ فروع۔
اصولِ ظاہری میں تو کلمہ شہادت ہے یعنی وحدانیتِ الٰہی کا اعتراف اور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق، اور اصولِ باطن میں معرفت کی تحقیق۔ اسی طرح فروعِ ظاہری آپس میں معاملات اور برتاؤ درست رکھنا اور فروعِ باطنی دل سے نیت صحیح رکھنا اور اس صحت پر قائم رہنا، اور یہ ایسی چیزیں ہیں کہ ایک کا وجود دوسرے کے وجود کے بغیر محال ہے۔
چنانچہ ظاہر کا برتاؤ صاف رکھنا اور دل میں اس کے خلاف ہونا نفاقِ خالص ہے۔ اسی وجہ سے باطن کی اصلاح ظاہر کے بغیر سمجھنا زندقہ ہے اور شریعت پر ظاہری اطاعت بغیر اطاعتِ باطنی یعنی قلبی کے ناقص ہے اور جو چیز باطن میں نہ ہو اسے ظاہرداری میں دکھانا ہوس و باطل ہے۔
صفحہ۹۰
اس کی تشریح یہ ہے:
رکنِ اول: ذاتِ باری تعالیٰ اور اس کی وحدانیت کا اعتقاد اور اعتراف۔
رکنِ دوم: صفاتِ باری تعالیٰ عزوجل اور اس کے احکام کا علم۔
رکنِ سوم: حکمتِ الٰہی کا علم اور اس کے افعال کو جاننا۔
اسی طرح علمِ شریعت کے بھی تین رکن ہیں:
اول: کتاب اللہ
دوم: سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
سوم: اجماعِ امت
اور اثباتِ وجودِ ذاتِ واجب تعالیٰ شانہ اور علمِ صفات و افعال پر خود رب کا فرمان دلیل و دلالت ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:
"جس نے دل سے جان لیا کہ بے شک اللہ اس کا رب ہے اور میں اس کا نبی ہوں، اس کے گوشت و خون کو اللہ تعالیٰ نے جہنم پر حرام فرمایا"۔
لیکن علمِ ذاتِ باری تعالیٰ عزاسمہ میں یہ شرط بھی ہے کہ ہر عاقل و بالغ اس امر کو یقیناً جان لے کہ حق تعالیٰ شانہ موجودِ قدیم ہے اور اس کی ذاتِ قدیم، غیر محدود اور مکان و جہت سے منزہ ہے اور وہ ذات موجبِ آفت نہیں اور وہ زن و فرزند سے پاک ہے۔ انسانی اوہام میں جو چیزیں متصور ہوتی ہیں ان کا بھی وہی آفریدگار ہے اور وہی تمام مخلوق کا پرورش کرنے والا۔ اس نے حق فرمایا :
اور علمِ صفاتِ ذات عزاسمہ یہ ہے کہ اسے جانے کہ اس کے لیے ایسی صفات ہیں جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ مگر وہ صفات نہ عینِ ذات ہیں نہ غیرِ ذات مگر ابدی و ازلی ہیں جیسے علم، قدرت، حیات، ارادہ، سمع، بصر، کلام، بقا، جیسا کہ خود ارشاد فرمایا:
إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (3)
"بے شک وہ ذاتِ پاک تمہارے دلوں کے خطرات کی بھی عالم ہے"۔
اور فرمایا:
وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (4)
"بے شک اللہ ہر چیز کے پیدا کرنے پر قادر ہے"۔
اور فرمایا:
وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (5)
"ذاتِ مقدس بلا احتیاجِ آلہ سمیع و بصیر ہے"۔
1- اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" 18/124 میں اور امام ہیثمی نے "مجمع الزوائد" 1/19 میں ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے: "مَنْ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ رَبُّهُ وَأَنِّي نَبِيُّهُ، صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ حَرَّمَ اللَّهُ لَحْمَهُ وَدَمَهُ عَلَى النَّارِ"۔
2- سورة الشورى : 11
3- سورة الملك : 13 / سورة الزمر : 7
4- سورة آل عمران : 29
5- سورة الشورى : 11
صفحہ۹۲
اور فرمایا:
فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (1)
"وہ زبردست اپنے ارادے کو پورا کرنے والا ہے"۔
اور فرمایا:
هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ (2)
"وہ وہی حیِ ازلی و ابدی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں"۔
اور فرمایا:
أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ (3)
"سنو! اسی کا فرمان، خلق و تخلیق ہے اور اسی کے احکام ہیں"۔
تصورِ الٰہی کی یہ صورت ہے۔ انسان چاہے اور نہ چاہے، اب علمِ اثباتِ افعال... اس کے لانے والا سوائے اس کے کوئی نہیں۔ مخلوق کے افعالِ الٰہی ہیں، علمِ موجودات کو وجودِ ظاہری میں لا کر... شرک کا خالق وہی ہے۔ جیسا کہ فرمایا:
اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ (4)
"اللہ ہر شے کا خالق ہے"۔
واجب الوجود نے ہم تک ان دلائل اور اثباتِ احکامِ شریعت پر دلیل دینے کے لیے، خلافِ عادات اور بعثتِ رسول فرمایا، انہیں گوناگوں معجزات عطا فرمائے جو قطعی خارقِ عادت ہیں... اور سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رسول ہیں، ان کے معجزات بے حد و عدد عطا کیے گئے اور ان کے ذریعے ہم رہنمائی پاتے ہیں، وہ امورِ غیب سے باخبر ہیں اور تمام انبیاء و مرسلین...
وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ (5)
اور ارشاد فرمایا کہ شریعتِ مطہرہ کا اول رکن کتاب اللہ ہے۔ جیسا کہ واضح فرمایا کہ قرآن کریم کتاب اللہ ہے جس میں کوئی شک نہیں آیا۔ علمِ اطاعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کی اطاعت سے دوسرا رکنِ شریعتِ الٰہیہ قائم ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم نے فرمایا:
"میری امت گمراہی پر کبھی جمع نہ ہوگی، تم بڑی جماعت یعنی اہلسنت والجماعت کو لازم پکڑے رہو"۔
ان تمام احکام میں حقیقتِ اسلام ہے۔ اب اگر کوئی چاہے کہ تمام اپنے اندر جمع کر لے تو ایسا نہیں کر سکتا، اس کی قوت سے ایسا ہونا وراء الوراء ہے، اس لیے کہ لطائفِ اسماءِ الٰہیہ بے نہایت ہیں اور جب ان کی حد اور منتہیٰ نہیں تو انسان ان سب پر حاوی نہیں ہو سکتا۔
فصل:
یہ بات اچھی طرح یاد رکھو کہ ایک جماعت ملحدوں کی ہے۔ اللہ کی ان پر لعنت ہو، انہیں "سوفسطائی" کہا جاتا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ حقائقِ اشیاء کا علم حاصل ہونا محال ہے اور علمِ حاصل اشیاء خود کچھ نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اس امر کا انہیں علم ہوا یا نہیں؟ اگر وہ کہیں کہ ہاں اس امر کا ہمیں علم ہوا کہ حقائقِ اشیاء کا علم حاصل ہونا محال ہے، تو وہ خود اپنی زبانی اثباتِ علم کر چکے؛ اور اگر کہیں کہ نہیں تو پھر یہ کہنا غلط اور بے علمی ہے کہ علمِ اشیاء کا حصول محال ہے اور یہ دعویٰ قطعاً باطل۔ پھر ایسی جماعت سے گفتگو کرنا اور اسے منہ لگانا عقلمندی اور دانشمندی نہیں ہوتی۔
1- سورة الحشر : 7
2- اسے امام احمد نے اپنی مسند میں، امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" میں اور ابو خیثمہ نے اپنی "تاریخ" میں، ابو بصرہ الغفاری سے مرفوعاً بایں الفاظ روایت کیا ہے: "سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا تَجْتَمِعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَأَعْطَانِيهَا"۔
امام ابو نعیم نے "حلیة الاولیاء" میں، امام حاکم نے "المستدرک" میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا ہے: "إِنَّ اللَّهَ لَا يَجْمَعُ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلَى ضَلَالَةٍ أَبَدًا وَإِنَّ يَدَ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ، فَاتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ"۔ ابن ابی عاصم نے اسے "السنہ" میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے طریق سے ان الفاظ میں مرفوعاً روایت کیا ہے: "إِنَّ أُمَّتِي لَا تَجْتَمِعُ عَلَى ضَلَالَةٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الِاخْتِلَافَ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ"۔ امام عجلونی اسے "کشف الخفاء" 1/141 میں اور ملا علی قاری "الأسرار المرفوعة" (163) میں لائے ہیں۔
صفحہ۹۴
اور ملاحدہ کا یہ کہنا کہ ہمارا علم کسی چیز کے ساتھ درست نہیں، یہ دو حال سے خالی نہیں، یا نفیِ علم کا علم حاصل کر کے وہ کہہ رہے ہیں یا بذریعہ علم یہ دعویٰ کر رہے ہیں۔ بہرحال دونوں صورتوں میں اثباتِ علم یقینی ہوگا یا نفی کا علم یا حصولِ علم کا۔ اور یہ امر ظاہر ہے کہ علمِ شئی نفیِ علم نہیں کر سکتا۔ بہرحال علم کی ضد جو جہل ہے یہی نفی کی حقدار ہوگی۔ علم سے علم کی نفی ناممکن ہے اور اب دعویٰ محض حمق و جہالت ہے، اور جب یہ امر محقق ہو گیا کہ نفیِ علم جہل سے ہو سکتی ہے تو جاہل ذلیل و مذموم ہوتا ہے اور جہالت کفرِ خالص اور باطل کی علامت ہے، اور حق کو جہل سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہی عقیدہ تمام مشائخِ کرام کا ہے اور ملحدین کا تخیلِ باطل مشائخِ کرام کے قطعی خلاف ہے۔
اور جب عوام نے ملحدین کے اس قول کو سنا تو بہک گئے اور کہنے لگ گئے کہ اہل تصوف بھی اس جماعت میں سے ہیں اور ان کے اعتقادات بھی ایسے ہی پریشان خیالی پر قائم ہیں اور بوجہ جہل وہ حق کو باطل سے جدا کرنے میں عاجز رہ گئے۔ اب ہم ملحدین کے تمام معاملات کو خدا کے سپرد کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی ضلالت و گمراہی میں رہیں۔ اگر دینِ حق ان کی اعانت کرتا تو جو زور ان کا اس گمراہی میں صرف ہوا، احقاق میں صرف ہوتا، اور دینِ حق کی رعایت و اعانت کی حرمت ان کے ہاتھ سے نہ جاتی، اور خاصانِ بارگاہ کو وہ ایسی اندھی آنکھ سے نہ دیکھتے، بلکہ اپنے لیل و نہار کی اصلاح کے لیے ان کی خاص حرمت کرتے اور ملحدوں کی جماعت اہل تصوف کا احترام کرتی، ان کے نظریات کی تائید میں رہتی اور ان کے جمالِ وحدت و تجلیاتِ حق کے زیرِ سایہ رہ کر ہر قسم کی آفتوں سے محفوظ و مصون ہو جاتی اور ان کی عزت باطن کے سایہ میں نشو و نما پاتی۔ پھر ایسا ہرگز نہ ہوتا کہ سب کو اپنے جیسا سمجھ کر اہل تصوف کو بھی ملحد قرار دے کر ان کی عزتِ خداداد کو ٹھکرانے کی کوشش میں خود ذلیل و رسوا ہوتے۔
ہمارا ایک مدعیِ علم سے مقابلہ ہوا جو بجائے علم کے، کلاہِ رعونت و خود پسندی سر پر لیے پھرتا تھا اور اس ذلیل خصلت کا نام اس نے علمیت رکھ چھوڑا تھا۔ خواہشاتِ نفسانیہ کو متابعتِ سنتِ رسول کہتا تھا۔ موافقتِ شیطانی کو سیرتِ ائمہ کی پیروی کہتا تھا۔ اثنائے گفتگو میں کہنے لگا کہ ملاحدہ کے بارہ فرقے ہو گئے ہیں، انہیں میں سے ایک فرقہ متصوفین کا ہے۔
ہم نے کہا: اگر ایک فرقہ صوفیوں کا انہیں بارہ میں سے ہے تو گیارہ فرقے تم میں سے ہوئے۔ پھر جب ایک فرقہ سے تم اپنے آپ کو بچا سکتے ہو تو صوفی ان گیارہ سے اپنے آپ کو کیونکر نہیں محفوظ رکھ سکتے۔
درحقیقت یہ سب زمانہ کے پُر آشوب ہونے کا نتیجہ ہے۔ آج اس قدر فتنے ہیں جو عوام کو…
صفحہ۹۵
خراب کر رہے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبوں کو اس قوم سے پوشیدہ کر لیا ہے اور سب سے جدا رکھ کر ان کی محافظت فرمائی ہے۔ کیا خوب فرمایا سرداروں کے سردار اور آفتابِ عقیدت مندان علی بن بندار صیرفی رحمۃ اللہ علیہ نے:
"دل کی خرابی زمانہ و اہل زمانہ کے خیالات کے فساد کے موافق ہے"۔
اب ہم ان اقوالِ مشائخِ کرام کی نقل کے لیے، ایک مستقل فصل بناتے ہیں تاکہ وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہے، منکروں کے دامِ تزویر سے محفوظ رہیں اور اس فصل سے تنبیہ حاصل کریں۔ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ
"علم تین قسم کے ہیں۔ اول علم اللہ کی طرف سے، دوسرا اللہ تعالیٰ کے فضل کی معیت سے، تیسرا اللہ تعالیٰ کی یاد کے ساتھ"۔
علم باللہ وہ عرفانِ تام ہے جو تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام اور اولیاءِ عظام کو حاصل ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ عارفِ الٰہی بنتے اور عرفانِ الٰہی حاصل کرتے ہیں۔ جب تک یہ معیتِ الٰہی حاصل نہ ہو تمام ذرائعِ جدوجہد منقطع رہتے ہیں۔ اس لیے کہ علمِ اکتسابی معرفتِ الٰہی کی علت نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ علمِ اکتسابی سے عرفانِ الٰہی ناممکن ہے۔ جب تک علم باللہ حاصل نہ ہو درجہِ عرفانِ حق کا حصول محال ہے۔
اور علم من اللہ وہ علمِ شریعتِ حقہ ہے کہ اس کے ذریعے ہم مکلفِ احکامِ بالا بنائے گئے اور وہ فرمانِ حق ہے جو زبانِ انبیاء سے ہم کو پہنچا۔
اور علم مع اللہ وہ علم ہے جو فضلِ الٰہی کی معیت میں حاصل ہوتا ہے، جس کے ذریعے مقاماتِ ولایت و طریقِ حق و ہدایت اور بیانِ نہایتِ مدارجِ ولایت بعنایتِ الٰہی حاصل ہوتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ معرفتِ مدارجِ ولایت بغیر علمِ شریعت جانے صحیح نہیں اور اتباعِ شریعت بغیر مقاماتِ رشد و ہدایت جانے نہیں ہو سکتا (یعنی قانون کے مقتضیات کا جاننا قانون دانی ہو سکتا ہے نہ کہ قانونی کتابوں کا محض مطالعہ)۔
"عارف کا علم جہالت کی موت سے حیات بخشتا ہے اور عین کا نور کفر و ظلمت کی تاریکی سے روشنی دیتا ہے"۔
خلاصہ یہ کہ جس کو علمِ عرفان حاصل نہیں، اس کا دل جہالت کی موت سے مردہ ہے۔ اور جسے شریعت حاصل نہیں، اس کا دل نادانی و بیماری کی تاریکی میں ہے۔ کفار کا دل مردہ ہے، اسی وجہ سے وہ ذاتِ واجب تعالی جل شانہ کے فرمان سے جاہل ہیں، اور اہل غفلت فرمانِ الٰہی سے بے خبر ہیں۔
"جس نے علمِ کلام (یعنی عقائد و علمِ توحید) کی عبارات و قواعد سیکھے اور زہد و تقویٰ کی حقیقت حاصل نہ کی وہ زندقہ میں پڑ گیا، اور جس نے علمِ فقہ و شریعتِ اسلامیہ پر الورع (پرہیزگاری) کے بغیر عمل کیا وہ حدود و احکام سے نکل کر فاسق ہو گیا"۔
اس قول سے مقصودِ قائل یہ ہے کہ عارف کے لیے مجاہدہ و تزکیہِ نفس ضروری ہے اور موحد کے لیے توحیدِ ربانی کا تعلق لازمی ہے، اور فقہی کے لیے تقویٰ و شرعی ہونا ضروری ہے تاکہ اس کا روز و شب روح و پروردگار کے مابین سچا رہے۔
اور اس بحث کا لبِ لباب وہی ہے جو شیخ ابو بکر وراق پیرِ کامل رحمۃ اللہ تعالی نے فرمایا:
التَّوْحِيدُ بَيْنَ الْجَبْرِ وَالْقَدَرِ.
"توحید جبر اور قدر کے درمیان ہے"۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص علمِ توحید کے صرف الفاظ یاد کر کے مطمئن ہو جائے اور اس کے خلاف باتوں سے اجتناب نہ کرے، وہ زندیق ہے؛ اور جو فقہ کے ظاہری مسائل پر عمل کرے مگر علمِ فقہ و شریعت کو پرہیزگاری اور حقیقتوں سے الگ کر کے تاویلوں کے ذریعے شبہات میں پڑے، وہ فاسق رہے گا۔ اور یہ سب جہل و غفلتِ دل کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ خوب فرمایا شاہِ عارفان نے کہ جو لوگ بغیر استاد کے اجتہادات کی جرأت کرنے لگے، وہ بہت جلدی آسانی سے بھٹک جاتے ہیں۔
"اجتناب کر تین قسم کے لوگوں کی صحبت سے: غافل بے عمل علماء، اور حق سے زبان بند کرنے والے فقیر، اور بنے ہوئے جاہل صوفی"۔
اب سمجھ لے کہ علماءِ غافل کون سے ہیں؟ یہ وہ ہیں جنہوں نے دنیا کو اپنا قبلہِ دلی بنا لیا ہے اور شریعتِ مطہرہ سے حیلے بہانے تراش کر آسانیاں گھڑ رکھی ہیں اور اہل حکومت کے پجاری بن گئے ہیں۔ ظالموں کی چاپلوسی کرنا اپنا روزمرہ کر چکے اور ان کی چوکھٹوں کے طواف کو کعبہِ مقصود بنا چکے ہیں اور عوام میں عزت و جاہ حاصل کرنا ان کی محرابِ مسجد ہو چکی ہے۔ اپنے غرور و نخوت کو اپنی زیرکی اور ہوشیاری جانتے ہیں اور اس پر فریفتہ ہیں اور کلام میں اس قدر تصنع پسند کرنے والے ہیں کہ ان کا کلام عوام میں نہایت دقیق اور باریک مشہور ہے، اور ائمہِ کرام کی شان میں اور اپنے استادوں کی قابلیت میں ان کی زبانِ طعن دراز ہے اور بزرگانِ دین سلفِ صالحین کے مقابلے میں اپنی فوقیتِ علمی بگھارتے ہیں۔ اگر کونین کا ان کے تفوقِ علمی کے مقابلے میں وزن کیا جائے تو ان کی تعلی کا وزن زیادہ ہو۔ جس قدر حسد کو انہوں نے مذہب بنا لیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام جہان کا کوئی عالم نہیں ہو سکتا۔ پھر علم ایک ایسی صفت ہے کہ انواعِ جہل علم سے منفی ہو جاتے ہیں۔
اور فقیرِ مداہن وہ ہے کہ اگر اس کی خواہشاتِ نفسانی کے مطابق کوئی کتنا ہی غلط کام کرے وہ اس کا مداح ہوگا، اور اگر اس کی مرضی کے خلاف کچھ کرے خواہ کتنا ہی صحیح کام کیوں نہ ہو، اس کی برائی میں وہ کبھی کمی نہ رکھے؛ اور عوام کے آگے اپنے عملوں کا مظاہرہ کر کے عزت و رفعت کا خواہشمند رہے اور باطل پرستی میں عوام کے آگے حق گوئی سے زبان روکتا رہے۔
اور متصوفہِ جاہل وہ ہیں جو کبھی کسی پیرِ کامل کی صحبت سے مستفید نہ ہوئے اور کسی مرشد سے تعلیم نہ لی اور عوام میں اپنے آپ کو باکمال کہلانے کی آرزو رکھیں۔ مصائبِ زمانہ اور نشیب و فرازِ علم کا ذائقہ تک کبھی نہ چکھا ہو، مگر اندھے جاہلوں میں اپنے کو بہکی بہکی باتیں بنا کر کامل کہلوائیں اور ذلت و تذلیل کی راہیں اختیار کر لیں اور بے وقوفوں میں بیٹھ کر سب کو اپنے جیسا کہتے پھریں۔ ایسی حالت میں ان پر منجانب اللہ راہِ حق پوشیدہ ہو جاتی ہے اور وہ اسی ظلمت میں پڑے رہتے ہیں۔
غرضیکہ یہ ہر سہ گروہ وہ ہیں جنہیں حضرت معاذ بن رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بتا کر اپنے مریدوں کو ان کی صحبت سے مجتنب رہنے کی ہدایت فرمائی ہے[cite: 33, 34]۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ تینوں گروہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے عمل کی رفتار باطل ہے۔
"میں نے تیس سال مجاہدہ کیا مگر مجھ پر کوئی چیز سخت ترین نہ محسوس ہوئی سوائے علم اور اس کے اتباع کے"۔
ہر قدم آگ پر رکھنا طبیعت گوارا کر سکتی ہے مگر علم کے موافق اطاعت کرنا اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ پل صراط پر سے جاہل ہزارہا بار گزرنا گوارا کر سکتا ہے مگر اسلامی احکام کے ایک مسئلے کو سیکھ کر اس پر عمل کرنا مصیبت اور بلا ہے۔ جہنم میں خیمہ لگا کر بیٹھنا آسان ہے اس سے کہ ایک مسئلہ شرعی معلوم کر کے اس پر عمل کرے۔
لہٰذا چاہیے کہ علم حاصل کیا جاوے، اور اس پر بحدِ وسعت عمل کرنے کی سعی ہو اور یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ بندہ جب علم میں درجہِ کمال حاصل کر لیتا ہے تو وہ علمِ الٰہی کے مقابلے میں ایک جاہل کا درجہ پاتا ہے۔ پس لازم ہے کہ انسان وہاں تک علم حاصل کرے اور حقائق جانے جہاں تک وہ نہ جانتا تھا۔ اس اجمال کا خلاصہ یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی بندگی کے سوا کچھ جان ہی نہیں سکتا۔
اور بندگی ہی بندہ کے لیے حجابِ اکبر ہے (جو جہنم سے اسے بچائے گی)۔ اسی حقیقت کے اظہار میں کسی بزرگ نے فرمایا ہے:
الْعِجْزُ عَنْ دَرْكِ الْإِدْرَاكِ إِدْرَاكٌ
وَالْوَقْفُ فِي طُرُقِ الْأَخْيَارِ إِشْرَاكٌ (1)
"درکِ ادراکِ ذات سے اظہارِ عجز کرنا ہی ادراکِ ذات ہے اور محض روایاتِ اخیار پڑھ کر کورانہ تقلید کرتے ہوئے ان کے اقوال کی نقل کرتے پھرنا شرکِ اکبر ہے" (2)۔
1- تفسیر مظہری میں یہ شعر اس طرح نقل کیا گیا ہے:
العجز عن درك الإدراك إدراك، والبحث عن سر الذات إشراك
2- ترجمہ از جانبِ مترجم:
سمجھ آئی سمجھ میں کچھ نہ آیا
سمجھنا ہی تمہارا یہ خطا ہے
صفحہ۹۹
جو کچھ جانتے ہیں، ناچار ہیں کہ وہ حقیقت ہے؛ اور وہ ہیں لوگ جو جانتے ہیں اور ان پر ان کے علم کے کمال نے یہ ظاہر کر دیا ہے، ان پر فضلِ الٰہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے علم پر غرور و فوقیت کرنے سے محفوظ ہو جاتے ہیں اور ان پر حقیقتِ واقعہ ظاہر ہو جاتی ہے کہ ان کا علم، علمِ الٰہی کے مقابلے میں کچھ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ درحقیقت اور واقعہ بھی یہی ہے کہ حق تعالی جل شانہ کے نزدیک علمِ مخلوق محض عدم سے ہے، وہ سیاہی اور اس کا اثر معانی نہیں ہیں۔
پس خلاصہ یہ ہے کہ ادراکِ ذات سے اظہارِ عجز کرنا ہی ادراکِ ذات ہے[cite: 34, 35]۔
صفحہ۱۰۰
باب ۲: اثباتِ فقر
اے عزیز! یاد رکھو کہ فقر و درویشی کا راہِ معرفت میں بہت بڑا نام و درجہ ہے اور درویشی کے اس راستے میں بڑے خطراتِ جلی و خفی ہیں۔ ارشادِ باری تعالی جل شانہ ہے:
"(ان صدقات کے مستحق) وہ فقراء ہیں جو اللہ کی راہ میں روکے گئے ہیں، وہ زمین میں سفر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، ناواقف انسان ان کی بے نیازی و تعفف کی وجہ سے انہیں غنی و مالدار سمجھتا ہے"۔
"اور اللہ نے مثال بیان فرمائی ایک بندہِ مملوک (غلام) کی جو ظاہر کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ (دوسرا آزاد) جسے ہم نے اپنے پاس سے عمدہ رزق عطا فرمایا"۔
"قریب لاؤ میرے احباء و محبوبوں کو! تو فرشتے عرض کریں گے: اے رب! وہ محبوب کون ہیں؟ تو ارشادِ باری ہوگا: وہ فقراء و مساکین ہیں"۔
اور مثل اس کے فضل و مناقب کی بہت سی آیات اور احادیث ہیں جو شہرتِ روایت کے ساتھ مستند و دلالتِ کتاب ہیں۔
اور مراد ان سے یہ ہے کہ عہدِ رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم میں جو خاص فقراء و مساکین تھے وہ مہاجرینِ کرام تھے۔ جنہوں نے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے مسجدِ نبوی میں قیام فرمایا اور عبودیت ادا کرنے کے لیے چھوڑ دیا اپنا گھر بار (انہیں اصحابِ صفہ کہا جاتا ہے)۔
1- اسے امام بیہقی اور دیگر محدثین نے نقل کیا ہے۔
صفحہ۱۰۲
جنہوں نے دنیا سے اعراض کر کے، توکل اور فضلِ الٰہی پر نفع رساں ہونے کے وعدے پر یقین کر کے بیٹھ رہنے کے متعلق ارشادِ باری تعالی ہوا اور اپنے حبیبِ پاک کو مخاطب کر کے ان کا خیال رکھنے کی ہدایت فرمائی:
"ان سے اپنی نظر نہ ہٹاؤ کہ حیاتِ دنیا کی زینت کا خواہش مند بنے"۔
چنانچہ حضور سیدِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان اصحابِ صفہ کو ملاحظہ فرماتے تو بے ساختہ آپ کی زبانِ مبارک سے ارشاد ہوتا: "میرے ماں باپ ان پر نثار ہوں کہ اللہ تعالی نے ان کی نگرانی کی مجھے ہدایت فرمائی"۔ غرض یہ کہ اللہ تعالی کے نزدیک ان کا بڑا درجہ و مقام ہے اور فقیری کو ان کے مرتبہِ عالی کے ساتھ ممتاز فرمایا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جو درویش ہیں انہوں نے اسبابِ ظاہری و باطنی کو ترک کر کے خلق سے اسباب کی توجہ رب کی طرف موڑ دی اور اس پر توکل رکھا، اور احکامِ الٰہی کا اتباع فقراء کے لیے محبوب ہے۔ اور رضا، تسلیم اور فقر کا وقار ان کے دلوں پر اس طرح نقش ہے کہ اس کے چھوٹ جانے سے وہ ایک لمحہ کے لیے زندہ نہیں رہ سکتے۔ ان کے لیے فقر کے لوازمات و مراسم خاص ہیں، لہٰذا اس کے سب سے زیادہ مستحق یہ مقدم لوگ ہیں اور اسی سے راضی و مسرور ہیں، اور ان کی نظروں میں سواۓ حق کے تمام اسباب ذلیل ہیں۔
اور جس نے بغیر فقر کے درویشی اختیار کی وہ صرف نام کا فقیر رہا، اور اس میں اس نے مراد نہ پائی تو حقیقتِ فقر سے کوسوں دور رہا؛ اور جس نے حقیقتِ فقر کو پا لیا، اس نے موجودات سے بے نیازی حاصل کر لی اور فناء فی اللہ میں مستغرق ہو کر بقاء باللہ میں چلا گیا۔
"یعنی جس نے فقر کی حقیقت نہ جانی اس نے سواۓ اسمِ فقر کے کچھ نہ سنا"۔
1- سورة الأنعام : 52
2- سورة الكهف : 28
صفحہ۱۰۳
تو حاصلِ کلام یہ ہوا کہ فقیر وہی ہے جو اپنے پاس علل و اسباب سے کچھ نہ رکھے اور اس کی طمانیتِ قلب میں اس کے نہ ہونے سے کچھ خلل واقع نہ ہو؛ اور اسباب کو دیکھ کر غنی نہ ہو اور اسباب نہ ہوں تو ان کی طرف احتیاج محسوس نہ کرے۔ گویا اسباب کا ہونا یا نہ ہونا اس کی نظر میں مساوی ہو، بلکہ اسبابِ ظاہری نہ ہوں تو اسے فرحت زیادہ ہو، یہ بلند مرتبہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مشائخِ کرام نے فرمایا کہ درویش جس قدر تنگ دست ہو، اس کے لیے مفید ہے تاکہ حقیقتِ توکل و شانِ رزاق کے راز کا اس پر انکشاف ہو۔ اس لیے کہ درویش کے لیے علائقِ دنیاوی جس قدر زیادہ ہوں گے اسی قدر اس کو نقصان ہوگا۔ غرض یہ کہ درویش در حقیقت وہی ہے جو ضروریاتِ زندگی کی کسی چیز سے واسطہ نہ رکھے مگر اسی قدر جس قدر کہ اس کی ضرورتِ قوتِ لایموت کو کافی ہو۔ غرضیکہ محبوبانِ الٰہی کی زندگی کا محض الطافِ خفی اور اسرارِ بے نیازی کے ساتھ وابستہ رہنا ہی بہتر و افضل ہے۔
لہٰذا صوفی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اپنے محبوب سے وابستہ رکھے اور دنیائے غدار و بے وفا کے علل و اسباب سے آزاد رہے کہ یہ دنیا سرائے فجار و فساق ہے؛ اور صوفی کا سرمایہِ زندگی محبتِ محبوبِ حقیقی ہے اور متاعِ دنیا متاعِ راہِ رضا و صبر ہے۔
حکایت:
کہتے ہیں کہ ایک درویش کی ملاقات ایک بادشاہ سے ہوئی۔ بادشاہ نے کہا کہ کچھ مانگیے۔ درویش نے کہا: میں اپنے غلاموں سے کوئی حاجت روائی نہیں چاہتا۔ بادشاہ نے کہا: یہ کس طرح؟ درویش نے فرمایا: میرے دو غلام ہیں اور وہ دونوں تیرے مالک و صاحب ہیں: ایک حرصِ دنیا، دوسرا طولِ امل (یعنی امیدِ غیر متناہی)۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
الْفَقْرُ عِزٌّ لِّأَهْلِهِ. (1)
"فقر اہل فقر کے لیے موجبِ عزت ہے"۔
تو جو چیز اس کے اہل کے حق میں عزت ہوتی ہے، وہ اس کے نااہل کے لیے موجبِ ذلت ہے۔ اور فقیر کی عزت یہی ہے کہ وہ محفوظ الجوارح ہو یعنی اس کے جسم کا کوئی جز حوائج و ضروریات کا احساس کر کے جادہِ صبر و رضا سے لغزش نہ کرے، اور اس کے دل و جان پر کبھی غفلت نہ آئے[cite: 39, 40]۔
1- المقاصد الحسنة / احیاء علوم الدین
صفحہ۱۰۴
اور نااہل کا فقر و فاقہ ہمیشہ ظاہر ہوتا ہے اور اس سے ہر وقت دنیا کی آفت و بلا ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا اس کا روحانی اور دلی رابطہ اللہ کے ساتھ نہیں قائم ہو سکتا۔ لیکن جب انسان کا باطن شمعِ محبتِ الٰہیہ سے منور ہو جاتا ہے تو ہر چیز اس کے تصرف میں آ جاتی ہے اور یہی فقرِ حقیقی ہے اور عوام الناس کو اس سے کوئی علم نہیں۔
فقیر وہ شخص ہے جو شہرت، لوگوں کے رجوع اور دکھاوے سے بے نیاز ہو۔ اگر یہ تمام دنیاوی دولت و ملکیت کا مالک بھی بن جائے تو اسے دنیاوی ملکیت سے کوئی غرض و بے پروائی رہتی ہے۔ پھر اس فقیر کا باطن ایسا ہوتا ہے کہ دونوں جہان اس کے فقر کے پائے میں تنکے کے برابر بھی وزن نہیں رکھتے اور ایک سکون و اطمینانِ سالک میں سما نہیں سکتے۔
صفحہ۱۰۵
فقر افضل ہے یا غنا
با اعتبارِ تاریخ و قرونِ نخستین اس امر میں مشائخِ کرام کا اختلاف ہے کہ فقر افضل ہے یا غنا۔ اس کی حقیقی تو صرف ذاتِ واجب تعالی شانہ ہے، اور ما سوا کے اوصاف میں کامل ذاتِ واجب تعالیٰ کے کوئی نہیں۔ حضرت یحییٰ بن معاذ رازی، اور خواجہ جنید، ابوالحسن بن عطاء، رویم بن احمد، ابوالحسن بن شمعون رحمہم اللہ اور متاخرین میں سے جن کے الفاظ ہیں: فناء السالکین صفتِ فقر، حضرت ابو الحسن علی بن احمد الخرقانی رحمۃ اللہ علیہ اس امر پر متفق کے مقابلے میں، اس دعوےٰ پر ان کی دلیل یہ ہے کہ غنا صفتِ حق سبحانہ وتعالیٰ ہے اور فقر اس کی ذات کے لیے ممنوع ہے۔ تعلق ولاء میں وہ صفت جو میانِ عبد و معبود مشترک ہو، وہ غنا ہے اور شرکتِ صفت نظیر ذاتِ واجب تعالیٰ شانہ کے لیے روا نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ بیشک یہ بھی صحیح ہے لیکن شرکتِ معنوی، اور شرکتِ معنوی اس وقت ہو سکتی ہے جب امکانِ مشارکت ہو۔ پر وہ صفاتِ واجب تعالیٰ شانہ قدیم اور صفاتِ خلق حادث۔ جلال ہے اور یحییٰ بن عثمان جلابی کہتے ہیں کہ شرکتِ معنوی کا نام غنا صرف ذاتِ باری تعالیٰ شانہ کے لیے شایانِ شان اور لائق ہے، اس نام کی صفت نہیں ہوتی۔
زیبائے اور حضرت جلّ وعزّ اس کی اور فراوانی صفت ہے کہ اس میں فقر مخلوق کے لیے اور ذات کے لیے یہ ناروا۔ اور اگر مجازاً اس کو غنا کہہ دیتے ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ درحقیقت غنا ہے؛ اور پھر یہ بھی روشن و با ہر ہے کہ ہمارا غنا محض وجودِ اسبابِ ظاہری پر مبنی ہے اور ہم اس سبب سے فنا کی وجہ سے اس وقت تک کہلا رہے ہیں جب تک کہ ہمارے پاس مال و دولت ہے۔ برخلاف غنائے حقیقی پروردگار عالم کے، کہ وہ اسباب والا بندے کو اور اپنے فضل کے ذریعہ غنی بنانے والا ہے۔ پس غنائے حقیقی کے لیے ملک و اسباب علتِ غنا نہیں۔ مشارکت اس اعتبار سے صفتِ غنا کا وہم بھی باطل ہوا۔
اور حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کو ذاتِ خالق میں مشارکت نوعِ ذات ہے، تو جب شرکتِ مرتبتِ ذات میں نہ ہوئی تو یقیناً صفات میں بھی شرکت نہ ہوگی...
صفحہ۱۰۶
اب رہا نام رکھ دینا، اور کہہ دینا کہ فلاں مالدار ہے، یہ بنا خود ایک نام ہے جو میانِ عبد و معبود مشترک ہے۔ اس کی حقیقت کی حد نہیں۔ پس خلاصہ اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ وہ غنا جو حق تعالیٰ شانہ کی صفت ہے، اس کی صفتِ قائم بذات ہے... بندے پر جو چاہے کرے؛ اس کے ارادے اور مشیت کو کوئی نہیں روک سکتا، نہ اس کے پیدا ہونے میں کوئی مانع بننے کی طاقت رکھتا ہے، نہ اس کے ارادے کے مقابل کوئی مخالف ارادہ لا سکتا ہے۔ اس کے دار الاختيار میں کسی کو مجالِ دَم زدن نہیں۔ اس کی تمام صفات قدیم ہیں۔ ہمیشہ وہ اپنی صفات سے متصف رہے گا اور ہمیشہ سے متصف تھا، برخلاف غنائے بندہ کے کہ وہ اپنی حیاتِ چند روزہ میں حصولِ مال و اسباب سے مالدار ہوتا ہے...
نسبت میں بھی غنا کے ایک فرض ہے۔ فرض کیجیے، حادث فقیر بھی، طالب بھی، عاجز بھی، کبھی واہبِ ارادہ... غرض کہ بندہ ہر حال میں محتاجِ بازالۂ احتیاج ہے، اور تعالیٰ شانہ کا غنا ذاتی و قدیم ہے۔ اس پر عدم کی فکر نہیں۔ چنانچہ وضوحِ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِيْدُ ﴿۱۵﴾ "اے لوگو! تم محتاج اور فقیر ہو اللہ کے، اور اللہ ہی غنی اور حمید ہے۔" (سورۃ فاطر: ۱۵)
اور فرمایا:
وَاللّٰهُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ
"اور اللہ غنی ہے اور تم سب اس کے محتاج اور فقیر ہو۔" (سورۃ محمد: ۳۸)
عوام الناس میں یہ عام مشہور ہے کہ اگر درویش مالدار سے افضل ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خوش قسمت بنایا اور عطائے نعمت پر شکر کا حکم دیا، اور وہ جاہل اس غنا اور نعمت سے مراد کثرتِ مالِ دنیا چاہتے اور سمجھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ دنیا میں شہواتِ نفسانیہ کے موافق عمل کرنا اور اس کی خواہش کا پورا ہو جانا کامیابی ہے، اور اسی کا نام غنا و تو نگری ہے؛ اور اس قسم کی نعمت پر شکر کرنے کا حکم فرمایا، اور فقر و صبر کی فضیلت پر جو مصیبت و بلا ہے جس پر صبر کا حکم ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ حقیقتِ شکر معلوم ہو چکی کہ وہ بذلِ نعمت پر ہوتا ہے اور شکرِ نعمت پر کثرتِ مال و غنا پر شکر کرنے پر زیادہ کر دینے کا وعدہ فرمایا ہے... مگر فقیر صبر ہی کرتے ہیں...
صفحہ۱۰۷
پر صبر پر تقرب عطا فرمانے کی بشارت ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:
"بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔" فَإِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
اور شکر تو صرف علتِ ازدیادِ نعمت ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:
لَئِن شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ ﴿۷﴾ "اگر تم شکر کرو گے تو نعمت میں تم کو زیادہ دوں گا۔" (سورۃ ابراہیم: ۷)
اور جو فقر میں ہے وہ اصل امتحان ہے، جو صبر کرے گا، جو موجبِ تقرب ہے، اس کا تقرب اور بڑھ جائے گا، یہاں تک کہ ہم اس کے ساتھ ہوں گے۔ لیکن وہ غنا جس کو مشائخ کرام غنا کہتے ہیں، وہ دنیاوی مال و دولت نہیں ہے بلکہ وہ غنا مقامِ محبت میں ہے۔ تو اب واضح ہو گیا کہ غفلت اور چیز ہے اور محبت اور... اور محبت کا غنا وہی ہے جس کو ہمارے بعض مشائخ نے کہا ہے:
اَلْفَقْرُ هُوَ الْغَنَاءُ بِاللّٰهِ.
"فقر وہ غنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی معیت سے حاصل ہوتا ہے۔"
اور اس سے مراد کشف و ابدیت ہے، جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے حاصل ہوتا ہے۔
لیکن ہم کہتے ہیں کہ کشف جو مشاہدۂ جمال سے حاصل ہوتا ہے، اس کو مشائخ نے غنا کا نام دیا۔ یہ لیکن حجاب سے پاک نہیں۔ اگر کہا جائے کہ کشف بھی حجاب ہے، تو لا محالہ بقائے حجاب میں اسے احتیاجِ مشاہدہ ہوگی۔ اس صورت میں اگر کہو کہ حجاب دوامِ کشف و مشاہدہ نہیں ہوا، یہ محال ہے؛ اور اگر کہو کہ مشاہدہ محتاجِ دلیل ہوتا ہے، تو نامِ غنا ساقط ہو گیا۔ اور درحقیقت جس غنا کو مشائخ غنا کہتے ہیں، وہ کبھی کسی درویش کو حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کو حاصل ہوتا ہے جو تمام الصفت اور ثابت الارادہ ہو؛ اور بقائے اقامتِ مراد اور اثباتِ اوصافِ آدمیت میں لفظِ "غنا" درست نہیں ہوتا۔
اس لیے کہ انسان کا موجود کیف قابلِ غنا ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لیے کہ وجودِ بشر حقیقت میں عینِ نیاز ہے، اور جو حادث طرفِ امتیاز ہو، وہ محتاج ہے۔ تو جو باقی الصفت ہو تو وہ غنی ہے، اور جو فانی الصفت ہو اس کے لیے کوئی نام بھی موزوں نہیں۔
اَلْغَنِيُّ مَنْ اَغْنَاهُ اللّٰهُ یعنی غنی وہ ہے جسے اللہ غنی کر دے (کا مفہوم بلحاظِ معنی یہی ہے)۔ یعنی اللہ ہے جو فاعل ہے اور جسے غنی کیا وہ مفعول ہے۔ نیز فاعل ہمیشہ قائم بالذات ہوتا ہے، وجود مفعول فاعل کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے...
صفحہ۱۰۸
بندگی درست اور پاک ہوئی۔ یحییٰ بن معاذ جلابی کہتے ہیں کہ: جب اثباتِ عبدیت صفتِ ربوبیت بن صفتِ عبودیت کے لیے درست نہ ہوا۔ اس لیے کہ بقائے عبدیت و فنائے صفتِ ربوبیت، ان تمام صفات کے سوا ہے جو فنا کے دلائل میں بیان کرتے ہیں؛ اور فنا وہ صفت ہے جو علت و موجبِ آفت ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے اور کسی اسم کی ذات کے ساتھ باقی نہ رہے، اسے فانی کہنا بھی درست نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ جو فانی کے ساتھ قائم ہے، جب صفت فانی ہے، اس کا قائم بنانا لغو ہے؛ اور ظاہر ہے کہ انسان کی صفت سے تجاوز ہو کر صفتِ غنا صفتِ واجب تعالیٰ شانہ کا نام رہے گا۔ بندے کی صفت ثابت نہیں رہ سکتی۔ اس لیے کہ معدوم پر فنا کا اطلاق درست نہیں، اور صفتِ فقر عاجز انسان کے لیے ہے۔
جس کے لیے لوگ مشائخِ کرام کے اس قول کی فضیلت اور اس مسئلہ میں پر اجماعِ امت ہے۔ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ میں اس کی فضیلت پر برقرار ہے۔ اور ابنِ عطاء کے اس مسئلہ پر بحث کی کہ ان کا قول ملتا ہے کہ روزِ محشر ایک فقیر قیامت میں حساب میں پیش کرے گا، اور کہا جائے گا کہ اغنیا سے لغزش ہو گئی۔ ابن عطاء کی فضیلت پر دلیل... اور اگرچہ ان میں واسطہ ہو، اس کا شرف سرِ مو اس محاسبہ میں تفتیشِ حقیقی سے کام لیا جاتا ہے۔
حضرت جنید نے فرمایا: نے یہ دیکھا کہ حساب بھی بندہ سے معاتَبت کا سبب بنے گا اور عذر خود بھی... محاسبہ فرمایا، اغنیا سے پوچھا جائے گا مگر درویشوں سے عذر لیا جائے گا۔
چاہنا عذر کا بھی۔ یہ ایک عجیب و غریب لطیف بات سنائیں: وہ کہ مقامِ محبت میں ایسا مقام ہوتا ہے جو مخالفت اور عتاب اس پر ہوتا ہے جو محبوب کی مرضی کے خلاف ہو۔ اور دل سے عذر کیا جاتا ہے۔ جب کہ محب کے لیے یہ دونوں باتیں آفت ہیں۔ اس لیے فروگزاشت کہ عذر ہی پر اپنا حق طلب کرے۔ تو محبوب اس کا حق ادا کرے... دوست کے ساتھ دوست کی یہ شان نہیں ہوتی کہ جب دوست محبوب کے خلاف کام کر بیٹھا ہو۔ اس وقت عذر کرے اور عتاب و بے عزتی اور حضور پر ہوتا ہے جو فرمایا... اور دونوں باتیں محال ہیں۔ رب و محبوب اپنے محب سے نافرمانی پر عتاب کرتا ہے، اور وہ اپنے اپنے مطلب میں ہوں گے۔
دوست کو دوست سے سوا طلبِ قرب کے ساتھ غنا کے ساتھ، اور درحقیقت کوئی فرق نہیں۔ سیدنا امیر... مگر دوست رہے گا، عطیات کو رد فرمائے گا۔ دوسری جگہ اسمِ فقیر رکھا حالانکہ اس کے رب نے... اس نے اپنے اوپر ظلم کیا جس نے ابنِ آدم ہو کر اپنا نام (ظاہراً امیر ہے اگرچہ اس نے اپنا نام فقیر رکھا ہے)۔ (وہ وجود کا نام خدائے فقیر کی بارگاہ میں فقیر ہے)۔
صفحہ۱۰۹
ہو، مگر درحقیقت فقیر ہے، اور وہی ہلاک کیا گیا جس نے اپنے محبوب کو زندگی میں چھپایا۔ اگرچہ بظاہر اس کی بارگاہ میں خلعت و مسرت رہی ہو، اور صاحبِ صدق، صاحبِ صدق نہیں ہو سکتے۔
تفریق کا خلاصہ یہ ہے کہ ایوب علیہم السلام (مثلِ غنا) و سلیمان علیہم السلام (علیہ الصلاۃ والسلام)۔ اس لیے حضرت ایوب علیہ السلام کو جو کہ صفتِ صبر کرنے والے تھے:
فرمایا۔ اور سلیمان علیہ السلام کو جب کہ وہ مملکت و حکومت کے اندر استقامت پر تھے، تو نِعْمَ الْعَبْدُ فرمایا۔
جب رضاۓ رحمٰن حاصل ہوئی تو ایوب علیہ السلام کو غنی اور سلیمان علیہ السلام کو فقیر گردانا گیا۔
نکتہ: میں نے استاد ابو علی دقق سے سنا کہ لوگوں نے فقر اور غنا میں گفتگو کر کے اپنے لیے ایک مقام منتخب کر لیا ہے۔ میں پسند کرتا ہوں کہ میرے لیے میرا رب جو پسند فرمائے اس میں ہی مجھے رکھے۔ اگر میرے لیے پسند فرمائے غنا، تو مجھے اپنی یاد سے غافل نہ کرے؛ اور اگر فقر پسند فرمائے، تو اس میں آفت میں ہونے سے محفوظ رکھے۔
غرضیکہ غنا بھی اس کی نعمت ہے، مگر اس سے جو غفلت پیدا ہو وہ آفت ہے سب کی متفقہ؛ اور فقر بھی اس کی نعمت ہے مگر اس میں اگر شکایت پیدا ہو جائے تو وہ بھی بلا و آفت ہے۔ گویا غنا و فقر دونوں نعمتِ حقیقی کے مظاہر ہیں، مگر اس میں جو عوارض پیدا ہوتے ہیں وہ مختلف ہیں۔ اس لیے کہ فقر نام ہے ماسوا اللہ سے دل کا فارغ ہونا، اور غنا نام ہے ماسوا اللہ سے مشغول ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔
جب توفیق الٰہی دونوں سے آزاد ہو جائے، تو نہ فقر غنا سے بہتر ہے اور نہ غنا فقر سے۔
غنا کثرتِ مال ہے، اور فقر قِلّتِ مال و وسائل ہے۔ اور مال وہ سب رب العزت کی ملکیت ہے۔ طالب نے جب ملک ترک کر دی تو مشارکت باقی نہ رہی، اور جب مشارکت نہ رہی تو غنا و فقر دونوں سے فراغت مل گئی۔
مشائخِ حقیقت میں سے ہر ایک نے فقر اور غنا کے معنی میں بہت سی باتیں کہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں اپنی استطاعت کے موافق ان کے ارشادات اس کتاب میں نقل کرتا ہوں۔
"فقیر وہ نہیں جو مال و متاع سے خالی ہو بلکہ فقیر وہ ہے کہ جس کا دل خواہشاتِ باطل اور طمع و آز سے خالی ہو۔"
چنانچہ اگر کسی کو اللہ مال دے اور وہ اس کی محافظت میں اپنی زندگی بسر کرے تو وہ بھی غنی ہے، اور اگر منجانب اللہ کسی کو مال ملے اور وہ اس کے صرف میں اپنی قوت صرف کرتا ہے۔ لیکن یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جن کا تعلق ملک میں تصرف کرنے سے ہے اور یہ شانِ فقر کے خلاف ہے۔ در حقیقت فقر میں ترکِ محافظت اور ترکِ خیالِ اسراف لازمی ہے۔
حضرت یحییٰ بن معاذ رازی فرماتے ہیں:
عَلَامَةُ الْفَقْرِ خَوْفُ الْفَقْرِ
"یعنی فقر کی علامت خوفِ فقر ہے۔"
یعنی سچا فقیر وہ ہے کہ کمالِ ولایت کی فرقت، قیامِ مشاہدۂ ذات کا آرزو مند رہ کر اس صفت کے فنا ہونے میں خائف رہے، اور زوالِ کمال و قطعیتِ مشاہدۂ جمال سے ڈرے۔ جب یہ بات فقیر میں پیدا ہو جائے تو سمجھ لو کہ اب وہ اپنے حال میں درجہ کمال کو پہنچ گیا؛ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کمال کو پہنچنے کے بعد زوال سے ڈرا جائے۔
"فقیر کی خوبیوں میں سے اپنے رازِ مکتوم کی محافظت اور اپنے نفس کے جھانسوں سے ہوشیار رہ کر فرائضِ محبوب کا ادا کرنا ہے۔"
غرضیکہ فقیر وہ ہے کہ اس کا ضمیر اغراض و ہوائے نفسانی سے محفوظ رہے، اور قیدِ نفس سے ہوشیار رہ کر اپنے معبودِ حقیقی کے فرائض کما حقہ ادا کرے، اور اس قدر ہوشیار رہے کہ جو اسرارِ باطنی اس پر منکشف ہوں ان کو ظاہر نہ ہونے دے، اور ہمیشہ اپنے حال پر قال کو نہ آنے دے؛ اور یہ علامت اس فقیر کی ہوگی جو کیفیتِ بشریہ سے متجاوز ہو کر عبدِ مطلق ہو چکا اور واصل بحق ہو گیا۔
"افضل ترین درجہ فقر کا یہ ہے کہ وہ صبر کے ساتھ دنیاوی تنگ دستی کو اس حد تک گزارے کہ میدانِ حشر کی محتاجگی تک وہ قائم رہے۔"
صفحہ۱۱۱
یعنی فقر پر ہمیشہ صبر کے ساتھ رہنا فقیر کا درجہ کمال ہے، اور یہ مرتبہ عبدیت کا خاص مقام ہے۔ مقامِ عبدیت مقامِ فنا ہے۔ مقامِ فقر وہ مقام ہے جہاں مقامات بھی فنا ہو جاتے ہیں۔ غرضیکہ مقامِ فقر پر ہی کیفیتِ اعمال اور آفاتِ مال و مصائبِ زوال کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ اس اجمال کے ظاہر معنی یہ ہوں گے کہ غنا پر فقر کو فضیلت ہے، اور جب فضیلتِ فقر ظاہر ہو جائے گی تو فقیر اس امر کا عہد کرے گا کہ میں جادۂ فقر سے کبھی سرتابی اور روگردانی نہ کروں گا۔
"فقیر وہ ہے جو کسی چیز کے ساتھ سوا ذاتِ پاک سبحانہ و تعالیٰ کے، آرام نہ پکڑے۔"
اس لیے کہ اس کی مراد سوا اس ذات کے کوئی نہیں، اور اصل مطلب یہ ہے کہ بغیر اس ذاتِ غنی جلّ شانہ کے تو نگری حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو جب اس ذات کو پا لیا، تو نگر ہو گیا؛ اور یہ ظاہر ہے کہ وجودِ فقیر ذات کے سوا ہے۔ تو جب تو نگری ما سوا کو ترک کیے بغیر نہیں پا سکتا، تو خود وجودِ فقیر غنا و تو نگری کا حجاب ہوا۔ تو جب تک یہ وجود جو ما سوائے اللہ سے ہے، فنا نہ ہو جائے گا غنی نہیں ہو سکتا؛ اور جب اپنے کو فنا کر لے گا غنی ہو جائے گا۔
اہلِ تحقیق کے نزدیک یہ نکتہ نہایت باریک اور لطیف ہے، اور اس کی تحقیق و حقیقتِ معنی یہی صحیح ہو سکتے ہیں کہ:
اَلْفَقِيرُ مَنْ لَا يَسْتَغْنِي عَنْهُ.
"یعنی فقیر وہ ہے کہ اس کی ذات میں ہرگز غنا نہ ہو۔"
اور یہ وہی بات ہے جو پیرِ کامل حضرت عبداللہ انصاری ہروی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی: کہ ہمارا رنج و اندوہ ابدی ہے، نہ ہمارا مرکزِ ہمت مقصود پا سکتا ہے، نہ ہمارا وجود کلیۃً دنیا و آخرت میں فنا ہو سکتا ہے؛ اس لیے کہ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے مجانست لازمی ہے اور وہ مقصودِ ازلی ہمارا ہم جنس نہیں۔ اور اس کے فرمانے اور اعراض کرنے کے لیے غفلت کی ضرورت ہے اور درویش غافل نہیں ہوتا، وہ تو دوامی خدمتِ ذمہ ہے اور ایک راہِ مشکل گزار سامنے۔
غرضیکہ ہمارا دوست وہ ہے کہ اس سے ملنے کے لیے ہماری سعی مدد نہیں کر سکتی، اور اس کا شربتِ دیدار حاصل ہونے کے لیے ہمارے اختیارات کو کوئی دخل ہی نہیں، اور اس کا وصل حاصل کرنا مقدورِ خلائق سے بالاتر۔ فنا ہونے سے اس کیفیت میں تبدل نہیں آتا اور باقی رہنے سے وہ متغیر نہیں ہوتا۔ پھر فانی محض باقی کیونکر ہوتا کہ وصل حاصل کرے، اور باقیِ ازلی کس طرح فانی ہوتا کہ فانی سے قربت کرے۔
مختصر یہ کہ اس کے طالب اور دوست کا کام محنت و مشقت میں رہنا ہے، اور جو کچھ لوگوں کے بیانات ہیں وہ سب دل کی تسلی کے لیے گھڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح اپنی جان کو تسکین دینے کے لیے مقامات و منازل و طریق کے نام رکھ لیے ہیں، ورنہ وہ جمیلِ حقیقی ان تمام اختراعی ناموں اور مقاموں سے پاک اور بالاتر ہے، اور وہ ذات اوصاف و احوالِ خلق سے منزہ۔
"فقیر کی تعریف میں یہ ہے کہ جب نہ ہو، تو خاموش رہے اور جب ہو، تو خوب خرچ کرے۔"
اور فرمایا:
اَلِاضْطِرَابُ عِنْدَ الْوُجُودِ.
"جب ہو تو مضطرب رہے۔"
یعنی جب نہ پائے سکوت کرے، اور جب پائے تو دوسرے کو اپنے سے زیادہ حق دار سمجھ کر اس پر خرچ کرے۔ اور یہ بھی فرمایا: کہ جب پاس ہو تو اس کو خرچ کرنے کی عجلت میں بے قرار ہو۔ اور چونکہ انسان کا مقصد لقمہ ہے، تو جب لقمہ حاصل ہو تو خود کھانے کی بجائے دوسرے آدمی کو اپنے سے زیادہ حق دار جانے اور اس پر وہ لقمہ صرف کرے؛ اور جب اس کی مراد لقمہ اسے حاصل نہ ہو تو اطمینانِ قلب کے ساتھ خاموش رہے۔
اس مقولہ میں جو حضرت ابو الحسن نوری نے فرمایا، دو معنی ہیں:
ایک فقیر کا سکون و اطمینان بحالِ عدمِ رضا ہونا۔ یعنی خواہش و مراد کے خلاف میں خاموش و ساکت رہنا، اور حالِ رضا وجودِ لقمہ کے وقت دوسروں پر خرچ کر دینا۔ اور یہ دونوں باتیں وجودِ محبت کے بغیر نہیں ہو سکتیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ راضی برضاۓ محبوب مستحقِ خلعت ہوتا ہے اور عطا تقرب کی نشانی ہے۔ اور محب تارکِ خلعت اس لیے ہوتا ہے کہ اسے عطائے خلعت میں علاماتِ فرقت نظر آتی ہیں۔
دوسرے یہ سکونِ فقیر عدمِ وجودِ لقمہ میں ہو، اس لیے کہ وجودِ لقمہ وجودِ ماسوی اللہ ہے اور فقیر ماسوی اللہ سے آرام و سکون نہیں پاتا۔ اسی وجہ سے وہ ماسوی اللہ کو ترک کر دیتا ہے۔
اور یہی معنی شیخ المشائخ حضرت ابو القاسم جنید بن محمد الجنید رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کے ہیں جو آپ نے فرمایا:
اَلْفَقْرُ خُلُوُّ الْقَلْبِ عَنِ الْإِشْكَالِ.
"فقر نام ہے تمام توہمات سے دل کا خالی رکھنا۔"
صفحہ۱۱۳
جب فقیر کا دل تمام ترردات اور وہموں سے خالی ہو جاتا ہے، غرض سوا ایک کے اپنے دل سے نکال دینے کے سوا اور چارہ نہیں رہتا، اس لیے کہ وہ تمام غیرِ خدا اور ماسوائے اللہ ہیں۔
"فقر دریاۓ بلا کا نام ہے، اور فقیر کے لیے بلا ہے؛ فقر میں عزت ہے۔"
اس پر ظاہر ہے، اور فقیر تمام اس کا حال ہے، اور حالِ فقیر زائلِ محبت اور محبتِ محبوب کے ذریعہ سے آ پہنچتا ہے۔ جیسا کہ دیدارِ طالبِ دیدارِ کامل ہو جائے، اور اغراض و خیال و حضورِ جمال کے گیل دینے کے لائق ہو سکے، اور فرمانِ محبوب ہی کانوں کے سنیں گے۔
غرضیکہ محبوبِ حقیقی کا عزیز بندہ وہی ہے جو بلاۓ محبوب بطیبِ خاطر اٹھائے۔ اس لیے کہ وہ بلا جو از جہتِ محبوب آائے، عزت و و حاصل ہے؛ اور تمناۓ دنیا و بلاۓ عرشِ دنیا حقیقت میں خوار ہیں۔ اس لیے عزت اس بندے کو ملنا ہے جو سچائیِ محبوب کے ساتھ اپنے حضور حاضر رہے، اور ذات اسے جو مشاہدہ کرے۔ اسے اپنے کو نشانِ محبت بنایا۔
لوگوں کو! بلا نظرِ شانِ حضوری ہے، اور رامِ غیر اور عیشِ غنا وہ بلا ہے جس کا مت مشاہدہ (حاضر بصورتِ حسن سے) وہ عاجز غنا ہے اور جو اعظمِ حضورِ حسن ہے وہ ذلیل۔
فقراء کرام رحمہم اللہ جمال اور دیدار کو بہر صورت اولیٰ پر معرفت ہے۔ حضرت جنید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
"اے جماعتِ فقراء! تم عارف ہو نہ بننے کی وجہ سے ممتاز ہوئے ہو شان، اور یہی تمہاری عزت کا موجب ہے؛ پس لازم ہے کہ اپنی خلوتوں میں ہوشیار رہو قریب ہو۔"
اور دیکھو کہ اپنے رب کے ساتھ اس وقت تم کس طرح ادا کرتے ہیں، اور تمہیں معلوم ہے جب لوگوں میں تم درویش مشہور ہو جاؤ اور وہ تمہارے حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر منکرِ عظمت دیکھیں تو اس وقت تمہیں درویشی ادا کرنے میں ناسمٹ لو؛ یہ تمہاری اصلیت کے خلاف تمہارا نام اور ریس، تو تم ان کی اس آواز و پند سے سنو۔ اپنے کو با انصاف دیکھو، تم ایک فقیر جانو۔ اس لیے کہ بدترین انسان وہی مردِ خدا چاہیے کہ لوگ اسے بہترین انسان دیں، لوگ اسے درویش جانیں اور وہ درحقیقت ایمانِ بے گراں سے غنی ہو، اور محبت...
صفحہ۱۱۴
منہ موڑے، وہ کامل مرد اور درحقیقت وہ درویشی ہوا، اور سب سے زیادہ افضل وہ ہے جو درحقیقت اللہ پاک کا مردِ خدا ہو۔ اس کی مثال جیسے کامل ہو جاتے ہوں درحقیقت اور ہو۔ اس طرح ہے جیسے کوئی ہو اور طبیبِ حکمت مریضوں کا علاج کرتا ہو، مگر جب بیمار ہو تو اس کی طب سے اسے کچھ فائدہ نہ پہنچے اور دوسروں کے آگے جھکتا پھرے کہ علاج کرائے؛ مگر طبیب کہے اور وہ درویش نہ ہو، اسے دوا کے مادے سے مطلق بے خبر ہے۔
اور اس کی مثال جس کو لوگ درویش جانتے ہیں: طبیبِ حقیقی ہے کہ فی الواقع طبیب ہے اور تمام مریضوں کا علاج کرتا ہے اور جب خود بیمار ہوتا ہے... اور اسے دوسرے طبیب کی اسے ضرورت پڑے گی، مگر اس کے تجویز کردہ نسخے سے فائدہ خود ہی اٹھاتا ہے... اس کا خیال کہ لوگ مریض کہیں، لوگ طبیب کامل نہیں جانتے، اور وہ کامل مرد ہوتا ہے اس لیے کہ ایک طبیبِ کامل سے لوگ طبیبِ کامل نہیں مانتے، اور وہ عوام کی مشغولیت سے آزاد رہ کر اپنے نظامِ حکمت کا پورا نظام ہوئے سے ہے۔ اپنے مزاج کے موافق کے بغیر لطیف بشریت، معطر، ہوا معتدل حاصل کر کے...
تاکہ اس کے پاس مریضوں کا اثر بھی نہ بنے، اور عوام کی... اس کے حال سے بالکل بے خبر ہیں۔
بعض عارفین فرماتے ہیں:
اَلْفَقْرُ عَدَمٌ بِلَا وُجُودٍ.
"اصل فقر عدم بلا وجود کا نام ہے۔"
اس کا مطلب واضح طور پر بیان کرنا سخت مشکل ہے۔ اس لیے کہ فقر میں... ہوتی ہے اور جب تک عدم کا نام ہے وجود نہ بیان کی طرح کیا جائے۔ عدم کا مفہوم اس بارِ سوائے اللہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ان کے نزدیک فقر کوئی چیز اور اعیانِ اشیا کا اجتماع اور اقوال و افعال ان کے باطل ہیں۔ اس لیے کہ فقیر اپنی ذات میں معدوم نہیں ہے؛ اور اگر اس عبارت میں عدم سے عدمِ مراد نہ لیا جائے بلکہ عدمِ آفت مراد ہو تو صحیح ہے، اس لیے کہ آفت اوصافِ انسان سے ہے...
اور فقیر کا قرب و...
گو کوئی صفت... اور وہ صفتِ ربوبیت الٰہی سے... عَزِيزٌ إِلَى اللَّهِ... مَوْصُولٌ إِلَى اللَّهِ
ذلیل ہے... جب اس کو معدوم کر دیا تو انسانی رفتار کو بھی معدوم کیا، وہی یارِ منزل حقیقی وجود ہوگی؛ اور اس میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔
پس میں نے کلام کا یہ اربابِ علم ایک گروہ دیکھا جو نہیں جانتا، تو وہ اس قول کا استہزاء کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قال غیر معقول ہے... اگر دوسرا دیکھا تو جو اس قول کا ماننے والا اور اس پر عقیدہ رکھتا ہے کہ اَلْفَقْرُ عَدَمٌ بِلَا وُجُودٍ ہے۔
اور حقیقتِ حال یہ ہے کہ اصل حال دونوں کو معلوم نہیں، اسی واسطے دونوں...
ہاں تمام فراہم کردہ صفحات کا تحریری (Text) متناظر درج ذیل ہے:
صفحہ ۱۱۵ اس نقل میں موجود نہیں۔
صفحہ۱۱۶
...رد ا ج 5و نے .-ای گروہ بھی رنگم رصراقت لم ہوااوردسرا ۳-ل رت جان کر: بب میا ایک چا کی دوسرے نے عم اور تا ے عرادنا قاملِ تحریف صفات نےکرستودہ صفا تکی طل بکر نی ترک تکوستودوشعفت عف بگولیا- اورورخیقت بات بی ےکر نف ر کےسعتیکلیہ کے یان سے فخودورولیش بھی عارل اور ے ورولی پروی کا کام سےحکتسب جال کے تام افا لکو دراو لی می قولیت بت عاسل ال تتقصود کے اسبا بکلیہ سے ق لا یکا نہتگراسراادالہ یک یگزرگاە وی درو ہہوتاسے اور ج بتک ہوی تک سے۔ ایک دقت وہ جا ےک تمام افعالل درولیش قیرکسب سے جاتے دبا ہو ہیں۔ ال وت اس کپ لکی بت بھی اس سے تفع ہو انی ہے)ا(۔ اورالفاط دس یکوحتتا ےکوئی تیر نت بیئتیں بل اسرارورمو ز اہی ے جو پوٹخیر یر واردوصادروتا سےا سیگ لگز رگا نی رہوتا ہے خودراہ نکر زویا صاحب انقیار۔ یق یکا ممکواپے افقیار ےی ںکرنا۔ نکی کو اپنے اغیارے لیتاء ند یکو پااختیارخودو کا ہے۔ اگر چو ون یٹ الجرذات واجب تع لی شاء سے نی ر ےگ ذات تی شال کا یی نان خائ ے۔
ھم نے ای کگردہاورگھی دیکھا جو مدگ یکلام اورائل ز بان تھا۔ لمفمون دہ ا وجودکی ے کال عی نفقر جا تھا اوراسے ببہ تدم پالشا نتھری فکتا تھا۔ دوس اگردو دی اک یقت نر کے بیان م ادرعدم نف ی جیا نکومقدم جات تھ اور ننق رم صفات نی کے” قرارد ی تھ۔ ایک گردہ ایا دیھا کہ اس کے نز ویک عفوت ام جب ہی عاصل ہوقی ہے تہ طلب می میںنی دی فقھرہے اوردرتقیقت متا مگردہ اپنے اپے خیالات کے تیابوں یں قیقد نقرسے موب ہیں۔ تحیق تک دکی جاے۔أی کگروہ دیکھا ٹن کے نزو موجودات کیک سوا ساب تک مم ٹیک ام اس لیک سب سے کال ولابیت ان سکاب یھنا ضمروری ہے اور اس ہی تو لکی عقیقت سو طرزٹ یکرنا اور انس کے کیک نہکی محبت پیا ہونا ہی ضطایت الخایا ت أظر ہے و طال بج یکو ای تقییقت کے ببھے اض چار یں اور اس را وکوکبور کسے خی رکا میا یل اور انی عبارا ت کا اکچھی طرح جھ نا اس راس ت کی رادو لازگی رکم شش اکہراہ ہت ور محبت ے ناواقف ر ہک رعوا مکی طرح موک مان پٹ جانمیءااس لیک رتا قواعداصول سے یلت ہیں اورقمام جن تیات فرو سے پچ رم
١۔ بقول شاعر: تم ذات خداے نہ جداہو شراہو الج یکومعلوم ہے مکون ہو کیا ہو چوش خدائی محبت بر درست خدرد داد گواہی بر تو نضسب
صفحہ۱۱۷
بابِ تصوف
فروع سے بے خبر رہا وہ اصول سے یقیناً بے خبر رہے گا، اور جو اصول سے بے خبر ہوا وہ کسی جگہ بھی صحیح نہیں اتر سکتا۔ یہ اس لیے میں نے کہا تاکہ تم ان معنی کی راہ پہلے طے کرو اور اس کے حقوق کی رعایت کی طرف مشغول ہو سکو۔
اب ہم تھوڑے سے باب تصوف میں فرقہ صوفیہ کے اصول و اشارات بیان کریں گے، پھر ان مردان خدا کے اسماء گرامی بتائیں گے جنہوں نے اس شاہراہ کو عبور فرمایا اور منزل حاصل کی۔ پھر صوفیائے کرام کے مسلک پر بحث کریں گے تاکہ تم سمجھ سکو کہ ان کے اختلافات، اختلاف نہیں۔ پھر معرفت و حقیقت و احکام شریعت کا تذکرہ کریں گے۔ پھر بعد مقدور ان کے مقامات اور مقامات، رموز و حقائق و آداب بیان کریں گے تاکہ تم پر اور دوسرے پڑھنے والوں پر اس مقام کی حقیقت کا انکشاف ہو سکے۔
وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ۔
صفحہ۱۱۸
ال تھا لی بل مد ۂکاارشادے: لویب الاخن الین الازضض شع ع َو 1اط الہ لذِتَ اڑا ملماہ4 )0
“ا بنگان لی دہ ہیں جو ز شن پہ جح کک جیلتے ہیں اور جب چائل آنیں پیر و دہ ججاے جواب کے مان سےکہہدیتے ہی ںکہاسچھاں خل لریی۔
اورتحخرتگحھر ملا نے فرمایا: مَن سَوع ضَوٴت اَهل النّضَوي فلا بُڑمَنْ علٰی ُا ِهِمْ کيبَ عِنْد اللِيِنَ الْعافْلیْنَ .
یجن ینس نے بولی تو فک یآوا زی نکرا نکی دکو تکوقبدل شہکیاد انل کے نزدیک ناظوں می ں کل اگیا_”
حم یھنا ضردرکی ہک رص وٹیکون ہے اس لہ لوگوں نے نام صوئی کی بہ تک تنرٹیں نا ری ہیں اور اس پٹ می بہ تک یکنای بھی جلیف ہو گی ہیں۔ ایک جماعت کی س ےکعوث یکوصونی اس کہا چاتا کے ا اوڑھتا ہے۔ ایک جماع تکہتی ےکرصوٹ یکو صصوئ اس لی ےکہا جاجا س ےکدہ برونر قیاصت صفِ ال مٹش ہوں گے ء ای کگردہ اس طر فگیاکہ صوئی د کہا جا سکتا جواصحاب ہے مٴقہ کے سا محبت د ولا کا رابطہ ر گھے۔ ایک فرقہسییے لاصو کم سے چو عفا ےشن ہے۔ شف جس کے انددد باہرصفائی ے ووصوئیکہلا کا تار ہے۔ اکر چٹھا وط رکیقت اان و بات ٹس ببت سے لطاکف حامصل ہو سے ہیں نا نآ خری مدکی تھریف کے انقبار سےلفوئیمسنی اس کےععد: ہیں کےگر چرمغا صفاتی نی ہے اور صفائی ہر پپہلد سے اکچی ےاورمفال ایا ضدکرورت ےے۔
او رتضور فرمایا: مےللا ن ےبھی
١۔ سور؟الفر ان :٢۳۷
صفحہ۱۱۹
٭حمصمحصصفاکضرآ (ٰش۰-ص-صصسچ-سظت ذَھَبَ صَفُو الڈُنیا وَبَقیٰ کذرھاً .(١) “دنا کی صفائی جا ی ری اورا لک یکدورت پائی روگئی ”'
۔ اور پہ رتاہرو اع اور ظا ہر ےک لیف وصاف زاو ری وکدر چزعور:ظور ہے و ےک ال اصوف ےے اپے قما معاطاتِ اظالیٴ ومعاشی وموای ٹیم بک لے اوراپے د لکدورستيآفاتددنیا سے صاففر ما لیے۔ اس لیے ایس صوثیکہاگیا اور اسم عارفوں کے لیے اما اعلام سے ےکیونل ال تصوف کے قط رات قلمیہ اوراموراتی عالیہ ال ام ےکی بڑ کر ہیںء درتقیقت بلہ لفظط“صوئی” ان صفات کے با نکی تر جمالی کے ےکافی ہی نکی اود ان کے معاطا تتقرب پر ا لک تتریف می نٹیں ہ وکتی۔بابرمیں ا صوثی کامبراء اتا تی “فا ”نکر اسے قراردیتا امم صفت ا ہوکھا۔ نی پھر یز مانر وہ ےک عفر تعن تھالی شی نے عوا مکو قیقت! نقصوف اوراہل تحسوف سےقیاب میں فر ران کے منص ب تھی لکی بلعدی اورورائی تق یکو عوام کے واوں ےہ یکردیاے۔
بی بد ےک لی جماعت تو شش یکرتسوف ایک طری تکا نام مشابرة ہے جو پا مین مددتا ےاوراملاں اہر یکر دتا ہے کوئی ا گان میں بب کگیاکہ برصوٹی اورھوی ایک تقیقت بے چیز ہے اور ہنا من ہے بے ال نام کیجتف لیذ جال رہپ نکر کے اہم اب لعل مکواپنے ساجحھ مکی نظاہ رین نظروں سے دس بھا لمکرسرے سےتصوف کے تھر ہو باوجود گے اور کہ و ومخقت حرا فلت میں تو ب ہیں من انی انی نظ نین رسفشن ہیں۔ ا نکی پیردئی جائل وا مکا لا نعام ن ےکی اورصفاء با نکی خوابش ہی دل سے کال دبی اورحلف صالھین اورسحا ہکرام رضصوان ایہم کےط ری ہکوچھوڑ ٹیٹے_
“لی اک رق واٹتی صوئی کا متلائی ہو بادرےکرصوفی ہہون ےکی صنت شمان الم سِفَة الیْرِیق إِن اٹ الَحْقِیْقي صُوفِيًا عَلی صرف صد بی اکبرنیشی الل عنم تی ۔”
١۔ ا بیالفاظ یں بفارکی مل ےمان امام نے" اورامامنسائی تماب الجہاؤ می نے ''کتاب الأشربة ”)باب۷۵:( یس ساتھھروای ان الفاظ کے تکیاے۔ “ذہب صفواأقتي” اما مال اے “کشف الخفاء ۵۰۳/۱” یش ءاین مایہ نے اتی “سن "یس ۵) ۳۰۳(اما مین بخبل ے انا “مسمد” )۳/۳۹(شاام برائی نے “المعجم الکبیر” اوزائی ۸۷۹/۱۰ش٤ امام ''مسندالشھاب” ے الفاظ /۳ے۹اشل ان کے ے۔إِنمَابتمي ساتھ روا تکیا من الدئیابلاء وفتنة ء والَمامٹل عمل اأحد کم کمٹل الوعاءء اذاطاب اأعلاہ طاب اأسفله ء واڈاخبثٹ اأعلاہ خبث أسفله.
صفحہ۱۲۰
قریب ہے کہ فقر کفر بن جائے۔ اس لیے فقیر وہ ہوتا ہے جو کسی سبب کے ساتھ وابستہ ہو اور مسکین وہ ہوتا ہے جو اسباب کو منقطع کردے۔
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ سے) اسے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا ، وَكَادَ الْحَسَدُ أَنْ يَسْبِقَ الْقَدَرَ امام زرکشی نے اسے "التذكرة" میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی شاہد روایات وہ ہیں جنہیں امام نسائی اور امام ابن حبان نے اپنی "صحیح" میں ابراہیم کے طریق سے، اس نے حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام بارگاہ صمدیت میں عرض کیا کرتے تھے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، فقال رجل: وَيَعْتَدِلَانِ؟ قال: نَعَمْ. امام بیہقی نے اسے "شعب الایمان" (۴۳) میں، اور ابن عدی نے "الکامل" میں یحییٰ بن یمان کے طریق سے، انہوں نے ثوری سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے یزید الرقاشی سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ امام طبرانی نے اسے "المعجم الأوسط" میں عمرو بن عثمان الکلابی سے، انہوں نے عیسیٰ بن یونس سے، انہوں نے سلیمان التیمی سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ امام سخاوی نے "المقاصد الحسنة" میں اس کی تمام اسناد کو ضعیف کہا ہے، امام عراقی نے "المغني عن حمل الأسفار في الأسفار" میں یزید کو ضعیف قرار دیا ہے، امام طبرانی نے "المعجم الأوسط" میں ایک اور سند سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: كَادَتِ الْحَاجَةُ أَنْ تَكُونَ كُفْرًا. اس میں بھی ضعف ہے، امام ہیثمی نے "مجمع الزوائد" میں کہا ہے کہ طبرانی کی اسناد میں عمرو بن عثمان الکلابی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور وہ متروک ہے۔
حوالہ کے لیے دیکھئے: المقاصد الحسنة للسخاوي (۷۸۹)، تمييز الطيب من الخبيث (۹۷۵)، کشف الخفاء للعجلوني (۱۹۱۹)، الجامع الصغير للسيوطي (۲۱۹۹)، حلية الأولياء لأبي نعيم ۵۳/۳، ۲۵۳/۸، ۳۰۹، الجامع الكبير ۲۱۳/۱، أسنى المطالب (۱۰۲۷)، مسند الشهاب للقضاعي (۱۰۰)، الغماز على اللماز للسمهودي (۱۹۰)، الدرر المنتشرة للسيوطي (۳۲۶)، فيض القدير للمناوي ۵۴۲/۴، تاريخ اصبهان لأبي نعيم ۲۹۰/۱، المعجم الأوسط للطبراني (۲۷۳)، شعب الايمان للبيهقي (۳۲۸)، المطالب العالية ۱۳۹/۱، ميزان الاعتدال ۴۷۴/۱، المغني عن حمل الأسفار في الأسفار للعراقي ۱۸۴/۳، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد للهيثمي ۷۸/۸
صفحہ۱۲۱
گویا دوسرے الفاظ میں اپنی صفوۃ کا مظاہرہ فرمایا کہ تعلیم مصطفی علیہ التحیۃ والثنا یہ ہے کہ سوا ذات باقی کے سب فانی ہیں اور فانی سے وراء الورٹی ذات باقی ہے۔ تو جس کا دل فانی سے فانی تو بندھا ہوا ہے وہ سمجھ لے کہ صورت فانی فنا ہو گئی اور اس کی تمام محنت رائیگاں گئی اور جس نے اپنی جان حضرت باقی کے سپرد فرمادی اس کی شان یہ ہے کہ اس کا نفس فانی فنا ہو جاتا ہے اور وہ ذات باقی کے ساتھ دوامی بقا میں رہتا ہے۔ لہذا جس نے ذات محمد ص کو چشم ظاہر سے دیکھا ہے وہ اپنا اسلام اور ان کی تعظیم ختم کر دے ، اس لیے کہ وہ صورت ظاہری تو فنا ہو گئی اور جس نے اس ہستی پاک کو بچشم حقیقت دیکھا ہے اسے نقش ظاہری سے کچھ تعلق نہیں۔ اس کے نزدیک اس صورت کا رہنا اور غائب ہو جانا دونوں برابر ہیں۔ اس لیے کہ حالت بقاء میں وہ اپنی بقاء منجانب اللہ سمجھتا اور یقین کرتا ہے ، اور کیفیت فنا کو بھی منجانب اللہ جانتا ہے۔ جب اس نے ہر دو کیفیات منجانب محول حقیقی دیکھیں تو محول سے اعراض کر کے محول حقیقی کا اعتراف کر لیا اور جان لیا کہ ہر محول یعنی متغیر ہونے والے کا وجود محول حقیقی یعنی متغیر کرنے والے اور پھیرنے والے کے قبضہ قدرت میں ہے۔
تو پھر فرمان رب العزت جل مجدہ کے مطابق وہ ہر شے کی تعظیم و تکریم کرنے والا ہو گیا اور بنظر دل کسی غیر کو دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا اور نظر ظاہر کو بھی ماسوا اللہ سے بند کر لیا۔
مَنْ نَظَرَ إِلَى الْخَلْقِ هَلَكَ وَمَنْ رَجَعَ إِلَى الْحَقِّ مَلَكَ۔ (جس نے مخلوق فانی کی طرف نظر کی ہلاک ہوا ، اور جس نے وجود باقی اور ذات حق کی طرف رجوع کیا ملکی صفات سے متصف ہو گیا )۔ یعنی ماسوی اللہ اور مخلوق کی طرف نظر ہونا نشان ہلاکت ہے اور رجوع بحق ہونا علامت ملکیت ہے۔ تو خلو دل ما سوائے اللہ کے یا دنیا و مافیہا سے یہ ہوا کہ جو کچھ مال و متاع غلام اس کے قبضے میں ہو، راہ مولی میں دے ڈالے اور ایک کملی میں لیٹ کر دربار رسالت پناہ میں حاضر ہو۔ جیسا کہ صدیق اکبر کا واقعہ ہے کہ سب مال و متاع ، غلام، لونڈی اللہ کے واسطے تصدیق کر کے اس شان سے حاضر ہوئے کہ ایک کملی جسم اطہر پر تھی۔ حضور ص نے فرمایا مَا خَلَفْتَ لِعَيَالِكَ ؟۔
ابو بکر ! اپنے بیوی بچوں کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو؟ عرض کی : اللهُ وَرَسُولُهُ۔ بیوی بچوں کے لیے دو خزانے بے خزاں اور دو گنج بیکراں چھوڑ کر آیا ہوں۔ ایک محبت واحد حقیقی دوسرا متابعت رسول بھی۔ اس لیے کہ جب میرا دل تعلق دنیا سے آزاد ہو چکا تو مجھے ناگزیر تھا کہ گندگی اور میل کچیل سے صفائی حاصل کروں۔ یہ ہے مکمل صفت صوفی صافی و عارف صادق کی اور اس سے انکار کرنا در حقیقت انکار ذات باقی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ در حقیقت، حقیقت تصوف یہی ہے۔ اس لیے کہ صوفی وہ ہے جو صاف دل ہو، اقسام کدورات سے اور صفائی کی ضد تکدر اور میلا پن ہے۔
صفحہ۱۲۲
ووسرےکدرولوث بد یا ہوناصفا تی بش رگی یل داٹل ہے اوردرتقیت صصو فیدہ ے جوطلیق گدر لاف ان بیس فکر کےز نان مھ پرکیاریت بش ریہ نے خلہکیا. برا لکیت خلبۂ بش ر ہت پہ جب ےگ رک صفامت لشرگی سے پا ما تر ہوجاے۔ لیا کہ جحالت اتتخراق وو بیت مشاہر ٤ مال و صن اپناعسحسن بی نے ڈالاتذ دوخب بشریت درجہ خذاحی تکوڑ گیا بچمرجب مشاہ صن خہابمت پٹ وغلپ” بی ریت فا ہوگیا اور یں زنالن مرک زہان سے ف حا نَلومَا هْدَابَکرا” (104 لگیا۔'میشنی خدا یحم ہہ بشرنٹیں ہے” ۔)یہاں در یقت بُخ صن وی نے زنان مصرکی کیفیں شر یکوبد ڈالاتھا لی انہوں مگ نے اس ولوب کا نان ایسف علیالسلا مک بنیا اور فی لوا اپنا حعال بیا نکیاتھا۔ ا کی تا یرٹ مشا نا مم یقت رہم الش نے فرمایا:
صفائی مفات بشریہ ےیل ال لے کہ بش رک یحلیق سی اورمٹی سے ہے کے خواس 7ںشکدورت وکا فت ہے۔ہنابرایی یشون فت ولرورت مفیرچا روہیں۔
ق نما ہ رہ وگیاک حم ول صفاءافعال داعمالی سےکجیں ہوسلمااور بش کی صفت نال ماہرہ ود ات ے زال ہون ائمکن ہے۔ اس لیک تکوافعال صف داعوای ےکوی نہد تی اود اسم مفا سی نام ای قب ےکوئی حاص٥ نی سکر کت ب۔: اَصَفَا صِفَهاّخباب وَهُمْ شَمُوْسٌ' ٌللا تاب .“مخت صفامحبو بارن ال یکیصفت ہے اوردددہ می کہ اپتی صفت شی ے فاٹی ہو کرصضیی ممبوہان ال ساتھ کے باقی ہو چچے ہیں اوھ باان بارگا دہ ہی ںکہاُ نک سیت عالی ال حا کان روں یں :شل ا اورنمایاں ںآ قاب کے رشن ہے جس پ ہآب رکا بھی توا نیس۔ چنا نچ صدیثٹش ہ ےکہمرددعالم 7سے سا ہکپاریشی الڈشت م نے نحضرت حارش بن ز ید نشی ۴ عنہ تلق وریاف تکیا۔حضمور فرمایا:د۔ ط ےکا نے
َبّ نوز الله لب بلایمَان. “وەوویئرہ ےس کا دی ال تا یٰ نے و یایمان سےمنورکردیا سے
ا یکا چر راڈ رتا ےک اس می سلکیفی بت معمر موجود ہے )یچنی جس طرخ چان ھآ غاب کو دک ےک ررؤشن ہو چاجا ہے۔حعحفرت عارش بن ز یڑ کے چرےکود کے سےء د یھن وانے میں پور
١۔ -ور8 ايٰوس :٣٣
صفحہ۱۲۳
آجاتا ہے ) اور حارثہ " کو اللہ نے اپنے نور سے مصور و مخلوق فرمایا۔ کہتے ہیں کہ مشائخ سلاسل میں سے کسی نے یہ شعر فرمایا :
نور آفتاب و قمر جب بیک دیگر مل جائیں تو ان کی مثال توحید و محبت کی صفائی ہے جبکہ یہ دونوں یکجا جمع ہو جائیں۔
لیکن یاد رکھو کہ نور آفتاب و ماہتاب کے وہاں کچھ حقیقت نہیں ، جہاں نور محبت و توحید جبار کی جلوہ ریزی ہو۔ مگر اس مثال نور محبت و توحید کو اس لیے محبت دی گئی کہ اس دنیا میں کوئی نور اس سے زیادہ منور نہیں اور ہماری چشم ظاہر آفتاب و ماہتاب کے نور سے آسمان دیکھ رہی ہے اور بس۔ اور نور توحید و محبت سے قیام قیامت تک کے تمام احوال دنیا میں منکشف ہوتے ہیں اور اس پر جملہ مشائخ طریقت مجتمع ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ جب بندہ قید و مقامات سے آزاد ہو جاتا ہے تو کیفیت مکدرہ سے خالی ہو کر مقام تغیر و تکون سے بھی آزادی حاصل کر لیتا ہے، اور اس میں تمام احوال محمود آجاتے ہیں اور وہ صفات محمودہ کے ساتھ متصف ہوتا ہے مگر اس وقت وہ فی نفسہ قید اوصاف سے بھی بیگانہ ہوتا ہے اور قید صفات سے بالاتر ہو کر حمید و محمود کو نہیں دیکھتا، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی لطائف کے مشاہدہ سے عجب و نخوت نہیں کرتا ، مغرور نہیں ہوتا۔ بلکہ اُس کی کیفیت حالیہ اور اک عقل سے مخفی ہو جاتی ہے اور اس کا ظاہر و باطن شکوک وظنون و اوہام کی دستبرد سے محفوظ بلکہ پاک ہوتا ہے۔ یہ اس لیے کہ اس کی کیفیت حضوری کو ذہاب یعنی حجاب و خفا نہ ہو اور اس کا وجود ظاہری علل و اسباب کا محتاج نہ رہے۔
یعنی مقتضاء صفاء قلب یہ ہے کہ اسے زائل نہ ہونے والا حضور حاصل ہو اور بلا احتیاج سبب سب کچھ موجود ہو۔
حاضری بارگاہ بلا غیبت ہو اور ہر چیز بلا سبب و علت موجود اس لیے کہ جو حضور غیبت سے مٹ جائے وہ حضور نہیں اور جو موجود سبب وعلت سے موجود ہو ، وہ موجود کوئی وجود نہیں رکھتا۔
جب اس درجہ پر صوفی پہنچ جاتا ہے تو دنیا و عقبی میں فنا ہو جاتا ہے اور بظاہر ؟ بظاہر جسم انسانی رکھ کر ربانی بن جاتا ہے۔ پھر اس کی نظر میں زر و جواہر اور کنکر و پتھر یکساں ہوتے ہیں اور جو کچھ اہل دنیا پر دشوار ہوتا ہے وہ سب اس پر آسان ہو جاتا ہے خواہ اتباع احکام ہو یا اور کچھ۔
صفحہ۱۲۴
اللہ نے فرمایا:
چنانچہ حضرت حارثہ بن زید رضی اللہ عنہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے۔ حضور نے فرمایا:
حارثہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: حضور! میں نے آج سچا مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا : حارثہ غور کر کیا کہہ رہے ہو؟ یاد رکھو ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور ہر چیز پر ایک دلیل، تیرے اس دعوی کی کیا حقیقت ہے اور تیرے ایمان کی کیا دلیل ؟ عرض کی حضور ! میں نے اپنی جان کو دنیا سے علیحدہ کر لیا اور اپنا منہ دنیا سے موڑ لیا ، اب میری نظر میں دنیا کا پتھر ،سونا، چاندی، کنکر، کوڑا سب یکساں ، ہے، اور جب میں دنیا و مافیہا سے آزاد ہو چکا تو مقام
۱۔ یہ اس حدیث کا جزو ہے جسے امام ہزار اور ابن ابی شیبہ نے یوسف بن عطیہ کے طریق سے، انہوں نے حضرت ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے۔ مکمل حدیث یوں ہے:
بينما رسول الله الله يمشى اذا استقبلة شاب من الأنصار يقال له حارثة، فقال له النبي كيف أصبحت يا حارثه ؟ قال : أصبحت مؤمناً حقاً ، فقال : انظر ما تقول يا حارثة إن لكل حق حقيقة، فما حقيقة ايمانك ؟ فقال: عزلت نفسي عن الدنيا، فاستوى عندي حجرها و ذهبها وفضتها و مدرها ، فأسهرت ليلي وأظمات نهاري، حتى صرت كأني انظر الى أهل الجنة يتزاورون فيها، وكأني أنظر الى أهل النار يتضارعون فيها، وفي رواية يتغامرون فيها، فقال له عرفت فالزم، قالها ثلاثا .
حوالہ کے لیے دیکھئے:
مجمع الزوائد للهيثمي ۵۷/۱ مصنف ابن أبي شيبة ۲/۱۱، مسند البزار (۳۲) کتاب اللمع للسراج الطوسي (ص) : ۱۰۲) احیاء العلوم للغزالي ۱۵۷/۴ ، أسد الغابة ۳۵۵/۱ (ترجمة أبي عبد الله حارثة بن النعمان الأنصاري رضى الله عنه)
صفحہ۱۲۵
شِكَايَةٍ۔ صفاء ولایت کا نام ہے اور اس کے لیے علامت اور روایت کی ضرورت ہے اور تصوف بلا شبہ حصول صفا کے لیے ایک حکایت ہے۔ جس میں شائبہ شکایت نہیں ہوتا تو صفاء کے روشن معنی ظاہر ہو گئے اور تصوف کا محض تو حکایت ہونا واضح ہو گیا۔ تو درجہ تصوف میں جو لوگ ہیں ان کی تین قسم ہیں : ایک صوفی ، دوسرا متصوف، تیسرا مستصوف۔ صوفی وہ ہے جو اپنے وجود سے فانی ہو کر باقی بحق ہو گیا۔ قید مزاج و طبائع سے آزاد ہو کر حقیقت حقائق کے ساتھ مل گیا۔ متصوف وہ ہے جو اس درجہ کے حاصل کرنے کی آرزو میں تکلف و مشقت و مجاہدہ کر رہا ہے ، اور صوفی بننے کا خواہش مند ہے اور صوفیائے کرام کے رسم و رواج کی پیروی میں اپنی اصلاح کرتا ہے ، اور مستصوف وہ ہے جو مال و منال دنیاوی حاصل کرنے کی غرض سے صوفیاء کرام کے اعمال و افعال و حرکات کی نقل کرتا ہے۔ صوفیاء کے اقوال کہتا پھرتا ہے مگر خود محض بے خبر ہے اور کچھ نہیں جانتا۔ چنانچہ ایسے شخص ہی کے حق میں مشائخ کرام نے فرمایا :
الْمُسْتَصْوِفُ عِنْدَ الصُّوْفِيَةِ كَالذُّبَابِ وَعِنْدَ غَيْرِهِمْ كَالذِّئْبِ۔ متصوف صوفیائے کرام کے نزدیک ایک ذلیل مکھی ہے، ( جو کچھ کرتا ہے وہ محض لغو اور فضول ہے۔ ) اور عوام کے حق میں متصوف مثل بھیڑیے کے ہے ( یا بجو کی طرح ، وہ جو کچھ کرتا ہے سب بیکار ہے۔)
اس لیے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے اس کی مراد تھوڑے سے ٹکڑے کا حاصل کرنا ہے۔ تو خلاصہ یہ نکلا کہ صوفی صاحب وصول ہوتا ہے اور متصوف صاحب اصول اور مستصوف صاحب فضول۔ جو صوفی ہے اسے اصل کشف و وصل محبوب نصیب ہو گیا اور وہ ہمیشہ رسم و لطائف میں مستقیم رہا، اور جس کو درجہ فضول ملا وہ سب سے پیچھے رہ گیا اور رسم کے دروازے پر پڑا رہا اور اس پر حجاب معنی اس قدر پڑے کہ وہ محجوب ہو کر وصل واصل دونوں سے محروم رہ گیا۔ اس حال کو مشائخ کرام نے اس قدر رموز میں بیان فرمایا ہے کہ سب کا بیان کرنا ممکن نہیں تاہم بعض اُن کی رموزات اس کتاب میں ہم بیان کریں گے تاکہ ناظرین کو کافی فائدہ پہنچے۔ ان شاء اللہ
فصل: حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: الصُّوفِى إِذَا نَطَقَ بَانَ نُطْقُهُ مِنَ الْحَقَائِقِ وَإِنْ سَكَتَ نَطَقَتْ عَنْهُ
صفحہ۱۲۶
الجوارح بتقطّع الروابط۔ “صوفی وہ ہے کہ جب کلام کرے تو اس کا کلام اس کے حال کی حقیقت کا مظہر ہو اور کوئی ایسی بات نہ کہے جو اس میں نہ ہو، اور جب خاموش رہے تو اس کی خاموشی اور اس کا جوارح (اعضاء) اس کے حال کے ترجمان ہوں اور علائق دنیاوی سے اس کے قطعِ تعلق کو واضح کرتے ہوں۔”
گویا گفتارِ صوفی اس کے حسبِ حالِ صوفی ہو اور کردار میں شانِ تجرید اس قدر عظیم اور سچی نظر آئے اور دنیا و اسبابِ دنیا سے ایسا انقطاع نظر آئے کہ اگر وہ کلام کرے تو حقیقت کا بیان ہو اور اگر خاموش رہے تو اس کے جوارح سے اس کے قطعِ علائق کی ادائیں نظر آئیں۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“تصوف ایک ایسی صفت ہے کہ بندہ اس کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔” کسی نے کہا کہ یہ صفت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے یا بندہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا: “یہ صفت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے کیونکہ صفت بذاتِ باری تعالیٰ حق ہے، مگر صفت بطورِ مجاز و رسم بندہ کے لیے ہوتی ہے۔”
یعنی حقیقتِ تصوف یہ ہے کہ بندہ کی صفت کو فناء کر دے اور صفاتِ عبد کا فناء ہونا صفتِ حق سے متصف ہونے کو کہتے ہے، اور یہی صفتِ حق ہے اور رسمِ تصوف دوامِ بندہ سے مجاہدات و ریاضات کا التزام کراتی ہے اور بقائے صفتِ استقامت و استمرار اس مجاہدہ پر رکھنا یہ بندہ کی شان ہے، اور اس مضمون کو بالفاظِ دیگر ادا کریں تو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ حقیقتِ توحید میں بندہ کو کسی صفت سے متصف کرنا نہیں، اس لیے کہ صفاتِ عبدیت عبد میں دوامی ہیں اور بندہ کی صفت کی حقیقت بعدِ عدم ہے۔ اور یہ واضح طور پر روشن ہے کہ صفتِ عبد باقی نہیں رہتی بلکہ بندہ میں صفتِ حق کا آنا ہی ایک کل ہے اس کی تمام صفات کا۔ اور ذاتِ فاعل الصفات کے جتنے افعال ہیں وہ سب اس کی ملک اور تحتِ قدرت ہیں۔ پس درحقیقت جو صفت بندہ میں ہوگی وہ صفتِ واجب تعالیٰ شانہ کی طرف مائل رہے گی۔
اسے اور وضاحت سے یوں سمجھا جائے گا کہ جب انسان کو روزہ رکھنے کا حکم دیا جائے تو اس کی تعمیل میں "صائم" (روزہ دار) کا نام مل جاتا ہے۔ تو روزہ رکھنا بظاہر بندے کی طرف منسوب ہے، مگر درحقیقت یہ رسم بجا لانا من جانبِ رب ہے۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی میں حضور نے فرمایا:
صفحہ۱۲۷
کو جناب باری تعالیٰ شانہ نے فرمایا: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ۔ (۱) "روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں دوں گا۔"
یعنی وہ روزہ جو بندہ نے رکھا، وہ میرے حکم سے رکھا اور اس کے تمام کام اُس کے ملک ہیں۔ مگر یہ اضافتِ ملک بندہ کی طرف جو ہے درحقیقت بطریق رسم و مجاز ہے نہ کہ بطریق حقیقت۔ حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
التَّصَوُّفُ تَرْكُ كُلِّ حَظٍّ لِلنَّفْسِ تصوف نام ہے تمام حظوظ نفسانیہ کا ترک۔
اور یہ دو طرح ہوتا ہے : ایک رسمی طور پر، دوسرے حقیقی صورت میں۔ یہ بھی در حقیقت عجیب و غریب شان ہے اس لیے کہ اگر بندہ نے خوشی سے ترکِ حظِ نفس کیا تو فی نفسہ ترکِ حظ بھی تو ایک حظ ہے اور یہ خالص رسم ہے اور اگر خوشی نے بندہ کو ترک کر دیا اور حظِ نفس خود علیحدہ ہو گیا تو یہ فناء حظ ہوگا اور اس معنی کا تعلق در حقیقت مشاہدہ سے ہے۔ اس لیے کہ یہ امر واضح ہے کہ ترکِ حظ یعنی خوشی اور لذاتِ نفسانیہ کا ترک کر دینا یہ بندہ کا فعل ہے اور لذاتِ نفسانیہ اور حظوظِ جسمانیہ کا فنا ہونا من جانب اللہ ہے اور یہ امر مسلمات سے ہے کہ فعلِ عبد محض رسم و مجاز ہے اور فعلِ حق حقیقتِ ذات، اور حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کا وہ قول جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں وہ بھی اس امر کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت ابوالحسن نوری کہتے ہیں:
الصُّوفِيَّةُ هُمُ الَّذِينَ صَفَتْ أَرْوَاحُهُمْ فَصَارُوا فِي الصَّفِ الْأَوَّلِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَقِّ۔ "صوفی وہ ہیں کہ ان کی روحیں کدورتِ بشریت سے مجلا ہو چکی ہوں اور تمام آفاتِ نفسانیہ سے پاک ہو کر حرص و ہوائے شہوانیہ سے خلاصی پا کر دربارِ الہی میں صفِ اول کے اندر درجہ تقرب پاتی ہیں۔ ماسوائے اللہ سے بعید ہو چکی ہیں۔"
اور حضرت ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: الصُّوفِي الَّذِي لَا يَمْلِكُ وَلَا يُمْلَكُ۔
۱۔ اسے امام مسلم نے اپنی صحیح ۱۵۷/۳ کتاب الصیام میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ کل عمل ابن آدم له الا الصیام فانه لي و أنا أجزى به مزید حوالہ کے لیے ملاحظہ کریں : الجامع الصغیر للسیوطی ۸۰/۲ ، شرح المواہب اللدنیة للزرقانی ۹۸/۸ ، إحیاء العلوم ، شرح صحیح مسلم للنووی ۲۹/۸
صفحہ۱۲۸
صوفی وہ ہے جو نہ کسی کا مالک ہو، نہ کسی کی ملک۔
یعنی صوفی وہ ہے جس کی قید میں کچھ نہ ہو اور وہ خود کسی کی قید میں مقید نہ ہو۔ اور یہ تعریف عینِ فنا کی ہے ، اس لیے کہ فانی فی الصفت نہ کسی شے کا مالک بالذات ہوتا ہے نہ مملوک غیر ذات۔ اس لیے کہ ملک اس کی صحیح ہوتی ہے، جو خود موجود ہو اور مملوکیت کا بھی وہی اہل ہے، جو موجود ہو۔ تو مسئلہ واضح ہو گیا کہ صوفی متاعِ دنیا و آخرہ میں سے خود کس چیز کا مالک نہیں ہوتا اور آپ نفس و حرص و حظ اور خواہشات کے ملک میں نہیں رہتا۔ گویا اپنی مشیت اور ارادہ کو ماسوائے اللہ سے منقطع کر لیتا ہے تاکہ غیر اس کی اطاعت و بندگی کا طمع نہ کر سکے اور یہ قول بالخصوص اس گروہِ صوفیاء کے بہت مناسبِ حال ہے جو فناءِ کل کے قائل ہیں اور میں ان کے خیالات کو اس کتاب میں نقل کروں گا تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے اِنْ شَاءَ اللہ، اللہ تمہیں اپنا برگزیدہ بنائے۔
حضرت علی بن عثمان الجلابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ حَقِيقَةٌ لَا رَسْمَ لَهُ تصوف ایسی حقیقت کا نام ہے جس کی تعریف رسمی نہیں ہو سکتی۔
اس لیے کہ رسم مخلوقات کا وہ حصہ ہے جو معاملات میں مستعمل ہے اور تصوف حقیقۃً خاصہ الہی ہے اور بات بھی یہی ہے کیونکہ جب تصوف مخلوقات سے اعراض کرنے کو کہا جاتا ہے تو لامحالہ اس کے لیے رسم و رواجِ مخلوقی سے علیحدہ ہونا ضروری ہے۔
حضرت ابو عمرو دمشقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ رُؤْيَةُ الْكَوْنِ بِعَيْنِ النَّقْصِ بَلْ غَضُّ الطَّرْفِ عَنِ الْكَوْنِ۔ یعنی تصوف یہ ہے کہ عالمِ کون کو بنظرِ نقص و حدوث دیکھے اور یہ بھی بقائے صفت کی دلیل ہے، بلکہ عالم سے آنکھ کو بند کر لے تاکہ یہ دلیل فناءِ صفت کی مکمل ہو جائے۔ اس لیے کہ جب تک نظر عالمِ کون کی طرف رہے گی خواہ ناقص ہو خواہ کامل، تو صفت باقی رہے گی مگر جب کون ہی نہ رہے گا تو نظر بھی اس پر نہ رہے گی ، تو صفت کا فانی ہونا متحقق ہو جائے گا۔
غرضیکہ جب صوفی اپنی ذات سے نابینا ہو جاتا ہے، ذاتِ واجب کے ساتھ بینا بن جاتا ہے اور جبکہ صوفی ہو کر طالبِ کون و فساد ہوا تو اس کے تمام کاروبار کا تعلق اسی کی ذات کے ساتھ رہے گا۔ تو پھر اسے اپنے سوا کسی اور کے ساتھ کوئی راستہ نہیں مل سکتا، تو ایک وہ ہوا جو خود کو دیکھتا ہے مگر ناقص دیکھتا ہے اور ایک وہ ہے جو اپنی آنکھیں ماسوی اللہ سے بلند کر کے کسی کو نہیں دیکھتا۔ تو جو دیکھ رہا ہے اگرچہ ناقص ہی دیکھے مگر ابھی اس کی چشمِ بینا پر حجابِ دوئی ہے۔ اور ایک وہ ہے جو دیکھتا ہے تو اپنی بینائی کی وجہ سے محجوب ہو جاتا ہے اور ایک وہ جو ماسوی اللہ کو دیکھتا ہی نہیں ، وہ اپنی چشمِ حق میں سے محجوب نہیں ہوتا اور یہی اصل قوت ہے جسے متصوفہ اور اربابِ معانی اعلیٰ مقام بتاتے
صفحہ۱۲۹
ہیں، بس اب اس سے زائد شرح کرنا اس مقام کے ساتھ ناموزوں ہے۔
حضرت ابو بکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: التَّصَوُّفُ شِرْكٌ لِأَنَّهُ صِيَانَةُ الْقَلْبِ عَنْ رُؤْيَةِ الْغَيْرِ وَلَا غَيْرَ۔ "تصوف شرکِ طریقت ہے، اس لیے کہ متصوف اپنے دل کو محفوظ کرتا ہے غیر کے دیکھنے سے، اور صوفی کی نظر میں وجودِ غیر معدوم ہے۔“
یعنی جب صوفی پر وحدۃِ ذات کا پرتو کما حقہُ پڑ جائے تو مقامِ توحید میں رؤیتِ غیر کو شرکِ طریقت کہا گیا ، اس لیے کہ جب قلبِ صوفی میں وجودِ غیر کی قدر و منزلت ہی نہیں تو اس سے حفاظت کرنا یا اس کے وہم میں ذکرِ غیر آنا ہی محال ہے۔
حضرت ابو الحسن حصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: التَّصَوُّفُ صَفَاءُ السِّرِّ مِنْ كُدُورَةِ الْمُخَالَفَةِ۔ "تصوف نام ہے اپنے ضمیر کو مخالفتِ حق سے محفوظ رکھنے اور اس کی جلاء و نورانیت کو کدورتِ اوہام سے بچانے کا۔"
اس لیے کہ محبت و وداد نام موافقت کا ہے اور موافقت ضدِ مخالفت ہے اور دوست کو تمام عالم میں سوا اطاعتِ فرمانِ دوست کے کچھ محبوب ہی نہیں۔ تو جب دوست کی مراد وہی ہوئی جو دوست کی مراد تھی تو پھر مخالفت وہاں کیونکر ممکن ہو سکتی ہے اور جب ممکن ہی نہیں تو اس کا وجود کہاں؟
حضرت ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین ابن علی بن ابی طالب رحمہم اللہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ خُلُقٌ فَمَنْ زَادَ عَلَيْكَ فِي الْخُلُقِ زَادَ عَلَيْكَ فِي التَّصَوُّفِ۔ "تصوف ایک نیک خصلت ہے، جو زیادہ نیک خصلت ہے وہ اعلیٰ صوفی ہے۔“
اور نیک خصلت دو قسم پر ہے: ایک خصلتِ نیک بحق۔ دوسری خصلتِ نیک بمخلوق۔ نیک خو بحق وہ ہے جو رب جل مجدہ کی رضا و قضا میں راضی رہے اور نیک خو بمخلوق وہ ہے جو اللہ کے لیے مخلوق کا بارِ خدمت اپنے سر لے اور یہ دونوں خصلتیں در حقیقت طالب کی طرف ہی ہوتی ہیں۔ یعنی ان خصلتوں کا محتاج طالبِ حق ہی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ ذاتِ بے نیاز متصف باستغنا ہے اور رضا و سخط، خوشی و غصہ کے بار اٹھانے سے مبرا و بے نیاز ہے۔ یہ ہر دو صفت در حقیقت نظارۂ وحدانیت میں موقوف و مربوط ہیں۔
حضرت ابو محمد مرتعش رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :
صفحہ۱۳۰
الصُّوْفِى لَا يَسْتَبِقُ هِمَّتُهُ خَطْوَتَهُ۔ "صوفی وہ ہے کہ اس کا خطرہ قلبی بھی اس کے قدمِ ہمت سے قطعاً نہ بڑھ سکے۔“
ہمیشہ اس کی ہمت، اس کا خطرہ، اس کا ارادہ سب یکساں ہو۔ یعنی اس کا جسم جہاں ہو دل بھی وہاں ہو۔ اور جس مقام پر دل ہو اس جگہ اس کا تن ہو، جہاں اس کا قدم ہو وہاں ہی اس کا قول ہو، جہاں اس کا قول ہو ، وہاں ہی اس کا قدم ہو ، اور یہ بلا غیریت نشانِ حضوری ہے، برخلاف ان کے جو کہتے ہیں کہ صوفی اپنے وجود سے غائب ہو کر ذاتِ صمدی کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔ یہ کچھ نہیں بلکہ حاضر بحق بھی ہو اور حاضر بخود بھی۔ اور یہی حقیقی جمع الجمع ہے کیونکہ جب تک رؤیتِ ذات اپنی ذات سے ہو، اس وقت تک وہ اپنے سے غائب و فناء نہیں اور جب یہ رؤیت اٹھ گئی تو بغیر غیریت کے حضوری ہوئی۔ اس اجمال کی تفصیل میں حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول خوب ہے:
الصُّوفِى لَا يَرَى فِي الدَّارَيْنِ مَعَ اللهِ غَيْرَ اللهِ۔ "صوفی وہ ہے جو دونوں جہان میں سوائے ذاتِ قدیم کے کچھ نہیں دیکھتا۔"
تو چونکہ بندہ غیر ہے، تو غیر کو نہ دیکھنا اپنے آپ کو نہ دیکھنا ہوا۔ گویا حالتِ نفی و اثبات میں صوفی اپنے آپ سے بالکل فارغ ہوتا ہے۔
تصوف آٹھ خصلتوں پر مبنی ہے یعنی آٹھ پیغمبرانِ اولوالعزم کی اقتداء سے صوفی، صوفی بنتا ہے: (۱) سخاوت ابراہیم علیہ السلام سے حاصل کرے کہ رضائے محبوب میں اپنے لختِ جگر کو فدا کر دیا۔
صفحہ۱۳۱
(۲) اور رضا اسحاق (۱) علیہ السلام کی اقتداء میں کہ رضاء مولا پر اس درجہ راضی ہو کہ جان کی پرواہ نہ کرے۔ (۳) اور صبر ایوب علیہ السلام کی اقتداء میں کہ کیڑوں کے ساتھ بھی اگر امتحان ہو تو بخوشی برداشت کرے۔ (۴) اور اشارہ زکریا علیہ السلام یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا ﴾ (۱) ( تم لوگوں سے تین دن تک نہ بول سکو گے مگر اشارہ سے ) اور اسی سورۃ میں فرمایا: ﴿ إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا ﴾ (۲) (جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا خفیہ طور سے )۔ تو صوفی کو بھی اس اشارہ کی اقتداء کرنا ہوتی ہے۔ (۵) اور غربت میں یحییٰ علیہ السلام کی اقتداء کرے کہ وہ اپنے وطن میں اپنے آپ کو مسافر سمجھتے تھے اور رشتہ دار ، عزیز و اقارب میں رہ کر سب سے بیگانہ تھے۔ (۶) اور سیاحت میں عیسی علیہ السلام کی اقتداء ہو کہ آپ اپنے سفر میں اس قدر مجرد تھے کہ سوائے ایک پیالہ اور ایک کنگھی کے ہمراہ کچھ نہ رکھا حتی کہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دونوں ہاتھوں سے پانی پی رہا ہے تو اپنے پیالے کو پھینک دیا، اور جب ایک شخص کو دیکھا کہ بالوں میں انگلیوں سے خلال کر کے شانہ کا کام لے رہا ہے تو کنگھی بھی ضائع فرمادی۔ (۷) اور لبسِ صوف میں اتباعِ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہو کہ آپ کا لباس ہمیشہ پشمینہ کا رہتا تھا۔ (۸) اور فقر میں سید الانبیاء حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی جائے کہ باآنکہ حق تعالیٰ شانہ نے خزانہائے روئے زمین کی کنجی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجی اور فرمایا اے محبوب! اپنی جانِ پاک پر محنت و مشقت نہ ڈالیے اور خزانوں سے جس قدر چاہیے خرچ فرما کر اپنی شانِ تجمل دو بالا کیجئے۔ حضور سیدِ یومِ النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ جل مجدہ میں عرض کی کہ الٰہی میں یہ نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ ایک روز کھاؤں اور ایک روز بھوکا رہوں، اور یہ اصول معاملۂ تصوف میں انتہائی بہترین خصلت ہے۔
حضرت حصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: الصُّوْفِي لَا يُوجَدُ بَعْدَ عَدَمِهِ وَلَا يَعْدِمُ بَعْدَ وُجُودِهِ۔
(۱) اسحاق علیہ السلام سے یہاں مراد شاید اسماعیل علیہ السلام ہوں ۱- سورة آل عمران : ۴۱ ۲- سورة مريم : ۳
صفحہ۱۳۲
صوفی وہ ہے کہ اس کی ہستی کو نیستی نہ ہو اور اس کی نیستی کو ہستی نہ ملے۔ یعنی جو کچھ وہ پائے وہ ہر گز گم نہ ہو اور جس چیز کو اس نے گم کر دیا وہ کبھی وجود میں نہ آئے اور بالفاظِ دیگر اس کے یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ صوفی وہ ہے جو ملی ہوئی چیز کو ملی ہوئی نہ جانے اور جو نہ ملی ہوئی چیز ہو، وہ اسے ملنے والی نہ ہو یا اس کے پاس وہ اثبات ہو جس کی نفی نہیں اور وہ نفی ہو جس کا اثبات نہ ہو۔
اس تمام مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ صوفی اس درجہ تک آجائے کہ حالیتِ بشریہ سے کلیۃً اُسے سقوط حاصل ہو کر شواہدِ جسمانی ذاتِ حق کے ساتھ معدوم و فوت ہو جائیں اور اس کی نسبت کلیۃً منقطع ہو جائے تاکہ سرِ بشریت اس کے حق میں ظاہر ہو جائے تاکہ اس کی تفریق اور اختلاف اس کے عین میں خود جمع ہو جائیں اور پھر خود بخود قیام پائے اور یہ صورت دو پیغمبروں میں ظاہر کی جا سکتی ہے۔ ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام میں ان کے وجودِ پاک میں عدم نہ تھا۔ حتی کہ آپ نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ﴾ (۱) اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔
اور دوسرے ہمارے سرورِ عالم کہ آپ کے عدم میں وجود ہی نہ تھا یہاں تک کہ فرمایا: ﴿ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ﴾ (۲) ( کیا نہیں کھول دیا اے محبوب! ہم نے تیرا سینہ پاک) ایک نے تو آرائش چاہی اور زینت طلب کی، دوسری ہستیِ پاک کو خود آراستہ کیا اور آراستہ کر کے اسے اتنا چاہا کہ محبوب بنا لیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت علی بن بندار الصوفی نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ إِسْقَاطُ الرُّؤْيَةِ لِلْحَقِّ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا۔ "تصوف یہ ہے کہ صاحبِ تصوف اپنے کو ظاہراً اور باطناً کسی حالت میں نہ دیکھے اور دیکھے تو کلیۃً ذاتِ والا صفات کو دیکھے۔“
کیونکہ اگر ظاہر دیکھے تو ظاہر میں نشانِ توفیق پائے گا اور اگر معاملاتِ ظاہر کو دیکھے گا تو اپنے پہلو میں مچھر کے پر کے برابر توفیقِ حق نہ جانے دے گا۔ تو لامحالہ رؤیتِ ظاہری کو ترک کرے گا پھر اگر باطن پر نشانِ تائیدِ حق پائے گا تو معاملاتِ باطنی دیکھنے سے پہلو میں تائیدِ حق ذرہ بھر نہ ملے گی۔ تو ترکِ باطن کے لیے کہے گا۔ لہٰذا ظاہر باطن کی رؤیت کو ترک کر کے ذاتِ حق کو دیکھے گا جب
۱- سورة طه : ۲۵ ۲- سورة الانشراح : ۱
صفحہ۱۳۳
صرف ذاتِ حق کو دیکھے گا تو خود کو ہرگز نہ دیکھے گا۔
حضرت محمد بن احمد مقری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ اِسْتِقَامَةُ الْأَحْوَالِ مَعَ الْحَقِّ۔ "تصوف وہ استقامتِ حال ہے جو ذاتِ حق کے ساتھ ہو۔“
یعنی صوفی کی کیفیتِ حالیہ اس کے سر اور ضمیر کے موافق ہونی چاہئے۔ اس کے اسرار اسے کبھی شکوک و شبہات میں نہیں جانے دیتے۔ گویا جس کا دل صیدِ محولِ حال ہے اس کی کیفیتِ حالیہ اسے محورِ استقامت سے ہٹنے نہیں دیتی اور قربِ حق سے نہیں روکتی۔
فصل: جو کچھ معاملاتِ تصوف میں بزرگوں نے فرمایا ہے، اس میں سے حضرت ابو حفص حداد نیشاپوری کا یہ ارشاد ہے :
"تصوف ایک ایسا مجموعۂ ادب کا نام ہے جو ہر وقت اور ہر مقام اور ہر حال میں ایک خاص ادب کی راہنمائی کرتا ہے۔ جس نے اس راہ میں ملازمتِ آداب و اوقات کر لی، مردانِ خدا کے درجہ کو پہنچ گیا اور جس نے اس راہ کی رسمِ ادب ترک کر دی اور آداب ضائع کر دیئے وہ ان درجہ والوں سے بعید ہو گیا باوجودیکہ گمان کرتا رہا کہ میں ان کے قریب ہوں اور وہ ان کی بارگاہ سے مردود ہو گیا باوجودیکہ اسے یہی خیال رہا کہ میں قرب کے درجہ پر ہوں۔“
بموجب ارشاد حضرت ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ آپ فرماتے ہیں: لَيْسَ التَّصَوُّفُ رُسُومًا وَلَا عُلُومًا وَلَكِنَّهُ أَخْلَاقٌ۔ "تصوف رسوم و علم نہیں ہے لیکن یہ ایک خاص خصلت ہے۔“
یعنی اگر تصوف رسمی چیز ہوتی تو مجاہدہ و ریاضت سے حاصل ہو جاتا اور اگر یہ علم ہوتا تو محض تعلیم و تعلم سے حاصل ہو جاتا۔ تو ثابت ہوا کہ تصوف ایک خصلتِ خاص کا نام ہے اور جب تک یہ خصلت خود اپنے اندر نہ پیدا کرے اس وقت تک وہ حاصل نہیں ہوتا۔
صفحہ۱۳۴
صرف ذات حق کو دے گا، خود کو ہرگز نہ دے گا۔
فریابی، مریدِ امام مقربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ إِسْتِقَامَةٌ فِي الْحَقِّ وَالْأَحْوَالِ مَعَ اللَّهِ. یعنی صوفی کی کیفیتِ عالیہ اس کے صبر اور تحمّلِ ہوا کے ہونی چاہیے۔ اس کے اسرار وہ ذواتِ احتشامِ عالیہ ہیں جو ذاتِ الٰہی کے ساتھ ہوں۔ اسے کہیں نہیں جانے دیتے، گویا جس کا دل صحیح حولِ حالی ہے، اس کی کیفیتِ عالیہ اسے موافقِ استقامت سے نہیں گرنے دیتی اور روکنے سے نہیں روکتی۔
جو معاملاتِ تصوف میں بزرگوں نے فرمایا ہے، اس میں سے حضرت ابو حفص حداد نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے: التَّصَوُّفُ كُلُّهُ آدَابٌ، لِكُلِّ وَقْتٍ أَدَبٌ، وَلِكُلِّ مَقَامٍ أَدَبٌ، وَلِكُلِّ حَالٍ أَدَبٌ، فَمَنْ لَزِمَ آدَابَ الْأَوْقَاتِ بَلَغَ مَبْلَغَ الرِّجَالِ، وَمَنْ ضَيَّعَ الْآدَابَ فَهُوَ بَعِيدٌ مِنْ حَيْثُ يَظُنُّ الْقُرْبَ، وَمَرْدُودٌ مِنْ حَيْثُ يَظُنُّ الْقَبُولَ.
"تصوف ایک ایسا ادب کا نام ہے جو ہر وقت، ہر مقام اور ہر حال میں ایک خاص ادب کی راہنمائی کرتا ہے۔ جس نے اس راہ میں ملازمتِ آدابِ اوقات کی، وہ مردانِ خدا کے درجے کو پہنچ گیا، اور جس نے اس راہ کے آداب ترک کر دیے اور آداب ضائع کر دیے، وہ خدا سے بعید ہو گیا اور اس گمان میں رہا کہ وہ اللہ کے قریب ہے، اور وہ اس کی بارگاہ سے مردود ہو گیا باوجودیکہ اسے یہی خیال تھا کہ وہ قرب کے درجے پر ہے۔"
ارشاد حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ، آپ فرماتے ہیں: "یعنی اگر تصوف کوئی رسمی چیز ہوتی تو یہ سخت مجاہدے سے حاصل ہو جاتی، اور اگر یہ علم ہوتا تو تعلیم و تعلم سے حاصل ہو جاتا۔ پس ثابت ہوا کہ تصوف ایک خصلتِ خاص کا نام ہے:" لَيْسَ التَّصَوُّفُ رُسُومًا وَلَا عُلُومًا وَلَكِنَّهُ أَخْلَاقٌ. "اور جب تک یہ خصلت خود اپنے اندر نہ پیدا کرے، اس وقت تک وہ حاصل نہیں ہوتا۔"
صفحہ۱۳۵
فرقِ رسم و خصلت:
اور رسم و خصلت میں یہ فرق ہے کہ رسم وہ فعل ہے جو تکلف انسان کر سکتا ہے اور یہ امر واضح ہے کہ بظاہر انسان جو کچھ کرتا ہے اگر باطن اس کے موافق نہیں تو وہ فعلِ ظاہر محض بے معنی اور فضول ہے، اور خصلت اس خاص فعل کو کہتے ہیں جو بغیر بناوٹ اور تکلف کے صادر ہو اور اس کے تمام اسبابِ ظاہری اس کے باطنی کے موافق ہوں اور زبانی دعاویِ محمود سے وہ بالکل خالی اور پاک ہو۔ حضرت مرتعش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ حُسْنُ الْخُلُقِ. "تصوف نیک خصلت کو کہتے ہیں۔"
یہ خصائلِ حمیدہ تین قسم کے ہیں:
ایک وہ کہ اوامرِ الٰہیہ ادا کرنے میں کسی قسم کا ریا اور دکھاوا نہ ہو اور اپنے رب کی رضا جوئی میں اداءِ حقِ فرائض ہوں۔
دوسری یہ کہ عوام کے ساتھ نیک خصلت ہو؛ بڑوں کی عزت، چھوٹوں پر رحم اور ہر معاملے میں انصاف پسند ہو اور اس میں کسی قسم کا معاوضہ حاصل کرنا مطلوب نہ ہو۔
تیسری یہ کہ اپنے کو ہواءِ شیطانی کی متابعت سے مجتنب رکھے، اور ہر قسم کی حرص و خواہشِ نفسانی سے بچے ۔
جو ان تینوں تعریفوں کے ساتھ اپنے کو متصف کر لے، وہ نیک خصلت انسانوں میں شمار ہوگا اور وہ اس درجے کو حاصل کرنے والا ہو سکتا ہے جو ہم نے اول بیان فرمایا۔ اس کی تائید میں ایک واقعہ ہے؛ ایک صحابی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ہمیں اخلاقِ محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق کچھ سنائیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "قرآن میں دیکھ لے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کے اخلاق کی خبر دی اور فرمایا ہے:" خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (اے محبوب! درگزر فرمانے کی خصلت کو پکڑے رہو اور لوگوں کو بھلائی کرنے کی ترغیب فرماؤ اور جاہلوں سے علیحدگی اور اعراض کرو۔)
حضرت مرتعش نے بھی تصوف کے معاملے میں فرمایا: هَذَا مَذْهَبٌ كُلُّهُ جِدٌّ فَلَا تَخْلِطُوهُ بِشَيْءٍ مِنَ الْهَزْلِ. "یہ مذہبِ تصوف تمام کا تمام مجاہدہ ہے، اس میں لہو و لعب کا اختلاط نہ کرنا۔"
صفحہ۱۳۶
اور مترسمین یعنی رسم پرست لوگوں کی متابعت کر کے اسے مخلوط نہ کر دینا اور جو تصوف میں کورانہ تقلید کر رہے ہیں اور صوفی بن رہے ہیں ان سے اپنے آپ کو بچانا۔ عوام الناس نے جب اس زمانہ کے لوگوں کو دیکھا کہ رسمی متصوف لوگوں میں ٹھمکے کے ساتھ ناچنا اور رقص و سرود کرنا، بارگاہِ سلاطین میں پہنچ کر ایک ایک لقمے پر جھگڑنا اور بادشاہ کی بارگاہ میں مشرف ہونا کمالِ فقر بن گیا ہے اور عوام کے خیالات خراب ہو گئے ہیں اور صوفیائے کرام سے اس قدر بدعقیدہ ہو گئے کہ عام طور پر کہنے لگ گئے کہ ان صوفیوں کا یہی طغرائے امتیاز ہے اور پہلے لوگ بھی ایسے ہی حال میں گزر گئے اور یہ نہ سمجھنا کہ یہ زمانہ فترت اور فتنہ کا ہے اور روز بروز بلائیں بڑھ رہی ہیں۔ غرض کہ جب بادشاہوں کی حرص بڑھ گئی تو اس نے انہیں ظلم و جور کی طرف مائل کر دیا اور زمانہ میں عوام کے اندر بدکاری و زنا اور فسق و فجور عام ہونے لگا۔ اسی طرح جب زہد و ورع میں ریا پیدا ہو جاتا ہے تو وہ زاہد کو نفاق کی بیماری میں مبتلا کر دیتا ہے اور ہوا و حرصِ شیطانی صوفی کو رقص و سرور کی طرف مائل کر دیتا ہے۔
اچھی طرح یاد رکھو! اگرچہ اہل طریقت تباہ ہو جائیں مگر اصولِ طریقت تباہ نہیں ہو سکتے، اور اچھی طرح جان لو کہ اگر ایک جماعت افعالِ ہزل میں سے کچھ اختیار کر لے اور اس ہزل کو مجاہدہ و ریاضت یا جذبِ دل کے پردے میں پوشیدہ کرنا چاہے تو اہل طریقت کے مجاہدات اس کی وجہ سے ہزل و لغو نہیں ہو سکتے (ان کے جذباتِ صادق، صادق ہی رہیں گے اور اہل ہزل کے ہزل ریاضت نما خالص ہزل ہی ہوں گے)۔
حضرت ابو علی قزوینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ هُوَ الْأَخْلَاقُ الرَّضِيَّةُ. "تصوف ایک خصلتِ پسندیدہ ہے۔" اور خصائلِ پسندیدہ وہ ہوتے ہیں کہ بندہ تمام حالات میں اپنے رب کی رضا میں راضی رہے۔
حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ هُوَ الْحُرِّيَّةُ وَالْفُتُوَّةُ وَتَرْكُ التَّكَلُّفِ وَالسَّخَاءُ وَبَذْلُ الدُّنْيَا. "تصوف ایک ایسی آزادی ہے کہ بندہ قیدِ حرص سے آزاد ہو جاتا ہے، تصوف ایک ایسی جوانمردی ہے کہ بندہ خواہشاتِ شہوانیہ سے مجرد ہوتا ہے،
صفحہ۱۳۷
تصوف تکلفات کا ایسا ترک کر دینا ہے کہ بندہ ہر متعلق اور مقسوم کے اندر خوش رہتا ہے، اور تصوف ایک ایسی سخاوت کا نام ہے کہ دنیا اہل دنیا پر ہی چھوڑ دیتا ہے اور خود بے تعلق ہو جاتا ہے۔"
حضرت ابو الحسن بوشنجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ الْيَوْمَ اسْمٌ بِلَا حَقِيقَةٍ وَقَدْ كَانَ حَقِيقَةً بِلَا اسْمٍ. "آج کے دن تصوف کا نام ہی نام رہ گیا اور حقیقتاً کچھ نہیں رہا۔ ایک دن وہ تھا کہ تصوف حقیقتاً خالص تصوف تھا اور نام و نمود نہ تھی ۔"
یعنی عہدِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین رحمہم اللہ میں تصوف نام کا نہ تھا بلکہ حقیقتِ تصوف کا پرتو ہر کس و ناکس میں تھا۔ اب وہ انحطاطی دور آیا کہ تصوف نام تو باقی ہے مگر معنی حقیقی معدوم ہیں، یعنی اعمال تو صوفیوں کی نقل میں ہو رہے ہیں اور رسمی صوفی بہت مشہور ہیں مگر ان کے دعاویِ تصوف میں بالکل مجہول ہیں۔ گویا اب صوفی ہونے کا دعویٰ تو مشہور و معروف ہے لیکن افعال و اعمال بالکل مجہول ہو گئے۔
یہاں تک میں نے اقوالِ مشائخ کرام کی تحقیق نقل کی تاکہ اللہ تعالیٰ تجھے سعادت عطا فرمائے اور تجھ پر طریقِ تصوف کا حال منکشف ہو جائے، اور منکرینِ تصوف کو بتا سکو کہ تصوف کے انکار سے ان کی کیا مراد ہے۔ اگر تنہا اسمِ تصوف کا انکار کرتے ہیں تو مضائقہ نہیں، اس لیے کہ معانی حقائق میں مسمیات سے بالکل بیگانہ ہیں؛ اور اگر عینِ تصوف کے منکر ہیں تو یہ انکار تمام احکامِ شرعیہ اور انبیاء کرام علیہم السلام کا ہے اور ان کے خصائلِ ستودہ کا انکار لازم آتا ہے۔ اللہ تجھے وہ سعادت عطا فرمائے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو سعید بنایا۔
اس کتاب میں ہم تمہیں ہدایت کرتے ہیں تاکہ تم حقِ تصوف کی رعایت رکھو اور انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور سچے صوفیوں کے ساتھ نیک اعتقاد رکھو۔
وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ
صفحہ۱۳۸
چوتھا باب
خرَقہ پوشی
صوفیائے کرام کا شعار کمبل پوشی ہے اور کمبل پوشی باتباعِ سنت ہے۔ جیسا کہ خود سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا: عَلَيْكُمْ بِلُبْسِ الصُّوفِ تَجِدُونَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ فِي قُلُوبِكُمْ. "اپنے پر کمبل پوشی لازم کرو، اپنے دلوں میں حلاوتِ ایمان پاؤ گے۔"
اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کسی ایک صحابی کا ارشاد ہے: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَلْبَسُ الصُّوفَ وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ. "حضور ﷺ پشمینہ زیبِ تن فرماتے اور عربی گدھے کی سواری فرماتے تھے۔"
اور حضور سیدِ یومِ النشور ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرمایا: لَا تُضَيِّعِي الثَّوْبَ حَتَّى تُرَقِّعِيهِ. "اے عائشہ! کپڑا ضائع نہ کرنا جب تک اس پر پیوند نہ لگ جائیں۔"
صفحہ۱۳۹
ایسے ہی خلیفۃ المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا حال تھا کہ آپ ایسا خرقہ زیبِ تن فرمایا کرتے جس پر تیس پیوند لگے ہوتے، اور حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ بہترین لباس وہ ہے جو کم قیمت میں حاصل ہو سکے۔
حضرت امیر المؤمنین مولائے کائنات سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ آپ کا پیراہنِ مبارک ایسا ہوتا تھا کہ اس کی آستین انگلیوں تک ہوتی اور اگر کبھی اس سے لمبی آستینوں کا پیراہن زیبِ تن فرمایا تو جتنی لمبی اور زائد آستین ہوتی اسے آپ کاٹ ڈالتے تھے۔ اور جنابِ سرورِ عالم ﷺ بفرمانِ الٰہی کپڑا متوسط زیبِ تن فرماتے تھے۔ جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (یعنی اے محبوب! اپنے لباسِ مبارک کو درست رکھیو) یعنی دراز اور لمبا ہو تو اسے کاٹ دو۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ستر صحابہ بدر پشمینہ پوش کی زیارت کی ہے اور سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو میں نے بحالتِ تجرید دیکھا کہ آپ نے پوشاکِ پشم زیبِ تن فرما رکھی تھی؛ اور وہی حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ کمبل اوڑھے ہوئے ہیں اور اس کمبل پر بہت سے پیوند لگے ہوئے تھے۔
اور سیدنا امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ اور ہرم ابن حبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کو ایسے لباسِ پشم میں ملبوس دیکھا جس پر بہت سے پیوند لگے ہوئے تھے۔
اور حضرت حسن بصری، مالک بن دینار اور حضرت سفیان ثوری رحمہم اللہ تمام کے تمام مرقعہ صوف زیبِ تن فرماتے تھے۔
اور حضرت امامِ ہمام سیدنا ابو حنیفہ النعمان کوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (یہ روایت تاریخِ مشائخ مصنفہ محمد بن علی حکیم ترمذی میں موجود ہے) لکھا ہے کہ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ اول
صفحہ۱۴۰
پوشاکِ پشمینہ زیبِ تن فرمایا کرتے تھے، بعد ازاں آپ نے گوشہ نشینی کا عزم فرمایا تو سرکارِ دو عالم ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "ابو حنیفہ! گوشہ نشیں مت بنو بلکہ لوگوں میں تمہارا رہنا ضروری ہے، تمہارے سبب اللہ تعالیٰ میری سنت اور میرے طریقے کو زندہ فرمائے گا۔" تو پھر آپ نے عزلت نشینی کے ارادے کو فسخ فرما دیا اور آپ نے کبھی قیمتی جامہ زیبِ تن نہ فرمایا۔
حضرت داؤد طائی رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ اپنا لباس صوف کا رکھا اور آپ محققینِ طبقہ صوفیائے کرام سے تھے۔ حضرت ابراہیم بن ادہم ایک روز حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے تو آپ کے جسمِ مبارک پر پوشاکِ پشمینی تھی۔ حاضرینِ مجلس نے آپ کو کچھ نظرِ حقارت سے دیکھا، سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یہ ابراہیم بن ادہم ہمارے سردار ہیں۔" اصحابِ مجلس نے یہ سن کر آپس میں کہا کہ امامِ ہمام کی زبانِ حق ترجمان سے بھی سچ اور حق کے سوا کوئی بات نہیں نکلی، لیکن ابراہیم بن ادہم نے سید کا درجہ کیونکر پایا اور کہاں سے پایا؟ حضرت امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یہ رتبہ ابراہیم بن ادہم نے اپنے رب کی یاد دہانی کی برکت سے حاصل کیا اور وہ خدمتِ خداوندی میں جا مشغول رہا اور ہم اپنی تنہائی کی خدمت میں محو ہیں، اس لیے وہ ہمارا سردار ہو گیا۔"
اگر موجودہ زمانہ میں محض اہل زمانہ خرقہ پوش بن کر عوام میں عزت حاصل کرنا چاہیں اور درحقیقت ان کا دل اس لباس کے ساتھ موافق نہ ہو تب بھی روا ہے، اس لیے کہ لشکر میں مبارز طلب اور جنگ کا فاتح ایک ہی ہوتا ہے، اور اسی طرح ہر فرقہ میں محقق کم ہوتے ہیں۔ مگر چونکہ نسبت سب کی ایک ہی ہوتی ہے اور اس ایک کی طرف سب اپنے کو منتسب کرتے ہیں، تو اگر احکام میں سے کسی ایک حکم میں بھی محققوں کا اتباع ہو گیا تو وہ انہی میں شمار ہو جائے گا۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ.
صفحہ۱۴۱
"جو شخص (رفتار و گفتار میں یا اعتقاد میں یا اعمال میں) کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ اسی قوم میں شمار ہوگا۔"
لیکن بعض نظریں ان کے ظاہری عمل اور رسوم پر پڑتی ہیں اور بعض کی نگاہ ان کی صفائے باطن کی طرف جاتی ہے۔ غرضیکہ نظر بظاہر رکھنے والے اور نظر باطن کی طرف ڈالنے والے جو بھی ہیں، اگر ان کا قصد صورتِ متصوف بنانا یا صوفی بننے کا ہے، یہ چار حال سے باہر نہیں:
(ا) یا تو باطن کی صفائی اور دل کی روشنی، مزاج کی پاکیزگی، خواہشات کا اعتدال، خصلتوں کا نیک کرنا، خاصانِ بارگاہ کے اسرارِ خاص کی جلوہ ریزیوں سے منور ہونا، محققینِ راہِ طریقت کا تقرب حاصل کرنا اور ان کی بلندیوں کا معائنہ مقصود ہے تاکہ ان کی برکت سے یہ بھی اس درجے تک پہنچ سکے۔
(ب) یا ان کی نقل اس لیے کرے گا کہ ان کی طرح صفائی حاصل کرے، بدن ستھرا کرے، دل کو اطمینان پہنچائے اور پاکیزگیِ طبع کے بعد سینے میں صفائی ان کی ظاہری اتباع سے حاصل ہو اور اتباعِ طریقت کرے اور آدابِ اسلامی پر نگاہ رکھنے میں آسانی ہو، ان کی ابتداء مجاہدہ اور حسنِ معاملہ سے ہوتی ہے۔
(ج) یا اس لیے کہ ان کی پیروی میں لگے گا تاکہ مروتِ انسانی سے آپس میں بیٹھنے کے آداب درست کرے اور خصائل میں خوبی پیدا کرے اور ان کی زندگی کا ظاہر دیکھ کر اس کی نقل کرے، بڑوں سے عزت کے ساتھ ملے، چھوٹوں پر شفقت اور رحم کی عادت اختیار کرے، اپنے اعزہ و اقرباء کے ساتھ خنداں پیشانی کا برتاؤ کرے، زیادہ حرص و حصولِ
صفحہ۱۴۲
مال سے بے پروائی دکھائے، قناعت کا خوگر بن کر ان کی صحبت اختیار کرے اور محنت و مشقت کی بجائے حصولِ دنیا کے طریقے اپنے پر آسان بنائے، اپنے آپ کو نیکوں کی جماعت میں شمار کرائے۔ 4. (د) یا بوجہ تن آسانی کے، اپنے میں رعونت اور نفس پرستی پیدا کر کے طلبِ حکومت و ریاست رکھے، بغیر منصبِ صدر نشینی کے صدر نشیں بننا چاہے، بغیر علم اہل علم میں اپنی شخصیت قائم کرنے کو صوفی بنے اور سمجھے ہوئے ہو کہ صوفی میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
تمام خواصِ صوفی کا یہی خلاصہ اور مقصود ہے۔ اس وجہ سے وہ صوفیوں کی طرح صلح اور نرمی کے ساتھ زندگی کے لیل و نہار گزارتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دلوں میں حقانیت قطعی نہیں ہوتی اور محض تنہا رہنے اور لوگوں میں دکھانے کو کم گو بننے کو طریقت بنا لیتے ہیں، حالانکہ اس طرح زندگی رائیگاں کرنے سے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا، ان کا صرف مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ ان کی ایسی عزت کریں جیسی محقق صوفیائے کرام کی کی جاتی ہے اور ایسی عظمت ہونے لگے جیسی خاصانِ بارگاہ کی!
وہ صحبتِ صوفیاء سے یہی فائدہ چاہتے ہیں کہ اپنی آفتِ حرص و ہوا کو ان کے معاملہِ تجرید کے ظاہری پردے میں مخفی کر کے ان کا سا جامہ پہن کر عوام میں کچھ مکر پھیلا سکیں، اور درحقیقت یہ فرقہ بغیر کسی عمل اور بلا کسی حقیقت کے ہے، وہ خود پکارتا اور اعلان کرتا ہے کہ یہ جامہ جامہِ مکر ہے، لباسِ تکبر و غرور ہے اور بروزِ قیامت موجبِ حسرت و ندامت ہوگا۔
(ان لوگوں کی مثال جو تورات کو اٹھائے ہوئے ہیں اور در حقیقت اسے نہیں اٹھائے ہوئے، اس گدھے کی طرح ہے جس نے کتابوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہے؛ بری مثال ہے اس قوم کی جس نے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو جھٹلایا، اور اللہ ظالم بے دین کو راہ نہیں دیتا۔)
اس زمانہ میں ایسے گروہ بہت ہیں، لہذا تم پر لازم ہے کہ جو کام تم سے نہ ہو سکے اس کا ارادہ نہ کرو، اس لیے کہ اگر تم ہزار بار طریقت کے قبول کا اعلان کرو تو صوفی نہیں ہو سکتے، نہ ہو سکو گے، اور ایک لحظہ کے لیے طریقت تمہیں قبول نہ کرے گی۔ کیونکہ طریقت خرقہ پوشی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ
صفحہ۱۴۳
حرقت سے حاصل ہوتی ہے یعنی آتشِ عشق میں جلنے کا نام طریقت ہے۔
جس کو طریقت سے آشنائی حاصل ہو گئی اس کے لیے قبا و عبا موزوں ہے، اور جس نے بلا آشنائی طریقت خرقہ پوشی کی اور مرقعہ صوف پہنا تو وہ مرقعہ اس کے حق میں رقعہِ ادبار و ناشرِ شقاوتِ یومِ النشور ہو جائے گا۔ جیسا کہ ایک پیرِ مرد کے حال میں ہے کہ ان سے لوگوں نے پوچھا: لِمَ لَا تَلْبَسُ الْمُرَقَّعَةَ؟ قَالَ: مِنَ النِّفَاقِ أَنْ تَلْبَسَ لِبَاسَ الْفِتْيَانِ وَلَا تَدْخُلَ فِي حَمْلِ أَثْقَالِ الْفُتُوَّةِ. "آپ مرقعہ یعنی خرقہ کیوں نہیں پہنتے؟ فرمایا: اگر جوان جوانمرد نہ ہو اور جوانوں کا لباس پہنے تو یہ منافقت ہے، اس لیے کہ ان کے معاملات کا بوجھ تو اٹھا نہ سکے اور جوانمرد بنا پھرے۔"
کیونکہ جوانمردوں کے لباس کو ملبوس کر کے جوانمردوں کے بوجھ سے بچنا خالص نفاق ہے۔ تو اگر یہ لباس اس لیے ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے اپنے خاصوں میں سمجھ لے تو وہ بلا لباس بھی جانتا ہے، اور اگر اس لیے کہ لوگ اس خرقہ میں دیکھ کر خاصہِ خاصان سمجھنے لگیں تو یہ ریا محض ہے یا نفاقِ خالص! یہ راستہ بہت مشکل اور خطرناک ہے۔ یاد رکھو! خدا کے خاصوں کی شہرت جامہ اور خرقہ پر موقوف نہیں، ان کا درجہ اس سے بالاتر ہے۔
"صفا (صوفی) من جانبِ اللہ انعام و اکرامِ الٰہی ہے اور صوف (اون/کمبل) لباسِ حیوانی ہے۔"
تو خرقہ صوفی ایک حیلہ ہے۔ بعض لوگ تو یہ حیلہ بغرضِ تقرب کرتے ہیں اور جو کچھ اس خرقہ پوش پر لازم ہوتا ہے اسے پورا کرتے ہیں اور اپنے ظاہر کو خرقہ سے آراستہ کرتے ہیں، اس امید پر کہ شاید اس لباس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے حضور ہم بھی صوفیوں میں شمار ہو جائیں؛ اور مشائخِ تصوف نے خرقہ پوشی کرنا اور اس سے زینت حاصل کرنے کا اسی لیے حکم فرمایا اور خود بھی پہنا تاکہ وہ عوام میں ممتاز ہو جائے اور عوام اس کے ہر قدم کی نگرانی میں لگے رہیں، اور وہ اگر کبھی اپنے طریقے کے خلاف قدم رکھے تو عوام اسے ملامت کریں، تو اگر کبھی یہ شامتِ اعمال کوئی گناہ کا ارتکاب بھی کرنا چاہیں تو اس خرقہ کی وجہ سے لوگوں سے شرما کر رک جائیں۔
مختصر یہ کہ کمبل پوشی محبوبوں کی ایسی زینت ہے کہ عام لوگ اس سے لوگوں میں ممتاز اور باعزت ہو جاتے ہیں اور خواص اس میں ذلیل۔ عوام کی عزت تو اس خرقہ پوشی میں یہ ہے کہ دنیا...
یہ فراہم کردہ صفحات (کشف المحجوب صفحات ۱-۴۴ تا ۱-۵۰) کا مکمل، واضح اور باقاعدہ اردو متن ہے:
صفحہ ۱۴۴ تا ۱۴۹ اس نقل میں موجود نہیں۔
صفحہ۱۵۰
بھی سلب کر لیں گے۔
گویا وہ لباس جس کے پہننے سے رضاءِ الٰہی مقصود ہو اور محبوبِ الٰہی کے تتبع میں اسے پہننا ہو تو اپنے ربّ سے علاقہ رکھنے کے لیے ہمیشہ اس پر راضی رہنا ضروری ہے اور یہ استقامت نہایت مبارک و مسعود ہے ورنہ اپنے دین کی محافظت کافی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر لباسِ اولیاء میں جانا در حقیقت خیانتِ مجرمانہ ہے۔ اس لیے کہ بلا کسی دعوئ محبت کے محض مسلمان ہونا اور اسلام پر رہنا اس سے بہتر ہے کہ جھوٹا مدعئ عشق و محبت بنے تو خرقہ پوشی صرف دو قسم کے لوگوں کے لیے موزوں و مناسب ہے:
ایک تارک الدنیا جماعت کے لیے۔ دوسرے مشتاقانِ جمالِ الٰہی کے لیے۔
یہی وجہ ہے کہ مشائخ کرام رحمہم اللہ کا طریقہ ہے کہ جب کوئی مرید ترکِ تعلق ماسویٰ اللہ کر کے اُن کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو دو سے تین سال تک تین معنی کے سمجھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ اگر وہ ان تین سال میں اس تعلیم پر ثابت قدم ہو تو فبہا، ورنہ اسے کہہ دیتے ہیں کہ طریقت اسے قبول نہیں کرتی۔ پہلے سال خدمتِ خلق کراتے ہیں۔ دوسرے سال اطاعتِ حق (یعنی تورع و تقویٰ بدرجۂ غایت)۔ تیسرے سال میں دل کی (مراعات و) نگہداشت ہوتی ہے (یعنی خواہشات و لذاتِ نفسانیہ پر قبضہ کرنا)۔
یہ امر ظاہر ہے کہ انسان خدمتِ خلق جب ہی کر سکتا ہے جب کہ وہ اپنے کو خادم کی جگہ سمجھ کر خلقِ خدا کو اپنا مخدوم سمجھ لے۔ گویا بلا تمیزِ خورد و کلاں سب کو اپنے سے بہتر جانے اور سب کی خدمت اپنے اُوپر واجب سمجھے۔ نہ یہ کہ خدمت تو کرے مگر اس خدمت کرنے میں اپنے آپ کو مخدوموں میں فضیلت دے۔ ایسے تخیل سے خدمت کرنا اپنے لیے نقصان میں ڈالنا اور بے نصیب ہونا ہے! یہ زمانہ کی بلاؤں میں سے ایک بلا ہے۔
اور خدمت و اطاعتِ حق عز وجل اس وقت کر سکتا ہے جب اپنی تمام خطوطِ نفسانیہ کو دنیا و عقبیٰ سے منقطع کر لے اور خالصاً مخلصاً لوجہ اللہ اس کی پرستاری کرے اور اسی کے لیے وہ عبادت ہو اور اگر کسی چیز کے لالچ میں عبادت کرتا ہے خواہ وہ دنیا کی ہو یا آخرت کی، تو وہ پرستش اپنی پرستش ہے، نہ کہ خدائے قدس کی۔ اور دل کی مراعات و نگہداشت اس وقت ہو سکتی ہے کہ اس کی ہمت یکسو ہو اور ہر قسم کے غم سے اس کا دل پاک ہو اور بارگاہِ الفت میں مواقعِ غفلت سے دل کی نگہداشت کرے۔
جب مریدان ہر سہ شرائط میں مکمل اترتا ہے تو اسے خرقہ پوشی کرنا مرتبۂ تحقیق کے ساتھ موزوں ہوتا ہے اور یہ خرقہ پوشی رسمی اور کورانہ تقلید میں نہیں ہوتی۔
صفحہ۱۵۱
مگر پھر بھی مرقّع پہننے والوں کو چاہیے کہ وہ مستقیم الحال ہو۔ تمام نشیب و فرازِ طریقت سے گزر چکا ہو اور چاشنیِ حال چشیدہ ہو اور طرقِ اعمال سے پورا واقف ہو، قہرِ جلال و محبوبی اور لطفِ جمالِ جمیلی دیکھے ہوئے ہو۔
اور پیرِ کامل اس درجہ کامل ہو کہ احوالِ مرید سے پورا پورا واقف ہو کہ وہ درجۂ کمال میں کس حد تک پہنچ سکے اور اس مقام پر پہنچ کر اس کا واپس نزول ہوگا یا ٹھہر جانے والوں میں سے نکلے گا (یعنی درجۂ قبض میں رہ جائے گا یا اس کا بسط بعد القبض ہوگا۔) اگر خرقہ پوشی کرنے والا پیرِ کامل دیکھ لے کہ یہ ایک نہ ایک دن اس کیفِ طریقت سے واپس لوٹ جائے گا تو اسے کہہ دے کہ تو اس راہ نوردی نہ کر اور اگر جانے کہ اس مقام پر ٹھہر سکے تو اس سے معاملۂ طریقت شروع کرے اور اگر جانے کہ منتہی کو پہنچ جائے گا تو اس کی پرورش کرے اور نگاہ رکھے۔
اور اس قسم کے جو مشائخ ہیں وہ در حقیقت طبیبِ قلب ہیں، یعنی مرشدِ کامل مرید کے حق میں طبیبِ قلب کی حیثیت رکھتا ہے اور جو طبیب مریض کی بیماری سے جاہل اور بے خبر ہو تو ایسا طبیب اپنی تجویز سے مریض کو ہلاک کر دیتا ہے۔ اس لیے کہ جب معالج مریض کی نگرانی میں جاہل ہوگا تو خطراتِ مرض کو کیسے سمجھ سکتا ہے۔ پھر ایسا معالج مریض کی غذا اور شربت اور دوا تمام مرض کے خلاف ہی تیار کرے گا۔
حضرت سیدِ یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
۱۔ ابن حبان نے اسے "کتاب الضعفاء" میں، خلیلی نے "مشیخۃ" میں، ابن نجار نے اپنی "تاریخ" میں ذکر کیا ہے اور ان تمام نے احمد بن یعقوب قرشی جرجانی اُموی کے طریق سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے رافع سے، انہوں نے ابو رافع سے روایت کیا ہے۔
ابن حبان نے اسے عبداللہ بن عمر بن خاتم افریقی کے حالات میں ذکر کیا ہے اور اس نے مالک سے، اس نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، کہا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے۔ امام شوکانی "الفوائد المجموعۃ" میں اور امام زرکشی "التذکرۃ" میں کہتے ہیں کہ یہ الفاظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں ہے بلکہ یہ کسی اہلِ علم کی کہی ہوئی بات ہے اور بعض حضرات نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: الشيخ في جماعته كالنبي في قومه، يتعلمون من علمه ويتأدبون من أدبه۔
امام ذہبی نے "میزان الاعتدال" میں محمد بن عبدالمالک القناطری کے تعارف میں اسے ذکر کیا ہے کہ اس نے اپنے باپ سے، اس نے رافع سے باطل حدیث روایت کی ہے: الشيخ في أهله كالنبي في أمته۔ اسے قناطری اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ قناطیر یعنی انبار جھوٹ بولتا تھا۔ (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر۔۔۔)
صفحہ۱۵۲
"شیخ پیرِ کامل اپنی قوم اور مریدوں میں ایسے ہیں جیسے نبی اپنی امت میں"۔
تو جیسے انبیاء اکرام علیہم السلام نے عوام کو دعوتِ توحید دے کر بصیرتِ حقہ بخشی اور ہر ایک قبول کرنے والے کو اس کے درجۂ ایمان کے مطابق درجۂ تقرب بخشا اور جس میں جیسی بیماریِ جہل کی تھی ویسا ہی علاج کیا۔ اسی طرح مرشدِ کامل شیخِ وقت کو بھی بصارتِ حق کی دعوت دینی چاہیے اور ہر ایک کی تعلیمی غذا اس کے اندرونی درجۂ ایمان کے مطابق تجویز کرنی چاہیے تاکہ مرید کرنے کا جو مقصد ہے، وہ حاصل ہو۔
تو جب مرشدِ کامل صاحبِ ولایت مرید کو ان تین سال کے بعد ریاضت کی تعلیم دے کر اسے خرقہ پہنائے تو جائز ہے اور خرقہ پوشی کا مقصد در حقیقت حیاتِ دنیاوی کی لذتوں اور حصول (اگلے صفحہ پر جاری)
حاشیہ (بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ سے):
امام ابن حجر عسقلانی "لسان المیزان" میں فرماتے ہیں: کہ امام خلیلی فرماتے ہیں: طبرانی کی حدیث محمد حاجب نامی ایک جھوٹے شخص نے مالک پر گھڑی ہے اور اسی نے یہ حدیث گھڑی: الشيخ في أهله كالنبي في أمته۔
امام دیلمی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے:
بجّل المشائخ فان تبجيل المشائخ من اجلال الله عزوجل، فمن لم يبجلهم فليس منّا۔ امام سخاوی "المقاصد الحسنة" میں فرماتے ہیں کہ مذکورہ تمام روایات سے بھی زیادہ صحیح روایت کے الفاظ یہ ہیں: ما اکرم شاب شیخاً لسنّه الا قيض الله له في سنّه من يكرمه۔ امام ترمذی نے اسے اپنی "سنن" میں ذکر کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے۔ امام شیرازی نے "الألقاب" میں، ابن حبان نے "کتاب الضعفاء" میں، امام دیلمی نے "مسند الفردوس" میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: الشيخ في بيته كالنبي في قومه۔
امام سیوطی اسے "الجامع الصغیر" میں لائے ہیں اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ملا علی قاری "الأسرار المرفوعة" میں رقمطراز ہیں: مذکورہ روایت کو معنی کے اعتبار سے یہ صحیح حدیث تقویت دیتی ہے: العلماء ورثة الانبياء۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی اسی کی تائید کرتا ہے: فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (سورۃ النحل: ۴۳)
حوالہ کے لیے دیکھیے: المقاصد الحسنة للسخاوي (۲۰۹)، تمييز الطيب من الخبيث (۲۶۱)، كشف الخفاء للعجلوني (۱۵۲۷)، الأسرار المرفوعة لعلي القاري (۲۵۳)، أحاديث القصاص (۲۳)، تنزيه الشريعة ۲/۳۰۷، الفوائد المجموعة للشوكاني (۲۱۰)، أسنى المطالب (۸۰۸)، ميزان الاعتدال للذهبي ۳/۲۳۲، الموضوعات لابن الجوزي ۱/۱۸۳، اللآلئ المصنوعة للسيوطي ۱/۱۵۳، الجامع الصغير للسيوطي (۹۲۹۴)، فيض القدير للمناوي ۴/۱۸۵، الدرر المنتثرة للسيوطي (۲۶۶)، كنوز الحقائق (۲۶)
صفحہ۱۵۳
نعمتِ دنیا کی مرادوں سے انقطاع کر کے دل کو زندگی کی راحتوں سے صاف کرتے ہوئے اپنی عمر ساعتِ حق کے لیے وقف کرنے اور دنیا سے فنا ہو کر کفن پہننے میں ہے اور خرقہ پوش ہو کر سوائے طلبِ حق کے سب چیزوں سے کنارہ کشی کرنا اس کی شرطِ اولین ہے۔ جب مرید اس قسم کا خرقہ پہن لے گا تو وہ خرقہ پوش بارگاہِ جل مجدہٗ میں عزت پائے گا۔ پھر اس کا فرض ہے کہ اس خرقہ کا خاص لحاظ رکھے، اس کا حق کماحقہ ادا کرنے میں پوری استقامت اور ہمت سے مساعی کرے اور اپنی تمنائیں اور خواہشات اپنے اوپر حرام کر لے۔
اب بحثِ خرقہ پوشی میں بہت سے حقائق و ارشادات بتا دیے گئے۔
شیخ ابو عمر اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بحث میں ایک مکمل کتاب تالیف فرمائی ہے۔ اس کے ساتھ عوام متصوفہ کو بہت زیادہ غلو اور شغف و عقیدت ہے۔
اور چونکہ میری مراد اس کتاب میں محض نقلِ اقوال نہیں بلکہ انکشافاتِ حقیقت و مغلقات مقصود ہے اور یہی مقصودِ طریقت ہے۔
لہٰذا بہترین اشاراتِ خرقہ پوشی ہم بتا دیتے ہیں۔
یاد رکھو! کہ خرقہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس کا گنبد یعنی اوپر کا حصہ صبر کے ساتھ ہو اور دونوں آستین خوف و امید کی ہوں اور اس کے آگے پیچھے کے دامن قبض و بسط سے بنیں اور اس کا گریبان جہاں سے کمر باندھتے ہیں، مخالفتِ نفس کے ساتھ ہو اور دونوں کرسیاں یعنی کلیاں صحت و یقین کی ہوں۔ اس کی سنجاف یعنی مغزی، اخلاص کی ہو۔
اس سے بھی بہتر حقائقِ خرقہ یہ ہیں کہ وہ قبۂ محبت میں رنگِ فنا سے رنگا جائے اور اس کی دونوں آستین حفظ و عصمتِ نفس کی ہوں اور اس کا آگا پیچھا فقر اور صعوبت کا بنے اور گریبان جہاں سے کمر بند ہے، مشاہدۂ جمال کے لیے مضبوط اور قائم ہو اور اس کی کرسیاں یعنی کلیاں ایسی امن کی ہوں کہ تقربِ احدیت میں مامون رکھیں اور اس کی مغزی اور سنجاف قرارِ تام ہو جو مقامِ وصل میں اسے مضطرب نہ ہونے دے۔
جب صوفی اپنے باطن کو اس شان کا مرقعہ بنا لے گا تو ظاہر کے لیے بھی اسے خرقہ بنانا چاہیے اور ہماری ایک کتاب اس بحث میں ہے جس کا نام "اسرار الخرق والمؤنات" ہے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ ہمارے مرید کے پاس ہونا ضروری ہے۔
لیکن خرقہ پہننے کے بعد اگر صوفی غلبۂ حال یا قہرِ سلطانِ وقت سے تنگ آ کر اُس خرقہ کو چاک کر دے گا تو اسے معذور سمجھا جائے گا اور خرق خرقہ اس کا مسلم ہوگا مگر خرق خرقہ باختیارِ خود
صفحہ۱۵۴
بحالتِ تمیز و درستیِ حواس میں کر ڈالا تو اسے خرقہ پوشی پھر جائز نہیں اور اہلِ طریقت اس رویہ کو نہیں مانتے۔
اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خرقہ پوشی دیرینہ بھی ہو اور بغیر صفاءِ باطن کے محض ظاہری خرقہ پوش رہے۔ یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ مریدِ خرقہ کے معنی یہ ہیں کہ جب صوفی اس مقام سے جہاں خرقہ پوش ہوا تھا دوسرے مقام کی طرف انتقال ہوتا ہے تو وہ ترقیِ درجۂ شکر میں اُس پہلے جامہ سے باہر ہو جاتا ہے اور خرقہ کی بجائے دوسرا لباس ملبوس کر لیتا ہے۔ اس لیے کہ ہر ایک مقام کا لباس علیحدہ ہے تو دوسرے مقام پر پہنچ کر دوسرا لباس ملبوس کرنا صحیح ہے۔
اگرچہ خرقہ ایک لباس ہے کہ طریقتِ فقر و صفوت کے تمام مقامات پر یہ لباس موزوں رہتا ہے تو ان مذکورہ مقامات سے بالا ہونے کی صورت میں تمام مقامات سے تبرّی کرنا بھی ضروری ہے، ہر چند کہ اس بحث کے لیے یہ مقام موزوں نہیں، اس کے لیے باب "خروق و کشف و حجاب السماع" مخصوص ہے۔ ہم وہاں اس بحث کو بیان کریں گے۔ مگر اس جگہ اشارتاً اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ لطائفِ خرقہ کے بیان میں فروگذاشت نہ ہو جائے۔ خدا کو منظور ہے تو اس مسئلہ کو وضاحت کے ساتھ اس کی جگہ پر بیان کریں گے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ خرقہ پہنانے والے کو حقیقت اور طریقت کے اندر اس قدر حکومت و قوت ہونی چاہیے کہ اگر کسی بیگانہ پر نظر ڈالے تو اسے چشمِ شفقت سے آشنا بنا دے اور اگر اس خرقہ کو کسی عاصی پر ڈال دے تو وہ ولی بن جائے۔
ایک دن میں اپنے شیخ کے ہمراہ تھا، چلتے چلتے آذربائیجان کی آبادی سے گزرا۔ میں نے دو تین خرقہ پوش دیکھے کہ گندم کے ڈھیروں کے کھڑے ہیں اور اپنے خرقہ کے دامنوں کو کسانوں کی طرف پھیلا رکھا ہے تاکہ وہ اس گندم میں سے ان کے دامنوں میں کچھ ڈالیں۔ میرے شیخ قدس سرہٗ نے ان کی طرف نظر ڈالی اور یہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی:
"یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی خریدی ہدایت کے بدلے، تو ان کی تجارت نے انہیں کچھ فائدہ نہ پہنچایا اور یہ ہدایت یافتہ نہیں ہیں"۔
میں نے عرض کی: حضور! یہ لوگ کس قدر ذلت میں مبتلا ہیں کہ لوگوں کی نظر میں ذلیل
۱۔ سورۃ البقرۃ: ۱۶
صفحہ۱۵۵
ہو رہے ہیں۔ شیخؒ نے فرمایا کہ ان کے پیر کو مرید جمع کرنے کی حرص ہوئی ہے تو ان کو دنیا جمع کرنے کی حرص ہو گئی اور کوئی حرص کسی حرص سے بہتر نہیں اور خلافِ امر و حکم کسی کو دعوتِ دینی حرصِ محض ہوتی ہے۔
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے "باب الطاق" میں ایک ترسا کو دیکھا، بڑا خوبصورت جوان تھا۔ میں نے دعا کی: یا الٰہی! اس جوان کو میرے کام کا بنا دے، اس لیے کہ اسے تو نے بڑا حسین بنایا ہے۔ تھوڑی مدت اس دعا کو گذری تھی کہ وہ ترسا میرے پاس آیا اور کہنے لگا اے شیخ! مجھے کلمہ تلقین فرمائیے۔ وہ مسلمان ہو گیا اور جماعتِ اولیاء میں سے ایک ولی نکلا۔
حضرت شیخ ابو علی سیاح رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ خرقہ کس کے لیے پہننا درست ہے؟ فرمایا: اس کے لیے کہ مملکتِ الٰہیہ میں تمام احکام و احوال اس کے حکم بغیر ظہور پذیر نہ ہوں۔
اب واضح ہو گیا کہ خرقہ صالحین اور اللہ کے نیک بندوں کا لباس ہے اور فقراء و صوفیاء اسے ملبوس فرماتے ہیں اور حقائقِ فقر و حقیقتِ صفوت ہم اس سے قبل بیان کر چکے ہیں۔
تو یاد رکھو جو کوئی لباسِ اولیاء کو کسبِ دنیا کے لیے آلہ بنائے گا وہ اپنے لیے آفت مول لے گا۔ فقراء و صوفیاء کا اس میں زیادہ نقصان نہیں۔
ہدایت یافتہ لوگوں کے لیے جو کچھ لکھا ہے وہی کافی ہے۔ اگر ہم اس کی شرح کی طرف مشغول ہو جائیں تو یہ کتاب کافی نہیں ہوگی۔ وَ بِاللّٰهِ التَّوْفِيْق۔
صفحہ۱۵۶
پانچواں باب
فقر و صفوت
فصل:
فقر اور صفوت کے فضائل میں علماءِ طریقت کا اختلاف ہے۔ ایک جماعت کے نزدیک فقر افضل ہے اور ایک کے نزدیک صفوت فقر سے افضل ہے۔ وہ لوگ جو فقر کو صفوت پر ترجیح دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ فقر فناءِ کلی کا نام ہے اور اس میں انقطاعِ اسرار ہو جاتا ہے اور صفوت مقاماتِ فقر کے ایک مقام کا نام ہے اور جب فنا حاصل ہو گئی تو تمام مقامات ناچیز ہو گئے اور یہ مسئلہ بحثِ فقر و غنا کے ساتھ متعلق ہے جس کی تصریح ہم اول کر چکے ہیں۔
اور جو لوگ صفوت کو فقر پر مقدم رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ فقر ایک چیز ہے جو موسوم بہ اسم ہے اور صفوت نام ہے تمام موجودات سے صفائی حاصل کرنے کا۔ اور جو صفوت عینِ فنا رہے اور فقر عینِ بقا تو معلوم ہوا کہ فقر نام ہے مقامات و درجاتِ صفوت سے کسی درجہ یا مقام کا اور صفوت مقامِ کمال کا نام ہے۔
اس بحث میں بات بہت طول پکڑ گئی ہے اور اس زمانہ میں تو عجیب و غریب طریقہ سے فقر و صفوت کی تعبیرات پیش کی جا رہی ہیں اور ایک جماعت دوسری جماعت پر عجیب و غریب طریقے سے دلائل قائم کر رہی ہے اور در حقیقت یہ لوگ فقر و صفوت کی فضیلت اور اس کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہیں اور بغیر سوچے سمجھے مقدم مؤخر بنا رہے ہیں۔
یاد رکھو! اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ زبانی جمع خرچ کر کے محض تقریر کر دینے کا نام نہ فقر ہے نہ صفوت، اور عوام نے جو اپنے ذہنی و وہمی تخیلات کے گھوڑے دوڑائے تو اپنے اپنے خیال کے مطابق معنی گھڑ لیے اور حقیقتِ معنی سمجھنے سے اپنے دل اور ذہن کو خالی کر کے روشِ حق و صداقت سے دُور ہو گئے، کسی نے نفیِ حرص کا نام فقر عین رکھ لیا اور اثباتِ مراد کا نام اثباتِ عین گھڑ لیا۔
اور حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مقصود منفی و مثبت تمام کے تمام ایسے ہیں کہ قیامِ نفس و وجودِ ہواءِ نفسانی اور اس کے طریقوں سے منزہ ہیں اور طریقت جھوٹے مدعیوں کی لغو باتوں سے بالکل پاک ہے۔
مختصر یہ کہ اولیاءِ الٰہی اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں مکان و مقام ہی نہیں ہوتا اور تمام
صفحہ۱۵۷
مکان و مقام وہاں فنا ہوتے ہیں اور زبانی الفاظ اور عبارتیں اس حقیقت کے معنی بیان کرنے سے منقطع ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ نہ شرب رہتا ہے نہ ذائقہ، نہ ممتنع، نہ قہر، نہ صحو، نہ محو۔ اس جگہ کا نام اربابِ ظہور ہی ڈھونڈتے ہیں اور فکر کرتے ہیں کہ کوئی ایسا نام مل جائے کہ اس مقام پر چسپاں ہو سکے اور وہ مقام کسی نام کے نیچے آ کر مسمّیٰ بن جائے۔ لیکن جو مقام کہ معانی اسم کے تحت آ ہی نہیں سکتا اور اس پر کسی صفت کا استعمال ہی صحیح نہیں، اسے کسی اسم یا صفت سے کیونکر تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ تو مجبور ہو کر اربابِ معنی کے نزدیک جو نام سب سے بزرگ نظر آیا اُسے اس مقام کے لیے مقرر کر دیتے ہیں۔
اور یہاں تقدیم و تاخیر کی اصل ہی نہیں۔ فقر و صفوت سے کسی کو مقدم و مؤخر کہنا بالکل ناروا ہے۔ تو خلاصہ یہ نکلا کہ ایک گروہ کو نامِ فقر زیادہ واجب الترجیح نظر آیا۔ اُن کے دلوں میں اس کی عظمت جاگزیں ہو گئی، اس لیے کہ نامِ فقر سے انہیں ترکِ ماسویٰ اللہ اور تواضع نظر آئی۔
دوسرے گروہ کو نامِ صفوت مقدم نظر آیا۔ اُن کے دلوں پر اس کی تعظیم و تکریم سکّہ زن ہو گئی۔ اس لیے کہ رفعِ کدورت اور فناءِ آفات میں انہیں یہ نزدیک نظر آیا۔
غرضیکہ انہوں نے یہ دو نام ذریعۂ اعلام بنانے چاہے۔ اگرچہ اس کی حقیقت الفاظ کا جامہ پہنا کر بیان نہیں ہو سکتی تھی۔ ان ناموں سے انہیں صرف یہ فائدہ حاصل ہو سکا کہ حقیقت بیان کرنے سے قاصر تھے، انہیں ان اشارات کے ذریعے ایک دوسرے پر ظاہر کرتے رہیں اور ان ناموں کے ذریعے اپنے ذاتی کشف کو بتمامہ ظاہر کر سکیں اور ان جماعتوں نے فقر یا صفوت اس درجہ کا نام رکھ لیا مگر پھر بھی حقیقتِ معنی میں کوئی اختلاف نہیں کیا۔ ہاں اربابِ لسان یا اصحابِ عبارات جو اس حقیقت سے محض بے خبر ہیں، انہیں محض الفاظ پر بحث کا میدان مل گیا اور ان میں سے کوئی فقر کو مقدم کہنے لگا، کوئی صفوت کو ترجیح دینے بیٹھ گیا اور یہ محض ان کی لفاظی یا لسانی ہے۔ یہ دونوں گروہ محض لفظی تحقیقِ معانی میں جا کر تاریکیِ عبارت میں رہ گئے۔ ان میں سے جسے حقیقتِ معنی منکشف ہو گئی وہ اہلِ حال میں مل کر تحقیقِ حق کو اپنا قبلۂ دلی بنا بیٹھے اور اسے اس کی پرواہ نہیں رہی کہ اُسے صوفی کہا جا رہا ہے یا فقیر۔ اس لیے کہ یہ دونوں نام اضطراری ہیں اور حقیقتِ فقر کے اسم کے تحت میں نہیں آ سکتی۔
یہ اختلافِ معنوی حضرت شیخ ابو الحسن سمنونی رحمۃ اللہ علیہ کے وقت سے چلا آ رہا ہے۔ اس لیے کہ وہ کبھی بحالتِ کشف فقر کو صفوت پر ترجیح دیتے، کبھی صفوت کو فقر پر۔ تو اس وقت کے محققین نے آپ سے عرض کی کہ حضرت ایسا کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا: میرا ایک حال نہیں، کبھی
صفحہ۱۵۸
میری طبعِ معانی کو فنا و نگونساری کا مشرب حاصل ہوتا ہے اور بقاء کے درجہ میں بلندیِ کامل مل جاتی ہے اور کبھی ایسے مقام پر ہوتا ہوں کہ اُس کا تعلق فنا سے ہوتا ہے اور ایسی حالت میں فقر پر صفوت کو ترجیح دے دیتا ہوں اور جب اس درجہ پر ہوتا ہوں جس کا تعلق بقا سے ہے تو صفوت پر فقر کو ترجیح دے دیتا ہوں اور اس لیے کہ فقر نام ہے بقا کا اور صفوت فنا کا۔
تو چونکہ مقامِ فناروی کو خود سے بھی فنا کر دیتا ہے تو میری طبعِ معانی بھی فنا سے فنا ہو جاتی ہے اور مقامِ بقا میں یہی فنا ہے اور یہ گفتگو اگرچہ از روئے عبادت خوب ہے مگر یاد رکھو کہ فنا کو بھی فنا نہیں اور بقا کو بھی فنا نہیں اور جو باقی فانی ہوگا وہ خود سے ہی فانی ہوگا اور جو فانی باقی ہوگا وہ خود سے باقی ہوگا اور در حقیقت فنا بھی محض ایک ایسا اسم ہے جس میں مبالغہ محال ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی کہے کہ فنا، فنا ہوتا ہے تو اس میں مبالغہ ہوا، ہستی کے وجود کے اثر کی نفی کا۔ اس لیے کہ جو فنا ہو رہا ہے وہ جب تک فنا نہ ہو، اس وقت تک اس کا کچھ اثر باقی ہے اور جب تک اثر باقی ہے فنا نہیں اور جب فنا ہو چکا تو فنا کا فنا ہونا بے معنی ہوگا اور اس عبارت میں تحریر کے سوا کچھ حاصل نہیں اور یہ لسانیاں زبان درازی لوگوں کی سخن پروری کے ماتحت ہیں۔
اور کتاب "فنا و بقا" میں ہم نے بھی ایک بحث لکھی تھی لیکن وہ اس وقت لکھی تھی جبکہ ہماری نوعمری کا جوش تھا اور جذباتِ حالیہ تیزی میں تھے۔ اس کتاب میں احتیاط کے ساتھ اس کے احکام و حقائق بیان کرتا ہوں۔ ان شاء اللہ عز و جل۔
اچھی طرح سمجھ لو! کہ فقر اور صفوت میں فرقِ معنوی یہ ہے کہ دنیا کی تجرید کی رُو سے تو فقر و صفوت ایک ہے اور اپنے آپ کو اس سے خالی کر دینا یہ دوسری شان ہے اور پھر اس کی حقیقت فقر و مسکنت کے معنی میں ہوگی۔ ایک جماعت نے مشائخ کرام میں سے فرمایا ہے کہ فقیر، مسکین سے افضل ہے، اس لیے کہ حضرت جلّ مجدہٗ نے فرمایا:
"مالِ زکوٰۃ ان فقراء کے لیے ہے جو اللہ کی راہ اور اس کی اطاعت میں ایسے محصور ہیں کہ تجارت و رزق طلب کرنے کو زمین پر سیر نہیں کر سکتے"۔
اس لیے کہ مسکین صاحبِ مال ہوتا ہے اور فقیر تارکِ مال۔ تو ظاہر ہے کہ فقر عزت ہے اور مسکنت ذلت اور صاحبِ مال طریقت میں ذلیل ہوتا ہے۔ کیونکہ حضرت سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا:
"ہلاک ہو گیا دینار و درہم کا بندہ اور ہلاک ہو گیا تھیلے کا پجاری اور تارک معلوم یعنی جس کے پاس مال ہے اس کا تارک عزت والا ہے"۔
اس لیے کہ مال دار کا اعتماد اس مال پر ہوتا ہے اور جو تارکِ مال ہوگا اس کا بھروسہ ربّ عز و جل پر ہوگا اور مالدار کو اگر کوئی کام ہوگا تو اپنا مال بڑھانے اور اس کے حاصل کرنے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوگا۔
ایک جماعت نے کہا کہ مسکین افضل ہے، اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں فرمایا:
"اے میرے ربّ! مجھے مسکین ہی زندہ رکھ اور اسی حال میں دنیا سے اٹھا اور میدانِ حشر میں بھی مساکین میں مجھے محشور فرما"۔
تو جب حضور سیّدِ عالم ﷺ مسکین کو یاد فرما کر اس طرح دعا کریں کہ اللہ مجھے مسکینوں کی زندگی عطا فرما اور حالتِ رحلت میں بھی مسکین رکھ اور جب فقر کا تذکرہ فرمایا تو کہا:
كَادَ الْفَقْرُ اَنْ يَّكُوْنَ كُفْرًا. (۳)
حواشی:
۱۔ امام سخاویؒ اسے "المقاصد الحسنة" (ص: ۱۵۷) میں لائے ہیں اور فرمایا ہے کہ اسے امام بخاریؒ نے ابوبکر بن عیاش سے، انہوں نے ابو حصین سے، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ امام عسکری نے اسے حضرت امام حسن سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، لیکن "تعس عبد الدرهم .....الخ" کی بجائے "لعن عبدالدرهم .....الخ" کے الفاظ ہیں۔
۲۔ اس حدیث کا تفصیلی ذکر پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔
۳۔ اسے امام احمد بن منیع نے یزید الرقاشی کے طریق سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور ابو مسلم الکشی نے اپنی "سنن" میں، امام طبرانی نے عمرو بن عثمان الکلابی سے، اس نے عیسیٰ بن یونس سے، انہوں نے سلیمان تیمی سے، انہوں نے حضرت انس سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ امام سیوطی اسے "الجامع الصغیر" میں لائے ہیں اور امام ابو نعیم نے (حلیۃ الأولیاء) کی طرف منسوب کیا ہے، امام قضاعی نے "مسند الشہاب" میں (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر۔۔۔)
ذیلی صفحات کے اردو متن کی نقل ملاحظہ فرمائیں:
صفحہ ۱۶۰ تا ۱۶۱ اس نقل میں موجود نہیں۔
صفحہ۱۶۲
ملامت
علماء طریقت کے ایک گروہ نے ایک کٹھن راہ کو لازم کیا ہے جس کا نام ملامت ہے اور انہوں نے طریقت کے طریقہ کو خلوص و محبت میں ایک عظیم علامت مانا ہے اور اس کے مردانِ خدا اور اہل عقیدت معتقد ہیں۔ خصوصاً ہمارے پیشوایانِ امت، رسول کریم ﷺ جو امام اولیاء و الاتقیاء ہیں اور ان کے بعد وہ صحابہ جو عالی مرتبت اور گراں مایہ تھے، اس وقت تک بے نام رہے جب تک رسولِ حق کا ظہور نہ ہوا اور جب لباسِ محبت و خلوص پہنایا گیا تو لوگوں کی طرف سے ان کے حق میں زبانِ ملامت دراز ہو گئی۔ کسی نے کہا: جادوگر ہیں، بعض نے کہا: شاعر ہیں، کسی نے کہا: مجنون ہیں۔ کوئی کہنے لگا کاذب ہیں اور مثل اس کے بہت سی بدگمانی کی گئی، مگر اللہ جل شانہ نے ان کی تعریف میں فرمایا:
﴿يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾ (۱) "وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف نہیں کرتے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑا وسعت والا اور علم والا ہے۔"
اور طریقہ یہ بنایا ہے کہ اسے جو یاد کرے اس کے ذکر کو سنائے، ذکرِ عالم کی ملامت میں مشغول ہو جاتا ہے اندرونی سے، اور اس کے راز کی نگہداشت اللہ تعالیٰ بذاتِ خود فرماتا ہے اور یہ درحقیقت غیرتِ الٰہی ہے کہ غیروں سے اپنے محبوبوں کے راز کو چھپا لیتا ہے تاکہ نہ کہ کوئی اس کے جمالِ باطنی پر نظر ڈالے اور ان کے نفس کو اس یقین سے گم نہیں فرماتا تاکہ وہ اپنا عمل پامال دیکھ کر مغرور نہ ہو جائیں اور کسی وقت غافل نہ ہوں۔
اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو عوام پر چھوڑا ہے تاکہ وہ ان پر زجر و توبیخ کرتے، ملامت دراز رکھیں اور نفسِ لوامہ ان کے اندر ترکیب کیا ہے تاکہ ان کا نفس ان کی کوتاہی پر ملامت کرتا رہے اور کسی فرض کے فوت ہو جانے پر وہ اپنے آپ پر ملامت کریں، یہ اگرچہ کچھ بھی کریں تو اس کے کم ہونے پر ملامت کریں اور یہ...
(۱) سورۃ المائدہ: ۵۴
صفحہ۱۶۳
راہِ مولا میں بڑی مضبوط جڑ ہے۔ کیونکہ عجب و تکبر سے بڑھ کر کوئی آفت اور حجاب نہیں اور عجب و تکبر کی جڑ دو چیزیں ہیں جن سے عجب و تکبر پیدا ہوتا ہے: وجاہت حاصل ہو جانا مخلوق میں اور مخلوق کی زبان سے اس کی مدح سرائی۔ اور یہ اس طرح ہوتا ہے کہ کسی انسان کی گفتار و کردار کو عوام پسند کریں، اس کی مدح سرائی کریں اور اسے اس سے غرور پیدا ہو۔
دوسرے یہ کہ جو کام وہ کر رہا ہے، لوگ اسے پسند کرتے ہیں تو یہ اس کام کا اہل اور اس کے قابل اپنے آپ کو سمجھنے لگتا ہے اور اس وجہ میں متکبر بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ خاص سے اس راستہ میں اپنے محبوں مقربوں پر یہ انعام فرما دیا ہے، تاکہ اس کے تمام کام اگرچہ نیک ہی ہوتے ہیں مگر عوام انہیں پسند نہ کریں اور عوام کے پسند نہ کرنے کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ وہ اس کام کی حقیقت کو دیکھنے سے قاصر ہیں اور مجاہدات و ریاضات ان محبانِ الٰہی کے بہت ہوتے ہیں مگر انہوں نے ان مجاہدات کو اپنی قوت کا نتیجہ کبھی نہیں سمجھا محض فضلِ الٰہی تصور کیا اور ان مجاہدات کی وجہ سے انہوں نے اپنی ذات کو پسندیدہ نظر سے نہیں دیکھا۔ اس وجہ سے وہ تکبر سے محفوظ رہے۔
تو خلاصہ یہ ہوا کہ جسے اللہ پسند فرماتا ہے عوام اسے پسند نہیں کرتے، اور جسے اپنا وجود پسند آیا اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا۔
جیسا کہ شیطان کہ اسے لوگوں نے پسند کیا اور ملائکہ نے بھی قبول کیا اور خود اس نے اپنے آپ کو اچھا سمجھا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے پسند نہیں کیا تو لوگوں اور فرشتوں کا پسند کرنا اس کے لیے عمر بھر کی لعنت بن گیا۔
اور آدم علیہ السلام کو اول ملائکہ نے پسند نہیں کیا اور صاف کہہ دیا: ﴿أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا﴾ (۱) کیا ایسے وجود کو دنیا میں پیدا فرما رہا ہے جو فساد کرے۔
اور خود آدم علیہ السلام نے اپنے وجود کو پسند نہ کیا اور عرض کر دیا: ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا﴾ (۲) اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
لیکن چونکہ آدم علیہ السلام پسندیدۂ حق تھے تو جنابِ باری عزاسمہ کی طرف سے ارشاد ہوا:
(۱) سورة البقرة: ۳۰ (۲) سورة الأعراف: ۲۳
صفحہ۱۶۴
﴿فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا﴾ (۱) "سو وہ بھول گیا اور نہ پایا ہم نے اس کا کوئی عزم"۔
تو اللہ تعالیٰ کا پسند فرمانا آدم علیہ السلام کے لیے عمر بھر کی رحمت لایا تاکہ دنیا کے لوگ جان لیں کہ اللہ کا مقبول و مہجورِ خلق ہوتا ہے اور مقبولِ خلائق مہجورِ الٰہی ہوتا ہے۔
تو ثابت ہوا کہ ملامتِ خلقِ خدا علامت ہے محبوبانِ الٰہی کی، اور دلیل ہے اس کے مقربِ بارگاہ ہونے کی اور جس طرح مقبولِ خلائق ہو کر خرم و شاد ہونا عام طور پر پسندیدہ ہے اسی طرح خاصانِ بارگاہ خلق کے ساتھ شادکام و شادمان رہتے ہیں۔
حدیث میں آیا ہے کہ حضور ﷺ سے جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اور جبرائیل علیہ السلام سے رب العزت جل مجدہ نے فرمایا:
فصل: أَوْلِيَائِي تَحْتَ قِبَابِي لَا يَعْرِفُهُمْ غَيْرِي إِلَّا أَوْلِيَائِي. (۲) "میرے دوست میری قباب (قبوں) کے اندر ہیں، انہیں میرے اور میرے دوستوں کے سوا کوئی نہیں جانتا۔"
ملامت کی تین صورتیں ہیں: راست روی، قصد کرنا، ترک کرنا۔ ایک سیدھا چلنے میں، دوسرے قصد کرنے میں، تیسرے ترک کرنے میں۔
راست روی میں صورتِ ملامت یہ ہے کہ اپنا کام کرتا رہے اور احکامِ دین کی پیروی کرے اور ہر معاملہ میں رعایت ملحوظ رکھے اور لوگ اسے ایسی حالت میں ملامت کریں جیسا کہ عوام کا رویہ ہے۔ مگر عارفِ کامل ان تین ملامتوں سے بھی بے تعلق اور فارغ ہو۔
اور قصد میں صورتِ ملامت یہ ہے کہ ایک شخص جبکہ اسے عز و جاہ کافی حاصل ہو چکی ہو اور لوگوں میں معزز و ممتاز ہو کر ان میں نشانہ ہو چکا ہو مگر اس کا دل اس عز و جاہ سے اور رجوعِ خلق سے متنفر ہو اور وہ چاہے کہ سب سے دل علیحدہ کر کے خلوتِ خاص میں اپنے جمیلِ حقیقی سے مشغول ہو تو اس تکلف کی وجہ میں لوگ ملامت کرنا شروع کر دیں، اور وہ بھی لوگوں کو دکھانے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کرے جو خلافِ شرع نہ ہو مگر اس رویہ سے لوگ اس کے ساتھ متنفر ہو جائیں مگر وہ خود لوگوں کے اس تنفر کی پرواہ نہ کرے۔ آخرش لوگ اس سے بے پرواہ ہو جائیں۔
(۱) سورة طه: ۱۱۵ (۲) اسے امام غزالی نے احیاء العلوم ۴/ ۲۵۶ میں نقل کیا ہے۔
صفحہ۱۶۵
اور تیسرے یہ کہ ترک کرے۔ یہ صورتِ ملامت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو دنیا کی ترغیب ترک کر کے اور عز و جاہ کو چھوڑ کر وہ شریعت اور اذکار اور اتباعِ قانونِ اسلام کے لیے کہیں اور سمجھتا ہے کہ میں جس راہِ راست پر ہوں وہ بغیر ملامت سے نہیں اختیار کیا ہے اور وہ فی الحقیقت اس راہِ راست پر ہو۔ تا کہ اس کے دل کو لوگوں کی ملامت کی پروا نہ رہے اور ان کی بدگوئی سے وہ بچا رہے اور ایسی حالت میں اسے ملامت کا خوف نہیں ہوتا اور اپنے اس کام میں پرسکون رہتا ہے، جس نام سے بھی لوگ اسے پکاریں وہ سب نام اس کی نظر میں برابر ہوتے ہیں۔
ایک حکایت میں ہے کہ حضرت شیخ ابو طاہر حرمی رحمۃ اللہ علیہ ایک روز ایک گدھے پر سوار ہو کر بازار میں جا رہے تھے اور ان کے پیچھے ان کے ایک مرید اس گدھے کی باگ پکڑے ہوئے تھے۔ راہ میں جانے والے ایک شخص نے آواز دی کہ: "آ گیا بوڑھا زندیق!" مرید کو غصہ آ گیا اور اس مارنے کے لیے بڑھا۔ اس سے بازار کے لوگ طیش میں آ گئے اور ابو طاہر رحمۃ اللہ علیہ نے مرید سے فرمایا کہ اگر تو خاموش ہو جائے تو ہم تجھے ایسی چیز بتائیں گے کہ تیرا سارا رنج و غم جاتا رہے گا۔ مرید خاموش ہو گیا۔ جب اپنی جائے قیام پر تشریف لائے تو مرید کو حکم دیا کہ وہ صندوق لائے۔ مرید صندوق لایا۔ اس صندوق میں بہت سے خطوط جمع ہوئے تھے، آپ نے ایک خط نکال کر دیا اور فرمایا: دیکھو، ان متعدد لوگوں نے مجھے خط لکھے ہیں، ہر ایک نے میرے لیے الگ نام لکھے ہیں۔ ایک نے "شیخ الاسلام"، ایک نے "زاہد"، ایک نے "محی الدین" اور ایک نے گالیوں کے ساتھ لکھا اور فرمایا: دیکھو متعدد لوگوں کے خطوط ہیں، ہر ایک نے میرے لیے ایک لقب دے دیا ہے۔ اگر اس نے مجھے کوئی لقب دے دیا تو اس پر اتنا برا کیوں مانتے ہو؟
اب تجھ کو سمجھنا چاہیے! جو اس طریقۂ ملامت میں بقصدِ ترکِ جاہ، عزت و ریاست زہد اختیار کرتا ہے، وہ ایسا ہی ہے جیسے کہ روایت ہے کہ حضرت امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایک روز خیموں کے پاس سے تشریف لا رہے تھے اور شرم کی خشک لکڑیوں کا گٹھا آپ کے سر پر تھا۔ حالانکہ آپ کے پاس چار سو غلام تھے۔ لوگوں نے عرض کیا: حضور! یہ کیا فرمایا ہے؟ فرمایا: أَنْ أُجَرِّبَ نَفْسِي. "میں چاہتا ہوں کہ اپنے نفس کا تجربہ کروں۔"
میرے پاس اگرچہ بہت سے غلام ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرا نفس اس اعلیٰ مقام و جاہ اور عز و احترام کی وجہ سے کہیں سرکش نہ ہو جائے، یہ بات شانِ ملامت کے نزدیک ہے اور...
صفحہ۱۶۶
اس سے اثباتِ ملامت واضح ہے۔ ایسا ہی ایک حکایت میں امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ اس کتاب میں جس جگہ ان کا ذکر ہوگا ان شاء اللہ وہاں لکھوں گا اور ابو یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ سفرِ حجاز سے تشریف لائے تو منادی کرادی گئی اور لوگوں میں شہرہ ہوا کہ بایزید تشریف لائے ہیں۔ شہر کے لوگ جمع ہوئے اور برائے استقبال شہر سے باہر آئے تاکہ اعزاز و اکرام کے ساتھ شہر میں لائیں۔ بایزید رحمۃ اللہ علیہ لوگوں کی آمد و رفت سے ان کی طرف مشغول ہوئے اور محسوس فرمایا کہ اب دل بھی تقربِ حق سے بعید ہو رہا ہے۔ پریشان ہو گئے تو آپ نے یہ حیلہ بنایا کہ (جب وسطِ شہر میں تشریف لائے تو) ایک ٹکیہ روٹی کی نکال کر برسرِ راہ کھانا شروع فرمادی۔ عوام میں اس حالت سے منافرت پیدا ہوگئی اور آپ کو تنہا چھوڑ کر چل دیئے۔ اس لیے کہ یہ واقعہ رمضان شریف میں ہوا۔ حضرت بایزید نے اپنے اس مرید سے فرمایا جو آپ کا ہم سفر تھا، کہ دیکھا تو نے! ایک مسئلہ پر شریعتِ مطہرہ کے میں نے عمل کیا تو لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا اور آزاد کر دیا (یعنی مسئلہ شرعی یہ ہے کہ مسافر اگر بحالتِ مسافرت روزہ نہ رکھے تو اس پر گناہ نہیں، وہ ان روزوں کی قضا دوسرے ایام میں کر سکتا ہے) اور میں یعنی علی بن عثمان جلابی (رضی اللہ عنہ) کہتا ہوں کہ اس حالت میں حصولِ ملامت کے لیے ایک برا فعل ہونا بھی بہتر تھا اور کوئی چیز خلافِ عادت ظاہر کرنا مناسب، لیکن آج وہ زمانہ ہے کہ اب اگر چاہے کہ لوگ اس کو ملامت کریں تو یہی کافی ہے کہ کہہ دے، جا! اور دو رکعت نفل لمبے کر کے پڑھ یا اپنے دین کو مضبوطی سے تھام اور اتباع مکمل کرے تو آج عوام میں اس کہنے سے تجھے علی الفور منافق اور ریا کار کہہ دیں گے۔
لیکن وہ شخص جس کا طریقہ ترک ہے اور اس کی وجہ میں وہ کوئی بات خلافِ شریعت اختیار کر کے کہتا ہے کہ میں یہ ملامت کا طریقہ اختیار کرتا ہوں تو یہ صراحتاً گمراہی، وضاحتاً آفت اور وہ کاذب ہے اور اس زمانہ میں ایسے بہت ہیں کہ ان کا مقصود لوگوں کے رد کرنے سے ان کا رجحان اپنی طرف بڑھانا ہے حالانکہ ردِ خلائق کرنا اسے زیبا ہے جو پہلے مقبولِ بارگاہ ہو چکا ہو، تو اس کے رد کرنے سے عوام اس کے اس رویہ کا رد کرنے لگتے ہیں۔
اور جو پہلے ہی مقبولِ بارگاہ نہیں، وہ اگر لوگوں سے مجتنب رہے اور ردِ خلائق کرنے کا تکلف کرے تو یہ یقیناً لوگوں کو اپنی طرف رجوع کرنے کا بہانہ ہوگا۔
مجھے ایک مصنوعی ملامتی سے سابقہ پڑا۔ میں نے دیکھا کہ وہ کسی خراب فعل میں مرتکب تھا اور اس فعل پر ملامت کو عذر بنا رکھا تھا۔ ایک شخص نے اسے کہا کہ یہ بہانہ لغو ہے۔ میں نے اسے...
صفحہ۱۶۷
دیکھا کہ بڑا غضبناک ہو گیا۔ میں نے اسے کہا کہ تو در حقیقت ملامتی ہے اور یہ تیرا زبانی دعویٰ نہیں ہے۔ تو تیرے اس دعویٰ پر اس شخص کا انکار تیرے مقصد و مذہب کی تائید ہے اور جو تیرے خیالات و دعویٰ کی تائید کرتا ہے تو پھر اس پر تیرا غضبناک ہونا کیا معنی رکھتا ہے اور یہ قہر و غضب کس لیے؟ تیرا یہ رویہ اگرچہ مانندِ طریقۂ ملامت ہے (مگر دراصل کچھ نہیں ہے)، ہمیشہ یاد رکھ کہ جو شخص کسی کو امرِ حق کی دعوت دیتا ہے، وہ کوئی دلیل بھی رکھتا ہے اور اس کی دلیل محافظتِ سنت ہے۔
پھر تجھ سے میں ترکِ فرض کا رویہ بھی دیکھ رہا ہوں اور لوگوں کو بھی اسی گمراہی کی طرف دعوت دے رہا ہے تو تیرا یہ انکار ملامت کے طریقہ پر نہیں بلکہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
فصل: یاد رکھو مذہبِ ملامت کے اصول شیخِ وقت ابو حمدون قصاب رحمۃ اللہ علیہ نے جاری فرمائے اور طریقِ ملامت میں انہوں نے بہت سے لطائف و حقائق بیان فرمائے ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں: الْمَلَامَةُ تَرْكُ السَّلَامَةِ. "ملامت سلامتی ترک کر دینے کو کہتے ہیں۔" جب کوئی آدمی کشفِ جلال اور طلبِ مال سے بَری حاصل کرلے اور مخلوقات میں رہ کر مخلوق سے ناامید ہو جائے تو وہ ترکِ سلامتی کا قصد کرتا ہے اور صاف فیصلہ کر لیتا ہے کہ مجھ پر بلائیں آئیں۔ میری تمام مالوفات و راحت مجھ سے چھن جائیں، اس لیے کہ میری طبیعت ان تمام چیزوں کی محبت سے آزاد ہو چکی ہے۔
اور حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان جتنا ان چیزوں سے آزاد ہوتا جاتا ہے اپنے رب جل مجدہ کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ تو سلامتی جس کی طرف عوام کو احتیاج ہوتی ہے، اہلِ ملامت اس سے اجتناب کرتے ہیں، اس لیے کہ ان کا مقصد عوام کے مقصد کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ عوام کی سلامتی و جاہِ دنیا پر نظر ہوتی ہے۔ اہلِ ملامت کی اس سے پشت ہوتی ہے۔ اہلِ ملامت کی ہمت دنیا کی ہمت سے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ اس لیے کہ صوفی اپنے اوصاف میں یکتا ہوتا ہے جیسا کہ حضرت احمد بن فاتک رحمۃ اللہ علیہ حضرت حسین بن منصور سے روایت فرماتے ہیں کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ:
مَنِ الصُّوفِي؟ قَالَ: وَجْدَانِيُّ الذَّاتِ. صوفی کون ہے؟ فرمایا: جو معرفتِ ذات کر چکا ہو۔
اور حضرت ابو حمدون سے ملامت کی بابت سوال ہوا۔ آپ نے فرمایا: راہِ آن بر خلق دشوار و مغلق است.
صفحہ۱۶۸
"ملامت کا راستہ عوام پر دشوار بلکہ بند ہے۔"
مگر ہم کچھ بیان کرتے ہیں: رَجَاءُ الْمُرْجِيَةِ وَخَوْفُ الْقَدَرِيَّةِ. ترسِ قدریاں اور امیدِ مرجیاں صفتِ ملامت ہے اور اس اجمال میں ایک رمزِ خاص ہے وہ یہ کہ ملامتی کی طبیعت درگاہِ الٰہی کے علاوہ کسی طرف راغب نہیں ہوتی اور ماسوی اللہ سے نفرت جتنی اسے ہے، کسی کو اس سے زائد نہیں۔ یہ ہمیشہ وجاہت سے متنفر رہتا ہے، برخلاف عوام کے کہ وہ اس حد تک اپنے لیے وجاہت ضرور چاہتا ہے کہ لوگ اسے پسند کریں اور اس کی تعریف ہو بلکہ اپنی تعریف کے لیے جان و دل سے مر جاتا ہے اور اسی تعریف کی خواہش میں اپنے رب جل مجدہ سے جدا ہو جاتا ہے۔
تو خائف ہمیشہ یہ خوف کرتا ہے کہ خطرہ اس پر نہ آئے اور اس وجہ میں وہ خطرہ کے مقام سے بچا رہتا ہے اور اس سعی و کوشش میں طالب کو دو خطرے پیش ہوتے ہیں: ایک: خلقت کے حجاب کا خوف۔ دوسرے: ایسے فعل کا نہ کرنا جس سے لوگ اس کے فعل پر اس کے ساتھ گنہگار ہوں اور اس پر عوام زبانِ ملامت دراز کریں۔
نہ یہ اسے منظور ہو کہ اس کی وجاہت میں لوگ آرام کریں نہ یہ گوارا کہ وہ اپنے میں کسی کو گنہگار کرے تو ملامتی کو بالخصوص یہ لازم ہے کہ دنیا و عاقبت کی خصومت جو اس کے معاملہ میں ہے اس سے انقطاع کرے اور نجاتِ دل کے لیے وہ کام کرے جو شریعتِ مطہرہ میں نہ کبیرہ ہو نہ صغیرہ تاکہ لوگ اسے رد کریں اور اس کا خوف اس کے معاملات میں مثلِ خوفِ قدریان رہ جائے اور اس کی امید معاملۂ ذاتی میں ملامت کرنے والوں کی طرف سے مثلِ امیدِ مرجیان ہو۔
اور دوستی و محبت کے حقائق میں ملامت سے زیادہ خوشگوار کوئی چیز نہیں، اس لیے کہ دوست کے دل پر دوست کی ملامت کا اثر نہیں ہوتا اور دوست کو سوائے کوچہ گردیِ کوئے یار اور کسی سے سروکار بھی نہیں ہوتا اور بغیر کوئے یار اس کی گزر بھی مشکل ہے۔ اور اعتبار کا خطرہ دوست کے دل پر کبھی نہیں ہوتا۔
"ملامت عاشقوں کا باغ ہے، محبوں کی نزہت و تازگی ہے، مشتاقانِ جمال کی راحت ہے اور مریدینِ خالص کا سرور ہے۔"
یہ جماعت ملامت تن اختیار کر کے ثقلین میں ممتاز ہو گئے اور سلامتیِ دل میں کوئی ان کے...
صفحہ۱۶۹
مقابل میں نہیں۔ مقربانِ بارگاہ اور کروبیاںِ خاص اور عالمِ ارواح والے ان کے اس درجہ کو نہیں پہنچتے ہیں۔ اور سابقہ امتیوں میں اگرچہ زاہد، عابد، راغب، طالب گزرے اور رب کے چاہنے والے تھے مگر اس مرتبہ کو کوئی نہ پہنچا، سوا اس گروہ کے جو اس امت میں ہوا کہ اپنے سلوکِ طریقت میں سب سے دل منقطع کر کے اپنے دل سے تعلق رکھا۔
لیکن میرے نزدیک طلبِ ملامت ریا خالص ہے اور ریا، عینِ نفاق۔ اس لیے کہ ریاکار اس راستہ پر چلنا پسند کرتا ہے جس میں عوام کی نگاہیں تکلف پائیں اور لوگ اسے اس راہ پر چلنے کی وجہ سے پسند کریں اور ملامتی اس راستہ پر جاتا ہے جس راستہ پر جاتے ہوئے کو لوگ رد کر دیں اور یہ دونوں قسم کے ملامتی مخلوق میں موجود ہیں۔ اور دونوں کو سوا اس کے اور کسی جگہ سے گزرنا بھی ناممکن ہے۔ ایک ایسی صورت میں ظاہر ہے تو دوسرا ویسی شکل میں، اور درویش کو مخلوق کی کسی بات سے تعلق ہی نہیں تو جبکہ اس کا دل مخلوق سے بے تعلق ہو چکا اور وہ ان دونوں قسموں سے آزاد ہے تو پھر کسی چیز کا پابند نہیں۔
مجھے ایک بار ماوراء النہر کے ملامتی سے ملاقات کا اتفاق ہوا تو جب وہ بے تکلف ہو گیا تو میں نے اس سے کہا: بھائی اس قسم کے شوریدہ افعال سے تمہاری کیا مراد ہے؟ کہنے لگا: مخلوق سے اپنے کو چھپانا۔ میں نے کہا کہ لوگ بہت ہیں اور تیری عمر کم، تو زمانہ میں ان سے پیچھا چھڑانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا لہذا تو خود ان کو کیوں نہیں چھوڑ دیتا تاکہ اس شغل سے بھی تو آزاد ہو جائے اور ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ لوگوں میں مشغول ہوتے ہیں، ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ لوگ ان کی طرف مشغول ہیں۔ تو ایسا کیوں نہیں کرتا کہ تو اپنے کو نہ دیکھتا کہ پھر تجھے کوئی نہ دیکھے۔ جب زمانہ کی الفت کی بلا تو نے دیکھی ہوئی ہے تو تجھے غیر سے کیا کام جس کو کچھ نہ کھانے سے ہی شفا مل جاتی ہے، اسے دوا کھانے کی کیا حاجت اور اگر وہ ایسا کر رہا ہے تو مرد نہیں۔
ایک گروہ محض ریاضتِ نفس کے لیے اپنے کو ملامتی بنا لیتا ہے تاکہ انہیں لوگ خوار کریں اور اس خواری سے ان کا نفس ادب سیکھے، کیونکہ ان کی خوشی اسی میں ہوتی ہے کہ اپنے نفس کو خواری اور ابتلاء میں دیکھیں۔
حضرت ابراہیم ادہم رحمۃ اللہ علیہ سے ایک حکایت ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ کبھی آپ اپنی مراد کو پہنچے ہیں یا نہیں؟ فرمایا: ہاں! دو بار مراد ملی ہے۔ ایک بار میں کشتی میں تھا اور کوئی مجھے وہاں نہیں جانتا تھا۔ میں نے بہت میلے کپڑے پہن رکھے تھے اور میرے سر کے بال لمبے تھے۔ میں اسی حالت میں کشتی میں سوار تھا کہ لوگ میری تحقیر کرنے لگے اور میرا مذاق اڑانے لگے۔
صفحہ۱۷۰
اور ہنستے تھے اور مجھ پر تمسخر کرتے تھے۔ کشتی میں ایک شخص مسخرہ تھا وہ کھڑا ہوا اور تحقیر کے طور پر میرے سر کے بال نوچے اور داڑھی سے پکڑ کر دھکے دیے اور مجھ پر پیشاب کر دیا۔ ان باتوں کو دیکھ کر لوگ ہنسنے لگے اور میں اپنے دل میں سلوک کے راستے طے کر رہا تھا اور مجھے خوشی ہو رہی تھی اور میری خوشی اپنی حد کو پہنچ گئی اس طور پر کہ میں اس سے بے خبر تھا اور مرادِ دلی پا رہا تھا۔
دوسری بار اس طرح مراد کو پہنچا کہ سردی کے دن تھے اور سخت بارش ہو رہی تھی، میں جا رہا تھا کہ ایک گاؤں میں ایک مسجد نظر آئی، سوچا کہ اس رات اس مسجد میں سو رہوں مگر اہل مجلس نے مجھے مسجد سے نکال دیا، وہاں سے روتا ہوا ایک اور جگہ گیا لیکن اس جگہ سے بھی مجھے نکال دیا اور مجھے نہ پہچانا۔ سردی کی وجہ سے میرا دل آزرادہ تھا۔ ایک حمام کے چولہے پر گیا اور اپنا خرقہ اس چولہے کی راکھ سے بھر لیا، چولہے کے جھونکنے والے نے میرے کپڑے اور میرا منہ سیاہ کر دیا۔ اس وقت بھی میں اپنی مراد کو پہنچا۔
اور مجھے بھی (یعنی مجھے علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ کو) ایک واقعہ ایسا پیش آیا، میں نے اس امید پر بہت کوشش کی کہ یہ گرہ کھل جائے مگر نہ کھلی۔ اور ایک دفعہ اس سے بمشکل ایسا ہی واقعہ پیش آیا تو میں مزارِ حضرت شیخ ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ پر اس وقت تک مجاور بنا رہا جب تک وہ گرہ نہ کھلی، آخر گرہ کھل گئی۔
پھر وہاں سے روانہ ہوا، وہاں سے طوس کا قصد کیا۔ وہاں کا سفر اختیار کیا اور ایک گنجینہ کی زیارت کی اور حلِ مشکل کے لیے درخواست کی، پھر وہاں سے روانہ ہوا اور ہر روز زانو پر ہاتھ رکھ کر ننگے پاؤں بیس بار وضو سے رہا اور امیدِ کشف رہی مگر کشف نہ ہوا۔ آخر خراسان کا سفر اختیار کیا۔ وہاں کے ایک علاقہ دمشق کے ایک گاؤں "شامیکانی" میں پہنچا، یہاں ایک خانقاہ تھی اور اس خانقاہ میں صوفیوں کی ایک جماعت موجود تھی۔ میں نے درویشانہ لباس (یعنی ایک موٹا کپڑا) پہنا ہوا تھا اور نہایت تھکا ہوا تھا۔ میرے پاس سامانِ دنیا میں سے کچھ نہ تھا، ایک عصا اور کوزہ کے سوا سامان نہ تھا۔
وہاں کے صوفیوں کی نظر میں بہت حقیر نظر آیا اور میرا جاننے والا اس جماعت میں کوئی نہ تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے رسم کے مطابق گفتگو کی جس سے مجھے تکلیف پہنچائی اور بات بھی کی جو انہوں نے کہی تھی۔ میں فی الواقع ان میں سے نہیں تھا، انہوں نے مجھے نیچے بٹھا دیا اور خود اوپر چلے گئے اور مجھے ایک بالاخانہ پر جگہ دی۔
اور مجھے انہوں نے ایک روٹی پھینک دی جو سوکھی اور سرخ رنگ کی تھی، میں اسے کھانے لگا...
صفحہ۱۷۱
بالاخانہ پر۔ جب وہ کھانے سے فارغ ہو گئے تو خربوزہ کھانے لگے اور اس کے چھلکے میرے اوپر پھینکتے رہے۔ اس لیے کہ میں ان کی نظروں میں بہت حقیر تھا، میں نے اپنے دل میں کہا: الٰہی! یہ لوگ وہ ہیں جو تیرے دوست ہیں اور دوستوں کا لباس پہنے ہوئے ہیں، اگر یہ مجھ سے نفرت نہ کرتے تو میں ان سے متنفر نہ ہوتا، لیکن جس قدر ان کی حقارت مجھ پر زیادہ ہوتی جاتی تھی میرا دل اندر سے بہت خوش ہو رہا تھا اور میں شادمان تھا کہ ان کی حقارت کے بوجھ سے مجھ پر میرا واقعہ کھل گیا اور مجھے معلوم ہوا کہ مشائخ نے ان جاہلوں کو کس لیے اپنے اندر رکھا ہوا ہے اور ان کا بار کیوں اٹھائے ہوئے ہیں۔
بحقِ خداوندی جل جلالہ! یہ ہیں احکامِ ملامت جو پورے طور پر میں نے حاصل کیے۔
صفحہ۱۷۲
فصل
صحابهٔ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا احوال
سب کے پیشوا اور اربابِ تزکیہ میں امامِ گرامی ہیں، انبیاء کے بعد سب سے افضل اور معاملاتِ اولیاء و اتقیاء، اور تمام مہاجرین و انصار کے حالات، اور اہل صفا کی جماعت میں بعدِ انبیاء سب سے برتر ہیں: (تاکہ ان شاء اللہ عزوجل مراد و معلومات پوری ہو جائیں)۔
اہلِ گیتی، شہنشاہِ اربابِ صفا، امینِ اسلام، بعدِ امام، خیرِ الانام، خلیفۂ اول، سیدنا و امامنا، سندِ ہدایت، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تجرید و تفرید اور آفاتِ انسانی سے مبرا ہیں۔ آپ کے احکام و معاملات میں آپ کے فضائل و کرامات مشہور ہیں اور تصوف کے باب میں آپ کا مقام کمال پر ہے۔ آپ کا کچھ حال تصوف کے باب میں ذکر کیا جاتا ہے (اس لیے کہ اہل صفا آپ کو پیشوا اور اہل مشاہدہ مانتے ہیں) اس لیے کہ صاحبِ مشاہدہ جو ہوتا ہے، سيدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی تجرید کی وجہ سے دوسروں پر بہت فوقیت حاصل ہے (اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اہل مشاہدہ کے امام ہیں)۔ احادیث میں آیا ہے اور علماء سے یہ مشہور ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رات کے وقت نماز میں قرآنِ کریم بہت آہستہ پڑھتے، اور جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے دریافت ہوا تو وہ بلند آواز سے پڑھتے۔ حضور ﷺ نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ آپ آہستہ تلاوت کیوں کرتے ہیں؟ عرض کیا: مَنْ نَاجَيْتُهُ يَسْمَعُ. "حضور! اس لیے آہستہ پڑھتا ہوں کہ میں جانتا ہوں کہ جس سے میں مناجات کر رہا ہوں وہ مجھ سے غائب نہیں۔" اور اس حالت میں ان کے لیے امید، اور آہستہ پڑھنا یا بلند آواز سے پڑھنا برابر ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: آپ بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہیں؟ عرض کیا:
أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ.
"میں سوتے ہوؤں کو جگاتا ہوں اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔"
مشاہدہ پر مبنی یہ مجاہدات کا مظاہرہ تھا اور وہ شانِ تزکیہ کا، اور ان دونوں کا مقصد ایک ہی ہے جس طرح طریقۂ براہ راست، اور یہی وجہ تھی کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
عُمَرُ حَسَنَةٌ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ.
صفحہ۱۷۳
"عمر تم ابو بکر کی بھلائیوں میں سے ایک حصہ ہو۔" جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی جلیل القدر ہستی جن سے عزت و وقارِ اسلام ترقی پر آیا، وہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں ایک حصہ بھلائی کے مالک ہیں تو غور کر کے دیکھ دنیا کے لوگ آپ کے مقابلہ میں کس درجہ پر ہوں گے۔ پھر باوجود اس شان کے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
"ہمارا گھر فانی ہے، ہمارے حالات پرائے ہیں، ہماری سانسیں گنتی کی ہیں اور ہماری سستی بدستور موجود ہے۔"
تو سرائے فانی میں دل لگانا، عمارت کرنا جہالت کے مقتضیات سے ہے اور اپنے حالات و کوائف پر بھروسہ کرنا حماقت و بیوقوفی ہے اور چند سانس کے بھروسہ پر دل لگا لینا غفلت محض ہے اور اپنی کاہلی اور سستی کو دین کہنا خیانت مجرمانہ ہے جو موجب حرمان و نقصان ہے۔
اس لیے کہ جو چیز عاریہ آئے وہ واپس جائے گی اور جو چیز گزرنے والی ہے وہ فانی ہے اور کبھی نہیں رہ سکتی اور جو گنتی کے ساتھ ملی وہ ضرور ختم ہوگی اور کاہلی و سستی کی دوا معدوم ہے۔ اس فرمان میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ہوشیار فرمایا کہ دنیا اور دنیا کی چیزیں اس قابل نہیں کہ ان سے دل لگایا جائے، اس لیے کہ جو مشغول بہ فانی ہو گیا وہ باقی سے محجوب ہو جائے گا۔
تو جب دنیا اور نفسِ امارہ طالبِ حق کے لیے زبردست حجاب ہیں تو تجھے لازم ہے کہ ان سے اعراض کرے اور جب جان لیا کہ عاریہ جو چیز ملتی ہے وہ دوسرے کی ملک ہوتی ہے تو جو چیز کسی اور کی ملک ہے، اس سے اپنا دستِ تصرف کوتاہ رکھنا ہی مناسب ہے۔
اور ان ہی حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی دعاؤں میں فرمایا:
"الٰہی! میرے لیے دنیا فراخ فرمادے اور مجھے دنیا سے زاہد رکھ" یعنی جب مجھ پر دنیا فراخ ہو جائے تو مجھے اس کی آفتوں سے محفوظ رکھ۔
اس دعا کے ضمن میں ایک رمز ہے، یعنی پہلے مال عطا فرما تاکہ اس کا شکر ادا کروں، پھر ایسی توفیق دے کہ تیرے لیے اس سے ہاتھ کھینچ لوں اور اس سے مستغنی ہو کر منہ پھیر لوں تاکہ مجھے شکر گزاری اور انفاق فی سبیل اللہ کا درجہ حاصل ہو جائے اور درجۂ صبر بھی اتنا عطا فرما کہ بحالتِ فقر...
صفحہ۱۷۴
مضطر نہ ہو جاؤں تاکہ فقر اختیاری ہو۔ پھر اس میں معاملت کا قول درست ثابت ہوتا ہے، جو کہ فرمایا ہے: جس کا فقر اضطراری ہو، وہ مصنوعی ہے اور جس کا فقر اختیاری ہو وہ وہ ہے کہ اس کا یہ کسبِ فقر، جلبِ فقر سے منقطع ہوتا ہے تو وہ فقر اس سے بہتر ہے جو یہ تکلف اپنے لیے کوئی دوسرا درجہ بنائے۔
ہم کہتے ہیں کہ فقر کی صفت زیادہ تر ظاہر تب ہو سکتی ہے جبکہ بحالتِ غنا ارادۂ فقر اس کے دل پر مستولی ہو اور اس حد تک اس ارادہ کو عملی جامہ پہنائے کہ ابنائے بنی آدم کی تمام مرغوب چیزوں سے دل کا رجحان ہٹالے اور وہ تمام مرغوبِ انسان اشیاء کے مجموعہ کا نام دنیا ہے نہ یہ کہ بحالتِ فقر غنا کی خواہش اس کے دل پر مستولی ہو اور اس حد تک دنیا حاصل کرنے میں سعی کرے کہ حصولِ درہم و دینار کے لیے بارگاہِ امراء و سلاطین پر جبہ سائی کرتا پھرے۔ تو اچھی طرح سمجھ لو کہ صفتِ فقر یہ ہے کہ وہ غنا سے فقر کی طرف آئے نہ کہ بحالتِ فقر طالبِ ریاست ہو جائے۔
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ہستی مبارک وہ ہستی ہے کہ: أَفْضَلُ الْبَشَرِ بَعْدَ الأَنْبِيَاءِ ہیں، ان سے آگے بڑھ کر کسی کو قدم اٹھانا روا نہیں اور وہ ایسے الفاظ میں دعا فرما چکے ہیں (جو پہلے گزر چکی) اس لیے اختیاری فقر پر اضطراری فقر کو مقدم کرنا کسی طرح صحیح نہیں اور تمام مشائخِ متصوفہ اسی مذہب پر ہیں۔ مگر ایک پیر جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں اور اس کے حجت و دلائل نقل کر کے اس کا رد بھی کر دیا ہے اور اس رد کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اور مؤکد کرتے ہیں، جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان کو زہری نے روایت کیا ہے۔ یہ دلیل واضح ہے کہ جب آپ نے خلافت کے لیے لوگوں سے بیعت لی، آپ ممبر پر جلوہ آراء ہوئے اور خطبہ پڑھا۔ خطبہ میں آپ نے فرمایا:
"خدا کی قسم میں اس خلافت و امارت کا حریص نہیں ہوں اور نہ تھا اور کسی رات دن میں اس کی خواہش میرے دل میں پیدا نہیں ہوئی اور میری رغبت اس کی طرف نہیں اور نہ میں نے کبھی اللہ تعالیٰ کے حضور خفیہ و علانیہ اس کے لیے دعا کی اور مجھے اس میں کوئی راحت و خوشی نہیں"۔
حقیقتِ حال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے عبدِ صادق کو کمالِ صدق پر پہنچا دیتا ہے اور اس درجۂ تمکین کے ساتھ معزز و ممتاز بنا دیتا ہے تو وہ کسی معاملہ کو اپنے اختیار میں نہیں رکھتا بلکہ منتظر ہوتا...
صفحہ ۱۷۵ اس نقل میں موجود نہیں۔
صفحہ۱۷۶
ہے کہ بارگاہِ الٰہی کی طرف سے کیا حکم وارد و صادر ہوتا ہے۔ پھر اگر صدورِ حکم ہوتا ہے کہ فقیر بن کر رہ، تو فقیری پسند کر لیتا ہے اور حکم آتا ہے کہ امارت پر متمکن ہو تو امیر بن جاتا ہے۔ کسی معاملہ میں اسے اپنے اختیارات کا تصرف و اختیار نہیں ہوتا اور نہ وہ خود کسی معاملہ میں تصرف کرنا چاہتا ہے۔ جیسا کہ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کہ آپ نے ابتداء میں بھی تسلیم ہی اختیار فرمائی اور انتہاء تک اسی تسلیم و رضا کے محور پر رہے۔ چنانچہ تسلیم و رضا کے مسئلہ پر جتنے بعد میں ہوئے، سب کے سب اُسی ہستی کو اپنا امام و پیشوا مانتے چلے آ رہے ہیں اور آپؓ تمام اربابِ تسلیم کے امام اور اہلِ طریقت کے پیشوا خاص ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
اور انہیں اجلِ صحابہ (رضی اللہ عنہم) میں سے سرہنگِ اہلِ ایمان، صعلوکِ اربابِ احسان، امامِ اہلِ تحقیق، در بحرِ محبت غریق یعنی سردارِ اہلِ ایمان، پیشوائے اربابِ احسان، امامِ اہلِ تحقیق، محبت کے دریا میں غریق ابو حفص سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ تھے کہ آپؓ کی کرامات بہت مشہور ہیں اور آپؓ کی فراست و سیاستِ عالم میں مذکور ہے۔ بلکہ احکامِ دین کا تشدد اور سیاساتِ اسلامی کا تفرّس آپ کا ضرب المثل ہے۔ آپ کی باریک بینی لطائف و طریقت میں اور آپ کے مسائلِ دقیقہ معانیِ تصوف میں مشہور ہیں۔ بلکہ خود سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا:
۱۔ حدیثِ پاک کے مذکورہ الفاظ تو نہیں مل سکے مگر اس کی ہم معنی روایات موجود ہیں جنہیں امام ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إن الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه"۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث شریف کے الفاظ یوں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إن الله وضع الحق على لسان عمر يقول به"۔ جبکہ امام بیہقی نے "دلائل النبوۃ" میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ما كنا نبعد أن السكينة تنطق على لسان عمر۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ کریں: مشکوۃ المصابیح (کتاب المناقب: باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، حدیث: ۶۰۳۲، ۶۰۳۳، ۶۰۳۵)۔
۲۔ امام بخاری نے اپنی صحیح (۳/۱۳۳۹) فضائل الصحابہ باب فضل عمر رضی اللہ عنہ میں حضرت ابو ہریرہ کے طریق سے، امام تبریزی نے مشکوۃ المصابیح ۲/۱۷۰۲ میں اور امام سراج طوسی نے کتاب اللمع (ص: ۱۳۵) میں ذکر کیا ہے۔
صفحہ۱۷۷
"پہلی امتوں میں محدَّث تھے اور اگر میری اُمت میں کوئی محدَّث ہے تو وہ عمر (رضی اللہ عنہ) ہی ہے"۔
آپؓ کی طرف سے طریقت میں بے حد رموز و لطائف مذکور ہیں، حتیٰ کہ ان سب کا احصار و احاطہ اس کتاب میں نہیں ہو سکتا۔ تاہم بعض ان میں سے نقل کرتا ہوں۔
آپؓ نے فرمایا:
اَلْعُزْلَةُ رَاحَةٌ مِّنْ خُلَطَاءِ السُّوْءِ۔
"گوشہ نشینی موجبِ راحت ہے بُرے ہم نشین و مصاحبین کے اندر رہنے سے۔"
عزلت دو قسم کی ہے: ایک اعراض از مخلوقات۔ دوسرے انقطاع از مخلوقات۔
خلقت سے منہ موڑنا ایسی صورت ہے کہ کسی علیحدہ مقام میں جا بیٹھے اور علانیہ طور پر صحبتِ ابناءِ جنس سے بے زار ہو جائے اور اس تخلیہ میں بیٹھ کر اپنے عیوب کی نگرانی کرے اور اپنے لیے مخالطتِ اغیار سے اتنی خلاصی پائے کہ لوگوں کی طرف سے ہر قسم کی بدی سے مامون کر دے۔
لیکن مخلوق سے انقطاعِ دلی سے ہوتا ہے اور اس تعلق دلی کی صفت اس شان کی ہوتی ہے کہ اسے ظاہر سے قطعاً تعلق نہیں ہوتا۔
اور جب انقطاعِ دل کے ساتھ مخلوق سے ہو جائے تو اس کے دل پر اندیشۂ مخلوق مستولی رہتا ہے۔ اس وقت اس کی یہ شان ہوتی ہے کہ اگرچہ مخلوق میں ہو مگر مخلوق سے تنہا ہی ہوتا ہے اور اس کی توجہ مخلوق سے بالکل علیحدہ ہوتی ہے اور یہ مقام نہایت بلند ہے اور ہر ایک کے لیے یہ شان بہت بعید ہے۔ اس راہ میں صحیح اترنے والے اور اس صفت کے صحیح موصوف حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے تخلیہ کی راحت کا پتہ دیا اور بظاہر لوگوں میں منصبِ امارت اور تختِ خلافت پر جلوہ فرما تھے۔
اور یہ دلیل واضح ہے کہ اہلِ باطن اگرچہ بظاہر مخلوق میں شامل ہوتے ہیں مگر ان کا دل اپنے جمیلِ حقیقی کے ساتھ آویختہ ہوتا ہے بلکہ ہر حال میں حقِ جل و علانہ کی طرف رجوع رہتے ہیں۔
اور جس قدر مخلوقات سے ان کی صحبت ہو، اُسے من جانب اللہ ایک بلا تصور کرتے ہیں اور مخلوق کی طرف اس مجبوری سے رجحان کر لیتے ہیں کہ سمجھتے ہیں کہ محبوبانِ الٰہی دنیا سے قطعی طور پر صاف نہیں ہو سکتے اور یہ اگرچہ انہیں گوارہ نہیں، جیسا کہ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"جس گھر کی بنیاد بلا پر رکھی گئی، محال ہے کہ وہ بلا سے خالی ہو۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اجلِ صحابہ، خاص اصحابِ رسالت مآب ﷺ سے ہیں اور اس پایہ کے مقبولِ بارگاہِ لم یزل ہیں کہ آپؓ کے تمام افعال بارگاہِ ایزد پناہ میں مقبول ہیں، حتیٰ کہ جب آپؓ مشرف بااسلام ہونے آئے تو پہلے جبریل علیہ السلام بشارت لائے اور عرض کی:
تو اس طائفۂ صوفیاء میں خرقہ پوشی میں بااقتداءِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ جاری ہے اور صوفیاء کرام کا مذہب میں سخت اور متصلب ہونا ہی اسی ہستیِ مقدس کی پیروی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بعدِ اسلام سب باتوں میں امامِ خلق ہوئے، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
انہیں اجلِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ابجد وفا بدرگاہِ رضا، گنجِ حیاء، عبدِ اہلِ صفا، متعلقِ درگاہِ کبریا، متجلّیٰ بطریقِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء ابو عمر حضرت عثمان بن عفان باحیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
آپؓ کا وجود باوجودِ فوائدِ دین میں اظہر من الشمس ہے اور مقاصدِ اسلامی میں آپؓ کی فضیلت روشن ہے اور آپؓ کے مناقب ہر شان میں عام ہیں۔ حضرت عبداللہ بن رباح اور حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ "حربِ الدار" کے روز یعنی جس دن بلوائیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا تھا، ہم امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے۔ جب بلوائی بارگاہِ عثمانی میں جمع ہو گئے تو آپؓ کے غلاموں نے ہتھیار اٹھا لیے اور مقابلہ کو آمادہ ہوئے۔ حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جو میرا غلام ہتھیار اٹھانے سے رُکا رہے وہ میری طرف سے آزاد ہے۔ ہم خوفِ بلوہ کی وجہ سے باہر آئے تو راستے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہمیں ملے۔ ان کی ہمراہی میں پھر واپس حضرت امیر المومنینؓ کی خدمت میں حاضر آئے تاکہ ہمیں اس امر کا علم ہو جائے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کس غرض سے تشریف لائے ہیں۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے بعدِ سلام سنت الاسلام بلوائیوں کی شرارت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اجازت چاہی کہ ان بلوائیوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور کہا کہ چونکہ آپؓ ہمارے سچے امام ہیں، لہٰذا آپ کی بلا اجازت ہمیں تلوار اٹھانا روا نہیں۔ اس لیے ہم
[صفحہ ۱۷۹ کے آغاز سے پہلے، صفحہ ۱۷۸ کا تسلسل]
چاہتے ہیں کہ آپ سے اجازت حاصل کریں، پھر ان بلوائیوں کے فتنہ کو مٹائیں۔
"اے بھتیجے! واپس تشریف لے جاؤ اور گھر میں آرام کرو، حتیٰ کہ جو پردۂ تقدیر میں ہے آ جائے۔ ہمیں مسلمانوں کا خون بہانا، ان پر قتل کا بازار گرم کرنا زیبا نہیں، نہ ایسے کاموں سے ہمیں سروکار ہے۔"
یہ علاماتِ خاص تسلیم و رضا کی تھیں کہ عینِ کربت و غربت اور دردِ بلا کی حالت میں ظاہر ہوئیں اور یہ وہ درجۂ خلت ہے جو نمرود علیہ اللعنۃ کی آگ دہکانے کے وقت ابراہیم علیہ السلام کو عطا ہوا تھا کہ جب منجنیق کے پلے میں آپ علیہ السلام کو ڈال کر آگ کی طرف پھینکا گیا تو جبرائیل امین علیہ السلام حاضر آئے اور عرض کی: هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ؟ "کیا اس وقت کوئی آپ کو حاجت ہے؟" آپ نے فرمایا: اَمَّا اِلَيْكَ فَلَا۔ "جبریل! تمہاری طرف میری کوئی حاجت نہیں۔" جبریل علیہ السلام نے عرض کی: حضور! اگر میری طرف کوئی حاجت نہیں تو معطیِ حقیقی رب جلّ مجدہٗ کے حضور اپنی حاجت پیش فرما دیں۔ فرمایا: حَسْبِيْ مِنْ سُؤَالِيْ عِلْمُهٗ بِحَالِيْ۔ "یعنی مجھ کو وہ جانتا ہے کہ اس وقت مجھ پر کیا ہو رہا ہے اور وہ مجھ سے دانا ہے۔ وہ عالم ہے کہ میرے لیے کس حال میں صلاحیت ہے اور کیا چیز میرے حق میں مفید ہے۔" تو ثابت ہوا کہ عثمان رضی اللہ عنہ اس مقام پر مقامِ خلتِ ابراہیم علیہ السلام پر تھے کہ منجنیق اور اجتماعِ بلوائیاں بجائے آگ کے تھا اور حسن رضی اللہ عنہ بجائے جبریل علیہ السلام حاضر تھے۔
لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام عینِ بلا میں جا کر نجات پا چکے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس بلا میں ہلاک ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نجات متعلق بہ بقاء ہے اور ہلاک متعلق بفناء۔ اس حقیقت کے متعلق ہم کچھ پہلے بیان کر چکے ہیں۔
تو انفاقِ مال و ہدیۂ جان اور تسلیم امور و اخلاص میں مشائخِ طریقت حضرت امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے تتبع میں ہیں اور وہ یقیناً شریعت و حقیقت میں سچے امام تھے اور ان کی تعلیم و داد و محبتِ اسلامی میں اظہر من الشمس ہے۔ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ
اور انہی میں برادرِ مصطفیٰ ﷺ، غریقِ بحرِ بلا، جریقِ نارِ ولا، مقتدائے اولیاء و اصفیا ابو الحسن علی بن ابی طالب شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ ہیں۔ ان کی شان جادۂ طریقت میں بڑی ارفع و اعلیٰ ہے اور
صفحہ۱۷۹
بیانِ حقیقت میں ان کی باریک بینی بہت بلند ہے۔ آپ کا اصولِ حقائق میں خاص حصہ تھا، حتیٰ کہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اُن کی شان میں فرماتے ہیں:
"یعنی اصولِ عشق و محبت اور راضی برضاءِ الٰہی کے ماہر ہمارے شیخ و امام حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں۔"
گویا صاف فرما رہے ہیں کہ علمِ معاملاتِ طریقت میں ہمارے امام حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ ہیں، اور اصول اصطلاحِ صوفیاء میں علمِ تصوف اور طریقت کو کہتے ہیں اور طریقت میں عمل خاص جو ہے وہ بلاؤں کو برداشت کرتا ہے۔
روایت ہے کہ ایک شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پیرا ہوا کہ یا امیر المومنین! مجھے ہدایت فرمائیں۔ آپؓ نے فرمایا:
"یاد رکھو! کہ مشغولیت کو بیوی بچوں میں اہمیت کے ساتھ نہ رجوع کرنا، اس لیے کہ اگر وہ اولیاء اللہ سے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو خراب اور ضائع نہیں فرماتا اور اگر دشمنِ خدا ہوئے تو دشمنانِ خدا کے لیے غمخواری و ہمدردی کیوں ہو!!"
یہ مسئلہ انقطاعِ ماسویٰ اللہ سے متعلق ہے۔ اس لیے کہ اللہ جس طرح چاہے اپنے بندوں کو رکھتا ہے۔ جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کی دخترِ نیک اختر کو سخت تنگ حالت میں چھوڑ دیا اور سپردِ خدا کر دیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ کو اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ ہمراہ لے جا کر انہیں جنگل میں چھوڑا جہاں زراعت وغیرہ بھی نہ تھی۔ ﴿بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ﴾ (۱) جس کی شان میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے اور خدا کے سپرد کر دیا اور ان میں اپنے آپ کو مشغول نہ کیا اور اپنا دل اپنے ربِّ حقیقی کی طرف رجوع کر لیا، حتیٰ کہ ان دونوں کی مراد دو جہاں میں پوری ہوئی۔ باوجود اس کے کہ ظاہراً انہیں اپنے بحالتِ نامرادی میں چھوڑا گیا تھا مگر وہ اپنے سب کام اپنے ربِّ عز و جل کے سپرد کیے ہوئے تھے۔
۱۔ سورۃ ابراہیم: ۳۷
صفحہ۱۸۰
اسی قسم کی بات وہ ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک پوچھنے والے کو فرمائی، جبکہ آپؓ سے اس نے سوال کیا کہ پاکیزہ ترین عمل کیا ہے؟ فرمایا: غِنَاءُ الْقَلْبِ بِاللّٰهِ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے تقرب کے ساتھ دل کا ہر شے سے مستغنی ہو جانا، حتیٰ کہ دنیا کے نہ ہونے سے فقیر نہ ہو اور مال کی کثرت کی وجہ میں مسرور نہ ہو۔ اس قول کی حقیقت اسی فقر و صفوت کی طرف جاتی ہے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔
تو اہلِ طریقت حضرت شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ کی پیروی حقائق عبارات و دقائق اشارات میں کرتے ہیں اور تجریدِ علومِ دنیا و آخرت سے حاصل کرنے اور نظارۂ تقدیرِ حق میں رہنا بھی انہیں کی اطاعت کے ماتحت ہے اور لطائفِ کلام میں آپؓ کے مضامین اس قدر ہیں کہ ان کی گنتی نہیں ہو سکتی اور اس کتاب میں میرا رویہ اختصار پر ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
صفحہ۱۸۱
آٹھواں باب
اہلِ بیت رضی اللہ عنہم
اہلِ بیتِ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم وہ پاک ہستیاں ہیں کہ ان کے لیے پاکیِ ازلی ان کی ذات کے واسطے مخصوص ہے اور ان میں ہر ایک طریقت میں کامل اور مشائخِ طریقت کے امام ہیں۔ عام اس سے کہ عوام میں سے ہوں یا خواص میں سے۔ میں ان کے ایک گروہ کا کچھ بیان کرتا ہوں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
امام حسن سیدُ الشہداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
ان میں سے جگر بندِ مصطفیٰ، ریحانِ دلِ مرتضیٰ، قرۃ العینِ زہراء، ابو محمد حسن بن علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ ان کو طریقت میں نظرِ کامل عطا ہوئی اور تصوف کے مسائل حل کرنے اور اس کے دقائق بیان فرمانے میں آپؓ کو بڑا حصہ ملا ہے۔ آپؓ نے فرمایا:
"تمہیں اپنی اندرونی اسرار کا محفوظ رکھنا لازمی ہے اس لیے کہ اللہ ضمیروں کے حال کا جاننے والا ہے۔"
اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ کو حکم ہے کہ راز کے معاملات پر نگاہ رکھے اور اس کی محافظت ہمیشہ کرتا رہے تو رازِ الٰہیہ کا نگاہ رکھنا عدمِ التفات کی بالا غیار کو مستلزم ہے، اور اظہارِ راز کی محافظت کرنا مخالفتِ جبار کو مستلزم ہے۔
کہتے ہیں کہ جب قدریوں نے غلبہ پایا اور مذہبِ معتزلہ (یعنی منکرینِ عالمِ بطون) جہان میں پھیلا تو خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ نے حضرت مولاءِ کائنات شیرِ خدا علی کرم اللہ وجہہ کے صاحبزادے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عریضہ بھیجا جس پر یہ مرقوم تھا:
"سلام ہو آپ پر اے فرزندِ سرورِ عالم اور نورِ چشمِ رسول! اور خدا کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر ہمیشہ رہیں۔ آپ لوگ بنی ہاشم مثلِ ہمارے لیے ایسے کشتی کے ہیں جو موجزن دریا متلاطم میں چل رہی ہو اور آپ وہ ستارے ہیں کہ جو ان کی پیروی اور راہنمائی کے مطابق چلا، اس کو اس میں امن مل گئی اور جو آپ لوگوں کی پیروی کرے گا نجات پائے گا، جس طرح کشتیِ نوح علیہ السلام کے پیرو نجات پا گئے اور مومن ہو گئے۔ فرمایئے آپ کا کیا ارشاد ہے، اے ابنِ رسول ﷺ! ہمارے اس تحیّر میں جو قدریوں کی وجہ سے پیدا ہوا اور وہ اختلاف جو اپنی اپنی معلومات کے ماتحت پیدا ہو گیا ہے، تا کہ ہم سمجھ سکیں کہ اس وقت آپ کا مسلک کیا ہے، اس لیے کہ آپ اہلِ بیتِ نبی اکرم ﷺ سے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ آپ کا علمِ تعلیمِ الٰہی سے منقطع نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ ذاتِ پاک آپ کی نگہداشت و محافظت میں ہے اور آپ مخلوقات کے محافظ ہیں اور اُن کے گواہ۔۔۔ والسلام۔"
جب یہ نامہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو ملا، آپ نے حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ کو یہ جواب ارقام فرمایا:
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
"آپ کی کتاب یعنی تحریر ہمیں ملی۔ اس میں جو آپ نے اپنی حیرت کے متعلق لکھا ہے اور جو ہماری اُمت کے متعلق مسئلۂ قدر میں لکھا ہے اور اس کی بابت ہماری رائے مستقیم یہ ہے کہ جو شخص قدر خیر و شر من اللہ پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور جو اپنے افعالِ معصیت کو خدائے جلّ مجدہٗ کی مشیت کی طرف منسوب کرے وہ فاجر۔ یعنی انکارِ قدر و تقدیر کرنا مذہبِ قدریہ ہے اور اپنے بُرے افعال اور گناہوں کو مشیتِ الٰہیہ کی طرف منسوب کرنا مذہبِ جبریہ ہے۔ اس لیے کہ بندہ کو مختار کیا گیا ہے۔ اس کے افعال اور اکتساب میں اُس کی استطاعت و قوت کی حد تک اور یہ اختیار من جانب اللہ عطا ہوا ہے اور ہمارا دین قدر و جبر کے درمیان ہے اور میری مراد اس نامہ میں جو کچھ میں نے ظاہر کی ہے، اس سے زائد ایک کلمہ نہیں ہے۔"
لیکن کچھ اور الفاظ اس لیے لکھتا ہوں تا کہ مضمون زیادہ واضح اور فصیح ہو جائے، اس لیے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ حقائق اور اصولِ علم میں اتنے بلند درجہ پر تھے کہ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے اُن کی طرف علوم میں بہت مبالغہ کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے اور حکایتوں میں میں نے دیکھا ہے کہ جنگل سے ایک اعرابی آیا اور حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ اُس وقت کوفہ میں ایک مکان کے دروازے پر تشریف فرما تھے۔ اس نے امام حسن رضی اللہ عنہ سے سب و شتم کے ساتھ مکالمہ شروع کر دیا اور اتنا بڑھا کہ آپ کے آباء و اجدادِ کرام کی شان میں بھی کہنے لگا۔ حضرت امامؓ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ اُسے فرمایا کہ میاں اعرابی! تم مجھے بھوکے معلوم ہوتے ہو یا پیاسے یا تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہوئی ہے۔ اس نے جواب میں اور سخت کلام شروع کر دی۔ حتیٰ کہ کہنے لگا: تم ایسے، تمہاری والدہ ایسی، تمہارے باپ ایسے۔
امام سیدُ الشہداء رضی اللہ عنہ نے خادم کو حکم دیا کہ چاندی کا کوزہ اندر سے لائے، وہ لایا۔
صفحہ۱۸۴
آپؓ نے وہ کوزہ نقری اسے عطا فرمایا اور کہا میاں معاف کرو، اس وقت ہمارے پاس یہی تھا اور نہ کچھ خدمت بھی کرنے میں دریغ نہ تھا۔ اعرابی نے جب یہ الفاظ سنے اور جب یہ سخاوت دیکھی تو پکار اٹھا:
اَشْهَدُ اَنَّكَ ابْنُ رَسُوْلِ اللّٰهِ۔
"میں گواہی دیتا ہوں بیشک آپ ابنِ رسول اللہ ﷺ ہیں۔"
اور میں صرف آپ کے حلم و کظمِ غیظ کے تجربہ کے لیے آیا تھا اور یہ صفت محققانِ مشائخ کی ہے کہ مدح و ذمِ خلائق ان کے نزدیک یکساں ہوتی ہے اور وہ لوگ کسی کلمۂ سخت و دست سے اپنی حالت متغیر نہیں کرتے۔
امام حسین سیدُ الشہداء رضی اللہ عنہ:
انہیں میں سے شمعِ آلِ محمد، از علائقِ خلائق مجرد، سیدِ زمانہ خود ابو عبداللہ حضرت امام حسین بن علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ جو محققانِ اولیاء کرام سے ہیں اور قبلۂ اہلِ صفاء، قتیلِ دشتِ کربلا ہیں اور شہزادۂ گلگوں قبا ہیں۔
اس قصہ میں محققین صحیح حالات کے ماتحت متفق ہیں کہ سیدُ الشہداء رضی اللہ عنہ نے اُس وقت تک اُن پر تلوار نہیں اٹھائی جب تک وہ کچھ بھی مائل بحق تھے اور اتباع کی طرف جھکے رہے، جبکہ احقاقِ حق ان سے مفقود و معدوم ہو گیا، اُن پر شمشیر کھینچی۔ حتیٰ کہ جانِ عزیز کو فدائے بارگاہِ الٰہی کر دیا اور جب تک جان فدا نہ فرما دی، آپؓ نے آرام نہ فرمایا۔ آپؓ میں سرکارِ ابد قرار ﷺ کے اخلاقِ کریم کے بہت سے ایسے نشان تھے کہ آپؓ کی ذاتِ مقدس ہی اُن نشانوں میں سے مخصوص تھی۔ چنانچہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں دربارِ رسالت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضور ﷺ نے سیدنا امام حسین سیدُ الشہداء رضی اللہ عنہ کو اپنی پشتِ اقدس پر سوار کر رکھا تھا اور ایک ڈوری اپنے دہنِ مبارک سے نکال کر امام حسین رضی اللہ عنہ کے دستِ مبارک میں دے رکھی تھی اور امام حسین رضی اللہ عنہ ہانک رہے اور حضور ﷺ اپنے گھٹنوں سے تشریف لے جا رہے تھے۔ تو جب میں نے یہ شان دیکھی تو عرض کیا:
وَنِعْمَ الرَّاكِبُ يَا عُمَرُ . (1) اے عمر ! سوار بھی تو بہت اچھے ہیں ۔
اس گفتگو میں بہت لطیف باتیں اور اہل طریقت کے لیے بہت سے رموز ہیں اور عجیب و غریب معاملات ظاہر ہیں۔ انہیں عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : اشْفَقُ الْإِخْوَانِ عَلَيْكَ دِينُكَ. شفیق ترین تیرا بھائی تیرا دین ہے ۔
اس لیے کہ نجات انسان کی متابعت دین میں ہے اور اس کی ہلاکت مخالفت دین میں تو انسان کو چاہیے کہ اپنے مشفق کے حکم کے ماتحت چلے اور اس کی شفقت کا سایہ اپنے اوپر سمجھے اور اس کی پیروی بغیر کسی طرف نہ جائے ۔
اور بھائی وہی ہے کہ نصیحت کرتا رہے اور شفقت و محبت میں اس کا پابند نہ بنے۔ ایک حکایت میں ہے کہ ایک روز ایک شخص حضرت امام رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا۔ اے ابن رسول اللہ میں غریب و مفلس عیالدار ہوں ، مجھے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف سے آج شب کھانے کا انتظام ہونا چاہیے ۔ آپ نے فرمایا: بیٹھ جا ہمارا وظیفہ راستہ میں ہے ، آجائے تو تجھے دے دیں۔ تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ پانچ تھیلیاں دینار کی لائی گئیں ، جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے آئی تھیں ۔ ہر تھیلی میں ایک ہزار دینار تھے ۔ لانے والے نے کہا: حضور! معاویہ معافی چاہتے ہیں اور اُن کی یہ خواہش ہے کہ یہ رقم غرباء میں تقسیم فرمادیں ۔ آپ نے وہ تھیلیاں اسی سائل کو دے دیں اور معذرت فرمائی کہ تجھے انتظار میں بہت دیر ٹھہرنا پڑا ۔ اگر اتنی ہی رقم کا مجھے گمان ہوتا تو تجھے اس قدر زحمت کش انتظار نہ بناتا ۔ ہمیں معاف کر اس لیے کہ ہم اہل بلا سے
صفحہ۱۸۶
علاوہ اس کے آپ کے بہت سے فضائل ایسے ہیں جو امت کے لیے روزِ روشن سے ظاہر ہیں۔
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ:
انہی میں وارثِ نبوت، چراغِ امت، شمعِ مظلوم، امامِ محروم زین العباد اور ان کا فخر ابوالحسن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو اکرم و امجد اپنے لوگوں کے زمانہ کے میں سے تھے۔
آپ جیسا فاخر اور انکشافِ دقائق لوگوں میں ان کے اندر مشہور تھا، آپ سے لوگوں نے پوچھا: حضور! دنیا و آخرت میں نیک بخت کون ہو سکتا ہے؟ فرمایا: مَنْ إِذَا رَضِيَ لَمْ يَحْمِلْهُ رِضَاهُ عَلَى الْبَاطِلِ وَإِذَا سَخِطَ لَمْ يُخْرِجْهُ سَخَطُهُ عَنِ الْحَقِّ. "وہ جو دارین میں نیک بخت ہو سکتا ہے، جب خوش ہو تو باطل پر نہ ہو اور جب غضب ناک ہو تو اس کا غصہ حق سے باہر نہ رہے۔"
اور یہ صفت اس کی مکمل ہوگی اپنے لیے جو اوصافِ کمال سے استقامت حاصل کر چکا ہو اس لیے کہ رضا بالباطل باطل ہے اور غضب کی حالت میں صداقت کے ہاتھ سے چلا جانا اور خشمگینی کی حالات میں انصاف کا خون کر دینا بھی باطل ہے اور مؤمنِ کامل، باطل کو دور کرنے اختیار والا ہی...
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے گھرانے میں سے حضرت امام حسین سید الشہداء رضی اللہ عنہ کربلا میں شہید کر لیے گئے، تمام ہو جانے کے شہید کے بعد سوائے حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ کے مزاراتِ عصمت کی نگرانی کو کوئی نہیں تھا اور آپ اس وقت بیمار تھے، حضرت شہزادہِ گلگوں قبا حسین سید الشہداء رضی اللہ عنہ آپ کو "علی اصغر" کے نام سے پکارا کرتے تھے۔
جب وہ بارگاہِ فلک پناہ کے قافلہ کو اونٹوں پر بے کجاوہ بے پردہ میں لایا گیا اور یزید بن معاویہ عَلَيْهِمَا مَا يَسْتَحِقَّانِ أَخْزَاهُ دُونَهُ کے پاس روبرو کیا گیا تو کسی نے حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ يَا عَلِيُّ وَيَا أَهْلَ بَيْتِ الرَّحْمَةِ
یہ تینوں صفحات (187، 188، 189) کا اردو متن ہے۔ عربی اشعار پر اعراب کہیں کہیں دھندلے تھے، اس لیے اصل کتاب سے ایک بار ملا لیں۔
صفحہ۱۸۷
"اے علی اور اے اہلِ بیتِ رحمت! آپ لوگوں نے آج کیسی صبح فرمائی؟"
"ہماری صبح ہماری قوم کے ظلم و جور سے ایسے ہوئی جیسے موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی صبح ظلمِ فرعون سے ہوئی کہ قومِ موسیٰ علیہ السلام کے بچوں کو ذبح کرتے اور عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم اس وقت اپنی صبح کو شام کے مابین نہیں جانتے۔ ہمارے امتحان و ابتلاء کی یہ حقیقت ہے اور ہم اپنے رب ذوالجلال کا شکر ہر حال میں بھی ادا کر رہے ہیں اور اس کے امتحان پر صبر کر رہے ہیں۔"
ایک حکایت میں ہے کہ ہشام بن عبدالملک بن مروان ایک سال حج کے لیے آیا اور طوافِ بیت اللہ سے فارغ ہو کر استلامِ حجرِ اسود کو چلا مگر ازدحامِ خلق کی وجہ سے اُسے راستہ نہ ملا۔ خدامِ عرب نے اس کے لیے کرسی لگا دی۔ وہ بیٹھا اور خطبہ کرنے لگا۔ اسی اثناء میں حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو آپ کے روئے انور سے چاند کی طرح روشنی پھیل رہی تھی اور رخسارۂ مبارک سے نور تاباں تھا اور لباسِ معطر کی عطر بیزی سے راستہ مہک گیا۔ اول آپ نے طوافِ بیت فرمایا، پھر جب آپ حجرِ اسود کے پاس پہنچے تو لوگوں نے آپ کو تشریف لاتے دیکھ کر تعظیماً راستہ صاف کر دیا اور آپ بآسانی حجرِ اسود کے بوسہ کے لیے تشریف لے گئے۔ ہشام آپ کی یہ ہیبت اور سطوت دیکھ رہا تھا۔
ایک شامی نے ہشام سے پوچھا: اے امیر المومنین! یہ عزت اور عظمت والا کون ہے کہ اس کے لیے لوگوں نے حجر تک راستہ دے دیا، اور آپ کو راستہ نہ دیا، حالانکہ امیر المومنین تو آپ ہیں اور یہ حسین و جمیل جوان رعنا کون ہے کہ جب وہ آیا تو تمام لوگ حجرِ اسود سے ایک طرف ہٹ گئے اور صرف اس کے لیے حجرِ اسود کا راستہ خالی کر دیا؟
ہشام اگرچہ جانتا تھا مگر محض اس خیال سے کہ شامی لوگ انہیں پہچان کر ان کے ساتھ عقیدت نہ کر لیں اور اس کی امارت و ریاست میں کہیں فرق نہ آ جائے، کہنے لگا: میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہے۔ اتفاقاً فرزدق شاعر وہاں کھڑا تھا۔ کہنے لگا: ہشام! تو نہ جانتا ہوگا مگر میں انہیں خوب جانتا ہوں۔ شامیوں نے کہا: ابوفارس! بتاؤ یہ کون ہیں تاکہ ہم معلوم کر سکیں کہ اتنی شان و شکوہ والا جوان
صفحہ۱۸۸
آخر کون ہے؟ فرزدق نے کہا: لو سنو! میں ان کے صفاتِ جمیلہ تمہیں سناتا ہوں۔ پھر برجستہ فرزدق نے یہ اشعار آپ کی مدح میں سنائے:
قصیدۂ فرزدق ابو فارس
(جو حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی مدح میں ہشام کے سامنے سنایا تھا)
"اچھی طرح پہچان لے، یہ نورِ نظر سیدہ زہرا فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کا ہے، اگر تو ان سے بے خبر ہے، اور یہ وہ ہے جس کے جدِ امجد کی بعثت پر اللہ کے تمام نبیوں کی تشریف آوری ختم ہے۔"
"حیاءِ ایمانی کی وجہ سے ان کی آنکھیں بند ہیں اور لوگوں کی آنکھیں ان کی مہابت و شان سے بند ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان سے کلام صرف اس وقت کیا جا سکتا ہے جب وہ تبسم ریز لہجے میں ہوں۔"
"عرب کا کون سا قبیلہ ہے جس کی گردن میں ان کی بزرگی کا قلادہ نہ ہو، یا اس کے لیے ان کے گھر سے نعمتیں نہ پہنچی ہوں۔"
اور اس کے مثل چند اور بیت فرزدق نے کہے اور اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم کی تعریف اتنی زیادہ کی کہ ہشام غضبناک ہو گیا اور حکم دے دیا کہ اسے عسفان میں قید کیا جائے۔ عسفان مکہ و مدینہ کے پاس ایک مقام ہے (جہاں ایک کنواں ہے جس میں قیدی بند کیے جاتے تھے)۔
اس واقعہ کی خبر لوگوں نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کر دی۔ آپ نے بارہ ہزار درہم فرزدق کو بطورِ عطیہ بھیجے اور فرمایا: اُسے کہنا ابو فارس! ہمیں معاف کرے کہ ہم لوگ اس وقت امتحان و ابتلاء میں ہیں، اس ہدیہ سے زائد اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا، جو کچھ زائد عطا فرماتے۔
فرزدق نے وہ درہم نقری واپس کیے اور کہلوایا کہ حضور! قسم بخدا! زر و سیم کے لالچ میں بادشاہ و امراء کے دربار میں بہت کچھ کہہ چکا ہوں مگر وہ محض دروغ بے فروغ ہی تھا، مگر یہ قصیدہ جو میں نے کہا ہے یہ محض اپنے گناہوں کے کفارہ کے لیے اور اللہ و رسول ﷺ کی محبت کے لیے لکھا ہے۔
جب یہ پیغام حضور زین العابدین رضی اللہ عنہ کو ملا تو آپ نے حکم دیا کہ درہم واپس لے جاؤ اور اُسے کہو کہ ابو فارس! اگر ہمیں دوست رکھتا ہے تو ایسا نہ کر، اس لیے کہ ہم جو چیز کسی کو عطا فرما دیں وہ واپس نہیں لیا کرتے۔ تو تعمیلِ حکم میں فرزدق نے وہ عطیہ قبول کیا۔
اور درحقیقت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے فضائل اس سے کہیں زیادہ ہیں جو فرزدق نے کہے۔ ان کا جمع کرنا امکان میں نہیں۔
### حضرت امام ابو جعفر محمد باقر رضی اللہ عنہ
اسی گھرانہ سے محبتِ اہلِ معاملت، برہانِ اربابِ مشاہدت، امامِ اولادِ نبی، برگزیدۂ نسلِ علی حضرت ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب الباقر رضی اللہ عنہ ہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ کی کنیت "ابو عبد اللہ" بھی تھی اور آپ کا لقب "باقر" تھا۔ آپ بیانِ علومِ دقیقہ اور لطائفِ اشارات میں قرآن کریم کے ساتھ خصوصیت سے مشہور ہیں۔ آپ کی بہت سی کرامات مشہور ہیں اور آپ کے بہت سے نشانات اور دلائلِ انور معروف ہیں۔
## صفحہ 192
آپ کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ نے آپ کو اپنے پاس بلا بھیجا۔ اس نیت سے بلوایا کہ جب یہاں آ جائیں تو انہیں شہید کر دیا جائے۔ آپ بلا خوف و خطر اس کے پاس تشریف لے گئے۔ جب آپ اس کے قریب پہنچے تو اُس نے معذرت کی اور کچھ ہدیہ پیش کیا اور بڑے ادب و احترام سے واپس کیا۔ حاضرینِ دربار نے خلافِ توقع عمل دیکھ کر کہا کہ جہاں پناہ نے تو امام کو شہید کرنے کی نیت سے بلایا تھا، لیکن جب وہ تشریف لے آئے تو اور طرح برتاؤ کرتے دیکھا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ بادشاہ کہنے لگا کہ جب وہ میرے قریب آئے تو میں نے دیکھا کہ دو شیر ان کے دائیں بائیں کھڑے ہیں اور مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ اگر تو نے ان کے قتل کا ارادہ بھی کیا تو ہم تجھے ہلاک کر دیں گے۔
حضرت امام ابو جعفر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت ہے کہ آپ نے آیۂ کریمہ: ﴿فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ بِاللّٰهِ﴾ (۱) کی تفسیر میں فرمایا:
"ہر وہ چیز جو تجھے مطالعۂ حق سے باز رکھے وہی تیرا بت ہے۔"
تو خیال رکھ کہ کیا چیز تجھے حق سے محجوب رکھتی ہے اور کس چیز کی وجہ سے تجھے حق سے بُعد ہوا۔ اُسی کو ترک کر دے تاکہ تو مرتبۂ کشف میں پہنچے اور بارگاہِ تقرب سے ممنوع و محجوب نہ رہے، اور جو ممنوع ہے اُسے یہ زیبا نہیں کہ وہ دعویٰ تقرب کرے۔
آپ کی خصوصیات میں ایک روایت ہے کہ آپ کچھ رات گزر جانے کے بعد اپنے معمولات سے فارغ ہو جاتے تو با آوازِ بلند الفاظ میں دعا فرماتے:
"اے میرے ربّ! اے میرے مالک! رات آ گئی ہے اور بادشاہوں کی حکومت انجام کو پہنچ گئی۔ ستارے آسمان پر ظاہر ہو گئے اور سب لوگ ایسے سو گئے ہیں کہ گویا ناپید ہو گئے۔ آدمیوں کی آوازیں بند ہیں اور ان کی آنکھیں جمی ہوئی ہیں اور تمام بنی امیہ آرام میں ہیں۔ اُن کے دروازوں پر پاسبان بیٹھے ہوئے ہیں اور بنی امیہ کے دربار بند پڑے ہیں اور ان کی ڈیوڑھیوں پر دربان لگے ہوئے ہیں۔ جن لوگوں کی خواہشات ان سے وابستہ تھیں وہ اس وقت چھوڑ چکے ہیں۔ اے میرے اللہ! تو زندہ و پائندہ، بینندہ و دانندہ ہے۔ اونگھ اور نیند سے تو مبرا ہے۔ جو تجھے اونگھنے اور سونے والا جانے وہ تیری نعمتوں سے محروم ہے۔ الٰہی! تو وہ ہے کہ کوئی تجھے تیرے ارادہ سے باز نہیں رکھ سکتا اور رات دن میں کسی ساعت تیری صفتِ بقا میں خلل نہیں آ سکتا۔ تیرا دَرِ رحمت کشادہ ہے۔ اس پر تجھے جو پکارے، تیرے خزانۂ بخشش اُس پر فدا ہیں۔ جو تیری ثناء میں رطب اللسان ہو،"
۱۔ سورۃ البقرہ: ۲۵۶
## صفحہ 193
"تو مالک الملک ہے، سائل کا رد کرنا تجھے روا نہیں۔ جو مومن تیری درگاہ میں سوال کرنے آئے، تو سائل کو روکنے والا نہیں، خواہ وہ مخلوقِ ارضی ہو یا سماوی۔ الٰہی! جب میں موت اور قبر کا خیال کرتا ہوں اور حساب کا تصور آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ تیری حضوری کے مقابل دنیا کی کس چیز سے سکون پکڑا جائے۔ جب ملک الموت کا خیال آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ کس طرح دنیا سے تعلق رکھوں۔ تو میں تجھ سے عرض پیرا ہوں، اس لیے کہ تر دامن ہوں اور تجھ سے تجھی کو چاہتا ہوں، اس لیے کہ جب تجھے پکارتا ہوں، دل میں سکون محسوس کرتا ہوں۔ الٰہی! مجھ پر کیفیتِ مرگ بے عذاب نازل کر اور زندگیِ اخروی میں حساب بے عذاب لے کر مجھے عزت دے۔"
یہ سب کچھ فرما کر اس قدر گریہ فرماتے کہ صبح ہو جاتی۔
ایک شب میں نے عرض کی کہ اے میرے سردار! میرے ماں باپ کے سردار! کب تک آپ روتے رہیں گے اور کب تک یہ خروش رہے گا؟ آپ نے فرمایا: بھائی! یعقوب علیہ السلام کا صرف ایک بیٹا گم ہوا تھا تو اتنے روئے کہ چشمِ مبارک سفید ہو گئیں، اور میں نے اپنے اٹھارہ آدمی معہ باپ، یعنی امام حسین سید الشہداء رضی اللہ عنہ اور شہداءِ کربلا کو اپنے سے گم کیے ہیں، تو اس وقت تک میں گم ہی رہوں گا جب تک اُن کی جدائی میں رو کر آنکھیں سفید نہ کر لوں۔
یہ مناجات عربی میں نہایت فصیح ہیں مگر بخوفِ طوالت اس کے معنی ہی فارسی میں نقل کیے گئے تاکہ تکرار نہ ہو جائے۔ انشاء اللہ کسی دوسری جگہ اس اصل کو بھی نقل کریں گے۔
### حضرت امام محمد جعفر رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے سیفِ سنت، جمالِ طریقت، معبرِ اہلِ معرفت، مزینِ اہلِ صفوت ابو جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ہیں۔
آپ نہایت بلند خیال اور پسندیدہ سیرتوں سے مزین تھے اور سریرِ امامت کی رونقِ دینی میں آپ موزوں تھے۔ آپ کے اشاراتِ جمیلہ تمام علوم میں مشہور ہیں اور معانیِ دقیقہ میں آپ کی تقریر مسلّم تھی۔ مشائخِ کرام میں آپ کو لطائفِ کلام اور حقائقِ طریقت میں خاص درجہ حاصل ہے۔ بیانِ طریقت میں آپ کی تصنیفات مشہور ہیں۔
آپ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
مَنْ عَرَفَ اللّٰهَ اَعْرَضَ عَمَّا سِوَاهُ
"جس نے اللہ کو جان لیا وہ ماسوی اللہ سے علیحدہ ہو گیا۔"
یعنی عارفِ الٰہی وہی ہے جو معرض از غیر اور منقطع از علل و اسباب ہو جائے، اس لیے کہ
## صفحہ 194
اللہ کی معرفت یہی ہے کہ غیرِ خدا کے ساتھ اجنبی ہو جائے۔
یہی وجہ ہے کہ عارفین مخلوقات اور اس کی فکر سے اپنے آپ کو جدا رکھتے اور اپنے ربّ سے ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ اُن کے دل میں غیر کی ایسی قدر و منزلت نہیں کہ اُس کی طرف متوجہ ہوں، اور نہ وجودِ غیر سے انہیں کچھ خطرہ ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ ذکرِ غیر کے لیے اپنے دل میں جگہ نہیں رکھتے۔
ایک روایت میں حضرت امام جعفر رضی اللہ عنہ سے یوں بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"عبادت بغیر توبہ کے صحیح نہیں، حتیٰ کہ خود حضرت عزّ مجدہٗ و عزّ اسمہٗ نے عبادت پر توبہ کو مقدم کیا، اس لیے کہ توبہ عبادت کی ابتدا ہے اور عبودیت اس کی انتہا۔"
چنانچہ جہاں اللہ تعالیٰ نے گنہگاروں کا ذکر نہیں کیا، وہاں انہیں بھی توبہ کا حکم فرمایا۔ جیسا کہ ارشاد ہے:
"اللہ کی طرف اے مسلمانو! توبہ کرو تاکہ تم فلاح یافتہ ہو جاؤ۔"
اور جہاں سیدِ اکرم تاجدارِ عرب و عجم ﷺ کو یاد فرمایا وہاں بھی ﴿فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰی﴾ (۳) کہا، تو گویا مقامِ عبودیت منتہاءِ کمال کا نام ہے۔
ایک حکایت میں ہے کہ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ ایک روز امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور عرض کی: یا ابنَ رسول اللہ! مجھے کچھ نصیحت فرمایئے، اس لیے کہ میرا دل سیاہ ہو چکا ہے۔ آپ نے فرمایا: اے ابو سلیمان! (حضرت داؤد طائی کے صاحبزادے کا نام سلیمان تھا) آپ اس زمانے کے بڑے زاہدوں میں سے ہیں، آپ کو میری نصیحت کی کیا ضرورت ہے؟ ... عرض کی: اے فرزندِ رسول! آپ کو اللہ نے سب پر فضیلت بخشی ہے، آپ پر نصیحت کرنا واجب ہے۔ حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو سلیمان! میں اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں بروزِ قیامت جدِ امجد مجھے یہ نہ فرمائیں کہ تو نے ہماری اطاعت کا حق کیوں ادا نہیں کیا، اس لیے کہ یہ کام نسب کی نسبت سے صحیح نہیں اترتا، یہ کام عمل کے اوپر موقوف ہے۔
یہ سن کر حضرت داؤد طائی رو پڑے اور کہنے لگے: الٰہی! جن ہستیوں کا خمیر آبِ نبوت سے ہو اور جن کی ترکیبِ طبعی اصولِ دین پر اور برہان و حجتِ قرآن سے ہو، جس کے دادا شفیع المذنبین ﷺ ہوں، جن کی ماں حضرت زہرا بتول رضی اللہ عنہا ہوں وہ اس خوف و حیرانی میں رکھے گئے ہیں اور اپنے اعمال کا اس شان سے محاسبہ کر رہے ہیں تو پھر داؤد طائی کس شمار میں ہے اور وہ اپنے اعمال و عبادات پر کیا فخر کرے!!
ایک روایت میں ہے کہ ایک روز حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے احباب و خدام میں تشریف فرما تھے تو آپ نے سب سے فرمایا: آؤ! ہم تم آپس میں بیعت کریں اور اس امر کا عہد کر لیں کہ جسے اللہ تعالیٰ بروزِ قیامت رستگاری عطا فرما دے وہ سب کی شفاعت کرے۔ سب نے عرض کی کہ اے ابنِ رسول اللہ! اس عہد کی اسے حاجت ہے جو محتاجِ شفاعت ہو، آپ کو ہماری شفاعت کی کیا پرواہ ہے! آپ کے جدِ امجد ﷺ شفیعِ مجرمانِ خلائق ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں اپنے اعمال پر شرماتا ہوں اور اپنے نفس کے عیبوں پر نظر کر کے ڈرتا ہوں کہ بروزِ قیامت جدِ امجد ﷺ کے حضور کس طرح منہ دکھاؤں گا۔
یہ وہ کمالِ خاص ہے جو عارفِ کامل کو حاصل ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے نفس کے عیبوں پر نظر رکھتا ہے۔ یہ صفت اوصافِ کمالیہ سے ہے۔
اور تمام ممکنانِ الٰہی، یعنی نبی، ولی، غوث، قطب سب کے سب اسی اصول پر قائم ہیں۔ چنانچہ حضور سید یوم النشور ﷺ نے فرمایا:
"جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ ارادۂ خیر فرماتا ہے تو اسے عیوبِ نفس کے لیے چشمِ بینا عطا فرماتا ہے۔"
اور جو از رُوئے تواضع اپنا سر بارگاہِ حق میں جھکا دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مرادات دارین پوری فرماتا ہے۔
اب اگر ہم تمام مناقبِ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم بیان کریں اور ہر ایک کے فضائل مفصل بتائیں تو یہ کتاب اس کی متحمل نہیں۔ لہٰذا ان کے لیے جن کی عقلِ خلعت ادراک سے مزین ہے اور جو مریدانِ خاص ہیں، اسی قدر کافی ہے اور منکر کے لیے بھی، اگر سمجھنا چاہے تو کم نہیں۔
۱۔ اس حدیثِ پاک کو امام دیلمی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے (کتاب اللمع، ص: ۱۳۹؛ احیاء علوم الدین ۵/۲۲۳)
صفحہ۱۹۶
اب اگر ہم اصحابِ صفہ رسولِ کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کا تذکرہ بہ سبیلِ ایجاز و اختصار کرتے ہیں اور فضائلِ اہلِ بیت میں علی التفصیل ایک کتاب مسمّی "منہاج الدین" ہم نے تالیف کی ہے، جس میں ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ فضائل درج ہیں۔ اس جگہ تو ہم نے محض اسمائے کنیت پر ہی اکتفا کیا ہے تاکہ پڑھنے والے کا مقصود معلومات حاصل ہو جائے۔
(اس صفحے پر پہلے باب کے اختتام کی زینتی علامت ہے۔)
رہنمائی
تیسرا حصہ: بزرگوں کے حالات
صحابہ، تابعین، اور بعد کے مشائخ کا ذکر۔
صفحہ۱۹۷
نواں باب
اصحابِ صُفّہ رضوان اللہ علیہم
فصل:
اس امر پر اجماعِ امت ہے کہ حضور ﷺ کی ایک خاص جماعت تھی۔ صحابہ کرام میں جو تارکِ الدنیا ہو کر مسجدِ نبوی میں اللہ کی خاص عبادت کے لیے بیٹھ گئے تھے اور ہر قسم کے کسبِ معاش سے دست بردار تھے انہی کی شان میں قرآن پاک نے اپنے حبیبِ پاک محمد ﷺ کو فرمایا:
"اے محبوب! نہ فراموش فرماؤ ان لوگوں کو جو اپنے ربّ کی عبادت میں صبح و شام مشغول ہیں اور اسی کی رضا چاہتے ہیں۔"
تو خدا کی کتاب ان کی افضلیت پر شاہد ہے اور حضور یوم النشور ﷺ کی احادیث ان کے فضائل میں ہمیں بہت پہنچی ہیں۔ ہم نے ان کا تھوڑا سا حصہ مقدمۂ کتاب میں نقل کیا ہے۔ حضرت امام المفسرین ابنِ عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں:
اس حدیث کے معنی ہیں کہ حضور ﷺ اصحابِ صفہ پر تشریف لائے، ان کو دیکھ کر ٹھہر گئے تو ان کے دل اس فقر و مجاہدہ میں حضور ﷺ نے نہایت خوش دیکھے۔ فرمایا: اے اصحابِ صفہ! تمہیں مبارک ہو! تمہارے بعد جو بھی تمہاری سی شان میں خرم و شاد رہے گا، وہ بروزِ قیامت جنت میں میرا رفیق ہوگا۔
ان اصحابِ صفہ میں سے:
۱۔ الانعام: ۵۲
صفحہ۱۹۸
پہلے: منادیِ حضرت، جبار کے پسندیدہ، سیدُ الابرار حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ ہیں۔
دوسرے: دوستِ خداوند اور محرمِ احوالِ پیغمبر ابو عبد اللہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں۔
تیسرے: سرہنگِ مہاجر و انصار، متوجہِ رضوانِ جبار ابو عبیدہ بن عامر بن عبد اللہ الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔
چوتھے: برگزیدہ اصحاب، زینتِ اربابِ ابو الیقظان حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں۔
پانچویں: گنجِ علم، خزانۂ حلم حضرت ابو مسعود عبد اللہ بن مسعود ہذلی رضی اللہ عنہ ہیں۔
چھٹے: متمسک درگاہِ حرمتِ پاک از عیب و آفت حضرت عتبہ بن مسعود، برادر عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
ساتویں: سالکِ طریقِ عزلت، معرض از معائب و ذلت حضرت مقداد ابن الاسود رضی اللہ عنہ ہیں۔
آٹھویں: دائمی مقامِ تقویٰ پر راضی بہ بلا و بلویٰ حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ ہیں۔
نویں: قاصدِ درگاہِ رضا، طالبِ بارگاہِ بقا اور فنا، حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ ہیں۔
دسویں: دُرِّ دُرجِ سعادت، بحرِ قناعت حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ ہیں۔
گیارہویں: برادرِ فاروق، معرض از کونین و مخلوق حضرت زید بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔
بارہویں: خداوندِ مجاہدات اندر طلبِ مشاہدات حضرت ابو کبشہ، مولیٰ حضور ﷺ ہیں۔
تیرہویں: عزیز از کلِ خلائق، بحقِ جلّ مجدہ آیت، حضرت ابو لبر کنانہ بن الحصین عدوی رضی اللہ عنہ ہیں۔
چودھویں: عامرِ طریق، تواضع سپرندہ، مجانبِ تقاطع، حضرت سالم مولیٰ حذیفہ الیمان رضی اللہ عنہ ہیں۔
پندرھویں: خائفِ عقوبت، ہاربِ از طریقِ مخالفت، حضرت عکاشہ ابن محصن رضی اللہ عنہ ہیں۔
سولہویں: زینِ مہاجر و انصار، سید بنی قارّ، حضرت مسعود بن ربیع القاری رضی اللہ عنہ ہیں۔
سترہویں: اندر زہد مانندِ عیسیٰ، اندر شوق بدرجۂ موسیٰ، ابو ذر جندب ابن جنادہ الغفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔
اٹھارہویں: حافظِ انفاسِ پیغمبر ﷺ، مرخیرات در خور، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
انیسویں: اندر استقامت مقیم و اندر متابعت مستقیم، حضرت صفوان بن بیضاء رضی اللہ عنہ ہیں۔
بیسویں: صاحبِ ہمت، خالی از تہمت، حضرت ابو الدرداء عویمر بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں۔
اکیسویں: متعلقِ درگاہِ جابر، گزیدۂ رسول پادشاہ، حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ ہیں۔
بائیسویں: کیمیائے بحرِ شرف در، توکل راصد ف، حضرت عبد اللہ بن بدر الجہنی رضی اللہ عنہ ہیں۔
غرضیکہ اسی طرح اور بھی بہت ہیں۔ اگر ہم تمام اہلِ صفہ کا ذکر کریں تو کتاب طویل ہو جائے۔
حضرت شیخ ابو عبد الرحمٰن محمد بن حسین سلمی رضی اللہ عنہ بڑے زبردست ناقلِ مسائلِ طریقت اور جامعِ کلامِ مشائخ گزرے ہیں۔ انہوں نے صرف اہلِ صفہ کے حالات میں ایک تاریخ تالیف فرمائی ہے۔ اس میں اُن کے علیحدہ علیحدہ فضائل اور نام بنام حالات اور ان کی کیفیتیں
صفحہ۱۹۹
لکھی ہیں۔
اُس میں انہوں نے مسطح بن اثاثہ بن عباد کو بھی اہلِ صفہ میں نقل کیا ہے مگر میں اسے درست نہیں سمجھتا۔ اس لیے کہ یہ وہ مسطح ہیں جنہوں نے قصۂ افک میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ابتداء کی تھی۔ لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ثوبان اور حضرت معاذ بن حارث اور حضرت سائب بن خلاد اور حضرت ثابت بن ودیعہ اور حضرت ابو الیسر کعب بن عمرو اور حضرت وہب بن مغفل اور حضرت عبد اللہ بن انیس اور حضرت حجاج بن عمرو الاسلمی رضی اللہ عنہم اجمعین تمام اہلِ صفہ سے ہیں۔ اگرچہ کبھی یہ کسی سبب سے دنیا کی طرف مشغول فرما لیتے تھے مگر تاہم یہ تمام درجہ میں برابر اور حقیقتاً قرنوں کے خیر القرون سے تھے اور جس وقت بھی یہ جس درجہ پر تھے، متاخرین سے بہتر اور افضل ترین خلائق تھے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صحبتِ سید الانبیاء ﷺ کا شرف بخشا تھا۔ ان کے ضمیر تمام عیوب سے محفوظ تھے۔ جیسا کہ خود حضور ﷺ نے فرمایا:
"اور وہ لوگ جو مسابقت کرنے والے ہیں پہلے ایمان لانے والوں میں مہاجرین و انصار سے اور وہ لوگ جو پیروی اسلام کرتے ہیں اور نیک ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔"
۱۔ یہ متفق علیہ روایت ہے جسے امام بخاری اور امام مسلم نے عبیدہ سلمانی سے انہوں نے ابنِ مسعود سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اسی طرح یہ روایت زہدم بن مضرب سے بھی مروی ہے۔ انہوں نے عمران بن حصین سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے:
حوالہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں: المقاصد الحسنة للسخاوی (ص: ۲۰۸)، صحیح البخاری ۹۳۸/۲ (کتاب الشہادات، باب: ۹)، صحیح مسلم (کتاب فضائل الصحابة ثم الذین یلونهم، حدیث: ۲۵۳۵)
۲۔ سورۃ التوبہ: ۱۰۰
صفحہ۲۰۰
باب دہم
ائمۂ تابعین رضوان اللہ علیہم
فصل:
حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ
ان میں سے آفتابِ امت، شمعِ دین و ملت حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ ہستی مشائخ کرام کے طبقہ کی بہت بڑی مانی گئی ہے اور اہلِ تصوف میں معظم ہیں۔ یہ عہدِ رسول پاک ﷺ میں تھے لیکن حضور ﷺ کے فیضِ صحبت سے دو وجہ سے مستفیض نہ ہو سکے اور شربتِ دیدار سے محروم رہے:
ایک: مانعِ حضوری آپ کا غلبۂ حال رہا۔
دوسرے: اپنی والدہ ماجدہ کے حقِ خدمت ادا کرنے میں مصروف رہے۔
مگر حضور فخرِ عالم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں فرما دیا تھا کہ ایک مردِ خدا مقامِ قرن میں ہے۔ اس کا نام اویس ہے۔ اس کا یہ مرتبہ ہے کہ اس کی شفاعت میری امت میں قبیلۂ ربیعہ اور قبیلۂ مضر کی بکریوں کے بالوں کے برابر ہوگی۔ پھر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اور حضرت مولائے کائنات علی کرم اللہ وجہہ کی طرف رخ فرما کر ارشاد ہوا: تم دونوں اسے دیکھو گے، ان کا قد چھوٹا ہوگا، ان کے سر کے بال لمبے ہوں گے، ان کے پہلو میں بائیں طرف ایک درہم کے برابر سفید داغ ہے اور ایک اور نشان ان کے ہاتھ کی ہتھیلی پر ہے۔ جب تم اس سے ملو، ہمارا اسے سلام کہنا اور کہنا کہ وہ ہماری امت کے لیے دعا کریں۔
بعد وفاتِ سید اکرم ﷺ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما مکہ معظمہ تشریف لائے۔ اثنائے خطبہ میں آپ نے فرمایا: یَا اَهْلَ نَجْدٍ قُوْمُوْا۔ "اے اہلِ نجد کے لوگو! کھڑے ہو جاؤ۔" حکم سن کر سب کھڑے ہو گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے اندر کوئی مقامِ قرن کا رہنے والا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: حاضر ہے۔ اور جو مقامِ قرن کے لوگ تھے، انہیں امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔
آپ نے پوچھا کہ تمہارے اندر کوئی "اویس" نام کا آدمی ہے؟ عرض کی: "اویس"
صفحہ۲۰۱
ایک دیوانہ آدمی ہے جو آبادی میں نہیں آتا، کسی کے پاس نہیں بیٹھتا، لوگوں کی غذا سے اس کی غذا بھی علیحدہ ہے، خوشی و غم اس کے نزدیک یکساں ہیں، جب لوگ ہنستے ہیں تو وہ روتا ہے، جب لوگ روتے ہیں تو وہ ہنستا ہے۔ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: حضور! جنگل میں اونٹوں کے پاس ملے گا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور جنگل میں جا کر ان سے ملے۔ دیکھا کہ اویس (رضی اللہ عنہ) نماز میں مشغول ہیں۔ بیٹھ گئے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو فاروق و اسد اللہ نے انہیں سلام کیا اور ہاتھوں کی ہتھیلی پر نشان دیکھے۔ پھر حضور ﷺ کا سلام پہنچایا اور امت کے حق میں دعا کرنے کا حکمِ حضور ﷺ سنایا۔
تھوڑی دیر فاروق و اسد اللہ (رضی اللہ عنہما) اویس کے پاس بیٹھے رہے، پھر حضرت اویس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ حضرات کو تکلیف ہوئی، اچھا اب تشریف لے جائیں، قیامت بہت نزدیک ہے، اس جگہ ہمیں وہ دیدار ہوگا جس کے لیے بازگشت نہیں، میں اب قیامت کے راستہ کے سامان میں مشغول ہوں۔
جب قرنی لوگ حضرت فاروق اور اسد اللہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت اویس کی خدمت میں آئے تو انہوں نے آپ کا مرتبہ سمجھا اور آپ کا احترام کرنے لگے، تو حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ وہاں سے کوفہ آ گئے۔ اس کے بعد ہرم ابن حیان نے ایک روز انہیں دیکھا۔ اس کے بعد جنگ و غزوات میں علی کرم اللہ وجہہ تک کسی نے نہ دیکھا۔ پھر جب حربِ صفین ہوئی، اس میں حضرت اویس رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرفداری میں آئے، شریکِ حرب ہو کر شہید ہو گئے۔ عَاشَ حَمِیْدًا وَمَاتَ شَهِیْدًا۔
"زندہ رہے تو حضور ﷺ کی زبانِ مبارک سے تعریف ہوئی، انتقال فرمایا تو شہادت پائی۔"
حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: "اَلسَّلَامَةُ فِی الْوَحْدَةِ"، یعنی سلامتی تخلیہ اور تنہائی میں ہے۔ اس لیے کہ جو اپنا دل (غیر سے) خالی رکھے وہ اغیار کے خطرہ اور اندیشہ سے آزاد ہے اور اپنے ماحول میں سب سے مایوس رہتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اغیار کی تمام آفتوں سے سلامتی میں رہتا ہے اور سب سے منہ پھیرے ہوئے ہوتا ہے۔
لیکن اگر کوئی یہ خیال کرے کہ وحدت سے مراد تنہا زندگی بسر کرنا ہے تو یہ محال ہے۔ اس لیے کہ جب تک کسی کے دل میں شیطان کی محبت ہو اور اس کے سینہ میں نفس غالب ہو اور دنیا و عاقبت کی فکر اور لوگوں کا اندیشہ ہو، اس وقت تک اس کو کیفیتِ وحدت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ ماسوائے اللہ سے آرام ہو یا اس کا اندیشہ، دونوں کی ایک ہی کیفیت ہے۔ تو جو تنہا ہوتا ہے، اگرچہ اس
صفحہ۲۰۲
کی صحبت لوگوں میں ہو، اسے اپنی کیفیتِ وحدت میں کوئی خلل نظر نہیں آتا۔ اور جو غیر اللہ میں مشغول ہو، اگرچہ خلوت نشین ہی کیوں نہ ہو، وہ کیفیتِ وحدت سے محروم ہی رہے گا۔
تو قطعِ محبتِ ماسوی اللہ کے یہ معنی ہیں کہ اس کے دل میں سوا ذاتِ واحد کے، کسی کا تعلق اور کسی کی محبت نہ ہو، اور جب اس کے دل میں خالص ذاتِ واحد جاگزیں ہو چکی، وہ کتنا ہی لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے، اسے کوئی خطرہ نہیں۔
اور جو مخلوق سے محبت رکھے، اس کے دل میں محبتِ الٰہیہ کا گزر نہیں ہو سکتا۔ گویا وہ محبتِ الٰہی کو سمجھتا ہی نہیں۔ لِاَنَّ الْوَحْدَةَ صِفَةُ عَبْدٍ صَافٍ سَمِعَ قَوْلَهٗ تَعَالٰی: ﴿اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ﴾ (۱)
"صفتِ عبدِ صافی محض وحدت ہے۔ سن اللہ کا فرمان! کیا اللہ اپنے بندہ کو کافی نہیں؟"
حضرت ہرم بن حیان رضی اللہ عنہ
انہیں تابعین میں سے شمعِ صفا، معدنِ وفا حضرت ہرم بن حیان رضی اللہ عنہ ہیں، جو بزرگانِ طریقت سے گزرے ہیں اور معاملۂ حقیقت میں حظِّ وافر رکھتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صحبت یافتہ ہیں، حتیٰ کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی بھی زیارت کر چکے ہیں۔ آپ کی ملاقات کا واقعہ یوں ہے کہ آپ نے اویس قرنی کی زیارت کا قصد کیا، حتیٰ کہ قرن پہنچے مگر نا امید واپس آئے۔ پھر مکہ معظمہ گئے تو خبر ملی کہ اویس اب کوفہ میں رہتے ہیں۔ آپ شوقِ زیارت لیے کوفہ آئے مگر زیارت نصیب نہ ہوئی۔ امیدِ زیارت میں ایک مدتِ دراز کوفہ میں گزاری۔ آخر بصرہ آنے کا عزم کیا، روانہ ہوئے تو راستہ میں دیکھا کہ لبِ فرات اویس طہارت فرما رہے ہیں اور آپ کے جسم پر خرقہ ہے، پہچان لیا۔ وضو فرما کر اویس نے کنگھی کر کے بالوں کو سنوارا اور چلنے لگے تو ہرم بن حیان سامنے آئے اور سلام کیا۔
حضرت اویس نے جوابِ سلام میں فرمایا: وَعَلَیْكُمُ السَّلَامُ یَا هَرِمُ بْنَ حَیَّانَ۔ ہرم متعجب ہو کر کہنے لگے: آپ نے کس طرح پہچان لیا؟ آپ نے فرمایا:
عَرَفَتْ رُوْحِیْ رُوْحَكَ۔
"میری جان نے تیری جان کو پہچان لیا۔"
تھوڑی دیر بیٹھے، پھر مجھے رخصت فرما دیا۔ میرے ساتھ جو گفتگو فرمائی اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق زیادہ باتیں تھیں اور مجھے حضرت عمر و علی رضی اللہ عنہما کی روایت سے حضور
۱۔ سورۃ الزمر: ۳۶
صفحہ۲۰۳
ﷺ کی یہ حدیث سنائی اور کہا کہ انہوں نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
"عملوں کی جزا نیتوں پر ہے اور ہر ایک شخص کے لیے وہی بدلہ ہے جو اس کی نیت ہو۔ تو جس نے ہجرت کی اللہ و رسول (ﷺ) کی طرف تو اس کی ہجرت اللہ و رسول (ﷺ) کی طرف ہوگی، اور جس نے ہجرت کی حصولِ دنیا کے لیے یا کسی عورت کے لیے کہ اس سے عقد کرے تو اس کی ہجرت اسی طرف ہوگی جس نیت سے ہجرت کی۔"
اس کے بعد فرمایا: "عَلَیْكَ بِقَلْبِكَ"۔
"اپنے دل کی نگرانی ہر قسم کے اندیشۂ غیر سے رکھ۔"
اس عبارت کے دو معنی ہیں: ایک یہ کہ مجاہدہ اتنا ہو کہ اپنے دل کو تابعِ حق کر لیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اپنی خواہشات کو اس دل کا فرمانبردار بنا لے۔
یہ دونوں زبردست اصول ہیں، مگر دل کو خدا کا تابع کرنا ان مریدوں کا کام ہے جو کثرتِ شہوت اور محبتِ حرص سے مجتنب ہو جائیں اور ہر قسم کے تفکرات جو درجہ بدرجہ پیدا ہوتے ہیں، انہیں دل سے دور کریں اور تدبیرِ صحت و حفظِ امور میں کوشاں رہیں اور ہر معاملہ میں نظر برحق رکھیں تاکہ ازدیادِ محبت ہو۔ اور اپنے کو دل کا تابع بنا لینا کاملوں کا کام ہے۔ اس لیے حق تعالیٰ شانہٗ ان کے دلوں کو اپنے نورِ جمال سے منور فرما دیتا ہے اور تمام علل و اسباب سے آزاد کر دیتا ہے، اور وہاں پہنچا کر خلعتِ تقرب بخش کر اپنے الطاف کی تجلیات ان پر فرماتا ہے اور اپنا مشاہدۂ جمال اور قرب
۱۔ (حاشیہ) یہ حدیث صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ابن حبان اور دیگر کتبِ حدیث میں مروی ہے۔ حاشیہ میں مختلف کتب کے حوالے اور "انما الاعمال بالنیۃ" کے الفاظ کے فرق کی بحث ہے۔
صفحہ۲۰۴
ان پر مستولی کر دیتا ہے۔ اس وقت ان کا جسم بھی ان کے دل کے موافق کر دیا جاتا ہے۔
تو وہ گروہ جو پہلے اہلِ دل گزرا، وہ صاحبِ القلوب اور باقی الصفت ہے، اور یہ گروہ جو مغلوب القلوب ہے وہ فانی الصفت ہے۔ اور اس مسئلہ کی حقیقت یہ ہے جو حق جل جلالہٗ نے فرمائی:
﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ﴾ (۱)
"مگر وہ بندے جو خالص کیے گئے۔"
اسے بفتحِ لام پڑھا گیا اس لیے کہ مُخْلِصِیْنَ فاعل ہے اور باقی الصفت کے لیے ہے، اور مُخْلَص مفعول ہے اور فانی الصفت کے لیے۔ اور یہ بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں کہ تن کو موافقِ دل بناتے ہیں، اس لیے کہ ان کے دل تجلیِ حق کی طرف مائل اور مشاہدۂ جمال میں محو رہتے ہیں۔ اور باقی الصفت جو ہیں وہ دل کو بتکلف موافق امر بناتے ہیں۔
یہ مسئلہ در حقیقت صحو و سکر اور مشاہدہ و مجاہدت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مسئلہ کو زیادہ وضاحت سے مشرح طور پر کسی اور جگہ بیان کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔
حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ
انہیں تابعین میں امامِ عصر، فریدِ دہر، ابو علی الحسن بن ابی الحسن البصری رضی اللہ عنہ ہیں۔ ایک گروہ نے آپ کی کنیت "ابو محمد" لکھی ہے اور ایک جماعت نے "ابو سعید"۔ آپ کا مرتبہ اہلِ طریقت میں بہت بلند ہے اور فنِ تصوف میں آپ کے نہایت لطیف اشارات ہیں۔
ایک حکایت ہے کہ آپ کی خدمت میں ایک اعرابی آیا اور اس نے صبر کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: صبر دو طرح کا ہوتا ہے:
ایک صبر وہ ہے جو مصائب و بلا کے اندر کیا جائے۔
دوسرا صبر ان چیزوں سے جن سے ہمیں باز رہنے کا حکمِ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا، ان سے اطاعتِ حکم کرتے ہوئے رکنا اور خواہشات کے خلاف صبر کرنا۔
اعرابی نے کہا:
اَنْتَ زَاهِدٌ مَا رَاَیْتُ اَزْهَدَ مِنْكَ۔
"آپ ایسے زاہد ہیں کہ آپ سے زیادہ زاہد میں نے نہیں دیکھا۔"
اور آپ سے زیادہ صابر بھی کوئی نہ ہوگا۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے اعرابی! میرا زہد تو رغبتِ کلی ہے اور میرا صبر خالص جزع اور بے صبری۔ اعرابی نے عرض کی کہ
۱۔ سورۃ الحجر: ۴۰
صفحہ۲۰۵
حضرت! اس اجمال کی تفصیل فرمائیے؟ آپ نے ان جملوں سے تو مجھے مدہوش کر دیا اور میرا عقیدہ مذبذب ہو گیا۔
آپ نے فرمایا: ہمارا صبر بلا پر یا اطاعتِ حکم پر بوجہِ خوفِ جہنم ہے اور یہ عین بے صبری ہے، اور ہمارا زہد دنیا میں رغبتِ خالص ہے نعمتِ آخرت کے ساتھ اور یہ عین رغبت ہے۔ نہایت مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنا حصہ اور اپنی قوتِ ارادی کو درمیان سے اٹھا چکے۔ ان کا صبر خالص اللہ کے لیے ہے نہ کہ اپنے جسم کو جہنم سے امن دینے کے لیے، اور زہد ہمارا خالص اللہ کے لیے ہو نہ کہ خصوصیت سے بہشت میں داخل ہونے کے لیے، اور یہ علامتِ صحتِ اخلاص کی ہے۔
"جو بدبختوں میں رہے گا تو نیکوں کی جماعت سے اور ان کے پیشواؤں سے بدگمان ہو جائے گا۔"
اور یہ بات متفق علیہ ہے بلکہ یقینی اور موجودہ دور کے لوگوں کے بالکل موافق حال ہے جو عام طور پر محبوبانِ بارگاہ کے منکر ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رسمی صوفیوں کی مجالس میں عوام بیٹھے اور ان کے ہر کام میں انہیں خیانت نظر آئی اور ان کی زبانوں پر دروغِ بے فروغ پایا اور دوسروں کی غیبت کرتے سنا اور ان کے کان دو پیت اور ہزلیات پر لگے ہوئے دیکھے۔ ان کی آنکھیں لہو و لعب اور شہوت پرستی پر لگی ہوئی دیکھیں اور ان کی تمام تر کوششیں حرام و مشتبہ مال جمع کرنے میں صرف پائیں۔ تو انہوں نے خیال کر لیا کہ صوفی عام طور پر ایسے ہی ہوتے ہیں اور ان کا عمل اور مجاہدہ یہی ہے بلکہ صوفیاء کا یہی مذہب ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط اور اتہام ہے۔ بلکہ صوفیوں کے تمام افعال اطاعتِ الٰہی پر ہیں اور ان کی زبان کلامِ حق اور ثمرۂ محبتِ حق حاصل کرنے پر کھلتی ہے۔ ان کے ضمیروں میں خالص محبتِ الٰہی بھری ہوئی ہوتی ہے، ان کے کان سماعِ حق کے محل اور حقیقت نیوش ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں مشاہدۂ جمالِ یار کو کھلی ہوتی ہیں۔ ان کی سعی و کوشش تمام حصولِ اسرارِ خفیہ پر ہوتی ہے اور وہ رازِ مخفی کے دیکھنے میں مجاہدہ کرتے ہیں۔
اگر کوئی قوم ایسی ظاہر ہو جائے کہ صوفیاء کے زمرہ میں مل کر ان کی سی رفتار و گفتار میں خیانت کرے تو ان کی خیانت کا اثر ان پر ہی پڑے گا نہ کہ ان احرارِ جہان اور سادات زمان پر۔ یاد رکھو! جو شریر لوگوں سے صحبت رکھے گا وہ اپنی شرارتِ نفس کے ماتحت ہوگا اور اگر اس میں بھلائی اور نیکی ہوگی تو وہ اخیار کے ساتھ ہی صحبت پسند کرے گا۔ (از مترجم) شعر:
(شعر کا پہلا مصرع اسکین میں اگلے صفحے کی سطروں سے جڑا ہوا ہے، وہ صفحہ 206 کے شروع میں ہے۔)
صفحہ۲۰۶
(شعر کا تسلسل: ہم جنس باہم جنس پرواز، کبوتر با کبوتر باز با باز)
تو یاد رکھو! ہر کسی کی برائی اس کی ذات سے ہوگی، صحبتِ نا مناسب اور غیر کفو قبول کرنا اس کی نااہلی ہے، بلکہ وہ روزِ ازل ہی سے اس قوم اشرار سے ہوگا اور اس نے اپنے نفس کے شرکو نہ سمجھا ہوگا۔ تو ایسے منکر جو خاصانِ بارگاہ سے بدظن ہو گئے، وہ ایسے مکاروں کی اقتداء میں خراب ہوئے، برخلاف ان اخیار و محبوبانِ بارگاہ کے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بچشمِ رضا دیکھا اور اپنے خواص میں انہیں جگہ عطا فرمائی۔ ان کی صحبت اگر جان و دل کے بدلے میں حاصل ہو تو بھی ارزاں ہے، اس لیے کہ ان کا طریقِ عمل برگزیدہ اور وہ تمام عالم سے علیحدہ اور ان کی برکت سے انسان مقاصدِ دارین حاصل کرتا ہے۔ ان کا حال اس شعر میں کسی نے خوب کہا ہے:
"نہ حقیر سمجھ تو میرے وجود کو حالانکہ تو اس کا محبوب ہے، یاد رکھ! ہر شخص اپنے ہم جنس سے مطلب کو پہنچتا ہے۔"
حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے رئیس العلماء، فقیہ الفقہاء، حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ بڑے عظیم الشان اور بلند رتبہ والے گزرے ہیں۔ آپ کے فرامین بہت مقبول ہیں اور بہت زیادہ پاک باطن تھے۔ آپ کے مناقب بہت ہیں، خصوصاً فقہ میں اور توحید و حقائقِ تفسیر و شعر و لغت وغیرہ میں آپ یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ مشہور ہے کہ آپ بظاہر مردِ عیار نظر آتے اور دل کے اعتبار سے نہایت پارسا تھے، کہ پارسا نما اور عیار طبع اور مذہبِ طریقت میں یہ صورت نہایت محمود ہے۔
مشائخِ کرام رضی اللہ عنہم میں آپ سے ایک روایت مشہور ہے کہ آپ نے فرمایا:
"راضی رہ اس تھوڑی دنیا سے جس میں تیرا دین سلامت رہے، جیسے راضی ہیں کثرتِ مال و دنیا کے ساتھ اپنا دین فنا کر کے عوام الناس۔"
یعنی فقر سلامتیِ دین کے ساتھ اس سے بہتر ہے کہ غنا غفلت کے ساتھ حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب فقیر اپنے دل میں نظر کرتا ہے تو اندیشہ کی زیادتی نہیں پاتا اور جب ہاتھ پر نظر ڈالتا ہے تو اسے قانع پاتا ہے اور غنی، اور غنی جب دل میں نگاہ کرتا ہے تو اندیشوں کی دنیا آباد دیکھتا ہے
صفحہ۲۰۷
اور جب ہاتھ کو دیکھتا ہے تو مشتبہ مال سے ملوث ہوتا ہے۔
تو رضاء دوستانِ الٰہی اس کے خداوندی پر بلا غفلت رہتی ہے اور رضائے غافلانِ دنیا پر غرور کے حصول اور آفت بے حسرت و ندامت اس آفت سے اچھی ہے جو آفت پر ذلت و معصیت ہو۔ غرضیکہ جب کوئی بلا غافلوں پر آتی ہے تو کہتے ہیں الحمد للہ مال پر ٹل گئی، جان و تن اس آفت سے محفوظ رہے، اور جب کوئی بلا محبوبانِ بارگاہ پر آتی ہے تو کہتے ہیں الحمد للہ کہ یہ بلا تن پر ٹل گئی اور دل محفوظ رہ گیا۔ اس لیے کہ جو بلا تن پر آئی اور اس سے دل محفوظ رہ جائے وہ نہایت اچھی بلا ہے، اور اگر وہ بلا دل پر آتی اور دل غافل ہو جاتا تو اگرچہ تن نعمتوں میں ہوتا مگر ایسی نعمت، نعمت نہیں بلکہ قمت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قلیلِ دنیا کے ساتھ راضی رہنا اس کے کثیر ہو جانے کی موجب ہے اور رضا کثیرِ دنیا کے ساتھ اسے قلیل کر دینے والی ہے اور ایسی جماعت کے لیے قلیل مثلِ کثیر ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک روایت ہے کہ آپ مکہ معظمہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا: سعید! مجھے وہ حلال بتاؤ کہ اس میں حرام نہ ہو اور وہ حرام بتاؤ جس کے اندر حلال نہ ہو۔ آپ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ کا یاد کرنا ایسا حلال ہے کہ اس میں حرام نہیں اور غیرِ خدا کا ذکر ایسا حرام ہے کہ اس میں حلال نہیں۔"
اس لیے کہ اس کے ذکر میں نجات ہے اور اس کے غیر کے ذکر میں ہلاک ہی ہلاک۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
(اس صفحے پر پچھلے باب کے اختتام کی زینتی علامت ہے۔)
صفحہ۲۰۸
گیارھواں باب
تبع تابعین تا بہ زمانۂ حال
حضرت حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ
شجاعِ طریقت، متمکن اندرِ شریعت حضرت حبیب عجمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑے بلند ہمت اور بہت باقدر لوگوں سے گزرے ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشائخ میں بہت معزز تھے۔ آپ کی ابتدائی توجہ اور بیعت حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے تھی۔
آپ ابتداء زمانہ میں بڑے ریا کار اور فتنہ و فساد میں مشاق تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیقِ توبۃ النصوح عطا فرمائی اور ایسے مقربِ بارگاہ ہو گئے۔
کچھ علم و عمل حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ آپ کی زبان عجمی تھی اس وجہ سے زبانِ عربی پر دشواری سے چلتی تھی۔ آپ کی بہت سی کرامتیں مخصوص ہیں۔ آپ کا درجہ یہاں تک بلند ہوا کہ ایک روز حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ آپ کی عبادت گاہ میں آئے۔ نمازِ شام کی تکبیر ہو رہی تھی اور جماعت کھڑی ہو چکی تھی۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کھڑے ہو کر اقتداء کی مگر جب دیکھا کہ حضرت حبیب عجمی کی زبان سے مخارجِ قرآن کریم صحیح نہیں نکل رہے تھے، نماز تو آپ نے پڑھی مگر یہ محسوس فرمایا کہ ان کے مخارج صحیح نہیں ہیں۔
شام کو جب سوئے تو خواب میں جمالِ الٰہی سے مشرف ہوئے۔ عرض کی: الٰہی! تیری رضا کس چیز میں ہے؟ جواب ملا: حسن! اگر میرے حبیب عجمی کے پیچھے نماز پڑھتا اور صحیح نیت کرنے سے تجھے اس کی عجمی زبان نہ روکتی تو میں تجھ سے راضی ہو جاتا۔
اور مشائخ میں مشہور ہے کہ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ جب ظلمِ حجاج سے فرار ہو کر تشریف لائے تو حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ کے حجرہ میں روپوش ہوئے۔ حجاج کے آدمی آئے اور آپ سے کہنے لگے: حبیب! تم نے حسن کو کبھی دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ ملازموں نے کہا: کہاں دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ابھی میرے عبادت خانہ میں تشریف لے گئے ہیں۔ متلاشی اندر حجرہ میں گئے، کسی کو نہ پایا، سمجھے کہ حبیب عجمی نے ہم سے مذاق کیا ہے۔ غضبناک ہو کر بولے: سچ بتاؤ کہ کس جگہ انہیں دیکھا ہے۔ آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ سچ کہتا ہوں کہ وہ میرے حجرۂ عبادت میں
صفحہ۲۰۹
ہیں۔ دوبارہ پھر گئے مگر حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ انہیں نظر نہ آئے۔ پھر سہ بارہ دیکھنے گئے، آخر مایوس ہو کر چلے گئے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ حجرہ سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: حبیب! تُو میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برکت سے مجھے ان کی نظر سے مخفی کر دیا مگر تم نے ان سے یہ کیوں کہہ دیا کہ حسن بصری اس جگہ اندر ہیں۔ عرض کی: استاد! میری برکت سے آپ ان کی نظر سے پوشیدہ نہیں کیے گئے بلکہ وہ سچ جو میں نے بولا اس کی برکت سے آپ کو وہ سیاہی نہ دیکھ سکے۔ اگر میں جھوٹ بول دیتا تو مجھے اور آپ کو وہ رسوا کرتے۔
اس قسم کی بہت سی کرامتیں آپ سے ظاہر ہوئیں۔
آپ سے لوگوں نے پوچھا: رضاءِ الٰہی کس چیز میں ہے؟ آپ نے فرمایا:
فِیْ قَلْبٍ لَیْسَ فِیْهِ غُبَارُ النِّفَاقِ۔
"اس دل میں رضاءِ الٰہی ہے جس پر غبارِ نفاق نہ ہو۔"
اس لیے کہ نفاق خلافِ وفاق ہے اور رضا عینِ وفاق اور محبت کو نفاق کے ساتھ کچھ تعلق نہیں۔ اس کا مقام محض رضا ہے تو رضا صفتِ محبوبان ہوئی اور نفاق صفتِ دشمنان اور یہ مضمون بڑا زبردست ہے۔ ان شاء اللہ کسی دوسری جگہ بیان کیا جائے گا۔
حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے نقیبِ اہلِ انس، زینِ جملہ جن و انس حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے سرِ خاص تھے۔ مشائخ میں آپ کی کرامات مشہور ہیں اور ریاضت و مجاہدہ میں آپ کی خصلتیں مذکور۔
"دینار" ایک غلام تھا اور یہ صاحبزادہ اسی حالت میں پیدا ہوئے کہ ان کے والد غلام تھے۔ آپ کی بیعت کا واقعہ یوں ہے کہ حضرت مالک ایک شب ہم چشموں میں مشغولِ عیش و طرب تھے۔ جب سب سو گئے تو آپ نے اس عود سے آواز سنی جیسے بجار ہے تھے:
یَا مَالِكُ مَا لَكَ اَنْ لَا تَتُوْبَ؟
"اے مالک! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو توبہ نہیں کرتا؟"
یہ سنتے ہی آپ نے سب کاموں سے ہاتھ کھینچا اور حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آ کر بیعتِ توبہ کی اور اپنے چال چلن کی اصلاح اس درجہ کی کہ ایک دن مالک بن دینار کشتی میں لوگوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ کسی کا ایک نگینہ جواہرات کا گم ہو گیا۔ سب کی طرف نظر ڈالی، حضرت مالک بن دینار ہی سب میں اجنبی نظر آئے۔ آپ پر اس نگینہ کی چوری کا الزام لگ
صفحہ۲۱۰
گیا۔ آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی کہ یک لخت تمام دریا کی مچھلیاں دریا سے منہ نکالے ہوئے نظر آئیں اور دیکھا کہ ہر مچھلی کے منہ میں ایک ایک نگینہ ہے۔ آپ نے ایک نگینہ لے کر اسے دے دیا اور خود کشتی سے سطحِ آب پر اتر کر کنارہ پر تشریف لائے اور دریا سے باہر ہو گئے۔ آپ کے ارشادوں میں سے ہے کہ:
"عملوں میں سے محبوب ترین عمل مجھے وہ اخلاص ہے جو عمل میں ہو۔"
اس لیے کہ عمل بااخلاص ہی عمل ہوتا ہے اور اخلاص عمل کے اندر بمنزلۂ روح ہے اور عمل بمنزلۂ جسم۔ چنانچہ جب جسم بے روح رہ جاتا ہے تو وہ جمادِ محض ہوتا ہے۔ اسی طرح عمل بلا اخلاص محض ہباءً منثوراً ہے۔ مگر اخلاص تمام اعمال میں باطن ہے اور طاعات اعمالِ ظاہرہ کا نام ہے۔ اعمالِ ظاہری عملِ باطن کے ساتھ تکمیل کو پہنچتے ہیں اور اعمالِ باطن کی قدر و قیمت اعمالِ ظاہر پر موقوف ہے۔
جیسے اگر کوئی کسی کے ساتھ ہزار برس دل سے مخلصانہ محبت رکھے مگر جب تک اس کا عمل اخلاص کا نظر نہ آئے گا وہ اخلاص، اخلاص نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی ہزار سال ظاہری عمل کرتا رہے مگر جب تک اس میں اخلاص نہ آئے گا، وہ عمل طاعتِ مخلصانہ نہ کہلائے گا۔
حضرت ابو حبیب بن سلیم الراعی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے امیر الاولیاء، فقیر بے ریا ابو حلیم حضرت حبیب بن سلیم الراعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں۔ مشائخ کرام میں آپ کی بہت زیادہ قدر و منزلت ہے۔ آپ دلائل اور آیات کے بیان فرمانے میں خاص مہارت رکھتے تھے اور آپ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے خاص مصاحب تھے اور آپ کے حالات اصحابِ حال کے سے تھے۔ آپ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نِیَّةُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِنْ عَمَلِهٖ۔ (۱)
"مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔"
آپ بکریاں چراتے اور کنارۂ فرات پر تشریف رکھتے۔ آپ کا طریقہ زیادہ تر عزلت نشینی تھا۔
مشائخ کرام میں سے ایک راوی ہیں کہ جب میں فرات کے کنارے سے گزرا، حبیب کو
۱۔ اس حدیثِ پاک کا تفصیلی ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔
صفحہ۲۱۱
نماز میں پایا اور آپ کی بکریوں کی نگرانی بھیڑیا کر رہا تھا۔ میں نے کہا اس بزرگ کی زیارت کرنی چاہیے، اس میں علاماتِ ولایت پائے جاتے ہیں۔ میں ٹھہرا رہا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، میں نے سلام عرض کیا۔ آپ نے فرمایا: صاحبزادہ! کس کام سے ادھر آئے ہیں؟ میں نے عرض کی: حضور کی زیارت کے لیے۔ آپ نے فرمایا: جزاک اللہ۔
میں نے کہا: حضرت! یہ کیا معاملہ ہے کہ بھیڑیے اور بکریوں کو ایک جگہ دیکھ رہا ہوں؟ فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ بکریوں کا چرواہا اپنے ربّ کے ساتھ موافق ہے۔ یہ فرمایا اور اپنا پیالہ ایک پتھر کے نیچے رکھ دیا۔ اس پتھر سے دو چشمے جاری ہو گئے: ایک دودھ کا اور دوسرا شہد کا۔ میں نے یہ دیکھ کر عرض کیا: حضور! یہ درجہ کس عمل کے بدلہ میں حاصل کیا؟ فرمایا:
بِمُتَابَعَةِ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللّٰهِ حضور سید یوم النشور ﷺ۔
پھر فرمایا: صاحبزادے! قومِ موسیٰ علیہ السلام جبکہ ان کی مخالف تھی تو پتھر نے انہیں پانی دیا تھا، حالانکہ موسیٰ علیہ السلام درجۂ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے برابر نہ تھے۔ پھر جبکہ میں حضور ﷺ کا پیرو کار ہوں تو پتھر مجھے کیوں نہ شیر و شہد دے؟ اور پھر محمد ﷺ تو موسیٰ علیہ السلام سے کہیں افضل و اعلیٰ مرتبہ پر ہیں۔ میں نے عرض کی: حضور! مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا:
"اپنے دل کو حرص و ہوس کا صندوق نہ بنا اور اپنے شکم کو حرام کا برتن نہ کر۔"
اس لیے کہ ہدایتِ مخلوق انہی دو چیزوں میں ہے اور نجات انہی دو چیزوں سے مجتنب رہنے میں ہے۔ علاوہ اس کے میرے شیخ سے یہاں بہت سی روایات ہیں، لیکن میں اس وقت ضیق میں ہوں، اس وجہ سے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔ میری کتابیں غزنی میں رہ گئیں۔ اللہ اس شہر کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ میں اس وقت ہندوستان کے شہر لہانور (۱) میں ہوں جو مضافاتِ ملتان سے ہے اور ناجنسوں میں پھنسا ہوا ہوں۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ۔
حضرت ابو حازم مدنی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے پیرِ صالح حضرت ابو حازم مدنی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ بھی مشائخ کرام میں مقتدا مانے جاتے ہیں۔ آپ کو معاملاتِ عبادت میں خاص حصہ عطا ہوا اور میدانِ فقر میں آپ کا قدم بہت صحیح تھا اور آپ کے مجاہدات کی روش نہایت پاکیزہ تھی۔
۱۔ "لہانور" سے مراد شہر لاہور ہی ہے۔
صفحہ۲۱۲
اور حضرت عمرو بن عثمان مکی نے آپ کے حالات میں بہت کوشش کی ہے۔ آپ کے کلام و مضامین خواص میں مقبول ہیں اور آپ کے عملی جواہر پارے بہت سی کتابوں میں مشہور ہیں۔ اور عمرو بن عثمان روایت کرتے ہیں کہ آپ سے کہا گیا:
آپ کا خزانہ اور مال کیا ہے؟ فرمایا: میرا مال رضاءِ الٰہی ہے اور مخلوقات سے بے نیازی۔
جو اپنے ربّ سے راضی ہو گیا وہ مخلوقات سے مستغنی ہو گیا۔ اور مردِ کامل کا زبردست خزانہ رضائے مولا ہے اور اس میں اشارۂ غنا جو ہے وہ من جانب اللہ ہے۔ تو جو من جانب اللہ غنی ہوگا وہ یقیناً غیرِ خدا سے مستغنی ہوگا۔ اس کا راستہ بجز درگاہِ الٰہی کوئی نہیں، وہ خلاء و ملا میں بجز اپنے ربِّ حقیقی کے کسی کو نہیں پکارتا۔
مشائخ میں سے کسی نے کہا کہ میں حضرت ابو حازم کے پاس آیا، دیکھا کہ آپ سو رہے ہیں۔ میں کچھ دیر ٹھہرا رہا تاکہ وہ بیدار ہوں۔ تھوڑی دیر بعد آپ اٹھے، مجھے دیکھ کر فرمایا کہ میں نے حضور ﷺ کی زیارت کی، حضور ﷺ نے میرے ذریعہ آپ کو پیام فرمایا ہے کہ جاؤ ماں کی خدمت کرو، یہ حج سے بہتر ہے۔ یہ سنتے ہی میں واپس گھر آ گیا اور حج کو نہیں گیا۔ بس اس زائدان سے میری گفتگو نہیں ہوئی۔
حضرت محمد بن واسع رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے داعیِ اہلِ مجاہدت، قائم اندر مشاہدت حضرت محمد بن واسع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں۔ آپ اپنے زمانہ میں اپنی نظیر آپ ہی تھے اور آپ کو بہت سے تابعین (یعنی وہ جنہوں نے صحابہ کرام کی زیارت کی) کی صحبت کا شرف ملا اور بہت سے مشائخ آپ کو اپنا امام و پیشوا مانتے ہیں۔ رموزِ طریقت میں آپ پوری دستگاہ رکھتے تھے اور حقائقِ تصوف میں آپ کے خیالات بہت بلند تھے۔ آپ کے ارشادات جامع اور کامل ہوتے تھے۔ آپ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"میں نے کوئی چیز نہ دیکھی مگر جو دیکھا اس میں جلوۂ الٰہی دیکھا۔"
اور یہ خاص مقامِ مشاہدہ ہے کہ بندہ غلبۂ محبتِ یار میں اس مقام پر پہنچ جائے کہ جب وہ فعل میں نظر ڈالے تو اسے فعل نہ سمجھے۔ جیسے کوئی تصویر کو دیکھے تو اس کی نظر مصور پر پڑتی ہے۔ اس مضمون کی حقیقت بموجب فرمانِ ابراہیم علیہ السلام ہے کہ جب آپ نے ماہتاب و آفتاب کو دیکھا
صفحہ۲۱۳
تو "ہٰذَا رَبِّیْ" (۱) فرمایا، اور جب ستارہ دیکھا تو "ہٰذَا رَبِّیْ"۔ اور یہ کہنا تمام تر غلبۂ شوق میں تھا کہ جس چیز کو دیکھا اس میں صفاتِ محبوب کا مشاہدہ کیا۔
اس لیے کہ جب محبانِ خاص عالم پر نظر ڈالتے ہیں تو ہر شے کو مقہور و قہر و اسیرِ سلطانِ دہر دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اس کے پردہ میں فاعلِ حقیقی کی قدرت کام کر رہی ہے۔ تو اس کی تلاش کرتے کرتے اپنے دل میں ہر چیز کو محض ناچیز یقین کر لیتے ہیں۔ اور جب محبوبانِ بارگاہ بچشمِ اشتیاق اس عالم پر نظر ڈالتے ہیں تو مقہور نہیں بلکہ سب کو قاہر دیکھتے ہیں اور مخلوق کو نہیں بلکہ سب میں جلوۂ خالق دیکھتے ہیں۔ اس بحث کو ہم بابِ مشاہدہ میں بیان کریں گے، اِنْ شَاءَ اللّٰه۔
اس مسئلہ میں ایک جماعت کو غلطی ہو گئی ہے اور وہ اس غلطی کے ماتحت کہتے ہیں کہ وہ مرد جس نے کہا: "رَاَیْتُ اللّٰهَ فِیْهِ" یعنی اللہ کو میں نے اس میں دیکھا، اس سے مکان اور حلول ثابت ہوتا ہے۔ اگر بالفرض کوئی کہے کہ مکان مخلوق ہے تو مکین بھی مخلوق ہوگا، اور اگر مکین قدیم ہو تو مکان بھی قدیم ماننا پڑے گا۔ اس میں دو فساد آتے ہیں: یا خلق کو قدیم کہا جائے، یا معاذ اللہ خالق کو محدث۔ اور یہ دونوں کفر ہیں۔
تو دیکھنے سے مراد ذاتِ حقیقی نہیں ہوگی بلکہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہر چیز میں نشانیِ قدرتِ الٰہیہ اور براہینِ فطرتِ قادریہ کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ اور یہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں۔ پھر اس بحث میں بڑے لطیف رموز و نکات ہیں جو اپنی جگہ پر ان شاء اللہ بیان کریں گے۔
حضرت ابو حنیفہ النعمان رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے امام الامان، مقتدائے سنیاں، شرفِ فقہاء، رئیس العلماء حضرت امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الخزاز رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ مجاہدات و عبادات میں نہایت ثابت قدم تھے اور طریقت کے اصول میں بڑے جلیل الشان عالم مانے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ ابتدائے زمانہ میں آپ نے عزمِ عزلت نشینی فرما لیا تھا اور مخلوقات سے علیحدگی فرمائی تھی۔ چاہتے تھے کہ مخلوقات سے علیحدہ ہو کر دل کو ریاست و جاہِ مخلوق سے پاک فرمائیں اور خالص ربِّ جل مجدہ کی اطاعت میں کمر بستہ ہوں۔ کہ ایک شب خواب میں دیکھا کہ حضور سید اکرم ﷺ کے استخوانِ مبارک لحدِ مبارک سے جمع کر کے ان میں سے بعض کو بعض پر ترجیح دے کر پسند کر رہے تھے۔ اس خواب سے اتنی ہیبت طاری ہوئی کہ بیدار ہو گئے اور سخت پریشان۔ آخر صحابہ کرام کے ایک تلامذہ میں سے حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ تھے، ان کی خدمت میں گئے اور خواب بیان کیا۔ آپ نے تعبیر دی کہ خوابِ مبارک ہے، تم
۱۔ سورۃ الانعام: ۷۷
صفحہ۲۱۴
علمِ سید الانبیاء ﷺ حاصل کر کے محافظتِ سنت میں اعلیٰ درجہ پاؤ گے، بلکہ ان روایاتِ سنت میں نقد و تنقیح کر کے تصرف فرمانے کے مجاز ہو گے اور صحیح کو سقیم سے علیحدہ کرو گے۔
دوبارہ پھر خواب میں جنابِ رسالت مآب ﷺ کو دیکھا کہ حضور ﷺ فرما رہے ہیں: "ابو حنیفہ! تجھے اللہ نے میری سنت زندہ کرنے کے لیے بنایا ہے، گوشہ نشینی کا عزم نہ کر۔"
چنانچہ آپ نے خدمتِ دین شروع کر دی اور بڑے بڑے مشائخ کرام سے، مثلِ ابراہیم اور فضیل بن عیاض، داؤد طائی، بشر حافی رحمہم اللہ وغیرہم کے، استاد ہوئے۔ اور علاوہ اس کے آپ کے تورع اور اتقاء کے بہت سے واقعات علماء میں مشہور ہیں۔ چنانچہ بادشاہ ابو جعفر منصور کے عہد کا واقعہ مشہور ہے کہ اس نے چار آدمی اپنی سلطنت کے قضاۃ کے لیے خاص طور پر منتخب کیے اور فیصلہ کیا کہ ان میں سے ایک قاضیِ اسلام بنایا جائے:
[i] امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ [ii] حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ [iii] حضرت مسعر ابن کدام رحمۃ اللہ علیہ [iv] حضرت شریح رحمۃ اللہ علیہ
اور یہ حقیقت ہے کہ یہ چاروں زبردست علماء میں سے تھے۔ ملازمین میں سے کسی کو حکم ملا کہ ان چاروں کو بلا لائے۔ جب ایلچی آیا، چاروں روانہ ہوئے۔ راستہ میں امام صاحب نے فرمایا کہ میں آپ حضرات کو کچھ باتیں کہوں جو فراستاً میرے ذہن میں آئی ہیں۔ سب نے جواب دیا کہ فرمائیں۔
آپ نے فرمایا: میں تو حیلہ سے اپنے کو عہدۂ قضا سے بچا لوں گا، اور مسعر دیوانہ بن کر بچ جائیں گے، اور سفیان دربار سے بھاگ جائیں گے۔ اب رہے شریح، یہ قاضی بنیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت سفیان تو راستے ہی سے بھاگے اور کشتی میں بیٹھ کر فرمانے لگے: مجھے چھپا لو کہ حکومت میرا سر کاٹنا چاہتی ہے۔ اور یہ جملہ حدیثِ سید اکرم ﷺ سے ماخوذ فرمایا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے:
ملاحوں نے آپ کو چھپا دیا اور یہ تینوں حضرات دربارِ ابو جعفر منصور میں پہنچے۔
۱۔ (حاشیہ) اس حدیث کو امام احمد، امام ابو داؤد، امام نسائی، ابن ماجہ وغیرہم نے مختلف اسانید سے روایت کیا ہے، اور الفاظ کے فرق کا ذکر ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔ (بقیہ حواشی اگلے صفحے پر)
صفحہ۲۱۵
ابو جعفر منصور نے خصوصیت سے حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ آپ کو منصبِ قضاء پر متمکن ہونا چاہیے۔ آپ نے فرمایا: امیر المومنین! میں عربی النسل نہیں بلکہ ان سے محبت رکھنے والا ہوں تو سادات عرب میرے حکم پر خوش نہ ہوں گے۔ ابو جعفر منصور نے کہا: حضرت! اس عہدہ کو نسب سے تعلق نہیں ہے، یہ عہدہ علم والے کو ملتا ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر بات یہ ہے کہ میں اس منصب کے لائق نہیں اور سچ کہتا ہوں کہ لائق نہیں۔ پھر اگر میں سچ کہہ رہا ہوں تو ظاہر ہے کہ میں اس عہدہ کے لائق نہیں، اور اگر میں جھوٹ کہہ رہا ہوں تو ظاہر ہے کہ دروغ گو قاضیِ مسلمانان بننے کا کس طرح اہل ہو سکتا ہے؟ اور آپ کہ خلیفۂ الٰہی ہیں، کبھی روا نہیں رکھ سکتے کہ دروغ گو کو اپنا نائب بنائیں اور مسلمانوں کے خون، مال، عزت و روپیہ کا اس پر بھروسہ کریں۔ یہ فرمایا اور بموجب پیشگوئی نجات پا گئے۔
اب حضرت مسعر بن کدام کی باری آئی۔ آپ آگے بڑھے اور امیر المومنین ابو جعفر منصور کا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے: ابو جعفر! اچھی طرح ہو؟ تمہارے بچے بیوی تو اچھے ہیں؟ منصور نے یہ بے ربط کلام سن کر حکم دیا کہ اسے دربار سے نکال دو، یہ دیوانہ معلوم ہوتا ہے۔
اس کے بعد حضرت شریح کو فرمایا گیا کہ تمہیں منصبِ قضا پر آنا چاہیے۔ آپ نے کہا کہ میں سودائی آدمی ہوں، میرا دماغ کمزور ہے۔ منصور نے کہا علاج کرا لیں، عصار ہائے موافقہ اور نبیذ ہائے مثلث استعمال کریں، آپ کی عقل کامل ہو جائے گی۔ آخرش منصبِ قضا شریح کو دے دیا گیا۔
حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے اسی وقت شریح کو چھوڑ دیا اور کبھی ان سے کلام نہ فرمایا۔ اور یہ آپ کے کمالِ حال کی خاص نشانی تھی۔ ان میں دو علیحدہ علیحدہ شانیں نظر آئیں: ایک تو ان کی پیشگوئی کی صداقت کہ جیسا فرمایا ویسا ہوا، دوسرے اپنے کو صحت و سلامتی پر اتنا قائم رکھا کہ جاہ و اعزازِ خلقت کی پرواہ نہ کی۔
یہ ستون ایسے پایہ کے نکلے کہ کسی نہ کسی حیلہ سے مخلوق کو اپنے سے دور رکھ کر اتنے بڑے
(اس صفحے کے نیچے حاشیہ ہے جس میں صفحہ 214 والی حدیث "مَنْ جُعِلَ قَاضِیًا..." کے مزید حوالے ہیں: امام نسائی کا قول کہ داؤد مشہور راوی نہیں، امام سخاوی کا قول کہ یہ حدیث صحیح بلکہ حسن ہے، اور مسند احمد، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، المعجم الصغیر، السنن الکبریٰ للبیہقی، تاریخ بغداد، العلل المتناہیہ، کشف الخفاء اور المقاصد الحسنہ کے حوالے۔ اسکین باریک ہے، اس لیے مکمل حوالہ جات نقل نہیں کیے۔)
صفحہ۲۱۶
منصب سے مجتنب ہو گئے۔ آج کے دن عام علماء و فضلاء اس قسم کے عمل اور ورع و تقویٰ کی پرواہ نہیں کرتے، اس لیے کہ وہ سب کے سب حرص و ہوس کے ساتھ وابستہ ہیں اور طریقۂ حق سے فرار شدہ ہیں۔ ان کے لیے امراء کے گھر بمنزلۂ قبلہ ہیں، ظالم اہلِ حکومت کی بارگاہ بیت المعمور ہے اور جابروں کے دربار میں ان کے فرش تک پہنچ جانا "قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی" ہے۔ کم نہیں سمجھتے اور جو کچھ ان کی مرضی کے خلاف بات ہو اس سے یہ پہلے منکر ہو جاتے ہیں۔
ایک دفعہ غزنی میں (خدا اس شہر کو محفوظ رکھے) علم و امامت کے مدعیوں میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ مرقعہ پہننا بدعت ہے۔ میں نے اسے جواب دیا کہ جبّہ، حشیش اور پوشاک دیبق جو خالص ابریشم سے تیار ہوتا ہے تمہارے اور تمام مردوں کے لیے شرعاً حرام ہے۔ تم ان عباؤں اور قباؤں کو ظالم جابر حکام سے خوشامد کر کے لیتے اور پہنتے ہو۔ اس میں اول تو خوشامد حرام، پھر ظالم سے لے کر حرام، پھر اس کا پہننا حرام۔ لیکن اسے تم پہنتے ہو اور کبھی اسے بدعت تک نہیں کہتے۔ برخلاف خرقہ کے کہ وہ جامہ حلال ہوتا ہے اور مالِ حلال سے خریدا جاتا ہے، اس کا پہننا کس طرح بدعت بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر تمہارے دلوں پر رغبتِ نفس غالب نہ ہو اور نفس کی گمراہی میں تم نہ پھنسے ہوتے تو اس کے بجائے کہ خرقہ کو بدعت کہہ دیا کوئی اچھی بات کہہ دیتے۔
عورتوں پر لباسِ ابریشم حلال ہے اور مردوں پر حرام اور دیوانوں پر مباح۔ اگر تم لوگ عورت یا دیوانہ ہو تو پھر تم معذور ہو۔ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ عَدَمِ الْاِنْصَافِ۔
حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت نوفل بن حیان رضی اللہ عنہ نے وفات پائی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہے اور مخلوقات حساب و کتاب کے مقام پر کھڑی ہے۔ حضور سید یوم النشور ﷺ کو دیکھتا ہوں کہ حوضِ کوثر کے کنارے جلوہ فرما ہیں اور آپ کے بائیں طرف بہت سے مشائخ حاضر ہیں۔ ایک بزرگ معمر کو دیکھا کہ بہت خوبصورت ہیں اور آپ کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنا رخسارِ مبارک حضور ﷺ کے رُخِ اقدس پر رکھا ہوا ہے اور ان کے برابر حضرت نوفل بن حیان رضی اللہ عنہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے جیسے ہی مجھے دیکھا تو میری طرف آئے اور سلام فرمایا۔ میں نے انہیں کہا: مجھے پانی دیجیے۔ فرمایا: حضور ﷺ سے اجازت لے لوں، کہ حضور ﷺ نے انہیں انگلی سے اشارہ فرما کر پانی دینے کا حکم فرمایا۔ میں نے پانی پیا اور میرے ساتھی جو تھے انہیں پلایا۔ مگر وہ جام جس میں پانی ملا تھا، بدستور مملو ہی رہا، کچھ کم نہ ہوا۔
میں نے حضرت نوفل بن حیان سے پوچھا کہ یہ بزرگ سفید بالوں والے جو حضور
صفحہ۲۱۷
ﷺ کے داہنے جانب کھڑے ہیں کون ہیں؟ فرمایا: یہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا و علیہ السلام ہیں اور بائیں طرف جو کھڑے ہیں وہ صدیقِ اکبر خلیفۂ رسول رضی اللہ عنہ ہیں۔
اسی طرح میں پوچھتا رہا اور اپنی انگلیوں میں گنتا رہا حتیٰ کہ سولہ بزرگوں کو میں نے گنا۔ جب میں بیدار ہوا تو سولہ عدد پر میری انگلی میں گرہ کے نشان تھے۔
حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اَیْنَ اَطْلُبُكَ؟ قَالَ: عِنْدَ عِلْمِ اَبِیْ حَنِیْفَةَ۔ "حضور! میں حضور کو کہاں تلاش کروں؟ فرمایا: ابو حنیفہ کے علم کے نیچے۔"
غرضیکہ حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے ورع و تقویٰ میں اس قدر مناقب ہیں کہ یہ کتاب ان کی متحمل نہیں۔
میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) ایک بار شام میں تھا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ مؤذنِ حضور اکرم ﷺ کے مزار کے سرہانے سو رہا تھا کہ اپنے آپ کو مکہ میں دیکھا اور اسی خواب میں دیکھا کہ سرکارِ مدینہ ﷺ بابِ بنی شیبہ سے تشریف لا رہے ہیں اور ایک بزرگ معمر کو اپنے پہلو میں اس طرح لے رکھا ہے جیسے بچوں کو شفقت سے لیتے ہیں۔
میں فرطِ محبت سے دوڑا اور حضور ﷺ کے پائے اقدس کو چومنے لگا اور میں اس تعجب میں تھا کہ یہ معمر حضور ﷺ کے اتنے محبوب کون ہیں!! حضور ﷺ میرے تعجب کو نورِ نبوت سے سمجھ گئے۔ مجھے فرمانے لگے: یہ تیرا امام ہے اور تیرے شہر کے لوگوں کا امام ہے، یعنی ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ۔ مجھے اس خواب کے بعد اس ہستیِ پاک کے ساتھ امیدِ قوی ہے اور میرے اہلِ شہر بھی بالخصوص امیدوار ہیں اور اس خواب سے میرا یہ خیال بھی صحیح ہو گیا کہ حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ انہیں پاک ہستیوں میں سے تھے جو اوصافِ طبع سے فانی اور احکامِ شرع کے ساتھ باقی و قائم ہیں۔ اس لیے ان کے چلانے والے حضور سید یوم النشور ﷺ ہیں۔ اگر آپ خود چلتے تو باقی الصفت ہوتے اور باقی الصفت یا تخطی ہوتا ہے (یعنی ارادۂ صواب کرے گا مگر بلا ارادہ خطا ظاہر ہو جائے) یا مصیب ہوتا ہے (یعنی حقیقتِ معاملہ کو اچھی طرح پہنچنے والا)۔
اور جب ان کے قائد خود حضور ﷺ ہیں تو فانی الصفت ہوئے اور نبی کی صفتِ بقا سے قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر سے صدورِ خطا ناممکن ہے جو اس ذات کے ساتھ قائم ہے، اس سے بھی خطا نہیں ہو سکتی۔ یہ در حقیقت ایک نہایت لطیف رمز ہے۔
مروی ہے کہ جب حضرت داؤد طائی رضی اللہ عنہ علمِ دین حاصل فرما کر پیشوا بن چکے اور
(صفحہ 217 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، اگلا حصہ صفحہ 218 پر ہے۔)
صفحہ۲۱۸
منصبِ افتاء حاصل کر لیا تو حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اب مجھے کیا حکم ہے؟ امام صاحب نے فرمایا:
"اب تم پر عمل لازم ہے، اس لیے کہ علم بلا عمل ایسے ہے جیسے جسم بلا روح۔"
جب تک علم عمل کے ساتھ نہ ہو، صاف نہیں ہوتا اور نہ بغیر عمل زمانہ سے مخلصی ملتی ہے، اور جو مجرد علم پر قناعت کرے وہ عالم نہیں ہے۔ اس لیے کہ عالم مجرد علم پر قانع نہیں ہوتا اور علم کا جو عین ہے وہ خود عمل کا متقاضی ہے۔ جس طرح ہدایت، مجاہدہ کی متقاضی ہے یا جیسے مشاہدہ بلا مجاہدہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح علم بے عمل نہیں آتا اور علم میراثِ عمل ہے اور علم کا فائدہ اور اس کا انکشاف عمل کی برکت سے حاصل ہوتا ہے۔ غرضیکہ کسی صورت میں علم کو عمل سے جدا نہیں کرنا چاہیے، جیسے نور و آفتاب کو آفتاب سے علیحدہ نہیں کر سکتے۔ اور ابتدائے کتاب میں ہم نے بیانِ علم پر ایک مختصر باب لکھ دیا ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
حضرت عبد اللہ بن المبارک رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے سیدِ زہاد، قائد اوتاد حضرت عبد اللہ بن المبارک مروزی ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ آپ کا وجود اپنے زمانہ میں محسنان قوم میں سے تھا اور شریعت و طریقت کے احوال و اسباب و اقوال میں آپ کو امامِ وقت مانا گیا۔ آپ نے بڑے بڑے مشائخ کرام و صوفیائے عظام کی زیارت فرمائی اور ان کے فیضِ صحبت سے مستفیض ہوئے۔ آپ کی تصانیف ہر علم و فن میں مشہور اور کرامتیں مذکور ہیں۔
ابتدائی دور آپ کا ایسا تھا کہ آپ ایک کنیز پر فریفتہ تھے اور اتنے دلدادہ تھے کہ ایک رات مستانہ وار اٹھے اور ایک اپنے ہم چشم کو ساتھ لے کر اپنی معشوقہ کے مکان کے زیرِ دیوار کھڑے ہو گئے۔ معشوقہ بھی آپ کی فریفتہ تھی، وہ وقتِ معہودہ پر برسرِ بام آ گئی اور تمام شب یہ اسے دیکھتے رہے، وہ انہیں دیکھتی رہی۔ تمام شب گزر گئی۔
جب صبح کی اذان کی آواز آئی، ابن مبارک کو خیال آیا کہ عشاء کی اذان ہو رہی ہے مگر جب دن نکل آیا تو سمجھ گئے کہ یہ عشاء کی نہیں فجر کی اذان تھی اور میں نے تمام شب حسن پرستی معشوقہ میں گزار دی۔ نفسِ لوامہ نے ملامت کی، آپ کو محسوس ہوا اور دل سے کہنے لگے: تجھے شرم کرنی چاہیے کہ تمام رات محض ہوائے نفسانی کو پورا کرنے کو تو نے ایک پاؤں کھڑے ہو کر گزار دی، اس پر خواہش ہے کہ اعزازِ اخروی حاصل کرے۔ اگر یہ شب نماز میں طویل سورت شروع کر کے
صفحہ۲۱۹
اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہوتا تو دیوانہ وار خود رفتہ ہو جاتا۔ ابن مبارک! اس پر دعویٰ ایمان!!
پس یہ مکالمہ دل سے کر کے آپ نے فی الفور توبہ کی اور ایسی توبہ کی کہ اس کے بعد آپ کے اوقات علم اور طلبِ حق میں صرف ہوئے اور زہد و دیانت میں یہ درجہ پایا کہ ایک بار آپ کی والدہ باغ میں گئیں اور آپ کو باغ میں سویا ہوا دیکھا۔ قریب پہنچیں تو دیکھتی ہیں کہ ایک بہت بڑا سانپ شاخِ گل منہ میں لے کر آپ کے سرہانے مگس رانی کر رہا ہے۔ اس زمانہ میں آپ مقامِ مرو میں تھے۔ اس کے بعد آپ یہاں سے بغداد شریف چلے آئے اور بزرگانِ عظام کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے، پھر کچھ عرصہ مکہ معظمہ میں حاضر رہے، بعد ازاں پھر مرو واپس آ گئے۔
لوگوں کو معلوم ہوا تو برائے زیارت حاضر آئے اور ایک درس آپ کے لیے قائم کیا گیا اور ایک مجلسِ خاص آپ کے فیضِ صحبت سے استفادہ کرنے کو قائم ہو گئی۔ مرو میں مسلمانوں کے اندر کچھ لوگ عقلی دلائل کے ماتحت اپنی رائے کے مطابق عمل کرنے والے تھے اور کچھ لوگ فرمانِ رسالت مآب ﷺ پر عامل تھے۔ اب تک ان کا یہی رویہ ہے۔ ان لوگوں کو "رضی الفریقین" کہتے ہیں، اس لیے کہ دونوں فریق باہم موافق تھے۔ پھر آپ نے یہاں دو مسافر خانے بنوائے: ایک ان لوگوں کے لیے جو حضور ﷺ کے حکم کے ماتحت عمل کرتے تھے، دوسرا ان کے لیے جو اپنی رائے اور عقل کی روشنی میں چلتے تھے۔ چنانچہ آج تک یہ دونوں لوگ وہاں موجود ہیں اور اصلی عقیدہ میں دونوں متحد اور ایک عقیدہ پر قائم ہیں۔
بعد ازاں آپ وہاں سے پھر حجاز تشریف لے آئے اور یہاں ہی ہمیشہ کے لیے رہ گئے۔ لوگوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ نے عجائباتِ عالم میں سے کیا چیز خاص دیکھی؟ فرمایا: ایک راہب دیکھا (راہب نصاریٰ کے زاہد کو کہتے ہیں جو تارک الدنیا ہو) جو اپنے طریقہ کے مجاہدہ و ریاضت میں گھل کر زار و نزار ہو چکا تھا اور خوفِ الٰہی سے اس کی کمر اتنی جھک گئی تھی کہ دوہرا ہو گیا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا:
"اللہ تعالیٰ تک رسائی کا کون سا راستہ ہے؟ کہنے لگا: اگر تو اللہ کو پہچان لے گا، اس کے راستہ کو بھی جان لے گا۔ (پھر) کہنے لگا: میں اس کا پرستار ہوں جسے آج تک نہیں پہچانا اور تو اس کی نافرمانی کر رہا ہے جسے تو جانتا ہے۔"
صفحہ۲۲۰
یعنی معرفتِ ذات مقتضیِ خوف ہے اور میں تجھے بے خوف اور بے غم پاتا ہوں اور بے خوفی مقتضیِ کفر و جہل ہے۔ اس جواب سے میں نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا اور اس کے الفاظ نے مجھ پر یہ اثر کیا کہ بہت سے ناکردنی افعال سے رکا رہا۔
اس لیے ان کے دل سکون میں نہیں ہوتے۔ دنیا میں ان کا اضطراب طلبِ جمال کے لیے رہتا ہے اور عقبیٰ میں ان کا اضطراب طربِ بے کیف کی وجہ میں۔ چونکہ دنیا میں وہ جلوۂ یار سے غیبت میں رہنے کی وجہ سے مضطر رہتے ہیں اور عقبیٰ میں وصلِ بے کیف کے باعث۔ تو خلاصہ یہ نکلا کہ ان کی دنیا مثلِ عقبیٰ کے ہے اور عقبیٰ مثلِ دنیا کے۔ اس لیے کہ سکونتِ دل کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں: یا حصولِ مقصود یا مراد پانے سے غفلت، اور یہ لوگ ان دونوں چیزوں کو روا نہیں رکھتے۔ ☆
ان کا مقصد یہ ہے کہ خفقانِ محبت کو سکون ہی نہ ملے اور غفلت، محبانِ الٰہی کے یہاں حرام ہے، اس لیے کہ غفلت آئی اور حرکاتِ طلب میں سکون ہوا، اور وہ اضطرار و اضطراب طلب سے دل میں سکون پسند نہیں کرتے۔ اس بحث میں اہلِ طریقت محققین کے بہت قوی دلائل ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے شاہِ اہلِ حضرت، بادشاہِ درگاہ و صلت ابو علی الفضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ بھی "صعالیک" قوم میں سے تھے اور اکابر صوفیا سے گزرے ہیں۔ آپ کو اعمال و عبادات سے خاص حصہ عطا ہوا تھا اور ارباب طریقت میں ایک مشہور صوفی مانے گئے۔
آپ کی بھی ابتدائی کیفیت عیاری و راہزنی میں رہی۔ مرو سے باورد کے مابین ان کا محافظ قزاقی تھا، لیکن طبیعت کی خوبی اس وقت بھی اتنی تھی کہ آپ کو جوانمرد اور رحم دل، صلح پسند و بلند ہمت کہا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ جس قافلہ میں نسوانی طبقہ ہوتا اسے لوٹنا برا جانتے تھے، اس کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہ فرماتے اور جس کے پاس کالائے سفر یا سرمایۂ زاد و راہ کم ہوتا اس سے کچھ نہ لیتے بلکہ متمول کو اگر لوٹتے تو اتنا مال ضرور چھوڑ دیتے جس سے وہ اپنا سفر پورا کر سکے۔
آخر کار ایک سوداگر مرو سے روانہ ہوا۔ لوگوں نے اسے کہا کہ راستہ میں فضیل راہزن
☆ دو گونہ رنج و عذاب است جانِ مجنون را ۔ بلا فرقتِ لیلیٰ و صحبتِ لیلیٰ
صفحہ۲۲۱
ہے۔ اس کے لیے کچھ بدرقہ لے جاؤ (یعنی اس کے مقابلہ کا انتظام کر کے جاؤ)۔ سوداگر نے کہا: میں نے اس کی راہزنی کے ساتھ یہ بھی سنا ہے کہ وہ خدا ترس آدمی ہے، اس لیے کسی خاص انتظام کی حاجت نہیں۔ صرف ایک قاری صاحب کو کچھ روزینہ مقرر کر کے ساتھ لے لیا ہے اور اونٹ پر بٹھا کر کہہ دیا ہے کہ آپ راستہ بھر تلاوتِ قرآنِ مجید شب و روز فرمائیں۔ غرضیکہ قافلہ اس جنگل میں آ گیا جہاں فضیل کی کمیں گاہ تھی۔
قافلہ دیکھتے ہی فضیل گھات میں لگے اور قافلہ کے قریب پہنچے۔ اتفاقاً اس وقت قاری کی زبان پر یہ آیتِ کریمہ آ گئی:
"کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر اور یاد سے خشوع و خضوع حاصل کریں۔"
اس آیت کے سنتے ہی فضیل رضی اللہ عنہ کے دل میں رقّت محسوس ہوئی اور آفتابِ ہدایت و رحمت ان کی پیشانی پر تاباں ہوا۔ انہوں نے رہزنی کے ایام میں جن جن پر غارت کی تھی سب کی فہرست بنا رکھی تھی۔ اسی وقت توبہ کی اور جن جن کا مال لوٹا تھا انہیں راضی کر کے معافی لی اور مرو سے روانہ ہو کر بیت اللہ شریف کے مجاور بن گئے۔ یہاں بڑے بڑے بزرگانِ دین اور عرفائے کاملین کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے۔ پھر کوفہ میں آ کر حضرت امام ہمام ابو حنیفہ النعمان رضی اللہ عنہ کی صحبت سے ایک مدت تک متمتع رہے۔ آپ ہی سے فنِ حدیث میں بڑی بڑی بلند روایات منقول ہیں اور فنِ تصوف و معرفت میں بہت سے بلند کلام مشہور ہیں۔ آپ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"جو اللہ تعالیٰ کا عرفان کامل کر لے وہ ضرور اپنی تمام ہمت و قوت اس کی پرستش میں صرف کرے گا۔"
اس لیے کہ جو بھی عارفِ الٰہی ہو جائے گا، وہ یقیناً اس کے انعام و احسان کو جان لے گا اور اس کی رافت و رحمت سے واقف ہوگا، پھر جب اسے جان لے گا اس کا یقیناً دوست بن جائے گا اور جب دوست بنے گا تو دوست کی پیروی بحد استطاعت لازمی کرے گا، اس لیے کہ حکمِ محبوب محبت پر دشوار و بارِ گراں نہیں ہوا کرتا۔
۱۔ سورۃ الحدید: ۱۶
صفحہ۲۲۲
تو جس کی دوستی جس سے زیادہ ہوگی، حرصِ اطاعت بھی اس میں بڑھ جائے گی اور ازدیادِ محبت حقائقِ معرفت میں سے ہے۔ جیسا کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے۔ آپ فرماتی ہیں کہ ایک شب حضور ﷺ میرے پاس سے اٹھے اور میری نظروں سے اوجھل ہوئے۔ مجھے وہم ہوا کہ شاید حضور ازواج کے کسی کمرہ میں تشریف لے گئے ہیں۔ میں حضور ﷺ کے پیچھے پیچھے چلی، مسجد میں آئی تو میں نے حضور ﷺ کو نماز میں قیام فرما دیکھا اور اشکباری میں تمام شب گزر گئی۔ صبح کو بلال آئے، فجر کی اذان دی مگر حضور ﷺ بدستور نماز میں اشکباری کے ساتھ مشغول تھے۔
جب جماعت سے فارغ ہو گئے تو حضور ﷺ حجرہ میں تشریف لائے۔ میں نے دیکھا کہ پائے اقدس اس قدر متورم ہیں کہ انگلیوں سے شقاق ہو کر زرد پانی جاری ہے۔ میں رونے لگی اور عرض کی: حضور ﷺ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب خواص کے اول و آخر تمام گناہ معاف فرما دیے، پھر اس قدر غم کیسا! چھوڑیے، یہ کام وہ کرے گا جسے اپنی عاقبت کے امن کا خطرہ ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! یہ میرے ربّ کا فضل ہے کہ اس نے مجھے یہ منصبِ جلیل عطا فرمایا:
اَفَلَا اَكُوْنُ عَبْدًا شَكُوْرًا (۱)
"تو کیا مجھے اس کی بارگاہ میں شکر گزار بندہ نہ ہونا چاہیے؟"
جبکہ اس نے مجھ پر کرم فرمایا، مژدۂ بخشش سنایا، تو کیا تم یہ چاہتی ہو کہ میں عبادت و شکر بھی نہ کروں اور اپنی استطاعت و قوت کے موافق استقبالِ نعمت بھی نہ کروں۔
۱۔ اسے امام ترمذی نے "الشمائل المحمدیہ" میں حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا ہے، راوی کہتے ہیں: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ حَتّٰی انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ فَقِیْلَ لَهٗ: اَتَتَكَلَّفُ هٰذَا وَقَدْ غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ؟ قَالَ: اَفَلَا اَكُوْنُ عَبْدًا شَكُوْرًا۔ اسے امام مسلم نے اپنی "صحیح" کی کتاب المنافقین (۱۳۱/۸، حدیث نمبر ۲۸۱۹) میں اور امام بخاری نے اپنی صحیح (۱۴۹/۱) کی کتاب "التہجد و التفسیر" میں روایت کیا ہے، اور امام عسقلانی نے اسے "فتح الباری" میں عطا عن عائشہ رضی اللہ عنہا کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ابو الشیخ ابن حبان نے اسے کتاب اخلاق رسول اللہ ﷺ میں ذکر کیا ہے اور انہی کے طریق سے ابن جوزی نے الوفاء باحوال المصطفیٰ ﷺ میں ذکر کیا ہے۔ اس روایت کی سند میں ابو جناب نامی ایک راوی ہے جسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے اور اسی کو ابن حبان نے اپنی "صحیح" میں عبد المالک کی سند سے روایت کیا ہے اور اسی طرح امام عراقی نے "تخریج احیاء علوم الدین" میں کہا ہے۔
صفحہ۲۲۳
یہی وجہ ہے کہ حضور سرورِ عالم ﷺ نے لیلۃ المعراج میں پچاس نمازیں قبول فرما لیں اور وہ حضور ﷺ کو قطعاً گراں نہ گزریں، حتیٰ کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے عرض کرنے سے حضور ﷺ محض امت کی خاطر واپس تشریف لے گئے اور پچاس کی، پانچ نمازیں کرالائے۔ اس لیے کہ اس ہستیِ مقدس کی طبعِ مقدسہ فرمانِ محبوب کے ساتھ کسی مخالفت کی روادار نہ تھی:
لِاَنَّ الْمَحَبَّةَ هِیَ الْمُوَافَقَةُ۔
"اس لیے کہ محبت نام ہی موافقتِ محبوب کا ہے۔"
حضرت فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
"دنیا بیمار خانہ ہے اور لوگ اس میں پاگلوں کی طرح آباد ہیں اور ظاہر ہے کہ پاگلوں کے لیے زنجیر و قید ہوتی ہیں تو ہماری خواہشاتِ نفسانیہ ہمارے لیے بیڑیاں ہیں اور ہماری معصیت شعاریاں ہماری قید۔"
حضرت فضل بن ربیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ہارون رشید کے ہمراہ مکہ معظمہ میں تھا۔ جب حج کیا تو مجھے کہنے لگے اس جگہ مردانِ خدا میں سے کوئی خدا کا بندہ ہو تو اس کی زیارت کریں۔ میں نے عرض کی: ہاں! حضرت عبد الرزاق صنعانی رحمۃ اللہ علیہ اس جگہ ہیں۔ ہارون رشید نے کہا: چلو مجھے ان کی خدمت میں لے چلو۔ ہم ان کے پاس پہنچے اور تھوڑی دیر باتیں ہوتی رہیں۔ جب رخصت ہونے لگے تو ہارون رشید نے میرے ذریعہ دریافت کرایا کہ آیا آپ پر کچھ قرض ہے؟ تو فرمائیں تاکہ ادا کر دیا جائے۔ آپ نے فرمایا: ہاں کچھ مقروض ہوں۔ مختصر یہ کہ بحکم ہارون رشید وہ قرض ادا کر دیا گیا۔ جب باہر آ گئے تو ہارون نے مجھ سے کہا: فضل! ابھی میرا دل کسی، ان سے زیادہ رفیع الشان مقربِ بارگاہ کی زیارت کا متقاضی ہے۔ میں نے کہا حضرت سفیان بن عیینہ بھی یہاں ہیں۔ ہارون نے کہا چلو۔ چنانچہ وہاں پہنچے، تھوڑی دیر فیضِ صحبت سے مستفید ہو کر رخصت ہونے لگے اور حسبِ سابق میرے ذریعہ یہاں بھی سوالِ قرض داری کا کیا گیا۔ آپ نے بھی اپنا مقروض ہونا ظاہر کیا اور بموجب حکمِ شاہی وہ ادا کر دیا گیا۔ باہر آ کر ہارون مجھ سے کہنے لگے: فضل! ابھی میرے دل کا مقصد حل نہیں ہوا کہ اچانک مجھے یاد آ گیا کہ فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ بھی یہاں ہی ہیں۔ میں ہارون کو ان کی خدمت میں لے گیا۔ آپ بالا خانہ کے حجرہ میں تلاوتِ قرآن فرما
صفحہ۲۲۴
رہے تھے۔ ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ نے اندر سے دریافت فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا امیر المومنین ہیں۔ فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے جواب سن کر فرمایا: مجھ سے اور امیر المومنین سے کیا تعلق؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! حضور ﷺ کی حدیث ہے جس میں ارشاد ہے:
اس رضا کے اہل کے نزدیک تو میری ذلت دیکھ رہا ہے، اور میں ربِّ جل و تعالیٰ کے حکم کے آگے راضی ہو کر ہمیشہ کی عزت پاتا ہوں۔ پھر آپ نیچے تشریف لائے اور دروازہ کھول کر چراغ گل فرما دیا اور ایک گوشہ میں حجرہ کے اندر تشریف فرما ہو گئے۔ ہارون اندھیرے میں آپ کو ڈھونڈنے لگے۔ آخر حضرت فضیل پر ہارون کا ہاتھ جا پڑا۔ حضرت فضیل نے فرمایا وہ ہاتھ جس سے زیادہ نرم میں نے نہیں دیکھا، اگر عذابِ الٰہی سے نجات یافتہ ہے تو بہت ہی اچھا ہے۔ ہارون رشید سن کر رو پڑے اور اتنے روئے کہ بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا عرض کی: حضور! مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: اے امیر المومنین! تمہارے باپ حضور ﷺ کے چچا تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ سے درخواست کی تھی کہ مجھے کسی ایک قوم کا امیر بنا دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: چچا! میں نے آپ کے ایک ایک سانس کو آپ کی دنیائے جسم کا امیر بنایا۔ یعنی آپ کا ایک ایک سانس جو اطاعتِ الٰہی میں گزرے وہ مخلوقات کی اطاعت سے تمہارے لیے بہتر ہے۔ لِاَنَّ الْاِمَارَةَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ النَّدَامَةُ۔ "اس لیے کہ امارت سے قیامت کے روز ندامت کچھ حاصل نہیں۔"
ہارون عرض کرنے لگے: حضور! کچھ اور بھی فرمائیں۔ حضرت فضیل نے فرمایا: جب عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کو مسندِ خلافت پر متمکن کیا تو آپ نے حضرت سالم بن عبد اللہ اور رجاء بن حیوۃ اور محمد بن کعب القرظی رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بلا کر عرض کی کہ میں اس بلا میں مبتلا ہو گیا ہوں، اب بتایئے ان بلاؤں کا علاج میرے لیے کیا ہے؟ میں در حقیقت اس منصب کو بلا سمجھتا ہوں اگرچہ عوام اسے نعمت جانیں۔ ان حضرات میں ایک صاحب فرمانے لگے کہ امیر المومنین! اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ کل روزِ قیامت عذاب سے مامون رہیں تو ہماری اس نصیحت پر عمل پیرا ہو جائیں:
(۱) معمر مسلمانوں کو باپ کی طرح بانگاہِ عزت دیکھو۔
صفحہ۲۲۵
(۲) جوان مسلمان کو مثلِ بھائی کے برتو۔ (۳) مسلمانوں کے بچوں کو بیٹوں کی طرح سمجھو۔
پھر انہیں باپ، بھائی، بیٹوں کی طرح سمجھنا ہی کافی نہیں بلکہ ان کے ساتھ معاملہ بھی باپ، بیٹوں، بھائیوں کا سا رہے۔ پھر یقیناً دیارِ اسلامیہ گھر کی طرح ہوں گے اور اہل و عیال کا سا برتاؤ تیرے ساتھ رہے گا۔ اور بموجبِ حکمِ حدیث نبی کریم ﷺ آپ کی حکومت قائم ہوگی جیسا کہ ارشاد ہے:
"اپنے باپ کی زیارت کر اور بھائی کے ساتھ احترام سے پیش آ اور اولاد کے ساتھ نیک برتاؤ کر۔"
پھر حضرت فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ نے ہارون کو فرمایا: امیر المومنین! مجھے خوف ہے کہ یہ آپ کا حسین رُخِ زیبا کہیں دوزخ کی آگ میں نہ جھلسے۔ لہٰذا آپ سب سے زیادہ خوفِ الٰہی رکھیں اور اس کے احکام کے حقوق اس وقت سے زیادہ بہترین صورت میں ادا کریں۔ اس کے بعد امیر المومنین ہارون رشید نے عرض کی: حضرت! آپ پر کچھ قرضہ تو نہیں؟ حضرت فضیل نے فرمایا: ہاں قرضہ ہے مگر وہ تیرے ادا کرنے کا نہیں۔ مجھ پر اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی پیروی کا قرضہ ہے۔ اگر اس قرضہ میں وہ مجھے پکڑ لے تو مجھے افسوس ہی افسوس ہے۔ ہارون رشید عرض کرنے لگے: حضرت! میں تو لوگوں کے قرض کے متعلق استفسار کر رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا اللہ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس کی طرف سے مجھے بے حد نعمتیں مل رہی ہیں، مجھے ہرگز اپنے رزاقِ حقیقی کا شکوہ نہیں جو میں بندوں سے کرتا رہوں۔
ہارون رشید نے ہزار دینار پیش کیے اور عرض کی یہ قبول فرمائیں اور اپنی ضرورتوں میں صرف کریں۔ حضرت فضیل فرمانے لگے: امیر المومنین! میری کوئی نصیحت تم پر کارگر نہ ہوئی اور ابھی سے ظلم و جور اور ریاکاری شروع کر دی۔ ہارون کہنے لگے: حضور! میں نے کیا ظلم کیا؟ فرمایا: میں نے تجھے نجات کی طرف بلانا چاہا، تو نے مجھے بلا میں پھانسنے کا ارادہ کیا، یہ ظلم نہیں تو کیا ہے۔
مختصر یہ کہ ہارون اور فضیل رحمہما اللہ دونوں روتے ہوئے رخصت ہوئے۔ حضرت فضل بن ربیع فرماتے ہیں کہ باہر آ کر ہارون نے مجھ سے کہا: اے فضل! فرشتہ خصلت صوفی اگر ہے تو یہ ہے۔ یہ شانِ بے نیازی اور یہ رعب و داب ان کے کمالِ ولایت کی دلیل ہیں۔ ان کی نظر میں دنیا اور اہلِ دنیا ہی جو حقارت ہے اس کی نظیر وہی حضرت فضیل ہیں اور زینتِ دنیا سے منافرت اور
صفحہ۲۲۶
اہلِ دنیا کی تواضع سے بے پرواہی جو میں نے ان میں پائی اس کی مثال بھی یہی خود ہیں۔
علاوہ ازیں حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے بہت سے مناقب و پاک حالات ہیں، مگر یہاں مختصراً اسی پر اکتفا کیا گیا۔
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سفینۃ التحقیق و کرامت، شمشیرِ شرف و ولایت ابو الفیض حضرت ذوالنون بن ابراہیم مصری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ نہایت خوش خلق تھے، آپ کو "ثوبان" کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ خاندانی حیثیت سے عالی اور اہلِ طریقت میں عارف اور صوفیِ کامل مانے گئے ہیں۔ آپ طریقۂ ملامتیہ پر تھے۔ اسی وجہ سے اہلِ مصر کی نظروں سے آپ کے مناصبِ عالی مخفی رہے۔
کوئی آپ کو بری نظر سے دیکھتا، کوئی معمولی آدمی سمجھتا۔ غرضیکہ جب تک آپ مصر میں رہے کسی نے آپ کے حالِ باطن اور جمالِ ایمانی کو نہ پہچانا۔ جب آپ کی رحلت ہوئی اور جس رات دنیا سے کوچ فرمایا تو شہر کے ستر آدمیوں نے حضور ﷺ کی خواب میں زیارت کی اور یہ فرماتے سنا کہ: "اللہ کا دوست ذوالنون مصری آ رہا ہے، ہم اس کے استقبال کو آئے ہیں۔"
جب وفات ہو گئی تو آپ کی پیشانی پر بخطِ جلی لکھا ہوا پایا:
"یہ خدا کا محبوب ہے۔ اللہ کی محبت میں وفات پائی، یہ قتیلِ اللہ ہے۔"
جب آپ کا جنازہ اٹھایا گیا تو مرغانِ ہوائی آپ کے جنازہ پر اس طرح چھا گئے کہ پر سے پر ملا کر مثلِ ابر، سایہ کناں تھے۔ اہالیانِ مصر نے جب آپ کا یہ درجۂ رفیع دیکھا تو پچھتائے اور جو لوگ آپ کو بری نظر سے دیکھتے تھے تائب ہوئے۔
آپ کی تعلیمات اور حقائقِ علوم میں کافی نہایت نفیس بیانات موجود ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
"ہر روز عارفِ کامل خاشع و ترساں رہتا ہے اس لیے کہ اس کی ہر ساعت تقرب مرتبۂ قرب میں قریب تر ہوتی ہے۔"
اور ظاہر ہے کہ جو شخص بارگاہ میں قریب تر ہوتا جائے گا لا محالہ شیونِ جبروتی کا تحیر بڑھتا رہے گا اور جتنا تحیر ترقی افزاء ہوگا، خشوع و خضوع ترقی کرے گا اور جلالِ حق اس پر اور اس کے دل پر مستولی ہوتا جائے گا۔
صفحہ۲۲۷
تو پھر وہ اپنے کو اتنا اجنبی اور بعید دیکھتا ہے کہ آرزوئے وصل بھی فنا ہو جاتی ہے اور خشوع پر خشوع زیادہ ہونے لگ جاتا ہے۔ چنانچہ موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام نے بحالتِ مکالمہ جنابِ باری سے عرض کیا:
"الٰہی! میں تجھے کہاں تلاش کروں؟ فرمانِ الٰہی ہوا: ٹوٹے دلوں میں۔" اور ان میں جو قیدِ عشق سے اپنے کو مایوس کر چکے ہیں۔ ☆
موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: الٰہی! مجھے میرے دل سے زیادہ کوئی نا امید تر اور شکستہ نظر نہیں آتا۔ تو ارشادِ باری ہوا کہ موسیٰ! پھر میں وہیں ہوں جہاں تو ہے۔ خلاصہ یہ نکلا کہ جس میں ترس و خشوع نہیں اس کا دعویٔ عرفان جہالت خالص ہے، اسے عارف نہیں کہہ سکتے۔
اس لیے کہ حقیقتِ معرفت کے لیے علاماتِ صدق، ارادت لازمی ہے اور ارادتِ صادق بندۂ کامل کے اسباب و انساب کو قطع کرنے کی طرف آمادہ کرتی ہے۔ اسے سوائے اپنے ربِّ جل مجدہ کے کسی سے تعلق و نسبت نہیں رہتی۔ جیسا کہ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
"سچائی ایسی شمشیرِ الٰہی ہے کہ روئے زمین پر کوئی چیز اس کے سامنے نہیں ہوتی مگر اسے کاٹ دیتی ہے۔"
اور صدق رویتِ مسبب کی طرف ہے نہ کہ اسباب سببی کی طرف اور جب سبب ثابت ہو گیا، حکمِ صدق ساقط ہو گیا۔ ایک حکایت میں ہے کہ حضرت ذوالنون رحمۃ اللہ علیہ اپنے یارانِ طریقت کے ساتھ کشتی میں تشریف فرما تھے اور رودِ نیل کی سیر میں مشغول تھے جیسا کہ اہلِ مصر کی عادت ہے، کہ اچانک ایک اور کشتی آئی جس میں ایک جماعت اہلِ طرب و نشاط کی بیٹھی تھی اور باہم جھگڑے فساد کی باتیں کرتے جا رہے تھے۔ حضرت ذوالنون رحمۃ اللہ علیہ کے ہمنشیں شاگردوں کو ان سے سخت نفرت پیدا ہوئی، حتیٰ کہ آپ کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ حضور! ان کے لیے بددعا فرمائیں کہ یہ سب غرقِ دریا ہو جائیں تاکہ مخلوق سے ان کی شومی و بدچلنی منقطع ہو جائے۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ کھڑے ہوئے اور دستِ دعا دراز فرما کر عرض کی: الٰہی! جس طرح اس گروہ کو دنیا کے عیش عطا فرمائے ہیں اسی طرح انہیں اس جہاں کا عیش بھی عطا فرما دے۔ یہ سن کر مریدانِ خاص متعجب ہوئے، جب ان اوباشوں کی کشتی آپ کے قریب آئی اور ان
☆ بقول شاعر: مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا ۔ اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
صفحہ۲۲۸
کی نگاہیں حضرت ذوالنون رحمۃ اللہ علیہ پر پڑیں، یک لخت سب رونے لگے اور اپنے عود اور تمام ساز توڑ کر توبہ کرتے ہوئے رجوع الی اللہ میں متوجہ ہو گئے۔
آپ نے اپنے خواص کو فرمایا: تم دیکھ رہے ہو اس جہان کا عیش، اس جہان کے عیش سے توبہ کرنے میں تھا، دیکھا! دونوں کی مراد حاصل ہو گئی اور اس طرح مراد ملی کہ کسی کو رنج نہ ہوا۔ یہ فرمانِ مسلمانوں پر اس مردِ خدا کی شفقتِ خاص کے ماتحت تھا اور اس میں حضور سید یوم النشور ﷺ کی اقتداء بھی تھی کہ کفار نے جس قدر ظلم و تعدی میں زیادتی کی، حضور ﷺ کی شانِ رحمت اتنی ہی بڑھتی گئی اور ان کے مظالم سے شانِ رحمت میں تغیر نہ آیا بلکہ فرمایا:
"الٰہی! اس قوم کو راہِ ہدایت دکھا دے، یہ نادان ہیں۔"
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس سے مصر آ رہا تھا۔ راستہ میں ایک شخص کو دیکھا کہ دور سے آ رہا ہے۔ میں نے دل میں سوچا کہ اس سے کچھ باتیں کی جائیں۔ چنانچہ جب وہ قریب آیا تو میں نے دیکھا وہ مرد نہیں ہے بلکہ ایک بڑھیا معمر ہے، ہاتھ میں لکڑی ہے اور پشمینہ کا جبہ زیبِ تن ہے۔ میں نے کہا: مِنْ اَیْنَ؟ "آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟" فَقَالَتْ: مِنَ اللّٰهِ۔ "فرمایا: اللہ کی طرف سے۔" قُلْتُ: اِلٰی اَیْنَ؟ "میں نے کہا کدھر تشریف لائے جا رہی ہیں؟" فَقَالَتْ: اِلَی اللّٰهِ۔ "فرمایا: اللہ کی طرف۔" میرے پاس کچھ دینار تھے۔ میں نے نکال کر پیش کرنے چاہے کہ اشارے سے مجھے روک دیا اور فرمایا کہ "ذوالنون! تیرا وہم جو میری طرف سے تیرے دل میں پیدا ہوا یہ تیری عقل کے ضعف کے بنا پر ہے۔ میں جو کام کرتی ہوں اللہ کے لیے کرتی ہوں اور سوائے اپنے ربّ کے کسی سے کچھ نہیں لیتی۔ اس لیے کہ میں سوائے اس کے کسی کی پرستار نہیں، تو جس کی پرستار ہوں اسی سے جو لینا ہو وہ لیتی ہوں۔" یہ فرمایا اور مجھ سے علیحدہ ہو کر چل دیں۔ اسی واقعہ میں ایک عجیب و غریب رمزِ لطیف ہے کہ
۱۔ اسے امام مسلم نے اپنی "صحیح" (۲۳/۸) کی "کتاب البر والصلة والآداب" میں، امام بخاری نے "الادب المفرد" (ص: ۱۱۹) میں، قاضی عیاض نے "الشفاء" (۱۳۷/۱) میں، ابن سید الناس نے "عیون الاثر" (۱۱/۲) میں، ابن جوزی نے "الوفاء" (۹/۲، ۴۳۳) میں، امام غزالی نے "احیاء علوم الدین" (۱۳/۲) میں اور امام زرقانی نے "شرح المواہب اللدنیہ" (۲۵۱/۴) میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے:
(حاشیے کے حوالہ نمبر اسکین میں دھندلے ہیں، اس لیے صفحہ نمبر تقریباً لکھے ہیں۔)
صفحہ۲۲۹
اس لیے کہ لوگوں کے عمل دو صورت پر ہوتے ہیں: ایک تو وہ جو اپنا ہر کام صرف اللہ کے لیے کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہم نے یہ کام خالص اللہ کے لیے کیا ہے، لیکن باوجود اس کے کہ وہ خالصتاً لوجہ اللہ کرتے ہیں مگر پھر بھی وہ اپنے لیے کرتے ہیں اگرچہ ان کی ہوائے نفسانی اور خواہش ان سے منقطع ہوتی ہے مگر آخر وہ جو عمل کر رہے ہیں اس میں حرصِ ثوابِ آخرت اور جزائے جنت کا لالچ ضرور ہوتا ہے۔ دوسرے وہ ہیں کہ عمل کرتے ہیں مگر ثواب و عتابِ آخرت اور ریا و سمعۂ دنیا دونوں سے علیحدہ ہو کر محض تعمیلِ حکمِ محبوب کے لیے کرتے ہیں اور حقیقتاً محبتِ حق تعالیٰ اس کی متقاضی ہے کہ اپنے حقوق سے بھی علیحدہ ہو کر فرمانِ محبوب کی تعمیلِ حکم اور تعظیم میں جھک جائے۔
پہلی جماعت کے خیال میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ جو کچھ آخرت کے لیے کیا جائے وہ خالص اللہ کے لیے ہے اور انہوں نے یہی سمجھ رکھا ہے کہ اطاعت کرنے سے مطیع کو جو بے حد و کراں حصہ ملے گا وہ دنیا کی اس مصیبت سے بہتر ہے جس میں اس دنیا کے اندر راحت اور تھوڑی دیر لطف حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے اطاعتِ الٰہی کے بدلہ جو راحتِ ابدی ملے گی وہ ہمیشہ کے لیے ہو گی۔ اور ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کو ہمارے اعمال و عبادات و ریاضات و مجاہدات سے کیا فائدہ ہے اور اعمالِ صالحہ ترک کرنے سے کیا نقصان!! اگر تمام عالم صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ حاصل کرے تو اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے اور کذب و فرعونی اختیار کرے تو اس کی ذاتِ ستودہ صفات کا کیا نقصان!! سوا اس کے کہ اپنی جان پر ظلم ہوگا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
"جس نے کوشش کی تو یقیناً اس نے اپنے لیے کوشش کی، بیشک اللہ تمام عالم سے بے نیاز ہے۔"
لوگ ملکِ ابدی اپنے لیے چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ خالص اللہ کے لیے کر رہے ہیں۔ یاد رکھو! محبتِ الٰہی میں طریقِ محبت اختیار کرنا، یہ بالکل علیحدہ چیز ہے۔ دوست دوست کے حکم کی تعمیل اس غرض سے نہیں کیا کرتا کہ اس کا معاوضہ ملنے کی امید رکھے بلکہ اس
۱۔ سورۃ الاسراء: ۷ ۲۔ سورۃ العنکبوت: ۶
صفحہ۲۳۰
کا مقصد اس تعمیل میں صرف اور صرف دوست کے حکم کی ادائیگی اور اس کی خوشنودگی مرکوز ہوتی ہے۔ اس کی نظر کسی اور چیز پر نہیں جاتی۔ یہاں صرف اتنا ہی کافی ہے، خدا نے چاہا تو اس کی تفصیل بابِ اخلاص میں بیان ہوگی۔
حضرت ابراہیم ادہم رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے امیر امراء، سالکِ طریق، لقاء ابو اسحاق حضرت ابراہیم بن ادہم بن منصور رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اپنے زمانہ کے یگانہ عارفِ طریقت اور سیرا قران گزرے ہیں۔ آپ کی بیعت حضرت خضر علی نبینا و علیہ السلام سے تھی۔ آپ نے بہت سے قدماء مشائخ کو دیکھا اور حضرت امام ہمام حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ النعمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہ کر تحصیلِ علم فرمایا۔ ابتدائی دور میں آپ امیرِ بلخ تھے۔ ایک دن آپ شکار کو گئے اور اتفاقاً لشکر سے بچھڑ گئے اور ایک ہرن کے پیچھے لگ گئے۔
اللہ تعالیٰ نے اس ہرن کو قوتِ ناطقہ عطا فرمائی۔ اس نے بزبانِ فصیح حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کو مخاطب کر کے کہا:
اَلِهٰذَا خُلِقْتَ اَوْ بِهٰذَا اُمِرْتَ؟
"کیا اسی لیے تم پیدا کیے گئے تھے یا اسی کام کا تمہیں حکم ملا ہے؟"
یہ سنتے ہی آپ کے دل میں خیال آیا اور توبہ فرما کر سب سے ہاتھ اٹھا لیا اور زہد و ورع کے پابند ہو گئے۔ پھر حضرت فضیل ابن عیاض رضی اللہ عنہ اور حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ سے ملے۔ ان کی صحبت میں رہ کر مستفید ہوئے اور توبہ کے بعد آپ نے اپنی محنت کی آمدنی کے سوا بیت المال وغیرہ کسی ذریعہ کو ذریعۂ معاش نہ بنایا۔ آپ کی عملی شان اظہر من الشمس ہے اور آپ کی کرامات بے حد مشہور ہیں۔ فنِ تصوف میں آپ کے بڑے بڑے لطیف و بدیع اقوالِ نفیسہ منقول ہیں۔ چنانچہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ آپ کی توصیف میں فرماتے ہیں:
"اللہ جل شانہٗ کو اپنا یار پکڑ اور لوگوں کو ایک طرف چھوڑ۔"
اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ جب بندہ کا رجوع حق تعالیٰ درست ہو تو وہ محبتِ الٰہی
صفحہ۲۳۱
میں مخلص بنتا ہے اور مخلصانہ رجوع الی اللہ اس امر کا متقاضی ہے کہ ماسوائے اللہ سے اعراض و انحراف کر لے، اس لیے کہ محبتِ خلق کو معاملۂ الٰہی سے کوئی سروکار نہیں اور صحبتِ الٰہی اگر صحیح طور پر قبول کر لی جائے تو پھر مخلصِ حق تعالیٰ ایسا ہو جاتا ہے کہ فرمانِ الٰہیہ کے پورے کرنے اور اطاعتِ الٰہی میں نگونسار رہنے میں اخلاص کے سوا اور کچھ نہیں رہا اور ظاہر ہے کہ خلوصِ عینِ محبت ہے اور خلوصِ محبتِ حق جب ہی پیدا ہو سکتا ہے جب نفسِ امارہ سے دشمنی ہو جائے، تو نفسِ امارہ کے دشمن سے حرص و ہوس کی تمام بھیڑ بھاڑ دور ہو جاتی ہے اس لیے کہ جو ہوا و حرص کا آشنا و پابند ہے وہ یقیناً خدا سے جدا ہے اور جو شاخِ ہوس کو کاٹ چکا، وہ اپنے ربّ کی خلوتِ خاص میں آ رمیدہ ہو گیا۔
تو در حقیقت وجودِ انسان ہی اپنے حق میں دنیا ہے۔ جب انسان اپنے وجود سے اعراض کرے تو گویا اس نے مخلوقات سے اعراض کر لیا اور جس نے اپنے وجود کی طرف توجہ کی تو گویا مخلوق کی طرف متوجہ ہوا اور یہی وہ جفا ہے جو اس نے اپنے اوپر کی اور یہ بھی مسلم امر ہے کہ تمام مخلوقات جس حال میں ہے بحکمِ قضا و قدر صحیح ہے مگر ہر انسان کو اپنے سے کام ہے اور ہر انسان مخلوق ہے۔
تو بناءِ استقامت ظاہر و باطنی، طالب کے لیے دو چیزوں پر ہے: ایک اس امر پر کہ اپنے کو پہچانے اور جانے یعنی علم حاصل کرے، دوسرے وہ عمل جو کر رہا ہے اسے سمجھے، اس کا تعلق رؤیتِ لوحِ تقدیر پر ہے۔ اس میں ترکِ فرمانِ حق کو حجت ماتحتِ تقدیر نہیں بنایا جا سکتا۔
اس لیے اعراضِ مخلوقات سے اس وقت تک صحیح نہیں ہوگا جب تک خود اس کی جانب سے ارادتاً اعراض نہ ہو۔ تو جب خود اپنے ارادہ سے اعراضِ مخلوقات سے کر لیا تو سب کچھ مرادیں اپنے ربّ سے پائے گا اور جب حقِ تعالیٰ شانہٗ کی طرف رجوع ہوا، تو گویا اقامتِ امرِ حق کے لیے خود آیا۔ اب مخلوقات سے آرام حاصل کرنے کی کوئی صورت تیرے پاس نہ رہے گی تو جو چیز بھی سوائے حق جل علا شانہٗ کے کسی غیر سے چاہے گا تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ غیر اللہ سے آرام جان طلب کر رہا ہے اور بغیر رؤیتِ توحید ہوگا اور آرام اپنی ذات سے حاصل کرنا اثباتِ تعطل ہے۔
حضرت شیخ ابو الحسن سالبہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مرید کا بلی کی طرح رہنا، اس سے بہتر ہے کہ اپنے اختیارات میں رہے۔ اس لیے کہ محبت یا غیرِ خدا کے لیے ہے اور صحبت باخود، حرص و ہوا کے پا لینے کے لیے۔ اب اس بحث کو ہم اسی کتاب میں کسی اور جگہ مفصل بیان کریں گے۔
حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کی ایک حکایت ہے جو فرماتے ہیں کہ جب میں جنگل میں گیا ایک ضعیف العمر بزرگ صورت سے ملا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا: اے ابراہیم! تمہیں معلوم ہے یہ کون سی جگہ ہے تم بغیر زاد و راہ کے جا رہے ہو؟ میں اسے سمجھ گیا کہ یہ ضعیف العمر بزرگ نہیں
صفحہ۲۳۲
بلکہ شیطان ہے۔ میری جیب میں چار درم نقرئی پڑے تھے جو میں نے کوفہ میں زنبیل بیچ کر جیب میں ڈال لیے تھے۔ میں نے انہیں نکال کر پھینک دیا اور عہد کیا کہ ہر میل پر چار سو رکعت نفل پڑھوں گا۔ چار سال متواتر صحرا نوردی میں رہا۔ میرا رزاقِ مطلق بلا کسی تکلیف کے مجھے روزی پہنچا تا رہا۔ اسی اثناء میں حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔ ان کے فیضِ صحبت میں میں نے ان سے اللہ کا نام سیکھا۔ بس اس کے بعد سے میرا دل ماسوائے اللہ سے قطعاً فارغ ہو گیا۔ علاوہ ازیں آپ کے بہت سے مناقب ہیں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سریرِ معرفت کے تاج، اہلِ معاملت حضرت بشر بن الحارث الحافی رضی اللہ عنہ ہیں۔ مجاہدات و ریاضات میں بڑی بلند شان والے ہیں۔ اعمال و اخلاص میں حظِّ تام رکھتے ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے خاص صحبت یافتہ لوگوں میں سے تھے۔ وہ اپنے ماموں حضرت علی بن خشرم رضی اللہ عنہ کے مرید تھے۔ علمِ اصول و فروع کے بڑے جیّد عالم گزرے ہیں۔ آپ کی توبہ کا ذکر یوں ہے کہ ایک روز آپ مست شراب ہوئے جا رہے تھے۔ راستہ میں ایک کاغذ کا ٹکڑا ملا۔ اسے تعظیم کے ساتھ آپ نے اٹھا لیا۔ اسے پڑھا تو لکھا ہوا تھا: "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ"۔ آپ نے اسے عطر لگا کر پاک مقام پر رکھ دیا۔
اسی رات خواب میں جمالِ الٰہی سے مشرف ہوئے اور یہ بشارت سنی:
"اے بشر! تو نے میرے نام کو خوشبو کیا، میری عزت و جلال کی قسم! میں تیرے نام کی مہک دنیا و آخرت میں پھیلاؤں گا۔"
حتیٰ کہ کوئی تیرا نام نہ سنے گا مگر نام سن کر اسے راحتِ دلی ملے گی۔ آپ نے اپنی آزاد روش سے اسی وقت توبہ کر لی اور زہد و تقویٰ کا طریقہ مضبوط تھام لیا اور مشاہدۂ جمالِ یار میں اتنے محو ہو گئے کہ غایتِ استغراق میں جوتی بھی نہ پہنتے، اسی وجہ سے آپ "حافی" کہلاتے ہیں (حافی "ننگے پیر" کو کہتے ہیں)۔ لوگوں نے پوچھا آپ نے جوتی پہننا کیوں ترک کر دی؟ فرمایا: زمین میرے محبوب کا بنایا ہوا فرش ہے، میں جائز نہیں سمجھتا کہ محبوب کے بچھائے ہوئے فرش سے اپنے پیروں کو علیحدہ کروں اور میرے پیر اور اس کی بساط میں کوئی واسطہ رکھوں۔
یہ بات آپ کے غرائب معاملات میں سے ہے کہ ان کے نظر و خیال میں پاؤں اور زمین کے مابین جوتی حجاب تھی۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
(صفحہ 232 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آپ کا قول اگلے صفحہ 233 پر ہے۔)
"جو چاہے کہ دنیا میں عزت دار رہے اور آخرت میں شریف، تو اسے چاہیے کہ تین باتوں سے مجتنب رہے:
(۱) مخلوقات میں سے کسی سے اپنی حاجت روائی نہ چاہے۔ (۲) کسی کا ذکر برائی کے ساتھ نہ کرے۔ (۳) اور کسی کا مہمان نہ بنے۔"
اس لیے کہ جو اپنے ربّ کے دروازہ کو جانتا ہے، اسے مخلوق کے سامنے حاجت لے جانے کی کیوں حاجت ہو؟ اور یہ حقیقت ہے کہ وہاب مطلق کے در کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف وہی دستِ سوال دراز کرے گا جسے کیفِ عرفانِ حق حاصل نہ ہوا ہو اور جبکہ یقینِ قلب کے ساتھ وہ جان چکا کہ قاضی الحاجات تمام عالم کا وہی جمیلِ حقیقی ہے تو جس غیر سے حاجت روائی چاہے گا وہ اپنے جیسے سے حاجت روائی چاہنا ہوگا۔
"اس لیے کہ طلبِ اعانت مخلوق کی مخلوق سے ایسے ہے جیسے ایک قیدی اپنے ساتھ کے قیدی سے اعانت چاہے۔" (۱)
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے فلکِ معرفت، فلکِ محبت ابو یزید طیفور بن علی بسطامی رضی اللہ عنہ ہیں۔
۱۔ (حاشیہ) حضرت بشر حافی کے اس قول پر جو ذکر ہوا، عارف باللہ فانی فی اللہ حضرت خواجہ عالم مخدوم علی بن عثمان الجلابی رحمۃ اللہ نے جو تحریر فرمایا ہے، ان کے مرتبہ اور شان کے لیے یہی شایان ہے۔ لیکن اس سے کوئی زبانی توحید کا بیان یہ نہ سمجھ لے کہ یہ شان "ہر ایرا غیرا نتھو خیرا" کی ہے، بلکہ یہ مرتبہ ان پاک ہستیوں کا ہے جو مشاہدۂ جمالِ یار میں ہر آن مستغرق رہنے والے ہیں۔ عوام کے لیے تو قرآنِ پاک: "وَابْتَغُوْٓا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ" فرما رہا ہے اور حضور سید یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم "فَلْیُنَادِ اَعِیْنُوْنِیْ یَا عِبَادَ اللّٰهِ" کا حکم دے رہے ہیں۔ لہٰذا اس مضمون سے عوام غلط فہمی میں پڑ کر اپنے کو محروم اعانتِ خاصانِ بارگاہ نہ بنائیں۔ اچھی طرح یاد رکھیں کہ یہ خاصانِ بارگاہ شناور دریائے محبت، غریقِ بحرِ وحدت، سرمستانِ بادۂ عشق و معرفت کی شان کی ترجمانی ہے۔ عوام کا یہ درجہ ہرگز نہیں۔
صفحہ۲۳۴
اجل مشائخ سے گزرے ہیں۔ ان کی کیفیتِ حالیہ اعلیٰ درجہ پر تھی اور ان کی شانِ تصوف بہت بلند مانی گئی ہے، حتیٰ کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"بایزید بسطامی ہم میں ایسے معظم ہیں جیسے جماعتِ ملائکہ میں جبریلِ امین۔"
آپ کے جدِ امجد مجوسی تھے اور بسطام کے معززین میں سے ایک آپ کے والد بھی تھے، اور آپ سے احادیثِ نبی کریم ﷺ میں بہت روایات ہیں اور آپ اپنے بسطام کی آبادی میں فرد الفرید گزرے ہیں اور فنِ تصوف میں آپ کو یکتا عالم مانا گیا ہے اور حقائقِ علم بیان کرنے میں آپ سے زائد دوسرا نظر نہ آیا اور آپ علم کے ساتھ محبت اور شریعتِ مطہرہ کی خاص طور پر تعظیم کرنے والے تھے اور یہ تمام صفات آپ میں حقیقتاً موجود تھیں، یہ نہیں کہ الحاد و زندقہ کی مدد کے لیے زہد و ورع کا محض پردہ ڈال لیا ہو، جیسا کہ اکثر ایسا کر لیتے ہیں۔
بلکہ آپ ابتداء سے مجاہدہ و عملِ صالح میں رہے۔ چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں:
"تیس سال مجاہدہ کرتا رہا، میں نے شدید ترین علم و عمل سے زیادہ کسی چیز کو نہ پایا اور اختلافِ علماء نہ ہوتا تو میں زہد و ورع سے رہ جاتا اور حقِ اطاعتِ دین ادا نہ کر سکتا اور سچ بات یہ ہے کہ اختلافِ علماء رحمت ہے مگر جبکہ توحید میں مجرد ہو جائے تو پھر یہ اختلاف نہیں رہتا۔"
بقولِ شاعر:
چہ کافر چہ مومن چہ گبر و چہ ترسا دو عالم بدو زلف شیدا برآمد (مترجم)
اور حقیقت حال یہ ہے کہ عام طور پر طبیعت علم کے مقابلہ میں جہل کی طرف زیادہ میلان رکھتی ہے اور جہل کا یہ ادنیٰ فائدہ واضح ہے کہ بہت سے کام بغیر کسی فکر کے انسان کر سکتا ہے اور اس علم کا پہلا نتیجہ یہ ہے کہ عالم کا کوئی قدم فکر و غور کے بغیر نہیں اٹھ سکتا اور شریعتِ اسلامیہ کا راستہ اور اس کی پلِ صراطِ اخروی پلِ صراط سے کہیں زیادہ باریک اور پُر خطر ہے۔
تو ایسے ماحول میں انسان کو چاہیے کہ ہر حال میں اس طرح رہے کہ اگر بلند و بالا
صفحہ۲۳۵
مقاماتِ ولایت حاصل کرنے سے عاجز ہو تو میدانِ شریعت میں رہ جائے اور بلندی سے گرے تو ادھر ادھر نہ گرے بلکہ شریعت کے ماحول میں گر کر ٹھہر جائے تاکہ اگر تمام کمالات و مراتبِ تقرب تجھ سے رہ جائیں تو کم از کم تیری عملی کیفیت تو باقی رہے۔ اس لیے کہ مرید کے لیے سب سے سلوک میں بڑی بلا اور آفت ترکِ عمل ہے اور شریعتِ مطہرہ کی اتباع اور اس کے ماتحت معاملہ رکھنے میں مدعیانِ ولایت و کرامت کے تمام دعاوی گم ہو جاتے ہیں اور تمام انسان اپنی لسان سے جو پردہ ڈال کر لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں، برہنہ ہو جاتے ہیں۔
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"عشاق اور اہلِ محبت کے دلوں میں جنت کا کبھی خطرہ بھی نہیں گزرتا، اس لیے کہ وہ اپنے محبوب کے پردۂ محبت میں محجوب ہیں۔"
انہیں اپنے محبوب کے انداز و ناز کے مقابلہ میں کسی دوسرے کی طرف دیکھنے کی مہلت ہی نہیں۔
اور چونکہ بہشت مخلوق ہے، اگرچہ مخلوقات میں بہترین مخلوق سہی مگر محبتِ محبوب، صفتِ محبوب ہے اور صفتِ مخلوق نہیں، تو قدیم کو چھوڑ کر جو مخلوق کی طرف گیا، وہ محروم ہوا۔ تو محبانِ محبوب پردۂ محبت میں روپوش ہیں اس لیے کہ وجودِ محبتِ محبوب، مقتضیِ دوئی ہے اور اصلِ توحید میں دوئی کا وجود ہی نہیں۔ اس لیے محبانِ الٰہی وحدانیت سے دوحانیت کی طرف ہوتے ہیں اور ماسوائے اللہ سے بالکل محجوب۔ اور یہ بھی حقیقۃ الامر ہے کہ طریقۂ محبت میں علتِ محبت بھی محبت ہی ہے۔ اب ایک بڑی آفت جو اس بحث میں ہے وہ یہ کہ دوستی میں ایک مرید اور ایک مراد ضروری ہے تو اب اگر مرید حق ہے تو بندہ مراد ہوگا اور اگر مرادِ حق ہے تو مرید بندہ ہوگا۔
تو ایسی صورت میں جبکہ حق کو مرید اور بندہ کو مراد کہا جائے تو بندہ کا ثابت ہونا لازم ہوگا (جو بالکل باطل ہے) اور اگر حق تعالیٰ مراد اور بندہ مرید قرار دیا جائے تو بھی طلب و ارادتِ مخلوق بجانبِ حق لازم آئے گی۔ اور طریقۂ محبت میں ان تو ہمات کا قطعاً دخل نہیں۔ بہر حال محبت میں آفتِ ہستیِ وجود جب تک ہے اس وقت تک محبت نہیں ہو سکتا۔ محبت، محبت ہی جب کہلائے گا جبکہ اس کے ارادہ اور دعاوی تمام فنا ہو جائیں اور یہی محبت کے لیے بہترین مقام ہے اور محبت در حقیقت وہی ہے جو بقاءِ محبت کے ساتھ فنا ہو جائے۔ حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ ہی سے مروی ہے آپ
صفحہ۲۳۶
نے فرمایا:
"ایک دفعہ میں مکہ معظمہ گیا تو صرف بیت اللہ نظر آیا۔ میں نے کہا حج مقبول نہیں ہوا اس لیے کہ ایسے پتھر میں نے بہت سے دیکھے ہیں۔ دوبارہ جب گیا تو بیت اللہ بھی دیکھا اور ربِّ جل علا صاحبِ بیت کو بھی پایا۔ تو میں نے کہا ابھی حقیقتِ توحید منکشف نہیں ہوئی (اس لیے کہ قدیم کے ساتھ حادث بھی نظر آ رہا ہے)۔
تیسری بار گیا تو تمام کا تمام جلوۂ خداوندی نظر آیا۔ نہ بیت تھا نہ کوہ۔ تو غیب سے ندا آئی: اے بایزید! تو اگر اپنے کو بھی نہ دیکھتا تو خواہ تمام عالم دیکھتا مگر مشرک نہ ہوتا، اور جبکہ تو تمام عالم کو میرے ساتھ نہیں دیکھتا مگر اپنے کو دیکھ رہا ہے، مشرک ہے۔ میں نے فوراً توبہ کی اور توبہ کرنے سے بھی توبہ کی (اس لیے کہ توبہ کرنے والا حادث ہو کر اپنا وجود مانتا ہوا توبہ کرتا ہے) اور اس مقام پر وجود کا اثبات ہی عند الصوفیاء شرکِ خالص ہے۔"
حضرت عبد اللہ بن حارث رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے امامِ فنون، جاسوس ظنون حضرت ابو عبد اللہ حارث بن اسد محاسبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ عالم تھے اور اصول و فروع میں عالم کے علماء آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اپنے زمانہ کے علماء میں ممتاز اور یکتائے زمانہ تھے۔ آپ نے ایک کتاب اصولِ تصوف میں تالیف کی "رعائب" نام رکھا۔ علاوہ اس کے بہت سی تصانیف بڑے بلند فنون میں تصنیف فرمائیں۔ اتنے بلند ہمت تھے کہ بغداد شریف میں اپنے وقت کے شیخ المشائخ مانے گئے۔
"جو حرکاتِ دل عیوب پر واقف و نگران رہے، وہ عملِ ظاہری کرنے والے سے افضل ہے۔"
اس سے مراد یہ ہے کہ علم محلِ کمال ہے اور جہل محلِ طلب اور علمِ بارگاہِ ربّ العزت میں بہتر ہے اور جہل بدتر۔ علم انسان کو درجۂ کمال تک پہنچانے والا ہے اور جہل بارگاہِ الٰہی میں جانے سے روکتا ہے۔
صفحہ۲۳۷
اور خلاصہ تو یہ ہے کہ حقیقتاً علم عمل سے بزرگ ترین ہے، اس لیے علم ہی وہ چشمہ ہے جس کے ذریعہ انسان کو عرفانِ الٰہی حاصل ہوتا ہے اور اگر بحالتِ جہل عمل کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ کو نہیں پا سکتا۔ مصرع:
کہ بے علم نتواں خدا را شناس (از مترجم)
اور پھر واضح طور پر ظاہر ہے کہ اگر عمل بلا علم میں کوئی قوت ہوتی تو نصاریٰ کے رہبان اپنے انتہاءِ زہد اور شدتِ مجاہدے سے مقامِ مشاہدہ پر پہنچ جاتے اور مومن غیبت میں پڑے رہ کر عاصی کے عاصی ہی رہ جاتے۔
یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ عمل بندہ کی صفت ہے اور علم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ بعض راویوں نے ہماری مذکورہ بالا عبارت میں غلطی کی اور انہوں نے علم و عمل کی جگہ عمل ہی نقل کر دیا، یعنی اسی طرح انہوں نے کہا:
حالانکہ یہ محال ہے کہ بندہ کا عمل حرکاتِ دل کے ساتھ ہوا اور اگر اس سے مراد فکر و مراقبہ اور حالاتِ قلبیہ ہوں تو تعجب نہیں اس لیے کہ حضور سید یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
☆ (یہ حکم ایسی ہستیوں کے لیے ہے، عوام اس سے علیحدہ ہیں) یہ ایک لطیف واقعہ حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ کے حال کی ترجمانی کے لیے کافی ہے۔ (از مترجم غفرلہ)
۱۔ (حاشیہ) اسے ابو الشیخ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، جبکہ امام دیلمی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ ذکر کیا ہے اور امام سیوطی نے "اللآلی المصنوعة" میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے: "تَفَكُّرُ سَاعَةٍ خَیْرٌ مِنْ عَمَلِ الدَّهْرِ"۔ امام دیلمی کی ایک روایت میں "ثمانین سنة" (اسی سال) اور دوسری روایت کے مطابق "اَلْفُ سَنَةٍ" (ہزار سال) ہے۔ ملا علی قاری نے "الاسرار المرفوعة" میں کہا ہے کہ اسے امام فاکہانی نے "فکر ساعة" کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حضرت سری سقطی کے کلام سے ماخوذ ہیں۔ جبکہ امام ابن جوزی نے "الموضوعات الکبیر" میں حضرت عثمان بن عبد اللہ القرشی سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ عثمان اور اس کا شیخ دونوں جھوٹے ہیں، اور امام سیوطی نے "اللآلی المصنوعة" میں ان کی گرفت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ عراقی نے "تخریج الاحیاء" میں ان کو ضعیف قرار دینے پر اکتفا کیا ہے حالانکہ اس کی شاہد روایت موجود ہے۔ پھر امام دیلمی کی روایت کو سعید بن میسرہ کی طرف اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ سنے ہیں: "تَفَكُّرُ سَاعَةٍ فِی اخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَةِ اَلْفِ سَنَةٍ"۔ (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر)
صفحہ۲۳۸
"ایک ساعت قدرتِ الٰہیہ کے فکر و مراقبہ میں بیٹھنا ساٹھ ہزار برس کی عبادت سے افضل ہے۔"
لیکن درحقیقت عملِ جوارح کو فکر و مراقبۂ سری سے کوئی نسبت نہیں، اگرچہ وہ یقیناً عملِ سری ہونے کے علاوہ اعمالِ جوارح سے فاضل ترین ہے اور افعالِ باطن سے جو حالات پر اثر ہوتا ہے وہ درحقیقت اعمالِ ظاہر کی تاثیر سے اثر پذیر ہوتا ہے۔
"عالم کا سونا بھی عبادت ہے اور جاہل کی بیداری معصیت۔"
اس لیے کہ خواب و بیداری میں جاہل کا سرّ یعنی قلب مغلوب ہوتا ہے اور جس کا دل مغلوب ہے اس کا جسم بھی یقیناً مغلوب ہے، تو دل کا مغلوبِ حق ہونا حرکاتِ ظاہری اور محنت کے سبب نفسِ امارہ کے غالب ہونے سے بہتر ہے۔
آپ سے ایک روایت ہے کہ ایک روز آپ نے ایک درویش کو فرمایا:
كُنْ لِلّٰهِ وَاِلَّا فَلَا تَكُنْ۔
"تو یا تو اپنے کو ذاتِ واجب کے سپرد کر دے یا فنا ہو جا۔"
یعنی یا حق باقی بن یا از خود فانی ہو یا اس صفت سے متصف ہو، جیسے ربِّ جل مجدہٗ نے فرمایا:
اگر تو حق باقی رہتا ہے تو تیری قیامت تیرے اختیار میں ہوگی اور اگر فنا ہو جائے گا تو باقی بحق رہ کر قیامت بحق کے ساتھ تیرا نشر ہوگا اور اس میں ایک معنی ہیں (جسے رازدانِ راز جمیل جانتے ہیں)۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے معرضِ خلق، طلبِ ریاست سے منقطع حضرت ابو سلیمان داؤد بن نصر طائی رحمۃ اللہ تعالیٰ ہیں۔ کبراء مشائخ سے گزرے ہیں اور اہلِ تصوف میں سید السادات تھے۔ اپنے زمانہ کے بے مثل صوفی اور امام اعظم رضی اللہ عنہ کے شاگردِ رشید ہیں اور حضرت فضیل ابن عیاض و ابراہیم بن ادہم رحمہما اللہ وغیرہ عارفانِ کامل کے ہمعصر گزرے ہیں اور حضرت حبیب ابن سلیم راعی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدِ خاص ہیں۔ آپ علومِ عقلیہ و نقلیہ سے حظِّ وافر ملا اور فنِ فقہ میں "فقیہ الفقہاء" مشہور ہیں۔
حکومت و ریاست چھوڑ کر آپ نے گوشہ نشینی اختیار فرمائی۔ آپ کا زہد و ورع خصوصیت سے مشہور ہے۔ آپ کے مناقب و فضائل بہت زیادہ ہیں اور آپ کی عملی شان خاص طور پر قابلِ ذکر ہے اور بیانِ حقائقِ معرفت میں آپ کامل گزرے ہیں۔
آپ سے مروی ہے کہ آپ نے اپنے مریدانِ خاص میں سے ایک مرید کو فرمایا:
"بیٹے! اگر دنیا کی سلامتی چاہتا ہے تو دنیا سے وداع ہو کر اس سے غائب ہو جا اور اگر کرامتِ آخرت چاہتا ہے تو آخرت پر تکبیرِ مرگ پڑھ لے۔"
یعنی یہ دونوں چیزیں محلِ حجاب ہیں اور تمام فراغتیں دنیا و آخرت کے ترک میں مضمر ہیں۔ اگر کوئی چاہے کہ وجود سے فارغ ہو جائے، اسے کہہ دو کہ دنیا سے اعراض کرے اور جو چاہے کہ دل فارغ ہو اس سے کہہ دو کہ عاقبت کی امیدوں سے اپنا دل علیحدہ کر لے۔
ایک حکایت ہے کہ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ حضرت محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ربط ضبط رکھتے اور حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ قاضیِ اسلام سے ملنا جلنا پسند نہ فرماتے۔ عرض کیا گیا: یہ دونوں علم مانے ہوئے ہیں، پھر ان میں سے ایک کو آپ محبوب رکھتے ہیں اور ایک سے تعلقات ربط نہیں فرماتے۔
آپ نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ محمد بن الحسن نے نعمت ہائے دنیاوی ترک کر دیں اور
صفحہ۲۴۰
منصبِ علم کو پسند فرمایا ہے تو اس کی عزت کا دینی سبب علم ہے اور ذلتِ دنیاوی اس کی نظر میں ہے اور قاضی ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اول سے ایک درویش تارک الدنیا تھے اور ان کی تنگدستی حصولِ علم کی وجہ میں رہی۔ اب ان کی عزت کا سبب اور وجاہت و ثروت کا باعث ان کا علم بنا ہے۔ تو محمد بن حسن ابو یوسف جیسا نہیں۔
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے حضرت داؤد طائی جیسا "مستغنی عن الدنیا" نہیں دیکھا۔ ان کی نظر میں تمام دنیا اور اہلِ دنیا کی کچھ حیثیت ہی نہیں۔ آپ کو حزبِ فقراء بچشمِ کمال دیکھتے تھے اگرچہ آپ دنیاوی بلا میں بھی ہوتے۔ علاوہ اس کے آپ کے بہت سے مناقب ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخِ اہلِ حقائق، منقطع از علائق حضرت ابو الحسن سری بن مغلس السقطی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے ماموں تھے اور تمام علوم میں اعلیٰ دستگاہ رکھتے تھے، بالخصوص فنِ تصوف میں آپ کی شان بہت بلند تھی اور تصوف کی ترتیب، مقامات اور بسط احوال میں سب سے اول جس نے غور و خوض کیا وہ یہی سری سقطی ہیں اور مشائخینِ عراق کا اکثر حصہ آپ کے ہی بیعت سے مشرف ہے۔ آپ نے حضرت حبیب بن سلیم راعی رحمۃ اللہ علیہ کی بھی زیارت کی اور ان کی فیضِ صحبت سے بھی مستفیض ہوئے۔ آپ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے۔ چونکہ آپ بازارِ بغداد میں "سقط فروشی" کیا کرتے تھے (جسے اردو زبان میں "کباڑی" کہتے ہیں) اسی بنا پر آپ کو "سقطی" کہا جاتا ہے۔
آپ کا رجوع الی اللہ کا واقعہ یوں ہے کہ جس بازار میں آپ کباڑی کا کام کرتے تھے اس میں آگ لگ گئی۔ تمام بازار جل کر خاک سیاہ ہو گیا۔ آپ سے کہا گیا کہ حضرت! آپ کی دکان بھی جل گئی ہے۔ آپ نے فرمایا میں دکان اور مال کی قید سے آزاد ہو چکا ہوں۔ جب آ کر لوگوں نے دکان دیکھی کہ تمام بازار میں وہی ایک دکان ہے جو جلنے سے بچی ہوئی تھی اور چاروں طرف کی تمام دکانیں سوختہ تھیں۔ جب آپ نے اپنے حافظِ حقیقی کا یہ کرم دیکھا تو فرطِ مسرت میں تمام سامان و دکان درویشوں کو دے کر طریقۂ تصوف اختیار فرما لیا۔
بعض نے آپ سے پوچھا کہ ابتداءِ عرفان آپ کو کس طرح حاصل ہوا؟ فرمایا: ایک روز حبیب بن سلیم راعی رحمۃ اللہ علیہ کا میری دکان پر گزر ہوا، میں نے اپنے کباڑ خانہ کی بعض شکستہ چیزیں انہیں دیں کہ وہ درویشوں میں تقسیم فرما دیں تو انہوں نے مجھے دعا دی: خَیَّرَكَ اللّٰهُ (اللہ
صفحہ۲۴۱
تجھے اختیار فرمائے)۔ اس روز سے کہ میرے کان میں ان کی دعا کی آواز آئی، میرا دل دنیاوی معاملات سے متنفر ہو گیا۔
"الٰہی! مجھے عذاب دینا ہی منظور ہو تو اپنے جمال کے حجاب کا عذاب مجھ پر نہ فرمانا۔"
اس لیے کہ اگر میں مشاہدۂ جمال سے محجوب نہ ہوا تو پھر کوئی بھی مصیبت و بلا آئے، مجھے آسان ہو گی اور اگر تیرے مشاہدۂ جمال سے محجوب رہ کر معذب ہوا تو ذلتِ حجاب کی وجہ میں تیری نعمتیں بھی میرے لیے موجبِ ہلاکت ہوں گی۔ اور بات بھی ٹھیک ہے کہ مشاہدۂ جمالِ محبوب ہوتے ہوئے جو بلا بھی آئے وہ بلا نہیں ہو سکتی لیکن بغیر مشاہدہ یا نعمت بھی اگر ہو تو بوجۂ حجاب بلاء عظیم ہے۔ اور جہنم میں سب سے اشد ترین جو عذاب ہے وہ حجاب ہے اور اگر جہنم میں جلوۂ ذات کا مشاہدہ رہے تو کسی مومن کو بہشت یاد نہ آئے اس لیے کہ دیدارِ حق کی اس قدر مسرت و فرحت ہوگی کہ بلاءِ تن اور عذابِ جسم کا ہوش ہی نہ رہے گا۔
اور بہشت میں کوئی نعمت جمالِ ذاتِ باری عزّ اسمہٗ سے بڑھ کر نہ ہوگی اگر وہ نعمتیں جو بہشت میں ہیں ان سے سوگنی اور نعمتیں ملیں اور جلوۂ احدیت سے جتنی محجوب ہو جائے تن من دھن سب فنا کر دے اور ہلاک ہو جائے۔
تو سنتِ الٰہیہ یہی ہے کہ اپنے محبوبوں کے قلوب کو اپنے جمال کے مشاہدہ میں بہر حال رکھتا ہے تا کہ مجاہدہ و ریاضت و بلاہائے ترکِ اکل و شرب تمام برداشت کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ عارفانِ کامل کی یہی صدا و دعا ہے کہ ہر عذاب منظور ہے مگر اپنے جمال کے حجاب سے محفوظ رکھ۔ اگر تیرا جمال ہمارے دلوں کی چشمِ حق میں منکشف ہے تو پھر ہمیں کسی بلا و مصیبت کی پرواہ نہیں۔ ☆ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
☆ بقول شخصے: پکارا، دیکھ کر مجھ کو حور کی شکل — خداوندا! یہ صورت نہیں ہے گریباں چاک کر کر باغِ رضواں سے نکل بھاگیں — مزا آیا ہے جن کو آپ کی جلوہ نمائی کا (از مترجم)
حضرت ابو علی شقیق بن ابراہیم ازدی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سرہنگِ اہلِ بلا و بلویٰ، مایۂ زہد و تقویٰ حضرت ابو علی شقیق ابن ابراہیم ازدی رضی اللہ عنہ ہیں۔ بڑے معزز قوم اور مقتدائے ہم چشماں، عالمِ جمیعِ علومِ شرعی و فقہی گزرے ہیں۔ آپ کی بہت سی تصانیف، تصوف اور دیگر علوم میں مشہور ہیں۔ حضرت
صفحہ۲۴۲
ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے ہم صحبت تھے اور بڑے بڑے مشائخِ کرام کی زیارت سے مشرف ہوئے اور ان کے فیضِ صحبت سے مستفیض ہوئے۔
"اللہ تعالیٰ نے اپنے اطاعت کرنے والے کو موت کے اندر بھی زندہ فرمایا ہے اور اہلِ معصیت کو زندگی کے اندر بھی مردہ بنایا ہے۔"
یعنی مطیع اگرچہ مردہ ہو، زندہ ہوتا ہے اس لیے کہ تمام ملائکہ اس کی اطاعت پر آفرین کہتے ہیں جو قیامت کے دن ان کے اجر و ثواب کے لیے مؤید ہوگی تو وہ لوگ فنا مرگ میں باقی بہ بقاء جزا ہوتے ہیں۔
ایک واقعہ ہے کہ ایک ضعیف العمر حضرت ابو علی شقیق رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ حضور! میں سخت گناہ گار ہوں اور توبہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا بڑے میاں بڑی دیر میں توبہ کی طرف رخ کیا!! وہ عرض کرنے لگا: حضور! دیر میں نہیں آیا بلکہ جلدی آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا وہ کیسے؟ عرض کی: حضور! جو مرنے سے قبل توبہ کی طرف آ جائے اگرچہ بظاہر دیر میں آئے، اس کا نام جلدی آنے کے مترادف ہے۔
مشہور ہے کہ حضرت ابو علی شقیق رحمۃ اللہ علیہ کا رجوع الی اللہ بالاخلاص اس طرح ہوا کہ ایک سال بلخ میں قحط پڑا اور اتنا شدید پڑا کہ آدمی آدمی کو کھانے لگ گیا۔ تمام مسلمان غمناک تھے کہ بازار میں ایک غلام آپ نے دیکھا جو نہایت بے فکر اور ہنسی مذاق کر رہا تھا۔ لوگوں نے اسے کہا تُو اتنا بے فکر ہو کر ہنستا پھر رہا ہے تجھے شرم کرنی چاہیے اس لیے کہ مسلمانوں میں تو سخت اضطراب اور غم ہے، تو یہ خوشیاں رچا رہا ہے۔ غلام کہنے لگا بات یہ ہے کہ مجھے اصلاً کسی بات کا غم نہیں اس لیے کہ میں جس کا غلام ہوں وہ جاگیردار ہے اور اس گاؤں کی پیداوار کافی ہے، اس کی فراخدستی نے مجھے بے غم کر رکھا ہے۔
حضرت ابو علی شقیق رحمۃ اللہ علیہ نے غلام کا یہ جواب سنتے ہی عبرت حاصل کی اور دل میں کہا کہ اس غلام کو ایک جاگیردار کے استغنا کی وجہ میں بے غمی حاصل ہوئی اور میں جس کا بندہ ہوں وہ مالک الملک، رزاقِ کل ربّ الارباب ہے اور سب کو بلا معاوضہ روزی پہنچانے والا ہے،
(صفحہ 242 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، اگلا حصہ صفحہ 243 پر ہے۔)
صفحہ۲۴۳
پھر ہمیں کسی اندوہ و غم کا شکار بننا کیونکر روا ہے۔ ☆
یہ سوچا اور شغلِ دنیا سے منہ پھیر کر طریقِ حق کا رُخ فرما لیا اور غمِ روزی سے آزاد ہو گئے اور یہ قصہ بھی آپ کی کیفیتِ تواضع پر ہے۔ آپ کے بہت سے فضائل و مناقب ہیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں ایک غلام کا شاگرد ہوں، جو کچھ مجھے ملا اسی کی بدولت ملا۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
حضرت ابو سلیمان عبد الرحمٰن بن عطیہ دارانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے اپنے وقت کے شیخِ فرد، طریقِ حق میں مجرد و دہر حضرت ابو سلیمان عبد الرحمٰن بن عطیہ دارانی رضی اللہ عنہ ہیں۔ قوم کے چمکتے جوہر اور ریحانِ قلوبِ خلائق گزرے ہیں۔ آپ کا ریاضت و مجاہدہ آپ کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ اپنے وقت کے عالمِ فرزانہ تھے اور نفسِ امارہ کی عیاریوں پر آپ خاص طور سے متنبہ تھے۔
آپ کے اقوال نہایت لطیف و نفیس ہیں۔ معاملات اور محافظتِ قلوب اور رعایتِ جوارح میں آپ کی نصائح رجوع الی اللہ میں نہایت مفید ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"جب امیدیں خوف و بے نیازی پر غالب آ جائیں تو اس کا وقت خراب ہو جاتا ہے۔"
اس لیے کہ وقت کہتے ہیں اپنی حالت کی نگہبانی کو، تو جب انسان اپنی حالت و ماحول کا نگہبان نہ رہا تو کس طرح خوف و بے نیازی اس کے دل پر مستولی ہو سکتا ہے، اور جب اٹھ گیا تو یقیناً انسان نگہبانی کے ماحول سے بے پرواہ ہو جائے گا اور ایسی صورت میں اس کا وقت ضائع ہونے کے سوا اور کیا ہوگا۔ اور اگر خوف و امید پر غالب رہا تو کیفِ توحید باطل ہو جائے گا اس لیے کہ غلبۂ خوف سے مایوسی ہوتی ہے اور حق سے مایوسی (مذہبِ صوفیا میں) شرکِ خالص ہے۔ (تو بہترین حالِ صوفی یہ ہے کہ) محافظِ کیفِ توحید رہے اور امید کے میدان کو بھی ہاتھ سے چھٹنے نہ دے اور اپنے وقت کی محافظت بھی کرے اور خوفِ الٰہی بھی دل پر مستولی رکھے۔ گویا خوف و امید کے دونوں پلّے مساوی ہوں اور بندہ محافظتِ توحید میں مومن ہوتا ہے۔ کَمَا فِی الْحَدِیْثِ: اَلْاِیْمَانُ بَیْنَ الْخَوْفِ وَالرَّجَا (از مترجم غفرلہ)۔ اور محافظتِ وقت کے ساتھ ساتھ مطیع بنتا ہے اور امید و رجاء کا تعلق محضِ مشاہدہ سے ہے اور اسی میں اعتقادات کی جزِ مستتر ہے اور خوف کا تعلق محضِ مجاہدہ سے ہے اور اس میں اضطرار ہی اضطرار ہے اور مشاہدۂ جمال مورثِ مجاہدہ ہے۔
☆ دوستاں را کجا کنی محروم ۔ تو کہ با دشمناں نظر داری (از مترجم)
صفحہ۲۴۴
اور اس کے معنی یہ ہیں کہ تمام امیدیں نا امیدی سے ظاہر ہوتی ہیں اور جو اپنے اعمال کی فلاح و بہبود سے نا امید ہو تو اس کا نا امید ہونا نجات و فلاح اور کرمِ الٰہی کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور اس پر منجانبِ اللہ درِ کشادگی کھل جاتا ہے اور اس کے دل کو خواہشات کی بلاؤں سے پاکی حاصل ہو جاتی ہے اور تمام اسرارِ ربّانی اس پر کھل جاتے ہیں۔
حضرت احمد بن حواری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شب خلوت میں نوافل پڑھ رہا تھا کہ اثنائے نماز میں مجھے نہایت راحت محسوس ہوئی۔ دوسرے دن حضرت ابو سلیمان رحمۃ اللہ سے عرض کی تو فرمایا: ابھی تو ضعیف ہے، ابھی خطرۂ خلائق تیرے دل سے نہیں نکلا، یہی وجہ ہے کہ خلوت میں تیرا اور حال ہے اور جلوت میں اور حال۔
دونوں جہان میں اس سے بدتر کوئی وسوسہ اور خطرہ نہیں جو بندہ کو تقربِ ذات سے روک دے۔ جب دلہن کو رونمائی کے لیے بٹھاتے ہیں تو اس غرض کے لیے بٹھاتے ہیں کہ سب اسے دیکھیں اور اس رونمائی میں اس کی عزت بڑھتی ہے، لیکن دلہن کو یہ ناز بجا ہے کہ اس وقت اپنے کو خود دیکھنے میں مصروف ہو جائے اور غیر کے دیکھنے سے اس کی ذلت ہو۔
اسی طرح اگر سب لوگ مطیع کی اطاعت کو دیکھنے لگیں تو اس میں مطیع کا کچھ نقصان نہیں لیکن اگر مطیع خود اپنی اطاعت اور حسنِ عمل پر ناز کرنے لگے تو یہ اس کی ہلاکت کا موجب ہے۔ عِیَاذًا بِاللّٰهِ مِنْهَا۔
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے پروردۂ حضرت علی بن موسیٰ رضا رضی اللہ عنہ، وابستۂ درگاہِ مولا، ابو محفوظ حضرت معروف بن فیروز الکرخی رضی اللہ عنہ ہیں۔ قدماء سادات اور مشائخِ کبار سے گزرے ہیں۔ جوانمردی اور ورع و تقویٰ میں آپ مشہور و معروف تھے۔
آپ کا ذکر اس سے پہلے چاہیے تھا لیکن میں نے یہ ترتیب دو بزرگوں کی تتبع میں مناسب سمجھی۔ حضرت شیخ عبد الرحمٰن سلمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں اسی ترتیب پر اذکارِ مشائخ بیان فرمائے اور استاد ابو القاسم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی کتاب میں اسی ترتیب سے بیان فرمایا۔ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ تھے اور حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ کے خاص مرید۔
ابتداء میں غیر مسلم تھے پھر حضرت علی بن موسیٰ رضا رضی اللہ عنہ کے دستِ حق پرست پر
صفحہ۲۴۵
اسلام قبول فرمایا اور ان کی خدمت میں نہایت محبوب بن کر رہے۔ ان کے اوصافِ حمیدہ بہت ہیں، حتیٰ کہ آپ فنون و علوم میں "سید القوم" کہلائے۔
"جوانمرد کے لیے تین علامتیں ہیں: وفاداری میں پورا اترنا کہ کبھی بے وفائی نہ کرے، اور مدح بلا امید جود و بخشش اور عطا بلا سوال۔"
وفاءِ بلا بے وفائی یہ ہے کہ بندہ اپنے عہدِ عبودیت میں بے وفائی اور معصیت کو اپنے اوپر حرام جانے۔ اور مدحِ بلا جود یہ ہے کہ تعریف اس کی کرے جس سے اپنے اوپر کوئی احسان کا بار نہ لیا ہو۔ اور عطا بے سوال یہ ہے کہ جب استطاعت ہو تو دینے میں کسی کی تمیز نہ کرے اور جب کسی کا حال معلوم ہو تو اسے سوال کرنے سے پہلے کچھ بخشے۔
اور یہ تینوں صفتیں خلق سے خلق میں ہیں مگر تمام مخلوقات ان صفتوں سے عاریتاً متصف ہیں۔ اس لیے کہ درحقیقت یہ ہر سہ صفتِ صفاتِ حق سے ہیں اور ان صفات کا مظہر بندگانِ الٰہی ہیں اور بندگانِ الٰہی ان صفات میں حقیقتِ صفتِ الٰہیہ کے دکھانے والے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ وہ وفا ہے کہ اس کا خلاف نہیں۔ ہر چند کہ بندے اپنی وفا میں خلاف کرتے ہیں مگر وہ ان پر اپنے الطاف کی بارشیں ہی کرتا ہے۔
دوسرے اس کی وفا پر یہ امر بھی دلیلِ واضح ہے کہ روزِ ازل میں بلا کسی فعل کے نیک بندوں کو، جو مقدر میں نیک تھے، جلا لے گا اور دنیا میں فعلِ بد کی وجہ سے فہرستِ مردودین سے خارج نہیں فرماتا اور مدح ہے جو سوائے اس ذاتِ پاک کے کوئی نہیں کر سکتا اس لیے کہ بندہ کے کسی فعل کا وہ محتاج نہیں ہے مگر بندہ کے ادنیٰ نیک عمل کی وہی تعریف فرماتا ہے۔
اور عطاءِ بے سوال بھی سوائے اس کے کوئی نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ کریم وہی ہے اور ہر ایک کا حال اس پر منکشف ہے اور ہر ایک کا مقصود بغیر زبان ظاہر کیے وہی جانتا ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو اعزاز و کرامت کا منصب عطا فرماتا ہے، اسے بزرگ بناتا ہے تو وہ اپنی استطاعت و قوت کے مطابق بندوں کے ساتھ ان ہر سہ صفات کو لے کر برتاؤ کرتا ہے۔ اس وقت بارگاہِ ایزدی سے اس کا نام "صاحبِ فتوت" رکھا جاتا ہے اور جماعتِ فتیان میں اس کا نام درج ہو جاتا ہے۔
صفحہ۲۴۶
یہ ہر سہ صفت حضرت ابراہیم علیہ السلام میں دیکھی گئی تھیں اور اس کا خلاصہ اس کی جگہ ان شاء اللہ بیان کیا جائے گا۔
حضرت حاتم الاصم رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے زبدۂ عباد، جمال الاوتاد حضرت ابو عبد الرحمٰن حاتم بن الاصم رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ محسنِ مسلمان بلخ سے ہیں اور قدماء مشائخ خراسان سے گزرے ہیں۔ آپ حضرت ابو علی شقیق بن ابراہیم ازدی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں اور حضرت احمد خضرویہ رحمۃ اللہ علیہ کے استاد۔ آپ کا ابتداء سے انتہاء تک کوئی قدم صدق و اخلاص کے خلاف نہیں اٹھا، حتیٰ کہ ان کے منقبت میں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
صِدِّیْقُ زَمَانِنَا حَاتِمٌ الْاَصَمُّ۔
"ہمارے زمانے کا صدیق حاتم اصم ہے۔"
آپ کے اقوال، آفاتِ نفس کے دیکھنے اور سمجھنے میں نہایت دقیق اور بلند منقول ہیں اور رعونت و تلونِ طبع کے متعلق بہت کچھ ارشادات ہیں۔ آپ کی بہت سی تصانیف معاملات و عبادات میں مشہور ہیں۔ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"شہوت تین ہیں: ایک کھانے کے اندر، ایک کلام کرنے میں اور ایک دیکھنے میں۔ لہٰذا کھانے میں ہوشیار رہ اور اپنی روزی کا خدا پر بھروسہ رکھ اور زبان کو سچ بولنے کے علاوہ محفوظ رکھ اور آنکھ کو محفوظ رکھ، جہاں نظر پڑے اس سے عبرت حاصل کر۔"
تو جو کھانے پینے میں اللہ پر توکل کر لیتا ہے وہ شہواتِ اکل و شرب سے آزاد ہو جاتا ہے اور جو بات کرنے میں راست گوئی کا پابند ہو جاتا ہے وہ شہوتِ کذب سے آزاد ہو جاتا ہے۔ جو آنکھ سے دیکھتے وقت راستی ملحوظ رکھتا ہے (یعنی جائز و ناجائز کا خیال کر لیتا ہے) وہ شہوتِ چشم سے آزاد ہو جاتا ہے۔
اور حقیقتِ توکل یہ ہے کہ اپنا ربِّ حقیقی دل و زبان سے اپنے ربّ حقیقی کو جانے اور اس پر اسے استقامت حاصل ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
اس وقت اس کی عبادت بھی اخلاص اور راستی سے ادا ہوگی اور معرفت و صداقت کے ساتھ ہر شے پر نظر رکھے گا، حتیٰ کہ اس کا اکل و شرب سوائے دوست کے نہ ہوگا۔
اور اس کی ہر حرکت و سکون میں کیفیتِ وجدانیہ کے سوا کچھ نہ ہوگا اور اس کی نظر سوائے مشاہدۂ ذات کے کسی طرف نہ جائے گی۔ تو جب وہ صحیح طور پر کھائے گا، صحیح کلام کرے گا تو یہ کھانا خالص حلال ہوگا اور یہ کلام خالص ذکرِ دوست ہوگا اور صحیح دیکھنا بھی جب ہی صحیح ہوگا جبکہ سوائے ذات کے کچھ نہ دیکھے۔
اس لیے کہ عارف کے لیے وہی کھانا حلال ہوتا ہے جو ربِّ حقیقی کا عطیہ ہو اور بلا اذنِ محبوب اسے وہ کھانا کھانا بھی حلال نہیں ہوتا اور سوائے ذکرِ محبوب کے اٹھارہ ہزار عالموں میں سے کسی عالم کا ذکر راست نہیں آتا۔
اور سوائے جمال و جلالِ محبوب، موجوداتِ عالم میں اس کا نظارہ ہی جائز نہیں۔ پھر جب اسی سے کھائے، اسی سے بولے، اسی کو دیکھے تو شہوت نہ ہوئی اور جب اس سے کلام ہوا اور بلا اس کی اجازت کلام بھی نہ ہوا تو یہ بھی شہوتِ لسانی نہ رہی اور جب ہر شے میں جو فعل دیکھا اس کی طرف سے دیکھا اور اس کے اذن سے دیکھا تو یہ دیکھنا بھی مبنی علی الشہوت نہ ہوا۔
اور اگر تو اپنی خواہش اور حرص سے کھائے اگرچہ کسب حلال ہی سے کھائے مگر یقیناً شہوتِ اکل ہے اور اگر تو اپنی ہوائے نفسانی کے ماتحت کلام کرے اگرچہ وہ دروغ نہ ہو مگر شہوتِ لسانی ہے اور اگر اپنی خواہشِ نفسانی سے دیکھے اگرچہ اس دیکھنے سے شہادت وغیرہ میں کام لے مگر یہ وبال اور شہوتِ نظر ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت امام محمد بن ادریس شافعی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے امامِ مطلبی، ابنِ عمِ نبی ﷺ حضرت ابو عبد اللہ محمد بن ادریس شافعی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ اپنے وقت کے تمام علوم میں امام گزرے ہیں اور جوانمردی و ورع میں مشہور ہیں۔ آپ کے بہت زیادہ مناقب ہیں اور آپ کا کلام بہت بلند مانا گیا ہے۔
آپ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے اس وقت تک شاگرد رہے جب تک مدینہ منورہ میں آپ کا قیام رہا، پھر جب عراق میں تشریف لائے تو حضرت محمد بن حسن کرد رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ نشست و برخاست رکھی۔ آپ کے مزاج میں خلوت نشینی کا خاص شوق تھا، مگر ایک جماعت
۱۔ سورۃ حم سجدہ: ۳۰
صفحہ۲۴۸
آپ کی خدمت میں آئی اور آپ کی مقلد بن گئی۔ حضرت امام احمد حنبل رحمۃ اللہ علیہ بھی انہیں تابعین میں سے ہیں۔ جب اس خدمت کی طرف آپ مجبور ہو گئے تو پھر آپ نے اجتہادیات کے ذریعہ خدمتِ امامت انجام دینی شروع فرمائی اور آپ کی وجاہت عام ہوئی اور خلوت نشینی نہ فرما سکے، لیکن اس امامت و جاہت کے دور میں بھی آپ محمود الخصال رہے۔
ابتداءِ دور میں آپ کے مزاج کے اندر کچھ سختی تھی۔ جب حضرت سلیمان راعی رحمۃ اللہ علیہ کے فیضِ صحبت سے مستفیض ہوئے تو اس کے بعد آپ کی وہ خشونت جاتی رہی اور جہاں بھی آپ تشریف لے گئے طلبِ حق میں رہے۔ آپ کا ارشاد ہے:
"جب تو علماء کو دیکھے کہ رخصت اور تاویلات میں مشغول ہیں، سمجھ لے کہ اب ان سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔"
یعنی علماء پیشوا تمام اصنافِ خلائق سے ہیں اور یہ ہرگز روا نہیں کہ ان سے آگے کوئی ایک قدم بھی بڑھے اور راہِ حق اور معنیِ حقیقی کا انکشاف بغیر احتیاط اور مجاہدہ کے ہرگز نہیں ہو سکتا اور علم حاصل کرنا اس کا کام ہے جو مجاہدہ سے گریز کرے اور طالبِ علم کو چاہیے کہ احکام میں تخفیف اختیار کرے۔ اس لیے کہ علم حاصل کرنا درجۂ عوام میں ہے تاکہ کم از کم اس علم کے ذریعے دائرۂ شریعت سے تو باہر نہ گریں اور مجاہدہ و ریاضت یہ درجۂ خواص ہے۔ ان کا عام درجہ جو ہے وہ رضائے محض ہے، اس سے زائد وہ کسی چیز پر نظر نہیں ڈالتے اور نہ انہیں نظر ڈالنا چاہیے۔
اور علماء حق اس درجہ میں اخص الخواص ہیں۔ جب یہ اخص الخواص عوام کے درجہ پر راضی ہو گئے تو اس کا نتیجہ کچھ نہیں اور نہ ایسی حالت میں ان سے کچھ امید رکھنی چاہیے اور رخصت اور تاویلات ڈھونڈنا خدا تعالیٰ کے احکام میں نرمی اور خفت نکالنا ہے۔
اور علماء تو خاص محبوبانِ خدا ہیں پھر فرمانِ دوست کو ہلکا اور خفیف کرنا کس طرح گوارہ کر سکتا ہے اور وہ تعمیلِ حکمِ دوست میں ادنیٰ درجہ ہرگز منظور نہیں کر سکتا بلکہ ہر حکم کی تعمیل اعلیٰ درجۂ احتیاط پر کرے گا۔
ایک شیخِ مشائخ کرام سے راوی ہیں کہ ایک شب حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ عرض کی: حضور! مجھے روایت پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر اوتاد اولیاء مقرر فرمائے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اس راوی نے تجھے خبر صحیح پہنچائی ہے۔ میں نے عرض کی: حضور! میں چاہتا ہوں کہ ان میں سے کسی ایک کی زیارت کروں۔ فرمایا: حضرت محمد بن ادریس ان میں سے ایک ہیں۔ آپ
صفحہ۲۴۹
کے مناقب اس کے علاوہ اور بہت ہیں۔
حضرت امام ابو محمد احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ
انہیں میں سے شیخِ سنت، قاہرِ اہلِ بدعت حضرت ابو محمد احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ ورع و تقویٰ میں امتیازِ خصوصی رکھتے ہیں، حافظِ حدیث تھے اور انہیں اربابِ شرع اور اہلِ طریقت دونوں فریق مبارک مانتے ہیں۔ آپ بڑے بڑے مشائخ کرام کے صحبت یافتہ ہیں، مثل حضرت ذوالنون مصری اور بشر حافی اور سری سقطی، معروف کرخی رحمہم اللہ تعالیٰ اور ان کے علاوہ اور بھی مشائخ کرام کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے۔ آپ کی کرامتیں بہت ہیں اور آپ کی فراست (یعنی نورِ ایمانی سے خطراتِ قلوبِ عوام پر عبور) بالکل صحیح ہے۔
بعض لوگ حضرت ممدوح کا تعلق فرقۂ مشبہہ (۱) سے بتاتے ہیں، یہ محض غلط ہے اور ان پر افتراء ہے (مشبہ مثل معتزلہ و دہریہ کے اس زمانہ میں کوئی فرقہ تھا) وہ قطعاً اس الزام سے بری ہیں۔ ان کے عقائد اور اصولِ دین و مذہب نہایت پسندیدہ تھے اور تمام علماء اس پر متفق ہیں۔ جبکہ آپ بغداد شریف تشریف لائے تو فرقۂ معتزلہ نے آپ پر غلبہ کیا اور یہ تجویز کی کہ آپ کو تکلیف دے کر مجبور کیا جائے تاکہ آپ بھی قرآن کریم کو مخلوق فرما دیں۔
باوجود یکہ آپ معمر اور نہایت ضعیف تھے، آپ کی مشکیں کسی گئیں، ہزار تازیانہ آپ کو لگائے گئے اور پھر کہا کہ قرآن کریم کو مخلوق کہیں مگر آپ مستقیم علی الحق رہے۔ اسی حالت میں آپ کی شلوارِ مبارک کا کمر بند کھل گیا اور چونکہ آپ کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے تھے اسے باندھنے میں آپ عاجز ہوئے کہ یہ کرامت ظاہر ہوئی کہ ایک تیسرا ہاتھ غیب سے نمودار ہوا اور کمر بند باندھ کر غائب ہو گیا۔ جب ان ظالموں نے آپ کی یہ کرامت دیکھی تو گھبرا گئے اور آپ کو چھوڑ دیا۔ آپ نے اس تمام تکلیف کو بھی من جانبِ اللہ سمجھا اور ان سے کوئی انتقام قوتِ باطنی کے ذریعہ نہ لیا۔
غرضیکہ آخر عہدِ حکومتِ معتزلہ میں ایک جماعت آپ کی خدمت میں حاضر آئی اور عرض کیا کہ جن لوگوں نے آپ کو یہ تکلیف دی اس کی بابت آپ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا میں کیا کہوں، میرا خیال تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ واسطے مجھے یہ تکلیف دی، وہ یہ سمجھے کہ میں قرآن کریم کو مخلوق نہ کہنے
۱۔ فرقۂ مشبہ کی تعریف میں حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ اپنی کتاب "غنیۃ الطالبین" میں فرماتے ہیں (ترجمہ): مشبہ میں تین فرقے ہیں: بشامیہ اور مقاتلیہ اور واسمیہ، اور وہ عقیدہ جس پر یہ تینوں متفق ہیں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک جسم ہے اور وہ جسم ایسا ہے کہ اس کو عقل کو جائز نہیں، وہ موجود ہے اور جسم ہے۔ (از غنیۃ الطالبین عربی صفحہ ۱۲۴، مطبوعہ مطبع صدیقی، لاہور)
(حاشیے کی عبارت اسکین میں دھندلی تھی، اس لیے حوالے کی تفصیل اندازے پر ہے۔)
صفحہ۲۵۰
میں باطل پر ہوں اور وہ اپنے کو حق پر سمجھتے رہے۔ میں یہاں تو بروزِ قیامت بھی ان تازیانوں کے بدلہ میں ان سے خصومت کے لیے تیار نہیں۔
آپ کا کلام بہت بلند ہے اور معاملات میں آپ کے احکام نہایت واضح ہیں۔ چنانچہ جب کوئی آپ کے پاس مسئلہ پوچھنے آتا تو آپ معاملات کے سوال کا جواب واضح دیتے اور اگر حقائقِ تصوف کے متعلق ہوتا تو اسے حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد فرماتے۔ چنانچہ ایک روز ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا: مَا الْاِخْلَاصُ؟ "حضور! اخلاص کی کیا تعریف ہے؟" فرمایا:
"اخلاص کہتے ہیں اعمال سے آفات کے نجات پانے کو۔" یعنی جو عمل کرے اس میں اس کی آفت جو ریا ہے وہ قطعاً نہ ہو اور دکھاوے کا کوئی حصہ تیرے عمل میں نہ آئے۔
اس نے عرض کی: مَا التَّوَكُّلُ؟ "حضور! توکل کیا ہے؟" فرمایا: اَلثِّقَةُ بِاللّٰهِ۔ "اللہ پر پورا بھروسہ کر لینا اور اس کی رزاقی پر یقین واثق کر لینا۔" عرض کی: حضور! مَا الرِّضَا؟ "رضا کیا چیز ہے؟" فرمایا: تَسْلِیْمُ الْاُمُوْرِ اِلَی اللّٰهِ۔ "اپنے تمام کام اللہ کے سپرد کر دینا۔" عرض کی: حضور! مَا الْمَحَبَّةُ؟ "محبت کیا چیز ہے؟" فرمایا: یہ بشر حافی سے جا کر پوچھ، اس لیے کہ جب تک وہ رونق افروز ہیں میں اس کا جواب دینے کا اہل نہیں۔ اور حضرت احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ تمام احوال میں امتحان لیے گئے۔ اپنی زندگی میں تو طعنِ معتزلہ سے امتحان ہوا اور بعد وفات مشبہ کے ساتھ مل جانے کی تہمت سے، حتیٰ کہ آج تک بعض اہلِ سنت و جماعت میں بوجہ عدمِ واقفیتِ حال آپ پر تہمت لگاتے رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ آپ ان اتہامات سے بالکل بری ہیں۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت ابو الحسن احمد بن حواری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سراجِ وقت، واقفِ اسرارِ آفاتِ مقت حضرت ابو الحسن حواری رضی اللہ عنہ ہیں۔ مشائخِ شام میں بڑے زبردست شیخ مانے گئے ہیں اور ان کی تعریف مشائخ نے خود بے حد فرمائی، حتیٰ کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَحْمَدُ بْنُ الْحَوَارِیِّ رَیْحَانَةُ الشَّامِ۔ "احمد بن حواری ملکِ شام کے مہکتے ہوئے پھول ہیں۔" ان کا کلام بہت بلند ہے، ان کے اشارات بغایت لطیف ہیں۔ علمِ طریقت اور متعدد فنون میں ماہر گزرے ہیں۔ آپ سے صحیح روایات کے ساتھ حضور ﷺ کی احادیث بھی مروی ہیں اور آپ کے زمانہ میں لوگوں کا رجوع آپ کی طرف زیادہ تھا، یعنی اپنے قضیہ جھگڑے کا فیصلہ لوگ آپ سے ہی کراتے تھے۔ آپ ابو سلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور حضرت سفیان بن عیینہ اور مروان بن معاویہ فرازی کی صحبت میں رہ چکے
صفحہ۲۵۱
ہیں۔ علاوہ اس کے، سیاحت کر کے متعدد مقامات سے ادب و فائدہ حاصل فرمایا۔ آپ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا:
"دنیا گندگی کا ڈھیر ہے (یعنی کوڑھی ہے) اور کتوں کا جمع رہنے کا مقام، اور ادنیٰ درجہ کا ذلیل کتا وہ ہے جو اس کے گرد پھرتا رہے اور ہوسِ دنیا سے اسے سیری نہ ہو۔ اس لیے کہ کتا مزبلہ پر آ کر اپنی حاجت کے مطابق لیتا ہے اور لوٹ جاتا ہے اور دنیا کا دوست اور حریصِ خالص وہ ہے جو کبھی مالِ دنیا سے سیر نہیں ہوتا۔"
حضرت ابو الحسن احمد رحمۃ اللہ علیہ ان مردانِ خدا سے گزرے ہیں کہ ان کی نظر میں دنیا اتنی حقیر تھی کہ اسے "مزبلہ" سے تشبیہ دی اور دنیا دار کو ذلیل ترین کتا بتایا اور اس پر دلیل میں فرمایا کہ کتا اپنا پیٹ بھر کر مزبلہ سے ہٹ جاتا ہے مگر دنیا دار مالِ دنیا سے سیر نہیں ہوتا اس کی حرص میں آخر عمر تک لگا رہتا ہے۔
یہ فرمان آپ کے انقطاعِ دنیا پر خاص نشان ہے اور اہلِ دنیا سے آپ کے اعراض پر خاص دلیل ہے اور دنیا سے قطعِ تعلق کر لینا ہے، اہلِ طریقت کا خوش آئند چمن زار اور میدانِ خوشگوار ہے۔ آپ نے ابتداء میں علمِ حاصل فرمایا حتیٰ کہ اماموں کے منصبِ جلیل پر پہنچے۔ اس کے بعد اپنی تمام کتابیں اٹھا کر دریا برد فرما دیں اور کہا:
"میرے لیے بہترین دلیل اور میرا راہبر تو ہے اور جب تو میرے لیے کافی ہے (تو پاء استدلالیان چوبین بود) کے بموجب: اِشْتِغَالٌ بِالدَّلِیْلِ وَاصِلٌ اِلَی اللّٰهِ کے لیے محال ہے۔"
اس لیے دلیل کی اس وقت حاجت ہے جبکہ مرید راستہ میں ہو اور جب بارگاہ تک پہنچ چکا ہو تو دیدار کا جلوہ مل گیا۔ اب بارگاہ اور راہ دونوں کی قدر و قیمت نہ رہی۔ مشائخ کرام فرماتے ہیں کہ یہ فعل آپ کا بحالتِ سکر ہوا تھا اور یہ کلام بھی سکر ہے۔
اس لیے کہ اس راہ میں جو یہ کہے "وَصَلْتُ" (میں مل گیا)، فَقَدْ فَصَلَ (وہ یقیناً علیحدہ ہو گیا)، کیونکہ اس بارگاہ تک خود پہنچنا اس بارگاہ سے دور ہونے کے مترادف ہے۔ تو ہر شغل، شغل ہی
صفحہ۲۵۲
ہے اور ہر فراغت، فراغت ہی ہے اور ہر اصول مشاغل وصول میں اپنے وجود سے نیست ہونا ہے۔
اس لیے کہ وصل و فصل اور شغل و فراغت اور اصول و وصول یہ سب بندہ کی صفت ہیں۔ فصل و وصل اور عنایتِ الٰہی بارگاہِ احدیت سے ازل میں اس کے انتخاب کے موافق ہو چکی ہوتی ہے اور بندہ اپنی قوتِ ارادی سے کسی طرح اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتا۔
اور عنایتِ الٰہی اور اس کے ازلی مقررہ حصہ کے وصول کے لیے اس کا کوئی اصول، اصول نہیں اور نہ ملازمت اور ارادہ قرب و مجاورت اور مجاہدہ اس کا قدیم بن سکتے ہیں تو عاشق کے لیے یہ دعویٰ روا ہی نہیں ہو سکتا۔
ہاں! یہ ضرور ہے کہ وصلِ ذات بندہ کی عزت کا موجب ہے اور فصل و ہجر بندہ کی ذلت و اہانت کا سبب۔ اور صفاتِ قدیمہ میں تغیر جائز نہیں۔
میری رائے ہے کہ (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں) ممکن ہے "وصول الی اللہ" کے لفظ سے شیخِ کامل کی مراد خدا کا راستہ ہو، اس لیے کہ کتابوں میں خدا کا راستہ ہے، تو جب راستہ واضح ہو گیا تو کتاب و عبارت منقطع ہو گئی۔ اس لیے کہ عباراتِ کتب میں وہ فقرہ نہیں جو مشاہدہ میں ہے۔ عبارت تو مقصود کو غائبانہ ہی سمجھا سکتی ہے اور جب مشاہدہ حاصل ہو گیا تو عبارت گم ہو گئی اور پھر مشاہدہ و معرفت کے بعد زبان بھی عبارت کی طرف سے گونگی ہو جاتی ہے۔ تو جب عبارت کی طرف سے زبان ہی گنگ ہو تو کتاب کا ضائع کرنا ہی بہتر ہے۔
حضرت ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ اور بزرگوں نے بھی ایسا کیا، من جملہ ان کے حضرت ابو سعید فضل اللہ محمد مہنی کے صاحبزادہ ہیں، جب ان پر یہ کیفِ شہودی طاری ہوا، انہوں نے بھی اپنی تمام کتابیں دریا برد کر دیں۔
اور محض رسمی لوگوں نے مصنوعی صوفی بن کر اپنی کاہلی اور نااہلی کی وجہ میں ان مردانِ خدا کی تقلید کی، مگر وہ بے حاصل بات ہے۔ ان خاصانِ خدا نے جو ایسا کیا وہ محض تعلق دنیاوی کے انقطاع کی غرض سے کیا اور توجہ الی الغیر کو ترک فرمایا ماسوی اللہ سے اپنے قلبِ منور کو فارغ غرض سے ان کا یہ فعل ہوا۔
اور یہ حالت جب تک ازلی سکر اور ازلی دانش و بینش و دیعت نہ ہو، کبھی نہیں ہو سکتی اور اس حالت کا تعلق کیفیتِ سکر اور ابتدائے عشق کی آگ میں ہے۔ نتیجی کو اس سے یوں تعلق نہیں ہوتا کہ وہ متمکن بالمشاہدہ ہوتا ہے اور متمکن کے لیے کونین بھی حجاب نہیں بن سکتے۔ اس لیے کہ ان کا دل علائق سے بالکل منقطع ہو جاتا ہے۔ تو جس پر کونین حاجب نہ ہو سکے اس پر ایک کاغذ کی کیا حیثیت
(صفحہ 252 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 253 پر ہے۔)
صفحہ۲۵۳
ہے جو حجاب بن سکے (اور اگر یہ کہا جائے کہ کتابیں دھوڈالیں) تو اس سے مراد نفیِ عبارت ہو سکتی ہے، اس لیے کہ جب حقیقتِ معنی حاصل ہو جائے تو عبارت بے کار ہے، جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں۔ تو بہترین بات یہ ہے کہ عبارت خود بخود زبان سے منتفی ہو۔
اور جو عبارت کتاب میں لکھی ہے وہ زبان پر جاری ہے اور عبارت، عبارت سے اولیٰ نہیں ہوتی۔ میرا خیال ہے کہ شیخ ابو الحسن احمد بن حواری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے غلبۂ حال میں کچھ لکھا ہوگا مگر جب اس کے سننے والے نہ پائے تو اسے دریا برد کر دیا ہوگا اور یہ جو فرمایا کہ تو بہترین میری دلیل اور میرا راہنما ہے، تو جب مرادِ مرید اس ذات سے پوری ہو گئی تو ماسوی اللہ سے اس کی مشغولی محال ہے۔
اس امر میں یہ بھی احتمال ہے کہ آپ کے پاس بہت سی کتابیں جمع ہو گئی ہوں جو آپ کو اپنے اور ادو اعمال سے روکتی ہوں اور مشغول کرتی ہوں تو آپ نے مشغول غیر اللہ کو اٹھا ڈالا ہو اور فراغتِ قلبی غیر سے حاصل کی ہو اور ترکِ عبارت کے لیے فرمایا ہو۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
ابو حامد حضرت احمد بن خضرویہ البلخی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سرہنگِ جوانمردان، آفتابِ خراسان حضرت ابو حامد احمد بن خضرویہ البلخی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ اپنے حال میں بہت بلند گزرے ہیں اور شرافتِ وقت میں مخصوص ہیں اور اپنے زمانہ کے مقتدائے قوم اور مرجعِ خواص و عوام تھے اور آپ کا طریقہ ملامتیہ تھا۔ آپ کا لباس ہمیشہ سپاہیانہ ہوتا تھا اور آپ کی بیوی صاحبہ مساۃ فاطمہ، امیرِ بلخ کی صاحبزادی تھیں رحمہما اللہ۔ یہ بھی طریقت میں عظیم الشان مرتبہ رکھتی تھیں اور امیرِ بلخ کی صاحبزادی یعنی بیگمات شاہی سے تھیں۔ جب ان کے دل میں نورِ عرفان من جانبِ اللہ پیدا ہوا، حضرت احمد خضرویہ کی خدمت میں آدمی بھیجا اور عرض کرایا کہ آپ مجھے میرے والد سے طلب فرمائیں۔ آپ نے التفات نہ کیا، دوبارہ پھر آدمی بھیجا اور کہلایا کہ حضور! میں آپ کو اس وجہ میں چاہتی ہوں کہ آپ راہِ برحق ہیں، نہ اس لیے کہ آپ کو جوان حسین دیکھ کر آپ کی طرف مائل ہوں، راہِ راست سے ہٹا دینے والے بہت ہیں، مجھے راہبر کی تلاش ہے، لہٰذا آپ پیام دیں۔
آخرش آپ نے امیرِ بلخ کے یہاں پیام دیا۔ امیرِ بلخ نے ایک مردِ خدا، عارفِ کامل سے اپنی صاحبزادی کو نامزد کرنا اپنے لیے عینِ سعادت جانا اور فوراً رشتہ کر دیا۔ بعد شادی حضرت فاطمہ بنتِ امیرِ بلخ نے آپ کی خدمت میں آتے ہی مشاغلِ دنیا ترک فرما دیے اور گوشہ نشیں ہو گئیں۔ آپ کے خلوت خانہ خاص میں صرف حضرت احمد اور حضرت فاطمہ ہی رہتے۔
صفحہ۲۵۴
حتیٰ کہ ایک بار حضرت احمد بن خضرویہ رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ کی زیارت کا شوق ہوا۔ حضرت فاطمہ رحمۃ اللہ علیہا بھی حضرت بایزید کے دربار میں ہمراہ حاضر ہوئیں۔ جب حضرت بایزید کے سامنے دونوں آ گئے، حضرت فاطمہ نے نقاب ہٹا دیا اور حضرت بایزید رضی اللہ عنہ کے ساتھ بے حجابانہ گفتگو شروع کر دی۔ حضرت احمد خضرویہ کو ان کی اس حرکت پر تعجب ہوا اور غیرتِ زوجیت آپ پر مستولی ہوئی۔ فرمانے لگے: فاطمہ! جس بے حجابی سے تم بایزید کے سامنے باتیں کر رہی ہو اس کی وجہ مجھے بھی معلوم ہونی چاہیے۔
حضرت فاطمہ نے فرمایا: احمد! تم محرمِ طبیعت ہو اور بایزید محرمِ طریقت۔ تمہارے ذریعہ میری آتشِ حرص و ہوس کا علاج ہوتا ہے اور ان کے ذریعہ خدا رسی ہوتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بایزید مجھ سے بے نیاز ہے اور تم میرے محتاج ہو۔
غرضیکہ حضرت فاطمہ ہمیشہ حضرت بایزید کے سامنے بے حجاب رہتیں اور نہایت بے تکلفی سے کلام فرماتیں۔ ایک روز حضرت بایزید کی نظر حضرت فاطمہ کے ہاتھ پر پڑی، دیکھا مہندی لگی ہوئی ہے۔ فرمایا: فاطمہ! ہاتھوں میں مہندی لگا رکھی ہے۔ آپ نے فرمایا: بایزید! اب تک کہ تمہاری نظر میرے ہاتھ پر نہ پڑی تھی، میرا آپ کے ساتھ رابطہ بے حجاب تھا، اب جبکہ تمہاری نظر مجھ پر پڑنے لگی اب آپ سے بے حجابی حرام ہے۔ بس اسی روز واپس ہو گئیں اور نیشاپور تشریف لا کر قیام فرمایا۔ اہلِ نیشاپور آپ کے ساتھ نہایت خوش اعتقاد تھے اور مشائخِ نیشاپور بھی آپ کے یہاں زانوئے عقیدت تہ فرماتے تھے۔
ایک بار کا واقعہ ہے کہ حضرت یحییٰ بن معاذ رازی نیشاپور آئے۔ بلخ جانے کا عزم تھا۔ حضرت احمد رحمۃ اللہ علیہ نے دعوت کرنی چاہی۔ حضرت فاطمہ سے مشورہ کیا کہ دعوتِ یحییٰ میں کیا کیا کھانے ہوں اور کیا کیا سامان مہیا ہونا چاہیے۔ آپ نے فرمایا: اتنی گائیں، اتنی بکریاں، اتنا سامانِ تزئین، اتنے چراغ، اتنی قسم کے عطر اور ان تمام سامانوں کے ساتھ بیس گدھے بھی ذبح ہونے چاہئیں۔ حضرت احمد نے فرمایا یہ بیس گدھوں کے گوشت سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا جب کوئی صاحبِ کرم صاحبِ ثروت کے گھر جاتا ہے تو محلہ کے لوگوں کے ساتھ محلہ کے کتوں کے لیے بھی کچھ ہونا چاہیے۔
حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ نے آپ کی منقبت میں فرمایا:
"راستہ کھلا ہے اور حق روشن ہے اور نگہبان سنا چکا، پھر تحیر وہی کر سکتا ہے جو اندھا ہو۔"
یعنی اب راستہ ڈھونڈنا محض غلطی ہے اس لیے کہ راہِ حق مثلِ آفتاب کے تاباں ہے بلکہ انسان اپنے آپ کو ڈھونڈے کہ وہ کہاں ہے اور جب اپنے کو پا لے تو راستہ پر آ جائے کیونکہ حق اس سے بھی زیادہ اظہر ہے کہ طالب اس کی طلب کرے۔
آپ ہی سے مروی ہے کہ فرمایا:
اُسْتُرْ عِزَّ فَقْرِكَ۔
"فقیری کے منصبِ جلیل کو پوشیدہ رکھ۔"
یعنی مخلوق کے آگے نہ کہتا پھر کہ میں درویش ہوں تاکہ تیرا راز نہ کھل جائے، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی زبردست بخشش ہے۔
آپ ہی سے مروی ہے کہ فرمایا ایک درویش نے رمضان المبارک میں ایک متمول کی دعوت کر دی اور ان کے گھر میں ایک روٹی کے سوا کچھ نہ تھا۔ جب وہ دولتمند واپس ہوا تو اس نے ایک سنہری تھیلی سکہ کی ان کی خدمت میں بھیج دی۔ آپ نے اس تھیلی کو واپس کر دیا اور کہلا دیا کہ یہ تھیلی اسے دے جو اپنا راز تیرے جیسے کے آگے ظاہر کر دے یا تیرے جیسے دولت مند کو اپنی عزتِ فقر سے بلند جانے۔
یہ ان کے سچے فقر کی دلیل ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
صفحہ۲۵۶
حضرت عسکری بن الحسین رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے امامِ متوکلان، برگزیدۂ اہلِ زمان، ابو تراب حضرت عسکری بن الحسین رضی اللہ عنہ ہیں۔ مشائخِ خراسان میں اجلۂ سادات میں مشہور ہیں اور جوانمردی و زہد و ورع میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی بے حد کرامتیں ہیں اور بہت زیادہ عجائبات ایسے ہیں جو جنگلوں میں دیکھے گئے۔
سیاح متصوفین میں سے آپ تھے اور ہمیشہ جنگل میں خلوت نشیں رہا کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی وفات بھی بصرہ کے ایسے جنگل میں ہوئی کہ بعد وفات کئی سال بعد ایک قافلہ پہنچا تو آپ کی لاشِ مبارک کو ایک پیر پر قبلہ رو کھڑے دیکھا۔ لاشِ مبارک بے جان تھی اور خشک ہو چکی تھی اور آپ کے پاس سامنے چمڑے کا کوزہ یعنی کشکول چرمی رکھا ہوا تھا اور عصا ہاتھ میں تھا لیکن جنگل کے درندے آپ کی لاشِ مبارک کے پاس نہ پھٹکے اور اتنی مدت تک پاءِ مبارک سے لاش نہ گری۔
"فقیر کی غذا وہی ہے جو مل جائے اسی کو اختیار کرے، اور لباس وہ ہے جس سے بدن ڈھانپ لے، اس میں اپنا تصرف نہ کرے اور اس کے مقام کے لیے وہی جگہ ہے جہاں چلتے چلتے ٹھہر جائے، اپنے لیے کوئی خاص جگہ نہ بنائے۔"
اس لیے کہ ان تین چیزوں میں تصرف کرنا غیر اللہ ہونا ہے اور درحقیقت تمام عالم ان ہی تین چیزوں کی بلاء میں مبتلا ہے (اور یہ جو کچھ تین چیزوں کا ذکر فقیر کا ہوا) یہ بھی اسبابِ ظاہری کے لحاظ سے ہے، ورنہ درحقیقتِ غذائے درویش وجد ہے اور لباسِ درویش تقویٰ ہے اور مسکنِ درویش مقامِ غیب۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور باعثِ زینت ہے اور پرہیزگاری کا لباس سب سے بہتر ہے۔"
حضور ﷺ نے فرمایا: اَلْفَقْرُ وَطَنُ الْغَیْبِ۔ "فقر وطنِ غیب ہے۔" تو جب اکل و
۱۔ سورۃ الجن: ۱۶ ۲۔ سورۃ الاعراف: ۲۶
صفحہ۲۵۷
شربِ فقیر، شرابِ دیدارِ یار ہے اور لباسِ فقیر، تقویٰ اور مجاہدہ اور وطنِ فقیر مقامِ غیب اور وصل کے مقام کا اظہار چاہنا فقر کے طریقہ کا کھلا راستہ ہے اور اس کے عمل روشن ہیں اور یہ فقیر کا درجۂ کمال ہے۔
حضرت ابو زکریا یحییٰ بن معاذ رازی رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے لسانِ محبت و وفا، زینِ طریقت و ولا حضرت ابو زکریا یحییٰ بن معاذ رازی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ نہایت بلند حال اور نیک سیرت بزرگ گزرے ہیں اور آپ کا مقام رجاء میں میدانِ حقیقت کے اندر پورا قدم راسخ تھا۔ حتیٰ کہ حسن بصری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دو یحییٰ پیدا فرمائے ہیں: ایک نبیوں میں اور ایک ولیوں میں۔ انبیاء میں حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام تھے کہ آپ کو طریقِ خوف اس درجہ عطا ہوا کہ تمام مدعیانِ افراطِ خوف کی وجہ میں اپنی کامیابی سے نا امید ہو گئے۔
اور حضرت یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ کو طریقِ رجاء و امید اس درجہ عطا ہوا کہ تمام مدعیوں کے ہاتھ امید سے بھر گئے۔ کسی نے کہا حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کا حال تو معلوم ہے لیکن یہ یحییٰ کون ہیں اور ان کا حال کیا ہے؟ تو جواب دیا گیا کہ یہ یحییٰ، جہالت کی طرف ہرگز نہیں تھے اور آپ سے کبھی کبیرہ گناہ سرزد نہیں ہوا اور اعمال و عبادت میں پوری سعی فرماتے تھے۔ بلکہ ایسی جدوجہد کرتے تھے کہ ان کی سی کسی میں محنت کرنے کی تاب و طاقت نہیں۔
ان سے کسی نے فرمایا کہ یحییٰ! تمہارا مقام، مقامِ رجاء ہے اور تمہارا عملِ عملی خائفان ہے۔ آپ نے فرمایا صاحبزادے! اچھی طرح یاد رکھو! ترکِ عبودیت ضلالت ہے اور خوف و رجاء ستونِ ایمان ہیں۔
یہ محال ہے کہ کوئی ارکانِ ایمانیہ کی حفاظت میں سعی کرتا ہوا گمراہ ہو جائے۔ خوف والا اس خوف سے عبادت کرتا ہے کہ وہ مقامِ تقرب سے کہیں قطع نہ ہو جائے اور رجاء والا با امیدِ وصلِ جمیل عبادت کرتا ہے اور جب تک عبودیت و عبادت نہ ہو تو خوفِ صحیح ہے نہ رجاء، اور جب عبادت حاصل ہے تو دونوں یعنی خوف و رجاء عبادت ہیں اور جہاں عبادت نہیں وہاں عبارت اور لفظِ امید و رجاء کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔
آپ کی تصانیف بہت ہیں اور نکات و اشارات عجائب و غرائب کافی۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم کے بعد جو سب سے پہلے مشائخِ کرام میں سے برسرِ منبر جلوہ افروز ہوئے وہ بھی ابو زکریا حضرت یحییٰ بن معاذ ہیں اور میں ان کے کلام کو بہت پسند کرتا ہوں اس لیے کہ ان کا کلام
(صفحہ 257 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 258 پر ہے۔)
صفحہ۲۵۸
میرا رفیق طبع ہے اور سماعت میں نہایت لذیذ اور اصلیت میں بحد غایت دقیق اور عبارت کی حیثیت سے نہایت مفید ہے۔
"دنیا جائے اشغال و اعمال ہے اور آخرت مقامِ خوف و ہول اور بندہ ہمیشہ اعمال اور خوف میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے ٹھہرنے کا مقام یا جنت ہو جاتی ہے یا جہنم بن جاتا ہے کہ اس میں پڑا روتا رہے۔"
بہت بختاور اور خوش وقت وہ ولی ہے کہ اعمال و اشغال اور خوف سے مامون ہو کر اپنی ہمت کو دونوں سے جدا کر کے اپنے ربِّ حقیقی سے پیوستہ ہو چکا ہو۔
آپ اپنے خیال میں غنا کو فقر پر بزرگ جانتے تھے اور جب مقام "رے" میں آپ پر بہت قرض ہو گیا تو خراسان کا قصد فرمایا۔ جب بلخ پہنچے تو اہلِ بلخ نے آپ کو روکا تاکہ کچھ وعظ و پند سنیں۔ غرضیکہ یہاں کے لوگوں نے آپ کو ایک لاکھ درہم نذر کیے۔ جب آپ یہاں سے واپس ہوئے تو راستہ میں چوروں نے سب لوٹ لیے اور آپ تنہا نیشاپور تشریف لے آئے۔ آپ کی وفات نیشاپور میں ہوئی، لوگوں میں آپ کی خاص عزت تھی۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت عمرو بن سالم نیشاپوری حدادی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخ المشائخ خراسان، نادرِ زمین و زمان ابو حفص حضرت عمرو بن سالم نیشاپوری حدادی رضی اللہ عنہ ہیں۔ قوم کے بڑے بزرگ اور سادات سے تھے۔ مشائخِ وقت کے بڑے مدوح گزرے ہیں۔ حضرت ابو عبد اللہ الدبوری کے ہمنشیں اور حضرت احمد خضرویہ کے رفیقِ خاص ہیں۔ کرمان سے شاہ شجاع ان کی زیارت کے لیے آئے اور آپ اس وقت بغداد میں تشریف فرما تھے۔ مریدوں نے آپس میں کہا سخت افسوس ہے کہ شیخ الشیوخ خراسان سے یہاں تشریف لائیں اور ہم ان کے کلام فیض ترجمان سے استفادہ نہ کریں، آپ کے لیے ایک ترجمان تلاش کیا جائے (اس لیے کہ عام طور پر یہ سب جانتے تھے کہ آپ کو عربی زبان نہیں آتی)۔
جب آپ مسجدِ شونیزیہ میں تشریف لائے تو بہت سے مشائخ یہاں جمع ہوئے۔ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے۔ آپ نے تمام مشائخ کے ساتھ ایسی فصیح و بلیغ عربی
صفحہ۲۵۹
زبان میں گفتگو فرمائی کہ حاضرینِ جلسہ آپ کے بلاغت کے مقابلہ سے عاجز آ گئے۔ آپ سے سوال کیا گیا: "مَا الْفُتُوَّةُ؟" (حضرت! فتوت کیا چیز ہے؟)
آپ نے فرمایا: تمام مشائخ تشریف فرما ہیں اور سب کے بعد دیگرے تعریفِ فتوت کریں۔
چنانچہ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ پہلے شروع ہوئے اور فرمایا:
"میرے نزدیک فتوت یہ ہے کہ انسان اپنی فتوت یعنی جوانمردی کو نہ دیکھے اور جو کچھ کر رہا ہے اس فعل کو اپنی طرف منسوب نہ کرے اور یوں نہ کہے کہ یہ میں کرتا ہوں۔"
حضرت ابو حفص رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
مَا اَحْسَنَ مَا قَالَ الشَّیْخُ! (نہایت اچھا بیان فرمایا شیخ نے) وَلٰكِنَّ الْفُتُوَّةَ عِنْدِیْ اَدَاءُ الْاِنْصَافِ وَتَرْكُ مُطَالَبَةِ الْاِنْصَافِ۔
"لیکن میرے نزدیک فتوت نام ہے انصاف کا حق ادا کرنا اور اپنے لیے طلبِ انصاف کو ترک کرنا۔"
"اے میرے یارو! کھڑے ہو جاؤ، ابو حفص جوانمردی میں آدم (علیہ السلام) اور آدم کی اولاد سے بڑھ گیا۔"
آپ کی ابتداء توبہ کا حال یوں بیان کرتے ہیں کہ آپ ایک لونڈی پر فریفتہ ہو گئے تھے۔ لوگوں نے آپ سے کہا کہ شہر نیشاپور میں ایک جادوگر یہودی ہے اس کے ذریعہ سے تمہارا مقصد حل ہو جائے گا۔ حضرت ابو حفص اس کے پاس آئے اور سب حال سنایا۔ یہودی نے کہا چالیس روز کے لیے نماز چھوڑنی ہوگی اور اپنے تمام ذکر و اذکار نیک نیتی کے اعمال دل اور زبان سے ترک کرنے ہوں گے تو میں جوافسوں کروں گا وہ تیری کامیابی میں پورا ہوگا۔
آپ نے ایسا ہی کیا۔ جب چالیس دن گزر گئے یہودی نے اپنا منتر کیا لیکن آپ کی مراد پوری نہ ہوئی تو یہودی کہنے لگا آپ نے تمام باتیں میری ہدایت کے موافق پوری نہیں کیں، آپ کچھ نہ کچھ کرتے رہے ہیں۔
صفحہ۲۶۰
حضرت ابو حفص نے فرمایا: اپنے اعمالِ ظاہری میں نے سب ترک کر دیے لیکن میرا ضمیر جو ملامت کرتا رہا وہ علیحدہ بات ہے، یا ایک روز جس راستہ سے میں آ رہا تھا وہاں ایک پتھر پڑا ہوا تھا اسے میں نے راستہ سے علیحدہ کر دیا تھا تاکہ اس سے کسی کو ٹھوکر نہ لگے۔
یہودی نے کہا ابو حفص! لوگوں کی ایذا رساں چیز کو تم نے ہٹایا، اور اپنے ربّ کو غضبناک کیا اور چالیس روز کا حکم ضائع کر دیا۔ اگر تو اپنے ربّ کو غضبناک نہ کرتا تو وہ تجھے اس لونڈی کی مہاجرت کے رنج سے نجات دے دیتا۔
حضرت ابو حفص رحمۃ اللہ علیہ نے اسی وقت توبہ کی اور وہ یہودی بھی مشرف باسلام ہو گیا۔ آپ لوہار کا کام کرتے تھے، آپ مقام باورد گئے اور حضرت عبد اللہ باوردی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کی اور ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہو گئے۔ جب واپس نیشاپور تشریف لائے، بازار میں ایک نابینا کو دیکھا کہ تلاوتِ کلامِ پاک کر رہا ہے، آپ اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے اس کی تلاوت سن رہے تھے کہ آپ پر وجد طاری ہوا اور حالتِ جذب میں بغیر سندا سے کے، سرخ لوہا بھٹی سے ہاتھ میں لے لیا۔ جب شاگردوں نے یہ حال دیکھا تو حواس باختہ ہو گئے۔ جب آپ کی کیفیتِ وجدانی فرو ہوئی اور ہوش میں آئے تو کسبِ معاش سے ہاتھ اٹھا لیا اور دکان چھوڑ دی۔
"میں نے کسبِ معاش چھوڑا، پھر اس کی طرف رجوع ہوا، پھر کسب نے مجھے چھوڑا تو اب میرا اس کی طرف رجوع نہیں۔"
اس لیے کہ جو چیز بندہ اپنے ارادہ سے ترک کرے وہ ترک کرنا بہتر نہیں، اس لیے کہ یہ صحیح اصول ہے کہ ہر کسب محلِ آفت ہے اور یہ بہتر نہیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ بلا قصد و ارادہ غیب سے وہ چیز ترک ہو اور ہر موقع پر اختیارِ بندہ اس سے متصل نہ رہے اس لیے کہ لطیفِ حقیقت اس ارادہ کے ساتھ زائل ہو جاتا ہے۔
تو کسی کا ترک و اخذ بندہ کی طرف سے بالکل درست نہیں اس لیے کہ عطا و زوال درحقیقت من جانبِ اللہ ہے تو پھر جو عطا آئے تو حق کی طرف سے اسے لے اور جب زوال آئے تو ترک کر دے۔
جب اس حال میں صوفی ہو جاتا ہے تو وجودِ اخذ و ترک من جانبِ اللہ ہو جاتا ہے نہ یہ کہ بندہ کی طرف سے ہو کہ بندہ اپنی کوشش سے اس کا لینے والا بنے یا دفع کرنے والا۔ تو اگر ہزار سال
صفحہ۲۶۱
مرید قبولِ حق میں کوشاں رہے تو اتنا نہیں ہو سکتا کہ ایک لمحہ بھی اس کا قبولیتِ حق کے ساتھ مانا جائے اس لیے اقبالِ لایزال قبولیتِ ازلی کے ساتھ بستہ ہے اور سرور و سرمدی سعادتِ سابقۂ ازلیہ سے پیوستہ اور بندہ کو اخلاص و خلوص کے سوا چارہ نہیں۔ تو وہ بندہ محبوبِ بارگاہ ہے جو تمام اسباب و مسبب کی مشیت پر چھوڑ دے۔
حضرت ابو صالح حمدون رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے قدوۂ اہلِ ملامت حضرت ابو صالح حمدون ابن احمد بن عمار القصار رضی اللہ عنہ ہیں۔ قدماء مشائخ میں متورع اور فقہ کے اندر خاص درجہ کے مالک تھے، آپ کا سلسلہ نوری تھا اور حضرت ابو تراب نخشبی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور حضرت علی نصر آبادی کے مقربوں میں سے تھے۔ آپ کے نہایت دقیق رموز اور اعمال میں آپ کا کلام دقیق مشہور ہے اور مجاہدات میں اتنے منصب بلند پر تھے کہ نیشاپور کے ائمہ و مشائخ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ آپ منبر پر جلوہ فرما ہوں اور لوگوں کو وعظ کریں تاکہ آپ کے کلام سے لوگوں کے دلوں میں فائدہ پہنچے۔
آپ نے فرمایا مجھے وعظ کہنا روا نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ ابھی میرا دل دنیا اور جاہ کے ساتھ وابستہ ہے۔ میرا کلام بے فائدہ ہے اور لوگوں کے دلوں پر اثر نہیں کرے گا اور جو کلام دلوں پر اثر پذیر نہ ہو وہ علم کے استخفاف کا موجب ہے اور شریعتِ مطہرہ کا استہزاء کرنا ہے۔ کلام کرنا اس کے لیے مسلّم ہے کہ خاموشی اس کی دین میں داخل ہو اور جب بولے تو جتنا خلل ہومٹ جائے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ ہم سلفِ صالحین کس لیے دلوں کے واسطے بہت مفید ہیں آج کل کی باتیں کرنے سے۔ آپ نے فرمایا:
"اس لیے کہ وہ کلام فرماتے تھے اعزازِ اسلام کے لیے اور نفوس سے نجات کے لیے اور رضاءِ الٰہی حاصل کرنے کو اور ہم بولتے ہیں نفس کے اعزاز کی خاطر اور طلبِ دنیا کے لیے اور لوگوں میں مقبولیت پیدا ہونے کی غرض سے۔"
تو جو کلام موافقتِ حق کے لیے ہو وہ حق کی مدد کے ساتھ ہوتا ہے، اس میں رعب و داب ہوتا ہے اور اشرار پر اثر کرتا ہے اور جو کلام اپنی موافقت کے لیے ہو اس میں ذلت و خواری ہے اور اس کا فائدہ کچھ نہیں، ایسے بولنے سے نہ بولنا بہتر ہے اس لیے کہ ایسا بولنے والا اپنے لفظوں سے خود بیگانہ ہوتا ہے۔
صفحہ۲۶۲
حضرت منصور بن عمار رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخِ باوقار، مشرفِ خواطر و اسرار حضرت ابو سری منصور بن عمار رضی اللہ عنہ ہیں۔ اکابر مشائخ سے گزرے ہیں اور اہلِ عراق کے ہم صحبت اور اہلِ خراسان میں مقبول الکلام واعظ تھے۔ آپ کے بیانِ لطیف کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ اثنائے تقریر میں فنون و علوم و روایات و درایات، احکام و معاملات کے دریا موجزن ہوتے تھے بلکہ بعض اہلِ تصوف نے تو آپ کی تعریف میں بہت ہی مبالغہ کیا ہے۔
"اس کے وجہِ منیر کو پاکی ہے جس نے عرفاء کے قلوب کو ذکر کا برتن بنایا اور زاہدوں کے دلوں کو ظرفِ توکل کیا اور متوکلین کے قلوب کو منبعِ رضاء بنا دیا اور درویشوں کے ضمیر کو محلِ قناعت قرار دیا اور دنیا داروں کے دلوں کو طمع کا برتن کیا۔"
اس میں عبرت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عضو کو حساس بنایا اور اس میں معنی متجانس رکھے، چنانچہ ہاتھوں کو محلِ بطش و گرفت بنایا، پیروں کو چلنے کے کام کا آلہ قرار دیا، آنکھوں کو دیکھنے کے لیے پیدا کیا، کانوں کو سماعت کے واسطے مخصوص بنایا اور زبان کو بولنے کے لیے رکھا۔
اور ان اعضاء کے اسماء خلقی میں اور وہ افعال جو ان سے ظاہر ہوتے ہیں، ان میں کوئی زیادہ خلاف نہیں رہا بلکہ ہر جگہ ہر عضو ایک کا اپنے کام میں یکساں ہی ہے مگر دل ایک ایسی چیز پیدا فرمائی کہ ہر ایک کے اندر وہی دل ہے مگر اس میں مختلف ارادے اور مختلف خواہشات ہیں۔ ایک دل ظرفِ عرفان بنایا تو ایک دل منبعِ ضلالت کر دیا۔ ایک دل میں قناعت ڈال دی تو ایک دل کو اوعیۂ سمعہ دریا کر دیا۔ تو معلوم ہوا کہ مخلوقات میں سے وہ مخلوق جس سے خلاقِ عالم کی صنعتِ کمال تعجب خیز ظاہر ہو، سوا دل کے نظر نہیں آتی۔
(اسکین صفحہ 262 کے آخر پر یہ قول ادھورا کٹا ہوا ہے؛ ترجمہ اگلے صفحہ 263 پر ہوگا۔)
صفحہ۲۶۳
"لوگوں میں دو گروہ ہیں: یا بخود عارف ہیں یا بحق عارف ہیں۔ وہ لوگ جو بخود عارف ہیں ان کا مشغلہ مجاہدہ و ریاضت ہے اور وہ لوگ جو بحق عارف ہیں ان کا مشغلہ خدمت و عبادت و طلبِ رضا ہے۔"
تو عارفانِ بخود کی عبادت ریاضت ہوئی اور عرفانِ بحق کی عبادت ریاست ہوئی۔ پہلا اس لیے عبادت کر رہا ہے کہ درجہ حاصل کرے، دوسرا اس لیے عبادت کرتا ہے کہ عطا شدہ نعمت کا شکر گزار رہے۔
فَشَتَّانَ مَا بَیْنَ الْمَنْزِلَتَیْنِ۔ "تو دونوں کے منازل و مقام میں بڑا فرق ہے۔" یعنی عارف بخود وہ بندہ ہے جو مجاہدہ پر قائم ہے اور عارف بحق وہ بندہ ہے جو مشاہدہ میں محو ہے۔ آپ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"لوگ دو قسم کے ہیں: ایک نیاز مند بخدا، یہ نہایت اعلیٰ و ارفع درجہ والے ہیں اور شریعتِ مطہرہ نے بھی انہیں بلند درجہ کہا۔ دوسرے وہ ہیں جو اپنی نیاز مندی اور حاجت کو نہیں دیکھتے، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ازل ہی میں مخلوق کے رزق، اجل، حیات، شقاوت، سعادت سب مقدر کر دی ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ تو وہ گروہ اپنی حوائج میں حاجات کا محتاج ہوا اور یہ گروہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے مستغنی۔"
یعنی پہلا گروہ عینِ افتقار میں مقاديرِ الٰہی سے محجوب ہوا۔ دوسرا گروہ اپنی حاجتوں سے مستغنی ہو کر اللہ کے ساتھ غنا و مشاہدہ میں ہوا۔ تو پہلا گروہ نعمت کے ساتھ ہوا اور دوسرا گروہ منعم کے ساتھ۔ پہلا گروہ مشاہدۂ نعمت میں اگرچہ غنی ہے مگر فقیر ہے، دوسرا گروہ مشاہدۂ منعم میں اگرچہ فقیر ہے مگر غنی ہے۔
حضرت احمد بن عاصم انطاکی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے ممدوحِ اولیاء، قدوۂ اہلِ رضا حضرت ابو عبد اللہ احمد بن عاصم انطاکی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اعیانِ قوم اور سادات قبائل سے گزرے ہیں۔ علومِ شریعت کے بہترین عالم، اصول و
صفحہ۲۶۴
فروع میں اعلیٰ ماہر تھے، نہایت دراز عمر پائی۔ قدماء مشائخ کی صحبتوں سے مستفیض ہوئے۔ اتباعِ تابعین کو دیکھا اور بشر حافی اور سری سقطی رضی اللہ عنہما کے ہمعصر تھے، حضرت حارث محاسبی کے مرید تھے۔ حضرت فضیل ابن عیاض کی بھی آپ نے زیارت کی اور ان کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے۔ آپ اکثر زبانوں میں ستودہ تھے، آپ کا کلام بہت بلند مانا گیا ہے۔ آپ کے لطائف نہایت شانی ہیں۔ علمِ طریقت میں آپ ماہر گزرے ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"نافع ترین فقر وہ ہے جس سے تُو جمال پائے اور اپنے جمیل کے ساتھ راضی رہے۔"
یعنی مخلوقات کا جمال جو ہے وہ اسباب میں ہے اور فقیر کا جمال نفیِ اسباب اور اثباتِ مسبب میں، اور اسی کی طرف رجوع رہ کر اس کے احکام پر راضی رہنے میں۔ اس لیے کہ فقر فقدانِ سبب کا نام ہے اور غنا وجودِ سبب کو کہتے ہیں۔ تو فقیر بلا سبب حق کے ساتھ ہے اور جہاں سبب ہے وہاں وجودِ خودی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سبب محلِ حجاب ہے اور ترکِ سبب محلِ کشف و جمالِ دو جہاں، اور کشف میں رضاء ہے۔ سخط و غضب میں تمام عالم حجاب میں ہے اور یہ بیان فضیلتِ فقر میں واضح ہے۔
حضرت ابو محمد عبد اللہ خبیق رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سالکِ طریقِ تقویٰ، حضرت ابو محمد عبد اللہ بن خبیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ زہاد قوم میں سے گزرے ہیں اور ہر معاملہ میں اعلیٰ متورع تھے، آپ سے بہت روایات ہیں اور آپ فنِ حدیث میں مشہور ہیں، آپ کا مسلک فقہ میں مسلکِ ثوری تھا اور معرفت و حقیقت میں ماہر تھے۔
اور آپ نے مشائخ کرام کی زیارت کی اور ان کے فیضِ صحبت میں رہے۔ آپ کے مضامین قال و عمل میں نہایت لطیف ہیں۔ آپ کا ایک ارشاد ہے:
"جو چاہتا ہے کہ دنیاوی زندگی میں زندہ ہو جائے اسے کہو کہ وہ اپنے دل کو مسکنِ طمع نہ بنائے تاکہ کل ماسوی اللہ سے آزاد ہو۔"
اس لیے کہ طماع ہمیشہ مردہ ہوتا ہے اور اپنے طمع کی قید میں مقید۔ تو جس دل میں طمع ہے وہ دل ایسا ہے جس پر مہر لگی ہو اور لازمی ہے کہ جو دل مختوم یعنی مہر شدہ ہے وہ یقیناً مردہ ہے۔
صفحہ۲۶۵
سبحان اللہ! دل وہی دل ہے جو ماسوی اللہ سے مردہ ہو اور اپنے ربّ کی محبت میں زندہ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے دل کے لیے عزت و ذلت پیدا فرمائی ہے اور جو دل اس کی یاد سے معمور ہے اسے دل کی عزت قرار دیا اور جس میں طمع ہے اسے دل کی ذلت قرار دیا۔ جیسا آپ نے فرمایا ہے:
"اللہ تعالیٰ نے دلوں کو مساکنِ ذکر بنایا مگر جب نفسِ امارہ کی محبت کا اثر پڑا تو مسکنِ شہوت بن گیا۔ اب اس دل کو کوئی چیز شہوات سے پاک نہیں کر سکتی مگر وہ خوف جو مضطر کر دے یا وہ شوق جو آرام بھلا کر قلق پیدا کر دے۔"
تو خوف اور شوق دو ستون ہوئے ایمان کے، جیسے دل محلِ ایمان ہے اور اس کے قرین قناعت و ذکر ہیں نہ کہ طمع اور غفلت۔ تو قلبِ مومن طماع اور تابعِ شہوات نہیں ہو سکتا۔ اس لیے طمع و شہوت کا نتیجہ وحشت ہے جو دل کو متوحش کر کے ایمان سے بے خبر کر دیتی ہے، اور ایمان کو انس بحق لازمی ہے اور وحشت کو انس بغیرِ حق کے ساتھ ضروری۔ جیسا کہ کہا ہے کہ: اَلطَّمَّاعُ مُتَوَحِّشٌ مِنْهُ كُلُّ وَاحِدٍ۔ "طماع کی محبت سے ہر ایک وحشت زدہ ہو جاتا ہے۔"
حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے شیخِ طریقت، امامِ شریعت ابو القاسم حضرت جنید بن محمد بن جنید بغدادی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اہلِ ظواہر اور اربابِ قلوب میں مقبول تھے۔ علوم کے تمام فنون میں کامل اور اصول و فروع و معاملات و عبادات میں مفتیِ اعظم، اور امام اصحابِ ثوری مانے گئے ہیں۔ آپ کے فرامین نہایت عالی ہیں اور آپ کا حال بدرجہ غایت کامل، حتیٰ کہ تمام اہلِ طریقت آپ کی امامت پر متفق ہیں اور کسی مدعیِ علم و تصوف کو آپ پر اعتراض نہیں۔
اور آپ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے بھانجے ہیں اور انہیں کے مرید ہیں۔ ایک روز حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ کوئی مرید ایسا بھی ہے جس کا مرتبہ پیر سے بلند ہو گیا ہو؟ فرمایا: ہاں، اس کے براہین ظاہر ہیں (یعنی حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا) اس کا درجہ میرے درجہ سے بلند ہے (اگرچہ یہ فرمان حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کا بصورتِ تواضع تھا) اور آپ نے جو کچھ فرمایا اپنی بصیرتِ باطنی کے ذریعہ فرمایا، اس لیے کہ کوئی اپنے سے اوپر والے کو نہیں دیکھ سکتا کیونکہ دیدار کا تعلق تحت سے ہے۔ بناء بریں آپ نے یعنی
صفحہ۲۶۶
حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے جبکہ انہیں دیکھا اپنی نظر میں بلند دیکھا مگر یقیناً اپنے درجہ سے یہ دیکھنا نیچے ہی درجہ کا دیکھنا ہوگا۔
اور مشہور ہے کہ زمانۂ حیاتِ سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ میں پیر بھائیوں نے حضرت جنید بن محمد سے عرض کی کہ ہمیں کچھ فرمایئے تاکہ ہمارے دل سکون و راحت پائیں۔ آپ نے صاف انکار کر دیا اور فرمایا جب تک میرے شیخ حضرت سری جلوہ آرا مسندِ ظاہر ہیں، میں کوئی بات کہنے کا مجاز نہیں رکھتا۔ یہاں تک کہ ایک رات خوابِ استراحت میں تھے کہ سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آراء سے مشرف ہوئے۔ دیکھا کہ حضور ﷺ فرما رہے ہیں: "جنید! لوگوں کو کچھ سنایا کر، اس لیے کہ تیرے بیان سے اللہ تعالیٰ ایک عالم کی نجات فرمائے گا۔"
جب بیدار ہوئے تو دل میں خطرہ پیدا ہوا کہ میں اپنے مرشد کے درجہ سے اتنا بلند ہو گیا ہوں کہ حضور ﷺ نے مجھے حکمِ دعوت فرمایا۔ جب صبح ہوئی حضرت سری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرید بھیجا اور حکم دیا کہ جب جنید نماز سے فارغ ہوں تو کہو کہ میرے مریدوں کی درخواست تم نے رد کر دی اور انہیں کچھ نہ سنایا، اشیاخِ بغداد نے سفارش کی اسے بھی تم نے رد کر دیا، میں نے پیغام بھیجا پھر بھی آمادۂ وعظ نہ ہوئے، اب جبکہ پیغمبرِ عالم سید اکرم ﷺ کا حکم تمہیں ملا ہے لہٰذا اس حکم کی تعمیل کرو۔
حضرت جنید بن محمد نے یہ حکم سنتے ہی جواب میں کہلا بھیجا کہ حضور! جو میرے دماغ میں افضلیت کا سودا سمایا تھا وہ جاتا رہا ہے اور میں نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ سری سقطی میرا مرشدِ کامل میرے تمام حالاتِ ظاہر و باطن سے مشرف ہے۔
اور آپ کا درجہ ہر حال میں میرے درجہ سے بلند ہے اور آپ یقیناً میرے اسرار پر مطلع ہیں اور میں آپ کے منصبِ جلیل کی بلندی سے محض بے خبر ہوں اور اپنی اس غلطی سے استغفار کرتا ہوں جو میں نے اس خواب کے بعد اپنے متعلق سوچا تھا۔
حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی: حضور! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ میں نے خواب میں حضور ﷺ کی زیارت کی؟ فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ کے جمال سے خواب میں شرف حاصل کیا، مجھے جنابِ باری تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ میں نے اپنے حبیب محمد ﷺ کو جنید کے پاس بھیجا کہ اُسے حکم دو تاکہ وہ وعظ کہے تاکہ اہلِ بغداد کی مراد برآئے۔
یہ حکایت واضح دلیل ہے کہ پیرانِ کامل ہر صورت میں مرید کے حالات پر واقف ہوتے
صفحہ۲۶۷
ہیں۔ آپ کے کلام بہت بلند ہیں اور رموز نہایت لطیف۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"کلامِ انبیائے کرام حضور کے ذریعے ہوتا ہے (یعنی وہ جو کچھ فرماتے ہیں آنکھوں دیکھی اور تفصیلی علم کے ذریعے ہوتا ہے) اور کلامِ صدیقین مشاہدہ سے ہوتا ہے۔"
یعنی ان کی صحبتِ خبر محض مشاہدے پر ہے جو نظرِ ناظر سے ہوتا ہے اور اسی وجہ میں مشاہدہ تخیل سے ہے اور خبر سوائے آنکھ کے دیکھی نہیں جا سکتی اور اشارات سوائے غیر کے نہیں ہوتے۔
تو صدیقین کا مرتبۂ کمال انبیائے کرام علیہم السلام کے ابتدائی مراتب کے برابر ہوتا ہے اور اس میں جو فرق ہے وہ واضح ہے، اور یہ عقیدہ ملحدین کا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کو فضیلت میں مؤخر مانتے ہیں اور اولیائے کرام کو مقدم کہتے ہیں۔
آپ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ایک بار میرے دل میں خواہش ہوئی کہ ابلیس لعین کو دیکھوں۔ میں ایک دن مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا تھا کہ ایک بڈھا آیا اور دور سے میری طرف دیکھا۔ جب میں نے اس کو دیکھا تو میں نے اپنے دل میں وحشت کا اثر محسوس کیا۔ جب وہ میرے نزدیک آیا میں نے اس سے پوچھا: بڈھے! تو کون ہے کہ میری نظر اثرِ وحشت سے تجھے دیکھنے کی تاب نہیں لاتی اور تیری نحوست کی ہیبت کو میرا دل برداشت نہیں کرتا!! کہنے لگا کہ میں وہی ہوں جس کے دیکھنے کی آپ نے خواہش فرمائی تھی۔ میں نے کہا: ملعون! تجھے حضرت آدم علیہ السلام کے سجدہ سے کس چیز نے روکا؟ بولا: جنید! آپ کا یہ خیال ہے کہ میں غیرِ خدا کو سجدہ کر لیتا۔ حضرت جنید فرماتے ہیں: میں متحیر سا ہو گیا اور اس کا یہ کلام میرے ضمیر پر اثر پذیر ہوا ہی تھا کہ مجھے الہام ہوا:
"اے جنید! اس خبیث کو کہہ دو کہ بے ایمان تو جھوٹا ہے، اگر تو بندہ تھا تو اپنے مالک کے حکم سے باہر نہ ہوتا اور اس کی نہی سے تقرب نہ کرتا۔ شیطان نے یہ آواز میرے قلب کی سن لی اور ایک چیخ ماری اور بولا: خدا کی قسم! اے جنید! تو نے مجھے جلا ڈالا، اور نظر سے غائب ہو گیا۔"
یہ حکایت آپ کے تحفظِ عصمت پر خاص دلیل ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولی کی خود
(صفحہ 267 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 268 پر ہے۔)
صفحہ۲۶۸
نگرانی فرماتا ہے اور ہر حالت میں مکرہائے شیطانی سے محفوظ رکھتا ہے۔
ایک واقعہ ہے کہ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کا ایک مرید کچھ بداعتقاد ہوا اور اس غلط فہمی میں پڑا کہ اب میں بھی کسی درجہ پر فائز ہو چکا ہوں۔ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ سے کچھ اعراض کر لیا۔ چند روز بعد اس غرض سے آیا کہ تجربہ کرے اور دیکھے کہ میرا خیال حضرت جنید پر منکشف بھی ہوا یا نہیں۔ حضرت جنید اپنے نورِ فراست سے اس کی حالت ملاحظہ فرما رہے تھے۔ جب وہ مرید آیا، آپ سے کچھ سوال کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا: کیسا جواب چاہتا ہے، الفاظ و عبارات میں یا حقیقتِ معنی میں؟ مرید نے عرض کی دونوں طرح۔ آپ نے فرمایا کہ عبارتی جواب تو یہ ہے کہ اگر میرا تجربہ کرنے کی بجائے اپنا تجربہ کر لیتا تو میرے تجربہ کا محتاج نہ ہوتا اور اس جگہ تجربہ کی غرض سے نہ آتا۔
اور معنوی جواب یہ ہے کہ میں نے تجھے منصبِ ولایت سے معزول کیا۔ یہ فرمانا تھا کہ مرید کا چہرہ سیاہ ہو گیا اور پکارا کہ حضور! راحتِ یقین میرے دل سے جاتی رہی۔ توبہ کرنے لگا اور پہلی بکواس سے ہاتھ اٹھایا۔ اس وقت حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تُو نہیں جانتا کہ اللہ کے ولی والیانِ اسرار ہوتے ہیں، تجھ میں ان کی ضرب کی برداشت نہیں۔ پھر ایک پھونک اس پر ماری، وہ پھر اپنے پہلے درجہ پر متمکن ہوا۔ اُس دن سے خاصانِ بارگاہ کے معاملات میں دخل دینے سے بھی توبہ کی اور پختہ عہد کر لیا۔
حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخ المشائخِ طریقت، امامِ ائمۂ شریعت، شاہِ اہلِ تصوف، بری از آفتِ تکلف حضرت ابو الحسن احمد بن محمد نوری رحمۃ اللہ علیہ نہایت نیک عمل اور واضح کلام فرمانے والے اور مجاہدات میں نہایت عالی ظرف گزرے ہیں۔ تصوف میں آپ کا مسلک مخصوص ہے اور صوفیوں میں اسی وجہ سے ان کی جماعت کو "نوری" کہتے ہیں۔ اور یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ متصوفین میں باعتبارِ مسلک بارہ (۱۲) فرقے ہیں۔ دو گروہ مردود ہیں اور دس گروہ مقبولِ بارگاہ ہیں۔ وہ بارہ فرقے یہ ہیں: (۱)
۱۔ (حاشیہ) ان میں سے دس فرقے شماری فرقہ تک محققانِ اہلِ سنت و جماعت سے گزرے ہیں لیکن دو گروہ مردود ہیں: ایک حلولی جو حلول و امتزاج کا قائل ہے۔ (از مترجم) یعنی اس فرقہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے جسم میں حلول کرتا اور بندہ میں آ کر اتر جاتا ہے (معاذ اللہ!) اور اسی فرقہ سے وابستہ سالمی اور مشبہہ ہے۔ (مشبہہ کا تو عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جسم ہے) (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر)
دوسرا فرقہ حلاجیان ہے جن کے نزدیک ترکِ شریعت اور الحاد موجبِ نجات ہے۔ یہ فرقہ بھی مردود ہے اور ان میں دو فرقہ ہیں: ایک اباحتیان، دوسرا فارسیان۔ ان کی تصریح اسی کتاب میں اپنے مقام پر تمہیں ملے گی۔
ان فرقوں کے عقائد اور ان کے فرق اور اختلاف کا بیان مفصل درج کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔ لیکن حضرت ابو الحسن احمد نوری رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ پاکیزہ ہے اور ترکِ مداہنت اور رفعِ مساحت میں آپ نہایت سخت تھے اور ہمیشہ مجاہدات و ریاضات میں رہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک بار حاضر ہوا۔ میں نے دیکھا آپ صدر مقام پر تشریف فرما ہیں۔ میں نے کہا:
"اے ابو القاسم! تم نے ان سے چھپایا تو انہوں نے تمہیں صدر نشین بنا لیا اور میں نے انہیں نصیحت کی تو انہوں نے مجھے پتھروں سے مارا۔"
اس لیے کہ مداہنت کو خواہشاتِ نفسانی سے موافقت ہے اور حق گوئی اور نصیحت کو مخالفت۔ اور آدمی اس چیز کا دشمن ہے جو اس کی خواہشات کے مخالف ہو اور اس کا دوست ہے جو اس کے ہوائے نفسانی کے موافق ہو۔ حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے رفیقِ خاص تھے اور حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید۔ اور آپ نے بہت سے مشائخ کرام کی زیارت کی اور ان کی صحبت میں رہے اور آپ نے حضرت احمد بن ابی الحواری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی پایا۔
(بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ سے) اور وہ جسم ایسا ہے کہ عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتی۔ اور فرقۂ سالمیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ صورتِ انسانی میں جلوہ فرما ہوگا اور امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں (معاذ اللہ) ظہور کرے گا اور تمام مخلوقات کے لیے قیامت کے دن جن و انس اور ملائکہ اور حیوانات کی شباہت میں ظہور کرے گا اور ہر ایک کے ساتھ ایک خاص صفت ہوگی، حالانکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تشبیہ و شباہت سے منزہ ہے: لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ وَهُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۔ (از غنیۃ الطالبین، مترجم غفرلہ)
صفحہ۲۷۰
فنِ تصوف میں آپ کے اشارات نہایت لطیف ہیں اور آپ کے اقوال نہایت پیارے اور جمیل، فنون میں آپ کے نکات عالی مشہور ہیں۔
"اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملنا غیر سے مفارقت ہے اور غیر اللہ سے علیحدہ ہونا اللہ سے ملنا ہے۔"
یعنی جس کا دل اللہ تعالیٰ کے ساتھ جمعیتِ خاطر حاصل کر لے تو غیر خدا سے وہ قطعاً علیحدہ ہے اور اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملنا اندیشۂ مخلوق سے جدا ہو جانا ہے۔ تو جب مخلوقات سے اعراض صحیح ہو جائے تو اقبالِ بحق درست ہوگا اور یہ مسلّم امر ہے کہ اقبالِ بحق درست ہونے کی صورت میں ضِدّان لَایَجْتَمِعَانِ "دو ضدیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔"
بقولِ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ:
ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں ۔ ایں خیالست و محالست و جنوں (از مترجم)
ایک حکایت میں ہے کہ حضرت ابو الحسن احمد نوری رحمۃ اللہ علیہ ایک بار ایک مکان میں تین روز تک متواتر شور کرتے رہے۔ لوگوں نے حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں عرض کی۔ آپ فوراً اٹھے اور تشریف لائے اور فرمایا: اے ابو الحسن! اگر تمہیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ اس بے نیازی کے ساتھ شور کرنا فائدہ مند نہیں ہے تو اپنے دل کو رضا و تسلیم کے محور پر لاؤ تاکہ تمہارا دل خوش و خرم رہے۔
حضرت ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ، حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی اس ہدایت پر خاموش ہوئے اور فرمانے لگے: ابو القاسم! تم میرے بہترین استاد ہو۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"ہمارے زمانے میں محبوب ترین دو چیزیں ہیں: ایک وہ عالم جو اپنے علم پر عامل ہو، دوسرا وہ عارف جو حقائق و راز اپنے کلام میں بیان کرے۔"
یعنی ہمارے زمانہ میں علم و معرفت دونوں محبوب ہیں اس لیے کہ علم بے عمل علم نہیں اور عرفان بے حقیقت عرفان نہیں۔
صفحہ۲۷۱
اس بیان میں حضرت ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے زمانہ کا پتہ دیا اور حقیقتاً ان کے وقت تک ہمیشہ یہ دونوں چیزیں محبوب رہیں۔
آج کے دن بھی اگرچہ یہ دونوں چیزیں عزیز ہیں مگر اب بات یہ ہے کہ جو شخص کسی عالم کی یا عارف کی تلاش میں مشغول ہو تو اس کے لیل و نہار پراگندہ ہو جائیں گے مگر اُسے عارف و عالم نہیں ملے گا۔ آج کے دن طالب کو چاہیے کہ خود جدوجہد میں مشغول ہو اور اپنے ربّ کی طرف رجوع کرے تاکہ اسے عالم میں عالم و عارف ہی نظر آئیں اس لیے کہ عالم و عارف اسے عزیز ہے اور عزیز شے مشکل ملتی ہے اور ظاہر ہے کہ جو شے عزیز الوجود ہو اس کی تلاش میں پریشان ہونا تضیعِ وقت کرنا ہے۔ تو پھر جب اس نے علم و معرفت اپنے میں طلب کی تو گویا اس نے حقیقت و معرفت اپنے اندر پائی۔ لہٰذا یہی طریقہ بہترین ہے کہ فی زمانہ خود جدوجہد کرے اور اپنے ربّ سے اس درجہ کی طلب کرے۔
"جو حقائقِ اشیاء تقربِ الٰہی سے جانے، تو تمام اشیاء کی طرف جو اس کا رجوع ہے، وہ خالقِ اشیاء کی طرف ہے نہ کہ اشیاء کی طرف۔"
اس لیے کہ وجودِ ملک اور ظہورِ ملک، مالک پر موقوف ہے۔
تو عارف کی راحت رویتِ مکون پر ہے نہ کہ کون پر۔ اس لیے کہ اگر اشیاء کو علتِ افعال جانے گا ہمیشہ رنجور و غمگین رہے گا اور ہر شے کی طرف رجوع کرنا اس کے لیے شرک ہوگا اس لیے کہ یہ اشیاء کو سببِ فعل جانتا ہے اور سبب اپنے آپ بھی قائم نہیں ہوتا، بلکہ وہ مسبب کے ماتحت ہوتا ہے۔ تو جب مسبب الاسباب ہی خالقِ اسباب ہے تو اسی کی طرف رجوع کرنا مشاغلِ ماسوی اللہ سے نجات دلاتا ہے۔
ابو عثمان حضرت سعید بن اسماعیل حیری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے مقدم سلف از سلف خود خلف ابو عثمان حضرت سعید بن اسماعیل حیری رضی اللہ عنہ ہیں۔ قدماء و اجلہ صوفیاء سے گزرے ہیں اور اپنے زمانہ میں فردِ فرید تھے اور اہلِ دل آپ کو منصبِ رفیع پر مانتے تھے۔ آپ کی ابتدائی صحبت حضرت یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی۔ اس زمانہ میں ایک مدت تک حضرت شاہ شجاع کرمانی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں بھی رہ چکے ہیں اور انہیں کے ہمراہ نیشاپور آئے اور حضرت ابو حفص حداد رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کی اور انہیں کی خدمت
صفحہ۲۷۲
میں بقیہ عمر پوری فرمائی۔
آپ سے حکایت منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: میرا دل ہمیشہ سے طلبِ حقیقت کی طرف راجع تھا اور بچپن ہی سے مجھے اہلِ ظواہر سے نفرت تھی۔ تو میں سمجھتا تھا کہ اس ظاہری عمل کے سوا جس پر عوام لگے ہوئے ہیں، شریعتِ مطہرہ میں ضرور کوئی خاص راز بھی ہوگا۔ آخرش میں اپنے مقصود کو پہنچا۔
وہ اس طرح کہ ایک روز یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں میرا گزر ہوا، میں ان سے ملا اور ان کی فیضِ صحبت سے جس راز کی مجھے تلاش تھی وہ مجھے حاصل ہو گیا۔ میں نے ان کی صحبت میں رہنا پسند کیا۔ پھر ایک جماعت شاہ شجاع کے پاس سے آئی، اس نے ان کے فضائل مجھے سنائے مگر میں نے اپنے دل کا رجحان اسی طرف پایا۔ غرضیکہ "رے" سے "کرمان" آیا اور شاہ شجاع کی خدمت میں رہنا چاہا۔ انہوں نے مجھے رہنے کی اجازت نہ دی اور فرمایا تیرا دل رجاء پروردہ ہو چکا ہے، تو نے یحییٰ بن معاذ کی صحبت پائی ہے اس کا مقامِ رجاء ہے اور جس نے مقامِ رجاء حاصل کر لیا ہو وہ طریقتِ ... نہیں پا سکتا۔ اس لیے کہ پیروی رجاء سے سستی کا پھل ملتا ہے۔
فرماتے ہیں کہ میں نے بہت تفرع و زاری کی اور بیس دن تک اُن کے در پر پڑا رہا۔ آخر کرم فرمایا اور مجھے قبول کیا اور فیضِ صحبت سے مستفیض فرمایا۔ ایک مدت تک اُن کی خدمت میں رہا۔ بڑے زبردست مردِ غیور تھے۔ آپ کا ارادہ نیشاپور جا کر حضرت ابو حفص کی زیارت کرنے کا ہوا تو میں بھی آپ کے ہمراہ آیا۔ جس روز شاہ شجاع حضرت ابو حفص حداد کے یہاں آئے، قبا پہنے ہوئے تھے۔
حضرت ابو حفص نے شاہ شجاع کو دیکھتے ہی قیام فرمایا اور استقبال کے لیے آگے بڑھے اور فرمایا: وَجَدْتُ فِی الْقَبَاءِ مَا طَلَبْتُ فِی الْعَبَاءِ۔ "قبا میں وہ چیز میں نے پائی جو میں عباء میں مانگ رہا تھا۔" میں ایک مدت تک وہاں رہا، میری وابستگی یہاں ہو گئی۔ میں شاہ شجاع کے دبدبہ و ولایت نے ان کی صحبت میں زیادہ دیر رہنے سے مجھے روک دیا۔ حضرت ابو حفص فراستِ ولایت سے میری دلی مرضی کو دیکھ رہے تھے اور در حقیقت میں تفرع و زاری کے ساتھ جنابِ باری میں دستِ دعا کیا کہ مجھے ابو حفص کی صحبت اس طرح میسر ہو کہ شاہ شجاع مجھ سے آزردہ نہ ہوں۔
غرضیکہ وہ دن جس دن شاہ شجاع کا قصدِ واپسی کا ہوا تو میں نے اُن کی پیروی میں کپڑے پہنے مگر میرا دل ابو حفص کے پاس ہی تھا کہ روانہ ہونے لگے تو حضرت ابو حفص رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شاہ شجاع رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ حضرت! اس بچے کو خوشی سے میری دلبستگی کے
(صفحہ 272 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 273 پر ہے۔)
صفحہ۲۷۳
لیے چھوڑ دیں کہ میں اسے محبوب رکھتا ہوں۔
حضرت شاہ شجاع رحمۃ اللہ علیہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: اَجِبِ الشَّیْخَ "شیخ کے حکم کی تعمیل کر" اور تشریف لے گئے۔ میں بخوشی یہاں رہ گیا۔
اب میں نے ان کی صحبت میں جو جو عجائبات دیکھے (وہ قابلِ بیان نہیں بس اتنا سمجھ لو کہ) اللہ تعالیٰ نے انہیں مقامِ شفقت فرمایا تھا۔ خداوندِ کریم نے حضرت ابو عثمان کو تین پیروں کے ذریعہ تین مقامات سے عبور کرایا اور یہ تینوں لطیفے ان تین پیروں کے ذریعہ انہیں ملے۔ مقامِ رجاء حضرت یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت سے، مقامِ غیرت صحبتِ حضرت شاہ شجاع رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعہ اور مقامِ شفقت حضرت ابو حفص رحمۃ اللہ علیہ کے فیضِ صحبت سے۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرید پانچ یا چھ یا اس سے بھی زائد مرشدوں کے ذریعے منزل رسیدہ ہو سکے اور ہر پیر کی صحبت علیحدہ علیحدہ اس کے ایک مقام کی کشف کے لیے ہو۔
مگر بہترین اخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے پیر کو اپنی ترقی مقامات میں محدود کر کے اس کی شان نہ گھٹائے اور یہ نہ سمجھے کہ میرے پیر کی قوت کا انتہا یہیں تک تھا۔ بلکہ یوں کہے کہ اُن کے دَر سے میری قسمت میں اتنا ہی حصہ تھا، اس سے زائد نہ تھا اور میرا مرشد اس سے کہیں زیادہ درجہ و رتبہ کا مالک ہے اور یہی ادب کا مقتضیٰ ہے۔ اس لیے کہ راہِ حق میں جو منزل تک پہنچ چکے ہیں انہیں کسی مقام اور حال سے کام نہیں رہتا۔
اور اظہارِ حقائقِ تصوف کے سبب نیشاپور اور خراسان میں حضرت جنید اور حضرت رویم اور حضرت یوسف بن الحسین اور حضرت محمد بن فضل بلخی ہوئے کہ ان کے فیضِ صحبت سے استفادہ کیا اور یہ لوگ اپنے فن میں زبردست دستگاہ رکھتے تھے کہ ان کے برابر مشائخ میں میں نے قوتِ باطنی نہیں دیکھی۔ نیشاپور کے لوگوں نے حضرت ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ کے لیے منبر لگایا اور انہوں نے تصوف کی تعلیم لوگوں میں پھیلائی۔ ان کی کتابیں نہایت اعلیٰ درجہ کے تصوف میں ہیں اور فنِ تصوف میں ان کی روایات بہت یقینی ہیں!
"اللہ تعالیٰ کے لیے یہی زیبا ہے کہ جسے اپنے جامِ عرفان سے سرشار کر دے اور اپنی معرفت کی عزت سے نوازے دے اُسے معصیت کے ساتھ ذلیل نہ کرے۔"
صفحہ۲۷۴
اور اس مرتبہ کا تعلق کسبِ بندہ پر ہے اور اس کے مجاہدۂ دوامی پر اور مورِ حقہ کی رعایت کرنے پر، لیکن حضرت سعید بن اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ کے منقولہ فرمان کے مطابق جب یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہے کہ جب کسی کو اپنی معرفت کے ساتھ نواز دے تو معصیت سے اسے خوار نہ کرے، تو اس کا مفہوم یہ ہوگا: معرفت عطائے حق پر موقوف ہے اور معصیت منتسب الی العبد ہے۔
تو جب کسی کو عطاءِ الٰہی اعزازِ عرفان مل گیا تو محال ہوگا کہ وہ بندہ اپنے کسی برے فعل کے ساتھ ذلیل ہو۔ جیسے حضرت آدم علیہ السلام کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کیفِ عرفان سے نوازا اور تاجِ معرفت بخشا تو محض ذلتِ آدم کے ذریعہ انہیں ذلیل نہیں فرمایا۔
ابو عبد اللہ حضرت احمد بن یحییٰ بن الجلال رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سہیلِ معرفت، قطبِ محبت ابو عبد اللہ حضرت احمد بن یحییٰ بن الجلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ قوم کے سردار سادات وقت سے گزرے ہیں۔ آپ کا طریقہ نہایت نیک اور آپ کی سیرت نہایت پاکیزہ۔ مصاحبِ جنید بغدادی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو الحسن نوری اور ایک جماعت کبرا مشائخ کی زیارت کیے ہوئے ہیں۔ آپ کا کلام نہایت بلند ہے۔ آپ کے اشارات بہت لطیف ہیں، حقائقِ معنی کے بیان میں آپ مخصوص تھے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"عارف کے تمام ارادے اور قوتیں اس کے مولا کی طرف موقوف ہیں تو ہرگز وہ اپنے مولا کے حکم بغیر کسی طرف رجوع نہیں ہوتا۔"
اس لیے کہ عارف کو معرفت کے بغیر کچھ معلوم نہیں اور عارف کا سرمایہ ضمیرِ معرفت ہی ہے اور اس کے ضمیر کا مقصود رویت کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے کہ ہمت و تخیل کی پراگندی رنج و غم کا پھل دیتی ہے اور رنج و غم انسان کو بارگاہِ خاص سے روک دیتا ہے۔
آپ سے ایک حکایت ہے، فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے ایک خوبصورت جوان کو دیکھا۔ وہ جوان آتش پرست تھا۔ میں اس کے جمال کو دیکھ کر متحیر ہو گیا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گیا کہ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ میری طرف سے گزرے۔ میں نے عرض کی: حضور! کیا اللہ تعالیٰ ایسی صورت کو بھی آگ میں جلا دے گا؟ حضرت جنید نے فرمایا:
"صاحبزادے! یہ چند لمحاتِ زندگی کی گرم بازاری ہے جس نے تجھے اس خیال میں پھانسا ہے۔ تو ان چیزوں کو بنظرِ عبرت نہیں دیکھتا، اگر بنظرِ عبرت دیکھے تو ہر ذرہ میں ایسے ہی عجائبات موجود ہیں لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا
صفحہ۲۷۵
ہے کہ تو ضرور اس چہ میگوئی اور بے حرمتی میں معذب ہوگا۔"
حضرت جنید یہ فرما کر تشریف لے گئے اور مجھ پر یہ عذاب آیا کہ کیفِ قرآنی مجھ سے فراموش ہو گیا۔ کئی سال بحضورِ عزّ و جلّ توبہ کرتا رہا، تو کہیں جا کر وہ بلا دفع ہوئی اور اب میری ہمت نہیں کہ موجودات میں سے کسی چیز پر التفات کروں یا اپنے وقت کو بنظرِ عبرت بھی موجودات میں ضائع کروں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت رویم بن احمد رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے وحید العصر، امام الدہر حضرت محمد رویم بن احمد رضی اللہ عنہ ہیں۔ اجلۂ مشائخ و سادات قوم سے گزرے ہیں۔ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کے خاص راز دار، مرید اور آپ کے ہمعصر تھے۔ آپ کا مسلک حضرت داؤد طائی کے موافق تھا۔ فنِ فقہ میں فقیہ الفقہاء تھے اور علمِ تفسیر و قرأت میں کافی حصہ لیے ہوئے تھے۔ مختصر یہ کہ آپ اپنے زمانہ میں یکتائے علماء مانے گئے۔ آپ کی کیفیتِ حالیہ نہایت بلند تھی اور آپ کا مقامِ تقربِ رفیع، سیاحیِ تصوف کی وجہ میں تجرید اور کثرتِ ریاضت کے باعث تفرید میں آپ مشہور تھے۔ آپ نے اپنی آخری عمر اہلِ دنیا میں محض اپنے آپ کو مخفی رکھنے کے لیے گزاری اور خلیفۂ وقت کے معتمد خاص بن گئے اور "قاضی القضاۃ" کے عہدہ پر مامور ہوئے۔ حالانکہ آپ کا درجۂ کمال اس سے کہیں زیادہ بلند تھا۔ اس وجہ سے آپ اس عہدہ میں بھی چھپ نہ سکے۔
حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ نے ان کی تعریف میں فرمایا:
"اس کا مزاج کیا ہو سکتا ہے جس کا دین اس کی حرص آز ہو اور جس کی منتہاء
صفحہ۲۷۶
مقصود اس کی دنیا ہو، نہ وہ صالح اور متقی ہے اور نہ عارفِ نقی۔"
اس جواب میں آپ نے عیوبِ نفس کی طرف اشارہ فرمایا ہے، اس لیے کہ نفسِ امارہ کے نزدیک ہوائے وحرص ہی دین ہے اور نفس کے تابع کا دین حرص کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے اور اس کی شریعت اس کا اتباع ہوتا ہے۔ جو شخص ان کی پیروی کرے، اگرچہ وہ بدعتی ہی کیوں نہ ہو مگر ان کے نزدیک دیندار ہوگا اور جوان کے خلاف چلے اگرچہ وہ پرہیزگار ہی کیوں نہ ہو بے دین کہلائے گا۔
اور یہ آفت ہمارے زمانہ میں اتنی عام ہے کہ اس سے کوئی بھی بچا ہوا نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں ایسے شخص کی صحبت سے جس میں یہ صفت ہو۔
لیکن حضرت محمد رویم بن احمد رحمۃ اللہ علیہ نے مسائل کے جواب میں احوالِ زمانہ کی طرف اشارہ فرمایا تھا اور ممکن ہے کہ انہیں اس حال میں اپنا وجود معلوم ہوا ہو اور اس سے اپنے وجود کی صفت بیان فرمائی ہو، اور عارف چونکہ منصف ہوتا ہے اس لیے منصفانہ انداز میں جواب دیا ہو۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو یعقوب یوسف رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے یگانۂ زمانہ، بلند قدر حضرت ابو یعقوب یوسف رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اپنے وقت کے امام اور مشائخِ عظام میں سے گزرے ہیں، معمر تھے۔ حضرت ذوالنون مصری کے مرید تھے۔ علاوہ ان کے بہت سے مشائخ کی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے:
"ذلیل ترین انسانوں میں طماع فقیر ہے جیسے معزز ترین انسان راستباز محبِّ صادق ہے۔"
طمع، درویش کو دونوں جہان کی ذلت کا شکار بنا دیتی ہے۔ اس لیے کہ درویش پہلے ہی اہلِ دنیا کی نظر میں حقیر و ذلیل ہوتا ہے۔ تو جب وہ اہلِ دنیا سے طمع کرتا ہے تو اور بھی زیادہ حقیر و ذلیل ہو جاتا ہے۔ تو عزت کا غنا اس فقیر سے بہت افضل ہے جو ذلت کے ساتھ فقیر ہو اور طمع درویش کو جھوٹ کے ساتھ منتسب کر دیتی ہے اور محبت اپنے محبوب کی نظر میں سب سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ محبت اپنے آپ کو محبوب کے مقابلے میں حقیر سمجھتا ہے اور محبوب کی تواضع میں رہتا ہے اور یہ بھی نتائجِ طمع میں سے ایک نتیجہ ہے۔ پھر جب طمع جاتی رہتی ہے تو ذلت، عزت سے بدل جاتی ہے۔ جب تک زلیخا کو حضرت یوسف علیہ السلام کی طمع تھی، ہر لحظہ رسوا اور ذلیل ہوتی تھی۔ پھر جب ان کے دل سے طمع جاتی رہی تو پھر اللہ تعالیٰ نے خوبصورتی اور جوانی سب کچھ عطا فرما کر
صفحہ۲۷۷
معزز کر دیا۔ اور قاعدہ ہی کچھ ایسا ہے کہ دوست کی توجہ محبوب کی بے توجہی کے موجب ہوتی ہے اور جب محبت بے نیاز ہو جائے اور طمع جاتی رہے تو محبوب اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اور در حقیقت محبت کی اس وقت تک ہی عزت ہوتی ہے جب تک طمعِ وصل نہ ہو اور جب طمعِ وصل آ جائے اور وہ حاصل نہ ہو تو سب ذلتوں سے بدترین ذلت ہے۔ تو محبت وہی ہے جو محبوب کے وصال و فراق میں مشغول نہ ہو۔
حضرت ابو الحسن سمنون رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے آفتابِ اہلِ محبت، قدوۂ اہلِ معاملت حضرت ابو الحسن سمنون بن عبد اللہ الخواص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اپنے زمانہ کے بے نظیر عارف اور درجۂ عشق و محبت میں شانِ رفیع رکھنے والے تھے۔ مشائخ وقت آپ کو بزرگ جانتے اور "سمنون المحب" کے نام سے پکارتے تھے۔ لیکن آپ اپنے کو "سمنون الکذاب" فرمایا کرتے تھے۔
آپ نے "غلام الخلیل" سے بہت رنج اٹھائے۔ یہ وہ شخص تھا کہ اس نے خلیفۂ وقت کے سامنے خلاف واقعہ شہادتیں دیں اور اس سے شیخ سمنون کو دلی رنج تھا اور غلام الخلیل بڑا ریا کار تھا اور مدعیِ زہد و پارسائی بنا ہوا تھا اور اپنے آپ کو صوفی بنائے ہوئے تھا اور اعیانِ دولت اور خلیفۂ وقت کے ساتھ بہت زیادہ ربط ضبط کر رکھا تھا۔ گویا اس نے دین کو دنیا کے بدلے بیچ ڈالا تھا۔ جیسے کہ اس زمانہ میں اس قسم کے صوفی نما دنیا دار پھرتے ہیں۔ یہ وہ بد باطن تھا کہ لباسِ تصوف میں امراء و خلفاء کے دربار میں پہنچتا اور خاصانِ بارگاہ کے خلاف دربارِ شاہی میں زہر اگلتا اور اس سے اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ خاصانِ بارگاہ کے فیض سے یہ لوگ محروم رہیں اور ان کے فیضِ صحبت سے تبریک حاصل نہ کر سکیں اور یہ ان کی نظروں میں بچا رہے اور فروغِ صدق سے اس کا دروغ دب نہ جائے۔
بڑے خوش قسمت تھے حضرت سمنون کہ ان کے زمانہ میں ان کے اور دیگر مشائخ کرام کے لیے ایک ہی غلام الخلیل تھا۔ ہمارے اس زمانہ میں تو ہر محقق کے لیے لاکھ لاکھ غلام الخلیل موجود ہیں، مگر پرواہ نہیں، اس لیے کہ مردار، کرگس کا ہی حصہ ہوتا ہے۔ مردار گوشت کھانے کے لیے گدھ ہوا کرتے ہیں۔
جبکہ حضرت سمنون کے نورِ عرفان کی بارشوں نے بغداد میں انہیں مرجعِ خلائق بنایا اور ہر ایک آپ کے فیضِ صحبت سے استفادہ کرنے کو جھکا تو غلام الخلیل کو اس کی جلن ہوئی اور حضرت سمنون کے خلاف افتراء پردازیاں شروع کر دیں۔ مختصر یہ کہ ایک عورت حضرت سمنون رحمۃ اللہ علیہ
(صفحہ 277 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 278 پر ہے۔)
صفحہ۲۷۸
کی تابانیِ حسن پر فریفتہ ہو گئی اور خدمت میں حاضر آ کر اپنے آپ کو پیش کیا۔ آپ نے صاف انکار کر دیا۔ مایوس ہو کر حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ آپ حضرت سمنون کو حکم فرمائیں کہ مجھے قبول کر لیں۔ حضرت جنید اس عورت پر سخت ناراض ہوئے۔
جب عورت نے دیکھا کہ کامیابی ناممکن ہے تو اس نے غلام الخلیل کے پاس جا کر افتراء پردازی شروع کی، جیسا کہ عورتوں کا ان کے مکر کے اعتبار سے عام رویہ ہوتا ہے۔ غلام الخلیل تو پہلے ہی جل بھن رہا تھا، اس عورت کے بیانات اس طرح سنے جیسے ایک دشمن اپنے دشمن کے متعلق کچھ سنا کرتا ہے اور پھر خوب طعن و تشنیع حضرت سمنون کی شان میں کرتا رہا۔ حتیٰ کہ خلیفۂ وقت کے کان تک واقعہ پہنچا دیا۔ خلیفہ کچے کانوں کی وجہ سے علی الفور برہم ہوا اور تجویزِ قتلِ سمنون کی ٹھانی۔ جب جلاد بلا لیا گیا اور اس نے ضابطہ کے موافق حکم چاہا تو خلیفہ کی زبان قدرتاً بند ہو گئی اور کچھ حکم نہ دے سکا۔
رات جب سویا تو خواب میں منکشف ہوا کہ قتلِ سمنون تیری سلطنت کے زوال کا موجب ہے (ہوش کر اور غلام الخلیل کی فتنہ پردازی سے اپنی جان بچا)۔ صبح خدمتِ سمنون میں خلیفہ حاضر ہوا اور اپنی غلطی کی معافی چاہی اور بے شان و شکوہ آپ کو بری کیا۔
آپ کے بڑے بلند کلام اور دقیق ارشادات ہیں جن سے حقیقتِ محبت واضح ہوتی ہے اور یہ وہ بلند ہستی ہیں کہ ایک بار آپ سفرِ حجاز سے تشریف لا رہے تھے، مقامِ فید میں آئے تو اہلِ فید نے درخواست کی کہ کچھ وعظ سنائیں۔ آپ منبر پر رونق افروز ہوئے تو مجمع مجتمع نہ تھا۔ آپ نے قنادیل کی طرف رُخ کر کے فرمایا کہ میں تمہیں وعظ سناتا ہوں۔ یہ فرمانا تھا کہ تمام قندیلیں گر گر کر پُورا پُور ہو گئیں۔ آپ کا ارشاد ہے:
"کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ تعبیر نہیں دی جا سکتی مگر اس کی جو اس کی بہ نسبت رقیق ہو اور محبت ایک ایسی باریک چیز ہے کہ اس سے رقیق کوئی شے نہیں، تو اس کی تشبیہ و تعبیر کس شے سے کی جائے۔"
اور اس سے مراد یہ ہے کہ محبت وہ چیز ہے کہ تشبیہ کسی چیز کے ساتھ نہیں ہو سکتی اس لیے کہ محبت صفتِ محبوب ہے، تو پھر اس کی حقیقت تب بیان ہو سکتی ہے جبکہ اس کا ادراک ممکن ہو اور صفاتِ محبوب کا ادراک محال ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
صفحہ۲۷۹
ابو الفارس حضرت شاہ شجاع الکرمانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شاہ شیوخ، ابو الفارس حضرت شاہ شجاع الکرمانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ شہزادہ ہیں، اپنے زمانہ کے بے نظیر صوفی ہوئے ہیں۔ حضرت ابو تراب نخشبی رحمۃ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ ہیں اور بہت سے مشائخ کرام کی زیارت کر چکے ہیں۔ حضرت ابو عثمان حیری کے مناقب میں ان کا مختصر حال بیان ہو چکا ہے۔ تصوف میں ان کے مسائل مشہور ہیں، ایک کتاب "مِرآۃ الحکماء" ان کی مؤلفہ مشہور و معروف ہے۔ آپ کا کلام بہت بلند ہے۔ آپ کا ارشاد ہے:
"اہلِ فضیلت کو اسی وقت تک فضیلت حاصل ہے جب تک کہ وہ اپنی فضیلت کو خود نہ دیکھیں اور جب خود بینی آ گئی فضیلت جاتی رہتی ہے اور اہلِ ولایت اسی وقت تک ولی ہوتے ہیں جب تک انہیں اپنی ولایت کا احساس نہ ہو۔ جب وہ اپنے آپ کو ولی سمجھنے لگیں تو سمجھ لو کہ ان کی ولایت گئی۔"
اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک فضل و ولایت رہتا ہے تو خود بینی ساقط ہو جاتی ہے۔ جب خود بینی آ جاتی ہے تو معنیِ حقیقیِ ولایت کے اس سے ساقط ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ فضل ایسی صفت ہے کہ جسے وہ حاصل ہو جائے تو اسے معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح ولایت بھی ایک ایسی صفت ہے کہ ولی کو اپنی ولایت کی رویت نہیں ہوتی اور جب کوئی کہنے لگے کہ میں فاضل ہوں یا ولی، تو نہ وہ فاضل ہے نہ ولی۔ ان کی کرامتوں میں لکھا ہے کہ مکمل چالیس سال آپ نے دن رات خواب نہیں فرمایا اور قطعاً نہیں سوئے اور جب کبھی آنکھ لگی بھی تو اللہ تعالیٰ سے لگی۔ چنانچہ جب خواب میں جمالِ الٰہی سے مشرف ہوئے تو آپ نے عرض کی: الٰہی! میں تیرے جمالِ باکمال کو بیداریِ شب میں دیکھنا چاہتا تھا لیکن آج سویا تو جمال پایا۔ ارشاد ہوا: اے شاہ! ان راتوں کی بیداری کی بدولت ہی آج تُو ہمیں خواب میں دیکھ رہا ہے، اگر وہ راتیں بیداری میں نہ گزارتا تو آج ہمیں خواب میں نہ پاتا۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت عمرو بن عثمان مکی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سرورِ دل نور حضرت عمرو بن عثمان مکی رضی اللہ عنہ ہیں۔ کبرائے قوم اور سادات زمانہ سے گزرے ہیں۔ آپ کی تصانیف تصوف میں مشہور ہیں۔ آپ کو نسبتِ ارادت
صفحہ۲۸۰
حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ سے تھی۔ پہلے آپ حضرت ابو سعید خراز رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت سے مشرف ہوئے، پھر حضرت جنید سے بیعت کی۔
اصول میں آپ امامِ وقت تھے، آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"کیفیتِ وجدانیہ کی ترجمانی کسی لفظ اور عبارت سے نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ وہ خاص سرِّ الٰہی ہے اور مومنین اس کے امین ہیں۔"
اور وہ چیز جس پر بندہ کی عبارت اور الفاظ کا تصرف ہو سکتا ہے وہ ہرگز سرِّ حق نہیں اس لیے کہ کلیتاً تصرف و تکلف کا اسرارِ ربانیہ سے منقطع ہے۔
کہتے ہیں کہ جب حضرت عمرو بن عثمان اصفہان تشریف لائے تو ایک بے ریش نوعمر لڑکا آپ کی صحبت میں آیا اور اس لڑکے کا باپ اسے آپ کی خدمت میں آنے سے مانع تھا۔ آخر وہ اس روک ٹوک کی وجہ سے اس قدر غمگین ہوا کہ بیمار ہو گیا۔ ایک مدت تک بیمار رہا۔ آخر ایک روز آپ اپنی جماعت کے ساتھ اس کی عیادت کو تشریف لے گئے۔ لڑکے نے حضرت عمرو بن عثمان سے عرض کی کہ حضور! قوال کو حکم فرمائیں کہ وہ کچھ سنائے۔ آپ نے قوال کو فرمایا۔ قوال نے گانا شروع کیا اور یہ بیت پڑھی:
"کیا بات ہے کہ میں بیمار ہوا تو تم میں سے کسی نے میری عیادت نہ کی، حالانکہ تم میں سے کوئی بیمار ہو تو میں عیادت کرتا ہوں۔"
مریض نے جیسے ہی یہ شعر سنا تو بسترِ مرض سے اٹھا اور بیٹھ گیا اور اس کے چہرے سے ظاہر تھا کہ مرض میں افاقہ ہے۔ لڑکا بولا: زِدْنِیْ، کچھ اور بھی سنا۔ قوال نے یہ بیت سنائی:
"اور میرے مرض کی سخت ترین علت تم سے مجھے روکنا ہے اور اس سے زیادہ اشد اور بھاری تمہارا مجھ سے رک جانا ہے۔"
اس کے بعد وہ لڑکا تندرست ہو گیا۔ باپ نے یہ کرامت دیکھ کر لڑکے کو حضرت عمرو بن عثمان کے سپرد کر دیا اور جو بدگمانی اس کے دل میں تھی، وہ جاتی رہی اور تائب ہوا اور یہ لڑکا اپنی قوم کے بہترین درویشوں میں ہوا۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
صفحہ۲۸۱
حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے مالکِ القاب، ماحیِ العیوب حضرت ابو محمد سہل بن عبد اللہ تستری رضی اللہ عنہ اپنے وقت کے بہترین شیخ ہیں۔ اور آپ زبان دانوں میں نہایت ستودہ تھے۔ آپ کی ریاضتیں بہت زیادہ ہیں اور آپ نہایت باعمل تھے۔ آپ کا اخلاص و عیوبِ افعال میں نہایت لطیف کلام ہے۔ علماء ظاہری آپ کی شان میں کہتے:
هُوَ جَمَعَ بَیْنَ الشَّرِیْعَةِ وَالْحَقِیْقَةِ۔
"انہوں نے شریعت و حقیقت میں اتحاد کر کے دکھا دیا۔"
لیکن یہ کہنا ان اربابِ ظواہر کا غلط ہے۔ اس لیے کہ کوئی صوفی ایسا نہیں جو شریعت و طریقت میں فرق کرتا ہو۔ اس لیے کہ شریعت بغیر حقیقت کے مکمل نہیں اور حقیقت بغیر شریعت کے حقیقت نہیں ہو سکتی۔
ہاں! یہ ضرور ہے کہ اور مشائخ کے کلام بہت باریک اور دقیق ہیں جسے عوام کے ذہن قبول نہیں کر سکتے اور حضرت سہل کے مضامین بہت سہل اور اس قدر آسان ہیں کہ عوام کے ذہن بھی اسے قبول کر لیتے ہیں۔ اسی وجہ میں انہوں نے اس خصوصیت کے ساتھ حضرت سہل کی تعریف کی، ورنہ جبکہ خود حضرت ربِّ عزّ اسمہٗ نے شریعت و طریقت اور حقیقت کو متحد کیا ہے تو اولیائے کرام کا اس میں فرق کرنا محال ہے۔ اس سے لا محالہ یہ بات ضرور ہوگی کہ جب فرق، حقیقت و شریعت میں سمجھا جائے گا تو ایک کو ردّ کر کے دوسرے کو قبول کرنا ہوگا اور یہ بات یاد رکھو کہ ردِّ شریعت الحادِ خالص ہے اور ردِّ حقیقت شرک، اور جو فرق کرتے ہیں وہ تفریقِ معنوی کے لیے کرتے ہیں تو وہ تفریق عین ثبات ہے۔
جیسے کہتے ہیں "لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ" حقیقت ہے اور "مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ" شریعت۔ اگر کوئی چاہے کہ ایمان صحیح رکھ کر ایک کو دوسرے سے جدا کر دے، ایسا ہرگز نہیں کر سکتا اور اس کی یہ خواہش باطل محض ہوگی۔ در حقیقت شرع فرعِ حقیقت ہے جس طرح معرفت فرعِ حقیقت ہے۔
تو خلاصہ یہ ہوا کہ امتثالِ امر اور تعمیلِ حکم کرنا، اہلِ ظواہر کے لیے شریعت کے معنی میں ہے۔ جس چیز کو اس کی طبیعت قبول نہ کرے اور بے جھی سے الجھ جائیں اس سے منکر ہو جاتے ہیں اور انکار کے اصل کا اصول راہِ حق میں نہایت خطرناک۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی الْاِیْمَانِ۔ "اور اس ربِّ جلیل وجہِ منیر کو عطاءِ ایمان پر حمد ہے۔" آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"آفتاب طلوع اور غروب نہیں ہوتا کسی روئے زمین کے رہنے والے پر، مگر وہ ذاتِ عزّ اسمہٗ کے ساتھ جاہل ہوتا ہے مگر وہی جسے اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ فرما لیا ہو، اس کی جان و تن اور دنیا و آخرت سے۔"
یعنی جو اپنے کنجِ دل میں اپنے دستِ ارادی کو متصرف مانتا ہے یہ اس کی جہالت کی دلیل ہے ذاتِ واجب تعالیٰ شانہٗ سے، اور جسے نعمتِ عرفان حاصل ہے وہ ترکِ تدبیر میں جھکا ہوا ہے۔ یہ جہل سے معرفتِ تقدیر کی دلیل ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت ابو عبد اللہ محمد بن فضل بلخی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے برگزیدۂ اہلِ حرمین، قرۃ العین حضرت ابو عبد اللہ محمد بن فضل بلخی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اجلۂ مشائخ سے ہیں۔ اہلِ عراق و خراسان کے محبوب ترین پیشوا تھے۔ حضرت احمد بن خضرویہ کے مرید اور حضرت ابو عثمان حیری رحمۃ اللہ علیہ کو ان سے خاص محبت تھی۔ آپ کو بلخ کے متعصب کج رو جاہلوں نے آپ کے مسلکِ عشق سے بدظن ہو کر بلخ سے نکال دیا۔ مگر آپ نے اپنا مسلک نہ چھوڑا۔ بلخ چھوڑ کر سمرقند میں عمر بسر فرمائی۔
"اربابِ عرفان میں بزرگ ترین وہ ہے جو اوامرِ شریعت کی اتباع میں سعی و مجاہدہ کرے اور اہلِ اتباع میں بہترین وہ ہے جو سنتِ رسالت مآب ﷺ کا نہایت کوشش سے پیرو ہو۔"
"مجھے تعجب ہے اس پر جو وادی اور جنگل عبور کر کے اللہ کے گھر (مکہ) پہنچتا اور اس کی حرم سے آ ملتا، اس لیے کہ اس میں انبیائے کرام علیہم السلام کے آثار ہیں۔ وہ کیوں نفس کے لیے جنگلوں اور حرص کے دریاؤں کو قطع کر کے اپنے
(صفحہ 282 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 283 پر ہے۔)
صفحہ۲۸۳
کنجِ قلب تک نہیں پہنچتا کہ اس میں اس کے مالک کے نشان ہیں۔
یعنی دل محلِ معرفتِ الٰہی ہے اور فضیلت میں کعبہ سے افضل ہے۔ اس لیے کہ کعبہ قبلۂ عبادتِ ظاہری اور بندہ کی نگاہ اس پر رہتی ہے مگر دل وہ ہے کہ اس پر نظرِ ربِّ جلّت مجدہٗ عزّ اسمہٗ ہے، تو جہاں دل ہے وہاں میرا محبوب ہے اور جہاں اس کی ملکیت ہے میری مراد وہاں ہی ہے اور جہاں انبیائے کرام علیہم السلام کے نشان ہیں وہاں ہمارے دوستوں، محبوبوں کا قبلہ ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت ابو عبد اللہ محمد بن علی ترمذی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخِ باخطر، فانی از صفاتِ بشر ابو عبد اللہ حضرت محمد بن علی الترمذی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ علومِ فنون میں امامِ کامل اور محققین مشائخ سے گزرے ہیں۔ آپ کی بہت سی تصانیف ہیں اور کرامتیں بھی مشہور ہیں اور آپ کی تصانیف سے آپ کی کرامت شان ظاہر ہے، جیسے "ختم الولایت"، "کتاب المنہج"، "نوادر الاصول" وغیرہ۔ علاوہ اس کے بعض کتابیں بہت ہی زبردست ہیں۔ چنانچہ میرا ان کے ساتھ رابطۂ عقیدت اتنا ہے کہ گویا میں اور میرا دل تو ان کا شکار ہے اور میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ محمد بن علی وہ دُرِّ یتیم ہے کہ عالم میں اس کی مثال نہیں اور علومِ ظاہری میں بھی ان کی بہت سی تالیفات ہیں اور احادیث میں ان کی سندیں نہایت بلند ہیں اور قرآنِ کریم کی تفسیر بھی لکھنی شروع کی مگر عمر تمام ہو گئی، مگر جس قدر لکھی ہے وہ اہلِ علم میں موجود ہے۔
اور علمِ فقہ ترمذ ہی میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے خاص مصاحب و دوست حضرت محمد حکیم سے حاصل کیا۔ یہ وہ محمد حکیم ہیں کہ ولایتِ ترمذ کے صوفی حکماء ان کا ہی اقتداء کرتے تھے۔ غرضیکہ ان کے مناقب بہت ہیں۔ من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ آپ کو حضرت خضر علیہ السلام کی صحبت بھی حاصل ہوئی۔ اور آپ کے مرید حضرت ابو بکر وراق راوی ہیں کہ ہر یک شنبہ یعنی اتوار کو حضرت خضر علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لاتے تھے اور آپس میں واقعات پر سوال و جواب ہوا کرتے تھے۔ آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"جو علمِ شریعت اور اوصافِ بندگی سے جاہل ہے وہ نعتِ ربوبیت سے سخت ترین جاہل ہے۔"
اور جو ظاہر میں نفس کو نہیں پہچانتا وہ حق تعالیٰ شانہٗ کے عرفان کا راستہ ہرگز نہیں جان سکتا اور آفات، صفاتِ بشریت نہیں دیکھ سکتا۔ وہ لطائفِ صفاتِ حق ہرگز نہیں جان سکتا اس لیے کہ ظاہر کا تعلق باطن سے ہے۔ تو جو ظاہر سے بغیر باطن کے تعلق کرے، یہ محال ہے اور جو باطن سے تعلق
صفحہ۲۸۴
کرے، اس کا تعلق بغیر ظاہری تعلق کے محال ہے۔ تو خدا کی صفتوں کی معرفت عبودیت کے ارکان کی صحت پر موقوف ہے، اس کے بغیر معرفت حاصل نہیں ہو سکتی اور یہ کلمۂ اصل اصول ہے اور نہایت ہی مفید بات ہے۔ ان شاء اللہ اس کی مزید توضیح اپنی جگہ پر کی جائے گی۔
حضرت ابو بکر محمد بن عمر وراق رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شرفِ زہاد و امامت، سرتاجِ اہلِ فقر و صفوت حضرت ابو بکر محمد بن عمر الوراق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ بزرگانِ مشائخ سے گزرے ہیں اور زہادِ قوم میں تھے۔ حضرت احمد بن خضرویہ اور حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہما کے دیکھنے والے اور اُن کے صحبت یافتہ ہیں۔ آپ کی تالیفات آداب و معاملات میں متعدد ہیں اور مشائخ کرام میں آپ "مؤدبِ ادیب" کہلاتے ہیں۔
آپ ایک حکایت فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ نے چند اجزاء مجھے دیے اور فرمایا انہیں دریائے جیحون میں ڈال دے۔ میرے دل نے یہ گوارا نہ کیا، میں نے بجائے دریا میں ڈالنے کے انہیں گھر میں رکھ دیا اور خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ دریا میں ڈال آیا ہوں۔ فرمایا: پھر کیا دیکھا؟ میں نے عرض کی، کچھ نہیں دیکھا۔ فرمایا: تُو نے وہ دریا میں نہیں ڈالا، واپس جاؤ اور دریا میں ڈالو۔ واپس حکم کی تعمیل کے لیے چلا اور دل میں اس امر کا احساس ہوا کہ میں نے غلط بیانی کی۔ آخرش وہ اجزاء میں نے دریا میں ڈالے تو فوراً دریا پھٹا اور اس میں سے ایک صندوق ظاہر ہوا جس کا ڈھکنا کھلا ہوا تھا اور اس میں وہ جزو جو میں نے دریا میں ڈالے تھے چلے گئے اور صندوق کا ڈھکنا بند ہو گیا اور پانی بھی مل گیا اور صندوق واپس پانی میں چلا گیا۔ یہ سب تماشہ دیکھ کر میں واپس آیا اور تمام قصہ عرض کیا۔ فرمایا اب تو یقیناً وہ اجزاء پانی میں ڈال آیا۔ میں نے عرض کی: حضور! اس معاملہ کا راز تو معلوم ہونا چاہیے۔ فرمایا ہم نے اصول اور تحقیق میں کچھ تصنیف کیا تھا لیکن اس کے سمجھنے کی عام عقلوں میں اہلیت نہ تھی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے وہ مجھ سے طلب فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے دریائے جیحون کو حکم دیا کہ ان اجزاء کو خضر تک پہنچا دے۔ چنانچہ وہ اس ذریعہ سے خضر علیہ السلام تک پہنچ گئے۔
"آدمی تین قسم کے ہیں: ایک علماء، دوسرے امراء، تیسرے فقراء۔ جب علماء
صفحہ۲۸۵
میں فساد پیدا ہوگا، طاعتِ الٰہی اور شریعتِ مطہرہ میں فساد ہو جائے گا اور جب امراء میں فساد آ گیا تو لوگوں کی معاش خراب ہو جائے گی اور جب فقراء بگڑ گئے تو لوگوں کے اخلاق و عادات خراب ہو جائیں گے۔"
تو امراء و سلاطین کا فساد، جور و تعدی، ظلم و ستم ہے اور علماء کا فساد طمع و حرصِ آز ہے اور فقراء کا فساد ریاست و جاہ طلبی۔
جب تک علماء، امراء، ملوک، علماء سے علیحدہ نہ ہوں گے، تباہ نہ ہوں گے اور جو ملوک بے علمی کی وجہ میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور علماء کا طمع بے دینی و ریا کی وجہ سے ہوگا اور فقر میں ریاست طلبی بے توکلی کی وجہ میں آئے گی۔ تو بادشاہ بے علم اور عالم بے عمل اور فقیر بے توکل شیطان کے قرین و انیس ہیں اور علم کا فساد ان تینوں میں آ جانے سے ہوتا ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابو سعید احمد بن خراز رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سفینۂ توکل و رضا، سالکِ طریقِ فنا ابو سعید احمد بن عیسیٰ خراز رضی اللہ عنہ ہیں۔ بڑے زبردست اہلِ کشف ہیں۔ مریدوں کے احوالِ درونی کے بہترین ترجمان اور طالبوں کے حالات پر زبردست برہان تھے۔ آپ کی خصوصیات سے یہ بات ہے کہ طریق "فنا و بقا" کو الفاظ کا جامہ پہنا کر واضح فرمانے والے ایک آپ ہی تھے۔ آپ کے مناقب مشہور ہیں اور آپ کی ریاضت اور نکات کا بہت زیادہ چرچا ہے۔ آپ کی تصانیف اور کلام اور رموزات نہایت بلند تھے۔ حضرت ذوالنون مصری کو آپ نے پایا اور حضرت بشر حافی اور سری سقطی رحمۃ اللہ علیہما کی صحبت یافتہ تھے۔ آپ نے حضور سید یوم النشور ﷺ کے اس فرمان پر کہا حضور کا فرمان ہے:
۱۔ (حاشیہ) اسے امام ابو نعیم، ابن حبان اور خطیب نے اپنی "تاریخ" میں اسماعیل بن ابان الخیاط کے طریق سے روایت کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ حسن بن عمارہ تک یہ بات پہنچی کہ اعمش نے اس کے بارے میں برا بھلا کہا ہے تو اس نے اس کی طرف ایک لباس بھیجا جس پر اعمش نے اس کی تعریف کی۔ اعمش کو کہا گیا کہ (پہلے) تُو نے اس کی مذمت کی پھر اس کی تعریف کی؟ (کہنے لگے خیثمہ نے مجھ سے ابن مسعود کے حوالہ سے بیان کیا کہ) انہوں نے کہا کہ: "جُبِلَتِ الْقُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْهَا وَبُغْضِ مَنْ اَسَاءَ اِلَیْهَا"۔ اسے ابن عدی نے "الکامل" میں، امام بیہقی نے "شعب الایمان" میں اور امام ابن جوزی نے "العلل المتناہیہ" میں اور قضاعی نے "مسند شہاب" میں مرفوعاً روایت کیا ہے اور ابن جوزی نے کہا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اسماعیل الخیاط مجروح راوی ہے۔ (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر)
صفحہ۲۸۶
"دلوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ جبلی اثر رکھا ہے کہ وہ اس کی طرف مائل ہوتا ہے جو اس کے ساتھ نیکی کرے۔"
یعنی جو کسی کے ساتھ احسان کرے لامحالہ اس کے ساتھ انسان کا دل نیکی کرے گا اور اسے محبوب سمجھے گا تو آپ نے اس پر فرمایا:
"سخت تعجب ہے کہ جو شخص سوائے اپنے ربّ کے کسی کو محسن ہی نہ دیکھے، وہ کیوں کلیۃً اپنے ربّ کی طرف مائل نہیں ہوتا۔"
اس لیے کہ احسان درحقیقت اسی کا ہے جو مالکِ اعیانِ ربّ الارباب کر رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ احسان کسی کے ساتھ نیکی کرنے کو کہتے ہیں۔ پھر اس احسان کا بدلہ اس کے ساتھ پورا ہو سکتا ہے جو جزائے احسان کا محتاج ہو اور اس کا احسان بھی اس شان کا ہو کہ جس چیز سے وہ احسان کر رہا ہے وہ اس کی ملک بھی نہیں ہے۔ پھر وہ احسان نہ احسان ہے نہ اس احسان کا بدلہ
(حاشیہ: امام سیوطی، امام سخاوی، ابن حجر، امام مناوی وغیرہ کے حوالوں سے اس روایت کا ذکر ہے کہ اسے بعض نے ضعیف اور بعض نے موضوع قرار دیا ہے۔ الکامل لابن عدی، تاریخ بغداد، مسند الشہاب، حلیۃ الاولیاء، کشف الخفاء، المقاصد الحسنہ، فیض القدیر، الجامع الصغیر، العلل المتناہیہ، الفوائد المجموعہ اور میزان الاعتدال وغیرہ کے حوالے دیے گئے ہیں۔ اسکین باریک ہے، اس لیے صرف خلاصہ لکھا ہے۔)
صفحہ۲۸۷
ہے۔ اس لیے کہ بدلہ بھی ایسی ہی چیز سے ہوتا ہے کہ جو بدلہ دینے والے کے ملک نہیں۔ تو تمام ملک، ملکِ الٰہی ہے اور وہ، وہ ذات ہے کہ اپنے غیر سے بے نیاز ہے۔ اور محبوبانِ بارگاہ اس کی حقیقت کو جانتے ہیں کہ انعام و احسان میں منعمِ حقیقی اور محسنِ حقیقی وہی ایک ذات ہے اور وہ اپنے دلوں کو کلیۃً اس کا اسیر بنائے ہوئے ہیں اور اُن کی دوستی اُسی ذات کے ساتھ ہے اور وہ غیر ذاتِ منعمِ حقیقی سے ہمیشہ اعراض کرتے ہیں۔
حضرت ابو الحسن علی بن محمد اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شاہدِ محققان، دلیلِ مریدان حضرت ابو الحسن علی بن محمد اصفہانی رضی اللہ عنہ ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت علی بن سہیل بھی مشائخ کبار سے گزرے ہیں اور حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کی خط و کتابت حضرت ابو الحسن علی کے ساتھ جو ہوئی ہے، وہ نہایت لطیف مضامین سے پُر ہے اور یہ اس پایہ کے بزرگ گزرے ہیں کہ حضرت عمرو بن عثمان ان کی زیارت کے لیے اصفہان حاضر ہوئے اور عمرو بن عثمان خود اتنے زبردست صوفی عارف تھے کہ انہیں حضرت ابو تراب رضی اللہ عنہ کی صحبت کا شرف حاصل تھا اور حضرت جنید کے رفیقِ خاص تھے۔ مگر ابو الحسن رضی اللہ عنہ کا پایۂ طریقِ تصوف میں بہت ستودہ تھا اور آپ فنِ تصوف میں رضا و ریاضت کے زیور سے آراستہ تھے اور تصرفِ نفسِ امارہ اور ہر قسم کے فتن و آفات سے محفوظ تسلیم کیے گئے ہیں۔ آپ کے طرزِ بیان کو حقائق و معاملات میں نہایت پسند کیا جاتا تھا اور دقائق و اشارات میں آپ کا کلام لطیف تھا۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"حضورِ بارگاہِ لم یزل افضل ترین ہے محض یقین وجودِ ذات سے اس لیے کہ حضورِ ذات جو آئینۂ دل میں ہے وہ وطن کی طرح ہے اور اس پر غفلت کسی طرح روا و ممکن نہیں اور یقینِ خاطر ایک ایسا تصور ہے کہ کبھی آتا ہے اور کبھی جاتا رہتا ہے۔"
تو حاضرین حضورِ بارگاہِ لم یزل میں رہتے ہیں اور مومنین درگاہِ ایزدی پر کبھی غیبِ بیت کے حجاب میں ہوتے ہیں، اور حضورِ بارگاہ کی تفصیل کے لیے ایک علیحدہ باب اس کتاب میں آئے گا۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔
"آدم علیہ السلام کے وقت سے قیامت تک لوگ دل دل کہتے چلے آ رہے ہیں اور میں اس امر کو درست رکھتا ہوں کہ ایک ایسا آدمی دیکھوں جو بیان کرے کہ دل چیز کیا ہے اور وہ کیسا ہوتا ہے مگر میں نے ایسا آدمی نہیں دیکھا۔"
اور عوام الناس پارۂ گوشت کو دل کہتے ہیں اور وہ گوشت پارہ مجانین و اطفال اور مغلوب النفس لوگوں کے لیے دل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اہلِ دل نہیں بلکہ محض بے دل ہیں۔ تو دل کیا چیز ہوا؟ اگر دل وہ ہے جس سے انواع و اقسام کی عبارتیں مسموع ہو رہی ہیں تو پھر اسے عقل کیوں نہ کہا جائے، وہ دل نہیں ہے۔
اور اگر روح کا نام دل رکھا جائے تو وہ بھی نہیں ہے اور اگر علم کو دل کہا جائے تو وہ بھی دل نہیں۔ تو خلاصہ یہ ہوا کہ دل وہ ہے کہ جس میں شواہدِ حقہ کا قیام ہو اور اس کے علاوہ جسے بھی دل کہو وہ عبارتی اور لفظی دل ہے، حقیقتاً دل نہیں۔
حضرت ابو الحسن محمد بن اسماعیل خیر نساج رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے پیرِ اہلِ تسلیم اندر طریقِ محبت مستقیم حضرت ابو الحسن محمد بن اسماعیل خیر نساج رضی اللہ عنہ ہیں۔ بزرگانِ مشائخ سے تھے اور اعمال میں آپ بہترین واعظ گزرے ہیں۔ آپ کی عبارات نہایت مہذب ہوتی تھیں۔ عمر دراز پائی ہے۔ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں کی مجلس میں توبہ کی۔
آپ نے حضرت شبلی کو محافظتِ مراحمِ جنید کے لیے حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ آپ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے اور آپ حضرت جنید کے ہمعصر تھے اور حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ آپ کا بہت وقار کرتے تھے۔ حضرت ابو حمزہ بغدادی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے فرامین گوشِ قبول سے سنا کرتے تھے۔
آپ کو "خیر نساج" اس وجہ میں کہا جاتا ہے کہ ایک بار آپ مؤلد سے سامرہ کی طرف بقصدِ حج تشریف لے جا رہے تھے۔ راستہ میں آپ کا گزر کوفہ میں ہوا۔ دروازۂ کوفہ پر ایک خزباف یعنی ریشم بننے والے جلاہے نے پکڑ لیا اور کہا تم میرے غلام ہو اور تمہارا نام خیر ہے۔ آپ نے اس کی اس حرکت کو من جانبِ اللہ سمجھا اور اس کی مخالفت نہ کی۔ کئی سال اس کی خدمت کرتے رہے جبکہ وہ آپ کو پکارتا: یا خیر! تو آپ اس کے جواب میں لبیک فرماتے۔ یعنی وہ کہتا اے خیر، تو آپ
صفحہ۲۸۹
فرماتے حاضر۔ آخرش وہ اپنے کیے پر پشیمان ہوا اور ایک دن کہنے لگا تشریف لے جائیں، میں نے غلطی کی، آپ میرے غلام نہیں ہیں۔
آپ وہاں سے رخصت ہو کر مکہ معظمہ آ گئے۔ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے متعلق فرمایا: خَیْرٌ خِیَرَةٌ۔ "خیر ہماری نیکی ہے"، اور اسے آپ محبوب رکھتے جو آپ کو "خیر" کے نام سے پکارتا اور آپ فرماتے کہ میرے لیے روا نہیں کہ ایک مردِ خدا میرا نام رکھے اور میں اس نام کو پلٹ دوں۔
کہتے ہیں کہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا، نمازِ مغرب کا وقت تھا۔ جب آپ کو کیفیتِ غشیانی سے ہوش آیا اور آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ ملک الموت کھڑا ہے۔ آپ نے فرمایا:
"ٹھہر، اللہ تجھے معاف فرمائے! بیشک تو بھی عبدِ مامور (حکم دیا ہوا بندہ) ہے اور میں بھی بندۂ حکمِ الٰہی ہوں اور جو کچھ تجھے حکم ملا ہے وہ ٹل نہیں سکتا، یعنی جان لینا لازمی ہے، اور جو حکم مجھے ملا ہے وہ میری فروگزاشت کی وجہ میں ٹل رہا ہے یعنی وقتِ نماز ہے وہ مجھے پڑھ لینے دے تاکہ میں اس حکم سے سبکدوش ہو لوں جو مجھے حکم ملا ہے، پھر میں تجھے اجازت دوں گا کہ تو اپنے متعلقہ حکم کی تعمیل سے سبکدوش ہو۔"
پھر آپ نے پانی طلب فرمایا اور وضو کیا، نمازِ شام ادا فرمائی۔ اُس کے بعد جانِ آفرین کو جان سپرد فرمائی۔ اسی شب آپ کو لوگوں نے خواب میں دیکھا۔ پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک فرمایا۔ جواب دیا:
"متقی کو یقین بغیر چارہ نہیں کہ اس کا دل نورِ یقین سے کھلا ہوا ہے اور مومن کو حقائقِ ایمان بغیر چارہ نہیں کہ ان کی چشمہائے عقل نورِ ایمان سے منور ہیں۔"
تو جس جگہ ایمان ہوگا اور جہاں یقین ہوگا، تقویٰ بھی ہوگا۔ اس لیے یہ سب باہم گِر تابع ہیں۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابو حمزہ خراسانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے داعیِ عصر، یگانۂ دہر حضرت ابو حمزہ خراسانی رضی اللہ عنہ ہیں۔ قدماء مشائخِ خراسان سے گزرے ہیں۔ حضرت ابو تراب رحمۃ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ تھے اور حضرت ابو سعید احمد خراز کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ توکل میں آپ کا قدم بہت راسخ تھا۔
ایک حکایت میں مشہور ہے کہ آپ ایک روز جاتے جاتے کنویں میں گر گئے۔ تین روز اسی کنویں میں رہے۔ ایک قافلہ اُدھر پہنچا۔ آپ نے دل میں کہا کہ انہیں آواز دوں۔ پھر دل ہی میں فرمایا کہ یہ اچھا نہیں ہے کہ اپنے ربّ کے سوا کسی سے مدد چاہی جائے بلکہ یہ شکایت اپنے مولا کی ہے جو غیر سے کی جائے۔ اس لیے کہ مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ میرے ربّ نے مجھے کنویں میں ڈالا، اب تم مجھے اس کنویں سے نکالو۔
کہتے ہیں کہ اس قافلہ کے لوگوں میں سے کسی نے اس کنویں کو دیکھا۔ آپس میں مشورہ کیا کہ یہ کنواں بر سرِ راہ ہے۔ اگر اسے بند کر دیا جائے تو ہمیں ثواب ملے گا (اور یہ اِمَاطَةُ الْاَذٰی ہے یعنی تکلیف دہ اور ایذا رساں چیز کو ہٹا دینا ثواب ہے)۔ آخرش وہ جمع ہوئے کہ اس کا منہ بند کر دیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اضطراب محسوس ہوا اور مایوسی پیدا ہوئی۔ جب ان لوگوں نے کنویں کا منہ استوار کرنا شروع کیا اور تمام کنویں کا منہ پاٹ دیا اور واپس ہو گئے، میں اس بند کنویں میں اپنے ربّ کے حضور مناجات میں مشغول ہو گیا اور جان دینے کے لیے آمادہ ہو گیا اور تمام مخلوق سے نا امید تھا۔ جب شام ہوئی تو میں نے دیکھا کہ کنویں کے اوپر کچھ جنبش معلوم ہوئی۔ میں نے غور سے دیکھا کہ یہ کنواں کون کھول رہا ہے تو معلوم ہوا کہ ایک سانپ کے مانند کوئی جانور ہے۔ اس نے اپنی دم نیچے لٹکا رکھی ہے۔ میں سمجھ گیا کہ من جانبِ اللہ میری اس کنویں سے نجات اس کے ذریعہ مقرر ہے۔ میں نے فوراً اس کی دم پکڑ لی۔ اس نے مجھے اوپر کھینچ لیا۔
غیب سے فرشتے نے آواز دی: اے حمزہ! تیری نجات بہت اچھی نجات ہے کیونکہ تجھے ایک بڑی ہلاکت کے بعد نجات ملی ہے۔
آپ سے لوگوں نے پوچھا غریب کون ہے؟ جواب دیا: اَلْمَوْحِشُ مِنَ الْاُلْفَةِ۔ "جو
صفحہ۲۹۱
الفت سے بھاگنے والا ہو۔" یعنی جس کو سب الفتوں سے وحشت ہوتی ہے وہ غریب ہے۔ اس لیے کہ دنیا اور عاقبت میں درویش کا وطن وحشت ہے اور الفتِ وطن میں وحشت ہوتی ہے۔ اور جب الفتِ محبوب کے سوا کائنات سے منقطع ہو گیا تو وہ تمام عالم سے متوحش ہوگا۔ اس وقت وہ غریب کہلائے گا اور یہ درجہ بہت بلند ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو العباس احمد بن مسروق رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے داعیِ مریدان حضرت ابو العباس احمد بن مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اجلہ بزرگانِ مشائخ سے گزرے ہیں اور تمام اولیائے کرام کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں "اوتاد الارض" بنایا۔ آپ کو "قطب المدار" کی صحبت کا شرف بھی حاصل ہے۔
آپ سے سوال کیا گیا کہ "قطب" کون ہے؟ آپ نے ظاہر نہیں فرمایا لیکن اشارۃً بتایا کہ شاید جنید رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ نے چالیس عارفانِ کامل کی خدمت کی اور ان سے فیض حاصل فرمایا اور علومِ ظاہری و باطنی میں آپ نہایت اعلیٰ دستگاہ رکھتے تھے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"جو غیرِ اللہ کے ساتھ شاد و آباد ہے وہ مجسمۂ اندوہ و ملال ہے اور جسے اپنے ربّ کے ساتھ مؤانست نہیں اس کا اُنس خالص وحشت ہے۔"
یعنی وہ چیز جو ماسوائے اللہ میں ہے اسے فنا ہے اور جو فنا کے ساتھ شاد ہے، وہ باطل کے ساتھ باطل ہوگا اور اس کا نتیجہ غم و اندوہ ہے۔ اور سوائے اس ذات کے ہر شے "لا شے" ہے۔ تو لا شے سے اُنس رکھ کر جب اسے حقیر دیکھے گا تو اس کی حقارت اس پر منکشف ہو جائے گی۔ تو یہ اُنس ہی وحشت ہو گا۔ تو خلاصہ یہ ہوا کہ رویتِ غیرِ اللہ میں اندوہ و وحشت کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو عبد اللہ بن محمد اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے استادِ متوکلان، شیخِ محققان حضرت ابو عبد اللہ بن محمد اسماعیل مغربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اپنے وقت کے بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں اور مقبول استاد، نگہبانِ مریدان مانے گئے ہیں۔
حضرت ابراہیم خواص اور حضرت ابراہیم شیبانی رضی اللہ عنہما دونوں آپ کے مریدِ خاص
صفحہ۲۹۲
تھے۔ آپ کے براہین میں مباحثِ تجرید دنیا میں نہایت واضح تھے۔ آپ کا قدم انقطاعِ دنیا میں نہایت مضبوط تھا۔ آپ کا ارشاد ہے:
"دنیا سے زیادہ منصف میں نے نہیں دیکھا، اگر تو اُس کی خدمت کرے تو وہ تیری خدمت کرتی ہے اگر تو اسے چھوڑ دے تو وہ تجھے چھوڑ دیتی ہے۔"
یعنی اگر تو اس سے اعراض کرے اور طلبِ ربّ عزّ اسمہٗ کو مضبوط کرے تو دنیا تجھ سے بھاگتی ہے اور اُس کے خطرات بھی تیرے دل پر نہیں آتے۔ تو جو شخص صداقت سے تارکِ دنیا ہو جائے وہ اس کے شر سے مامون ہو جاتا ہے اور اُس کی ہر قسم کی آفتوں سے نجات پا جاتا ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو الحسن بن علی جرجانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے پیرِ زمانہ اور زمانہ میں یگانہ حضرت ابو الحسن بن علی جرجانی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اپنے وقت میں بے نظیر عارف گزرے ہیں۔ آپ کی بہت سی تصانیف ہیں، معاملات میں بھی آپ نے تالیفات فرمائیں اور رویتِ آفاتِ نفس میں بھی بہت سی کتابیں لکھیں۔
آپ حضرت محمد بن علی ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں اور حضرت ابو بکر وراق رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عصر گزرے ہیں اور حضرت ابراہیم سمرقندی آپ کے مرید تھے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"دنیا کے لوگ غفلت کے میدانوں میں ہیں اور اپنی توہمات و ظنیات پر اعتماد رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ سب باتیں مبنی بر حقیقت ہیں اور ان کی زبانی باتیں اسرار و مکاشفات کے ساتھ ہوتی ہیں۔"
اس فرمان میں آپ کا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ عوام گمانِ طبع اور غرورِ نفس پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی جاہل اپنی جہالت کا معترف نہیں، بالخصوص صوفیوں میں جو جاہل ہیں وہ بہت سخت ہیں۔
ایسے ہی علماء بھی اہلِ دنیا کے ہیں تو وہ اپنے کو "اَعَزُّ مَا خَلَقَ اللّٰهُ" سمجھے بیٹھے ہیں یعنی
(صفحہ 292 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 293 پر ہے۔)
صفحہ۲۹۳
تمام دنیا میں انہیں اپنے سے زیادہ عزت والا کوئی نظر نہیں آتا۔ تو پھر عوامِ جہال میں بھی "اَذَلُّ مَا خَلَقَ اللّٰهُ" ہو گئے ہیں کہ ان سے زیادہ ذلیل اللہ کی مخلوق میں کوئی نہیں۔
حالانکہ عالم کی یہ شان ہونی چاہیے تھی کہ اُن کی بات سوائے حقیقتِ حال نہ ہوتی اور غرور و نخوت ان میں قطعاً نہ ہوتا اور جاہلوں میں تو وجودِ حقیقت ہونا ہی محال ہے، تو ان میں غرور لازمی ہے۔
غرضیکہ سب غفلت کے میدان میں متحیر ہیں اور گمانِ باطل لیے بیٹھے ہیں کہ ہم جس حال میں ہیں وہ ولایت ہے اور اپنے ظن و وہم پر یقین کر کے سمجھ رہے ہیں کہ یہ خالص یقین ہے اور رسمِ تصوف کے موافق ہے، اور اپنی حرصِ آز کے ماتحت باتیں کر کے اسے مکاشفہ بنا بیٹھے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے اسرار سے باز نہیں آتا مگر رویتِ جمال و جلالِ حق کے ساتھ یا اظہارِ جمال اُن پر اتنا مستولی ہو جائے کہ ہر شے میں جلوۂ ذات کا مشاہدہ کرے اور اپنی شان کو فانی دیکھے اور کشفِ جلالِ ذات کے وقت اپنے وجود کو قطعاً نہ دیکھے اور اپنے وجود کا واہمہ بھی اس کے دل میں نہ ہو۔
حضرت ابو محمد احمد بن حسین حریری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے باسطِ علومِ واضح رسوم حضرت ابو محمد احمد بن حسین حریری رضی اللہ عنہ ہیں۔ معاصرین حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے ہیں اور حضرت سہل بن عبد اللہ کے صحبت یافتہ تھے اور تمام علوم میں بہترین مہارت رکھتے تھے اور فقہ کے امامِ وقت گزرے ہیں اور اصول میں نہایت اعلیٰ دستگاہ رکھتے تھے اور طریقت و تصوف میں اتنا بلند پایہ تھا کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے فرمایا کہ ہمارے مریدوں کو ادبِ تصوف اور ریاضتِ علم کی تعلیم دیں۔ حتیٰ کہ حضرت جنید کے بعد ان کی سجادگی آپ کو حاصل ہوئی۔
"ایمان کا دوام و استمرار اور قوامِ دین اور اصلاحِ جسم تین چیزوں میں ہے: ایک کفایت کرنا، دوسرا پرہیزگاری اختیار کرنا، تیسرے غذا میں احتیاط
صفحہ۲۹۴
رکھنا۔ جو شخص اپنے ربّ کے ساتھ اکتفا کرے اس کے باطن کی اصلاح ہو جاتی ہے اور جو تقویٰ حاصل کرے اور پرہیزگار ہو جائے اس کی عادت و خصلت نیک ہو جاتی ہے اور جو غذا میں احتیاط رکھے اس کا نفس ریاضت سے پاک و درست ہو جاتا ہے۔ تو ثمرۂ اکتفا صفائیِ قلب ہے اور انجامِ تقویٰ اور پرہیزگاری حسنِ خلق ہے اور احتیاطِ غذا کا نتیجہ تندرستی اور اعتدالِ طبیعت ہے۔"
یعنی جو اپنے ربّ کے ساتھ توکل کرے، اس کا عرفان بلند اور قلب مصفّیٰ ہو جاتا ہے اور جو اعمال میں تقویٰ کا پابند ہو اس کا خلق درست ہو جاتا ہے اور دنیا و آخرت میں عزت پا جاتا ہے جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
"جو رات میں نمازیں زیادہ پڑھے اس کا چہرہ دن میں بہت منور ہو جاتا ہے۔"
دوسری حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن متقیوں کی جب جماعت آئے گی تو: وُجُوْهُهُمْ نُوْرٌ عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ "توان کے چہرے منبروں پر منور ہوں گے اور منبر بھی نوری ہوں گے۔" اور جو غذا میں احتیاط رکھے تو اُس کا تن ہر بیماری سے محفوظ رہے گا اور یہ کلام نہایت جامع ہے اور یاد رکھنے کے قابل۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابو العباس احمد بن محمد بن سہل آملی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخِ ظرفا، قدوۂ اہلِ وفا و صفا حضرت ابو العباس احمد بن محمد بن سہیل آملی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ بزرگانِ مشائخ سے گزرے ہیں اور اپنے ہمعصروں میں محتشم مانے گئے ہیں۔ علمِ تفسیر و علمِ تجوید کے بڑے عالم تھے۔ لطائفِ قرآنی کے بیان میں آپ مخصوص تھے۔ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کے مریدانِ خاص میں تھے۔ حضرت ابراہیم مارستانی کے صحبت یافتہ تھے اور حضرت ابو سعید خراز رحمۃ اللہ علیہ آپ کی بہت عزت فرماتے تھے بلکہ آپ کے سوا کسی کے علمِ تصوف میں تسلیم نہیں فرماتے تھے۔
"جس چیز کی طرف رغبتِ طبع ہو اُس سے آرام سکون حاصل کرنا بلندیِ
صفحہ۲۹۵
حقائق کے درجات سے گرا دیتا ہے۔"
یعنی جو مالوفات کے ساتھ آرام حاصل کرے وہ حقیقتِ آشنائی سے محروم رہ جاتا ہے۔
اس لیے کہ امزجہ اور طبائع، آلات و اوزارِ نفس ہیں اور نفس، محلِ حجاب ہے اور حقیقت، محلِ کشف۔ تو جو طالبِ محبوب ہے اور اس سے سکون چاہتا ہے جبکہ مکاشفہ نہیں تو ادراکِ حقائق کیونکر کر سکے گا۔ اس لیے کہ محلِ کشف سے وہ محجوب ہے چنے ہوئے اعراض سے جو مالوفِ طبع ہیں اور رجحانِ طبع دو چیزوں پر ہوتا ہے: ایک دنیا کے تمام ملحقات کے ساتھ، دوسرے عقبیٰ اور اس کے تمام احوال کے ساتھ۔
دنیا کے ساتھ بوجہ جنسیت الفت ہوگی یا عقبیٰ کے ساتھ بوجہ ناجنسیت، اور نادیدہ ہونے کے تو نفسِ عاقبت کے ساتھ الفت محض گمان پر کرتا ہے نہ کہ اس کی حقیقتِ عینیہ سمجھ کر۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس حقیقت آشنا نہیں ہوتا۔ اگر حقیقت شناس ہوتا تو دنیا سے اپنا تعلق قطع کر لیتا اور جب ایسی دنیا سے انقطاع کر لیتا تو ولایتِ طبع طے ہو جاتی اور ولایتِ طبع کے طے ہو جانے سے مکاشفۂ حقیقت ہو جاتا ہے کیونکہ عافیت کا خویش بالطبع فاطبع ہے: لِاَنَّ فِیْهَا مَا لَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ۔ "اس لیے کہ اس میں قلبِ بشر پر عقبیٰ کا تصور نہیں آ سکتا۔" کہ وہ راہ کیسی پُر خطر ہے، اور جو چیز بذریعۂ کشفِ دل میں متحضر ہو اس کا خطرہ نہیں ہوتا اور جب معرفتِ حقیقت عقبیٰ سے واہمہ انسان ہی عاجز آ جاتا ہے، تو پھر طبعیت اس کے عینِ حقیقت سے کیونکر الفت کر سکتی ہے۔ تو یہ بات صحیح ہوئی کہ الفتِ طبعیت گمانِ عاقبت سے ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے مستغرقِ معنی، ابو الغیث حضرت حسین بن منصور حلاج رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ آپ سرمستانِ بادۂ وحدت اور مشتاقِ جمالِ احدیت گزرے ہیں اور نہایت قوی الحال مشائخ میں سے تھے۔
آپ کی شان میں مشائخِ طریقت کے علیحدہ علیحدہ فیصلے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک گروہ نے آپ کو مردود کہہ گیا۔ ایک گروہ آپ کو مقبولِ بارگاہ بتا گیا۔
مردود کہنے والوں میں سے: ۱۔ عمرو بن عثمان مکی، ۲۔ ابو یعقوب نہر جوری، ۳۔ ابو ایوب قطع، ۴۔ علی بن سہل اصفہانی وغیرہ ہیں اور مقبولِ بارگاہ ماننے والے متاخرین میں سے بازیدہ عطا محمد بن حنیف، ابو القاسم نصر آبادی رضی اللہ عنہم ہیں۔ اور اُن کے علاوہ تمام متاخرین صوفیہ انہیں مقبول مانتے چلے آ رہے ہیں۔
صفحہ۲۹۶
اور ایک گروہ اور ہے جو آپ کے معاملہ میں توقف کرتا ہے جیسے حضرت جنید بغدادی، حضرت شبلی، حضرت حصری رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ اور ایک گروہ نے آپ کو جادو وغیرہ اسبابِ ظاہری کے ساتھ منتسب کیا ہے۔ لیکن حضرت شیخ المشائخ ابو سعید ابو الخیر اور شیخ ابو القاسم گرگانی اور شیخ ابو العباس شقانی رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں حسین بن منصور کو صاحبِ سرّ مانتے تھے اور ان لوگوں کے نزدیک حسین بن منصور ایک عارفِ کامل بزرگ تھے۔
لیکن استاذ ابو القاسم قشیری فرماتے ہیں کہ اگر وہ اربابِ معانی و حقیقت میں سے تھے تو لوگوں کے مطعون کرنے سے ایک عارف مجبور نہیں ہو سکتا اور اگر وہ مجبور فی الطریق و العرفان تھے اور مردودِ بارگاہ، تو خلقِ مقبول بنانے سے وہ مقبول نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا ان کا معاملہ ہم خدا کے سپرد کرتے ہیں اور جس قدر ان سے ہم علاماتِ عرفانی دیکھتے ہیں، اسی حد تک ہم انہیں بنظرِ عظمت سمجھتے ہیں۔
اور مشائخ میں علاوہ چند کے کوئی ان کی مقبولیت کا منکر نہیں بلکہ تمام مشائخ ان کے کمالِ فضل اور صفائیِ حال اور کثرتِ اجتہاد و ریاضت کے معترف ہیں، اور ان کے حالات کا اس کتاب میں ذکر نہ کرنا ایک حد تک بے امانتی و خیانت تھی۔ اس لیے کہ بعض لوگ اربابِ ظواہر سے ہیں جو ان کی تکفیر کرتے ہیں اور ان کی شانِ عرفان کے منکر ہیں اور ان کے تمام کمالات و خوارقِ عادات امور کو مکر اور جادو کے ساتھ نسبت کرتے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ یہ حسین بن منصور بن حلاج بغدادی ہے، جو محمود بن زکریا کا استاذ اور ابو سعید قرمطی کا رفیقِ خاص ہے۔ حالانکہ وہ "حسین بن منصور بن صلاح" ہے اور یہ "حسین بن منصور حلاج" ہیں رحمۃ اللہ علیہ۔ پھر وہ حسین بن منصور جو ابن صلاح ہے وہ بغداد کا ہے، یہ حسین بن منصور حلاج، یہی مقامِ "بیضا" کے ہیں۔
اور جو مشائخ حضرت حسین بن منصور حلاج ہی کو مردود و مجبور مانتے ہیں اور ان کے دین میں بھی طعن کرتے ہیں کہ یہ طعن درحقیقت ان کے دین میں نہیں بلکہ ان کے کیفیتِ حال پر ہے۔ وہ یہ کہ حضرت حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ پہلے حضرت سہل بن عبد اللہ سے بیعت ہوئے پھر ان کی بلا اجازت ان سے علیحدہ ہو کر حضرت عمرو بن عثمان مکی سے ملے، وہاں بھی مستقل طور پر نہیں رہے اور وہاں سے بھی بلا اجازت چل دیے اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے آ کر تعلق کر لیا۔ مگر حضرت جنید نے انہیں قبول نہ فرمایا اور اس وجہ میں سب نے انہیں اپنے یہاں سے رد کر دیا تو اس صورت میں آپ کو مجبور معاملت کہا جا سکتا ہے نہ کہ اصل میں آپ کو مردود مذہب مانا جائے۔
صفحہ۲۹۷
دیکھتے نہیں کہ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت حسین بن منصور کی شان میں کیا فرما رہے ہیں۔ آپ کا اعلان ہے:
"میں اور حسین بن منصور حلاج ایک ہی طریق پر ہیں مگر مجھے میرے دیوانہ پن نے آزاد کرا دیا اور حسین بن منصور کو اس کی عقلمندی نے ہلاک کر دیا۔"
اگر (معاذ اللہ) وہ بے دین ہوتے تو شبلی رحمۃ اللہ علیہ نہ فرماتے کہ میں اور حلاج ایک چیز ہی ہیں۔ حضرت محمد بن خفیف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: هُوَ عَالِمٌ رَبَّانِیٌّ "حسین بن منصور حلاج عالمِ ربانی تھے" اور ایسے ہی اوروں نے بھی بہت کچھ تعریف کی اور انہیں بزرگ بتایا۔
تو مشائخِ کرام کی خوشنودی اور ان کی طرف سے عاق کر دینا اس امر کو مستلزم نہیں کہ انہیں اسلام و مذہب سے بھی خارج کر دیا جائے بلکہ یہ مجبوریِ طریقت کی مانی جائے گی اور اس کا طریقہ وحشت و اضطرار ہوتا ہے۔
آپ کی تصانیف مشہور ہیں اور آپ کے رموز اور کلام نہایت مہذب ہیں جو اصول و فروع میں آپ نے فرمائے اور لکھے اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) نے پچاس رسالے ان کی تصنیف کیے ہوئے بغداد و حوالیِ بغداد میں دیکھے۔ بعض خورستان میں، بعض فارس و خراسان میں۔ سب میں ہم نے ایسی باتیں دیکھیں جو مرید ابتداءِ سلوک میں کیا کرتا ہے اور اُن تصانیف میں بعض رسالے نہایت معمولی، بعض کچھ آسان، بعض نہایت ادق مضمون سے پُر تھے۔ اور یہ حالت کے ساتھ بات ہے۔ جب تجلیِ حق ہونے لگتی ہے تو اس کی قوتِ حال اس کی زبان و قلم پر بعض بار ایسی جلدی اور عجلت سے مضمون آ جاتے ہیں کہ ناواقف دیکھ کر تعجب ہی نہیں کرتا بلکہ اس کا وہم اس کے سننے سے متنفر ہو جاتا ہے اور عقل اس کے سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔ تو جو آشنائے رمزِ خاصانِ بارگاہ ہے وہ کہہ دیتا ہے کہ یہ مضمون بہت بلند ہے اور جو جماعت بے خبر اور رموزِ طریقت سے نا آشنا ہوتی ہے وہ قطعی منکر ہو جاتی ہے۔ تو ان کا انکار بھی بمنزلۂ اقرار کے ہوتا ہے اس لیے کہ وہ سمجھے بغیر منکر ہو کر اقرار کر رہے ہیں کہ یہ مضمون ہمارے محدود معلومات و بصارت کے ماتحت غلط ہے۔ مگر جب اہلِ بصیرت و محققانِ حقیقت دیکھتے ہیں تو وہ اُن منکرین کی ہمنوائی نہیں کرتے اور خدمت و تعریف دونوں سے علیحدہ ہو کر ساکت ہو جاتے ہیں (اس لیے کہ جانتے ہیں کہ ان منکرین کی عقل نارسا وہاں تک پہنچ نہ سکے گی۔ لہٰذا ان سے اعراض ہی مناسب ہے) تو منکر کو کہہ دیتے ہیں کہ تیرا انکار تیری حیثیتِ علمی سے صحیح ہے (اور جاننے والے تو پہلے ہی ہمنوا ہوتے ہیں
(صفحہ 297 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 298 پر ہے۔)
صفحہ۲۹۸
تو اُن سے کہنا تحصیلِ حاصل ہوتا ہے)۔
اور وہ لوگ جو اس مردِ خدا کے احوال کو سحر کے ساتھ منسوب کرتے ہیں، یہ انتساب اُن کی ذات سے محال ہے، اس لیے کہ اگرچہ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک جادو بھی ویسا ہی حق ہے جیسا کہ کراماتِ اولیاء کو حق مانا جاتا ہے۔ لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ ساحری کے کمال کا مظاہر کفر ہے اور کمالِ حال میں کرامت کا اظہارِ کمالِ معرفت۔ تو ایک کا نتیجہ کمالِ غضبِ الٰہی ہے اور ایک کا نتیجہ قربِ رضائے مولا ہونا۔
اور اس بحث کو تفصیل اثباتِ کراماتِ اولیاء کے باب میں بیان کیا جائے گا۔
اور بالا تفاق اہلِ بصیرت و اہلسنت، ایک مسلمان خاسر اور ساحر نہیں ہو سکتا اور ایک کافر مکرم اور واجب التکریم نہیں بن سکتا۔ اور ظاہر ہے کہ سحر و کرامت میں ضد ہے اور اجتماعِ اضداد محال ہے اور حضرت حسین بن منصور حلاج رضی اللہ عنہ اپنی مدتِ العمر میں لباسِ صلاحیت کے ساتھ مزین رہے، نماز کے پابند، ذکر و مناجات میں لیل و نہار گزارنے والے، روزہ کے پابند اور آپ کی حمد نہایت مہذب تھی اور توحید میں نہایت لطیف نکتہ بیان فرماتے تھے۔ اگر وہ جادو کا کام کرنے والے ہوتے تو صوم و صلوٰۃ کی پابندی اور ذکر و اذکار میں سرگرمی اُن سے محال تھی۔ تو صحیح طور پر ثابت ہوا کہ اُن سے جو امورِ خارقِ عادات ظہور میں آئے، وہ کرامت تھی اور کرامت سوائے ولی کے متحقق نہیں ہو سکتی۔
بعض اہلِ تصوف اُن کو اس وجہ میں ردّ کرتے ہیں کہ اُن کے بعض کلمات سے امتزاج و اتحاد کا مفہوم نکلتا ہے۔ یہ اعتراض بھی عبارت پر ہے نہ کہ ان کی حقیقتِ معنی پر۔ اس لیے کہ غلبۂ حال میں صوفی اس قدر مغلوب ہوتا ہے کہ وہ اداءِ عبارت پر قدرت نہیں رکھتا اور اس سے امکانِ عبارت ناممکن ہو جاتا ہے، اگرچہ عبارت فی نفسہٖ صحیح ہوتی ہے۔ (مگر اس میں اس قدر اغلاق ہوتا ہے کہ عوام اور اہلِ ظواہر اس کی حقیقتِ معنی کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں)۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ معنیِ عبارت اس قدر مشکل ہوں کہ اس کے مفہوم و مقصود کو عوام نہ سمجھ سکیں، اس وجہ میں اس کے منکر ہو جائیں۔ لیکن یہ انکار اُن کے سمجھنے کا انکار ہے نہ کہ اس عبارت کا۔
ہاں! یہ ضرور ہے کہ ہم نے بغداد اور اس کے گرد و نواح میں ملحدین کا گروہ دیکھا جو اپنے آپ کو حسین منصور حلاج رضی اللہ عنہ کا معتقد ظاہر کرتا ہے اور اپنے الحاد و زندقہ میں اُن کے کلام پر حجت لاتا ہے۔ اور اس گروہ کا نام ہی "حلاجی" ہے اور حضرت حسین بن حلاج کے معاملہ میں اس حد
صفحہ۲۹۹
تک غلو کرتا ہے جس حد تک روافض حبِّ علی کرم اللہ وجہہ میں کرتے ہیں۔
ان کی ردّ میں ایک باب ہم لائیں گے۔ اُس میں ان سب فرقوں کا حال بیان کریں گے۔ انشاء اللہ العزیز۔
تو اس امر کا خیال رہے کہ اس قسم کے مغلوب الحال صوفیوں کے کلام کا اتباع نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ وہ اپنے حال میں اس قدر مغلوب ہوتے ہیں کہ ان میں استقامت قطعی نہیں ہوتی اور صوفیائے کرام میں اُن کی پیروی کرنی چاہیے جو صاحبِ استقامت ہیں۔ میں حسین بن منصور حلاج رحمہ اللہ کو بجمیع اللہ تعالیٰ اپنے دل میں عزیز رکھتا ہوں اور اُن کی عظمت میرے دل میں ہے، لیکن یہ یقینی بات ہے، ان کی حالت مستقیم نہ تھی بلکہ وہ طریقت میں مغلوب الحال تھے، اور ہر مغلوب الحال کا کلام فتنہ سے خالی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت حسین بن منصور حلاج کے کلام سے بہت زیادہ خوفِ فتنہ ہے بلکہ میرے ساتھ بھی میری ابتدائی زمانہ میں ایسی کیفیتِ حالیہ گزر چکی ہے۔
میں نے حضرت حسین بن منصور حلاج کے کلام کی شرح بھی لکھی ہے اور اس کتاب میں دلائل و حجج باہرہ کے ساتھ ہم نے ثابت کیا ہے کہ یہ کلام اتنا بلند ہے کہ اس کو ارباب حال کے سوا اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
اور ایک کتاب مسمّی "منہاج الدین" ہماری تالیف ہے۔ اس میں حضرت حسین بن منصور حلاج کے ابتداء حال سے انتہا تک تمام کوائف ذکر کیے ہیں۔ یہاں بھی ہم نے مختصراً اُن کا کچھ تذکرہ کر دیا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس راستہ میں اس قدر پہلو موافق و مخالف نظر آئیں اس کی پیروی سے احتراز کرنا لازم ہے (مگر زبانِ طعن دراز کرنے سے بھی اجتناب کیا جائے) اور جو نفسانی خواہشات اور ہوائی پرستی کے تابع ہیں وہ ہر جگہ ایسے امور کے متلاشی ہوتے ہیں جس سے بجی اور تنفر پیدا ہو (اُن سے بھی بچنا چاہیے)۔
یہ عبارت عوام کے لیے خاص آفت ہے۔ اس کے معنی میں حقیقتِ معنی کے بغیر بے ہودگی ہے اور جب اس کے معنی حاصل ہو جائیں تو وہ اس عبارت سے مفقود نہیں ہوتے۔ اس
صفحہ۳۰۰
لیے کہ جب معنی مفقود ہو جائیں تو عبارت کے ساتھ موجود نہیں ہو سکتے۔
غرضیکہ ایسی عبارتیں طالب کو ہلاکت کے سوا اور کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتیں سوا اس کے کہ عبارت پڑھ کر یہ سمجھ لیا جائے کہ اس کے یہ معنی ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو اسحاق ابراہیم بن احمد خواص رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سرہنگِ متوکلان، سالارِ مستسلمان ابو اسحاق حضرت ابراہیم بن احمد خواص رضی اللہ عنہ ہیں۔ توکل میں عظیم الشان تھے اور نہایت بلند رتبہ والے گزرے ہیں۔ بڑے بڑے مشائخ کو پا چکے ہیں، آپ کی کرامتیں بہت ہیں، اعمالِ طریقت میں آپ کی تصانیف بھی بہت ہیں۔
"یعنی علم سارا دو کلموں میں ہے: ایک یہ کہ جس چیز کا اندیشہ اللہ تعالیٰ نے تیرے دل سے اٹھا لیا، اس میں تکلیف نہ کر۔ دوسرے یہ کہ جو تجھے کرنا ہے اور جو کچھ تجھ پر فرض و لازم ہے اُسے ضائع نہ کر تاکہ دنیا و آخرت میں خوش رہے۔"
اس فرمان سے یہ مراد ہے کہ نوشتۂ قسمت میں تکلیف نہ کر۔ اس لیے کہ جو تیرے لیے مقسوم ہے وہ تیری جد و جہد سے بدل نہیں سکتا اور جو حکم تجھے بذریعۂ شرع ملا ہے اس کی تعمیل میں قصور نہ کر، اس لیے کہ ترکِ فرمان تیرے لیے موجبِ عذاب ہے۔ آپ سے کسی نے پوچھا کہ عجائبات میں سے آپ نے کیا ملاحظہ کیا؟ فرمایا: بہت سے عجائبات دیکھے مگر اس سے زیادہ تعجب ناک بات میرے نزدیک کوئی نہیں: حضرت خضر علیہ السلام نے مجھ سے اجازتِ صحبت چاہی مگر میں نے انکار کر دیا۔ عرض کیا گیا: حضور کیوں انکار فرما دیا؟ فرمایا: اس لیے نہیں کہ اُن سے بہتر کا میں متلاشی تھا بلکہ اس خوف سے کہ کہیں اپنے ربّ عزّ و جلّ کے سوا غیر پر میرا اعتماد نہ ہو جائے اور ان کی صحبت میرے توکل کو نقصان نہ پہنچا دے اور نفل میں پڑ کر ادائے فرض سے کہیں نہ رہ جاؤں۔ یہ آپ کے درجۂ کمالِ توکل کی دلیل تھی۔
حضرت ابو حمزہ بغدادی رحمۃ اللہ علیہ
اہلِ یقین حضرت ابو حمزہ بغدادی رضی اللہ عنہ ہیں کہ یگانۂ متکلمین اور مشائخِ اہلِ بغداد سے گزرے ہیں۔ حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں۔ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ
صفحہ۳۰۱
علیہ کے صحبت یافتہ تھے اور حضرت نوری اور خیر نساج رحمہما اللہ کے ہمعصر تھے اور علاوہ ان کے بڑے بڑے مشائخ کرام کے ساتھ رہے ہیں۔ "مسجدِ رصافہ" میں بغداد کے اندر آپ وعظ فرمایا کرتے تھے اور علمِ تفسیر و قرأت فنِ روات کے زبردست عالم گزرے ہیں اور حدیث میں بھی آپ کو کافی مہارت تھی۔
اور یہ وہ ہیں کہ حضرت نوری رحمۃ اللہ علیہ کے ایک بلا کے موقع پر یہ ساتھ تھے۔ آخرش اللہ تعالیٰ نے سب کو اس بلا سے نجات دی۔ اس کی تفصیل ہم مذہبِ نوری کا جہاں ذکر کریں گے وہاں بیان کریں گے، ان شاء اللہ۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"جب تُو اپنے نفس سے سلامتی حاصل کر لے تو تُو نے اپنی حفاظت کا حق ادا کر دیا اور جب خلق تجھ سے سلامتی حاصل کر لے تو تُو نے حقِ مخلوق ادا کر دیا۔"
یعنی حق دو ہیں: ایک نفس کا حق تجھ پر اور ایک مخلوق کا حق تجھ پر۔ تو جب تُو نے اپنے نفس کو معصیت سے روک لیا اور طریقۂ سلامتیِ عقبیٰ پر اسے چلایا، اس کا حق ادا کر دیا اور جب مخلوقات کو اپنے شر سے ایمن کر دیا اور ان سے برائی نہ کی تو مخلوق کا حق ادا کر دیا۔ گویا ایسی حالت میں زندگی گزار کہ تجھ کو خلائق سے اور تجھ سے خلائق کو کوئی برائی نہ پہنچے، اس کے بعد حقِ عبودیت اور عبادتِ الٰہی میں مشغول ہو۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت ابو بکر محمد بن موسیٰ واسطی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے امامِ عالی مقام حضرت ابو بکر محمد بن موسیٰ واسطی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ محققانِ مشائخ میں سے گزرے ہیں۔ حقائق شناسی میں عظیم الشان شخصیت تھی اور مدارجِ تصوف میں اعلیٰ درجہ رکھتے تھے۔ مشائخ کرام میں آپ ستودہ صفات مانے گئے اور حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے پرانے ہم صحبتوں سے ہیں۔ آپ کا کلام اس قدر دقیق ہے کہ اہلِ ظواہر کی اس کے مفہوم تک رسائی نہیں۔ اسی وجہ میں آپ نے اپنا کلام قلمبند نہیں فرمایا اور آپ کا کسی شہر میں قیام نہیں رہتا تھا (اسی وجہ میں کہ غالباً ہر جگہ نااہلوں سے واسطہ پڑتا ہوگا وہاں سے پراگندہ خاطر ہو کر دوسرے شہر کو تشریف لے جاتے ہوں گے)۔ سیاحت کرتے کرتے جب آپ مقام "مرو" تشریف لائے تو اہلِ مرو کو آپ نے باعتبارِ طبعِ لطیف اور نیک سیرت پایا اور اہلِ مرو نے بھی آپ کی عظمت کی اور
صفحہ۳۰۲
آپ کے پند و نصائح گوشِ دل سے سنے۔ چنانچہ بقیہ عمر یہیں پوری فرمائی۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"یاد کرنے والوں کو یاد کرنے میں، فراموش کر دینے والے سے ذکر میں زیادہ غفلت ہوتی ہے۔"
اس لیے کہ ربّ جل مجدہٗ کو یاد رکھتے ہوئے اگر اس کا ذکر بھول جائے تو اتنا نقصان نہیں اور بڑا نقصان اس میں ہے کہ اُسے فراموش کر دے اور اس کا ذکر کرتا رہے۔ اس لیے کہ ذکر ایک علیحدہ چیز ہے اور مذکور علیحدہ۔ تو جو خیال، ذکر میں مذکور کی ذات کو فراموش کر دے اور اس سے روگرداں ہو جائے تو یہ بہت بڑی غفلت ہے کہ اس میں ذکرِ غیر ہے بہ نسبت اس کے کہ مذکور کی یاد کا گمان بھی نہ رہے بلکہ بھول جائے تو اس بھولنے والے کو باوجود ذکر، غفلت سے قریب ہے اور بھولنے والے کو نسیان و غفلت میں حجابِ غیبت ہی ہے اور مشاہدۂ حضور نہیں۔ تو ذکر میں بحالتِ ذکر یاد اور تصورِ مذکور اگر ہے تو حجابِ غیبت میں بھی اُس کے لیے حضور ہے۔
تو خلاصہ یہ ہوا کہ اگر حضوری کا خود خیال کرے تو صوفی غفلت کے نزدیک ہے، اس لیے کہ طالبِ حق کے لیے اپنی طرف سے خواہش کرنا ہی ہلاک ہے کیونکہ اس راہ میں اگر گمان زیادہ ہو جائے تو معنی گم ہو جاتے ہیں اور اگر معنی زیادہ ہو جائیں تو گمان گم ہو جاتا ہے۔ درحقیقت صوفی کو گمان ہی جب ہوتا ہے جب عقل کے ساتھ وہ متہم ہو اور جب تک عقل کے ساتھ وہ متہم ہے ارادۂ نفسانی لازمی ہے اور یہاں ہمت کو تہمت اور ارادے سے کوئی تقرب کی منزل حاصل نہیں ہوتی، اور جسے حقیقتِ ذکر کہتے ہیں وہ یا تو حالِ غیبت میں ہوتا ہے یا مقامِ حضور میں۔ (۱)
اور ذاکر مشاہدۂ حضورِ حق کر لیتا ہے تو پھر ذکر نہیں رہتا بلکہ مشاہدہ ہوتا ہے اور جب غائب از حق ہو اور اپنے وجود سے مطلع تو اگرچہ ذکر ہوتا ہے مگر اُسے ذکر نہیں کہتے بلکہ وہ غیبت ہے اور غیبت درحقیقت غفلت ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سکینۂ احوال، سفینۂ مقال حضرت ابو بکر دلف بن جحد شبلی رضی اللہ عنہ ہیں۔
۱۔ یہی پردۂ دوئی ہے یہی ہے حجابِ جاناں ۔ جو یہ آرزو ہے دل میں کہ وصالِ یار ہوتا (از مترجم غفرلہ)
صفحہ۳۰۳
بزرگانِ مشائخ سے گزرے ہیں اور آپ کے لیل و نہار نہایت مہذب و مطیبِ بحق گزرے ہیں۔ آپ کے اشارات لطیف و ستودہ ہیں۔ چنانچہ ایک متاخرین سے فرماتے ہیں:
"عجائباتِ عالم میں تین چیزیں ہیں: حضرت شبلی کے اشارات اور مرتعش کے نکتہ اور جعفر کی حکایتیں۔"
آپ قوم کے بہت بڑے لوگوں میں سے تھے۔ اربابِ طریقت میں سادات طریق سے شمار کیے گئے ہیں۔ ابتداء میں خلیفۂ وقت کے داروغہ ڈیوڑھی تھے۔ حضرت خیر نساج رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں آپ تائب ہوئے اور تعلقِ بیعت حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا۔ بہت سے مشائخ کرام کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے معنی یہ ہیں:
"اے محبوب! مومنین کو حکم فرماؤ کہ وہ چشمِ سر کو نظرِ شہوت سے نگاہ رکھیں اور چشمِ دل کو ماسوی اللہ سے اور انواع فکر و اندیشہ سے محفوظ کر کے رویتِ ذات کا خیال رکھیں۔"
اس لیے کہ شہوت کا اتباع اور محارم کے گھورا گھاری غفلت میں سے ایک غفلت ہے۔ اہلِ غفلت کے لیے عذابِ مہین یعنی نہایت ذلیل کرنے والا وہ عذاب ہے جو انہیں اپنے عیبوں سے جاہل کہہ رہا ہے اور جو اس دنیا میں جاہل رہا، وہ عقبیٰ میں بھی جاہل ہی رہے گا:
"جو دنیا میں عیب و صواب کی طرف سے اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔"
جب تک اللہ تعالیٰ انسان کے دل سے ارادات و شہوت کی نجاست نہ نکال دے اس وقت تک اس کی چشمِ سر غوامض یعنی جن سے آنکھ بند ہونا ضروری ہے، محفوظ نہیں رہ سکتی اور جب تک اپنی محبت کسی کے دل میں ثابت نہ کرے، اس کی چشمِ سر بلا نظارۂ غیر محفوظ نہیں رہ سکتی۔
۱۔ سورۃ النور: ۳۰ ۲۔ سورۃ بنی اسرائیل: ۷۲
صفحہ۳۰۴
آپ کا ایک واقعہ مروی ہے کہ ایک دن آپ بازار میں تشریف لائے تو لوگوں نے کہنا شروع کیا: هٰذَا مَجْنُوْنٌ "یہ دیوانہ" ہے۔ آپ نے فرمایا:
"میں تمہارے نزدیک دیوانہ ہوں اور تم میرے نزدیک ہوشیار ہو۔ میرا جنون شدتِ محبتِ محبوب سے ہے اور تمہاری صحت قوتِ غفلت سے۔ تو اللہ عزّ و جلّ میری دیوانگی زیادہ کرے تاکہ میرا تقرب قرب سے اقرب ہو اور تمہاری ہوشیاری زیادہ کرے تاکہ تمہارا بُعد موجود بُعد سے ابعد ہو جائے۔"
اور یہ ارشاد آپ کا بمقتضائے غیرت تھا کہ یہ لوگ دوست اور دیوانہ میں تمیز نہیں کرتے اور انہیں اپنی غفلت کا احساس نہیں تو یہ آخرت میں بھی ایسے ہی بے حس ہوں گے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو محمد بن جعفر بن نصیر خالدی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے حاکیِ احوال، بہ الطفِ اقوال و ادا حضرت ابو محمد بن جعفر بن نصیر خالدی رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت جنید رضی اللہ عنہ کے کبار اصحاب سے گزرے ہیں اور فنون و علم میں تبحر تھے اور مشائخ کرام کی سیروں کے حافظ اور ان کے مراتب کے خاص نگران مانے گئے ہیں۔
آپ کا کلام ہر فن میں مشہور ہے اور خاص کر رعونت میں آپ نے بہت کچھ فرمایا اور ہر مسئلہ پر آپ نے حکایت چسپاں فرمائی اور اس کا حوالہ کسی نہ کسی کی روایت سے ثابت کیا۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"توکل یہ ہے کہ وجود و عدمِ رزق تیرے دل کے نزدیک یکساں ہو۔"
اور جب وجودِ رزق ہو تو خرم و شاد نہ ہوا اور عدمِ رزق کے وقت اندوہ گیں نہ ہو۔ اس لیے کہ یہ جسم مِلکِ مالک ہے اور پرورش و ملوک جسم کے لیے تجھ سے بہتر وہی مالکِ عالم ہے جیسے چاہے رکھے۔ تو اس کی دارالسلطنت میں کسی قسم کا دخل نہ دے اور مِلکِ مالک کے سپرد کر اور اپنا تصرف منقطع کر لے۔
حضرت ابو محمد جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت جنید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک بار حاضر ہوا اور دیکھا کہ آپ کو بخار ہے۔ میں نے عرض کی: حضور! اپنے ربّ سے دعا کریں تاکہ وہ آپ کو شفا دے۔ فرمایا: کل میں نے عرض کی تھی تو مجھے جواب ملا کہ "جنید! جسم ہماری ملک
صفحہ۳۰۵
ہے، ہم چاہیں تو تندرست رکھیں، چاہیں تو بیمار۔ تم کون ہو جو ہمارے اور ہماری ملک میں دخل و تصرف کر رہے ہو۔ خاموش رہو اور اپنا تصرف ہماری ملک سے منقطع کرو تاکہ ہمارے عبدِ صادق رہو۔" وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو محمد بن القاسم رود باری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخ محمود معدن جود حضرت ابو محمد ابن قاسم رود باری رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ شہزادہ تھے اور نو جوانانِ متصوفہ کے بزرگ تھے۔ اعمالِ طریقت میں عظیم الشان درجہ پایا ہے۔ دقائقِ طریقت میں آپ کا کلام بڑا لطیف ہے۔ آپ سے مردی ہے کہ فرمایا:
"مرید وہ ہے جو کسی چیز کا ارادہ اپنی ذات کے لیے نہ رکھے مگر وہی جو اس کے ربّ کے ارادہ سے ہو، اور مراد وہ ہے کہ کونین میں سوائے ذاتِ حق کسی چیز کا طالب نہ ہو۔"
تو جب تک اپنی ارادات و عقیدت میں راضی ہے، مرید ہے اور محبّ کی ارادات و عقیدت جب نہیں رہتی تو وہ مراد ہو جاتا ہے۔ پھر جو حق تعالیٰ چاہے اس کے سوا وہ کچھ نہیں چاہتا اور جو خدا چاہے وہ کرے، سوائے خدائے تعالیٰ کے اور کچھ نہیں چاہتا۔ تو رضا مقاماتِ ابتدائی سے ہے اور محبت انتہاءِ حال کا نام ہے اور مقامات کی نسبت وجود و عبودیت تک ہے اور سر چشمہ اور درجاتِ تائیدِ ربوبیت میں ہیں۔ جب یہ سمجھ لیا تو خلاصہ یہ ہوا کہ مرید بخود قائم ہوتا ہے اور مرادِ بحق قائم ہوتا ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو العباس مہدی سیاری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے خزینۂ دار التوحید، عالم عامل علی الفرید ابو العباس حضرت مہدی سیاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ امامِ وقت تھے اور علومِ ظاہری و باطنی کے عالم گزرے ہیں۔ حضرت ابو بکر واسطی رحمۃ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ تھے اور بہت سے مشائخ کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے۔ نہایت عالی ظرف اور زہد و ورع میں مشہور۔ آپ کا کلام نہایت بلند اور تصانیف بہت زیادہ ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"توحید یہ ہے کہ ماسوائے ذاتِ حق، تیرے دل کے نزدیک کوئی خطرہ نہ آئے۔"
اور مخلوقات کی نظر کا تیرے دل کے پاس گزر نہ ہو اور تیری صفائیِ معاملہ میں کدورت نہ ہو اس لیے کہ اندیشۂ غیر، اثباتِ غیر بغیر نہیں ہوتا اور اثباتِ غیر ہونے کی صورت میں حکمِ توحید ساقط ہو جاتا ہے۔
یہ مرو کے بڑے رئیسوں کے خاندان سے تھے۔ اہلِ مرو میں ان کے مقابلہ کا کوئی رئیس نہ تھا۔ انہیں میراثِ پدری کافی ملی تھی، وہ تمام کی تمام دے کر دو موئے مبارک حضور اکرم ﷺ کے حاصل کیے۔ اللہ تعالیٰ نے موئے مبارک کی برکت سے توفیقِ توبۃ النصوح دی۔
حضرت ابو بکر واسطی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں آ گئے اور اس درجہ کو پہنچ گئے کہ ایک گروہِ صوفیہ کے امام بن گئے۔ جب آپ نے دنیا سے رحلت فرمائی تو وصیت کی تھی کہ یہ موئے مبارک میرے منہ میں رکھ دیے جائیں۔ آج تک مرو میں ان کا یہ اثر ہے کہ لوگ اپنی حاجت روائی کے لیے اس قبر پر جاتے اور بامراد واپس آتے ہیں اور حلِ مقاصد کے لیے آپ کی قبر پر جانا مجرب ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابو عبد اللہ محمد بن خفیف رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے مالکِ وقت خود در تصوف، خالیِ طبع از تصرف و تکلف حضرت ابو عبد اللہ محمد بن خفیف رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اپنے زمانہ کے امامِ علوم گزرے ہیں اور مجاہدات میں آپ کی شان بہت بلند ہے اور آپ کا بیان معانیِ حقائق میں نہایت شانی ہے اور آپ کی عمر کا بیشتر زمانہ تصنیف و تالیف میں گزرا۔ حضرت ابن عطا، حضرت شبلی، حضرت حسین بن منصور وغیرہ رحمہم اللہ کی زیارت فرما چکے ہیں اور مکہ معظمہ میں حضرت یعقوب نہر جوری رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہ چکے ہیں اور سیر و مکاشفات آپ کی بہت اچھی ہے اور خلوت نشینی بھی آپ نے بہت کی ہے۔ آپ بھی خاندانِ شاہی سے گزرے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو توبہ کی توفیق دی اور حکومت و سلطنت سے اعراض فرما کر ماسوی اللہ سے انقطاع کیا۔
آپ کی بزرگی کا سکہ اربابِ معانی کے دلوں پر سکہ زن ہے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا: اَلتَّوْحِیْدُ الْاِعْرَاضُ عَنِ الطَّبِیْعَةِ۔ "توحید نام ہے طبیعت سے اعراض کرنے کا۔" اس لیے طبیعت آلاء و نعمتِ الٰہی سے محجوب و نابینا ہوتی ہے۔ تو جب تک طبائع سے اعراض نہ ہو تقربِ الی اللہ نہیں ہو سکتا اور صاحبِ طبع حقیقت و توحید سے محجوب رہتا ہے۔
جب آفتِ طبع نظر آ جائے تو یقیناً منزلِ توحید تک پہنچ جاتا ہے۔ آپ کی بہت سی کرامتیں
صفحہ۳۰۷
اور دلائل ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو عثمان سعید بن سلام مغربی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سیفِ سیادت، آفتابِ سادۃ حضرت ابو عثمان سعید بن سلام مغربی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اہلِ تمکین کے سردار اور علمِ خط کے بہترین ماہر تھے، ریاضت و ثباتِ توکل میں مشہور تھے۔ آفاتِ نفس کے عالم تھے۔ آپ کی علامات و روایات اور براہین روشن ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا:
"جو صحبتِ اغنیاء، فقراء کی صحبت پر پسند کرے، اللہ تعالیٰ اسے موتِ قلب میں مبتلا کرے گا۔"
اس لیے غنی لوگوں سے صحبت رکھنے والا ان اغنیاء کے خیالات سے متاثر ہو کر ان کے فیضِ صحبت سے محروم ہو جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اغنیاء کی صحبت کسی غرضِ دنیاوی کی وجہ میں رکھی جاتی ہے تو جب غرضِ دنیا کی مجالست اغنیاء سے بڑھ گئی تو یقیناً دل نیاز مندیِ دنیا کی وجہ میں مر جاتا ہے۔
اور اس کا تن خواہشات کا شکار ہو جاتا ہے۔ تو پھر صحبتِ اغنیاء کا نتیجہ موتِ قلب ہے، تو کس لیے ان کی صحبت سے اعراض نہ کیا جائے۔ اس مضمون میں صحبت و مجالستِ فقراء و اغنیاء کا فرق واضح ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابراہیم محمد بن محمود نصیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے مبارز صفِ صوفیان، معبرِ احوالِ عارفان حضرت ابو القاسم ابراہیم محمد بن محمود نصیر آبادی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ نیشاپور میں مثلِ بادشاہ کے تھے۔ جس طرح نیشاپور میں شاہانِ حمویہ تھے ویسے ہی یہ بھی اپنے حال میں بلند اور شہنشاہِ عقبیٰ تھے۔ فرق اتنا تھا کہ شاہ حمویہ کی عزت دنیا میں تھی اور ان کی عزت کا تعلق عقبیٰ سے تھا۔ آپ کے کلامِ دیتیہ نہایت رفیع تھے۔ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدِ خاص تھے اور اہلِ خراسان کے متاخرین میں پیر و استاد مانے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ کے زمانہ میں آپ کے مقابلہ کا کوئی عارف نہ تھا اور آپ عالمِ اہلِ زمانہ اور متورع مانے جاتے تھے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا۔
(صفحہ 307 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آپ کا قول اگلے صفحہ 308 پر ہے۔)
"تو دو نسبتوں میں ہے، ایک نسبتِ آدم، دوسری نسبتِ حق۔ جب تجھے آدم کے ساتھ نسبت ہوگی تو تجھے میدانِ شہوات و مقاماتِ آفات و ذلت میں پڑنا ہوگا۔ اس لیے کہ طبائعِ انسان نہایت ذلیل و بے قدر ہیں اور اگر تجھے نسبتِ حق حاصل ہوگئی تو مقاماتِ کشف و برہان اور عصمتِ ولایت میں آ جائے گا اور نسبتِ عبودیت حاصل کرے گا اور یقینی امر ہے کہ نسبتِ آدم بروزِ قیامت منقطع ہو جائے گی اور نسبتِ عبودیت ہمیشہ قائم رہے گی اور اس کا تغیر ہرگز نہ ہوگا۔"
تو جب بندہ اپنے کو اپنے ساتھ منتسب کرے یا آدم کے ساتھ (تو یہ درجہ بہت گرا ہوا ہے) مقامِ کمال یہ ہے کہ بندہ خود کسی طرف اپنی نسبت نہ کرے بلکہ خود حق تعالیٰ اسے فرمائے:
﴿یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ﴾ (۳)
"اے میرے بندو! آج کے دن تمہیں کوئی خوف نہیں۔"
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابو الحسن علی بن ابراہیم حصری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سرورِ سالکانِ طریق جمالِ جانِ نہایے تحقیق حضرت ابو الحسن علی بن ابراہیم حصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ احرارِ درگاہ کے محتشمان میں گزرے ہیں اور ائمہ تصوف میں بڑے امام مانے گئے ہیں۔ اپنے زمانہ کے بے نظیر صوفی تھے۔ آپ کے کلام نہایت بلند ہیں اور آپ کی عبارات نہایت پُر لطف ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"چھوڑو مجھے میری بلا میں! کیا تم سب اولادِ آدم سے نہیں ہو اور کیا انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے یدِ قدرت سے پیدا نہیں فرمایا؟ پھر اس میں نفخِ روح کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدہ کریں۔ پھر اسے ایک حکم دیا گیا لیکن اس نے اس حکم کے خلاف کیا تو جب پہلی ہی خُم میں تلچھٹ ہو تو بتاؤ اس کے اخیر و اختتام میں کیا ہوگا؟"
جب آدمی کو اس کی نسبتِ آدمیت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ مجسمۂ مخالفت نہ ہوگا تو کیا ہوگا؟ اور جب عنایتِ حقہ نسبتِ حق کے ساتھ اس پر مستولی ہو تو پھر وہ محبتِ الٰہی میں عمر گزارنے کے سوا کچھ پسند نہ کرے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
یہاں تک یعنی متقدمین صوفیائے کرام کے حالات اور ان کے پیشواؤں کے مناقب بیان کیے گئے ہیں۔ اگر سب کے ذکر اس کتاب میں کیے جائیں اور ان کے حالات و کرامات و حکایات جمع کریں تو مقصودِ تالیف کتاب رہ جائے اور کتاب اتنی طویل ہو جائے (کہ مطالعہ مشکل ہو) اب ہم بعض متاخرین کے حالات نقل کریں گے۔
صفحہ۳۱۰
بارھواں باب
صوفیائے متاخرین
ناظرینِ کرام! اللہ تمہیں توفیق عطا فرمائے۔ اچھی طرح یاد رکھو کہ ہمارے زمانہ میں اس قسم کے لوگ باقی ہیں جو ریاستِ عرفان پر قبضہ بلا ریاضت و مجاہدہ کے چاہتے ہیں اور متصوف بن کر ارباب قصد و حزم کو بھی اپنے اور پر قیاس کر کے اپنے جیسا سمجھتے ہیں۔
(طریقہ ان کا یہ ہے کہ) جب ذکرِ وارفتگانِ سلف اور حالاتِ سلف سن کران کے تشرفِ قرب کو دیکھتے ہیں اور ان کے زہد و ورع اور مجاہدہ کا قصہ معلوم کرتے ہیں، اپنے نفس اور دل سے پوچھتے اور نگاہ کرتے ہیں (کہ آیا ہم اتنا مجاہدہ، اس قدر ریاضت کرنے کے اہل ہیں یا نہیں)۔ تو وہ اپنے نفس اور دل کو ان مجاہدوں سے دور اور بعید پاتے ہیں (مگر صوفی بن کر عوام پر دام تزویر ڈالنے کے شوقین ہیں)۔ تو بس ان چیزوں سے انکار شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ نہیں، اور ہم میں اس قسم کے لوگ اب باقی نہیں رہے۔
حالانکہ یہ قول ان کا بمرتبہ محال کے ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی زمین کو بے حجتِ الٰہیہ نہیں چھوڑا اور امتِ مرحومہ کبھی بغیر ولی کے نہیں رہی اور نہ رہے گی۔
چنانچہ حضور سید یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
۱۔ (حاشیہ) اسے ابو نعیم نے "حلیۃ الاولیاء" میں بطریقِ اعمش، انہوں نے یزید بن وہب سے، انہوں نے ابن مسعود سے ان الفاظ کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے: لَا یَزَالُ اَرْبَعُوْنَ رَجُلًا مِنْ اُمَّتِیْ قُلُوْبُهُمْ عَلٰی قَلْبِ اِبْرَاهِیْمَ، یَدْفَعُ اللّٰهُ بِهِمْ عَنْ اَهْلِ الْاَرْضِ، یُقَالُ لَهُمُ: الْاَبْدَالُ، اِنَّهُمْ لَمْ یُدْرِكُوْهُ بِصَلَاةٍ وَلَا بِصِیَامٍ۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
صفحہ۳۱۱
"ہمیشہ میری امت میں چالیس مردانِ خدا خُلقِ ابراہیم علیہ السلام پر رہیں گے۔"
اب ہم جن لوگوں کا اس کتاب میں ذکر کر چکے ہیں وہ گزر گئے اور ان کی روحیں راحت ریحان میں پہنچ گئیں اور بعض ان میں سے ابھی حیاتِ جسمانی میں موجود ہیں۔ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَعَنَّا وَعَنْ جَمِیْعِ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ۔
"میری امت سے چالیس آدمی ایسے رہیں گے جن کے دل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی طرح ہوں گے۔ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اہلِ زمین سے مصائب دور کرے گا اور لوگ نماز، روزہ اور صدقہ کے سبب نہ پا سکیں گے۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر لوگ انہیں کس طرح پائیں گے؟ تو فرمایا کہ سخاوت کے ساتھ۔"
امام احمد بن حنبل نے اسے اپنی مسند میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے: اَلَا اِنَّ الْاَبْدَالَ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ ثَلَاثُوْنَ مِثْلَ اِبْرَاهِیْمَ الْخَلِیْلِ عَلَیْهِ السَّلَامُ، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ اَبْدَلَ اللّٰهُ مَكَانَهٗ رَجُلًا۔ "اس امت سے تیس ابدال حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی طرح ہوں گے، جب (ان میں سے) کوئی ایک آدمی فوت ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا بدل دے گا۔"
مذکورہ روایت کو امام سیوطی انہی الفاظ کے ساتھ "الجامع الصغیر" میں لائے ہیں اور اسے امام احمد بن حنبل کی طرف سے منسوب کیا ہے کہ انہوں نے اسے اپنی "مسند" میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے طریق سے ذکر کیا ہے اور اس کے صحیح ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ امام زرکشی نے "التذکرہ" میں کہا ہے کہ یہ حسن ہے اور ابن مسعود والی روایت، جسے ابو نعیم نے "حلیۃ الاولیاء" میں ذکر کیا ہے، اس کی شاہد ہے۔ امام سیوطی کہتے ہیں: کہ اس حدیث کی بہت ساری شاہد روایات ہیں جنہیں میں نے "التعقبات علی الموضوعات" میں بیان کیا ہے اور پھر انہیں علیحدہ ایک مستقل تالیف کی شکل دی ہے۔
حوالہ کے لیے: مسند الامام احمد بن حنبل، المقاصد الحسنہ للسخاوی، کشف الخفاء للعجلونی، الجامع الصغیر للسیوطی، فیض القدیر للمناوی، الدرر المنتثرہ للسیوطی، التذکرہ للزرکشی، الاسرار المرفوعہ لعلی القاری۔
صفحہ۳۱۲
حضرت ابو العباس احمد بن قصاب رحمۃ اللہ علیہ
اُن متاخرین صوفیہ سے طرازِ طریقِ ولایت، جمالِ اہلِ ہدایت ابو العباس حضرت احمد بن قصاب رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ نے متقدمین ماوراء النہر کی زیارت کی ہے اور ان کے فیضِ صحبت سے بھی مستفید ہوئے ہیں۔ آپ اپنے علوِ حال اور صدقِ فراست اور کثرتِ برہان و کرامات میں مشہور و معروف تھے۔ حضرت ابو عبد اللہ خیاط رحمۃ اللہ علیہ جو امامِ طبرستان تھے فرماتے ہیں کہ حضرت جلت مجدہٗ عزّ اسمہٗ کے فضلوں میں سے ایک فضل یہ ہے کہ اپنے مقرب بندے کو بلا تعلیمِ علم یہ ذہنِ سلیم عطا فرماتا ہے کہ اگر مجھے اصولِ طریقت میں یا دقائقِ توحید میں کوئی مشکل پیش آ جاتی ہے تو میں ابو العباس احمد سے پوچھ کر حل کر لیتا ہوں۔ آپ غیر تعلیم یافتہ امی تھے مگر کلام اور نکات اتنے بلند بیان فرماتے تھے کہ علمِ تصوف اور اصولِ طریقت میں ابتداء سے انتہا تک آپ کو عالی حال نیک سیرت مانا گیا۔
آپ سے بہت زیادہ حکایتیں میں نے سنی ہیں مگر اس کتاب میں میرا رویہ اختصار پر ہے (اس لیے بعض صرف نقل کروں گا)۔ آپ فرماتے ہیں ایک بچہ سامان لادے ہوئے اونٹ کی نکیل تھامے بازار "آمل" میں جا رہا تھا اور اس بازار میں عموماً کیچڑ رہتی تھی۔ اتفاقاً اونٹ کا پاؤں پھسلا اور گر پڑا، پنڈلی چور ہو گئی۔ لوگوں نے ارادہ کیا کہ اونٹ کی پشت سے سامان اتار دیں۔ لڑکے نے منع کیا اور رو کر بارگاہِ الٰہی میں دست بدعا ہوا۔ فرماتے ہیں کہ میں بھی ادھر سے گزرا۔ دریافت کیا، لوگوں نے کہا اونٹ کا پاؤں ٹوٹ گیا۔ آپ نے اونٹ کی باگ تھامی اور آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور عرض کی: الٰہی! اس اونٹ کا پاؤں ٹھیک کر دے، اگر درست کرنا منظور نہیں تو قصاب کا دل اس بچہ کے رونے سے کیوں سوختہ ہے؟ اتنے میں اونٹ اٹھا اور بآسانی چلنے لگا۔
آپ سے مروی ہے کہ فرمایا: تمام عالم خواہ چاہے یا نہ چاہے اللہ تعالیٰ کی رضا کا خوگر کرنا چاہیے ورنہ رنج میں رہیں گے اس لیے کہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی رہنے کا خوگر ہوگا وہ ہر بلا کو من جانبِ مبلی سمجھ کر بلا نہ سمجھے گا، پھر گویا جو بلا اس پر آئے گی وہ بلا نہ ہوگی۔ اور اگر خوگرِ رضا نہ ہو تو بلا جو آنی ہے آئے گی مگر رنجیدگی اس پر لازمی ہے اور درحقیقت بلا و عذاب جو ہمارے لیے مقدر ہے، اس تقدیر کو ہم متغیر نہیں کر سکتے اور اگر ہم راضی برضا رہیں گے تو ہماری رضا کی وجہ میں وہ بلا بحکمِ قادر ہمارے لیے راحت ہو جائے گی۔
تو جو اپنے ربّ کی رضا میں راضی رہنے کا خوگر ہے اس کا دل ہر حال میں راحت پاتا ہے اور جو قضا و قدر سے اعراض کرتا ہے تو وَرودِ قضا کے وقت رنجیدہ دل ہوتا ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
صفحہ۳۱۳
حضرت علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ
انہیں متاخرین میں سے صوفیہ بیان، مریدانِ برہانِ محققان حضرت ابو علی بن حسن بن محمد دقاق رضی اللہ عنہ ہیں۔ امامِ فن تھے، اپنے زمانہ میں یکتائے عالم گزرے ہیں۔ بیان صریح، زبان فصیح رکھتے تھے اور کشفِ راہِ مولا میں کامل بہت سے مشائخ کرام کو دیکھ چکے ہیں اور ان کے فیضِ صحبت میں مستفید رہے ہیں۔ آپ حضرت محمد بن محمود نصیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور بہترین واعظ تھے۔
"جسے غیرِ خدا کے ساتھ مؤانست ہو وہ اپنے کیفیتِ حال میں ضعیف ہے اور جو اپنے ربّ کے سوا کسی سے مکالمہ کرے وہ اپنے بیان میں جھوٹا ہے۔"
اس لیے کہ اُنسِ غیر، قلتِ عرفان کی وجہ میں ہوتا ہے اور اس ذاتِ حق سے اُنس تب ہوتا ہے جبکہ وحشتِ دلی جاتی رہے اور جو متوحش بالغیر ہوگا، غیرِ خدا سے ناطق نہیں ہو سکتا۔
ایک بزرگ سے سنا کہ وہ فرماتے تھے کہ ایک روز مجلسِ علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ میں اس نیت سے پہنچا کہ متوکلوں کا حال دریافت کروں۔ آپ کے سرِ اقدس پر دستارِ طبری زیب تھی۔ میرے دل میں اس دستار کی طرف میلان ہوا۔ میں نے علی دقاق سے عرض کی کہ حضور! توکل کیا چیز ہے؟ فرمایا تو کل یہ ہے کہ تو اپنے دل کا میلان کسی کی دستار کی طرف نہ ہونے دے۔ یہ فرمایا اور دستارِ سرِ اقدس سے اتار کر میری طرف پھینک دی۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں متاخرین صوفیاء سے شرفِ اہلِ زمانہ، امامِ یگانہ ابو الحسن حضرت علی بن احمد خرقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اجلہ مشائخ سے تھے اور اپنے وقت میں ممدوحِ اولیاء گزرے ہیں حتیٰ کہ حضرت شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ بقصدِ زیارت آپ کے پاس آئے اور آپ کے ساتھ خاص راز کی باتیں ہوئیں۔ جب واپس ہوئے تو فرمایا: ابو الحسن! ہم نے تمہیں اپنی عہدِ ولایت کے لیے منتخب کیا اور حسن مؤدب خادم شیخ ابو سعید کہتے ہیں کہ جب شیخ حضرت ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پہنچے تو آپ نے اپنی طرف سے کوئی بات نہ کی اور حضرت ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ کی باتیں سنتے رہے، کبھی کبھی کسی بات کے جواب میں کلام فرماتے۔ میں نے عرض کی حضرت! آپ کس لیے
صفحہ۳۱۴
خاموش رہے؟ فرمایا: ایک بات کے لیے ایک ہی بولنے والا کافی ہوتا ہے۔
اور استاد ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ سے سنا کہ فرماتے ہیں جب ہم ولایتِ خراسان میں آئے تو ہماری فصاحت ختم ہو گئی اور عباراتِ حال جاتی رہیں۔ یہ دبدبہ و شوکت پیرِ خراسانی کا تھا، حتیٰ کہ ہم اپنے منصبِ ولایت سے وہاں کی مدتِ قیام میں معزول ہو گئے۔
آپ سے مروی ہے کہ فرمایا: راستے دو ہیں: ایک راہِ ضلالت ہے، دوسرا راہِ ہدایت۔ جو راہِ ضلالت ہے، وہ بندہ کا راستہ ہے خدا کی طرف اور وہ جو راہِ ہدایت ہے وہ خدا کا راستہ ہے بندہ کی طرف۔ تو جو بندہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ تک پہنچا، وہ ہرگز نہیں پہنچا اور جو کہے مجھے اللہ تعالیٰ تک پہنچا دیا وہ یقیناً پہنچ گیا۔ اس لیے کہ کامیابی پہنچنے اور نہ پہنچنے اور کامیاب ہونے اور نہ ہونے میں نہیں ہے کہ پہنچانے اور نہ پہنچانے اور آزاد کرنے اور نہ کرنے میں مضمر ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت ابو عبد اللہ محمد بن معروف بسطامی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں متاخرین صوفیہ سے بادشاہِ زمان حضرت ابو عبد اللہ محمد بن معروف بہ داستانی بسطامی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ علوم میں بہترین عالم اور درگاہِ حق میں محتشم تھے۔ آپ کا کلام نہایت مہذب تھا اور ارشادات نہایت لطیف۔
شیخ سہلکی رحمۃ اللہ علیہ جو اس ملک کے امام تھے، آپ سے بہت محبت کرتے تھے اور میں نے شیخ سہلکی سے ان کے کچھ اقوال سنے ہیں۔ من جملہ ان کے یہ ہے کہ آپ نے فرمایا:
"تجھ میں توحید درست ہے لیکن تو توحید میں نادرست اور مفقود ہے۔"
یعنی بموجب اقتضائے حق، توحید پر تیرا قیام صحیح نہیں اور ادنیٰ درجۂ توحید کا نفیِ تصرف ہے۔ ملکِ جسم سے اپنے امور میں حق عزّ و جلّ کا اثبات۔ شیخ سہلکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس وقت بسطام میں ٹڈیاں اس قدر آئیں کہ تمام درختوں کو چاٹ گئیں اور کشتیاں ان کی سیاہ ہو گئیں اور لوگ تفرج وزاری میں مشغول ہو گئے تو شیخ بسطامی نے مجھ سے پوچھا: یہ کیسا شور ہے؟ عرض کی: حضور ٹڈیاں آئی ہیں اور لوگ ان سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ یہ سنتے ہی شیخ اٹھے اور چھت پر تشریف لائے اور آسمان کی طرف رخ کیا کہ اسی وقت تمام ٹڈیاں اٹھیں اور عصر کی نماز تک ایک بھی نہ رہی اور کسی کا ایک پتہ برابر نقصان نہ ہوا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
صفحہ۳۱۵
حضرت ابو سعید فضل بن محمد مہنی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں متاخرین صوفیہ سے شہنشاہِ مجاہ، ملکِ ملوکِ صوفیاں حضرت ابو سعید فضل اللہ بن محمد مہنی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ سلطانِ وقت و جمالِ طریقت گزرے ہیں۔ تمام اہلِ زمانہ آپ سے مسخر تھے۔ کوئی آپ کے دیدار کا مشتاق رہتا، کوئی آپ سے حسنِ عقیدت رکھتا۔ کوئی آپ کی قوتِ حال کا قائل تھا۔ علوم و فنون میں مانے ہوئے عالم ہونے کے علاوہ اشرافِ قوم میں عظیم الشان درجہ رکھتے تھے۔ مرید برآں طریقت میں آپ کی نشانیاں اور براہین بے حد ہیں۔ چنانچہ آج تک آپ کے آثار کمالات اتنے ظاہر ہیں کہ دنیا جانتی ہے۔
ابتدائی زمانہ میں آپ بغرضِ حصولِ علم مقام "مہنہ" سے مقام "سرخس" میں آئے اور حضرت ابو علی رائض یعنی چاہ سوار کی خدمت میں رہے۔ آپ کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ تین روز کا سبق ایک دن میں پڑھا کرتے اور تین دن عبادتِ الٰہی میں بسر فرماتے۔ امام ابو علی رحمۃ اللہ علیہ نے جب آپ کی یہ راست روی ملاحظہ فرمائی تو آپ کی عظمت فرمانے لگے اور تعلیم میں کچھ زیادتی کر دی۔ اس زمانہ میں والیِ سرخس شیخ ابو الفضل حسن تھا۔ ایک دن حضرت فضل اللہ ابو سعید "جوبار" نہر پر گلگشت فرما رہے تھے کہ ابو الفضل والیِ سرخس سے دو چار ہو گئے۔ ابو الفضل حسن نے آپ سے کہا: ابو سعید! جس راستے پر تم جا رہے ہو یہ تمہارا راستہ نہیں، اپنا راستہ لو۔ حضرت ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی طرف التفات نہ کیا اور سیر فرما کر اپنی قیام گاہ پر تشریف لے آئے اور اپنے مشاغلِ ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہو گئے، حتیٰ کہ حق تعالیٰ نے درِ ہدایت کھولا اور حضرت ابو سعید کو مدارجِ علیا پر فائز فرمایا۔
شیخ ابو فارس فرماتے ہیں کہ مجھے ابو سعید فضل اللہ سے دیرینہ خصومت تھی (لیکن ان کے زہد و ورع کا شہرہ سن کر) جب ان کی زیارت کا شوق ہوا تو میں ایسی حالت میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا کہ میرے جسم پر ایسا خرقہ تھا کہ میلا ہو کر چمڑے کی طرح ہو گیا تھا۔ جب میں آپ کی خدمت میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ آپ تختِ مربع پر ردائے مصری ڈالے تشریف فرما ہیں۔ میں نے اپنے دل میں یہ اعتراض کیا کہ یہ مردِ دعویٔ فقیری کر کے اس قدر علائقِ دنیاوی میں پھنسا ہوا ہے اور تمام علائق سے انقطاع کر کے مدعیِ فقر ہونے سے میری اس کے ساتھ کیونکر موافقت ہوگی۔ ابو سعید فضل اللہ اپنے نورِ فراست سے میرے اس خطرے سے واقف ہو گئے اور سر اٹھا کر مجھ سے فرمایا:
"ابو مسلم! تم نے کس کتاب میں دیکھا کہ جب کسی کا دل خدا کے مشاہدہ میں قائم ہو، اس پر نامِ فقر آتا ہے۔"
یعنی جو اصحابِ مشاہدہ ہیں وہ اپنے ربّ کے ساتھ غنی ہیں اور جو فقیر ہیں وہ اربابِ مجاہدہ کہلاتے ہیں۔ ابو مسلم نے کہا یہ جواب سن کر اپنے دل میں خجل و پریشان ہوا اور اپنے بے جا وسوسہ سے توبہ کی۔
اور یہ بھی مشاہدہ کی طرف اشارہ ہے، اس لیے کہ مشاہدہ غلبۂ دوستی سے ہوتا ہے اور شوقِ رویت و مشاہدہ استغراق میں ہوتا ہے اور فنا جسے کہتے ہیں وہ بقاء بحق کہلاتی ہے۔ اس بحث کو کتاب الحج کے عنوان سے مشاہدۂ وجود کی تفصیل کے لیے علیحدہ باب میں بیان کیا جائے گا۔ انشاء اللہ۔
ایک بار حضرت ابو سعید فضل اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے نیشاپور سے طوس کا قصد فرمایا۔ راستہ میں سردی سخت تھی۔ حتیٰ کہ موزوں کے اندر بھی پائے مبارک سردی محسوس کرنے لگے۔ ایک درویش کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ اپنی کمر کی پٹی کے دو ٹکڑے کر کے پائے مبارک میں لپیٹ دوں مگر میرے دل نے اس کا کاٹنا گوارہ نہ کیا اس لیے کہ وہ بہت عمدہ تھی۔ جب ہم طوس آ گئے۔ ایک روز محل میں میں نے عرض کی کہ حضور! وسواسِ شیطانی اور الہام میں کیا فرق ہے؟ فرمایا: الہام وہ ہے جس میں تجھے کہا گیا کہ کمر پٹی کاٹ کر ابو سعید کے پیروں کو سردی سے محفوظ کر اور وسواسِ شیطانی وہ ہے جس نے تجھے اس کام سے روکا۔ اور اس قسم کی بہت سی باتیں متواتر ہیں، لیکن اس مختصر میں یہ ہی بس ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت شیخ ابو الفضل محمد بن حسن ختلی رحمۃ اللہ علیہ
(یہ حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے مرشد ہیں)
انہیں متاخرین صوفیاء میں میرے مرشدِ بحق، زینِ اوتاد، شیخ عباد ابو الفضل حضرت محمد بن حسن ختلی رضی اللہ عنہ ہیں۔ طریقت میں میری پیروی و اقتداء ان کے ساتھ ہے۔ علمِ تفسیر و روایات کے زبردست عالم تھے اور تصوف میں مسلکِ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ رکھتے تھے اور آپ حضرت حصری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور سیری کے مصاحب اور حضرت ابو عمر قزوینی اور ابو الحسن بن سالبہ رحمہم اللہ کے ہمعصر تھے۔
صفحہ۳۱۷
ساٹھ سال عزلت نشین رہ کر مخلوق میں سے اپنا نام گم فرما چکے ہیں۔ زیادہ تر آپ کا قیام "جبلِ لگام" میں رہا، کافی عمر پائی۔ آپ کی آیات و براہین بہت ہیں مگر آپ کا لباس متصوفین کی رسم کا نہ تھا اور رسمی چیزوں کے آپ سخت خلاف تھے۔ میں نے اس مردِ خدا سے زیادہ بارُعب کوئی نہیں دیکھا۔ آپ سے میں نے سنا کہ فرمایا: اَلدُّنْیَا یَوْمٌ وَلَنَا فِیْهِ صَوْمٌ۔ "دنیا مثلِ ایک دن کے ہے اور اس دن میں ہمارا روزہ ہے۔" یعنی اس دنیا سے ہم نے کچھ حصہ نہیں لیا اور اس کی قید میں ہم نہیں آئے، اس لیے کہ دنیا کی آفتیں ہماری دیکھی ہوئی ہیں اور اس کا جو حجاب ہے اس سے ہم واقف ہو چکے ہیں۔
ایک روز میں وضو کے لیے حضور کے ہاتھ پر پانی ڈال رہا تھا تو میرے دل میں خطرہ پیدا ہوا کہ جب تمام نظامِ عالم اور کاروبارِ دنیا قسمت پر موقوف ہے تو کس لیے اچھے خاصے آزاد لوگ امیدِ کرامت و فیوض پر اپنے آپ کو پیروں، فقیروں کا غلام اور بندۂ حکم بناتے ہیں۔ (میرے دل میں یہ خطرہ گزر رہا تھا کہ) حضور فرمانے لگے: صاحب زادے! جو وسوسہ تمہارے دل میں پیدا ہوا، ہمیں معلوم ہے۔ یاد رکھو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ قضا و قدر کے ہر حکم کے لیے اللہ تعالیٰ نے سبب رکھے ہیں۔ جب ظالم بچہ یعنی سپاہی زادہ کو اللہ تعالیٰ تاجِ عرفان و مملکتِ عشق سے نوازنا چاہتا ہے تو اسے توفیقِ توبہ دے کر اپنے کسی مقرب دوست کی خدمت میں مشغول فرما دیتا ہے، تاکہ وہ خدمت گزاری اس کی عزت و کرامت کے لیے سبب بنے۔ اور مثل اس کے بہت سے لطائف ہر روز اور پر ظاہر ہوتے رہتے تھے۔
جس روز کہ حضرت کی وفات کا وقت آیا، آپ اس روز "بیت الجن" میں تھے۔ یہ ایک گاؤں ہے جو "دمشق" اور "بانیا روذ" کے مابین ایک گھاٹی پر آباد ہے۔ آپ کا سرِ مبارک میری گود میں تھا اور مجھے ایک پیر بھائی سے دل میں رنج تھا، جیسا کہ عام لوگوں کی عادت کے ماتحت لوگوں میں ہوتا ہے تو سرکار مجھ سے فرمانے لگے: بیٹا! تمہیں ایک عقیدہ بتاتا ہوں اگر تم اس پر قائم ہو گئے تو تمام جہان کے غموں سے آزاد ہو جاؤ گے۔ "یاد رکھو! ہر جگہ اور ہر حال اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کا پیدا کیا ہوا ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد، ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی کسی پیدا کی ہوئی چیز سے خصومت نہ رکھیں اور کسی کی طرف سے دل میں رنج نہ رکھیں۔" بس اس وصیت کے بعد اور کچھ نہ فرمایا اور جان جانِ آفرین کے سپرد فرما دی۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
ابو القاسم حضرت عبد الکریم بن ہوازن قشیری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں متاخرین صوفیاء میں استاد و امام زین الاسلام ابو القاسم حضرت عبد الکریم بن
(صفحہ 317 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 318 پر ہے۔)
صفحہ۳۱۸
ہوازن قشیری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اپنے زمانے کے بدیع المثال لوگوں میں تھے اور عزت و حرمت میں رفیع المثال اور منزلوں میں علوّ الحال تھے۔ ان کی بزرگی کا زمانہ مقرر ہے اور ان کے فضائل عام طور پر مشہور ہیں۔ ہر فن میں ان کے لطائف بے حد ہیں۔ تصانیف بہت زیادہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے حال و قال کو حشو و زوائد سے محفوظ فرما دیا تھا۔
"صوفی کی مثال مریضِ برسام کی سی ہے جس کی ابتدا ہذیان اور بہکی بہکی باتوں سے ہوتی ہے اور آخر میں خاموشی اور جب وہ متمکن ہو جاتا ہے تو گونگا کر دیتا ہے۔"
تو صفاءِ قلب کے دو رُخ ہیں: ایک وجد، دوسرے نمود۔ وجد کیفیتِ مبتدیانہ ہے اور نمود وجدِ منتہیان ہے اور وجد ایک ایسی کیفیت ہے کہ اس کی ترجمانی عبارت میں محال ہے تو جب تک مبتدی طالب رہتا ہے اپنی علوِّ ہمت میں ناطق ہوتا ہے، جو مثلِ بکواس ہے اور اسی کو ہذیان کہا گیا اور جب منتہاءِ کمال کو پہنچ گیا تو پھر نہ عبارت رہتی ہے نہ بیان نہ ہذیان۔
اس کی مثال یوں سمجھنی چاہیے کہ جب موسیٰ علیہ السلام درجۂ مبتدی میں تھے، آپ کی ہمت رویت کی طالب تھی، حتیٰ کہ اپنی ہمت کے ماتحت طلبِ رویت کی عبارت بھی کہہ ڈالی اور صاف عرض کیا: ﴿رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْكَ﴾ (۱) "اے ربّ! اپنا تجلیِ حسن دکھا کہ میں اس جلوہ کو دیکھوں۔"
یہ وہ عبارت ہے جس سے مقصود حاصل نہ ہونا تھا تو یہ نطق بے معنی ہی تھا اور ہمارے حضور سید یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ منتہیٰ پر متمکن تھے۔ تو جب کسی کی شخصیت تمام مقامات سے عبور کر کے منتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اس کی ہمت و خواہش سب فنا ہو جاتی ہے، تو حضور فرما رہے ہیں: لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْكَ۔ (۲) "تیری حمد و ثناء کا احصا ناممکن ہے۔" یہ منزلِ رفیع اور مقامِ عالی ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
۱۔ سورۃ الاعراف: ۱۴۳
۲۔ (حاشیہ) یہ امام مسلم کی "صحیح" میں (کتاب الصلاۃ: باب ما یقال فی الرکوع والسجود، حدیث: ۴۸۶) روایت کردہ حدیث کا جز ہے۔ مکمل الفاظ یہ ہیں: اَللّٰهُمَّ اَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ، لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْكَ اَنْتَ كَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِكَ۔ (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر)
صفحہ۳۱۹
حضرت ابو العباس احمد بن محمد شقانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں متاخرین صوفیاء سے امام اوحد ابو العباس احمد بن محمد شقانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اصول و فروع میں بڑے ماہر اور امامِ وقت گزرے ہیں۔ بہت سے مشائخِ کبار کی زیارت سے مشرف ہو چکے ہیں۔ متصوفین کی جماعت میں خاص طور پر کبراءِ قوم مانے گئے۔ آپ خود کو مقامِ فنا کے ساتھ تعبیر فرماتے تھے اور آپ کی عبارات بہت مغلق ہوتی ہیں اور ان عبارتوں کے لیے آپ مخصوص ہیں۔
میں نے ایک جماعت جاہلوں کی پائی جو آپ کی عبارت کے ظاہر پر کورانہ تقلید کرتی ہے اور یہ تقلید بے معنی اور نا ستودہ ہے (یعنی مفہوم مضمون قائل نہ سمجھ کر محض عبارت کے سطحی معنی کی تقلید جہالت محض ہے اور وہ تقلید جو امام معین کی جاتی ہے وہ عین منشاءِ اسلام ہے)۔ تم دیکھو کہ ان کی عبارتیں کس قسم کی ہیں۔ میرے دل میں ان کی زبردست محبت ہے اور مجھ پر ان کی بحدِ غایت صادق شفقت ہے اور بعض علوم میں وہ میرے استاد بھی ہیں۔ جب تک میں ان کے پاس رہا، میں نے تعظیم شرع کرنے والا ان سے زیادہ کسی کو نہ پایا۔
(بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ سے) اَنْتَ كَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِكَ۔ اسی طرح امام ابو داؤد نے اپنی "سنن" میں (کتاب الصلاۃ: باب الدعاء فی الرکوع والسجود، حدیث: ۸۷۹) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے امام مسلم کی صحیح میں روایت کردہ حدیث کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے، امام ماجہ نے اپنی "سنن" میں (کتاب اقامۃ الصلوۃ: باب ما جاء فی القنوت فی الوتر، حدیث: ۱۱۷۹) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: كَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ فِیْ اٰخِرِ وِتْرِهٖ: اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ... الخ۔ اسی طرح اسے امام احمد بن حنبل نے اپنی "مسند" میں، امام مالک نے "الموطا" میں، امام غزالی نے "احیاء العلوم" میں، امام سیوطی نے "الجامع الصغیر" میں اور سراج طوسی نے کتاب "اللمع" میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے: كَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَدْعُوْ فِیْ سَجْدَتِهٖ: اَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَاَعُوْذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ، وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ... الخ۔
صفحہ۳۲۰
انہوں نے ماسوی اللہ اور کل موجودات سے اپنے دل کو صاف کر رکھا تھا۔ ان کے علم و عبادات دقیقہ کا بحران کے کسی کے لیے فائدہ نہیں تھا۔ ان کے وقتِ حال کے مطابق ان کی عبارت علمِ اصول سے پیوستہ ہوتی تھی اور ان کا دل دنیا و عقبیٰ دونوں سے متنفر تھا۔ ہمیشہ جوش و خروش میں فرمایا کرتے تھے: اَشْتَهِیْ عَدَمًا لَا وُجُوْدَ لَهٗ۔ "میں نے ایسے عدم کی خواہش کی جس کا وجود ہی نہیں۔"
کبھی فارسی میں فرماتے:
مر آدمی را بایست محال باشد و مرانیز بایست محالست که بہ یقین دانم آں نبا شد کہ وآں آنست کہ میبا یدم کہ خداوند تعالیٰ مرا بعدم بروکہ ہرگز آں عدم را وجود نبا شد۔
"ہر آدمی کے لیے ایک جگہ ہے اور میرے لیے بھی یقیناً ایک محل ہے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ وہ عدمِ محض ہے اور وہ عدم وہ ہے کہ ضرور مجھے وہاں لے جایا جائے گا، اور میرا ربّ مجھے عدم میں پہنچا دے گا اور وہ وہ جگہ ہے جس کا وجود نہیں۔"
اس لیے کہ مقامات و کرامات تمام کے تمام محلِ حجاب و بلا ہیں اور انسان اپنے حجاب کا عاشق ہے اور نیستی و عدم جو دیدارِ یار میں ہو، وہ بہترین نعمت ہے اور اس بہشت سے افضل ہے جس میں حجابِ محبوب ہو اور جب حق جل علا شانہٗ وہ ہستی ہے کہ اس پر عدم محال ہے پھر اس کی ملکیت میں میرے نیست ہو جانے سے کیا زیاں ہو سکتا ہے اور یقیناً میرے عدم کو و جود نہیں ہے۔ یہ ان کی اصل طریقت میں دلیلِ قوی ہے جو مرتبۂ فنا میں منکشف ہوتی ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت ابو القاسم بن علی بن عبد اللہ گرگانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں متاخرین صوفیاء میں قطبِ زمانہ حضرت ابو القاسم بن علی بن عبد اللہ گرگانی (۱) رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ متَّعَنَا اللّٰهُ وَالْمُسْلِمِیْنَ بِبَقَائِهٖ۔ اپنے وقت میں عارف بے نظیر اور اپنے زمانہ میں صوفی بے بدیل گزرے ہیں۔ آپ کا ابتدائی زمانہ بھی بہت نیک گزرا اور آپ کے سفر بشرائطِ مجاہدہ بہت کامیاب ہوئے۔ آپ کی طرف قریب قریب ہر دل رجوع کرتا رہا ہے اور ہر ایک کی نظر میں آپ کا بہت زیادہ اعتماد تھا۔
۱۔ سمرقند کی مطبوعہ کتاب میں "گرگان" لکھا ہے اور مترجموں نے "کرمانی" لکھا ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ انہوں نے کرمانی کن معلومات کے تحت لکھا ہے۔ واللہ اعلم (ابو الحسنات قادری)
صفحہ۳۲۱
مریدوں میں آپ کا کشف مشہور تھا۔ علومِ ظاہری میں تمام فنون میں ماہر تھے۔ آپ کا ہر مرید ایک امتیاز خاص رکھتا تھا۔ آپ کا خُلق بھی نہایت اچھا تھا اور آپ کے پسماندگان بھی ان شاء اللہ ایسے ہی ہوں گے کہ قوم ان کی اقتداء و پیروی کرے۔ آپ کو "لسان العصر" مانا جاتا تھا۔
حضرت ابو علی حضرت ابو الفضل بن محمد فارمدی ابقاء اللہ نے دنیا سے اپنا حصہ ترک کر کے سب سے اعراض کر لیا ہے اور علامہ حضرت گرگانی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت اختیار کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مراد اس مبارک ہستی کے صدقہ میں پوری کی اور سید علی گرگانی کی زبان بنا دیا۔ ایک روز میں شیخ گرگان کی خدمت میں حاضر تھا اور اپنے لطائف جو مجھ پر منکشف ہوئے تھے، عرض کر رہا تھا تاکہ اپنا حال ان کی ہدایت کے مطابق درست کروں کیونکہ آپ ناقدِ وقت تھے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حضرت علی گرگانی رحمۃ اللہ علیہ میرا تمام حال احترام کے ساتھ سنتے ہیں۔ میرا لڑکپن اور بچپن کا نخوت اور جوشِ جوانی مجھے اپنے حال کی ترجمانی پر حرص بڑھا رہا تھا اور دل میں یہ خیال سکہ زن ہوا کہ جو لطائف مجھ پر منکشف ہوئے ہیں شاید اس قدر لطائف ان پر منکشف نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اتنے غور و خوض سے سن رہے ہیں۔ شیخ علی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی فراستِ ولایت سے میرے ضمیر کی آواز و خیال کو پہچان لیا اور فرمایا: اے جانِ پدر! میری یہ فروتنی اور نیاز مندی تیرے لیے نہیں ہے بلکہ ہر مبتدی سے جو اپنے حالات لطائف مجھے سناتا ہے، ایسے ہی سنتا ہوں، یہ تمہارے لیے ہی خاص نہیں ہے۔ جب میں نے آپ سے یہ الفاظ سنے تو میں خاموش ہو گیا۔ آپ نے جب میری یہ خجالت محسوس فرمائی تو مجھ سے فرمایا: بیٹا! انسان کو طریقت میں اس سے زیادہ نسبت نہیں کہ جب وہ اس طریق کو اختیار کرتا ہے تو پھر اس کو چہ کے سوا کسی اور سمت اُسے جانا منظور نہیں ہوتا اور جب وہ اس منصب سے معزول کر دیا جاتا ہے تو اُسے اس کوچہ کے مذاکرہ سے فرحت ہوتی ہے۔ تو نفی و اثبات اور فقدانِ وجود ہر دو ایک خواہش کے ماتحت ہیں اور انسان کبھی اپنے پندارِ وہم و خواہش سے رستگار نہیں ہو سکتا۔ اسے چاہیے کہ بارگاہِ ایزدی میں بندگی و عبودیت اختیار کرے اور تمام نسبتوں کو اپنے سے رفع کر کے سوا نسبتِ مردانگی اور خرم و استقلال و فرمانبرداری کے، کسی وقت التفات نہ رکھے۔ (اس کے بعد من جانبِ اللہ اس پر اسرار منکشف ہوں گے)۔ علاوہ اس کے، اُن کے اور میرے مابین بہت سے راز تھے۔ اگر ان کی تفصیل کی طرف رجوع ہو جاؤں تو جو مقصودِ تالیفِ کتاب ہے، وہ رہ جائے۔ اس لیے اس اختصار پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔
حضرت ابو احمد مظفر بن حمدان رحمۃ اللہ علیہ
انہیں متاخرین میں سے رئیس الاولیاء، ناصحِ اہلِ صفا حضرت ابو احمد مظفر بن حمدان رضی
صفحہ۳۲۲
اللہ عنہ نے سریرِ سلطنت پر دروازۂ اسرار منکشف فرمایا اور تاجِ کرامت و عرفان سے انہیں نوازا۔ بحثِ فنا و بقا میں اُن کا پیغام نہایت عمدہ و بلند ہے۔
اور شیخ المشائخ حضرت سید ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں بندگی و عبودیت کے ذریعہ سے یہ راہِ طریقت ملی مگر ابو احمد مظفر کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ یعنی ہم مجاہدہ کر کے مرتبۂ مشاہدہ تک پہنچے مگر وہ بفضلِ الٰہی مشاہدہ سے مجاہدہ کی طرف آئے۔
میں نے خود حضرت ابو احمد مظفر سے سنا کہ فرماتے تھے کہ وہ نعمت جو عرفاء و کملاء کو قطعِ بوادیِ عشق اور طے مراحلِ جہد کے بعد حاصل ہوئی، اللہ تعالیٰ نے مجھے مسند پر حکومت کرتے ہوئے عطا فرمائی۔ بلکہ جو لوگ متکبر ہیں وہ (اپنے اوپر قیاس کر کے) حضرت خواجہ ابو احمد مظفر کے اس قول کو محض تعلّی خبر کرتے ہیں، حالانکہ یہ اُن کا عیب ہے۔ اس لیے کہ جو اپنے حال کو صداقت سے بیان کرے وہ محض دعویٰ نہیں ہوتا، علی الخصوص جب کہ اُن کی رفعتِ مکانی کو اربابِ معنی بھی بیان کر رہے ہوں۔
اور آج ان کے فرزندِ رشید موجود ہیں اور حضرت خواجہ احمد فرماتے ہیں کہ ایک روز میں اُن کی خدمت میں حاضر تھا کہ نیشاپور کا ایک مدعیِ تصوف ان کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: "فانی شود آنگاہ باقی شود۔" "یعنی اوّل فانی ہو تو پھر باقی ہوگا۔" حضرت خواجہ مظفر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: فنا بقاء کس طرح صورت حاصل کر سکتی ہے اس لیے کہ فنا کے معنی نیست کے ہیں اور بقاء کے معنی ہست کے، اور ان دونوں صورتوں میں ایک دوسرے کی نفی ہے (اس لیے کہ فناء بقا کی ضد ہے اور بقاء فنا کی ضد)۔ تو جب فنا ہوئی تو فنا معلوم کی ہوگی مگر یہ فنا عین نہیں بلکہ جسے فنا کہا جاتا ہے، وہ کچھ اور ہی چیز ہے، وہ جائز نہیں کہ حقیقتیں فنا ہوں تو درحقیقت فنا نامِ صفتِ فنا کا ہے، اس لیے کہ سبب کا فنا ہونا جائز ہے۔
تو صفت و سبب کے فنا ہو جانے سے موصوف اور مسبب باقی رہتا ہے اور یہ یاد رکھو کہ ذات پر فنا کبھی درست نہیں۔ اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ مجھے خواجہ مظفر رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت بلفظ یاد نہیں رہی۔ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ اس عبارت کا مفہوم بیان کیا ہے۔
اور عبارت کے مفہوم کو میں اور زیادہ وضاحت سے بیان کرتا ہوں تاکہ عام فہم ہو جائے وہ یہ ہے کہ بندہ کا اختیار بندہ کی صفت پر ہے اور جب تک بندہ اپنے اختیار میں رہتا ہے محجوب ہوتا ہے تو گویا صفتِ عبد، حق تعالیٰ کی طرف بندہ کے لیے حجاب ہے اور اختیارِ ذات واجب اللہ تعالیٰ
صفحہ۳۲۳
شانہٗ ازلی و ابدی ہے اور اختیاراتِ عبد حادث ہیں اور ازلی پر فنا محال ہے۔ تو جب اختیار فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (۱) حق عبد میں بمرتبۂ بقا قائم ہوتا ہے تو اس وقت اختیارِ عبد فانی ہو کر تصرفِ عبدیت کو منقطع کر دیتا ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
ایک دن میں گرمی کی شدت سے شیخ ابو المظفر کی خدمت میں اپنے کپڑوں کو شور یدہ کیے ہوئے پسینہ میں شرابور سراسیمہ حاضر ہوا۔ مجھ سے فرمایا: ابو الحسن! کیا حال ہے جو اس قدر گھبرا رہے ہو! میں نے عرض کی: سرکار! سماع کی خواہش ہے۔ اسی وقت کسی خادم کو حکم ہوا، علی الفور قوال حاضر ہو گئے اور ایک جماعتِ اہلِ مشرف کی بھی آ گئی۔ قوالی شروع ہوئی کہ ایک نو عمر لڑکے نے جوشِ جوانی اور قوتِ ارادہ و آتشِ عشق حرارت سے اثنائے سماع میں مجھے مضطرب کر دیا۔ کچھ اس کے جذبات سے اور کچھ کلماتِ پُر سوز سے میں بیقرار ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں وہ کیفیتِ غیبانی جو آفتِ حال سے مجھ پر طاری ہوئی تھی، کم ہوئی۔ تو مجھ سے دریافت فرمایا: اب تیرا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی: اب بہت سکون ہے۔
سماع و قوالی کے نقصانات
فرمایا: ایک وقت تجھ پر وہ آئے گا کہ یہ آوازِ سماع اور کوے کی کائیں کائیں تیرے لیے یکساں ہوگی، اس لیے کہ سماع کا اثر صوفی کے قلب پر اسی وقت ہوتا ہے جب تک وہ مشاہدہ سے محروم ہے اور جب مشاہدہ حاصل ہو جاتا ہے تو اثرِ سماع بیکار ہو جاتا ہے۔ خیال رکھنا! اس سماع کی عادت نہ ڈال لینا، کہیں یہ طبیعتِ ثانیہ بن کر تجھے مشاہدہ سے محجوب نہ کر دے۔
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
۱۔ سورۃ ہود: ۱۰۷
صفحہ۳۲۴
تیرھواں باب
مختلف ممالک کے مشائخِ متاخرین
بطریقِ اختصار اُن صوفیاء کرام کے حالات میں جو متاخرین میں سے ان شہروں میں جلوہ افروز ہیں۔ اگر میں اس وقت تمام متاخرین صوفیاء کے حالات مفصل اس کتاب میں بیان کروں تو طوالتِ کتاب یقینی ہے اور اگر بعض کے حالات چھوڑ دوں جو مقصودِ کتاب ہے وہ پورا نہیں ہوتا۔ لہٰذا اب ہم اُن کے اسمائے گرامی لکھتے ہیں جو ہمارے زمانہ میں ہیں اور وہ حقیقتاً اہلِ معانی اور اربابِ بالحق سے ہیں اور وہ رسمی صوفی نہیں ہیں تاکہ اگر خدا چاہے تو حصولِ عوام سے قرب حاصل ہو جائے۔ ان شاء اللہ۔
مشائخ اہلِ شام و عراق
۱۔ حضرت شیخ ذکی ابن العلا رحمۃ اللہ علیہ: بزرگانِ مشائخ سے ہیں اور سادات زمانہ سے مانے جاتے ہیں۔ میں نے انہیں شعلۂ محبت میں مثلِ شعلہ پایا۔ ان کی کرامات مشہور ہیں۔
۲۔ حضرت شیخ ابو جعفر محمد بن مصباح صیدلانی رحمۃ اللہ علیہ: رئیس الصوفیا ہیں۔ تحقیقِ تصوف میں نہایت سلیس بیان رکھتے ہیں۔ حضرت حسین بن منصور حلاج کے ساتھ خاص تعلق رکھتے ہیں، آپ کی بعض تصانیف میں نے پڑھی ہیں۔
۳۔ حضرت ابو القاسم مسدی رحمۃ اللہ علیہ: بڑے مجاہدہ والے بزرگ ہیں اور بلند حال۔ چرواہے ہیں۔ بزرگوں کے ساتھ بہت عقیدت مند ہیں۔
مشائخ اہلِ فارس
۱۔ شیخ الشیوخ حضرت ابو الحسن بن سالبہ رحمۃ اللہ علیہ: تصوف میں فصیح اللسان تھے اور مسائلِ توحید میں واضح البیان۔ مشہور و معروف عالم ہیں۔
۲۔ شیخ مرشد حضرت ابو اسحاق بن شہریار رحمۃ اللہ علیہ: محتشمانِ قوم ہیں۔ سیاست و شرع کے بہترین عالم ہیں۔
صفحہ۳۲۵
۳۔ شیخِ طریقت حضرت ابو الحسن بن بکران رحمۃ اللہ علیہ: بزرگانِ متصوفہ سے ہیں۔
۴۔ شیخ ابو الفتح رحمۃ اللہ علیہ: اپنی سلطنت کے بہترین خلف اور امید افزا حال کے مالک ہیں۔
۵۔ شیخ ابو طالب رحمۃ اللہ علیہ: مرو کے رہنے والے، عاشق کلمہ گو گزرے ہیں۔
۶۔ شیخ الشیوخ حضرت ابو اسحاق رحمۃ اللہ علیہ: ان کی میں زیارت نہ کر سکا۔
مشائخ قہستان و آذربائیجان و طبرستان و فک
۱۔ شیخ شفیق فرخ المعروف بہ اخی زنجانی رحمۃ اللہ علیہ: نہایت نیک سیرت اور ستودہ طریقت ہیں۔
۲۔ شیخ اندرین رحمۃ اللہ علیہ: بزرگانِ قوم سے ہیں۔ آپ کی بہت سی نیکیاں قابلِ تحسین ہیں۔
۳۔ حضرت بادشاہ تائب رحمۃ اللہ علیہ: راہِ خدا میں مستقل گزرے ہیں۔
۴۔ شیخ ابو عبد اللہ جنید رحمۃ اللہ علیہ: پیرِ کامل اور بہترین رفیقِ طریقت ہیں۔
۵۔ شیخ ابو طاہر رحمۃ اللہ علیہ: کشف میں اجلہ کملاء سے گزرے ہیں۔
۶۔ حضرت خواجہ حسن سمنان رحمۃ اللہ علیہ: عاشقِ زارِ جمیلِ حقیقی اور امیدوارِ رحمتِ جلی ہیں۔
۷۔ شیخ سہلکی رحمۃ اللہ علیہ: صوفیوں میں بڑے مجاہدہ و ریاضت کرنے والے ہیں۔
۸۔ حضرت احمد پیر شیخ قرقانی رحمۃ اللہ علیہ: فرزندِ سعید ہیں۔
۹۔ حضرت ادیب گندی رحمۃ اللہ علیہ: سادات زمانہ سے ہیں۔
مشائخ اہلِ کرمان
۱۔ خواجہ علی الحسین سیرکانی رحمۃ اللہ علیہ: سیاحِ وقت، صاحبِ طریقت، توحید میں کامیاب اور سفرہائے عرفان میں کامل گزرے ہیں۔
۲۔ خواجہ علی الحسین کے صاحبزادہ: حکیم اور مقبولِ حق ہیں۔
۳۔ شیخ محمد بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ: بزرگانِ وقت سے ہیں۔
ان کے علاوہ کرمان میں بہت سے مشائخ، اولیاء کرام، جوان و معمر، عوام سے مکتوم و مخفی بھی ہیں۔
مشائخ خراسان
۱۔ شیخ مجتہد حضرت ابو العباس سر معانی رحمۃ اللہ علیہ: آپ کی زندگی خوب ہے اور وقت
صفحہ۳۲۶
نہایت اچھا ہے۔
۲۔ خواجہ ابو جعفر محمد بن علی حواری رحمۃ اللہ علیہ: بزرگانِ قوم اور محققانِ صوفیاء میں ہیں۔
۳۔ خواجہ ابو جعفر ترشیزی رحمۃ اللہ علیہ: معززین قوم میں سے ہیں۔
۴۔ خواجہ محمود نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ: مقتدائے زمانہ اور زبان با اثر رکھتے ہیں۔
۵۔ حضرت شیخ محمد معشوق رحمۃ اللہ علیہ: نیک زندگی گزار رہے ہیں اور صاحبِ باطن ہیں۔
۶۔ خواجہ رشید بن شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ: امیدوارِ لجۂ رحمت، مقتدائے قوم و قبلۂ قلوب ہیں۔
۷۔ خواجہ احمد خاوی سرخسی رحمۃ اللہ علیہ: زبردست مبارز وقت اور ایک مدت تک میرے رفیق رہے ہیں، ان کے معاملات عجیب میں نے دیکھے۔
۸۔ شیخ احمد نجار رحمۃ اللہ علیہ سمرقندی: مقیم مرو، اپنے زمانے کے سلطان گزرے ہیں۔
۹۔ شیخ ابو الحسن علی بن اسود رحمۃ اللہ علیہ: اپنے باپ کے بہترین خلف ہیں۔ آپ کی علوِّ ہمت و صدقِ فراست کی تفصیل کروں تو اہلِ خراسان کے حالات ہی میں کتاب بہت طویل ہو جائے گی۔ میں نے تین سو مردانِ خدا، خراسان میں ایسے پائے جو آفتاب و ماہتابِ طریقت ہیں۔
مشائخ ماوراء النہر
۱۔ خواجہ امام رحمۃ اللہ علیہ: مقبولِ خواص و عوام سے ہیں۔
۲۔ حضرت ابو جعفر بن محمد حسین حرمی رحمۃ اللہ علیہ: مردِ مستمع و گرفتارِ عشقِ حقیقی ہیں، آپ کی ہمت عالی اور لیل و نہار نہایت مصفیٰ ہیں۔
۳۔ خواجہ فقیہہ رحمۃ اللہ علیہ: اپنے ہمعصر لوگوں میں وجاہت رکھتے ہیں۔
۴۔ حضرت ابو محمد بالعزی یا بانعزی رحمۃ اللہ علیہ: نہایت قوی المعاملہ اور عارفِ کامل ہیں۔
۵۔ حضرت احمد ایلاقی رحمۃ اللہ علیہ: شیخِ وقت مخدومِ زمانہ تھے۔
۶۔ خواجہ عارف رحمۃ اللہ علیہ: فریدِ وقت اور بدیع العصر گزرے ہیں۔
۷۔ حضرت علی بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ: پیشوائے زمانہ اور مردِ محتشم تھے۔ زیارت کی اور ان کے مناصب دیکھے۔
مشائخ غزنی
۱۔ شیخ عارف رحمۃ اللہ علیہ: حضرت ابو الفضل بن اسدی پیر بزرگ گزرے ہیں، آپ کی
صفحہ۳۲۷
کرامتیں بہت ہیں اور آتشِ عشق میں مثلِ شعلہ تھے۔
۲۔ شیخ اسماعیل شاشی رحمۃ اللہ علیہ: پیرِ محتشم تھے اور آپ کا طریقہ ملامتیہ تھا۔
۳۔ شیخ سالار طبری رحمۃ اللہ علیہ: علماء صوفیہ سے گزرے ہیں۔
۴۔ حضرت ابو عبد اللہ محمد بن الحکیم المعروف بہ مرید رحمۃ اللہ علیہ: مستانِ حضرتِ حق سے گزرے ہیں، اپنے مرتبۂ کمال میں لاثانی تھے اور لوگوں سے آپ کا حال مخفی تھا، آپ کے دلائل واضح اور آپ کا حال بہترین تھا۔
۵۔ شیخ محترم حضرت سعید بن ابی سعید رضی اللہ عنہ: حافظِ حدیث تھے، کافی عمر پائی تھی۔ بہت سے مشائخ کی زیارت فرمائی، قوی الحال تھے مگر لوگوں سے اپنا حال مخفی رکھا۔
۶۔ خواجہ بزرگوار حضرت ابو العلا عبد الرحیم بن محمد سعدی رحمۃ اللہ علیہ: معززِ قوم تھے۔ مجھے ان سے بہت محبت ہے، نہایت قوی الحال اور عالمِ علوم تھے۔
۷۔ شیخ اوحد قودہ بن محمد جرویزی رحمۃ اللہ علیہ: اہلِ طریقت کے ساتھ محبت رکھنے والے اور صوفیاء میں آپ کی عزت بے حد تھی، امید ہے کہ جتنی عقیدت لوگوں کو ان سے ہے، ان کے بعد بھی کوئی ایسا پیدا ہو جس سے ایسی ہی عقیدت ہو۔ آپ نے بہت سے مشائخ کی زیارت کی۔
اس وقت اگرچہ یہاں کے مکاروں نے شہر میں گندگی پھیلا دی ہے، امید ہے کہ ان سے جلدی شہر پاک ہو جائے گا اور پھر اولیائے کرام کا قدم گاہ بن جائے گا۔
اب ہم صوفیائے کرام کے فرقوں کا فرق بیان کرتے ہیں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ۔
رہنمائی
چوتھا حصہ: مسلک، حجاب، اور آداب
صوفیاء کے فرقے، پھر معرفت، عبادات، اور صحبت کے آداب۔
صفحہ۳۲۸
چودھواں باب
صوفیاء کے مختلف مکاتیب و مذاہب
قبل اس کے میں نے حضرت ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ کے ذکر میں بتایا تھا کہ صوفیائے کرام میں بارہ فرقے ہیں۔ ان میں سے دو فرقے مردود ہیں اور دس مقبول۔ یہ دس فرقے اعمال و طریقت میں نیک ہیں اور مجاہدہ و ریاضت میں ان کے آداب لطیف ہیں، مشاہدہ میں قوی الحال ہیں، اگرچہ ان کے مجاہدہ و ریاضت کے طریقوں میں اختلاف ہے۔ مگر اصول و فروعِ شرع میں اور عقیدۂ توحید میں سب متفق ہیں۔
حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اِخْتِلَافُ الْعُلَمَاءِ رَحْمَةٌ اِلَّا فِیْ تَجْرِیْدِ التَّوْحِیْدِ۔ "علماء کا اختلاف رحمت ہے مگر تجریدِ توحید میں سب کا اتفاق ہونا ضروری ہے۔" اور اس مضمون کے موافق ایک حدیث مشہور ہے۔
تو یہی اختلافِ عمل فی المجاہدہ والریاضت تصوف میں ہے اور روایات مشائخ میں تو درحقیقت سب متفق ہیں اور از روئے مجاز مختلف۔
اب میں یہاں بر سبیلِ اختصار مشائخ کے اقوال کے ساتھ اُن اختلافات کو تقسیم کروں گا اور ہر ایک کی وضاحت کے لیے ایک بساط بچھاؤں گا تاکہ آسانی سے سمجھ سکیں اور علماء کی اس سے اصلاح ہو اور مریدوں کے لیے اُس سے فائدہ اور محبوں کو کامیابی اور اہلِ عقل کو اس کا اندازہ اور تنبیہ ہو اور میرے لیے اس خدمت کا ثواب دونوں جہان میں ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
فرقۂ محاسبیہ
فرقۂ محاسبیہ کا تعلق ابو عبد اللہ بن اسد محاسبی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ آپ بہ اتفاقِ صوفیاء کرام مقبولِ زمانہ اور مقتولِ نفس تھے اور علومِ اصول و فروع و حقائقِ تصوف میں بڑے ماہر، تجریدِ توحید کی حقیقت جاننے والے اور معاملاتِ ظاہری و باطنی میں نہایت ثابت قدم۔
آپ کا عقیدہ تھا کہ راضی برضا رہنا، یہ کوئی مقامِ تصوف نہیں ہے بلکہ یہ صوفی کا ایک حال ہے۔ مقامِ رضا کو مقام نہ ماننے کا دعویٰ سب سے پہلے آپ نے فرمایا۔ پھر اہلِ خراسان نے اُسے قبول کیا۔ پھر اہلِ عراق نے اس کا ردّ کیا اور کہا کہ رضا یقیناً ایک مقام ہے جو مقامِ توکل کا
صفحہ۳۲۹
منتہیٰ ہے اور آج تک یہ اختلافِ عراقی اور خراسانیوں میں چلا آ رہا ہے۔ اب ان شاء اللہ اس قول کی شرح ہم کرتے ہیں۔
حقیقتِ رضا
اوّل ہم رضا کی حقیقت بیان کریں اور اس کی اقسام بتائیں (تاکہ متنازع فیہ کو سمجھنے سے مسئلہ واضح ہو جائے) اس کے بعد حال اور مقام کی وضاحت کی جائے گی۔ اوّل کتاب و سنت میں تحقیقِ رضا کے متعلق تصریح موجود ہے، وہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ﴾ (۱) "اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں۔" اور فرمایا: ﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ﴾ (۲) "بے شک اللہ راضی ہوا مومنین سے، جب کہ انہوں نے تجھ سے بیعت کی شجر کے نیچے۔"
"اس نے ذائقۂ ایمان کا لطف حاصل کر لیا جو راضی ہوا اللہ کی ربوبیت پر۔"
اور رضا کی دو قسمیں ہیں: ایک رضاءِ حق جل و علا بندہ کے ساتھ اور ایک رضاءِ بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ تو رضاءِ حق تعالیٰ جو بندہ سے ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ سے حق تعالیٰ راضی ہو کر اُسے ثواب اور نعمتِ جنت اور کرامتِ عرفان عطا فرمائے۔ اور رضاءِ بندہ بحق تعالیٰ کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے فرمان پر قائم ہو کر گردنِ اطاعت جھکائے رکھے تو رضاءِ حق مقدم رضاءِ بندہ ہے۔
حتیٰ کہ جب تک رضاءِ حق بندہ کو توفیقِ اطاعت و امتثالِ امر نہ ملے، بندہ کبھی اُس کے حکم کے آگے سر جھکا نہیں سکتا اور اس کی مرضی پر قائم نہیں رہ سکتا۔
اس لیے کہ رضاءِ بندہ مقرون برضاءِ حق ہے اور رضاءِ بندہ کا قیامِ رضاءِ حق کے ساتھ نسبت حاصل ہونے پر ہے اور بندہ کی رضاء اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کا دل مستوی و مستقیم نہ ہو جائے قضائے الٰہی کے دونوں پہلوؤں پر۔ اس لیے کہ قضاءِ الٰہی کا ایک پہلو منعِ نعمت و فرحت ہے۔ دوسرا پہلو عطا و بخشش ہے۔
رضا کے محور پر بندہ کا قیام تب صحیح ہوتا ہے جب کہ وہ عطا و منع دونوں کا نظارہ چشمِ دل سے اس طرح کرے جس طرح احوالِ عالم کا نظارہ کیا جاتا ہے (یعنی عطا پر خرمی و شادی اور منع کرنے پر
۱۔ سورۃ التوبہ: ۱۰۰ ۲۔ سورۃ الفتح: ۱۸ ۳۔ حوالہ کے لیے: مسند احمد بن حنبل ۲۰۸/۱
صفحہ۳۳۰
رنج و تعب اس کے دل پر اثر پذیر نہ ہو)۔ گویا شانِ جلالی یا شانِ جمالی جو بھی اُس کے مشاہدہ میں آئے اس پر اُس کی رضا کا مشاہدہ ہو۔
یعنی جب کہ اُسے منعِ نعمت یا عطائے نعمت کا علم ہو تو احساسِ شادی و غم سے مقدم وہ سابق برضا ہو اور ایسا راضی ہو کہ دونوں کیفیتیں اُس کے مساوی ہوں۔ خواہ آتشِ ہیبت و جلالِ حق میں جلایا جائے یا نورِ لطف و جمال میں منور کیا جائے۔ راضی برضا کے لیے جلنا اور مستعیر ہونا دونوں زبان و دل سے یکساں ہوں۔ اس لیے کہ راضی برضا شاہدِ حق ہوتا ہے اور من جانبِ حق جو ہوتا ہے، سب اچھا ہی ہوتا ہے۔
حضرت امیر المومنین شہزادۂ گلگوں قبا، شہیدِ دشتِ کربلا امام حسین بن علی سید الشہداء رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ سے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے اس قول کے متعلق سوال کیا گیا جو انہوں نے کہا تھا:
"مجھے درویشی تو انگری سے زیادہ پیاری ہے اور بیماری تندرستی سے زیادہ محبوب ہے۔"
تو حضرت شہزادہ صاحب نے فرمایا: رَحِمَ اللّٰهُ اَبَا ذَرٍّ، اَمَّا اَنَا فَاَقُوْلُ مَنْ اَشْرَفَ عَلٰی حُسْنِ اِخْتِیَارِ اللّٰهِ لَمْ یَتَمَنَّ غَیْرَ مَا اخْتَارَ اللّٰهُ لَهٗ۔ "اللہ رحم فرمائے ابو ذر پر اور اُن پر رحمتیں ہوں، لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ جو کچھ اللہ جل شانہٗ کے حسنِ اختیار سے پہنچے، اس کے سوا میں ہرگز تمنا نہ کروں، سوا اس کے جو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اختیار فرمایا۔"
اس لیے کہ جب بندہ اختیارِ الٰہی کو دیکھ چکا اور اپنے اختیارات سے اعراض کر چکا تو تمام اندوہ و ملال سے آزاد ہو گیا۔ اور یہ عقیدہ مقامِ غیبت میں کبھی صحیح نہیں ہوتا۔ اس یقین و اطمینان کے لیے حضور و شہود چاہیے۔ لِاَنَّ الرِّضَاءَ لِلْاَحْزَانِ نَافِیَةٌ وَلِلْغَفْلَةِ مُعَالِجَةٌ شَافِیَةٌ۔ "اس لیے کہ رضا مردِ خدا کو اندوہ و غم سے آزاد کر دیتی ہے اور غفلت سے چھڑا دیتی ہے اور اندیشۂ غیر کو دل سے زائل کر دیتی ہے اور قید و بندِ مشقت سے آزاد کر دیتی ہے۔" اس لیے کہ رضا کی صفت "رہانیدن" ہے یعنی بری و آزاد کر دینا۔ لیکن معاملۂ رضا کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ علمِ الٰہی کے ساتھ منع و عطا کو سمجھ کراسی کے علم پر قانع اور شاکر ہو جائے اور اس کا عقیدہ اس حال میں یہ ہو کہ تمام حالات کا دانا و بینا وہی ربّ جل مجدہٗ ہے۔
اس مسئلہ میں صوفیائے کرام کی چار اقسام ہیں:
صفحہ۳۳۱
☆ ایک گروہ وہ ہے جو راضی بحق ہے عطاءِ محبوب پر اور یہ درجۂ معرفت ہے۔
☆ ایک گروہ وہ ہے جو راضی ہے نعماءِ الٰہی پر اور یہ درجۂ دنیا ہے۔
☆ ایک گروہ وہ ہے جو راضی ہے بلا پر اور یہ درجۂ محنت و مجاہدہ ہے۔
☆ ایک گروہ تو وہ ہے جو راضی ہے اصطفا پر اور یہ درجۂ محبت ہے۔
وہ گروہ جو معطی سے عطا کو دیکھ کر بجان و دل قبول کر رہا ہے، اس کے دل سے کلفت و مشقت قطعی زائل ہو جاتی ہے۔ اور وہ گروہ جو عطا کو بمتی عطا دیکھ رہا ہے اور عطا کنندہ پر نظر رکھتا ہے وہ عطا پر رہ جاتا ہے اور بتکلف راہِ رضا کو عبور کرتا ہے۔
اس رضا میں سب رنج و تعب مستولی ہوتے ہیں اور معرفت اس وقت حقیقت بنتی ہے جب بندہ معرفتِ الٰہی میں مکاشفہ ہوتا رہے۔ اور جب معرفت اس کے لیے جس وحجاب ہو تو وہ معرفت ناشنا سائی ہوتی ہے۔ اور نعمت، قمت ہو جاتی ہے اور عطا، غطا بن جاتی ہے۔ اور جو خدا تعالیٰ سے دنیا پر راضی ہوتا ہے، وہ ہلاکت وزیاں کاری میں ہے اور بندہ کی یہ رضا سببِ بے نصیبی ہے بلکہ یہ رضا جہنم ہے۔ اس لیے کہ دنیا راز ہائے حق کے مقابلے میں کوئی قیمت نہیں رکھتی پھر اپنے دل کی دوستی کو اس میں ضائع کرے اور قسم قسم کے اندوہ اس کے ضمیر پر گزر کریں۔
نعمت اس وقت نعمت ہوتی ہے جس وقت راہِ منعم کی راہنمائی کرے اور یہ نعمت، منعم سے حجاب بنے تو وہ نعمت بلاءِ محض ہے۔ اور وہ اس ربّ مجید کی بلا پر راضی ہے، وہ وہ گروہ ہے کہ ہر بلا میں مبتلی کو دیکھتا ہے تو ہر قسم کی مشقت و تکلیف مشاہدۂ جمالِ یار کی مسرت میں وہ برداشت کر لیتا ہے، بلکہ وہ رنج اس مسرت سے جو مشاہدۂ جمالِ دوست سے حاصل ہوتی ہے رنج نہیں رہتا۔
اور وہ گروہ جو اصطفاء حق سے راضی ہے وہ محبانِ حق ہیں۔ یہ حالتِ رضا میں اور سخط و غضب میں بھی راضی رہتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی ہستی عاریت ہوتی ہے۔ یہ اپنی منازلِ دل کو سوائے حضرت جلت مجدہٗ عزّ اسمہٗ کے کہیں نہیں دیکھتے اور اپنی سرِ پردۂ اسرار کو سوائے روضۂ الفتِ محبوب کہیں نہیں پاتے۔ یہ حاضر ہوتے ہیں اور بظاہر غائب۔ یہ عرشی ہوتے ہیں اور بظاہر فرشی۔ روحانی ہوتے ہیں اور بظاہر جسمانی۔ لوگوں میں ہوتے ہیں مگر درحقیقت ربّانی تجلیات میں رہتے ہیں۔ مقامات و حالات میں ہوتے ہیں مگر ان کا دل منقطع ہوتا ہے۔ مخلوقات سے قطعِ تعلق کیے ہوئے دوست کے لیے کمر بستہ اور سر بکف حاضر۔
"وہ اپنے نفسوں کے لیے ضرر اور نفع کے مالک نہیں ہوتے اور نہ موت و حیات اور نشر کے۔" تو خدا کے سواغیر پر راضی ہونا خالص زیاں کاری ہے اور اس کی ذات کے ساتھ رضا میں خالص رضوانِ حق ہے، اس لیے کہ راضی ہونا مملکتِ دنیا اور ہدایت و عافیت ہے۔
"الٰہی! مجھے وہ عمل کرنے کی راہنمائی فرما جسے میں کروں، تُو مجھ سے راضی ہو جا۔ جنابِ باری تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا: اے موسیٰ! تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ تو موسیٰ علیہ السلام سجدے میں گر پڑے اور تفرع و زاری شروع کی۔ پھر جنابِ باری عزّ و جل نے آپ کو وحی فرمائی کہ اے ابنِ عمران! میری رضا و خوشنودی اسی میں ہے کہ تو میری قضا پر راضی رہے۔"
یعنی جب بندہ قضا و قدرِ الٰہی کے ساتھ راضی ہو جاتا ہے تو یہ اس امر کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے۔
حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ زہد اعلیٰ درجہ ہے یا رضا۔ حضرت فضیل نے فرمایا: اَلرِّضَاءُ اَفْضَلُ مِنَ الزُّهْدِ لِاَنَّ الرَّاضِیَ لَا یَتَمَنّٰی فَوْقَ مَنْزِلَتِهٖ۔ "رضا کا درجہ زہد سے بلند ہے، اس لیے کہ راضی برضا کی کوئی تمنا نہیں ہوتی اور زاہد میں تمنا ہوتی ہے۔"
یعنی منزلِ زہد پر ایک اور منزل ہے جس کی تمنا زاہد کرتا ہے اور رضا پر کوئی منزل نہیں جس کی تمنا راضی برضا کرے۔ تو پیش گاہ اس سے افضل ہے جو ابھی پایگاہ ہے (یعنی حاضرِ دربار اس
صفحہ۳۳۳
سے افضل ہے جو ابھی حاضر ہونے کی سعی میں ہے۔)
یہ حکایت اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت محاسبی رحمۃ اللہ علیہ کا قول صحیح ہے کہ "رضا از حجلۂ احوال است۔" یعنی رضا منزل نہیں ہے بلکہ ایک حال ہے اور یہ حال وہی ہے جو مواہبِ الٰہیہ سے عطا ہوتا ہے نہ کہ کسبی، کہ مکاسب کے ذریعہ منازل پر پہنچا اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ راضی برضا کی کوئی تمنا نہیں ہوتی۔
حضور ﷺ کے متعلق روایت ہے کہ حضور ﷺ اپنی دعاؤں میں فرمایا کرتے تھے: اَسْاَلُكَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ (۱) "الٰہی میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے راضی رکھ اُس حال پر جو تیری قضا کے ذریعے مجھ پر آئے۔" یعنی مجھے ایسی صفت سے متصف کر کہ جب تیری طرف سے وہ قضا وارد ہو جو میرے لیے مقدر تھی، تو تُو مجھے راضی پائے۔
اس حدیث سے یہ امر بھی ثابت ہو گیا کہ رضا قبلِ ورودِ قضا صحیح نہیں ہے اس لیے کہ قبلِ ورودِ قضا جو رضا ہے وہ محض عزم ہے اور عزمِ رضا، عینِ رضا نہیں ہے۔
"رضا سکونِ قلب کا نام ہے جو احکام کے راستوں کی طرف سے دل میں ہو۔"
اس تعریف کے تحت بھی حارث محاسبی کا مذہب قوی ہے۔ اس لیے کہ سکون و طمانیتِ قلب بندہ کے کسب سے نہیں بلکہ مواہبِ الٰہیہ کے ساتھ ہے۔ جب تک وہ سکون من جانبِ اللہ عطا نہ ہو، ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اور حضرت محاسبی رحمۃ اللہ علیہ دلیل کرتے ہیں کہ رضا حال بندہ کا نام ہے نہ مقام کا۔
۱۔ اسے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "مسند" میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: اَسْاَلُكَ اللّٰهُمَّ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ
صفحہ۳۳۴
حضرت عتبہ الغلام ایک رات نہ سوئے اور صبح تک عرض کرتے رہے:
"اگر تو مجھے عذاب دے تو بھی میں تیرا بندہ و محبِّ فرمان بردار ہوں اور اگر رحم فرمائے تو مطیع فرمان و محب ہوں۔"
اگر بخشے زہے قسمت، نہ بخشے تو شکایت کیا سرِ تسلیم خم ہے، جو رضاءِ یار میں آئے
یعنی اَلم، عذاب و لذتِ نعمت تن پر ہے اور قلقِ دوستی دل میں۔ تو یہ اَلم و لذت اُسے نقصان نہیں دے سکتا۔ یہ بھی حضرت محاسبی کے دعویٰ کی تائید ہے۔ اس لیے کہ رضا ثمرۂ محبت ہے کہ محبّ اس کام سے ہر حال میں راضی ہے جو محبوب کرے۔ اگر عذاب میں رکھے تو محجوبِ محبت نہ ہو بلکہ خرم رہے اور اگر نعمت میں رکھے تو بھی دوستی سے محجوب نہ ہو اور اپنے اختیارات کو حق کے مقابلہ میں علیحدہ کرے۔
"چالیس سال سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس حال میں رکھا، میں نے اسے مکروہ نہ سمجھا اور جب اس حال سے کسی حال کی طرف مجھے منتقل کیا تو میں اس حالت میں غصہ نہ ہوا۔"
اس مضمون میں دوامِ رضا و کمالِ محبت کی طرف اشارہ ہے۔
ایک حکایت میں ہے کہ ایک درویش دریائے دجلہ میں پھنس گئے اور تیرا کی نہیں جانتے تھے۔ ایک نے کنارے سے کہا اگر آپ چاہیں تو میں کسی کو بلاؤں تاکہ وہ تمہیں دریا سے نکالے۔ آپ نے کچھ جواب نہ دیا تو اس شخص نے کہا: تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو میرا ربّ چاہے وہ ہوگا مجھے چاہنے سے کیا کام۔
غرضیکہ مسئلۂ رضا میں مشائخ کرام کے بہت سے کلام ہیں جو اختلافِ عبارت کے ساتھ اس مفہوم کے مؤید ہیں اور سب کے فرامین کے یہی دو مفہوم ہیں جو ہم نے بیان کیے مگر ترکِ تطویل کر کے اس مختصر میں بیان کیا گیا۔ اب ہمیں ضروری ہے کہ حال و مقام کے فرق کی تشریح کریں تاکہ اس کی حدود اور اس کے معنی کا ادراک آسانی سے ہو سکے اور اچھی طرح سمجھ میں آ جائے۔
صفحہ۳۳۵
مقام و حال
اچھی طرح یاد رکھو! یہ دو لفظ صوفیاء کے طبقہ میں مستعمل و جاری ہیں اور ان کی عبارتوں میں بولے جاتے ہیں اور محققین صوفیاء ان دو لفظوں کے ساتھ ایک طویل عبارت کا مفہوم حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا فنِ تصوف کے حاصل کرنے والوں کو ان کے سمجھے بغیر چارہ نہیں۔ اگرچہ یہ باب اس بحث کے بیان کا نہیں لیکن اس جگہ ان دو لفظوں کو سمجھے بغیر چارہ نہیں۔ سب توفیق، ہمت اور پاکیزگی اللہ کی طرف سے ہے۔
یاد رکھو! (مَقَام) عام طور پر برفعِ میم "بندہ کی اقامت" کو کہتے ہیں اور (مَقَام) بہ نصبِ میم، ظرف یعنی "اقامت کی جگہ" کے معنی میں مستعمل ہے۔ لیکن یہ تفصیل لفظ کے معنی میں جو کی گئی، وہ سہو ہے بلکہ غلط۔ درحقیقت (مُقَام) میم کے پیش سے اقامت اور جائے اقامت کے معنی میں مستعمل ہے اور (مَقَام) میم کے زبر سے قیام اور قیام کی جگہ کے معنی دیتا ہے۔ اور بندہ کی اقامت کی جگہ خدا کی راہ میں ہوتی ہے اور اس مقام میں حقِ الٰہی کی رعایت رکھنے اور اس کے ادا کرنے کا خیال کرنا لازمی ہے تاکہ جس قدر ہو سکے وہ اس کی کمالِ ذات کا ادراک کرے اور جب تک خدا ہی وہاں سے نہ گزارے اسے روا نہیں کہ اپنے مقام سے گزرے۔
پھر مقاموں کی ابتدا توبہ سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد انابت یعنی حق کی طرف لوٹنا، پھر زہد، اس کے بعد توکل اور مثلِ اس کے اور درجات بعد میں ملتے ہیں لیکن بندہ کو ہرگز روا نہیں کہ بلا توبہ دعویٰ انابت کرے، اور بلا انابت دعویٰ زہد کرے اور بے زہد دعویٰ توکل کرے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں زبانِ جبرائیل علیہ السلام سے خبر دی جیسا کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضور ﷺ کے سامنے عرض کی:
وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ۔
"ہم میں کوئی ایسا نہیں جس کے لیے ایک مقام معلوم نہ ہو۔"
بہر حال اس کے معنی ہیں کہ کیفیت کا حق کی طرف سے دل میں پیدا ہونا۔ اُسے بندہ اپنے کسب کے ذریعہ دفع نہیں کر سکتا اور جب وہ کیفیت جاتی ہے تو بندہ اُسے اپنے کسب و تکلیف سے حاصل نہیں کر سکتا۔ تو مقام وہ راستہ ہے جس میں طالب کوشش کرے اور اپنی سعی و جہد کے ساتھ قدم رکھے اور اس کے لیے حضرت حق جل مجدہٗ نے طالب کے لیے کسب کرنے اور مجاہدہ سے تقرب حاصل کرنے کی ایک مقدار کا درجہ رکھا ہے اور حال، بلا تعلقِ مجاہدہ بندہ کے دل میں فضلِ الٰہی اور لطفِ محض کے ساتھ ایک کیفیت کا پیدا ہونا ہے۔
صفحہ۳۳۶
تو خلاصہ یہ ہوا کہ مقام، اعمال کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور حال تمام کا تمام افضالِ حق سے دلی طلب میں آتا ہے۔ تو مقام مکاسبِ عبد سے ہوا اور حال مواہبِ حق سے۔ تو صاحبِ مقام اپنے مجاہدہ و ریاضت کے ساتھ قائم ہوگا جو حق تعالیٰ شانہٗ اس کے دل میں پیدا فرمائے۔ مشائخ کرام رحمہم اللہ اس جگہ مختلف ہیں۔ ایک جماعت تو وہ ہے جو حال کو دولنا روا رکھتی ہے۔ ایک جماعت وہ ہے جو حال کو دولنا نا روا مانتی ہے۔
فرقۂ محاسبیہ
حضرت محاسبی رحمۃ اللہ علیہ اسی گروہ کے امام ہیں جو حال کو دولنا روا رکھتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: محبت و شوق، قبض و بسط، یہ تمام احوال ہیں اگر ان کا دوام روا نہ ہو تو نہ محبّ، محبّ ہوگا، نہ مشاق، مشاق۔ تو جب تک حال بندہ کی صفت نہ ہو جائے تو اسمِ محبّ اور مشتاق اس پر صحیح نہ ہوگا۔ اس لیے آپ نے رضا کو حال فرمایا اور حضرت ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ نے جو فرمایا ہے: مُنْذُ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً مَا اَقَامَنِیَ اللّٰهُ عَلٰی حَالٍ فَكَرِهْتُهٗ۔ یہ اسی طرف مشد و مؤید ہے۔
اور دوسرا گروہ جو حال کی بقاء و دوام روا نہیں مانتا۔ جیسا کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اَلْاَحْوَالُ كَالْبُرُوْقِ فَاِنْ بَقِیَتْ فَحَدِیْثُ النَّفْسِ۔
"احوال مثلِ بجلیوں کے ہے جو نظر آتا ہے اور ٹھہرتا نہیں اور جو باقی رہتا ہے، وہ حال نہیں ہے بلکہ وہ حدیثِ نفس ہے جو محض ہوسِ طبع ہے۔" ☆
اور ایک گروہ کہتا ہے: حال بایں معنی ہے: اَلْاَحْوَالُ كَاَسْمِهَا یَعْنِیْ اَنَّهَا كَمَا تَحِلُّ بِالْقَلْبِ تَزُوْلُ۔ "حال مثلِ ایک نام کے ہے یعنی حال حلول کر کے ایک وقت دل میں ملتا ہے اور دوسرے وقت وہ حال زائل ہو جاتا ہے۔" اور جو باقی رہتا ہے وہ صفت ہو جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ قیامِ صفت موصوف پر ہے اور یہ امر بھی لازم ہے کہ موصوف کامل تر از صفت ہو اور یہ سب محال ہے، محال ہے۔
یہ تمام فرق ہم اس لیے بیان کر رہے ہیں تاکہ صوفیاء کی عبارات اس کتاب میں جہاں نقل ہوں وہاں حال و مقام کا لفظ جب نظر آئے تو بہ آسانی سمجھ میں آ سکے کہ یہاں حال و مقام سے کیا مراد ہے۔ فی الجملہ اب واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ رضا نہایت مقامات کا نام ہے اور حال ابتداءِ مقام کو کہتے ہیں۔ اور یہ وہ محل ہے کہ اس کی ایک طرف کسب و سعی میں ہے اور ایک طرف محبتِ حق اور جوش میں ہے۔ اس کے اوپر پھر کوئی مقام نہیں اور انقطاعِ مجاہدہ اسی جگہ ہو جاتا ہے، تو
☆ بگفت احوال ما برق جہانست ۔ دمے پیدا و دیگر گرم نہانست (سعدی)
صفحہ۳۳۷
ابتداء کسب سے ہے اور انتہا بخششوں سے ہے۔ اب ایک احتمال پیدا ہوتا ہے کہ جس نے ابتداء میں اپنی رضا کو اپنے سے دیکھا، اس نے کہا مقام ہے اور جس نے انتہاء رضا کو اپنے ربّ سے دیکھا تو کہا حال ہے۔ یہی مذہبِ محاسبی کا حکم اصولِ تصوف میں ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
مگر اعمال میں سے کسی نے اختلاف نہیں کیا سوا اس کے کہ مریدوں کو اُن عبارات و معاملات سے منع کیا گیا جن میں ابہام، خطا و شبہ ہو، ہر چند کہ وہ دراصل درست ہی کیوں نہ ہوں۔
چنانچہ ایک روز حضرت ابو حمزہ بغدادی رحمۃ اللہ علیہ جو مرید محاسبی رحمۃ اللہ علیہ ہیں حضرت محاسبی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ مستمعین میں سے تھے (مستمع اصطلاحِ صوفیاء میں صاحبِ وجد و حال کو کہتے ہیں)۔ حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک سیمرغ پالا تھا جو اکثر بانگ کہا کرتا تھا۔ اتفاقاً حضرت ابو حمزہ کی حاضری کے موقع پر اس نے بانگ دی۔ حضرت ابو حمزہ نے ایک نعرہ مارا۔ حضرت حارث چھری لے کر اُٹھے اور حضرت ابو حمزہ سے فرمایا: كَفَرْتَ "تو نے کفر کیا"۔ اور حضرت حمزہ کے ذبح کرنے کا عزم فرمایا۔ حاضرینِ جلسہ میں جو خدامِ خاص تھے وہ حائل ہوئے اور آپ کے قدموں میں گر گئے اور عذر و معذرت کر کے حضرت حارث محاسبی کو ان سے علیحدہ کیا۔ مختصر یہ کہ حضرت حارث نے ابو حمزہ کو فرمایا: اَسْلِمْ یَا مَرْدُوْدُ "اے مردود اسلام قبول کر۔" لوگوں نے عرض کی حضور! ہم تمام لوگ انہیں خواصِ اولیاء سے جانتے ہیں اور خاص موحد سمجھتے ہیں، حضور نے انہیں مردود فرما دیا تو ایسی کیا بات ان سے ظاہر ہوئی؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے اس پر کوئی شبہ نہیں اور میں اس کے ظاہر و باطن کو مستغرقِ توحید جانتا ہوں لیکن اس نے ایک ایسی حرکت کی ہے جو حلولیوں کے افعال کے مشابہ تھی، یعنی مرغ حیوان ہے اور اس کی عادت ہے بانگ دینا ہے، اپنی مرضی و خواہش سے بانگ دیتا ہے، انہوں نے اس کی آواز پر کیوں نعرہ مارا، کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کو متجزی سمجھا، حالانکہ اس کی تجزی محال ہے اور جو موجوِ حق ہے اُسے سوائے محبوب کی آواز کے اور اس کی اطاعت کے سکون و آرام نہیں ملتا۔ اس نے اُس جلوہ کا حلول اس مرغ میں سمجھ کر نعرہ مارا یا آنکہ اس کی ذات کو حلول و نزول نہیں، وہ اپنی صفات میں قدیم ہے۔
حضرت ابو حمزہ نے شیخ کی طرف دیکھا اور عرض کی: حضور ہر چند کہ میں دراصل صحیح تھا لیکن چونکہ میرا فعل مشابہ کسی قوم کے ہو گیا میں توبہ کرتا ہوں اور آئندہ کے لیے عہد کرتا ہوں۔
حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ علیہ کا بہت ستودہ ہے اور اس میں سلامتی ہے اور کمالِ صحو پر دال ہے۔
حضور سید یوم النشور ﷺ نے فرمایا:
(صفحہ 337 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 338 پر ہے۔)
"جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے اور قیامِ قیامت کو مانے اُسے تہمت کے مقام پر ٹھہرنا نہیں چاہیے۔"
اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسا ہی معاملہ عطا فرمائے جو آج کل کے رسمی مکار پیروں کے مشابہ نہ ہو۔ حالانکہ یہ اتنے سخت ہیں کہ اگر اُن کی معصیت شعاری کی موافقت نہ کی جائے تو یہ سخت مخالف ہو جاتے ہیں اور دشمن ہو جاتے ہیں۔ فَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الْجَهْلِ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
فرقۂ قصاریہ
صوفیاء کے فرقوں میں ایک فرقۂ قصاریہ ہے۔ اس کا تعلق حضرت ابو صالح بن حمدون بن عمارۃ القصار رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے۔ آپ بڑے پایہ کے بزرگ علماء اور سادات طریقہ مانے گئے ہیں۔
آپ کا طریقۂ اظہار و نشر، ملامت تھا۔ فنونِ معاملات میں آپ کا کلام بہت بلند ہے۔ آپ فرماتے ہیں: بایَد تا علمِ حق تعالیٰ نیکو تر ازاں باشد کہ علمِ خلق۔ "یعنی لازم ہے کہ تنہائی میں اپنے ربّ کے ساتھ نیک معاملہ اس سے زیادہ رکھا جائے جتنا اعلانیہ لوگوں کے سامنے رکھا جاتا ہے"، کہ وہ حجابِ اعظم ہے حق تعالیٰ سے اور وہ مشغول ہے دل کے ساتھ مخلوق میں۔ اور بابِ معاملات میں ہم نے اس بحث کو اوّل اس کتاب میں لکھ دیا ہے اسی وجہ سے یہاں اس بحث کو مختصر کر دیا ہے۔
ان کے عجیب و غریب واقعہ میں سے ایک حکایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک روز نیشاپور کے لیے شہر حیرہ پر جا رہا تھا کہ نوح نامی ایک بزرگ جو فتوت و زہد میں مشہور تھے اور تمام نیشاپور کے عباد و زہاد ان کے تابع فرمان تھے، میں نے انہیں راستہ میں دیکھا۔ میں نے اُن سے پوچھا: نوح! جوانمردی کیا چیز ہے؟ کہنے لگے: میری جوانمردی بتاؤں یا آپ کی۔ میں نے کہا: دونوں فرمائیں۔ نوح نے فرمایا: میری جوانمردی تو یہ ہے کہ میں قبا اُتار کر مرقعہ پوش بنوں اور احکام و اعمال
۱۔ مذکورہ الفاظ تو نہیں ملے مگر اس کی ہم معنی روایات وارد ہوئی ہیں۔ مثلاً: اِتَّقُوْا مَوَاضِعَ التُّهَمِ، مَنْ قَامَ نَفْسَهٗ مَقَامَ التُّهَمِ فَلَا یَلُوْمَنَّ مَنْ اَسَاءَ الظَّنَّ بِهٖ، مَنْ سَلَكَ مَسَالِكَ التُّهَمِ اُتُّهِمَ۔ حوالہ کے لیے: الاسرار المرفوعہ لعلی القاری، ص: ۳۹، حدیث: ۱۵۱
صفحہ۳۳۹
میں سعی کرتا رہوں حتیٰ کہ صوفی بن جاؤں اور اللہ تعالیٰ کی شرم سے اس فرقہ کے اندر ہر قسم کی معصیت سے اجتناب کروں۔ اور آپ کی جوانمردی یہ ہے کہ مرقعہ اتار کر اتنی علیحدگی اختیار کرو کہ لوگ آپ سے اور آپ لوگوں سے فتنہ میں نہ پڑیں۔ تو گویا میری جوانمردی ظاہر احکامِ شریعت کا اتباع ہے اور آپ کی جوانمردی اسرارِ دین پر حقائق کا نگاہ میں رکھنا ہے اور یہ بڑی قوی دلیل واصل ہے۔
فرقۂ طیفوریہ
یہ فرقہ ابو یزید طیفور بن عیسیٰ بن سروشان بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے تعلق و تولّی رکھتا ہے۔ یہ رؤساءِ متصوفہ سے تھے اور قوم کے اندر کبرائے قوم سے مانے جاتے تھے۔ ان کا مسلک غلبۂ سکر و فرطِ شوق الی اللہ ہے اور ان کا یہ مسلک ہے کہ سکر و محبت کسبِ انسان کی جنس سے نہیں ہوتا اور جو چیز دائرۂ اکتساب سے خارج ہو اس پر دعویٰ کرنا باطل ہے اور اس کی تقلید محال۔ تو لامحالہ صاحی کی صفتِ سکر نہیں ہو سکتی اور انسان جلبِ سکر کی اپنے اندر کوئی طاقت نہیں رکھتا ("کیفِ صحہ" اصطلاحِ تصوف میں ہوشیاری کو کہتے ہیں اور صاحی ہوش میں رہنے والا ہے) اور اس کا سکر خود مغلوب ہوتا ہے، اسے مخلوق کے ساتھ التفات نہیں ہوتا کہ وہ کسی صفت کے ساتھ اور اوصافِ انسانی میں ظاہر ہو سکے اور مشائخِ تصوف کی رائے اس طرف ہے کہ اقتداء صرف اسی شخصِ مستقیم کی درست ہے جو گردشِ احوال سے آزاد ہو چکا ہے۔ اور ایک گروہ مشائخ کا اس طرف ہے کہ اقتداء صاحی اور صاحبِ سکر دونوں کی روا ہے تاکہ انسان بتکلف غلبہ اور سکر کی راہ پر چل سکے۔
اسی وجہ سے حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا: اِبْكُوْا فَاِنْ لَمْ تَبْكُوْا فَتَبَاكَوْا۔ (۱) "تم رویا کرو اور اگر نہ روسکو تو رونے والوں کی مانند رونے کی صورت بناؤ" اور اس کی دو وجہ ہیں: ایک یہ کہ اپنے آپ کو گروہِ با کی کی سی صورت بنا کر دکھانا ہو جو محض ریا ہے اور صوفیاء کے یہاں یہ شرکِ صریح ہے اور دوسرے اس ارادہ پر رونی شکل بناتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی اس درجہ پر
۱۔ یہ عبد اللہ بن سائب بن ابی نمیک کی روایت کردہ حدیث کا ایک حصہ ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں حضرت سعد کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا: اے بھتیجے آپ کون ہیں؟ میں نے اپنے بارے بتایا تو فرمانے لگے: خوش آمدید، آپ تجارت پیشہ ہیں، سنائیں آپ قرآن کریم کی تلاوت کس کیفیت میں کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا عمدہ طریقے سے۔ فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن پاک کو پڑھتے ہوئے رویا کرو اور اگر رونا نہ آئے تو رونے والی شکل بنا لیا کرو اور قرآن کریم کی تلاوت مترنم انداز میں کیا کرو۔ جو قرآن کریم کی تلاوت مترنم آواز میں نہیں کرتا یا ترنم کی کوشش نہیں کرتا وہ ہمارے طریقہ پر نہیں ہے۔ (مسند شہاب ۸/۲، حدیث نمبر ۱۱۹۸)
صفحہ۳۴۰
پہنچا دے جس درجہ وہ ان کی سی صورت بنا رہا ہے۔ اگر یہ خیال ہے تو حدیث سرورِ عالم ﷺ کی موافقت ہو جائے گی اور حضور نے دوسری جگہ فرمایا: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ۔ (۱) "جو جس قوم کے ساتھ مشابہت کرے وہ انہیں میں سے ہے۔" تو جو کچھ انواعِ مجاہدات سے ہم نے بیان کیا اس پر عمل کرنا چاہیے اور درگاہ و واہب المراد سے اُمید رکھے تاکہ مبداء فیاض سے اس کے لیے درِ معانی کشادہ ہوں۔
مشائخِ کرام میں سے ایک فرماتے ہیں: اَلْمُشَاهَدَاتُ مَوَارِیْثُ الْمُجَاهَدَاتِ۔ "مشاہدات، مجاہدات کا ورثہ اور نتیجہ ہیں۔" میں کہتا ہوں: مجاہدات ہر حال میں اچھے ہیں لیکن سکر اور غلبہ میں کسبِ انسانی کا کوئی ایسا دخل نہیں کہ اس جدوجہد کے ذریعہ کیفیتِ سکر و غلبہ کا جلب ہو سکے۔
اور مجاہدات کبھی علتِ حصولِ سکر نہیں ہوں گے، اس لیے کہ مجاہدہ بحالتِ صحو یعنی ہوش میں انسان کر سکتا ہے اور صاحبِ صحو کو سکر کی طرف التفات نہیں ہو سکتا۔ (اسی وجہ میں صاحی کا سکر میں بذریعہ مجاہدہ آنا محال ہے)۔
اب ہم حقیقتِ سکر و صحو کو باختلافِ بیان مشائخ سناتے ہیں تاکہ اشکالِ سامع رفع ہو۔ ان شاء اللہ۔
سکر اور صحو
یاد رکھو! اللہ تمہیں نیکی دے، سکر و غلبہ یہ دو لفظ اربابِ معانی میں استعمال ہوتے ہیں۔ غلبہ سے مراد محبتِ جل شانہٗ ہوتی ہے اور صحو ایک ایسا لفظ ہے کہ "حصولِ مراد" اربابِ معانی کے معنی میں مستعمل ہے مگر اہلِ معانی کے اس میں سبب سے کلام نہیں۔ ایک جماعت تو صحو پر سکر کو فضیلت دیتی ہے اور وہ ابو یزید ہیں اور ان کی جماعت۔ وہ کہتے ہیں کہ صحو تمکین و اعتدال پر صفتِ آدمیت کی صورت پکڑ لیتا ہے اور یہ حجابِ اعظم ہے حق تعالیٰ شانہٗ سے، اور سکر زوالِ آفات اور نقصِ صفاتِ بشریت اور تدابیرِ دنیا و اختیارِ ذاتی کو دور کر دیتا ہے۔ اور صاحبِ سکر کے تمام تصرفات خیارِ حق کے ساتھ فنا ہو جاتے ہیں اور تمام تدابیر و اختیارات کی قوتیں زائل ہو جاتی ہیں اور وہ معنی جو اس کے وجود میں بصورتِ قوی اور خلافِ جنس ہیں، وہ اقویٰ ابلغ اتم و اکمل اُس کے حال میں ہوتے ہیں۔
جیسا کہ داؤد علیہ السلام جب بحالتِ صحو تھے اُن کے تمام افعال ان کی طرف سے وجود میں آئے تھے اور اس وقت تک ان کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف ہی مضاف فرمایا تھا جیسا
۱۔ اس حدیث مبارک کی مکمل تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
صفحہ۳۴۱
کہ ارشاد ہے: ﴿وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ﴾ (۱) "اور قتل کیا داؤد علیہ السلام نے جالوت کو۔" اور ہمارے آقا و مولیٰ حضور ﷺ حالتِ سکر میں تھے تو آپ کا ہر وہ فعل جو آپ کی طرف سے ظہور میں آیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنی طرف فرمائی اور کہا: ﴿وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰی﴾ (۲) "اور وہ کنکریاں تم نے اے محبوب نہیں پھینکیں، جب تم نے پھینکیں، وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھیں۔" فَشَتَّانَ مَا بَیْنَ عَبْدٍ وَعَبْدٍ۔ تو جو بندہ اپنی ذات کے ساتھ قائم تھا اور اپنی صفات کے ساتھ ثابت، اسے فرمایا تُو نے کیا منصبِ کرامت کے ساتھ، اور جو بندۂ معظم اپنے ربّ کے ساتھ قائم اور اپنی صفات کے ساتھ فانی تھا اُسے فرمایا: ہم نے کیا، جو کچھ تُو نے کیا۔ تو اضافتِ فعلِ بندہ ذات مستجمع الصفات کی طرف بہتر ہے۔ اس اضافت سے جو بندہ اپنی طرف قائم رکھے۔ تو جب فعلِ حق مضاف ہو بندہ کی طرف تو بندہ بخود قائم ہوتا ہے اور جب بندہ کا فعل حق کی طرف مضاف ہو تو بندہ بحق قائم ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ داؤد علیہ السلام کی نظر وہاں پڑی جہاں پڑنی نہ چاہیے تھی یعنی ایک عورت پر جو اوریا کی عورت تھی جسے دیکھا، وہ ان پر حرام تھی اور جب بندہ بحق قائم ہو گیا جیسے حضور ﷺ کہ نظر تو آپ کی بھی پڑی اس طرح زید (رضی اللہ عنہ) کی بیوی پر مگر وہ بیوی زید پر حرام ہو گئی۔ اس لیے کہ وہ نظر جو داؤد علیہ السلام کی تھی وہ محلِ صحو میں تھی اور یہ نظر جو حضور ﷺ کی تھی، یہ محلِ سکر میں تھی۔
پھر جو لوگ صحو کو سکر پر فضیلت دیتے ہیں وہ حضرت جنید رضی اللہ عنہ اور ان کے تابعین ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سکر محلِ آفت ہے کیونکہ وہ احوال تشویش اور ذہابِ صحت خود ہے اور اپنے سرِ رشتہ کا گم کر دینا ہے اور طالب کے ہر پہلو میں قاعدہ یہ ہے کہ نہ وہ فنا ہو یا برائے بقا ہو، محو ہو یا برائے اثبات قائم ہو، وہ صحیح الحال ہے۔ جب وہ نہیں رہا تو تحقیق کا فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
اس لیے کہ اہلِ حق دل کو تمام موجودات سے مجرد رہنا چاہیے۔ اور بینائی کی بنیاد قیدِ اشیاء میں کبھی راحت نہیں پاتی اور آقا سے رستگاری نہیں ملتی اور مخلوق کا ماسوائے اللہ میں پھنسار ہنا اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اشیاء کو جیسی کہ وہ نہیں دیکھ سکتے اور اشیاء کا ملاحظہ جیسی کہ وہ ہیں، دو طرح پر ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ دیکھنے والا ہر شے کو بچشمِ فنا دیکھے۔ دوسرے یہ کہ اس شے کو بچشمِ بقا دیکھے۔ اگر وہ بچشمِ بقا میں دیکھے گا تو کل اشیاء اپنی بقا میں ناقص نظر آئیں گی کیونکہ اشیاء باقی رہنے کے حال میں اپنے سے باقی نہیں پاتا اور اگر بچشمِ فنا دیکھے گا تو کل اشیاء پہلوئے بقا واجب تعالیٰ میں فانی نظر آئیں گی۔ تو یہ دونوں نظریں موجودات کے دیکھنے والے کو اعراض پر مجبور کر دیتی ہیں۔
۱۔ سورۃ البقرہ: ۲۵۱ ۲۔ سورۃ الانفال: ۱۷
صفحہ۳۴۲
اس لیے حضور ﷺ نے بحالتِ دعا فرمایا: اَللّٰهُمَّ اَرِنَا الْاَشْیَاءَ كَمَا هِیَ۔ (۱) "اے اللہ! ہمیں اشیاء کو اس حال میں دکھا جیسی کہ وہ ہیں۔" اس لیے کہ جس نے حقیقتِ اشیاء کماحقہٗ کو دیکھ لیا، وہ آسودہ ہو گیا اور یہی معنی فرمانِ جل مجدہ کے ہیں جو فرمایا: ﴿فَاعْتَبِرُوْا یٰٓاُولِی الْاَبْصَارِ﴾ (۲) "تو عبرت حاصل کرو اے آنکھ والو۔" اس لیے کہ جب تک حقیقتِ شے نہیں دیکھی جائے عبرت نہیں لی جاتی۔
تو یہ تمام کیفیت صحو میں آئے بغیر درست نہیں ہوتی اور اہلِ سکر کو اس معنی میں کچھ آگاہی نہیں۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام بحالتِ سکر تھے تو ایک تجلی کے ظہور کی تاب نہ لا سکے اور ہوش سے بے ہوش ہو گئے۔ ﴿وَخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا﴾ (۳) اس امر کا مظہر ہے۔
اور ہمارے حضور ﷺ جب بحالِ صحو تھے تو مکہ سے قاب قوسین تک عین تجلی میں گئے اور ہر لمحہ ہوشیار و بیدار تر رہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔ (۴)
اور میرے شیخ فرماتے ہیں جو مذہبِ جنیدی کے متبع تھے کہ سکر بازیگاہ کو دکان ہے اور صحو وفنا گاہِ مردان۔ اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رضی اللہ عنہ) کہتا ہوں کہ اپنے شیخ کی موافقت پر کمالِ صاحبِ سکر و صحو ہے اور کمترین درجہ صحو کا یہ ہے کہ صاحبِ صحو صفاتِ بشریہ کے دیکھنے سے دور ہو جاتا ہے۔ تو وہ صحو جو آفت دکھاتا ہے اس سکر سے بہتر ہے جو عینِ آفات ہے۔
اور حضرت ابو عثمان مغربی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک حکایت ہے کہ آپ نے ابتداءِ حال میں بیس سال عزلت نشینی فرمائی اور ایسے جنگلوں میں رہے جہاں انسان کا حس بھی نہ ہو۔ حتیٰ کہ بوجہ مشقت و مجاہدہ آپ کا جسم گھل گیا اور چشمہائے مبارک سوئی کے ناکہ کی رہ گئیں اور شبیہِ انسانی بدل گئی۔ بیس سال کے بعد حکم آیا کہ اب انسانوں میں صحبت کرو۔ آپ نے اپنے دل میں کہا کہ ابتدائے صحبت، اللہ کے بندوں اور اس کے متجوں سے کرنی چاہیے تاکہ برکت حاصل ہو۔ آپ نے مکہ معظمہ کا قصد کر لیا۔ مشائخ مکہ کو اپنے کشف سے آپ کی تشریف آوری کا حال معلوم ہو گیا۔
۱۔ یہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن اتحاف السادۃ المتقین (۹/۳۲۱) میں یہ الفاظ آئے ہیں: اَللّٰهُمَّ اَرِنِی الدُّنْیَا كَمَا تَرَاهَا صَالِحُ عِبَادِكَ۔ ۲۔ سورۃ الحشر: ۲ ۳۔ سورۃ الاعراف: ۱۴۳ ۴۔ موسیٰ زہوش رفت بیک جلوۂ صفات ۔ تو عین ذات می نگری در تبسمی شَرِبْتُ الرَّاحَ كَاْسًا بَعْدَ كَاسٍ ۔ فَمَا نَفَدَ الشَّرَابُ وَمَا رَوَیْتُ ترجمہ: میں نے پے در پے شراب کے جام پیے تو نہ شراب نے مجھ میں نفوذ کیا اور نہ میں سیراب ہوا۔
صفحہ۳۴۳
استقبال کے لیے شہر سے باہر آئے۔ آپ کو بالکل مبدل پایا، سوائے اس کے کہ رمقِ جان نظر آتی تھی اور کچھ نہیں۔ سب نے کہا ابو عثمان! آپ بیس سال اس حالت میں جیئے ہیں کہ آدم اور اس کی ذریت اس زندگی سے عاجز ہے، ہمیں بتاؤ کہ تم کیوں گئے اور وہاں کیا دیکھا اور اس موت میں کیا حاصل کیا اور اب کس لیے واپس آئے؟
آپ نے جواب دیا کہ میں سکر میں گیا تھا اور آفاتِ سکر دیکھ کر نا اُمید ہوا اور عاجز آ کر واپس آیا۔ مشائخ کرام نے کہا کہ ابو عثمان! آپ کے بعد اب سب مہبروں پر حرام ہے کہ وہ صحو و سکر کی عبارت پر آئیں، اس لیے کہ آپ نے اس کا انصاف پورا کر دیا اور آفاتِ سکر کو واضح طور پر دکھا دیا۔ تو خلاصہ یہ ہوا کہ سکر تمام کا تمام مقتضیِ فنا ہے، عینِ بقا ضعف ہیں اور یہ حجاب ہے اور صحو تمام کا تمام فناضعت میں دیدارِ بقا ہے اور یہ عینِ کشف ہے اور اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ سکر بہ نسبتِ صحو نزدیک فنا ہے تو یہ محال ہے۔
اس لیے کہ سکر ایک ایسی صفت ہے جو صحو پر زیادہ ہے اور جب تک بندہ کی صفتیں زیادتی کی طرف رجوع ہوتی ہیں اس وقت تک وہ بے خبر رہتا ہے اور جب نقص کی طرف ہو جاتی ہے تو اس وقت اُس کی حالت امید افزا ہوتی ہے۔ اور صحو و سکر میں یہ حال کی انتہا و غایت ہے۔
حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے حکایت ہے۔ جب کہ مغلوب الحال ہو کر یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کو خط لکھا۔ اس شخص کے حال میں کیا حکم ہے جس نے ایک قطرۂ بحرِ محبت سے نہ لیا اور مست ہو گیا۔ حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ نے جواب لکھا کہ اس شخص کے معاملے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس کے لیے تمام دریائے علمِ شرابِ محبت بن گیا اور اس نے تمام کا تمام پی لیا اور ابھی تشنگی میں تڑپ رہا ہے۔ اس پر لوگوں کا خیال ہے کہ یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ نے سکر سے عبادت کی اور حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ نے صحو سے۔ اور اس میں خلاف یہ ہے کہ صاحبِ صحو وہ ہوتا ہے کہ اُسے ایک قطرہ کی تاب نہیں ہوتی اور صاحبِ سکر وہ ہوتا ہے کہ مستی میں وہ سب کچھ پی سکتا ہے اور پھر پیاسا رہتا ہے۔ اس لیے کہ شرابِ آلۂ سکر ہے اور جنس اپنی ہم جنس کے لیے بہتر ہوتی ہے اور صحو اس کی ضد ہے کہ وہ پینے سے آرام ہی نہیں پاتا۔
لیکن سکر دو قسم کا ہے۔ ایک سکر شرابِ مودت، دوسرا سکر کاسِ محبت۔ سکرِ محبت بلا علت ہوتا ہے اور محض رویتِ منعم سے پیدا ہوتا ہے۔ جس نے نعمت دیکھی تو گویا اپنے کو رنجور دیکھا، اگرچہ وہ سکر میں ہو۔ تو اس اُصول سے صحو بھی دو قسم پر ہے۔ ایک صحو برغفلت، دوسرا صحو برمحبت و اقامت۔ تو وہ صحو جس میں غفلت ہو وہ حجابِ عظیم ہے اور صحو جس میں محبت کی طرف راہ ملے وہ
صفحہ۳۴۴
کشفِ مبین ہے۔
تو وہ شخص جو مقرون غفلت ہے اگرچہ صحو ہو، سکر ہے اور وہ جو محبت تک پہنچائے اگرچہ سکر ہو، صحو ہے۔ غرضیکہ جب اصل متحکم ہو تو محوشِ سکر ہو جاتا ہے اور سکر مثلِ صحو۔ اور جب اصل متحکم نہ ہو، صحو اور سکر دونوں بے فائدہ ہیں۔
فی الجملہ صحو و سکر مردانِ الٰہی کے قدم رکھنے کی جگہ میں باختلافِ علت معلوم ہوتے ہیں اور جب سلطانِ حقیقت اپنا جمال بے حجاب فرما دیتا ہے تو صحو و سکر دونوں طفیلی رہ جاتے ہیں۔ اس لیے کہ صحو و سکر دونوں رخِ معنی میں ایک دوسرے کے موصول ہیں۔ اور ہر ایک کی نہایت دوسرے کی ہدایت ہے اور یہ ہدایت و نہایت بھی سوائے اختلافِ نظر کے اور کچھ نہیں ہے۔
اور جس کی نسبت تفرقہ کے ساتھ ہو وہ حکمِ تساوی کا رکھتا ہے۔ اور اُن کا جمع کرنا تفریقوں کا جمع کرنا ہے۔ اس مفہوم کو کسی شاعر نے خوب ادا کیا ہے:
"جب صبح دل کے خوش کرنے والے ستاروں سے طلوع ہو تو اس میں بے ہوش اور مدہوش والے برابر ہوتے ہیں۔"
مقامِ سرخس میں دو پیر تھے۔ ایک لقمان دوسرے ابو الفضل حسن رضی اللہ عنہما۔ ایک دن حضرت لقمان حضرت ابو الفضل کے پاس آئے تو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ میں کاغذوں کا ایک جز لیے ہوئے ہیں۔ لقمان نے پوچھا: حضرت ان جزوں میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں۔ حضرت ابو الفضل نے جواب دیا: وہی جو تم ترکِ اوراق میں ڈھونڈ رہے ہو۔ عرض کی پھر اختلاف کیوں؟ (یعنی میں ترک اوراق میں جو ڈھونڈ رہا ہوں آپ اُسے اوراق میں ڈھونڈ رہے ہیں) فرمایا: لقمان! تم خلاف دیکھتے ہو جب ہی مجھ سے پوچھ رہے ہو۔ "لقمان" مستی سے ہوشیار ہو جاؤ اور ہوشیاری سے بیدار ہو۔ تاکہ خلاف کا جھگڑا ہی اُٹھ جائے۔ خبر بھی ہے، میں اور تم ڈھونڈ رہے ہیں۔
تو طیفوری اور جنیدیوں میں صرف یہ اختلاف ہے جو ہم بیان کر چکے اور اعمال میں ان کا مذہب بالکل ترکِ صحبت اور گوشہ نشینی اختیار کرنا ہے اور سب نے مریدوں میں یہی حکم جاری کیا ہے اور یہ طریقِ محمود سیرت اور ستودہ صفت ہے۔ اگر خدا توفیق دے۔
فرقۂ جنیدیہ
اس فرقہ کا تعلق حضرت ابو القاسم جنیدی بن محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ یہ وہ بلند ہستی ہے کہ انہیں کے ہم چشم اور ہمعصر "طاؤس العلماء" کہتے ہیں۔ اپنی جماعت کے سردار اور امام الائمہ
صفحہ۳۴۵
تھے۔ آپ کا مسلک صحو تھا اور یہ طیفوری مسلک کے خلاف ہے اور اس اختلاف کے دلائل ہم بیان کر چکے ہیں اگرچہ اس کے علاوہ بہت سے اختلافات ہیں مگر ہم نے بخوفِ طوالت اختصار کیا ہے۔ صوفیاء کرام میں معروف ترین مسلک جنیدی ہے اور ہمارے تمام مشائخ جنیدی مسلک ہی سے گزرے ہیں۔
اگر کوئی اس سے زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہے تو دوسری کتابوں میں دیکھے تاکہ اُسے اس سے بہتر معلومات حاصل ہوں۔ مگر میرا طریقہ اس کتاب میں اختصار ہے اسی وجہ سے طوالت کو ترک کیا گیا۔
حکایتوں میں ملتا ہے کہ حضرت حسین بن منصور حلاج اپنے غلبۂ حال میں عمرو بن عثمان سے بیزار ہو کر حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: کس لیے آئے ہو؟ عرض کی: فیضِ صحبت سے مستفیض ہونے کے لیے۔ آپ نے فرمایا: ہمارے یہاں مجانین کے لیے صحبت نہیں ہے، صحبت کے لیے صحت چاہیے۔ اگر تم آفتوں میں رہ کر ہماری صحبت میں رہو گے تو سہل بن عبد اللہ تستری کی سی صحبت ہوگی جو انہوں نے حضرت عمرو اکروی سے حاصل کی تھی۔ حسین بن منصور بولے:
"حضور! صحو و سکر کی دو صفتیں ہیں، جب تک بندہ میں یہ صفتیں باقی ہیں وہ اپنے ربّ سے محجوب ہے اور جب اوصافِ عبد فنا ہو گئے (تو مشاہدہ و جمال حاصل ہو گیا)۔"
حضرت جنید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یَابْنَ مَنْصُوْرٍ اَخْطَاْتَ فِی الصَّحْوِ وَالسُّكْرِ "اے ابن منصور! تم صحو اور سکر کے بارے میں غلطی پر ہو۔" صحو اور سکر میں اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ صحو سے مراد صحتِ حال ہے اپنے ربّ کے ساتھ اور سکر سے مراد فرطِ شوق اور غایتِ محبت ہے اپنے ربّ کے ساتھ۔ اور یہ دونوں کیفیتیں صفت کے ماتحت اور اکتسابِ خلق کے ساتھ صحیح نہیں ہوتیں اور ابن منصور: ہمیں تمہارے کام میں زیادہ فضول نظر آتا ہے اور تمہاری عبادات بے معنی ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
فرقۂ نوریہ
فرقۂ نوریہ کا تعلق حضرت ابو الحسن احمد بن نوری رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ یہ زبردست عالم اور صدر علماء متصوفہ تھے اور بوجہ مناقب روشن اور دلائل واضح کے آپ "نور" کے نام سے مشہور
صفحہ۳۴۶
ہو گئے تھے۔ آپ کا مسلک تصوف میں پسندیدہ ہے اور آپ کے مسلک میں فقر پر تصوف کو فضیلت دینا ہے اور باقی تمام معاملات موافق مذہبِ جنیدیہ کے ہیں اور آپ کے طریقوں میں سے نادر و عجیب۔ طریقہ یہ ہے کہ محبت میں صاحبِ صحبت کے حق پر ایثار کیا جائے اور اپنے حق کو قربان کرے اور اس کے بغیر صحبت اختیار کرے تو یہ حرام ہے اور فرماتے ہیں کہ صحبت درویشوں کے لیے فرض ہے اور عزلت نشینی بری چیز ہے، اور ایثارِ حقِ صاحبِ صحبت پر کرنا ہی فرض ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ فرمایا: اِیَّاكُمْ وَالْعُزْلَةَ فَاِنَّ الْعُزْلَةَ مُقَارَنَةُ الشَّیْطَانِ وَعَلَیْكُمْ بِالصُّحْبَةِ فَاِنَّ فِی الصُّحْبَةِ رِضَاءَ الرَّحْمٰنِ۔ "عزلت نشینی سے پرہیز کرو کہ اس میں شیطان کے ساتھ مقارنت ہو جاتی ہے اور صحبتِ صاحبِ صحبت سے لازم رکھو کہ صاحبانِ بارگاہ کی صحبت میں اللہ کی رضا ہے۔" (۱)
اب ہم حقیقتِ ایثار بیان کرتے ہیں اور جب بابِ صحبت و عزلت میں پہنچیں گے تو وہاں اس کے رموز و شرح بیان کریں گے تاکہ عام طور پر فائدہ ہو۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی۔
"اور ایثار کرتے ہیں اگرچہ اس چیز کے وہ حاجت مند ہوں۔"
اس آیتِ کریمہ کی شانِ نزول فقراءِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہے۔ اور حقیقتِ ایثار یہ ہے کہ محبتِ حق میں اپنے پیشوا اور مالک کا حق ملحوظ رکھے اور اپنے حصہ میں اس کا حصہ ضرور نکالے، خود تکلیف برداشت کرے مگر اپنے پیشوا اور صاحب کی راحت کا خیال رکھے۔
"اس لیے کہ ایثار نام ہے امداد و اعانتِ اغیار پر قائم رہنے کا معہ اس حکم کی پیروی کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو دیا اور ارشاد فرمایا درگزر فرمانا
۱۔ مثنوی رومی از مترجم: یک زمانہ صحبت با اولیا ۔ بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا ۲۔ سورۃ الحشر: ۹
صفحہ۳۴۷
اختیار کرو اور بھلائی کا حکم فرماؤ اور جاہلوں سے اعراض کرو۔"
اور یہ مسئلہ بابِ آدابِ صحبت میں زیادہ وضاحت سے بیان کیا جائے گا۔
یہاں مقصود بیان محض ایثار ہے۔ یہ دو قسم کا ہوتا ہے: ایک صحبت میں اس طرح جیسے کہ ذکر کیا گیا ہے، دوسرے محبت میں۔ اور ایثارِ حق صاحب میں ایک گونہ رنج و اندوہ بھی ہے لیکن دوست کے حق میں ایثار کرنے سے تمام راحت ہی راحت ہے۔
ایک حکایت میں ہے کہ جب غلام الخلیل نے حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ سے اپنی عداوت ظاہر کی اور ہر قسم کی خصومت اس سے ظاہر ہو گئی تو حضرت نوری اور رقام اور ابو حمزہ رحمہم اللہ علیہم کو حکومت نے گرفتار کر لیا اور دار الخلافت میں لے گئے۔ غلام الخلیل بکنے لگا کہ یہ قوم زنادقہ سے ہیں، اگر امیر المومنین ان کے قتل کا حکم صادر فرمائیں تو زندیقوں کی جڑ پوڑ کا پتہ چل جائے اس لیے کہ یہ سرگروہِ زنادقہ ہیں اور جس کے ہاتھ سے یہ امرِ خیر ہو جائے، اس کی حکومت و عزت کا میں ضامن ہوں۔
خلیفہ نے اُسی وقت ان مشائخ کے قتل کا حکم دے دیا۔ جلاد آ گیا اور ان مردانِ خدا کے ہاتھ باندھے گئے۔ جلاد نے بموجب حکم حضرت رقام کے قتل کا ارادہ کیا کہ حضرت نوری اُٹھے اور بڑے سرور سے رقام کی جگہ پر بیٹھ گئے۔ لوگوں کو تعجب ہوا۔ جلادوں نے کہا: اے جوانمرد! کیا تلوار بھی ایسی چیز ہے کہ اس سے اس قدر رغبت ہو جس سے تم آئے ہو حالانکہ ابھی تمہاری باری نہیں آئی؟
آپ نے جواب دیا: ہاں! ہمارے لیے تلوار ایسی ہی چیز ہے کہ میرے طریقِ ایثار کے ماتحت وہ مجھے مرغوب ہو اس لیے کہ دنیا میں سب سے زیادہ عزیز چیز زندگی ہے، میں چاہتا ہوں کہ یہ چند سانس ان بھائیوں کی خدمت میں ایثار کر دوں اس لیے کہ دنیا کا ایک سانس آخرت کے ہزار سال سے زیادہ محبوب ہے۔ کیونکہ دنیا سرائے خدمت ہے اور آخرت مقامِ قربت، تو مقامِ قربت میں یہ خدمت نہیں کی جا سکتی۔ جلاد نے یہ سب باتیں خلیفہ کو پہنچا دیں۔ خلیفہ نے اتنے بلند حوصلہ اور رقتِ سخن پر سخت تعجب کا اظہار کیا اور کسی کے ذریعہ کہلا بھیجا کہ ان کے قتل کو سردست موقوف رکھو اور ابو العباس بن علی قاضی القضاۃ کو بلا کر تینوں کو ان کے سپرد کر دیا۔ قاضی القضاۃ نے تینوں کی مشکیں کسی ہوئی رکھیں اور اپنے یہاں بلایا۔ پھر ان سے احکامِ شریعت کے متعلق سوال کیے۔ جواب سن کر ان میں عرفانی شان کی حقیقت پائی اور وہ مذہبی اتباع میں مکمل نکلے۔ قاضی بہت متاثر ہوا اور ان کے حالات سے بے خبر رہنے پر شرمسار۔ حضرت نوری نے فرمایا: قاضی تو نے جو کچھ دریافت کیا ہے یہ کچھ نہیں ہے جو پوچھنے کی بات تھی وہ تو نے نہیں پوچھی۔ فَاِنَّ لِلّٰهِ عِبَادًا یَاْكُلُوْنَ بِاللّٰهِ وَیَشْرَبُوْنَ بِاللّٰهِ وَیَجْلِسُوْنَ بِاللّٰهِ وَیَقُوْلُوْنَ بِاللّٰهِ۔ "اللہ کے بندوں کی ایسی جماعت بھی ہے کہ
(صفحہ 347 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 348 پر ہے۔)
صفحہ۳۴۸
ان کا کھانا اللہ کے لیے اور پینا اللہ کے واسطے اور بولنا اللہ کے لیے ہے۔" وہ ایسے مردانِ خدا ہیں کہ ان کا قیام اللہ کے ساتھ اور قعود و نطق، حرکت و سکون سب اسی کے ساتھ ہے اور اُن کی زندگی اس کے ساتھ ہے اور وہ قائم بمشاہدہ ہیں۔ اگر ایک لحظہ مشاہدۂ حق اُن سے حجاب میں آ جائے تو ان کی دنیائے جسم میں جوش و خروش پھیل جائے۔
یہ سن کر قاضی متعجب ہوا اور ان کے کلام کی باریکی اور صحتِ حال کو پا کر خلیفہ کو لکھا کہ اگر یہ جماعتِ ملاحدہ ہے تو فَمَنِ الْمُوَحِّدُ فِی الْعَالَمِ۔ "پھر کون دنیا میں موحد ہو سکتا ہے۔" میں گواہی دیتا ہوں اور اپنے حکم سے فیصلہ کرتا ہوں کہ (ان کے مقابلہ کا) روئے زمین پر کوئی موحد نہیں ہو سکتا۔
خلیفہ نے قاضی القضاۃ کا یہ محاکمہ پڑھ کر ان بزرگوں کو بلایا اور عرض کی (کہ مجھ سے غلطی ہو گئی اور میں دھوکہ میں آ گیا) اب آپ اپنی حاجت ظاہر کریں۔ حضرت نوری وغیرہ مشائخ جو گرفتار تھے انہوں نے فرمایا کہ خلیفہ ہماری حاجت تجھ سے بس اتنی سی ہے کہ تو ہمیں بھلا دے اور ہم تیرے مقبول کرنے کو اپنی مردودیت سمجھتے ہیں اور اگر تو ہمیں اپنی بارگاہ سے مطرود کر دے گا تو ہم اسے عینِ مقبولیت جانیں گے۔ خلیفہ حضرت نوری رحمۃ اللہ علیہ کے اس دردناک جواب کو سن کر اس قدر متاثر ہوا کہ رو پڑا اور نہایت احترام کے ساتھ انہیں واپس کر دیا۔
ایک روایت نافع سے ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ایک روز مچھلی کی خواہش ہوئی۔ تمام شہر میں تلاش کی مگر نہ ملی۔ چند روز بعد وہ مجھے (یعنی حضرت نافع کو) ملی۔ حضرت نافع فرماتے ہیں: میں نے وہ مچھلی بنوائی اور حضرت ابن عمر کی خدمت میں حاضر کی۔ میں نے دیکھا کہ اس مچھلی کے پیش کرنے سے آپ مسرور ہوئے۔ اتنے میں ایک سائل نے باب عالی پر کھڑا ہو کر صدا دی۔ آپ نے حکم دیا کہ یہ مچھلی اس سائل کو دے دو۔ غلام نے عرض کی: حضور اتنی دیر میں تو یہ مچھلی میسر آئی ہے، اب آپ سائل کو عطا فرما رہے ہیں، اس کی بجائے کچھ اور بخشش کر دی جائے۔ فرمایا: اے غلام! یہ مچھلی کھانا مجھ پر حرام ہے اس لیے کہ میں نے ایک حدیث کے موافق اس مچھلی کو اپنے دل کی خواہش سے باہر کر دیا ہے۔ وہ حدیث یہ ہے جو میں نے حضور ﷺ سے سنی ہے: اَیُّمَا امْرِئٍ یَشْتَهِیْ شَهْوَةً فَرَدَّ شَهْوَتَهٗ وَاٰثَرَ الْاٰخِرَةَ عَلٰی نَفْسِهٖ غُفِرَ لَهٗ۔ (۱) "جو انسان کسی چیز کی خواہش کرے پھر اس
۱۔ امام دارقطنی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ امام ابو نعیم، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے غلام ابو عبد اللہ نافع دیلمی تابعی کے تعارف میں "حلیۃ الاولیاء" میں لائے ہیں اور اسے امام شوکانی نے "الفوائد المجموعہ" (ص: ۲۳۹) حدیث نمبر ۶۶ میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ: یہ موضوع ہے اور راوی عمر بن خالد، ابو خالد الواسطی متہم ہے۔
صفحہ۳۴۹
چیز کی طرف سے دست بردار ہو کر آخرت کو نفس کی خواہش پر ترجیح دے تو لامحالہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔"
ایک حکایت میں ہے کہ جنگل بیابان میں راہ بھول کر دس درویش ٹھہرے اور پیاس نے انہیں ستایا اور ان کے پاس ایک قدح پانی سے زائد نہ تھا اور دس کے دس پیاسے تھے۔ جب ایک کو وہ قدح آب دیا جاتا وہ دوسرے کی طرف ایثار کر دیتا۔ دوسرے کا خیال اپنے رفیق کی پیاس پر جاتا وہ اُسے دے دیتا۔ غرضیکہ اسی طرح پیالہ پانی کسی نے نہ پیا اور شدتِ تشنگی سے سب مر گئے، صرف ایک بچے تھے۔ جب انہوں نے اپنے نو رفیق مرے ہوئے دیکھے تو وہ قدح آب پی لیا اور راستہ طے کرنا شروع کر دیا۔ کسی کے پاس یہ قصہ انہوں نے کہا تو اس نے کہا اگر وہ پانی تُو بھی نہ پیتا تو بہتر تھا۔
انہوں نے کہا: بے عقلمند! کیا حکمِ شرعی اتنا ہی جانتا ہے؟ تجھے معلوم نہیں کہ نو آدمیوں کے مر جانے کے بعد بھی اگر میں وہ پیالہ نہ پیتا تو خودکشی کا مجرم بنتا اور عتابِ الٰہی میں ماخوذ ہوتا۔ تو وہ کہنے لگا کہ آپ کے خیال میں وہ نو آدمی بھی خودکشی کے مجرم ہوئے۔ انہوں نے کہا نہیں، اس لیے کہ وہ ایثار کر رہے تھے۔ اپنی حاجت کے مقابلہ میں دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دیتے تھے۔ یہاں تک کہ عمل پر ایثار کرتے کرتے ہلاک ہو گئے۔ پھر جب کہ میں تنہا رہ گیا تو اب موقعِ ایثار نہیں تھا۔ اس لیے ایسے موقع پر وہ پانی مجھے پینا واجب تھا۔
دیکھو! جب امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ حضور ﷺ کے بستر پر سوئے اور ہجرت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور کی معیت میں گئے اور مکہ سے باہر آ کر غار میں ٹھہرے۔ اس شب کفار کا قصد حضور ﷺ کے شہید کرنے کا تھا تو جنابِ باری تعالیٰ عزّ اسمہٗ نے جبرائیل و میکائیل علیہم السلام کو فرمایا کہ میں نے تمہارے مابین بھائی چارہ رکھا ہے اور تمہاری زندگی بھی ایک دوسرے سے دراز کی ہے۔ بتاؤ تم میں سے کون ہے جو اپنے بھائی پر اپنی زندگی کا ایثار کرے اور مرنے کو تیار ہو۔ دونوں اپنی اپنی زندگی بارگاہِ الٰہی سے طلب کرنے لگ گئے۔ جنابِ باری تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ اے جبرائیل و میکائیل! دیکھو علی کی بزرگی و شرافت کہ وہ تم سے بلند ہے، ہم نے علی کے اور اپنے حبیب ﷺ کے مابین مواخاۃ کی تھی تو علی اپنے قتل و مرگ کو قبول کر کے ہمارے حبیب کی خوابگاہ پر سو گیا اور اپنی جان ہمارے حبیب پر فدا کر دی ہے۔ اب تم دونوں جاؤ اور اس کی محافظت دشمنوں سے کرو۔
چنانچہ جبرائیل و میکائیل (علیہما السلام) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں آئے۔
صفحہ۳۵۰
ایک سرہانے بیٹھ گیا اور ایک پائینتی کی طرف بیٹھ گیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں زبانِ حال سے کہنے لگے: بَخٍ بَخٍ مَنْ مِثْلُكَ یَا ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اِنَّ اللّٰهَ یُبَاهِیْ بِكَ عَلٰی مَلَائِكَتِهٖ "زندہ باد اے علی! تمہارے مثل اس ایثار میں کون ہے، بے شک اللہ تعالیٰ آپ کے اس ایثار کو ملائکہ میں پیش فرما کر اظہارِ خوشنودی فرما رہا ہے اور آپ اپنی خواب میں بے فکر سو رہے ہیں۔"
اسی وقت یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی جس میں شانِ مولائے کائنات کرم اللہ وجہہ ظاہر ہے۔ ارشاد ہوا: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ۖ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌ بِالْعِبَادِ﴾ (۱) "اور بعض اللہ کے بندے وہ ہیں جو اس کی رضا جوئی میں اپنی جان بیچتے اور قربان کرتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر شفقت کرنے والا ہے۔" اور جب جنگِ احد کے موقع پر حرب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں پر ابتلا فرمایا۔ ایک صحابیہ انصار میں سے آئیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں ایک کٹورا پانی لے کر اس نیت سے چلی کہ مجروحینِ اُحد میں سے کسی کی بھی خدمت کروں۔ جب میں میدانِ رزم میں پہنچی، ایک صحابی کو دیکھا کہ مجروح پڑے ہوئے اپنے لمحاتِ زندگی کے آخری سانس لے رہے ہیں۔ مجھے انہوں نے اشارہ کیا کہ پانی پلاؤں۔ میں ان کی طرف پانی لے کر گئی تو ایک دوسرے زخمی صحابی نے آواز دی کہ مجھے پانی پلاؤ۔ یہ آواز سنتے ہی وہ پہلے مجروح فرمانے لگے: جاؤ انہیں پلاؤ اور خود پانی نوش نہ فرمایا۔ جب وہ پانی ان کی طرف لے گئی تو ایک اور مجروح پکارے کہ مجھے پانی دو تو انہوں نے پانی نہ پیا اور مجھے فرمایا: جاؤ انہیں پانی دو۔ غرضیکہ اسی طرح سات صحابی تک وہ پانی لے کر چلی اور سب نے دوسرے کی آواز پر خود نہ پیا اور دوسرے کی طرف بھیج دیا۔ جب کہ ساتویں صحابی کی خدمت میں پانی لے کر میں پہنچی، وہ شہید ہو گئے۔ واپس لوٹی اور چھٹے کے پاس آئی تو وہ بھی جانِ بحق تسلیم فرما چکے تھے۔ غرضیکہ جب واپس آئی تو چھ کے چھ شہید تھے۔ آیتِ کریمہ حضور ﷺ پر ان شہداءِ احد کی شان میں نازل ہوئی جس میں ارشاد تھا کہ:
"وہ محبوبانِ بارگاہ اپنی جانوں کا ایثار کرتے ہیں اگرچہ انہیں سخت تنگی ہو رہی ہو۔"
بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا جس نے چار سو برس عبادت کی تھی۔ ایک دن وہ بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کرنے لگا: الٰہی! اگر تو ان پہاڑوں کو پیدا نہ فرماتا تو تیرے بندوں کو چلنے اور سفر کرنے میں آسانی رہتی۔ تو پیغمبرِ وقت صلوات اللہ علیہ و سلامہ کی طرف فرمان آیا کہ اس عابد کو فرما دو کہ جنابِ باری کا ارشاد ہے کہ تو نے بندہ ہو کر ہماری ملک میں تصرف کیا لہٰذا ہم نے تیرا نام
۱۔ سورۃ البقرہ: ۲۰۷ ۲۔ سورۃ الحشر: ۹
صفحہ۳۵۱
دیوانِ سعد سے نکال دیا اور فہرستِ اشقیاء میں تجھے داخل کر دیا ہے۔
اس عابد نے یہ سنتے ہی اظہارِ مسرت کیا اور سجدۂ شکر کے لیے بحضورِ الٰہی جھک گیا۔ پیغمبرِ وقت علیہ السلام نے فرمایا: اے عقلمند! شقاوت کے درجے میں پہنچنے پر سجدۂ شکر ادا کر رہا ہے، یہ کونسا قانون ہے۔ عابد نے عرض کی حضور! اپنی شقاوت پر سجدہ نہیں کر رہا ہوں بلکہ اس امر پر سجدۂ شکر ادا کر رہا ہوں کہ خواہ کسی فہرست میں میرا نام ہو، مگر ہے تو اسی کے دفتر میں۔
اب میں ایک آرزو رکھتا ہوں، وہ حضور ﷺ اپنے ربّ کے دربار میں عرض کر دیں۔ آپ نے فرمایا: وہ آرزو کیا ہے؟ عابد نے عرض کی وہ یہ عرض ہے کہ جب مجھے جہنم میں ڈالا جائے تو مجھے اتنا عظیم الجثہ اور عریض و طویل کر کے ڈالا جائے کہ تمام موحدین کی جگہ مجھ سے بھر جائے تاکہ مجھ ایک کے جہنم جانے سے اتنا فائدہ تو ہو کہ باقی تمام موحدین بہشت میں جائیں۔ (اس ایثار اور خلوص پر دریائے رحمت جوش زن ہوا) ارشاد ہوا کہ: (اے پیغمبرِ وقت ہمارے بندہ کو) بشارت دو کہ یہ ابتلا و امتحان تیرے ذلیل کرنے کے لیے نہ تھا بلکہ تیرے ایثار و اخلاص کے ظاہر فرمانے کے لیے تھا۔ اب تیرا یہ مرتبہ ہے کہ قیامت کے دن تُو اور جس کی تُو شفاعت کرے گا، وہ سب تیرے ساتھ بہشت میں ہوں گے۔
میں نے ایک بار حضرت احمد حماد سرخسی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ آپ کی ابتدائے توبہ کیوں کر ہوئی تھی۔ فرمایا: میں سرخس سے ایک بار چلا اور ایک جنگل میں پہنچا۔ وہاں ایک مدت تک رہا اور اپنے اونٹ چرایا کرتا رہتا۔ میرے دل میں آیۂ کریمہ: ﴿وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ (۱) کے ماتحت اس چیز کی بہت تڑپ تھی کہ اپنی ضرورت کے مقابلہ میں دوسرے کی حاجت پوری کروں اور میرا اعقیدہ بھی صوفیائے کرام میں سے اسی جماعت کے اوپر تھا جو ایثار کو اولیٰ ترمانتی ہیں۔
ایک روز ایک بھوکا شیر نظر آیا اور اُس نے میرا اونٹ شکار کیا اور بلندی کی طرف چڑھ گیا اور ایک آواز ماری جس پر تمام درندے جنگل کے آ گئے۔ شیر نے اُونٹ کو چیر پھاڑ کر ڈال دیا اور خود کچھ نہ کھایا اور بالائے کوہ چلا گیا۔ اس شکار پر جس قدر درندے، لومڑی بھیڑیے اور بگھرے تھے، سب نے حملہ بول دیا اور خوب کھا پی کر چل دیے۔ اسی وقت شیر اترا اور ارادہ کیا کہ ایک ٹکڑا اس میں سے خود بھی کھائے کہ اتنے میں ایک لومڑی لنگڑی لولی دور سے آتی ہوئی نظر آئی۔ شیر پھر وہاں سے ہٹ گیا اور بالائے کوہ چلا گیا تا کہ وہ لومڑی بھی شکم سیر ہو جائے۔ چنانچہ جب وہ بھی کھا کر چلی
۱۔ سورۃ الحشر: ۹۔
صفحہ۳۵۲
گئی تو شیر نے آ کر ایک ٹکڑا اس میں سے لے کر کھایا۔
میں دور سے بیٹھ کر یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ شیر نے واپس جاتے ہوئے بزبانِ فصیح مجھے کہا:
"یا احمد! ایثار بر لقمہ کارِ سگاں بود و مردانِ خدا جان و زندگانی ایثار کنند۔"
"اے احمد! لقمہ کا ایثار کرنا کتوں کا کام ہے اور مردانِ خدا جان اور زندگی کا ایثار کیا کرتے ہیں۔"
بس یہ سنتے ہی مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ اسی وقت میں نے تمام اشغالِ دنیا و دینیہ سے دستبرداری کی۔ یہ ہے میری توبہ کی ابتداء۔
حضرت ابو جعفر خلدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ اپنی خلوتِ خاص میں مشغولِ مناجات تھے۔ میں پوشیدہ طور گیا تاکہ اُن کی فصیح و بلیغ مناجات سنوں۔ آپ فرما رہے تھے: "بار خدایا! اہلِ دوزخ را عذاب کنی و جملہ آفریدگان تواند بعلمِ و قدرت و ارادتِ قدیم واگر ناچار دوزخ را از مردم پُر خواہی کرد قادری بدانکہ ہمن آں دوزخ و طبقاتِ آں پُر کنی ومرایشاں را بہ بہشت فرستی۔" "اے اللہ! تُو اہلِ دوزخ کو عذاب دے گا، حالانکہ سب تیرے علم و قدرت و ارادہ سے تیرے پیدا کردہ ہیں۔ اگر تُو لازمی طور پر دوزخ کو آدمیوں سے بھرنا چاہتا ہے تو اس پر بھی قادر ہے کہ دوزخ اور اس کے تمام طبقات صرف مجھ سے بھر دے اور باقی سب کو جنت میں داخل فرما دے۔"
حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ میں ان کی اس دعا سے حیران ہو گیا۔ شب کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ کوئی آنے والا آیا اور کہتا ہے کہ جعفر! جا اور ابو الحسن کو کہہ دے کہ ہم نے تجھے اس شفقت و محبت کی وجہ سے جو تجھے ہمارے بندوں سے اور ہم سے ہے، بخش دیا۔ اور حضرت ابو الحسن کو "نوری" اس وجہ سے کہا جاتا تھا کہ اگر کوئی تاریک گھر میں کچھ بات کرتا تو آپ نورِ باطن کی روشنی میں اس سے خبردار ہوتے تھے اور نورِ حق کی ضیاء باری سے آپ اپنے مریدوں کے تمام راز جانتے تھے۔ چنانچہ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: ابو الحسن جاسوسِ قلوب ست۔ "ابو الحسن جاسوسِ قلوب ہے۔" یہ ہے تخصیص اُن کے مسلک کی اور اہلِ بصیرت کی نظر میں یہ بہت قوی اصل ہے اور بڑا عظیم معاملہ ہے اور انسان پر بذلِ روح سے زیادہ سخت تر کوئی چیز نہیں۔
چنانچہ اپنے حبیبِ پاک ﷺ کو تمام نیکیوں کی کنجی انفاق و ایثار بتایا گیا اور صاف بتایا
صفحہ۳۵۳
گیا کہ تمام نیکیوں کی کنجی محض بذل و انفاق ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ﴾ (۱) "بھلائیاں تم ہرگز حاصل نہیں کر سکتے جب تک محبوب ترین شے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔" اور جب کوئی اپنی روح اور جان کو اس کی راہ میں مبذول کرنا گوارا کر لے تو اس سے مال و حال و فرقہ و لقمہ کا کیا خطرہ ہو سکتا ہے اور اس طریقہ کا اصلی اصول یہی ہے۔
چنانچہ ایک شخص حضرت رویم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: حضور! مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: یَا ابْنَ لَیْسَ الْاَمْرُ غَیْرَ بَذْلِ الرُّوْحِ اِنْ قَدَرْتَ عَلٰی ذٰلِكَ وَاِلَّا فَلَا تَشْتَغِلْ بِتُرَّهَاتِ الصُّوْفِیَّةِ۔ "صاحبزادے! یہ طریقۂ تصوف بغیر بذلِ روح و جان کے نہیں ہے۔ اگر تو اس پر قدرت ہے تو (اس راستے میں آ، ورنہ) صوفیوں کی ان سخت باتوں میں نہ پڑ۔" اس لیے کہ صوفیاء کے یہاں اس کے سوا جو کچھ ہے وہ سب لغو و بیہودہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۖ بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَ﴾ (۲) "ان لوگوں کی طرف مرنے کا دل میں گمان بھی نہ کرنا جو راہِ مولیٰ میں شہید ہوئے بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے ربّ کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔" اور فرمایا: ﴿وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۖ بَلْ اَحْیَاءٌ﴾ (۳) "جو اللہ کی راہ میں شہید ہوئے انہیں مرا مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔" تو نتیجہ یہ نکلا کہ حیاتِ قربِ صرف سرمدی بذلِ روح کے بعد ملتی ہے اور اپنے حصہ کا ترک کر دینا امتثالِ امرِ الٰہی اور اتباعِ محبوبانِ بارگاہی ہے۔
لیکن ایثار و اختیار رویت و معرفت میں اختلاف ہے اور صوفیاء کے یہاں حقیقتِ ایثار اپنے نصیب کا ترک کر دینا ہی اصل نصیب ہے۔ اس لیے کہ جب تک طالب کی روش متعلق بہ کسب رہتی ہے، تمام کی تمام اس کی ہلاکت کا پیش خیمہ ہے اور جب جذبِ حق اپنے تصرفِ ولایت کو ظاہر کر دیتا ہے تو اس کے احوال و افعال تمام کے تمام اتنے منتشر ہو جاتے ہیں کہ اس کے لیے وہ عبارت ہی نہیں رہتی جس سے کچھ ظاہر کیا جا سکے اور نہ اُس کے وقت و زمانہ کے لیے کوئی لفظ ملتا ہے جس سے اُس کی کیفیت ظاہر کی جا سکے یا کسی چیز سے اس کی مثال دی جائے۔ اس حقیقت کو حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے خوب واضح کیا ہے:
۱۔ سورۃ آل عمران: ۹۲ ۲۔ سورۃ آل عمران: ۱۶۹ ۳۔ سورۃ البقرہ: ۱۵۴
صفحہ۳۵۴
ترجمہ: تو مجھ سے غائب ہوا تو میں ایسا بے ہوش ہوا کہ اپنے آپ کو نہیں پہچانتا اور میری صفاتِ موصوفہ بھی اس کے ساتھ بکھر گئیں، تو آج کے دن سب سے ایسا غائب ہوں کہ عباراتِ ملہوفہ کے سوا کچھ نہیں ہوں۔
فرقۂ سہلیہ
فرقۂ سہلیہ کا تعلق حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ یہ محتشمانِ اہلِ تصوف سے ہیں اور کبرائے قوم میں مانے جاتے ہیں۔ ان کا ذکر پہلے ہو چکا۔ غرضیکہ اپنے وقت کے سلطان اور اربابِ حل و عقدِ طریقت تھے اور آپ کی براہین اس قدر زیادہ ہیں کہ ہر اور اک ان کے بیان سے عاجز ہے اور آپ کا طریقہ اجتہاد و مجاہدۂ نفس و ریاضت ہے اور آپ مریدوں کو مجاہدہ میں کمال درجہ پہنچا چکے ہیں۔
آپ کی ایک حکایت مشہور ہے کہ ایک مرید کو حکم ملا کہ تمام دن اللہ اللہ کرے۔ اس کے بعد تین روز تک یہی وردر کھے کہ خود گر ذکر ہو جائے۔ پھر فرمایا: اب جس طرح دن اللہ اللہ میں گزارا ہے، راتیں بھی اسی طرح گزارو۔ مرید حسبِ الحکم کرتا رہا۔ غرضیکہ مرید کا یہ حال ہو گیا کہ اگر اپنے کو خواب میں دیکھتا تو ذکر کرتا پاتا۔ یہاں تک کہ وہ ذکر مرید کی عادت سے طبعِ ثانی بن گیا۔ اب حکم ہوا کہ ذکرِ لسان سے لوٹ کر ذکرِ قلبی میں جا۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ حتیٰ کہ وہ ذکر اتنا غالب آیا کہ ایک روز وہ اپنے گھر میں تھا کہ ہوا سے لکڑی گری اور اس کا سر پھوڑ دیا۔ تو جو قطرات خون چکیدہ ہوئے تو ان سے بھی اللہ اللہ ہی منقش نظر آیا۔
غرضیکہ تربیتِ مریدان مجاہدات و ریاضات سے کرنا خاص طریقۂ سہلیہ ہے اور خدمتِ درویشاں اور تعظیم، حمد و بیان اور مراقبہ، طریقۂ جنیدی کا (یہ بھی ان کے یہاں لازمی ہے) اور ریاضت و مجاہدہ میں تمام کی تمام مخالفتِ نفس کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی نفس کو نہ پہچانے تو اس کے لیے مجاہدہ و ریاضت بے سود ہے۔
اب ہم نفس کی حقیقت اور اس کی تعریف بیان کریں تاکہ معلوم ہو کہ (یہ کیا بلا ہے) پھر مجاہدات اور مذاہب و مسلکِ صوفیاء ظاہر کریں گے تاکہ طالبِ علم پر ان کی تعریف روشن ہو جائے۔ ان شاء اللہ وباللہ التوفیق۔
حقیقتِ نفس و معنیِ ہوئی
یاد رکھو! نفس کے لغوی معنی وجودِ شے کے ہوتے ہیں یا حقیقتِ وذات کے معنی میں مرَوَّج
صفحہ۳۵۵
ہے۔ لیکن عادتِ عوام و عباراتِ مردمان میں اس کے بہت سے معنی لیے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کا معنوی استعمال برخلاف یک دیگر ہی نہیں ہوتا بلکہ متضاد معنی میں استعمال کرتے ہیں۔
پھر باعتبارِ عرف ایک گروہ بمعنی "روح" کہتا ہے۔ ایک گروہ کے نزدیک "مروت" کے معنی میں نفس آتا ہے۔ ایک گروہ "جسد و جسم" کے معنی لیتا ہے۔ ایک گروہ "خون" کے معنی کرتا ہے۔ لیکن محققینِ صوفیاء کے نزدیک مذکورہ معنی سے کوئی معنیِ نفس کے صحیح نہیں بلکہ ان کی تحقیقِ نفس کے متعلق (مندرجہ ذیل ہے) اس امر پر سب توتفق ہیں کہ نفس نام ہے "متبعِ شر" اور "قائدِ سوء" کا۔
ایک جماعت کہتی ہے کہ نفس ایک ایسی عین شے ہے جو دل میں رکھی گئی ہے اور وہ انسان میں مثلِ روح کے لازم ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ نفس ایک ایسی صفت کا نام ہے جو قالبِ انسان میں مثلِ حیوۃ کے موجود ہے۔
لیکن تمام محققین صوفیاء اس امر پر متفق ہیں کہ نفس وہ ہے جس کے ذریعے اخلاقِ رذیلہ اور افعالِ خبیثہ کے ارادے پیدا ہوں اور یہ اُن افعالِ رذیلہ خبیثہ کا سبب ہے اور افعالِ رذیلہ خبیثہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک معاصی، دوسرے اخلاقِ رذیلہ جیسے تکبر، بخل، خشم، حسد اور مثلِ اس کے تمام ایسے ناستودہ افعال جو شرع و عقل برے بتائے۔
تو ریاضت و مجاہدہ سے صوفی ان اوصاف کو اپنے سے دفع کرتا ہے۔ جیسے توبہ کرنے سے معصیت سے اجتناب۔ تو فعلِ معصیت اوصاف سے ظاہر ہے اور معصیت شعاری کے اوصاف باطن سے ہے اور ریاضتِ افعالِ ظاہر سے ہے اور توبہ اوصافِ باطن سے۔ تو جو بُرے وصف باطن سے ظاہر ہوں ظاہری روش وصفوں سے پاک ہو جاتے ہیں۔ اور جو ظاہر میں جلوہ گر ہوں، باطنی اوصافِ پسندیدہ سے دور ہو جاتے ہیں۔
اور نفس و روح دونوں لطیفہ ہیں جو قالبِ انسان میں موجود ہیں۔ جیسے کہ دنیا میں شیاطین و ملائکہ اور بہشت و دوزخ۔ ان میں سے ایک محلِ خیر ہے اور ایک محلِ شر۔ جس طرح آنکھ محلِ نظر ہے اور کان محلِ سمع ہے اور زبان محلِ ذائقہ اور مثلِ اس کے تمام اعیان (ان کے لیے بھی ایک مقام اور محل ہے) اور بہت سے وصف ایسے ہیں جو قالبِ انسان میں ودیعت کیے گئے ہیں۔
چنانچہ نفس کی مخالفت میں تمام عبادات کا راز ہے اور کمالِ مجاہدہ بھی اسی مخالفتِ نفس کے لیے ہے اور بندہ بجز مخالفتِ نفس واصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ نفس کی موافقت ہلاکتِ انسان ہے اور مخالفتِ نفس میں بندہ کی نجات۔ چنانچہ حضرت ربّ العزت جل مجدہٗ نے اس کی مخالفت کا حکم فرمایا اور ان کی تعریف کی جو اس کی مخالفت کرنے والے ہیں اور اس کی مذمت کی جو موافقتِ نفس
صفحہ۳۵۶
میں چل رہے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوا: ﴿وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰی ۙ فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰی﴾ (۱) "جنہوں نے نفس کی خواہشات کو روکا تو ان کی آرام گاہ جنت ہے۔" اور فرمایا: ﴿اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَهْوٰٓی اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ﴾ (۲) "کیا پس جب تمہارے پاس رسول تمہاری خواہشاتِ نفسانی کے خلاف حکم لائے تو تم نے سرکشی کی اور تکبر کیا۔"
اور حضرت یوسف صدیق علیہ السلام کی زبان سے ہمیں قرآن کریم میں خبر دی: ﴿وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ﴾ (۳) "اور میں اپنی جان کو پاک نہیں کرتا، بیشک نفس برائی کا حکم کرنے والا ہے مگر جو اللہ کے رحم سے بچ سکے۔"
اور حضرت سید یوم النشور ﷺ نے فرمایا: اِذَا اَرَادَ اللّٰهُ بِعَبْدٍ خَیْرًا بَصَّرَهٗ بِعُیُوْبِ نَفْسِهٖ (۴) "جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو چشم و بصیرت عطا فرماتا ہے کہ وہ اس سے اپنے نفس کے عیوب دیکھتا ہے۔"
اور احادیث میں وارد ہے کہ اللہ جل علا شانہٗ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو وحی فرمائی اور حکم دیا: یَا دَاوٗدُ عَادِ نَفْسَكَ فَاِنْ وُدِّیْ فِیْ عَدَاهَا۔ "اے داؤد! اپنے نفس سے دشمنی کر اس لیے کہ میری دوستی اس کی عداوت میں ہے۔"
یہ جو کچھ ہم نے بیان کیا یہ تمام اوصاف ہیں اور لامحالہ حقیقت کے لیے موصوف لازمی ہے تاکہ وہ اس صفت کے ساتھ قائم ہو۔ اس لیے کہ صفت قائم بالذات نہیں ہو سکتی اور معرفتِ صفت بغیر علم و شناخت قالب حاصل نہیں ہو سکتی اور طریقِ شناختِ ابدان و اجسام یہی ہے کہ اوصافِ انانیت کو سمجھے کہ یہ انسانیت کا جز ہے اور یہی سرِّ انسان ہے۔
اور حقیقتِ انسان کی تشریح میں بہت سے اقوال ہیں۔ یہاں تک کہ اس میں بھی بہت سے قول ہیں کہ اسمِ انسان کیا چیز ہے اور انسان کہلانے کا کون سزاوار ہے اور اس کا علم ہر طالبِ حقیقت پر فرض ہے۔ اس لیے کہ جو اپنے سے ہی جاہل ہے وہ غیر سے جاہل تر ہوگا اور جب کہ بندہ معرفتِ حق اور معرفتِ خود کے لیے مکلف ہے تاکہ وہ اپنے حدوث اور ذاتِ واجب تعالیٰ شانہٗ کے قدم کو جانے اور اپنی فنا اور ذاتِ حق کی بقا کو سمجھے۔
اور قرآنِ کریم کی نص بھی اس امر پر ناطق ہے کہ ربّ جل مجدہ نے کفار کو اپنی طرف
۱۔ سورۃ النازعات: ۴۰، ۴۱ ۲۔ سورۃ البقرہ: ۸۷ ۳۔ سورۃ یوسف: ۵۳ ۴۔ اس حدیثِ پاک کو امام دیلمی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے (کتاب اللمع، ص: ۱۳۹؛ احیاء علوم الدین ۲۲۳/۵)
صفحہ۳۵۷
سے جاہل فرمایا اور ارشاد ہوا: ﴿وَمَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرَاهِیْمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ﴾ (۱) "اور کون ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے دین سے منہ پھیرے سوا اس کے جس نے اپنے آپ کو نادانی اور جہالت کے حوالے کر دیا۔"
اور ایک مشائخ کرام میں سے فرماتے ہیں: مَنْ جَهِلَ نَفْسَهٗ فَهُوَ بِالْغَیْرِ اَجْهَلُ۔ "جو اپنے نفس کے ساتھ جاہل ہے وہ غیر سے جاہل تر ہے۔" اور حضور سید یوم النشور ﷺ نے فرمایا:
۲۔ اسے امام سخاوی نے "المقاصد الحسنہ" (ص: ۴۱۹، حدیث: ۱۱۴۹) میں لائے ہیں اور کہا ہے: کہ امام ابو المظفر ابن السمعانی "الکلام علی التحسین والتقبیح العقلی من القوا طع" میں کہتے ہیں کہ اس کا مرفوع ہونا معروف نہیں ہے بلکہ اسے یحییٰ بن معاذ رازی کے قول سے حکایت کیا گیا ہے۔ اسی طرح امام نووی کہتے ہیں کہ یہ ثابت نہیں ہے اور میرے سامنے اس کی یہ تاویل بیان کی گئی: مَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ بِالْحُدُوْثِ عَرَفَ رَبَّهٗ بِالْقِدَمِ، وَمَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ بِالْفَنَاءِ عَرَفَ رَبَّهٗ بِالْبَقَاءِ۔ امام ابن تیمیہ نے اسے موضوع کہا ہے جبکہ امام نووی نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غیر ثابت کر دیا ہے لیکن جہاں تک اس کے مفہوم و معنی کا تعلق ہے تو وہ ثابت شدہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے: مَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ بِالْجَهْلِ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهٗ بِالْعِلْمِ وَمَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ بِالْفَنَاءِ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهٗ بِالْبَقَاءِ وَمَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ بِالْعَجْزِ وَالضَّعْفِ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهٗ بِالْقُدْرَةِ وَالْقُوَّةِ۔ مذکورہ روایت کا مفہوم مندرجہ ذیل آیات سے مستعار ہے، وَمَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرَاهِیْمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ (البقرہ: ۱۳۰) یعنی جہلہا حیث لم یعرف ربہا۔ ابن غرس کہتے ہیں: لیکن کتبِ صوفیہ اس حدیث سے بھری پڑی ہیں اور وہ اسے حدیث کا درجہ دیتے ہیں جیسے شیخ محی الدین وغیرہ۔ اور صاحبِ کشف الخفاء کہتے ہیں: بعض حضرات نے ذکر کیا ہے کہ شیخ محی الدین ابن عربی نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ حدیث بطریقِ روایت صحیح نہیں ہے مگر ہمارے نزدیک بطریقِ کشف صحیح ہے۔ ابن النجم کہتے ہیں: کہ یہ روایت ادب دنیا والدین للماوردی میں بطریقِ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا: مَنْ اَعْرَفُ النَّاسِ بِرَبِّهٖ؟ فَقَالَ اَعْرَفُهُمْ بِنَفْسِهٖ۔ حوالہ کے لیے: التذکرۃ للزرکشی (ص: ۱۴۲)، المقاصد الحسنہ للسخاوی (ص: ۴۱۹، حدیث: ۱۱۴۹)، کشف الخفاء (۲/۳۶۵)، تمیز الطیب من الخبیث (ص: ۲۳۰)، الاسرار المرفوعہ (ص: ۲۳۷)، الغماز علی اللماز للسمہودی (حدیث: ۲۸۹)، الدرر المنتثرہ للسیوطی (۳۹۳)، اللؤلؤ المرصوع (ص: ۸۶)، الحاوی للفتاوی (۲/۳۱۲)۔
صفحہ۳۵۸
"جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، یقیناً اس نے ربّ کو بھی پہچان لیا۔" شرح فرماتے ہیں یعنی جس نے اپنے نفس کی فنا کو سمجھ لیا، اس نے یقیناً ذاتِ باقی کی بقاء کو جان لیا۔ بعض نے کہا: جس نے اپنے نفس کو ذلت کے ساتھ جان لیا، اس نے اپنے ربّ کی عزت مان لی۔
تو سب کا خلاصہ یہ ہوا کہ جو اپنے کو نہ جانے وہ کل کی معرفت سے محجوب ہے۔
ان تمام تشریحات سے مراد معرفتِ انسانیت ہے اور اس حقیقت میں محققین کے اختلافات پر بہت سے اقوال ہیں:
۱۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ انسان کی حقیقت سوائے روح کے کچھ نہیں ہے۔ یہ جسم تو محض اُس روح کے راہ و مکان ہیں یا اس کی آرام گاہ۔ تاکہ اس جسم میں رہ کر غلل طبائع سے محفوظ رہے اور حس و عقل یہ صفاتِ روح ہیں۔ مگر یہ تعریف بالکل باطل ہے۔
اس لیے کہ اگر روح کا نام انسان ہے تو جب جسم سے روح نکل جائے تو اسے انسان نہ کہنا چاہیے حالانکہ انسان کہتے ہیں۔ مردہ جسم سے نامِ انسان نہیں اٹھتا۔ مذکورہ اصول کے ماتحت جب تک اس مکان میں روح ہے انسان کہنا چاہیے مگر جب وہ روح پرواز کر جائے تو انسان نہ کہنا چاہیے۔ حالانکہ زندہ انسان جب تک بولا جاتا ہے جب تک اس میں روح ہے اور جب روح نہ رہے تو مردہ انسان کہلاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ رُوحِ قالبِ ستور (۱) یعنی گھوڑے میں بھی ہوتی ہے حالانکہ اُسے انسان نہیں کہا جاتا۔ اگر اسمِ انسان کی علت روح ہوتی تو یہ ضرور تھا کہ جہاں روح کا وجود ہوتا وہاں ہی اطلاقِ اسمِ انسان صحیح ہوتا۔ تو ثابت ہوا کہ مذکورہ قول بالکل باطل ہے۔
۲۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ انسان روح و بدن پر یکجا واقع ہوتا ہے اور ایک دوسرے سے جدا ہوتا ہے تو پھر یہ نام ساقط ہو جاتا ہے۔ جس طرح ایک گھوڑے پر دو رنگ مجتمع ہوں ایک سیاہ ایک سپید تو اُسے "ابلق" کہتے ہیں اور اگر فقط سپید رنگ ہو تو سپید کہتے ہیں۔ یہ بھی قرآن کریم کے حکم کے ماتحت بالکل باطل ہے۔
جیسا کہ ارشاد ہے: ﴿هَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا﴾ (۱) "کیا انسان پر وہ وقت آیا ہے کہ جب کوئی شے مذکور نہ تھا۔" حالانکہ آدمی بے جان مٹی کو بھی
۱۔ زسمّ ستوران دران پہن دشت ۔ زمین شش شد و آسمان گشت پشت۔ "ستور" کا ترجمہ بعض مترجمین نے "بیل" کیا ہے حالانکہ ستور فارسی میں "گھوڑے" کو کہتے ہیں جیسا کہ "سکندر نامہ" کے شعر سے واضح ہے اور اگر "ثور" سمجھ کر "بیل" معنی کیے تو بھی غلط۔ اس لیے کہ یہ سین سے ہے اور عربی میں ث سے۔ ۲۔ سورۃ الدہر: ۱
صفحہ۳۵۹
انسان کہا گیا۔ با آنکہ ابھی تک اس کے قالب میں جان پیوستہ نہیں ہوئی۔
۳۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ انسان ایک "جزو لا یتجزیٰ" ہے اور اس کا مقام دل ہے اور یہی قاعدہ اوصافِ انسانی ہے حالانکہ یہ بھی محال ہے۔ اس لیے کہ اگر انسان کو مار ڈالیں اور اس کے اندر سے دل نکال لیں تو اسمِ انسان اس سے نہیں جاتا اور روح سے قبل بالا تفاقِ محققین قالبِ انسان میں دل نہیں ہوتا۔
۴۔ ایک جماعت جو متصوفہ سے ہے اسے بھی حقیقتِ حق کی تحقیق میں غلطی واقع ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ انسان آکل و شارب اور محلِ تغیر نہیں ہے۔ وہ درحقیقت اسرارِ الٰہی میں سے ایک سرّ ہے اور یہ جسم لباسِ انسانی ہے اس میں امتزاجِ طبع اور اتحادِ جسد و روح ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ بالاتفاق جملہ عقلاء اسمِ انسان کا اطلاق مجانین و کفار و فساق سب پر ہے اور ان کے اندر اسرارِ الٰہیہ کے معنی میں سے کچھ نہیں۔ سب کے سب متغیر آکل شارب ہیں اور اس کے قالب اور وجود میں ایسی شخصیت مخصوص کہیں نہیں، جسے ان کی تعریف کے مطابق انسان کہا جائے۔
بلکہ حضرت ربّ العزت جل مجدہٗ نے انسان اس مجموعہ کا نام رکھا جس سے کہ انسان مرکب ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
"اور بے شک ہم نے پیدا کیا انسان کو گندھی ہوئی صاف مٹی سے۔ پھر کیا ہم نے اس میں قطرۂ منی کو ایک خاص جگہ ٹھہرنے والا۔ پھر کیا ہم نے نطفہ کو جما ہوا خون۔ پھر بنایا ہم نے جمے خون کو مضغۂ گوشت۔ پھر بنائے ہم نے مضغہ سے ہڈیاں۔ پھر چڑھایا ہم نے ہڈیوں پر گوشت، پھر نشو و نما فرمائی ہم نے دوسری پیدائش میں، تو بڑی برکت والا ہے اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہے۔"
تو حضرت ربّ العزت جل مجدہٗ نے جو اصدق الصادقین سے ہے، خاک سے اس صورت کو پیدا فرمایا اور جملہ تغیرات اس پر ہوئے مگر ہر زمانہ میں اس کا نام انسان ہی رکھا۔
۱۔ سورۃ المومنون: ۱۲، ۱۳، ۱۴
صفحہ۳۶۰
چنانچہ ایک جماعت اہلِ سنت و جماعت کی کہتی ہے کہ انسان "حیّ" ہے اور اس کی صفاتِ محمودہ ایسی ہیں کہ موت اس اسم کو اس سے نہیں اٹھا سکتی۔ حتیٰ کہ صورتِ معہودہ اس اسم کو آلاتِ موسوم ظاہر و باطن سے علیحدہ نہیں کر سکتی اور مراد صورت سے تندرستی و بیماری ہے اور آلات سے مراد موسومِ انسان کا مجنون و عاقل ہونا ہے۔
غرضیکہ بالاتفاق عقلاء انسان جس قدر صحت کی طرف ہوگا، کامل تر ہوتا چلا جائے گا اور مخلوق میں یہ سب سے کامل ہے۔ اب سمجھ لینا ضروری ہے کہ ترکیبِ انسانی جو کامل تر ہوتی ہے وہ محققین کے نزدیک تین معنی سے ہوتی ہے: (i) ایک روح (ii) دوسرے نفس (iii) تیسرے جسم۔ اور اس کے ہر عین میں ایک صفت ہوتی ہے جو اس عین کے ساتھ قائم ہے۔
چنانچہ روح کے لیے عقل اور نفس کے لیے ہوا اور بدن کے لیے حس۔ انسان نمونۂ عالم ہے۔ اور عالم دو جہان کا نام ہے اور دونوں جہانوں کے نشانات کا مجموعہ انسان ہے۔ اس جہان کے نشان تو انسان میں پانی، خاک، ہوا، آگ ہے اور ان کی ترکیب بلغم، خون، صفرا، سودا سے ہے اور اس جہان کے نشان بہشت، دوزخ اور عرصاتِ محشر ہیں۔
تو جانِ بہشت کی بجائے اپنی لطافت سے بنتی ہے اور دوزخ کی بجائے نفس اور آفات وحشت ہو جاتے ہیں اور جسم بجائے عرصاتِ محشر کے ہے، اور عرصۂ محشر میں جو جمالِ یار ہوگا وہ بھی دو معنی میں ہے۔ قہر کے ساتھ یا مؤانست کے ساتھ۔ تو بہشت نتیجۂ رضائے دوست ہے اور دوزخ نتیجۂ سخط و غضبِ یار ہے۔
اسی طرح روح مومن کو معرفتِ روح سے راحت ہے اور نفس کی وجہ میں حجاب و ضلالت۔ حتیٰ کہ مومن دوزخ سے اس وقت تک خلاصی نہ پائے گا اور بہشت نہ پہنچ سکے گا جب تک حقیقتِ رویت نہ پائے اور محبت کی صفائی کو حاصل نہ کر لے۔ اسی طرح جب تک بندہ دنیا میں نفس سے نجات نہ پائے، تحقیقِ ارادہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس لیے اس کی قائد روح ہے اور جب تک تحقیقِ ارادہ حاصل نہ ہو قربت و معرفتِ ذات کو نہیں پہنچ سکتا۔
تو خلاصہ یہ ہوا کہ جو دنیا میں اس ذات کو پہچان لے گا، غیروں سے اعراض کرے گا اور صراطِ شریعت پر قائم ہوگا تو قیامت کے دن دوزخ و پلِ صراط کو دیکھے گا۔
مختصر یہ کہ روحِ مومن وہ ہے کہ جس کو بہشت پکارتا اور بلاتا ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں وہ نمونۂ بہشت تھا، اور نفس وہ ہے کہ اس کو بلانے اور پکارنے والا دوزخ ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں وہ نمونۂ دوزخ تھا۔ تو مومن وہ ہے کہ جو کامل مدبر عقل ہے اور دوسرا وہ ہے جس کی قائد حرص و ہوائی
صفحہ۳۶۱
ناقص ہے۔ تو ایک کی تدبیر صواب ہے، دوسرے کی تدبیر ناقص اور محض خطا ہے۔ تو طالبِ درگاہِ احدیت پر واجب ہے کہ ہمیشہ مخالفتِ نفس کرے تاکہ اُس کی مخالفت سے روح اور عقل کو مدد ملتی رہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
فصل:
جو کچھ مشائخ کرام نے نفس کے بارے میں لکھا ہے، وہ یہ ہے:
"سخت ترین بندہ کا حجاب نفس کا دیکھنا ہے اور ان کی تدبیر کا اتباع۔" اس لیے کہ مطابقتِ نفس، مخالفتِ حق عزّ و جل ہے اور مخالفتِ حق تمام حجابوں کا سرچشمہ ہے۔
اور حضرت ابو یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"اگر تو چاہتا ہے کہ اپنے ربّ کو پہچانے اور نفس کو سلامت رکھے تو تجھ میں تیرا نفس اپنے کو باقی رکھنے کی صورت میں تجھ کو نہیں پہچاننے دیتا۔ تو پھر تو غیر یا ذاتِ باقی کو کیسے پہچان سکتا ہے۔"
یعنی جب تک تیرا نفس باقی ہے تجھے خود بخود محجوب رکھے گا اور جب تو محجوب ہوگا تو کس طرح کشفِ جمال حاصل کر سکتا ہے۔
اس لیے کہ نفس کو لطیفۂ اسلام سے مقارنت نہیں تو لامحالہ نفس ہمیشہ اعراضِ اسلام پر کوشاں رہے گا اور معرِض منکر ہوتا ہے اور جو منکر ہوتا ہے وہ بے گانہ ہوتا ہے۔
"نفس خائن ہے امانتِ ایمان میں اور مانع ہے اعمالِ صالحہ سے اور طلبِ رضا کا مخالف ہے۔ لہٰذا بہترین اعمال سے مخالفتِ نفس ہے۔"
اس لیے کہ خیانتِ امانت میں مقتضیِ یگانگی ہے اور ترکِ رضا اپنا گم کرنا اور تباہ ہونا ہے۔ علاوہ اس کے بہت سے مشائخ کرام کے بہت سے ارشادات ہیں جن کا احصاء و حصر اس مختصر میں مشکل ہے۔ اب ہم اپنی مقصود کی طرف آتے ہیں اور مذہبِ سہل میں جو صحتِ مجاہدۂ نفس و ریاضت پر بڑا ثبوت ہیں، وہ بیان کرتے ہیں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
۲۔ اسے امام اوزاعی نے مسند الشہاب (۱/۱۳۹، حدیث: ۱۸۳) میں بطریقِ عمرو بن مالک نقل کیا ہے اور ان سے فضالہ بن عبید نے بیان کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا۔ اس کے بعد خطبہ ذکر کیا گیا ہے۔ مزید حوالہ کے لیے: مسند امام احمد بن حنبل (۶/۲۰، ۲۱، ۲۲)، جامع الترمذی (۱۶۷۱)، مسند البزار (۱۱۴۳)، کتاب الجہر وحسن لابن حبان (۱۶۲۴، ۲۵)، المعجم الکبیر للطبرانی (۱۷۹۶، ۷۹۷/۱۸)، المستدرک للحاکم (۱/۱۰، ۱۱)، سنن ابن ماجہ (۲۹۳۴)۔
۳۔ امام سیوطی اسے "الجامع الصغیر" (۸۵/۲) میں اور امام غزالی احیاء علوم الدین (۶/۳) میں ان الفاظ کے ساتھ لائے ہیں: قَدِمْتُمْ مِنَ الْجِهَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِهَادِ الْاَكْبَرِ، مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ۔
صفحہ۳۶۳
"مجاہدہ کرنے والا وہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں اپنے نفس کا مقابلہ اور اُس کی مخالفت کی۔"
"لَوٹے ہم چھوٹے جہاد یعنی غزوات سے بڑے جہاد کی طرف۔ صحابہ نے عرض کی: حضور بڑا جہاد کیا ہے۔ فرمایا نفس کا مقابلہ۔"
اس حدیث میں حضور ﷺ نے غزوات پر جہادِ نفس کی فضیلت ظاہر فرمائی اس لیے کہ نفس کے جہاد میں رنج زیادہ ہے اور وہ خواہشِ نفسانیہ کو دفع کرنا ہے اور جہادِ نفس یہ ہے کہ نفس کی خواہشات پر قہر کرنا۔
تو اب اچھی طرح یاد رکھو! خدا تمہیں عزتِ دین و دنیا عطا فرمائے! طریقِ مجاہدۂ نفس ظاہر اور واضح ہے اور تمام ادیان و ملل میں اسے پسند کیا ہے اور صوفیوں کے طریقہ میں مجاہدۂ نفس کا ملحوظ رکھنا مختصر ہے اور صوفیاء عوام و خواص مجاہدۂ نفس کو خاص طور پر لازم جانتے ہیں اور اس میں مشائخ کرام کے رموز اور ارشادات بہت زیادہ ہیں۔
حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ اس مجاہدۂ نفس کو اصلِ اصولِ تصوف قرار دیتے ہیں اور اس میں خاص مبالغہ فرماتے ہیں اور دلائلِ مجاہدہ ان کے بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ حضرت سہل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی یہ عادت بنا رکھی تھی کہ پندرہ روز بعد ایک بار کھانا تناول فرماتے اور اس قدر تقلیلِ غذا کرنے کے باوجود آپ کی عمرِ مبارک بہت طویل تھی۔ چنانچہ حضرت سہل رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مشاہدہ کے لیے مجاہدہ کو علت فرمایا اور عرفانِ حق کی طلب کے لیے مجاہدہ کو خاص طور پر موثر قرار دیا ہے۔ حضرت سہل رحمۃ اللہ علیہ ایسی حیاتِ دنیا کو جو طلبِ مشاہدہ میں ہو، اس حیاتِ اُخروی پر جزاء عمل کے لیے ہے بہتر ہو بزرگ فرماتے ہیں۔ اس لیے کہ جزاء اس حیات کے اعمال کا ثمرہ ہے۔ تو جب حیاتِ دنیا میں عمل کرے گا تو عاقبت میں ثمرِ قرب پائے گا بغیر خدمت و مجاہدہ قربت حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو انسان کو چاہیے کہ واصلِ بحق ہونے کی جو علت ہے یعنی مجاہدہ، اس میں اتنی سعی کرے جتنی اللہ تعالیٰ اُسے توفیق دے۔ اَلْمُشَاهَدَاتُ مَوَارِیْثُ الْمُجَاهَدَاتِ۔ "مشاہدات مجاہدوں کی میراث ہیں۔"
ایک کہتے ہیں کہ مجاہدہ وصول الی اللہ کی علت ہے، اس لیے کہ یہ تقربِ عطاءِ الٰہی سے ہے اور عطاءِ الٰہی کو کسی عمل اور مجاہدہ سے سروکار نہیں (۱)۔
تو مجاہدہ ضروری ہے تو صرف تہذیبِ نفس کی غرض سے، نہ کہ حقیقتِ قرب حاصل کرنے کے لیے۔ اس لیے کہ مجاہدہ کی طرف رجوع ہونا بندہ کی طرف سے ہے اور مشاہدہ فضلِ الٰہی سے تو
۱۔ ایں سعادت بزورِ بازو نیست ۔ تا نہ بخشد خدائے بخشندہ (از مترجم غفرلہٗ)
صفحہ۳۶۴
اندریں صورت مجاہدہ کا سبب بننا مشاہدہ کے لیے محال ہے یا مجاہدہ آلۂ مشاہدہ بننے بھی ناممکن۔
حضرت سہل رحمۃ اللہ علیہ اپنے دعوے کے ثبوت میں یہ آیۂ کریمہ پیش کرتے ہیں:
"جن لوگوں نے ہمارے لیے مجاہدہ کیا یقیناً ہم انہیں اپنی راہیں دکھا دیں گے۔"
اور حقیقت واقعہ یہی ہے کہ جدوجہد مشاہدۂ باری کرتا ہے وہ مشاہدہ حاصل کر لیتا ہے (۲) اور ورودِ جملہ انبیاء کرام علیہم السلام اور احقاقِ شریعت اور نزولِ کتب سماویہ اور بندوں کو مکلف احکام کرنا، یہ سب مجاہدہ ہے۔ اگر مجاہدہ علتِ مشاہدہ نہ ہوتا تو ان تمام امور کی حقانیت باطل ہو جاتی ہے۔ اور یہ بھی حقیقتِ واقعہ ہے کہ دین اور احوالِ عاقبت اور اس کے تمام احکام کسی علت کے ماتحت ہیں۔ تو جو علل احکام کی نفی کرتا ہے اس سے شرع اور رسوم سب اٹھ جاتی ہے۔ تو اصل میں مکلف باحکام ہونے کا ثبوت ہوگا نہ فرع میں۔
پھر ظاہر ہے کہ بھوک کے دفع کرنے کو کھانا اور کپڑا سردی گرمی دور کرنے کے لیے علت ہے اور نفیِ علت تمام معانی میں معلول کے معطل کرنے کو لازم ہے۔ تو افعال میں اسباب دیکھنا توحید ہے اور اس کا اٹھا دینا ترکِ افعال کرنا اور معطل ہو جانا ہے۔
چنانچہ مشاہدہ میں جو دلائل ہوتے ہیں تو دلائل کا انکار مشاہدہ کا انکار ہے اور صاف طور پر اسے "مکابرہ" کہا جا سکتا ہے۔ (مکابرہ کہتے ہیں اس گفتگو کو جس میں احقاقِ حق ملحوظ نہ ہو بلکہ اپنی شخصیت اور بڑائی دکھانی مطلوب ہو)
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ سرکش گھوڑے کو ریاضت کرا کر اس کی ہیبت دور کر دی جاتی ہے۔ ریاضت کے بعد وہی سرکش گھوڑا آدمی کی صفات حاصل کر لیتا ہے اور اس کی حیوانی اور بہیمی صفات انسانیت سے بدل جاتی ہیں۔
چنانچہ بعد ریاضت گھوڑا یکبارگی اٹھا کر اپنے سوار کو دو دیتا ہے، پولو میں گیند اٹھا کر سوار کو دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر ایک بے عقل عجمی لڑکے کو ریاضت کر کے عربی زبان میں "افصح الفصحاء" بنا لیتے ہیں اور اس کی گنوار زبان جو طبعی تھی ایک بلیغ ہو جاتی ہے کہ باید و شاید۔
ایک وحشی جانور بعد ریاضت اتنا سدھا لیا جاتا ہے کہ جب اُسے چھوڑ دیا جائے اور جب بلاؤ فوراً آ جائے۔ حتیٰ کہ اُسے وہ آزادی جو پہلے تھی، اب ریاضت کے بعد اس سے زیادہ قید پسند ہو جاتی ہے۔
۱۔ سورۃ العنکبوت: ۶۹۔ ۲۔ عربی میں ضرب المثل بھی ہے: مَنْ جَدَّ وَجَدَ۔ جس نے کوشش کی پالیا۔ (از مترجم)
صفحہ۳۶۵
گندے کتے کو دیکھو کہ ریاضت و مجاہدہ کے بعد اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کا مارا ہوا حلال ہو جاتا ہے اور بلا ریاضت و مجاہدہ کے اگر انسان بھی مارے تو وہ شرعاً حرام ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ (۱)
تو ثابت ہوا کہ شرع اور رسم کا مدار بھی مجاہدہ و ریاضت پر ہے۔
پھر حضور سید یوم النشور ﷺ نے باوجود حصولِ قرب اور وصلِ مطلوب کے اور عاقبت کی طرف سے بے فکر کیے جانے کے اور عصمت و پاک دامنی محقق ہوتے ہوئے، دن بھر کی عبادتیں اور راتوں کی شب بیداریاں اس قدر زیادہ کیں جو مجاہدہ سے بھی آگے بڑھ گئیں۔ حتیٰ کہ قرآن کریم میں حکمِ باری تعالیٰ نازل ہوا: ﴿مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی﴾ (۲) "اے محبوب ہم نے تم پر قرآن پاک اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ آپ کو اس قدر مشقت میں ڈال دیں۔"
(نکتۂ عجیبہ) "طٰہٰ" میں ط اور ہ جو ہے اس کے عدد باعتبارِ اعدادِ ابجد چودہ ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ط کے عدد ۹ ہوتے ہیں اور ہ کے عدد پانچ۔ دونوں کو جمع کرنے سے ۱۴ کا عدد حاصل ہوتا ہے اور چودھویں رات کا چاند چونکہ کامل ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ پاک ﷺ کو اپنے کرمِ خاص سے فرمایا: اے ہمارے ماہِ کامل! ہم نے یہ قرآن تجھ پر مشقت بڑھانے کے لیے نازل نہیں فرمایا۔ (از مترجم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنابِ سرورِ عالم ﷺ تعمیرِ مسجد کے وقت پتھر اٹھا رہے تھے اور میں دیکھ رہا تھا کہ اس میں حضور ﷺ کو تکلیف ہو رہی ہے۔ میں نے عرض کی: حضور یہ خدمت میرے سپرد فرمایئے تاکہ حضور کی جگہ یہ کام میں کروں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: خُذْ غَیْرَهَا فَاِنَّهٗ لَا عَیْشَ اِلَّا عَیْشُ الْاٰخِرَةِ۔ (۳) "تم اور پتھر اٹھاؤ اس لیے کہ آرام دنیا کا کچھ نہیں، آرام تو آخرت کا ہے۔" اور یہ مقامِ مشقت و ریاضت ہے۔
اور حبان بن خارجہ راوی ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ غزوہ یعنی جہاد کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا:
۱۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے: قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ۔ "فرما دیجیے کہ حلال کی گئیں تمہارے لیے پاک چیزیں اور جو شکاری جانور تم نے سدھا لیے ہوں، انہیں شکار پر دوڑاتے ہو جو تمہیں علم خدا نے دیا ہے۔" (از مترجم) ۲۔ سورۃ طٰہٰ: ۲ ۳۔ امام سخاوی نے اسے المقاصد الحسنہ (ص: ۹۱، حدیث: ۱۷۷) میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے بیان فرمایا ہے۔
"اپنے نفس کے ساتھ جہاد شروع کر اور پھر اپنے نفس سے ہی جنگ کر، اس لیے کہ اگر تو نے اسے قتل کر لیا، بھاگتے ہوئے تو اللہ تجھے بروزِ قیامت اس کے بھگانے والوں میں اُٹھائے گا اور اگر تو نے اُسے قتل کیا دکھلاوے کے لیے تو اللہ تجھے نفس کی نگرانی کرنے والوں میں اُٹھائے گا اور اگر تو نے اُسے قتل کیا صبر کر کے آخرت کے اجر کی امید پر، تو اللہ تجھے قیامت کے روز صابر و محتسب اُٹھائے گا۔"
غرضیکہ جس قدر الفاظ و عبارات میں مجاہدہ کی تعریف کی گنجائش ہے اسی قدر مجاہدات کا اثر اصولِ تصوف میں ہے۔ جس طرح کہ یہاں عبارات اور تالیف بغیر تفریح کے مفید نہیں، ویسے ہی اصولِ تصوف میں مجاہدہ بغیر کسی قسم کا عمل درست نہیں اور جو اس کے سوا دعویٰ کرے وہ خاطی ہے۔ اس لیے کہ جہان اور اس کے حدوث کا ثبوت اس کے خالق کی معرفت پر دلیل ہے اور معرفتِ نفس اور اس سے مجاہدہ معرفتِ خدا کے لیے اصل الاصول ہے۔
اور وہ دوسری جماعت جو مجاہدہ کو سببِ تقربِ درِعرفان نہیں مانتی اس کی یہ دلیل ہے کہ یہ آیتِ کریمہ باعتبارِ تفسیر مقدم مؤخر ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ﴿وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾ (۱) اس کی تفسیریں ہے: وَالَّذِیْنَ هَدَیْنَا لَهُمْ سُبُلَنَا جَاهَدُوْا فِیْنَا۔ "جنہوں نے ہماری راہ میں مجاہدہ کیا، ہم نے انہیں اپنی راہ دکھا دی۔" یعنی جنہیں ہم نے راہ دکھائی، انہوں نے ہماری راہ میں مجاہدہ کیا۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا: لَنْ یَّنْجُوَ اَحَدُكُمْ بِعَمَلِهٖ۔ (۲) "کوئی تم سے
۱۔ سورۃ العنکبوت: ۶۹
۲۔ امام بخاری نے اسے اپنی صحیح (۷/۱۵۷) (کتاب المرضیٰ) میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَا یَدْخُلُ اَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، قَالُوْا: وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ قَالَ: وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰهُ بِفَضْلِهٖ وَرَحْمَتِهٖ، فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَلَا یَتَمَنَّیَنَّ اَحَدٌ كُمُ الْمَوْتَ اِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهٗ اَنْ یَزْدَادَ خَیْرًا، وَاِمَّا مُسِیْئًا فَلَعَلَّهٗ اَنْ یَسْتَعْتِبَ۔ اور اسی طرح امام بخاری ہی نے اپنی صحیح (۸/۱۲۳) (کتاب الرقاق) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے طریق سے (بقیہ حوالہ اگلے صفحہ پر)
صفحہ۳۶۷
اپنے عملوں کے بدلے نجات نہیں پا سکتا۔" قِیْلَ: وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ عرض کیا گیا اور حضور آپ بھی؟
قَالَ: وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰهُ بِرَحْمَتِهٖ۔ فرمایا ہاں! اور میں بھی نجات نہیں پا سکتا مگر یہ کہ اللہ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے۔ (۱)
تو معلوم ہوا کہ مجاہدہ و ریاضت بندہ کا فعل ہے اور یہ محال ہے کہ بندہ کا فعل بندہ کی نجات کا سبب ہو۔ تو بندہ کی خلاصی اور نجات ارادتِ اللہ سے متعلق ہے نہ کہ مجاہدہ سے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ۚ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا﴾ (۲) "جس کے ساتھ اللہ ارادہ فرمائے ہدایت کا، تو اس کا سینہ کھول دیتا ہے اسلام کے نور کی طرف اور جس کے ساتھ اللہ ارادہ فرمائے گمراہ کرنے کا، اس کا سینہ تنگ فرما دیتا ہے اور شکوک کی طرف مائل کر دیتا ہے۔" اور یہ بھی فرمایا: ﴿تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ﴾
(بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ سے) روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاَبْشِرُوْا، فَاِنَّهٗ لَا یُدْخِلُ اَحَدًا الْجَنَّةَ عَمَلُهٗ، قَالُوْا: وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ۔ اور امام مسلم نے اپنی صحیح (۴/۲۱۶۹) (کتاب صفات المنافقین و احکامہم: باب لن یدخل احد الجنۃ بعملہ) میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے اسی حدیث کو مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اسی طرح ابن ماجہ نے اپنی سنن (کتاب الزہد: باب التوقی علی العمل، ۲/۱۴۰۵، حدیث: ۴۲۱۰) میں روایت کیا ہے اور اس کے حسن اسناد ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اسی طرح امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں، امام دارمی نے اپنی سنن (۲/۳۰۵) میں حضرت جابر سے روایت کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں حضرت ابو ہریرہ، حضرت ابو سعید خدری، حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے متقارب معنی الفاظ کے ساتھ اور تھوڑے اضافہ کے ساتھ پچیس مرتبہ روایت کیا ہے۔ حوالہ کے لیے: مسند الامام احمد بن حنبل (۲/۲۳۳، ۲۵۶، ۲۶۴، ۲۵۴) اور الرسالۃ القشیریہ (ص: ۳۲)۔
۱۔ یعنی کوئی نبی درجاتِ نبوت بغیر معصوم نہیں اور منصبِ نبوت اللہ تعالیٰ کا سایۂ رحمت ہے اور یہ سایہ ہر نبی پر چھایا ہوا ہے۔ بالخصوص حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس ہر لحہ اپنا سایۂ رحمت ہے کہ ذاتِ اقدس مجسم رحمۃ للعالمین ہے۔ از مترجم
۲۔ سورۃ الانعام: ۱۲۵
صفحہ۳۶۸
وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ۔ (۱) "جس کو اللہ چاہے ملکِ ایمان عطا فرمائے اور جس سے چاہے مملکتِ ایمانی سلب فرمائے۔" ان آیات سے اپنے ارادہ کے مقابلے میں مخلوق کے ارادہ اور مجاہدہ کی نفی فرمائی ہے۔ تو گویا اگر مجاہدہ ہی حصول اور قربِ ذات کی علت ہوتا تو شیطان بڑا امرِ مردود نہ ہوتا اور اگر مجاہدہ قربِ الٰہی سے ردّ ہونے کی علت ہوتا تو آدم علیہ السلام ہرگز مقبول و مصطفیٰ نہ ہوتے۔
تو ہر معاملہ مسابقتِ الٰہیہ پر موقوف ہے نہ کہ کثرتِ مجاہدہ پر۔ جو زیادہ زہد و ریاضت کرنے والا ہے وہ مامونِ غضبِ جبار نہیں بلکہ جو مستحقِ عنایاتِ الٰہی ہے، وہی نزدیک تر ہے ذاتِ حقہ سے۔
ایک صومعہ میں مقرونِ اطاعت ہے مگر قربِ حق سے بعید و مردود ہے اور ایک رندِ خراباتی، مرتکبِ معاصی ہے، مگر ذاتِ حق سے نزدیک ہے۔ تو اب سب سے بہترین پہلو یہ ہے کہ جس کا ایمان قوی ہے وہی مقرب ہے اور بس۔ جولڑکا مکلفِ باحکام نہیں اس پر حکمِ ایمان کا ہے اور ایک شخص مجنوں ہے لیکن مجنون ہونا اس کے ایمان کے خلاف نہیں۔ اس پر بھی حکمِ ایمان کا ہوگا۔ تو سب سے بڑی چیز عطاءِ الٰہی ہے اور مجاہدہ و ریاضت ہرگز علتِ نجات و تقرب نہیں۔
اور میں (حضرت داتا گنج بخش علی بن عثمان الجلابی رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ یہ سب چیزیں جو مذکور ہوئیں عبارت میں تو ٹھیک ہیں لیکن حقیقتِ معنی اس کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ ایک کہتا ہے: مَنْ طَلَبَ وَجَدَ۔ "جو طلب کرتا ہے پالیتا ہے۔" دوسرا کہتا ہے: مَنْ وَجَدَ طَلَبَ "جو پالیتا ہے وہ طالب ہو جاتا ہے۔" تو کہیں پانا سببِ طلب کا ہے۔ کہیں طلب کرنا سببِ پانے کا کہا جاتا ہے۔ تو گویا ایک کے نزدیک مجاہدہ کرنے سے مشاہدہ ہوتا ہے۔ ایک کے نزدیک مشاہدہ کے بعد مجاہدہ کیا جاتا ہے۔
اور ان سب باتوں کی حقیقت یہ ہے کہ مجاہدہ، مشاہدہ میں بجائے توفیقِ اطاعت کے ہے اور وہ محض عطاءِ الٰہی ہے۔ تو جب حصولِ طاعت بے توفیقِ الٰہی محال ہے تو توفیق بھی بغیر اطاعت محال ہوگی۔ اور جب مشاہدہ بلا مجاہدہ موجود نہیں تو بے مجاہدہ مشاہدہ بھی محال ہوگا۔
تو ہر معاملہ میں لمعاتِ جمالِ جمیل کی ضرورت ہے تاکہ بندہ کو مجاہدہ کی راہنمائی ہو تو جب علتِ وجودِ مجاہدہ اس لمحہ کی تابانی کو ظاہر کر دے تو ہدایتِ حق مسابقت کرے گی مجاہدہ پر۔ لیکن جو جماعتِ سہل یہ حجت پیش کر رہی ہے کہ جو مجاہدہ کو سببِ مشاہدہ نہیں مانتا وہ جملہ انبیاء کرام و کتب و احکام و شرائع کا منکر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تکلیف کا دار و مدار مجاہدہ پر رکھتی ہے۔ بہتر یہ تھا کہ
۱۔ سورۃ آل عمران: ۲۶
صفحہ۳۶۹
وہ تکلیف کا دار و مدار ہدایتِ حق پر رکھتی۔ اس لیے کہ ثبوتِ حجت کے لیے ہے نہ کہ حقیقتِ وصل کے واسطے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰی وَحَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ﴾ (۱) "اگر ہم فرشتوں کو ان کی طرف نازل فرمائیں اور مردے ان سے کلام کر لیں اور قبروں سے نکل آئیں اور سب چیزیں ان پر ظاہر ہو جائیں تو جب تک اللہ نہ چاہے وہ ایمان نہ لائیں گے اور ان میں سے اکثر جاہل ہیں۔" کیونکہ علتِ ایمان ہماری مشیت ہے نہ کہ رویتِ دلائل اور ان کی کوشش۔ اور پھر فرمایا:
"وہ لوگ جو کافر ہیں، برابر ہے ان کے نزدیک اظہارِ حجت اور بیانِ دلائل ہوں قیامت اور ان سے اعراض اور ترکِ ہدایت ایمان والوں کے ساتھ وہ کبھی مومن نہ ہوں گے۔"
اس لیے کہ ان کے دلوں کو ہم نے مختوم بشقاوت کیا ہوا ہے۔
تو ورودِ انبیاء علیہم السلام اور نزولِ کتب اور ثبوتِ شرائع اسبابِ وصول الی اللہ ہیں نہ کہ علت وصول۔ اس لیے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکلف باحکام تھے جس قدر کہ ابو جہل۔ مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاف کی روشنی میں فضیلتِ خلافت پر پہنچ گئے اور ابو جہل جہالت کی تاریکی میں اس فضیلت سے محروم رہ گیا۔
تو وصول کی علت عینِ وصول ہے نہ وصول کی طلب۔ کیونکہ اگر طالب و مطلوب دونوں ایک ہوتے تو طالب واجد ہوتا اور جب طالب واجد ہوتا تو طالب نہ رہتا۔ اس لیے کہ رسیدہ آسودہ ہوتا ہے اور طالب پر آسودگی و آرام درست نہیں اور حضور ﷺ نے فرمایا: مَنِ اسْتَوٰی یَوْمَاهُ فَهُوَ مَغْبُوْنٌ۔ (۳) "جس کے دو روز مساوی گزریں وہ نقصان میں ہے۔" اس لیے کہ طالب کا ہر
۱۔ سورۃ الانعام: ۱۱۱ ۲۔ سورۃ البقرہ: ۶
۳۔ اسے امام سخاوی نے "المقاصد الحسنۃ" (ص: ۳۰۲، حدیث: ۱۰۸۰) میں، امام عجلونی نے "کشف الخفاء" (۲/۳۲۳، حدیث: ۲۴۰۶) میں، امام سیوطی نے "الدرر المنتثرۃ" (۳۷۷) میں، امام غزالی نے "احیاء علوم الدین" (۳/۳۲۶) میں اور امام زبیدی نے "اتحاف السادۃ المتقین" (۷/۱، ۵۰، ۵/۷۹، ۹/۲۲۸، ۶۲۸، ۱۰/۳۳۹) میں نقل کیا ہے۔ ملا علی قاری نے "الاسرار المرفوعہ" (۸۶۴) میں اس کے متعلق سوائے عبد العزیز بن رواد کے خواب کے کچھ معلوم نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے خواب ہی میں مجھے اس کے بارے میں نصیحت کی اور آخر میں ان الفاظ کا اضافہ کیا: وَمَنْ لَمْ یَكُنْ فِیْ زِیَادَةٍ فَهُوَ فِیْ نُقْصَانٍ۔ اسے امام بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔ (بقیہ حوالہ اگلے صفحہ پر)
صفحہ۳۷۰
روز اوّل روز سے بہتر ہونا چاہیے۔ اور یہ درجہ طالبان کا طغریٰ امتیاز ہے۔ پھر ارشاد فرمایا:
اِسْتَقِیْمُوْا وَلَنْ تُحْصُوْا۔ (۱)
"استقامت حاصل کرو مگر ایک حال پر۔"
نہ ہو تو مجاہدات کو سبب تو فرما دیا (مگر علت نہ بتایا) اور سبب کو تحقیقِ الٰہیہ کی وصولی سے الگ کیا اور جو یہ کہتے ہیں کہ ہم گھوڑے کو ریاضتِ مجاہدہ سے دوسری صفت کی طرف پھیر لیتے ہیں، اس کے متعلق یہ اچھی طرح یاد رکھو کہ گھوڑے میں ایک پوشیدہ صفتِ اطاعت و فرمانبرداری کی ہوتی ہے۔ اس کے ظاہر کرنے کے لیے ریاضت سبب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھوڑا بغیر پھرائے اور ریاضت کرائے اپنی صفتِ باطنی کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔
لیکن گدھے میں یہ صفت نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ کسی ریاضت سے گھوڑا نہیں بن سکتا اور ریاضت سے گھوڑے کو گدھا نہیں بنا سکتے اس لیے کہ اگر ایسا ہو جائے تو ذات کا بدلنا مجاہدہ سے لازم آتا ہے۔
تو جو چیز عینِ ذات کو بدلنے پر قادر نہیں وہ حضورِ حق تعالیٰ میں اپنا اثر نہیں دکھا سکتی۔
(بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ سے) خطیب بغدادی نے "الفقیہ والمتفقہ" (ص: ۱۱۲) میں اسے سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اخبرنا ابن رزاق محمد بن احمد قال نا عثمان بن احمد، نا محمد بن احمد ابن البراء، نا داؤد بن رشید، نا الولید بن صالح، عن رجل قال: رایت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی النوم فقال لی: من استوی یوماہ فھو مغبون، ومن لم یعرف النقصان من نفسہ فھو الی النقصان ومن کان الی النقصان فالموت خیر لہ۔ امام سخاوی نے "المقاصد الحسنہ" میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: مَنِ اسْتَوٰی یَوْمَاهُ فَهُوَ مَغْبُوْنٌ، وَمَنْ كَانَ اٰخِرُ یَوْمَیْهِ شَرًّا فَهُوَ مَلْعُوْنٌ، وَمَنْ لَمْ یَكُنْ فِی الزِّیَادَةِ فَهُوَ فِی النُّقْصَانِ، وَمَنْ كَانَ فِی النُّقْصَانِ فَالْمَوْتُ خَیْرٌ لَهٗ، وَمَنِ اشْتَاقَ اِلَی الْجَنَّةِ سَارَعَ فِی الْخَیْرَاتِ، وَمَنْ اَشْفَقَ مِنَ النَّارِ لَهَا عَنِ الشَّهَوَاتِ، وَمَنْ تَرَقَّبَ الْمَوْتَ هَانَتْ عَلَیْهِ اللَّذَّاتُ، وَمَنْ زَهِدَ فِی الدُّنْیَا هَانَتْ عَلَیْهِ الْمُصِیْبَاتُ۔ امام دیلمی نے بطریق محمد بن صوقہ، حارث بن عبد اللہ الہمدانی الاعور سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
۱۔ یہ امام احمد بن حنبل اور امام حاکم کی روایت کا ایک حصہ ہے۔ مکمل حدیث یوں ہے: اِسْتَقِیْمُوْا وَلَنْ تُحْصُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ خَیْرَ اَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ وَلَا یُحَافِظُ عَلَی الْوُضُوءِ اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ حوالہ کے لیے دیکھیں: مسند الامام احمد بن حنبل (۵/۲۷۷، ۲۸۲)، المستدرک للحاکم (۱/۳۰)، کنز العمال (۳/۵۹، حدیث نمبر ۵۴۷۴)، شعب الایمان للبیہقی (۲۸)۔
صفحہ۳۷۱
حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ پر مجاہدہ اتنا وارد تھا کہ وہ اس سے آزاد تھے اور ان کی ذات سے اس کا بیان منقطع تھا۔ یعنی وہ خالص مجاہد تھے نہ لَسَّان یعنی زبانی خرچ کرنے والے۔ وہ اس گروہ کی طرح نہ تھے جس نے بغیر عمل اس عبادت کو مذہب بنا لیا اور یہ امر بھی محال ہے کہ عمل و اعتقاد صرف بیان پر موقوف ہو جائیں۔
مختصر یہ ہے کہ اہلِ طریقت کے لیے بالاتفاق مجاہدہ اور ریاضت لازمی ہیں لیکن مجاہدہ میں رویتِ مجاہدہ آفت ہے۔ تو جو مجاہدہ کی نفی کر رہا ہے اس سے عینِ مجاہدہ مراد نہیں ہے بلکہ رویتِ مجاہدہ مراد ہے تاکہ عجب و نخوت نہ پیدا ہو، اپنے عمل سے محلِ قدس میں۔ کیونکہ مجاہدہ فعلِ عبد ہے اور مشاہدہ کا وصول فعلِ معبود ہے۔ تو جب تک خداءِ عزّ اسمہٗ کا وصل نہ ہو، فعلِ عبد کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ خدا کی قسم! ایک دن تُو خود انصاف سے کہے گا کہ باایں آراستگی و مشاطگی کے تو نے فضلِ حق نہ پایا اور اس پر تو اس قدر اپنے عمل کی تعلّی مار رہا ہے۔
تو خلاصہ یہ نکلا کہ اعمال و افعال محبوبانِ افعالِ الٰہی ہوتے ہیں اور خود اس میں محض بے اختیار ہیں۔ صرف گزارش اور قہر بر نفس ان کا ہے اور گزارش تمام کی تمام نوازش ہے اور غافلوں کا مجاہدہ غافلوں کا ہر فعل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افعال و اعمال میں بوجہ ان کے اختیار کے تشویش و پریشانی اور پراگندہ ولی ہوتی ہے اور پراگندہ دلی کی آفت ان پر استیلا کرتی ہے۔
تو جہاں تک ہو سکے اپنے عمل کو اپنا فعل نہ بنا اور کسی حالت میں اتباعِ نفس و ہوئی نہ کر۔ اس لیے کہ تیرا وجود تیرے لیے ایسا حجاب ہے کہ اگر ایک فعل سے محجوب ہوگا تو دوسری طرف کے فعل سے اٹھ جائے گا تو پھر جب تیرا تمام وجود ہی حجاب ہے تو جب تک کلیۃً فنا نہ ہو، شائبۂ بقا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ لِاَنَّ النَّفْسَ كَلْبٌ بَاغٍ وَجِلْدُ الْكَلْبِ لَا یَطْهُرُ اِلَّا بِالدِّبَاغِ۔ (۱) "اس لیے کہ نفس ایک سرکش کتا ہے اور کتے کی جلد بغیر دباغت اور رنگائی کے پاک نہیں ہوتی۔"
ایک حکایت میں ہے کہ حضرت حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ کوفہ میں محمد بن حسین علوی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر جا کر اترے، اور حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بھی کوفہ تشریف لائے۔ جب انہیں حضرت حسین بن منصور رحمۃ اللہ علیہ کی خبر پہنچی، خدمت میں تشریف لائے۔ حضرت منصور نے فرمایا: ابراہیم! آپ کو اس کوچۂ طریقت میں رہتے ہوئے چالیس سال گزر گئے، اس میں آپ نے کیا چیز ایسی پائی جسے بالخصوص تسلیم کیا جائے۔ عرض کی: حضرت! مجھے تو سب سے بڑی چیز توکل نظر
۱۔ جیسا کہ حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں (از مترجم غفرلہٗ): حجابِ چہرۂ جاں می شود غبارِ تنم ۔ خوشا دمے کہ ازیں چہرہ پردہ برفگنم
"ابراہیم نے اپنی عمر باطن کی طرف سے ضائع کی، توحید میں فنا ہونا کب ہوگا۔"
یعنی توکل ایک عمل ہے جو اپنی طرف سے اپنے ربّ کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کی محبت کے ساتھ پردۂ غیب سے ظہور میں آئے، اس پر بھروسہ رکھنا۔ تو جب تمام عمر معالجتِ باطنی میں گزار دی تو اب وہ ایک دوسری عمر کی ضرورت ہے جس میں علاج ظاہر کیا جائے۔ اس لیے کہ اس طرزِ عمل میں تو تقربِ حق کے بعد بھی حاصل نہیں ہوتی۔
حضرت شیخ ابو علی سیاہ مروزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے نفس کو دیکھا، اپنی صورت کے مماثل کہ کسی نے اس کے بال پکڑ رکھے ہیں۔ جب میں نے اُسے دیکھا تو اس شخص نے وہ بال میرے ہاتھ میں دے دیے۔ میں نے اسے درخت سے باندھ کر مارنے کا عزم کیا تو نفس مجھ سے بولا: اے ابو علی! محنت نہ کرو، میں شکرِ الٰہی سے ہوں، تم مجھے مٹا نہیں سکتے۔
حضرت محمد بن علیان نسوی سے مروی ہے، یہ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے مصاحبوں میں سے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مجھے ابتداء میں ہی آفاتِ نفس پر آگاہی ہو چکی تھی اور میں نے اپنے کنجِ قلب میں اس کی کمین گاہ معلوم کر لی تھی۔ مجھے اس سے سخت دشمنی تھی۔ ایک دن بلی کی صورت میں کوئی چیز میرے حلق سے نکلی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی شناخت کرائی۔ میں نے جانا کہ یہ نفس ہے۔ میں نے اُسے زمین پر ڈال کر لاتوں سے روندنا شروع کر دیا۔ مگر جوں جوں میں اُسے لاتیں مارتا تھا توں توں وہ بڑھتا جاتا تھا۔ میں نے کہا: اوخبیث! ہر چیز مار پیٹ سے گھٹتی ہے تو کس لیے بڑھ رہا ہے۔ نفس بولا: حضرت! میری آفرینش مخلوق کے برعکس ہے۔ جو چیزیں آپ کے لیے رنج دہ ہیں میرے لیے وہ موجبِ راحت ہیں اور جو چیزیں آپ کے لیے سببِ راحت ہیں میرے لیے موجبِ رنج ہیں۔
حضرت ابو الحسن شقانی رحمۃ اللہ علیہ امامِ وقت گزرے ہیں۔ فرماتے ہیں: میں ایک رات اپنے گھر آیا۔ ایک چھوٹا سا کتا زرد نظر آیا کہ ایک جگہ سو رہا ہے۔ میں سمجھا کہ محلہ میں سے کسی طرح یہاں آ کر سو گیا ہے۔ میں نے اُسے نکالنا چاہا تو وہ میرے دامن کے نیچے آیا اور غائب ہو گیا۔ حضرت ابو القاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ جو آج کے دن قطبِ مدار ہیں اَبْقَاهُ اللّٰهُ تَعَالٰی،
صفحہ۳۷۳
وہ اپنے ابتدائی حالات سناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے نفس کو سانپ کی شکل میں دیکھا۔
ایک اور بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے نفس کو چوہے کی صورت میں دیکھا۔ میں نے کہا: تو کون ہے؟ کہنے لگا میں غافلوں کی ہلاکت ہوں۔ اس لیے کہ برائی کی طرف بلانے والا اور شر و سوء کا داعی میں ہوں اور محبوبانِ خدا کے حق میں نجات ہوں، اس لیے کہ میرا وجود آفت ہے۔ اگر میں محبوبانِ خاص کے ساتھ نہ ہوتا تو وہ اپنی پاک بازی پر مغرور ہو جاتے اور اپنے اعمال پر تکبر کرتے کیونکہ جب وہ دلوں کی پاکی اور اسرار کی صفائی اور ولایت کے انوار اور اطاعت پر استقامت دیکھتے ہیں تو ان کے تمام عیوب فنا ہو جاتے ہیں اور وہ ہر عیب سے پاک ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام باتیں اس امر پر دلیل ہیں کہ نفس ایک عین ہے نہ کہ صفت اور اس نفس کے لیے صفت علیحدہ ہے اور ہم صرف نفس کی صفتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
"تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا نفس ہے جو تیرے پہلو میں ہے۔"
تو جب معرفتِ نفس حاصل ہو گئی تو سمجھ لے کہ اب اسے ریاضت و مجاہدہ سے اپنے قبضہ میں لا سکے گا۔ لیکن نفس کا مایہ اور اس کی اصل نابود نہیں ہو سکتی۔ لیکن جب نفس کی شناخت صحیح ہو جاتی ہے، تو طالبِ حق کو اس کے باقی رہنے سے خوف نہیں ہوتا۔ لِاَنَّ النَّفْسَ كَلْبٌ نَبَّاحٌ وَاِمْسَاكُ الْكَلْبِ بَعْدَ الرِّیَاضَةِ مُبَاحٌ۔ "اس لیے کہ نفس ایک بھونکنے والا کتا ہے اور ریاضت و اصلاح کے بعد کتے کا باندھ رکھنا مباح ہے۔" تو مجاہداتِ نفس فناءِ اوصافِ نفس کے لیے ہیں، نہ کہ اس کے عیب کو فنا کرنے کے لیے۔
اگرچہ مشائخ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بحث میں بہت کچھ فرمایا ہے لیکن بخوفِ طوالتِ کتاب اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اب حقیقتِ ہوٰی اور ترکِ شہوات میں بیان شروع کرتے ہیں۔
حقیقتِ ہوٰی
قارئین! اللہ تمہیں عزت عطا فرمائے۔ اچھی طرح سمجھ لو کہ ہوا ایک جماعت کے نزدیک اوصافِ نفس میں ایک صفت کا نام ہے اور ایک گروہ کے نزدیک ہوٰی اس ارادہ کا نام ہے جو نفس
۱۔ اسے امام بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے طریق سے کتاب الزہد میں اور امام غزالی نے احیاء علوم الدین (۳/۴، ۱۱۴) میں روایت کیا ہے۔
صفحہ۳۷۴
میں مدبر اور متصرف ہے، جیسے عقل روح سے اور ہر وہ روح جس میں عقل سے کوئی قوت نہ ہو وہ ناقص ہے اور ہر وہ نفس کہ اس میں ہوٰی کا کوئی قوہ نہ ہو وہ بھی ناقص ہے۔
تو نقصِ روح قربت ہے اور نقصِ نفس عینِ قربت، اور ہمیشہ ہر بندہ کے لیے عقل اور ہوٰی کی طرف سے دعوت رہتی ہے۔ لیکن جو عقل کی دعوت کا پیرو ہو وہ ایمان حاصل کر لیتا ہے اور جو ہوٰی کی دعوت قبول کرے وہ گمراہی اور کفر پر ہو گیا۔ تو ہوٰی واصلین کے لیے حجاب ہے اور مخذولوں، نامردوں کے حق میں ان کا ملجا و ماویٰ ہے۔
طالب اس جگہ سے ہمیشہ اعراض کرتے ہیں اور بندہ مخالفتِ نفس پر مامور ہے اور خواہشاتِ نفس کا مرتکب مجرم ہے۔ لِاَنَّ مَنْ رَكِبَهَا هَلَكَ وَمَنْ خَالَفَهَا مَلَكَ۔ "اس لیے کہ جو نفس کی پیروی پر لنگ گیا ہلاک ہو گیا اور جس نے اس کے خلاف کیا وہ ملکی صفات کو پہنچ گیا۔" جیسا کہ حضرت ربّ العزت جل مجدہٗ نے فرمایا: ﴿وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰی﴾ (۱) "جو اپنے ربّ کے سامنے کھڑے ہونے سے خائف رہا اور نفس کو اس کی خواہش و ہوٰی سے منع کرتا رہا" ﴿فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰی﴾ (۲) "اس کے لیے جنت آرام گاہ ہے۔" حضور ﷺ نے فرمایا: اَخْوَفُ مَا اَخَافُ عَلٰی اُمَّتِیْ اِتِّبَاعُ الْهَوٰی وَطُوْلُ الْاَمَلِ۔ (۳) "میری امت پر سب سے زیادہ خوفناک امر اتباعِ ہوٰی و حرص اور امید طویل ہے۔"
اور حضرت سید المفسرین ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ﴿اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ﴾ (۴) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: رَاَی الْهَوٰی اِلٰهًا مَعْبُوْدًا "یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا اس کو جس نے اپنی خواہشِ نفس اور ہوٰی و حرص کو معبود پکڑا۔" یعنی وہ شخص جس کا خدا اور معبود ہوٰی ہے اور شب و روز اس کی ہمتیں اپنی ہوٰی کے پورا کرنے میں صرف ہو رہی ہیں ان پر صرف افسوس ہے۔ اور ہوٰی کی دو قسمیں ہیں: ایک ہوائے لذت و شہوت، دوسری ہوائے جاہِ خلق و ریاست۔
وہ شخص جو متبعِ ہوائے لذات و شہوات ہے وہ مشغلِ خرابات کے لیے شراب خوری اور قمار خانہ میں ہے۔ اس سے مخلوق ہر قسم کے فتنہ کی طرف سے مامون ہے اور وہ جو تجمعِ جاہ و ریاست ہے
۱۔ سورۃ النازعات: ۴۰ ۲۔ سورۃ النازعات: ۴۱ ۳۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ کیجیے: العلل المتناہیہ (۲/۳۲۸، ۳۲۹)، فتح الباری (۱۱/۲۳۲)، صحیح البخاری (۸/۱۱۰) (باب الرقاق)، مشکاۃ المصابیح (ص: ۴۴۳)، تخریج احیاء العلوم للعراقی (۴/۳۵۳)، سراج الطالبین للکدیری (۱/۳۲۷)، نہج البلاغہ (۱/۷۲) (شرح محمد عبدہ)۔ ۴۔ سورۃ الجاثیہ: ۲۳
صفحہ۳۷۵
وہ صوامع اور دیر میں عزلت نشینی کرتا ہے۔ اس کا فتنۂ خلق لازمی ہے کہ اپنے کو راہِ ہدایت سے گرا کر خلق کو گمراہ راستہ پر بلا رہا ہے۔ فَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ مُتَابَعَةِ الْهَوٰی۔ تو جس کی تمام حرکات میں حرص و ہوٰی اور اتباعِ ہوٰی اُس کی عینِ رضا ہے، وہ خواہ آسمان پر ہی کیوں نہ پرواز کرے تقربِ حق سے بعید و محروم رہے گا ☆ اور وہ جس کو ہوئی و حرص سے برأت ہو اور اس کی اتباع سے اعراض، وہ اگرچہ بت خانہ میں کیوں نہ ہو مقربِ بحق تعالیٰ ہوگا۔
حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ روم میں ایک راہب ستر سال سے رہبانیت میں گرجا گھر کے اندر بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ تعجب ہے کہ رہبانیت کی انتہائی مدت چالیس سال ہے، یہ کس لیے ستر سال سے اس گرجا میں پڑا ہوا ہے۔ میں نے اس سے ملنے کا ارادہ کیا۔ جب اس کے پاس پہنچا تو اس نے دریچہ کھول کر مجھ سے کہا: "ابراہیم! مجھے معلوم ہے، جس کام کے لیے تم میرے پاس آئے ہو۔ میں ستر سال سے اس جگہ رہبانیت کے لیے نہیں بیٹھا ہوں بلکہ میرے پاس ایک کتا ہے جو حرص و ہوٰی سے شوریدہ ہے۔ میں اس جگہ اس لیے بیٹھا ہوں کہ اس کتے کی نگہبانی کروں اور اس کے شر سے لوگوں کو دور رکھوں۔ ورنہ میں وہ نہیں جو تمہارا اتنا بڑا اعتراض اپنے اوپر آنے دیتا۔"
جب میں نے اس سے یہ بات سنی تو میں نے بارگاہِ والٰہی میں عرض کی کہ مولا تو قادرِ علی الاطلاق ہے کہ اس راہب کو اس کی عینِ ضلالت میں طریقِ صواب و راست عطا فرمائے (۱) راہب مجھ سے کہنے لگا: ابراہیم! کب تک لوگوں کو ڈھونڈے گا، جا اپنے آپ کو تلاش کر، جب تو اپنے آپ کو پالے گا تو اسی کی نگرانی کر، کیونکہ ہر روز یہ ہوٰی کا کتا تن ساتھ بار لباسِ الوہیت پہن کر بندہ کو گمراہی کی طرف بلاتا ہے۔
اور یہ حقیقت واقعہ ہے کہ جب تک بندہ کے باطنِ قلب میں معصیت کی جرأت نہ ہو، ہوائے معصیت ظاہر نہیں ہوتی اور جب ہوائے عصیاں ظاہر ہو جاتی ہے تو شیطان اُسے اپنے جال میں لے کر انواع و اقسام کی دلآویز معصیت کی طرف لاتا ہے اور اس کے دل میں اپنی ظلمت کی تجلی کرتا ہے اور اسی کو وسواس کہتے ہیں۔
☆ بقول شخصے: ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔
۱۔ رہبانیت مذہبِ عیسوی میں تارکِ دنیا ہونے کو کہتے ہیں اور وہ ترکِ دنیا اتنے مبالغہ کا ہوتا ہے کہ اس کی ممانعت حضور ﷺ نے ہر مسلمان کو فرمائی اور حکم دیا: "لَا رَهْبَانِیَّةَ فِی الْاِسْلَامِ"۔ اسلام میں عیسائیوں کی سی ترکِ دنیا نہیں۔
صفحہ۳۷۶
تو ابتداءِ معصیت ہوٰی سے ہوتی ہے۔ وَالْبَادِیُ اَظْلَمُ "اور ابتدا کرنے والا بڑا ظالم ہے۔" اور اسی حقیقت کو فرمانِ الٰہی میں ظاہر کیا ہے، جب کہ ابلیس نے جنابِ باری میں عرض کی کہ اب میں تیرے بندوں کو اغوا کروں گا تو ارشاد ہوا: ﴿اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ﴾ (۱) "تجھے میرے خاص بندوں پر کچھ غلبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔" تو ثابت ہوا کہ شیطان درحقیقت نفس اور بندہ کی ہوٰی ہے۔
اس لیے سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا: مَا مِنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ غَلَبَهٗ الشَّیْطَانُ اِلَّا عُمَرُ فَاِنَّهٗ غُلِبَ شَیْطَانُهٗ۔ (۲) "تم میں سے کوئی نہیں مگر یقیناً شیطان اس پر غالب ہے مگر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہ وہ شیطان پر (یعنی اپنی ہوٰی پر) غالب ہیں۔"
تو یہ امر واضح ہے کہ ہوٰی و حرص اور شہوات ابنِ آدم کی طینت و سرشت میں داخل ہیں اور اس کی راحتِ جان ہو چکی ہیں۔ چنانچہ حضور سید یوم النشور ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: اَلْهَوٰی وَالشَّهْوَةُ مَعْجُوْنَتَانِ بِطِیْنَةِ ابْنِ اٰدَمَ۔ (۳) "حرص و ہوٰی اور شہوت، ابنِ آدم کی طینت میں گوندھی گئی ہے۔"
تو ہمیشہ یاد رکھو! ترکِ ہوئی بندہ کو امیر کرتی ہے اور اس کا اتباع اسیر بناتا ہے۔ جیسا کہ حضرت زلیخا نے اوّل ہوٰی کے اتباع کا ارتکاب کیا، امیر تھی، اسیر ہو گئی۔ یوسف علی نبینا و علیہ السلام نے ترکِ ہوٰی کیا، اسیر تھے، امیر ہو گئے۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا: مَا الْوُصْلُ؟ قَالَ تَرْكُ اِرْتِكَابِ الْهَوٰی۔ "وصل کیا ہے؟ کہا ہوٰی کے اختیار کرنے کی ترک۔" جو یہ چاہتا ہے کہ وہ وصلِ جمیل کے ساتھ اپنے کو معظم و اکرام بنائے وہ کیا کرے۔ فرمایا! اس سے کہہ دو
۱۔ سورۃ بنی اسرائیل: ۶۵
۲۔ یہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن اس کے ہم معنی روایات موجود ہیں۔ ان میں سے ایک وہ طویل حدیث ہے جو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: اِیْهًا یَا ابْنَ الْخَطَّابِ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِهٖ مَا لَقِیَكَ الشَّیْطَانُ سَالِكًا فَجًّا قَطُّ اِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّكَ۔ یہ بھی متفق علیہ روایت ہے اور حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے بھی ایک طویل حدیث ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: اِنَّ الشَّیْطَانَ لَیَخَافُ مِنْكَ یَا عُمَرُ۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وَاِنِّی لَاَنْظُرُ اِلٰی شَیَاطِیْنِ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ قَدْ فَرُّوْا مِنْ عُمَرَ (مشکاۃ المصابیح ۳/۱۷۰۳، ۱۷۰۵)۔
۳۔ امام سیوطی نے اسے "اللآلی المصنوعہ" (ص: ۲۶۶) میں بطریق ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ان الفاظ کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے: اَلْهَوٰی وَالْبَلَاءُ وَالشَّهْوَةُ مَعْجُوْنَةٌ بِطِیْنِ اٰدَمَ۔ مزید حوالہ کے لیے: العلل المتناہیہ لابن الجوزی (۳/۲۸۹)، تنزیہ الشریعہ (۲/۳۹۳)، میزان الاعتدال (۱/۹۰)۔
صفحہ۳۷۷
کہ ہوائے تن کی مخالفت کرے، اس لیے کہ پہاڑ کا ناخن سے کھود ڈالنا اس سے آسان ہے کہ مخالفتِ ہوٰی کرے۔
ایک حکایت میں ہے جو حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ ہوا پر اُڑ رہا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا یہ درجہ کس عمل کے بدلے میں پایا۔ بولا: میں نے حرص و ہوٰی کے راستے پر قدم نہ رکھا تو ہوا میں اُڑ رہا ہوں۔ حضرت محمد بن فضل بلخی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ فرمایا مجھے اس شخص پر تعجب ہے کہ جو متبعِ ہوٰی ہو کر جمالِ جمیل حاصل کر رہا ہو۔ (اگر وہ طالبِ جمیلِ حقیقی ہے تو) ہوا پر اپنا قدم کیوں نہیں رکھتا کہ مقصود تک پہنچے اور حاصل کرے۔
اور نفس کی زیادہ ظاہر جو صفت ہے وہ شہوت ہے، اور شہوت ان کی ایسی قوت دیدارِ یار حاصل کرے اور تمام حواس اس کے ساتھ ہیں اور بندہ ان کی نگہبانی پر مکلف ہے اور انسان ہر حس کے فعل کے ساتھ مسئول ہے۔
آنکھ کی شہوت دیکھنا ہے اور کان کی شہوت سننا اور جسم کی شہوت چھونا اور دل کی شہوت سوچنا تو طالب کے لیے لازم ہے کہ اپنی شہوات پر نگہبان اور حاکم ہو اور رات دن اسی کی نگرانی و نگہبانی میں گزارے تاکہ وہ دواعی ہوٰی جو حواس میں پیدا ہوتے ہیں ازخود منقطع ہو جائیں اور اپنے ربِّ حقیقی سے دست بدعا رہے کہ وہ تجھے ایسی صفت پر قائم کر دے کہ ایسے ارادے اور وساوس تیرے باطنِ قلب سے مدفوع ہو جائیں۔
اس لیے کہ جو شخص اس شہوت و ہوٰی کی دلدل میں پھنس گیا، وہ تمام وصال و جمال سے محجوب ہو گیا۔ تو اگر بندہ اس کو بتکلف اپنے سے دفع کرتا ہے تو اس کا رنج و محنت دراز ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ اجناسِ ہوائے و شہوت کا ورود متواتر جاری ہے۔ لیکن اس ارادہ اور اس طرح دفع کرنے کا جو طریقہ ہے وہ مسلّم و مقبول ہے اور بعد کامیابی ضرور مراد حاصل ہوتی ہے۔
حضرت ابو علی سیاہ مروزی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک حکایت ہے: فرماتے ہیں میں حمام میں گیا ہوا تھا اور سنت کے مطابق استرہ لے رہا تھا کہ دل میں خیال آیا کہ یہ عضوِ منبعِ شہوت ہے اور یہی تجھے آفتوں میں مبتلا رکھتا ہے، اسے اپنے آپ سے جدا کر دے تاکہ شہوات سے آزادی مل جائے کہ غیبی ندا آئی کہ اے ابو علی! ہماری ملکیت میں تصرف تو کرتے ہو لیکن ہماری موزوں کی ہوئی دنیاءِ جسم سے کسی عضو سے دوسرا اعضو اوئی ترنہیں ہے، ہماری عزت و جلال کی قسم! اگر تم نے یہ عضو اپنے سے جدا کر دیا تو تمہارے ہر بُنِ مُو میں اس موجودہ شہوت میں سوگنا شہوت اور ہوائے نفسانی رکھ دیں گے۔ اسی مضمون کی تائید میں کسی نے خوب کہا ہے:
(صفحہ 377 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 378 پر ہے۔)
ترجمہ: "اے حسان! چھوڑ اپنا احسان اور ترک کر اللہ تعالیٰ کی قوتِ باطن کے ساتھ اپنے باذنجانِ جسم کے تصرف کو۔"
غرضیکہ بندہ کو جسم کے خراب کرنے کی ولایت حاصل نہیں اور کسی قسم کے تصرف کا اُسے حق نہیں پہنچتا لیکن تبدیلیِ صفت میں بتوفیقِ الٰہی اُسے اختیار ہے اور وہ احکام کی تسلیم اور اپنی قوتِ ارادی سے بہتری حاصل کر سکتا ہے کہ یہ صفتیں کیسی ہیں۔
درحقیقت جب تسلیمِ امر کی توفیق ہو گئی، عصمت حاصل ہو گئی اور عصمتِ الٰہی بندہ کو حفظ اور فنا کے نزدیک تر کر دیتی ہے کہ یہ مجاہدہ ہے۔ لِاَنَّ نَفْیَ الذُّبَابِ بِالْمِکْنَسَةِ اَیْسَرُ مِنْ نَفْیِهَا بِالْمُذَبَّةِ۔ "یعنی مکھی کو جھاڑو سے دور کر دینا آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ اُسے اشارے سے دور کریں جو مکھی بیٹھنے کے وقت اشارہ کرتا ہے۔" تو محافظتِ حق تمام آفات کو زائل کرنے والی اور تمام علتوں کو دفع کرنے والی ہے اور بندہ کو اس کے ساتھ کسی صفت میں مشارکت نہیں سوائے اس کے کہ بندہ کو جتنا اختیار و تصرف عطا فرمایا ہے وہ ظاہر ہے مگر اس کی ملکیت میں تصرف نہیں۔ جب تک اس کی تقدیر میں عصمتِ حق نہ ہو بندہ اپنی کوشش سے کسی مقدر سے بچ نہیں سکتا۔ اس لیے کہ کوشش بعطاءِ قوۂ الٰہی کوشش ہے۔ یعنی جب تک من جانبِ اللہ بندہ کو قوہ عطا نہ ہو، کوئی کوشش اُسے سودمند نہیں اور قوتِ طاعت کوشش سے حاصل ہونے کی بجائے ساقط ہو جاتی ہے اور ہر قسم کی کوشش وقوت دو جگہ کوئی حیثیت رکھتی ہیں: یا تو اتنی کوشش و جہد کرے کہ تقدیرِ الٰہی اس کے لیے بدل جائے یا خود تقدیرِ الٰہی کے خلاف کسی قوت کو حاصل کرے اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں ناممکن ہیں۔ یعنی کوشش سے تغیرِ تقدیر ہرگز نہیں ہو سکتا اور کوئی کام بغیر تقدیر کے وجود میں نہیں آ سکتا۔
اس کی تائید میں ایک واقعہ ہے کہ شبلی رحمۃ اللہ علیہ بیمار ہو گئے۔ آپ کی خدمت میں طبیب حاضر ہوا۔ عرض کرنے لگا: حضور پرہیز کریں۔ آپ نے فرمایا: کس چیز سے پرہیز کروں؟ اس سے جو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے روزی میں مقدر فرما دیا ہے، یا اس سے جو میرے لیے مقسوم ہی نہیں ہے۔ تو اگر اس سے پرہیز کرانا چاہتا ہے جو میری قسمت میں مقدر ہے تو اس کی قوت مجھ میں نہیں اور اگر اس سے پرہیز کرانا چاہتا ہے جو میرے لیے روزی میں مقسوم نہیں تو وہ مجھے پہلے ہی نہیں مل سکتی۔ لِاَنَّ الْمُشَاهِدَ لَا یُجَاهِدُ۔ "جس کو خدا نے مشاہدہ عطا فرمایا ہے وہ مجاہدہ نہیں کرتا۔"
اب اس مسئلہ کو باحتیاط تمام ان شاء اللہ دوسری جگہ بیان کیا جائے گا۔
صفحہ۳۷۹
فرقۂ حکیمیہ
فرقۂ حکیمیہ کا تعلق حضرت ابو عبد اللہ بن علی الحکیم ترمذی رضی اللہ عنہ سے ہے۔ یہ اپنے وقت کے یکتا امام گزرے ہیں اور تمام علومِ ظاہری و باطنی میں فرد تھے۔ آپ کی بہت سی تصنیفات ہیں۔ آپ کا کلام اور طریقِ عمل ولایت و تصوف کے رنگ میں تھا اور اولیاء کملا صوفیاء کے مراتب کی خاص رعایت رکھتے تھے اور آپ کے مضامین میں بڑے بڑے عجوبہ مضمون مذکور ہیں۔ آپ کے اصول میں کشفِ ابتدائی درجہ میں ہے اور بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے دوست بھی دنیا میں ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے تخلوق سے برگزیدہ فرمایا ہے اور ان کی ارادت و خواہشات سب ان سے قطع کر کے اپنے قبضے میں کر لیے ہیں اور ان کے دعاوی نفس اور ہوائے دل سب اپنے قبضے میں لیے ہوئے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو ایک درجہ پر متمکن کیا ہے اور ان پر دروازۂ معانی کھول دیا ہے۔ غرضیکہ یہ بحث بہت طویل ہے۔ اس کی تشریح کے لیے بہت اصول اوّل بیان کرنے ضروری ہیں تاکہ معلوم ہو کہ وہ کون ہستیاں ہیں۔
اب ہم بر سبیلِ اختصار اس امر کی تحقیق بیان کرتے ہیں اور اس میں ان کے خلاف اوصاف اور مردانِ خدا کے بیانات بھی نقل کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اثباتِ ولایت
اچھی طرح جان لو کہ طریقۂ تصوف اور اصولِ معرفت کی بنیاد تمام ولایت اور اس کے ثبوت پر موقوف ہے اور تمام مشائخ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس امر پر متفق ہیں۔ لیکن ہر ایک کا طرزِ بیان علیحدہ علیحدہ ہے۔
محمد بن علی رضی اللہ عنہ اس کی حقیقت بیان فرمانے میں مخصوص طرز اختیار فرماتے ہیں۔ (چنانچہ ان کا ارشاد ہے) کہ وِلایت "واؤ" کے "زیر" سے لغت میں تصرف و ملکیتِ حق کے معنی دیتا ہے اور وَلایت "واؤ" کے "زبر" سے "امارت" کے معنی میں مستعمل ہے اور دونوں "ولی" کے مصدر ہیں۔
اس صورت میں یہ دونوں لغت ایسے ہیں جیسے دلالت اور دِلالت۔ اور ولایت بمعنی ربوبیت بھی مستعمل ہے۔ جیسے قرآن کریم میں ارشاد ہے: ﴿هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ﴾ (۱) "یعنی اس وقت تمام قبضہ و تصرف اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔" یعنی بروزِ قیامت کفار بھی
۱۔ سورۃ الکہف: ۴۴
صفحہ۳۸۰
اللہ کی ذات کے ساتھ تولّی کر کے اپنے دنیاوی معبودوں سے تبرّی ظاہر کریں گے اور ولایت بمعنی محبت بھی مستعمل ہے۔
اور ہو سکتا ہے کہ ولی بروزن "فَعِیْل" بمعنی مفعول ہو۔ جیسے قرآن کریم میں فرمایا: ﴿وَهُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ﴾ (۱) "وہی ذات اپنے نیک بندوں کی حمایت کرنے والی ہے۔" گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کو اس کے افعال و اوصاف پر نہیں چھوڑا اور اپنے سایۂ حمایت میں رکھنے کی خوشخبری دی۔ اور ہو سکتا ہے کہ "فَعِیْل" کے وزن پر بمعنی مبالغہ استعمال ہو اور فاعل کے معنی دے کہ بندہ تولی بطاعتِ حق کرے اور اس کے حقوق مدعی رکھ کر اس کے اتباع میں مداومت رکھے اور اس کے غیر سے اعراض کرتا رہے تو پہلا جو بمعنی مفعول ہے وہ مرید ہوگا۔ اور دوسرا جو بمعنی فاعل بطریقِ مبالغہ ہے وہ مراد ہوگا اور یہ تمام پہلو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کی طرف یا بندہ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی طرف روا ہوتے ہیں۔
اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہی ناصر و مددگارِ محبوبانِ خاص ہوتا ہے اور اس کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام کو ارشاد ہوا: ﴿اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ﴾ (۲) "خبردار رہو اللہ کی نصرت قریب ہے۔" اور کافروں کو فرمایا: ﴿وَاَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَهُمْ﴾ (۳) اَیْ لَا نَاصِرَ لَهُمْ "اور بیشک کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں۔" یعنی ان کا مددگار نہیں۔ تو جب کفار کا وہ ناصر نہیں تو لامحالہ مومنین کا ناصر ہوا۔ تو کہیں عاقلوں کی مدد فرماتا ہے کہ وہ بنصرۃِ الٰہی استدلالِ آیات و بیانِ معانی اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں اور ان پر کشفِ براہین و اسرار ہوتا ہے اور کبھی نصرت فرماتا ہے مخالفتِ نفس اور شیطان پر اور نصرت فرماتا ہے موافقتِ امورِ خیر میں۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے بندگانِ خاص کو اپنی محبت اور دوستی کے لیے مخصوص فرما کر کل عداوت سے محفوظ رکھے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿یُحِبُّهُمْ وَیُحِبُّوْنَهٗ﴾ (۴) "انہیں اللہ محبوب رکھتا ہے وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں" حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے لیے اللہ کو محبوب رکھتے ہیں اور مخلوقات کے لطف کی طرف اُن کی نظر نہیں جاتی، جب ہی وہ ولیِ حق ہوتے ہیں اور یہی اولیاءِ الٰہی کہلاتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اقامت براطاعت حاصل کرانے کے لیے ایک کو منصبِ ولایت عطا ہو اور وہ اس منصب پر پہنچ کر اقامت حاصل کرے اور ہر قسم کی مخالفتِ حق سے پرہیز رکھے اور شیطان اس کے حس سے بھاگے۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک کو ولایت عطا ہو، تاکہ اس کا حل (کشائش) مملکتِ الٰہی میں ہو اور اس کا عقد (بندش) عقد ہو (گویا ہر قسم کے سیاہ و سپید کا وہی مختار کر دیا جائے) اور اس کی دعا مستجاب ہو اور اس کے انفاس و اقوال مقبولِ بارگاہ۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ ذِیْ طِمْرَیْنِ لَا یُعْبَاءُ بِهٖ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰهِ لَاَبَرَّهٗ۔ (۱) "اکثر ایسے لوگ ہیں کہ ژولیدہ اور غبار آلودہ بال والے، پھٹے ہوئے کپڑوں میں کہ لوگ اس کو تین میں سمجھیں نہ کہ تیرہ میں۔ مگر (اس کا یہ مرتبہ ہے کہ) اگر وہ خدا کی قسم کسی معاملہ میں کھائے تو اللہ اسے پوری فرما دیتا ہے۔"
اس روایت ہے کہ عہدِ فاروقی میں دریائے نیل اپنی پرانی رسم کے مطابق خشک ہو گیا۔ اس لیے کہ زمانۂ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ ہر سال ایک آراستہ خوبصورت لونڈی اس میں بھینٹ چڑھایا کرتے تھے تو دریا جاری ہوتا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھ دیا کہ: اے پانی اگر تو خود زور کرتا ہے اور خشک ہوتا ہے تو ہرگز جاری نہ ہو اور اگر خدا کے حکم سے ٹھہرا ہے تو عمر کہتا ہے کہ روان ہو جا۔ چنانچہ جب رقعہ دریا میں ڈالا گیا فوراً پانی جاری ہو گیا اور درحقیقت حکومتِ حقیقی میں حکومت ہے۔
تو میری مراد ولایت اور اس کے ثبوت سے یہی ہے کہ انسان سمجھ بوجھ لے کہ ولایت کس کا حق ہے اور ولی کس کو کہا جاتا ہے اور کس کے لیے یہ نام موزوں ہے۔ مذکورہ صفات جب تک انسان میں موجود نہ ہوں وہ ولی نہیں ہو سکتا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ حال تھا جو ان کی تحریر سے ظہور میں آیا نہ کہ قال سے۔
اس سے قبل مشائخ کرام نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں (اور وہ میرے پاس تھیں) مگر میرے ایک عزیز کے ہاتھ وہ گم ہو گئیں۔ اب میں مذہبِ حکیمیہ کے پیشوا حضرت ابو عبد اللہ حکیم ترمذی کے مذہب کو روشنی میں لاتا ہوں۔ کیونکہ میرا عقیدہ اس بزرگ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت ہے۔ تاکہ پڑھنے والے کو اور اسے جو اس کتاب کے مطالعہ کی سعادت حاصل کرنے کا طالب ہے، اس طریقہ میں فائدہ پہنچے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
۱۔ امام طوسی نے اسے کتاب اللمع (ص: ۱۶) میں انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے جبکہ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند (۳/۱۳۸) میں، امام اوزاعی نے مسند الشہاب (۲/۱۱۶، ۱۰۰۲) میں، امام بخاری نے اپنی صحیح (۲۷۰۳، ۲۸۰۶، ۳۴۹۹، ۴۵۰۰، ۴۶۱۱، ۶۸۹۳) میں، امام مسلم نے اپنی صحیح (۱۶۷۸) میں، امام داؤد نے اپنی سنن (۴۵۹۵) میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر (۶۸۷) میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: اِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰهِ مَنْ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰهِ لَاَبَرَّهٗ۔
صفحہ۳۸۲
فصل:
یہ اچھی طرح سمجھ! اللہ تجھے توفیق عطا فرمائے کہ یہ لفظ (یعنی ولی) تخلوقات میں متداول ہے اور کتاب و سنت میں اس لفظ کے ساتھ ناطق ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ عزّ اسمہٗ ہے: ﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾ (۱) "خبردار رہو بیشک اللہ کے محبوبوں اور ولیوں پر کوئی خوف اور غم نہیں۔" اور فرمایا: ﴿نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَةِ﴾ (۲) "ہم تمہارے مددگار ہیں حیاتِ دنیا و آخرت میں۔" اور فرمایا: ﴿اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ (۳) "اللہ ان کا مددگار ہے جو ایمان لائے۔"
"اللہ کے بندوں میں ایسے بندے بھی ہیں جن پر انبیاء و شہداء غبطہ کرتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ وہ کون ہیں؟ ان کی صفات بیان فرمائیں شاید ہم ان سے محبت کریں۔ فرمایا وہ ایک قوم ہے جو خوش رہتی ہے اپنے ربّ کی خوشنودی میں بغیر مال و منال کے حاصل کیے۔ ان کے چہرے منور ہیں اور نوری منبروں پر بے فکر بیٹھے ہیں۔ وہ خائف نہیں ہوتے جب کہ انہیں لوگ ڈرائیں اور نہیں گھبراتے اور غمگین نہیں ہوتے جبکہ لوگ انہیں غمگین کرتے ہوں اور عوام گھبرا رہے ہوں۔"
پھر آیۂ کریمہ تلاوت فرمائی:
۱۔ سورۃ یونس: ۶۲ ۲۔ سورۃ فصلت: ۳۱ ۳۔ سورۃ البقرہ: ۲۵۷ ۴۔ یہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن خطیب تبریزی نے مشکاۃ المصابیح (ص: ۴۲۶، باب الحب فی اللہ) میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ: اِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰهِ لَاُنَاسًا مَا هُمْ بِاَنْبِیَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، یَغْبِطُهُمُ الْاَنْبِیَاءُ وَالشُّهَدَاءُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللّٰهِ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ؟ قَالَ: هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوْا بِرُوْحِ اللّٰهِ۔
صفحہ۳۸۳
﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾ (۱) اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ ربّ فرماتا ہے: مَنْ اٰذٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِیْ۔ (۲) "جس نے میرے کسی ولی کو ایذا دی اس نے اپنے لیے میری جنگ جائز کر لی۔" اس سے مراد واضح ہے کہ اولیاء کا اللہ تعالیٰ ناصر و مددگار ہے اور اس نے اپنی ان پاک ہستیوں کو اپنی دوستی اور ولایت کے لیے مخصوص کر لیا ہے اور وہ اللہ کی مِلک کے والی بنائے گئے ہیں اور ان کو اپنے افعال و قوت کا مظہر بنایا ہے اور انواع و اقسام کی کرامتیں ان کی ذات کے ساتھ مخصوص کر دی گئی ہیں اور آفاتِ طبع و ہوٰی سے ان کو پاک کر دیا ہے اور نفس کی پیروی سے انہیں آزاد کر دیا ہے۔ ان کی ہمت و ارادے سوائے قوتِ الٰہی کے ظہور میں نہیں آتے اور ان کے انس و محبت کا رابطہ سوائے اس فعالِ مطلق کے کسی کے ساتھ نہیں۔ یہ لوگ ہم سے قبل موجود تھے۔ زمانۂ گزشتہ میں تھے اور فرامینِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے ساتھ ایسے مجرد ہیں کہ متابعتِ نفس کی راہ ان پر مسدود ہے۔ حتیٰ کہ بارانِ رحمت جو آسمان سے نازل ہو رہی ہے، وہ ان کے دم قدم کے صدقہ سے ہے اور زمین سے جو سبزہ اگ رہا ہے وہ ان کی صفاء و حال کی برکت سے اگ رہا ہے اور کافر پر مومن کو غلبہ انہیں کی ہمت سے حاصل ہے، اور اس قسم کے اولیاء کرام چار ہزار کی تعداد میں لوگوں سے مکتوم و مخفی ہیں اور ایسے مخفی ہیں کہ ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے اور وہ خود اپنے جمالِ حال سے بے خبر ہیں۔ اور اپنے تمام احوال میں اپنے سے اور مخلوق سے مستور ہیں اور اس دعوے کے ثبوت میں احادیث وارد بھی موجود ہیں اور اب سے قیامت تک رہیں گے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امتِ مرحومہ کو یہ شرف عطا فرمایا ہے اور اس اُمت کی شرافت کو تمام امتوں پر فائز کر کے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ میں شریعتِ مطہرۂ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی نگرانی رکھوں گا۔ (۳)
تو جب براہینِ حدیث و حججِ عقلی آج تک موجود ہیں اور علماء میں وہ عام طور پر شائع ہیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ براہینِ عین بھی موجود ہوں جو اولیاء کرام میں اور خاصانِ بارگاہ میں مخصوص ہوتے ہیں۔
اور اس بحث میں ہمارے مخالف دو گروہ ہیں: ایک معتزلہ اور دوسرے عام خشویہ۔ معتزلہ،
۱۔ سورۃ یونس: ۶۲
۲۔ حوالہ کے لیے: اتحاف السادۃ المتقین للزبیدی (۴/۴۷۷، ۸/۱۰۲)
۳۔ جیسا کہ ارشاد ہے: نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ یعنی ہم نے اس ذکرِ شریعت کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کے حفاظت کرنے والے ہیں۔
صفحہ۳۸۴
اولیاء میں اولیاء پر ایک دوسرے کی تخصیص کے منکر ہیں اور دوسرے عام خشویان کہتے ہیں کہ ایسے لوگ تھے، اور اولیاء میں باہم تخصیص (فضیلت) کی نفی گویا باہم انبیاء کی نفی ہے جو کفر ہے اور عام خشویان (خشویہ) تخصیص (فضیلتِ باہمی) جائز رکھتے ہیں البتہ یہ کہتے ہیں کہ ایسے لوگ ہوئے ہیں لیکن آج کل نہیں ہیں اور ان کا انکارِ ماضی و مستقبل دراصل ایک جیسا ہے اور اس لیے کہ مستقبل کی نفی، ماضی کی نفی سے زیادہ بُری ہے۔ اللہ تعالیٰ عزّ و جل شانہٗ نے برہانِ نبوی کو آج تک باقی رکھا ہوا ہے اور اولیاء اللہ کے ذریعہ اس برہان کا اظہار ہوتا رہتا ہے تاکہ حجت و صداقتِ محمدی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تعلق و پیہم نسب کا روشن اظہار ہوتا رہے اور ان اولیاء کو عالم (جہاں) والی کا حاکم فرمایا ہے تاکہ وہ اتباعِ سنت میں مشغول رہیں اور اسی راہ پر چل کر نفس کی پیروی کے راستے سے بچیں۔ اس بارے میں بہت سی احادیث وارد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ نفیِ تخصیصِ ولی تخصیصِ نبی کو مستلزم ہے اور یہ صریح کفر ہے۔
اور عام حشویہ تخصیص کو تو روا رکھتے ہیں لیکن یہ کہتے ہیں کہ اولیاء تھے اب نہیں رہے (اور اس خیال کا بھی یہی نتیجہ ہے کہ) انکارِ ماضی و مستقبل دونوں انکار ہیں۔ اس لیے کہ ایک طرف کا انکار دوسری طرف سے بدتر نہیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے برہانِ نبوت کو آج تک باقی رکھا ہے اور اولیاءِ کرام کو اس برہان کے اظہار کا سبب بنا لیا ہے تاکہ مسلسل آیات و حجتِ صداقتِ محمدی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پیوستہ طریق پر ظاہر و باہر ہیں اور ان ہستیوں کو خصوصیت سے والیانِ عالم بنایا ہے، اور اولیاء کرام کے اقوال اس کی تائید میں ناطق ہیں اور مجھے خود بھی اس بحث میں بحمد اللہ تعالیٰ بہت احادیث واضح طور پر پہنچی ہیں۔
لیکن ان چار ہزار اولیاء کرام میں جو اربابِ حل و عقد ہیں، جنہیں سرہنگانِ درگاہِ حق تعالیٰ کہا جاتا ہے، وہ تین سو نفوسِ قدسی ہیں جنہیں اصطلاحِ تصوف میں "اخیار" کہتے ہیں اور وہ چالیس ہستیاں ہیں جنہیں "ابدال" کہتے ہیں اور سات وہ ہیں جنہیں "ابرار" کہتے ہیں۔ چار وہ ہیں جنہیں "اوتاد" کہتے ہیں۔ تین وہ ہیں جنہیں "نقیب" کہتے ہیں۔ ایک وہ ہے جو "قطب" کہلاتا ہے اور اسے "غوث" بھی کہتے ہیں اور یہ تمام ایک دوسرے کو جانتے اور پہچانتے ہیں اور نظامِ معاملات و امورِ تصرف میں ایک دوسرے کے اذن و اجازت کے محتاج ہیں اور اس پر احادیث ناطق ہیں اور اربابِ حقیقت اس کی صحت پر متفق ہیں۔ اس کی مزید شرح و بسط کے لیے یہ جگہ موزوں نہیں، اس لیے کہ یہاں مقصود یہ نہیں ہے۔ اس جگہ عام طور پر عوام یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیا کہا گیا ہے وہ
صفحہ۳۸۵
خاصانِ بارگاہ ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے اور وہ ہر ایک ولی ہوتا ہے۔
لازم تو یہ ہے کہ ہر ایک ولی اپنی عاقبت کی طرف سے امن میں ہو اور یہ محال ہے کہ معرفتِ ولایت امن کی مقتضی ہو۔ اس لیے کہ جب یہ ممکن ہے کہ مومن اپنے ایمان سے عارف ہو مگر یہ ضروری نہیں کہ عرفانِ ایمان کے ساتھ مامون بھی ہو تو پھر یہ بھی ضرور ممکن ہے کہ ولی اپنی ولایت سے عارف ہو کر مامون نہ ہو۔ ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ بوجہِ کرامت حق تعالیٰ ولی کو اس کی صحتِ حال اور محافظتِ نفس کی وجہ سے نگاہ میں رکھے اور انہیں امنِ عاقبت کا بھی عارف فرمائے۔
اس میں مشائخ کرام کا اختلاف ہے اور اس اختلاف کی علت میں نے پیدا کی ہے۔ یعنی جو چار ہزار اولیاء مکتوم ہیں وہ اپنی ولایت کی معرفت بھی اپنے لیے روا نہیں رکھتے اور جو ان چار ہزار کے علاوہ اور ہیں وہ اپنے لیے معرفتِ ولایت روا رکھتے ہیں۔
فقہاء کرام میں سے بہت وہ ہیں جو پہلے گروہ کے موافق ہیں اور بہت سے وہ بھی ہیں جو دوسرے گروہ کے موافق ہیں اور متکلمین کا بھی یہی حال ہے۔
چنانچہ ابو اسحاق اسفرانی اور ایک جماعتِ متقدمین اسی پر ہے کہ ولی اپنے آپ کو نہیں پہچانتا کہ وہ ولی ہے۔ تو ہم نے اُن سے پوچھا کہ اس معرفت میں ولی کے لیے کیا نقصان و آفت ہے تو ان کا یہ جواب ہے کہ ولی اگر اپنے آپ کو ولی جاننے لگتا ہے تو معجب و متکبر ہو جاتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ میں ولی ہوں۔ اس کا جواب میں دیتا ہوں کہ شرطِ ولایت میں یہ چیز بھی ہے کہ اس کی نگہداشت اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو تو پھر آفاتِ عجب و تکبر سے محفوظ ہونا لازمی ہے اور ایسی صورت میں اس کا متکبر ہونا جائز نہیں ہو سکتا۔
لہٰذا یہ کہنا محض عامیانہ اور مبنی بر جہل ہے کہ ایک شخص ولی ہو اور اس سے خوارقِ عادات و کرامتیں سرزد ہوں اور وہ یہ نہ جان سکے کہ میں ولی ہوں یا اُسے اس امر کا علم نہ ہو کہ یہ خرقِ عادت جو امر ظہور میں آیا وہ کرامت ہے۔
ان تخیلات پر عوام میں سے ایک گروہ پہلی جماعت کا مقلد ہے اور ایک گروہ دوسری جماعت کا پیرو ہے لیکن ان کی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔ اب رہے معتزلہ، یہ کلیۃً تخصیصِ ولایت و کرامت دونوں کے منکر ہیں اور درحقیقت ولایت میں تخصیص و کرامت ہی مخصوص ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ تمام مسلمان اللہ کے دوست ہیں۔ جو مطیعِ الٰہی ہے، وہی ولیِ الٰہی ہے اور جو احکام اور ایمان پر قائم ہے اور صفاتِ ذروبیتِ الٰہی کا منکر ہو اور مومن کے خلودِ جہنم کو روا رکھے اور اس امر کا مقر ہو کہ انبیاء و رسل اور نزولِ کتب نہ بھی ہوں تو عقلاء مکلف باطاعت ہیں، پس وہ
صفحہ۳۸۶
ولی ہے اور مسلمان اُسے ولی مانتے ہیں۔ لیکن درحقیقت ایسے عقیدہ والا شیطان ہے (ولی نہیں) اور کہتے ہیں کہ اگر ولایت و کرامت ولی کے لیے واجب ہے تو سب مسلمانوں میں کرامت ضروری تھی۔ اس لیے کہ سب مسلمان ایمان میں مشترک ہیں اور چونکہ سب اصل اصول میں مشترک ہیں تو لازم آتا ہے کہ فرع میں بھی مشترک ہوں۔
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مومن و کافر دونوں میں کرامت ہونا جائز ہے۔ اور وہ اس بھوکے کی طرح ہے جو سفر میں ہے اور میزبان کا متلاشی ہے، یا اس مسافر کی طرح ہے جو تھک کر یہ چاہتا ہے کہ مجھے کوئی سواری پر بٹھا لے وغیرہ وغیرہ۔ اور بہت سی ایسی ہی باتوں میں سے ایک بات یہ بھی جو کہتے ہیں کہ اگر بڑی دراز مسافت کو کوئی ایک رات میں طے کر لیتا تو حضور ﷺ کے لیے بھی یہ روا ہوتا۔ مگر جب انہوں نے مکہ معظمہ کا قصد فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو تھوڑی سی رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک۔"
تو معنیِ حملِ اثقال اور سفرِ مکہ میں اجماعِ صحابہ ہے کہ مکہ سے مسجدِ اقصیٰ جانا یہ کرامتِ خاص تھی نہ کہ عام اور مکہ سے ہجرت میں جانا۔ اگر یہاں بھی وہی کرامت ہوتی تو کرامتیں عام ہو جاتیں اور ایمان بالغیب کے تمام احکام اُٹھ جاتے۔ اس لیے کہ ایمان اپنے مقام پر عموم کے درجہ پر ہے مطیع و عاصی کے لیے اور ولایت مختص ہے مطیع کے لیے۔ تو اللہ تعالیٰ کا وہ حکم جس میں حملِ اثقال فرمایا، وہ محلِ عموم میں تھا اور حضور ﷺ کو عمومی درجہ کے ساتھ مخاطب کیا۔ (۳) اور جہاں تخصیصِ ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ حکم فرمایا وہاں بتا دیا کہ تھوڑی سی شب میں اپنے محبوب کو مکہ
۱۔ سورۃ النحل: ۷ ۲۔ سورۃ الاسراء: ۱
۳۔ جیسا کہ اصول ہے کہ مورد آیت خاص ہوتا ہے مگر حکم عام ہوتا ہے۔ مترجم
صفحہ۳۸۷
سے بیت المقدس پہنچا دیا۔ وہاں سے قاب قوسین اور زوایات و خبایائے عالم کا مشاہدہ کرا دیا (اور اس قدر سرعت سے یہ سب کچھ ہوا) کہ جب واپس تشریف لائے تو شب کا بہت سا حصہ باقی تھا۔
غرض کہ خلاصہ یہ ہے کہ حکمِ ایمان عوام کے لیے عام ہے اور حکمِ کرامت خاص ہے۔ خواص کے لیے، اور نفیِ تخصیص کرنا مکابرۂ عیان ہے۔ جیسے کہ نوکر کا حکم بادشاہ کے دربار میں، دربان، حاجب اور اُن کے افسر اور وزراءِ سلطنت سب کے لیے یکساں ہے، اگرچہ نوکر سب ہیں مگر ہر ایک کا منصب و مرتبہ علیحدہ علیحدہ ہے۔
اسی طرح اگرچہ بارگاہِ الٰہی میں ایمان لانے کی حیثیت میں سب یکساں ہیں لیکن ایک مومن عاصی ہے ایک مومن مطیع، ایک مومن عالم ہے ایک مومن عابد، ایک مومن جاہل ہے ایک مومن متورع۔ تو ثابت ہوا کہ انکارِ تخصیصِ مناصب و مراتب کرنا انکارِ کلِ معافی ہے۔
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
فصل
لفظ "ولایت" کی تحقیق میں مشائخ کرام نے بہت سے رموز بیان فرمائے ہیں۔ ہم اس مقام پر حتی الامکان ان کے مختار اقوال نقل کریں گے۔ ان شاء اللہ۔ تاکہ مطالعہ کرنے والوں کو فائدہ مند ثابت ہوں۔ حضرت ابو علی جرجانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلْوَلِیُّ هُوَ الْفَانِیْ فِیْ حَالِهٖ وَالْبَاقِیْ فِیْ مُشَاهَدَةِ الْحَقِّ لَمْ یَكُنْ لَهٗ عَنْ نَفْسِهٖ اَخْبَارٌ وَلَا مَعَ غَیْرِ اللّٰهِ قَرَارٌ۔ "ولی وہ ہے کہ اپنے حال سے فانی اور مشاہدۂ حق کے ساتھ باقی ہو، اس کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اپنے حال کی کچھ خبر کسی کو دے سکے اور سوائے ذاتِ حق کے غیر سے آرام پائے۔" اس لیے کہ خبر بندہ کے اپنے حال سے ہوتی ہے اور جب حال فانی ہو گیا تو پھر اُسے اپنے حال کی خبر دینا درست نہیں اور غیرِ حق سے آرام نہ پانا بھی صحیح ہے۔ اس لیے کہ اپنے حال کی غیر کو خبر دینا رازِ محبوب کا غیر کے سامنے منکشف کرنا ہے اور کشفِ رازِ حبیب، غیرِ حبیب بمحبّ کے لیے محال ہے اور یہ بھی ہے کہ جب رویتِ غیر ہی مشاہدۂ جمالِ یار میں محال ہے تو رویتِ غیر نہ ہونے کی شکل میں خلق کے ساتھ قرار کس طرح ممکن ہو سکتا ہے۔
مراد اس قول سے یہ ہے جو فرمایا کہ: "ولی وہ ہے جس کو خوف نہیں ہوتا۔" اس لیے کہ خوف اس چیز سے ہوتا ہے جس کے آنے سے دل کراہت محسوس کرتا ہے کہ یہ آئندہ زمانہ پر وارد ہو یا اس سے خائف ہے کہ زمانۂ آئندہ میں وہ جو محبوب اس وقت موجود ہے، چلا جائے گا۔ ولی ابن الوقت یعنی صاحبُ الوقت ہوتا ہے۔ اس کو آئندہ ایسا وقت نہیں جس سے وہ ڈرے۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: خبردار رہو بے شک اللہ کے ولیوں کو نہ خوف ہے نہ غم) اور جس طرح ولی کو خوف نہیں ہوتا، امید بھی نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ رجاء وہ امید ہے جس میں آئندہ محبوب کے ملنے کی اُمید ہو یا اس امر کی امید کہ جو تختی آنی ہے وہ اس سے ٹل جائے اور ولی کا وہ وقت ہوتا ہے کہ اس میں اسے غم نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ غم کدورت سے ہوتا ہے۔ تو جو رضا کی روشنی میں آ گیا اور موافقت کے باغ میں متمکن ہو گیا، اُسے کب غم ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾ (۱)
ہاں! عوام کو اس بحث میں یہ وہم پیدا ہو جاتا ہے کہ جب ولی کو خوف و رجا نہیں رہتا اور نہ ہی اندوہ و غم تو لامحالہ انہیں امن ہوگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ امن سے بھی مبرّا ہوتے ہیں اس لیے کہ امن غیب کے نہ دیکھنے اور وقت سے اعراض کرنے میں ہوتا ہے اور یہ صفت اس میں ہوتی ہے جسے نہ رویتِ بشریت ہو نہ صفت پر آرام۔ نہ خوف و رجا، نہ امن و حزن۔ اور امن و حزن، نفس کے نقیب ہیں۔ جب نفس فانی ہو گیا تو بندہ کی صفتِ رضا ہو جاتی ہے اور جب رضا حاصل ہو گئی تو وہ اپنے حال میں مستقیم ہو گیا اور رویتِ محبوب میں محول اور باقی تمام احوال سے اعراض پیدا ہو جاتا ہے۔ اس وقت ولایت کا دل کشف ہوتا ہے اور اس کے معنی کہ تمام اسرار اس پر ظاہر ہوتے ہیں۔
حضرت ابو عثمان مغربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلْوَلِیُّ قَدْ یَكُوْنُ مَشْهُوْرًا وَلَا یَكُوْنُ مَفْتُوْنًا۔ "ولی مخلوق میں مشہور ہوتا ہے لیکن مخلوق کے ساتھ مبتلا نہیں ہوتا۔" ایک اور فرماتے ہیں: اَلْوَلِیُّ قَدْ یَكُوْنُ مَسْتُوْرًا وَلَا یَكُوْنُ مَشْهُوْرًا۔ "ولی مستور ہوتا ہے اور مشہور نہیں ہوتا۔"
۱۔ سورۃ یونس: ۶۲
صفحہ۳۸۹
اور یہ احتراز از شہرت اس وجہ سے ہے کہ اس کی شہرت میں فتنہ ہوتا ہے۔
اور حضرت ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ نے جو یہ فرمایا کہ ولی کا شہرہ ممکن ہے مگر اس شہرت میں فتنہ اور ابتلا نہیں، اس کی وجہ ظاہر ہے کہ فتنہ کذب میں ہوتا ہے اور جب ولی اپنی ولایت میں صادق ہے اور ایسا ولی کذب پر واقع نہیں ہو سکتا اور اظہارِ کرامت بھی کذب کے ہاتھ سے محال ہے، تو لازم آتا ہے کہ ہر قسم کا فتنہ اس کے لیل و نہار سے ساقط ہو جائے۔ اور یہ دونوں قول اس اختلافی مضمون کی طرف جاتے ہیں کہ ولی اپنے آپ کو نہیں پہچانتا کہ وہ ولی ہے اور اگر پہچانتا ہے تو لازمی طور پر مشہور ہوگا اور اگر نہ پہچانے تو مفتون ہوگا۔ اور اس کی شرح طوالت کی مقتضی ہے اور طوالت مقصود نہیں۔
ایک حکایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم ادہم رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو فرمایا کہ کیا تو چاہتا ہے کہ اللہ کے ولیوں میں سے ولی ہو۔ عرض کی: ہاں، میں چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا:
"دنیا اور عقبیٰ کی کسی شے سے رغبت نہ کر اس لیے کہ دنیا سے رغبت کرنا اپنے ربّ سے اعراض کر کے فانی کی طرف راغب ہونا ہے اور عقبیٰ کی طرف رغبت کرنا اپنے ربّ سے اعراض کر کے شے باقی کی طرف جانا ہے۔"
تو جب اعراضِ شے سے فانی ہوگا تو فانی فنا ہو جائے گا اور اعراض نیست ہو جائے گا اور اعراضِ شے باقی سے ہوگا تو بقا پر فنا روا نہیں ہوتی تو اس سے اعراض ہی درست رہے گا۔ تو اس کا مضمون یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طلب دنیا و عقبیٰ کے ساتھ نہ رکھو۔ فرمانا کہ اپنے دل کو اللہ کی محبت کے لیے دنیا و عقبیٰ سے خالی کر کے دل کو اپنے ربّ کی طرف رجوع کر تو حاصل یہ ہے کہ جب یہ اوصاف تیرے اندر موجود ہو جائیں گے، ولی ہو جائے گا۔
حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ ولی کون ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا:
"ولی وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے امر و نہی پر صبر کرے۔"
اس لیے کہ جس کے دل میں اللہ کی دوستی جتنی ہوگی، اس کے حکم کی عظمت اتنی زیادہ ہوگی اور اس کی نہی سے اس کا جسم اتنا ہی بعید ہوگا۔
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک حکایت ہے۔ فرماتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ
صفحہ۳۹۰
فلاں شہر میں اللہ کے ولیوں میں سے ایک ولی ہے۔ میں اٹھا اور ان کی زیارت کا قصد کر کے چلا۔ جب ان کی مسجد میں پہنچا تو وہ گھر سے باہر تشریف لائے اور مسجد میں آ کر قبلہ کی طرف رخ کر کے مسجد میں تھوک دیا۔ میں اسی وقت بغیر سلام کیے وہاں سے پلٹ آیا اور میں نے کہا کہ ولی کو چاہیے کہ احکامِ شریعت پر پابند ہو، تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ نظرِ رحمت فرمائے۔ اگر یہ شخص ولی ہوتا تو مسجد میں قبلہ رو ہو کر کبھی تھوکا نہ کرتا یا اللہ تعالیٰ اس کی حرمتِ ولایت پر نگاہ رکھتا۔ فرماتے ہیں: اس شب میں نے حضور سید یوم النشور ﷺ کے جمالِ جہاں آراء سے شرف حاصل کیا۔ دیکھا کہ حضور ﷺ فرما رہے ہیں: ابو یزید! تم نے وہ کیا کام کیا جس کی برکت سے تم اس درجہ پر پہنچے۔ دوسرے روز میں اس درجہ پر پہنچ گیا جو تم دیکھ رہے ہو۔
ایک روایت سنی ہے کہ ایک شخص شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مسجد میں بایاں قدم رکھ کر داخل ہوا۔ آپ نے فرمایا: واپس ہو (اور دایاں قدم رکھ کر مسجد میں آ) اس لیے کہ جو دوست کے گھر میں آنے کے قاعدہ کو نہیں جانتا وہ ہمارے کام کا آدمی نہیں۔
ایک جماعت ملحدین لعنہم اللہ کی ہے جو صوفیاء کے طریقہ پر تعلق رکھ کر کہتی ہے کہ اتنی خدمتِ حق کرے کہ ولی ہو جائے اور جب ولی ہو جائے تو پھر اس پر سے تکلیفِ خدمت کا بار اٹھ جاتا ہے۔ حالانکہ یہ صریح گمراہی ہے اور صوفیاء کے یہاں ایسا کوئی مقام نہیں کہ جس پر صوفی کے آ جانے کے بعد کوئی رکن اور کامِ خدمت کا اٹھ جائے۔ اس کی مفصل شرح مکمل ان شاء اللہ اپنے مقام پر کی جائے گی۔
اثباتِ کرامت
اچھی طرح یاد رکھو کہ ظہورِ کرامت ولی کی طرف سے اس کی صحتِ حال اور مجاہدہ میں قطعی ممکن و روا ہے اور صوفیائے کرام اہلِ سنت و جماعت کا اس پر مکمل اتفاق ہے اور عقل بھی اسے ممکن مانتی ہے۔ اس لیے کہ یہ ایک قسم ہے جو قوتِ الٰہی کی مظہر ہے اور اس کا اظہار کہ اصلِ شرع و دلیل سے منافی نہیں اور عقل و اوہام بھی اس کے خلاف نہیں۔
کرامت درحقیقت صداقتِ ولایت پر دلیل ہے اور کذب سے اس کا صدور ناممکن۔ ہاں! کاذب سے علاماتِ کذب و عمل ظہور پذیر ہوں گے اور کرامت نام ہے ایک ایسے فعل کا جو عقل و اوہام کا ناقض ہوتا ہے اور صوفی پر تمام تکلیفاتِ شرع باقی ہوتے ہیں اور اگر تعریفِ حق پر وجہِ استدلالِ کذب کے مقابلہ میں صدق جان لے تو وہ بھی ولی ہے۔ اور ایک جماعت اہلِ سنت و جماعت کہتی ہے کہ کرامت صحیح ہے مگر حدِ معجزہ تک نہیں بلکہ وہ ایسے ہے جیسے قبولِ دعا یا تصرفِ ولی
صفحہ۳۹۱
سے کسی کی مراد حاصل ہونا اور وہ جو نقصِ عادات کی حد تک نہ ہو۔
ہم کہتے ہیں کہ تمہیں ظہورِ فعلِ ناقصِ عادات سے جو ولیِ صادق کے ہاتھ سے زمانہ تکلیف میں ہو، کیا صورتِ فساد نظر آئی۔ اگر وہ جواب میں کہیں کہ (معاذ اللہ) اتنی قوت عطا فرمانے کی خدا میں قدرت و قوت نہیں تو یہ خود ایک ضلالت و گمراہی ہے اور اگر کہیں کہ یہ ایک قسم کی قوتِ الٰہی ہے اور اللہ قادر ہے تو ولی کو ایسی قوت عطا فرما دے مگر ولی کے ہاتھ سے اس کا ظہور ابطالِ نبوت کو مستلزم ہے تو نفیِ تخصیصِ انبیاء یہ بھی محال ہے۔ اس لیے کہ ولی مختص بکرامت ہے اور نبی مختص بمعجزہ۔ اَلْمُعْجِزَةُ لَمْ تَكُنْ مُعْجِزَةً بِعَیْنِهَا اِنَّمَا كَانَتْ مُعْجِزَةً لِحُصُوْلِهَا وَمِنْ شَرْطِهَا اِقْتِرَانُ دَعْوَةِ النُّبُوَّةِ بِهَا وَالْمُعْجِزَاتُ تَخْتَصُّ بِالْاَنْبِیَاءِ وَالْكَرَامَاتُ تَكُوْنُ لِلْاَوْلِیَاءِ۔ "معجزہ ہرگز معجزہ بعینہٖ نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ معجزہ اسی وجہ میں معجزہ ہوتا ہے کہ اس کی شرط میں دعوائے نبوت لازمی ہے اور معجزہ انبیاء کرام کے لیے مخصوص ہے اور کراماتِ اولیاء کرام کے لیے۔"
تو جب ولی، ولی ہے اور نبی نبی، ان دونوں میں کسی قسم کی ایسی مشابہت نہیں کہ ان کے اندر احتراز کیا جائے۔ نبی کے شرف و مرتبتِ پیغمبری علیہ السلام، علوِ مرتبت و صفائے عصمت سے ہے نہ کہ فقط معجزہ یا کرامت سے یا خارق عادات امور کے ظاہر کرنے پر۔ اور بالاتفاق تمام انبیاء کرام کو وہ معجزے عطا ہوئے ہیں جو خارقِ عادات ہیں اور اصل میں وہ تمام معجزات مساوی ہیں لیکن درجات کے اعتبار سے ایک کو دوسرے پر بزرگی عطا ہوئی ہے۔ تو جب فضیلتِ درجات میں ایک ایک پر شرف و فضیلت رکھتا ہے تو یہ کیوں نہ ممکن ہو کہ خارقِ عادات امور و افعال میں بھی کسی کو دوسرے پر فضیلت ہو اور پھر کیوں زور نہ ہو۔ کیا انبیاء کے بعد اولیاء کرام کو بھی ایک درجہ خارقِ عادات امور کا عطا ہو اور اس کا نام کرامت رکھا جائے۔ اس پر لازمی طور پر یہ امر علم ہوگا کہ انبیاء کرام ان سے فاضل تر بلکہ اشرف ترین خلائق ہیں۔ تو جب یہ افعالِ ناقصِ عادات علتِ تفصیل و تخصیصِ انبیاء نہیں تو یقیناً خارقِ عادات امور علتِ تخصیصِ ولی بھی نہیں ہو سکتے، اور نبی ولی یکساں بھی نہیں ہو سکتے اور ہر عاقل جو اس دلیل کو سمجھ لے گا وہ نبی و ولی کے مابین اس شبہ کو اپنے سے اٹھا دے گا۔
اور اگر کسی کو یہ وہم پھرے کہ ولی کو بذریعۂ کرامت خارقِ عادات امور عطا ہوئے تو وہ نبوت کا دعویٰ کیوں نہیں کرتا۔ یہ محال ہے۔ اس لیے کہ شرطِ ولایت میں تصدیقِ قول ہے اور معنی کے خلاف دعویٰ کرنا کذبِ صریح ہے اور کذاب ولی نہیں ہو سکتا تو اگر ولی نبوت کا دعویٰ کرے تو یہ معجزہ کا توڑنا ہے اور وہ کفرِ صریح ہے۔ اور کرامت مومنِ مطیع کے سوا کسی کو نہیں ملتی اور کذب
صفحہ۳۹۲
معصیت شعاری ہے نہ کہ اطاعت۔ تو جب یہ امر واضح ہو گیا کہ ولی کی کرامت محبتِ نبی کے ثبوت کے لیے ہے تو پھر کرامت اور معجزہ میں اشتباہِ تساوی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ پیغمبر علیہ السلام معجزہ سے اپنی نبوت کا ثبوت دیتے ہیں اور ولی کرامت کے ذریعہ بھی انبیاء کرام کی نبوت کا ثبوت دیتے ہیں اور اپنی ولایت کے ذریعہ بھی ثبوتِ نبوت دیتے ہیں۔ اور ولی کی کرامت، معجزۂ انبیاء کا عین ہوتی ہے اور مومن کے لیے ولی کی کرامت کا مشاہدہ انبیاء کرام کی تصدیق میں زیادہ موثق درجہ پیدا کر کے یقین پیدا کرتی ہے۔
اس میں کسی قسم کا کوئی شبہ مشابہت نہیں۔ اس لیے کہ ان کا دعویٰ آپس میں مخالفت نہیں ہوتا جو ایک دوسرے کی نفی کرے بلکہ ولی کا دعویٰ نبی کے دعویٰ کا عین ہوتا ہے۔ جیسا کہ شریعتِ مطہرہ میں جب ایک گروہ ورثہ کا مدعی ہو تو جب ایک وارث کی دلیل ثابت ہو گئی تو یہی دلیل تمام ورثاء کے لیے ثبوتِ دعویٰ کی دلیل ہو جائے گی اور جب دعویٰ ایک دوسرے کے خلاف ہو تو ایسی صورت میں ایک دلیل دوسرے کے لیے دلیل نہیں ہو سکتی۔ تو جب نبی معجزہ کے دلائل سے مدعیِ نبوت ہوتا ہے اور ولی نبی کے دعویٰ پر تصدیق کے لیے کرامت سے خصم کو تسلیم کراتا ہے تو پھر اس میں شبہ شبیہ کا شبہ ناممکن ہے۔
معجزہ اور کرامت
یہ بات تو واضح و لائح ہو چکی ہے کہ معجزہ اور کرامت جھوٹے کے ہاتھ سے ناممکن ہے مگر اس سے زیادہ واضح فرق ظاہر ہونا ضروری ہے تاکہ جو واہمہ تھوڑا یا اقل قلیل بھی باقی ہے، وہ بھی رفع ہو جائے۔ لہٰذا اب سنو! اور اچھی طرح سمجھ لو کہ معجزات میں اظہار کرنا شرطِ معجزہ ہے اور کرامت میں ولی کی طرف سے کتمان کرامت شرط ہے۔ اس لیے کہ معجزہ کا فائدہ اور ثمرِ غیر (کی ہدایت و اصلاح) کے لیے ہے اور کرامت خاص صاحبِ کرامت کے لیے ہے۔
پھر معجزہ کو صاحبِ معجزہ قطع بھی کر سکتا ہے اور یہ اس کا عین اعجاز ہے۔ (۱)
اور ولی بذریعہ کرامت جو چیز بصورت عذاب نازل کرا دے تو پھر اُسے دفع نہیں کر سکتا کیونکہ وہ کرامت ہے یا استدراج۔ پھر صاحبِ معجزہ شرعِ شریف میں تصرف کر سکتا ہے اور اس کی
۱۔ یعنی نبی بذریعۂ معجزہ۔ اگر کسی کے پاداشِ جرم میں دعا کر کے عذاب نازل کرا دے تو پھر بذریعہ دعا اُسے روک لیتا ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر عذاب نازل کیے جیسا کہ ارشاد ہے: فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ۔ (الاعراف: ۱۳۳) (از مترجم غفرلہٗ)
صفحہ۳۹۳
ترتیبِ اوامرِ دنیاہی میں کرنے کا مجاز ہے اور اللہ تعالیٰ نے اُسے اس امر کا مجاز بنایا ہے۔
بر خلافِ صاحبِ کرامت کے کہ اسے بجز تسلیم و قبول کے چارہ نہیں۔ حتیٰ کہ ولی کسی وجہ اور کسی مشکل میں حکمِ شریعت اور احکامِ اسلامیہ اور شرعِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والسلام کے منافی کچھ کرنے کا مجاز ہی نہیں۔ اگر کوئی کہے کہ جب معجزہ خارقِ عادات ہے اور دلیلِ صدقِ نبی، تو جب اس کی جنس غیرِ غیرِ نبی کے لیے جائز رکھی تو یہ معتاد ہو جائے گی اور عینِ حجت اثباتِ معجزہ تمہارے لیے اثباتِ کرامت کو باطل کرتی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ کہنا خلافِ واقعہ ہے۔ اس لیے معجزہ ناقصِ عاداتِ خلق ہے اور کرامتِ ولی غیرِ معجزۂ انبیاء ہے اور وہ اس امر پر دلیل ہے کہ معجزۂ نبی کی یہ شان ہے تو پھر معجزہ معجزہ کا ناقض کیسے ہو سکتا ہے۔ تو نے دیکھا نہیں جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو کفرانِ مکہ نے سولی پر چڑھا دیا تو حضور سید عالم ﷺ مدینہ منورہ میں تھے اور مسجدِ نبوی میں جلوہ افروز۔ مگر مدینہ سے مکہ کا یہ تمام ماجرا ملاحظہ فرما رہے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو یہ سب کچھ بتا رہے تھے جو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے بھی حجاب اٹھا دیے۔ انہوں نے برسرِ دار اپنے ولیِ نعمت، مجسمۂ رحمت جنابِ سرورِ عالم ﷺ کا جمالِ جہاں آراء دیکھا اور نہایت مسرت و انبساط سے آدابِ دربارِ باری بجا لاتے ہوئے مؤدبانہ سلام عرض کیا۔ حضور ﷺ نے ان کا سلام سنا۔ حضور ﷺ نے جوابِ سلام دیا۔ وہ اللہ تعالیٰ نے گوشِ خبیب رضی اللہ عنہ تک پہنچایا۔ حضور ﷺ نے روبہ قبلہ ہو کر ان کے لیے دعا فرمائی۔
تو یہ معاملہ کہ حضور ﷺ خبیب رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے ملاحظہ کریں اور خبیب رضی اللہ عنہ مکہ سے مدینہ میں حضور ﷺ کو دیکھیں۔ ایک ایسا فعل ہے جو خارقِ عادت ہے اور معجزہ ہے حضور ﷺ کے لیے اور وہ جو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے مکہ سے مدینہ میں حضور ﷺ کے جمالِ جہاں آراء کا مشاہدہ کر رہے تھے، وہ کرامت تھی اور خارقِ عادت تھی۔
اس لیے بالاتفاق غائب کی رویت عادت کے خلاف ہے اور پھر زمان و مکان کی غیوبت میں کچھ فرق نہیں۔ چنانچہ خبیب رضی اللہ عنہ کی کرامت حضور ﷺ سے مکان کی غیوبت میں متقدمین کی کرامت کو ایک کرامت کی طرح تھی۔
یہ ایک فرقِ بیّن ہے اور برہانِ واضح جو ثابت کر رہا ہے کہ کرامت و معجزہ دونوں علیحدہ نہیں اس لیے کہ کرامت بغیر تصدیقِ صاحبِ معجزہ نہیں ہوتی اور ایسے مومن کے سوا جو مصدق و مطیع ہو، ظہور میں نہیں آتی اور وہ امتی سے ظہور پذیر ہوتی ہے اور جو کرامت امتی سے سرزد ہوتی ہے وہ
صفحہ۳۹۴
درحقیقت معجزۂ انبیاء کرام ہے۔ اس لیے کہ ان کی شریعت باقی ہے اور ان کی حجت و برہان بھی باقی ہیں۔ تو اولیاء کرام صدقِ رسالتِ رسل پر گواہ ہیں اور سوا ان کے کسی غیر امتی سے ظہورِ کرامت روا نہیں۔ اس کی تائید میں ایک حکایت مروی ہے جو حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ سے مشہور ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں ایک بار اپنی عادت کے مطابق جنگل میں اپنی تجرید و توحید کے ساتھ تھا کہ بعد چندے ایک گوشہ سے ایک شخص اٹھا اور میرے ساتھ ہم نشین ہونے کی خواہش ظاہر کرنے لگا۔ میں نے اس کے باطن پر نگاہ ڈالی تو مجھے اس سے نفرت پیدا ہوئی۔ میں نے سوچا کہ یہ کون ہے جو اس سے نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ تو وہ کہنے لگا۔ ابراہیم! فکر نہ کریں، میں نصاریٰ میں سے صابی ہوں اور اقصائے بلاد روم سے صرف آپ کی ہم نشینی کی نیت سے آیا ہوں۔ جواب سن کر مجھے اطمینان ہوا کہ نفرت یوں ہوئی تھی کہ بیگانہ ہے۔ میں نے اسے اپنی ہم نشینی کی اجازت دے دی اور کہا کہ اے راہب! (راہبِ نصاریٰ میں جو زاہد اور تارک الدنیا ہوتے تھے انہیں کہتے ہیں) ہمارے پاس اکل و شرب کا انتظام نہیں ہے، ہمیں اس امر کا خطرہ ہے کہ کہیں تمہیں اس جنگل میں ہماری معیت سے تکلیف نہ ہو۔ راہب کہنے لگا: حضرت! آپ کی اتنی زبردست شہرت عالم میں ہے مگر ابھی تک آپ طعام و شراب کے غم میں ہیں۔ مجھے اس کا یہ جواب پسند آیا۔ میں نے امتحاناً اُسے ہمراہ لیا کہ دیکھیں اپنے دعویٰ میں کہاں تک سچا ہے۔ سات شبانہ روز بادیہ پیمائی کرتے رہے۔ ساتویں روز اُسے بھوک پیاس نے اتنا تنگ کیا کہ کہنے لگا: ابراہیم! آپ کی کرامات و عرفان کا ڈھول دنیا میں لوگ بجاتے ہیں لیکن اب میں مجبور ہوں کہ آپ کی ولایت کا انکار کر دوں، اس لیے کہ اب بھوک پیاس نے میری تمام طاقت سلب کر لی ہے۔ میں نے سر بجز بارگاہِ بے نیاز میں جھکایا اور عرض کی: الٰہی! مجھے اس کافر کے سامنے رسوا نہ کر، اب تک اس کا خیال باوجود بیگانہ ہونے کے، میرے ساتھ اچھا ہے، تیرے کرم سے بعید نہیں کہ ایک کافر کے حسنِ ظن کو جو میرے ساتھ ہے حسنِ اعتقاد تک پہنچا دے۔ فرماتے ہیں: جب میں نے سر اٹھایا تو ایک طبق دیکھا جس میں دو روٹیاں اور دو پیالے پانی کے رکھے تھے۔ ہم دونوں نے وہ کھا پی کر تازگی حاصل کی اور چل دیے۔
جب سات روز گزر گئے تو میں نے اپنے دل سے کہا کہ آج میں اس راہب کا بھی تجربہ کروں۔ قبل اس کے کہ یہ میرا امتحان کرے اور کچھ مجھ سے مانگے۔ میں نے کہا: اے راہب! کچھ لا کہ آج تیری باری ہے، اپنے مجاہدہ کا پھل دکھلا۔ اس نے بھی سر زمین پر رکھا اور کچھ کہا کہ ایک طبق ظاہر ہوا جس میں چار روٹی اور چار پیالے پانی کے موجود تھے۔ مجھے اس پر سخت تعجب ہوا اور اپنے گزشتہ ایام کی یاد میں رنجیدہ ہو کر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے یہ کھانا نہیں ہے، اس لیے کہ کافر کے
صفحہ۳۹۵
لیے آیا ہے۔ اگر میں اس میں سے کھاؤں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ میں کافر سے مدد لوں۔
راہب کہنے لگا: ابراہیم کھاؤ۔ میں نے کہا: نہیں۔ کہنے لگا کیوں؟ میں نے کہا: اس لیے کہ تو اس امر کا اہل نہیں اور اس سے میں کرامت نہیں مانتا۔ اس لیے کہ کرامت تیرے حال سے بعید ہے مگر مجھے تعجب ضرور ہے اور میں فکر میں ہوں کہ اس کو میں کیا کہوں۔ اگر تیری کرامت کہتا ہوں تو کافر سے کرامت محال ہے اور اگر معونت کہوں جو کافر کے ساتھ ہو سکتی ہے تو بھی مدعی کو شبہ ضرور ہوتا ہے۔
راہب کہنے لگا: ابراہیم! نوش فرمائیں۔ میں آپ کو دو بشارتیں دیتا ہوں: پہلے یہ کہ میں مسلمان ہوں۔ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ۔ دوسرے یہ کہ آپ کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت بلند ہے۔ میں نے کہا: وہ کیسے؟ کہنے لگا: حضرت میرے پاس اس قسم کی قوت نہ تھی جو آپ نے دیکھی۔ مگر میں نے آپ کے وسیلہ سے سر زمین پر رکھا اور عرض کی: الٰہی! اگر دینِ محمد ﷺ حق ہے اور تیرا پسندیدہ ہے تو مجھے بھی دو قرص اور دو پیالہ پانی کے عطا فرما اور اگر ابراہیم خواص تیرا ولی ہے تو اس کی ولایت کے صدقے دو روٹی اور دو پیالہ پانی عطا فرما۔ جب سر اٹھایا تو یہ طبق میرے سامنے رکھا تھا۔ حضرت ابراہیم خواص رضی اللہ عنہ نے یہ سب قصہ سن کر اس طبق سے تناول فرمایا اور وہ راہب اس کے بعد اسلامی مشائخ کرام میں شمار ہوا۔ اور یہ نبی کریم ﷺ کا عینِ معجزہ ہے، جو کرامتِ ولی کے پردہ میں چھپا ہوا ہے اور بالخصوص یہ بہت نادر امر ہے کہ نبی کی غیبت میں غیر برہان دکھائے اور وہ بھی ایک ولی کی موجودگی میں اور غیر کے ذریعے کرامت ظاہر ہوئی۔
اور یہ بھی حقیقتِ واقعہ ہے کہ منتہیِ ولایت کو مبتدیِ ولایت کے سوا کوئی نہیں جان سکتا اور یہ راہب کے لیے ولایتِ ابراہیم خواص نہایت پوشیدہ چیز تھی اور (علم اللہ میں اسے ولی ہونا تھا) تو اللہ تعالیٰ نے اس پر مرتبہ ابراہیم خواص اور دینِ حق کی حقانیت اس صورت میں ظاہر فرما دی جیسے جادو گرانِ فرعون پر کہ انہوں نے اسلام لانے سے قبل موسیٰ علیہ السلام کا مرتبہ جان لیا تھا تو حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے معجزہ کی سچائی کا ثبوت دیا اور اس نے صداقتِ ولایت و حقانیتِ اسلام کا۔ اور معجزہ اور کرامت کے مابین فرق بین ہے۔
اس بحث میں بہت زیادہ مضامین ہیں۔ لیکن یہ کتاب ان سب کے بیان کی متحمل نہیں۔ اتنا یاد رکھو کہ کرامتِ اولیاء کرام میں یہ اور کرامت ہے کہ وہ اسے مخفی رکھیں کہ رفقاءِ کرامت میں شرطِ ولایت ہے۔
چنانچہ کوئی ولی اپنی کرامت بالا ارادہ تکلیف ظاہر نہیں فرماتا اور نہ انہیں ایسا کرنا زیبا ہے۔
صفحہ۳۹۶
میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر ولی اپنی ولایت ظاہر کر دے اور اس سے اپنی صحتِ حال کا دعویٰ قائم رکھے تو نقصان نہیں لیکن مظاہرۂ ولایت کے لیے بالا ارادہ بتکلف اگر ظاہر کرے تو اس سے رعونت پیدا ہوتی ہے اور یہ مضر ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
مدعیِ الوہیت سے ظہورِ معجزہ
مشائخ صوفیہ اور تمام اہلسنت و جماعت اس امر پر متفق ہیں کہ کافر کے ہاتھ سے بھی کوئی ایسا فعل ظاہر ہو سکتا ہے جو خارقِ عادت ہو اور مثلِ معجزہ یا کرامت کے ظاہر ہو اور تمام اسبابِ شبہ اس کے ظہور سے منقطع ہو جائیں اور کسی کو اس کے کذاب ہونے میں شک نہ ہو اور اس فعل کا ظہور اس کے کذب ہونے کے لیے مغائر ہو۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ فرعونِ لعین (کہ اس کا نام رقیون تھا جو موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں تھا) اس نے چار سو برس کی عمر پائی اور اسی مدت العمر میں اسے کوئی بیماری اور مرض نہ ہوا اور پانی اس کے پیچھے پیچھے چلتا۔ جب یہ کھڑا ہو جاتا، پانی بھی کھڑا رہ جاتا لیکن باوجود اس کے عقلاء کی نظر میں یہ جھوٹا تھا اور اس کے خدائی دعویٰ کی تصدیق سمجھ داروں نے نہیں کی۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مجسم و مرکب نہیں۔ علاوہ ازیں اگر اور بھی ایسے خارقِ عادات افعال اس سے ظہور میں آتے تو عقلاء اس کے کذبِ دعویٰ میں کبھی شک نہ کرتے۔
اور ایسے ہی شداد، صاحبِ ارم (یعنی جس نے دنیا میں ارم کے نام سے بہشت بنایا تھا) اس کا حال ہے اور ایسے ہی نمرود کے بہت سے واقعات ہیں اور اس پر قیاس کر لو اور اسی قسم کے واقعات سے ہمارے مخبرِ صادق ﷺ نے خبر دی اور بتایا کہ آخر زمانہ میں دجال خارج ہوگا اور خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اس کی چپ و راست میں دو پہاڑ ہوں گے۔ داہنی طرف والا پہاڑ نمونۂ بہشت ہوگا اور بائیں طرف والا نمونۂ جہنم۔ مخلوق کو اپنی الوہیت تسلیم کرانے پر دعوت دے گا۔ جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس پر عذاب کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے لوگوں کو موت و حیات کا مشاہدہ کرائے گا وہ اپنی گمراہی و ضلالت میں جسے چاہے گا مار دے گا، جسے چاہے گا زندہ کر دے گا۔ دنیا میں دجال کا حکم مطلق ہوگا۔ لیکن اس کے علاوہ اگر اس سے سوگنا افعال بھی وہ دکھائے تو عقلاء اس کے کاذب ہونے میں شک نہ کریں گے۔ عاقل یقینی طور پر سمجھ لے گا کہ اللہ تعالیٰ گدھے سوار نہیں ہے اور وہ ذات ہے کہ کبھی متغیر و متلون نہیں ہو سکتی، وہ اندھا نہیں۔ غرضیکہ ایسے امور جو اس قسم کے آدمی سے صادر ہوں، اسے استدراج کہتے ہیں (اس کا نام کرامت یا معجزہ رکھنا ہی غلط ہے)۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ مدعیِ نبوتِ کاذب سے بھی ایسے افعال ظاہر ہو جائیں مگر یہ اس
صفحہ۳۹۷
کے کذب کی دلیل ہوتے ہیں۔ اگرچہ ایسے ہی امورِ خارقِ عادات ایک سچے نبی کے ہاتھ سے بھی ظاہر ہوتے ہیں مگر وہ اس کے صدق کی دلیل ہوتے ہیں۔
لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ جھوٹے سے کوئی ایسا فعل بھی ظاہر ہو سکے جس میں دیکھنے والوں کو نبوتِ صادقہ کا شبہ ہو جائے اور اگر ایسا بھی ہونا ممکن ہوتا تو پھر سچے کو جھوٹے سے پہچاننا مشکل تھا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ایسی صورت میں طالبِ حق کسے سچا سمجھتا اور کسے جھوٹا۔ اس حالت میں حکمِ نبوتِ صادقہ ہی باطل تھا۔ (۱)
ہاں! یہ روا ہے کہ مدعیِ ولایت سے کرامت کی مثل کوئی ایسی بات ظاہر ہو جائے جو دین میں درست ہو، اگرچہ اس کا عمل اچھا نہ ہو۔ اس لیے کہ وہ رسول کی صداقت کا ثبوت ہے اور اپنے ربّ کا فضل ظاہر کرتا ہے، نہ یہ کہ وہ اس فعل کو اپنی قوت کی طرف نسبت کرے اور اصلیتِ ایمان میں بلا دلیل راست گو ہو۔ وہ تمام حالات میں اعتقاد کے ساتھ ولایت میں راست گو ہوتا ہے کیونکہ جب اس کا اعتقاد تمام حالات میں ولی کے اعتقاد کی صفت سے ہوتا ہے، تو اگرچہ اس کے عمل اس کے اعتقاد کے موافق نہ ہوں، مگر ترکِ عمل کی وجہ میں دعویٰ ولایت اس سے ضبط نہیں ہوتا۔ جیسے دعویٰ ایمان (کہ وہ بلا عمل بھی درست ہے)۔ اور درحقیقت منصبِ ولایت و کرامت کسبی نہیں۔ (۲)
تو خلاصہ یہ ہے کہ کسب و عملِ انسان ہدایت کے لیے علت نہیں ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل ہی ہم بتا چکے ہیں کہ اولیاء کرام معصوم نہیں ہوتے اس لیے کہ عصمت شرطِ نبوت ہے نہ کہ شرطِ ولایت۔ مگر اولیاء الٰہی ہر قسم کے آفاتِ معصیت سے محفوظ ضرور ہوتے ہیں۔
اس لیے کہ وجودِ معصیت نفیِ ولایت کی متقضی ہے اور نفیِ ایمان کی مقتضی نہیں اس لیے کہ نفیِ ایمان ردت ہے نہ کہ معصیت۔ یہ حضرت حکیم ترمذی محمد بن علی رضی اللہ عنہ کا مسلک ہے۔
اور اسی پر حضرت جنید بغدادی اور حضرت ابو الحسن نوری اور حضرت حارث محاسبی اور دیگر اہلِ حقائق رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق ہے۔ لیکن جو اربابِ عمل ہیں حضرت سہل بن عبد اللہ تستری اور حضرت ابو سلیمان دارانی اور حضرت ابو حمدون قصار وغیرہ رضی اللہ عنہم اجمعین ان کا
۱۔ مثلاً وحی کا نزول، ملائکہ کا درود وغیرہ (از مترجم)
۲۔ کہ جسے انسان اپنے مجاہدہ و ریاضت سے حاصل کر سکے۔ بقول سعدی علیہ الرحمۃ: ایں سعادت بزورِ بازو نیست ۔ تا نہ بخشد خدائے بخشندہ یعنی جب مبدأ فیاض سے افاضہ ولایت و کرامت ہو بلکہ مواہبِ حق سے اس کا تعلق ہے تو ولی ولی ہو سکتا ہے۔
صفحہ۳۹۸
مسلک ہے کہ شرطِ ولایت مداومتِ اطاعت ہے۔ حتیٰ کہ اگر ولی کے دل پر کسی کبیرہ کا خطرہ بھی گزرتا ہے تو وہ ولایت کے منصب سے معزول ہو جاتا ہے۔
مگر ہم اس سے پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اس امر پر اجماعِ امت ہے کہ بندہ کبیرہ کے ارتکاب سے بھی خارج از ایمان نہیں ہوتا اور کوئی ولایت۔ سے افضل نہیں ہے تو جب درجۂ معرفت جو اصلِ جمیع کرامات ہے، معصیت سے زائل نہیں ہوتا (تو محض ولایت کیونکر زائل ہو سکتی ہے) بلکہ محال ہے کہ جو چیز معرفت سے درجہ میں کمتر ہے وہ معصیت سے زائل ہو اور یہ اختلاف مشائخ کرام میں بہت لمبا ہے۔ اس مقام پر میرا مقصود اس بحث میں کسی کے دعویٰ کا ثبوت دینا نہیں ہے بلکہ میرا مقصد اس مقام پر اس اہم حقیقت کا سمجھانا ہے کہ ولی پر کرامت کس حال میں ظاہر ہوتی ہے۔ صحو میں، سکر میں، غلبہ میں یا تمکین میں۔
صحو اور سکر کی شرح تو ہم حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے بیان میں مفصل کر چکے ہیں۔ مگر حضرت بایزید اور ذوالنون مصری اور محمد بن خفیف اور حسین بن منصور اور یحییٰ بن معاذ رحمہم اللہ اور ایک جماعت کہتی ہے کہ ولی پر اظہارِ کرامت کا بہت سکر ہوتا ہے، اس کے سوا نہیں اور جو بحالتِ صحو ظاہر ہو وہ کرامت نہیں بلکہ ولی کے پردہ میں نبی کا معجزہ ہے۔ ان کے مذہب کے مطابق معجزہ اور کرامت میں بھی فرقِ بیّن ہے کہ کرامتوں کا اظہار ولی کی حالتِ سکر میں ہوتا ہے جب کہ وہ مغلوب الحال ہو اور اس کے لیے دعوت نہیں ہوتی اور نبی پر اظہارِ معجزہ بحالتِ صحو ہوتا ہے تاکہ وہ لوگوں پر اپنی تصدیقِ نبوت میں ظاہر کرے اور قوم کو طلبِ معارضہ کے لیے بلائے۔ صاحبِ معجزہ حکم کی دونوں اطراف پر مختار ہوتا ہے۔
چنانچہ ایک اس کے ظاہر کرنے پر معارضہ چاہتا ہے دوسرا اس کے پوشیدہ کرنے پر۔ پھر ولیوں کے لیے یہ بات نہیں بلکہ وہ کبھی کرامت دکھانا بھی چاہیں تو ممکن ہے نہ دکھا سکیں اور کبھی وہ نہ دکھانا چاہیں اور ظاہر ہو جائے۔ اس لیے کہ ولی دعوت کرنے والا نہیں ہوتا کہ اس کا حال بقاءِ اوصاف سے منسوب ہو بلکہ وہ پوشیدہ ہوتا ہے اور اس کا حال صفت کی فنا سے موصوف ہوتا ہے۔
تو خلاصہ یہ نکلا کہ ایک صاحبِ شرع ہے دوسرا صاحبِ سرّ۔ تو چاہیے کہ کرامت کا اظہار حالِ غیبت و دوحشت کے سوا کسی حال میں ظاہر نہ ہو اور اس کے تمام تصرفات تصرفِ حق کے ساتھ ہوں اور اس کے کسی قسم کے حال میں تمام بول چال تالیفِ حق سے ہو۔ اس لیے کہ صفتِ بشریت کا تحقق یا لاہی (۱) کو ہوتا ہے یا ساہی (۲) کو یا عام بندگانِ الٰہی کو اور انبیاء کرام لاہی و ساہی نہیں
۱۔ لاہی: لہو و لعب میں رہنے والا۔ ۲۔ ساہی: یادِ خدا میں غفلت کرنے والا۔
صفحہ۳۹۹
ہوتے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے سوا مطلق عبدِ الٰہی نہیں ہوتے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اولیاء کے سوا (جزم عوام کی طرف خاص صورت کے سوا لاحق بھی نہیں ہوتا) تو اس جگہ اولیاء ہی رہے کہ جب تک ان پر اقامتِ حالِ بشریت ہو وہ باخود ہوتے ہیں اور جب ان پر (تجلیاتِ الٰہی کا انکشاف ہوتا ہے) تو وہ مکاشف ہو کر بحالتِ بیخودی متحیر ہو جاتے ہیں اور الطافِ حق کے حقیقت و منتہیٰ کو نہ پاتے ہوئے دریائے تحیر میں متفرق رہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جس کے اندر اظہارِ کرامت ہوتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ یہی درجۂ تقرب ہے اور یہی وہ مقام اور وقت ہے کہ عارف کی نظر میں حجر و ذہب سب یکساں ہوں۔
علاوہ اس کے کسی حال میں انبیاء کرام کے سوا کسی انسان کو یہ حقیقت نہیں ملتی۔ مگر اس سے جس میں عاریتہً یہ کیفیت پیدا ہو جائے اور یہ کیفیتِ عاریتہ سوائے سکر کے نہیں ہوتی۔ جیسے حضرت حارث بن زید رضی اللہ عنہ ایک روز دنیا سے علیحدہ ہو گئے اور دنیا و عاقبت کے مکاشف بن گئے اور کہنے لگے: عَزَفْتُ نَفْسِیْ عَنِ الدُّنْیَا فَاسْتَوٰی عِنْدِیْ حَجَرُهَا وَذَهَبُهَا وَفِضَّتُهَا وَمَدَرُهَا۔ "میں نے اپنے نفس کو دنیا سے معرض کر لیا تو میرے نزدیک دنیا کا پتھر اور سونا چاندی اور کنکر سب یکساں ہو گئے۔" دوسرے روز آپ کو دیکھا کہ خرما کا کام کر رہے تھے۔ لوگوں نے پوچھا، حارثہ کیا کر رہے ہو؟ فرمایا: روزی تلاش کر رہا ہوں، اس لیے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں، وہ ساعت وہ تھی، یہ ساعت یہ ہے۔
تو مقامِ صحو میں اولیاء کرام کو درجۂ عوام ملتا ہے اور مقامِ سکر میں ان کو درجۂ انبیاء سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ جب اس مقام پر اُتر کر باخود ہوتے ہیں تو اپنے کو عوام کی حیثیت میں جانتے ہیں اور جب بیخود ہو کر اپنے سے مخفی ہو جاتے ہیں تو تجق راجع ہوتے ہیں۔
اور ان کا یہ سکر اتنا مہذب ہوتا ہے کہ اپنے کو سوائے ذاتِ حق کے کسی سے وابستہ نہیں رکھتے اور تمام عالم کو اپنے حق میں مثلِ سونے کے سمجھتے ہیں۔ شبلی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
"جہاں ہم گئے سونا ہی تھا اور جہاں ہم نے دورہ کیا موتی ہی ملے اور میدانوں میں چاندی ہی چاندی تھی۔" میں نے استاذ ابو القاسم قشیری سے سنا۔ فرماتے تھے کہ میں نے ایک بار طائرانی سے پوچھا کہ آپ اپنا ابتدائی حال سنائیں۔ فرمایا: ایک وقت مجھ پر وہ تھا کہ ایک پتھر کی ضرورت پڑی، رودِ خانہ سرخس میں جو پتھر میں نے اُٹھایا وہی جوہر بن گیا۔ میں نے اُسے پھینک دیا۔ یہ اس لیے نہیں کہ ان کی نظر میں جوہر اور پتھر یکساں تھے، بلکہ اس لیے کہ انہیں پتھر کی ضرورت
صفحہ۴۰۰
تھی، جوہر درکار نہ تھا۔
حضرت خواجہ امام خزری رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے سنا ہے۔ فرماتے تھے کہ میں سرخس میں لڑکوں کی عمر کا تھا اور قرمز کے لیے شہتوت کے درخت کے پتے جھاڑنے کو ایک محلہ میں گیا اور پتے جھاڑ رہا تھا کہ شیخ ابو الفضل بن حسین رحمۃ اللہ علیہ اس کوچے سے گزرے۔ میں درخت پر تھا۔ آپ نے مجھے نہ دیکھا، میں نے ان کی طرف سے کوئی شک نہ کیا بلکہ میں نے اس امر پر یقین کیا کہ وہ ازخود غائب اور بدل بارگاہِ حق میں حاضر ہیں اور اس حال میں خوش ہیں، کہ لیکا یک آپ نے سرِ مبارک اُٹھایا اور فرمایا: الٰہی! ایک سال سے زائد ہو گیا کہ تو نے مجھے ایک وانگ بھی نہ دیا کہ سر کے بال تو درست کرا لیتا، کیا اپنے دوستوں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں! امام خزری فرماتے ہیں کہ اُسی وقت شہتوت کے تمام پتے اور ڈالیاں، تنا اور جڑ سب زَرِّیں ہو گئے۔
آپ نے یہ دیکھ کر فرمایا: تعجب ہے، آپ کی بارگاہ میں کنایہ کرنا یہ بھی موجبِ اعراض ہے۔ مقصود تو میرا یہ تھا کہ کشائشِ قلب کے لیے کوئی نعمت ملے اور یہ ظاہر یہ فرمایا۔ بے شک آپ کے حضور زبان ہلانا ہی جرم ہے۔
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ آپ نے چار ہزار دینار دجلہ میں پھینک دیئے۔ لوگوں نے کہا: شبلی کیا کر رہے ہو۔ فرمایا پتھروں کو پانی میں ہی رہنا بہتر ہے۔ لوگوں نے کہا کہ حضرت! بجائے اس کے کہ دریا میں پھینکتے لوگوں کو کیوں نہ دے دیئے۔ فرمایا: تم لوگ بھی خوب ہو۔ میں اپنے ربّ سے یہ چاہوں کہ میرے دل سے حجاب اٹھ جائے اور اس حجاب کو اپنے مسلمان بھائیوں پر ڈال دوں۔ یہ شرطِ دیانت نہیں کہ اپنے بھائی کے لیے وہ چیز پسند کروں جو اپنے لیے بدتر جان رہا ہوں (۱) اور یہ تمام کیفیت بحالتِ سکر ہوتی ہے۔
اس کی شرح ہم بیان کر چکے ہیں۔ یہاں تو اس کے بیان سے مقصود صرف اثباتِ کرامت ہے۔
پھر حضرت جنید بغدادی اور حضرت ابو العباس سیاری اور حضرت ابو بکر واسطی اور حضرت محمد بن علی ترمذی رضی اللہ عنہم اجمعین اس امر پر متفق ہیں کہ کرامت بحالتِ صحو و تمکین ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ حالتِ سکر میں، اور یہ تمام کے تمام اصحابِ مذہب ہیں۔
اس لیے کہ اولیاءِ الٰہی مدبرانِ ملک اور احوالِ عالم کے خبردار اور تمام عالم کے والی ہوتے ہیں اور نظامِ عالم ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ہر قسم کے حل و عقدان سے وابستہ ہوتے ہیں اور احکامِ
۱۔ بقولے: ہر چہ بر خود نہ پسندی بہ دیگراں مپسند
صفحہ۴۰۱
عالم میں ان کا تصرف ہوتا ہے۔ بنابریں یہ ضروری ہے کہ ان کی رائے تمام اہلِ الرائے پر فائق ہو اور تمام قلوب کے مقابلے میں مخلوق کے ساتھ ان کا دل شفیق تر ہو کیونکہ یہ لوگ خدا رسیدہ ہوتے ہیں اور ان کی ابتداءِ حال میں تکوین و سکر ہوتا ہے۔
اور جب ان کے حال کا بلوغ ہوتا ہے تو وہی تکوین تمکین کے ساتھ متبدل ہو جاتی ہے اور پھر وہ ولی حقیقتاً ولی ہوتا ہے اور اس کی کرامتیں صحیح ہوتی ہیں۔
اہلِ طریقت میں مشہور ہے کہ اوتاد ہر شب میں تمام جہان کی سیر کرتے ہیں اور اس سیر میں جو جگہ ان کی سیر سے رہ جاتی ہے وہاں لازمی طور پر خلل واقع ہوتا ہے۔ تو وہ اسی وقت قطبِ مدار کو حکم کرتے ہیں تا کہ وہ اپنی توجہ اور ہمت اس طرف مبذول کرے اور وہ خلل و نقصان ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ زائل فرما دے۔
اور جو یہ کہتے ہیں کہ عرفاء کے نزدیک سونا اور پتھر یکساں ہیں، یہ درحقیقت کیفیتِ سکر ہے اور دیدارِ یار میں نقصان اور کمی کے اندر ہوتا ہے اور یہ کوئی بڑا کمال نہیں، بلکہ کمال یہی ہے کہ عارف کی نظر میں سونا سونا ہو اور پتھر پتھر، مگر ان کی آفات پر ان کی نظر ہو اور وہ صاف کہہ سکیں: یَا صَفْرَاءُ یَا بَیْضَاءُ غُرِّیْ غَیْرِیْ غَیْرِیْ لَا بَنِیْ لَا اَمُوْتُ مَعَكُمَا۔ "اے سونے چاندی! میرے سوا کسی اور کو مغرور بنا، میں تیرے ساتھ مغرور نہیں ہو سکتا۔" (جیسا کہ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں مال کی فراوانی ملاحظہ فرما کر کہا تھا) تو جس پر سیم و زر کی آفت منکشف ہے اس کے لیے یہ سیم و زر آفت محل نہیں اور اس سے ان پر حجاب نہیں آتا بلکہ حقیقتاً وہ اسے ترک کرتے ہیں اور اس کا ثواب پاتے ہیں۔
اور جس کی نظر میں زر و کلوخ یکساں ہیں انہیں ترک کرنے سے کیا فائدہ اور ان کی طرف سے حکمِ ترک بھی بیکار ہے۔ تم نے دیکھا نہیں کہ حضرت حارث جب تک صاحبِ سکر رہے فرماتے تھے کہ میرے نزدیک زر و سنگ بکلوخ و دفتر ہ سب یکساں ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ صاحبِ صحو تھے اور آفاتِ فیضِ دنیا دیکھ چکے تھے اور اس کے ترک میں جو ثواب تھا وہ آپ پر روزِ روشن کی طرح عیاں تھا۔ جب دنیا اور مالِ دنیا سے ہاتھ اُٹھایا تو حضور ﷺ نے فرمایا: صدیق! بیوی بچوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو۔ عرض کی: اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کو۔
حضرت ابو بکر وراق ترمذی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے فرمایا کہ اے ابو بکر وراق! ہم تجھے آج ایک جگہ لے جائیں گے۔ میں نے عرض کی کہ حضور کا جہاں حکم ہو میں وہاں چلوں گا۔ چنانچہ حضرت محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ کے
صفحہ۴۰۲
ساتھ چلا اور تھوڑی دیر چلا تھا کہ ایک جنگل نظر آیا جو بکث اور دشوار گزار تھا اور اس کے اندر ایک زرّیں تخت بچھا ہوا دیکھا اور ایک سبز درخت کے نیچے ایک چشمہ جاری نظر آیا اور ایک بزرگ دیکھے جو اس تخت پر نہایت شاندار لباس میں تشریف فرما تھے۔
جب حضرت محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ اُن کے نزدیک پہنچے تو وہ بزرگ اُٹھے اور آپ کو اس تخت پر بٹھالیا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ ہر طرف سے لوگ آنے لگے۔ حتیٰ کہ چالیس آدمی اس جگہ جمع ہو گئے۔ پھر اُنہوں نے، جو تخت زریں افروز تھے، آسمان کی طرف اشارہ کیا، یکا یک کچھ کھانے کی چیز آ گئی۔ ہم سب نے اُسے کھایا۔ پھر حضرت محمد بن علی ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے کوئی سوال کیا۔ اُنہوں نے بہت تفصیل سے اس کا جواب دیا مگر میں ان کی گفتگو کو بالکل نہ سمجھ سکا۔ اس کے بعد سب نے اجازت لی اور رخصت ہوئے۔ مجھے بھی حکم ہوا کہ تو بھی جا، اب تو نیک اور سعید ہو گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد جب ہم ترمذ سے واپس آئے تو میں نے حضرت محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ حضور وہ کون سا مقام تھا اور وہ تخت پر جو تشریف فرما تھے کون تھے۔ فرمایا وہ مقام "تیہ بنی اسرائیل" تھا اور وہ بزرگ قطبِ مدار تھے۔
میں نے عرض کی حضور اتنی سی مدت میں ترمذ سے بنی اسرائیل کے جنگل میں ہم کیونکر پہنچ گئے۔ فرمایا، ابو بکر تجھے پہنچنے سے کام تھا، پوچھنے سے غرض نہیں ہونی چاہیے۔ یہ علامتِ صحتِ حال کی ہے نہ کہ سکر کی۔
اب ہم اس بحث کو مختصر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ اگر ہم اس کی تفصیل کی طرف مشغول ہو گئے تو کتاب طویل ہو جائے گی اور مقصود بیان رہ جائے گا۔
اب ہم بعض دلائل اور کرامات و حکایات بیان کریں گے تاکہ پڑھنے والا متنبہ ہو جائے اور علماء کے لیے ان کے بیان میں قوت دے اور محقق لوگوں کے لیے بہترین تذکرہ ہے اور عوام کو یقین حاصل کرنے میں مدد ملے اور ان کے شبہات رفع ہوں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
کراماتِ اولیاء
یاد رکھو کہ جب کرامتوں کا ثبوت دلیلِ عقلی سے ثابت ہو گیا تو اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دلیلِ نقلی سے بھی اس کا ثبوت واضح ہو جائے اور جو صحیح احادیث میں آیا ہے اور کتاب و سنت سے اس کی صحت ثابت ہے تو اس کا انکار کرنا نص کا انکار کرنا ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی﴾ (۱) "تم پر ہم نے بادلوں
۱۔ سورۃ البقرہ: ۵۷
صفحہ۴۰۳
کا سایہ کیا اور تمہارے لیے تم پر من و سلویٰ نازل فرمایا۔" منکروں میں سے کوئی اگر کہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا اور ہم معجزہ کے قائل ہیں، تو ہم کہتے ہیں کراماتِ اولیاء درحقیقت حضور ﷺ کا معجزہ ہے۔ اگر منکرین کہیں کہ یہ کرامتیں غیبت میں ہیں، ہم پر واجب نہیں کہ ہم اسے حضور ﷺ کا معجزہ تسلیم کریں ان کا معجزہ وہی تھا جو ان کے وقت میں تھا۔
ہم کہتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل سے غائب ہوئے اور کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو ان کی غیبت میں جو کچھ ظاہر ہوا وہ سب ان کی ہی طرف منسوب ہے۔ تو زمان اور مکان کی غیبت مساوی ہے۔ تو جب غیبتِ مکان میں یعنی موسیٰ علیہ السلام کے غائب ہونے کے بعد ان کا معجزہ روا ہے تو اس مقام پر صرف غیوبتِ زمانی حضرت محمد ﷺ کی ہے اور اولیاء کرام کا موجود ہونا ان کے زمانہ کی دلیل ہے تو ایسی صورت میں حضور ﷺ کے معجزات کا ظہور پردۂ اولیاء میں کیوں نا روا ہوا۔
دوسرے حضرت آصف بن برخیا کی جو کرامت ہے، وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی موجودگی میں ہے۔ چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے چاہا کہ تختِ بلقیس اس کے آنے سے پہلے آئے اور فرمایا: تم میں کون ہے جو اس تخت کو بلقیس کے آنے سے پہلے ہمارے سامنے پیش کرے۔ تو قرآن کریم میں ارشاد ہے: ﴿قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ﴾ (۱) "ایک جن نے عرض کی، میں اس تخت کو آپ کے دربار سے اُٹھنے سے پہلے حاضر کر سکتا ہوں۔" سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: اس سے بھی پہلے وہ پیش کیا جائے۔ تو حضرت آصف بن برخیا نے عرض کی: ﴿اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ﴾ (۲) "میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے وہ تخت حاضر کیے دیتا ہوں۔" تو جب سلیمان علیہ السلام نے اس تخت کو اپنے پاس دیکھا تو فرمایا: ﴿هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ﴾ (۳) "یہ میرے ربّ کا فضل ہے" اور اس دعوے سے حضرت سلیمان علیہ السلام نے انکار نہ فرمایا بلکہ وہ کرامتِ آصف دیکھ کر خوش ہوئے۔ اور فرمایا: ﴿هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ﴾ (۴) اور یہ حقیقت واقعہ ہے کہ تخت کا مُلکِ سبا سے طرفۃ العین میں حاضر کر دینا کسی صورت سے معجزہ سے کم نہ تھا بلکہ یہ کرامت تھی۔ اس لیے کہ آصف بن برخیا ہرگز پیغمبر نہ تھے اور معجزہ پیغمبر کے سوا جائز نہیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ یہ معجزہ نہ تھا بلکہ کرامت تھی۔ اگر معجزہ ہوتا تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے دستِ حق پرست سے اس کا مظاہرہ ہوتا۔
۱۔ سورۃ النمل: ۳۹ ۲۔ ایضاً: ۴۰ ۳۔ ایضاً ۴۔ ایضاً
صفحہ۴۰۴
دوسرے ہمیں قرآن کریم نے قصۂ مریم علیہا السلام میں خبر دی ہے کہ جب زکریا علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس تیز گرمی کے موسم میں، سردی کے موسم کے میوے دیکھے اور تیز سردی میں گرمی کے، حتیٰ کہ آپ نے ان سے دریافت فرمایا: ﴿اَنّٰی لَكِ هٰذَا﴾ (۱) "اے مریم! یہ میوے تمہارے پاس کہاں سے آتے ہیں۔" حضرت مریم علیہا السلام نے جواب میں عرض کی: ﴿قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ﴾ (۲) "کہا یہ سب میرے ربّ کی طرف سے آتے ہیں۔" حالانکہ یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام پیغمبر نہ تھیں اور حضرتِ جلت مجدہٗ عزّ اسمہٗ نے ہم کو غیر مبہم الفاظ میں دوسری جگہ خبر دی اور ان کے حالات سے مطلع فرمایا۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ﴿وَهُزِّیْٓ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا﴾ (۳) "اے مریم! اپنی طرف سے اس خرمہ کے درخت کی ڈالی ہلاؤ یہ تمہیں تازہ خرمہ گرائے گا۔"
علاوہ ازیں قصۂ اصحابِ کہف میں اس کتے کا اصحابِ کہف کے ساتھ مکالمہ کرنا اور ان کا اس غار میں ایک مدت مدید تک سونا۔ پھر بحالتِ خواب ان کا کروٹیں بدلنا اور دائیں بائیں پلٹنا۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ ۖ وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ﴾ (۴) "اور ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ پر بدلتے ہیں اور ان کا کتا اپنے بازو پھیلائے غار کے دہانہ پر ہے۔" یہ تمام باتیں خارقِ عادات امور میں سے ہیں۔
اور یہ نا قابلِ انکار حقیقت ہے کہ یہ معجزہ نہیں تو لازمی طور پر ماننا پڑے گا کہ یہ کرامت ہے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کرامت بمعنی استجابتِ دعوات ہو کہ شے موہوم و معدوم اس کے ذریعہ حاصل ہوتی اور ایسی شان سے کہ بعد مسافت سے ساعتوں میں تخت آ گیا اور کیا ہوا۔ غیر مقرر مقام پر اچانک کسی چیز کا آ جانا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو انسان کے وہم و گمان سے بالا تر ہیں اور اسی کے موافق مضامین احادیثِ صحیحہ میں حضور ﷺ سے وارد ہیں۔ چنانچہ حدیثِ الغار کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے کہ ایک دن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بارگاہِ رسالت میں عرض پیرا ہوئے کہ حضور! ہمیں عجائباتِ امم ماضیہ کا کچھ فرمائیں۔
۱۔ چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا: تم سے قبل تین آدمی کہیں جا رہے تھے۔ جب شام ہو گئی تو شب باشی کی غرض سے کسی غار کی تلاش کی اور رات وہاں سو گئے۔ کچھ رات گزری تھی کہ اچانک ایک بھاری پتھر اس غار کے منہ پر لڑھک آیا اور اس سے غار کا منہ بند ہو گیا۔ یہ تینوں سخت پریشان
ہوئے۔ ایک دوسرے سے کہنے لگے، اب یہاں سے ہمیں کوئی چیز ایسی نہیں جو نجات دلا سکے، سوا اس کے کہ اپنی عمر کے کسی نیک کام کو اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کر کے اسے نجات کا ذریعہ بنایا جائے۔
ایک ان میں سے بولا: میرے ماں باپ تھے اور میں مال و منالِ دنیاوی سے کچھ نہیں رکھتا تھا بجز ایک بکری کے، تو میں ہمیشہ اُس بکری کا دودھ انہیں پلا دیتا تھا اور لکڑیوں کا گٹھا جو جنگل سے لاتا اُسے فروخت کر کے اس کی قیمت سے سب کی پرورش کرتا۔ ایک روز مجھے دیر ہو گئی۔ جب میں آیا تو میں نے بکری کا دودھ نکال کر اس میں روٹی بھگوئی اور ان کے سونے کی جگہ آ کر ان کے پیروں کے پاس وہ پیالہ لیے کھڑا رہا اور خود بھی کچھ نہ کھایا کہ جب تک انہیں نہ کھلاؤں میں کیسے کھاؤں۔ ان کے بیدار ہونے کا انتظار کرتے کرتے صبح ہو گئی۔ جب وہ بیدار ہوئے اور کھانا کھا لیا تو میں بیٹھا۔ تو میں عرض کرتا ہوں الٰہی! اگر میں اس خدمت میں سچا ہوں تو مجھ پر کشادگی فرما اور میری فریاد رسی کر۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ پتھر اس توسل کی برکت سے ہلا اور کچھ کشادگی ہو گئی۔
دوسرا کہنے لگا: میرے چچا کی لڑکی حسین جمیلہ تھی جس پر میں فریفتہ تھا۔ میں اسے اپنی طرف بلاتا تو وہ رجوع نہ ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ میں نے اسے ایک سو بیس دینار بھیجے کہ وہ ایک شب میرے ساتھ خلوت کرے۔ جب وہ میرے پاس آ گئی تو میرے دل میں خوفِ خدا پیدا ہوا اور میں نے اس سے پرہیز رکھا اور وہ سنہری دینار بھی اُسے دے دیئے۔ یہ کہہ کر اس نے بارگاہِ متعال میں عرض کی: الٰہی! اگر میں اس بات میں سچا ہوں تو مجھے اس پتھر سے فراخی عطا کر۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ پتھر یک لخت ہلا اور غار پہلے سے کچھ زیادہ فراخ ہو گیا مگر ابھی اتنا فراخ نہیں ہوا تھا کہ آسانی سے باہر نکل سکیں۔
تیسرا بولا کہ میرے پاس مزدور کام کرتے تھے۔ دن گزرنے پر سب اپنی اپنی مزدوریاں لے جاتے تھے۔ ایک دن ایک مزدور غائب ہو گیا اور اس کی مزدوری میرے پاس رہ گئی۔ میں نے اس سے گوسپند خرید لیا۔ دوسرے سال وہ دو گوسپند ہو گئے۔ پھر وہ تیسرے سال چار ہو گئے۔ اسی طرح ہر سال بڑھتے رہے۔ جب چند سال گزر گئے تو یہ ایک مالِ عظیم بن گیا کہ وہ مزدور بھی آ گیا اور اس نے مجھ سے کہا میں نے آپ کی مزدوری کی تھی، شاید آپ کو بھی یاد ہو، اب مجھے اس کی ضرورت ہے مجھے دے دو۔ میں نے کہا جاؤ وہ تمام گوسپند اور مال ملکِ تیرا ہی ہے، تو لے لے۔ تو مزدور کہنے لگا: کیا آپ کو ناگوار گزرا۔ میں نے کہا نہیں درحقیقت وہ سب مال تیرا ہے، میں سچ کہہ
صفحہ۴۰۶
رہا ہوں۔ چنانچہ وہ سب مال میں نے اُسے دے دیا۔ الٰہی! اگر میرا یہ بیان صحیح ہے تو مجھے اس بلا سے نجات دے۔ حضور ﷺ نے فرمایا وہ پتھر دورِ غار سے ہلا اور نیچے گر گیا اور یہ تینوں آدمی وہاں سے باہر آ گئے۔
یہ حال بھی ناقص عادت تھا۔ (اور اسے بھی کرامت کہا جائے گا)
۲۔ اور حضور ﷺ سے ایک حدیث جریج راہب کی ہے جس کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: طفولیت کے ایامِ رضاعت میں اپنے گہوارہ میں کسی نے بات نہ کی مگر تین آدمیوں نے:
ایک عیسیٰ علیہ السلام نے جس کا تمہیں علم ہے۔ ﴿قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ۖ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا وَّجَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا﴾ (۱)
دوسرا بنی اسرائیل کا ایک راہب جس کا نام جریج مجتہد تھا۔ اس کی والدہ ایک گہوارہ رکھتی تھی۔ ایک دن اپنے بیٹے کو دیکھنے آئی۔ جریج اپنے صومعہ میں مصروفِ نماز تھے، دروازہ نہ کھولا، دوسرے روز پھر ایسا ہی ہوا، تیسرے روز آئیں، اس دن بھی صومعہ نہ کھولا۔ چوتھے روز بھی اسی طرح آئیں اور دروازہ نہ کھولا۔ تو ان کی والدہ نے تنگ آ کر کہا: الٰہی! اسے رسوا کر، میرا بیٹا ہو کر میرے حقِ مادریت کی بھی پرواہ نہیں کرتا، یعنی میرے حق کے معاملہ میں اس کی گرفت کر۔ اس زمانہ میں ایک بدچلن عورت تھی، اس نے کسی گروہ سے وعدہ کیا کہ میں جریج کو گمراہ کر دوں گی۔ چنانچہ وہ صومعہ یعنی عبادت خانہ جریج میں داخل ہوئی مگر جریج نے اس کی طرف اصلاً التفات نہ کیا۔
اس نے کسی چرواہے کے ساتھ حرام فعل کرایا اور حاملہ ہو گئی۔ جب بیٹا ہوا تو اس نے کہہ دیا کہ یہ بچہ جریج کا ہے۔ لوگوں نے جریج کی طرف انبوہِ کثیرہ کے ساتھ دھاوا بول دیا حتیٰ کہ انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر دیا۔ جب پیشی ہوئی تو جریج نے اس کے گود کے بچے سے فرمایا: اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ وہ شیر خوار مہد مادر میں گویا ہوا: "اے جریج میری والدہ تجھ پر جھوٹا اتہام لگا رہی ہے، میرا باپ ایک چرواہا ہے۔"
تیسرا مہد مادر میں بولنے والا ایک عورت کا شیر خوار بچہ ہے، جس کا یہ واقعہ ہے کہ: ایک عورت اپنی گود میں بچہ لیے اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھی تھی کہ ایک سوار حسین و جمیل جوان اور خوش پوشاک ادھر سے گزرا۔ عورت کہنے لگی: الٰہی! میرے اس بچے کو اس سوار جیسا رعنا کر دے۔ تو بچہ ماں کی گود سے کہنے لگا: الٰہی! مجھے اس سوار جیسا نہ کر۔ جب ایک مدت گزر گئی
۱۔ سورۃ مریم: ۳۰، ۳۱
صفحہ۴۰۷
تو ایک عورت بدنام اُدھر سے گزری۔ عورت کہنے لگی: الٰہی! میرے بچے کو اس عورت جیسا بدنام نہ کرنا۔ تو بچہ کہنے لگا: الٰہی! مجھے مثلِ اس عورت کے کر دے۔
بچہ کی ماں متعجب ہوئی اور کہنے لگی اس بچے نے ایسی دعا کیوں کی۔ بچہ کہنے لگا: یہ دعا میں نے اس لیے کی کہ وہ سوار ظالم و جابر لوگوں میں سے تھا اور یہ عورت نہایت نیک خصلت ہے مگر لوگ اسے بُرا کہتے ہیں اور عوام جانتے نہیں، میں نہیں چاہتا کہ میں ظالم و جابر بنوں۔ (۱)
۳۔ ایک حدیث زائدہ کنیز کی امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے کہ ایک روز حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور سلام عرض کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے زائدہ میرے پاس دیر سے کیوں آتی ہے۔ میں تجھے محبت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ زائدہ نے عرض کیا: حضور آج میں ایک عجیب و غریب بات لے کر حاضر ہوئی ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: وہ کیا ہے۔ عرض کیا: حضور! میں نے ایک لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر ایک پتھر پر رکھا کہ اسے اٹھاؤں کہ ایک سوار دیکھا جو آسمان سے زمین پر آیا اور مجھے سلام کر کے کہنے لگا: محمد ﷺ کی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا اور عرض کرنا کہ رضوان خازنِ بہشت نے عرض کیا ہے کہ حضور کو بشارت ہو کہ بہشت بریں آپ کی امت کے لیے تین طرح تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک تو اس گروہ کے لیے ہے جو بلا حساب و کتاب جنت میں داخل ہوگا۔ دوسرا حصہ اس گروہ کا ہے جو آسان حساب و کتاب سے جنت میں داخل ہوگا۔ تیسرا گروہ وہ ہے جو حضور کی شفاعت سے داخلِ جنت ہوگا۔ یہ کہا اور آسمان کی طرف چلا گیا۔
مجھ سے یہ گفتگو اس نے میان زمین و آسمان معلق رہ کر کی۔ پھر اس نے مجھے اس حال میں پایا کہ وہ گٹھا پتھر سے نہ اٹھا سکی تو اس سوار نے آواز دی: زائدہ گٹھا کو پتھر پر چھوڑ دے اور پتھر کو کہا: اے پتھر یہ گٹھا حضرت عمر تک لے جا۔ پتھر نے وہ گٹھا لیا اور میرے ساتھ آ کر درِ خانۂ عمر تک پہنچا گیا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ خانۂ عمر رضی اللہ عنہ پر تشریف لائے اور اس پتھر کے آنے کا اثر راہ میں ملاحظہ فرمایا اور اس پتھر کو بھی دیکھا اور فرمایا الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دنیا سے باہر نہ فرمایا (اگر ایسا ہوتا اور دنیا سے الگ ہوتے تو) رضوان میری امت کو بشارت نہ دیتا اور اللہ تعالیٰ میری امت سے کسی کو درجۂ مریم تک نہ پہنچاتا (مگر چونکہ ہم بھی تمہاری دنیا میں ہیں اور امت بھی اس لیے یہ عجائب و غرائب مشاہدہ میں ہے)۔
۱۔ چوتھا بچہ جس کا واقعہ کشف المحجوب میں نقل نہیں فرمایا، وہ حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت زلیخا کے مقدمہ میں بولنے والا بچہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ۔ (از مترجم)
صفحہ۴۰۸
گویا حضرت زائدہ کنیزۂ فاروق کو مثلِ مریم علیہا السلام یہ مشاہدہ ہو گیا۔
۴۔ مشہور ہے کہ حضور سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے علاء بن الحضرمی کو کسی غزوہ میں بھیجا۔ راستہ میں دریا کا کچھ حصہ پڑتا تھا۔ آپ جب وہاں پہنچے تو سطحِ آب پر قدم رکھ کر پار ہو گئے اور آپ کا پائے مبارک بھی تر نہ ہوا۔
۵۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ تشریف لے جا رہے تھے کہ جنگل میں آپ نے دیکھا کہ ایک گروہ رُکا کھڑا ہے اور شیر نے اُن کا راستہ روک رکھا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر فرمایا: او کتے! اگر تو بحکمِ الٰہی راستہ روک کھڑا ہے تو کھڑا رہ ورنہ ہٹ جا اور ہمیں راستہ دے تا کہ ہم گزر سکیں۔ وہ شیر دم ہلانے لگا اور راہ سے ہٹ گیا۔
۶۔ حضرت قطب الانبیاء سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ایک روایت مشہور ہے کہ آپ نے ایک آدمی کو ہوا پر بیٹھا ہوا دیکھا۔ فرمایا: اے خدا کے بندے یہ درجہ تو نے کیسے پایا۔ اس نے عرض کیا: تھوڑی بات سے۔ آپ نے فرمایا: وہ کیا بات تھی۔ عرض کیا: حضور! دنیا سے تنفر اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا اتباع۔ پھر مجھ سے کہا: آپ کیا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: میں بھی ہوا میں ٹھہرنے لگوں تا کہ میرا دل جہان سے آزاد ہو جائے۔
۷۔ جب ایک جوان مردِ مدینہ آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت حاضر ہونے کا ارادہ کیا۔ تو بتایا گیا کہ آپ اس خراب خانہ سے اپنی جان کو بے خبر کیے ہوئے ہیں۔ وہ چلا اور حضرت امیر المومنین سے ملا، دیکھا کہ آپ سو رہے ہیں زمین پر اور اپنا درہ سر کے نیچے رکھے ہوئے ہیں تو اس نے اپنے دل سے بات کی اور کہا اے عجمی! یہ تمام فتنہ اس جہان میں اس شخص سے ہی ہے، اب اس کا قتل میرے نزدیک آسان ہے۔ یہ سوچ کر اس نے تلوار سونتی کہ اچانک دو شیر ظاہر ہوئے جو اس جوان کی طرف جھپٹ رہے تھے۔ جوان یہ دیکھ کر پکارا اور فریاد کرنے لگا کہ حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ بیدار ہو گئے۔ آپ نے اس سے حال دریافت کیا۔ اس نے سب سرگزشت سنائی اور شرفِ اسلام سے مشرف ہو گیا۔
۸۔ روایت ہے کہ عہدِ خلافتِ صدیقی میں جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سوادِ عراق میں تھے تو بادشاہ کی طرف سے ایک پہلوان جو تحفے لے کر آیا اس میں ایک شیشی بھی تھی جس میں سخت زہر تھا اور کہا کہ اس سے زیادہ قیمتی چیز اس بادشاہ کے خزانے میں نہیں۔ حضرت خالد نے وہ شیشی کھولی اور کفِ دست پر اس میں سے ڈالا اور بسم اللہ پڑھ کر منہ میں ڈال لیا۔ آپ کو اس سے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا۔ لوگ متحیر ہو گئے اور اکثر راہِ راست پر آ گئے۔
صفحہ۴۰۹
۹۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبادانِ خاص میں سے ایک سیاہ فام جنگل میں رہتے تھے۔ ایک دن آپ نے ان کے لیے کچھ بازار سے خریدا اور ان کے پاس لے گئے۔ انہوں نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ فرماتے ہیں: میں نے کہا: حضرت! کچھ کھانا ہے، آپ کے لیے جنگل لایا ہوں کہ شاید آپ کو ضرورت ہو۔ تو وہ میری طرف اشارہ کر کے ہنسے۔ میں نے دیکھا کہ جنگل کے پتھر روڑے سب سونے کے ہیں۔ میں شرمندہ ہوا اور جو کچھ لے گیا تھا وہ سب وہیں چھوڑ کر ان کی ہیبت سے بھاگا۔
۱۰۔ حضرت ابراہیم ادھم فرماتے ہیں کہ میں ایک چرواہے کے پاس سے گزرا۔ میں نے اس سے پانی مانگا۔ اس نے مجھ سے کہا یہاں تو دودھ ہے اور پانی کہاں سے چاہتا ہے۔ میں نے کہا مجھے پانی چاہیے۔ تو وہ چرواہا اُٹھا اور اپنی لکڑی ایک پتھر پر ماری تو پانی کا چشمہ بہہ نکلا۔ میں یہ دیکھ کر متحیر ہو گیا تو وہ مجھ سے کہنے لگا تعجب نہ کر، جب بندہ اپنے ربّ کا مطیع فرمان ہو جاتا ہے تو عالم اس کا مطیع ہو جاتا ہے۔ (۱)
۱۱۔ حضرت ابو درداء اور سلیمان پارسی رضی اللہ عنہما آپس میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ پیالہ سے تسبیح کی آواز آنے لگی۔
۱۲۔ حضرت ابو سعید خراز رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ تین روز میں ایک وقت میں کھانا کھاتا تھا۔ ایک دن میں جنگل میں جا رہا تھا مجھے ضعف محسوس ہوا اور کھانا نہ ملا۔ طبیعت نے حسبِ عادت کھانا مانگا۔ میں ایک جگہ بیٹھ گیا۔ غیب سے آواز آئی کہ اے ابو سعید! نفس کو آرام دینے کو کھانا چاہتا ہے یا کھانے سے اپنی جسمانی سستی کو دور کرنا چاہتا ہے۔ میں نے جواب دیا، الٰہی! میں چلنے پھرنے کی قوت چاہتا ہوں۔ فوراً مجھ میں ایسی قوت آئی کہ بارہ منزل تک میں چلا گیا۔ حالانکہ میں نے کھایا کچھ بھی نہ تھا اور نہ کچھ پیا تھا۔
۱۳۔ مشہور ہے کہ حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ کے گھر کو تستر میں "بیت السباع" کہتے تھے۔ اس لیے کہ اہالیانِ تستر متفقہ طور پر کہتے ہیں کہ سہل بن عبد اللہ کے پاس درندے شیر وغیرہ آتے تھے اور آپ انہیں کھلاتے تھے اور رکھوالی فرماتے تھے با ایں کہ تستر میں کافی آبادی تھی۔
۱۴۔ حضرت ابو القاسم مروزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ابو سعید خراز کے ساتھ جا رہا تھا۔ کنارۂ دریا پر ایک جوان دیکھا کہ گدڑی پہنے ہوئے ایک حجرہ پہاڑ میں بنا کر رہتا تھا۔ حضرت
۱۔ مَنْ كَانَ لَهُ الْمَوْلٰی فَلَهُ الْكُلُّ۔ مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهٗ۔ جو اللہ کا ہو جائے تو اُس کا سب کچھ ہو جاتا ہے۔ جو اللہ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے تو اللہ اس کے لیے ہو جاتا ہے۔ (از مترجم)
صفحہ۴۱۰
ابو سعید نے فرمایا: اس جوان کی پیشانی عیاش معلوم ہوتی ہے اور اس کا عجیب حال ہے کہ جب سے دیکھتا ہوں تو کبھی سمجھتا ہوں کہ شاید یہ رسیدگانِ کمال سے ہے اور کبھی دیکھتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ یہ طالبِ حق ہے۔ آؤ اس سے باتیں کریں۔ چنانچہ خراز اس کے پاس پہنچے اور فرمایا: خدا تک پہنچنے کا کون سا راستہ ہے؟ اس جوان نے جواب دیا: دو راستے ہیں، ایک راہِ عوام ہے اور ایک راہِ خواص۔ اور تم کو راہِ خواص کی کچھ خبر نہیں۔ البتہ راہِ عوام یہ ہے کہ جس پر تو چل رہا ہے اور اسے واصلِ بحق ہونے کی علت جانتا ہے اور حجرہ کو آلۂ حجاب سمجھتا ہے۔
۱۵۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک جماعت کے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر مصر سے جدہ روانہ ہوا۔ ہمارے ساتھ ایک جوان خرقہ پوش بھی سوار ہوا۔ میرے دل میں اس کے پاس بیٹھنے کی خواہش ہوئی مگر اس کی ہیبت سے ہمت نہ پڑتی تھی۔ اس وجہ سے میں اس سے کلام بھی نہ کر سکا اس لیے کہ وہ بڑا بزرگ تھا۔ اس کی ایک ساعت بھی یادِ الٰہی سے غفلت نہ تھی۔ ایک روز کشتی میں لوگوں سے کسی کی تھیلی سے ایک جوہر گم ہو گیا۔ تھیلی والے نے اس جوہر کا الزام اس جوان خرقہ پوش کے سر لگایا اور اس کے ساتھ بدسلوکی کرنے پر آمادہ ہوئے۔ میں نے لوگوں کو روکا اور اس بہانے سے میں ان کے قریب ہو گیا اور گفتگو شروع کی۔ جب میں نے لوگوں کی بدگمانی ان پر ظاہر کی اور بتایا کہ ان کا گمان یہ ہے کہ وہ جوہر تھیلی سے آپ نے لیا ہے، اب فرمائیں کیا کرنا چاہیے۔ یہ سن کر اُس جوان باخدا نے آسمان کی طرف منہ کر کے کچھ فرمایا کہ میں نے دیکھا سمندر کی تمام مچھلیاں سطحِ سمندر پر آ گئیں اور ایک ایک جوہر منہ میں لیے ہوئے تھیں۔ آپ نے ایک جوہر لے کر اس کو دے دیا جس کی تھیلی کا جوہر گم ہوا تھا۔ کشتی کے سب لوگوں نے یہ کمال دیکھ کر آپ کی طرف عقیدت مندی کا مظاہرہ شروع کرنا چاہا۔ انہوں نے اس کشتی سے پاؤں دریا میں ڈال دیا اور سطحِ آب پر چلنے لگا۔ یہ جوہر چرانے والا ملاحوں میں سے ایک تھا۔ اس نے گھبرا کر وہ جوہر دے دیا اور اہالیانِ کشتی شرمندہ ہوئے۔
۱۶۔ حضرت ابراہیم وتی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ابتدائی عمر میں حضرت مسلم مغربی کی زیارت کا ارادہ کیا۔ جب میں ان کی مسجد میں آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ امامت کر رہے ہیں اور الحمد غلط پڑھ رہے ہیں۔ مجھے اس سفر پر ملال ہوا اور میں نے دل میں کہا کہ یہ محنت ضائع ہو گئی۔ رات تو میں رہا۔ صبح بغرضِ غسل میں دریائے فرات کے کنارے پر گیا۔ وہاں دیکھا کہ راہ میں ایک شیر سو رہا ہے۔ میں اُسے دیکھ کر واپس ہوا تو شیر نے میرا تعاقب کیا۔ میں گھبرایا اور پکارنے لگا کہ میں عاجز ہو گیا ہوں، کہ مسلم مغربی اپنے حجرے سے نکلے تو شیر انہیں دیکھ کر دم
صفحہ۴۱۱
ہلانے لگا۔ آپ نے اس کا کان پکڑا اور فرمایا: اے خدا کے کتے! میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے مہمانوں کو نہ چھیڑا کرو۔ پھر مخاطبہ کرتے ہوئے فرمایا: اے ابو اسحاق! (یہ ابراہیم وتی کی کنیت ہے) تم لوگوں کا ظاہر درست کرنے میں مشغول ہو اس لیے مخلوقاتِ الٰہی سے خوف زدہ ہو اور ہم باطن حالِ مخلوق کی اصلاح کرتے ہیں۔ اس لیے خلقتِ الٰہی ہم سے ڈرتی ہے۔
۱۷۔ ایک روز میرے شیخ رضی اللہ عنہ (یعنی حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مرشد) "بیت الجن" دمشق کا قصد فرما رہے تھے کہ بارش کی وجہ سے اتنی کیچڑ تھی کہ مشکل سے چلا جاتا تھا اور میں چلنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ میں نے اپنے شیخ قدس سرہٗ کو دیکھا کہ ان کے کپڑے اور نعلین مبارک بالکل خشک اور صاف تھے۔ فرمایا: ہاں! جیسے ہم نے اپنی ہمت توکل کی راہ سے اٹھائی ہے اور دل کو وحشت و حرص سے صاف کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کے غل و غش اور کیچڑ سے محفوظ کر لیا ہے۔
اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) نے ایک وقت جب کہ مجھے مشکل پڑی اور اس کا حل مجھ پر دشوار تھا تو میں نے زیارتِ شیخ ابو القاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ کا ارادہ کر کے طوس جانے کا قصد کیا تو میں نے دیکھا کہ آپ اپنے گھر کی مسجد میں تنہا تشریف فرماہیں اور میرے اس حال کا تذکرہ مسجد کے ستون سے فرما رہے ہیں جس کی وجہ سے میں حاضر ہوا تھا اور میں اپنے معاملے کا اسی گفتگو میں جواب پا رہا تھا۔ میں نے عرض کیا: حضور! یہ گفتگو کس سے فرمائے جار ہے ہیں۔ فرمایا: بیٹا! اس ستون کو اللہ تعالیٰ نے اس گھڑی ناطق کر دیا ہے تا کہ یہ مجھ سے سوال کرے اور فرغانہ سے سلا تک پہنچا دے۔ فرغانہ سے سلا تک وہ سرزمین ہے جس پر ایک ضعیف العمر منصبِ اولاد الاوالارض پر فائز رہتے ہیں۔ انہیں "بابِ عمر" کہتے ہیں اس لیے کہ اس ملک میں باب، درویش اور باخدا کو کہا جاتا ہے۔
اور ان کی ایک بجوزہ بڑھیا ہیں جن کا نام فاطمہ ہے۔ میں نے آذر کند سے اس کی زیارت کا قصد کیا۔ جب میں ان کے پاس گیا تو مجھ سے پوچھا: کیوں آیا ہے؟ میں نے عرض کی: شیخ کی زیارت کو تا کہ ان کی شفقت سے میں بھی فیض یاب ہو سکوں۔ تو انہوں نے فرمایا: بیٹے میں خود فلاں روز سے تجھے دیکھ رہا ہوں تا کہ مجھ پر غائب نہ ہو جائے اور میں تجھے چاہتا ہوں کہ دیکھتا رہوں۔ جب میں نے اس دن سے حساب لگایا تو وہ ابتدائی دن میری توبہ کا تھا۔ فرمایا: بیٹا سفر کرنا اور طے مراحل میں پڑنا بچوں کا کام ہے۔ اس زیارت کے بعد ارادہ کرکہ جسم کے روبرو ہونے میں کچھ تعلق نہیں بڑھتا۔ پھر فرمایا: فاطمہ! جو موجود ہے لاؤ تا کہ یہ درویش کھائے۔ ایک طبق تازہ
صفحہ۴۱۲
انگور کا لایا گیا۔ حالانکہ وہ موسمِ انگوروں کا نہ تھا اور کچھ چھوہارے بھی لائے گئے حالانکہ فرغانہ میں تازے چھوہارے ملنا ناممکن تھا۔
۱۸۔ ایک بار میں تربت حضرت شیخ ابو سعید رضی اللہ عنہ پر تنہا حاضر تھا کہ ایک کبوتر سفید دیکھا کہ آیا، زیرِ غلاف جا کر غائب ہو گیا۔ میں نے غلاف ہٹا کر دیکھا مگر وہ کبوتر غائب تھا۔ دوسرے روز بھی ایسا ہی دیکھا۔ میں متعجب تھا کہ یہ راز کیا ہے! حتیٰ کہ ایک شبِ خواب میں بھی دیکھا تو میں نے حضرت سے استفسار کیا۔ فرمایا وہ کبوتر ہمارے صفاءِ معاملت ہے ہر روز ہماری قبر میں آتا ہے۔
اگر اس کے علاوہ اور حکایتیں پیش کروں تو بھی سیری نہ ہو اور کتاب پُر ہو جائے اور اثباتِ اصولِ طریقت فروغ میں اور معاملات و مقالات میں ناقلانِ طریقت نے خود کئی کتابیں تصنیف کیں اور جمع کی ہیں اور مبلغین منبروں پر جو نشر کرتے ہیں سب ہی میں جی بھر کر اس کتاب میں لاتا ہوں تا کہ طالبِ معنی کو اور جگہ تلاش کی ضرورت نہ رہے۔
علاوہ اس کے مترجم کشف المحجوب میں یہاں ایک روایت زائد ملی ہے جسے شمس الہند مترجم کشف المحجوب نے نقل کیا ہے۔ وہ بھی ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ روایت سمرقندی کشف المحجوب میں بھی ہے۔
حضرت ابو بکر وراق رحمۃ اللہ علیہ روایت فرماتے ہیں کہ ایک روز محمد بن علی حکیم ترمذی نے اپنی تصانیف سے چند جز مجھے دیئے اور فرمایا: یہ دریائے جیحوں میں ڈال دے۔ جب میں باہر آیا تو میں نے دیکھا وہ جز نہایت عجیب علمی جواہر پارے تھے۔ میرا دل نہ چاہا کہ میں یہ تعمیلِ حکم دریا بُرد کروں۔ میں نے بجائے دریا بُرد کرنے کے وہ جز اپنے پاس محفوظ کر لیے اور واپس آ کر عرض کر دیا کہ حسبِ حکم وہ اجزاء دریا بُرد کر آیا ہوں۔ مجھ سے سوال ہوا کہ جب تو نے وہ جز دریا میں ڈالے تو کیا دیکھا۔ میں نے جواب دیا۔ کچھ نہیں۔ فرمایا: پھر تو نے وہ جز دریا بُرد نہیں کیے۔ میں حیران تھا کہ دریا میں ڈالنے کے بعد کیا نظر آنا تھا جس کی وجہ سے مجھ پر حکم لگا دیا کہ تو نے وہ اجزاء دریا بُرد نہیں کیے۔ آخرش بادلِ نخواستہ میں وہ اجزاء لے کر جیحوں پہنچا اور وہ جزیں دریا میں ڈال دیں۔ اُن اجزاء کا دریا میں ڈالنا تھا کہ دریا پھٹا اور اس سے ایک صندوق برآمد ہوا اور اس کا ڈھکنا کھلا اور اس میں وہ اجزاء داخل ہو گئے، پھر صندوق کا منہ بند ہوا اور وہ دریا میں بہہ گیا اور پانی کی سطح ہموار ہو گئی۔
میں حاضر ہوا اور اطلاع دی کہ وہ اجزاء اب ڈال کر آیا ہوں۔ اس کے بعد جو میں نے دیکھا تھا سب سنا دیا۔ فرمایا: ہاں اب تو نے یقیناً وہ اجزاء دریا بُرد کر دیئے۔ میں نے عرض کی، حضور! اس راز سے مجھے بھی مطلع فرمائیں۔ آپ نے فرمایا ہم نے علمِ
صفحہ۴۱۳
طریقت پر ایک کتاب لکھی تھی جو عقولِ انسانی کے فہم سے بالا تھی تو میرے بھائی حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا وہ کتاب ہمیں دے دو۔ چنانچہ انہیں کے حکم سے وہ صندوق آیا تھا اور بحکمِ الٰہی وہ اسی راستے سے حضرت خضر علیہ السلام تک پہنچ گیا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ وَ عِلْمُهٗ اَحْكَمُ وَاَتَمُّ۔
انبیاء کی اولیاء پر فضیلت
اچھی طرح یاد رکھو کہ ہر وقت ہر حال میں بالاتفاق جمیع مشائخِ طریقت اولیاء، متابعتِ انبیاء میں ہیں اور ان کی دعوت کے مصداق۔ اور یہ بھی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ انبیاء کا رتبہ اولیاء سے فاضل و افضل ہے۔ اس لیے کہ نہایتِ ولایت ابتداءِ منصبِ نبوت ہے۔ اسی بناء پر ہر نبی کا ولی ہونا لازمی ہے لیکن کوئی ولی نبی نہیں ہو سکتا۔
انبیاءِ کرام علیہم السلام نفیِ صفاتِ بشری کے اندر متمکن ہوتے ہیں اور اولیاء کرام کا ہر حال عارضی ہوتا ہے۔ (۱) اولیاء کرام کا جو مقامِ اعلیٰ ہے وہ انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک مقامِ حجاب ہے۔ اس تفصیل سے تمام محققینِ طریقت متفق ہیں۔ کسی نے اس کے خلاف نہیں کہا۔ سوائے گروہ حشویہ کے، جو خراسانی ہے۔ ان کا کلام متکلمین کے کلام سے متناقص ہے اصولِ توحید میں، کہ انہوں نے اصلِ توحید کو نہیں سمجھا اور برخود غلط اپنے کو ولی کہلاتے ہیں اور اس میں شک بھی نہیں کہ وہ ولی ہیں مگر ولیِ شیطان۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اولیاء معاذ اللہ انبیاء سے فاضل تر ہیں اور یہ دعویٰ ان کے لیے خالص گمراہ کرنے والا ہے۔ اس لیے کہ ایک جاہل کو فاضل تر جنابِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء سے ماننا ضلالت ہے۔
دوسرا ایک گروہ مشبہ سے ہے۔ وہ بھی ایسے ہی گمراہ راستہ پر ہے۔ وہ حلول و نزولِ حق بمعنی انتقال روا رکھتا ہے اور ذاتِ واحد تعالیٰ شانہٗ کی تجزی روا مانتا ہے اور یہ دونوں گروہ مذہب میں مذموم ہیں۔
ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اس کتاب میں ان کا مفصل حال بیان کریں گے ان شاء اللہ۔ یہ دونوں گروہ مدعیِ اسلام بھی ہیں اور نفیِ تخصیصِ انبیائے کرام بھی کرتے ہیں اور جو نفیِ تخصیصِ انبیاء کرام کا عقیدہ رکھے وہ کافر ہے۔ اس لیے کہ انبیاء کرام صلواۃ اللہ والسلام علیہم داعی الی اللہ ہیں اور اولیاء عظام تمام ان کے تابع ہیں اور یہ محال ہے کہ ماموم امام سے فاضل تر ہو، تمام صفات میں سے کسی صفت میں۔
۱۔ گہے بر تارمِ اعلیٰ نشینند ۔ گہے بر بہشت پائے خود نہ بینند (مترجم)
صفحہ۴۱۴
اچھی طرح سمجھ لو کہ اگر احوال و انفاس جملہ اولیاء کو انبیاء کے ایک قدمِ صدق کے پہلو میں لایا جائے تو وہ تمام احوال و انفاس اس مقام کے متلاشی نظر آئیں گے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمام اولیائے کرام گروہِ انبیاء کے آستانہ کے طالب ہیں اور یہ راہِ متعین پہ چل رہے ہیں اور اپنا مقصود پا چکے ہیں۔
اب ان کا ہم میں اور اولیاء میں تشریف لانا بحکمِ دعوت ہے کہ قوم کو ہانکیں اور منزل کی طرف چلائیں اور اگر کوئی ملحد ملاحدہ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ سے کہے کہ یہ عادتِ قدیم ہے کہ جو رسول کسی طرف آتا ہے وہ ملک ہی ہوتا ہے تا کہ مبعوث الیہ اس سے فاضل تر ہو۔ جیسے کہ پیغمبرانِ اولو العزم صلواۃ اللہ علیہم اجمعین جبرائیل علیہ السلام سے افضل ہیں، یہ تمام صورتیں مبنی بر خطا ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی بادشاہ کسی کو پیامبر کر کے بھیجے کسی کی طرف تو اس اصول کے تحت لازم ہوگا کہ مرسل الیہ اس قاصد سے افضل ہو۔ جیسے کہ جبرائیل علیہ السلام کسی رسول کی طرف آئیں تو ہر رسول کا جبرائیل (علیہ السلام) سے افضل ہونا لازم ہے۔ لیکن جب خود رسول من جانبِ اللہ کسی قوم یا جماعت کی طرف مبعوث ہو تو لامحالہ اس قوم سے وہ رسول افضل ترین ہوگا۔ جس طرح کہ پیغمبرانِ اولو العزم امتوں سے افضل ہوتے ہیں اور اس حقیقت میں کسی عقلمند کو بموجبِ احادیثِ صحیحہ کوئی اشکال واقع نہیں ہو سکتا بلکہ نفسِ نفیسِ انبیاء کرام کا تمام عالم سے افضل ہونا مسلّم ہے۔
اولیاء کرام اگرچہ عرف و عادت میں نہایت عرفان کو پہنچے ہوئے ہیں اور اپنے مشاہدات سے خبر دیتے ہیں اور حجابِ بشریت سے خلاصی پا چکے ہیں، لیکن باوجود ان تمام فضائل کے وہ عین بشر ہوتے ہیں اور پھر رسول کو جو اول قدمِ صدق کو مشاہدہ ہوتا ہے، وہ بہ ہدایتِ رسول ولی کا درجۂ نہایت ہوتا ہے۔ اسے پہلے نظریات پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہیں۔
کیا تو نہیں دیکھتا کہ طالبانِ حق از اولیاء اس امر پر متفق ہیں کہ مقامِ جمع تفاریقِ کمالِ ولایت سے ہے اور اس کی صورت اس طرح ہے کہ جب بندہ ایک کسی درجہ کو پہنچتا ہے تو غلبۂ دوستی کی وجہ سے اس کی عقل نظر کرنے سے مغلوب ہو جاتی ہے اور شوقِ فاعلِ حقیقی سے حیرت میں آ کر کہہ دیتا ہے کہ تمام عالم وہی ہے اور وہ اپنی نظرِ باطن سے دیکھتا بھی ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ ابو علی رود باری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لَوْ زَالَتْ عَنَّا رُؤْیَتُهٗ مَا عَبَدْنَاهُ۔ "اگر جمالِ جمیل دیدہ ہم سے زائل ہو جائے تو اسمِ عبودیت ہم سے ساقط ہو جائے اور شرفِ عبادت بغیر دیدارِ یار میسر نہیں۔" اور یہی معنی انبیاء کرام کے ہدایت حال کے ہیں کہ ان کے لیل و نہار تفرقہ صورت نہیں پکڑتے۔ اس لیے کہ ان کی نفی و اثبات اور مسلک و مقطع و اقبال و اعراض و ہدایت و نہایت تمام عینِ جمع میں ہیں۔ جیسے
صفحہ۴۱۵
کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب آفتاب کو دیکھا فرمایا: ﴿هٰذَا رَبِّیْ﴾ (۱) اور چاند ستارے کو دیکھا تو فرمایا: ﴿هٰذَا رَبِّیْ﴾ اس کی وجہ صرف غلبہ تھا، جو اُن کے دل اور ان کی اجماع کے اندر عین صحیح تھا تو وہ اپنی نظر میں کسی کو غیر نہیں دیکھتے تھے۔
جب سب کا ملاحظہ فرمایا تو اپنے عینِ دیدار میں سب سے تبرّی فرما کر کہہ دیا: ﴿لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ﴾ (۲) تو ان کی ابتدا جمع کے ساتھ تھی اور انتہا بھی جمع کے ساتھ۔ اس لیے کہ ولایت کے لیے ہدایت و نہایت ہے اور نبوت کے لیے نہیں۔ جب علمِ اللہ میں تھے نبی تھے، جب ظاہر ہوئے نبی ہوئے۔
حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے حال کس طرح ہیں۔ آپ نے فرمایا: معاذ اللہ ہمیں ان کے حال پر کوئی تصرف حاصل نہیں جس کی تصویر ہم تمہیں دکھا سکیں جو ہم ہیں وہ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی نفی و اثبات ایک ایسے درجے میں رکھی ہے کہ چشمِ مخلوق وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔ تو جس طرح مراتبِ اولیاء ادراکِ خلق سے پنہاں ہیں، تمام تر انبیاء تصرف و ادراکِ اولیاء سے نہاں ہیں۔
حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ با آنکہ محبّ روزگار ہیں۔ فرماتے ہیں:
"میں نے دیکھا کہ میرا سر آسمان پر لے گئے اور کسی چیز پر نگاہ نہ کی اور بہشت و دوزخ اُسے دکھائے تو اُس نے بھی اس کی کسی چیز پر التفات نہ کیا تو مکتومات و حجابات سے اُسے عبور کرا کے دیکھا تو میں ایک پرندِ مرغ ہو گیا۔ جس کا جسم احدیت تھا اور پر و بال دیمومیت سے تھے۔ وہ اُڑتا رہا حتیٰ کہ ہوائے ہویت سے گزر کر تو امیدانِ ازلیت میں پہنچ کر مشرف ہوا۔ وہاں میں نے درخت احدیت کو دیکھا۔ تو جب میں نے اس پر نظر کی تو سب کچھ میں ہی نظر آیا۔"
تو میں نے عرض کی: الٰہی! تو میرے ساتھ ہے مگر مجھے تجھ تک پہنچنے میں کوئی راہ نہیں ملتی
۱۔ سورۃ الانعام: ۷۷ ۲۔ سورۃ الانعام: ۷۶
صفحہ۴۱۶
اور مجھے اپنی خودی سے گزرنا ممکن نہیں تو مجھے کیا کرنا چاہیے۔ فرمانِ الٰہی آیا، کہ اے بایزید! تیری خلاصی تجھی سے ہے۔ تو میرے دوست کی متابعت میں رہ اور اس کے خاکِ قدم کا سرمہ آنکھوں میں ڈال اور اس کی اطاعت پر مداومت کر۔
یہ حکایت بہت طویل ہے۔ اسے اہلِ طریقت "معراجِ بایزید" کہتے ہیں اور معراج سے قربِ خاص مراد لیتے ہیں۔ تو معراجِ النبی الانبیاء ﷺ بطورِ ظہور معہ شخصیت و جسم تھی اور معراجِ اولیاء کرام از روئے صرفِ ہمت اور اسرارِ تن۔ انبیاء علیہم السلام صفا و پاکیزگی سے مقرب بہ بارگاہ تھے مثلِ دلِ اولیاء اور یہ ان کا سرِّ خاص تھا اور فعل ظاہر۔
اسے یوں سمجھو کہ ان کے دل کو حال میں مغلوب کر دیا گیا تا کہ مست ہو جائیں اور درجاتِ سر میں اتنے غائب ہوں کہ قربِ حق میں پہنچ کر آرام کریں اور جب حالتِ صحو میں ہوں تو وہ تمام براہین ان کے دل پر صورت بن کر سامنے ہوں اور وہ علم انہیں حاصل ہو۔ تو ثابت ہوا کہ فرق بہت ہے اس شخص میں جسے وہاں لے جایا جائے کہ اس میں دوسرے کا فکر ساتھ ہوتا ہے۔
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
انبیاء و اولیاء کی فرشتوں پر فضیلت
اہلسنت و جماعت اور جمہور مشائخِ طریقت کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء کرام اور جو محفوظ ہیں، وہ ملائکہ سے افضل ہیں۔ بخلافِ معتزلہ، کہ یہ ملائکہ کو انبیاء پر فضیلت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملائکہ بلحاظِ رتبہ رفیع تر ہیں اور من حیث التخلیق لطیف تر ہیں اور اطاعتِ الٰہی میں ایسے مطیع کہ لَا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَا اَمَرَهُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۔ ان کی تعریف قرآن کریم میں ہے۔ (۱)
میں (یعنی حضور داتا صاحب گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ حقیقتاً تمہارا یہ دعویٰ خلافِ حقیقت ہے، اس لیے کہ تنِ مطیعِ مرتبۂ رفیع اور تخلیقِ لطیف یہ سب فضیلت میں حق تعالیٰ کی علت نہیں ہو سکتے۔ درحقیقت فضیلت اسے ہے کہ حق تعالیٰ اس میں رکھے اور اگر انہی علل و اسباب کو ملحوظ رکھ کر فضیلت تسلیم کی جائے تو شیطان لعین کو بھی افضل ماننا پڑے گا حالانکہ وہ بالاتفاق ملعون و معزول ہو چکا ہے۔
تو فضیلت اس کے لیے مختص مانی جائے گی، جسے حق تعالیٰ شانہٗ افضل فرمائے اور مخلوق میں سے برگزیدہ کرے اور ملائکہ پر افضلیتِ انبیاء کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ
۱۔ تو ان کا سب سے افضل ہونا ضروری ہے۔ (مترجم)
صفحہ۴۱۷
حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ (۱) اور یہ حقیقت ہے کہ حالِ مسجود عالی ہونا چاہیے حالِ ساجد سے، اور اگر کہیں کہ خانہ کعبہ پتھر اور بے جان مصالحہ کا ہے اور مومن اس سے فاضل تر ہوتا ہے تو اُسے سجدہ نہیں کرنا چاہیے مگر انسان اسے سجدہ کرتا ہے۔ تو اسی طرح روا ہو سکتا ہے کہ ملائکہ افضل بھی ہوں اور سجدہ بھی کر لیں۔
میں کہتا ہوں کہ دنیا میں کوئی یہ نہیں کہے گا کہ میں خانہ کعبہ کو یا محراب یا دیوار کو سجدہ کرتا ہوں مگر یہ سب ضرور کہیں گے کہ سجدہ ہمارا اللہ تعالیٰ کو ہے (اور سمتِ کعبۃ اللہ ہے)۔ تو اسی طرح سب یہی کہتے ہیں کہ ملائکہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جو سجدہ کیا وہ بہ امتثالِ امرِ الٰہی کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: ﴿اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ﴾ (۲) "یعنی ہم نے ملائکہ کو حکم دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو"، مگر ذکرِ مومنین کیا تو فرمایا: ﴿وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ﴾ (۳) "یعنی سجدہ کرو اللہ تعالیٰ کو اور اسی کی بندگی کرو۔" تو خانہ کعبہ مثلِ آدم تھا۔ تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسافر گھوڑے پر سوار ہو کر اللہ تعالیٰ کی پرستش کر سکتا ہے، اگرچہ اس کا منہ کعبۃ اللہ کی طرف نہ ہو تو وہ معذور ہوگا اور اگر دلائلِ سمتِ قبلہ جنگل بیابان میں گم ہو جائیں تو جدھر منہ کر کے عبادت کرے، کر سکتا ہے اور ملائکہ کو سجدہ کرنے میں آدم علیہ السلام کی طرف کوئی عذر نہ تھا اور وہ ابلیس جب اپنی طرف سے عذر رکھ کر سجدہ سے منحرف ہو گیا تو ملعون و رذیل ہو گیا۔ یہ دلائل واضح ہیں کہ انہیں جن کو بصیرت تھی اور انہیں جو ملکِ مقرب تھے، دونوں کس طرح حقِ معرفت میں برابر رہ سکتے ہیں۔
اس لیے کہ انہیں عام مخلوق کی سی شہوت نہیں تھی اور وہ اپنے دل میں حرص و آفت نہیں رکھتے تھے۔ ان کی غذا اطاعتِ حق تعالیٰ، ان کا مشرب امتثالِ امرِ الٰہی۔ اور ہر آدم کے خمیر میں من حیث الانسان شہوت کا مرکب ہونا ضروری اور اس سے ارتکابِ گناہ ممکن اور خواہشِ دنیا و حرص اس کی طبیعت کا جز۔ پھر شیطان کو اس کے وجود میں اس قدر تصرف حاصل ہے کہ اس کے تمام دنیائے جسم میں خون کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ (۴) اس کے ساتھ وہ نفسِ امارہ، جو تمام شرارتوں کا داعی ہے اس کے وجود میں مضمر ہے۔
تو غور کرو! جس کے وجود میں یہ سہ صفتیں موجود ہوں اور وہ باوجود احکامِ غلبۂ شہوت، ہر فسق و فجور سے اجتناب کرے اور باوجود حرص و ہوا کے دنیا سے انحراف کرے اور باوجود کہ اس کے
دل میں وساوسِ شیطان ہر آن پیدا ہوں، گناہ سے بچے اور آفتِ نفسانی سے اعراض رکھے اور عبادت پر قائم اور اطاعت پر دائم رہ کر مجاہدۂ نفس کرے اور شیطان سے مجادلہ میں مشغول ہو، وہ بہر حال افضل ہوگا، اس سے جس کے وجود میں شہوانیات نہ ہوں۔ جس کی طبیعت میں نہ لذات و شہواتِ غذا ہوں، جو عورت اور اولاد سے بے تعلق ہو، آلہ اور سبب کا محتاج نہ ہو، نہ حرص و آفاتِ نفس میں مبتلا ہو۔ مجھے اپنی جان کی قسم! کہ مجھے تعجب ہے کہ اُن پر جو فضیلتِ افعال میں دیکھتا ہے یا جمال و مال میں عزت و بزرگی جانتا ہے۔ اسے چاہیے کہ مالکِ اعیان کے فضل و انفضال کو دیکھے۔ پھر اُسے ظاہر ہو باہر ہو جائے گا اور وہ سمجھ لے گا کہ رضائے حق میں عزت ہے اور معرفتِ ایمان میں بزرگی ہے۔ پھر اس پر یہ نعمتِ الٰہی دوام رہے گی اور دونوں جہان میں اس کا دل خوش رہے گا اور وہ سمجھ لے گا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام جو کوئی ہزار سال سے انتظارِ خلعت میں عبادت کر رہا تھا، وہ صرف غاشیہ برداری جنابِ مصطفیٰ ﷺ چاہتا تھا، تا کہ لیلۃ المعراج میں حضور ﷺ کے براق کی باگ تھامے۔ وہ کس طرح افضل ہو سکتا ہے اس سے جو دنیا میں نفس کو ریاضت سے مغلوب کر چکا ہو۔ شب و روز مجاہدہ کر کے فضلِ الٰہی کے ساتھ دیدارِ حق سے مشرف ہوا ہو اور تمام خطرات سے سلامت رہا ہو، اگرچہ ملائکہ نے جب اپنی ذات میں صفا و نور دیکھا تو انہوں نے اپنی فضیلت کی دلیل دی اور مخلوقِ انسان پر زبانِ ملامت دراز کی۔ (۱)
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا حال ظاہر فرمانے کو انہیں حکم دیا۔ تم میں سے تین فرشتے جو سب سے زیادہ تمہاری نظر میں بزرگ ہوں، انہیں پیش کرو تا کہ وہ زمین پر جائیں اور زمین کے خلیفہ بنیں، ہماری مخلوق کی اصلاح کریں اور ان میں اپنے عدل و انصاف کا سکہ بٹھائیں۔ غرضیکہ تین منتخب ہوئے۔ ایک تو زمین پر اُترنے سے پہلے ہی فسادِ نفس کا شکار ہو گیا، اسے تو واپس کیا گیا۔ دو جور ہے، وہ زمین پر آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خلقتِ ملکی بدل کرانہیں جبلتِ انسانی دی، جس سے وہ خور و نوش کی طرف مائل ہوئے، رگِ شہوانی نے بھی انہیں خراب کیا۔ (۲)
مختصر یہ کہ جو ہُوا وہ ہُوا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں شہوانیات کے بدلے سزا دی۔ اس سے ملائکہ پر انسانی فضیلت کا مظاہرہ فرمایا۔ غرض کہ خاص مومن، خاص فرشتوں پر فضیلت رکھتا ہے اور
۱۔ اور عرض کیا: اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَیَسْفِكُ الدِّمَآءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ۔ تو اجمالاً جواب دیا۔ قَالَ اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ (البقرہ: ۳۰) (مترجم)
۲۔ یہ وہی فرشتے ہیں جنہیں ہاروت، ماروت کہا جاتا ہے۔ جن کا تذکرہ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَمَارُوْتَ۔ (البقرہ: ۱۰۲) آیہ کریمہ میں ہے۔ (مترجم)
صفحہ۴۱۹
عام مومن، عام ملائکہ سے افضل ہے۔ تو جو انسان معصیت شعاری سے اجتناب کرے اور ارتکابِ منہیات سے بچار ہے، وہ جبرائیل و میکائیل سے افضل ہے اور جو معصوم تو نہیں مگر گناہ سے بچنے میں کوشاں رہے وہ کراماً کاتبین اور حفظہ سے افضل ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
غرض کہ اس بحث میں بہت سے کلام ہیں اور ہر ایک شیخِ محقق نے علیحدہ علیحدہ بیان دیئے ہیں، بہر حال جسے اللہ تعالیٰ چاہے فضیلت دے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ
یہ نیک مذہب حکماء نے تصوف سے متعلق جو کہا ہے اور صوفیوں نے اس سے جو اختلاف کیا ہے، وہ مختصراً بیان کر دیا گیا اور حقیقت تو یہ ہے کہ ولایت اسرارِ الٰہی سے ایک سرّ ہے، اس پر چلنے کے بغیر کچھ ظاہر نہیں ہوتا۔ اور "ولی را ولی می شناسد" اسی لیے کہا گیا۔ اس لیے کہ اسرارِ اولیاء کا اظہار اگر عقولِ انسانی پر روا ہوتا تو دوست اور دشمن، واصل و غافل میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتی۔ بنابریں مشیتِ الٰہی کا مقتضیٰ ہی یہ ہے کہ اس کوچہ میں آنے والا دوستی کے جو ہرِ جان "کربلا" کے دریا میں غوطہ زنی کرے اور طلبِ حق میں اپنی عزیز جان دینے سے بھی خائف نہ ہو۔ (۱)
اس جان ستاں بحرِ عمیق میں غوطہ لگا کر اس کی تہہ میں پہنچ کر (عروج و نزول کے نشیب فراز دیکھ کر) جب واپس ہو تو بامراد واپس ہو یا جان سپرد جانا ں کر کے جان سے گزر جائے۔
میں چاہتا ہوں کہ اس بحث کو طول نہ دوں، اس لیے کہ مجھے اس کتاب کے پڑھنے والے کی علالتِ طبع اور سیری کے بعد عدم تو جہی کا خطرہ ہے۔ یوں میرا قلم رک گیا ہے اور یہ بھی بات ہے کہ مریدِ صادق کے لیے طریقت میں اتنا ہی کافی ہے۔
اور خرازیوں کے طبقہ کو حضرت ابو سعید خراز کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ ان کی اس طریقت میں بہت تصانیف ہیں۔ وہ مجرد ہونے اور خلقت سے علیحدہ رہنے میں بہت دسترس رکھتے ہیں۔ انہوں نے فنا و بقا کے تمام طریقہ کو صرف دو عبارتوں میں مخفی کیا ہے۔ لہٰذا اب ہم ان عبارتوں کے صحیح معنی اور اس گروہ کی غلطیاں اب اس باب میں لاتے ہیں تا کہ سائل سمجھ سکے کہ ان کا مذہب کیا ہے اور ان عبارات متداولہ سے اس گروہ کا کیا مقصود ہے۔
۱۔ اور بقولِ اقبال: بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی کے مطابق اس جان ستان بحرِ عشق سے گزر جانے تک۔
صفحہ۴۲۰
فنا و بقا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ﴾ (۱) "یعنی جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ کم ہوتا جائے گا اور جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔" اور دوسری جگہ فرمایا: ﴿كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ ۚ وَیَبْقٰی وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ﴾ (۲) "جو کچھ زمین پر ہے وہ سب کچھ فنا ہونے والا ہے اور تیرے ربّ کی ذات باقی رہے گی جو صاحبِ جلال و اکرام ہے۔"
اب یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ از روئے علم، فنا و بقا کسے کہتے ہیں اور اربابِ حال کی زبان میں اس کے کیا معنی ہیں۔ اور ظاہر یہ ہے کہ اربابِ ظواہر اس لغت کی کسی عبارت سے اتنے متحیر نہیں جتنے اس گروہ کے لوگ تحیر میں ہیں۔ بقا از روئے لغت تین قسم پر ہے: ایک وہ کہ ایک طرف بقا ہو تو اس کے دوسری طرف فنا ہو اور اس کی پہلی طرف بھی درحقیقت فنا ہو۔ جیسے یہ جہان کہ اس کی ابتداء کتمِ عدم میں تھی اور انتہا بھی منصۂ شہود پر آنے کے بعد عدم ہی ہے، اس کے مابین اس وقت باقی ہے۔
دوسری قسم یہ کہ بقا درحقیقت اوّل نہ ہو اور جو ہو وہ فانی نہ ہو۔ جیسے جنت، دوزخ اور جہانِ عقبیٰ اور یہ جہان۔ تیسری قسم وہ بقا ہے جو حق ہے۔ جیسے بقائے حق تعالیٰ اور اس کی صفات لم یزل ولایزال کہ وہ بھی اس کی ذات کے ساتھ قدیم ہیں۔ اس بقا سے مراد دوام اور ابدیت وجود ہے اور اس میں کسی کو اس کے ساتھ مشارکت نہیں، تو وہ علمِ فنا ہے جسے تو دیکھ رہا ہے کہ وہ فانی ہے اور علمِ بقا وہ ہے کہ جو عقبیٰ میں ہے کہ وہ باقی ہے۔ جیسے ذاتِ حق تعالیٰ شانہٗ اور ﴿وَالْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی﴾ (۳)۔ اس جگہ عقبیٰ بصیغۂ مبالغہ فرمایا، اس لیے کہ اس جہان کی وہ بقا ہے جسے فنا نہیں ہے۔
لیکن فنا و بقا کا یہ حال ہے کہ جب جہل فانی ہو جائے تو علم لامحالہ باقی ہوتا ہے اور جب معصیت فانی ہو جائے، اطاعت باقی رہتی ہے اور جب بندہ علمِ طاعت اپنے میں حاصل کر لیتا ہے، غفلت فنا ہو جاتی ہے۔ تو بقا کا ذکر یہ ہے کہ جب بندہ بحق عالم ہوتا ہے تو اس کا علم باقی ہوتا ہے اور جہل اس سے فانی ہو جاتا ہے۔ اور جب غفلت فانی ہو جاتی ہے تو وہ ذکر کے ساتھ باقی ہو جاتا ہے اور یہ اسقاطِ اوصافِ مذموم ہے، قیامِ اوصافِ محمود کے ساتھ۔
لیکن اس قصہ میں خاص لوگوں کی اس عبارت سے وہ مراد نہیں جو ہم نے بیان کی اور
اس اصل میں ان کا اشارہ علم اور حال سے نہیں ہے۔ یہ طائفہ جو اہلِ ولایت سے ہے بقا و فنا کو ولایت کا درجۂ کمال جان کر اسے اس مقام کے سوا استعمال نہیں کرتا۔ جو لوگ مشقت و مجاہدہ سے نکل چکے ہیں اور مقامات کے تغیرِ حال کی قید سے رہائی پا چکے ہیں اور طلب کے بعد فنا کو پہنچ چکے ہیں، وہ ہر دیکھنے کی چیز کو اور کانوں سے سننے والی آواز کو بھی دل سے سننے کے بعد سب سے منہ موڑ کر قصدِ مراد میں فنا ہو کر انجام اور دعویٰ سے بیزار اور معنی سے علیحدہ ہو کر کرامتوں کو بھی حجاب جانتے ہیں اور دیکھے ہوئے تمام مقامات کو لباسِ آفت میں ملبوس پا کر چھوڑ دیتے ہیں اور عینِ مراد پر پہنچ کر مراد سے بھی بے مراد ہو کر تمام مشرب ساقط کر کے اُلفت و انس سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے: ﴿لِیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَیِّنَةٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَةٍ﴾ (۱) یعنی "تا کہ ہلاک ہو جو ہلاک ہوا دلائل میں اور زندہ ہو جو زندہ ہوا مکاشفہ سے۔" اور اس معنی کی تفسیر ہم اس رباعی میں ظاہر کرتے ہیں:
"میں نے فنا کو اپنی خواہش کے کم کرنے سے فنا کیا تو اب ہو گئی میری خواہش تمام امور میں تیری خواہش، تو جب بندہ فنا کر دے اپنے اوصاف کو تو پالیتا ہے بقاءِ تام کو۔"
"یعنی جب بندہ اپنے اوصاف کی کیفیت سے، اوصاف کی آفت سے فنا ہو جاتا ہے تو فنا ءِ مراد میں بقاءِ مراد کے ساتھ باقی ہو جاتا ہے تا کہ اُسے قرب و بُعد اور اُنس و مودّت اور صحو و سکر، فراق و وصل طمس و اصلاح اور علم و ارقام کچھ نہ ہو اور سب سے بے خبر ہو۔ اس حقیقت کے اظہار کے لیے مشائخ رحمہم اللہ کی یہ رباعی خوب ہے:
"میرا مقام اور رسوم دونوں فنا ہو گئے تو میں کسی وقت میں قُرب و بُعد نہیں دیکھتا۔ میں اپنے آپ سے اس میں فنا ہوا تو مجھے ہدایت ملی تو یہ ظہورِ حق ہی ہے۔ جو فنا بالقصد سے حاصل ہوتا ہے۔"
جب فنا کا قصد کر لیا اور رتمام فنا کی چیز سے رویت کی آفت اور اس کی نفیِ ارادت ہو
۱۔ سورۃ الانفال: ۴۲
صفحہ۴۲۲
درست نہیں ہوتی، جو کوئی بستہ صورت ہے اور اس کا یہ خیال ہے کہ کسی چیز سے فنا ہونا بدون اس کے کہ اب چیز سے حجاب ہوتا ہے وہ غلطی پر ہے۔ ایسا نہیں کہ جب آدمی کسی چیز کو دوست رکھے اور کہے کہ میں اس سے باقی ہوں اور کسی چیز کو دل میں رکھے اور کہے کہ میں اس سے فانی ہوں، کیونکہ یہ دونوں صفتیں طالب کی ہیں اور فنا میں محبت اور عداوت نہیں اور بقا میں جمع اور تفریق کو دیکھا نہیں جاتا۔
ایک گروہ ان معانی میں غلطی پر ہے جو خیال کرتا ہے کہ فناءِ ذات کا گم ہونا اور قفس کا نیست ہونا ہے اور بقا وہ ہے کہ بقاءِ حق سے بندہ کو ملے کیونکہ یہ دو امر محال ہیں۔
میں نے ہندوستان میں ایک مرد کو دیکھا کہ وہ تفسیر، وعظ اور علم کا دعویٰ کرتا تھا۔ اُس نے اس بارے میں مجھ سے بحث کی۔ جب میں نے دیکھا اور اس پر نظر کی تو وہ فنا و بقا کو جانتا ہی نہ تھا۔ ایسے بہت سے جاہل ہیں کہ فناءِ کلی کو روا رکھتے ہیں اور یہ خالص مکابرہ عیاں ہے کیونکہ فنا کے واسطے اجزاءِ طینت اور ان کا جدا ہونا کبھی جائز نہیں ہوتا۔
میں ان غلط کار جاہلوں کو کہتا ہوں کہ اس فنا سے تمہاری کیا غرض ہے؟ اگر وہ کہیں کہ فنا عینِ مراد ہے تو یہ محال ہے اور اگر کہیں کہ فنا میں وصف تو ہم روا رکھتے ہیں اس لیے کہ فنا ایک ایسی صفت ہے جس سے دوسری صفت بقا پائے اور یہ دونوں صفتیں بندے کے حوالے ہوتی ہیں۔ اور رومی اور نصاریٰ نسطوریوں کا یہ مذہب ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام بہ برکتِ مجاہدہ تمام اوصافِ ماسوی اللہ سے فانی ہو چکی ہیں، بقاءِ لاہوتی سے مل گئی ہیں اور اوصافِ ناسوتی فنا کر چکی ہیں۔ اسی وجہ میں اُنہوں نے وہ بقا پائی جو بقاءِ الٰہی ہے اور اسی کے ساتھ وہ باقی ہیں اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ان سے ظاہر ہونا اس کا نتیجہ سمجھتے ہیں، جو مایۂ انسانی نہیں بلکہ ان کی بقاء، بقاءِ الٰہی سے ہے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ اور خدائے تعالیٰ یہ تینوں ایک صفتِ بقا پر ہیں، معاذ اللہ۔ گویا اللہ تعالیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام تینوں قدیم ہیں اور ان کی صفات، صفاتِ الٰہی کے مماثل ہیں اور یہی عقیدہ جماعتِ حشویہ کا ہے، بلکہ وہ مجسمہ و مشبہ بھی ذاتِ واجب تعالیٰ شانہٗ مان کر حادث بھی تسلیم کرتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ صاحبِ صفاتِ قدیمہ کو صفتِ محدث میں تسلیم کرنا قدیم کو حادث کہنا ہے۔
میں کہتا ہوں: کہ یہ تمام محدث کیا محلِ قدیم میں ہوں، اور قدیم کیا محلِ محدث میں، اور کیا قدیم کا وصف محدث ہو، اور کیا محدث کا وصفِ قدیم۔ اس مذہبِ دہریہ کا جوازِ دلیلِ حدوثِ عالم کو باطل کرتا ہے اور اس سے صفتِ مصنوع صانع کو لازم آتا ہے کہ قدیم کہا جائے، اور مخلوق کو نامخلوق سے ملانا اور نامخلوق کا مخلوق میں حلول ہونا لازم آتا ہے اور یہ اُن کی جہالت کا خسارہ ہے۔
صفحہ۴۲۳
اس لیے کہ جب قدیم کو حادث کہیں یا حادث کو قدیم تو صنعت اور صانع کو قدیم کہنا چاہیے۔ پھر اس اصول کے مطابق صنع محدث ہوگی اور جب صنع محدث ہوئی تو صانع بھی محدث ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ ایک چیز کا محل، عین چیز کے مثل ہوتا ہے۔ جب محل محدث ہو تو چاہیے کہ حال بھی محدث ہو۔ تو اس سبب سے لازم آتا ہے کہ محدث کو قدیم کہیں یا قدیم کو محدث اور یہ دونوں باتیں خالص گمراہی ہیں۔
مختصر یہ کہ جو چیز کسی کے ساتھ ملی ہوئی ہو تو وہ دونوں چیزیں ایک ہی ہوں گی۔ تو ہماری بقاء جب ہماری صفت ہے تو ہماری فنا بھی ہماری صفت ہے اور ہمارے اوصاف کی تخصیص میں ہماری فنا ہماری بقا کے مثل ہے اور ہماری بقا ہماری فنا کی مثل ہے۔ تو فنا ایک صفت ہے دوسری صفت کی بقا سے۔ پھر اگر کوئی فنا سے وہ مراد لے کہ بقا کو اس سے تعلق نہ ہو تو جائز ہے اور وہ بقا سے مراد لے کہ فنا کو اس سے تعلق نہ ہو تو بھی جائز ہے۔ اس لیے کہ اس فنا سے ذکرِ غیر کی فنا مراد ہوتی ہے اور بقا سے بقاءِ ذکرِ حق۔ مَنْ فَنِیَ مِنَ الْمُرَادِ بَقِیَ بِالْمُرَادِ "یعنی جو اپنی مراد سے فانی ہے، اس لیے کہ وہ مراد فانی ہے اور مرادِ حق باقی۔ تو جو ہو جائے وہ مرادِ بحق کے ساتھ باقی ہوتا ہے۔ تو جو اپنی مراد پر قائم ہو جائے تو اس کی مراد فانی ہو جاتی ہے اور اس کے فنا کے ساتھ وہ قائم ہو جاتا ہے۔
اس کی مثل ایسی ہے جیسے کسی بادشاہ کی آتشِ غضب و قہر ظہور میں آئے تو یہ اس کی صفت ہو جاتی ہے۔ تو جب وہ بادشاہ اپنے وصفِ غضب و آتشِ قہر کو بدلنا چاہے تو بدل لیتا ہے۔ ایسے ہی حق تعالیٰ اس سلطانِ آتش و قہر سے اولیٰ تر ہے۔ لیکن یہ تصرفِ آتشِ قہر اپنے وصف میں لوہا ہے مگر وہ سلطان وہی ہے جو تھا۔ لوہا اور آگ ہرگز نہیں ہو جاتا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ (۱)
فصل:
حضرت ابو سعید خراز رحمۃ اللہ علیہ جو صاحبِ مذہب ہیں، فرماتے ہیں:
۱۔ جو مبحث فنا و بقا آپ کے سامنے پیش ہوا۔ یہ اتنا مغلق و دقیق ہے کہ اس کے سمجھنے کے لیے اہلِ بصیرت ہی اہل ہیں۔ عامۃ الناس اس کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا اعوام کے لیے تو کشف المحجوب شریف کا وہی حصہ مفید اور دلچسپ ہے جس میں حالاتِ اولیاء کرام و مشائخ عقام ہیں، یا کراماتِ خاصانِ حق کا جہاں تذکرہ ہے، یہ مضمون اخص الخواص کے لیے ہے اور یہ بحث ابھی آئندہ فصل میں بھی آ رہی ہے اور مشائخ کرام رضی اللہ عنہم نے اس معنی میں لطیف رموز ظاہر فرمائے۔ (وہ اب یہاں بیان کیے گئے ہیں) مترجم
صفحہ۴۲۴
"یعنی فنا، عبد کا فانی ہونا ہے اپنی رویتِ عبودیت سے اور بقا بندے کا باقی رہنا ہے مشاہدۂ الٰہیہ کے ساتھ۔"
یعنی اپنے کام میں بندگی کا دیکھنا بندے کے لیے آفت ہے اور بندہ بندگی کی حقیقت تک جب ہی پہنچتا ہے جب اپنے فعل کی طرف نگاہ نہ کرے اور اپنے عمل و عبادت کے دیکھنے سے فنا ہو جائے اور فعلِ ذاتِ سبحانہٗ کے مشاہدہ میں باقی رہے، تا کہ اس کے تمام اعمال و عبادات منسوب بقا عمل ہوں نہ کہ وہ اس کے ارادہ اور طاقت کی طرف۔ اس لیے کہ بندہ کا ہر فعل ناقص ہوتا ہے، اور جو فعل فاعلِ حقیقی کی طرف سے بندے کو بہ توفیق و فضلِ الٰہی پہنچے، وہ کامل ہوتا ہے۔ چنانچہ جب بندہ تعلقات سے فانی ہو جاتا ہے تو جمالِ الوہیت کے ساتھ باقی ہو جاتا ہے۔
حضرت ابو یعقوب نہر جوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اس لیے کہ جب تک بندہ اپنے ہر حصۂ نصیب سے تبرّی و بیزاری نہ کر لے، اس وقت تک مردِ خدمت و عبادتِ با اخلاص کی اہلیت ہی نہیں ہوتی، تو پہلے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر قسم کے نصیب و حصہ سے بیزاری کرے تا کہ وہ خدمت و عبادتِ با اخلاص کے قابل ہو سکے۔ تو انسان کا اپنے ہر قسم کے نصیب و حصہ سے بیزار ہونا فنا ہے اور جب اس طرح فنا ہو جائے تو بندگی میں با اخلاص ہو سکتا ہے جو حقیقتاً بقا ہے۔
"علمِ فنا و بقا کا قاعدہ اخلاص اور وحدانیت ہے اور یہی صحیح عبودیت ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے وہ غلوط اور زندقہ ہے۔"
یعنی جب بندہ وحدانیتِ حق کا مقر ہوتا ہے اور اپنے آپ کو متہورِ حکمِ الٰہی سمجھ لیتا ہے اور ہر پہلو سے اپنے آپ کو مغلوب و عاجز جان لیتا ہے، تو یہی فنا ہے۔ اور جب اس کا فنا ہونا اس پر صادق آ جاتا ہے تو اس کا اقرارِ عجز و انکسار کے سوا چارہ ہی نہیں ہوتا، پھر وہ حلقۂ بارگاہِ متعال پر پنجہ مار کر حقیقی بندہ ہو جاتا ہے اور جو فنا و بقا سے اور معنی مراد لیتا ہے یعنی فنا کو فنا عین سمجھتا ہے اور بقا کو بقاءِ حق قرار دیتا ہے، وہ زندیق اور مذہبِ نصاریٰ کا پیرو ہوتا ہے۔ ایسے اغلوطے اور زندقہ ان کے اندر ہیں۔
صفحہ۴۲۵
جیسا کہ ہم پہلے بیان کرا آئے ہیں اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابیؒ) سمجھتا ہوں کہ یہ سب قول باعتبارِ معنی ایک دوسرے کے نزدیک ہیں۔ اگرچہ بقاء کو عبادت میں مخالف کہے مگر اصل اس کی یہی ہے کہ بندہ جلالتِ حق دیکھنے سے فنا ہوتا ہے۔ مگر جب اس کے دل پر کشفِ عظمتِ حق ہوتا ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ غلبۂ جلالت میں وہ دنیا و عقبیٰ کو اپنے دل سے محو کر دیتا ہے اور حالات و مقامات اس کی نظر میں ہمت حقیر اور ہیچ ہو جاتے ہیں اور کرامات کی اہمیت اس کے حال میں پراگندہ ہو جاتی ہے تو عقل اور نفس سے فارغ ہو کر فنا سے بھی فنا ہو جاتا ہے۔
پھر اس فنا کی فنا میں اس کی زبان حق کے ساتھ ناطق ہوتی ہے اور دل وتن محض عاجز و فروتن ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ ابتدا میں ذُرِّیتِ آدم علیہ السلام پشتِ آدم سے نکلنے کے وقت عہدِ عبودیت کی آفات سے مرکب نہ تھی۔ عربی کے کسی بزرگ نے خوب فرمایا ہے:
"میرے فنا ہونے میں میری فنا کا فنا ہونا ہے اور میں نے اپنی فنا میں تجھے پایا۔ میں نے اپنا نام اور اپنے جسم کا نام مٹایا تو تُو نے مجھ سے پوچھا۔ میں نے کہا تو ہی تو۔"
فقر اور تصوف کے باب میں فنا و بقا کے یہ حکم ہیں، جو ہم نے کچھ بیان کیے اور اس کتاب میں جہاں بھی فنا و بقا کا ذکر ہوگا وہاں یہی مراد ہوگی۔ یہ خزاریوں کا اصل مذہب ہے اور تمام لوگ اس نیک اصل کے پیرو کار ہیں۔ جو تفریقِ وصل کی دلیل ہو وہ بے اصل نہیں۔ اس گروہ میں یہ عبارت گروہِ صوفیہ میں زبانِ زدِ عام ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
فرقۂ خفیفیہ
خفیفیوں کا واسطہ حضرت ابو عبد اللہ محمد بن خفیف شیرازی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ ابو عبد اللہ اس طائفہ کے کبرائی سادات اور اپنے وقت کے عالمِ علومِ ظاہر و باطن گزرے ہیں۔ آپ
صفحہ۴۲۶
کی تصانیفِ علمِ طریقت میں بہت مشہور ہیں۔ مردانِ خدا میں محبوب اور عفیف النفس تھے اور شہواتِ نفسانیہ سے معرض و محترز تھے۔ اور یہ بھی سنا ہے کہ ایک زمانہ آپ کا ایسا بھی گزرا کہ آپ نے چالیس نکاح کیے، چونکہ آپ شہزادگانِ ملوک سے تھے۔ جب تائب ہوئے تو اہلِ شیراز جتنے آپ سے متنفر تھے، توبۃ النصوح کے بعد اتنی تعظیم اور محبت کرنے لگے۔ شیرازی شہزادیاں اور رئیسوں کی لڑکیاں یہ آرزو کرنے لگیں کہ ابو عبد اللہ ہمیں اپنے عقد میں لے لیں تا کہ ہم مشرف بانتساب زوجیت ہو جائیں۔
چنانچہ آپ نے ان کی آرزو اس طرح پوری فرمائی کہ عقد تو کیا اور ایجاب و قبول کے بعد قبل از خلوتِ صحیحہ انہیں طلاق دے دی۔ مگر چالیس خواتین مختلف وقت کے ساتھ آپ کی عمر میں دو دو تین تین، ایک وقت آپ کے حبالۂ عقد میں رہ کر خادمِ فراش رہیں۔
ایک وزیر زادی پورے چالیس سال آپ کی صحبت میں رہی۔ شیخ ابو الحسن علی بن بکران شیرازی اپنے عہدِ حکومت کا حال بیان فرماتے ہیں کہ ایک باران خواتین کو مجتمع کر کے پوچھا گیا کہ ابو عبد اللہ کا کچھ حال سناؤ۔ سب نے متفقہ بیان کیا کہ حضرت ابو عبد اللہ میں ہم نے شہوانی شان قطعی نہیں دیکھی اور سب متعجب تھیں۔ اور یہ بھی بیان کرتی تھیں کہ شیخ ابو عبد اللہ کا ہر ایک کے ساتھ برتاؤ ایسا تھا کہ ہم میں سے ہر ایک یہ سمجھتی تھی کہ شیخ ہمارے ساتھ زیادہ ملتفت ہیں۔ ان میں وہ خاتون جو دخترِ وزیر تھیں جنہوں نے چالیس سال آپ کی خدمت کی تھی، ان سے پوچھا گیا کہ تمہارے ساتھ تو کافی شیخ عبد اللہ کی صحبت رہی ہے۔ تم ان کے اندرونی راز سے ہمیں مطلع کرو۔ تو وزیر زادی کا بیان یہ تھا کہ جب شیخ عبد اللہ کی زوجیت میں آئی ایک دن مجھے اطلاع ملی کہ آج شیخ میرے یہاں رونق افروز ہوں گے۔ میں نے اعلیٰ اعلیٰ کھانے تیار کیے، خود زیب و زینت کی۔ شیخ جب تشریف لائے تو میں نے کھانا سامنے رکھا۔ شیخ نے کھانوں کی طرف نگاہ ڈالی اور تھوڑی دیر میری طرف نگاہ ڈالی۔ پھر میرا ہاتھ تھاما اور اپنے گریبان میں ڈالا۔
میں نے دیکھا کہ سینے سے ناف تک شکمِ مبارک میں پندرہ گھانٹھیں پڑی تھیں۔ فرمایا: اے وزیر زادی! تو نے گرہ تو دیکھ لیں اور یہ نہ پوچھا کہ کیسی گرہ ہیں۔ میں نے عرض کی فرمائیں: تو آپ نے فرمایا یہ تمام گرہ سوزشِ صبر اور مجاہدۂ نفس کی ہیں، ان کے ذریعے میں طعام و شہوات سے محفوظ ہوں۔ یہ فرمایا اور کمڑے ہو گئے۔ اس سے زائد میرا اُن کا معاملہ جو ہوا وہ یہ کہ میں نے انہیں مشاہدۂ عین میں پایا اور حضوری حضور کی جو شان تھی اس کے بیان کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ لہٰذا (یعنی حضور داتا صاحب) اسے بیان کرتا ہوں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی
صفحہ۴۲۷
غیبت و حضور
غیبت و حضور: یہ ایسی عبادت ہے کہ جب اس کا عکس کیا جائے تو عینِ معنی میں باعتبارِ مقصود مفہوم متضاد نظر آتی ہیں۔ اور اہلِ زبان و اہلِ معنی میں یہ مستعمل و متداول ہے۔ تو فنِ تصوف میں حضور سے مراد حضورِ دل ہے یہ دلالتِ یقین۔ یعنی جب تک حکمِ عین کو غائب نہ کر دے، حضور ممکن نہیں اور غیب سے مراد غیوبیتِ دل ہے جو ماسوی اللہ سے اس حد تک غائب ہو کہ صفت و غیوبیت سے بھی اپنے کو غائب کرے تا کہ وہ غیب میں خود نظارہ اپنا کرے اور اس کی علامت یہ ہے کہ حکم رسوم سے روگرداں ہو جائے۔ جیسے جملہ انبیاء کرام، حرام و جملہ معاصی سے معصوم ہوتے ہیں۔ تو طالب اسی طرح غائب ہو کر حضورِ حق میں حاضر رہے اور ظاہر ہے کہ جو حضورِ حق میں حاضر ہوگا وہ خود سے لازمی غائب ہوگا۔ اس کے دل کا مالک بمعنی حقیقی حق تعالیٰ شانہٗ ہے۔ تو جب جذبۂ حق جل علا کی کشش طالب کو مقہور کرے تو اس کے نزدیک غیبتِ دل حضور کی طرح ہوتی ہے اور پھر شرکت اور تقسیم اُٹھ جاتی ہے۔ پھر کسی حرکت و فعل کا اپنی طرف منسوب کرنا قطع ہو جاتا ہے اور یہی فرمانِ حق تعالیٰ کا مفہوم واضح ہے: ﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ (۱) "یعنی تم ہمارے حضور فرد ہی آؤ گے جیسے ہم نے تمہیں فرد و تنہا پہلی بار پیدا فرمایا تھا۔"
چنانچہ حضرت حارث محاسبی، جنید، سہل بن عبد اللہ، ابو حفص حداد، ابو حمدون قصا، ابو حریری، حصری اور صاحبِ مذہب حضرت محمد بن خفیف رضی اللہ عنہم اور دوسری جماعتوں نے متفقہ طور پر فرمایا: حضور کو مقدم از غیبت کہتے ہیں۔ اس لیے کہ تمام جمالِ جمیل حضوری میں ہے اور غیبتِ خود بخود جو سے جاتی رہتی ہے اور جب حضورِ حق تعالیٰ کی پیش گاہ تک پہنچ جائے جو آفت کی راہ ہوتی ہے تو جو از خود غائب ہوگا وہ لامحالہ دربارِ حق میں حاضر ہوگا۔ اور غیبت کے فنا کا فائدہ حضور ہے اور غیبت بے حضور میں کیا نور ہو سکتا ہے۔ تو ہر طالب کو چاہیے کہ تارکِ غفلت ہو، تا کہ مقصودِ غیبت حضور حاصل ہو جائے اور جب مقصد موجود ہوا تو علت ساقط ہو جائے گی۔
"وہ غائب نہیں ہے جو شہرِ ولایت سے غائب ہو۔ غائب وہی ہے جو کہ مراد سے غائب ہو جائے۔ وہ حاضر نہیں جس کی کوئی مراد نہ ہو۔ حاضر وہی
۱۔ سورۃ الانعام: ۹۴
صفحہ۴۲۸
ہے جس کے دل ہی نہ ہو۔ حتیٰ کہ وہ تیری فکر میں دنیا و عقبیٰ سے بے تعلق ہو جائے اور اس کا مستقر وہ ہے جہاں اس کی مراد ہو۔"
ایک خادم مریدانِ ذوالنون مصری حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کو روانہ ہوئے۔ جب وہ عبادت خانہ کے در پر دستک دینے لگے تو حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کون ہے اور کسے چاہتا ہے؟ مرید نے عرض کیا: بایزید کو۔ آپ نے فرمایا: وہ کون ہے اور کہاں ہے اور وہ کیا ہے؟ مجھے مدت ہو گئی کہ بایزید کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ میں نے اُسے اب تک نہیں پایا۔
جب وہ واپس ہو کر خدمتِ ذوالنون میں آیا اور بایزید کا حال سنایا تو آپ نے فرمایا: اَخِيْ ذَهَبَ فِي الذَّاهِبِيْنَ فِي اللّٰهِ۔ "بھائی بایزید جانے والوں کے ساتھ چلا گیا حق تعالیٰ کی حضوری میں۔"
ایک شخص حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ فرمایا: کچھ مدت میرے ساتھ رہ تاکہ چند باتیں تجھ سے کروں۔ پھر فرمایا: اے جوان مرد! تو مجھ سے کچھ مانگ رہا ہے۔ مجھے دیر ہو گئی کہ میں وہی چیز طلب کر رہا ہوں، بلکہ مجھے سالہا سال گزر گئے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ ایک نفس خود بخود حاضر ہو سکوں مگر نہ ہو سکا۔ اب اس گھڑی تیرے ساتھ حاضر ہو سکا ہوں۔ تو جب غیبت میں وحشت و حجاب ہے (تو محجوب کسی کو کیا دے)۔ اس معنی میں شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ نے فرمایا ہے:
"محبت کے چاند سے جدائی کا بادل پھٹ گیا اور غیب کے اندھیرے سے صبح کا نور روشن ہو گیا۔"
اور ان معنی میں مشائخِ کرام کے بہت سے لطائف حامی ہیں اور از روئے ظہور سب فانی ہیں اور یہ عبارتیں آپس میں نزدیک معلوم ہوتی ہیں۔ یعنی حاضرِ بحق ہونا اور از خود غائب رہنا۔ کیونکہ خود کے غائب ہونے سے حضور حاصل ہوتا ہے اور جو آپ سے غائب نہیں وہ حاضرِ بحق نہیں ہو سکتا اور جو حق میں حاضر ہے وہ غائب اور یقیناً غائب ہے۔
جیسا کہ حضرت ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ بلا میں بیقرار ہوئے۔ اس حال میں بھی آپ یقیناً از خود غائب تھے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے جزع کو صبر سے جدا نہ
صفحہ۴۲۹
فرمایا اور جب آپ نے بارگاہِ حق میں ﴿اَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ﴾ (۱) عرض کیا تو فرمایا: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ﴾ (۲) "ہم نے اُسے قبول کیا اور جو اُسے رنج تکلیف تھی دور کر دی۔" اور یہ حکم بعینہٖ اس قصہ میں عیاں ہے۔ اسے بغور دیکھو۔
حضرت جنید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ایک وقت ہم پر ایسا ہوتا ہے کہ زمین آسمان والے میری حیرت پر روتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں ان کی آرزوئے عنایت پر روتا ہوں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں ان سے باخبر ہوتا ہوں نہ اپنے سے۔ اور یہ درجۂ کمال کی طرف اشارہ ہے اور یہی حضوریٔ خاص ہے۔ یہاں تک معنی غیبت و حضور کو مختصر بیان کیا گیا۔ بہر حال اس بیان سے مسلکِ خفیفیان تیری سمجھ میں آ گیا ہوگا کہ اس جماعت کی مراد غیبت و حضور سے کیا ہے اور اس کی شرح و بسط چونکہ کتاب کو طویل کر دے گی، اس لیے اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور جو میرا مذہب ہے وہ اس کتاب میں مختصر ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ۔
فرقۂ سیاریہ
اب سیاریہ کا مذہب بھی سمجھنا چاہیے۔ جماعتِ سیاریان حضرت ابو العباس سیاری سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ مرو کے امام تھے اور تمام علوم میں عالمِ کامل اور حضرت ابو بکر واسطی کے ہم عصر ہیں۔ مقامِ نسا اور مرو میں ان کے اصحاب اور مرید کافی ہیں۔ اگرچہ مذہبِ تصوف میں کوئی بھی بحال نہیں رہا مگر ان کا مذہب قائم ہے۔ اس لیے مرو اور نسا کے لوگ ان کی پیروی سے منحرف نہیں ہیں اور جو لوگ ان کے مذہب پر قائم ہیں وہ مرو اور نسا میں ہی ہیں بلکہ اہالیانِ مرو کے بعض اصحاب نے تو نہایتِ بحث پر رسالے لکھے ہیں۔ بذریعہ خط و کتابت مسائل طے کرتے رہے ہیں اور بعض خطوط میں نے خود بھی مرو میں دیکھے ہیں جو نہایت تفسیرِ مضمون سے مملو تھے۔ ان میں "جمع و تفریق" پر اچھی بحث تھی اور یہ لفظ اہلِ علم میں مشترک ہے اور ہر گروہ اس لفظ کو اپنے کام میں لاتا ہے تاکہ ان کی عبارتیں سمجھی جائیں۔ مگر اس سے ہر گروہ کی مراد علیحدہ ہوتی ہے۔
اہلِ حساب جمع و تفریق کا لفظ ضرور استعمال کرتے ہیں۔ مگر اس سے ان کی مراد کسی چیز کے اعداد کا جمع کرنا یا فرق کرنا ہوتی ہے۔ اربابِ نحو اتفاقِ اسامیٔ لغوی اور افتراقِ معنی مراد لیتے ہیں۔ اربابِ فقہ جمعِ قیاس اور تفرقۂ صفات یا جمعِ معنی اور تفرقۂ قیاس اس سے مراد لیتے ہیں۔ اربابِ اصول جمعِ صفاتِ ذات اور تفرقۂ صفاتِ فعل مراد لیتے ہیں۔ لیکن اس طائفۂ صوفیاء میں اس سے جو مراد ہے، اس میں اختلافِ مشائخ کی تفصیل بیان کرتا ہوں تاکہ ان کی مراد کی جو حقیقت ہے وہ تم پر منکشف ہو اور جمع اور تفرقہ سے مشائخ جو مراد لیتے ہیں وہ معلوم ہو۔ ان شاء اللہ
حواشی: ۱۔ سورۃ الانبیاء: ۸۳ ۲۔ سورۃ الانبیاء: ۸۴
صفحہ۴۳۰
جمع تفرقہ
اللہ تعالیٰ نے اپنی دعوت میں خلقت کو جمع فرما کر ارشاد کیا: ﴿وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ﴾ (۱) "یعنی اللہ تعالیٰ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کی طرف (یعنی جنت کی طرف)۔" پھر ہدایت کے ساتھ تفریق کی اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ﴾ (۲) "اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف لے جاتا ہے۔"
گویا تمام مخلوق کو از روئے دعوت دارالسلام کی طرف بلا کر اپنی مشیت ظاہر کرنے کے لیے ایک گروہ کو دور کر دیا اور ایک گروہ کو دارالسلام کی طرف جمع فرمایا۔ یعنی ایک گروہ کو عصمت عطا کی اور ایک گروہ کو آفت کی طرف مائل کر دیا۔ تو اس معنی میں جمع کا راز مرادِ حق تعالیٰ معلوم ہوئی اور تفریق میں اظہارِ امر و نہی واضح فرما دی۔ جیسے کہ ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا کہ سرِ اسماعیل کاٹ اور چاہا کہ سر نہ کٹے اور آدم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ گندم نہ کھانا اور مشیت یہ ہوئی کہ وہ کھائیں اور مثل اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ اَلْجَمْعُ مَا جَمَعَ بِاَوْصَافِهٖ وَالتَّفْرِقَةُ مَا فَرَّقَ بِاَفْعَالِهٖ۔ اور یہ سب کچھ انقطاع اور وہ خودی اور ترکِ تصرفِ خلق ہے اثباتِ ارادۂ حق میں اور اس حد تک جمع و تفریق میں اجماع ہے اہلِ سنت کا۔ سوائے معتزلہ کے کہ وہ مشائخِ طریقت سے مختلف ہیں۔
اس کے علاوہ اس عبارتِ جمع و تفریق کے استعمال میں مختلف جماعتیں ہیں۔ ایک گروہ اسے توحید کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک گروہ اوصافِ حق کی طرف، ایک گروہ اوصافِ عہد کی طرف ایسے کہ جو اوصاف بندے میں ہوں وہ توحید سے ہوں، اس کے صدقِ عقیدہ اور صحتِ عزیمت سے۔ اور یہ قول حضرت ابو علی رود باری رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔
ایک گروہ اور ہے جو کہتا ہے کہ اوصافِ بندہ میں ہوں وہ تمام صفتِ حق تعالیٰ سے ہوں اور اس میں فرق یہ ہو کہ کسبِ بندہ کا اس سے منقطع ہو اور جو مشیتِ الٰہی میں ہو اس سے وہ متنازع نہ ہو تو جمعِ ذات و صفات اس کے اندر ہو۔ اس طرح کہ اَلْجَمْعُ تَسْوِيَةٌ فِي الْاَصْلِ اور سوا اس کی ذات و صفات کے کوئی اس کا مساوی نہ ہو اور اس کے فرق کرنے میں عبارت اور تفصیلِ خلقت کے جمع نہیں۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ حق تعالیٰ کی صفات قدیم ہیں اور وہی اس سے خاص ہے اور صفات کا قیام اس سے ہے اور اس کے وجود کی خصوصیت اسی سے ہے اور وہ اور اُس کی صفات دو ہیں۔ اس لیے کہ وحدانیت میں فرقِ عدد روا نہیں اور اس صورت میں سوا اس معنی کے حکمِ جمع روا نہیں (لیکن تفرقہ فی الحکم)۔
حواشی: ۱۔ سورۃ یونس: ۲۵ ۲۔ سورۃ البقرۃ: ۲۱۳
صفحہ۴۳۱
یہ افعالِ حق تعالیٰ ہیں کہ تمام حکم میں متفرق ہیں۔ ایک گروہ کو حکمِ وجود کا ہے، دوسرے کو حکمِ عدم کا۔ لیکن عدمِ ممکن الوجود ہوتا ہے۔ تو ایک کو حکمِ فنا کا اور ایک کو حکمِ بقا کا۔ پھر ایک گروہ اور ہے کہ اسے علم پر لے جا کر کہتا ہے: اَلْجَمْعُ عِلْمُ التَّوْحِيْدِ وَالتَّفْرِقَةُ عِلْمُ الْاَحْكَامِ "جمعِ علمِ توحید کا نام ہے اور تفریق علمِ احکام کو کہتے ہیں۔" تو علمِ اصول جمع ہے اور علمِ فروع تفرقہ اور اس کے معنی بھی وہی ہوئے کہ حق تعالیٰ کی صفات قدیم ہیں اور وہ بھی قدیم جو اس ذات کے ساتھ مخصوص۔
چنانچہ مشائخ رحمۃ اللہ علیہم میں سے ایک فرماتے ہیں: اَلْجَمْعُ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ اَهْلُ الْعِلْمِ وَالْفَرْقُ مَا اخْتَلَفَ فِيْهِ۔ "یعنی جمع وہ ہے جس پر اہلِ علم اجماع کر لیں اور تفریق وہ ہے جس پر اہلِ علم نے اختلاف کیا۔" پھر سب محققینِ تصوف نَصَرَ اللّٰهُ وُجُوْهَهُمْ کی عبارتیں اس طرف ہیں کہ مکاسب تفریق ہے اور مواہب جمع ہے، یعنی مجاہدہ و مشاہدہ۔ تو جب تک بندہ مجاہدہ سے راہ بنا رہا ہے وہ تفریق میں ہے اور جب بندہ پر عنایت و ہدایتِ حق ہونے لگے وہ مقامِ جمع ہے اور بندہ کی وہ قربت ہے کہ اس میں بندہ اپنے افعال اور احکام میں مجاہدہ بہ جمالِ حق میں ہر آفت سے اپنے فعل سے بچا ہوتا ہے اور اپنے کو حق تعالیٰ شانہٗ کے فضل میں متفرق جانتا ہے اور مشاہدہ کو ہدایت کے پہلو میں منفی سمجھتا ہے تو اس کا قیام حق سے ہوتا ہے۔ پھر وہ ذاتِ حق کے ساتھ ایسا محو ہوتا ہے کہ اس کی ذاتِ حق بمعنی وکیلِ حقیقی ہوتی ہے اور اس کا ہر فعل ذاتِ حق کی طرف منسوب ہو جاتا ہے اور بندہ اپنے کسب کی نسبت سے نکل جاتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر آخر الزماں علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمیں جبرائیل نے آ کر کہا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے: لَا يَزَالُ عَبْدِيْ يَتَقَرَّبُ اِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى اُحِبَّهٗ فَاِذَا اَحْبَبْتُهٗ كُنْتُ لَهٗ سَمْعًا وَبَصَرًا وَيَدًا وَفُؤَادًا وَلِسَانًا فَبِيْ يَسْمَعُ وَبِيْ يُبْصِرُ وَبِيْ يَبْطِشُ (۱)۔
یعنی جب میرا بندہ بہ مجاہدہ میرے ساتھ تقرب کرتا ہے تو میں اُسے محبوب بنا لیتا ہوں اور اس کی ہستی کو اس میں فنا کر دیتا ہوں اور اس کی نسبت افعال سے اُٹھا لیتا ہوں، یہاں تک کہ وہ میرے ساتھ سُنتا ہے اور مجھ سے ہی وہ بات کرتا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے میری ہی قوت سے کہتا ہے، جو دیکھتا ہے میری قوت سے دیکھتا ہے اور جو پکڑتا ہے میری قوت سے پکڑتا ہے۔ یعنی میری یاد میں اتنا مغلوب ہو جاتا ہے کہ میری ہی یاد باقی رہتی ہے اور اس کا ہر فعل میرے ذکر میں فنا ہو جاتا ہے اور میری یاد اُس کی سلطانِ ذکر ہو جاتی ہے اور اُس کی نسبتِ آدمیت میرے ذکر سے منقطع ہو جاتی ہے
حاشیہ: ۱۔ القاظ کے اختلاف کے ساتھ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے: حوالہ کے لیے صحیح البخاری مع فتح الباری ۱۱/۳۴۱ (حدیث نمبر: ۶۵۰۲)
صفحہ۴۳۲
اور اس کا ذکر میرا ذکر ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ غلبۂ حال میں اس صفت تک پہنچ جاتا ہے جیسے ابو یزید نے کہا: سُبْحَانِيْ مَا اَعْظَمَ شَاْنِيْ۔ "میں پاک ہوں میرا کتنا بڑا درجہ ہے۔" اور یہ کہنا اُن کی گفتار کا نشانہ ہے اور در حقیقت یہ کہنے والا حق تعالیٰ ہی پردۂ عبد میں ہے اور حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: اَلْحَقُّ يَنْطِقُ عَلٰى لِسَانِ عُمَرَ۔ (۱) "حق زبانِ عمر (رضی اللہ عنہ) پر کلام کرتا ہے۔"
اس کی حقیقت یہ ہے کہ قہریتِ حق انسان پر اپنی سلطانیت ظاہر کرتی ہے اور اسے اس کی ہستی سے اپنی طرف لے لیتا ہے تاکہ اس کا بولنا اس کے رب کا بولنا ہو۔ اس وقت حق تعالیٰ شانہٗ اپنی شان اس میں مخروج کرتا ہے۔ اس سے یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو دوسرے میں حلول مانا جائے یا صانع اپنی مصنوع میں ایک ہو جائے یا وہ معاذ اللہ کسی میں حلول کرے۔ تَعَالَى اللّٰهُ عَنْ ذٰلِكَ عَمَّا يَصِفُهُ الْمُلَاحِدَةُ عُلُوًّا كَبِيْرًا۔
تو یہ جائز ہے کہ حق تعالیٰ کی دوستی بندہ کے دل پر غالب ہو جائے اور اس کے غلبۂ محبت اور افراطِ حال سے عقل اور طبیعت اس کی برداشت سے عاجز ہو جائے۔ پھر ہر امر اس کے کسب اور فعل سے ساقط ہو۔ اس وقت کے اس درجہ کا نام جمع ہے۔ چنانچہ حضور ﷺ مستغرق اور مغلوب تھے۔ ان سے جو فعل ظہور میں آتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو حضور ﷺ کی نسبت سے اٹھا کر اپنی طرف منسوب فرمایا اور فرما دیا کہ جو تیرا فعل ہے اے محبوب وہ میرا فعل ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى﴾ (۲) "یعنی اے محبوب وہ مٹی یا کنکریاں تو نے نہیں پھینکیں جو تو نے پھینکیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکیں۔" جیسا اس قسم کا فعل حضرت داؤد علیہ السلام سے ظاہر ہوا۔ اسے فرمایا: ﴿وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ﴾ (۳) "یعنی داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا۔" یہ حال بحالِ تفریق تھا۔ اور ظاہر ہے جو فعل بندے کی طرف سے منتسب ہو وہ محلِ آفت
حواشی: ۱۔ حدیثِ پاک کے مذکورہ الفاظ تو نہیں مل سکے مگر اس کی ہم معنی روایات موجود ہیں جنہیں امام ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ جعل الحق علی لسان عمر وقلبہ۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث شریف کے الفاظ یوں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ وضع الحق علی لسان عمر یقول بہ۔ جبکہ امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ما کنا نبعد ان السکینۃ تنطق علی لسان عمر۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ کریں: مشکوۃ المصابیح، کتاب المناقب: باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ (حدیث ۶۰۳۳، ۶۰۳۴، ۶۰۳۵) ۲۔ سورۃ الانفال: ۱۷ ۳۔ سورۃ البقرۃ: ۲۵۱
صفحہ۴۳۳
اور حوادثات کے پہنچنے کا موجب ہے اور فعلِ بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف منتسب ہو وہ قدیم اور آفت سے مبرا ہوتا ہے۔ تو اگر ایسا فعل آدمی سے سرزد ہو جو جنسِ افعالِ انسانی سے نہ ہو تو ضرور اس کا فاعل حق تعالیٰ شانہٗ ہوتا ہے اور معجزات و کرامات سب اسی جنس سے ہیں اور جو فعل مطابقِ عادت ہو وہ تفریق ہے اور جو خلافِ عادت ہو وہ جمع ہے۔ اسی وجہ سے بحسابِ جمع ایک رات کے ادنیٰ حصہ میں قابَ قوسین ہو جانا اگرچہ عادت نہیں مگر اس کا فاعل حق تعالیٰ شانہٗ ہوتا ہے جس میں عقلِ انسان کی رسائی نہیں۔ یہ منصب اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور اولیاء کو عنایت فرماتا ہے اور اپنا فعل ان کی طرف منسوب کرتا ہے اور ان کے افعال کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور بات بھی یہ ہے کہ اس کے دوستوں کے افعال اسی کے ہونے چاہئیں۔
یہی وجہ ہے کہ خاصۂ حق کی بیعت اس کی بیعت ہوتی ہے اور محبوبِ خاص کی اطاعت اس کی اطاعت جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ﴾ (۱) "بیشک جو آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ ضرور اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں" اور اطاعت پر حکم لگایا ﴿مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ﴾ (۲) "جو رسول کا تابع ہو وہ یقیناً اللہ کی اطاعت کرنے والا ہے۔" تو خلاصہ یہ ہوا کہ حق تعالیٰ شانہٗ کے اولیاء اسرار سے جمع اور اظہار میں تفریق کے ساتھ جدا، تاکہ اسرارِ مودّت کے جمع ہونے میں مضبوط ہوں اور فرقِ صحت اقامتِ عبودیت کے ظاہر کرنے میں صحیح ہے۔
چنانچہ مشائخ رضی اللہ عنہم میں سے ایک بڑے شیخ فرماتے ہیں:
"تو میرے باطن میں محقق ہو گیا تو میری زبان نے تجھ سے سرگوشیاں کیں۔ پس کتنے ہی امور میں ہم جمع ہوئے اور کتنے ہی امور میں ہم میں تفریق ہوئی۔ اب اگر تیری عظمت نے تجھے میری آنکھوں سے غائب کر دیا ہے تو میرا شوق اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ یہ غیبت بھی میرے لیے 'حضوری' کی پناہ گاہ ہے۔"
حواشی: ۱۔ سورۃ الفتح: ۱۰ ۲۔ سورۃ النساء: ۸۰
صفحہ۴۳۴
خلاصہ یہ کہ اجتماعِ اسرار کو جمع کہتے ہیں اور مناجاتِ لسانی کو تفریق اور جب جمع اور تفریق ایک جگہ جمع ہو کر دل میں مرکوز ہو جائیں تو پھر اس کیفیت کا اس حال والا خود ہی قاعدہ ہو جاتا ہے۔ نہایت لطیف بات ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ
فصل:
اب رہا وہ خلاف گروہ جو کہتا ہے کہ اظہارِ جمع تفرقہ ہے۔ اس لیے یہ متضاد ہے کیونکہ جب سلطانِ ہدایت مستولی ہوتا ہے تو ولایت کسب و مجاہدہ ساقط ہو جاتا ہے اور محض تعطل ہے۔ اس لیے کہ جب تک امکانِ عمل اور طاقتِ کسب و مجاہدہ تھا، ہرگز وہ بندے سے ساقط نہیں ہوتا۔ اس وجہ میں کہ تفرقہ سے جدا نہیں ہے۔ جیسے نورِ آفتاب سے اور عرض جوہر سے اور صفت موصوف سے۔ تو مجاہدہ ہدایت سے اور شریعت حقیقت سے اور طلب حاصل ہونے سے اسما جدا نہیں لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ مجاہدہ مقدم ہو یا مؤخر لیکن یہ بہتر ہے کہ مجاہدہ مقدم ہو۔ اس پر مشقت زیادہ ہو اور اس پر کہ مجاہدۂ مؤخر سے رنج و کلفت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ حضوریٔ حضور میں ہوتا ہے اور اسے اس کی نفیٔ مشقتِ اعمال ہو تو نفی عینِ عمل نظر آتی ہے اور وہ عظیم غلطی میں ہے اور جائز نہیں کہ بندہ ایسے درجہ میں پہنچے کہ کل اپنے اوصاف کو معیوب اور معلولی جانے۔ جب اوصافِ محمود کو اپنی نظر سے عیب دار نہیں کر سکتا تو ناقص بھی دیکھنا چاہیے تاکہ اوصافِ مذموم معیوب تر نظر آئیں۔
یہ اس معنی میں میں لا رہا ہوں کہ ایک قوم جہاں سے اس معنی میں غلطی پڑ گئی ہے اور وہ بیگانگی کے قریب ہو گئی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ پانا کسی مجاہدہ سے وابستہ نہیں اور ہمارے اعمال و اطاعت معیوب ہیں اور ناقص مجاہدات نہ کرنے ہی بہتر ہیں ایسے کرنے سے۔ میں انہیں کہتا ہوں کہ ہمارے کردار کو بالا تفاق مقرر کرتے ہو اور فعلوں کو محلِ مشقت اور شر اور آفت کا منبع کہتے ہو تو ضرور نہ کرنے کو بھی ایک فعل کہنا پڑ گیا تو جب کرنا اور نہ کرنا دونوں فعل ہوئے اور فعل محلِ علت ہے تو کیوں نہ کرنے کو کرنے سے اولیٰ تر جانتے ہو۔ یہ تو خسرانِ ظاہر اور غبنِ واضح ہے۔
تو یہ کفر اور ایمان میں اچھا فرق ہے اس لیے کہ مومن اور کافر میں اتفاق ہے کہ ان کے فعل محلِ علت ہیں تو مومن حکم سے کچھ کر کے نہ کرنے سے اچھا جانتا ہو اور کافر بیکاری کے حکم سے نہ کرنے کو کرنے سے اچھا جانتا ہے۔ تو جمع اسے کہتے ہیں کہ آفت دیکھنے میں تفریق کا حکم اس سے ساقط ہو جائے اور تفریق یہ ہے کہ جمع میں حجاب ہو تو تفریق کو ہی جمع جاننے۔ زین کبیر کہتے ہیں: اَلْجَمْعُ الْخُصُوْصِيَّةُ وَالتَّفْرِقَةُ الْعُبُوْدِيَّةُ مَوْصُوْلٌ اَحَدُهُمَا بِالْاٰخَرِ غَيْرُ مَفْصُوْلٍ عَنْهُ۔ "یعنی حق تعالیٰ شانہٗ کی خصوصیت کے لیے جمع ہوتی ہے اور بندہ کی عبودیت اس کیلیے تفرقہ ہوتا ہے
صفحہ۴۳۵
اور یہ اس سے جدا نہیں ہوتا اس لیے کہ نشانِ خصوصیت حفظِ عبودیت ہے۔" جب مدعی معاملہ میں اپنے عمل پر قائم نہ رہے تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہوتا ہے۔ تو جائز ہے کہ بارِ مجاہدہ و رنج و کلفت میں وقت گزارنا حقِ مجاہدہ و تکلیف اس کے بندہ سے اٹھ جاتی ہے لیکن یہ جائز نہیں کہ عینِ مجاہدہ و تکلیف میں انہیں عینِ جمع میں سوا کسی عذر کے۔ واضح رہے کہ یہ حکم اس کیلیے ہے جو احکامِ شرع میں عالم ہو اور اب میں اس کے معنی بیان کرتا ہوں تاکہ تجھے معلوم ہو جائے۔
سمجھ لو کہ جمع دو قسم کی ہے۔ ایک جمعِ سالم اور ایک جمعِ تکسیر۔ جمعِ سالم وہ ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے غلبۂ حال اور قوتِ عمل اور وجد و قلق میں شوق ظاہر ہو اور حق تعالیٰ ہی اپنے بندہ کا محافظ ہو اور اپنے حکم اس کے ظاہر پر جاری فرمائے اور بندہ کی اس کی تکمیل میں نگاہ رکھنے والا وہی ہو اور اسے مجاہدہ میں نہ ڈالے جیسا کہ سہل بن عبداللہ اور ابو حفص حداد اور ابو العباس سیاری مروزی امام مرو صاحبِ مذہب اور ابو یزید بسطامی اور ابو بکر شبلی اور ابو الحسن حصری اور ایک جماعت کبار مشائخ قدس اللہ ارواحہم اس سے وابستہ اور مغلوب الحال تھے۔ جب نماز کا وقت آتا تو اپنے حال میں آ کر نماز ادا کرتے جب فارغ ہوتے پھر مغلوب ہو جاتے۔
اس لیے کہ جب تو محلِ تفرقہ میں ہوگا تو ٹوٹو ہی ہوگا اور تکمیلِ احکام کرے گا اور جب اس طرف تجھے جذب کیا جائے گا تو حکم سے جو اولیٰ تر ہے وہ تجھ پر نگاہ رکھے گا۔ باعتبارِ جہت دو معنی کے لیے ایک یہ کہ نشانِ بندگی تجھ سے نہ اٹھیں، دوسرے یہ کہ حکم وعد پر قیام کرے کہ میں ہرگز شریعتِ محمدی علیہ السلام منسوخ کرنا نہیں چاہتا۔
اور جمعِ تکسیر یہ ہے کہ بندہ حکم اور اس کے متعلقات سے مدہوش ہو۔ اس کا حکم مثلِ مجانین کے ہوگا۔ تو ایک ان میں معذور ہوتا ہے اور ایک مشکور۔ مشکور کا حال معذور سے قوی تر ہوتا ہے اور تمام ان حالوں میں جمع کا کوئی مقام مخصوص نہیں ہوتا۔ حال مفرد نہ کہ جمع۔ جمعِ ہمت اس معنی میں اپنا مطلوب ایک گروہ کا کشفِ معنی مقامات میں ہوتا ہے اور ایک گروہ کشف اندر احوال چاہتا ہے اور یہ دونوں وقت صاحبِ مراد کے لیے جمعِ ہمی کے حاصل ہوتے ہیں۔ لِاَنَّ التَّفْرِقَةَ فَصْلٌ وَالْجَمْعَ وَصْلٌ۔ "اس لیے کہ تفرقہ فصل ہے اور جمع وصل" اور یہ بہر صورت دُرست ہے جیسے ہمتِ یعقوب علیہ السلام، یوسف علیہ السلام کی طرف جمع ہوئی۔ اس لیے کہ ان کے لیے سوائے ارادۂ یوسفی اور کوئی ارادہ باقی نہ رہا تھا اور مجنوں کی ہمت لیلیٰ میں اتنی جمع ہوئی کہ مجنوں کو سوائے لیلیٰ کے کچھ نظر نہ آیا۔ تمام عالم اس کی نظر میں لیلیٰ ہی تھا اور اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں۔ جیسا کہ ابو یزید رضی اللہ عنہ ایک روز اپنے عبادت خانے میں تھے کہ کوئی شخص آیا اور پکارا: هَلْ اَبُوْ يَزِيْدَ فِي الْبَيْتِ؟ فَقَالَ اَبُوْ
صفحہ۴۳۶
يَزِيْدَ مَا فِي الْبَيْتِ اِلَّا اللّٰهُ "کیا بایزید گھر میں ہیں؟ تو حضرت بایزید نے جواب دیا۔ گھر میں سوائے خدا کے کوئی نہیں۔"
مشائخ رضی اللہ عنہم میں سے ایک کہتے ہیں کہ ایک درویش مکہ معظمہ آئے اور اپنی قیام گاہ میں مشاہدہ خانہ میں ایک سال رہے۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا، نہ سوئے، نہ غسل کیا۔ اپنی اجماعِ ہمت کہ جو تھی رویت خانہ میں اُسے اپنی طرف مضاف کرتے رہے، اور یہی ہمت ان کی غذائے تن اور مشربِ جاں رہی۔
ان تمام (مغلق) باتوں کی اصل یہ ہے کہ جب خداوند تعالیٰ کو اپنا مایۂ محبت بنا لیا جائے تو ایک جوہر سے ہو جاتا اور اپنے آپ کو اس سے متجزی و مقسوم کر لیتا ہے اور ہر ایک مجانِ خاص بقدرِ گرفتاری اس جزو سے اجزاءِ کل کے ساتھ مخصوص کر لیتا ہے۔ اس وقت جوشِ انسانیت اور لباسِ طبیعت اور غاشیۂ خراج اور حجابِ روح اس سے فروگذاشت ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ اجزاء اپنی قوت سے اس جزو میں مل کر اپنی صفت میں متصف کر لیتے ہیں۔ تاکہ کل محب، محبت ہی ہو اور تمام حرکات و لحظات اس کی شرط ہو جائیں اور اس حال کو تمام اربابِ معانی اور اہلِ لسان جمع کہتے ہیں اور اس معنی میں حضرت حسین بن منصور رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، اے میرے سردار! میرے مولا! میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، اے میرے مقصد! اے میرے معنی! اے میری عین! عینِ وجود کے، اے میری ہمت کی انتہا! اے میرے کلام! اے میرے اشارہ! اے ایماء! اے میرے کل کے کل! اے میری سماعت و بصارت! اے میرے کل! اے میرے عنصر! اے میرے اشارۂ دل!!"
تو وہ جو اپنے اوصاف میں مستعار ہوتا ہے، وہ اس کی اثباتِ ہستی مستعار ہوتا ہے اور اس کا التفات کونین کے ساتھ زنار ہے اور موجودات اس کی ہمت میں خوار ہوتی ہے۔
پھر ایک گروہ اربابِ لسان اپنے دقیق کلام میں نفیس و پسندیدہ عبارت کہتا ہے کہ "جمع الجمع"۔ یہ کلمہ بطریقِ عبارت اچھا ہے۔ لیکن بمعنی بہتر یہ ہے کہ جمع کو جمع نہ کہا جائے۔ اس لیے کہ تفریق لازمی ہے تاکہ جمع اُس پر درست کرے، اور کس طرح جمع ہو سکتی ہے جب کہ خود جمع
صفحہ۴۳۷
تفریق ہے اور جمع ایک حال سے نہیں ہوتی اور یہ عبارت محلِ تہمت ہے۔ اس لیے کہ مجتمع کو فوق وتحت سے باہر دیکھنا نہیں ہو سکتا۔
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کونین اور تمام عالم شبِ معراج حضور ﷺ نے ملاحظہ فرمائے اور کسی چیز کی طرف کچھ التفات نہ فرمایا اس لیے کہ وہ جمع کے ساتھ جمع تھے۔ اور مجتمع کا تفرقہ آپ نے مشاہدہ نہ فرمایا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى﴾ (۱)
اور میں نے اس موضوع پر بحالتِ ہدایت کتاب لکھی ہے اور اس کا نام "کتاب البیان لاہل العیان" ہے اور بحر القلوب میں جہاں باب جمع ہے کافی فصول بیان ہو چکی ہیں۔ اب ہم بخیالِ اختصار اسی کو کافی سمجھتے ہیں اور یہ طریقہ مذہبِ سیاریان کا ہے جو متصوفہ سے ہیں اور طبقۂ صوفیاء میں مقبول محقق ہیں۔
اب اس گروہِ ملاحدہ کی طرف رجوع کرتے ہیں جو صوفیاء سے متعلق بنتے ہیں اور ان کے مضامین اظہارِ الحاد کا آلہ ہیں اور ان کی گمراہی اور ذلت پر پردۂ اعزاز ڈالتے ہیں تاکہ ان کی گمراہی ظاہر نہ ہو سکے اور مریدان کی باتوں سے پرہیز کریں اور اپنے کو ایسے لوگوں سے بچائیں۔ انشاء اللہ عز و جل وَالْاَمْرُ كُلُّهٗ بِيَدِهٖ۔
بیانِ فرقۂ حلولیہ لعنہم اللہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ﴾ (۲) "تو کیا ہے حق کے بعد مگر گمراہی تو کیا بھٹکتے پھرتے ہو۔" ان دو مردود گروہ سے جو اس جماعت سے اتباع کرتے ہیں اور گمراہی میں انہیں اپنا یار جانتے ہیں۔ ایک نو گروہ ابو حلمان دمشقی سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی روایتیں لاتا ہے، جس کے خلاف کتبِ مشائخ میں اس سے مسطور ہے اور روایت کرنے والے اس قصہ کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ یہ ملاحدہ اس ابو سلیمان دمشقی کو حلول و امتزاج و نسخِ ارواح کے عقیدہ کے ساتھ منسوب کرتے ہیں اور میں نے بھی ایک کتابِ مقدس میں دیکھا کہ اس میں طعن کی ہے اور عالمانِ اصول کو بھی اس کا خیال ہے۔ حقیقتِ حال کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ایک جماعت اپنے کو فارس سے منسوب کرتی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ مذہب حسین بن منصور کا ہے، اس جماعت کے سوا اور حسین بن منصور کی جماعت والے یہ مذہب نہیں رکھتے۔
میں نے ابو جعفر صیدلانی کو دیکھا ہے۔ ان کے مرید چار ہزار کے قریب عراق میں تھے اور وہ سب خلاجی تھے اور سب فارس کے اس کلام پر لعنت کرتے تھے اور ابو حلمان دمشقی کی کتابوں
حواشی: ۱۔ سورۃ النجم: ۱۷ ۲۔ سورۃ یونس: ۳۲
صفحہ۴۳۸
میں جو ان کی تصنیف ہیں تحقیق کے سوا (حشو و زوائد) نہیں۔
اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ میں نہیں جانتا کہ فارس اور ابو حلمان کون ہے اور انہوں نے کیا کہا ہے۔ لیکن جو شخص ایسا کلام کرے جو توحید و تحقیق کے خلاف ہو، اسے دین سے کچھ واسطہ نہیں۔ اس لیے کہ جب دین کی اصل ہی محکم نہ ہو تو تصوف جو فرع اور نتیجہ ہے، بدرجۂ اولیٰ خلل پذیر ہوگا۔ اس لیے کہ کرامات اور کشفِ اہلِ دین کے نشان کے سوا صورت پذیر نہیں اور اس امر کے قائلوں کو حقیقتِ روح میں غلطی واقع ہوئی ہے۔
اب میں سنت کے طور پر سب کلام اور احکامِ روح کے بیان کرتا ہوں اور ملحدوں کی گفتگو اور غلطیاں اور شبہات بیان کرتا ہوں تا کہ تجھے اللہ تعالیٰ قوتِ فہم بخشے کیونکہ اس مبحث میں بہت مفاسد ہیں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ
روح کی بحث
اچھی طرح سمجھ لو کہ ہستیِ روح کا علم ضروری ہے اور اس کی کیفیت سے عقل عاجز ہے اور عالموں حکیموں نے اگرچہ اپنے قیاس کے مطابق اس کے بارے میں سب نے کچھ نہ کچھ کہا ہے اور کافروں کے طبقات نے بھی اس میں کلام کیا ہے۔ جب یہودیوں کی تعلیم سے کفارِ قریش نے نضر بن حارث کو حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا کہ وہ حضور ﷺ سے روح کے متعلق سوال کرے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک کو اس کے عین ثابت کرنے کو فرمایا: ﴿وَیَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ﴾ (۱) "یعنی اے محبوب آپ سے روح کی ماہیت پوچھ رہے ہیں۔" تو اس وقت روح کی قدامت کی نفی فرمانے کا حکم دیا: ﴿قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ﴾ (۲) "فرما دیجیے روح امرِ ربّ ہے" اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُّجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا اِئْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ۔ (۳) "یعنی ارواح ایک جمع شدہ لشکر ہیں جو اُن میں آپس میں آشنا ہیں وہ محبت و مراد سے ملے ہوئے ہیں اور جو ناواقف ہیں، وہ مختلف ہیں۔"
۱۔ سورۃ الاسراء: ۸۵ ۲۔ ایضاً
۳۔ اسے امام بخاری نے "الادب المفرد" میں سلیمان بن بلال سے، انہوں نے سہیل سے روایت کیا ہے۔ جبکہ بدء الخلق میں امام بخاری نے اسے لیث اور یحییٰ بن ایوب سے اور ان دونوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور الادب المفرد میں امام بخاری نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے موصولاً بھی روایت کیا ہے، امام مسلم نے "صحیح مسلم" میں عبد العزیز بن محمد الدراوردی کے طریق سے، انہوں نے سہیل سے، (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر)
صفحہ۴۳۹
اور اس کی مانند بہت سے دلائل ہیں مگر اس کی کیفیت پر کسی کا تصرف نہیں ہوا۔ ایک گروہ کہتا ہے:
(بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ سے) انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔ اس کے علاوہ امام مسلم نے جعفر بن زبرقان کے طریق سے، انہوں نے یزید بن الاصم سے روایت کیا ہے اور ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ امام ابو یعلی نے یحییٰ بن ایوب اور زہیر بن بکار کے طریق سے روایت کیا ہے اور ان دونوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، امام ابو داؤد نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ امام عسکری نے ابراہیم الجبری کی سند سے، انہوں نے احوص سے انہوں نے حضرت ابن مسعود سے مرفوعاً روایت کیا ہے: اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُّجَنَّدَةٌ، تَلْتَقِیْ فَتَشَامُّ كَمَا تَتَشَامُّ الْخَیْلُ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا اِئْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ، فَلَوْ اَنَّ رَجُلًا مُّؤْمِنًا جَاءَ اِلٰی مَجْلِسٍ فِیْهِ مِئَةُ مُنَافِقٍ، وَلَیْسَ فِیْهِمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَاحِدٌ لَجَاءَ حَتّٰی یَجْلِسَ اِلَیْهِ، وَلَوْ اَنَّ مُنَافِقًا جَاءَ اِلٰی مَجْلِسٍ فِیْهِ مِئَةُ مُؤْمِنٍ وَلَیْسَ فِیْهِ اِلَّا مُنَافِقٌ لَجَاءَ حَتّٰی جَلَسَ اِلَیْهِ۔
اسی طرح امام دیلمی نے بغیر کسی سند کے حضرت معاذ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: لَوْ اَنَّ رَجُلًا مُّؤْمِنًا دَخَلَ مَدِیْنَةً فِیْهَا اَلْفُ مُنَافِقٍ وَمُؤْمِنٌ وَاحِدٌ لَشَمَّ رُوْحُهٗ رُوْحَ ذٰلِكَ الْمُؤْمِنِ وَعَكْسُهٗ۔
امام دیلمی نے اس روایت کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک عورت دیکھی تو آپ نے پوچھا یہ کون ہے؟ عرض کی مکہ کی مزاحیہ عورت۔ پوچھا کس کے پاس آئی ہے؟ عرض کی: مدینہ کی مزاحیہ عورت کے پاس۔ تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُّجَنَّدَةٌ۔ امام طحاوی کہتے ہیں کہ اس مضمون کی روایات حضرت سلمان، ابن عباس، ابن عمر، ابن مسعود، علی المرتضیٰ، عمر فاروق اور ابو طفیل رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔ اس حدیث شریف کو امام سیوطی "الجامع الصغیر" میں لائے ہیں اور امام بخاری علیہ الرحمۃ کی طرف منسوب کیا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے جبکہ امام احمد بن حنبل، امام مسلم اور امام ابو داؤد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" میں حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے اور اسے صحیح کہا ہے۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں: صحیح مسلم کتاب الادب و کتاب البر (ص: ۱۵۹)، صحیح البخاری کتاب الانبیاء (۴/۱۶۲)، والادب المفرد للبخاری (ص: ۹۰۰)، سنن ابی داؤد کتاب الادب (ص: ۱۹)، المقاصد الحسنہ للسخاوی (ص: ۹۵)، مسند الامام احمد (۲/۲۹۵، ۵۳۷، ۵۳۹)، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم (۱۹۸/۱، ۴/۱۱۰، ۵/۶۷)، تاریخ بغداد (۳/۳۲۹، ۳۵۲/۴)، تمییز الطیب من الخبیث (ص: ۱۱۷)، الجامع الصغیر (حدیث: ۳۰۵۰)، کشف الخفاء للعجلونی (ص: ۳۱۵)، فیض القدیر للمناوی (۳/۱۸۳)، الجامع الازہر للمناوی (۱/۱۹۴)، الدرر المنتثرہ للسیوطی (ص: ۱۵)، مسند الشہاب (۱/۱۸۵)، امثال ابی الشیخ (ص: ۱۰۰)، مسند ابی یعلی (۱/۳۰۲)، تاریخ اصبہان لابی نعیم (۱/۲۳۸، ۲/۹۳، ۲۳۲)، احیاء علوم الدین (۲/۱۱۱)
صفحہ۴۴۰
اَلرُّوْحُ هُوَ الْحَیٰوةُ الَّتِیْ یُحْیِیْ بِهِ الْجَسَدُ۔ "روح وہ ایک زندگی ہے کہ جسم اس سے زندہ ہوتا ہے۔"
ایک گروہ متکلمین کا بھی یہی کہتا ہے اور اس معنی سے روح عرض ہوئی کہ حیوان اس سے بفرمانِ الٰہی زندہ ہوتا ہے اور اس سے تالیف و حرکت اور اجتماع ہے اور اس طرح اعراض سے ہے کہ اس سے ہر جاندار ایک حال سے دوسرے حال میں جاتا ہے۔
"یعنی روح ایک جوہر ہے بلا حیوۃ، جس کے سوا زندگی کا وجود روا نہیں ہوتا جیسے روح بلا جسم معتدل نہیں ہوتی اور ایک دوسرے کے بغیر نہیں، وجود نہیں ہوتا اور احساس بھی معدوم ہوتا ہے۔ جیسے درد اور درد کا علم تو جسم و روح دونوں ایسی چیزیں ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔"
اور اس معنی میں بھی یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ روح بغیر حیوۃ کے، اپنے وجود میں غیر محسوس ہے۔ جیسے بغیر شخصیتِ معتدلہ روح علیحدہ محسوس نہیں ہو سکتی۔ جیسے کہ درد اور اس کا احساس۔ تو اس کے معنی بھی عرض ہی ہوئے جیسے حیات۔ پھر جمہور مشائخ اور اکثر اہلسنت و جماعت اس طرف گئے ہیں کہ روح عینی جوہر ہے۔ نہ کہ وصفی کہ قالب سے موصول ہو۔ اجرائے عادت اللہ کے موافق حیوۃ کو پیدا کرتی ہے اور حیوۃ انسان صفت ہے اور اسی کے ذریعہ اسے زندہ جانا جاتا ہے۔ لیکن روح من جانب اللہ جسدِ انسانی میں ودیعت ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ بھی جائز ہے کہ روح انسان سے جدا ہو جائے اور وہ حیات کے ساتھ رہے جس طرح سوتے ہوئے انسان سے روح نکل جاتی ہے اور حیات باقی رہتی ہے۔ مگر یہ جائز نہیں کہ روح کے چلے جانے کے بعد علم و عقل باقی رہے۔ اس لیے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ارواحِ شہداء طیورِ جنت میں رہتی ہیں۔ اس بناء پر لامحالہ ماننا پڑے گا کہ وہ عین جوہر ہو اور سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا: اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُّجَنَّدَةٌ۔ "روحیں جمع کیے ہوئے لشکر ہیں" اور یہ عرض پر باقی نہیں رہ سکتے اور عرض خود بخود قائم نہیں ہوتا تو روح ایک جسمِ لطیف ہے کہ فرمانِ الٰہی سے آتا ہے اور اسی فرمان سے جاتا ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہم نے ایک ہی رات میں معراج والی شب آدم صفی اللہ،
صفحہ۴۴۱
یوسف صدیق اللہ، موسیٰ کلیم اللہ، ہارون کلیم اللہ، عیسیٰ روح اللہ اور ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا و علیہم الصلوٰۃ والسلام کو آسمانوں پر دیکھا تو لامحالہ ان کی روحیں تھیں اور اگر روح عرضی ہوتی، بخود قائم ہوتی حتیٰ کہ بحالتِ اسے دیکھ نہیں سکتا۔ اگر عرض ہوتا تو اس کے وجود کے لیے کوئی محل ہوتا جہاں وہ عارضی ہوتی اور اس کا محل جوہر ہوتا اور جوہر مؤلف اور کثیف ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ اگر روح لطیف جوہر اور جسیم ہے تو اس کا دیکھنا جائز بھی ہونا چاہیے۔ لیکن دل کی آنکھ سے دیکھ لی جاتی ہے اور بستہ پروں میں وہ جنت میں ہوتی ہے اور اسے اپنی قبر اور قنادیلِ عرش میں آنے جانے کی راہ ہے۔ جیسا کہ اس کے ثبوت میں اخبار و احادیث ناطق ہیں اور ان کا آنا جانا بحکمِ الٰہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ﴾ (۱) "اے محبوب فرما دیجیے کہ روح میرے ربّ کے امر میں سے ایک امر ہے۔"
یہاں ملاحدہ کا اختلاف ہے۔ اس لیے کہ وہ روح کو قدیم کہتے ہیں اور اسے پوجتے ہیں۔ اسے فاعلِ اشیاء اور مدبر بھی اس حد تک مانتے ہیں کہ اسے بغیر تدبیر امور نہیں ہو سکتے۔ اسے ارواحِ آلہ اور لم یزل کہتے ہیں۔ اس عقیدہ پر نصاریٰ بھی ہیں اور تبت اور چین کے تمام ہندو بھی عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور ادھر سے شیعہ اور قرامطہ اور فرقۂ باطنیہ بھی اسی عقیدہ پر ہے۔ ہر گروہ کے متعلق ہم ذکر کریں گے۔ اس میں سوال طلب جو چیز ہے وہ یہ کہ روح قدیم کس معنی میں مانتے ہیں۔
محدث مقدم مانتے ہیں جو وجود میں ہے۔ یا ایسا قدیم مانتے ہیں کہ ہمیشہ باقی رہے۔ اگر وہ کہیں کہ ہماری مراد محدث متقدم ہے وجود سے۔ تو ایسی صورت میں اصل کے اندر خلاف پیدا ہو گا۔ اس لیے کہ ہم بھی روح کو محل ضرور کہتے ہیں۔ اس لیے کہ تقدمِ وجود روح کو وجودِ شخصی پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ الْاَرْوَاحَ قَبْلَ الْاَجْسَادِ بِمِائَتَیْ اَلْفِ عَامٍ۔ (۲) "بیشک اللہ نے ارواح کو اجسام سے دو لاکھ سال قبل پیدا فرمایا۔" تو جب اسے محدث مانا جائے تو لامحالہ محدث کو محدث کے ساتھ محدث ماننا پڑے گا اور یہ ایک قسم ہوگی مخلوقِ حق سے جسے دوسری جنس کے ساتھ ملایا گیا ہو اور اس ملانے سے لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ حیوۃ سے
۱۔ سورۃ الاسراء: ۸۵
۲۔ یہ الفاظ اس حدیث شریف کا حصہ ہیں جسے امام ازدی نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور امام ابن جوزی نے "الموضوعات" میں اور امام شوکانی نے "الفوائد المجموعہ" (ص: ۳۸۲) میں ذکر کیا ہے اور مکمل حدیث شریف یوں ہے: اِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ الْاَرْوَاحَ قَبْلَ الْاَجْسَادِ بِالْفَیْ عَامٍ ثُمَّ جَعَلَهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، ثُمَّ اَمَرَهَا بِالطَّاعَةِ لِیْ فَاَوَّلُ رُوْحٍ سَلَّمَتْ عَلٰی رُوْحِ عَلِیٍّ۔
صفحہ۴۴۲
حاصل نہیں لایا اپنی تقدیر سے۔ یعنی ارواح ایک ایسی جنس ہیں کہ خلق کے اندر ہیں اور اجساد دوسری ایک جنس ہے۔ تو جب تقدیرِ حیوۃ، حیوۃ پیدا کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا صرف یہ حکم رہ جاتا ہے کہ وہ حیات روح، روحِ جسدِ انسانی میں پیوستہ ہوتا کہ اس میں زندگی حاصل ہو اور وہ جو کہ ایک شخص سے کسی شخص میں اس اصول کو روا نہیں رکھتے جیسے کہ ایک شخص کو دو حیوۃ روا نہیں ہوتی اور ایک روح دو شخصوں میں روا نہیں ہوتی۔
اگر اخبار میں یہ تصریح نہ ہوتی اور رسولِ اکرم ﷺ اپنی صادق خبروں میں اس کی خبر نہ دیتے تب بھی از روئے عقل یہی روح بدون حیات کے نہ ہوتی اور وہ صفت ہونا کہ عین۔ اگر کہیں کہ اس قول سے ہماری مراد ہمیشہ قدیم ہے تو میں کہتا ہوں کہ وہ خود بخود قائم ہے یا غیر سے۔ پھر اگر کہیں کہ قدیم اور بنفسہٖ قائم ہے تو میں کہتا ہوں کہ خداوندِ عالم وہ ہے یا نہیں۔ اگر کہیں کہ خداوندِ عالم وہ نہیں تو دوسرا قدیم ثابت ہوگا۔ اور یہ معقول نہیں کیونکہ قدیم معدوم نہیں ہوتا اور ایک ذات کا وجود دوسری کی ضد ہوتا ہے اور یہ محال ہے۔
اور اگر کہیں کہ خداوندِ عالم ہے، تو میں کہتا ہوں کہ وہ قدیم ہے اور حادث کو قدیم سے ملانا یا ایک کر دینا یا ایک ہو جانا یا حلول کرنا حادث کا مکانِ قدیم میں ہونا یا قدیم کا اسے حاصل ہونا محال ہوتا ہے۔ کیونکہ جو چیز کسی سے ملتی ہے وہ اس کی مثل ہوتی ہے اور وصل یا فصل کے سوا حادث روا نہیں ہوتا۔ تَعَالَی اللّٰهُ عَنْ ذٰلِكَ عُلُوًّا كَبِیْرًا۔
اور اگر کہیں کہ یہ نفسِ خود قدیم اور دوسرے سے قائم ہے تو وہ حال سے خالی نہیں یا صفت ہوگا یا عرض۔ اگر عرض کہیں تو ضرور اس کے لیے محل ہوگا یا لامحل ہوگا۔ اگر محل کہیں تو محل اس کا کس کے مثل ہوگا۔ تو اسمِ قدیم باطل ہو جائے گا اور اگر لامحل کہیں تو اس کا وجود عقل نہیں مانتی اور اگر کہیں کہ صفتِ قدیم ہے جیسا کہ حلولی اور تناسخی کہتے ہیں اور اس صفت کو صفتِ حق بتاتے ہیں تو یہی محل ہے کہ حق کی صفت قدیم مخلوق کی صفت ہو جائے گی۔
اور اگر جائز رکھیں کہ حیات صفتِ خلق ہو تو بس روا نہیں۔ اس لیے کہ پھر قادر کی صفت مخلوق و مقدور کی صفت ہو جائے گی۔ اور پھر صفت موصوف سے قائم ہوگی تو پھر قدیم کی صفت کے لیے حادث کی صفت کی طرح جائز ہوگی۔ اور نا قابلِ انکار حقیقت ہے کہ حادث کو قدیم سے کچھ تعلق نہیں۔ اور اقوالِ ملحدہ اس صورت میں باطل ہیں اور روح چونکہ امرِ حق سے ہے اس کے سوا جو کہے وہ علانیہ مکابرہ ہے اور حادث و قدیم سے جہل ہے۔ اور یہ ممکن نہیں کہ ولی اپنی ولایت کی صحت میں اوصافِ حق سے جاہل ہو۔
صفحہ۴۴۳
یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم کو خطرہ سے محفوظ رکھا ہے اور عقل دی ہے جس سے ہم دلیل دے سکتے ہیں اور ایمان دیا ہے کہ اس کی روشنی میں اُسے پہچانتے ہیں اور وہ حمد جس کا انجام و حد نہ ہو کرتے ہیں۔ اس لیے کہ محمد و حمد بے حد نعمتوں کے مقابل مقبول نہیں۔ جب ظاہر داروں نے یہ بات اہلِ اصول کی سنی تو انہوں نے خیال کیا کہ سب صوفیوں کا یہی عقیدہ ہے تو وہ خسران و نقصان میں پڑ کر محجوب ہو گئے اور ولایتِ حق کا لطیفہ اور چمک اور تجلیِ ربانی اُن سے پوشیدہ ہو گئی۔ اس لیے بزرگوں نے فرمایا کہ عامۂ خلق کی تردید ان کے قبول کے برابر ہوتی ہے اور ان کا قبول ردّ کے برابر ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
فصل:
مشائخ کرام میں سے ایک حضرت فرماتے ہیں رحمۃ اللہ علیہ: اَلرُّوْحُ فِی الْجَسَدِ كَالنَّارِ فِی الْفَحْمِ فَالنَّارُ مَخْلُوْقَةٌ وَالْفَحْمُ مَصْنُوْعَةٌ۔ "جانِ جسم میں مثلِ اس آگ کے ہے جو کوئلوں میں ہے تو آگ مخلوق ہے اور کوئلہ مصنوع ہے۔" اور عقیدۂ قدامت سوائے ذات و صفاتِ حق تعالیٰ روا نہیں۔
اور حضرت ابو بکر واسطی نے روح میں بہت کچھ فرمایا ہے اور اُن سے جو روایتیں آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ: اَلْاَرْوَاحُ عَلٰی عَشَرَةِ مَقَامَاتٍ۔ "روح دس مقامات پر قائم ہے۔" اول لازمی طور پر خطا کاروں کی روحیں جو مقید ہیں ظلمت کدۂ عذاب میں، وہ نہیں جانتیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ دوسرے روحِ پارسا زُہاد جو آسانوں میں اپنے عمل کے بدلے میں خوش و خرم رہ رہے ہیں اور بطاعتِ الٰہی مسرور ہیں اور اسی قوت سے وہ جا رہے ہیں۔ تیسرے ارواحِ مریدان کہ آسمان چہارم میں لذتِ صدقِ اعمال کے ساتھ سایۂ اعمال میں ملائکہ کے ساتھ ہیں۔ چوتھے ان کی روحیں جو اہلِ منّ سے ہیں، وہ قنادیلِ عرش میں رہتی ہیں، ان کی غذا رحمت اور ان کا پینا لطف و قربت ہے۔ پانچویں وہ ارواحِ اہلِ وفا ہیں جو حجابِ صفا و مقامِ اصطفیٰ میں بایش و طرب ہیں۔ چھٹے ارواحِ شہداء ہیں جو مرغانِ بہشت کے اجسام میں ریاضِ خلد میں ہیں وہ جہاں چاہیں سیر کریں اُن کے لیے وقت بے وقت کی قید نہیں۔
ساتویں ارواحِ مشتاقان ہیں کہ وہ پردہ ہائے انوارِ صفات میں بساطِ ادب پر مقیم ہیں۔
آٹھویں ارواحِ عارفان ہیں کہ وہ کوشکِ قدس میں رات دن کلامِ الٰہی سننے میں مست ہیں اور وہ اپنے اماکن و مقامِ بہشت اور دنیا دونوں دیکھتے ہیں۔ نویں ارواحِ دوستانِ خاص ہیں کہ وہ مشاہدۂ جمال و مقامِ کشف میں مستغرق ہیں اور سوائے جمالِ جمیل کے کسی کو نہیں جانتے (۱) یہ
۱۔ بقولِ شاعر۔ پکاراد کیہ کر میں حور کی شکل ۔ خدا و نمائی یہ وہ صورت نہیں ہے۔ (مترجم)
صفحہ۴۴۴
محبوب کے جلوے کے سوا کسی سے نیاز مندی نہیں رکھتے۔
دسویں ارواحِ درویشاں ہیں کہ وہ مقامِ فنا میں مقرب ہیں ان کے اوصاف متبدل اور ان کے حال متغیر ہوتے ہیں۔
بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ انہیں ہم نے دیکھا کہ ہر ایک اپنی علیحدہ صورت میں ہے اور یہ جائز نہیں جو ہم نے کہا کہ ان کا وجود ہے اور جسمِ لطیف ہے۔ یہ حقیقت بغیر دیکھے سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ البتہ جب اللہ تعالیٰ دکھانا چاہے تو بندہ دیکھ سکتا ہے۔ اور میں (علی بن عثمان جلابی) کہتا ہوں کہ ہماری زندگی کا خلاصہ صَرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اور ہماری بقا و فنا اور حیات و ممات اسی کی قوت سے قائم ہے۔ ہمیں زندہ رکھنا اسی کا ایک فعل ہے اور ہماری زندگی اس کی تخلیق کے ماتحت ہے نہ کہ اس کی ذات و صفات کی بقا کے ساتھ، اور طبقۂ رومیاں کا وہ قول باطل ہے اور سخت گمراہی، جو کہتا ہے کہ روح قدیم ہے اگرچہ انہوں نے عبارتیں بہت کچھ بدلی ہیں۔
ایک گروہ اُسے نفس اور ہوئی کہتا ہے۔ ایک گروہ نور اور ظلمت۔ اور اس طرح وہ طریقت کے مشائخ کے اصول باطل کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی فنا و بقا کہتا ہے یا جمع اور تفرقہ۔ ایسی بیہودہ عبارتیں انہوں نے بنا رکھی ہیں اور ان کے ذریعہ اپنے کفر کو سراتے ہیں اور صوفی لوگ ان کی باتوں سے بیزار ہیں۔ اس لیے کہ مقامِ ولایت کا ثابت کرنا بغیر محبتِ الٰہی اور اس کی معرفت کے ظاہر ہو ہی نہیں سکتا (۱) اور جو قدیم و حادث کا فرق نہیں سمجھتا وہ جاہل ہے اور اہلِ بصیرت و عقل ایسے جاہلوں کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ یہاں تک اس گروہ باطل کا مقصد جو کچھ تھا بیان ہو چکا ہے۔ اب اس سے زیادہ وضاحت مطلوب ہو تو ہماری دوسری کتابوں میں دیکھیے۔ (۲) اب میں کشفِ حجاب اور معاملات کے حالات اور اہلِ تصوف کی حقیقتیں بہ دلائل ثابت کرتا ہوں تا کہ تجھے زیادہ آسانی رہے اور منکروں میں سے جسے بصارت حاصل ہو گئی وہ گمراہی سے راستے پر آ جائے اور مجھے اس کا اجر ملے۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی (۳)
۲۔ حضور داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تو فرما گئے کہ ہماری دوسری کتابوں میں دیکھیے لیکن آج نو سو سال کے اندر حضرت کی دوسری کتابوں کی زیارت ہمارے لیے عنقا ہو چکی ہے۔ (مترجم)
۳۔ اقول و باللہ التوفیق۔ حضرت وحید العصر فرید الدہر حضور داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بیانِ بحث تفصیلِ انبیاء و اولیاء سے لے کر یہاں تک جوادق مضمون ہے اور عوام کے فہم سے بہت بالا ہے، بلکہ میرا خیال تو یہ تھا کہ وہاں سے یہاں تک تمام مضمون اصل فارسی ہی میں رکھوں لیکن چونکہ ترجمہ کر رہا تھا اس بنا پر ترجمہ ہی کیا اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں وہ ادق اور مغلق مضامین کے پردے بھی کھل جائیں اور عوام استفادہ کر سکیں۔ اب کشف المحجاب شروع ہے۔ خدا کرے کہ اتنا ترجمہ ہو جانے کے باوجود عوام کے لیے یہ مفید نہیں۔ وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰهِ۔ (ابو الحسنات قادری)
صفحہ۴۴۵
کشفِ حجابِ اول: معرفتِ الٰہی
معرفتِ الٰہی کی شرائط میں
یعنی معرفتِ الٰہی کی جو شرائط ہیں اور اس کے جو مفاد ہیں ان پر مفصل بیان
اللہ تعالیٰ جل وعلا فرماتا ہے: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ﴾ (۱) "تم نے نہ جانا اللہ تعالیٰ کو حق جاننے کا۔" اور حضور ﷺ نے فرمایا: لَوْ عَرَفْتُمُ اللّٰهَ حَقَّ مَعْرِفَتِهٖ لَمَشَیْتُمْ عَلَی الْبُحُوْرِ وَلَزَالَتْ بِدُعَائِكُمُ الْجِبَالُ (۲) "اگر تم اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرو حقِ عرفان تک تو یقیناً تم دریا پر چلنے لگو اور تمہاری دعا سے پہاڑ متزلزل ہو جائیں۔"
اب معرفتِ الٰہی کی دو قسمیں ہیں ایک علمی، ایک حالی۔
معرفتِ علمی تمام نیکیوں کی جڑ ہے جو دنیا و آخرت میں حاصل ہوتی ہے اور بندہ کے لیے عرفان میں اہم ترین چیز یہ ہے کہ وہ اوقاتِ احوال میں حق تعالیٰ شانہٗ کو دنیا و آخرت کے اندر پہچانے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ﴾ (اَیْ لِیَعْرِفُوْنِ) (۳) "ہم نے آدمی اور جن پیدا نہیں کیے مگر اس لیے کہ اسے پہچان کر پوجیں۔"
تو اکثر مخلوق میں سے بہت سے وہ ہیں کہ عرفانِ حق میں قاصر ہیں سوائے اس کے کہ اتنا سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان و جن مخلوق کو اپنے لیے برگزیدہ کر رکھا ہے اور ظلمتِ دنیا سے آزاد رکھا ہے اور اس کے دل کو زندہ کر دیتا ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے حالِ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے ہمیں خبر دی اور فرمایا: ﴿وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ﴾ (۴) "یعنی اور کیا ہم نے اس کے لیے نور جس سے وہ لوگوں میں چلتا ہے۔" یعنی عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔ (كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا)۔ "کیا اس شخص کی مثل ہے جو اندھیروں میں ہے اس سے نہیں نکل سکتا۔" یعنی ابو جہل لعین۔ تو معرفت حیاتِ دل کا نام ہے، اللہ تعالیٰ شانہٗ کے ساتھ ہے اور ماسوا اللہ سے اعراض رکھنا اور یہ درجہ معرفتِ حق سے ہوتا ہے اور جسے معرفتِ حق نہ ہو وہ ذلیل و بے قدر ہے۔ تو آدمیوں میں سے علماء فقہاء وغیرہ جو علم کی صحت کو اپنے ربّ کی معرفت پر سمجھتے ہیں وہ عارف ہیں اور ایسے ہی مشائخ اس طائفہ کی اپنی صحتِ حال کو عرفانِ حق پر موقوف رکھتے ہیں اور اسی
وجہ میں عرفانِ حق کو محض علم پر فضیلت دیتے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ صحتِ حال بغیر صحتِ علم نہیں اور صحتِ علم بغیر صحتِ حال نہیں۔ یعنی وہ عارف عارف نہیں جو اپنے ربّ کا عارف نہ ہو۔ اور وہ عالم جو عارف نہیں اگرچہ عالم ہوگا مگر بغیر عرفان ہوگا۔ اور وہ لوگ جو اس معنی سے جاہل ہیں ان سے وہ اس مقام پر بے فائدہ مناظرہ کرتے پھرتے ہیں اور جاہلین میں ایک دوسرے کو اس مسئلہ سے انکار کرتا پاؤ گے۔
فصل:
اب میں اس مسئلہ کا راز ظاہر کرتا ہوں تا کہ دونوں گروہ پر فائدہ حاصل ہو سکے۔ ان شاء اللہ۔ اللہ تمہیں سعادت دارین عطا فرمائے۔ لوگوں میں معرفتِ الٰہی اور صحتِ علم پر بہت اختلاف ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ معرفتِ حق تعالیٰ عقل سے ہے اور سوا عقل معرفتِ حق روا نہیں۔ اور یہ قول محض باطل ہے اس لیے کہ وہ دیوانے جو اوّل دار السلام میں تھے، ان پر حکمِ معرفت کا لگایا جاتا ہے۔ دوسرے وہ بچے جو عاقل نہیں ہوتے ان پر حکمِ ایمان لگایا جاتا ہے۔ تو اگر معرفتِ حق عقل پر ہوتی تو انہیں عقل نہیں ہوتی تو ان پر ایمان و عرفان کا حکم لگانا صحیح نہیں ہوگا اور کافروں پر کہ ان میں عقل ہے حکمِ کفر نہیں چاہیے اور اگر عقل معرفتِ حق کی علت ہے تو چاہیے کہ جس میں عقل ہو وہ عارف ہو اور جتنے بے عقل ہوں سب کو جاہل کہا جائے اور یہ علانیہ مکابرہ ہے۔
ایک گروہ کہتا ہے کہ معرفتِ حق کی علت استدلال ہے اور بلا استدلال معرفت نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی دعویٰ باطل ہے اس لیے کہ شیطان وہ ہے جس نے بہت سے دلائل دیکھے مثلِ بہشت، دوزخ، عرش و کرسی وغیرہ۔ تو یہ دیکھنا اس کے لیے دلیل ہے اور دلیل علتِ معرفت ہے تو اسے عارف کہنا پڑے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰی وَحَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ (۱) "اگر ہم فرشتوں کو نازل کرتے ان کافروں کی طرف تا کہ وہ گفتگو کرتے اور مُردے ان سے کلام کر لیتے تو وہ ایمان لانے والے نہ ہوتے مگر جسے اللہ چاہے۔" تو اگر آیت و استدلال عرفان کی علت ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان باتوں کو علت گردانتا "اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ" فرما کر اپنی مشیت کو۔ اہلِ سنت و جماعت صحتِ عقل و رویتِ آیت کو بھی معرفت کہتے ہیں نہ کہ علتِ معرفت۔ اس لیے کہ اس کی علت عنایت و مشیتِ حق کے سوا کچھ نہیں۔ بغیر
۱۔ سورۃ الانعام: ۱۱۱
صفحہ۴۴۷
عنایتِ الٰہی عقل نابینا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ عقل خود جاہل ہے اور کسی کی عقل حق تعالیٰ شانہٗ کی حقیقت نہیں جان سکتی۔ جب عقل خود جاہل ہے تو اپنے غیر کو وہ کس طرح عارف بنا سکتی ہے اور بلا عنایتِ حق جل جلالہٗ استدلال اور آیتِ الٰہیہ میں فکر کرنے سے خطا ممکن ہے۔ اہلِ ہوئی اور جماعتِ ملحدین اکثر دلائل رکھتے ہیں مگر بہت سے عارف نہیں ہوتے اور وہ جو عنایتِ حق کے اہل ہو گئے ان کی تمام حرکات معرفت ہوتی ہیں اور ان کا استدلال بھی ترکِ استدلال میں مسلم ہوتا ہے اور وہ صحتِ معرفت میں تسلیم کو طلب سے اولیٰ نہیں سمجھتے اس لیے کہ طلب وہ چیز ہے کہ اس کے ترک کرنے کی کوئی راہ نہیں اور تسلیم وہ ہے کہ اس کی اصل میں اضطراب کی کوئی راہ نہیں، اور وجود کے لیے عقل و دلائل کو موجبِ ہدایت نہیں کہہ سکتے اور کوئی دلیل اس سے واضح تر نہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ﴾ (۱) "یعنی اگر کر فرلوٹائے جائیں قیامت کے بعد دنیا میں تو اپنے اس کفر پر واپس لوٹیں۔" جیسے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے معرفت کے متعلق سوال ہوا، فرمایا: عَرَفْتُ اللّٰهَ بِاللّٰهِ وَعَرَفْتُ مَادُوْنَ اللّٰهِ بِنُوْرِ اللّٰهِ۔ "اللہ تعالیٰ کو میں نے اس سے پہچانا اور ماسوا اللہ کو نورِ الٰہی سے جانا۔"
تو اللہ تعالیٰ نے جسموں کو پیدا فرمایا اور زندگی کو روح عطا کی اور دل کو پیدا فرمایا اور زندگی کا تمام اختیار اپنے قبضہ میں رکھا۔ تو جب عقل و آلات و آیات و قدرت کو زندگی بغیرِ تن میں نہیں رکھا تو محال ہے کہ دل کو زندہ کرے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿اَوَمَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ﴾ (۲) "یعنی جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا۔" یہاں قدرتِ حیات اپنی طرف رکھی۔ پھر فرمایا: ﴿وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ﴾ (۳) "اور ہم نے اس کے لیے نور رکھا کہ چلتا ہے اس نور سے لوگوں میں۔" تو آفرید گارِ نور اللہ تعالیٰ ہے جس کا بندہ چلتا ہے۔ اور فرمایا: ﴿یَنْشَرِحُ بِهٖ فِی النَّاسِ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ﴾ (۴) "کیا جس کا سینہ اللہ نے کھولا اسلام کے لیے اپنے ربّ کی طرف سے تو وہ ایک نور پر ہے۔" اس آیہ کریمہ میں بھی شرح صدر کا فعل اپنی طرف منسوب کیا اور اس کا باندھنا بھی اپنی طرف منسوب فرمایا اور فرمایا: ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰی سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلٰٓی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ﴾ (۵) "اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔" پھر فرمایا: ﴿وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا﴾ (۶) "اس کا اتباع نہ کرو جس کے دل کو ہم نے غفلت میں ڈال دیا ہے اپنے ذکر سے۔"
تو جب قبض و بسط اور شرحِ ختمِ دل اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تو محال ہے کہ راہنمائی بغیر حق تعالیٰ ہو سکے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے سوا امور ہیں وہ سب سبب علت ہو سکتے ہیں اور علت و سبب بلا عنایت مسبّب راہ نہیں پا سکتے۔ بلکہ تمام حجاب راہبر ہوں گے اور نہ راہبر۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ میں فرمایا: ﴿وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ﴾ (۱) "لیکن اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا تمہاری طرف ایمان اور اس میں تمہارے دلوں کو مزیّن کیا۔" تزئین و تحسیب کو اپنی طرف مضاف کیا اور لزومِ تقویٰ جو عینِ معرفت ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور عارف کو اپنے الزام میں دفع و جلب کا اختیار اس حال میں نہیں ہوتا۔ تو ثابت ہوا کہ بغیر عرفانِ حق مخلوق میں نصیبِ معرفت بغیر مجزہ نہیں ہو سکتا۔
حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لَا دَلِیْلَ عَلَی اللّٰهِ سِوَاهُ اِنَّمَا الْعِلْمُ یُطْلَبُ لِاٰدَابِ الْخِدْمَةِ۔ "کوئی دلیل سوائے حق تعالیٰ کے اس عرفان میں دل کے لیے نہیں اور علم محض آدابِ خدمت کو طلب کرتا ہے۔" نہ کہ صحتِ معرفت کو اور مخلوقات میں سے کسی کو یہ قدرت نہیں کہ وہ خدا تک پہنچا سکے۔
دلائل لانے والوں میں ابو طالب سے زیادہ کوئی عقلمند نہ تھا اور حقانیت کی دلیل حضور ﷺ سے بزرگ تر کچھ نہیں ہو سکتی تھی۔ مگر جب کہ جریانِ حکمِ شقاوت ابو طالب پر ہو چکا تھا، لا محالہ حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس بھی اسے فائدہ نہ پہنچا سکی۔ تو خصوصیت سے ماننا پڑے گا کہ درجۂ استدلال محض اعراض ہے جل علا شانہٗ سے۔ اس لیے کہ استدلال نام ہے غیر میں تامل کرنے کا اور معرفت کی حقیقت غیر سے اعراض کرنا ہے اور عادتاً تمام مطلوبات کا وجود دلیل سے ہے اور حق تعالیٰ شانہٗ کی معرفت عادت کے برخلاف ہے۔
تو جب یہ ثابت ہو گیا کہ معرفتِ عقل جبروت دوامی کے سوا نہیں اور اس کا ملنا بندہ کے کسب سے نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے کہ خلقت کے کسب کا اس میں راستہ نہیں اور بدونِ حق تعالیٰ بندہ کا کوئی راہنما نہیں۔ وہ دلوں کی کشائش اور غیبی خزانوں سے ہے۔ اس لیے کہ جو اس ذات کے سوا ہے سب حادث ہے اور یہ جائز ہے کہ حادث کو حادث پہنچے اور یہ کسی طرح روا نہیں کہ آفریدگارِ عالم جو قدیم ازلی سرمدی کو بھی پہنچے۔ با آنکہ حق تعالیٰ اس کا کسب کنندہ ہو اور جو کسب کنندہ کے کسب کے ماتحت ہو تو سب کا کسب غالب ہوتا ہے اور حاصل شدہ مغلوب و مقہور۔
اسی وجہ میں کرامت وہ نہیں کہلاتی جو عقل کی دلیل سے فاعل کو ثابت کرے بلکہ کرامت
۱۔ سورۃ الحجرات: ۷
صفحہ۴۴۹
وہ ہوتی ہے کہ ولیِ الٰہی نورِ حق تعالیٰ شانہٗ سے اپنی ہستی کی نفی کر لے تو معرفت قوی ہو جائے اور دوسرے معرفتِ حال۔ اور جس چیز کو ایک گروہ معرفت کی علت سمجھتا ہے وہ عقل ہے۔ اسے کہنا چاہیے کہ دل میں عینِ معرفت سے کیا چیز ثابت ہوتی ہے اور جو کچھ عقل ثابت کرتی ہے معرفت اس کی نفی کرتی ہے۔ یعنی جو کچھ دل میں بدلالتِ عقل صورت آتی ہے وہ اسے خدا کہتا ہے اور حقیقتاً وہ اس کے خلاف ہے۔ اگر اس کے خلاف کوئی اور صورت آتی ہے تو وہ برخلافِ حقیقت ہے۔ کیا عقل کی مجال نہیں کہ استدلال سے معرفت حاصل ہو۔ اس لیے کہ عقل و وہم دونوں ایک جنس ہیں اور جب کہ جنس ثابت ہو، معرفت کی نفی ہو جائے گی۔ تو اثبات باستدلالِ عقل سے تشبیہ میں آئے گا اور نفیِ استدلال سے عقل میں تعطیل ہوگی اور اس کی گنجائش ان دو اصل سے باہر نہیں اور یہ دونوں معرفت میں زبوں ہیں اس لیے کہ مشبہہ اور معطلہ ایک نہیں ہوتے۔ تو عقل جب اپنے مقدور کے موافق چلتی ہے اور اس سے جو ظہور پذیر ہوتا ہے وہ سب عقل ہی کا ہوتا ہے۔
اور دل ہائے دوستاں کو طلب بغیر چارہ نہیں ہوتا۔ وہ درگاہ و عجز میں بے آلہ آرام کرتے ہیں اور اس آرام میں جب اپنے کو بے آرام دیکھتے ہیں تو اپنے ہاتھ زاری کے ساتھ اٹھاتے اور اپنے دل کے لیے مرہم ڈھونڈتے ہیں اور یہ انواعِ طلب و قدرت سے اس تک پہنچتے ہیں۔ پھر قدرتِ حق اس جگہ اُن کی قدرت میں آتی ہے۔ یعنی اس ذات کو دور راستوں سے پاتے ہیں اور رنجِ غیبت سے آسودہ ہو کر روضۂ انس میں جگہ لیتے ہیں اور وہاں آرام کرتے ہیں اور روحِ سرور میں قرار پاتے ہیں۔
جب عقل دلوں کو مراد تک پہنچا دیتی ہے تو اپنے تصرف سے اس حاصل شدہ مقام سے روکتی ہے۔ جب اس کا تصرف نہیں چلتا تو بعالمِ تحیر معزول ہو جاتی ہے۔ جب معزول ہو جاتی ہے تو اس وقت حق تعالیٰ لباسِ خدمت اسے پہنا دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جب تک تو اپنی خودی میں تھا تو اپنے آلات و تصرف سے محجوب تھا اور جب کہ آلات فانی ہو گئے تو اب رہ گیا وہاں جہاں پہنچا۔ تو دل کو منصبِ قرب مل جاتا ہے اور عقل کو خدمت اور اس کی معرفت کو عرفانِ تام۔ پھر اللہ تعالیٰ اس بندہ کو اپنی تعریف اور تصرف سے آشنا کر دیتا ہے تا کہ وہ پہچان لے اُسے بھی جس کا نہ پہچاننا موصول آلہ سے تھا، بلکہ وہ پہچان جو بندہ میں عاریتاً تھی تا کہ پھر وہ تمام وجوہات سے عارف کو انانیت و خیانت سے محفوظ کر کے اُسے بے نسیان کر دے اور اس کے لیل و نہار بے تقصیر ہو جائیں اور اس کی معرفت حالی ہو جائے نہ کہ قالی۔ ایک گروہ نے یہ بھی کہا کہ ایسے درجہ پر اس کی معرفت، معرفتِ الٰہی ہے۔ اور یہ بھی محال ہے، اس لیے کہ معرفت کو برہانِ باطل و حق ہوتے ہیں؛ اور اہلِ الہام
صفحہ۴۵۰
خطرے میں رہتے ہیں، ان کا وہ الہام برہان نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مکان میں ہے اور ایک کہے کہ میرا الہام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مکان نہیں۔ لامحالہ دونوں اپنے دعوے میں متضاد ہیں اور ان میں ایک مقرون بہ حق ہے۔ اور دونوں دعوے کر رہے ہیں تو لامحالہ اس کے لیے دلیل چاہیے تا کہ اس کے ذریعے فرق کیا جائے صدق و کذب میں دونوں مدعیوں کے، اور اس وقت دلیل سے جانا جائے گا اور حکمِ بالہام باطل ہو جائے گا۔ اور برہمنوں اور الہامیوں کو میں نے اپنے زمانہ میں دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک قوم بہت غلو کرتی ہے اور وہ اپنے زمانہ کا انہیں پار سا سمجھتی ہے اور تمام کے تمام حقیقت میں گمراہ ہیں اور ان کا قول تمام عقل والوں کے بھی خلاف ہے۔ عقلائے اہلِ کفر اور اہلِ اسلام دونوں ہی ان کے خلاف ہیں۔ اور اس قسم کے مدعیانِ الہام کے دس قول متناقض ہیں جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں، اور ہر ایک اپنے اپنے دعوے میں باطل ہے اور کوئی حق پر نہیں، اور اگر کہیں کہ کہنے والا اگر خلافِ شرع کہے تو وہ الہام نہیں ہوگا۔
میں کہتا ہوں کہ اصل میں وہی خطا پر ہے جو قیامِ شریعت کو الہام پر موقوف کرے۔ اور اگر کوئی کہے کہ الہام کا ثبوت معرفتِ شریعت پر ہونا چاہیے اور اس کا ثبوت صحیح ہونے پر اسے الہام کہا جا سکتا ہے تو سمجھ لو کہ حکمِ الہام مقامِ معرفت میں بہ ہمہ وجود باطل ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ معرفتِ حق ضروری ہے، اور یہ بھی محال ہے۔ اس لیے کہ جو چیز بندے کے علم میں ضروری ہے وہ لازمی طور پر عقل کی شرکت سے ہوگی اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ عاقلوں کی ایک جماعت اس سے انکاری ہے اور تشبیہ و تعطیل روا رکھتی ہے تو بھی کہنا صحیح ہوگا کہ عرفان از جانبِ خود ضروری نہیں اور اگر ضروری ہوتا تو اس پر تکلیف نہ آتی۔ اس لیے کہ کسی چیز کے جاننے نہ جاننے میں تکلف محال ہے۔ جیسے کہ اپنا جاننا، آسمان و زمین، روز و شب کا آلام و لذات اور مثلِ اس کے جو چیزیں ہیں ان کے جاننے میں عقل و وجودِ انسان کو شک میں ایسے نہیں ڈال سکتی کہ اس کے دیکھنے کے لیے مضطر ہو اور اگر چاہے کہ نہ پہچانے تو ہو سکتا ہے قصداً نہ جانے۔
لیکن ایک جماعتِ متصوفین کی ہے وہ کہ اپنے یقین کی صحت پر نگاہ کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ہم اسے بہ ضرورت جاننے پر مجبور نہیں اور ایسے جانتے ہیں کہ دل میں بھی کوئی شک نہیں پاتے اور اس یقین کا نام ضرورت رکھتے ہیں اور وہ اس معنی میں مصیب ہیں، لیکن اس عبارت کے اندر وہ غلطی پر ہیں کہ علمِ ضروری میں صحت کی تخصیص روا نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ تمام عقلاء یکساں عقلاء ہیں۔ اور اس میں بھی کہ علمِ ضروری علم ہوتا ہے کہ دوستوں کے دل میں سبب اور دلیل پیدا کرتا ہے
صفحہ۴۵۱
اور خداوند اور اس کی معرفت کو حاصل کرنا سبب ہے۔
لیکن استاد علی دقاق اور شیخ ابو سہل صعلوکی اور ان کے والد ماجد ابو سہل نیشاپور میں امامِ قوم ہیں، اس پر ہیں کہ معرفت کی ابتداء استدلال سے ہے اور انتہا علمِ ضروری سے ہے۔ جیسے صنعتوں کا جاننا ابتداء میں کسب ہوتا ہے اور انتہا میں ضروری۔ اہلسنت و جماعت کے ایک قول سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ شانہٗ کا جاننا ضروری ہے اور علمِ ضروری روا ہوا تو ضرورت جائز ہوگی۔
اس دنیا میں انبیاء کرام علیہم السلام کلامِ الٰہی سنتے ہیں اور یہ سننا بے واسطہ بھی تھا تا کہ بضرورت وہ پہچانے اور بواسطہ بھی جیسے کسی فرشتہ کے ذریعے یا بطریقِ وحی۔ اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ بہشتی بہشت میں اللہ تعالیٰ کو بضرورت پہچانیں گے اور اس لیے کہ بہشت دارِ تکلیف نہیں اور پیغمبرانِ اولو العزم مامون العاقبت ہوتے ہیں اور انقطاع سے ایمن۔ تو وہ بضرورت پہچانتے ہیں۔ اسی وجہ میں وہ قطعیت کے خوف سے مامون ہوتے ہیں۔ اور جس نے اسے بالضرورت پہچانا اسے بھی خوف نہیں۔ اس لیے وہ ذاتِ حق سے منقطع نہیں۔ اسی وجہ میں ایمان اور معرفت اس سبب سے فضیلت ہے کہ غیب سے جب عین ہو گیا تو ایمان اس سے غیر ہوگا اور اس کے عین میں اختیار نہ ہوگا اور اصولِ شرع بیقرار ہوں گی اور حکمِ رویت باطل ہوگا اور بلعم باعور اور ابلیس اور برصیصا کو کافر کہنا درست نہ ہوگا۔ کیونکہ بالاتفاق یہ عارف گزرے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہ مردود ابلیس کیا گیا اور برصیصا سنگسار ہوا۔ اس کی بھی اطلاع نبی اکرم ﷺ سے مل چکی ہے۔ ﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَ﴾ (۱) "تیری عزت کی قسم البتہ میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا۔"
اور حقیقت میں کہنا اور جواب سننا مقتضاءِ معرفت ہے اور عارف جب تک عارف ہے، بے غم ہے اور جب جدائی اور انقطاع ہوتا ہے تو معرفت میں زوال آتا ہے، اور ضرورت یعنی امرِ بدیہی کے علم میں زوال نہیں ہو سکتا اور یہ مسئلہ خلقت کے اندر آفت ہے۔ اسی بنا پر عارف کے عرفان کی یہ شرط رکھی گئی کہ اس کا عرفان آفت سے محفوظ ہو اور بندہ کو جب صحیح عرفان حاصل ہو جائے گا تو وہ ہدایتِ ازلی کا محور بھی نہیں ہو سکتا۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ درجۂ عرفان کبھی زیادہ ہو کبھی کم۔ اور اس عرفان میں تقلید نہ ہو بلکہ عرفان کا کامل صفتوں کے ساتھ اس کا عرفان حاصل ہو اور یہ درجہ من جانب اللہ محض عنایتِ حق سے حاصل ہوتا ہے اور دلائلِ عقلیہ سب حق تعالیٰ شانہٗ کے تصرف و اختیار میں ہیں۔ اگر چاہے تو دنیا کے کسی فعل کو ہی رہنما بنا کر بندہ کو اس سے راہ دکھا دے اور اگر چاہے تو اس فعل کو
۱۔ سورۃ ص: ۸۲
صفحہ۴۵۲
اس کے لیے حجاب بنا دے تو وہ اس فعل کے سبب محروم رہ جائے۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک قوم کے حق میں موجبِ رہنمائی ہوئے اور دوسری قوم کے لیے حجاب۔ ایک گروہ جسے آپ کی ذات سے ہدایت ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ یہ مقبولِ حق اور عبد اللہ ہیں۔ اور جس گروہ کے حق میں آپ حجاب ہوئے اس نے آپ کو "ابن اللہ" کہہ ڈالا۔ ایسے ہی بت اور آفتاب و قمر نے ایک گروہ کو راہِ حق بتائی اور دوسرا گروہ رہ گیا۔ تو ثابت ہوا کہ اگر دلیل علتِ معرفت ہوتی تو لازم تھا کہ اتنی دلیل لانے والا بھی عارف ہوتا اور بظاہر مکابرہ ہے۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ جسے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے اس کے لیے تمام اشیاء اس کی راہبر بنا دیتا ہے اور وہ مقامِ معرفت تک پہنچ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو جان لیتا ہے۔ تو یہاں دلیل بندہ کے حق میں سبب ہوئی نہ کہ علت اور سبب دوسرے سبب سے اچھا نہیں ہوتا۔ مسبب کے لیے سبب کے حق میں وارد ہے:
﴿لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴾ (۱) "اے محمد ﷺ! تیری حیاتی کی قسم ہے کہ تحقیق تیری قوم کے کافر لوط کی طرح اپنی گمراہی میں حیران و سرگرداں ہیں۔"
تیری قسم یہ ہے کہ عارف کو معرفت میں سبب کا ثابت کرنا ایک زنار ہے اور غیر معرفت کی طرف متوجہ ہونا شرک۔ ﴿مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ﴾ (۲) "جسے اللہ گمراہ کرے اُسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں۔" تو جب لوحِ محفوظ میں بلکہ علم و ارادۂ حق میں شقاوت کسی کے نصیب میں ہو تو دلیل کسی طرح اس کی ہادی نہیں ہو سکتی۔ مَنِ الْتَفَتَ اِلَی الْاَغْیَارِ فَمَعْرِفَتُهٗ زُنَّارٌ۔ "جو غیروں کی طرف توجہ کرے تو اس کی معرفت زنار ہے۔" یعنی جو اللہ تعالیٰ کے غیر میں پراگندہ اور غرق ہو تو وہ سوا اللہ تعالیٰ کی اعانت کے کس طرح غیر پر قابو کر سکتا ہے۔
جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام غار سے تشریف لائے تو دن کو کچھ نہ دیکھا۔ حالانکہ دن میں دلائل و جود زیادہ تھے۔ جب رات ہوئی تو "رَاٰی كَوْكَبًا" یعنی ستارا دیکھا (اور اس کے مظاہرہ سے توحیدِ الٰہی کی طرف چلے)، تو اگر معرفتِ ذات کی علت دلیل ہوتی تو دن میں دلائل کا ظہور زیادہ تھا اور اس قادرِ قیوم کے عجائبات روشن تر تھے۔
تو ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے بندہ کو اپنی طرف رہنمائی فرما دیتا ہے اور اس پر درِ معرفت کشادہ کر دیتا ہے اور اس قدر تقرب بخشتا ہے کہ عینِ معرفت بھی اُسے غیر معلوم ہوتی ہے اور اس کے لیے وہ معرفت آفت ہوتی ہے اور معرفت سے معروضات محجوب ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کی معرفت اس درجہ تک پہنچتی ہے کہ معرفت پر اس کا دعویٰ ہو جاتا
۱۔ سورۃ الحجر: ۷۲ ۲۔ سورۃ الاعراف: ۱۸۶
صفحہ۴۵۳
ہے۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اِیَّاكَ اَنْ تَكُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ مُدَّعِیًا۔ شعر:
"تجھے چاہیے کہ دعوائے معرفت نہ کرے کہ اس سے ہلاک ہو جائے گا تو اپنا تعلق اس کے معنی سے رکھ تا کہ نجات پائے۔"
جو کشفِ جلالِ ذات کے ساتھ اکرام حاصل کر لیتا ہے اس کی ہستی و بال ہو جاتی ہے اور جمیع صفات آفت ہو جاتی ہے اور جو حق سے وابستہ ہو جائے تو حق اس کی طرف ہو جاتا ہے۔ پھر اسے دنیا و مافیہا سے بے خبری ہو جاتی ہے۔ جسے یہ نسبت مل جائے تو حق کا یہ مقام ہے کہ وہ سوائے ذاتِ حق، سب سے خبردار ہو جاتا ہے اور ہر حرکت و سکون کو ملکِ الٰہی سمجھتا ہے۔ تو جب بندہ سب ملک ملکِ خدا سمجھ لے، اسے خلق سے کوئی واسطہ نہیں رہتا اور وہ تمام موجودات کو ملکِ حق سے سمجھنے لگتا ہے تو وہ مخلوق سے محجوب ہو جاتا ہے اور وہ حجاب جو بوجہِ جہل تھا وہ فنا ہو جاتا ہے اور اس کی دنیا بھی بمنزلۂ عقبیٰ ہو جاتی ہے۔
فصل:
اور مشائخ رحمۃ اللہ علیہم کو اس بحث میں بہت سی رموز ہیں۔ ان میں سے بعض احوال میں یہاں بیان کرتا ہوں۔
حضرت عبد اللہ مبارک فرماتے ہیں: اَلْمَعْرِفَةُ اَنْ لَّا تَتَعَجَّبَ مِنْ شَیْءٍ۔ "معرفت یہ کہ کوئی شے تجھے حیرت میں نہ ڈالے۔" اس لیے کہ تعجب اور حیرت اس فعل سے ہوتی ہے جو اپنے مقدور سے زیادہ ہو۔ اور جب وہ قادر اپنے کمالِ قدرت میں کامل ہو تو عارف کو اس میں تحیر و تعجب محال ہوتا ہے۔ اگر تعجب ہی کرتا تو جب کہ اس نے ایک مشتِ خاک کو کیا کیا درجہ عطا فرمایا اور ایک قطرۂ خون کس بلند مقام پر پہنچایا کہ اس کی دوستی اور معرفت اور طلب و رویتِ ذات کرنے لگا اور قصدِ قربت و وصل کی آرزو کرتا ہے۔
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حَقِیْقَةُ الْمَعْرِفَةِ اِطْلَاعُ الْحَقِّ عَلَی الْاَسْرَارِ بِمُوَاصَلَةِ لَطَائِفِ الْاَنْوَارِ۔ "معرفت کی حقیقت یہ ہے کہ اسرارِ حق پر مطلع ہو اور لطائفِ انوار اس پر کھل جائیں۔" یعنی جب تک اللہ تعالیٰ اپنی عنایت سے بندہ کے دل کو انوار عقل سے آراستہ نہ کرے اور تمام آفتوں سے اسے دور نہ رکھے حتیٰ کہ موجودات اس کے سامنے رائی کے
صفحہ۴۵۴
دانے کے برابر بھی نہ رہے، تو جب اس مقام پر بندہ آ جاتا ہے تو تمام معانی مشاہدات ہو جاتے ہیں۔
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلْمَعْرِفَةُ دَوَامُ الْحَیْرَةِ۔ "معرفت نام ہے ہمیشہ متحیر رہنے کا۔" اور حیرت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک ہستی میں، دوسری میں کہ اس کی ہستی میں جو کچھ ہے۔ حیرت اندر ہستی شرک ہے اور کفر۔ اور چگونگیِ وجود میں حیرت کرنا عینِ معرفت ہے۔ اس لیے کہ اس کی ہستی میں عارف کو شک نہیں ہو سکتا اور اس کی کیفیت میں عقل کو گنجائش نہیں۔ باقی رہا ہستیِ باری تعالیٰ کا یقین اور حیرت۔ اس کی کیفیت میں، اس پر ایک عارف فرماتے ہیں: یَا دَلِیْلَ الْمُتَحَیِّرِیْنَ زِدْنِیْ تَحَیُّرًا۔ "اے حیرانوں کی دلیل! مجھے میری حیرت زیادہ دے۔"
یہاں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہی ذات مقصودِ خلق اور قبول کنندہ اس کی دعا کا ہے اور متحیرین کو اس کے سوا کوئی حیرت نہیں۔ اور جب کہ متحیر اس کے وجود میں اپنے اندر تحیر چاہتا ہے اور جانتا ہے کہ معاملۂ مطلوب میں عقل کو بجز حیرت و سرگردانی اور کسی تصرف کا دخل نہیں اور اس کی وہاں کچھ وقعت ہی نہیں اور حقیقت میں یہ معنی بھی نہایت لطیف ہیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ ہستیِ حق کی معرفت اپنی ہستی میں حیرت ہی کا تقاضا کرتی ہے اس لیے کہ جب بندہ نے حق تعالیٰ کو پہچانا اور اپنے وجود کو اس کے قہر و تصرف کی قید میں پایا تو سمجھا کہ اس کا وجود بھی اس سے ہے اور عدم بھی اس سے۔ تو جان لیا کہ میں کیا ہوں اور خود کون ہوں۔ اس حقیقت آشنائی کو حضور ﷺ نے فرمایا: مَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهٗ۔ (۱) "جو اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے یقیناً وہ اپنے ربّ کو جان لیتا ہے۔" تو پھر عقل فنا ہو کر صفت باطل ہو جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ جب عین عقل میں نہ آئے تو اس کی معرفت سوائے تحیر کے ممکن نہیں۔
حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلْمَعْرِفَةُ اَنْ تَعْرِفَ اَنَّ حَرَكَاتِ الْخَلْقِ وَسَكَنَاتِهِمْ بِاللّٰهِ۔ "معرفت یہی ہے کہ بندہ جان لے کہ مخلوقات کی تمام حرکتیں اور جملہ سکون حق تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے ہیں۔" اور کسی کو اس کے اذن کے بغیر اس کی ملک میں حق تصرف نہیں۔ عین اس سے عین ہے اور اثر اس سے اثر ہے اور صفت اس سے صفت ہے اور متحرک اس سے متحرک ہے اور ساکن اس سے ساکن ہے اور وہ وجودِ عبد میں توفیق پیدا نہ فرمائے اور دل میں قوت و ارادہ نہ ڈالے، تو بندہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔ تو بندہ کا ہر فعلِ مجازی ہے حقیقتاً فعلِ اللہ تعالیٰ کا ہے۔
حضرت محمد بن واسع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عارف میں یہ صفات ہونی چاہئیں: مَنْ عَرَفَ اللّٰهَ قَلَّ كَلَامُهٗ وَدَامَ تَحَیُّرُهٗ۔ "جو عارفِ حق ہو جائے وہ کم سخن اور دائم التحیر ہوگا۔" اس
۱۔ اس حدیث پاک کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
صفحہ۴۵۵
لیے کہ بولا اس کے معاملے میں کرتے ہیں جس کا بیان احاطہ بیان میں آ سکے اور اصولِ عبارت میں حد ہو اور وہ احاطۂ بیان میں آ سکے اور جب اس کی تعریف کسی حد میں ہی نہ ہو تو اسے کسی عبارت کے تحت لانا کیونکر ممکن ہے۔ تو بندہ کو سوا اس کے چارہ ہی نہیں کہ اس کی قدرت میں متحیر رہے۔ اس حیرت کے سوا اس کے پاس کوئی تدبیر نہیں۔
"حقیقتِ معرفت یہ ہے کہ معرفتِ حق سے بندہ خود کو عاجز سمجھے۔"
اور ہمیشہ بندہ اس راہ میں سوا عجز کے کوئی اور پتہ دے۔ (۱) بندہ کے لیے یہ روا نہیں کہ ادراکِ ذات میں خود دعویٰ کرے۔ اس لیے اس کا عجز عینِ طلب ہے اور طالب اپنے ارادۂ طلب میں جب تک ہے، اسے اپنے کو عاجز کہنا صحیح نہیں۔
ایک گروہ مدعیانِ حال سے کہتا ہے کہ اثباتِ صفتِ آدمیت اور بقاءِ تکلف بصحتِ خطاب و قیامِ حجت معرفت کرنے والا وہ ہے جو کہے معرفت میں عجز ہی ہے اور میں عاجز ہوں اور تمام مدارج سے رہ چکا ہوں۔ یہ کھلی گمراہی ہے اور نقصان و خسران ہے۔
میں کہتا ہوں کہ تم طلب میں کہاں عاجز ہوئے۔ اس عاجزی کے دو نشان ہیں۔ دونوں تم میں نہیں۔ ایک نشان تو یہ ہے کہ آلۂ طلب فنا ہو جائے۔ دوسرا یہ کہ اظہارِ تجلی اس درجہ تک کہ جہاں آلۂ طلب فنا ہو، جو عبارت ہے متلاشی سے، تو اگر عجز سے عاجزی کرتے ہو تو بجز عجز کے کچھ نہیں۔ اور اس جگہ کا جہاں اظہارِ تجلی ہے، کوئی نشان نہیں دے سکتا اور وہاں تمیزِ صورت بھی نہیں۔ جس سے عاجز اپنے کو عاجز کہہ سکے با آنکہ وہ عاجز ہوتا ہے اور جسے عجز کہتے ہیں وہ بھی صورت پذیر نہیں۔ اس لیے عجز غیر ہے اور معرفت کا ثابت کرنا معرفت کے سوا کچھ نہیں البتہ عجز کو دل میں جگہ نہیں کہ وہ غیر ہے اور غیر سے کنارہ نہ کرے وہ عارف ہو نہیں سکتا۔
حضرت ابو حفص رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: قَدْ عَرَفْتُ اللّٰهَ مَا دَخَلَ فِیْ قَلْبِیْ حَقٌّ وَلَا بَاطِلٌ۔ "جب سے میں نے اللہ کو جانا میرے دل میں اندیشۂ حق ہے نہ باطل۔" اس لیے کہ خلقت کی مراد اور خواہش تو دل کی طرف رجوع کرتی ہے۔ جب تک دل اس کو نفس کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ دل دل ہی نہیں محض باطل ہے۔ اور جب ہمیشہ کی عزت پاتا ہے تو ذلت کی طرف رجوع کرتا ہے، جب اُسے روح کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو ضیعِ حق اور حقیقت ہے۔ جب دل میں غیر آیا تو
۱۔ سمجھ آئی سمجھ میں کچھ نہ آیا ........... سمجھنا ہی بس تمہاری خطا ہے۔ (مؤلف)
صفحہ۴۵۶
عارف کا رجوع بڑھتا ہے تو جب خلقت برہانِ معرفت اور طلبِ دلیل سے کی اور مقصود و خواہش کی طلب بھی دل سے کی تو ان سے مراد حاصل نہ ہوئی۔ آخرش وہ دل سے علیٰحدہ ہو کر حق کے سوا سے آرام نہ ملا تو حق دل سے طلب کیا۔ جب نشان اور دلیل یہاں سے نہ ملا تو حق کی طرف رجوع ہوا اور دل سے التفات ہٹا لیا۔ اس سے اس بندہ جس کا دل روح کی طرف ہو اور جس کا رجوع حق کی طرف ہو، فرق ظاہر ہو گیا۔
"جس نے اللہ کو پہچانا سب سے منقطع ہو گیا بلکہ گونگا ہو کر سب سے جدا ہو گیا۔"
نبی ﷺ نے فرمایا:
لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْكَ (۱)
"میں تیری ثنا کا احصا نہیں کر سکتا۔"
تو خلاصہ یہ نکلا کہ جس نے اللہ کو جان لیا وہ سب چیزوں سے جدا ہو گیا بلکہ تمام عبارتوں کے بیان سے گونگا ہوا اور اپنے سب اوصاف سے فانی۔ جیسے حضور ﷺ جب تک عالمِ غیبت میں تھے فصیح العرب تھے۔ جیسا کہ فرمایا: "اَنَا اَفْصَحُ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ" جب آپ ﷺ حضوریِ حضور میں پہنچے تو عرض کی میری زبان میں تیری ثنا کی قوت نہیں، میں کیا ہوں، بے زبان، اور تو وہی ہے جو ہے، میری زبان میں قوتِ احصائے ثنا کمال نہیں، میں کیا کہوں، کہنے میں نہ کہنے والا ہوں اور حال سے بے حال اور تو وہ ہے تو ہی ہے۔ میری گفتار میری طرف سے ہو یا تیری طرف سے، اگر میں خود سے بولوں تو فنا سے محجوب ہوتا ہوں۔ اگر تیری قال سے بولوں تو قربتِ ذات کے منصب میں معیوب ہوا۔ لہٰذا میں قال کو ہی چھوڑتا ہوں۔ تو فرمان آیا کہ اے محمد ﷺ اگر تو نہیں کہتا تو میں کہتا ہوں۔ لَعَمْرُكَ اِذَا سَكَتَّ عَنْ ثَنَائِیْ فَالْكُلُّ مِنْكَ ثَنَائِیْ "تیری جان پاک کی قسم! جب تو میری ثناء سے ساکت ہے تو جو کچھ تو فرمائے گا وہ میری ثناء ہوگی۔" جب تو اپنے کو میری ثناء کا اہل نہیں کہتا تو میں تمام اجزاءِ عالم کو تیرا نائب مقرر کرتا ہوں تا کہ وہ میری ثناء کریں اور تمام ثنائیں تیرے حوالے کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم
۱۔ اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔
صفحہ۴۵۷
کشفِ حجابِ دوم: توحید
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ (۱) اور یہ بھی کہا ہے ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ (۲) "کہہ اے نبی! وہ واحد ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔" اور فرماتا ہے: ﴿لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ (۳) اور حضور ﷺ نے فرمایا: بَیْنَا رَجُلٌ فِیْمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ اِلَّا التَّوْحِیْدَ فَقَالَ لِاَهْلِهٖ اِذَا مُتُّ فَاَحْرِقُوْنِیْ ثُمَّ اسْتَحْقُوْنِیْ ثُمَّ ذَرُّوْنِیْ نِصْفِیْ فِی الْبَرِّ وَنِصْفِیْ فِی الْبَحْرِ فِیْ یَوْمٍ رَائِحٍ فَفَعَلُوْا فَقَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلرِّیْحِ احْفَظِیْ مَا اَخَذْتِ فَاِذَا هُوَ بَیْنَ یَدَیْهِ فَقَالَ لَهٗ مَا حَمَلَكَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ فَقَالَ اسْتِحْیَاءً مِّنْكَ فَغَفَرَ لَهٗ۔ (۴)
"تم سے پہلے ایک مردہ تھا اس نے کبھی نیک کام نہیں کیا مگر توحید پر قائم تھا تو مرتے ہوئے اس نے اپنے پسماندوں سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو جلا دینا، پھر میری خاک لے کر آندھی کے روز آدھی جنگل میں اڑا دینا اور آدھی دریا میں بہا دینا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حکم دیا کہ تمام خاک پیش کرے اور دریا کو حکم دیا کہ یہ سب خاک محفوظ رکھو تو وہ مجسمہ
۴۔ یہ شفاعت سے متعلق طویل حدیث شریف کا جز ہے جسے امام احمد، امام ہیثمی، امام منذری اور امام ابن جوزی نے ابو عبیدہ براء بن نوفل سے، انہوں نے والان عدوی سے، انہوں نے حضرت حذیفہ سے، انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ثُمَّ یَخْرُجُوْنَ مِنَ النَّارِ رَجُلًا، فَیَقُوْلُ لَهٗ عَزَّ وَجَلَّ هَلْ عَمِلْتَ خَیْرًا قَطُّ؟ فَیَقُوْلُ: لَا غَیْرَ اَنِّیْ قَدْ اَمَرْتُ وَلَدِیْ اِذَا مُتُّ فَاحْرِقُوْنِیْ بِالنَّارِ، ثُمَّ اطْحَنُوْنِیْ حَتّٰی اِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ فَاذْهَبُوْا بِیْ اِلَی الْبَحْرِ فَاذْرُوْنِیْ فِی الرِّیْحِ، فَوَاللّٰهِ لَا یَقْدِرُ عَلَیَّ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ اَبَدًا فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ لِمَ فَعَلْتَ ذٰلِكَ؟ قَالَ مِنْ مَخَافَتِكَ۔ امام ابو حاتم رازی اور ابن جوزی کہتے ہیں کہ والان مجہول الحال ہے لیکن امام براز کہتے ہیں: ابو عبیدہ اور والان نے ہمارے علم کے مطابق اس حدیث کے علاوہ کسی اور کو روایت نہیں کیا۔ لیکن امام معین اور ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے جیسا کہ امام عسقلانی نے "لسان المیزان" میں ذکر کیا ہے۔ امام ہیثمی کہتے ہیں کہ: اس کے رجال ثقہ ہیں اور اسے کئی حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے جن میں حضرت حذیفہ، حضرت ابو مسعود، حضرت ابو ہریرہ اور دیگر حضرات رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ کریں: مسند الامام احمد (۱/۳۵۷، ۴/۱۰، ۲۶۶)، مجمع الزوائد للہیثمی (۱۰/۳۵۷)، الترغیب والترہیب للمنذری (۳/۴۳۹)، العلل المتناہیہ لابن الجوزی (۲/۳۳۸، ۴/۴۴۰)، لسان المیزان للعسقلانی (۶/۲۱۶)
صفحہ۴۵۸
بارگاہِ حق میں پیش کیا گیا تو اسے ارشاد ہوا: کس چیز نے تجھے اس کام پر آمادہ کیا تو وہ عرض کرتا ہے: الٰہی! تجھ سے شرم کرتے ہوئے ایسا کرنے پر آمادہ ہوا تھا۔ تو اُسے بخش دیا گیا۔
اور حقیقتِ توحید یہ ہے کہ کسی کے ایک ہونے پر یقین کیا اور اس کے بعد ایک ہونے پر یقین اور علم صحیح ہو۔ اور ظاہر ہے کہ جب حق تعالیٰ شانہٗ اپنی ذات اور صفات میں ایک اور لاثانی ہے اور اپنے افعال میں بے مثل ہے تو وہی ایک ہے۔ موحدوں نے اسے اسی صفت پر جانا ہے اور عقل نے اسی کا نام "توحید" رکھا ہے۔
توحید کی تین اقسام ہیں: ایک توحیدِ حق۔ اور یہ وہ توحید ہے جو اللہ کی ذات کے ساتھ مختص ہے۔ اس نے اپنے یگانہ ہونے کی تصدیق کی اور اسے اپنی وحدانیت کا علم ہے۔ دوسری توحیدِ خلق کے لیے، اور وہ حکمِ باری تعالیٰ ہر بندے کے لیے۔ تو اس پر بندے کے دل میں علمِ توحید اور یقینِ وحدانیت ہونا لازمی ہے۔ تیسری توحیدِ خلقت کی حق کے لیے اور اس کا وحدانیتِ حق تعالیٰ کو جاننا، یقین کرنا۔ تو جب بندہ عارفِ حق ہو تو وہ اس کی وحدانیت پر حکم کر سکتا ہے۔
یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور ایسا ایک ہے کہ اس میں وصل و فصل کی گنجائش نہیں۔ اس پر دوسرا جائز نہیں۔ اس کا ایک ہونا ایسا عدد نہیں کہ جس کے ساتھ دوسرا عدد ہو سکے۔ وہ محدود نہیں کہ اس کے لیے جہتیں ہوں اور وہ بے نہایت حدوں کا خالق ہے اس کے لیے مکان نہیں اور وہ مکان کا محتاج بھی نہیں۔ (۱)
وہ عرض اور جوہر سے منزہ ہے۔ وہ حال نہیں کہ اپنے محل میں موجود ہے۔ جوہر اس لیے نہیں کہ اس کا مثل ہوتا ہے اور حق تعالیٰ کا مثل نہیں۔ طبعی نہیں کہ حرکت و سکون کے لیے میدان کا محتاج ہو۔ روحی نہیں کہ جسم کا محتاج ہو۔ جسم نہیں کہ اجزاء سے مرکب ہو۔ وہ کسی چیز سے مرکب نہیں۔ جمیع نقصانات سے مبرّا و منزہ ہے۔ تمام آفات سے پاک اور تمام عیوب سے بلند ہے۔ کوئی اس کا مثل و مانند نہیں۔ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ۔ اس کا کوئی فرزند نہیں کہ اس کی نسل اصل کے متقاضی ہو۔ اس کی ذات اور صفات میں تغیر و تبدل نہیں۔ لَا ضِدَّ وَلَا نِدَّ وَلَا مِثْلَ لِرَبِّیْ اَلْاٰنَ كَمَا كَانَ وَلَمْ یَلْقَ زَوَالًا۔
اس کی تمام صفات کامل ہیں حتیٰ کہ وہ صفتیں جنہیں مومن اور موحد بصارت کے حکم سے ثابت کرتے ہیں، ان سے وہ متصف ہے۔ ملحدین جو جو صفات اس کے سوا بیان کرتے ہیں اور اپنی ناقص رائے سے اختراع کرتے ہیں ان سے مبرّا و منزہ ہے۔ زندہ اور جاننے والا ہے، مہربان رحمٰن و رحیم ہے۔ ارادہ کرنے والا قادر علی الاطلاق ہے۔ سننے والا، دیکھنے والا، کلام کرنے والا ہے۔ باقی،
۱۔ (حاشیہ، مترجم) امام اہلسنت فرماتے ہیں: وہی لامکاں کے مکیں ہوئے، سرِ عرش تخت نشیں ہوئے یہ نبی ہیں جن کے ہیں یہ مکاں، وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں
صفحہ۴۵۹
ازلی و ابدی ہے۔ عالم ہے، اس کا علم اس میں حلول نہیں کرتا۔ اس کے کلام میں جز اور تحدید نہیں۔ وہ اپنی صفات میں قدیم ہے۔ معلومات اس کے علم سے باہر نہیں۔ موجودات کو اس کا ارادہ ضروری ہے۔ وہ کرتا ہے جو اس کے ارادہ میں ہے۔ وہی کرتا ہے جو اسے معلوم ہے۔ اس کے دوستوں کو تسلیم کے سوا اور کوئی سبیل نہیں۔ اس کا امر انجام کے سوا نہیں۔ اس کے بندوں کو اس کا حکم بجا لانے کے سوا چارہ نہیں۔ نیکی بدی کا اندازہ اس کے علم میں ہے۔ اس کے سوا امید و خوف نہیں۔ خالق کل ہے اسی کا حکم ہے۔ اس کے سوا کسی کا حکم حقیقی نہیں۔ اس کا ہر فعل اور ہر حکم سب حکمت ہے۔
اس کی قضا حق ہے۔ کوئی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسی کا دیدار خاصِ بہشتیوں کو روا ہے۔ تشبیہ و صورت سے بالا ہے۔ سامنے اور رو برو ہونا اس کے وجودِ واجب الوجود میں نہیں۔ دنیا میں اولیاء اللہ کو اس کا جمال دیکھنا جائز ہے اور اس بحث میں اصولی و صولی بہت سی باتیں ہیں۔ بخوفِ طوالت اسی پر اختصار کیا گیا۔
میں کہ علی، عثمان جلابی کا بیٹا ہوں۔ میں نے اس فصل کی ابتداء میں لکھا ہے کہ کسی چیز کی وحدانیت پر حکم کرنا، وحدانیت توحید ہوتا ہے اور حکم بدون علم کے نہیں ہو سکتا۔ یہ اس لیے کہ اہلسنت نے حکم کیا ہے اس کی یگانگت پر۔ اس لیے کہ انہوں نے اس کی صفتِ لطیف دیکھی اور افعالِ عجیب کا معائنہ کیا۔ اس کی صنعتِ عجیبہ و لطیفہ پر کافی نظر کی اور ان کا خود بخود ہونا محال جانا اور ہر چیز میں حدوث و تغیر کی علامت پائی۔ تو ضرور یہ صحیح سمجھا کہ اس کے لیے فاعل کی ضرورت ہے تا کہ وہ نیست سے ہست کرے۔ یعنی جہان میں زمین، آسمان، سورج، چاند، خشکی، تری، پہاڑ، جنگل اور ان کی حرکات و سکنات اور علم و کلام، موت و حیات یہ سب بلا صانع وجود میں آنے ممکن نہیں اور پھر دو تین صانع کا بھی یہ محتاج نہیں بلکہ ایک صانع کامل حی و قادر، مختار اور شریکوں کی شرکت سے بے نیاز لازمی ہے۔ جب فعل کو ایک فاعل کا ہونا ضروری ہے اس لیے کہ ایک فعل کے دو فاعل اگر ہوں تو ایک دوسرے کا محتاج ضرور ہوگا۔
علم و یقین سے بے شک و شبہ یہی ضروری ہے کہ ایک ہی فاعل ہو مگر اس اعتقاد میں طبقۂ ثنویاں نے ہم سے اختلاف کیا۔ انہوں نے نور و ظلمت ثابت کیا۔ دوسرے گبریان کہ انہوں نے یزدان و اہرمن مقرر کر ڈالے۔ تیسرے طبایعان کہ انہوں نے طبیعت و قوت ثابت کر ڈالی اور
صفحہ۴۶۰
چوتھے نجومی کہ انہوں نے سات ستارے تسلیم کر لیے۔ پانچویں معتزلہ نے خالق و صانع بے نہایت مان لیے۔ میں نے سب کے ردّ میں مختصری بات کہہ دی۔ اس لیے کہ یہ کتاب ان کے ان واہی خیال کے ردّ کرنے کو نہیں ہے۔ یہ مسئلہ اور کتابوں سے دیکھنا چاہیے۔ جہاں میں نے بیان کیا ہے۔ اس کتاب کا نام "اَلرِّعَایَةُ بِحُقُوْقِ اللّٰهِ" رکھا ہے، یا مقتدمین کی اصول کی کتابیں دیکھنا چاہیے۔
اب وہ رموز بیان کرتا ہوں جو مشائخ کرام نے توحید میں لکھے ہیں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ وَبِیَدِهِ الْاَمْرُ۔
فصل:
حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: اَلتَّوْحِیْدُ اِفْرَادُ الْقِدَمِ عَنِ الْحَدَثِ۔ "توحید، قدیم کو جدا کرنا حادث سے ہے۔" یعنی توحید نام ہے قدیم کو محلِ حوادث نہ جاننے اور حوادث کو محلِ قدیم نہ سمجھنے اور یہ جاننے کہ حق قدیم ہے تو محدث اور محدث کی جنس سے کوئی چیز قدیم نہیں ملتی اور اس کی صفات سے کوئی چیز تجھ سے نہیں مل سکتی اس لیے کہ قدیم اور محدث میں کوئی مجانست نہیں۔ اس لیے کہ قدیم حوادث سے پہلے ہے تو جب وجودِ حوادث سے قبل قدیم تھا تو وہ حادث کا محتاج نہیں تھا تو بعد وجودِ حوادث بھی اس کا محتاج نہیں ہو سکتا۔
یہ بات ان لوگوں کے خلاف ہے جو ارواح کو قدیم کہتے ہیں۔ ان کا ذکر ہو چکا اور جب کوئی قدیم کو محدث میں نازل کہے یا محدث کو قدیم سے متعلق جانے تو حق کے قدیم ہونے اور جہان کے حادث ہونے پر دلیل نہیں رہتی اور یہ مذہبِ دہریہ ہے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ اِعْتِقَادِ السُّوْءِ۔ غرضیکہ حادثات و حرکات، توحید کے دلائل اور قدرتِ الٰہی کے گواہ ہیں اور اس کی قدامتی کو ثابت کرتے ہیں لیکن بندہ اس سے زیادہ عقل مند ہے کہ اس کے سوا اور سے مراد نہیں چاہتا اور اس کے ذکر کے سوا آرام نہیں کرتا جب کہ تیری نیست اور ہست کرنے میں اس کو شرکت کی ضرورت نہیں تو محال ہے کہ تیری پرورش میں اس کا شریک ہو۔
حسین بن منصور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اَوَّلُ قَدَمٍ فِی التَّوْحِیْدِ فَنَاءُ فِی التَّفْرِیْدِ۔ "پہلا قدم توحید میں تفرید کا فنا کرنا ہے۔" اس لیے کہ تفرید نام ہے کسی آفت سے جدا ہونے پر حکم کرنا، وحدثِ شے پر حکم کرنا۔ تو جدا کرنے میں غیریت ثابت ہو جاتی ہے اور غیرِ حق کے لیے نہیں چاہیے کہ اس صفت پر ہو جائے کہ وحدانیت میں غیر کا ثابت روا نہ رہے اور غیرِ حق کو اس صفت میں
صفحہ۴۶۱
نہ جاننا چاہیے۔ تو تفرید مشترک عبارت ہے اور توحید نام ہے شرک کو دور کرنا تو توحید کا پہلا قدم شرکت کی نفی کرنا ہے اور راستہ کے مزاج کا دور کرنا۔ کیونکہ عزاجِ راستہ میں مثلِ چراغ ہوتا ہے کہ راستہ اس کے ذریعے دیکھا جائے۔
حضرت حصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اُصُوْلُنَا فِی التَّوْحِیْدِ خَمْسَةُ اَشْیَاءَ: رَفْعُ الْحَدَثِ وَ اِثْبَاتُ الْقِدَمِ وَ هِجْرُ الْاَوْطَانِ وَ مُفَارَقَةُ الْاِخْوَانِ وَ نِسْیَانُ عِلْمٍ وَّ جَهْلٍ" "ہمارے اصول توحید میں پانچ چیزیں ہیں: حدث کا اٹھا دینا، قدم کا ثابت کرنا، وطن کا ترک کرنا، برادری سے علیحدگی اور علم و جہل کو بھول جانا۔" لیکن رفعِ حدث نفیِ محدثات ہے مقارنتِ توحید و استحالۂ حوادث سے ذاتِ باری تعالیٰ شانہٗ میں اور اثباتِ قدیم یہ ہے کہ عقیدہ رکھے کہ ذاتِ حق ابدی و ازلی ہے۔
اس کی شرح اس سے قبل حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے قول میں ہو چکی ہے اور ہجرِ وطن سے مراد یہ ہے مالوفاتِ نفس اور آرام گاہ اور دل اور قرار گاہِ طبیعت سے علیحدہ ہو اور رسومِ دنیا سے مریدوں کو خاص طور پر علیحدہ کرے اور مقاماتِ بنی اور احوال کی خوبی اور کرامات رفیع سے مراد کو دور رکھے اور مفارقتِ اخوان سے مراد اعراض کرنا ہے محبتِ خلق سے اور صحبتِ قبول کرنا اس لیے کہ اگر اس کے دل میں اندیشۂ غیر گزر کرنے لگے تو موحد کے لیے یہ بھی ایک حجاب ہے اور جتنا اس کے دل میں غیر کی محبت کا اثر ہوگا اتنا ہی وہ توحید میں محجوب ہوگا۔ اس لیے کہ امتِ موحدین کا اتفاق ہے کہ ہمتیں جمع کرنا توحید ہے اور غیر سے آرام لینا تفرقہ، اور علم و جہل سے بے نیاز ہونے کے یہ معنی ہیں کہ علم، یا صفت یا کیفیت یا جنس یا طبع سے ہوتا ہے اور جس چیز کو خلقت کا علم توحیدِ حق سے ثابت کرے، توحیدِ حقیقی اس کی نفی کرتی ہے۔
جو خلقت کی جہالت ثابت کرے وہ ان کے علم کے خلاف ہے اس لیے کہ جہالت توحید نہیں اور تحقیقِ توحید کا علمِ نفیِ تصرف کے سوا درست نہیں ہوتا اور علم وہی ہے جس پر جہل کا اثبات ہو، یہی وجہ ہے کہ جہل توحید نہیں اور علم و جہل میں سوائے تصرف کچھ نہیں۔ ایک بصیرت پر متصرف ہے تو دوسرا اغفلت پر۔
ایک مشائخ میں سے فرماتے ہیں کہ میں مجلسِ حصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تھا کہ نیند آ گئی۔ دو فرشتے دیکھے کہ آسمان سے زمین پر آئے اور تھوڑی دیران کا کلام سنا۔ ایک دوسرے سے کہنے لگے یہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ علمِ توحید ہے نہ کہ عینِ توحید۔ جب بیدار ہوا تو وہ توحید بیان کر رہا تھا۔ اس نے میری طرف رخ فرما کر کہا کہ اے شخص توحید سے بجز علم کہا نہیں جاتا۔
صفحہ۴۶۲
حضرت جنید رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے انہوں نے فرمایا: اَلتَّوْحِیْدُ اَنْ یَّكُوْنَ الْعَبْدُ شَخْصًا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ تَعَالٰی تَجْرِیْ عَلَیْهِ تَصَارِیْفُ تَدْبِیْرِهٖ فِیْ مَجَارِیْ اَحْكَامِ قُدْرَتِهٖ فِیْ لُجَجِ بِحَارِ تَوْحِیْدِهٖ بِالْفَنَاءِ عَنْ نَفْسِهٖ وَ عَنْ دَعْوَةِ الْخَلْقِ لَهٗ وَعَنِ اسْتِجَابَتِهٖ لَهُمْ بِحَقَائِقِ وُجُوْدِ وَحْدَانِیَّتِهٖ فِیْ حَقِیْقَةِ قُرْبِهٖ بِذِهَابِ حِسِّهٖ وَحَرَكَتِهٖ لِقِیَامِ الْحَقِّ لَهٗ فِیْمَا اَرَادَ مِنْهُ وَهُوَ اَنْ یَّرْجِعَ اٰخِرُ عَبْدِهٖ اِلٰی اَوَّلِهٖ فَیَكُوْنَ كَمَا كَانَ قَبْلَ اَنْ یَّكُوْنَ۔ "حقیقتِ توحید یہ ہے کہ بندہ مثلِ بیکل ہو جریانِ تصرفِ تقدیرِ حق میں اور اس کی قدرت اس پر ایسا تصرف کرے کہ وہ اپنے اختیار و ارادہ سے خالی ہو اور دریائے توحید سے فناءِ نفس خود اور انقطاعِ دعوتِ خلق کر کے ارادۂ حق پر اپنے کو بے حس کر دے۔ اس مقام پر آ جانے کے بعد بندہ کا آخر مثلِ اوّل ہوتا ہے جو اس ہستی سے پہلے تھا۔"
اس سے مراد یہ ہے کہ موحد کو اپنے اختیار میں کچھ تصرف نہ رہے اور حق تعالیٰ شانہٗ کی وحدانیت میں ایسا گم ہو جائے کہ اپنے آپ کو بھی نہ دیکھے اور محلِ قربت میں اس کا نفس فانی ہو جائے اور اس کی حس جاتی رہے اور احکامِ حق اس پر جاری ہوں اور ایسا ہو جائے جیسا ازل میں، بحالتِ توحید تھا کہ کہنے والا بھی حق تھا اور جواب دینے والا بھی حق تھا اور جو ایسا ہو خلقت کو اس سے آرام نہیں ہوتا اور اسے کسی شے سے انس نہیں ہوتا کہ ان کی دعوت قبول کرے اور اس بات میں اشارہ فنا صفت اور صحتِ سلیم سے ہے۔
جبکہ کشفِ جلالت بحالتِ قہر ہو کہ بندہ اپنے اوصاف سے فنا ہو جائے تو آلہ اور جوہرِ لطیف ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر جگر میں خنجر لگے تو یہ حالتِ بے حسی گذر جائے اور پشت پر لگے تو بے اختیار کٹ جائے اور ہر حال میں سب سے فناء ہو اور اس کا وجود مظہرِ اسرارِ حق ہو، تا کہ اس کا کلام حق کے حوالے ہو اور اس کا ہر فعل اس کی طرف منتسب ہو اور حجت ثابت کرنے کے لیے حکمِ شریعت اس پر باقی ہو اور وہ کل کے معائنہ سے فناء ہو۔
یہ صفت حضور ﷺ کی تھی کہ معراج کی شب جب آپ کو مقامِ قرب میں پہنچایا تو مقام کا فاصلہ تھا مگر قرب میں فاصلہ نہ تھا۔ آپ کا حال عوام کے فہم سے بالا ہے اور اوہام سے جدا۔ اس حد تک دنیا نے اسے گم کیا، وہ آپ سے گم ہوا اور صفت بے صفت کی فنا میں حیران۔ طبیعت کی ترتیب اور اعتدالِ مزاج پریشان ہوا، نفس دل کے مقام پر پہنچا اور دل جان کے درجہ تک اور جان سر کے مقام پر اور سر قرب کی صفت میں اور سب میں سے سب سے جدا ہوا۔ چاہا کہ وجود خراب ہو جائے اور جسم کو چھوڑے۔ اس سے مراد حجت قائم کرنا تھا۔ حکم ہوا کہ بحال ہو، تا کہ قوت پائے اور وہ قوت
صفحہ۴۶۳
اس کی قوت ہو اور اس کی ہستی سے ذات ظاہر ہو۔ چنانچہ فرمایا: اِنِّیْ لَسْتُ كَاَحَدِكُمْ اِنِّیْ اَبِیْتُ عِنْدَ رَبِّیْ فَیُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِیْ (۱) "میں تم جیسا نہیں، میں اپنے ربّ کے پاس شب باش ہوتا ہوں، وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے (جس سے میں زندہ اور قائم ہوں)" اور یہ بھی فرمایا: لِیْ مَعَ اللّٰهِ وَقْتٌ لَّا یَسَعُنِیْ فِیْهِ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ وَّلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ۔ "میرے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک وقت خاص ہے، جس میں ملکِ مقرب اور نبیِ مرسل بھی وسعت نہیں پاتا۔"
حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ فرمایا: ذَاتُ اللّٰهِ مَوْصُوْفَةٌ بِالْعِلْمِ غَیْرُ مُدْرَكَةٍ بِالْاِحَاطَةِ وَلَا مَرْئِیَّةٌ بِالْاَبْصَارِ فِیْ دَارِ الدُّنْیَا وَهِیَ مَوْجُوْدَةٌ بِحَقَائِقِ الْاِیْمَانِ مِنْ غَیْرِ حَدٍّ وَلَا حُلُوْلٍ وَّتَرَاهُ الْعُیُوْنُ فِی الْعُقْبٰی ظَاهِرًا وَّ بَاطِنًا فِیْ مُلْكِهٖ وَ قُدْرَتِهٖ وَقَدْ حَجَبَ الْخَلْقَ عَنْ مَعْرِفَةِ كُنْهِ ذَاتِهٖ وَدَلَّهُمْ عَلَیْهِ بِاٰیَاتِهٖ وَالْقُلُوْبُ تَعْرِفُهٗ وَالْعُقُوْلُ لَا تُدْرِكُهٗ یَنْظُرُ اِلَیْهِ الْمُؤْمِنُوْنَ بِالْاَبْصَارِ مِنْ غَیْرِ اِحَاطَةٍ وَّلَا اِدْرَاكِ نِهَایَةٍ۔ "نہایتِ توحید یہ ہے کہ بندہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات موصوف بہ علم ہے۔ وہ نہ حس میں آتا ہے، نہ دیکھنے میں، نہ دنیا میں آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے اور ایمان میں وہ موجود ہے اس کی حد و نہایت نہیں اور بغیر کسی آنے جانے کے اسے دریافت کیا اور وہ ظاہر ہے اپنے ملک میں اپنی صفتوں سے اور اپنی قدرت سے اور سب کنہِ ذات کی معرفت سے محجوب ہیں۔ اس نے اظہارِ عجائب و آیات سے راہ دکھائی ہے اور وہ لوگوں کو جانتا ہے اور یگانگی و عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتے اور مومنین بچشمِ سر عقبیٰ میں اسے دیکھیں گے۔" اور یہ لفظ جامع ہے توحید کو۔
اور حضرت جنید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اَشْرَفُ كَلِمَةٍ فِی التَّوْحِیْدِ قَوْلُ اَبِیْ بَكْرٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ: سُبْحَانَهٗ مَنْ لَّمْ یَجْعَلْ لِخَلْقِهٖ سَبِیْلًا اِلٰی مَعْرِفَتِهٖ اِلَّا بِالْعَجْزِ عَنْ مَعْرِفَتِهٖ۔ "بہترین کلمہ توحید میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا کلمہ ہے۔ پاک ہے وہ جو اپنی مخلوق کو اپنی معرفت میں۔ راہ نہیں دیتا بجز اس کے کہ عاجز ہو اس کی معرفت میں۔" اور علماء اس کلمہ میں غلطاں ہیں اور
۱۔ امام بخاری نے اپنی صحیح (۳/۱۱۸، ۴/۱۲۳، ۱۳۴) میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: نَهٰی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ: فَاِنَّكَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ تُوَاصِلُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: وَاَیُّكُمْ مِثْلِیْ، اِنِّیْ اَبِیْتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِیْ۔ حوالہ کے لیے دیکھیں: مسند الامام احمد (۲/۲۱، ۲۳، ۱۰۲، ۲۳۱)، الموطا للامام مالک (۱/۳۰۱)، الجامع الصغیر (۱/۱۱۵)، سنن الدارمی (۱/۳۰۴)، جامع الترمذی (۱/۱۶۳)، سنن ابی داؤد (۲/۲۷۹)، صحیح مسلم (۳/۱۳۴) (کتاب الصیام)
صفحہ۴۶۴
سمجھتے ہیں کہ معرفت سے عجز بے معرفتی ہے اور یہ محال ہے اس لیے کہ عجز اپنی حالت میں ایک صورت رکھتا ہے اور بحالتِ معدومِ عجز کی کوئی صورت نہیں۔ جیسے مردہ حیات سے عاجز نہیں اس لیے کہ موت میں موت سے عاجز ہوتا ہے اس لیے عجز کا نام اس کی قوت کو محال کر دینا اور اندھا بصارت سے عاجز نہیں ہوتا۔ بلکہ بیٹھنے میں کھڑا ہونے سے عاجز ہوتا ہے جیسا کہ عارف معرفت سے عاجز نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ معرفت موجود ہوتی ہے اور جب اسے ضرورت ہوتی ہے۔
چنانچہ ہم قولِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ پر کہ ابو سہل صعلوکی اور ابو علی دقاق نے کہا کہ معرفت ابتداء میں کسبی ہوتی ہے اور انتہا میں ضروری۔ اور علمِ ضروری ہوتا ہے کہ اس علم کا عالم اس کے ہوتے ہوئے اس کے دور کرنے اور کشش سے بے قرار اور عاجز ہو۔ تو مطابق اس قول کے، توحید بندہ کے دل میں فعلِ حق ہوتا ہے۔ پھر حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اَلتَّوْحِیْدُ حِجَابُ الْمُوَحِّدِ عَنْ جَمَالِ اَحَدِیَّتِهٖ۔ "یعنی توحید موحد کے لیے جمالِ احدیت سے حجاب ہوتا ہے۔" اس لیے کہ توحید کو بندہ کا فعل کہتے ہیں اور بندہ کشفِ حق کی علامتیں ہوتا اور عینِ کشف میں جو چیز کشف کی علت نہ ہو وہ حجاب ہے اور بندہ معہ اپنے کل اوصاف کے غیر ہوتا ہے اس لیے کہ جب اپنی صفتِ کو حق سمجھے تو ضرور موصوف صفت کو بھی کہنا پڑے گا اور وہ بندہ ہے۔
پھر موحد اور توحید اور احد، تینوں ایک دوسرے کے وجود کی علت ہوتے ہیں اور یہ بقیہ ثالث ثلاثہ نصاریٰ کا ہوتا ہے اور جو صفت کہ طالب کو توحید میں اپنی فنا سے مانع ہے، ابھی اس صفت میں محجوب ہے اور جب تک محجوب ہے موحد نہیں۔ لِاَنَّ مَا سِوَاهُ مِنَ الْمَوْجُوْدَاتِ بَاطِلٌ۔ اس لیے ماسوا موجودات جو کچھ بھی ہے وہ باطل ہے۔ اس لیے ثابت ہوا کہ بدونِ حق جو کچھ بھی ہے سب باطل ہے اور طالب بھی اس کا غیر ہے اور تفسیرِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ یہ ہے کہ صفتِ طالب کشفِ جمالِ حق میں باطل ہو جائے۔
ایک حکایت مشہور ہے کہ حضرت ابراہیم خواص حضرت حسین بن منصور رضی اللہ عنہ کی زیارت کے لیے کوفہ حاضر ہوئے تو حسین بن منصور نے فرمایا: ابراہیم! تو نے اپنی عمر کس بات میں بسر کی۔ آپ نے جواب دیا میں نے اپنے کو توکل میں درست کیا ہے۔ حسین بن منصور نے فرمایا: یَا اِبْرَاهِیْمُ ضَیَّعْتَ عُمْرَكَ فِیْ عِمْرَانِ بَاطِنِكَ فَاَیْنَ اَنْتَ مِنَ الْفَنَاءِ فِی التَّوْحِیْدِ۔ "ابراہیم! تو نے اپنی عمر ضائع کر دی، تو نے اپنی عمر آبادانیِ باطن میں خرچ کر ڈالی تو اب تیری فنا توحید میں کہاں۔"
توحید میں مشائخ کے بہت سے اقوال ہیں۔ ایک گروہ نے اس کو بقا کہا ہے۔ اس لیے کہ
صفحہ۴۶۵
بقاءِ صفت کے سوا توحید درست نہیں ہوتی۔ ایک گروہ نے کہا کہ فنا کے سوا توحید کی صفت حاصل نہیں ہوتی اور اس کا قیاس جمع اور تفرقہ کرنا چاہیے تا کہ معلوم ہو جائے۔
اور میں علی بن عثمان جلابی (رضی اللہ عنہ) کہتا ہوں کہ توحیدِ حق سے بندہ کو اسرار حاصل ہوتے ہیں اور عبارت میں ظاہر نہیں ہوتے۔ اب چاہیے کہ کوئی اس کو بیہودہ عبارت سے آراستہ نہ کرے اس لیے کہ عبارت اور معنی میں بے حد فرق ہے۔ اور توحید میں غیر کا ثابت کرنا شرکت ہوتا ہے اس وقت وہ ہویدہ ہوتی ہے اور موحدِ الٰہی ہوتا ہے نہ کہ ایک لاہی۔ یہ ہے توحید کا حکم اور مسلکِ اربابِ معرفت یہاں پر بسبیلِ اختصار بیان کیے گئے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ
کشفِ حجابِ سوم: ایمان
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ﴾ (۱) اور دوسرے چند مقامات پر بھی فرمایا: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَلْاِیْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ (۲) اور ایمان لغت میں تصدیق کو کہتے ہیں، اور اس مبحث پر مردانِ الٰہی کے بہت اقوال ہیں اور شرعی احکام بھی کافی ہیں اور اختلاف کرنے والے معتزلہ اور خوارج بھی بہت سے ہیں۔
چنانچہ معتزلہ تو کہتے ہیں کہ علمی عملی اطاعت پر ایمان ہے اور گناہ کرنے سے بندہ خارج از ایمان ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی خارجی ہیں کہ بندہ کو گناہ کے سبب کافر مانتے ہیں۔ ایک گروہ ایمان کو قولِ فرد کہتا ہے۔ ایک گروہ معرفت کو ایمان کہتا ہے اور متکلمین کا ایک گروہ مطلق تصدیق کو ایمان کہتا ہے اور میں نے اس بیان میں علیحدہ کتاب تصنیف کی ہے۔ یہاں تو متصوفہ مشائخ کرام کا اعتقاد بیان کرنا مقصود ہے۔ صوفیوں میں دو قسم ہیں: جیسے فقہا میں دو فریق ہیں:
ایک کہتا ہے اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ تَصْدِیْقٌ بِالْجَنَانِ اور عَمَلٌ بِالْاَرْكَانِ کا نامِ ایمان ہے۔ جیسے فضیل بن عیاض، بشر حافی، خیر النساج، سمنون المحب، ابو حمزہ بغدادی، محمد حریری اور مثل ان کی، کافی لوگ ہیں۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
ایک گروہ کہتا ہے ایمان نام ہے اقرار باللسان اور تصدیق بالجنان کا۔ جیسے ابراہیم بن ادہم، ذوالنون مصری، بایزید بسطامی، ابو سلیمان دارانی، حارث محاسبی، جنید بغدادی، سہل بن عبد اللہ تستری، شفیق بلخی اور سوا ان کے رحمہم اللہ علیہم۔ اور ایک جماعت فقہاءِ امت کی ہے جیسے امام مالک،
۱۔ سورۃ النساء: ۱۳۶
۲۔ یہ امام مسلم کی صحیح (۸) میں روایت کردہ طویل حدیث کا ایک جز ہے۔
صفحہ۴۶۶
امام شافعی، احمد بن حنبل رحمہم اللہ اور ان کے سوا ایک جماعت اسی پہلے قول پر ہے۔ پھر امام ابو حنیفہ، حسن بن فضل بلخی اور امام صاحب کے اصحاب جیسے محمد بن حسن داؤد طائی، امام ابو یوسف رحمہم اللہ علیہم اجمعین اس پہلے قول پر ہیں اور حقیقت میں یہ اختلافِ عبارت ہے معنی میں نہیں۔
میں اس کا مختصر بیان کرتا ہوں تا کہ معلوم ہو جائے کہ اس اختلاف میں کسی کو ایمان میں مخالف الاصل نہیں کہنا چاہیے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
فصل:
اہلسنت و جماعت میں اس امر کا اتفاق ہے کہ ایمان کے لیے اصل اور فرع ہے۔ ایمان کی اصل تصدیق بالقلب ہے اور اس کی فرع یہ ہے کہ مراعاتِ اوامر و نواہی کی جائے اور عرف و عادت میں ہے کہ ایک چیز کی فرع کو بصورتِ استعارہ اصل کے نام سے بولتے ہیں۔ جیسے آفتاب کے نور کو عام طور پر آفتاب ہی کہتے ہیں۔ اس معنیٰ میں اطاعت کو ایمان کہا گیا اور اس ذات کے فضل سے بندہ بغیر عمل، عذاب سے بے غم نہیں ہو سکتا اور صرف تصدیق مقتضیِ امن نہیں جب تک حکم بجا نہ لائے۔ تو جس کی اطاعت زیادہ ہوگی اسے عذاب سے بھی زیادہ امن ہو گی۔ چونکہ اطاعت علتِ امن ہے اور اس میں شرط اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب ہے، اسی کو ایمان کہتے ہیں۔
پھر ایک گروہ نے کہا ہے کہ امن کی علت معرفت ہے نہ کہ اطاعت۔ اگرچہ اطاعت ہو اور معرفت نہ ہو تو اطاعت سے فائدہ نہیں۔ لیکن اگر معرفت ہو اور اطاعت نہ ہو تو نجات ہو سکتی ہے، اگر اس کا حکم ارادۂ الٰہی میں ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فضلِ خاص سے معاف فرمائے گا یا حضور شفیع المذنبین ﷺ کی شفاعت سے بخش دے گا یا اس کے گناہ کے اندازہ پر اسے عذاب کرے گا۔ پھر دوزخ سے نکال کر بہشت عطا فرمائے گا۔ تو اربابِ معرفت اگرچہ گناہ گار ہوں، بہ سببِ معرفت ہمیشہ دوزخ میں نہ رہیں گے اور اگر معرفت نہ ہو اور عمل ہی عمل ہو اس سے وہ داخلِ جنت نہ ہوں گے۔
تو اس سے ثابت ہوا کہ اطاعت علتِ امن نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: لَنْ یَّنْجُوَ اَحَدُكُمْ بِعَمَلِهٖ قِیْلَ وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ قَالَ وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰهُ بِرَحْمَتِهٖ۔ "تم میں سے کوئی عمل کے سبب نجات نہ پائے گا۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ بھی؟ فرمایا: میں بھی رہائی نہ پاؤں گا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں مجھے ڈھانپ لے۔"
صفحہ۴۶۷
تو بطریقِ تحقیق بلا اختلافِ امت ایمان معرفت ہے اور اقرار پذیرائی کا عمل ہے۔ جو شخص حق تعالیٰ کو پہچانے گا بہر حال کسی وصف سے پہچانے گا۔ اور اوصاف کی تین اقسام ہیں۔ بعض تو جمال سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض جلال سے اور بعض کمال سے، اور خلقت کو اس کے کمال کی طرف راہ نہیں سوا اس سے کہ اسے کمال سے ثابت کریں اور نقص اس سے دور کریں۔ باقی رہا جمال اور جلال۔ یہ اس کے لیے ہے جس کا معشوق جمالِ حق ہو۔ معرفتِ جمال میں طالب ہمہ اوست کا مشاق رہتا ہے اور جو عاشقِ جلالِ حق ہووہ ہمیشہ اپنے اوصاف سے متنفر رہتا ہے اور اس کا دل مقامِ حیرت میں ہوتا ہے۔ تو شوق تاثیرِ محبت کا نام ہے اور ایسا ہے اوصافِ بشریت سے متنفر ہوتا ہے اس لیے کہ کشفِ حجاب اور صفتِ بشریت عین محبت کے سوا نہیں۔ تو ایمان اور معرفت محبت ہے اور محبت کی علامت اطاعت ہے۔
اس لیے کہ جب دل دوستی کا مقام ہو اور آنکھیں دیکھنے کا مقام ہوں اور جائے عبرت اور دل جائے مشاہدہ ہو تو تن تارکِ امر نہ ہونا چاہیے اور جو اس کے سوا کچھ اور کہے وہ تارکِ امر ہے اور معرفت سے بے خبر۔ اس زمانہ میں یہ فساد صوفیوں کے مابین عام ہے۔ ملحدوں کے ایک گروہ نے ان کا جمال دیکھا اور اس کا مرتبہ معلوم کیا تو خود بھی ان کی صورت اختیار کی اور کہا کہ یہ اس وقت تک رائج ہے کہ تو نے نہیں پہچانا اور جب تو نے جان لیا تو تکلیفِ طاعت تن سے اٹھ گئی۔ لیکن یہ غلط ہے۔
میں کہتا ہوں کہ جب تو نے حق تعالیٰ کو پہچانا تو دل جائے شوق ہوا اور حکم کی عظمت زیادہ ہوئی اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مطیع اس درجہ کو پہنچ جائے کہ طاعت کا رنج اس سے اٹھا لیں اور طاعت گذاری کی اسے زیادہ توفیق ہو، تا کہ جو طاعتِ خلقت تکلیف جان کر کرتی ہے وہ تکلیف اسے محسوس نہ ہو اور یہ بات تب حاصل ہوتی ہے جب شوقِ اطاعت بے چین کرنے والا پیدا ہو جائے۔
پھر ایک گروہ کی طرف سے یہ اختلاف عام ہے، خاص کر ماوراء النہر میں۔ وہ کہتے ہیں جو کچھ ذاتِ حق کے متعلق کہتے ہیں وہ محض جبر ہے اس لیے بندہ اس میں مضطر چاہیے اور جو اپنے سے کہتے ہیں وہ سب محض قدر ہے۔ کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ معلوم نہ کرے بندہ اسے جان نہیں سکتا اور طریقۂ توحید جبر سے کم اور قدر سے زیادہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ بندہ کا فعل بہ ہدایتِ حق ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ۖ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا﴾ (۱) "یعنی جس کو اللہ ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ رکھنا چاہتا ہے اس کا سینہ احساسِ تکلیف سے تنگ کر دیتا
۱۔ سورۃ الانعام: ۱۲۵
صفحہ۴۶۸
ہے۔" اس آیۂ کریمہ کے ماتحت یہ ثابت ہوتا ہے کہ گردشِ ہدایتِ حق ہو اور ہونا بندہ کا فعل ہو تو ہونے کی علامت دل کا اعتقادِ توحید کا ہونا ہے اور آنکھوں پر منہیات سے بچنا اور علامت و نشانِ عبرت پانا اور کانوں پر اس کا کلام سننا، معدہ پر اس کے حرام سے خالی رہنا اور زبان پر سچ بولنا اور جسم پر منہیات سے پرہیز کرنا تا کہ معنیٰ اور دعویٰ موافق ہو جائے۔
اس سبب سے اس گروہ نے معرفتِ ایمان میں کمی بیشی رکھی ہے اور سب کا اس پر اتفاق ہے کہ معرفتِ ایمان میں کمی بیشی جائز نہیں کیونکہ اگر معرفت میں زیادتی اور نقصان ہوتا تو معرفت بھی کم زیادہ ہوتی۔ جب معرفت پر زیادتی اور نقصان روا نہیں تو معرفت پر بھی کمی زیادتی روا نہیں۔ کیونکہ معرفت ناقص نہیں ہوتی۔ تو لازم آیا کہ فرع اور عمل میں زیادتی اور نقصان نہ ہو اور اطاعت پر بالاتفاق زیادتی اور نقصان روا ہے، اور حشویوں کے دو فریق جو کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایک گروہ طاعت کو ایمان کہتا ہے۔ دوسرا گروہ ایمان کو صرف قول کہتا ہے۔
غرضیکہ حقیقت میں بندے کے کل اوصاف حق تعالیٰ کی طلب میں متفرق ہوں اور ہر ایمان والے کو اس پر اتفاق کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ سلطانِ معرفت کا غلبہ منکرِ اوصاف کو مغلوب کر دیتا ہے اور جہاں ایمان ہو وہاں اسبابِ انکار دور ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا: اِذَا طَلَعَ الصَّبَاحُ عَطَّلَ الْمِصْبَاحَ۔ "جب دن نکل آتا ہے تو چراغ معطل ہو جاتا ہے۔"
کسی عارف نے فرمایا کہ روشن دن کے واسطے دلیل کی حاجت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا﴾ (۲) "جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوئے اسے تباہ کر دیتے ہیں۔"
چنانچہ جب حقیقتِ معرفت عارف کے دل پر گزرے تو پھر ظن اور شک اور انکار دفع ہو جاتا ہے اور شہنشاہِ معرفت اس ہوئی و ہوس کو اپنی تسخیر میں لاتا ہے تا کہ جو کچھ کہے یا دیکھے یا کرے سب دائرۂ امر میں ہو۔ میں نے سنا ہے کہ لوگوں نے حضرت ابراہیم خواص سے پوچھا کہ حقیقتِ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اس وقت میں اس کا جواب نہیں رکھتا، اس لیے کہ جو کچھ میں کہوں صرف کہنا ہی ہوگا اور مجھے چاہیے کہ معاملہ سے جواب دوں لیکن میں مکہ شریف کو جانے والا ہوں، تو بھی اس ارادہ سے اس راستے پر میرے ساتھ چل تا کہ تو اپنے مسئلہ کا جواب پائے۔
انہی کا بیان ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب میں اس کے ساتھ جنگل پہنچا۔ ہر روز دو روٹی اور دو پیالہ پانی غیب سے آتے۔ وہ ایک میرے آگے رکھتے، ایک خود اٹھا لیتے۔ حتیٰ کہ ایک
۱۔ سورۃ الانعام: ۱۲۵ ۲۔ سورۃ النمل: ۳۴
صفحہ۴۶۹
روز جنگل میں ایک ضعیف العمر آ رہا تھا۔ اس نے جب ابراہیم خواص کو دیکھا، گھوڑے سے اترا اور سلام کے بعد کچھ دیر آپس میں اس سے گفتگو ہوئی۔ پھر وہ بوڑھا گھوڑے پر سوار ہو کر چل دیا۔ میں نے عرض کی اے شیخ! یہ بوڑھا کون تھا؟ آپ نے فرمایا: وہ تیرے سوال کا جواب تھا۔ میں نے عرض کی، یہ کس طرح؟ فرمایا: وہ حضرت خضر علیہ السلام تھے۔ انہوں نے میری مصاحبت چاہی، میں نے منظور نہ کی۔ میں نے عرض کی حضور کیوں منظور نہیں کی۔ آپ نے فرمایا میں اس بات سے ڈرا کہ اس کی مصاحبت غیر اللہ پر بھروسہ ہے، اس سے کہیں میرا توکل تباہ نہ ہو جائے اور حقیقتِ ایمان توکل کی حفاظت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَعَلَی اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴾ (۱) "اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم ایمان والے ہو۔"
اور حضرت محمد بن خفیف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اَلْاِیْمَانُ تَصْدِیْقُ الْقَلْبِ بِمَا عَلِمَ بِهِ الْغُیُوْبُ۔ "یعنی ایمان یہ ہے کہ جو کچھ اس پر غیب سے مکاشفہ ہوا اس پر یقین رکھے۔" اس لیے کہ ایمان غیب پر ہے کہ خداوند تعالیٰ سر کی آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ اور جب تک معنی میں قوت نہ ہو بندہ کا یقین ظاہر نہیں ہوتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ جب شناخت کرنے والا اور معلوم کرنے والا عارف اور عالم کا اللہ تعالیٰ ہے جس نے ان کے دلوں میں معرفتِ علم پیدا کی تو علم اور معرفت ان کے کسب کے قبضہ میں نہیں رہی۔ تو جو شخص اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی معرفت یقین دیتا ہے وہ مومن واصل باللہ ہوتا ہے۔ میں نے اس بحث پر اور جگہ بہت کچھ بیان کیا ہے۔ یہاں اس پر اکتفا کرتا ہوں تا کہ کتاب طویل نہ ہو اور اہلِ بصیرت کے لیے اس قدر کافی ہے۔ اب میں اسرارِ معاملات بیان کرتا ہوں، اس کے پردے کھولتا ہوں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ۔
کشفِ حجابِ چہارم: طہارت
ایمان کے بعد بندہ پر خصوصی فرض یہ ہے کہ نماز ادا کرنے کو طہارت حاصل کرے اور وہ بدن کو نجاست اور جنابت سے پاک کرتا ہے۔ بموجب حکمِ شریعت تین عضووں کا دھونا، سر کا مسح کرنا ہے۔ اور پانی نہ ہونے یا ایسی بیماری جو پانی سے بڑھ جائے اس کے بجائے تیمم کرنا اور اس کے احکام اس سب کو معلوم ہیں۔
یہاں یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ طہارت دو قسم کی ہے: ایک طہارتِ باطن، دوسری طہارتِ ظاہری۔ بدون طہارتِ ظاہر نماز درست نہیں۔ ایسی بدون طہارتِ باطن جس کا تعلق دل پاک کرنے سے ہے، معرفت درست نہیں ہوتی۔ بدن کی طہارت کے لیے پانی طاہر و مطہر ہونا
۱۔ سورۃ المائدہ: ۲۳
صفحہ۴۷۰
چاہیے۔ مستعمل اور مقید پانی نہ ہو۔ دل کی طہارت کے لیے آبِ توحید کی ضرورت ہے، جس میں اعتقاد مذبذب اور مشکوک نہ ہو۔
چنانچہ صوفیا کرام ہمیشہ طہارتِ ظاہری کے پابند رہتے ہیں اور اپنا باطن توحید سے مملور کھتے ہیں۔
حضور ﷺ نے اپنے ایک صحابی کو فرمایا: دُمْ عَلَی الْوُضُوْءِ یُحِبَّكَ حَافِظُكَ۔ "ہمیشہ باوضو رہ تیرا محافظ تجھے محبوب رکھے گا" اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ﴾ (۱) "اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔"
تو جو ہمیشہ باطہارت رہے، فرشتے اس سے محبت کرتے ہیں اور جو باطن کو توحید پر قائم رکھے، اللہ اسے محبوب رکھتا ہے۔ حضور ﷺ ہمیشہ اپنی دعا میں فرماتے تھے: اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ۔ (۲) "الٰہی میرا دل نفاق سے پاک رکھ۔" حالانکہ حضور ﷺ کے دل میں کسی حالت میں بھی نفاق نہیں تھا۔ لیکن اپنی کرامت کا دکھانا اثباتِ غیر نفاق لاتا ہے اور یہ مقامِ توحید نہیں ایک نفاق ہے۔ ہرچند کہ ذرہ بھر کرامتِ مشائخ سے سرمۂ دیدہ مریدان ہوتا ہے آخرش وہ محلِ کمال ہیں اس بلند مرتبہ حجاب پر ہوتا ہے اس لیے کہ جو غیر ہو اس کی رویت آفت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: نِفَاقُ الْعَارِفِیْنَ اَفْضَلُ مِنْ اِخْلَاصِ الْمُرِیْدِیْنَ۔ "یعنی خدا رسیدہ عارفوں کا نفاق، اخلاصِ مریدان سے بہتر ہے۔" یعنی وہ مقام جو مرید کا ہے، کامل کے لیے حجاب ہے۔ مرید کی توجہ اس پر ہوتی ہے کہ وہ کرامت کو پائے اور عارفِ کامل کی توجہ اس پر ہوتی ہے کہ وہ کرامت دینے والے کو پائے۔ غرضیکہ کرامت کا ظاہر کرنا اہلِ حق کے لیے نفاق ہے۔ اس واسطے کہ وہ غیر کا دیکھنا ہے۔ اسی لیے جسے خاصانِ حق آفت جانتے ہیں اس میں عام سیہ کار اپنی نجات سمجھتے ہیں، اس لیے الٰہی آفت جو عارف اپنے لیے جانے، وہ گمراہی سے نجات ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگر کافر یہ سمجھ لیں کہ ہمارے گناہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں جیسے سیہ کار اپنی سیہ کاری کو برا سمجھتا ہے تو سب کفر سے نجات پاتے اور اگر گنہگار یہ جانتے کہ ہمارے تمام اعمال محلِ علت ہیں تو سب گناہ سے نجات پا جاتے اور تمام آفتوں سے پاک ہو جاتے۔ تو چاہیے کہ ظاہری طہارت باطنی طہارت کے موافق ہو یعنی:
ہاتھ دھوئیں تو اس کے ساتھ ہی دل کو دنیا کی محبت سے پاک کر لے۔
۱۔ سورۃ البقرہ: ۲۲۲
۲۔ اسے علی متقی ہندی نے کنز العمال (۱۸۳/۲، حدیث نمبر ۳۶۶۰) میں خطیب نے تاریخ بغداد (۵/۲۶۷) میں اور امام زبیدی نے اتحاف السادۃ المتقین (۷/۵۱۴) میں ذکر کیا ہے۔
صفحہ۴۷۱
جب استنجا کریں تو جس طرح نجاست ظاہر سے پاکی حاصل کی ویسے ہی باطن کو غیر کی دوستی سے پاک کر لے۔
جب ناک میں پانی ڈالے تو خواہشات کو بھی اپنے اوپر حرام کرے۔
جب منہ دھوئے تو ساتھ ہی تمام خواہشاتِ نفسانی کی چیزوں سے منہ پھیر لے اور حق کی طرف متوجہ ہو۔
جب کہنیوں تک ہاتھ صاف کرے تو اپنے تمام نصیبوں سے علیحدہ ہو جائے۔
جب سر کا مسح کرے تو اپنے تمام کام اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دے۔
جب پاؤں دھوئے تو تمام مناہی راہ چلنے سے باز رہنے کی نیت کرے۔
اس طرح اسے ہر دو طہارتیں حاصل ہوں گی اس لیے کہ امورِ شرعی باطن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ جیسے اقرار باللسان، تصدیقِ قلب سے ہی ہوا ہے اور نیت، دل سے اور طاعت بموجب شریعت تن سے ہوتی ہے۔
چنانچہ دل کی طہارت کا طریقہ یہی ہے کہ آفاتِ دنیا میں تدبر و تفکر کر کے اس بات کے اوپر غور کرے کہ دنیا بے وفا ہے اور یہ جگہ خالص فنا ہے اس سے دل خالی کر کے یک سو ہو۔ مگر یہ کافی مجاہدہ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اور مجاہدہ میں اہم کام آدابِ ظاہری کی حفاظت ہے اور ہر حال میں اس کا التزام۔
حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے دنیا میں ابدی عمر چاہتا ہوں تا کہ تمام دنیا نعمتوں میں مشغول ہو کر، جب حق تعالیٰ بھلائے تو میں آدابِ شریعت کی حفاظت کروں اور یادِ حق میں رہوں۔
کہتے ہیں کہ ابو طاہر خرمی رحمۃ اللہ علیہ چالیس سال مکہ معظمہ میں رہے۔ مگر آپ نے ارضِ حرم میں طہارت نہ کی۔ جب آپ کو حاجت ہوتی حدودِ حرم سے باہر جاتے اور فرماتے جس زمین کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا میں اس پر مستعمل پانی ڈالنا مکروہ سمجھتا ہوں۔
اور حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ آپ "رے" کی جامع مسجد میں مرضِ اسہال سے بیمار ہوئے تو آپ رات دن میں ساٹھ بار غسل فرماتے۔ آخر اسی میں رحلت فرما گئے۔
اور حضرت ابو علی رود باری رحمۃ اللہ علیہ معاملۂ عبادت میں وسواس و توہم کے مریض تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں صبح دریا میں گیا اور طلوعِ آفتاب تک اسی میں رہا۔ اس پر میں آزردہ دل ہوا
صفحہ۴۷۲
اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کرنے لگا: اِلٰهَ الْعَالَمِیْنَ اَلْعَافِیَةَ اَلْعَافِیَةَ۔ ہاتفِ غیبی نے دریا سے جواب دیا: اَلْعَافِیَةُ فِی الْعِلْمِ۔ "ابو علی! عافیت علم میں ہے۔"
حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے ایک نماز کے لیے ساٹھ بار طہارت کی۔ اس حال میں آپ تھے کہ انتقال کا وقت آ گیا۔ آپ نے عرض کی: الٰہی! میں حکمِ موت آنے تک باطہارت ہوں۔
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کے واقعہ میں ہے کہ آپ ایک روز مسجد جانے کے لیے طہارت فرما رہے تھے کہ غیبی آواز آئی: شبلی! ظاہری طہارت تو کر لی، باطنی طہارت کہاں ہے؟ آپ واپس تشریف لائے اور تمام جائیداد، مال و دولت راہِ خدا میں خرچ کر کے ایک سال تک صرف ایک کپڑے میں رہے جس سے نماز ادا ہو سکے۔ پھر حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آئے۔ جنید نے کہا: اے ابو بکر شبلی! جو طہارت تم نے اختیار کی ہے وہ بہت مفید ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ باطہارت رکھے۔ چنانچہ حضرت شبلی! وقتِ رحلت تک بے طہارت نہ رہے۔ جب وقتِ انتقال آیا تو آپ کی طہارت نہ رہی۔ ایک مرید کو اشارہ کیا کہ مجھے طہارت کرائے۔ مرید نے طہارت کرائی مگر ریش مبارک میں خلال کرنا بھول گیا۔ اس وقت آپ میں کلام فرمانے کی قوت نہ تھی۔ آپ نے مرید کا ہاتھ پکڑ کر داڑھی کی طرف اشارہ کیا اس نے خلال کیا۔ یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: میں نے کسی رات بے طہارت شب نہ گزاری اور اگر سہواً طہارت نہ رہی تو مجھے میرے باطن نے یاد دلایا۔
حضرت بایزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میرے دل میں اندیشۂ دنیا گزرتا ہے تو میں طہارت کر لیتا ہوں اور جب اندیشۂ عاقبت گزرتا ہے تو غسل کر لیتا ہوں۔ اس لیے کہ دنیا محدث ہے اور اس کا اندیشہ حدث ہے اور عقبیٰ محلِ غیبت و آرام ہے اور اس کا اندیشہ جنابت ہے۔ تو حدث سے طہارت واجب ہے اور جنابت سے غسل۔
اور حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک روز آپ نے طہارت کی۔ جب مسجد کے دروازہ پر آئے تو آواز آئی اے ابو بکر شبلی! تیری وہ طہارت ہے جو ہمارے گھر میں گستاخ طہارت کر کے آتے ہیں۔ یہ سن کر آپ واپس لوٹے تو آواز آئی شبلی! ہمارے در سے واپس جا کر کہاں جائے گا۔ آپ نے ایک نعرہ مارا۔ آواز آئی شبلی! ہم پر طعن کرتا ہے۔ آپ وہیں خاموش کھڑے رہ گئے۔ تو آواز آئی تحمل بلا کا دعویٰ کرتا ہے۔ تو آپ نے عرض کی: اَلْمُسْتَغَاثُ بِكَ مِنْكَ۔ "تیرے حضور تحمل سے فریاد ہے۔"
صفحہ۴۷۳
مشائخ صوفیہ کی تحقیقِ طہارت میں بہت سی باتیں ہیں اور وہ ہمیشہ ظاہری باطنی طہارت کا مریدوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور بارگاہِ حق میں جانے کے ارادہ پر جب کوئی قصد کرے تو طہارتِ ظاہری پاکی کے لیے پانی سے ہوتی ہے اور باطنی طہارت توبہ اور درگاہِ الٰہی میں رجوع کرنے سے۔ اب میں توبہ اور اس کے لوازمات کا بیان کرتا ہوں۔
صفحہ۴۷۴
پندرھواں باب
توبہ اور متعلقاتِ توبہ
اچھی طرح سمجھ لو کہ رہروانِ طریقۂ حق کا پہلا مقام توبہ ہے۔ جیسے طالبانِ خدمت کا پہلا درجہ طہارت ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا﴾ (۱) "اے ایمان والو! توبہ کرو اللہ کے حضور توبۃ النصوح۔" اور فرمایا: ﴿وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ (۲) "توبہ کرو اے ایمان والو! اللہ کی طرف سب، تا کہ تم فلاح پاؤ۔" اور حضور ﷺ نے فرمایا: مَا مِنْ شَیْءٍ اَحَبَّ اِلَی اللّٰهِ مِنْ شَابٍّ تَائِبٍ اِلَی اللّٰهِ تَعَالٰی۔ (۳) "اللہ تعالیٰ کے نزدیک جوان توبہ کرنے والے سے زیادہ محبوب کچھ نہیں۔" اور فرمایا: اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهٗ (۴) "گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں۔" پھر حضور ﷺ نے فرمایا: اِذَا اَحَبَّ اللّٰهُ عَبْدًا لَنْ یَّضُرَّهٗ ذَنْبٌ (۵) "جب اللہ
۱۔ سورۃ التحریم: ۸ ۲۔ سورۃ النور: ۳۱
۳۔ اسے ابن عدی نے الکامل فی ضعفاء الرجال (۴/۱۴۳۹) میں روایت کیا ہے جبکہ علی المتقی الہندی نے کنز العمال (حدیث: ۴۳۱۰۸) میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: مَا مِنْ شَیْءٍ اَحَبَّ اِلَی اللّٰهِ مِنْ شَابٍّ تَائِبٍ۔
۴۔ اسے ابن ماجہ، امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں اور امام بیہقی نے "شعب الایمان" میں ابو عبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔ امام بیہقی نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس کے رجال (راوی) ثقہ ہیں بلکہ امام عسقلانی نے کئی دیگر شواہد کی بنا پر اسے حسن کہا ہے۔ امام ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابن ابی سعید انصاری سے انہوں نے اپنے والد سے ان الفاظ کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے: اَلنَّدَمُ تَوْبَةٌ، وَالتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهٗ۔ امام سخاوی نے اسے المقاصد الحسنہ میں اور امام سیوطی نے الجامع الصغیر میں روایت کیا ہے۔ حوالہ کے لیے دیکھیں: سنن ابن ماجہ (۴۲۵۰)، المعجم الکبیر للطبرانی (۱۰۲۷۱)، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم (۴/۱۲۱)، احیاء العلوم للغزالی (۴/۴، ۵/۲۲۰)، الجامع الصغیر للسیوطی (۱/۱۳۳)، المقاصد الحسنہ للسخاوی (ص: ۱۵۲)
۵۔ امام دیلمی نے اسے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طریق سے روایت کیا ہے (اتحاف السادۃ المتقین ۲/۲۸۳، ۸/۵۰۶، احیاء علوم الدین ۵/۲۲۰)
صفحہ۴۷۵
کسی بندے کو محبوب بنا لے تو اُسے کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا۔" پھر حضور ﷺ نے تلاوت فرمائی: ﴿اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ﴾ (۱) "اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاک رہنے والوں کو محبوب بناتا ہے۔"
لوگوں نے حضور ﷺ سے توبہ کی دریافت کی۔ فرمایا: نادم ہونا۔ اور یہ جو فرمایا کہ گناہ اللہ کے دوستوں کو نقصان نہیں دیتا اس سے یہ مطلب ہے کہ گناہ گار کا فرنہیں ہوتا اور اس کے ایمان میں خلل نہیں آتا۔ تو جب گناہ سے سرمایہ کا نقصان نہیں تو اس گناہ کا نقصان کہ جس کا انجام نجات ہو، کچھ نقصان نہیں۔
واضح رہے کہ "توبہ" لغت میں رجوع کے معنی دیتی ہے۔ جیسے کہتے ہیں تَابَ اَیْ رَجَعَ "توبہ کی یعنی رجوع ہو گیا۔" تو اللہ تعالیٰ کی منع کی ہوئی بات سے توبہ کرنا یہ ہے کہ امرِ الٰہی کے خلاف کرنے سے خائف ہوا۔ یہ اصل توبہ ہے
اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَلنَّدَمُ تَوْبَةٌ (۳) "گناہ پر نادم ہونا توبہ ہے۔" اور یہ ایسی جامع تعریف ہے کہ اس میں توبہ کی تمام شرطیں آ جاتی ہیں۔ اس لیے توبہ کی پہلی شرط یہ ہے کہ مخالفِ حکم عمل پر افسوس کرے، دوسرے اسے ترک کرتے ہوئے منفعل ہو، تیسرے عہد کرے کہ پھر ایسا نہ کرے گا اور یہ تینوں شرائط ندامت میں آ جاتی ہیں۔ اس لیے کہ جب دل میں ندامت پیدا ہوئی تو بقیہ دو شرطیں اس کے ضمن میں آ گئیں۔ اور ندامت کے تین سبب ہوتے ہیں جیسے توبہ کی تین شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ جب خوفِ عذاب دل پر غالب ہو تو اعمالِ سیئہ کا غم دل پر آتا ہے اور ندامت پیدا
۱۔ سورۃ البقرہ: ۲۲۲
۲۔ امام طبرانی نے المعجم الصغیر (۱/۳۳) میں، امام ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (۸/۲۵۱، ۳۱۲) میں بطریق ابن ابی سعید انصاری، انہوں نے اپنے والد سے ان الفاظ کے اضافہ کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے: وَالتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهٗ۔ اور یہی حدیث سنن ابن ماجہ (ابواب الزہد، باب ذکر توبہ، حدیث: ۴۲۵۲) میں ابن ماجہ نے بطریق عبد الکریم الجزری، انہوں نے زیاد بن ابی مریم سے، انہوں نے عبد اللہ بن معقل سے روایت کیا ہے اور اسے امام طیالسی نے اپنی مسند میں بطریق زیادہ ذکر کیا ہے اور مستدرک میں امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ مزید حوالہ کے لیے مسند الامام احمد بن حنبل (۳۵۶۸، ۳۰۱۲، ۳۰۱۴، ۳۰۱۶، ۴۰۱۲، ۴۱۲۳)، مسند الحمیدی (۱۰۵)، صحیح ابن حبان (۲/۱۰۱ حدیث)، المستدرک للحاکم (۴/۲۴۳)، التاریخ الکبیر للبخاری (۲/۳۷۴)، تاریخ بغداد (۹/۴۰۵)، المواہب اللدنیہ للقسطلانی (۱/۲۶۰)، المقاصد الحسنہ (ص: ۴۳۵، حدیث: ۱۲۳۵)، صفحہ ۴۸۵
صفحہ۴۷۶
ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ حصولِ نعمت کا ارادہ جب دل پر غالب ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ برے کام اور نافرمانی سے یہ حاصل نہیں ہوتی تو پریشان ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اس پر بارگاہِ حق سے شرم غالب آئے اور مخالفتِ حکم سے پشیمان ہو تو پھر تائب ہو جاتا ہے۔ اور توبہ کے تین مقام ہیں: اوّل تائب، دوسرا عاجز، تیسرا اوّاب۔ تو توبہ خوفِ عذاب کے سبب ہوتی ہے اور انابت طلبِ ثواب کے لیے اور اوّاب رعایتِ فرمان کے واسطے۔
اس لیے کہ توبہ عام مومنوں کا مقام ہے اور وہ ارتکابِ کبائر سے ہوتی ہے۔ جیسے کہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا﴾ (۱) "اے ایمان والو! اللہ کی طرف خالص توبہ کرو۔" اور انابت، خالص اولیاء اور مقربانِ خاص کا مقام ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَجَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبٍ﴾ (۲) "جو اللہ تعالیٰ سے ڈرا اور آیا عاجز دل لے کر۔" اور اوّاب، یہ انبیاء و مرسلین کا مقام ہے۔ جب کہ فرمایا: ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ﴾ (۳) "بہت اچھا بندہ رجوع کرنے والا ہے۔"
تو پھر گناہِ کبیرہ سے باز آنا اور اطاعتِ الٰہی کی طرف جھکنا، یہ ایک درجہ ہے اور صفائی سے توبہ کرنا اور محبتِ الٰہی کی طرف رجوع ہونا یہ ایک درجہ ہے اور انانیت سے منحرف ہو کر اپنے اختیاراتِ خیار ذات میں دے دینا، یہ ایک درجہ ہے۔ ان میں فرق یہ ہوا کہ ایک شخص خواہش سے علیحدہ ہو کر اتباعِ امر کی طرف رجوع کرے اور اصلِ توبہ ممنوعاتِ حق سے باز رہنے کا نام ہے، دوسرا قصور اور اندیشۂ فاسد سے باز آنا، تیسرا اپنے آپ کو حق تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا، غفلت سے دل بیدار کرنا اور غیبتِ عالی کا دیکھنا۔
اور جب بندہ اپنے بُرے حال اور برے افعال پر غور و فکر کرے اور اس سے نجات چاہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اسبابِ توبہ آسان کر دیتا ہے۔ پھر اس کے گناہوں کی شامت سے رہائی دیتا ہے اور اُسے اطاعت کی حلاوت عطا فرماتا ہے۔ اہلسنت و جماعت اور تمام مشائخ کے نزدیک یہ مسلّم ہے کہ اگر ایک شخص گناہ سے توبہ کر کے دوبارہ گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے توبہ کا ثواب دیتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے اس کی توبہ کی برکت سے اور گناہوں کی بھی معافی ہو جائے، جیسے ایک شخص شرابی، زانی ہو تو وہ اگر زنا سے توبہ کرے اور شراب نوشی سے باز نہ آئے تو اس کے گناہوں کی توبہ درست ہے با آنکہ وہ دوسرے گناہ کا مرتکب ہے۔
اور معتزلہ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ جب ایک گناہ کا مرتکب ہے اور ایک سے تائب، تو یہ
۱۔ سورۃ التحریم: ۸ ۲۔ سورۃ ق: ۳۳ ۳۔ سورۃ ص: ۳۰
صفحہ۴۷۷
توبہ صحیح نہیں جب تک تمام کبائر سے مجتنب نہ ہو، اور یہ محال ہے۔ اس لیے کہ ہر گناہ پر جس کا بندہ مرتکب ہوتا ہے اس پر اسے عذاب ضرور ہے، تو جب بندہ ترکِ معصیت کرے تو اسے اس کے عذاب سے بے غم بھی ہونا ضروری ہے اور ترکِ معصیت اس کی طرف سے توبہ ہوتی ہے اور یہ بھی ہے کہ جب بندہ بعض فرض ادا کرے اور بعض ترک کر دے تو لازمی طور پر جو ادا کیے جائیں وہ ماجور ہے اور جو ترک کیا ہے اس میں ماخوذ۔ اور اگر کسی کو گناہ کرنے کے آلہ موجود نہ ہوں اور اس پر اس گناہ کی طرف اصرار بھی نہ ہو اور پھر وہ اس کے ارتکاب سے توبہ کرے تو لازمی وہ تائب ہوگا۔
اس لیے کہ توبہ کا ایک رکن ندامت ہے۔ تو اگر اسے اپنے پہلے کیے پر ندامت ہوتی ہے تو یہ اس فعل سے روگردانی کے مترادف ہے اور اگر وہ کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اس کے اسباب موجود ہیں تو وہ ایسی حالت میں عہد کرتا ہے کہ میں اس گناہ کی طرف نہ جاؤں گا تو یہ بھی بڑی توبہ ہے اور توبہ کے اوصاف اور صحت میں مشائخ کا اختلاف ہے۔
سہل بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور ایک جماعت کہتی ہے کہ: اَلتَّوْبَةُ اَنْ لَّا تَنْسٰی ذَنْبَكَ۔ "توبہ یہ ہے کہ تائب اپنے کیے ہوئے گناہ کو نہ بھولے۔" اور اس سے ہمیشہ پریشان رہے۔ اور اس کے اگر اس کے عملِ صالح زیادہ ہوں تو ان پر غرور بھی نہ کرے اس لیے کہ برے کام پر افسوس کرنا اعمالِ صالح پر مقدم ہے۔ اور جو شخص گناہ نہیں بھولتا وہ کبھی نیکیوں پر غرہ بھی نہیں کرتا۔
اور جنید رحمۃ اللہ علیہ اور ایک جماعت اس طرف ہے کہ: اَلتَّوْبَةُ اَنْ تَنْسٰی ذَنْبَكَ۔ "توبہ یہ ہے کہ تائب اپنے گناہ کو بھی بھول جائے۔" اس لیے کہ تائب محبّ ہوتا ہے اور محبت مشاہدہ میں ہوتی ہے اور مشاہدہ کی حالت میں گناہ کا تصور براہوتا ہے اور پھر عرصۂ وفا میں گناہ کا ذکر وفا سے حجاب ہوتا ہے اور یہ مشاہدہ اور مجاہدہ میں نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی تفصیل مذہبِ سہلیہ میں دیکھنی چاہیے۔ ان کے مذہب میں تائب کو بذاتِ خود قائم کہتے ہیں اور اس کے گناہ کو فراموش کر دینے کو غفلت مانتے ہیں اور جو تائب کو قائمِ بحق مانتے ہیں وہ گناہ کے ذکر کو بھی شرک بتاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اگر تائب باقی الصفہ ہو تو اس سے عقیدۂ اسرار حل نہیں ہوتا اور اگر فانی الصفہ ہو تو ذکرِ صفت اس کے لیے جائز نہیں۔
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿تُبْتُ اِلَیْكَ﴾ (۱) "میں نے تیرے حضور توبہ کی۔" یہ قول حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بحالتِ بقاءِ صفت تھا۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا: لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْكَ (۲) "تیری ثناء کا احصا نہیں ہو سکتا۔" یہ بیان فناءِ صفت کی حالت میں تھا۔
۱۔ سورۃ الاعراف: ۱۴۳ ۲۔ اس حدیثِ پاک کا تفصیلی ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
صفحہ۴۷۸
غرض کہ مقامِ قربت میں ذکرِ وحشت، وحشت ہوتا ہے اور تائب کو چاہیے کہ اپنے آپ سے گناہ کا تصور نہ لائے اور جب وہ تصورِ معصیت بھی نہ آنے دے گا تو اسے گناہ کس طرح یاد آ سکتے ہیں۔ درحقیقت اس مقام پر اپنے گناہ یاد کرنا بھی گناہ ہے اس لیے کہ یہ مقام روگردانی ہے۔ جیسے گناہ روگردانی کا مقام ہے اور اس کے غیر کا ذکر بھی ویسا ہی ہے جیسے ذکرِ جرم خود جرم ہوتا ہے بنا بریں گناہ بھولنا بھی جُرم ہے اس لیے کہ ذکر اور فراموشی کا تعلق توبہ سے ہے۔ اور جنید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت کتابیں پڑھیں لیکن مجھے کسی سے اتنا فائدہ نہ ہوا جتنا اس بیت سے ہوا:
"جب میں نے کہا میں نے گناہ نہیں کیا، تو مجھے جواب ملا تیری زندگی ایسا بے گناہ ہے جس پر کسی گناہ کا قیاس نہیں ہو سکتا۔"
جب دوست کا وجود ہی حضورِ دوست میں گناہ ہے تو اس کے وصف کی کیا قدر ہو سکتی ہے۔
غرضیکہ توبہ تائیدِ ربانی سے ہوتی ہے اور گناہ افعالِ جسمانی سے۔ جب دل پر ندامت ہو تو بظاہر کوئی ذریعہ نہیں ہوتا کہ دل کی ندامت کو دور کرے اور جب ابتداءِ فعل میں اس کی ندامت کو روک نہیں سکتی تو انتہا میں کیونکر روک سکتی ہے نہ کہ اس کا فعل توبہ کا نگہبان ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَتَابَ عَلَیْهِ ۖ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴾ (۱) "تو توبہ کی آدم نے اس پر، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔" اور قرآن کریم کی نصوص میں اس کی بہت نظیریں ہیں کہ ان کے بیان کی ضرورت نہیں۔ توبہ تین طریق پر ہوتی ہے: ایک خطا سے صواب کی طرف۔ ایک صواب سے دوسرے صواب کی طرف۔ ایک اپنی ہستی سے حق تعالیٰ کی طرف۔
"بیشک میرا دل حجاب میں آ جاتا ہے اور میں ہر دن میں اپنے ربّ سے ستر بار استغفار کرتا ہوں۔"
اور ارتکابِ خطا مذموم ہے اور خطا سے رجوع بصواب محمود ہے۔ یہ توبہ عام ہے اور اس کا حکم ظاہر ہے اور راہِ صواب میں رہ کر اس پر قائم رہنے کی آرزو کرنا صواب سے ثواب کی طرف رجوع کرنا ہے۔ اسے اہلِ ہمت نے پسند کیا ہے یہ خاص توبہ ہے۔
اور یہ محال ہے کہ خواص آدمی گناہ سے توبہ نہ کریں۔ عام طور پر سب جانتے ہیں کہ جہان رویتِ حق کی حسرت کرتا ہے اور موسیٰ علیہ السلام اس آرزو کو پیش کر کے توبہ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ آرزو اپنے اختیار سے کی۔ اور محبت کے رابطہ میں اختیار بھی آفت ہے تو اس اختیار کے ترک کے لیے آپ نے توبہ کی اور اپنی ہستی سے رجوع بحق کیا یہ محبت کا درجۂ اتم ہے۔ جیسے اونچے مقام کی آفت کے باعث اونچے مقام پر کھڑا ہونے سے توبہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ مرتبہ حضور ﷺ کا ہے کہ آپ ﷺ کا تعلق ترقی پر تھا جس مقام پر تھے اسے بلند ہی سمجھ رہے تھے، جب اس سے آگے بڑھے تو پہلے مقام سے استغفار فرمائی۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
فصل:
جب بندہ مستقل عہد کرے کہ پھر گناہ کی طرف رجوع نہ کرے گا تو اس کی توبہ کے لیے تائید شرط نہیں۔ اگر تائب پر کوئی آفتِ نفس آ جائے کہ پھر گناہ کی طرف رجوع کر لے بعد اس کے کہ پہلے صحیح عہد کر چکا ہو تو صواب توبہ کے حکم میں آ جائے گا اور یہ تائبوں میں مبتدی ایسے ہوتے
۱۔ سورۃ الاعراف: ۱۴۳
۲۔ امام مسلم نے اسے اپنی صحیح (۱/۸۷) (کتاب الذکر: باب استحباب الاستغفار) میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر فرمایا ہے: اِنَّهٗ لَیُغَانُ عَلٰی قَلْبِیْ فَاَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَیْهِ فِی الْیَوْمِ مِئَةَ مَرَّةٍ۔ قاضی عیاض نے مشارق الانوار علی صحاح الآثار (۲/۴۴۲) میں، قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تفسیر مظہری (۸/۴۳۱) میں سورۃ محمد کی آیت: فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ کی تفسیر کے تحت ابن اثیر نے النہایہ (۳/۱۸۰) میں اور امام سیوطی نے الجامع الصغیر (۲/۱۹۵) میں ذکر کیا ہے۔
صفحہ۴۸۰
ہیں کہ توبہ کرتے ہیں پھر خواہشِ نفسانی کا فساد غالب آتا ہے اور برائی کی طرف رجوع ہو جاتے ہیں۔ (۱)
اور یہ ایک واقعہ بھی ہے کہ ستر بار توبہ کر کے رجوع بفساد ہوا اور اکہترھویں بار توبہ پر قائم ہوا۔ حضرت ابو عمر نے جنید رضی اللہ عنہ کو کہا کہ میں نے ابتداء میں ابو عثمان حیریؒ کی مجلس میں توبہ کی اور کچھ دن اس پر قائم رہا کہ دل میں معصیت کی خواہش غالب ہوئی تو ابو عثمان حیریؒ کی صحبت سے علیٰحدہ ہو کر گناہ کی طرف مائل ہو گیا۔ جب مجھے حیری نظر آتے، میں ان سے نظر چرا کر بھاگ جاتا۔ اتفاقاً ایک روز ان سے ملا۔ انھوں نے مجھے فرمایا: بیٹا! دشمنوں کی صحبت اچھی نہیں، جب تو دشمن کی عیب جوئی سے آنکھ بند کر کے خود عیب کرنے لگتا ہے، دشمن خوش ہوتا ہے اور جب تو اس سے بچتا ہے وہ غمگین ہوتا ہے۔ اگر تو گناہ سے بچنا چاہتا ہے تو میرے پاس آ، تا کہ میں تیری آفتِ معصیت اٹھاؤں اور دشمن کو ذلت جب ہی ہو سکتی ہے جب تو اس کا دم نہ بھرے۔ تو میں نے عرض کیا حضور! اب میرا دل گناہ سے سیر ہو چکا ہے اور توبہ کی طرف اب صحیح طور پر آتا ہوں۔
یہ بھی مشہور ہے کہ ایک شخص نے گناہ سے توبہ کی پھر اسی گناہ کا مرتکب ہوا۔ پھر نادم ہوا۔ ایک روز اس نے اپنے جی میں کہا کہ اگر میں پھر توبہ کر کے ادھر جاؤں تو میرا حال کیا ہوگا۔ تو اس کے مکان میں ہاتفِ غیبی کی آواز آئی: اَطَعْتَنَا فَشَكَرْنَاكَ ثُمَّ تَرَكْتَنَا فَاَمْهَلْنَاكَ فَاِنْ عُدْتَ اِلَیْنَا قَبِلْنَاكَ۔ "تو نے ہماری اطاعت کی ہم نے تجھے پسند کیا، پھر تو نے بیوفائی کی اور ہمیں چھوڑ دیا، ہم نے تجھے مہلت دی اگر پھر توبہ کرے تو ہم قبول کریں گے۔"
"توبہ یہ ہے کہ جب گناہ یاد آئے تو اس کی لذت دل میں نہ پائے (بلکہ نفرت آئے)۔"
اس لیے کہ گناہ کا ذکر یا اس کی حسرت کے ساتھ ہوگا یا اس کی طرف ارادہ کے ساتھ۔ تو جو کسی کو حسرت و ندامتِ معصیت سے ہو تو وہ تائب ہے اور اگر بااراده معصیت دگنا یاد کرے تو عاصی ہے۔ اس لیے کہ گناہ کے ارتکاب میں اتنی آفت نہیں ہوتی جتنی اس گناہ کی خواہش میں ہے۔ اس لیے کہ وہ گناہ کرنا ایک وقت پر ہے اور اس کی خواہش ہمیشہ رہتی ہے۔ تو جو ایک ساعت جسم کے ساتھ ارتکابِ گناہ کرے وہ اسی وقت تک محدود ہے اور اس کی خواہش اگر کرے تو وہ مستمر ہوتی ہے۔
"توبہ دو طرح پر ہے: ایک توبۂ انابت، دوسری توبۂ استحیاء۔ توبۂ انابت وہ ہے کہ بندہ خوفِ عذابِ حق تعالیٰ سے توبہ کرے اور توبۂ استحیاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور شرم سے توبہ کرے اور اس کے کرم کی امید رکھے۔"
تو خوف کے ذریعہ جو توبہ ہے اس میں جلالتِ حق کھل جاتی ہے اور حیاء کی توبہ نظارۂ جمال سے ہوتی ہے۔ تو ایک توبہ جلالتِ شان کے خوف سے ہوتی ہے اور ایک جمال کے مشاہدہ میں نور و حیاء سے متغیر ہو کر ہوتی ہے۔ ان دونوں میں سے ایک سکر میں ہوتا ہے
صفحہ۴۸۲
مدہوش۔ چنانچہ اہلِ حیا سکر میں ہوتے ہیں اور اہلِ خوف صحو میں۔ اس بحث میں بہت سی باتیں ہیں جسے میں اسی پر ختم کرتا ہوں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ
کشفِ حجابِ پنجم: نماز
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ﴾ (۱) "نماز قائم رکھو۔" اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَلصَّلٰوةُ وَمَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ (۲) "اور نماز بمعنی ذکر و انقیاد ہے۔" از روئے لغت اور فقہا کی اصطلاح میں عبادتِ مخصوص مراد ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ پانچ نمازیں وقت میں ادا کرو۔ اس میں داخل ہونے سے پہلے اس کی شرائط ہیں۔ اوّل طہارتِ نجاستِ ظاہری سے اور طہارتِ باطنی شہوت سے، دوسرے کپڑا پاک ہونا نجاستِ ظاہر سے اور باطن یعنی حرام سے، تیسرے جگہ کا پاک ہونا ظاہر میں حادثات اور آفات سے اور باطن میں فساد اور گناہ سے۔ چوتھے رو بقبلہ ہونا قبلۂ ظاہر یعنی کعبہ کی طرف اور قبلۂ باطن عرش اور قبلہ سے مشاہدۂ مقصود۔ پانچویں قیامِ ظاہر میں بحالتِ استطاعت اور قیامِ باطن باغِ قربت میں بشرطیکہ ظاہر شریعت سے وقت میں داخل ہو اور باطن درجۂ حقیقت میں ہو۔
چھٹے جنابِ حق میں خلوصِ نیت سے متوجہ ہونا۔ ساتویں تکبیر بہیتِ فنا کے مقام میں کہنا اور محلِ وصل میں قرأت آہستہ ترتیل و عظمت سے کرنا اور رکوع بخشوع اور سجدہ عاجزی و فروتنی سے ادا کرنا اور تشہد جمعیتِ خاطر سے پڑھنا اور فنا کی صفت سے پورا کرنا۔ حدیث میں آیا ہے: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ یُصَلِّیْ وَفِیْ جَوْفِهٖ اَزِیْزٌ كَاَزِیْزِ الْمِرْجَلِ۔ (۳) "حضور ﷺ جب نماز ادا فرماتے تو آپ کے جوفِ مبارک سے دیگ کے جوش کی آواز آتی۔" اور جب امیر المومنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نماز کا ارادہ فرماتے تو آپ کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور چادر سے سر نکالتے ہوئے کانپتے اور فرماتے کہ یہ امانت ادا کرنے کا وقت ہے، جس کی برداشت سے زمین و آسمان عاجز ہوئے۔
ایک شیخ فرماتے ہیں کہ میں نے حاتم اصمؒ سے پوچھا کہ آپ نماز کس طرح ادا کرتے ہیں
۱۔ سورۃ البقرہ: ۴۳ ۲۔ مجمع الزوائد (ص: ۹۸)
۳۔ اسے امام ترمذی نے الشمائل المحمدیہ (حدیث: ۳۰۷، باب ما جاء فی بکاء رسول اللہ ﷺ) میں مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر سے انھوں نے اپنے والد سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ وَهُوَ یُصَلِّیْ وَلِجَوْفِهٖ اَزِیْزٌ كَاَزِیْزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ۔ ابن الاثیر نے النہایہ فی غریب الحدیث (۵/۳۱۵) (تحت المادۃ رجل) میں لائے ہیں۔
صفحہ۴۸۳
فرمایا؟ جب وقتِ نماز آتا ہے ایک ظاہری وضو کرتا ہوں اور ایک باطنی۔ ظاہری پانی سے اور باطنی توبہ سے۔ پھر میں مسجد میں جاتا ہوں تو خانہ کعبہ میرے سامنے ہوتا ہے اور مقامِ ابراہیم دونوں ابروؤں کے درمیان اور دائیں بازو پر بہشت کرتا ہوں اور بائیں پر دوزخ اور پلِ صراط زیرِ قدم لاتا ہوں اور ملک الموت کو اپنے پیچھے تصور کرتا ہوں۔ پھر تکبیر بالتعظیم کہتا ہوں اور بادب قیام کرتا ہوں اور قرأت خوفناک حالت میں۔ اور رکوع باتواضع اور سجود بتضرع اور جلسہ حلم اور وقار سے اور سلام شکر کے ساتھ۔ وَبِاللّٰهِ تَوْفِیْقُ۔
فصل:
جاننا چاہیے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ مرید ابتداء تا انتہاء اس سے راہِ حق پاتا ہے اور نماز ہی میں اُسے اُس کے مقامات کا کشف ہوتا ہے۔ جیسے مرید کو اس سے بجائے طہارت توبہ ملتی ہے۔ اور اطاعت کی بجائے قبلہ شناسی۔ اور مجاہدۂ نفس کی بجائے قیام و دوام اور ذکر بجائے قربت اور تواضع بجائے رکوع۔ اور معرفتِ نفس بجائے سجود اور امن بجائے تشہد اور تَجَنُّبٌ عَنِ الدُّنْیَا بجائے سلام اور بند مقامات سے باہر آنا۔
اسی وجہ سے معمول تھا کہ جنابِ حضور ﷺ تمام اکل و شرب سے تجنب فرماتے اور کمال حیرت سے محلِ شوق کے طالب ہوتے اور صرف ایک مذہب سے متعلق ہوتے تو فرماتے: اَرِحْنَا یَا بِلَالُ بِالصَّلٰوةِ۔ (۱) "اے بلال! ہمیں نماز و اذانِ نماز سے خوش کر۔"
اور مشائخ کرام رضی اللہ عنہم کے اس میں بہت کلام ہیں اور ہر ایک گروہ اپنے اپنے درجہ پر اپنا مقام بیان کرتا ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے نماز آلۂ حضوری ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے نماز آلۂ غیبت ہے۔ اور بعض غائب ہو کر نماز میں حاضر ہوئے ہیں اور جو حاضر ہوئے ہیں وہ نماز میں غائب ہوئے۔ جس طرح عالمِ عقبیٰ میں رویت کے وقت جو لوگ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے غائب سے حاضر ہو جائیں گے اور جو حاضر ہوں گے، وہ غائب ہو جائیں گے۔
۱۔ اسے امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں ذکر کیا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: قُمْ یَا بِلَالُ فَاَرِحْنَا بِالصَّلٰوةِ۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: كَانَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: یَا بِلَالُ اَرِحْنَا۔ حوالہ کے لیے دیکھیں: مسند الامام احمد (۵/۳۶۴)، سنن ابی داؤد (۴/۴۵۳) (کتاب الادب: باب صلاۃ العتمۃ)، العلل المتناہیہ للدار قطنی (۴/۱۳۰) (حدیث نمبر ۴۶۱)، کنوز الحقائق (ص: ۱۶۹)
صفحہ۴۸۴
اور میں علی، عثمان جلابی (رضی اللہ عنہ) کا بیٹا کہتا ہوں کہ نماز امرِ حق تعالیٰ ہے، نہ آلۂ حضور ہے، نہ آلۂ غائب۔ اس لیے کہ امر کسی چیز کا آلہ نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ حضور کی علت میں حضور ہے اور غیبت کی علت میں غیبت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا حکم کسی چیز سے تعلق کا سبب نہیں کیونکہ اگر نماز آلۂ حضور ہے تو چاہیے تھا کہ بدکار نمازی بدکاری نہ کرتے اور اگر نماز علتِ غیبت ہوتی تو لازمی تھا کہ غائب اس کے ترک سے حاضر ہوتے اور غائب کو اس کی ادا اور ترک سے عذر نہ ہوتا تو نماز کو بذات خود غلبہ ہے اور غیبت و حضور میں وہ محدود نہیں۔
چنانچہ اہلِ مجاہدہ و استقامت اکثر نماز پڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں جیسے مریدوں کو حکم دیتے ہیں کہ رات دن میں چار سو رکعت ادا کر، تا کہ بدن کو عبادت کا خوگر بنا لے اور اہلِ استقامت بھی بارگاہِ حق میں عبادت قبول ہونے کے شکرانہ میں بہت نماز ادا کرتے رہے ہیں۔ باقی رہے اصحابِ حال، یہ دو طرح پر ہیں: ایک گروہ وہ ہے جس کی نماز کمالِ مشرف میں بجائے مقامِ جمع کے ہوتی ہے اور وہ اس کے ذریعے مجتمع ہوتے ہیں اور دوسرا گروہ وہ ہے جس کی نماز انقطاعِ مشرف میں بجائے مقامِ تفرقہ کے ہوتی ہے اور وہ اس کے ذریعے متفرق ہوتے ہیں۔ تو جو لوگ مقامِ جمع میں رہ کر نماز ادا کرتے ہیں وہ دن رات نماز میں رہتے ہیں، علاوہ فرائض و سنن، ان کی طرف سے نفلیں ادا ہوتی رہتی ہیں۔ اور جو لوگ تفریق میں ہوتے ہیں، فرائض و سنت کے سوا اور زائد نہیں پڑھتے اور حضور ﷺ نے فرمایا:
جُعِلَتْ قُرَّةُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوةِ۔
"میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی۔"
گویا فرمایا میری تمام خوشی نماز میں ہے۔
اس لیے کہ مشرب اہلِ استقامت نماز میں ہی ہے اور وہ ایسے ہے جیسے حضور ﷺ کو معراج میں لے گئے اور مقامِ جمع و تقرب پر پہنچایا تو آپ ﷺ کا نفس دنیا کے بند سے چھڑایا گیا اور دل کے مقام پر پہنچایا اور دل جان کے درجہ پر اور جان سر کے درجہ پر اور سر درجۂ فنا سے مقامِ محویت میں تھا اور نشانہ بے نشان اور مشاہدۂ ذات میں مشاہدہ سے غائب ہوا اور معائنہ سے دور ہوئے اور مشرفِ انسانی پراگندہ ہوا اور مادۂ نفسانی حل اور قویٰ طبعی نابود ہوئے تو مشاہداتِ ربانی اپنی ولایت میں ظاہر ہوئے اور آپ سے آپ میں رہے اور معنیِ معنی کو پہنچے اور مکاشفہ لم یزل میں محو ہوئے اور اپنے اختیار سے باہر ہو کر راہِ شوق اختیار کر کے عرض کیا: الٰہی! مجھے اس بلا خانہ میں واپس نہ لے جا اور قیدِ ہوئی میں نہ ڈال۔ حکم ہوا کہ ہمارا فرمان یہی ہے کہ آپ دنیا میں واپس
صفحہ۴۸۵
جائیں اور قانونِ شرع قائم کریں اور جو کچھ آپ کو ہم نے یہاں دیا ہے وہاں بھی ملے گا۔
چنانچہ جب حضور ﷺ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ کے دل میں اس مقامِ معلّی کا شوق بار بار آتا تو آپ ﷺ ارشاد فرماتے: اَرِحْنَا یَا بِلَالُ بِالصَّلٰوةِ۔ "اے بلال! ہمیں اذان اور صلوٰۃ کی آواز سے مسرور کر۔" چنانچہ ہر نماز حضور ﷺ کے لیے معراج اور تقرب تھی۔ خلقت کی نگاہیں آپ ﷺ کو نماز میں دیکھتیں۔ در حقیقت آپ ﷺ کی جانِ پاک معہ دل کے، نیاز میں اور سر راز میں ہوتے تھے اور بدنِ مبارک سوز و گداز میں۔ اسی وجہ سے آپ کی آنکھ کی ٹھنڈک نماز ہوئی اور تنِ پاک ملک میں اور جانِ پاک ملکوت میں۔ اس لیے کہ تن اِنس ہے اور جان اُنس۔
"علامتِ صدق یہ ہے کہ من جانب اللہ اس پر فرشتہ بطور گماشتہ مقرر ہو، جب وقتِ نماز آئے تو وہ بندہ کو ادائے نماز کے لیے ذکر بیدار کر دے اگر وہ سو رہا ہو۔"
اور یہ علامت سہل بن عبد اللہؒ میں تھی۔ اسی وجہ میں وہ پیرِ زمانہ ہوئے آپ کا یہ حال تھا کہ نماز کے اوقات میں آپ تندرست ہو جاتے اور جب فارغ ہوتے تو وہیں رہ جاتے۔
"نماز کے لیے چار باتیں ضروری ہیں بغیران کی خاطر جمع نہیں ہوتا۔ فناء النفس، ذہابِ طبع، صفاء السر، مشاہدۂ کمال۔"
جب خاطر جمع ہو جاتی ہے ولائتِ نفس تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا وجود تفریق ہے، وہ عبارت میں نہیں آ سکتا۔ جب طبیعت دفع ہو جائے تو اثباتِ جلال حاصل ہوتی ہے اس لیے کہ اثباتِ جلالِ حق زوالِ غیر کے بغیر نہیں۔ صفاء سر بغیر محبت کے نہیں ہو سکتا اور کمالِ مشاہدہ بجز صفاءِ سر نہیں۔
مروی ہے کہ حسین بن منصور رحمۃ اللہ علیہ رات دن میں چار سو رکعت فرائضِ مقررہ کی
صفحہ۴۸۶
طرح ادا فرماتے تھے۔ لوگوں نے عرض کیا: حضور! اتنی محنت آپ کیوں کرتے ہیں آپ تو مقرب خاص ہیں۔ فرمایا: یہ تمام رنج و راحت تمہارے حال میں ہے اور جو فانی الصفت ہو گیا ہو اس میں رنج و راحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ کاہلی اور سستی کا نام کمال نہیں اور عرض کو طلب کہنا صحیح نہیں۔ ایک نے کہا کہ میں نے اقتداء ذوالنون میں نماز گزاری۔ جب پہلی تکبیر اللہ اکبر کہی تو ایسا بیہوش ہو کر گرا گویا تن میں جان ہی نہیں۔
حضرت جنید رضی اللہ عنہ جب ضعیف ہوئے تو جوانی کے اوراد سے ایک وردبھی ترک نہ کیا۔ لوگوں نے عرض کیا: حضور! آپ ضعیف ہو گئے ہیں لہٰذا بعض عبادات نافلہ ترک فرما دیجیے۔ فرمایا جو چیزیں ابتداء میں اللہ کے فضل سے میں نے حاصل کیں، محال ہے کہ اب انتہا میں چھوڑ دوں۔
مشہور ہے کہ فرشتے ہمیشہ عبادت میں ہیں اور ان کا مشرب ہی اطاعتِ حق ہے۔ ان کی غذا عبادت ہے اس لیے کہ وہ روحانی ہیں اور ان کا نفس نہیں جو انہیں طاعت سے منحرف کرے۔ اس لیے کہ مانعِ عبادت نفس ہوتا ہے، جس قدر وہ متصور کر دیا جائے، بندگی کا راستہ اتنا ہی آسان ہو جاتا ہے۔ جب نفس فانی ہو جاتا ہے تو بندہ کی غذا، اس کا مشرب صرف عبادت ہو جاتا ہے۔ جیسے فرشتوں سے فناءِ نفس کی وجہ سے عبادت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔
حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں نے بچپن کے زمانہ میں ایک عورتِ عابدہ کو دیکھا کہ نماز میں اس کے جسم پر بچھونے چالیس جگہ ڈنک مارا مگر اس کے چہرے پر تغیر نہیں آیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو میں نے کہا: اماں جان! آپ نے اسے دور کیوں نہ کر دیا؟ وہ فرمانے لگیں: صاحبزادے! تم بچے ہو، تمہیں معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کے کام میں اپنا کام کرنا ناجائز ہے۔
حضرت ابو الخیر اقطعؒ کے پائے مبارک میں مرض آکلہ ہو گیا (یہ ایسا خبیث مرض ہے کہ گوشت گل کر گرتا ہے اور اس کا علاج سوائے قطع کے نہیں ہوتا) طبیبوں نے پاؤں کاٹنا تجویز کیا۔ آپ نے منظور نہ فرمایا۔ مریدوں نے کہا جب شیخ ابو الخیر نماز میں ہوں اس وقت پاؤں کاٹا جائے اس لیے کہ اس حال میں آپ کو اپنی خبر نہیں ہوتی۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو پیر کٹا ہوا پایا۔
حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ جب آپ نماز پڑھتے تو قرأت ہلکی آواز سے کرتے اور فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ بلند آواز سے قرأت کرتے۔ حضور ﷺ نے
صفحہ۴۸۷
دونوں سے اس کا سبب پوچھا۔ صدیقؓ نے جواب دیا: یَسْمَعُ مَنْ اَنَا اُنَاجِیْ۔ "وہ سننے والا ہے جس کے حضور میں مناجات کرتا ہوں۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اُوْقِظُ الْوَسْنَانَ وَاَطْرُدُ الشَّیْطَانَ۔ "سوتوں کو جگانا چاہتا ہوں اور شیطان کو بھگانا۔" اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: صدیق! تم کچھ اونچی کرو اور عمر! تم کچھ قرأت ہلکی کر دو۔ یعنی میانہ آواز میں قرأت کیا کرو۔
تو بعض گروہ جو نوافل پوشیدہ کرتا ہے اور فرائض ظاہر کر کے پڑھتا ہے اس میں ان کی منشاء ریا سے بچنا ہوتا ہے۔ جب کسی عمل میں ریاکاری آ جائے تو وہ عمل ضائع ہو جاتا ہے۔
چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ ہماری عبادات و ریاضات اگر ایسی صورت میں ہوں کہ خلق دیکھے تو یہ بھی ریا ہے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ ریا باطل ہے اور اطاعتِ حق میں محض باطل کے خوف سے حق پوشیدہ کرنا محال ہے تو ریا کو دل سے دور کرنا چاہیے اور عبادت سراپا اعلانیہ جب چاہے کرنی چاہیے:
ایک شیخ فرماتے ہیں کہ میں نے چالیس سال سفر کیا۔ کوئی نماز جماعت کے بغیر نہیں گزاری۔ اور ہر جمعہ کو قصبہ میں رہا۔
غرضیکہ اس کے حکم شمار میں نہیں آتے اور جو نماز میں اور جو نماز میں ہے وہ مقامِ محبت میں ہوتا ہے، اب ہم اس کے حکم کا بیان کرتے ہیں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ
صفحہ۴۸۸
سولھواں باب
محبت اور متعلقاتِ محبت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَیُحِبُّوْنَهٗ﴾ (۱) "اے ایمان والو! جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ سے محبت کرے گی اور اللہ ان سے محبت کرے گا۔" اور فرماتا ہے: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ﴾ (۲) "اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اوروں کو اللہ کا مدِ مقابل بناتے ہیں، محبت کرتے ہیں ان سے جیسے محبت کرنا چاہیے اللہ سے۔" اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام نے مجھے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
۳۔ اس حدیث کا پہلا جز امام قضاعی نے مسند الشہاب (۲/۳۲۷) میں لائے ہیں (حدیث: ۱۴۵۶) اور ابن ابی الدنیا نے کتاب الاولیاء میں، ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں، امام قشیری نے الرسالہ (ص: ۱۴۲) میں اور امام طبرانی نے "المعجم الاوسط" میں اسے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے مجمع الزوائد (۱۰/۲۷۰) میں بروایت ہشام کنانی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَنْ اَهَانَ لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ بَارَزَنِیْ بِالْمُحَارَبَةِ، وَمَا رَدَدْتُ فِیْ شَیْءٍ اَنَا فَاعِلُهٗ كَرَدِّیْ عَنْ قَبْضِ نَفْسِ عَبْدِیَ الْمُؤْمِنِ یَكْرَهُ الْمَوْتَ وَاَكْرَهُ مَسَاءَتَهٗ وَلَا بُدَّ لَهٗ مِنْهُ۔ اور اس حدیث کا دوسرا جز امام احمد بن حنبل نے اپنی "مسند" میں، امام قشیری نے الرسالہ (۱۱۷) میں، ابو نعیم نے "حلیۃ الاولیاء" (۵/۱۱) میں، امام بیہقی نے الزہد (۱۷۱) میں بطریق عبد الواحد، امام ذہبی نے خالد بن مخلد کے تعارف میں المیزان میں، امام ابن جوزی نے العلل المتناہیہ (۱/۳۲۱) میں، حافظ عسقلانی نے فتح الباری (۱۱/۳۴۲) میں بطریق انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور کہا ہے اسے ابو یعلی، بزار اور طبرانی نے نقل کیا ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے۔
صفحہ۴۸۹
"جس شخص نے میرے ولی کی توہین کی اس نے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کیا۔ مجھے کسی شے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ ایک مومنِ کامل کی روح نکالنے میں، کیونکہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے، میں تکلیف دینا ناپسند کرتا ہوں، اس کے لیے موت کے بغیر چارہ نہیں اس لیے اس پر موت طاری ہوتی ہے۔ میرے زیادہ قریب وہی بندہ ہوتا ہے جو میری فرض کی ہوئی چیزوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرتا ہے اور نوافل کے ذریعے میرا بندہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں اور جب میں اُسے محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کے کان، آنکھ، ہاتھ اور زبان بن جاتا ہوں اور اس کی تائید کرنے والا ہو جاتا ہوں۔"
"اور جب اللہ تعالیٰ کسی کو دوست بناتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیتا ہے کہ میں فلاں کو اپنا دوست بناتا ہوں تو بھی اُسے اپنا دوست رکھ، تو جبرئیل علیہ
۱۔ امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: مَنْ اَحَبَّ لِقَاءَ اللّٰهِ اَحَبَّ اللّٰهُ لِقَاءَهٗ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللّٰهِ كَرِهَ اللّٰهُ لِقَاءَهٗ۔ حوالہ کے لیے: صحیح البخاری (حدیث: ۶۵۰۷)، صحیح مسلم (حدیث: ۲۶۸۳، ۲۶۸۴، ۲۶۸۵)، جامع الترمذی (حدیث: ۱۰۷۳)، سنن النسائی (۴/۱۰)، سنن ابن ماجہ (حدیث: ۴۲۶۴) من حدیث عبادۃ و حدیث ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ، مسند احمد بن حنبل (۲/۳۴۶، ۴۴۲، ۵۵، ۲۰۷، ۲۱۸، ۲۳۶)، المقاصد الحسنہ للسخاوی (ص: ۳۹۵، حدیث: ۱۰۵۲)، التذکرۃ للزرکشی (ص: ۱۰۵۲)، مسند الشہاب (۱/۶۵) (حدیث: ۳۰۲)
صفحہ۴۹۰
السلام اسے محبوب کرتے ہیں اور آسمان والوں کو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں کو دوست رکھتا ہے پھر آسمان والے اُسے دوست رکھتے ہیں۔ پھر زمین بھر میں وہ مقبول ہو جاتا ہے، اور ایسی روایتیں چند جگہ ہیں۔"
اب سمجھ لو کہ محبتِ الٰہی بندہ کے حق میں، اور بندہ کی محبت اللہ تعالیٰ کے ساتھ، کتاب و سنت سے ثابت ہے اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو دوست ہیں انہیں اللہ تعالیٰ بھی دوست رکھتا ہے بلکہ اس کے دوستوں کے دوستوں کو بھی محبوب رکھتا ہے اور لغوی تحقیق یہ ہے کہ محبت ماخوذ حبہ سے بکسرِ حا، اور وہ ان بیجوں کو کہتے ہیں جو صحرا میں زمین پر گر جاتے ہیں، تو حُبّ اسی لیے کہتے ہیں کہ اہلِ محبت انہیں میں سے ہیں، جیسے نباتِ صحرا انہیں دانوں میں ہوتی ہے۔
جس طرح تخمِ صحرا میں بکھیر اجا تا ہے اور خاک میں پنہاں ہو جاتا ہے۔ پھر بارشیں اس کی کونپلیں نکالتی ہیں اور آفتاب اسے گرم کر کے سرما و گرما کے موسم میں اسے سرسبز رکھتا ہے اور اس پر موسمی تغیرات اثر انداز نہیں ہوتے حتیٰ کہ ان کا موسم آتا ہے۔ وہ اُگتی ہے اور پھول پھل لاتی ہے۔ ایسے ہی محبت دل میں مسکن پکڑتی ہے اور حضور و غیبت، بلا و محنت، راحت و لذت، فراق و وصال سے متغیر نہیں ہوتی۔ اس معنی میں یہ شعر خوب ہے:
"اے وہ ذات کہ اس کی پلکوں کی مستی اس کے عاشق کی بیماریوں کے لیے طبیب ہے۔ جاری ہوگئی دوستی تو برابر ہے میرے نزدیک حضور و غیب۔"
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ حُبّ ایسی حب (جوہڑ) سے مشتق ہے جس میں پانی بھرا ہوا ہو اور باہر کے چشمے کا پانی اس میں نہ آ سکے اور اندر کا پانی اس کا مانع ہو۔ ایسے ہی دوستی ہے کہ جب طالب کے دل میں آ جائے اور بھر جائے تو بجز حدیثِ دوست اس کے دل میں کسی غیر کی جگہ ہی نہ ہو۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے خلیل اللہ علیہ السلام کو خلعتِ خلت سے ایسا نوازا کہ انہیں خدمتِ حق تعالیٰ کے سوا کسی کی گنجائش نہ تھی اور تمام عالم ان سے محجوب تھا۔ حتیٰ کہ اس ایک ذات کی محبت میں دشمن بھی محجوب تھا اور حال گفتار نے ان کی ہم کو خبر دی اور فرمایا: ﴿فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ﴾ (۱) "تحقیق وہ میرے دشمن ہیں مگر ربّ العالمین۔"
اور حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: سُمِّیَتِ الْمَحَبَّةُ لِاَنَّهَا تَمْحُوْ مِنَ الْقَلْبِ مَا
۱۔ سورۃ الشعراء: ۷۷
صفحہ۴۹۱
سِوَی الْمَحْبُوْبِ۔ "محبت کا نام محبت اس لیے رکھا گیا کہ وہ دلوں سے ماسوائے محبوب کے سب کو مٹا دیتی ہے۔" اور یہ بھی کہتے ہیں کہ حب نام ان چار لکڑیوں کا ہے جو چوکٹھے کی شکل میں جوڑ کر اس پر پانی کا کوزہ رکھتے ہیں (گھڑونچی) اس لیے کہ محبت، عزت، ذلت، رنج، راحت، بلا، محنت، جفاء، وفا، دوست کے تحمل کا نام ہے اور وہ محبت کرنے والے پر گراں نہیں ہوتے تو اس کا کام وہ ہے جو لکڑی کے چوکٹھے کا کام ہے کہ چاروں جڑ کر بوجھ کوزے کا اٹھاتی ہیں۔
تو محبت کی ترکیب اور پیدائش بدوست سے برداشت کرنے کو ہوتی ہے۔ اس پر کسی نے کہا:
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حَب سے مشتق ہے اور اس کی جمع حِبّہ ہے اور حبہ دل محلِ لطیف ہے اور قوامِ دل اس کے ساتھ ہے اور اقامتِ محبت بھی اسی سے ہے۔ تو محبت کو اس کے نام کی جگہ حب کہتے ہیں اس لیے کہ اس کا قرار حبۂ دل میں ہے اور عرب عموماً ہر چیز کا نام اس کے موضع کے نام پر کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ماخوذ ہے: حَبَاءُ الْمَاءِ وَغَلَیَانُهٗ عِنْدَ الْمَطَرِ الشَّدِیْدِ "پانی کے جوش سے اور اس کے اُبلنے سے تیز بارشوں کے وقت۔" تو محبت کو حب اسی لیے کہتے ہیں: لِاَنَّهٗ غَلَیَانُ الْقَلْبِ عِنْدَ الْاِشْتِیَاقِ اِلٰی لِقَاءِ الْمَحْبُوْبِ "کہ اس کا جوش، دل میں اس اشتیاق پر ہوتا ہے کہ وہ محبوب سے ملے۔" اور اشتیاقِ رویتِ دوست میں مضطرب ہوتا ہے جیسے اجسام ارواح کے لیے مشتاق ہوتے ہیں۔ یا جیسے قیامِ جسم روح پر ہوتا ہے اور قیامِ دل محبت کے ساتھ اور قیامِ محبت رویت و وصلِ محبوب سے۔ اس معنی میں کسی نے کہا ہے:
اور یہ بھی کسی نے کہا ہے کہ حب ایک وہ نام ہے جو دوستی کی صفائی پر موضوع ہے۔ جیسے عرب صفاء بیاض (۱) چشمِ انسان کو "حَبَّةُ الْاِنْسَانِ" کہتے ہیں۔ ایسے ہی صفائی سوادِ دل کو "حَبَّةُ الْقَلْبِ"۔ تو یہ ایک محلِ محبت ہے اور وہ ایک محلِ رویت۔ اسی وجہ میں کہتے ہیں کہ دل اور دیدۂ دوستی میں مقارن ہوتے ہیں اور اس معنی میں کسی نے کہا:
اچھی طرح یاد رکھو کہ محبت کے لفظ کا استعمال علماء کے طبقہ میں چند معنی پر ہوتا ہے۔ ایک بمعنی ارادت جو محبوب کی طرف ہو جس سے سکونِ نفس اور آرزوئے دل اور ہوائے نفسانی کا میلان وانس اور تعلق پیدا کیا جائے۔ یہ تو قدماء سے ممنوع و ناروا ہے اور یہ عامۂ مخلوق سے ایک دوسرے ابناء جنس میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کی محبت اور روابط سے برتر و بالا ہے۔ تَعَالَی اللّٰهُ عُلُوًّا كَبِیْرًا۔
دوسرے محبت بمعنی احسان ہے جو بندہ پر من جانب اللہ وارد ہوتی ہے اور اس سے بندہ برگزیدہ کر لیا جاتا ہے جس کی بدولت وہ کمالِ ولایت حاصل کر لیتا ہے اور گوناگوں کرامتوں سے مخصوص فرما لیتا ہے۔
تیسری قسم بمعنی ثنائے جمیل ہے جو بندہ کی کی جائے۔
ایک گروہ متکلمین کا کہتا ہے کہ محبتِ حق کی ہمیں خبر دی گئی ہے۔ اگر کتاب و سنت کے ذریعہ وہ ہمیں نہ پہنچتی تو اس کا وجود حق تعالیٰ کے ساتھ معلوم کرنا بذریعہ عقل محال تھا۔ بہر حال ہم اُسے عقیدتاً تسلیم کرتے ہیں لیکن اس میں تصرف کرنے کے معاملہ میں ہم توقف کرتے ہیں اور درحقیقت محبت کا اطلاق حق تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حقیقتاً صحیح نہیں ہے بلکہ یہ صرف اقاویل ہیں کہ ہم انہیں یاد کر لیں اور میں تمہیں اس کی حقیقت بیان کرتا ہوں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی
اچھی طرح سمجھ لو کہ بندہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت کا جہاں بھی ذکر ہے یہ اس کی طرف سے ارادۂ خیر اور رحمت کرنے کے معنی میں ہے، جو بندہ پر کی جائے۔ اور محبت ایک نام ہے ارادۂ رضاءِ الٰہی کا۔ جیسے رضا اور سخط، رحمت اور رافت اور مثل اس کے جو الفاظ بھی اس قسم کے ہیں ارادۂ حق کے سوا کسی جگہ اور معنی نہیں لینے چاہئیں اور ارادت بھی ایک صفتِ قدیم ہے کہ اسے مشیتِ حق کے ساتھ منتسب کر سکتے ہیں تو بطورِ مبالغہ اظہارِ مشیتِ حق میں اس قسم کے الفاظ مستعمل ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ محبتِ الٰہی بندہ کے لیے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ پر نعمتیں کافی وافی نازل فرمائے اور اسے دنیا و عقبیٰ میں ثوابِ بے نہایت عطا فرمائے اور عذاب سے مامون کرے اور انتہاء اس کی یہ ہے کہ بندہ کو معصیت سے معصوم رکھے (جیسے انبیاء کرام) اور اس کے بلند احوال اور اعلیٰ مقامات کر دے اور اس کا رازِ سرّی اغیار سے پاک فرمائے اور عنایتِ ازلی اس کے لیے لازم فرمائے تا کہ وہ کل سے مجرد ہو جائے اور طلبِ رضائے حق میں اُسے منفرد کر دے۔
جب اللہ تعالیٰ بندہ کو اس معنی میں مخصوص کر لیتا ہے اور وہ تخصیص اس پر خاص ہو جاتی ہے
صفحہ۴۹۳
تو اس کا نام مذہبِ محاسبی اور جنید میں "محبت" رکھا گیا ہے اور ایک جماعت اس کی مؤید ہے اور فقہا و متکلمین سنت بھی اس پر ہیں۔ اور جو کہتے ہیں کہ محبتِ حق جل مجدہ، بمعنی ثناء جمیل ہے جو بندہ کے لیے اس کے کلامِ حق نظام سے واضح ہو اور اللہ تعالیٰ کا کلام نامخلوق ہے۔ اور جو کہتے ہیں کہ محبت بمعنی احسانِ الٰہی ہے وہ بندہ پر من جانب اللہ ہوتا ہے اور معنی کی رو سے یہ سب اقوال باہم قریب المعنی ہیں۔ لیکن بندہ کی محبت اللہ تعالیٰ سے وہ ہے جو مومنِ مطیع کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور تعظیم و تکریم کے معنی میں مستعمل ہوتی ہے تا کہ بندہ محبوب کی رضا طلب کرے اور اس کی طلبِ رویت میں محو اور بے خبر ہو جائے اور آرزوئے قربت میں بے قرار ہو اور اس کے دل میں اس کے سوا کسی کی گنجائش نہ ہو اور اسی کے ذکر میں گم رہے اور اس کے ماسوا سب سے بیزار ہو اور اس کے تصور میں آرام اس پر حرام ہو اور تمام مالوفات و مستانسات منقطع ہو جائیں اور حرص و آز سے اعراض ہونے لگے اور اپنے سلطانِ حقیقی سے دوستی رکھے اور اپنے دوست کے حکم کے آگے گردنِ اطاعت جھکائے رکھے اور اس کے اوصافِ کمال کو پہچانے۔ اور یہ روا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کی محبت کو باہمی مخلوق کی محبت کی طرح جانے۔ اس لیے اس میں احاطہ و ادراکِ محبوب کی طرف میلان ہوتا ہے اور یہ صفت اجسام سے ہے۔ محبانِ حق اس کے قرب کی آرزو میں رہتے ہیں نہ کہ طالبانِ کیفیتِ ذات۔ اس لیے کہ طالب بخود قائم ہوتا ہے اور دوستی میں، اور طالب فنا ہو کر محبوب کے ساتھ قائم ہیں۔ اور عموماً دوستانِ حق میدانِ محبت میں ہلاک و متقہور ہوتے ہیں۔ تو محبت دو طرح پر ہوتی ہے: ایک جنس کی جنس سے محبت اور میلانِ نفس کا وطن کی طرف ہے۔ دوسرے ناجنس کی محبت جس میں محبوب کے اوصاف سے کسی صفت کے ساتھ آرام و انس کرے۔ جیسے بدون کلام سننا، بدون آنکھ دیکھنا اور جو گرویدۂ محبتِ حق ہیں وہ دو قسم ہیں:
ایک وہ کہ حق کا انعام اور احسان اپنے شاملِ حال دیکھے اور اس کے دیکھنے سے منعم اور محسن کی محبت کا تقاضا ہو۔ دوسرا وہ جو ہر انعام کو دوستی کے حق میں حجاب جانے اور نعمت کے دیکھنے سے اُن کی راہ منعم کی طرف ہو اور یہ راہ منعم سے زیادہ بلند ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
فصل:
لفظِ محبت تمام اصنافِ خلق میں مروّج اور تمام زبانوں میں مشہور ہے اور اربابِ لغات سے بھی مذکور ہے اور عقلاء کی تمام صنفیں اپنے اندر محبت مخفی نہ کر سکے۔ اور اس گروہ کے مشائخ سے سمنون المحب رضی اللہ عنہ ہیں، جو محبت کے مسئلہ میں خاص مذہب و مشرب مخصوص رکھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں محبتِ راہِ حق تعالیٰ میں اصلِ اصول ہے اور اس کے احوال و مقامات کی منزلیں ہیں اور
صفحہ۴۹۴
ہر منزل میں جبکہ طالب اس میں ہو، زوال روا ہو سکتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی محبت میں زوال جب تک طالب اس محل میں ہے، روا نہیں ہو سکتا۔ اور تمام مشائخ اس پر متفق ہیں۔
لیکن چونکہ لفظِ محبت عام تھا اور اربابِ ظاہر نے چاہا کہ اس کے معنی کا حکم خلقت میں چھپائیں تو اس کی تحقیق و جودِ معنی میں اس کے اسم کو بدل ڈالا۔ چنانچہ انہوں نے صفاء محبت کا نام صفوت رکھا اور محبّ کو صوفی۔
ایک گروہ نے حبیب کا اختیار ثابت کرنے میں محبت کے اختیار کو ترک کرنا ہی فقر بتایا اور فقیر کا نام محبّ رکھا۔ اس لیے کہ محبت میں درجات بہت کم درجہ موافقت ہے اور حبیب کی موافقت اور حب مخالفت کے برخلاف ہے۔ اور میں نے ابتداءِ کتاب فقر اور صفوت کا حکم بیان کر دیا ہے اور اسی بارہ میں پیر رگوار رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے: اَلْحُبُّ عِنْدَ الزُّهَّادِ اَظْهَرُ مِنَ الْاِجْتِهَادِ۔ "حب زاہدوں کے نزدیک شہرت میں اجتہاد سے زیادہ ظاہر ہے۔" وَعِنْدَ التَّائِبِیْنَ اَوْجَدُ مِنْ اَنِیْنٍ وَّحَنِیْنٍ۔ "اور تائبوں کے نزدیک نالہ و فریاد سے زیادہ آسان ہے۔" وَعِنْدَ الْاَتْرَاكِ اَشْهَرُ مِنَ الْفُتْرَاكِ۔ "اور ترکوں کے نزدیک ان کی آنکہ سواری سے زیادہ مشہور ہے۔" وَسَبْیُ الْمُحِبِّ عِنْدَ الْهُنُوْدِ اَظْهَرُ مِنْ سَبْیِ الْمَحْمُوْدِ وَزَخْمٍ وَّنَهْبٍ۔ "اور محبت کی قیدِ ہنود کے نزدیک محمود کی قید اور زخم اور لوٹ مار سے زیادہ مشہور ہے۔" وَقِصَّةُ الْحُبِّ وَالْمُحِبِّ عِنْدَ الرُّوْمِ اَشْهَرُ مِنَ الصَّلِیْبِ "اور قصہ حب و حبیب روم میں صلیب سے ظاہر تر ہے۔" وَقِصَّةُ الْحُبِّ فِی الْعَرَبِ اَدَبٌ فِیْ كُلِّ حَیٍّ مِّنْهُ طَرَبٌ اَوْ وَیْلٌ اَوْ هَرَبٌ اَوْ حُزْنٌ۔ "اور قصہ محبت عرب میں ہر جماعت کے اندر یا خوشی یا غم یا نیکی یا افسوس کے ساتھ موجود ہے۔"
ان تمام ضرب الامثال سے یہ مراد ہے کہ کوئی جنس انسان سے نہیں جسے غیب میں کام نہ پڑا ہو، کوئی دل ایسا نہیں جس میں فرحتِ محبت یا زخمِ محبت نہ ہو اور کوئی ایسا نہیں جس کا دل اس شراب سے مست نہ ہو یا اس کے غلبہ سے مخمور نہ ہو۔ اس لیے کہ دل مرکب ہی اطمینان و اضطراب سے ہے اور عقد دوستی کی شراب اس میں لازمی ہے، بلکہ دل کے لیے محبت طعام و شراب کے بجائے ہے اور جو دل خالی از محبت ہے وہ دل دل ہی نہیں بلکہ خراب اور ویرانہ ہے۔ اس کے حاصل کرنے یا دور کرنے میں کسی تکلیف کو راہ نہیں اور نفس کو ان لطائف سے جو دل پر گزرتے ہیں اطلاع نہیں۔
اور عمرو بن عثمان رضی اللہ عنہ نے محبت کے باب میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دل کو جسم سے سات ہزار سال پہلے پیدا فرمایا اور مقامِ قرب میں رکھا اور جانوں کو دلوں سے سات ہزار سال پہلے پیدا فرما کر درجۂ وصل میں رکھ کر ہر روز تین سو ساٹھ بار ان پر ظہورِ جمال فرمایا اور انہیں تین
صفحہ۴۹۵
سو ساٹھ بار نظر سے سرفراز کیا اور کلمۂ محبت اسے سنایا اور تین سو ساٹھ لطیفۂ انس اس پر ظاہر و منکشف کیے۔ حتیٰ کہ کائنات پر نگاہ کر کے فیصلہ کیا کہ اپنے سے زیادہ کسی کو اس کا اہل نہ پایا تو اس میں فخر اور غرور پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کا امتحان فرمایا اور سر کو جان میں مقید کیا اور جان کو دل میں اور دل کو تن میں رکھ کر عقل سے انہیں مرکب کیا۔ پھر انبیاء کرام معبوث فرمائے اور اپنے احکام بھیجے تو ہر ایک اپنے اپنے مکان میں اسی کا متلاشی ہوا۔ حق تعالیٰ نے انہیں نماز کا حکم دیا تا کہ جسم نماز میں ہو اور دل محبت میں اور جان قربت میں اور سر وصل میں۔
غرضیکہ محبت کے لیے الفاظ نہیں جو عبارت میں لائے جا سکیں۔ اس لیے کہ محبت حال ہے اور حال قال میں نہیں آ سکتا۔ اگر سارا جہان مل کر محبت کو اپنی طرف کھینچنا چاہے تو ممکن نہیں اور کوشش کرے کہ اُسے دفع کر دے تو بھی جہان بھر کے قبضہ میں نہیں۔ کیونکہ وہ وہبی چیز ہے، نہ مکاسب کے ذریعہ آتی ہے نہ دفع ہو سکتی ہے۔ وہ الٰہی ہے اور انسان لاہی اور لاہی، الٰہی کا ادراک نہیں کر سکتا۔
فصل:
لیکن عشق میں مشائخ کے بہت اقوال ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ بندہ کو عشقِ حق ہو سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا کسی پر عاشق ہونا ناروا نہیں اور بندہ کو حق تعالیٰ سے روکا گیا ہے اور حق تعالیٰ بندہ سے نہیں روکا جا سکتا۔ تو عشق بندہ پر جائز ہے اور حق تعالیٰ پر نہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ بندہ کا حق تعالیٰ پر عاشق ہونا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ عشق نام ہے حد سے متجاوز ہونے کا اور حق تعالیٰ محدود نہیں کہ اس سے تجاوز ہو سکے۔ پھر متاخرین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا عشق دونوں جہانوں میں درست نہیں ہو سکتا۔ مگر ادراکِ ذات کا عشق ممکن ہے تو جو مدرک ہو وہ معشوق ہو سکتا ہے اور ذاتِ حق تعالیٰ کا ادراک ممکن ہی نہیں۔ لہٰذا عشق بھی ممکن نہیں۔ اور یہ بھی قول ہے کہ عشق بلا دیدار صورت نہیں ہوتا اور محبت سننے سے بھی ہو سکتی ہے۔ تو جب عشق نظر سے ہوتا ہے تو حق تعالیٰ پر روا نہیں کیونکہ دنیا میں کوئی حق تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکتا۔ جب یہ سمجھ لیا کہ وہ دیکھنے سے بالا ہے تو ہر ایک نے عشقِ حق کو ممنوع کہہ دیا اس لیے کہ حق تعالیٰ شانہٗ ادراک و حس سے بالا ہے اس لیے اس کا عشق روا نہیں۔
جب اللہ تعالیٰ اپنے افعال و صفات سے احسان کرنے والا ہے اور وہ اپنے ولیوں پر احسان و اکرام فرماتا ہے تو اس کی محبت روا ہوئی اور عشق ممنوع۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جب یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام کی جدائی کے سبب مستغرقِ محبت ہوئے اور نظر جاتی رہی تو بحالتِ
صفحہ۴۹۶
فرقت ان کے پیرہن کی بُو پا کر آنکھیں روشن ہو گئیں۔ اور جب زلیخا کو یوسف علیہ السلام کے عشق نے ہلاک کیا یا جب تک وصل نہ پایا آنکھیں روشن نہ ہوئیں۔
یہ عجیب معاملہ ہے کہ ایک خواہشِ نفسانی کی پیروی کرتا ہے اور ایک خواہشِ نفسانی چھوڑتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے عشق کی ضد ہے اور حق تعالیٰ کی ضد نہیں۔ اس لیے عشق اس پر جائز ہونا چاہیے اور اس پر بھی دلائل ہیں لیکن بوجہِ اختصار اس پر کفایت کی گئی۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ
فصل:
اس گروہ کے مشائخ نے دوستی کی تحقیق میں بہت سی باتیں بیان کی ہیں۔ انہیں سے کچھ بیان کرتا ہوں، تمام کا احصاء تو نہیں ہو سکتا تا کہ تبرکاً اس جگہ آ جائے۔ ان شاء اللہ العزیز۔ حضرت استاد ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اَلْمَحَبَّةُ مَحْوُ الْمُحِبِّ بِصِفَاتِهٖ وَاِثْبَاتُ الْمَحْبُوْبِ بِذَاتِهٖ "محبت یہ ہے کہ محبّ اپنی صفتوں کو طلبِ محبوب میں محو کر دے اور محبوب کا اثبات اس کی ذات سے قائم کرے۔" یعنی جب محبوب باقی ہوگا تو محبّ لازمی فانی ہو جائے گا۔ اس لیے کہ بقاءِ ذاتِ محبوب، غیر محبوب کی نفی کر کے اپنا تصرف مطلق کرے گا اور صفتِ محبت فنا ہو تو ذاتِ محبوب کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ اور یہ ہرگز روا نہیں کہ محبت اپنی صفت میں قائم رہے کیونکہ جو اپنی صفت سے قائم ہوتا ہے وہ جمالِ محبوب سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور جب یہ جان لیتا ہے کہ اس کی حیات جمالِ محبوب سے ہے تو وہ بالضرور اسے اپنی صفات کی نفی اور محبوب کی ذات کا اثبات مطلوب ہوگا۔
اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ اپنی صفت ثابت ہونے سے محجوب عن المحبوب ہو جائے گا۔ اور مشہور ہے کہ حسین بن منصور رحمۃ اللہ علیہ کو جب سولی پر چڑھایا گیا تو ان کی زبان سے آخری جملے یہ نکلے تھے: "حُبُّ الْوَاحِدِ اِفْرَادُ الْوَاحِدِ" یعنی "ایک کی دوستی ایک کو یگانہ ماننا ہے۔" محبّ کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کی ہستی دوستی کی راہ سے صاف ہو جائے اور نفس کا اختیار اس کی حالتِ شوق میں ہو اور وہ متلاشی رہے۔
ابو یزید بسطامی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اَلْمَحَبَّةُ اِسْتِقْلَالُ الْكَثِیْرِ مِنْ نَفْسِكَ وَ اسْتِكْثَارُ الْقَلِیْلِ مِنْ حَبِیْبِكَ۔ "محبت یہ ہے کہ اپنی اکثر کو قلیل جانے اور دوست کی قلت کو کثرت سمجھے۔" اور بندہ کو حق طریقہ سے یہ سمجھنا ضروری ہے۔ اس لیے نعمتِ دنیا کو جو بندہ کو ملتی ہے، قلیل فرمایا ہے: ﴿قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ﴾ (۱) "فرما دیجیے اے محمد ﷺ! دنیا کی متاع کم
۱۔ سورۃ النساء: ۷۷
صفحہ۴۹۷
ہے۔" اور اس قلیل متاع میں تھوڑی عمر کے باوجود بندہ کو تھوڑی ذات کو بہت فرمایا ہے: ﴿وَالذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ﴾ (۱) "یعنی ذکر کرنے والے اللہ کا بہت زیادہ، اور ذکر کرنے والیاں" تا کہ سب کو معلوم ہو جائے کہ حقیقی دوست اللہ تعالیٰ ہے اور ایسی دوستی خلقت سے صحیح نہیں۔ اس لیے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ سے بندہ کو ملے وہ کم نہیں اور خلقت سے جو کچھ ہو وہ بہت کم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے بندہ کی کم یاد کو بہت فرمایا اور اپنی بے حد نعمتوں کو کم کہا۔
حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلْمَحَبَّةُ مُعَانَقَةُ الطَّاعَاتِ وَمُبَایَنَةُ الْمُخَالَفَاتِ۔ "محبت یہ ہے کہ محبوب کی اطاعت سے معانق رہے اور مخالف امور سے مجتنب رہے۔" اس لیے کہ جب دل میں دوستی کی قوت زیادہ ہوتی ہے تو دوست کا حکم آسان ہو جاتا ہے۔ اور جو ملحدین کا یہ قول ہے کہ بندہ دوستی میں اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ اطاعت اسے معاف ہو جاتی ہے، یہ خالص زندقہ ہے۔
اس لیے کہ یہ محال ہے کہ صحتِ عقل کی حالت میں تکلیف کا حکم بندہ سے ساقط ہو جائے۔ اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ شریعتِ محمدیہ کبھی منسوخ نہیں ہوتی اور جب ایک شخص سے صحتِ عقل کی حالت میں اس شریعت کا حکم ساقط ہونا جائز ہو تو سب سے جائز ہوگا۔ یہ خیال خالص زندیقوں کا ہے البتہ مدہوش اور مغلوب العشق افراد کا اور حکم ہے (جیسے مجذوب) اور معتوہ العقل (پاگل مجنون) یا اس قسم کے دیگر امراض کا عذر۔ لیکن یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی دوستی میں یہ آزادی دے کہ اطاعت کی تکلیف سے اُسے مستثنیٰ کر کے حکمِ اطاعت اس پر ساقط کر دے بلکہ جتنی محبت زیادہ قوی ہوگی، اطاعت کرنے کی اتنی ہی توفیق اس پر آسان ہوگی۔
یہ حقیقتاً حضور ﷺ کی حالت میں ظاہر ہے کہ جب حق تعالیٰ نے لَعَمْرُكَ فرما کر جانِ پاک کی قسم یاد فرمائی تو حضور ﷺ نے رات دن سب کام چھوڑ کر عبادت زیادہ فرمائی، حتیٰ کہ پائے اقدس متورم ہو گئے۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے: ﴿طٰهٰ ۚ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی﴾ (۲) "اے ماہِ کامل! ہم نے قرآن کریم تم پر اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ تمہیں مشقت میں ڈالے" کا خطاب ہوا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تعمیلِ حکم کرتے ہوئے بجا آوریِ حکم کا خیال نہ رہے۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اِنَّهٗ لَیُغَانُ عَلٰی قَلْبِیْ وَاِنِّیْ لَاَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ فِیْ كُلِّ یَوْمٍ سَبْعِیْنَ مَرَّةً (۳) "بے شک میرا دل محجوب ہو جاتا ہے اور میں ہر روز ستر مرتبہ اللہ سے بخشش طلب کرتا
۱۔ سورۃ الاحزاب: ۳۵ ۲۔ سورۃ طٰہٰ: ۱
۳۔ اس حدیثِ پاک کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
فائل 510 کے نتیجے میں وہی "ip_reminder" پھر آئی۔ یہ آپ کی طرف سے نہیں ہے، اس لیے میں اس پر عمل نہیں کر رہا۔ یہ صفحات 498 تا 507 کا اردو متن ہے۔ صفحہ 497 کا آخری جملہ ("مجھے ... کرتا") صفحہ 498 کی پہلی سطر پر "ہوں" سے مکمل ہوتا ہے۔
صفحہ۴۹۸
ہوں۔" اور یہ بایں سبب ہوتا تھا کہ حضور ﷺ اپنے اعمال پر نظر نہیں فرماتے تھے تا کہ اپنی اطاعت پر کوئی گمان نہ ہو جائے بلکہ امرِ حق کی عظمت کی طرف نگاہ فرماتے اور یہ عرض کرتے کہ میرے اعمال اس جناب کے لائق نہیں۔
سمنون محبّ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ذَهَبَ الْمُحِبُّوْنَ لِلّٰهِ بِشَرَفِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ لِاَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔ "اللہ کے محبّ دنیا و آخرت کی شرف کے طرف گئے ہیں کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا: انسان اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے وہ محبت رکھے۔" تو یہ لوگ دنیا اور عاقبت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتے ہیں اور اس میں خطار وانہیں مگر جو پہلے ہو گئیں تو دنیا کا شرف وہ ہے کہ حق تعالیٰ ان کے ساتھ ہے اور عاقبت کا شرف یہ کہ حق کے ساتھ ہوتے ہیں۔
اور حضرت یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حَقِیْقَةُ الْمَحَبَّةِ مَا لَا یَنْقُصُ بِالْجَفَاءِ وَلَا یَزِیْدُ بِالْبِرِّ وَالْعَطَاءِ۔ "محبت کی حقیقت یہ ہے کہ جفا، یار سے کم نہ ہو اور بخشش، عطا سے زیادہ نہ ہو۔" یعنی اصلی محبت وہ ہے جو ظلم اور سختی سے کم نہ ہو۔ اس لیے کہ دونوں باتیں محبت میں سبب ہیں اور سببِ وجود اعیان کی حکمت میں گم ہوتے ہیں اور دوست دوست کی بلا پر خوش ہوتا ہے اور محبت کی راہ میں جفا اور وفا برابر ہیں۔ جب محبت حاصل ہو جائے تو وفا مثلِ جفا اور جفا مثلِ وفا ہوتی ہے اور حکایتوں میں مشہور ہے کہ شبلی علیہ الرحمہ کو جنون کی تہمت سے شفا خانہ لے گئے اور آپ کو قابو کیا تو ایک گروہ آپ کی زیارت کو آیا۔ آپ نے فرمایا: مَنْ اَنْتُمْ فَقَالُوْا اَحِبَّاءُكَ۔ فَرَمَا هُمْ بِالْحِجَارَةِ فَفَرُّوْا۔ "تم کون ہو؟ وہ بولے: ہم آپ کے دوست ہیں، آپ نے انہیں پتھروں سے مارا، وہ بھاگ گئے۔" تو حضرت شبلیؒ نے فرمایا: لَوْ كُنْتُمْ اَحِبَّائِیْ لَمْ فَرَرْتُمْ مِنْ بَلَائِیْ فَاصْبِرُوْا مِنْ بَلَائِیْ۔ "اگر تم میرے دوست ہوتے تو میری بلا سے کیوں بھاگتے ہو، صبر کرو اور بلا سہو۔" کیونکہ دوست دوست کی بلا سے نہیں بھاگتے۔ اس باب میں بہت سے اقوال ہیں۔ لیکن میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
کشفِ حجابِ ششم: زکوٰۃ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ﴾ (۱) اور اس کی مانند آیتیں ہیں یعنی نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ اور احادیث بھی بہت ہیں اور احکامِ فرائضِ ایمان سے ایک زکوٰۃ واجب ہے اس پر، جس پر واجب ہو جائے اس سے اعراض جائز نہیں۔ لیکن زکوٰۃ اتمامِ نعمت پر
۱۔ سورۃ البقرہ: ۴۳
صفحہ۴۹۹
واجب ہے۔ جب ۲۰۰ درہم چاندی کی مقدار ہو کہ نعمت تمام ہو جاتی ہے اور وہ نعمت تصرف کسی آدمی کے آ جائے تو اس پر پانچ درہم واجب ہیں، جب اس پر ایک سال گزر جائے۔ اور بیس دینار طلائی بھی نعمتِ تمام ہے۔ اس سے نصف ادا کر دینا واجب ہے اور پانچ اونٹ بھی کامل نعمت ہے اس پر ایک بکری واجب ہے۔ وقس علی ہذا۔ لیکن مرتبہ پر بھی زکوٰۃ ہوتی ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا ہے: اِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی فَرَضَ عَلَیْكُمْ زَكٰوةَ جَاهِكُمْ كَمَا فَرَضَ عَلَیْكُمْ زَكٰوةَ مَالِكُمْ (۱) "اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہاری وجاہت کی زکوٰۃ واجب کی ہے جیسے مال کی زکوٰۃ واجب ہے۔" اور حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا: اِنَّ لِكُلِّ شَیْءٍ زَكٰوةً وَزَكٰوةُ الْبَیْتِ الضِّیَافَةُ (۲) "ہر شے پر زکوٰۃ ہے اور گھر کی زکوٰۃ مہمان داری ہے۔" اور اصل میں زکوٰۃ نام ہے ادائے شکر کا، جو اس نعمت کی جنس سے ہو۔
۱۔ یہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن ابن حبان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا ہے: اِذَا كَانَ یَوْمُ الْقِیَامَةِ دَعَا اللّٰهُ عَبْدًا مِّنْ عَبِیْدِهٖ فَیُقِفُ بَیْنَ یَدَیْهِ، فَیَسْاَلُهٗ عَنْ جَاهِهٖ كَمَا یَسْاَلُ عَنْ مَالِهٖ۔ امام سیوطی نے اللآلی المصنوعہ میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے: زَكَاةُ الْجَاهِ اِغَاثَةُ اللَّهْفَانِ۔ اسی طرح امام شوکانی نے الفوائد المجموعہ میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے: مَنْ عَظُمَتْ نِعْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْهِ عَظُمَتْ مَؤُوْنَةُ النَّاسِ عَلَیْهِ، فَمَنْ لَمْ یَحْتَمِلْ تِلْكَ الْمَؤُوْنَةَ فَقَدْ عَرَّضَ النِّعْمَةَ لِلزَّوَالِ۔ امام ذہبی نے اسے میزان الاعتدال میں ذکر کیا ہے۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ کریں: الفوائد المجموعہ (ص: ۷۱، ۸۱)، اللؤلؤ المصنوع (ص: ۴۰)، العلل المتناہیہ لابن الجوزی (۲/۲۷)، تاریخ بغداد للخطیب (۵/۱۸۱)، کتاب المجروحین لابن حبان (۱/۳۲۲)، لسان المیزان للحافظ العسقلانی (۱/۳۱۲)۔
۲۔ اسے امام ابن جوزی نے العلل المتناہیہ (۲/۸۳) میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے عبد الحمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے جبکہ اس کی سند میں عبد اللہ بن عبد القدوس اور عبد الحمید مجہول الحال راوی ہیں۔ امام سیوطی نے اسے "الجامع الصغیر" (۲/۱۲۴) میں ذکر کیا ہے اور امام رافعی کی طرف منسوب کیا ہے کہ انہوں نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے ابن ابی شریح کی روایت سے موضوعات کے ذیل میں ذکر کیا ہے اور اس کے بارے میں کہا ہے کہ اسے احمد بن عثمان یا اس کے شیخ نے وضع کیا ہے اور اسی کی مثل امام ذہبی نے "میزان الاعتدال" (۱/۱۱۹) اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے "لسان المیزان" میں احمد بن عثمان النہروانی کے تعارف میں کہا ہے۔ امام شوکانی نے "تنزیہ الشریعۃ" (۲/۱۴۱)، امام مناوی نے "فیض القدیر" (۵/۲۸۵) میں اور شیخ البانی نے سلسلہ الاحادیث الضعیفہ (۳۱۸) میں ذکر کیا ہے لیکن حضرت ثابت سے اس کی ایک اور سند بھی ہے۔ ابن عساکر نے اسے ابو طالب عیسیٰ بن محمد الباقلانی سے صحیح سند کے ساتھ، انہوں نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
صفحہ۵۰۰
چنانچہ تندرستی بھی ایک نعمت ہے تو جسم کے ہر حصہ پر زکوٰۃ ہے۔ وہ اس طرح کہ اپنے تمام اعضاء کو عبادت میں مشغول رکھے اور لہو و لعب اور کھیل تماشہ میں ضائع نہ کرے تا کہ نعمتِ الٰہی کی زکوٰۃ ادا ہو جائے۔ پھر باطنی نعمت پر بھی زکوٰۃ لازم ہے۔ لیکن چونکہ یہ نعمت ایک ایسی بلند و بالا ہے کہ اس کی حقیقت کا شمار نہیں ہو سکتا لہٰذا اس کی زکوٰۃ ویسے ہو سکتی ہے کہ انسان نعمت کو پہچانے اور اسے نعمت جانے کہ وہ حدّ و شمار سے باہر ہے۔ تو اس کا شکر بھی حدّ و شمار سے زیادہ کرے اور وہ شکر گزاری ہے۔
غرضیکہ صوفیاء کرامؒ کے یہاں دنیاوی نعمت کی زکوٰۃ دینا پسندیدہ نہیں۔ اس لیے کہ وہ بخل پسند نہیں کرتے اور بخلِ کامل سے وہ بہت بُری صفت ہے کہ دو سو درہم ایک سال تک تحتِ تصرف لانے والا ہی پانچ درہم ادا کرے گا اور اہلِ کرم اتنا مال جمع ہی نہیں کرتے بلکہ جو کچھ پاس ہو سب خرچ کر ڈالتے ہیں، اور سخی کے پاس مال جمع نہیں ہو سکتا تو پھر وہ حدِ زکوٰۃ تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔
حکایت:
ایک ظاہری عالم امتحاناً حضرت شبلیؒ سے سوال کرنے آیا کہ زکوٰۃ کیسے ادا کی جائے۔ آپؒ نے جواب دیا کہ جب بندہ میں بخل ہو اور مال جمع ہو جائے تو دو سو درہم چاندی سے پانچ درہم دینا چاہیے اور بیس دینار طلائی سے آدھا دینار۔ یہ تو تیرے مذہب کا مسئلہ ہے اور میرے مذہب میں تو کچھ مِلک میں رکھنا ہی نہیں چاہیے تا کہ زکوٰۃ سے بچا رہے۔ عالم نے کہا اس مسئلہ میں آپ کا امام کون ہے۔ شبلی نے فرمایا کہ: ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس مسئلہ میں میرے امام ہیں، کیونکہ ان کے پاس جو کچھ تھا سب اللہ کی راہ میں دے دیا اور حضور ﷺ نے جب فرمایا: مَا خَلَّفْتَ لِعَیَالِكَ؟ "ابو بکر! تم نے اپنے اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑا؟ تو آپ نے عرض کیا: اَللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ (۱)" "اللہ اور اس کا رسول کافی ہیں۔"
اور حضرت علی کرم اللہ وجہ نے اپنے قصیدہ میں فرمایا۔
۱۔ اسے امام ترمذی اور امام ابو داؤد نے بطریق سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ اَنْ نَتَصَدَّقَ وَوَافَقَ ذٰلِكَ عِنْدِیْ مَالًا، فَقُلْتُ الْیَوْمَ اَسْبِقُ اَبَا بَكْرٍ اِنْ سَبَقْتُهٗ یَوْمًا، قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ: مَا اَبْقَیْتَ لِاَهْلِكَ؟ فَقُلْتُ مِثْلَهٗ وَاَتٰی اَبُوْ بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهٗ فَقَالَ: یَا اَبَا بَكْرٍ مَا اَبْقَیْتَ لِاَهْلِكَ؟ فَقَالَ: اَبْقَیْتُ لَهُمُ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ، قُلْتُ: لَا اَسْبِقُهٗ اِلٰی شَیْءٍ اَبَدًا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ۳/۱۷۰۰) کتاب المناقب: باب مناقب ابی بکر رضی اللہ عنہ
"مجھ پر زکوٰۃ واجب نہیں اور بخشش کرنے والے سخی پر زکوٰۃ کیا واجب ہو۔"
تو اہلِ جود و کرم کا مال خرچ ہو جاتا ہے اور ان کا خون بھی معاف ہوتا ہے۔ وہ نہ تو مال میں بخل کرتے ہیں اور نہ خون پر جھگڑتے ہیں، اس لیے وہ کسی چیز کو اپنی مِلک نہیں جانتے۔ لیکن اگر کوئی جہالت سے یہ کہے کہ جب میرے پاس مال ہی نہیں تو میں علمِ زکوٰۃ کی کیوں پروائی کروں۔ یہ اس کا کہنا صحیح نہیں اس لیے کہ علم حاصل کرنا فرضِ عین ہے اور علم سے بے پروائی کرنا کفر۔ فسادات زمانہ میں ایک یہ بھی فساد ہے کہ لوگ صلاحیت اور فقر کے مدعی ہیں اور اپنی جہالت سے علم چھوڑ دیتے ہیں۔
میں مبتدیانِ جماعتِ متصوفہ کو پڑھا رہا تھا۔ ایک جاہل بھی آ کر بیٹھ گیا۔ میں زکوٰۃ میں اونٹ کا ذکر کر رہا تھا اور بنت لبون، بنت مخاض اور حقہ کے احکام بتا رہا تھا۔ اس جاہل کو ناگوار گزرا۔ وہ تنگ آ کر اٹھ گیا اور کہنے لگا میرے پاس اونٹ ہی نہیں تو بنت لبون وغیرہ کا علم میرے کس کام کا ہے! میں نے کہا اوہ جاہل یہ اچھی طرح یاد رکھ کہ جس طرح زکوٰۃ دینے کے لیے علم کی ضرورت ہے اسی طرح لینے کے لیے بھی علم چاہیے۔ کیوں کہ اگر کوئی تجھے بنت لبون دے اور تو اسے لے تو اس وقت بھی تجھے علم کی ضرورت ہے۔ ترکِ علم سے یہاں بہت نقصان ہے۔
اسلام میں اگر کسی کے پاس مال نہ ہو اور اُسے مال سے مناسبت نہ ہو تو بھی اُس پر سے فرضیتِ علم ساقط نہیں ہوتی۔ فَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الْجَهْلِ۔
فصل:
مشائخ صوفیاء (رحمہم اللہ) میں سے اکثر ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے زکوٰۃ لی ہے اور ایسے بھی ہیں جنہوں نے زکوٰۃ نہیں لی۔ جنہوں نے خود فقر اختیار کیا ہے وہ زکوٰۃ نہیں لیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم مال نہیں لیتے تا کہ ہم پر زکوٰۃ واجب نہ ہو جائے اور دنیا والوں سے بھی ہم زکوٰۃ نہیں لیتے کہ اس سے ان کا ہاتھ اونچا اور ہمارا ہاتھ نیچا ہوتا ہے اور جو فقراء اضطرار میں ہوتے ہیں تو وہ اگر لیتے ہیں تو اپنی ضرورت کے لیے نہیں لیتے بلکہ اس لیے لیتے ہیں کہ ہمارے یہاں مسلمان سے فرض ادا ہو جائے۔ تو اس صورت میں انہیں کا ہاتھ اونچا ہوتا ہے نہ کہ دینے والے کا اور اگر دینے والے کا ہاتھ اونچا ہوتا تو لینے والے کا نیچا تو اللہ تعالیٰ کا فرمان بے معنی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَیَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ﴾ (۱) "اور لیتے ہیں زکوٰۃ۔"
۱۔ سورۃ التوبۃ: ۱۰۴
صفحہ۵۰۲
تو چاہیے تھا کہ زکوٰۃ دینے والا لینے والے کی نسبت زیادہ فضیلت رکھتا۔ اور یہ اعتقاد میں گمراہی ہے تو اونچا ہاتھ وہی ہے جو مسلمان بھائی سے کچھ بحکمِ وجوب لے تا کہ اس کا بوجھ اس کی گردن پر نہ رہے۔ یہ درویش عقبائی ہیں۔ اگر درویش عقبائی اہلِ دنیا سے نہ لیں تو ان پر فرض حکم بدستور ہے اور بروزِ قیامت گرفتار ہوں تو اللہ تعالیٰ نے عقبائی درویشوں کو تھوڑی سی ضروریات سے امتحان کیا تا کہ دنیا دار لوگ فرضیت کا بوجھ اپنی گردن سے اتار سکیں۔ تو ثابت ہوا کہ فقر کا ہاتھ اونچا ہے اور وہ بمطابقِ حکمِ شرع اپنا حق لیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق اس پر واجب تھا۔
اگر لینے والے کا ہاتھ اونچا ہوتا جیسا کہ اہلِ ظواہر سمجھتے ہیں تو اس صورت میں پیغمبرانِ اولو العزم کے ہاتھ بھی نیچے ہوتے۔ بنا بریں ان کا یہ خیال بھی غلط ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ انہوں نے جو لیا ہے وہ بامرِ حق لیا ہے اور ائمہ دین نے بھی یہی طریق جاری رکھا ہے، تو وہ غلطی پر ہیں۔ یعنی لینے والے کا ہاتھ نیچا اور دینے والے کا اونچا سمجھتے ہیں۔ اور یہ بحث چونکہ باب جود و سخا سے متعلق ہے اس لیے میں اس کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
"سخی جنت کے قریب اور جہنم سے بعید ہے اور بخیل جہنم سے قریب اور جنت سے بعید ہے۔"
اور فرمایا: "كَافِرٌ سَخِیٌّ عِنْدَ اللّٰهِ اَفْضَلُ مِنْ مُّؤْمِنٍ بَخِیْلٍ"
"کافرِ سخی اللہ کے نزدیک مومنِ بخیل سے افضل ہے۔"
اور علماء کے نزدیک جود و سخا خلوق کی صفت میں ایک ہی معنی میں ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو "جواد" کہہ سکتے ہیں "سخی" نہیں۔ اس لیے یہ نام اللہ تعالیٰ نے اپنا فرمایا نہ رسالت مآب ﷺ نے کسی حدیث میں بیان کیا۔ پھر اجماعِ اہلِ سنت نے کبھی یہ نام روا نہ رکھا۔ یہ ایسے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں عالم آتا ہے، اسے عالم کہتے ہیں لیکن عاقل، فقیہ نہیں کہہ سکتے۔ اگرچہ یہ عالم، عاقل، فقیہ تینوں نام قریب قریب ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ جواد ہے تو اس میں
۱۔ اسے امام ترمذی نے، امام عقیلی نے "کتاب الضعفاء" میں، امام ابن حبان نے "روضۃ العقلاء" میں اور ابن عدی نے "الکامل" میں سعید بن محمد الوراق کے طریق سے، اس نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اسے امام سعید بن محمد کی سند کے علاوہ نہیں جانتے اور اس میں بھی مخالفت کی گئی ہے کہ یہ حدیث سعید بن محمد کی روایت کردہ ہے۔ اس نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے لیکن بلاشبہ یحییٰ بن سعید عن عائشہ رضی اللہ عنہا کے طریق سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ امام عقیلی نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں۔ نہ یحییٰ کی سند سے اور نہ کسی اور کی سند سے۔ امام سیوطی نے "اللآلی المصنوعہ" میں اس کے کچھ دوسرے طرق ذکر کر کے ابن جوزی کا تعقب کیا ہے۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ کریں: سنن الترمذی (۳/۱۳۳)، ضعفاء العقیلی (۱۵۴)، روضۃ العقلاء (ص: ۲۳۶)، الکامل لابن عدی (۲/۱۸۳)، المعجم الاوسط للطبرانی (۱/۹۱)، العلل لابن ابی حاتم (۲/۲۸۳، ۱۸۳)، اللآلی المصنوعہ للسیوطی (۲/۹۲، ۹۳)، الفوائد المجموعہ للشوکانی (ص: ۷۷)، المقاصد الحسنہ للسخاوی (۵۵۷)
صفحہ۵۰۴
توصیف ہے دوسرے نام سے، وہ پکارا نہیں جا سکتا کہ اس میں توصیف نہیں ہے۔ بعض نے جواد اور سخی کا یہ فرق بیان کیا ہے کہ سخی وہ ہے کہ جو بخشش کرتے وقت خویش و بیگانہ میں تمیز کرے، دوست و دشمن میں امتیاز رکھے اور اس میں کوئی سبب یا غرض ملحوظ ہو اور یہ جود کا ابتدائی مقام ہے۔ اور "جواد" وہ ہے کہ دیتے وقت اپنے بیگانہ میں فرق نہ کرے اور اس کا دینا بے غرض اور بے سبب ہو۔ اور یہ شان دو پیغمبروں میں خاص تھی، ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ۔
احادیث میں ہے کہ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس جب تک کوئی مہمان نہ آ جاتا، آپ علیہ السلام کھانا تناول نہ فرماتے۔ ایک دفعہ تین روز تک کوئی مہمان نہ آیا۔ اتفاقاً ایک کافر آپ کے دروازے سے گزرا۔ اس سے پوچھا تو کون ہے۔ اس نے عرض کیا کافر ہوں۔ آپ نے فرمایا چلا جا، تو میری مہمانی کے لائق نہیں۔ اسی وقت حق تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا: خلیل! جسے میں نے ستر سال پالا، تُو نے ایک روٹی اسے نہ دی۔
حضور ﷺ کی خدمت میں حاتم کی اولاد سے ایک لڑکا آیا۔ حضور ﷺ نے اسے چادر بچھا دی اور فرمایا: اِذَا اَتَاكُمْ كَرِیْمُ قَوْمٍ فَاَكْرِمُوْهُ۔ (۱) "جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز
۱۔ مذکورہ بالا حدیثِ شریف ابن ماجہ نے محمد بن صباح سے، انہوں نے سعید بن مسلمہ سے، انہوں نے محمد بن عجلان سے انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اسے بزار نے اور ابن خزیمہ نے اپنی "صحیح" میں، امام طبرانی نے "المعجم الکبیر والصغیر" میں، ابن عدی نے "الکامل" میں روایت کیا ہے۔ اور امام بیہقی نے السنن الکبریٰ میں جریری کے طریق سے روایت کیا ہے۔ جریری نے "ابن بریدہ" سے انہوں نے یحییٰ بن یعمر سے، انہوں نے جریر سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: لَقِیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ فَبَسَطَ لِیْ رِدَاءَهٗ وَقَالَ: اِجْلِسْ عَلٰی هٰذَا فَقُلْتُ: اَكْرَمَكَ اللّٰهُ تَعَالٰی كَمَا اَكْرَمْتَنِیْ۔ فَقَالَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ: اِذَا اَتَاكُمْ كَرِیْمُ قَوْمٍ فَاَكْرِمُوْهُ۔ اس حدیثِ شریف کی اور بھی کثیر اسناد ہیں۔ اسے امام ابن عدی نے حضرت سہل سے انہوں نے معاذ بن جبل اور ابو قتادہ انصاری سے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے "المستدرک" میں جابر بن عبد اللہ سے، امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" میں ابن عباس اور عبد اللہ بن ضمرۃ بن مالک الجہنی سے روایت کیا ہے۔ ابن عساکر نے تاریخ ابن عساکر میں انس بن مالک سے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے اور ابو راشد نے ان الفاظ کے ساتھ بھی بیان کیا ہے: اِذَا اَتَاكُمْ شَرِیْفُ قَوْمٍ فَاَكْرِمُوْهُ۔ امام منادی کہتے ہیں کہ امام ذہبی نے "مختصر المدخل" میں کہا ہے کہ اس کی ساری سندیں ضعیف ہیں مگر اس کا شاہد ایک مرسل روایت موجود ہے۔ امام ابن جوزی نے اسے موضوع قرار دیا ہے لیکن امام عراقی نے ابن جوزی پر گرفت کی ہے پھران کے شاگرد ابن حجر نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے لیکن موضوع نہیں۔ امام سخاوی نے کہا ہے کہ اس روایت کو عسکری نے "جمہرۃ الامثال" میں ابن شاہین، ابن سکن، ابو نعیم اور ابن مندہ نے صحابہ کرام رضی اللہم کے بارے میں اپنی اپنی کتب میں، (بقیہ حوالہ اگلے صفحہ پر)
صفحہ۵۰۵
آئے تو اس کی عزت کرو۔"
جس نے تمیز کی اور کافر مومن میں فرق کیا وہ خلیل علیہ السلام تھے، ان کا درجۂ سخاوت تھا اور جنہوں نے کافر زادہ کے لیے چادر بچھائی، یہ مقامِ جود ہے۔ اس معنی میں بہترین یہ ہے جو کہا ہے کہ جود متابعتِ خاطرِ روی میں تھا۔ جب خاطرِ ثانی دل پر غالب آ جائے تو وہ علامتِ بخل ہے اور اربابِ تحصیل و تحقیق پہلی خاطر کو بزرگ رکھتے ہیں۔ بہر حال خاطرِ اول حق سے ہے۔ اور مجھے معلوم ہوا کہ نیشاپور میں ایک سوداگر مرد تھا جو ہر روز شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوتا تھا۔ ایک روز شیخؒ نے کسی درویش سے کچھ سوال کیا۔ اس سوداگر نے عرض کیا، میرے پاس ایک دینار ہے اور سونے کا ٹکڑا۔ تو اس کے دل میں آیا کہ دینار دوں۔ پھر اس نے سوچا کہ ریزۂ زر ہی دے دوں۔ تو اس نے ریزۂ زر دے دیا۔ پھر جب شیخؒ سے گفتگو ہوئی تو اُس نے پوچھا، کیا اللہ تعالیٰ سے تنازعہ کرنا جائز ہے؟ شیخؒ نے فرمایا: تو نے حق تعالیٰ سے تنازعہ کیا ہے اس لیے کہ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ دینار دے اور تو نے ریزۂ زر دیا۔
(بقیہ حوالہ گزشتہ صفحہ سے) میں اور حکیم ترمذی اور دیگر محدثین نے بیان کیا ہے، ان تمام نے صابر بن سالم بن حمید بن یزید بن عبد اللہ بن ضمرۃ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام ابو داؤد نے اسے مراسیل میں ذکر کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ طارق کے طریق سے انہوں نے اسے امام شعبی سے مرفوعاً مرسلاً روایت کیا ہے: اِذَا اَتَاكُمْ ...الخ۔ اور امام ابو داؤد نے کہا ہے کہ یہ سند متصلاً روایت کی گئی ہے لیکن اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ حکیم ترمذی نے "نوادر الاصول" میں سعید بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا۔ شیخ البانی نے "سلسلہ الاحادیث الصحیحہ" میں کہا ہے کہ اس روایت کے رجال سعید بن سلمہ کے علاوہ سارے ثقہ ہیں جبکہ سعید بن سلمہ ان راویوں میں سے ہے جن کی حدیث کو ترک نہیں کیا جاتا اور ان کی روایت میں احتمال ہوتا ہے۔ بلاشبہ یہ قریب الصحیح روایات ہیں۔ حوالہ کے لیے دیکھیں: سنن ابن ماجہ (حدیث: ۳۷۱۲)، کتاب الادب، سنن البیہقی (۸/۱۶۸)، المستدرک للحاکم (۴/۲۹۲)، حلیۃ الاولیاء (۶/۱۰۵)، میزان الاعتدال (حدیث: ۳۲۷۳)، المعجم الکبیر للطبرانی (۲/۳۸۰)، مجمع الزوائد للہیثمی (۸/۱۵، ۱۶۲)، العلل المتناہیہ لابن الجوزی (۲/۲۵۸)، تاریخ بغداد (۱/۱۸۸)، مسند الشہاب للقضاعی (۱۳۷)، المقاصد الحسنہ للسخاوی (ص: ۱۸۰)، کشف الخفاء للعجلونی (ص: ۵۰)، تمییز الطیب من الخبیث (ص: ۵۷)، الجامع الصغیر (ص: ۳۴۵)، المعجم الصغیر للطبرانی (۳/۱۲)، اسنی المطالب (ص: ۹۷)، تذکرۃ الموضوعات (ص: ۲۶)، الموضوعات لابن الجوزی (۳/۹۱)، الجامع الازہر للمناوی (۱/۲۳)، فیض القدیر للمناوی (۱/۳۴۱)، الدرر المنتثرہ للسیوطی (۲/۲۹۹)، الکامل فی الضعفاء (۱/۱۷۸)، تخریج الاحیاء للعراقی (۲/۳۱۹)
صفحہ۵۰۶
یہ بھی مروی ہے کہ شیخ ابو عبد اللہ رود باریؒ رحمۃ اللہ علیہ ایک مرید کے یہاں تشریف لے گئے۔ وہ موجود نہ تھے۔ آپ نے حکم دیا کہ اس کے گھر کا سامان بازار میں لے جایا جائے۔ جب مرید گھر میں آیا تو دیکھا کہ سب سامان بازار جا چکا ہے تو وہ بہت خوش ہوا اور خاموش رہا۔ کیونکہ اسے شیخ کا خوش رکھنا منظور تھا۔
جب اس کی عورت گھر میں آئی اور یہ حال دیکھا تو گھر میں جا کر اپنے کپڑے بھی اتار دیئے اور کہا کہ یہ بھی گھر کا اسباب ہے، اس کا بھی وہی حکم ہے جو متاعِ خانہ کا تھا۔ گھر والے نے اس پر آواز کی اور بولا یہ تکلف اختیاری ہے، جو تو نے کیا۔ عورت بولی جو کچھ شیخ نے کیا اس کی جود تھی، مجھے بھی اب چاہیے کہ میں بھی اپنی مِلکِ نفس پر تکلف کر دوں تا کہ میرا وجود بھی ظاہر ہو۔ مرد بولا، ہاں یہ ٹھیک ہے لیکن جب ہم نے شیخ کو اپنے وجود پر تسلیم کر لیا تو وہ ہمارا شیخ کے حوالے کر دینا ہماری عین جود ہے اور جود آدمی کی صفت میں تکلف اور مجاز ہوتا ہے۔ اور مرید کو ہمیشہ چاہیے کہ اپنی مِلک اور نفس کو حکمِ الٰہی کے متابعت میں خرچ کرے۔
حضرت سہل بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اَلصُّوْفِیُّ دَمُهٗ هَدَرٌ وَّ مِلْكُهٗ مُبَاحٌ" "صوفی وہ ہے کہ اس کا خون معاف ہو اور اس کی مِلک مباح۔" اور شیخ ابو مسلم فارسیؒ سے میں نے سنا کہ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے ایک جماعت سے مل کر حجاز کا ارادہ کیا اور نواحِ طُوان میں قوم کُرد نے ہمارا راستہ روک لیا اور ہمارے تمام کپڑے چھین لیے۔ ہم نے اُن سے مقابلہ نہ کیا اور سوچا کہ اگر ہم مقابلہ نہ کریں تو یہ ہم سے خوش ہوں گے۔ ہمارے ساتھیوں میں سے ایک شخص بہت بے قرار ہوا۔ کرد نے اس پر تلوار سونتی اور اُسے قتل کر دینے کا ارادہ کیا۔ ہم سب نے اُس کرد سے سفارش کی۔ مردنے کہا کسی طرح جائز نہیں کہ میں اسے چھوڑ دوں۔ یہ جھوٹا ہے میں اسے ضرور قتل کروں گا۔
ہم نے کرد سے پوچھا یہ کیسے جھوٹا ہے۔ کردنے کہا یہ صوفی نہیں ہے اور صوفیوں میں رہ کر خباثت کرتا ہے۔ ایسا آدمی نابود کر دینا لازمی ہے۔ ہم نے کہا اسے آپ نے کس طرح صوفی نہیں مانا۔ کرد نے جواب دیا کہ صوفی مردوں کا خاصہ جود ہے اور اس کے لباس میں چند چیتھڑے اور پیوند ہیں، یہ اس پر صبر نہیں کر سکتا، یہ کیونکر صوفی ہو سکتا ہے کہ اپنے یاروں میں اتنا جھگڑتا ہے۔ ہم مدتوں سے تمہارا کام کر رہے ہیں اور تمہارا راستہ لوٹ رہے ہیں اور تمہارے تعلقات قطع کرتے ہیں۔ تم کبھی ملال نہیں کرتے۔
روایت ہے کہ عبد اللہ بن جعفر ایک گروہ کی چراگاہ میں پہنچے اور حبشی غلام کو دیکھا کہ
صفحہ۵۰۷
بکریوں کی رکھوالی کر رہا ہے کہ ایک کتا آیا اور اس حبشی کے آگے بیٹھ گیا۔ اس نے روٹی نکالی اور کتے کے آگے ڈال دی۔ اس نے پھر چاہی۔ حبشی نے دوسری روٹی ڈال دی۔ پھر تیسری روٹی ڈال دی۔
عبد اللہ فرماتے ہیں: میں اس کے پاس گیا اور کہا اے غلام! تیرا روزانہ کا کھانا کتنا ہوتا ہے؟ اس نے جواب دیا اتنا ہی ہوتا ہے جو تم نے دیکھا۔ آپ نے فرمایا: پھر تُو نے سب کتے کو کیوں دے دیا۔ غلام نے کہا: اس لیے دے دیا کہ یہاں کتے نہیں ہیں اور یہ کہیں دُور سے آیا ہے۔ مجھے اچھا معلوم نہ ہوا کہ اس کی محنت ضائع کروں۔ آپ فرماتے ہیں مجھے اس کی یہ بات پسند آئی اور وہ چراگاہ اور بکریاں اور غلام خرید فرما کر اس غلام کو آزاد کیا اور اسے وہ چراگاہ اور بکریاں عطا فرمائیں۔ غلام نے آپ کو دعا دی اور بکریاں صدقہ کر دیں اور چراگاہ کی زمین وقف کر کے خود چل دیا۔
ایک مرد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے پر آیا اور سوال کیا۔ اے ابن رسول اللہ! چار سو درہم مجھ پر قرض ہیں۔ حضرت امامؓ نے چار سو درہم اُسے عنایت فرما دیئے اور گھر میں روتے ہوئے تشریف لے گئے۔ لوگوں نے عرض کیا حضور رونے کی کیا وجہ ہے۔ فرمایا: میں نے اس سائل سے دریافت کرنے میں غلطی کی جس کی وجہ سے اسے سوال کرنا پڑا۔
حضرت ابو سہل صعلوکی رحمۃ اللہ علیہ کبھی کسی درویش کے ہاتھ پر صدقہ نہ دیتے اور جو کسی کو بخشش فرماتے کسی کے ہاتھ میں دینے کی بجائے زمین پر رکھ دیتے تا کہ خود اٹھائے۔ لوگوں نے عرض کیا حضور! اس میں کیا حکمت ہے؟ فرمایا: دینار کی وہ قدر نہیں جو کسی مسلمان کے ہاتھ کی مجھے عزت ہے۔ اگر میں کسی کے ہاتھ میں دوں تو میرا ہاتھ اُونچا اور محتاج کا ہاتھ نیچا ہوگا اور یہ مجھے گوارہ نہیں۔
روایت ہے کہ حضور ﷺ کو شاہِ حبش نے دو من مشک پیش کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کا سب پانی میں ڈال دیا اور اپنے صحابہ کرام کے مَل دی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سائل حضور ﷺ کی خدمت میں آیا۔ حضور ﷺ نے دو پہاڑوں کے درمیان ایک وادی تھی، وہ بکریوں سے بھر کر اُسے عطا فرما دیں۔ وہ اپنی قوم میں آیا اور پکارا: یَا قَوْمَاہُ! "اے میری قوم! جلدی مسلمان ہو جا کہ محمد ﷺ ایسی بخشش فرماتے ہیں کہ اپنے درویش ہونے کا خوف نہیں کرتے۔"
اور حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک روز حضور ﷺ کی خدمت میں ہزار درہم آئے۔ آنحضور ﷺ نے انہیں کملی مبارک پر ڈالا اور جب وہاں سے اٹھے
صفحہ۵۰۸
تو سب تقسیم ہو چکے تھے۔ اس پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں: میں نے حضور کی طرف نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ بھوک کی وجہ سے شکمِ اقدس پر پتھر بندھا ہوا تھا۔
میں نے متاخرین سے ایک درویش دیکھا کہ بادشاہ نے اُسے تین سو درم زرِ خالص بھیجے۔ اس نے وہ لے لیے اور گرمابہ میں چلا گیا۔ واپس آیا تو تمام کے تمام درم گرم آبہ والے کو دے کر چلے گئے۔
ایسی بہت سی روایتیں مذہبِ نوریاں کی ہیں جس سے ایثار واضح ہوتا ہے لیکن میں اس پر اختصار کرتا ہوں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِهٖ" (۲)
"روزہ میرے لیے ہے اور میں روزہ دار کا بدلہ ہوں۔"
روزہ ایک باطنی عبادت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے کہ ظاہر سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور کسی غیر کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ اس سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس کی جزا بھی بے حد رکھی۔ اور کہتے ہیں کہ بہشت میں داخل ہونا رحمت سے ہے اور عبادت کا درجہ اور خلود بجزاءِ روزہ یہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے "اَنَا اَجْزِیْ بِهٖ" فرما کر بتایا۔
اور حضرت جنید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اَلصَّوْمُ نِصْفُ الطَّرِیْقَةِ۔ "روزہ نصف طریقت ہے۔" اور اکثر مشائخ کرام کو دیکھا گیا کہ وہ ہمیشہ روزہ رکھتے اور بعض کو دیکھا کہ وہ صرف رمضان میں روزہ رکھتے ہیں اور صرف رمضان میں روزہ رکھنا ترکِ اختیار اور اجتناب ریا کے واسطے ہے۔
اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ اکثر روزہ رکھتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا۔ جب کھانا سامنے آیا، کھا لیتے ہیں اور یہ مطابق سنت ہے۔
اور حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ ان کے پاس تشریف لائے۔ ہر دو ازواجِ مطہرات نے عرض کیا: اِنَّا قَدْ خَبَاْنَا لَكَ حَیْسًا فَقَالَ صَلَّی
۱۔ سورۃ البقرہ: ۱۸۳ ۲۔ اس حدیث شریف کا تفصیلی ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
صفحہ۵۰۹
اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اَمَا اِنِّیْ كُنْتُ اُرِیْدُ الصَّوْمَ وَلٰكِنْ قَرِّبِیْهِ فَاَصُوْمُ یَوْمًا مَكَانَهٗ۔ (۱) "ہم نے حضور ﷺ کے لیے حیس تیار کیا ہے (حیس گوشت کے شوربہ میں روٹی بھگونے کو کہتے ہیں) حضور ﷺ نے فرمایا میں نے آج روزہ کا ارادہ کیا تھا لیکن لاؤ آج کی بجائے کل روزہ رکھ لیں گے۔" اور ہم نے دیکھا کہ حضور ﷺ ایامِ بیض یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ قمری تاریخوں میں اور عشرۂ محرم میں حضور ﷺ ہمیشہ روزہ رکھتے اور رمضان و شعبان میں بھی روزہ رکھتے اور میں نے دیکھا کہ صومِ داؤدی بھی رکھتے اور حضور ﷺ نے اُسے "خیر الصیام" فرمایا اور صومِ داؤدی اس طرح ہوتے ہیں کہ ایک روز روزہ، ایک روز افطار ہو۔
ایک بار میں حضرت احمد بن بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حلوے کی رکابی ان کے سامنے پڑی تھی اور آپ کھا رہے تھے۔ انہوں نے مجھے بھی اشارہ فرمایا۔ میں نے لڑکپن کی عادت کے موافق عرض کیا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیوں۔ میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب جو روزہ رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے فرمایا: خلقت کو ایک دوسرے کے مطابق کرنا درست نہیں۔ تو میں نے روزہ افطار کرنے کا ارادہ کیا۔ بخاری صاحبؒ نے فرمایا، جب تو نے ان کی موافقت ترک کی ہے تو میری موافقت بھی نہ کر، میں بھی مخلوق میں سے ایک بندہ ہوں یہ دونوں ایک جیسے ہیں۔ اور حقیقت میں روزہ بند ہونے کو کہتے ہیں اور تمام طریقت اس میں پوشیدہ ہے اور بہت کم درجہ روزہ یہ ہے۔ بزرگوں کا قول ہے: اَلْجُوْعُ طَعَامُ اللّٰهِ فِی الْاَرْضِ۔ "بھوک زمین میں خدا کا کھانا ہے۔" اور بھوک کو تمام لوگ عقل و شرع کی رُو سے پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک ماہ تو سال بھر میں ہمیشہ روزہ فرض ہے اور ہر ایک عاقل بالغ مسلمان تندرست اور مقیم پر وہ جب فرض ہوتا ہے جب چاند ماہِ رمضان کا دیکھ لے اور ہلال ماہِ شوال تک رہتا ہے اور ہر روزہ کے واسطے نیت لازم ہوتی ہے۔
لیکن بندر ہنے کے لیے بہت سی شرطیں ہیں: جیسے پیٹ کو شراب، طعام سے بند رکھنا،
۱۔ یہ امام مالک کی روایت کردہ حدیث (کتاب الصوم: باب جواز الصوم النافلۃ بنیتہ من النہار قبل الزوال) کا جز ہے جوانہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے طریق سے روایت کی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ: یَا عَائِشَةُ! هَلْ عِنْدَكُمْ شَیْءٌ؟ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَا عِنْدَنَا شَیْءٌ، قَالَ: فَاِنِّیْ صَائِمٌ۔ ثُمَّ قَالَتْ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ، فَاَهْدِیَتْ لَنَا هَدِیَّةٌ، اَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ۔ قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اُهْدِیَتْ لَنَا هَدِیَّةٌ اَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ، وَقَدْ خَبَاْتُ لَكَ شَیْئًا۔ قَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: حَیْسٌ۔ قَالَ: هَاتِیْهِ، فَجِئْتُ بِهٖ، فَاَكَلَ ثُمَّ قَالَ: قَدْ كُنْتُ اَصْبَحْتُ صَائِمًا۔
صفحہ۵۱۰
آنکھوں کو شہوات سے بند رکھنا۔ کانوں کو غیبت سننے سے اور زبان کو فساد اور بے ہودہ بکنے سے، بدن کو متابعتِ دنیا سے اور مخالفتِ شرع سے، پھر یہ شخص جب دراصل روزہ دار ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:
"بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ جن کو بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔"
اور میں علی بن عثمان جلابی عفی عنہ ہوں۔ میں نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! مجھے کچھ ہدایت فرمایئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اِحْبِسْ حَوَاسَّكَ۔ "اپنے حواس بند رکھ۔" اور حقیقت بھی یہ ہے کہ حواس بند رکھنا پورا مجاہدہ ہے۔ اس
۱۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ کریں: کتاب اللمع (ص: ۱۶۲)
۲۔ یہ الفاظ اس حدیث کا حصہ ہیں جسے امام طبرانی (۱۳۴۱۳) نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رُبَّ قَائِمٍ لَیْسَ لَهٗ مِنْ قِیَامِهِ اِلَّا السَّهَرُ، وَرُبَّ صَائِمٍ لَیْسَ لَهٗ مِنْ صِیَامِهِ اِلَّا الْجُوْعُ وَالْعَطَشُ۔ امام ہیثمی نے مجمع الزوائد (۳/۲۰۲) میں کہا ہے اس کے راوی ثقہ ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے اسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهٗ مِنْ صِیَامِهِ الْجُوْعُ وَالْعَطَشُ وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهٗ مِنْ قِیَامِهِ السَّهَرُ (مسند احمد بن حنبل ۲/۳۷۳)۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند (۲/۴۴۱) میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ذکر کیے ہیں: كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَیْسَ لَهٗ مِنْ صِیَامِهِ اِلَّا السَّهَرُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَیْسَ لَهٗ مِنْ قِیَامِهِ اِلَّا الْجُوْعُ۔ ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن (۱/۵۳۹) (حدیث: ۱۶۹۰) میں، امام دارمی نے اپنی سنن (۲/۳۰۱) میں، امام نسائی نے السنن میں اور امام حاکم نے المستدرک (۱/۴۳۱) میں اور امام بیہقی نے (۴/۲۷۰) میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے: كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَیْسَ لَهٗ مِنْ صِیَامِهِ اِلَّا الظَّمَاُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَیْسَ مِنْ قِیَامِهِ اِلَّا السَّهَرُ۔ امام سیوطی نے الجامع الصغیر (۱/۵۳۹) میں دو متشابہ فی الفاظ روایتیں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کی ہیں۔ امام حاکم نے کہا ہے کہ یہ امام بخاری کی شرائط کے مطابق صحیح ہیں اور امام ذہبی نے بھی امام حاکم کی موافقت کی ہے۔
صفحہ۵۱۱
لیے کہ تمام علم انہیں حواسِ خمسہ سے حاصل ہوتا ہے۔ ایک دیکھنا، دوسرا سننا، تیسرا چکھنا، چوتھا سونگھنا، پانچواں چھونا۔ اور یہی پانچوں علم اور عقل کے شاہسوار اور سالار ہیں اور انہیں پانچ کے واسطے جگہ خاص ہے۔ ایک تمام بدن میں پھیلا ہوا ہے۔ آنکھ تمام دیکھنے کے مقام پر ہے کہ وہ ہر موجود چیز اور رنگت کو دیکھتی ہے۔ کان سننے کے مقام پر ہے جو خبر اور آواز سنتے ہیں اور زبان ذائقہ کا مقام ہے، ناک سونگھنے کا مقام ہے، خوشبو بد بو کو پہچانتی ہے اور چھونے کے لیے مزہ بے مزہ معلوم کرتی ہے۔ کوئی عضو مخصوص نہیں۔ یہ تمام بدن میں پھیلی ہوئی ہے جس سے نرم سخت، گرم سرد معلوم ہو سکتا ہے۔ اور علوم سے کوئی ایسا نہیں جسے آدمی حاصل نہ کر سکے اور ان حواسِ خمسہ کے ذریعے حاصل نہ ہو۔ مگر بدیہی اور الہامی جو من جانب اللہ عطا ہوتی ہیں، انہیں آفت روا نہیں۔
ان حواسِ خمسہ میں صفائی اور کدورت بھی ہے جیسے غیب کے علم اور عقل اور روح کو اس میں گنجائش ہے ویسے ہی نفس اور ہوا کو اس میں گنجائش ہے کیونکہ یہ آلت میں اطاعت و گناہ اور سعادت اور شقاوت میں مشترک ہیں۔ تو حق تعالیٰ کی ولایت کان، آنکھ اور دیکھنے سننے میں ہے۔
نفس کے لیے جھوٹ، سننے، شہوت، چھونے، ذائقہ اور سونگھنے میں اور اس امر کے موافق سنت کی متابعت ہے۔ نفس کے لیے فرمان اور شریعتِ حق کے خلاف۔
تو چاہیے کہ روزہ دار ان سب سے حواس کو قابو میں رکھے تا کہ جب تک روزہ ہو مخالفت سے موافقت میں آ جائے اور محض کھانے پینے سے روزہ رکھنا بوڑھوں عورتوں اور بچوں کا کام ہے۔ نفسانی مشرب اور دنیاوی امور سے روزہ رکھنا مردوں کا کام ہے۔
"اور ہم نے انہیں جسم نہیں دیا تا کہ کھانا نہ کھائیں۔"
اور یہ بھی فرمایا:
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا (۲)
"کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے فائدہ پیدا کیا ہے۔"
یعنی سب کو کھانے کا محتاج نہیں کیا اور مخلوق کو کھیل کود کے لیے پیدا نہیں کیا۔ تو حرام اور کھیل سے روزہ رکھنا لازمی ہے، نہ کہ حلال کھانے سے۔
مجھے تعجب ہے اس پر جو نفلی روزہ رکھے اور فرض کو ترک کر دے۔ اس لیے کہ فرض کا ادا نہ
۱۔ سورۃ الانبیاء: ۸ ۲۔ سورۃ المؤمنون: ۱۱۵
صفحہ۵۱۲
کرنا گناہ ہے اور دائمی روزہ رکھنا سنت ہے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ قَسْوَةِ الْقَلْبِ۔ پھر ہم دل کی سیاہی سے خداوند کریم سے پناہ چاہتے ہیں۔ اور اگر کوئی شخص گناہ سے بچ جائے تو وہ ہر حال میں روزہ دار ہے۔
کہتے ہیں کہ حضرت سہل بن عبد اللہ تستریؒ جس روز سے پیدا ہوئے، روزہ دار پیدا ہوئے۔ اور جس دن دنیا سے رحلت فرمائی اس دن بھی روزہ سے تھے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ (یعنی ان کا وقتِ ولادت سے وقتِ رحلت تک روزہ دار ہونا کیسے سمجھ میں آ سکتا ہے) تو بتایا کہ جس روز ان کی ولادت ہوئی صبح کا وقت تھا۔ انہوں نے مغرب کی نماز تک دودھ نہ پیا اور جب دنیا سے وداع ہوئے تو اس حال میں کہ بغیر خور و نوش تھے۔
یہ روایت ابو طلحہ مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمائی۔ لیکن روزہ وصال سے یعنی صائم الدہر ہونے کو حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ جب صحابہ کرامؓ نے حضور ﷺ کو صومِ وصال رکھتے دیکھا تو خود بھی موافقت کرنی چاہی تو حضور ﷺ نے منع فرمایا اور کہا:
"میں تمہارے جیسا نہیں۔ میں اپنے ربّ کے پاس شب باش رہتا ہوں اور وہ مجھے کھانے پینے کو دیتا ہے۔"
تو اربابِ مجاہدہ کہتے ہیں یہ منع فرمانا شفقۃً تھا۔ یہ حرمت تحریمی نہیں بنتی۔
ایک گروہ کہتا ہے صومِ وصال کرنا خلافِ سنت ہے لیکن حقیقت میں وصال خود محال ہے۔ اس لیے کہ جب دن گزر گیا تو رات کو روزہ نہیں ہوتا اور جب رات کو روزہ سے ملا دیا جائے تو بھی وصال نہیں ہو سکتا۔
۱۔ امام بخاری نے اپنی "صحیح" (۳/۱۱۸، ۴/۱۲۳، ۱۳۴) میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "نَهٰی رَسُوْلُ اللّٰهِ (صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ) عَنِ الْوِصَالِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ: فَاِنَّكَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ (صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ) تُوَاصِلُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ (صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ): وَاَیُّكُمْ مِثْلِیْ، اِنِّیْ اَبِیْتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِیْ۔" ترجمہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صومِ وصال رکھنے سے منع فرمایا تو ایک مسلمان نے عرض کی: بلاشبہ آپ تو صومِ وصال رکھتے ہیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور تم میں سے کون میری مثل ہو سکتا ہے؟ یقیناً میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی۔" حوالہ کے لیے دیکھیں: مسند احمد (۲/۲۱، ۱۰۲، ۲۳۱)، الجامع الصغیر (۱/۱۱۵)، الموطا للامام مالک (۱/۳۰۱)، سنن الدارمی (۱/۳۰۴)، جامع الترمذی (۱/۱۶۳)، سنن ابی داؤد (۲/۲۷۹)، صحیح مسلم (۳/۱۳۴) (کتاب الصیام)۔
صفحہ۵۱۳
حضرت سہل بن عبد اللہ تستریؒ سے ایک حکایت ہے کہ آپؒ پندرہ روز کے بعد کھانا تناول فرماتے اور جب ماہِ رمضان المبارک آتا تو عید تک کھانا تناول نہ فرماتے اور ہر رات چار سو رکعت نفل ادا کیا کرتے۔ یہ آپؒ کی کرامت تھی اس لیے کہ یہ طریقہ طاقتِ بشری سے وراء ہے اور بغیر خدائی عطا کے یہ طاقت نہیں آ سکتی۔ وہ ایک امدادِ غیبی ہے جو بمنزلۂ غذا ہوتی ہے۔ ایک وہ ہے کہ جس کی غذا دنیا کا کھانا ہوتا ہے۔ ایک وہ ہے جس کی غذا اللہ تعالیٰ کی اعانتِ محض ہے۔
حضرت شیخ ابو الفراس، طاؤس الفقراء، صاحبِ اللمعہ سے مشہور ہے کہ وہ رمضان المبارک میں بغداد میں پہنچے اور مسجد شونیزیہ میں انہیں ایک علیحدہ حجرہ دیا گیا اور وہاں کے درویشوں کی امامت ان کے سپرد کی گئی۔ آپ عید تک ان کی امامت فرماتے رہے اور تراویح میں روزانہ پانچ قرآن کریم ختم فرماتے۔ ہر رات ایک خادم حاضر ہوتا اور کوٹھری کے پاس ایک روٹی دے جاتا۔ جب عید کا دن ہوا تو وہ خادم آپ کے پاس آیا اور دیکھا کہ تمیں روٹیاں ویسی ہی رکھی ہوئی ہیں۔ حضرت علی بن بکار رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت حفص مصیبیؒ کو میں نے دیکھا کہ رمضان المبارک میں پندرہویں روزے کے سوا کچھ تناول نہ فرمایا۔ حضرت ابراہیم ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ایک روایت ہے کہ آپ نے رمضان میں شروع سے لے کر آخر تک کچھ نہ کھایا۔ مہینہ گرمی کا تھا اور آپ اسی حالت میں گندم کاٹتے اور اس کی مزدوری، جو ملتی فقیروں کو تقسیم فرما دیتے اور تمام شب طلوعِ آفتاب تک نوافل میں مشغول رہتے۔ ایک روز ان کی نگرانی کی گئی تو انہوں نے کچھ نہ کھایا اور نہ شب میں سوئے۔
اور حضرت شیخ ابو عبد اللہ خفیفؒ کے متعلق روایت ہے کہ جس روز آپ نے دنیا سے رحلت فرمائی اس وقت تک چالیس چلے لگا تار پورے کیے۔ اور میں نے بیابان میں ایک ضعیف العمر دیکھے کہ وہ سال میں دو چلے پورے کیا کرتے تھے۔ اور دانشمند حضرت ابو محمد بانویؒ جب دنیا سے وداع ہوئے میں ان کی خدمت میں تھا، اسّی (۸۰) روز آپ نے کچھ نہ کھایا اور آپ کی نماز بے جماعت ادا نہ ہوئی۔
متاخرین سے ایک درویش تھے جو اسّی (۸۰) روز شب کچھ نہ کھاتے اور ہر نماز باجماعت ادا کرتے۔ مرو میں دو ضعیف العمر تھے۔ ایک کا نام مسعود تھا اور دوسرے کا نام شیخ بو علی سیاح تھا۔ رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْهِمَا
کہتے ہیں مسعود رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ بو علی کی طرف آدمی بھیجا کہ کب تک یہ دعوےٰ کرو گے۔ آؤ چالیس روز تک ایک جگہ بیٹھیں اور کچھ نہ کھائیں پئیں۔ انہوں نے فرمایا آؤ اور ان میں
صفحہ۵۱۴
تین بار کھائیں پئیں اور چالیس روز ایک وضو رکھیں۔
اس مسئلہ میں جو اشکال ہے وہ دونوں دعووں میں بحالہ قائم ہے۔ جہاں چالیس روز کھانا پینا مشکل ہے وہاں چالیس روز دن میں تین بار کھانا پینا اور ایک وضو سے چلہ پورا کرنا مشکل بلکہ محال معلوم ہوتا ہے۔ جاہل لوگ اس سے سندلے کر کہتے ہیں کہ صومِ وصال اس سے روا معلوم ہوتا ہے اور طبیب لوگ اس سے انکار کرتے ہیں۔ لیکن میں اس کی تصریح بیان کرتا ہوں تا کہ اشتباہ صاف ہو جائے۔
اچھی طرح سمجھ لو کہ ایسا وصال جو فرمانِ حق تعالیٰ کی اتباع میں خلل انداز نہ ہو کرامت ہے اور کرامت کے لیے خاص محل ہوتے ہیں۔ یہ قوت و استعداد عام نہیں ہوتی۔ جب اس کا حکم عام نہیں تو عوام کو درست نہیں۔ اگر کرامت عام ہوتی تو ایمان بالجبر ہوتا اور عارفوں کو معرفت پر ثواب نہ ہوتا۔ تو جب حضور ﷺ صاحبِ معجزہ تھے، انہوں نے صومِ وصال فرما کر اہلِ کرامت کو اس کے ظاہر کرنے سے منع کر دیا۔ اس کی یہی وجہ ہے کرامت کا چھپانا لازمی ہے اور معجزہ کا ظاہر کرنا لازمی ہے اور یہی فرق معجزہ اور کرامت کا ہے۔ مبتدی کے لیے اسی قدر بیان کافی ہے۔
ان کی چلہ نشینی کا اصول موسیٰ علیہ السلام کی حالت سے تعلق رکھتا ہے جو ہم کلامی کے مقام میں وارد ہوا۔ جب آپ نے چاہا کہ کلامِ حق تعالیٰ کانوں سے سنیں۔ حکم ہوا کہ چالیس روز بھوکے رہیں اور تیس روز گزر جانے کے بعد مسواک کریں اور دس روز ٹھہریں تو ضرور کلامِ الٰہی ان کے کان سنیں گے۔ اس لیے کہ جو چیز انبیاء کرام کو ظاہراً جائز ہوتی ہے، اولیاء کرام پر وہ خفیہ طور پر ہوتی ہے۔ تو طبیعت قائم رہنے کی حالت میں کلامِ حق سننا جائز نہیں ہوتا اور جہادِ طبع کے واسطے چالیس روز کھانے پینے کی ترک لازم ہے تا کہ وہ متھور ہوں اور صفائی محبت اور لطائفِ روح کے واسطے یہ امور لازم ہیں اور "باب الجوع" اسی کے موافق ہے اور ہم اس کی حقیقت ظاہر کرتے ہیں۔
اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی
صفحہ۵۱۵
اٹھارہواں باب
بھوک اور اس کے احکام
اللہ عزّ و جل فرماتا ہے: ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ﴾ (۱) "البتہ آزمائیں گے تمہیں خوف، بھوک اور نقصان مال اور جان اور ثمرات سے۔" حضور ﷺ نے فرمایا: بَطْنٌ جَائِعٌ اَحَبُّ اِلَی اللّٰهِ تَعَالٰی مِنْ سَبْعِیْنَ عَابِدًا عَاقِلًا۔ (۲) "بھوکا پیٹ اللہ کو پیارا ہے ستر عابد عاقلوں سے۔"
واضح رہے کہ بھوک کو بڑا شرف ہے اور تمام امتوں اور مذہبوں میں پسندیدہ ہے۔ اس لیے کہ جب دیکھا جائے تو بھوکے کا دل ذکی ہوتا ہے اور طبیعت مہذب اور تندرستی زیادہ۔ خاص کر جو پینا بھی کم رکھے وہ ریاضت میں سب سے زیادہ اپنے آپ کو آراستہ کر لیتا ہے۔ لِاَنَّ الْجُوْعَ لِلنَّفْسِ خُضُوْعٌ وَّ لِلْقَلْبِ خُشُوْعٌ اس لیے کہ بھوک نفس میں خضوع پیدا کرتی ہے اور دنیا میں عجز و نیاز اس لیے کہ قوتِ نفسانی بھوک سے ٹوٹتی ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: اَجِیْعُوْا بُطُوْنَكُمْ وَاَظْمِئُوْا اَكْبَادَكُمْ وَاَعْرُوْا اَجْسَادَكُمْ
۱۔ سورۃ البقرہ: ۱۵۵
۲۔ اس روایت کے مذکورہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن اس معنی و مفہوم کی کئی روایات ہیں۔ ان میں سے ایک وہ ہے جسے امام عراقی نے تخریج احادیث الاحیاء (۳/۷۳) میں، امام تاج الدین سبکی نے الطبقات الکبریٰ (۴/۱۶۳) میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے: اَحْیُوْا قُلُوْبَكُمْ بِقِلَّةِ الضَّحِكِ وَقِلَّةِ الشِّبَعِ وَطَهِّرُوْهَا بِالْجُوْعِ تَصْفُوْ وَتَرِقَّ۔ امام غزالی نے احیاء علوم الدین (۳/۹۶) میں ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے: اَفْضَلُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ مَنْزِلَةً یَوْمَ قِیَامَةٍ اَطْوَلُكُمْ جُوْعًا وَتَفَكُّرًا فِی اللّٰهِ سُبْحَانَهٗ، وَاَبْغَضُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَةِ كُلُّ نَوُوْمٍ اَكُوْلٍ وَشَرُوْبٍ۔ اور امام عراقی نے تخریج الاحیاء (۳/۲۹) میں ذکر کیا ہے جبکہ امام تاج الدین سبکی نے الطبقات الکبریٰ (۴/۱۶۳) میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے: اَفْضَلُ النَّاسِ مَنْ قَلَّ مَطْعَمُهٗ وَضَحِكُهٗ وَیَرْضٰی بِمَا یَسْتَرُ بِهٖ عَوْرَتَهٗ، وَالْبَسُوْا وَاشْرَبُوْا فِیْ نِصَافِ الْبُطُوْنِ فَاِنَّهٗ جُزْءٌ مِّنَ النُّبُوَّةِ وَجَاهِدُوْا اَنْفُسَكُمْ بِالْجُوْعِ وَالْعَطَشِ، فَاِنَّ الْاَجْرَ فِیْ ذٰلِكَ كَاَجْرِ الْمُجَاهِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ عَمَلٍ اَحَبَّ اِلَی اللّٰهِ مِنْ جُوْعٍ وَّعَطَشٍ، وَسَیِّدُ الْاَعْمَالِ الْجُوْعُ وَذُلُّ النَّفْسِ لِبَاسُ الصُّوْفِ۔
صفحہ۵۱۶
لَعَلَّ قُلُوْبَكُمْ تَرَوْنَ اللّٰهَ عَیَانًا فِی الدُّنْیَا۔ (۱) "اپنے شکم بھوکے رکھو اور جگر پیاسے اور بدن لاغر، شاید تم دنیا میں اللہ تعالیٰ کا جمال دل کی آنکھوں سے دیکھ لو۔"
اگرچہ بدن بھوک سے بلا میں مبتلا ہوتا ہے لیکن دل کو روشنی ہوتی ہے اور جان میں صفائی اور سر میں لقاءِ حق کا سودا حاصل ہوتا ہے۔ جب سر کو سودا حاصل ہو جائے اور جان میں صفائی آ جائے اور دل میں روشنی آ جائے تو تن اگر تنہا بلا میں پڑے تو کچھ نقصان نہیں۔ اور سیر ہو کر کھائے اگرچہ بڑا خطرہ نہیں۔ کیونکہ اگر خطرہ ہوتا تو بیل سیر ہو کر نہ کھاتے۔ اس لیے کہ بیل گائے کا کام سیر ہو کر کھانا ہے اور بھوک کا رہنا بیماروں کا علاج ہے اور یہ بھی ہے کہ بھوکا رہنے سے باطن آباد ہوتا ہے اور سیر ہو کر کھانے سے جوف و شکم کی آبادی ہے۔
ایک شخص عماراتِ باطن میں عمر بسر کرتا ہے تا کہ خالص اللہ کا ہو جائے اور علاقہ جات سے علیحدہ رہے تو وہ کب برابر ہو سکتا ہے اس شخص کے، جو عمارتِ بدن اور خواہشِ نفسانی میں عمر بسر کرے۔ ایک کو دنیا کھانے کے واسطے چاہیے، ایک کو کھانا عبادت کے واسطے۔ ان میں بڑا فرق ہے۔ كَانَ الْمُتَقَدِّمُوْنَ یَاْكُلُوْنَ لِیَعِیْشُوْا وَاَنْتُمْ تَعِیْشُوْنَ لِتَاْكُلُوْا۔ "متقدمین اس لیے کھاتے تھے تا کہ وہ زندہ رہیں اور تم اس لیے جیتے ہو کہ کھاؤ۔" اَلْجُوْعُ طَعَامُ الصِّدِّیْقِیْنَ وَمَسْلَكُ الْمُرِیْدِیْنَ وَقَیْدُ الشَّیَاطِیْنِ۔ "بھوک صدیقوں کا طعام ہے اور مریدوں کا راستہ اور شیطان کے قید کرنے کا ذریعہ۔" اور حضرت آدم علیہ السلام کا جنت سے باہر تشریف لانا اور قربِ حق سے دور ہونا اگرچہ بحکمِ قضا و قدر تھا لیکن بظاہر ایک لقمہ کے لیے ہی تھا۔
اور حقیقت یہ ہے کہ بھوک سے جو بے قرار ہو، وہ بھوکا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ کھانے کا طالب باخوراک ہوتا ہے اور جسے بھوک کا درجہ ملتا ہے وہ تارکِ طعام ہوتا ہے۔ وہ کھانے سے رکا ہوا نہیں ہوتا۔ جو کھانا موجود ہوتے ہوئے ترک کرے اور بھوک برداشت کرے وہ بھوکا نہیں اور یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ شیطان کا بند کرنا اور خواہشاتِ نفسانی کا روکنا بغیر بھوک کے رہنے کے ممکن نہیں۔ اور کتانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
۱۔ اس حدیث پاک کو مرتضیٰ زبیدی نے اپنی تالیف اتحاف السادۃ المتقین بشرح احیاء علوم الدین کی جلد نمبر ۷ اور ص ۳۷۷ پر نقل کیا ہے۔
۲۔ خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است تو معتقد کہ زیستن از بہرِ خوردن است (از مترجم)
صفحہ۵۱۷
"مرید کے لیے تین حکم ضروری ہیں۔ وہ غلبہ کے وقت سوئے، ضرورت سے زیادہ کلام نہ کرے، کھانا فاقہ بغیر نہ کھائے۔"
اب فاقہ کی مقدار بعض کے نزدیک اڑتالیس گھنٹہ اور بعض کے نزدیک بہتر گھنٹے اور بعض ایک ہفتہ کہتے ہیں۔ اور بعض چالیس دن بناتے ہیں اور محققین کہتے ہیں کہ صحیح فاقہ چالیس رات دن میں ہوتا ہے اور اس مدت میں وہ اتنا بلند حوصلہ رہے کہ درمیانی مدت میں جو کچھ اضطرار و اضطراب اور قلق پیدا ہو، اسے برداشت کرے۔
اور اللہ تجھے معاف فرمائے! یہ اچھی طرح جان لے کہ اہلِ معرفت کی رگیں سب اسرارِ الٰہی کی دلیل ہیں اور ان کے دل اس بلند مقام پر ہوتے ہیں جہاں سے آگے بلندی نہیں۔ ان کے سینوں کے دروازے کھلے ہیں اور عقل اور خواہشِ نفسانی ان کے محلوں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ روح تو عقل کی مدد کرتی ہے اور نفس خواہشات کی اعانت میں ہوتا ہے۔
جتنی کہ غذاؤں سے طبیعت کی پرورش ہوتی ہے، نفس کو قوت ملتی ہے اور حرص و خواہشات بڑھ جاتی ہیں اور اعضاء میں اس کا قبلہ عام ہو جاتا ہے۔ پھر ہر رگ میں اس کا اثر پھیل کر ایک پردہ بن جاتا ہے اور جب غذاؤں کی طلب کم کر دی جائے تو خواہشات ضعیف ہو جاتی ہیں، عقل کی قوت بڑھ جاتی ہے، نفس کا تصرف ٹوٹ جاتا ہے۔ اس وقت اس کے اسرار و دلائل ظاہر ہوتے ہیں اور جب نفس اپنی حرکات سے عاجز ہو جاتا ہے اور خواہشات و جود سے فنا ہونے لگتی ہیں تو ہر باطل مٹ جاتا ہے اور اظہارِ حق میں محو ہو جاتا ہے اور مرید کی تمام مراد حاصل ہوتی ہے۔
حضرت ابو العباس قصاب رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ ہے کہ آپ نے فرمایا: اطاعت و معصیت میرے دو گروہ ہیں۔ جب میں کھاتا پیتا ہوں، اپنے وجود میں گناہ ہی گناہ پاتا ہوں۔ اور جب کھانا چھوڑ دیتا ہوں تو تمام وجود میں اطاعت و عبادت کی اصل دیکھتا ہوں۔ بھوک کا پھل مشاہدہ ہے اور اس کے لیے مجاہدہ لازمی ہے۔ جب شکم سیری میں مجاہدہ ہو تو وہ با مجاہدہ بھوکا رہنے سے بہتر ہے اس لیے کہ میدانِ جنگ اور مشاہدہ برابر ہے اور مجاہدہ بچوں کا کھیل ہے۔
"لوگوں پر اللہ کے لیے حج کرنا لازم ہے جس کے لیے راستہ میں آنے جانے کی طاقت ہو اور کوئی روک نہ ہو۔"
فرضِ عین میں سے ایک فرضِ حج ہے جو صحتِ عقل اور بلوغ اور اسلام اور استطاعت علی السبیل کی صورت میں بندہ پر فرض ہے۔
اور وہ میقات میں احرام باندھنا، عرفات کے میدان میں نویں ذوالحجہ کو پہنچنا ہے اور خانہ کعبہ کا طواف، زیارت کرنا بالاتفاق و بالا اختلاف اور سعی صفا و مروہ لیکن حرم میں بدون احرام جانا ممنوع ہے۔ حرم کو حرم اس سبب سے کہتے ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام اور جائے امن ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے لیے دو مقام ہیں۔ ایک جسم کے لیے، دوسرا دل کے لیے۔ مقامِ جسم مکہ معظمہ ہے۔ مقامِ دل خلت ہے، جو اُن کے مقامِ جسمانی کا ارادہ کرے اسے تمام لذات و شہوات سے منہ موڑنا لازمی ہے اور احرام باندھنا بھی ضروری ہے۔ حلال شکار ترک کرنا بھی لازمی ہے اور تمام حواس کا روکنا بھی لازم ہے۔
عرفات میں نویں ذوالحجہ کو حاضر ہونا، وہاں سے مزدلفہ جا کر کنکر چننا، مکہ معظمہ میں کعبہ کا طواف، منیٰ میں آ کر تین روز رہنا۔ رمی جمار کرنا۔ حلق یا قصر کرانا، قربانی کرنا۔
پھر جب ابراہیم علیہ السلام کے مقامِ دل کا ارادہ کرے تو مرغوب چیزوں کا ترک کرنا، لذات و راحات کا چھوڑنا۔ اغیار سے ان کے ذکر سے منہ موڑے، اس لیے کہ دنیا کی طرف متوجہ ہونا ایسی راہ میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ پھر معرفت کے عرفات میں کھڑا ہو اور مزدلفۂ الفت کا قصد کرے۔ پھر سرِ تنزیہِ حق کے طواف میں لے جائے اور خواہشات و خیالاتِ فاسدہ کو امن کے منیٰ میں اتارے اور نفس کو مجاہدۂ قربان گاہ میں قربان کرے تا کہ مقامِ خلت پر پہنچ جائے۔ تو تن کے مقام میں داخل ہونے کے بعد دشمن اور اس کی تلوار سے امن لینا ہے اور دل کے مقام میں داخل ہونے سے قطع ہونے سے امن ملتا ہے۔
"جب ابراہیم کو اس کے ربّ نے فرمایا کہ فرمانبردار ہو تو عرض کیا میں فرمانبردار ہوں ربّ العالمین کا۔"
اور جب ابراہیم علیہ السلام مقامِ خلت پر پہنچے تو تعلقات چھوڑ دیئے اور غیر اللہ سے انقطاع فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا مقامِ خلت پر جلوہ نما ہونا چاہا۔ نمرود کو مقرر کر دیا تا کہ انہیں ماں باپ سے جدا کر دے۔ آگ دہکائی۔ شیطان آیا، اس کے کہنے پر انہیں گائے کے چمڑے میں باندھا اور منجنیق یعنی ڈھینکلی کے ذریعے آگ میں پھینکوایا۔ روح الامین حاضر ہوئے اور کہنے لگے:
یعنی اے ابراہیم! آپ کو مجھ سے کسی مدد کی ضرورت ہے؟
ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اَمَّا اِلَیْكَ فَلَا۔ "میری حاجت تجھ سے کچھ نہیں۔" جبریل علیہ السلام نے عرض کی مجھ سے نہیں تو اپنے ربّ سے کچھ عرض کر لیجیے۔ آپ نے فرمایا: حَسْبِیْ مِنْ سُؤَالِیْ عِلْمُهٗ بِحَالِیْ۔ "میرے سوال سے پہلے وہ مجھے کافی ہے۔ اُسے میرے حال کا علم ہے۔" وہ جانتا ہے کہ مجھے آگ میں کس لیے ڈالا جا رہا ہے۔ اس کی مشیت کے مقابل مجھے سوال کرنا ممنوع ہے۔
محمد بن فضلؒ فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو دنیا میں اس کا گھر ڈھونڈتا ہے۔
۱۔ یہ الفاظ تو نہیں ملے جبکہ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: اِذَا رَجَعَ ... یَعْنِی الْحَجَّاجَ ... مِنَ الْحَجِّ الْمَبْرُوْرِ رَجَعَ وَذَنْبُهٗ مَغْفُوْرٌ وَدُعَاؤُهٗ مُسْتَجَابٌ۔ امام حاکم نے اپنی مستدرک اور امام بیہقی نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَجَّاجِ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَجَّاجُ۔ امام حاکم نے کہا ہے کہ یہ روایت امام مسلم کی شرائط کے مطابق ہے۔
۲۔ سورۃ البقرہ: ۱۳۱
صفحہ۵۲۰
وہ دل میں اس کا مشاہدہ کیوں نہیں چاہتا۔ کیونکہ بسا اوقات گھر نہیں ملتا اور کبھی مل جاتا ہے اور مشاہدہ ہر وقت رہتا ہے۔ جب وہ پتھر جس کی زیارت فریضہ میں داخل ہے جس پر ایک نظر فرمائی گئی (حجرِ اسود)۔ تو دل جس پر دن رات تین سو ساٹھ بار نظر فرمائی جائے، وہ کیوں اس سے اولیٰ و افضل نہ ہو۔
چنانچہ اہلِ تحقیق راہِ مکہ معظمہ میں ہر قدم پر ایک نشان بتاتے ہیں اور جب حرم میں پہنچتے ہیں اس ہر قدم کے بدلے ایک خلعت حاصل کرتے ہیں۔
ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو عبادتوں کا بدلہ اور نیکیوں کا ثواب کل پر چھوڑ دے وہ آج یہاں عبادت کیوں نہ کرے۔ جس میں ہر دم کا ثواب اور اجرِ مجاہدہ اسی وقت حاصل ہے اور جس نے وہی کہنا ہے کہ میں نے پہلے حج میں سوائے گھر کے اور کچھ نہیں دیکھا۔ دوسری مرتبہ (جب اس نظر و عقیدہ سے حاضر ہوگا تو کہے گا) میں نے بیت اور صاحب البیت کو دیکھا۔ اور جب (اس سے بھی زیادہ شہود حاصل ہوگا تو) تیسری بار کہے گا میں نے صرف صاحب البیت کو دیکھا۔ غرضیکہ جتنا مجاہدہ ہوتا ہے اتنا عزم نہیں ہوتا۔
بلکہ یہ مقام اسے ملتا ہے جس کے دل میں مشاہدۂ تعظیم ہو اور جسے تمام جہان چاہے میعادِ قرب اور خلوتِ خانۂ انس نہ ہو اسے دوستی سے ابھی کچھ خبر نہیں ہوتی اور جب بندہ مکاشفہ کی حالت میں ہو تو سب جہان اس کے لیے حرم ہوتا ہے اور جب حجاب کی حالت میں ہو تو خود حرم بھی اس کے لیے ظلم کا جہان ہوتا ہے۔ اَظْلَمُ الْاَشْیَاءِ دَارُ الْحَبِیْبِ بِلَا حَبِیْبٍ۔ "سب سے زیادہ اندھیرا حبیب کے گھر میں ہوتا ہے جب اس گھر میں حبیب نہ ہو۔" تو مقامِ خلت میں مشاہدے اور فنا کی قدر و قیمت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان معنی میں کعبہ معظمہ کا دیدار لازم فرمایا ہے۔ باقی کعبہ کی قدر یا قیمت نہیں مگر مسبب کو ہر سبب سے تعلق لازمی ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی عنایت نامعلوم کس پہلو سے جلوہ دکھائے اور کہاں سے ظہور فرمائے۔
طالب کی مراد تو صرف مطلوب ہوتا ہے مگر اس کی جلوہ گری نامعلوم کس سمت سے ہو۔ اسی وجہ سے جنگل اور صحرا میں صحرا نوردی مجاہدوں کی ہوتی ہے تا کہ کسی طرح ان کی مراد پوری ہو۔ صرف حرم کا دیکھنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ دوست کا گھر دیکھنا تو حرام ہوتا ہے۔ یہ تو درحقیقت ایک قسم کا مجاہدہ ہے جو شوقِ دیدار یا بیقرار ہو کر کرتا ہے اور گدازِ محبت ہے جو دائمی ظہور بے چین کرتا ہے۔
ایک شخص حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے اس سے پوچھا تم
صفحہ۵۲۱
کہاں سے آئے ہو۔ اس نے کہا حضور حج کر کے آیا ہوں۔ جنید نے فرمایا۔ تم حج کر کے آئے ہو؟ اس نے عرض کیا۔ جی ہاں! اس کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل سوالات کیے:
جنید۔ جب تو بہ نیت حج گھر سے نکلا اور اپنے وطن سے کوچ کیا تو اس وقت سب گناہوں سے بھی کوچ کیا تھا یا نہیں؟
حاجی۔ حضور! یہ تو نہیں کیا۔
جنید۔ تو پھر گھر سے چلا ہی نہیں۔
اچھا جب تو گھر سے چلا اور منزل پر قیام کیا تو راہِ حق یعنی طریقت کا مقام بھی طے کیا یا نہیں؟
حاجی۔ حضور! اس کی تو مجھے خبر ہی نہ تھی۔
جنید۔ تو پھر تو نے منزلیں بھی طے نہ کیں۔
اچھا جب تو نے احرام باندھا تھا تو میقات میں صفاتِ بشریت سے علیحدگی کی جس طرح کپڑے اور عادات سے علیحدگی کرتے ہیں؟
حاجی۔ حضور! یہ بھی نہیں ہوا۔
جنید۔ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم نے احرام بھی نہیں باندھا۔
اچھا جب تو عرفات میں کھڑا ہوا تو تجھے کشف و مشاہدہ کا فرق واضح ہوا؟
حاجی۔ حضور! یہ بھی نہیں۔
جنید۔ تو گویا تو عرفات میں بھی کھڑا نہیں ہوا۔
اچھا تو مزدلفہ پہنچا تو تو نے نفسانی مرادیں ترک کیں؟
حاجی۔ حضور! نہیں۔
جنید۔ تو گویا تو مزدلفہ بھی نہیں گیا۔ اچھا جب تو نے طوافِ بیت اللہ کیا تو بہ چشمِ سرِ تنزیہ کے مقام میں لطائفِ جمالِ حق دیکھے۔
حاجی۔ حضور! نہیں دیکھے؟
جنید۔ اچھا تو گویا تو نے طواف بھی نہیں کیا۔
اچھا تو یہ بتا جب تو نے صفا و مروہ کی سعی کی تو تجھے صفا کا مقام اور راہِ حق پر گزرنے کا درجہ معلوم ہوا؟
حاجی۔ حضور! مجھے اس کی تمیز ہی نہیں تھی۔
صفحہ۵۲۲
جنید۔ اچھا! تو ابھی تو نے سعیِ صفا و مروہ بھی نہیں کی۔
اچھا! جب تو منیٰ میں پہنچا تو تیری ہستی تجھ سے ساقط ہوئی؟
حاجی۔ نہیں!
جنید۔ تو گویا تو منیٰ بھی نہیں گیا۔
اچھا! جب تو قربان گاہ میں پہنچا تو اور قربانی کی، تو تُو نے خواہشاتِ نفسانیہ کو قربان کیا؟
حاجی۔ حضور! ایسا نہیں کیا۔
جنید۔ تو گویا تو نے قربانی بھی نہ کی۔
اچھا! جب تو رمی جمار کر رہا تھا تو اس وقت تو نے اپنی خواہشات جو تجھ میں تھیں، وہ بھی پھینکیں؟
حاجی۔ نہیں۔
جنید۔ تو گویا تو نے رمی بھی نہیں کی اور تو نے حج ہی نہ کیا۔ واپس جا اور ایسا حج کر جو ہم نے تجھے بتایا ہے۔ تو اس کے بعد تو مقامِ ابراہیم پر پہنچے گا۔
میں نے سنا ہے کہ ایک بزرگ کعبۃ اللہ کے سامنے بیٹھا اور یہ شعر پڑھ رہا تھا:
"قربانی کے دن میں نے صبح کی جس حال میں سفید اونٹ کوچ کر رہے تھے اور حدی کرنے والے کی حدی تھی اور وہ جلدی کر رہا تھا۔ میں سلمیٰ سے سائل ہوں، کیا کوئی خبر دینے والا ہے۔ جس کو علم ہو اس کی منزل گاہ کہاں ہے۔"
"بیشک میں نے اپنا حج اور عمرہ تباہ کیا اور مرے باطن میں حج کے ساتھ مشغلہ رہا۔ عنقریب آئندہ سال لوٹ کر آؤں گا حج کے لیے، اس لیے کہ جو کر چکا
صفحہ۵۲۳
ہوں وہ قبول نہیں ہوا۔"
حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک جوان کو دیکھا کہ موقف میں خاموش کھڑا تھا اور سر جھکایا ہوا تھا۔ سب لوگ دعا کر رہے تھے اور وہ سر جھکائے ہوئے شرمندہ ہو رہا تھا۔ میں نے کہا، اے نوجوان تو بھی دعا کر۔ اس نے کہا مجھے اس امر کا ڈر لگ رہا ہے کہ جو وقت مجھے حاصل ہوا وہ جاتا رہا۔ اب کس منہ سے دعا کروں۔ میں نے کہا دعا کر! تا کہ اللہ تجھے اس جماعت کی برکت سے کامیاب کرے۔ فضیل فرماتے ہیں اس نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھانا چاہا کہ ایک نعرہ اس کے منہ سے نکلا اور جان نکل گئی۔
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں ایک جوان دیکھا کہ آرام سے بیٹھا ہوا ہے اور لوگ قربانیوں میں مشغول ہیں۔ میں اسے دیکھتا رہا کہ کیا کرتا ہے اور یہ کون ہے۔ اتنے میں وہ پکارا، خدایا! سب خلقت قربانیوں میں مشغول ہے۔ میں بھی تیرے حضور اپنے نفس کو قربان کرنا چاہتا ہوں، مجھے قبول فرما۔ یہ کہا اور انگشتِ سبابہ سے حلق کے درمیان اشارہ کیا اور گر پڑا تو جب میں نے دیکھا، اُسے مرا ہوا پایا۔
تو حج دو طرح پر ہے: ایک بحالتِ غیبت۔ جو محض مکہ معظمہ آنا اور قرب میں غائب رہنا ہوتا ہے۔ وہ ایسا ہی ہے جیسے گھر میں رہ کر غیبت میں تھا۔ اس لیے کہ کوئی غیبت دوسری غیبت سے اچھی نہیں۔ اور جو حضور میں اپنے گھر حاضر ہو وہ ایسا ہے کہ گویا مکہ معظمہ حاضر ہے اس لیے کہ ایک حضوری دوسری حضوری سے زیادہ اچھی نہیں۔ تو حج کشفِ مشاہدہ کے لیے ایک مجاہدہ ہے اور مشاہدہ، مجاہدہ کی علت نہیں ہوتا بلکہ سبب ہوتا ہے اور حقیقتِ معانی میں سب سے زیادہ تاثیر نہیں ہوتی۔ تو حج سے بیت اللہ دیکھنا مراد نہیں بلکہ کشفِ مجاہدہ مقصود ہے۔ اب میں ان معانی میں ایک باب مشاہدہ کے بیان لاتا ہوں تا کہ تجھے قریب الحصول مقصود حاصل ہو۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی
"اپنے پیٹ بھوکے رکھو اور حرص چھوڑو، بدن ننگے رکھو اور امیدیں کم کرو اور اپنے جگر پیاسے رکھو۔ دنیا چھوڑ دو۔ تو قریب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو دل کی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔"
اور حضور ﷺ نے فرمایا: جب کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضور سے احسان کی بابت سوال کیا: اَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَاِنَّهٗ یَرَاكَ۔ "اللہ کی عبادت ایسے کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اتنا نہ ہو سکے کہ اسے دیکھے تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔"
اور اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: ﴿یَا دَاوٗدُ اَتَدْرِیْ مَا مَعْرِفَتِیْ فَقَالَ لَا فَقَالَ هِیَ حَیٰوةُ الْقَلْبِ فِیْ مُشَاهَدَتِیْ﴾ "اے داؤد! تم جانتے ہو کہ میری معرفت کیا ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا وہ دل کا زندہ ہونا ہے میرے مشاہدہ میں۔" اور اس گروہ کی مراد مشاہدہ سے دیدار ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر حال میں غلا وملا بے چون بے چگون دیکھے۔
اور حضرت ابو العباس بن عطاء فرماتے ہیں اس فرمانِ الٰہی پر: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ (بِالْمُجَاهَدَةِ) ثُمَّ اسْتَقَامُوْا﴾ (۲) (عَلٰی بِسَاطِ الْمُشَاهَدَةِ) "وہ لوگ جو کہیں ہمارا ربّ اللہ ہے (مجاہدہ کے ساتھ) پھر استقامت رکھیں (بساطِ مشاہدہ پر)۔" اور حقیقتِ مشاہدہ دو طریق پر ہے۔ ایک محبت یقین سے دوسرے غلبہ محبت سے۔ یعنی دوست غلبہ محبت میں اس درجہ تک پہنچے کہ خود گم ہو جائے اور دوست ہی دوست رہ جائے اور سوائے دوست کے کسی غیر کو نہ دیکھے۔ اور محمد بن واسع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مَا رَاَیْتُ شَیْئًا قَطُّ اِلَّا وَرَاَیْتُ اللّٰهَ فِیْهِ اَیْ
۱۔ اس حدیث شریف کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
۲۔ سورۃ حٰم السجدہ: ۳۰
صفحہ۵۲۵
بِصِحَّةِ الْیَقِیْنِ۔ "میں نے کسی شے کو کبھی نہیں دیکھا مگر اللہ تعالیٰ کو دیکھا اس میں صحتِ یقین کے ساتھ۔"
اور مشائخ کرام میں سے ایک فرماتے ہیں: مَا رَاَیْتُ شَیْئًا اِلَّا وَرَاَیْتُ اللّٰهَ فِیْهِ قَبْلَهٗ "نہیں دیکھا میں نے کسی شے کو مگر میں نے اللہ تعالیٰ کو اس میں دیکھا اس سے پہلے۔" اور یہ دیکھنا حق سے خلق کا ہے۔
اور شبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مَا رَاَیْتُ شَیْئًا قَطُّ اِلَّا اللّٰهَ یَعْنِیْ بِغَلَبَاتِ الْمَحَبَّةِ وَغَلَیَانِ الْمُشَاهَدَةِ۔ "میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی مگر اللہ تعالیٰ کو محبت کے غلبہ اور جوشِ مشاہدہ میں دیکھا۔"
گویا ایک شخص فعل بچشمِ سر دیکھتا ہے اور چشمِ حق بین سے فاعلِ حقیقی کو دیکھتا ہے۔ پھر محبتِ فاعل اس کے نظر سے غیر کی محبت محو کر دیتی ہے۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک متبدل ہوتا ہے۔ تا کہ اثباتِ دلائل اس پر عیاں ہو جائیں اور ایک مجذوب ہوتا ہے جو ربودۂ شوقِ حق ہوتا ہے۔ یعنی دلائل و حقائق اس کے لیے حجاب ہو جاتے ہیں۔
"جو شخص کسی شئے کو دیکھتا ہے وہ غیر سے خائف نہیں ہوتا اور جو کسی شئے سے محبت کرتا ہے وہ غیر کو نہ دیکھتا ہے نہ جانتا ہے تو منازعت ترک ہو جاتی ہے اور اعتراض اس پر احکام و افعال میں ہوتا ہے۔"
اور اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے حالاتِ معراج کی ہمیں خبر دی اور فرمایا: ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی﴾ (۱) (مِنْ شِدَّةِ شَوْقِهٖ اِلَی اللّٰهِ تَعَالٰی) "کسی چیز کی طرف آنکھ نہ کھولی اور نہ حد سے متجاوز ہوئے۔" (اس لیے کہ آپ ﷺ کو شوق الی اللہ کا جوش تھا) جو کچھ مناسب تھا دل سے دیکھ لیا۔ جب دوست نے موجودات سے آنکھ بند کرانی چاہی تو دل سے موجد کو دیکھ لیا اور اللہ عزّ وجل نے فرمایا: ﴿لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰی﴾ (۲) "یقیناً دیکھ لیا محمد ﷺ نے ربّ علی کو۔" اور یہ بھی فرمایا: ﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ﴾ (۳) "مومنوں کو فرما دیجیے
کہ اپنی آنکھیں بند رکھیں۔" یعنی: اَیْ اَبْصَارِ الْعُیُوْنِ مِنَ الشَّهَوَاتِ وَاَبْصَارِ الْقُلُوْبِ عَنِ الْمَخْلُوْقَاتِ۔ "یعنی آنکھوں کی بینائی شہوتوں سے بند رکھیں اور دل کی آنکھیں مخلوقات سے۔" تو جو مجاہدہ سے سر کی آنکھیں شہوتوں سے بند رکھے، وہ ضرور حق کو سر کی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔
"جو مجاہدہ میں مخلص ہوتا ہے وہ مشاہدہ میں سچا ہوتا ہے۔"
سہیل بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مَنْ غَضَّ بَصَرَهٗ عَنِ اللّٰهِ طَرْفَةَ عَیْنٍ لَّا یَهْتَدِیْ طُوْلَ عُمْرِهٖ۔ "جو شخص اللہ تعالیٰ سے ایک پل آنکھ بند کرے وہ مادام العمر ہدایت نہیں پاتا۔" اس لیے کہ غیر کی طرف مائل ہونا غیر کی طرف جانا ہے اور جو غیر کی طرف مائل ہوا وہ ہلاک ہوا۔ چنانچہ اہلِ مشاہدہ حیات اسے کہتے ہیں جو مشاہدہ میں ہو اور جو مغائبہ میں ہو اسے زندگی نہیں سمجھتے بلکہ حقیقتِ حق کہتے ہیں۔
چنانچہ حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا: آپ کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: چار سال۔ لوگوں نے کہا: کس طرح؟ فرمایا: ستر سال میں دنیا کے حجاب میں رہا اور چار سال سے مشاہدہ میں ہوں، لہٰذا احجاب کے زمانہ کی عمر زندگی نہیں تھی۔
شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے دعا کے اندر فرمایا: اَللّٰهُمَّ اَخْبِئِ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فِیْ خَبَایَاءِ غَیْبِكَ حَتّٰی تُعْبَدَ بِغَیْرِ وَاسِطَةٍ۔ "الٰہی! جنت و دوزخ کو اپنے غیب کے خزانوں میں پوشیدہ رکھ اور اس کی یاد مخلوق کے دل سے فراموش فرما، تا کہ تجھے اس کے لیے نہ پوجیں۔" چونکہ بہشت میں طبیعت کو فائدہ ہے۔ اس لیے آج کے روز بے یقین، یقین کے حکم سے، عقلمند اس کی امید پر عبادت کرتا ہے اور جب دل کو محبت سے نصیب نہیں تو ضرور مشاہدہ سے محجوب ہوتا ہے اور حضور ﷺ نے حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کو معراج سے خبر دی کہ میں نے نہیں دیکھا۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے فرمایا کہ میں نے حق کو دیکھا ہے۔ تو مخلوق اسی اختلاف میں رہی۔ جنہوں نے غور اور تامل اختیار کیا وہ مطلب کو پہنچے۔ یعنی جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اس کو نہیں دیکھا وہ سر کی آنکھوں سے مراد نہیں ہے اور جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے وہ بچشمِ سر دیکھنا مراد ہے۔ اس لیے کہ ایک ان دونوں سے اہلِ ظاہر ہے اور ایک اہلِ باطن۔ ہر ایک سے اس کے حال کے موافق کلام فرمایا۔ تو جب حضور ﷺ نے بچشمِ سر دیکھنا ظاہر فرمایا تو اگر آنکھ کا واسطہ نہ ہوتا تو نقصان ہے۔
حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر خداوند فرمائے کہ مجھے دیکھ، میں کبھی نہ دیکھوں۔
صفحہ۵۲۷
کیونکہ دوستی کے عالم میں آنکھ غیر اور بے گانہ ہوتی ہے اور غیر کی غیریت مجھے دیدار سے روکتی ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں بلا واسطہ چشمِ دوست کو دیکھتا ہوں تو میں کسی واسطہ کا کیا کروں۔
"بے شک میں تیری طرف دیکھنے میں حسد کرتا ہوں۔ تو آنکھ بند کر لیتا ہوں جب تیری طرف نظر کرتا ہوں۔" (۱)
حضرت جنیدؒ سے لوگوں نے پوچھا حضرت! آپ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں؟ فرمایا: نہیں چاہتا۔ عرض کیا گیا۔ کیوں۔ فرمایا موسیٰ علیہ السلام نے چاہا تو نہ دیکھ سکے اور ہمارے حضور اعظم ﷺ نے نہ چاہا تو دیکھ لیا۔ اس لیے کہ ہماری خواہش ہی دیدارِ حق کے لیے حجابِ اعظم ہے۔ اور جب دنیا میں ارادت کامل ہو جائے تو مشاہدہ حاصل ہو جاتا ہے اور جب مشاہدہ ہو جائے تو دنیا و عقبیٰ یکساں ہے۔
حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اِنَّ لِلّٰهِ عِبَادًا لَوْ حُجِبُوْا عَنِ اللّٰهِ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ لَا رَتَدُّوْا۔ "اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں کہ اگر ایک پل دنیا و عقبیٰ میں اس کے جمال سے محجوب ہوں تو وہ اپنے کو مرتد سمجھیں۔" یعنی ان کی زندگی ہی مشاہدہ میں ہے اور محبت کی حیات ہی مشاہدہ سے ہے۔ اور جب اہلِ مکاشفہ حجاب میں آ جائیں تو انہی کو مرتد فی الطریق سمجھتے ہیں۔
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں مصر جا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ ایک نوجوان کو پتھر مار رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا وجہ ہے جو اسے پتھر مارے جا رہے ہیں۔ لوگوں نے کہا یہ دیوانہ ہے۔ میں نے کہا اس پر جنون کی علامت کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہتا ہے میں خدا کو دیکھتا ہوں۔
میں نے اس سے پوچھا کہ فی الواقع تو ایسا کہتا ہے یا تجھ پر لوگ اتہام رکھتے ہیں۔ اس نے کہا لوگ ٹھیک کہتے ہیں، میں خدا کو دیکھتا ہوں اور اگر میں ایک لحظہ جمالِ حق نہ دیکھوں تو محجوب ہو جاتا ہوں اور پھر طاعت بھی بیکار ہوتی ہے۔ لیکن اس شہر کے لوگ غلطی پر ہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ دلوں کا دیکھنا اور مشاہدہ میں رہنا ایک ہی صورت میں ہے۔ حالانکہ دل میں اس کا وہم یا ذکر یا فکر یہ محض تسمیہ ہے اور گمراہی اسی کو کہتے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کسی اندازہ میں نہیں آ سکتا اور اس
۱۔ غیرت از چشم برم غیر تو دیدن نہ دہم گوش را نیز حدیث تو شنیدن نہ دہم (از مترجم)
صفحہ۵۲۸
کا وہم رکھنا بھی ایک اندازہ ہے اور وہ عقل اور وہم و گمان سے بالا ہے۔ اور جتنا وہ وہم میں آتا ہے یہ بھی وہم کی جنس ہے۔ اور اگر وہ معقول ہو تو عقل کی جنس سے ہے اور اللہ تعالیٰ جنسوں کا ہم جنس نہیں۔
"گویا ان آنکھوں سے دیکھنے میں دریغ اس لیے ہے کہ آنکھ بیگانہ ہوتی ہے۔"
اسی طرح لطیفے اور مکاشفے سب ایک دوسرے کی جنس ہیں اور ضد کی حالت میں بھی ایک دوسرے کی جنس ہوتے ہیں۔
اس لیے کہ توحید کی تحقیق میں جنسِ قدیم کے مقابلہ میں ضد جنس ہوتی ہے اور ضدین حادث نہیں اور حادث خود حادث تو اللہ تعالیٰ ازلی ابدی قدیم کو اس سے کیا واسطہ۔ تَعَالَی اللّٰهُ عَنْ ذٰلِكَ وَعَمَّا یَصِفُهُ الْمُلَاحِدَةُ عُلُوًّا كَبِیْرًا۔ تو دنیا میں مشاہدہ عاقبت کے دیدار کی مانند ہے۔ اور جب بالاتفاق مشائخ عاقبت میں دیدار روا ہے تو دنیا میں مشاہدہ بھی روا ہے۔ تو جو دنیا میں مشاہدہ ہونے کی خبر دیتا ہے اور جو عاقبت میں دیدار کی خبر دیتا ہے۔ دونوں میں کیا فرق ہے۔ اگر ان دونوں معنوں میں جواز کی خبر دے اور کہے کہ دیدار اور مشاہدہ جائز ہے اور یہ نہ کہے کہ مجھے دیدار ہوا ہے، تو کیا خلاف ہے۔
اس لیے کہ مشاہدہ صفتِ سر ہے اور خبر دینا سر سے خود خبر ہے۔ اور وہ مشاہدہ نہیں بلکہ ایک دعویٰ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جس خبر کی حقیقت عقل میں نہ آئے، زبان اس کا بیان کیسے کر سکتی ہے۔ سوائے اس کے کہ معنیِ مجاز میں کہا جائے۔ لِاَنَّ الْمُشَاهَدَةَ قُصُوْرُ اللِّسَانِ بِحُضُوْرِ الْجَنَانِ۔ تو اس حال میں خاموش رہنا بولنے سے زیادہ بہتر ہے اور خاموش رہنا مشاہدہ کی علامت ہے اور گفتگو شہادت کا نشان اور ظاہر ہے کہ کسی چیز کی شہادت دینا اور اس چیز کا مشاہدہ کرنا اس میں بڑا فرق ہے۔ حضور ﷺ نے مقامِ اعلیٰ اور درجۂ قرب میں حق تعالیٰ کے لیے فرمایا۔ وہ "لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْكَ" (۱) تھا یعنی میں تیری ثناء کا احصاء نہیں کر سکتا۔ اس لیے وہ بحالتِ مشاہدہ تھی اور دوستی کے درجہ میں مشاہدہ کمال یگانگت ہے اور یگانگی میں بیان کرنا بیگانگی ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ اَنْتَ كَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِكَ۔ "تو وہ ذات ہے جیسا تو نے اپنی شان میں فرمایا۔" تو آپ کا کہنا میرا کہنا ہو گیا اور تیری ثناء میری طرف سے تیری ہی طرف سے ہے۔ اس لیے کہ میں اپنی زبان کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ تیرے کمال کا بیان کرے۔ اور بیان کو اس لائق نہیں جانتا کہ تیرا بیان کرے۔ اس پر کسی شاعر نے خوب کہا ہے:
"آرزو کی میں نے اس کی جسے میں دوست رکھتا ہوں۔ تو جب میں نے اسے دیکھا تو مبہوت ہو گیا اور زبان و اعضاء پر اپنے اختیار ہی نہ رہا۔"
یہ تمام مشاہدے کے احکام ہیں جو بطورِ اختصار بیان ہوئے۔
کشفِ حجابِ نہم: صحبت اور اس کے آداب و احکام
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِیْكُمْ نَارًا﴾ (۱) (اَیْ اَدِّبُوْهُمْ) "اے ایمان والو! اپنی جان اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ" یعنی انہیں ادب سکھاؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حُسْنُ الْاَدَبِ مِنَ الْاِیْمَانِ (۲) "ادب شائستہ ہونا ایمان سے ہے۔" اور فرمایا: اَدَّبَنِیْ رَبِّیْ فَاَحْسَنَ تَاْدِیْبِیْ۔ (۳) "میرے ربّ نے مجھے ادب سکھایا اور خوب تادیب فرمائی۔"
۱۔ سورۃ التحریم: ۶
۲۔ یہ الفاظ تو نہیں ملے مگر یہ الفاظ مذکور ہیں: "حُسْنُ الْعَهْدِ مِنَ الْاِیْمَانِ" "حُسْنُ الْخُلُقِ مِنَ الْاِیْمَانِ"۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں: التاریخ الکبیر للبخاری (۱/۳۱۵)، کشف الخفاء للعجلونی (۱/۴۱۳، ۴۳۱)، کنز العمال لعلی المتقی (۱۰۹۳۷)، مجمع الزوائد للہیثمی (۸/۲۴)۔
۳۔ امام عسکری نے سدی کے طریق سے، جمہرۃ الامثال میں نقل کیا ہے اور سدی نے اسے ابو عمارہ سے، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسی روایت میں ہے: فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ اِنَّكَ تُكَلِّمُ الْوُفُوْدَ بِكَلَامٍ لَا نَفْهَمُ اَكْثَرَهٗ۔ فَقَالَ: اِنَّ اللّٰهَ اَدَّبَنِیْ فَاَحْسَنَ تَاْدِیْبِیْ، وَنَشَاتُ فِیْ بَنِیْ سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ۔ فَقَالَ لَهٗ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ... اِلٰی آخرہ۔ امام سیوطی الدرر المنتثرہ میں فرماتے ہیں: ابن عساکر نے محمد بن عبد الرحمٰن زہری کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق نے عرض کی: یا رسول اللہ! لقد طفت فی العرب وسمعت فصحاء ہم فما سمعت افصح منک فمن ادبک؟ قال: ادبنی ربی، ونشات فی بنی سعد۔ امام زرکشی التذکرۃ میں فرماتے ہیں کہ اس روایت کو امام ابو سعید سمعانی نے ادب الاملاء میں صفوان بن مغلس حنظلی بن محمد بن عبد اللہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے سفیان ثوری سے اور انہوں نے اعمش سے روایت کیا ہے۔ اعمش کہتے ہیں: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ان اللہ ادبنی فاحسن ادبی ثم امرنی بمکارم الاخلاق فقال: خذ العفو وامر بالمعروف ، الایہ۔ امام زرکشی فرماتے ہیں: یہ روایت معنوی طور پر صحیح ہے لیکن صحیح سند کے ساتھ وارد نہیں ہوئی۔ (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر)
صفحہ۵۳۰
یہ جاننا ضروری ہے کہ دین اور دنیا کے سب کاموں کی زیب و زینت ادب سے ہے اور مخلوقات کے ہر مقام پر ادب کی ضرورت ہے۔ اس اصول میں کافر، مسلمان، ملحد، سنی، بدعتی سب متفق ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ کاروبار میں ادب کی خوبی ہی لازمی ہے اور دنیا میں کوئی رسم بغیر ادب مقبول نہیں۔ لوگوں میں ادب ہی حفظِ مراتب کا ضامن ہے اور دین میں حفظِ سنت اور عزت باہم دست بگریبان ہیں۔ اس لیے کہ جس میں مروت اور ادب نہیں اس میں متابعتِ سنت نہیں ہو سکتی اور جس میں متابعتِ سنت نہ ہوگی وہ رعایتِ عزت نہیں کر سکتا اور کاروبار میں حفظِ ادب اور تعظیم اسی کی بدولت ہوتا ہے۔ جب دل میں ادب قرار پذیر نہ ہو تو انسان ادب کی بہبود و سود سے محروم رہتا ہے اور تعظیمِ حق اور شفا، انقاء سے ہوتی ہے۔ جو شخص بلا لحاظِ تعظیم شواہدِ حق زبان پر لائے اسے طریقتِ صوفیاء میں سے کچھ حصہ نہیں ملتا اور سکر و غالبہ کسی حالت میں طالب کو حفظِ ادب سے منع نہیں کرتا۔ اس لیے کہ یہ لوگ عادت پذیرِ ادب ہوتے ہیں اور عادت طبیعت کا قرینہ ہوتی ہے اور امورِ طبعی کا ساقط ہونا کسی حیوان سے بھی کسی حال میں مقصود نہیں ہوتا، کیونکہ جب تک زندگی قائم ہے اس کا سقوط ہونا محال ہے اسی طرح جب تک شخصیتِ انسان قائم ہے۔ ہر حالت میں آدابِ متابعت اس پر جاری ہیں خواہ تکلف سے ہوں یا بلا تکلف۔ جب انسان پر صحو یعنی ہوش کی حالت ہوتی ہے تو وہ تکلف سے حفظِ ادب کرتا ہے اور جب سکر کی حالت ہوتی ہے تو من جانب اللہ ان میں ادب ملحوظ رہتا ہے اور تارکِ ادب کسی صورت میں ولی نہیں ہو سکتا۔ "لِاَنَّ الْمَوَدَّةَ عِنْدَ الْاٰدَابِ وَ
(بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ سے) امام ابن جوزی نے کتاب الاحادیث الواہیہ میں وندیر نہد کی حدیث کے ذیل میں اسے ذکر کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ روایت صحیح نہیں، اس کی سند میں ضعیف اور مجہول الحال راوی ہیں، امام سخاوی المقاصد الحسنہ میں فرماتے ہیں کہ اس کی سند بہت زیادہ ضعیف ہے۔ اگرچہ ہمارے شیخ ابن حجر نے اپنے بعض فتاویٰ میں اس پر غرابت کا حکم لگایا ہے لیکن معنوی اعتبار سے یہ روایت صحیح ہے اور التحایہ کے خطبہ میں ابن اثیر نے اسے ذکر کر کے صحیح قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ ابو نعیم نے "تاریخ اصفہان" میں بطریق ابن عمر ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: کہ اس کی پختہ سند نہیں ملی جبکہ امام سیوطی اسے "الجامع الصغیر" میں لائے ہیں اور اسے صحیح قرار دیا ہے اور اسے امام سمعانی کی طرف منسوب کیا ہے کہ انہوں نے ادب الاملاء میں اسے ابن مسعود کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: المقاصد الحسنہ (۴۵)، تمییز الطیب من الخبیث (۵۰)، کشف الخفاء (۱۶۴)، الجامع الصغیر (۳۱۰)، الدرر المنتثرہ للسیوطی (۸)، فیض القدیر للمناوی (۱/۲۲۳)، اسنی المطالب (۸۶)، الفوائد المجموعہ للشوکانی (۳۲۷)، التذکرۃ للزرکشی (۱۶۱)، النہایۃ لابن الاثیر (۱/۲)، سبل الہدیٰ و الرشاد (۲/۱۲۹)، الوفاء لابن الجوزی (۲/۴۵۶)، شرح المواہب (۴/۱۰۱)
صفحہ۵۳۱
حُسْنُ الْاَدَبِ صِفَةُ الْاَحْبَابِ۔ "اس لیے کہ رابطۂ مودت ادب کے ساتھ ہے اور حسنِ ادب محبوں کی صفت ہے۔" جسے اللہ تعالیٰ کرامت عطا فرماتا ہے اس کی علامت یہی ہے کہ وہ آدابِ دین ملحوظ رکھتا ہے۔ جو ملحدین لَعَنَهُمُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ کے ساتھ ہے وہ بیشک اس کے خلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بندہ محبت میں مغلوب ہوتا ہے تو متابعت کا حکم اس سے ساقط ہو جاتا ہے اور اس مسئلہ کو دوسری جگہ بیان کیا جائے گا۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی
اب یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آداب تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک توحید میں جو جنابِ حق تعالیٰ سے ہے۔ وہ یہ ہے کہ ظاہر و باطن اپنے آپ کو بے ادبی سے محفوظ رکھے اور اس طرح رہے جیسے دربارِ شاہی میں رہا کرتے ہیں اور صحیح حدیث میں ہے کہ ایک روز حضور ﷺ چار زانو تشریف فرماتے تھے کہ روح الامین حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یَا مُحَمَّدُ اِجْلِسْ جِلْسَةَ الْعَبْدِ۔ "حضور! نشست میں بندوں کی نشست پر تشریف رکھیں۔"
حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق مروی ہے کہ آپ نے چالیس سال دیوار سے تکیہ نہ لگایا اور آپ ہمیشہ دو زانو بیٹھتے تھے۔ لوگوں نے آپ سے اس کی وجہ پوچھی۔ آپ نے فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ بحضورِ حق کے مشاہدہ میں بندوں کی طرح نہ بیٹھوں۔
اور میں علی بن عثمان جلابی ہوں۔ میں خراسان کے ایک قصبہ پہنچا جسے "مکند" کہتے ہیں۔ وہاں ایک بزرگ تھے جنہیں ادیب مکندی کہتے تھے۔ یہ وہاں کے مشہور بزرگ تھے۔ بیس سال برابر قیام میں رہے۔ سوائے تشہد کے نماز میں کبھی نہ بیٹھے۔ ان سے میں نے اس کا سبب پوچھا۔ فرمایا: ابھی میرا وہ درجہ نہیں کہ حضورِ حق کا مشاہدہ بیٹھ کر کروں۔
اور حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا: بِمَ وَجَدْتَ مَا وَجَدْتَ "آپ نے جو کچھ پایا کس طرح پایا؟" فرمایا: بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ مَعَ اللّٰهِ تَعَالٰی عَزَّ وَجَلَّ "حق تعالیٰ کی خدمت میں بادب رہنے سے۔" میں ظاہر باطن میں یکساں رہا۔ آدمی کو چاہیے کہ اپنے معبود کے حضور میں رہنے کا حسنِ ادب زلیخا سے سیکھیں کہ جب وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی خلوت میں جا کر اپنی آرزو کی خواستگار ہوئی تو پہلے اپنے بت کو پردہ سے چھپایا۔ یوسف علیہ السلام نے پوچھا کہ یہ پردہ کیوں ڈال رہی ہے۔ زلیخا بولی: اپنے معبود سے اپنے کو چھپاتی ہوں تا کہ وہ مجھے تیرے ساتھ ایسی حالت میں نہ دیکھے کیونکہ اس کے آگے ایسا کام شرطِ ادب کے خلاف ہے۔
اور جب یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام سے ملایا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دولتِ وصل سے سرفراز فرمایا اور زلیخا کو پھر شباب بخشا اور وہ مشرف بااسلام ہوئی اور حضرت
صفحہ۵۳۲
یوسف علیہ السلام کے نکاح میں آئی تو یوسف علیہ السلام نے ان کی طرف ارادہ فرمایا تو زلیخا آپ سے بھاگتی تھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: زلیخا! میں تیرا وہی محبوب ہوں، مجھ سے دور کیوں بھاگتی ہے۔ شاید میری دوستی تیرے دل میں نہیں رہی۔ زلیخا بولی نہیں قسم بخدا! دوستی قائم ہے بلکہ پہلے سے زیادہ ہے لیکن مجھے اپنے معبودِ حقیقی کا پاس ادب ہے، جس دن میں نے آپ کی طرف خلوت چاہی تھی وہاں ایک بت معبود تھا جو تم نے نہیں دیکھا۔ اس لیے کہ اس کی دونوں آنکھیں اندھی تھیں۔ میں نے اس پر پردہ ڈالا تا کہ بے ادبی نہ ہو۔ اب جبکہ میرا معبود دانا و بینا ہے، بلا بصر بصیر ہے اور بلا آلہ سب کچھ جانتا ہے، میں جس حال میں بھی ہوں وہ مجھے دیکھتا ہے اس لیے میں تارکِ ادب ہونا نہیں چاہتی۔
اور جب رسول اکرم ﷺ کو معراج میں لے گئے تو انہوں نے اپنے پاس ادب سے دونوں جہاں کی طرف نگاہ نہ فرمائی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی﴾ (۱) "یعنی دنیا دیکھنے کے لیے آنکھ مائل نہ ہوئی اور نہ حد سے متجاوز ہوئے۔"
دوسری قسم ادب باہمی کاروبار میں ہے کہ سب حالات میں اپنے نفس سے مروت کی رعایت کرے تا کہ خلقت میں ہو یا حضورِ حق، بندہ قطعی بے ادب نہ ہو۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ سوایچ کے نہ بولے۔ حتیٰ کہ جو کچھ اپنے حق میں خلاف جانے وہ زبان پر نہ لائے کیونکہ اس میں بے مروّتی ہوتی ہے۔ دوسرے کم کھائے تا کہ قضائے حاجت میں جانے کی ضرورت نہ ہو۔ تیسرے یہ کہ اپنے اس عضو کو نہ دیکھے جو غیر کو دیکھنا ناجائز ہو۔
کیونکہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنی شرم گاہ کو کبھی نہ دیکھا۔ لوگوں نے اس کا سبب پوچھا۔ فرمایا اپنی اس چیز کو دیکھنے سے میں شرم کرتا ہوں جس کی جنس کا نہ دیکھنا حرام ہو۔ دوسرا آدابِ صحبتِ خلق میں یہ بہترین چیز ہے کہ سفر و حضر میں خلق کے ساتھ خوبی معاملہ سے سلوک کیا جائے اور ہر سہ اقسامِ ادب ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔
اب میں اپنے مقدور کے مطابق انہیں باترتیب بیان کرتا ہوں تا کہ تم پر اور لوگوں پر آسان ہو۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ
"یعنی جو ایمان لائے اور عملِ صالح کیے تو کر دیتا ہے ان کے لیے اللہ تعالیٰ ان کا چاہنے والا" یعنی ان کے حسنِ رعایت کے صلہ میں لوگوں کو ان کا بھائی بنا دیتا ہے۔
اس لیے وہ دلوں کو خوش کرتے اور بھائیوں کے حق ادا کرتے ہیں اور انہیں اپنے اوپر فضیلت دیتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا:
"تین چیزیں تیرے دوست کی محبت کو تیرے لیے خالص بناتی ہیں، یہ کہ سلام کرے اس پر جب تجھے ملے۔ دوسرے یہ کہ مجلس میں اس کے لیے فراخی دے۔ تیسرے یہ کہ اُسے ایسے نام سے پکارے جو اسے پسندیدہ ہو۔"
اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ﴾ (۲) "یعنی مومن تو مومنوں کے بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں میں صلح رکھو اور دونوں آپس میں مہر و عنایت سے پیش آؤ" تا کہ ایک دوسرے کا دل آرزومند نہ ہو۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَكْثِرُوْا مِنَ الْاِخْوَانِ فَاِنَّ رَبَّكُمْ حَیٌّ كَرِیْمٌ یَسْتَحْیِیْ اَنْ یُّعَذِّبَ عَبْدَهٗ بَیْنَ اِخْوَانِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ (۳) "بھائی زیادہ بناؤ اور حفظِ ادب اور معاملت سے اچھی طرح پیش آؤ کہ اللہ تعالیٰ حی و کریم ہے اور حیاء کرم سے اپنے بندہ کو اس کے
۱۔ مریم: ۹۶ ۲۔ الحجرات: ۱۰
۳۔ مذکورہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن الفوائد المجموعہ للشوکانی (۵۱۱) میں یہ مذکور ہیں: اَكْثِرُوْا مِنَ الْاَصْدِقَاءِ فَاِنَّكُمْ شُفَعَاءُ لِبَعْضِكُمْ فِیْ بَعْضٍ۔
صفحہ۵۳۴
بھائی اور برادری میں بروزِ قیامت عذاب نہیں کرنا چاہتا۔" لیکن ہمیں یہ چاہیے کہ محبت و صحبت اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، نہ ہوائے نفس اور کسی دنیاوی غرض کے لیے، تا کہ بندہ اس کے حفظِ ادب سے مشکور ہو جائے۔
اور حضرت مالک بن دینار رضی اللہ عنہ نے اپنے داماد مغیرہ بن شعبہ کو کہا: یَا مُغِیْرَةُ كُلُّ اَخٍ وَّصَاحِبٍ لَّمْ تَسْتَفِدْ مِنْهُ فِیْ دِیْنِكَ خَیْرًا فَانْبِذْ عَنْكَ صُحْبَتَهٗ حَتّٰی تَسْلَمَ۔ "اے مغیرہ! جس بھائی اور یار سے تجھے اس کی صحبت میں فائدۂ اخروی نہ ہو اس کے پاس نہ بیٹھ ایسے شخص کی صحبت تجھ پر حرام ہے۔" اس کا یہ مطلب ہے کہ یا تو اپنے سے اچھے کے پاس بیٹھ یا اپنے سے ادنیٰ کے پاس۔ کیونکہ اگر تو اپنے سے اچھے کے پاس بیٹھے گا تو تجھے اس سے دین کا فائدہ ہوگا اور اگر اپنے سے ادنیٰ کے پاس بیٹھے گا تو اسے تجھ سے دین کا فائدہ ہوگا۔
کیونکہ جب وہ تجھ سے کچھ سیکھے گا تو دینی فائدہ ہوگا اور اگر تو اس سے کچھ سیکھے گا تو تجھے دینی فائدہ پہنچے گا۔ اس بناء پر حضور ﷺ نے فرمایا۔ اِنَّ مِنْ تَمَامِ التَّقْوٰی تَعْلِیْمُ مَنْ لَّمْ یَعْلَمْ: "کمالِ پرہیز گاری یہ ہے کہ جو جاہل ہو اسے تعلیم دے۔"
اور یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"وہ دوست بہت بُرا ہے جس کا دوست، دوست سے اس امر کی احتیاج کرے کہ اس سے کہا جائے کہ اپنی دعا میں مجھے یاد رکھنا اس لیے کہ ایک ساعت کا حقِ محبت ہمیشہ یار کی دعا کا مقتضی ہے اور وہ دوست بہت برا دوست ہے جو زندگی میں ایسا رہے کہ اس کے ساتھ خوشامد ہو۔ اس لیے کہ صحبت کا سرمایہ خوشی ہے اور وہ دوست بہت برا ہے جس سے گناہ پر اعتذار کرنا پڑے اور اپنی ذلت اس کے آگے ظاہر ہو۔" اس لیے کہ عذر بیگانگی میں ہوتا ہے اور صحبت میں بیگانگی بری ہوتی ہے۔
"یعنی انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے تو دیکھنا چاہیے تمہیں کہ کون کس سے محبت رکھتا ہے۔" (۱)
۱۔ از مترجم۔ صحبت صالح ترا صالح کند ۔ صحبت طالح ترا طالح کند
صفحہ۵۳۵
اگر نیکیوں سے اس کی محبت ہے تو وہ اگرچہ براہو مگر نیک ہے اس لیے کہ وہ صحبت اسے نیک کر دے گی اور اگر بروں کی صحبت میں رہتا ہے تو اگرچہ نیک ہو مگر برا ہے اس لیے کہ بری صحبت اُسے بُرا بنا دے گی۔
اور حکایتوں میں ہے کہ ایک مرد کعبہ کے طواف میں کہہ رہا تھا: اَللّٰهُمَّ اَصْلِحْ اِخْوَانِیْ فَقِیْلَ لَهٗ لِمَ لَا تَدْعُ لَكَ فِیْ هٰذَا الْمَقَامِ۔ "الٰہی! میرے بھائیوں کو صالح کر دے۔" اسے لوگوں نے کہا: اس مقام پر تو اپنے لیے دعا کیوں نہیں کرتا بلکہ بھائیوں کے لیے دعا کرتا ہے۔ اس نے جواب دیا: اِنَّ لِیْ اِخْوَانًا اَرْجِعُ اِلَیْهِمْ فَاِنْ صَلَحُوْا اَصْلَحْتُ مَعَهُمْ وَاِنْ فَسَدُوْا فَسَدْتُ مَعَهُمْ۔ "اے بھائی! جب ان میں جاؤں گا اگر وہ صالح ملے تو میں بھی ان کی صالحیت سے صالح ہوں گا اور اگر وہ فسادی رہے تو میں بھی ان کے فساد سے مفسد ہو جاؤں گا۔" جب صحبتِ صالحاں میرا قاعدہ ہے تو میں بھی ان کی صحبت سے صلاحیت اختیار کر لوں گا۔ اس لیے اپنے بھائیوں کے لیے دعا کرتا ہوں تا کہ ان کے ذریعہ میرا مقصد حاصل ہو جائے اور اس کی اصل یہ ہے کہ نفس کو سکون یادوں سے حاصل ہوتا ہے اور انسان جس گروہ میں رہے گا، اس کی عادت و خصلت اختیار کرے گا۔ اس لیے کہ عمل و ارادہ محبت سے پیدا ہوتا ہے جیسے عمل والے کی محبت ملے گی وہی عادت اس میں پرورش ہوگی اس لیے کہ محبت کا اثر طبیعت پر خاص اثر رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ صحبتِ عالم سے ایک جاہل عالم ہو جاتا ہے۔ طوطے کو دیکھو کہ آدمی کی صحبت اور تعلیم سے انسانوں کی زبان بولنے لگتا ہے۔
مشائخ صوفیاء رحمہم اللہ اسی وجہ میں پہلے صحبت و مصاحبت کرتے ہیں، پھر مرید کو تعلیم دیتے ہیں۔ اس پر مشائخ صوفیاء نے مبحثِ صحبت میں بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں اور صحبت کی بحث کو واضح فرمایا ہے۔
حضرت جنید رضی اللہ عنہ نے "تَصْحِیْحُ الْاِرَادَةِ" کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ احمد بن خضرویہ نے "اَلرِّعَایَةُ بِحُقُوْقِ اللّٰهِ" کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ محمد بن علی ترمذی کی ایک کتاب "آداب المریدین" ہے۔
ابو القاسم الحکیم اور ابو بکر وراق اور سہل بن عبد اللہ اور ابو عبد الرحمٰن سلمی اور استاذ ابو القاسم قشیری رحمہم اللہ سب نے اس بحث میں کتابیں تصنیف کی ہیں اور یہ لوگ اس فن میں امام ہوئے ہیں۔ اس کتاب میں میرا مقصد یہ ہے کہ جس کے پاس یہ کتاب ہو اسے دوسری کتابوں کی حاجت نہ رہے۔ جیسا کہ میں اس کتاب کے مقدمہ اور تیسرے سوال کے جواب میں کہہ چکا ہوں۔ بہر حال یہ کتاب طالبِ طریقت کو کافی ہے۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ
صفحہ۵۳۶
اکیسواں باب
آدابِ صحبت
جب تو نے یہ سمجھ لیا کہ مرید کے لیے سب سے بہترین چیز صحبت ہے تو لازمی طور پر آدابِ صحبت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ بلا صحبت مرید کا تنہا رہنا اسے ہلاک کر دیتا ہے۔ پیغمبرِ اعظم سید اکرم ﷺ نے فرمایا: اَلشَّیْطَانُ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الْاِثْنَیْنِ اَبْعَدُ (۱) "شیطان تنہا کے ساتھ ہوتا ہے اور دو آدمی جہاں ہوں، ان سے شیطان دور رہتا ہے۔"
"نہیں ہوتے تین رازدار مگر چوتھا ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔"
تو مرید کے لیے تنہا رہنے سے بڑی آفت کوئی نہیں۔
ایک حکایت ہے کہ جنید رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مرید کو خیال آیا کہ میں مرتبۂ کمال کو پہنچ گیا ہوں اور اب مجھے صحبت کی بہ نسبت تنہا رہنا اچھا ہے۔ چنانچہ وہ گوشہ نشین ہو گیا اور صحبت ترک کر دی۔ جب رات ہوئی تو کوئی جماعت آئی اور اونٹ لائی اور اس صوفی کو کہا: تجھے بہشت میں جانا
۱۔ یہ مسند امام احمد بن حنبل (۱/۱۸، ۲۶) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث شریف کا ایک حصہ ہے اور مکمل روایت یوں ہے: اِسْتَوْصُوْا بِاَصْحَابِیْ خَیْرًا، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَهُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَهُمْ، ثُمَّ یَفْشُو الْكَذِبُ حَتّٰی اِنَّ الرَّجُلَ لَیَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ اَنْ یُسْاَلَهَا فَمَنْ اَرَادَ مِنْكُمْ بُحْبُوْحَةَ الْجَنَّةِ فَلْیَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الْاِثْنَیْنِ اَبْعَدُ، لَا یَخْلُوَنَّ اَحَدُكُمْ بِامْرَاَةٍ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ ثَالِثُهُمَا، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهٗ وَسَاءَتْهُ سَیِّئَتُهٗ فَهُوَ مُؤْمِنٌ۔ اسے امام احمد بن حنبل نے عبد اللہ بن عامر سے انہوں نے اپنے والد سے مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے جس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے: مَنْ مَاتَ وَلَیْسَتْ عَلَیْهِ طَاعَةٌ مَاتَ مِیْتَةً جَاهِلِیَّةً۔ اور اسی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: اِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الْاِثْنَیْنِ اَبْعَدُ (مسند احمد ۳/۴۳۶) اور المستدرک للحاکم (۴/۵۵۵) میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: اَلْزَمُوْا هٰذِهِ الطَّاعَةَ وَالْجَمَاعَةَ .... وَاِنْ مَا تَكْرَهُوْنَ فِی الْجَمَاعَةِ خَیْرٌ مِّمَّا تُحِبُّوْنَ فِی الْفُرْقَةِ۔ اسے امام حاکم نے امام بخاری اور امام مسلم کی شرائط پر صحیح قرار دیا ہے۔
۲۔ سورۃ المجادلۃ: ۷
صفحہ۵۳۷
چاہیے۔ یہ اس بشارت پر فوراً اونٹ پر سوار ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں یہ ایسے مقام پر پہنچا جہاں باغ و بہار تھا اور خوبصورت لوگوں کا گروہ تھا اور عمدہ عمدہ لذیذ و نفیس کھانے اور بہتی نہریں۔ شب بھر یہ وہاں رہا۔ صبح جو ہوئی تو اپنے آپ کو اسی عبادت خانہ میں پایا جہاں تھا۔ چند روز ایسا ہوتا رہا حتیٰ کہ اس میں رعونتِ بشری سرایت کر گئی اور غرورِ جوانی غالب آیا۔ آخرش اس نے لوگوں پر اپنی کیفیت ظاہر کرنی شروع کر دی اور دعویٰ ولایت کرنے لگا۔
یہ خبر لوگوں نے حضرت جنید رضی اللہ عنہ کو پہنچائی۔ آپ اس کے حجرۂ عبادت پر تشریف لائے اور اس سے دریافتِ حال کیا۔ اس نے سب کیفیت عرض کی۔ آپ نے فرمایا آج رات جب تو یہ حال دیکھے تو لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ تین بار پڑھ لینا۔ مختصر یہ کہ جب شام ہوئی اور اس نے حسبِ معمول لے کر چلے تو اس کے دل میں حضرت جنیدؒ کی تعلیم سے بدگمانی ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد تجربہ کے خیال سے اس نے تین بار لاحول پڑھا تو وہ گروہ شور کرتا ہوا غائب ہو گیا اور اس نے اپنے آپ کو مزبلہ پر پایا جہاں گندگی اور جھوٹی ہڈیوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ تو یہ اپنی غلطی سے واقف ہوا اور تنہا بیٹھنے سے تائب ہوا اور صحبتِ اولیاء میں حاضری دینے لگا۔
بہر حال یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مرید کو تنہائی کی آفت سے زیادہ کوئی آفت نہیں اور صحبتِ مشائخ کی یہ بھی شرط ہے کہ جن کے پاس بیٹھے انھیں ان کے درجہ کے مطابق پہچانے۔ بوڑھوں سے بااداب رہے اور ہم جنسوں سے معاشرت میں عشرت بسر کرے۔ بچوں سے شفقت کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ بلکہ معمر لوگوں کو باپ کی جگہ اور ہم عمروں کو بھائی کے برابر، بچوں کو اولاد کی جگہ جانے۔ ہر گناہ سے اجتناب کرے، حسد سے بچتا رہے، عداوت سے روگردانی کرے اور نصیحت کرنے میں دریغ نہ کرے۔ مجلس میں دوسرے کی غیبت کرنا اور خیانت کرنا ایک دوسرے کی عقل اور فعل پر حرف زنی کرنا بھی آدابِ صحبت میں ممنوع ہے۔
اس لیے کہ جب ابتداء میں صحبتِ حق تعالیٰ کے لیے ہو تو کسی قسم کا قول و فعل نا ملائم کسی بندے کے ساتھ نہیں کرنا چاہیے اور مصنفِ کتاب رحمۃ اللہ علیہ کہتا ہے کہ شیخ المشائخ ابو القاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے پوچھا کہ شرطِ صحبت کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ تجھے صحبت میں اپنی حفاظت کرنی چاہیے کیونکہ اس میں ہر قسم کی آفات موجود ہیں۔ اس لیے کہ ہر ایک اپنے مطلب کا خواہاں ہوتا ہے اور آسائش طلب کو صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔ جب بندہ اپنا حظ ترک کرے گا تو اپنے مصائب کے حظ کی رعایت کرے گا اور اس صحبت سے فائدہ لے گا۔
ایک درویش فرماتے ہیں کہ ایک وقت میں نے کوفہ سے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ کیا۔
یہ کتاب کشف المحجوب (تصنیف: حضرت علی بن عثمان ہجویری معروف بہ داتا گنج بخشؒ) کا متن ہے:
صفحہ۵۳۸
…تھا۔ آپ (ابراہیم خواص) کی صحبت میں رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ فرمانبرداری چاہے، تو کیا چاہتا ہے؟ میں خواستگار ہوا۔ آپ نے صحبت کے لیے امیری اور ماموری کا اختیار دیا۔ آپ نے فرمایا: "میرا فرمانبردار ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا تو فرمانبردار نہ ہوا"۔ میں نے عرض کیا: "آپ امیر ہوں اور میں آپ کے حکم سے باہر نہ آؤں گا"۔ میں نے تسلیم کر لیا۔
جب ہم اپنی منزل پر پہنچے تو انہوں نے مجھے حکم دیا: "بیٹھ جاؤ"۔ میں بیٹھ گیا۔ انہوں نے مجھ سے خدمت کی اور جب میں نے چاہا کہ کنویں سے پانی نکالوں جو نہایت سرد تھا، آپ نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی۔ میں چاہتا کہ یہ کام میں کروں تو فرماتے: "بیٹھ جاؤ"۔ میں بیٹھ جاتا اور شرم سے صبح تک شام ہوتی۔ اتفاق سے سخت بارش ہوئی۔ آپ نے گدڑی مجھ پر ڈال دی اور خود کھڑے رہے تاآنکہ صبح ہوئی، اور میرے پاس کھڑے رہے۔ مجھے شرم آئی، مگر شرطِ صحبت کے تحت خاموش رہا۔
پھر میں نے عرض کی: "اے شیخ! میں امیر بنتا ہوں"۔ ابراہیم خواص نے فرمایا: "اچھا"۔ جب ہم دوسری منزل پر پہنچے تو حضرت نے وہی خدمات اپنے ذمہ لیں۔ میں نے عرض کیا: "حضرت! میں امیر ہوں، میرا حکم مانیں"۔ آپ نے فرمایا: "وہ نافرمان نہیں ہوتا جو امیر کو اچھی خدمت کی اجازت دے"۔
نتیجہ یہ ہوا کہ شرم کی وجہ سے میں حضرت کے پاس سے بھاگ کر دو درویشوں کے ساتھ الرملہ آ گیا۔ مسجد میں حضرت نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: "بیٹا! اس غلام سے جس سے تم نے مصاحبت کی تھی، کچھ یاد نہیں رکھا جو میں نے تیرے ساتھ کیا؟"
"حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں میں نے دس سال گزارے۔ خدا کی قسم! آپ نے کبھی مجھے اف تک نہ فرمایا، اور جو کام میں نے کیا اس پر یہ نہ فرمایا کہ یہ کیوں کیا، اور نہ اس پر جو میں نے نہیں کیا کہ فلاں کام کیوں نہیں کیا"۔
(اسے امام بخاری نے اپنی صحیح [کتاب الفضائل: باب کان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احسن الناس خلقا] میں، امام مسلم نے اپنی جامع [باب ما جاء فی خلق النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم] میں، اور الشمائل المحمدیہ [حدیث 329: باب تواضع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم] میں روایت کیا ہے)۔
صفحہ۵۳۹
اور مقیم خدمت حق میں بیٹھتے ہیں۔ اس لیے کہ مسافروں میں طلب کا نشان ہوتا ہے اور مقیموں میں حصول کا اشارہ ہے۔ تو جس نے پا لیا وہ بیٹھ کر مقیم ہو گیا۔ یہ اس سے افضل ہے جو ابھی طلب میں ہے اور مسافر ہے، اور مقیم کو چاہیے کہ مسافر کو اپنے سے اچھا جانے۔ اس لیے کہ یہ صاحبِ تعلق ہیں اور مسافر تعلق سے مبرا، اور مقیم ایک طرف قائم ہیں اور مسافر طلب میں ہیں۔ مقیم اپنے موقف میں ہیں، اس اعتبار سے انہیں چاہیے کہ بوڑھے جوانوں کو بہتر سمجھیں۔ اس لیے کہ یہ دنیا میں تھوڑی دیر رہنے والے ہیں اور ان کے گناہ کم ہیں، اور جوانوں کو چاہیے کہ بوڑھوں کو افضل جانیں۔ اس لیے کہ یہ عبادت میں پیشرو ہیں اور خدمت میں مقدم۔ جب ہمارے بیان کے مطابق دونوں رہیں تو ایک دوسرے سے نجات پائیں گے ورنہ ہلاک ہو جائیں گے۔
فصل:
اصل آداب کی اجتماع خصائلِ خیر ہے اور اسی وجہ سے ادب دہندہ کو ادیب کہتے ہیں۔ اس لیے کہ اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے وہ بہتر ہوتا ہے: فَالَّذِي اجْتَمَعَ فِيهِ خِصَالُ الْخَيْرِ فَهُوَ أَدِيبٌ۔ ادیب تو وہ ہے جس میں یہ اچھی خصلتیں جمع ہوں، وہی ادیب ہے۔ اور علمی رواج میں جو علمِ لغت اور نحو جانتا ہے اس کو ادیب کہتے ہیں۔
اور گروہِ صوفیاء کے نزدیک الْأَدَبُ هُوَ الْوُقُوفُ مَعَ الْحَسَنَاتِ وَمَعْنَاهُ أَنْ تُعَامِلَ اللهَ فِي الْآدَابِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَإِذَا كُنْتَ كَذَالِكَ كُنْتَ أَدِيبًا وَإِنْ كُنْتَ أَعْجَمِيًّا وَإِنْ لَمْ تَكُنْ كَذَالِكَ تَكُونُ عَلَى ضِدِّهِ۔ ادب نیکیوں پر قائم رہنا ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تمام معاملات ادب سے کرے، خفیہ ہو یا علانیہ؛ تو جب تو ایسا ہو جائے تو تو ادیب ہے اگرچہ تو عجمی ہو، اور اگر تو ایسا نہیں تو پھر اس کی ضد تجھ میں ہے۔ اس لیے کہ زبان کے معاملات میں کوئی قدر و قیمت نہیں اور ہر حال میں عالم عاقلوں سے زیادہ بزرگ ہیں۔
مشائخ رحمہم اللہ میں سے ایک کو لوگوں نے پوچھا کہ شرطِ ادب کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: "ایک جملہ میں تیرا جواب دیتا ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ ادب وہ ہے کہ جب تو بات کرے تو تیرا کلام صادق ہو، اگر معاملہ کرے تو معاملہ حق ہو، اور کلامِ صادق اگرچہ سخت ہو ملین ہوتا ہے اور معاملۂ نیک اگرچہ مشکل ہو خوب ہوتا ہے۔ تو جب تو بات کرے تو تیرا کلام سچ ہو اور جب خاموش رہے تو خاموشی حق پر ہو"۔
ابو نصر سراج، صاحب 'المع' اپنی کتاب 'بیانِ ادب' میں بہت وضاحت سے فرماتے ہیں:
اہلِ دنیا: ان کے نزدیک ادب فصاحت و بلاغت، حفظِ علوم، حکایاتِ ملوک اور اشعارِ عرب ہیں۔
اہلِ دین: ان کے نزدیک ادب نفس کی ریاضت، اعضاء کی تادیب، حدودِ الٰہی کی نگہداشت اور ترکِ شہوات ہے۔
اربابِ خصوصیت: ان کے نزدیک ادب دل کا پاک رکھنا، اسرار کی رعایت، ایفاءِ عہد، وقت کو محفوظ رکھنا، پراگندہ خیالات سے نظر روکنا، طلب میں نیک کام، مواقفِ دل میں نیک اور مقامِ قرب میں مودب رہنا اور حضوری کے موقع پر نیک عمل کرنا ہے۔ اور یہ جامع کلام ہے۔ اس کی تفصیل اس کتاب میں متفرق جگہ پر آئے گی۔
وَاللَّهُ وَلِيُّ التَّوْفِيقِ
صفحہ۵۴۱
جب اختیار کرے، بدولن اور روی اقامت سفر۔ اس کے آداب یہ ہیں کہ جب کوئی مسافر آئے اور آگے کے مسافروں کے پاس جائے تو نہایت خندہ پیشانی سے ملے اور اسے باعزت بٹھائے، جیسا کہ ضیف علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے۔ اور وہی خشوع کرے جو ابراہیم علیہ السلام اپنے مہمانوں کے ساتھ کرتے تھے۔ جو کچھ حاضر ہو، بلا تکلف ان کے آگے پیش کرے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا: (فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ)۔
اور یہ نہ پوچھے کہ کہاں سے آئے ہو، کہاں جا رہے ہو، کیونکہ یہ خلافِ ادب ہے۔ ان کا آنا خدا کی طرف سے ہے اور ان کا جانا بھی خدا کی جانب۔ ان کا نام و نسب معلوم کرے۔ پھر اندازہ کرے کہ وہ خلوت میں راضی ہے یا جلوت میں۔ اگر وہ خلوت پسند ہو تو اس کے لیے ایک جگہ خالی کر دے۔ اگر وہ جلوت پسند ہو تو ویسا ہی اہتمام کرے تاکہ اسے انس و کثرت حاصل ہو اور تکلف نہ ہو۔
جب مسافر راہ پر قدم رکھے اور لیٹ جائے تو مقیم کو چاہیے کہ اس کے قدم پر ہاتھ رکھے۔ اگر وہ منع کرے اور کہہ دے کہ مجھے عادت نہیں تو اس پر اصرار نہ کرے۔
دوسرے روز حمام میں لے جائے تاکہ حمام میں صاف راہ ہو۔ اس کے کپڑے حمام میں خراب نہ ہوں اور اس کی خدمت ایسے خاداموں سے کرائے جو اس کی خدمت دلی سے کرنے والے ہوں تاکہ اس کے پاک اور صاف ہونے میں تمام آفتوں سے پاک ہو۔
میزبانی کو چاہیے کہ اپنے مہمان کی تواضع میں اس کی پشت، اس کے گھٹنوں، پاؤں، جوڑوں اور ہاتھوں کو ملے۔ اس سے زیادہ شرطِ ادب ہے۔ اور اگر اس کے لیے نیا کپڑا پہنائے تو مقدور ہو تو خدمت کرے، اور اگر نہ ہو تو طلب بھی نہ کرے اور وہی اس کے کپڑے دھو کر جب وہ حمام سے نکلے، پہنا دے۔
وہ مہمان اگر دو تین روز ٹھہرے اور اس شہر کے کسی بزرگ یا امامِ اسلام سے ملنا چاہے تو خوشی سے لے جائے، اور اگر وہ ملنا نہ چاہے تو اس پر اصرار و اجبار نہ کرے۔
صفحہ۵۴۲
اس لیے کہ طالبانِ حق پر ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ اپنے دل کے اختیار میں نہیں رہتے۔ کیا تو نے دیکھا کہ ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ کو لوگوں نے پوچھا کہ اپنے سفر کے عجائبات سناؤ؟ آپ نے فرمایا: "خضر علیہ السلام نے مجھ سے مصاحبت چاہی، میں نے منظور نہ کی کیونکہ میرا دل نہیں مانا۔ اس لیے کہ ماسوائے حق تعالی کسی کی میرے دل میں قدر و عظمت نہ ہو"۔
لیکن یہ بھی نہ چاہے کہ مقیم آدمی مسافر کو کسی دنیا دار کے سلام کے لیے لے جائے یا ان کی مہمانی میں شریک کرے یا کسی دنیا دار کی بیمار پرسی کو لے جائے۔
جس مقیم کو مسافروں سے یہ طمع ہو کہ انہیں اپنی گدائی کا ذریعہ بنائے اور ایک گھر سے دوسرے گھر لے جائے، ایسے مقیم کو مسافروں کی خدمت نہ کرنی چاہیے، کیونکہ اس میں ان کی ذلت ہے۔ اور میں کہ علی بن عثمان جلابی ہوں، مجھے اپنے سفروں میں مشقت اور رنج سے زیادہ سخت یہ لگتا تھا کہ جاہل خادم اور ناپاک مقیم کبھی مجھے خواجہ کے گھر، کبھی کسی دہقان کے گھر لے جاتے اور میں باطن میں ان کے ساتھ کراہت سے جاتا اور بظاہر جوانمردی کرتا۔ اور جو بے طریقہ مقیم میرے ساتھ ایسا کرتا، میں دل میں عہد کرتا کہ جب میں مقیم ہوں گا تو اپنے مہمان کے ساتھ ایسا نہ کروں گا۔ اور بے ادبوں کی صحبت سے اس سے زیادہ فائدہ نہیں ہوتا کہ جو تجھے ناخوش معلوم ہو وہ تو نہ کرے۔
اور اگر کوئی درویش پاؤں پھیلائے تو چند روز اسے رکھ کر اس کی دنیاوی ضرورت فوراً رفع کر دے۔ اور اگر یہ مسافر بے ہمت ہو تو مقیم کو نہ چاہیے کہ محالاتِ ضروری میں بے ہمتی کرے اور اس کے تابع ہو جائے، کیونکہ یہ طریقہ آزادوں کا نہیں۔ جب ضرورت ہو تو بازار میں لین دین کو جانا چاہیے یا بادشاہوں کے حضور میں سپہ گری کو۔ اس کو آزادوں کی صحبت سے کیا کام!
روایت ہے کہ جنید رحمۃ اللہ علیہ اپنے اصحاب کے ساتھ ریاضت کے لیے بیٹھے تھے۔ ایک مسافر آیا۔ اس کی مہمانداری میں انہوں نے تکلف کیا اور کھانا لائے۔ اس نے کہا: "مجھے علاوہ اس کے فلاں چیز درکار ہے"۔ حضرت جنید نے فرمایا: "تجھے بازار میں جانا چاہیے، تو بازاری آدمی ہے، صاحبِ مسجد و حجرہ نہیں"۔
ایک دفعہ میں نے دمشق کے درویشوں کے ساتھ ابن المعلا کی زیارت کے لیے جانے کا قصد کیا۔ یہ رملہ کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ راستے میں ہم نے آپس میں باتیں کیں کہ کچھ دل میں سوچ کر چلو تاکہ وہ حضرت ہمیں ہمارے باطن سے مطلع کریں اور ہماری مشکل حل ہو۔ میں نے دل میں سوچا کہ مناجات ابن حسین کے اشعار ان سے سنوں۔ دوسرے نے سوچا کہ مجھے طحال (تلی) کا مرض ہے، یہ اچھا ہو جائے۔
صفحہ۵۴۳
تیسرے نے کہا مجھے حلوہ صابونی ان سے لینا ہے۔
جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے ایک جزوِ کاغذ جس میں اشعارِ مناجاتِ ابن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھے تھے میرے آگے رکھ دیے، اور دوسرے کے طحال پر ہاتھ پھیرا وہ جاتی رہی۔ تیسرے کو کہا: "حلوہ صابونی سپاہیوں کی غذا ہے اور تو اولیاء کا لباس رکھتا ہے، اور اولیاء کے لباس والے کو سپاہیوں کا مطالبہ درست نہیں۔ دو باتوں سے ایک بات اختیار کر"۔
غرض کہ مقیم کو اس شخص کے حق کی رعایت ضرور چاہیے جو اپنے حق کی رعایت میں مشغول ہو اور حظ (نفسانی لذت) کا تارک ہو۔ جب کوئی حظ پر قائم ہو تو محال ہے کہ دوسرا شخص اس کے حظ حاصل ہونے میں اس سے متفق ہو، کیونکہ درویش ایک دوسرے کو راستہ دکھانے والا ہوتا ہے نہ کہ گمراہ کرنے والا۔ جب کوئی اپنے حظ پر قائم ہو تو دوسرے کو چاہیے کہ اس کے برخلاف ہو، اور جب وہ اپنے حظ کو ترک کر دے تو اس کے حظ پر قائم ہونا چاہیے تاکہ دونوں حال میں راہ یاب ہو اور گمراہ نہ ہو۔
ایک خبر مشہور ہے کہ حضور صلى اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابوذر غفاری رضی اللہ عنہما میں رشتہ داری (اخوت) قائم کی تھی اور دونوں سرہنگانِ اہل صفا تھے اور صاحبِ باطن۔ ایک روز سلمان، ابوذر کے گھر زیارت کو آئے۔ ابوذر کے عیال نے سلمان سے شکایت کی کہ تمہارے بھائی دن میں کچھ نہیں کھاتے اور رات میں سوتے نہیں۔ سلمان نے کہا: "کچھ کھانے کی چیز لاؤ"۔ چنانچہ لائی گئی۔ حضرت سلمان نے ابوذر کو کہا: "بھائی! میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ کھائیں کیونکہ یہ روزہ آپ پر فرض نہیں"۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے تعمیلِ ارشادِ سلمان کی اور کھایا۔
جب رات ہوئی تو فرمایا: "بھائی! آپ کو اب بھی میرے ساتھ موافقت کرنی چاہیے اور سونا بھی اختیار فرمائیں۔ اس لیے کہ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا" (تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے)۔
جب دوسرا دن ہوا تو حضور صلى اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ابوذر حاضر ہوئے تو حضور صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں بھی وہی کہتا ہوں جو کل تجھے سلمان نے کہا: إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا"۔
چونکہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے حصہ کو چھوڑے ہوئے تھے، حضرت سلمان…
صفحہ۵۴۴
…اور ترکِ حظ کیا، چنانچہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا معمول چھوڑ دیا۔
اگر سچ ہو کر رہے وہ ہم ہے۔ ایک وقت میں عراق میں دنیا کی طلب اور آخرت میں تجارت کر رہا تھا تاکہ جو مجھ پر بہت ہو گیا، مجھے اس کی ضرورت ہوئی وہ میری طرف آ جائے اور میں خواہشیں ان کی پوری کرتے کرتے تھک گیا۔ وقت کے ایک سردار نے مجھ سے کہا: "اے بیٹا! خدا تعالیٰ کا یہ اپنا دل سے نہ ہٹنا فراغت ہے۔ اس دل کے سبب وہ جو اوقات میں مشغول ہوتی، اگر کوئی اپنے دل سے اپنے کو کسی چیز پر پائے، وہ جائز ہے۔ اس لیے کہ اس دل کے اثر کرنے میں دل کو مشغول کرے اور کام چھوڑ دے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو کافی ہے"۔
اب یہ ان لوگوں کے احکام ہیں جو مسافروں کی صحبت میں بیان ہوتے ہیں۔
صفحہ۵۴۵
اب میں جب کوئی درویش سفر اختیار کرے اور اقامت ترک کرے تو اس کے لیے شرط ہے۔ جیسے ظاہر میں سفر کرے، ویسے ہی دل سے خدا کے لیے کرے نہ کہ خواہش کے لیے۔ اپنے معمولات و اوراد کو ضائع نہ کرے، کیونکہ یہ بھی خواہشِ نفسانی ہے۔ ہمیشہ سفر میں عصا (لاٹھی)، پیالہ يا لوٹا (کوزہ)، اور جوتا ضرور رکھے تاکہ سفر کرتے وقت اپنے ساتھ یہ چیزیں رکھے۔
عصا کے متعلق سنت پر عمل کرے، کوزے سے طہارت اور وضو کر کے نماز پڑھے اور جوتے کے ذریعے آفات سے محفوظ رہے۔ مسافر کے پاس اس کے علاوہ اور بھی سامان ہو سکتا ہے جیسے: سوئی، دھاگا، سرمہ دانی اور مسواک۔ اگر کوئی اس سے زیادہ آرائشی چیزیں اپنے پاس رکھنا چاہے تو یہ بزرگی کا موجب نہیں بلکہ مقامِ نقص ہے۔
اگر وہ ان اشیاء کی محبت رکھتا ہے تو اس کے لیے گرفتاری ہے اور اس سے رعایتِ نفس پیدا ہوگی۔ میں نے شیخ ابوالحسن علی بن احمد الخرقانی سے سنا کہ ایک روز وہ شیخ ابو سعید کی زیارت کے لیے گئے۔ فرماتے ہیں: "میں نے راستے میں دیکھا کہ وہ ایک جگہ چاروں طرف خیمہ لگائے اور چھتری تانے سو رہے ہیں، اور میں ایک گدڑی پہنے گرد آلود ریاضت و مجاہدہ سے رنگ زرد ہوا ہوا تھا۔ ان کا یہ مال و منال اور جاہ و جلال دیکھ کر اپنے دل میں سوءِ اعتقاد ہوا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ بھی ایک درویش ہیں اور میں بھی ایک درویش ہوں، یہ آرام میں ہیں اور میں اس قدر ریاضت میں ہوں"۔
صفحہ۵۴۶
وہ اس وقت میرے باطن سے واقف ہوئے اور میرے غرور اور بد دلی کو دیکھا۔ مجھ سے فرمایا: "اے ابو مسلم! تو نے کسی کتاب میں پڑھا ہے کہ مغرور آدمی درویش ہوتا ہے؟ جب میں نے تمام کائنات میں حق ہی حق دیکھا تو حق تعالیٰ نے مجھے تخت نشین کیا، اور جب تو نے صرف اپنے آپ کو دیکھا اللہ تعالیٰ نے تجھے نیچے رکھا۔ ہمارے حصہ میں مشاہدہ آیا اور تیرے حصے میں مجاہدہ۔ اور یہ دونوں مقامات حق سے ہیں اور حق تعالیٰ اس سے پاک ہے، اور درویش مقامات سے فانی اور حالات سے بچا ہوا ہوتا ہے"۔
شیخ ابو مسلم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے ہوش جاتے رہے اور مجھ پر اندھیرا چھا گیا۔ جب ہوش آیا تو میں نے توبہ کی۔ انہوں نے توبہ منظور فرمائی۔ پھر میں نے عرض کیا: "اے شیخ! مجھے اجازت ہو کہ میں چلا جاؤں، اس لیے کہ مجھ میں آپ کی زیارت کی تاب نہیں"۔ فرمایا: "اے ابو مسلم! تو سچ کہتا ہے"۔ پھر بطورِ تمثیل یہ شعر پڑھا:
آنچه گوشم نتوانست شنیدن بخیر
همه چشمم بعیان یکسره دید آن ببصر
(جس کی خبر میرے کان نہ سن سکے، وہ میری آنکھوں نے ظاہراً دیکھ لیا)
تو مسافر کو چاہیے کہ ہمیشہ حافظِ سنت رہے۔ جب کسی مقیم کے پاس جائے تو ادب سے اس کے پاس آئے اور سلام کہے۔ پہلے بایاں پاؤں دروازے سے نکالے کیونکہ حضور صلى اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ جب جوتا پہنے تو پہلے دائیں پاؤں میں پہنے پھر بائیں میں، اور جب پاؤں دھوئے تو پہلے داہنا پاؤں دھوئے پھر بایاں پاؤں۔ پھر دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھے۔
پھر رعایتِ حقوقِ درویشاں میں مشغول ہو اور مقیموں کے حال پر اعتراض نہ کرے، نہ کسی سے زیادتی کرے، نہ اپنے سفر کی سختیاں بیان کرے۔ اور لوگوں میں جب بات کرے، بزرگوں کی حکایتیں، روایتیں اور علم کی باتیں کرے۔ اور چاہیے کہ جاہلوں سے تکلیف برداشت کرے اور بنامِ خداوند ان کا بوجھ اٹھائے کیونکہ اس میں بہت سی برکتیں ہیں۔ اگر مقیم یعنی میزبان یا اس کے نوکر اس پر حکم کریں اور اس کو اہل کوچہ کے سلام یا کسی کی زیارت کے واسطے بلائیں تو اگر ہو سکے تو خلاف نہ کرے، لیکن دل سے دنیا داروں کی رعایت سے منکر ہونا چاہیے۔
یہ بھی لازم ہے کہ اپنی غرض حاصل ہونے کے لیے میزبانوں کو تکلیف نہ دے اور ان کو اپنے آرام و خواہشات کے لیے امیروں اور ملازمانِ شاہی کے حضور میں نہ لے جائے۔
غرضیکہ مقیم اور مسافر کو صحبت میں رضاۓ الٰہی کا طالب رہنا چاہیے اور ایک دوسرے سے...
صفحہ۵۴۷
حسنِ ظن رکھ کر آپس میں منافرت سے محترز رہیں اور غیبت نہ کریں۔ اس لیے کہ صاحبِ حق پر خلقت کی بات کرنا برا ہے۔ کیونکہ محقق جب دیکھتے ہیں تو فاعل کا فعل دیکھتے ہیں اور جب خلقت کو جس صفت پر دیکھا جائے تو خالقِ عالم کی صنعت سمجھے۔ کوئی عیب دار یا بے عیب یا اہل کَشف ہو تو اس کے فعل پر جھگڑنا اس کے فاعل سے جھگڑنا ہے۔
اور جب بشریت کی آنکھ سے خلقت کی طرف نگاہ کی جائے تو سب کو ترک کرے اور جانے کہ سب خلقت مقہور و مغلوب ہے اور عاجزِ محض ہے۔ ہر ایک یہی کام کر سکتا ہے، اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی پیدائش ہی ایسی ہے اور خلقت کو اس کے ملک میں حقِ تصرف نہیں اور بدونِ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی حالت سے بدلنے کی طاقت نہیں۔ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ۔
صفحہ۵۴۸
چوبیسواں باب
کھانے کے آداب
یہ حقیقت ہے کہ انسان کو غذا کے بغیر چارہ نہیں اس لیے کہ قواءِ بدن اور ترکیبِ طبیعت طعام و شراب کے سوا ناممکن ہے۔ لیکن شرطِ مروت یہ ہے کہ اس میں زیادتی نہ کرے اور دن رات کھانے کی فکر میں ہی مشغول نہ ہو۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: مَنْ كَانَتْ هِمَّتُهٗ مَا يَدْخُلُ فِيْ جَوْفِهٖ كَانَتْ قِيْمَتُهٗ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ۔ "جو اس بات کی ہمت کرے کہ جو کچھ ملے اسے پیٹ میں بھر لے، اس کی قیمت وہی ہے جو پیٹ سے نکلی ہوئی چیز کی ہوتی ہے۔"
اور مریدِ راہِ حق کے لیے کھانے سے زیادہ مصرف رساں کوئی چیز نہیں ہے۔ اور اس سے زیادہ اس کتاب کے "باب الجوع" میں اس کا بیان ہو چکا ہے۔ یہاں اسی قدر مناسب ہے۔ اور حکایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ آپ بھوک کی زیادہ تعریف کیوں کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر فرعون بھوکا رہتا تو ہرگز ﴿اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى﴾ (۱) نہ کہتا اور اگر قارون بھوکا ہوتا تو نافرمانی نہ کرتا اور ثعلبہ جب تک بھوکا رہا لوگ اس کی تعریف کرتے تھے۔ جب سیر ہوا تو اس نے نفاق ظاہر کیا۔ اللہ تعالیٰ کافروں کی صفت میں ﴿ذَرْهُمْ يَأْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا﴾ (۲) فرما رہا ہے، یعنی "انہیں چھوڑ دو کھائیں اور چند دن متمتع ہو لیں تو عنقریب وہ جان لیں گے"۔ اور فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَيَأْكُلُوْنَ كَمَا تَأْكُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ﴾ (۳) "جو کافر ہوئے اور دنیا سے تمتع حاصل کر کے کھاتے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں، ان کا ٹھکانا آگ ہے۔"
اور حضرت سہل بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ شراب سے پیٹ بھرنا حلال کھانے سے پیٹ بھرنے کی نسبت مجھے زیادہ پسند ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے صحیح ہے؟ فرمایا: جب شراب سے پیٹ بھرتا ہے تو عقل آرام کرتی ہے اور شہوت کی تسکین ہوتی ہے اور خلقت اس کے ہاتھ اور زبان سے امن میں ہوتی ہے۔ لیکن جب حلال کھانے سے پیٹ پُر ہوتا ہے تو بیہودہ گوئی چاہتا ہے اور شہوت زور پکڑتی ہے اور نفس اپنے نصیب کی طلب میں سر اٹھاتا ہے۔ کیونکہ مشائخ نے ان کی
صفت میں کہا ہے: "اُكْلُهُمْ كَاُكْلِ الْمَرْضٰى وَنَوْمُهُمْ كَنَوْمِ الْغَرْقٰى وَكَلَامُهُمْ كَلَامُ الثُّكْلٰى"۔ "ان کا کھانا بیماروں کا سا کھانا ہے، ان کی نیند غرق ہونے والوں کی سی نیند، ان کا بولنا مرے ہوئے بچے کی ماں کا سا بولنا ہے۔"
تو کھانے کے آداب میں یہ بھی ہے کہ جب کھائے، تنہا نہ کھائے بلکہ اپنے کھانے میں سے ایثار کرے۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: شَرُّ النَّاسِ مَنْ اَكَلَ وَحْدَهٗ وَضَرَبَ عَبْدَهٗ وَمَنَعَ رِفْدَهٗ (۱) "بدترین انسان وہ ہے جو تنہا کھائے اور غلام کو مارے اور بخشش و جود سے روکے۔" اور جب دسترخوان پر بیٹھیں تو خاموش نہ بیٹھیں۔ کھانا شروع کریں تو بسم اللہ سے شروع کریں اور دسترخوان پر کوئی ایسی چیز نہ رکھیں اور نہ دکھائیں جس سے ساتھی کراہت کریں، اور شروع لقمہ نمکین سے ہونا چاہیے اور اپنے ساتھی کے ساتھ انصاف ملحوظ رکھیں۔
حضرت سہل بن عبداللہ سے لوگوں نے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ﴾ (۲) کے معنی پوچھے۔ آپ نے فرمایا کہ عدل یہ ہے کہ اپنے رفیق کے لقمہ میں رفیق سے انصاف کرے اور احسان یہ ہے کہ رفیق کو لقمہ میں زیادہ حق دار سمجھے۔
اور میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں اس مدعی سے تعجب کرتا ہوں جو کہے کہ میں تارک الدنیا ہوں اور لقمہ کی فکر میں ہو۔ اور کہا کہ اپنے ہاتھ سے کھائے اور دوسرے کے لقمے کی طرف نظر نہ ڈالے اور کھانے میں پانی کم پیوے مگر جب پیاس پوری لگ رہی ہو تو مضائقہ نہیں۔ اور جب کھائے تو کم کھائے تاکہ جگر تر ہو جائے اور لقمہ بڑا نہ اٹھائے اور اچھی طرح چبا کر کھائے۔ جلدی نہ کرے کیونکہ جلدی کھانے سے بدہضمی کا خوف ہوتا ہے اور سنت کے خلاف ہے۔ جب کھانے سے فارغ ہو تو اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہے اور ہاتھ دھوئے۔ اور جو لوگ ساتھیوں سے خفیہ دعوت میں جائیں اور کھائیں تو بعض مشائخ فرماتے ہیں یہ حرام ہے۔ اور یہ مجلس کے ساتھ خیانت ہے ﴿اُولٰٓئِكَ مَا يَأْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ﴾ (۳) "یعنی یہ لوگ وہ ہیں کہ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھرتے۔"
ایک گروہ کہتا ہے کہ جب جماعت ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہو تو تنہا دعوت پر جانا جائز ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ اگر ایک ہو تو جائز ہے اور اگر چند مصاحب ہوں تو انصاف سے جو
حواشی:
۱۔ اسے ابن حبان نے کتاب المجروحین (۱/۱۳۹) میں، ابن جوزی نے العلل المتناہیہ (۲/۲۸) میں ذکر کیا ہے، جبکہ امام ذہبی اسے میزان الاعتدال (۱/۲۰۳) میں ابن وہب عن مالک عن نافع عن ابن عمر کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ لائے ہیں: شرار الناس من نزل وحده، وجلد عبده، ومنع رفده۔
۲۔ سورۃ النحل: ۹۰ ۳۔ سورۃ البقرۃ: ۱۷۴
صفحہ۵۵۰
حق دار ہو اس سے بھیجا جائے۔ اس لیے کہ تنہا پر سے حکمِ مجلس اُٹھ جاتا ہے، اس سے مواخذہ نہیں ہوتا۔
اور سب سے بڑی بات مذہبِ صوفیاء میں یہ ہے کہ درویش کی دعوت رد نہ کرے اور دنیا دار کی دعوت قبول نہ کرے۔ ان کے گھر نہ جائے اور ان سے کچھ نہ مانگے۔ کیونکہ اہلِ طریقت کی اس میں توہین ہے اس لیے کہ دنیا دار درویش کے محرم نہیں۔
غرضیکہ مردانِ طریقت دنیا دار سے نفع میں نہ ہوں اور اس کی قلت سے درویش بنیں اور جو فقر کو غنا پر فاضل ہونے کا معترف ہو وہ دنیا دار نہیں ہوتا اگرچہ بادشاہ ہو، اور جو فقر کا منکر ہو وہ دنیا دار ہے اگرچہ بھوکا ننگا ہو۔ اور جب دعوت میں جائے تو کھانے میں تکلف نہ کرے، مطابقِ ضرورت اور وقت کے بسر کرے۔ اور جب دعوت محرم ہو تو جائز ہے کہ قبیلے کو لے جائے اور اگر محرم نہ ہو تو اس کے گھر جانا جائز نہیں۔
سہل بن عبداللہ فرماتے ہیں:
اَلدَّعْوَةُ ذِلَّةٌ۔
"مہمانی کرنا ہی ذلت ہے۔" وَ بِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ
صفحہ۵۵۱
پچیسواں باب
چلنے پھرنے کے آداب
اللہ عز و جل فرماتا ہے: ﴿وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا﴾ (۱) "اللہ تعالیٰ کے بندے زمین پر باتمکین اور آہستہ چلتے ہیں۔"
اس بندے پر یہ لازم ہے کہ طالبِ حق ہو کر اپنی رفتار میں جو قدم رکھے وہ ایسے رکھے کہ اس میں یہ نہ جانے کہ یہ قدم کس چیز پر چلتا ہے اور وہ قدم اس پر ہے یا اس کا ہے۔ اگر اس پر ہے تو استغفار کرے اور اگر اس کا ہے تو کوشش کرے تاکہ زیادہ ہو جائے۔ حضرت داود طائی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک روز انہوں نے کچھ دوا کھائی تھی۔ لوگوں نے کہا کچھ دیر گھر کے صحن میں ٹہلیے تاکہ دوا کا فائدہ ظاہر ہو جائے۔ آپ نے فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ چند قدم اپنے نفس کی خواہش سے چلا۔ چنانچہ جبارِ جلیل فرماتا ہے: ﴿وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ﴾ (۲) "اور گواہی دیں گے ان کے قدم جو کچھ وہ کرتے ہیں۔"
تو درویش کو چاہیے کہ ہوشیاری سے مراقبہ میں جائے اور سر جھکا کر بیٹھے اور کسی طرف نہ دیکھے اور راستہ میں اگر کوئی تنہا ہے تو اپنے آپ اس سے نہ کچھ کہے اور کسی سے اپنے کپڑے کو مس نہ کرے، کیونکہ مومن اور اس کا کپڑا پاک ہے اور یہ رعونت اور نمود نمائی ہے۔ اور اگر سامنے ملنے والا کافر ہے اور اس پر پلیدی ظاہر ہے تو اجتناب جائز ہے تاکہ اس سے اپنے کو بچائے۔ اور جب جماعت کے ساتھ چلے تو آگے چلنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ نمائش چاہنا تکبر کا کام ہے اور سب سے پیچھے چل کر تواضع کا ارادہ بھی نہ کرے، اس لیے کہ اپنے اندر تواضع پیدا کرنا بھی عین تکبر ہوتا ہے۔ چلنے میں بحد امکان اپنا جوتا چپل پلیدی سے بچائے تاکہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ شب میں اسے گندگی سے محفوظ رکھے۔ اور جب جماعت یا ایک درویش راستہ میں اس کے ساتھ ہو تو کسی کے واسطے کھڑا نہ ہو اور اپنے ساتھیوں کو زحمتِ انتظار میں تکلیف نہ دے۔
جب چلے آہستہ چلے، تیز رفتاری نہ کرے کہ یہ حریصوں کی رفتار ہے، اور آہستہ خرامی میں سعی نہ کرے کہ یہ بھی متکبروں کی رفتار ہے، اور قدم ثابت رکھے۔ اور لازم ہے کہ طالب کی چال ایسی
حواشی: ۱۔ سورۃ الفرقان: ۶۳ ۲۔ سورۃ یٰسین: ۶۵
صفحہ۵۵۲
صفت سے ہو کہ اگر کوئی اسے پوچھے کہ کہاں جا رہا ہے تو وہ کہہ سکے: اِنِّيْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ۔ "میں اپنے رب کی طرف جا رہا ہوں، وہ مجھے ہدایت فرمائے گا۔" اور اگر اس حال کے
(یہ صفحہ یہیں ختم ہو جاتا ہے، آگے کا صفحہ فائلوں میں نہیں آیا۔)
صفحہ۵۵۳
چھبیسواں باب
سفر و حضر میں سونے کے آداب
مشائخِ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا سفر و اقامت میں سونے پر بہت اختلاف ہے۔ ایک جماعت کے نزدیک مرید کا سونا مسلّم نہیں۔ مگر جب نیند غلبہ کرے تو مضائقہ نہیں کیونکہ نیند دفع نہیں ہو سکتی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اَلنَّوْمُ اَخُ الْمَوْتِ (۱) "نیند موت کا بھائی ہے۔" اور زندگی نعمتِ خداوندی ہے اور موت بلا ہے اور ظاہر ہے کہ نعمت، بلا سے افضل ہے۔
شبلی علیہ الرحمہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اِطَّلَعَ الْحَقُّ عَلَيَّ فَقَالَ مَنْ نَامَ غَفَلَ وَمَنْ غَفَلَ حُجِبَ۔ "مجھے اللہ تعالیٰ نے مطلع فرمایا کہ جو سویا وہ غافل ہوا اور جو غافل ہوا وہ محجوب ہوا۔"
ایک جماعت کہتی ہے: مرید کو بحالتِ اختیار سونا جائز ہے اور خواب میں تکلف نہ کرے مگر جب کہ ہر امر کا حق بجا لایا ہو۔ کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتّٰى يَنْتَبِهَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتّٰى يَحْتَلِمَ وَعَنِ الْمَجْنُوْنِ حَتّٰى يُفِيْقَ۔ "تین قسم کے آدمیوں سے قلم اٹھ جاتا ہے اور وہ مرفوع القلم ہوتا ہے یعنی اس سے مواخذہ نہیں: ایک سویا ہوا جب تک بیدار نہ ہو۔ دوسرا بچہ جب تک بالغ نہ ہو۔ تیسرا دیوانہ جب تک ہوش میں نہ آ جائے۔" کیونکہ مخلوقات اس کی بدی سے امن میں رہتی ہے اور اس کا اختیار رکا ہوا ہوتا ہے اور اس کا نفس مردوں سے بے خبر ہوتا ہے، اور کراماً کاتبین اس کے اعمال لکھنے سے آرام میں رہتے ہیں اور اس کی
حواشی:
۱۔ اسے امام بزار اور امام طبرانی نے اپنی اپنی کتب میں، امام بیہقی نے شعب الایمان میں، ابن جوزی نے العلل المتناہیہ (۲/۴۳۹) میں، امام سیوطی نے الجامع الصغیر (۲/۱۸۸) اور البدور السافرہ (ص: ۲۷۵) میں اور امام ہیثمی نے مجمع الزوائد (۱۰/۵۱۴) میں، بطریق حسین بن ولید، سفیان بن ثوری سے، انہوں نے محمد بن المنکدر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: قال رجل: يا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم! أينام أهل الجنة؟ قال: النوم أخو الموت ولا يموت أهل الجنة۔ امام ہیثمی کہتے ہیں: بزار کی روایت کے راوی صحیح کے راویوں کی طرح ہیں۔ اسے ابن عدی اور عقیلی نے عبداللہ بن مغیرہ کے تعارف میں الضعفاء میں، ابن الاثیر نے النہایہ (۲/۲۸۰) میں اور امام احمد بن حنبل نے بطریق وکیع عن سفیان عن ابن المنکدر بیان کیا ہے۔
صفحہ۵۵۴
زبان دعویٰ سے کوتاہ اور دروغ بافی اور غیبت سے محفوظ رہتی ہے اور اس کی عبادت تکبر و ریا سے جدا ہوتی ہے۔ لَا يَمْلِكُ لِنَفْسِهٖ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا مَوْتًا وَّلَا حَيٰوةً وَّلَا نُشُوْرًا۔ "وہ اپنے نفس کے نقصان اور نفع اور موت و حیات کا مالک نہ ہوگا اور نہ نشر کا مختار ہوگا۔" لَا شَيْءَ اَشَدُّ عَلٰى اِبْلِيْسَ مِنْ نَوْمِ الْعَاصِيْ فَاِذَا نَامَ الْعَاصِيْ يَقُوْلُ مَتٰى يَنْتَبِهُ وَيَقُوْمُ حَتّٰى يَعْصِيَ اللّٰهَ۔ "شیطان پر گنہگار کی نیند سے کوئی چیز زیادہ سخت نہیں، تو جب گنہگار سو جاتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ کب بیدار ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔"
اس میں حضرت جنید اور حضرت علی بن سہل اصفہانی کا اختلاف ہے اور اس کے متعلق حضرت علی بن سہل نے حضرت جنید کو ایک لطیف خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے لکھا کہ خواب غفلت ہے اور عوارضات کا قرار ہے، اور محبت کو لازم ہے کہ غفلت و قرار سے اعراض کرے، اور محب کو چاہیے کہ روز و شب میں قرار نہ ہو، اور اگر اسے غنودگی بھی ہوئی تو اس کا حال مقصد سے مفقود ہو گیا اور وہ اپنے حال سے غافل ہو کر حق تعالیٰ کی طرف سے رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داود علیہ السلام کو وحی کی: يَا دَاوُدُ كَذَبَ مَنِ ادَّعٰى مَحَبَّتِيْ فَاِذَا جَنَّهُ اللَّيْلُ نَامَ۔ "اے داود! وہ جھوٹا ہے جو میری محبت کا دعویٰ کرے اور جب رات ہو تو سو جائے اور میری محبت سے بے تعلق ہو جائے۔"
حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا جواب لکھا: ہمارا بیدار رہنا راہِ حق میں ہمارا عمل ہے اور ہمارا سونا فعلِ الٰہی ہے، تو ہم سے جو راہِ حق میں بے اختیار ہو جائے وہ اس سے زیادہ کامل ہوتا ہے جو ہمارے اختیار سے حق کے ساتھ ہو۔ وَالنَّوْمُ مَوْهِبَةٌ مِّنَ اللّٰهِ تَعَالٰى عَلَى الْمُحِبِّيْنَ "اور نیند حق تعالیٰ کی طرف سے محبین پر عطا ہے۔" اور اس مسئلہ کا تعلق صحو اور سکر سے ہے اور اس کا مفصل بیان ہو چکا ہے۔ لیکن یہ بیان عجیب ہے کہ جنید رضی اللہ عنہ صاحبِ صحو تھے اور یہاں انہوں نے سکر کی قوت دی اور وہ اس وقت مغلوب ہوئے ہیں اور ان کی زبان وقت پر ناطق ہو گئی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اصلیت اس کے برخلاف ہو، کیونکہ خواب خود عینِ صحو ہے اور بیداری عینِ سکر۔ اس لیے کہ خواب آدمی کی صفت ہے۔ جب تک آدمی اپنے اوصاف کے اندھیرے میں ہو، صحو ہے اور صحو سے ہی اسے منسوب کرتے ہیں، اور نہ سونا حق کی صفت ہے، اور جب آدمی اپنی صفت سے مراد ہو تو مغلوب ہوتا ہے۔
میں نے ایک جماعتِ مشائخ کو دیکھا کہ خواب کو بیداری سے افضل جانتی ہے۔ جیسے
صفحہ۵۵۵
حضرت جنید افضل جانتے تھے۔ اس لیے کہ نمائش بزرگوں، ولیوں اور اکثر پیغمبروں کے خواب سے تعلق رکھتی ہے، یعنی خواب دیکھتے ہیں اور اپنا مقصد پاتے ہیں۔ حضور ﷺ نے بھی فرمایا:
"اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے جب بندہ کو سجدہ میں سویا ہوا پاتا ہے۔ فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! اس بندۂ مومن کو دیکھو کہ اس کی جان رازگوئی میں ہے اور اس کا بدن بساطِ عبادت پر ہے۔"
"جو باطہارت سو جائے اس کی روح کو اجازت ہے کہ عرش کا طواف کرے اور اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرے۔"
اور میں نے حکایتوں میں معلوم کیا ہے کہ شاہ شجاع کرمانی رحمۃ اللہ علیہ چالیس سال بیدار رہے۔ جب ایک رات سو گئے تو لقاءِ ربانی نصیب ہوا۔ پھر ہمیشہ لقا کی امید میں سو جاتے۔
ایک جماعت کو میں نے دیکھا کہ وہ بیداری کو سونے سے افضل جانتی ہے، جیسے علی بن سہل رضی اللہ عنہ۔ اس لیے کہ وحی کا رسولوں پر آنا اور اولیاء کی کرامتیں بیداری میں ہوتی ہیں۔
ایک شیخ فرماتے ہیں: لَوْ كَانَ فِي النَّوْمِ خَيْرًا لَكَانَ فِي الْجَنَّةِ۔ "اگر نیند میں بہتری ہوتی تو وہ جنت میں بھی ہوتی۔" کیونکہ جنت مقامِ قرب کا نام ہے اور قرب میں نیند نہیں ہوتی، اور نیند چونکہ حجاب ہے تو معلوم ہوا کہ حجاب جنت میں نہیں۔ اور اربابِ لطائف فرماتے ہیں کہ جب آدم صفی اللہ بہشت میں سو گئے تو ان کے بائیں پہلو سے حضرت حواء علیہا السلام پیدا ہوئیں اور سب بلائیں جو آپ پر وارد ہوئیں حضرت حواء کے باعث ہوئیں۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو فرمایا: ﴿يٰبُنَيَّ اِنِّيْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّيْٓ اَذْبَحُكَ﴾ (۱) "بیٹا میں نے خواب میں دیکھا کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں۔" تو اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا: هٰذَا جَزَاءُ مَنْ نَامَ عَنْ حَبِيْبِهٖ لَوْ لَمْ تَنَمْ لَمَا اُمِرْتَ بِذَبْحِ الْوَلَدِ۔ "یہ جزا ہے اس کی جو اپنے حبیب سے
حاشیہ: ۱۔ سورۃ الصافات: ۱۰۲
صفحہ۵۵۶
غافل ہو کر سو جائے۔ اگر آپ نہ سوتے تو بیٹا ذبح کرنے کا حکم نہ ہوتا۔" تو آپ کے خواب نے آپ کو بے پسر کیا اور مجھے بے جان۔ لیکن میرا درد تو ایک ساعت ہوگا مگر آپ کا درد دوامی ہے۔ (۱)
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ہر رات آپ نمک کا پانی سکورے میں بھر کر اپنے سامنے رکھتے اور ایک سلائی۔ جب غلبۂ خواب ہوتا تو سلائی بھر کر آنکھ میں ڈال لیتے۔
اور میں (علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) نے ایک پیر مرد کو دیکھا کہ جب ادائے فرض سے فارغ ہوتا، سو جاتا۔ اور شیخ احمد سمرقندی کو دیکھا کہ آپ بخارا میں تھے کہ چالیس رات خواب نہ فرماتے اور دن میں تھوڑی دیر سوتے۔ یہ مسئلہ اس طرف راجع ہے کہ جب کسی کے خیال میں موت زندگی سے بہتر ہو تو اسے چاہیے کہ زیادہ سوئے، اور جس کے نزدیک زندگی موت سے محبوب ہو اُسے چاہیے کہ جاگے۔ تو قدر و قیمت اُسے بیداری کی نہیں ہو سکتی جو تکلف سے بیدار رہا، بلکہ بیداری کی قدر اسے ہے جسے بیدار رکھنے والا بیدار رکھے۔
جیسا کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ فرما کر درجۂ عالی پر پہنچایا۔ آپ ﷺ نہ خواب میں تکلف فرماتے نہ بیداری میں۔ پھر جب فرمانِ حق آیا: ﴿قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا نِّصْفَهٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا﴾ (۲) "شب میں بیدار رہو مگر تھوڑے، آدھی رات یا اس سے کم۔" تو قدر و قیمت اسے کیا ہو جو بتکلف سوئے۔ قدر و قیمت اسے ہی ہو سکتی ہے جسے سلانے والا سلائے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کو برگزیدہ فرما کر اعلیٰ مقام بخشا اور لباسِ کفران ان کی گردن سے اُتارا۔ وہ نہ سونے میں تکلف کرتے ہیں نہ بیداری میں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خواب ہی میں رکھا اور وہ بے غیر اختیارِ حق تعالیٰ میں پرورش پا رہے ہیں جیسا کہ فرمایا: ﴿وَتَحْسَبُهُمْ اَيْقَاظًا وَّهُمْ رُقُوْدٌ وَّنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ﴾ (۳) یہ دونوں بے اختیاری کے حال میں ہیں۔ اور جب بندہ کسی ایسے درجے پر پہنچ جائے کہ بے اختیار ہو اور سب سے بے تعلق ہو جائے اور اس کا رابطہ غیر سے منقطع ہو جائے تو اگر سو جائے یا بیدار رہے، جس حال میں بھی ہو، عزیزِ حق ہوتا ہے۔ تو مرید کا سونا ایسا ہونا چاہیے کہ وہ اس سونے کو آخری سونا سمجھے اور گناہوں سے توبہ کرے اور دشمنوں کو خوش کرتا ہوا پاکیزہ لباس میں رُو بہ قبلہ ہو کر دنیاوی کاروبار سے دست بردار اور نعمتِ اسلام
(میں بہ تکلف نیند چاہتا ہوں اور مجھے نیند نہیں، شاید کہ خواب میں تیرے خیالات میرے خیالات سے ملیں)
۲۔ سورۃ المزمل: ۲-۳ ۳۔ سورۃ الکہف: ۱۸
صفحہ۵۵۷
پر شکر گزار ہو، اور یہ عہد کرے کہ اگر بیدار ہوگا تو پھر گناہ نہ کرے گا۔ تو جس نے بحالتِ بیداری اپنا کام تمام کیا ہو، اُسے نہ خواب کا خوف اور نہ موت کا خطرہ۔ مشہور حکایتوں میں ہے کہ ایک پیر اس امام کے پاس جایا کرتا تھا جو مرتبہ، کلاہ پوشی اور رعونت میں رہ چکا تھا اور کہا کرتا تھا کہ غافلوں کو مرنا چاہیے۔ اس امام کو اس سے رنج پہنچتا کہ یہ مرد ہر وقت مجھ سے ایسی باتیں کرتا ہے۔ ایک روز اس نے امام سے کہا کہ آج میں تمام عیب ترک کر کے اطاعت شروع کروں گا۔
جب دوسرے دن وہ آیا تو امام نے کہا اے پیر! اب مرنا چاہیے۔ اس نے مصلیٰ بچھایا اور سر رکھا اور لیٹ گیا اور کہا میں مر رہا ہوں اور جان دے دی۔ امام کو اس سے آگاہی ہوئی۔ اس نے کہا یہ پیر مجھے کہا کرتے تھے کہ موت کے لیے تیار رہ، اور آج خود رخصت ہو گئے، اور ان مریدوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب تک نیند غالب نہ ہو سونا نہ چاہیے اور جب بیدار ہو تو اسے دوبارہ سونا حرام ہے۔ اس بحث میں بہت طویل کلام ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
صفحہ۵۵۸
ستائیسواں باب
بولنے اور چپ رہنے کے آداب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّٰهِ وَعَمِلَ صَالِحًا﴾ (۱) "اور کون اچھا ہے بات میں جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیے۔" اور فرمایا: ﴿وَقُوْلُوْا اٰمَنَّا﴾ (۲) "اور کہو ہم سب ایمان لائے۔" اور فرمایا ﴿قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ﴾ (۳) "قولِ معروف۔" واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اچھے کام کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ جیسے اس کی خداوندی کا اقرار اس کی ثناء اور مخلوق کو اس کی طرف آنے کی دعوت دینا اور بندہ کلامِ حق تعالیٰ کی روشنی میں ممیز اور منتخب کیا ہوا۔ جیسے فرمایا: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ﴾ (۴) "اور بیشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔" ایک جماعتِ مفسرین اس معنی میں اعزاز بہ کلامِ حق مراد لیتی ہے اور اگرچہ کلامِ حق بندہ ہونا بڑی زبردست نعمت ہے لیکن اس کی ذمہ داری کی آفت بھی بڑی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اَخْوَفُ مَا اَخَافُ عَلٰى اُمَّتِي اللِّسَانُ (۵) "زیادہ جس سے میں اپنی امت پر خوف کرتا ہوں وہ زبان ہے۔" اس لیے کہ کلام مثلِ شراب ہے کہ یہ عقل کو مست کرتی ہے۔ انسان جب اس کے پینے میں مبتلا ہوتا ہے، بچ نہیں سکتا۔
جب اہلِ طریقت پر یہ امر منکشف ہوا کہ کلام بھی ایک آفت ہے تو انہوں نے بلا ضرورت کلام ترک کر دیا اور اپنے ہر کلام کی ابتدا و انتہا پر خاص نگران رہے اور اگر وہ تمام کلامِ حق ہو تو کہہ دیتے ہیں ورنہ خاموش رہتے ہیں، اس لیے انہیں یقین ہے کہ اللہ راز دان ہے اور وہ بہت
۵۔ یہ اس حدیثِ پاک کا جز ہے جسے امام احمد بن حنبل نے سفیان بن عبداللہ ثقفی سے ایک سے زیادہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور وہ سب الفاظ ایک ہی معنی کے حامل ہیں۔ مکمل حدیث اس طرح ہے: عن سفیان بن عبداللہ الثقفی، قال: قلت یا رسول اللہ، حدثنی بأمر اعتصم بہ، قال: قل ربی اللہ ثم استقم، قال: قلت یا رسول اللہ ما أخوف ما تخاف علیّ؟ قال: فأخذ بلسان نفسہ ثم قال: ھذا۔ ملاحظہ کیجیے: مسند احمد بن حنبل (۳/۴۱۳)، سنن ابن ماجہ (۲/۱۳۱۴)، مشکاۃ المصابیح (ص ۴۱۳)۔
صفحہ۵۵۹
برے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو راز دان نہیں جانتے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ﴾ (۱) "کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کے رازہائے نہاں نہیں جانتے؟ یہ غلط ہے بلکہ ہم بھی جانتے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کے پاس رہ کر لکھتے ہیں۔" اور ہم عالم الغیب ہیں۔ چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا: مَنْ صَمَتَ نَجَا (۲) "جو خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔" تو خاموشی میں جو فائدہ ہے وہ کلام کرنے میں نہیں، اس لیے کہ بولنے میں بہت آفتیں ہیں۔
ایک جماعتِ مشائخِ کرام رحمہم اللہ تو خاموشی کو بولنے پر فضیلت دیتی ہے اور ایک جماعت کلام کو خاموشی پر ترجیح دیتی ہے۔ ان میں سے حضرت جنیدؒ نے فرمایا کہ عبارتیں تمام دعوے ہیں اور جہاں معنی ثابت ہوں وہاں دعویٰ بے فائدہ ہوتا ہے اور ایک وقت ہوتا ہے کہ بحالتِ اختیار قولِ ساقط کرنے میں معذور ہوتا ہے اور جب حالتِ خوف ہو تو باوجود قوتِ کلام نہ کلام کرنے کا عذر ہوتا ہے لیکن معنی ساقط نہیں ہوتے اور اگر حقیقتِ معرفت کا انکار کرے تو جب معنی باقی ہوں تو بلا زبان کہنا موجود ہوتا ہے۔ اور کسی وقت بندہ بغیرِ معنی کے صرف دعوے سے معذور نہیں ہوتا۔ اس کا حکم منافق کا ہے اس لیے کہ بے معنی دعویٰ نفاق ہے اور بلا دعویٰ اور بے معنی اخلاص۔ لِاَنَّ مَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰى بَيَانٍ لَّمْ يَسْتَغْنِ عَنِ اللِّسَانِ وَ مَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰى عِيَانٍ اِسْتَغْنٰى فِيْمَا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ رَبِّهٖ مِنَ اللِّسَانِ۔ "اس لیے کہ جو بنیاد ڈالے اس پر کہ ایک راز جنابِ ربانی اس میں ظاہر ہے، اس کے عرض کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔" یعنی جب بندہ پر راستہ کھلے تو وہ گفتگو کرنے سے بے پرواہ ہو جاتا ہے اور عبارت کے معنی بتانے کو غیر کی خبر دینا سمجھتا ہے اور اللہ تعالیٰ
حواشی:
۱۔ الزخرف: ۸۰
۲۔ امام ترمذی نے اسے بطریق ابن لہیعہ اپنی "جامع" (۲۵۰۱) میں روایت کیا ہے۔ امام سخاوی المقاصد الحسنہ میں کہتے ہیں کہ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے غریب کہا ہے، امام دارمی، امام احمد اور دیگر محدثین نے اسے عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس کا مدار ابن لہیعہ پر ہے، جسے اس نے یزید بن عمرو سے، اس نے ابو عبدالرحمٰن الحبلی سے روایت کیا ہے لیکن اس کی شاہد روایات کثیر تعداد میں ہیں جن میں سے ایک امام طبرانی کے ہاں عمدہ سند کے ساتھ ہے۔
مزید حوالہ کے لیے: مسند الاحمد بن حنبل (۲/۱۷۷، ۲۱۲)، سنن الدارمی (۲/۲۷۱)، من طرق من ابن لہیعہ)، الأمثال لأبی الشیخ (۲۰۷)، المعجم الکبیر للطبرانی (۱۰۷)، الترغیب لابن شاہین (۱/۱۰۷)، إحیاء علوم الدین (۳/۸۰)، الجامع الصغیر (۲/۱۷۳)، مسند الشہاب للقضاعی (۱/۲۱۹)، المقاصد الحسنۃ للسخاوی (ص ۱۹۱، حدیث: ۱۱۴۱)
صفحہ۵۶۰
تفسیرِ احوال سے بے نیاز ہے۔ اسے پرواہ نہیں کہ بیان غیر سے اس کی طرف مشغول ہو۔ اور جنید رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول: "مَنْ عَرَفَ اللّٰهَ كَلَّ لِسَانُهٗ" اس کی تائید کرتا ہے۔ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کا عرفان دل سے کر لیا اس کی زبان بیان سے گونگی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ عبارت کا بیان حجاب ہے۔
اور شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے کھڑے ہو کر بآوازِ بلند فرمایا: "یا مرادی" اور اس میں اشارہ حق تعالیٰ کی طرف کیا۔ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اے ابا بکر شبلی! اگر تیری مراد حق تعالیٰ سے ہے تو تُو نے یہ اشارہ کیوں کیا؟ کیونکہ وہ اس سے بے نیاز ہے اور اگر تیری مراد یہ نہیں تو تُو نے کیوں کہا، حق تعالیٰ تیرے کہنے پر آگاہ ہے؟ تو حضرت شبلی نے اپنے کہنے پر استغفار کی۔
اور جس جماعت نے کلام کو چپ رہنے پر فضیلت دی وہ کہتے ہیں کہ اپنی حالتِ حق سے بیان کرنا لازم ہے کیونکہ دعویٰ بمعنی قائم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ہزار سال دل اور سر کا عارف ہو اور ضرورت مانع نہ ہو تو اس کا قرارِ معرفت سے متعلق نہ ہو اور اس کا حکم کا فروں کا ہے۔
اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو شکرِ نعمت اور حمد و ثناءِ منعم کا حکم دیا ہے اور حضور ﷺ کو ﴿وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ (۱) "اپنے رب کی نعمتوں کا بیان کر" فرمایا اور تحدیثِ نعمت یہ کلام ہے اور ہماری طرف سے ثناء و حمد یہ بھی کلام ہے اور اللہ تعالیٰ نے ﴿اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ (۲) "مجھ سے مانگو میں قبول کروں گا" بھی فرمایا اور ﴿اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ﴾ (۳) "میں پکارنے والوں کی دعائیں قبول کرتا ہوں جب وہ پکارتا ہے" اور اس طرح کے اور بیان بھی ہیں۔
ایک شیخ فرماتے ہیں کہ جس کا حال اپنے وقت سے بیان نہ ہو اس کا وقت وقت نہیں۔ چونکہ تیرا وقت بیان کرنے والی تیری ذات ہے۔
"میری زبانِ حال میری زبان سے فصیح تر ہے اور میری خاموشی میرے سوال کا ترجمہ ہے۔"
میں نے حکایتوں میں دیکھا کہ ایک روز ابوبکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ بغداد کے ایک محلہ میں جا رہے تھے کہ ایک مدعی کو دیکھا کہ کہہ رہا تھا: اَلسُّكُوْتُ خَيْرٌ مِّنَ الْكَلَامِ۔ شبلی نے فرمایا: سُكُوْتُكَ خَيْرٌ مِّنْ كَلَامِكَ وَكَلَامِيْ خَيْرٌ مِّنْ سُكُوْتِيْ لِاَنَّ كَلَامَكَ لَغْوٌ وَسُكُوْتَكَ هَزْلٌ وَكَلَامِيْ خَيْرٌ مِّنْ سُكُوْتِيْ لِاَنَّ سُكُوْتِيْ حِلْمٌ وَكَلَامِيْ عِلْمٌ۔ "خاموش
رہنا بولنے سے اچھا ہے۔" حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تیرا خاموش رہنا تیرے بولنے سے اچھا ہے اور میرا بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ اس لیے کہ تیرا بولنا لغو اور تیری خاموشی ہزل ہے اور میرا کلام مرے سکوت سے یوں بہتر ہے کہ میرا سکوت بھی حلم ہے اور میرا کلام علم ہے۔ "اگر میں علم نہ کہوں تو حلم اس پر ہے اور کہوں تو علم ہے۔ اگر نہ کہوں تو حلیم ہوں اور کہوں تو علیم۔"
اور میں علی بن عثمان (رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ کلام کی دو قسمیں ہیں اور سکوت بھی دو قسم کے ہیں۔ کلام ایک حق ہے، ایک باطل، اور سکوت ایک حصولِ مقصود کے لیے، دوسرے غفلت میں۔ تو جسے بیان کرنا درپیش ہو تو اس کی گفتگو اور خاموشی میں دیکھا جائے گا۔ اس کا کہنا حق ہے۔ تو یہ بولنا چپ رہنے سے اچھا ہے اور اگر کلام باطل ہے تو بولنے سے چپ رہنا اچھا ہے اور اگر حجاب اور غفلت سے خاموش ہے تو بولنا چپ رہنے سے بہتر ہے۔ اور بہت لوگ اس پر حیران ہیں۔ ایک گروہ مدعیوں سے بیہودہ اور ہوس کا شکار ہے۔ وہ جو کہتا ہے کہ بولنا چپ رہنے سے افضل ہے، اور جاہلوں کا گروہ جو منارہ اور کنویں میں فرق نہیں کرتا وہ خاموشی کو بولنے سے اچھا کہتا ہے۔ یہ دونوں کسی کو بلائیں یا خاموش کرائیں، ایک سے ہیں۔ اَلَّا مَنْ نَطَقَ اَصَابَ اَوْ غَلِطَ وَ مَنْ اُنْطِقَ عُصِمَ مِنَ الشَّطَطِ "جو کلام کرتا ہے یا خطا کرتا ہے یا صحیح بولتا ہے اور جو بُلا رہا ہے وہ خطا و خلل سے بچا ہوا ہے۔" جبکہ ابلیس لعنۃ اللہ علیہ نے کہا: ﴿اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ﴾ (۱) "میں اس سے بہتر ہوں۔" اور آدم علیہ السلام بولے: ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا﴾ (۲) "اے ہمارے رب ہم نے ظلم کیا اپنی جان پر۔" یہ مدعیانِ طریقت اپنے کلام میں اجازت یافتہ ہو کر اضطرار میں ہوتے ہیں اور خاموشی میں شرم زدہ اور بیچارہ ہوتے ہیں: مَنْ كَانَ سُكُوْتُهٗ حَيَاءً كَانَ كَلَامُهٗ حَيٰوةً۔ "جو حیاء کے باعث خاموش رہا، اس کا کلام دل کو زندہ کرتا ہے۔" کیونکہ یہ دیکھ کر کلام کرتا ہے اور بغیر دیکھے کلام کرنا معیوب جانتا ہے اور نہ بولنا بولنے سے زیادہ پسند کرتا ہے، جب تک ہوش میں ہو اور جب بے خود ہو جاتا ہے تو لوگ اس کا بولنا جان پر لکھتے ہیں۔ اسی بناء پر پیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مَنْ كَانَ سُكُوْتُهٗ ذَهَبًا كَانَ كَلَامُهٗ لِغَيْرِهٖ مُذْهَبًا۔ "جس کا چپ رہنا بحالتِ بے خودی ہو اس کا کلام غیر کے لیے مذہب ہوتا ہے۔" تو طالبِ ربانی کو چاہیے کہ عبودیت میں محو ہو کر چپ رہے تاکہ ربانی آدمی جس کا کلام ربوبیت سے ہو، کلام کرے اور اس کا کلام مریدوں کے دل شکار کرے اور کلام میں یہ ادب ہے کہ بدون امر کے نہ کہے اور امر سے باہر بھی نہ کہے اور چپ رہنے میں یہ ادب ہے کہ جاہل نہ ہو اور نہ جہالت پر راضی اور نہ غافل ہو۔
حواشی: ۱۔ سورۃ ص: ۷۶ ۲۔ سورۃ الاعراف: ۲۳
صفحہ۵۶۲
مرید کو لازم ہے کہ پیروں کی بات میں دخل اور تصرف نہ کرے اور عبارت عجیب اور پراگندہ نہ رہے جیسے زبان سے کلمۂ شہادت کہا ہے اور اقرارِ توحید کیا ہے۔ اسی طرح جھوٹ اور غیبت نہ کرے اور مسلمانوں کو رنج نہ دے اور درویشوں کو صرف نام سے نہ بلائے اور درویش کے چپ رہنے کی شرط یہ ہے کہ حق کے سوا وہ کچھ نہ کہے اور اس کی بہت شاخیں ہیں اور بیشمار لطیفے۔ لیکن میں اسی پر اکتفاء کرتا ہوں تاکہ کتاب طویل نہ ہو جائے۔ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
صفحہ۵۶۳
اٹھائیسواں باب
آدابِ سوال و ترکِ سوال
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَا يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا﴾ (۱) "لجاجت کے ساتھ لوگوں سے سوال نہیں کرتے۔" اور جب کوئی ان سے سوال کرے تو رد نہیں کرتے۔ جیسا کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾ (۲) "سوالی کو نہ جھڑک۔" اور چاہیے تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے سوال نہ کرے اور غیر کو محلِ سوال بھی نہ بنائے۔ اس لیے کہ غیر سے سوال جب ہی کیا جائے گا جب اللہ تعالیٰ سے منہ موڑ کر غیر خدا کی طرف متوجہ ہو۔ تو جب بندہ اللہ تعالیٰ سے روگرداں ہو تو وہ رد کر دیا جاتا ہے، یعنی پھر اللہ تعالیٰ اس کی طرف توجہ نہیں فرماتا۔
مجھے معلوم ہوا کہ ایک دنیا دار نے حضرت رابعہ عدویہ رحمۃ اللہ علیہا سے عرض کی: آپ مجھ سے کچھ مانگیں تاکہ میں آپ کو پیش کروں۔ آپ نے فرمایا: مجھے تو خالقِ دنیا سے مانگتے شرم آتی ہے تو کیا مجھے اپنے جیسے سے سوال کرتے ہوئے شرم نہ آئے گی۔ کہتے ہیں ابو مسلم صاحبِ دعوت کے عہد میں ایک بے گناہ درویش پر چوری کی تہمت لگی۔ انہیں قید خانہ میں بند کر دیا گیا۔ جب رات ہوئی ابو مسلم نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ فرما رہے ہیں: اے ابو مسلم! مجھے اللہ تعالیٰ نے تیرے پاس بھیجا ہے کہ میرے دوست کو بے گناہ قید میں بند کیا ہے۔ اُٹھ اور اسے نکال۔
ابو مسلم خواب سے چونک پڑا، ننگے سر، ننگے پیر قید خانہ کے دروازہ پر آیا اور حکم دیا کہ دروازہ کھولو اور اس درویش کو باہر نکالو۔ جب آپ باہر تشریف لائے تو ابو مسلم نے معذرت کی اور عرض کیا: حضور! کسی چیز کی ضرورت ہو تو فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: اے امیر! جس کا ایسا خداوند ہو کہ آدھی رات کے وقت ابو مسلم کو بستر سے اٹھا کر میری رہائی کے لیے بھیج دے اور اسے قید سے آزاد کرائے، اسے کیا یہ جائز ہے کہ اپنی ضرورت غیروں سے پوری کرائے۔ یہ سن کر ابو مسلم رو پڑا اور وہ درویش چلے گئے۔
پھر ایک جماعت کہتی ہے کہ درویش کو خلقت سے سوال کرنا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿لَا يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا﴾ (۳) فرماتا ہے، یعنی "لجاجت کے بغیر وہ لوگوں سے سوال کرتے
ہیں۔" اور حضور ﷺ نے بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی ضرورت کے وقت سوال فرمایا اور ہمیں بھی حکم دیا: اُطْلُبُوا الْحَوَائِجَ عِنْدَ حِسَانِ الْوُجُوْهِ (۱) "اچھی صورت والوں سے حاجتیں طلب کرو۔"
دوسرے مشائخِ کرام نے سوال تین وجوہ سے جائز رکھا ہے۔ ایک فراغتِ دل کے لیے، جو ضروری ہو اور کہتے ہیں کہ ہم دونوں جہان کی وہ قیمت نہیں سمجھتے کہ دن رات اس کے انتظار میں گزاریں اور بحالتِ اضطرار اللہ تعالیٰ کے سوا حاجت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ کوئی شغل کھانے کا ہو یا اس کے انتظار کا ہو، کچھ نہیں اور اسی قسم پر حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ نے شفیق کے مرید کو فرمایا جب وہ آپ کی زیارت کے لیے آیا۔ اول آپ نے حضرت شفیق کا حال پوچھا۔ مرید نے عرض کیا وہ فارغ از خلقت ہو کر توکل میں بیٹھے ہیں۔
حضرت ابو یزید نے فرمایا: تو واپس جا اور شفیق سے کہہ کہ اللہ تعالیٰ کو دو روٹی پر نہ آزما۔ جب تجھے بھوک ہو تو دو روٹی ہم جنسوں سے مانگ لے اور توکل چھوڑ، تاکہ شہرو ولایت تیرے عمل کی نحوست سے غرق نہ ہو اور دوسرے لوگوں نے ریاضتِ نفس کے لیے سوال اختیار کیا ہے
حاشیہ:
۱۔ امام طبرانی نے اسے المعجم الکبیر میں یزید بن صیفیہ کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور ابن ابی الدنیا نے اسے قضاء الحوائج میں، ابو الشیخ نے امثال میں، خطیب نے تاریخ میں، ابن جوزی نے الموضوعات میں اور ابن حبان نے کتاب المجروحین میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور امام قضاعی نے مسند الشہاب میں ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت کیا ہے: اطلبوا حوائجکم عند صباح الوجوہ۔ امام سیوطی نے الجامع الصغیر میں اور ملا علی قاری نے الموضوعات میں اسے ذکر کیا ہے اور ملا علی قاری نے کہا ہے کہ اس حدیثِ پاک کا کم از کم مرتبہ حسن ہونا یا ضعیف ہونا ہے، اور اس کا موضوع ہونا تو ایسا ہرگز نہیں۔ امام سیوطی نے اللآلی المصنوعہ میں اسے ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے خیال میں یہ حدیث درجہ حسن میں ہے مگر شیخ ناصر الدین البانی نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ حوالہ کے لیے دیکھیں: احیاء علوم الدین (۳/۱۰۳)، اتحاف السادۃ المتقین (۹/۹۱)، تاریخ بغداد (۳/۱۸۵)، التاریخ الصغیر للبخاری (۲/۱۷۶)، التاریخ الکبیر (۱/۵۱)، مجمع الزوائد للہیثمی (۸/۱۹۴)، اللآلی المصنوعہ للسیوطی (۲/۴۳)، کتاب المجروحین (۱/۲۲۸)، المطالب العالیہ (۲۶۳۰)، المعجم الکبیر للطبرانی (حدیث: ۱۱۱۱۰)، المعجم الاوسط (۵۹۲)، ضعفاء العقیلی (۱۶۳)، حلیۃ ابی نعیم (۳/۱۵۶)، تاریخ اصبہان (۲/۱۵۱)، مصنف ابن ابی شیبہ (۹/۱۰۱)، المقاصد الحسنۃ للسخاوی (۱۶۱)، مسند الشہاب للقضاعی (۱/۳۸۴، حدیث: ۱۳۱۴)، قضاء الحوائج لابن ابی الدنیا (۵۲)، امثال ابی الشیخ (۱۷)، موضوعات ابن الجوزی (۲/۱۶۳)، الفوائد المجموعہ للشوکانی (ص: ۲۲۰)
صفحہ۵۶۵
تاکہ نفس کو ذلیل کریں اور اپنے دل کو رنجور کریں اور اپنی حیثیت سمجھیں کہ ہر ایک ان کی کتنی قدر کرتا ہے۔ پھر تکبر نہ کریں اور کسی کو رنج نہ دیں۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ جب شبلی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آئے۔ حضرت جنید نے فرمایا: اے ابو بکر شبلی! جب تک تیرے سر میں یہ غرور ہے کہ میں خلیفہ صاحبِ الحجاب کا بیٹا ہوں اور سامرہ کا امیر ہوں تو تجھ سے کچھ نہ ہو سکے گا۔ جب تک تو بازار میں ہر کس و ناکس سے سوال نہ کرے گا، تجھے اپنی قیمت معلوم نہ ہوگی۔
چنانچہ حضرت شبلی نے ہدایت کے موافق عمل کیا۔ ہر روز ان کی قدر و منزلت کم ہوتی گئی۔ چھ سال میں یہ حال ہو گیا کہ تمام بازار میں پھرے اور کسی نے انہیں کچھ نہ دیا۔ پھر حضرت جنید کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حال سنایا۔ حضرت جنید نے فرمایا کہ اے ابو بکر! اب اپنی قدر جان لے کہ خلقت تجھے کس نظر سے دیکھتی ہے تو بھی ان سے دل نہ لگا اور ان کی قدر نہ کر۔ یہ معنی ریاضت کے لیے ہیں، کسب کے لیے نہیں۔
اور حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں ایک رفیق موافق رکھتا تھا، اسے موت آ گئی اور وہ دنیا کی محبت سے عاقبت کی نعمت پر پہنچ گیا۔ میں نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے بخشا گیا۔ آپ نے پوچھا کس خصلت کے سبب؟ اس نے عرض کیا: مجھے لاکھڑا کیا گیا اور مجھ سے کہا گیا اے میرے بندے! چونکہ تو بہت ذلیل رہا اور سفلہ لوگوں اور بخیلوں سے تو نے رنج اٹھایا اور ان کے آگے ہاتھ پھیلایا اور صبر کیا، تجھے اس سبب سے بخشا گیا!
تیسرے لوگوں نے ادبِ حق کے لیے خلقت سے سوال کیا اور دنیا کا سب حال حق تعالیٰ کا سمجھا اور عامۂ خلائق کو اس کا وکیل سمجھا اور جو چیز ان کے نفس کے نصیب میں آئی اس کی حق تعالیٰ سے درخواست نہ کی بلکہ اس کے وکیل سے طلب کی اور اپنی بات وکیل سے کہی اور شاہد کے روبرو اپنی ضرورت جو بندہ وکیل کے پیش کرتا ہے، وہ زیادہ ادب و اطاعت سے ہے بہ نسبت اس کے کہ شاہد سے طلب کرے۔ پس اس کا غیر سے سوال کرنا جنابِ حق میں حضور اور توجہ کی اطاعت ہے۔ اس میں اغراض نہیں پائے جاتے۔
مجھے معلوم ہوا کہ یحییٰ بن معاذ کی ایک بیٹی تھی۔ ایک روز اس نے اپنی ماں سے کہا کہ مجھے فلاں چیز درکار ہے۔ اس کی ماں نے کہا: بیٹی خدا سے مانگ۔ لڑکی نے جواب دیا: اماں مجھے شرم آتی ہے کہ نفسانی ضرورت اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کروں اور جو کچھ تو دے گی وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ہوگی اور
صفحہ۵۶۶
میری روزی مقرر ہوگی۔
تو آدابِ سوال یہ ہے کہ اگر تجھے مقصود مل جائے تو نہ ملنے کی نسبت زیادہ خوش نہ ہو اور خلقت کو ویران نہ دیکھے اور عورتوں اور بازاریوں سے سوال نہ کرے۔ اپنا راز صرف اس پر ظاہر کرے جس کا مال حلال ہونے پر اعتبار ہو اور جہاں تک ہو سکے اپنا نصیب سمجھ کر سوال نہ کرے اور اس سے شانِ خانہ داری مطلوب نہ ہو اور اس چیز کو اپنی ملک نہ سمجھے اور وقت چلانے کا ارادہ نہ کرے۔ کل کا خیال دل پر نہ لائے تاکہ ہمیشہ کی ہلاکت میں گرفتار نہ ہو اور اللہ کا نام اپنی گدائی کے پلہ میں نہ باندھے۔ یعنی خدا کے واسطہ سے کچھ طلب نہ کرے اور اپنی پارسائی نہ جتائے تاکہ پارسائی کے خیال سے کچھ زیادہ دیں۔
میں نے معلوم کیا کہ صوفیان صاحبِ رتبہ میں سے ایک شخص جنگل سے بھوکا اور سفر کا رنج اٹھائے ہوئے کوفہ کے بازار میں آیا اور ایک چڑیا ہاتھ پر بٹھائے ہوئے کہتا تھا کہ اس چڑیا کے واسطے کچھ مجھے دو۔ لوگوں نے کہا تو کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا یہ محال ہے کہ میں کہوں خدا کے واسطے مجھے دو۔ دنیا کے لیے حقیر چیز کے سوا سفارش کرنے والا نہ چاہیے۔
یہ بیان بہت ہے۔ بخوفِ طوالت مختصر کیا ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
صفحہ۵۶۷
انتیسواں باب
آدابِ نکاح و تجرد
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾ (۱) "عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو۔" اور حضور ﷺ نے فرمایا: تَنَاكَحُوْا وَتَكَاثَرُوْا فَاِنِّيْ اُبَاهِيْ بِكُمُ الْاُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَوْ بِسِقْطٍ۔ (۲) "آپس میں نکاح کرو اور بڑھاؤ (اپنی نسلیں) میں تمہاری کثرت سے بروزِ قیامت امتوں پر فخر کروں گا، اگرچہ ساقط شدہ ہی بچہ ہو۔"
اور یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا: اِنَّ اَعْظَمَ النِّسَاءِ بَرَكَةً اَقَلُّهُنَّ مَؤُوْنَةً وَّ اَحْسَنُهُنَّ وُجُوْهًا وَ اَرْخَصُهُنَّ مُهُوْرًا۔ (۳) "برکت میں زیادہ وہ عورت ہے جس کی تکلیف کم ہو اور
حواشی:
۱۔ سورۃ البقرۃ: ۱۸۷
۲۔ یہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن اس کی ہم معنی روایت جماعتِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ امام ابوداؤد، امام نسائی اور امام بیہقی اور دیگر محدثین کرام نے حضرت معقل بن یسار کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے: تزوجوا الولود الودود فانی مکاثر بکم الامم۔ نیز امام احمد، سعید بن منصور، امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں، امام بیہقی اور دیگر محدثین کرام نے حضرت حفص بن عمر بن ابی انس کے طریق سے، انہوں نے اپنے چچا حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یامر بالباءۃ وینھی عن التبتل نھیاً شدیداً وھو یقول: تزوجوا الودود الولود، فانی مکاثر بکم الامم یوم القیامۃ۔ اسے امام سخاوی المقاصد الحسنہ میں لائے ہیں اور امام ابن حبان نے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ابن ماجہ نے اسے عطاء بن ابی رباح سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے: انکحوا فانی مکاثر بکم۔ حوالہ کے لیے دیکھیے: مسند الامام احمد (۳/۱۵۸، ۲۴۵)، صحیح ابن حبان (حدیث: ۴۲۲۸)، سنن سعید بن منصور (۴۹۰)، المعجم الاوسط للطبرانی (۱۹۰)، السنن الکبری للبیہقی (۷/۸۱)، المقاصد الحسنۃ (ص: ۱۶۵)
۳۔ اسے امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند (۶/۱۴۵) میں، امام نسائی نے اپنی سنن (۱/۹۹) کے باب عشرۃ النساء میں، امام حاکم نے المستدرک (۲/۱۷۸) میں، ابن ابی شیبہ نے مصنف (۴/۱۸۹) میں، ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (۲/۱۸۷، ۲/۲۵۷) میں، امام بیہقی نے السنن الکبری (۷/۲۳۵) میں اور شعب الایمان (ص: ۱۳۱) میں عیسیٰ بن میمون سے، انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ جبکہ امام سخاوی نے المقاصد الحسنہ (ص: ۴۳۳) میں ان الفاظ کے ساتھ لائے ہیں: ان من یمن المرأۃ تیسیر خطبتھا وتیسیر صداقھا وتیسیر رحمھا۔
صفحہ۵۶۸
خوبصورت ہو اور مہر کم ہو۔" اور یہ صحیح خبروں میں ہے کہ نکاح ہر مرد و عورت پر مباح ہے اور اس پر فرض ہے جو حرام سے بچ نہ سکے اور جو حقِ عیالداری پورا کر سکے اس کو سنت ہے۔ اس قصہ میں ایک جماعت کہتی ہے کہ نکاح دفعِ شہوت کے لیے اور فراغِ دل کے لیے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ نکاح نسل بڑھانے کو کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ جب فرزند ہو کر بچپن کی حالت میں فوت ہو جائے تو وہ شفیع ہوگا، اور اگر یہ فرزند ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ بچہ اس کا دُعا گو رہے گا۔
اور حدیث میں ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ام کلثوم بنت سیدہ زہرہ رضی اللہ عنہما سے نکاح کی درخواست ان کے والد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جواب دیا کہ وہ صغیرہ ہے اور آپ معمر ہیں، اور میرا خیال ہے کہ میں اپنے بھتیجے عمر بن جعفر سے اس کا نکاح کروں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آدمی بھیجا اور کہلوایا کہ ابو الحسن! دنیا میں بہت عورتیں ہیں، ام کلثوم سے میری نیت دفعِ شہوت نہیں بلکہ نسب ثابت کرنا مراد ہے۔ اس لیے کہ میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: كُلُّ نَسَبٍ وَّحَسَبٍ يَّنْقَطِعُ بِالْمَوْتِ اِلَّا نَسَبِيْ وَحَسَبِيْ (۱) "موت سے تمام حسب و نسب منقطع ہو جائیں گے مگر میرا نسب و حسب۔" اور ایک روایت میں ہے: كُلُّ سَبَبٍ وَّنَسَبٍ يَّنْقَطِعُ اِلَّا سَبَبِيْ وَنَسَبِيْ (۲) "ہر نسب اور حسب قطع ہو جائیں گے مگر میرا سبب اور نسب۔" اب مجھے سبب تو حاصل ہے، نسب آپ کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کی برکت سے میں محکم ہو جاؤں۔
حواشی:
۱۔ یہ اس طویل حدیث کا جز ہے جسے امام شوکانی الفوائد المجموعہ (ص: ۳۲۱) میں لائے ہیں۔ مکمل حدیث یوں ہے:
"إن كل نسب وسبب ينقطع يوم القيامة إلا نسبي وسببي، فجاء رجل فقال: مانسبك؟ فقال: العرب، قال: فما سببك؟ قال: الموالي، يحل لهم ما يحل لي، ويحرم عليهم ما يحرم عليّ، إن الله أوحى إلي أن لا أخرج في سرية إلا ويمينى رجل من العرب، فإن لم يكن فمن الموالي، فإن لم يكن فلا ناس فنام لا خير فيهم، يا سلمان: ليس لك أن تنكح نساءهم، ولا تأمرهم، إنما أنتم الوزراء، وهم الأئمة، ولو أن الله علم أن شجرة خير من شجرتي لأخرجني منها، وهي شجرة العرب۔" امام شوکانی کہتے ہیں کہ اس کی اسناد میں خارجہ بن مصعب منفرد راوی ہے اور وہ ثقہ بھی نہیں۔ امام سیوطی نے اللآلی المصنوعہ میں کہا ہے کہ اس کے لیے امام ترمذی نے اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ابن عدی الکامل میں کہتے ہیں کہ خارجہ بن مصعب ان راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث کو لکھا جاتا ہے۔ حوالہ کے لیے دیکھیے: السنن الکبریٰ للبیہقی (۷/۶۳) کتاب النکاح: باب الانساب کلھا منقطعۃ الا نسبہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، علل الدارقطنی (۲/۱۹۰، حدیث: ۲۱۱)
۲۔ ایضاً۔
صفحہ۵۶۹
چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی صاحبزادی اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا آپؓ کے عقد میں دے دی۔ پھر آپؓ سے حضرت زید بن عمر رضی اللہ عنہ متولد ہوئے اور حضور ﷺ نے فرمایا ہے: تُنْكَحُ النِّسَاءُ عَلٰى اَرْبَعَةٍ عَلَى الْمَالِ وَالْحَسَبِ وَالْحُسْنِ وَالدِّيْنِ فَعَلَيْكُمْ بِذَاتِ الدِّيْنِ فَاِنَّهٗ مَا اسْتَفَادَ امْرُؤٌ بَعْدَ الْاِسْلَامِ خَيْرًا مِنْ زَوْجَةٍ مُّؤْمِنَةٍ مُّوَافِقَةٍ يَّسُرُّ بِهَا اِذَا نَظَرَ اِلَيْهَا (۱) "عورتیں چار وجہ سے نکاح میں لائی جاتی ہیں: مال کی وجہ سے، حسب سے، حسن کی وجہ سے، دین کی وجہ سے۔ تو تم دین پر لازم پکڑنا کہ وہ تمہیں فائدہ دے گی اور اسلام کے بعد بہتر بیوی مومنہ ہے جو موافق ہوگی، جس کے دیکھنے سے دل خوش ہو جب اس کی طرف نظر ڈالو۔"
اس کی صحبت سے دین قوت پائے اور دنیا اُنس و محبت سے گزرے کیونکہ تنہائی میں وحشت ہے اور صحبت میں خوشی۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَلشَّيْطَانُ مَعَ الْوَاحِدِ (۲) مرد اور عورت جب تنہا ہوں تو ان کا مصاحب شیطان ہوتا ہے کہ شہوت کو اس کے دل میں ابھارے اور کوئی صحبت امان اور حرمت کے حکم میں عورت اور خاوند سے زیادہ نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اتفاق اور موافقت ہو اور ناجنس عورت سے زیادہ عذاب اور کسی چیز کا نہیں۔
تو درویش کو لازم ہے کہ پہلے اپنے معاملہ میں غور کرے اور تجرد کی آفتوں اور نکاح کی ذمہ داریوں کا خیال کرے کہ ان میں سے کس کا دفع اس کے دل میں آسان ہے۔ جو آسان ہو اس کی پیروی کرے۔ غرضیکہ مجرد رہنے میں دو آفتیں ہیں: ایک ترکِ سنت، دوسرا شہوت کا دل میں پرورش پانا اور حرام کے خطرے میں پڑنا۔ اور نکاح میں دو آفتیں ہیں: ایک غیر کی طرف دل کا مشغول ہونا۔ دوسرے بدن کو حظِّ نفس میں مشغول ہونا۔
حواشی:
۱۔ اسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں، امام مسلم، امام احمد، امام ابوداؤد، امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سند کے ساتھ ان الفاظ میں روایت کیا ہے: تنکح المرأۃ لاربع: لمالھا ولحسبھا ودینھا، فاظفر بذات الدین تربت یداک۔ امام احمد، امام ابویعلیٰ، امام بزار اور امام ابن حبان نے حضرت ابو سعید کی سند کے ساتھ ان الفاظ میں روایت کیا ہے: خذ بذات الدین والخلق، تربت یمینک۔ اور امام احمد اور امام مسلم نے اسے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے طریق سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے: فعلیک بذات الدین تربت یداک۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں: صحیح بخاری (۵۰۹۰)، فتح الباری (۹/۱۳۲)، صحیح مسلم (۱۴۶۶)، سنن ابی داؤد (۲۰۴۷)، سنن نسائی (۶/۶۸)، سنن ابن ماجہ (۱۸۵۸)، مسند الامام احمد (۲/۴۲۸، ۳۰۲، ۳/۸۰)، مسند البزار (۲/۱۵۲)، صحیح ابن حبان (۴۱۲۳)، المقاصد الحسنۃ (ص: ۱۶۵)۔
۲۔ اس حدیثِ شریف کا تفصیلی ذکر پیچھے آ چکا ہے۔
صفحہ۵۷۰
اس مسئلہ کی اصل، گوشہ نشینی اور مجلس گزینی کی طرف رجوع کرتی ہے اور جو خلقت میں صحبت اختیار کرے اس کے لیے نکاح ضروری ہے اور خلقت سے گوشہ نشینی چاہے، اسے مجرد رہنا موزوں ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: سِيْرُوْا فَقَدْ سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ (۱) "سفر کرو مجرد لوگ تم سے آگے بڑھ چکے ہیں۔" اور حسن بن حسین بصریؒ فرماتے ہیں: نَجَا الْمُخَفِّفُوْنَ وَهَلَكَ الْمُثَقَّلُوْنَ۔ "ہلکے بوجھ والے نجات پا گئے اور بھاری بوجھ والے ہلاک ہوئے۔"
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں ایک گاؤں میں ایک بزرگ کی زیارت کو گیا۔ جب میں وہاں پہنچا اور اس کا گھر دیکھا تو اولیاء اللہ کے گھروں کی طرح ستھرا تھا۔ اس میں دو محراب بنے ہوئے تھے۔ ایک محراب میں وہ بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسری محراب میں ایک بڑھیا پاکیزہ اور منور چہرہ لیے ہوئے بیٹھی ہوئی تھیں۔ دونوں ریاضت کی وجہ سے ضعیف ہو چکے تھے۔ میری حاضری سے بہت خوش ہوئے۔ تین روز میں وہاں رہا۔ جب میں نے واپسی کا ارادہ کیا تو چلتے ہوئے میں نے پوچھا کہ یہ پاک دامن آپ سے کیا تعلق رکھتی ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ یہ ایک جہت سے تو چچا کی بیٹی ہیں اور ایک جہت سے میری بیوی ہیں۔
میں نے کہا تین دن میں نے تمہیں آپس میں بہت بیگانہ دیکھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں پینسٹھ (۶۵) سال سے ہم دونوں اس حال میں ہیں۔ میں نے اس کی وجہ دریافت کی۔ فرمایا ہم بچپن میں باہمی عاشق تھے۔ ان کے والد مجھ سے اس کا نکاح نہیں کرنا چاہتے تھے اور انہیں ہماری محبت معلوم ہو چکی تھی۔ ایک مدت تک میں رنجیدہ رہا۔ حتیٰ کہ ان کے والد انتقال کر گئے۔ آخرش میرے والد نے اس کے ساتھ میرا عقد کر دیا۔ جب پہلی رات ہم یکجا ہوئے تو اس نے مجھ سے کہا: تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا انعام فرمایا کہ ہمیں ملا دیا اور ہمارے دلوں کو خوف و غم سے صاف کیا۔ میں نے کہا کہ بیشک! ہم پر یہ بڑا فضل ہوا ہے۔
تو بیوی نے کہا اب ہمیں چاہیے کہ اپنے کو خواہشِ نفسانی سے روکیں اور آج رات میں سب سے پہلے اپنے نفس کو روک کر اپنی خواہش کو زیر پارو ندتی ہوں اور اس نعمت کے شکر میں عبادت کرتی ہوں۔
حاشیہ:
۱۔ مذکورہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن امام سخاوی نے المقاصد الحسنۃ (ص: ۲۴۷) میں عثمان بن ابی العاص کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: سیروا علی سیر اضعفکم۔ اور کہا ہے کہ ان الفاظ کے ساتھ اسے میں نہیں جانتا بلکہ امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور ابن ماجہ، ابن خزیمہ اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
صفحہ۵۷۱
میں نے کہا بہت اچھا۔ دوسری رات جب آئی تو اس نے وہی کہا اور ویسے ہی رات عبادت میں گزار دی۔ تیسری شب میں نے کہا کہ دو راتیں تو تمہاری خاطر سے گزریں، آج کی رات میری خاطر شب بیداری ہونی چاہیے۔ آج پینسٹھ سال گزر گئے ہیں کہ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا بھی نہیں اور لمس بھی نہیں کیا اور تمام عمر اس نعمت کے شکر میں گزار رہے ہیں۔
تو درویش جب نکاح کرے تو چاہیے کہ اس پردہ نشین کی خوراک حلال سے کمائے اور اس کا مہر مالِ حلال سے ادا کرے اور جب تک حقوقِ الٰہی اور اتباعِ امر سے اس کے ذمہ باقی رہے، ظِلِّ نفس کی طرف مشغول نہ ہو۔ پھر جب اپنے اور ادو معمولات سے فارغ ہو جائے اور اس سے ہمبستری کا ارادہ کرے تو بارگاہِ حق میں مناجات کرے: الٰہی! تو نے مشتِ خاکِ انسان میں شہوت پیدا کی ہے تاکہ دنیا آباد ہو اور تو نے اپنے علم میں ارادہ فرمایا کہ مجھے یہ صحبت ملی۔ یارب! میری اس محبت سے دو چیزیں بدل دے: ایک حرام کو حلال سے، دوسرے فرزندِ ولی پسندیدہ مجھے عطا ہو، نہ ایسا فرزند کہ میرے دل سے تیری یاد فراموش کرے۔
حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ کے یہاں فرزند متولد ہوا۔ بچپن میں وہ جب اپنی والدہ سے کھانا مانگتا تو والدہ کہتی کہ بیٹا اپنے رب سے مانگ۔ وہ محراب میں جاتا اور سجدہ کرتا۔ آپؒ کی والدہ خفیہ طور سے اس کی مطلوبہ چیز دے دیتیں اور صاحبزادے پر ظاہر نہ ہونے دیتیں کہ والدہ نے دیا ہے۔ حتیٰ کہ انہیں اپنے ربّ سے مانگنے کی عادت پڑ گئی۔ ایک روز جب وہ مکتب سے آئے، دیکھا کہ اماں موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے حسب معمول سجدہ کیا اور کھانا مانگا۔ اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیا۔ جب آپ کی والدہ آئیں تو دیکھا صاحبزادے کھانا کھا رہے ہیں، فرمایا: بیٹا! یہ کھانا کہاں سے آیا؟ فرمایا جہاں سے ہمیشہ آتا تھا۔
جب حضرت زکریا علیہ السلام، حضرت مریم علیہا السلام کے پاس آتے تو موسمِ گرما میں سرما کے پھل اور موسمِ سرما میں گرما کے پھل دیکھتے تو متعجب ہو کر پوچھتے ﴿اَنّٰى لَكِ هٰذَا﴾ (۱) "یہ تمہیں کس جگہ سے ملے؟" وہ فرماتیں: ﴿مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ﴾ (۲) "اللہ کے پاس سے۔"
تو درویش پر لازم ہے کہ کسی سنت کا استعمال دنیا اور حرام مشغلہ ذلیل میں نہ کرے کیونکہ درویش کی ہلاکت اس کے دل کی خرابی میں ہوتی ہے۔ جس طرح مالدار کی خرابی خانماں اور گھر کی خرابیوں سے ہوتی ہے۔ مگر جو کچھ مالدار کا نقصان ہو تو اس کی تلافی ہو سکتی ہے، لیکن جو درویش پر آفت آتی ہے اس کی تلافی نہیں ہوتی۔ ہم اپنے زمانہ میں دیکھتے ہیں کہ عورت کتنی ہی موافق ہو مگر
حواشی: ۱۔ سورۃ آل عمران: ۳۷ ۲۔ ایضاً
صفحہ۵۷۲
لازمی طور پر وہ بلا ضرورت زیادہ اور فضول اشیاء کی طالب ہوتی ہے۔
اس سبب سے ایک گروہ کہتا ہے کہ مجرد رہنے میں ہلکا رہا جاتا ہے اور انہوں نے تجرد ہی اختیار کیا ہے اور اس رعایت پر وہ عامل ہیں جو حضور ﷺ نے فرمایا: خَيْرُ النَّاسِ فِيْ اٰخِرِ الزَّمَانِ خَفِيْفُ الْحَاذِ قِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَا خَفِيْفُ الْحَاذِ؟ قَالَ الَّذِيْ لَا اَهْلَ لَهٗ وَلَا وَلَدَ لَهٗ (۱) "آخر زمانہ میں بہترین آدمی وہ ہوگا جو خفیف الحاذ ہو۔ عرض کیا گیا، حضور! خفیف الحاذ کیا ہے؟ فرمایا وہ لوگ جن کے بیوی بچے نہ ہوں۔"
حاشیہ:
۱۔ اسے امام ابویعلیٰ نے رواد بن جراح سے، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ربعی سے، انہوں نے حذیفہ بن الیمان سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: خیرکم فی المأتین کل خفیف الحاذ، قالوا: ما الحاذ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: من لا اھل لہ ولا ولد لہ۔ امام بیہقی نے اسے شعب الایمان میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے رواد سفیان سے روایت کرنے میں منفرد ہے۔ امام ابن جوزی نے امام دارقطنی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ دارقطنی نے کہا ہے کہ اس روایت میں رواد منفرد ہیں اور ضعیف ہیں۔ امام بخاری نے اسے ضعیف راویوں میں شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا حافظہ اختلاط کا شکار ہو گیا ہے اور ان کی روایت کردہ حدیث پختہ نہیں ہوگی۔ امام احمد فرماتے ہیں: اس کی حدیث مناکیر میں شمار کی جاتی ہے۔ امام خلیلی کہتے ہیں کہ رواد کو حفاظ نے ضعیف قرار دیا ہے اور اسے غلط کہا ہے اور اس معنی میں اس کی ساری روایات کمزور ہوگئی ہیں۔ امام ذہبی نے "میزان الاعتدال" میں "رواد" کو امام دارقطنی کے حوالے سے ضعیف کہا ہے جبکہ ابن معین نے اس کو ثقہ کہا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سفیان سے روایت کردہ یہ حدیث منکر ہے۔ امام ابو حاتم کہتے ہیں کہ یہ منکر ہے۔ اس کی روایت کردہ حدیث ثقہ راویوں جیسی نہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات بھی پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی رواد کے پاس آیا تو رواد نے اس کے سامنے یہ حدیث بیان کی اور اس نے اسے حسن قرار دیا اور لکھ دیا۔ ابن عدی نے رواد کے بارے میں کہا ہے کہ اکثر اوقات جس روایت کا راوی رواد ہو لوگ اس کی متابعت نہیں کرتے۔ امام عراقی نے اس کے تمام طرق و اسانید کو ضعیف کہا ہے۔ معروف روایت وہی ہے جسے امام ترمذی نے ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے: ان اغبط اولیائی عندی لمومن خفیف الحاذ، ذو حظ من الصلاۃ احسن عبادۃ ربہ، واطاعہ فی السر والعلانیۃ وکان غامضاً فی الناس، لایشار الیہ بالاصابع، وکان رزقہ کفافا، فصبر علی ذلک، ثم نفض بیدہ فقال: عجلت منیتہ، قلت بواکیہ، قل تراثہ۔ اسی طرح اسے امام احمد نے اور امام بیہقی نے کتاب الزہد میں اور حاکم نے المستدرک (باب الاطعمہ) میں روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ شامیوں کی یہ روایت ان کے نزدیک صحیح ہے۔ لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام ابن ماجہ نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: اغبط الناس عندی مومن خفیف الحاذ، اور اس حدیث کی شاہد روایت وہ ہے جسے خطیب وغیرہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے: اذا احب اللہ العبد اقتناہ لنفسہ ولم (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر...)
صفحہ۵۷۳
اور یہ بھی فرمایا: سِيْرُوْا فَقَدْ سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ (۱) "سیر کرو بیشک مجرد لوگ سبقت لے گئے ہیں۔" اور اس طریقت کے مشائخ اس امر پر متفق ہیں کہ اس طریقت میں بہت اچھے اور فاضل مجرد لوگ ہیں کہ ان کا دل آفات سے خالی ہے اور ان کی طبیعت معصیت کے ارادے اور شہوت سے روگرداں ہے۔
عام لوگ شہوت پرستی کے لیے اس حدیث کو دلیل لاتے ہیں جو حضور ﷺ سے مروی ہے: حُبِّبَ اِلَيَّ مِنْ دُنْيَاكُمْ ثَلَاثٌ الطِّيْبُ وَالنِّسَاءُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِيْ فِي الصَّلٰوةِ۔ "مجھے تمہاری دنیا سے تین چیزیں پسند کر دی گئیں: خوشبو، عورتیں اور نماز میں آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی۔" اور کہتے ہیں کہ جب عورتیں حضور ﷺ کو پیاری ہوئی تو نکاح کرنا تجرد سے افضل ہوا۔
میں کہتا ہوں کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ سے)
یشغفہ بزوجہ ولا ولدہ۔ امام دیلمی نے اسے زکریا بن یحییٰ صوفی سے، انہوں نے ابن حذیفہ الیمان سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے دادا حذیفہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے: خیر نسائکم بعد ستین ومئۃ العواقر، وخیر اولادکم بعد اربع وخمسین البنات۔ امام دیلمی نے اسے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً روایت کیا ہے: یاتی علی الناس زمان لان یربی احدکم جرو کلب خیر لہ من ان یربی ولداً من صلبہ۔ اس حدیث کو امام سیوطی نے الجامع الصغیر میں روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے اور الجامع الکبیر میں اسے امام ابویعلیٰ عن حذیفہ کی طرف منسوب کیا ہے اور ابن حبان، خطیب اور ابن عساکر کی طرف منسوب کیا ہے۔ "حاذ" کا لغوی معنی "حال" ہے یا اس کی اصل گھوڑے کی پیٹھ کا وہ حصہ ہے جس پر زین ڈالی جاتی ہے اور حاذ اور حال ایک ہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بندہ کے مال اور اہل و عیال کے کم ہونے کی وجہ سے بطور مثال بیان کیا ہے۔ حوالہ کے لیے دیکھیں: کشف الخفاء للعجلونی (۱۲۳۵)، المقاصد الحسنۃ للسخاوی (۴۵۲)، تاریخ بغداد للخطیب (۲/۱۹۸، ۱۱/۲۲۵)، الجامع الصغیر (۱۰۷)، میزان الاعتدال للذہبی (۲/۵۵)، مسند الامام احمد (۵/۲۵۲)، سنن الترمذی (۳/۲۹۲)، سنن ابن ماجہ (۳۱۳۳)، فیض القدیر للمناوی (۳/۴۹۷)، العلل المتناہیہ لابن الجوزی (۲/۴۶۲)، العلل لابن ابی حاتم (۲/۴۲۰)، اسنی المطالب (۴۰۹)، تمییز الطیب من الخبیث (۵۸۳)، الغماز علی اللماز (۱۰۲)، الجامع الکبیر (۱۳۸۹۳)، الدرر المنتثرۃ للسیوطی (۲۰۶)
۱۔ اس حدیثِ مبارکہ کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
صفحہ۵۷۴
لِيْ حِرْفَتَانِ اَلْفَقْرُ وَالْجِهَادُ (۱)
"میرے لیے دو حرفے ہیں: فقر اور جہاد۔"
تو اسے بھی اختیار کرنا چاہیے اور اس پیشہ کے علاوہ تمام پیشے ترک کرنے چاہئیں۔ اگر عورت بموجبِ حدیث پسند ہے تو بموجبِ حدیث پیشے بھی یہی دو پسند ہونے چاہئیں۔ لیکن چونکہ عورت کی طرف میلان زیادہ ہوتا ہے تو اس پر حدیث سند میں لانا زیادہ آسان ہوگیا اور فقر چونکہ مشکل ہے۔ جہاد چونکہ تکلیف لایطاق ہے لہٰذا اس طرف میلان دشوار ہے۔ یاد رکھو کہ کوئی پچاس سال اتباعِ شہوت میں گزارے اور خیال کرے کہ میں سنت کا تابع ہوں وہ بڑی سخت غلطی پر ہے۔
غرضیکہ پہلے فساد کا فتنہ سرِ آدم علیہ السلام پر جو آیا اس کا سبب عورت تھی اور پہلا فساد جو دنیا میں ہوا اس کا سبب بھی عورت تھی، یعنی فتنۂ ہابیل و قابیل، یہ بھی عورت کی وجہ سے ہوا۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو عذاب کرنا چاہا تو اس کی بنا بھی عورت ہوئی اور ہماری اس دنیا میں آج تک دین و دنیا کے سب فسادوں کی باعث عورتیں ہی ہیں اور حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
"میں نے اپنے بعد کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا جو مردوں کو زیادہ ضرر رساں ہو عورتوں کے سوا۔" تو جب ان کا فساد ظاہر میں اتنا ہے تو باطن میں کیسا ہوگا۔
اور میں علی بن عثمان جلابی کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے گیارہ سال آفتِ نکاح سے محفوظ رکھا۔ پھر اس کی تقدیر سے میں فساد میں مبتلا ہوا تو میرا ظاہر و باطن عیالداری کے باعث ایسے حال میں
حواشی:
۱۔ امام غزالیؒ اسے احیاء علوم الدین (۵/۵۳) میں ان الفاظ کے ساتھ لائے ہیں: ان لی حرفتین، فمن أحبھما فقد أحبنی، ومن أبغضھما فقد أبغضنی، الفقر والجھاد۔ امام حافظ عراقی نے "المغنی عن حمل الأسفار فی تخریج الاحیاء" (۱/۲۶۸) میں کہا ہے کہ اس روایت کی کوئی اصل مجھے نہیں ملی۔ شیخ البانی کہتے ہیں (۲/۴۰): کہ یہ روایت میرے نزدیک منکر ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فقر سے پناہ مانگی ہے۔ یہ کیسے باور کر لیا جائے کہ جس چیز سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود پناہ مانگیں اپنی امت کو اس کی محبت پر برانگیختہ کریں۔
۲۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت اسامہ بن زید سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور امام دیلمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغیر سند کے ان الفاظ میں مرفوعاً روایت کیا ہے: ما خاف علی أمتی فتنۃ أخوف علیھا من النساء والخمر۔ حوالہ کے لیے: المقاصد الحسنۃ للسخاوی (حدیث: ۱۴۱، ص: ۳۶۴)، صحیح بخاری (۵/۱۹۵۹) کتاب النکاح باب: مایتقی من شنوم المرأۃ، صحیح مسلم (کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ (الرقاق) باب: اکثر اھل الجنۃ الفقراء، حدیث: ۲۷۴۰)
صفحہ۵۷۵
گرفتار ہوا جو میں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی دکھایا اور ایک سال میں اس میں مستغرق رہا، حتیٰ کہ میرا دین تباہ ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ کمال سے پاکدامنی کو مجھ بیچارے کی پیشوائی کے لیے بھیجا اور اپنی رحمت سے خلاصی عطا فرمائی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى جَزِيْلِ نِعَمَائِهٖ۔
غرض یہ کہ اس طریقت کا قاعدہ مجرد پر رکھا گیا ہے۔ جب نکاح کا وقت آتا ہے، حال دگرگوں ہو جاتا ہے اور کوئی لشکر ایسا نہیں ہوتا جو عسا کرِ شہوت کا مقابلہ کر سکے۔ مگر ہتّش جہد و یقین سے ہی اسے بجھا سکتے ہیں۔ اس لیے کہ جو آفت ہوا کے دفعہ کا آلہ بھی تیرے ساتھ ہوگا۔ غیر سے ہرگز تیری حالت نہیں بدل سکتی۔ شہوت دو چیز سے زائل ہوتی ہے، ایک تکلیف سے، دوسرے کسبِ مجاہدہ سے۔ لیکن تکلیف، وہ آدمی کے مقدر میں ہے جو بھوک ہے اور جو تکلف سے بالاتر ہے وہ خوفِ الٰہی اور بیقرار کر دینے والی سچی محبت ہے جو متفرق ہمتوں سے جمع ہوتی ہے، اور محبت اپنا غلبہ اجزاءِ بدنی پر کرتی ہے اور تمام حواس کو اپنے وصف سے معزول کر دیتی ہے اور بندہ کو سب سے جدا کر دیتی ہے اور واہیات کو اس سے فنا کر دیتی ہے۔
حضرت احمد حماد سرخسی رحمۃ اللہ علیہ جو ماوراء النہر میں میرے رفیق تھے اور صاحبِ شان مرد تھے۔ لوگوں نے انہیں مجبور کیا کہ آپ کو نکاح کی ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ انہوں نے پوچھا کیوں؟ آپ نے فرمایا اس لیے کہ میں اپنے حال میں آپ سے غائب ہوتا ہوں یا حاضر۔ جب غائب ہوتا ہوں تو دو جہاں سے بے خبر ہوتا ہوں اور جب حاضر ہوتا ہوں تو میں اپنے نفس کو اتنا قابو میں رکھتا ہوں کہ جب اُسے دو روٹیاں ملتی ہیں تو وہ سمجھتا ہے کہ مجھے ہزار حوریں ملیں۔ تو دل کا شغل بڑا کام ہے، جس چیز سے ہو سکے بہتر ہے۔
دوسرے گروہ نے کہا کہ ہم بھی اپنا اختیار دونوں حال سے جدا کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ پردۂ غیب سے حکمِ تقدیر کیا ہوتا ہے۔ اگر مجرد ہونا ہمارے نصیب میں ہو تو اس میں پاکدامنی کی کوشش کریں گے اور اگر نکاح کرنا نصیب میں ہو تو سنت کے تابع ہو جائیں گے اور فراغتِ دل کی کوشش کریں گے۔
جب اللہ تعالیٰ کی حفاظت قائم ہوتی ہے تو بندہ کا مجرد ہونا ایسا ہوتا ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا زلیخا کی بلاء میں بچاؤ کی طاقت رکھتے ہوئے اپنی مراد سے روگردانی رہی اور خواہش کو مغلوب کرنے اور نفس کو عیب سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ جب زلیخا نے ان سے خلوت چاہی اور نکاح کی خواہش کی تو یہ نکاح مثلِ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہوا، جو حقِ تعالیٰ کے بھروسہ پر تھا اور مشاغلِ خانگی کو مشاغل نہ سمجھا۔ حتیٰ کہ جب حضرت سارہ علیہا السلام کو رشک ہوا اور
صفحہ۵۷۶
غیرت بڑھی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو ہمراہ لیا اور ایسے جنگل میں لے گئے جہاں کھیتی باڑی بھی نہ تھی۔ جسے ﴿بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ﴾ فرمایا گیا اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو حفاظتِ حق میں چھوڑ کر اُن سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی حفاظت میں رکھا جیسے چاہا۔ تو بندہ کا ہلاک ہو نا نکاح کرنے اور مجرد رہنے میں نہیں بلکہ اس کی بلا اپنے اختیار اور اتباعِ خواہشات پر ہے اور ہر متاہل کی شرطِ ادب یہ ہے کہ اس رشد کے بعد کوئی وِرد اس کے اوراد سے فوت نہ ہو۔
اور جس حال میں وہ تھا وہ ضائع نہ ہو، اور اس کا تباہ نہ ہو، اس کے ساتھ اپنے اہل کے ساتھ شفقت بھی رہے اور حلال نان و نفقہ کی رعایت بھی رکھے اور ظلم و جور بھی نہ کرے۔ حتیٰ کہ فرزند بھی اگر ہو تو انہیں شرائطِ ادب میں ہو۔
حکایت:
مشہور ہے کہ حضرت احمد بن حرب نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ ایک روز رؤساء و سادات نیشاپور سے ملے۔ وہ سلام کرنے حاضر ہوئے تھے۔ سب ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک لڑکا شراب سے بدمست گاتا ہوا آیا اور بلا خوف ان میں سے گزر گیا۔ تمام حضارِ مجلس کو ناگوار گزرا۔ شیخ احمد نے لوگوں سے کہا تمہیں کیا ہوا کہ یک لخت متغیر ہو گئے؟ سب نے عرض کیا کہ حضرت اس لڑکے کی بے حجابی سے صحبت پراگندہ ہو گئی۔ شیخ احمد نے فرمایا وہ معذور ہے، اس لیے کہ ایک رات ہمارے ہمسایہ نے کچھ کھانا بھیجا اور اسے ہم نے کھایا اور اس رات ہم بستری ہوئی۔ اس کھانے سے لڑکے کا نطفہ قرار پایا۔ اس رات نیند بھی اس قدر آئی کہ شب کے اوراد بھی رہ گئے۔ ہم نے جستجو کی۔ ہمسایہ سے پوچھا کہ جو کھانا تو نے بھیجا تھا، وہ کہاں سے آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ شادی والے گھر سے۔ جب مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ کھانا بادشاہ کے یہاں سے آیا تھا۔
اور شرطِ آدابِ مجرد یہ ہے کہ آنکھ نامناسب جگہ نہ ڈالے اور جو نہ کہنے کی بات ہو، نہ کہے اور جو نہ سوچنے کی بات ہو نہ سوچے۔ شہوت کی آگ کو بھوک کے پانی سے بجھائے اور دل کو دنیا و حوادثات کی مشغولیت سے نگاہ رکھے اور محض خواہشاتِ نفسانی کو الہام اور علم نہ کہے اور شعبداتِ شیطانی کی تاویل نہ کرے تاکہ طریقت میں مقبول ہو۔ یہ آدابِ صحبت اور عمل کا مختصر بیان ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
رہنمائی
پانچواں حصہ: اصطلاحات اور سماع
صوفیاء کے الفاظ کے معنی، پھر قرآن، شعر، اور سماع کے احکام۔
صفحہ۵۷۷
کشفِ حجابِ وہم: اصطلاحاتِ صوفیاء
جان لے تُو! اللہ تجھے سعید فرمائے کہ ہر اہلِ صنعت و معاملت نے باہمی کلام کرنے کو الفاظ و کلمات وضع کیے ہیں، جن سے عوام واقف نہیں ہوتے لیکن اہلِ فن سمجھ لیتے ہیں اور ان اصطلاحات و کلمات کے وضع کرنے سے دو چیزیں مراد ہوتی ہیں: ایک سمجھانے میں خوبیوں اور باریکیوں کا آسان ہونا ہے تاکہ پوشیدہ راز آسان ہو جائیں۔ دوسرے فن والا فن والے سے سمجھ سکے اور ناہل لوگ اس بھید سے محروم ہی رہیں۔
اس کے دلائل واضح ہیں، جیسے صرف والے فعلِ ماضی، مضارع، صحیح، معتل، اجوف، لفیف، ناقص وغیرہ بولتے ہیں۔ نحوی لوگ رفع، ضمہ، نصب، فتح، خفض، کسر، جزم، جر، منصرف، غیر منصرف وغیرہ بولتے ہیں۔ اہلِ عروض بولتے ہیں بحور، دوائر، سبب و تد، فاصلہ وغیرہ۔ اہلِ حساب اپنی مخصوص اصطلاحات میں فرد، زوج، ضرب، قسمت، کعب، جذر، اضافت، تضعیف و تنصیف، جمع و تفریق بولتے ہیں۔
فقہاء کی اصطلاحات مخصوص ہیں: جیسے علت، معلول، قیاس، اجتہاد، دفع، الزام وغیرہ۔ محدثین بھی مخصوص اصطلاح میں مسند، مرسل، احاد، متواتر، جرح، تعدیل وغیرہ کہتے ہیں۔ متکلمین نے بھی اپنے لیے اصطلاحات وضع کر رکھی ہیں جیسے عرض، جوہر، کل، جزو، جسم، حدث، تحیز و توالی وغیرہ۔
اسی طرح اس طائفۂ صوفیاء کی بھی اصطلاحات ہیں تاکہ اس راہ میں کوئی ناواقف تصرف نہ کر سکے اور اربابِ طریقت اپنا مقصد پورا ادا کر سکیں۔ چنانچہ ان کی اصطلاحات میں سے کچھ بیان کرتا ہوں تاکہ واضح ہو سکے کہ اس کی مراد اس بیان سے کیا ہوتی ہے اور اس کتاب کے پڑھنے والے فائدہ حاصل کر کے میرے حق میں دعا کریں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اسی میں سے حال اور وقت اور دونوں کا فرق بیان کرتا ہوں۔
حال اور وقت:
طائفۂ صوفیاء میں یہ لفظ بہت مشہور ہے اور مشائخِ کرامؒ کے اس میں بہت اقوال ہیں۔ میری مراد اس سے اثباتِ تحقیق ہے نہ کہ طویل بیان۔ وقت اسے کہتے ہیں کہ بندہ اس کی وجہ سے ماضی و مستقبل سے فارغ ہوتا ہے۔ یعنی ایک کیفیت جو وارد ہوتی ہے، وہ حق کی طرف سے اس کے دل پر پہنچے اور اس کے سر کو اس سے جمع کرے جیسے کشف میں جمع ہوتی ہے تو اس حال میں، اسے نہ تو
(یہ صفحہ یہیں ختم ہوتا ہے۔ جملہ "اسے نہ تو" اگلے صفحے پر جاری ہے جو فائلوں میں نہیں آیا۔)
صفحہ۵۷۸
گذشتہ حال یاد آتا ہے اور نہ آئندہ۔ تو یہ تمام مخلوق کو حاصل نہیں ہوتا اور وہ نہیں جانتے کہ ہمارا سابقہ حال کیا ہوگا اور ہمارا انجام کیا ہوگا۔
لیکن خداوندانِ وقت کہتے ہیں کہ ہمارا علمِ اوّل و آخر کو معلوم کر سکتا ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا اچھا وقت حاصل ہوتا ہے کہ ہم آئندہ کی طرف مشغول ہو جائیں یا اس کا اندیشہ دل پر لائیں۔ تو وقت سے محجوب ہو جاتے ہیں اور حجاب بڑی پریشانی ہوتی ہے۔ تو جو چیز حاصل نہ ہو سکے، اس کا اندیشہ محال ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوسعید خراز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اپنے وقت کو زیادہ عزیز چیزوں کے سوا مشغول نہ کر، اور بندہ کی عزیز چیز ماضی و مستقبل کا شغل ہے۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا: لِيْ مَعَ اللّٰهِ وَقْتٌ لَّا يَسَعُنِيْ فِيْهِ مَلَكٌ مُّقَرَّبٌ وَّلَا نَبِيٌّ مُّرْسَلٌ (۱) "مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ایسا وقت ہے جس میں مقرب فرشتہ اور نبی مرسل کو گنجائش نہیں۔" اس میں اٹھارہ ہزار عالم کا دل ہرگز نہیں ہوتا اور میری نظر میں اس کی کچھ قدر نہیں۔
اسی سبب سے جب شبِ معراج آسان و زمین کی زینت حضور ﷺ پر آشکارا کی گئی تو آپ ﷺ نے کسی چیز کو نہ دیکھا۔ حتیٰ کہ جنابِ رب العزت نے فرمایا: ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى﴾ (۲) "ہمارے حبیب کی نظر نہ پھری، نہ حد سے گزری۔" اس لیے کہ حضور ﷺ عزیز تھے اور عزیز کو عزیز کے سوا مشغلہ نہیں ہوتا۔ تو موجد کے دو وقت ہوتے ہیں: ایک ازخود رفتگی کی حالت میں، دوسرا وجد کی حالت میں۔ ایک وصال کے مقام میں، ایک فراق کے محل میں، اور وہ دونوں وقت میں مقہور ہوتا ہے، اس لیے کہ وصل میں اس کا وصل حق ہوتا ہے اور فضل میں اس کا فضل
حواشی:
۱۔ امام سخاوی نے اسے المقاصد الحسنہ میں ذکر کیا ہے۔ اکثر صوفیاء اس کا حوالہ دیتے ہیں اور یہ رسالۂ قشیریہ میں ان الفاظ کے ساتھ مرقوم ہے: لی وقت لا یسعنی فیہ غیر ربی۔ اور یہ معنوی طور پر اس حدیث کے مشابہ ہے جسے امام ترمذی نے "الشمائل المحمدیہ" میں اور ابن راہویہ نے اپنی "مسند" میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث میں ذکر کیا ہے: کان رسول اللہ ﷺ اذا اتی منزلہ جزأ دخولہ ثلاثۃ أجزاء: جزء للہ تعالیٰ وجزء لأہلہ وجزء بینہ وبین الناس۔ ملا علی قاری "الأسرار المرفوعۃ" (ص: ۲۶۴) میں رقمطراز ہیں: مذکورہ روایت میں ملکِ مقرب سے مراد جبرائیل علیہ السلام اور نبیِ مرسل سے اپنی ذاتِ بابرکات مراد ہے اور یہ مقامِ استغراق ہے جسے "سکر، محو اور فنا" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
حوالہ کے لیے: رسالۂ قشیریہ (۳۵)، کشف الخفاء ومزیل الالباس عمّا اشتھر من الأحادیث علی ألسنۃ الناس للعجلونی (حدیث: ۱۵۹۲)، اللؤلؤ المرصوع (ص: ۲۶)۔
۲۔ سورۃ النجم: ۱۷
صفحہ۵۷۹
حق ہوتا ہے اور اس میں اختیار و کسب نہیں ہوتا کہ اس کا وصف کیا جائے۔ جب بندہ کا اختیار اس کے وقت سے قطع ہو جائے تو وہ جو کچھ کرتا ہے وقت کو دیکھ کر نہیں کرتا۔
حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ آپؒ نے فرمایا کہ میں نے جنگل میں ایک درویش کو دیکھا۔ خارِ مغیلاں پر بیٹھا تھا اور وہ جگہ سخت تکلیف دہ تھی۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ بھائی! تو ایسی سخت جگہ سے آرام کیوں بیٹھا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا ایک وقت تھا جو یہاں ضائع ہوا ہے، اب یہاں بیٹھا ہوں اور غم کھاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہاں تو کتنی مدت سے ہے؟ اس نے کہا بارہ سال سے۔ اب اگر شیخ مجھ پر توجہ کرے تو میں کامیاب ہو جاؤں اور اپنا وقت حاصل کروں۔
حضرت جنیدؒ فرماتے ہیں: میں چل دیا اور حج ادا کر کے اس کے لیے دعا کی۔ اللہ نے قبول فرمائی، وہ کامیاب ہو گیا۔ جب میں واپس آیا تو اسے وہیں بیٹھا دیکھا۔ میں نے کہا اے جوانمرد! اب تجھے وقت مل گیا، اب یہاں سے کیوں نہیں گیا؟ عرض کی: اے شیخ! میں نے قدامت اختیاری کی ہے۔ جو جائے وحشت تھی اور میں نے جہاں سرمایہ گم کیا تھا، وہ مل گیا۔ تو کیا یہ اب جائز ہے کہ جہاں سے سرمایہ ملا اس جگہ کو چھوڑ دوں؟ یہ تو میرے اُنس کا مقام ہے۔ آپ تشریف لے جائیں کہ میں یہاں کی خاک اپنی خاک میں ملاؤں گا اور بروزِ قیامت اسی خاک سے سر اٹھاؤں گا کہ میرے اُنس کا سرمایہ اور سرور کا مقام یہی ہے۔
"ہر انسان خوبصورت دوست کو قبول کرنے والا ہے اور جس مکان میں عزت پیدا ہو وہ پسند آتا ہے۔"
تو جو چیز بلا کسب آدمی کو حاصل ہو، یعنی تکلیف سے نہ ملے ایسی چیز بازار میں نہیں بیچی جاتی، گو اس کے عوض جان دے دی جائے اور بعض کو حاصل کرنے یا دور کرنے میں ارادہ نہیں ہوتا۔ اس کی رعایت میں دونوں پہلو برابر ہوتے ہیں اور اس کی تقدیر میں بندہ کا اختیار باطل ہے، اور مشائخ رحمۃ اللہ علیہم نے فرمایا ہے: اَلْوَقْتُ سَيْفٌ قَاطِعٌ۔ "وقت کاٹنے والی تلوار ہے۔" چونکہ تلوار کی صفت کاٹنا ہے اور وقت کی صفت بھی کاٹنا یعنی ماضی و مستقبل کا مٹانا اور کل گذشتہ اور کل آئندہ کو دل سے محو کر دینا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ تلوار کی صحبت باخطر ہے۔ اِمَّا هَلَكَ اَوْ اِمَّا مَلَكَ "یا ہلاک ہوا یا مالک ہوا۔" اگر کوئی ہزار سال تلوار کی خدمت کرے اور اپنے
صفحہ۵۸۰
عزیز کندھوں پر اٹھائے پھرے تو بھی کاٹنے کے وقت اپنے صاحب اور غیر میں فرق نہ کرے۔ اس لیے کہ اس کی صفت ہی قہر ہے اور مصاحبت اختیار کرنے سے صفت اس کی زائل نہیں ہو جاتی اور حال ایک وارد وقت ہوتا ہے، جو وقت کو ہی زیبا ہے، جیسے روح بدن کو زیبا ہے اور وقت لازماً محتاجِ حال ہوتا ہے۔ اس میں وقت کی صفائی حال کے ساتھ ہوتی ہے اور اس کا قیام اسی سے ہوتا ہے۔ تو خلاصہ یہ نکلا کہ صاحبِ وقت جب صاحبِ حال ہو جاتا ہے تو تغیر اس سے قطع ہو جاتا ہے اور وہ اپنے وقت میں قائم ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ وقت بے حال محض زوال ہوتا ہے۔ جب حال اس سے ملا تو اس کا سب زمانہ حال ہوتا ہے۔ اس پر زوال روا نہیں ہوتا اور جب آمد و شد معلوم ہو تو وہ وارد ہونے والا ظہور ہوتا ہے، جیسا کہ اس سے پہلے صاحبِ وقت پر وارد تھا اور ممکن کو غفلت جائز ہے اور صاحبِ غفلت پر جب حال نازل ہو تو وہ ممکن وقت ہو جاتا ہے اور اس پر بوجہ صاحبِ حال ہونے کے غفلت روا نہیں ہوتی اور کہتے ہیں: اَلْحَالُ سُكُوْتُ اللِّسَانِ فِيْ فُنُوْنِ الْبَيَانِ۔ "حال کیا ہے! زبانِ خاموش سے فنونِ بیان میں بولنا۔"
چنانچہ صاحبِ حال کی زبانِ بیانِ حال سے ساکت ہوتی ہے اور اس کی تمام کیفیت اور تحقیقِ حال کی گویا ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے پیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اَلسُّؤَالُ عَنِ الْحَالِ مُحَالٌ "یعنی حال سے سوال کرنا محال ہے۔" اس لیے کہ حال کلام فنا کرنے کا ہی نام ہے اور استاد ابو علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر دنیا یا عاقبت میں سرور ہے یا ہلاکت، وہ اس کے وقت کو نصیب ہے جس میں تو ہے۔ پھر حال ایسا نہیں ہوتا کیونکہ وہ بندہ پر حقِ تعالیٰ کی طرف سے وارد ہوتا ہے۔ تو جب وہ آتا ہے تو سب کے دل سے نفی کرتا ہے۔
جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام صاحبِ وقت تھے۔ کبھی فراق در فراق میں آنکھیں سفید کر لیتے تھے اور کبھی وصال در وصال سے آنکھیں روشن فرماتے تھے۔ کبھی گریہ فرماتے فرماتے بال کی طرح لاغر، کبھی نالہ کرتے کرتے ریشۂ قلم کی طرح مضمحل۔ کبھی خوشی سے مثلِ روحِ تازہ، کبھی خوشی سے مجسمۂ سرور۔
اور حضرت ابراہیم علیہ السلام صاحبِ حال تھے۔ نہ تو فراق غم سے غم ناک، نہ وصال سے خوش حال۔ ستارہ، چاند، آفتاب سب کے سب حال کے معاون تھے اور وہ رویت میں سب سے فارغ۔ حتیٰ کہ جو دیکھتے، سب حق دیکھتے اور صاف فرماتے: ﴿لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ﴾ (۱) "غروب ہونے والوں کو پیارا نہیں کرتا۔" کبھی جہان صاحبِ وقت کے لیے جہنم ہوتا ہے کیونکہ مشاہدہ
حاشیہ: ۱۔ سورۃ الانعام: ۷۶
صفحہ۵۸۱
غیبت میں ہوتا ہے اور جہل کے اور حبیب کے وحشت ہوتا ہے۔ اور کبھی خوشی سے اس کا دل بہشتِ بریں ہوتا ہے اور نعمتِ مشاہدہ سے ہر آن اسے حق کا تحفہ ملتا ہے۔ پھر صاحبِ حال کو حق سے بشارت رہتی ہے۔ اسی وجہ سے اس پر حجاب ہو یا کشفِ نعمت ہو یا بلا، سب اس پر یکساں ہوتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ محلِ حال میں ہوتا ہے اور حال صفت مراد ہے اور وقت درجۂ مرید۔ ایک شخص وقت میں خوش ہوتا ہے اور حال میں بھی خوش۔ کیونکہ وہ ہر حال ہے باحق ہوتا ہے اور ایک شخص وقت کی خوشی میں باخوف رہتا ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
مقام اور تمکین:
مقام سے مراد ادائے حقوقِ مطلوب میں طالب کا قیام ہے بشدتِ اجتہاد و صحتِ نیت، اور ہر ایک مریدانِ حق سے اس کے لیے ایک مقام رکھتا ہے جو ابتدائے طلب میں اس کے لیے وہ سبب ہوتا ہے۔ اگرچہ طالب ہر مقام سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ہر ایک مقام پر گزرتا ہے لیکن ان میں سے ایک رہنے کے وقت تک قائم ہونا مقام ہے۔ اس لیے کہ اس مقام اور اس کا ارادہ سرشت اور اصل میں ہوتا ہے، عمل کی روش سے نہیں ہوتا۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: ﴿وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ﴾ (۱) "ہم میں سے کوئی طالب نہیں مگر اس کے لیے مقام مقرر ہے۔"
چنانچہ آدم علیہ السلام کا مقام توبہ تھا اور نوح علیہ السلام کا مقام زہد، ابراہیم علیہ السلام کا مقام تسلیم تھا اور موسیٰ علیہ السلام کا مقام نابت بغیر عاجزی اور داود علیہ السلام کا مقام غم اور عیسیٰ علیہ السلام کا مقام رضا تھا، یحییٰ علیہ السلام کا مقام خوف تھا تو ہمارے حضور سید یوم النشور ﷺ کا مقام ذکر۔
اگرچہ ہر ایک محل و مقام ایک سِر ہوتا ہے لیکن آخرکار رجوع اپنے اصل مقام کی طرف ہی ہوتا ہے اور مذہبِ محاسبیان میں جو مقام ہیں میں نے ان کا مختصر سا بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ حال اور مقام میں کیا فرق ہے۔ لیکن یہاں اس قدر ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ عز و جل کی راہ تین اقسام پر ہے: اول مقام، دوسرے حال، تیسرے تمکین۔
اور اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اپنا بیان فرمانے کے لیے مبعوث فرمایا ہے تاکہ وہ مقامات کے حکم بیان فرمائیں اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء تشریف لائے اور ان سب کے مقامات علیحدہ علیحدہ تھے۔
حاشیہ: ۱۔ سورۃ الصافات: ۱۶۴
صفحہ۵۸۲
پھر ہمارے حضور ﷺ کے تشریف لانے سے ہر اہلِ مقام کے لیے حال ظاہر ہوا اور وہ وہاں تک پہنچا کہ مخلوق کا کسب وہاں سے آگے بند ہو، حتیٰ کہ مخلوقات کا دین کامل ہوا اور نعمت اپنی حد کو پہنچی۔ چنانچہ اللہ عز و جل نے فرمایا: ﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ﴾ (۱) "آج کے دن کامل کر دیا میں نے تمہارا دین اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔" پھر مکان گیروں کا مکان ظاہر ہوا۔ اگر میں یہ سب حالات شمار کروں اور مقامات کی تشریح کرنے پر آؤں تو مقصد بیان سے رہ جاؤں گا۔ پس اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ تمکین سے محلِ کمال اور تحقیق کا اعلیٰ مقام مراد ہے اور اس مقام کو مقامات سے گزرنا ممکن ہے مگر درجۂ تمکین سے گزرنا محال ہوتا ہے۔ اس لیے کہ مقام مبتدی کا درجہ ہے اور تمکین ملتبسوں کا ٹھکانہ ہے جو ابتداء سے چل کر یہاں تک پہنچتا ہے۔ مگر یہاں سے گزرنا صورت پذیر نہیں۔ اس لیے کہ مقامات منازلِ راہ ہیں اور تمکین حضور میں قرار لینا ہے۔
چنانچہ محبانِ حق کے راستہ میں مقام عارض ہوتے ہیں اور منزل میں مثلِ مسافر بیگانہ ہوتے ہیں۔ اس کا سرِ جنابِ حق میں ہوتا ہے اور حضور میں آلہ و اکتساب آفت ہوتا ہے اور رغبت اور علت کا راز۔ اور زمانۂ جہالت میں شاعر جیسے اپنے ممدوحوں کی تعریف ان کی حرکات و سکنات سے کرتے ہیں۔ مگر جب تک کچھ عرصہ قیام نہ کریں مقام مقرر نہیں کر سکتے۔ مثلاً ایک شاعر اپنے ممدوح کے حضور پہنچ کر تلوار سونت کر اپنے گھوڑے کی ٹانگ کاٹ دیتا ہے اور پھر تلوار بھی توڑ دیتا ہے۔ اس سے اس کا یہ مقصود ہوتا ہے کہ مجھے ایک ایسا گھوڑا چاہیے جو تیرے حضور کا راستہ طے کرے اور تلوار ایسی درکار تھی جوان حاسدوں کا سر کاٹے جو تیری خدمت میں حاضر ہونے سے مانع ہیں۔ اب میں سب کو دور کرتا ہوں اس لیے کہ تیرے حضور آ پہنچا ہوں۔ اب آلۂ سفر میرے لیے بیکار ہے اس لیے میں نے گھوڑا لنگڑا کر دیا کیونکہ اب مجھے تیرے حضور سے جدا ہونا گوارا نہیں اور تلوار اس لیے توڑ دی کہ تیرے ذرے سے جانے کا مجھے خیال ہی نہیں۔ جب چند روز گزرتے ہیں تو پھر شعر پڑھتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اسی طرح جب کہ وہ منزلیں قطع کر چکے اور مقامات سے گزر کر محلِ تمکین میں پہنچے تو حقِ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ﴾ (۲) "اپنی جوتیاں اتار دو" اور ﴿وَاَلْقِ عَصَاكَ﴾ (۳) "اور عصا ڈال دو۔" کیونکہ یہ سفر آلہ سے تھا اور مقامِ وصل میں آلہ باطل ہو جاتا ہے اور ابتدا دوستی میں طلب ہوتی ہے مگر انتہا میں قرار ہو جاتا ہے۔ پانی جب تک راستہ میں ہوتا ہے جاری رہتا ہے، جب سمندر میں پہنچ جاتا ہے تو قرار پا لیتا ہے اور جب قرار پکڑ لیتا ہے تو اس کا مزہ بھی بدل جاتا ہے۔ حتیٰ کہ جسے پانی کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی اس کی طرف مائل نہیں ہوتا۔
حواشی: ۱۔ سورۃ المائدہ: ۳ ۲۔ سورۃ طٰہٰ: ۱۲ ۳۔ سورۃ النمل: ۱۰
صفحہ۵۸۳
البتہ اس کی طرف وہ مائل ہوتا ہے جس کو جواہر اور موتی کی ضرورت ہو۔ وہ جان پر کھیل کر طلب کا بار پاؤں پر باندھتا ہے اور سر کے بل اس دریا میں کود پڑتا ہے۔ پھر یا تو جواہر و موتی لاتا ہے یا جانِ عزیز فنا کر ڈالتا ہے۔
ایک مشائخ میں سے فرماتے ہیں: اَلتَّمْكِيْنُ رَفْعُ التَّلْوِيْنِ۔ "تمکین رفعِ تلوین کو کہتے ہیں۔" یہ تلوین اس جماعت کے نزدیک ہے جو حال اور مقام کو ایک معنی میں مانتی ہے اور تلوین نام ہے ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنے کا۔ مراد یہ ہے کہ متمکن متردد نہیں ہوتا اور حضور میں فائز ہوتا ہے اور غیر کا اندیشہ اپنے دل سے صاف کیے ہوئے ہوتا ہے اور نہ اس پر ایسا معاملہ آتا ہو چکا ہوتا ہے اور نہ ایسا حال ہوتا ہے کہ اس کے باطن کے حکم کو بدل دے، جیسے اس کے ظاہر کو بدل دے۔ جیسا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام متلون تھے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک نظر طور پر متجلی ہونے سے بیہوش ہو گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَخَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا﴾ (۱) "موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے۔" اور ہمارے حضور ﷺ متمکن تھے۔ مکہ معظمہ سے قابَ قوسین تک عینِ تجلی میں رہے اور اپنی اصل حال نہ بدلی نہ متغیر ہوئے اور یہ درجۂ اعلیٰ تھا (۲)۔ واللہ عالم۔
تو تمکین دو قسم پر ہے: ایک یہ کہ شاہد کی وضاحت اپنی طرف ہو اور وہ محول بہ شاہدِ حق ہو کر فانی الصفت ہو اور فانی الصفت کو محو اور صحو و محن وفنا و بقا و وجود و عدم کچھ بھی نہ طاری ہو اس لیے کہ ان اوصاف کی اقامت موصوف سے ہونی چاہیے۔ جب موصوف مستغرق ہو تو حکمِ اقامتِ وصف اس سے ساقط ہو اور اس معنی میں بہت باتیں ہیں۔ میں نے اس پر اختصار کیا: وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ۔ اور اس سے محاضرہ و مکاشفہ سے۔ ان دونوں کا فرق یہ ہے۔
محاضرہ اور مکاشفہ اور ان کا فرق
اچھی طرح جان لے کہ محاضرہ حضورِ دل کے لیے بولا جاتا ہے، لطائفِ بیان میں اور مکاشفہ حضورِ سر پر ہوتا ہے جو خطرہ میں عیاں ہو۔ تو محاضرہ شواہدِ آیات پر ہوتا ہے اور مکاشفہ شواہدِ مشاہدات میں۔ اور محاضرہ کی علامت دوامِ فکر کرنا ہے، کنہ ذات میں جب تک فکر باقی رہے رویتِ آیت کے ساتھ اور مکاشفۂ دوامِ تحیر میں ہوتا ہے جو کنہ ذات میں ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ افعال میں متفکر ہو اور جلال میں متحیر ہو۔ ان دو میں سے ایک خلت ہے، دوسرا قرینِ محبت۔
حواشی:
۱۔ سورۃ الاعراف: ۱۴۳
۲۔ موسیٰ ز ہوش رفت بیک پر تو جمال تو عینِ ذات می نگری در تبسمی (مترجم)
صفحہ۵۸۴
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ حضرت خلیل علیہ السلام نے ملکوتِ سماء میں نگاہ فرما کر اس کی حقیقت و وجود میں تامل و تفکر کیا اور ان کا دل رویتِ فعل طالب کے ساتھ حاضر ہو کر فاعل ہوا، تاکہ اس کے حضورِ فعل میں دلیلِ فاعل ہو جائے۔ حتیٰ کہ کمالِ مرفعت میں فرمایا: ﴿اِنِّيْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا﴾ (۱) "یعنی میں متوجہ ہوتا ہوں اس جناب کی طرف جس نے آسان و زمین کو بنایا۔" اور حبیبِ خاص کو جب ملکوت میں لے گئے تو ان کی نظر سب اشیاء موجود سے بلند ہو گئی اور فعل و مخلوق کو نہ خود کو دیکھا اور نہ خود کو دیکھا تاکہ فاعل کا مکاشفہ ہو۔ تو کشف میں شوق پر شوق زیادہ ہو اور اس کی بیقراری پر بیقراری طلبِ رویت میں بڑھے۔ نہ منہ دیکھنا قریب کی قربت سے ممکن ہو، نہ امکانِ اقبال میں متغیر ہو۔ پس اس جگہ کہ خلوت ہو، وہاں حیرت کفر دکھاتی ہے اور اس جگہ کہ محبت ہو و صلت شرک ہوتا ہے اور حیرت اس کا سرمایہ۔ اس لیے کہ خلقت کی ہستی میں حیرت تھی اور وہ شرک تھا اور محبت میں حیرت اس کی چگونگی ہوتی ہے اور یہ توحید ہے۔
اس سے ملتا ہوا مقولہ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: يَا دَلِيْلَ الْمُتَحَيِّرِيْنَ زِدْنِيْ تَحَيُّرًا۔ "اے متحیروں کے راہنما! مجھے حیرت میں زیادہ کر۔" اس لیے کہ تحیر کا زیادہ ہونا مشاہدہ کی زیادتی کا موجب ہوتا ہے۔
اور مشہور حکایتوں میں ہے کہ جب حضرت ابوسعید خزار اور سعد علوی رحمہما اللہ نے دریا کے کنارے اس دوست خدا کو دیکھا۔ پوچھا، خدا کی طرف راستہ کس طرف سے جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف دو راستے ہیں۔ ایک عام ایک خاص۔ انہوں نے فرمایا: اس کی شرح فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا: عام راہ تو یہ ہے کہ جس پرتم ہو کہ ایک علت سے قبول کیے ہوئے ہو اور ایک علت سے رد کر رہے ہو اور خواص کا راستہ یہ ہے کہ جو نہ معلّل علت کو دیکھے اور نہ علت کو۔
اور اس حکایت کی شرح گزر چکی ہے اور مراد سوا اس کے نہیں ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ
قبض اور بسط اور ان میں فرق
اور اس سے القبض والبسط ہے اور اس کا فرق جاننا چاہیے کہ قبض اور بسط دو حال ہیں اور یہ بندہ کی سعی سے بالا ہیں۔ اس کا آنا کسبی نہیں اور جانا کوشش سے نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاللّٰهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ﴾ (۲) "اللہ قبض کرتا ہے اور کھولتا ہے۔" قبض کہتے ہیں حجاب کی حالت میں ولی کا مقبوض ہونا اور بسط کہتے ہیں حالتِ کشف میں دل کا کشادہ ہونا۔ یہ دونوں حالتیں بلا تکلف و محنت بندہ پر عائد ہوتی ہیں من جانبِ اللہ۔ اور قبض عارفوں کے وقت میں ایسا ہے جیسے
حواشی: ۱۔ سورۃ الانعام: ۷۹ ۲۔ سورۃ البقرۃ: ۲۴۵
صفحہ۵۸۵
مریدوں کے وقت میں خوف اور یہ ایک گروہ ہے جو قبض و بسط کو اس معنی میں حمل کرتا ہے اور مشائخ سے ایک گروہ اس طرف ہے کہ قبض رتبہ میں بسط سے زیادہ بلند ہے اور اس کے وہ دو سبب کہتا ہے: ایک یہ اس کا ذکر کتاب میں مقدم ہے۔ دوسرے یہ کہ قبض میں گزارش اور قہر ہے اور بسط میں نوازش اور لطف ہے اور لامحالہ گزارشِ بشریت اور قہرِ نفس فاضل تر ہے۔ پرورش اور لطف سے اس لیے کہ وہ حجابِ اعظم ہے اور ایک گروہ اس طرف ہے کہ بسط قبض سے فائق ہے۔ اس لیے کہ کتاب میں قبض کا مقدم ہونا بسط کی فضیلت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ عرب کا طریقہ ہے کہ موخر میں اوّل سے لاتے ہیں جو کم ہو۔
جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ﴾ (۱) "بعض ان میں سے اپنے نفس پر ظالم ہیں اور بعض ان میں سے میانہ رو اور بعض ان میں سے بھلائی میں مسابقت کرنے والے ہیں۔" اور یہ فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ﴾ (۲) "بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔" اور یہ بھی فرمایا: ﴿يٰمَرْيَمُ اقْنُتِيْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ﴾ (۳) "اے مریم اپنے رب کے لیے عاجزی کر اور رکوع و سجود کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔"
اور یہ بھی فرمایا کہ بسط میں سرور اور قبض میں ہلاکت ہے اور سرور عارفین سوا وصل و معرفت کے نہیں ہوتا اور ان کی ہلاکت فضل کے سوا مقصود نہیں، تو محلِ وصل بہ نسبت محلِ فراق بہتر ہے۔
اور میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ قبض و بسط سے ایک ہی مراد ہے جو حقِ تعالیٰ سے بندہ کو ملتا ہے اور جب وہ معنی میرے دل کو پریشان کرتے یا اس کے سر سے مسرور ہوتا ہوں تو اور نفس مقہور یا سر مقہور ہوتا ہے اور نفس مسرور تو قبض میں ہر ایک بسطِ نفس ہوتا ہے اور بسط میں دوسرا سر اس کا قبضِ نفس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس مسئلہ میں اور کچھ بتانا تضییعِ اوقات ہے۔
اسی سبب بایزید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: قَبْضُ الْقُلُوْبِ فِيْ بَسْطِ النُّفُوْسِ وَبَسْطُ الْقُلُوْبِ فِيْ قَبْضِ النُّفُوْسِ۔ "دلوں کا تنگ ہونا نفوس کی کشادگی ہے اور دلوں کا کشادہ ہونا نفوس کی تنگی ہے۔" تو نفس تنگ شدہ خلل سے محفوظ ہوتا ہے اور کشادہ ذلت سے ضبط میں۔ اس لیے کہ غیرت سے دوستی کرنے میں ندامت ہے اور قبض غیرتِ حق تعالیٰ کی علامت ہے اور دوست
کو دوست سے عتاب شرط ہے اور کشائش نشانِ عتاب ہے اور آثار میں مشہور ہے کہ جب تک یحییٰ علیہ السلام روتے رہے، جب تک عیسیٰ علیہ السلام ہنستے رہے۔ اس لیے کہ یحییٰ علیہ السلام قبض میں رہے اور عیسیٰ علیہ السلام بسط میں۔ اور جب ایک دوسرے سے ملتے تو یحییٰ علیہ السلام کہتے کہ اے عیسیٰ! تم رحمت سے مایوس ہوئے تو عیسیٰ علیہ السلام فرماتے یحییٰ! تم جدائی سے بے غم ہوئے اور عیسیٰ علیہ السلام فرماتے یحییٰ! تم رحمت سے مایوس ہوئے تو تمہارا رونا حکمِ ازل کو نہیں مٹا سکتا، قضاءِ الٰہی کو نہیں روک سکتا۔ لَا قَبْضَ وَلَا بَسْطَ وَلَا طَمَعَ وَلَا اُنْسَ وَلَا مَحْوَ وَلَا صَحْوَ وَلَا سُكْرَ وَلَا عِجْزَ وَلَا جَهْلَ اِلَّا بِمَنِّ اللّٰهِ۔ "تنگی، کشائش، طمع اور اُنس اور محو اور بیہوش اور عاجز ہونا، جاہل ہونا بدون حکمِ اللہ تعالیٰ کے نہیں۔ اور وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔"
محبت اور ڈر اور ان میں فرق
اور اسی سے اُنس و ہیبت ہے۔ اور ان کا فرق یہ ہے، جان لینا چاہیے کہ ہیبت اور اُنس یہ دو حالتیں ہیں جو رہروانِ طریقت کے اوپر آتی ہیں۔ اس میں سے یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ بندہ کے دل پر تجلی فرماتا ہے تو اگر وہ شہود و جلال ہو تو ہیبت ہوتی ہے اور اگر مشہود و جمال ہو تو بندہ پر اُنس ہوتا ہے۔ تو اہلِ ہیبت اس کی جلالت سے تختی میں ہوتے ہیں اور اہلِ اُنس اس کے جمال سے خوش ہوتے ہیں۔
تو جو ولی اس کی جلالتِ شان کی آگ میں جلتا ہو اور وہ جو اس کے مشاہدۂ جمال کے نور سے روشن ہو، ان دونوں میں فرق ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ ہیبت عارفوں کا درجہ ہے۔ اس لیے کہ جسے حضورِ حق اور تنزیہ اوصاف میں ثابت قدم کرنا ہو، اس کے دل پر ہیبت کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے اور اُنس سے اس کی طبیعت نفرت کرتی ہے۔ اس لیے کہ اُنس جنس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب بندہ کا حق تعالیٰ سے ہم جنس ہونا محال ہے تو حق سے اُنس نہیں ہو سکتا اور حق سے مخلوق کا اُنس محال ہوتا ہے۔ البتہ اگر اُنس ممکن ہے تو ذکرِ حق سے ہے۔ اس لیے کہ اس کا ذکر اس سے غیر ہے کیونکہ وہ بندہ کی صفت ہے اور محبت میں کسی غیر کے ساتھ آرام کرنا محض دعویٰ اور غرور ہے۔ پھر ہیبت مشاہدۂ عظمت سے ہوتی ہے اور عظمت صفتِ حق ہے تو اس بندہ میں کہ اس کا کام آپ ہی ہو اور اس بندہ میں کہ جس کا کام فنا سے بقاءِ حق پر ہو، بڑا فرق ہے۔
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کی حکایت ہے کہ آپ نے فرمایا مدتِ مدید تک خیال کرتا تھا کہ میں محبت میں خوش ہوں اور مشاہدۂ حق سے اُنس رکھتا ہوں۔ لیکن اب مجھے معلوم ہوا کہ انسان، انسان کی جنس کے سوا نہیں۔
صفحہ۵۸۷
ایک گروہ کہتا ہے کہ ہیبت، فراق اور غذا سب قرینے ہیں اور اُنس وصل رحمت کے نیچے۔ محبت کو چاہیے کہ ہیبت کی باتوں سے پرہیز کرے اور محفوظ رہے اور اُنس کے قریب ہو، اس لیے کہ اُنس ضرر و محبت کا تقاضا کرتا ہے اور جسے محبت کو مجانست محال ہے، اُنس کو بھی محال ہے۔
اور میرے شیخؒ فرماتے ہیں کہ میں متعجب ہوں ان پر جو کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ سے اُنس محال ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ عِبَادِيْ﴾ (۱) "بے شک میرے بندے" ﴿قُلْ يٰعِبَادِيْ﴾ (۲) "فرما دیجیے میرے بندوں سے" اور ﴿اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ﴾ (۳) ﴿يٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ﴾ (۴) "اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔"
جب بندے اپنے ربّ کا ایسا فضل دیکھتے ہیں تو اسے دوست پکڑتے ہیں اور جب دوست پکڑتے ہیں تو لازمی اُنس اختیار کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ہیبت دوست سے بیگانگی ہے اور اُنس مقتضی یگانگت ہے اور آدمی کی صفت یہ ہے کہ نعمت دینے والے سے اُنس کرے۔ تو جب حق تعالیٰ ہمیں اس قدر نعمتوں سے نوازتا ہے اور ہم اسے منعم جانتے ہیں تو پھر محال ہے کہ اس سے ہیبت محسوس کریں۔
اور میں علی بن عثمان جلابی (رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ دونوں گروہ اختلاف کی وجہ سے مصیبت میں ہیں۔ اس لیے کہ غلبۂ ہیبت نفس اور اس کی خواہش اور بشریت کے فنا کرنے سے ہے اور اس میں غلبۂ سر ہے اور سر میں معرفت حاصل ہو جانے سے حق تعالیٰ شانہ کی جلالت اپنی تجلی سے محبت کے نفس کو فنا کر دیتی ہے اور جلوۂ جمال ان کے سر کو باقی کر دیتی ہے۔ تو جو اہلِ فنا ہیں وہ ہیبت کو مقدم کرتے ہیں اور جو اصحابِ بقا ہیں وہ اُنس کو فضیلت دیتے ہیں اور اس سے قبل فنا و بقا کے باب میں بیان ہو چکا ہے۔
قہر اور لطف اور ان میں فرق
اس میں لطف اور قہر ہے۔ ان کا فرق یہ ہے کہ مشائخ کی جماعتیں یہ دونوں الفاظ اپنے زمانہ میں بیان کرتی ہیں۔ چنانچہ قہر سے ان کی مراد تائیدِ حق ہے جو مرادوں کو فنا کرنے اور نفس کی آرزو سے علیحدہ کرنے میں ہوتی ہے اور لطف وہ تائیدِ حق ہے جو بقاء، اسرار دوامِ مشاہدہ اور استقامت کے درجہ میں قرارِ حال سے ہوتی ہے، حتیٰ کہ ایک گروہ کہتا ہے کہ کراماتِ حق تعالیٰ ہی حصولِ مراد ہے اور یہ گروہ اربابِ لطف سے ہے۔
ایک گروہ کہتا ہے کہ قہر وہ ہے جو حق تعالیٰ اپنی مرضی سے بندہ کو نامراد رکھے اور اس نامرادی میں مقہور فرما دے، حتیٰ کہ وہ اگر پیاس کے سبب دریا میں جائے تو دریا خشک ہو جائے۔ (۱)
روایت ہے کہ بغداد میں دو بڑے شاندار فقیر تھے۔ ایک صاحبِ قہر دوسرے صاحبِ لطف۔ یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف رہتے اور ہر ایک اپنے زمانہ کو دوسرے کے زمانہ پر فضیلت دیتا۔ ایک کہتا حق تعالیٰ کا لطف بندہ پر تمام نعمتوں سے افضل و اشرف ہے۔ اس لیے ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ لَطِيْفٌ بِعِبَادِهٖ﴾ (۲) "اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربان ہے۔"
دوسرا کہتا ہے کہ قہرِ حق بندہ کے لیے بڑی کامل نعمت ہے، اس لیے کہ اس نے فرمایا ہے: ﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ﴾ (۳) "اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر قہار ہے۔" اور یہ اختلاف دونوں میں بہت طول پکڑ گیا۔ حتیٰ کہ ان میں سے ایک صاحبِ لطف نے مکہ معظمہ کا قصد کیا اور جنگلوں میں پھرتا پھرتا گم ہو گیا اور کسی کو پتہ نہ چلا۔ ایک شخص مکہ سے بغداد جا رہا تھا۔ اس نے انہیں راستہ میں دیکھا۔ انہوں نے اس سے کہا بھائی تم عراق پہنچو تو ہمارے ساتھی کو کہنا کہ اگر تم صحرا اور جنگل کو عجائباتِ کرخ اور بغداد کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہو تو آؤ میرے لیے یہ جنگل، کرخ اور بغداد سے اچھا ہے۔
غرض یہ کہ جب یہ سیاح کرخ اور بغداد آئے تو انہوں نے ان کے رفیق کو پیغام دیا اور کہہ دیا جو انہوں نے کہا تھا۔ یہ سن کر فرمایا جب تم واپس جاؤ تو کہہ دینا اگر جنگل تیرے حق میں کرخ اور بغداد ہیں تو اس میں شرف نہیں، اس لیے کہ تو حضور سے دور ہے بلکہ شرف اس میں ہے کہ کرخ اور بغداد باوجود عجائبات کے، ایک کے حق میں جنگل بیابان ہو اور وہ اس میں خوش ہو۔ اور حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی مناجات میں فرمایا:
"الٰہی! اگر میرے گلے میں آسان کا طوق ڈالا جائے اور زمین کو زنجیر پا کر دیا جائے اور تمام جہان میرے خون کا پیاسا ہو جائے تو بھی میں تیرے جناب سے نہ ہٹوں گا۔"
اور میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایک سال اولیاء کا جنگل میں اجتماع تھا اور میرے شیخ حصری رحمۃ اللہ علیہ مجھے بھی وہاں لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک گروہ تخت کے نیچے ہوا پر جا رہا ہے اور ایک گروہ تخت کے اوپر علیحدہ اڑ رہا ہے اور ایک گروہ علیحدہ رتبہ میں تھا۔ حضرت حصری رحمۃ اللہ علیہ ان کی طرف توجہ نہ فرماتے۔ لیکن ایک جوان ٹوٹی جوتی، پھٹے لباس میں چلنے سے
حواشی: ۱۔ بقولِ شاعر: ڈوبنے جاؤں تو دریا ملے پایاب مجھے، موت مانگوں تو ہے آرزوئے خواب مجھے (مترجم) ۲۔ سورۃ الشوریٰ: ۱۹ ۳۔ سورۃ الانعام: ۶۱
صفحہ۵۸۹
ناچار، سر سے ننگا، بدن جھلسا ہوا، تن لاغر ظاہر ہوئے تو حضرت حصری رحمۃ اللہ علیہ کو دے اور ان کے آگے پہنچے۔ انہیں بلند درجہ پر بٹھایا۔ میں متعجب ہوا اور عرض کی کہ حضور یہ کس پائے کے بزرگ ہیں؟ فرمایا، یہ اولیاء اللہ میں سے ایک ولی ہے کہ یہ طلبگارِ ولایت نہیں بلکہ ولایت اس کی طلبگار ہے۔ اس کا میلان کرامات کی طرف نہیں۔
اور جو کچھ ہم اپنے واسطے اختیار کرتے ہیں وہ ہماری بلا ہوتی ہے اور میں وہی چاہتا ہوں جو حق تعالیٰ میرے واسطے چاہتا ہے۔ اس صورت میں مجھے اس کی آفت سے بچا رکھتا ہے اور مجھے نفس کی شرارت سے رہائی دیتا ہے اور اگر قہر کرے تو میں لطف نہیں چاہتا اور اگر لطف فرمائے تو مجھے قہر کا ارادہ نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں اس کے اختیار میں اختیار نہیں۔
نفی اور اثبات اور ان میں فرق
اور اس سے نفی و اثبات ہے۔ ان میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ مشائخِ طریقت رضوان اللہ علیہم اجمعین تائیدِ حق تعالیٰ ثابت کرنے میں صفتِ آدمیت محو کرنے کو نفی و اثبات کہتے ہیں اور نفیِ صفتِ بشریت کی نفی کو کہتے ہیں اور اثبات اثباتِ غلبۂ حقیقت کو اس لیے کہتے ہیں کہ محو کل ہو جاتا ہے اور نفی کل اثبات کے سوا نہیں۔ اس لیے کہ بقاءِ بشریت کی حالت میں نفیِ ذات نہیں ہو سکتی۔
تو لازم ہے کہ فضائلِ محمود کے قائم رکھنے سے بُری صفات کی نفی ہو اور معنی ثابت ہونے سے دعویٰ محبتِ حق تعالیٰ کی نفی کرتا ہے۔ اس لیے کہ دعویٰ رعونتِ نفس سے ہوتا ہے اور یہ عادت جاریہ ہے کہ صفاتِ سلطانِ حقیقت کی متبہور ہو جائیں اور کہتے ہیں کہ اثباتِ بقاءِ صفاتِ بشریت کی نفی کرتا ہے اور اس مسئلہ کی تفصیل اس سے پہلے فقر اور صفوت، فنا و بقا کے باب میں ہو چکی ہے۔ یہاں میں نے اسی پر اختصار کیا۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے اختیارِ حق سے اختیارِ بندہ کا ثبوت کرنا ہے اور اس سبب سے موفق نے کہا: اِخْتِيَارُ الْحَقِّ بِعَبْدِهٖ مَعَ عِلْمِهٖ بِعَبْدِهٖ خَيْرٌ مِّنْ اِخْتِيَارِ عَبْدِهٖ لِنَفْسِهٖ مَعَ جَهْلِهٖ بِرَبِّهٖ۔ "حق تعالیٰ بندہ کو جانتا ہے، وہ جو کچھ بندہ کے حق میں اختیار فرمائے اور اس سے نسبت بندہ با آنکہ اپنے رب سے بے خبر ہے، اپنے نفس کے لیے جو اختیار کرے بہتر ہے۔" اس لیے کہ دوستی اس کا نام ہے جو اختیارِ محبوب کو ثابت کر کے محبت کے اختیار کی نفی کرے اور یہ سب کے نزدیک مقرر ہے۔
اور میں نے حکایتوں میں معلوم کیا کہ ایک درویش دریا میں غرق ہو رہے تھے کہ کسی نے ان سے پوچھا کیا آپ اس غرق سے رہائی چاہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ دریافت کیا کہ پھر ڈوبنا ہی پسند کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ تو سائل نے کہا کہ عجیب بات ہے نہ آپ ڈوبنا
صفحہ۵۹۰
چاہتے ہیں نہ نجات پانا۔ درویش نے فرمایا کہ مجھے ہلاکت سے غرض نہ نجات سے، مطلب مجھے وہی منظور ہے جو اللہ تعالیٰ میرے لیے اختیار فرما دے۔ اس لیے کہ اختیارِ الٰہی ازلی ہے جس کی نفی ممکن نہیں اور بندہ کا اختیار عارضی ہے جس کی نفی جائز ہے۔ تو ہمیں لازم ہے کہ عارضی اختیار کو پامال کریں تاکہ اختیارِ ازلی ہی باقی رہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام جب پہاڑ پر خوش ہوئے اور حق تعالیٰ کی رویت کی تمنا کی۔ گویا اپنا اختیار ثابت کرنے میں سعی کی اور جنابِ حق میں ﴿رَبِّ اَرِنِيْٓ﴾ (۱) کہہ دیا تو ﴿لَنْ تَرَانِيْ﴾ (۲) حکم ہوا یعنی آپ نے عرض کی الٰہی! اپنا دیدار دے تو حق تعالیٰ نے فرمایا: "ہرگز ہرگز تم نہیں دیکھ سکتے" اور بتایا کہ دیدارِ حق ہے لیکن محبت میں اختیار باطل ہے۔ اور اس میں بہت کلام ہے لیکن میری مراد اس سے زیادہ نہ تھی کہ تجھے معلوم ہو جائے کہ اس طبقہ کی کیا مراد ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ۔
اور اس کا بیان جمع اور تفرقہ، فنا اور بقا، غیب اور حضور، مذاہبِ صوفیہ گزر چکا ہے وہاں صحو اور سکر اس کی مانند ذکر ہو چکا ہے۔ وہاں دیکھیں جہاں جہاں اس بیان کا موقع تھا وہاں لکھا گیا اور ضرورت کے موافق یہاں بھی کچھ بیان کیا ہے تاکہ ہر مذہب کا مشرح ہو سکے۔
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
مسامرہ اور محادثہ اور ان میں فرق
اور اس سے مراد مسامرہ اور محادثہ ہے۔ ان کا فرق یہ ہے کہ ان دو جملوں میں دو حال کاملانِ طریقت کے بیان کرنے ہیں۔ مراد اور حقیقتِ محادثہ یہ ہے کہ وہ حدیثِ سر ہے جو سکوتِ زبان سے مقرون ہے۔ یعنی محادثہ زبان سے متعلق نہیں اور حقیقتِ مسامرہ سِرّ کے چھپانے سے ہمیشہ خوش رہتا ہے۔ اس کے خلاصہ معنی یہ ہیں کہ بندہ کا شبِ تنہائی میں ایک وقت خاص ہوتا ہے، اور محادثہ دن میں ایک وقت ہوتا ہے۔ اس میں سوال جواب ظاہری و باطنی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے شب کی مناجات کو مسامرہ کہتے ہیں اور دن کی دعاؤں کو محادثہ سے تعبیر کرتے ہیں اور مسامرہ کا تعلق حضور ﷺ کے حال سے ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے چاہا اور وقتِ خاص ہوا تو روح الامین کو معہ براق بھیجا تاکہ مکہ معظمہ سے قابَ قوسین تک پہنچایا جائے اور اپنے رب سے راز کی گفتگو بلا صوت و حرف سنی۔ جب حد کو پہنچے تو کشف کی جلالت سے آپ کی زبان مبارک بند ہوئی اور دل کنہِ عظمت میں حیران اور آپ کا علم و ادراک رہ گیا اور زبان بیان سے بند ہوئی۔ چنانچہ عرض کیا: لَا اُحْصِيْ
حواشی: ۱۔ سورۃ الاعراف: ۱۴۳ ۲۔ ایضاً
صفحہ۵۹۱
ثَنَاءً عَلَيْكَ۔ (۱)
اور محادثہ کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حال سے ہے۔ جب آپ نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ سے ایک وقت خاص حاصل کریں۔ چالیس روز کے انتظار اور وعدہ کے بعد دن میں کوہ طور پر آئے اور کلامِ الٰہی سنا اور فرطِ شوق میں دیدار کا سوال کر ڈالا مگر کامیابی نہ ہوئی اور ساری مسرتیں ختم ہو گئیں۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا: ﴿تُبْتُ اِلَيْكَ﴾ (۲) تاکہ فرق ظاہر ہو جائے، اس ہستی کے مابین جنہیں لے جایا گیا اور ﴿سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا﴾ (۳) فرمایا گیا کہ "پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ کو لے گیا رات کے اقل قلیل حصہ میں۔" اور کلیم اللہ کے لیے فرمایا: ﴿وَلَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِيْقَاتِنَا﴾ (۴) "جب موسیٰ ہماری میقات کے لیے آیا۔" تو معلوم ہوا کہ رات خلوتِ محبت کا وقت ہے اور دن بندہ کی خدمت کا اور بندہ اپنی حد مقرر سے تجاوز کرے تو ﴿لَنْ تَرَانِيْ﴾ (۵) سے جواب مل جاتا ہے مگر محبوبِ خاص کے لیے کوئی حد نہیں ہوتی جس کے آگے گزرنے کی ممانعت ہو اس لیے کہ دوست جو کرتا ہے وہ دوست کو پسند ہوتا ہے۔
علم الیقین اور عین الیقین اور حق الیقین اور ان کے درمیان فرق
اور اس سے علم الیقین اور حق الیقین اور عین الیقین میں ان کا فرق یہ ہے کہ علمِ اصولِ صوفیہ میں سب اپنے معلوم کو جاننے سے یہ الفاظ بیان ہوتے ہیں۔ چنانچہ محبت کا علم ہو جانے پر یقین کے بغیر علم نہیں ہوتا۔ جب علم حاصل ہوتا ہے تو اس میں غیبِ عین کی مانند ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ فردائے قیامت جو مومنین لقاءِ ربانی سے مشرف ہوں گے تو ان کے دیکھنے کی صفت وہی ہوگی جو آج جاننے میں ہے اور اس کے برخلاف دیکھیں گے تو یا تو فردائے قیامت کا دیدار صحیح نہیں ہوگا یا آج کا علم درست نہیں اور یہ دونوں صورت خلافِ توحید نہیں۔ اس لیے کہ اگر آج کے روز خلقت کا علم درست ہو اور کل رویت اس کی رویت درست ہوئی تو علم الیقین، عین الیقین ہو جاتا ہے اور حق الیقین کو علم الیقین جن لوگوں نے رویت میں کہا ہے وہ عین الیقین کو استغراق کے طور پر لائے ہیں، وہ محال ہے۔ اس لیے کہ رویت مثلِ سماع کے حصولِ عام کا آلہ ہے اور ایسے ہی جب استغراقِ علم کا
حواشی: ۱۔ لا احصی ثناء علیک۔ اس حدیثِ شریف کا تفصیلی ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ ۲۔ سورۃ الاعراف: ۱۴۳ ۳۔ سورۃ الاسراء: ۱ ۴۔ سورۃ الاعراف: ۱۴۳ ۵۔ سورۃ الاعراف: ۱۴۳
صفحہ۵۹۲
سماع میں محال ہے تو ان لوگوں کا علم یقین سے علمِ معاملۂ دنیا کے حکموں میں مراد ہے۔ اور علم عین الیقین سے علم بحالتِ نزع جب دنیا سے رخصت ہو۔ اور عین الیقین سے بہشت میں کشفِ رویت مراد ہے اور مکاشفہ سے کیفیتِ حالات۔ تو علم الیقین عالموں کا درجہ ہے، اس سبب سے کہ وہ احکام امور پر استقامت کرتے ہیں۔
اور عین الیقین عارفوں کا مقام ہے۔ اس حکم سے کہ وہ صورت کی استعداد رکھتے ہیں۔ اور حق الیقین محبوں کا مقام فنا ہے کیونکہ وہ کل موجودات سے روگرداں ہوتے ہیں۔ تو علم الیقین مجاہدہ سے ہوتا ہے اور عین الیقین اُنس سے اور حق الیقین مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایک عام ہے اور دوسرا خاص، تیسرا خاص الخاص۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ
علم اور معرفت اور ان میں فرق
اور اس سے علم و معرفت ہے۔ ان کا فرق یہ ہے کہ اربابِ اصول نے علم اور معرفت میں فرق نہیں کیا۔ وہ دونوں کو ایک کہتے ہیں۔ صرف اتنا کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو عالم کہا جاتا ہے، عارف نہیں کہتے۔ اس سبب سے یہ دونوں مترادف نہیں۔
مشائخِ صوفیاء رحمۃ اللہ علیہم نے اس کی تصریح یوں فرمائی کہ وہ علم جو حال کے نزدیک ہے اس کا علم اپنے حال سے جو بیان کرتا ہے، وہ معرفت ہے اور اس کے عالم کو عارف کہتے ہیں اور جو علمِ معنی جدا اور معاملات سے خالی ہو، اسے علم کہتے ہیں اور اس کے جاننے کو عالم۔ تو جو کسی چیز کے معنی اور حقیقت کا عالم ہو، اسے عارف کہا جائے۔
اور جو صرف عبادت اور اس کے حفظ میں مشغول ہو اور حفاظتِ معنی نہ جانتا ہو، اس کو عالم کہیں گے اور یہی سبب ہے کہ اس گروہ کو لوگ اپنے نزدیک بے قدر سمجھتے ہیں اور محض دانشمند کہتے ہیں اور عوام اسے برا جانتے ہیں اور اس سے مراد ان کی خفت ہے۔ کیونکہ اس میں ترکیبِ معاملات ہے۔ لِاَنَّ الْعَالِمَ قَائِمٌ بِنَفْسِهٖ وَالْعَارِفَ قَائِمٌ بِرَبِّهٖ۔ "اس لیے کہ عالم بذاتِ خود قائم ہے اور عارف قائم برب الارباب۔" اس میں اور بہت سی باتیں ہیں جو کشفِ حجابِ وقت میں ذکر ہو چکیں اور یہاں اسی قدر کافی ہے اور اسی سے شریعت و حقیقت ہے۔ اور ان کا فرق یہ ہے کہ دونوں لفظوں کا استعمال صوفیاء کے لیے ہے۔ ایک صحتِ حال سے ظاہر کرتے ہیں اور ایک اقامتِ حالِ باطن کے ساتھ اور دو گروہ اس کے معنی میں غلطی پر ہیں۔
ایک گروہ علماءِ ظاہر کا ہے جو کہتا ہے شریعت و حقیقت میں فرق نہیں۔ اس لیے کہ شریعت خود حقیقت ہے اور حقیقت شریعت ہے۔ ایک گروہ ملاحدہ کا ہے جو کہتا ہے ان دونوں میں ہر ایک
صفحہ۵۹۳
دوسرے کے سوا قائم ہو سکتا ہے اور کہتے ہیں جب حقیقت کا حال کھل گیا تو شریعت جاتی رہی اور یہ خیال قرامطہ کا ہے اور شیعہ بھی انہیں میں سے ہیں اور موسویان بھی انہیں میں سے ہیں، اور وہ دلیل دیتے ہیں کہ حکم میں شریعت، طریقت سے جدا ہے کیونکہ ایمان میں تصدیق قول سے جدا ہے اور اس امر کی دلیل کہ اصل میں جدا نہیں ایک ہی ہیں، یہ ہے کہ تصدیق بلا قول ایمان نہیں ہوتی اور قول بلا تصدیق موجبِ ایمان نہیں۔ تو قول اور تصدیق کا فرق ظاہر ہو گیا تو حقیقت کے معنی جو مراد ہیں ان کا منسوخ ہونا جائز نہیں۔ اور ابتداءِ آفرینشِ آدم سے جہان فنا ہونے تک اس کا حکم مساوی ہے جیسا اللہ تعالیٰ کی معرفت اور خلوصِ نیت سے معاملہ کی نیت مساوی ہے۔
شریعت اور حقیقت اور ان میں فرق
اور شریعت نام ہے اس کا جس پر نسخ و تبدل روا ہو، جیسے احکام و اوامر۔ تو شریعت فعلِ بندہ کا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی محافظت کرے۔ تو معلوم ہوا کہ شریعت کا قیام بلا وجودِ حقیقت محال ہے اور بلا شریعت وجودِ حقیقت بھی محال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص زندہ جان سے ہوتا ہے۔ جب جان جاتی ہے تو وہ شخص مردہ ہوتا ہے اور جان اس کے ساتھ ایسے ہے کہ ان کی قدر و قیمت ایک دوسرے کے ساتھ ہے۔ اسی طرح شریعت بلا حقیقت ریاکاری ہے اور حقیقت بلا شریعت نفاق۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾ (۱) "جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنا راستہ دکھاتے ہیں۔" اور مجاہدہ شریعت میں ہے اور ہدایت حقیقت۔ یہ ایک بندے کو احکامِ ظاہری کا پابند رکھتی ہے اور دوسرے احوالِ باطنی میں بندہ پر قائم ہے۔ تو گویا شریعت مکاسب سے ہے اور حقیقت مواہب سے۔ یہ حدیں وہ حدیں ہیں کہ بطور استعارہ بولی جاتی ہیں اور اس کی تفصیل اور اس کے احکام کی تشریح بہت مشکل ہے۔ میں علی الاختصار اس نوع کا بیان کرتا ہوں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ الْحَقُّ۔
الحق: اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس لیے کہ اسماءِ الٰہی میں سے یہ ایک نام ہے۔ جیسے قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ﴾ (۲)
الحقیقت: اس سے بندہ کا محلِ وصلِ الٰہی میں قائم ہونا مراد ہے اور اس کے وقوف کا سرِ محلِ تنزیہ ہے۔
الخطرات: جو کچھ احکامِ تفریق سے دل پر گزرے۔
الوطنات: جو اسرارِ الٰہی سے اس میں متوطن ہو۔
الطمس: وہ نفیِ عین مراد ہے جس کا اثر نہ رہے۔
حواشی: ۱۔ سورۃ العنکبوت: ۶۹ ۲۔ سورۃ الحج: ۶۲
صفحہ۵۹۴
الرمس: جو دل سے نفیِ عین ہو اور اس کا اثر رہے۔
العلائق: وہ اسباب جن سے طالب تعلق کرتے ہیں اور مراد سے رہ جاتے ہیں۔
الوسائط: وہ اسباب جن سے طالب تعلق کرتے ہیں اور مراد کو پہنچتے ہیں۔
الزوائد: دل پر انوار زیادہ ہونا۔
الفوائد: اسرارِ ضرور یہ کو ادراک کرنا۔
الملجا: حصولِ مراد پر دل کا بھروسہ۔
المنجا: محفلِ آفت سے دل کا خلاصی پانا۔
الکلیہ: اوصافِ آدمیت کا کلیۃً مستغرق ہونا۔
اللوائح: مراد کا ثابت ہونا اور اس کی نفی کا ورد۔
اللوامع: نور کا دل پر اظہار اور اس کے فوائد کی بقا۔
الطوالع: انوارِ معرفت کا دل پر روشن ہونا۔
الطوارق: رات کی مناجات میں بشارت یا زجر کا وارد ہونا۔
اللصیفہ: دقائقِ حال سے دل پر سری طور پر دوستی کا اشارہ۔
النجویٰ: اطلاعِ غیر سے آفات کا مخفی کرنا۔
الاشارات: بے الفاظ و زبان اخبار غیر دینا۔
الایماء: تعریضِ خطاب بے اشارت و عبارت۔
الوارد: دل میں معنی کا طلوع۔
الانتباہ: زوالِ غفلت دل سے۔
الاشتباہ: حکمِ حق اور باطل میں اشتباہ پیدا ہونا۔
القرار: حقیقتِ حال زوال و تردد۔
الانزعاج: حالِ وحدانیت میں تحرکِ دل سے بعض مختصر الفاظ کا ورد۔
نوعِ آخر: یہ وہ عددِ الفاظ ہیں کہ توحیدِ حق میں استعمال کرتے اور حقیقتوں میں ان کے اعتقاد کا بیان اس میں استعارہ نہیں اور ان میں سے ایک:
العالم: یہ مخلوقِ الٰہی ہے اور کہتے ہیں کہ یہ اٹھارہ ہزار ہیں، اور فلاسفہ پچاس ہزار عالم کہتے ہیں اور اس کے علاوہ ایک عالمِ سفلی اور ایک عالمِ علوی بھی ہے اور اربابِ اصول کہتے ہیں کہ عرش سے تحت الثریٰ تک جو کچھ ہے، وہ عالم ہے۔ بہرحال عالم مختلف چیزوں کا جمع ہونا
صفحہ۵۹۵
ہے اور اہلِ طریقت کے نزدیک عالمِ ارواح اور عالمِ نفوس ہے اور ان کی اس سے یہ مراد نہیں ہے جو فلاسفہ کی ہے کیونکہ ان کے نزدیک ارواح اور نفوس کا جمع ہونا ہے۔
المحدث: یہ وہ ہے جو متاخر وجود میں ہو یعنی پہلے نہ ہو پھر ہو جائے۔
القدیم: جو وجود میں سابق اور ہمیشہ ہو اور اس کی ہستی سب ہستیوں سے مقدم ہو، یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔
الازل یا الاوّل: جس کی ابتداء نہ ہو۔
الابد: جس کے لیے انتہا نہ ہو۔
الذات: کسی شے کی ہستی اور اس کی حقیقت۔
الصفہ: جو نعت میں ہو اور خود قائم نہ ہو۔
الاسم: مسمیٰ کا جو غیر ہو۔
التسمیہ: خبرِ مسمیٰ۔
النفی: جو عدم اور منفی کا مقتضی ہو۔
الاثبات: جو وجود و ثبت کا مقتضی ہو۔
الشیئان: جب ایک کا وجود دوسرے پر وارد ہو۔
الضدان: یعنی ایک کا وجود دوسرے کی موجودگی میں ایک حال کے ساتھ روا نہ ہو۔
الغیران: ایک کا وجود دوسرے کے فنا کے ساتھ روا ہو۔
الجوہر: وہ چیز جو قائم بالذات ہو۔
العرض: جو جوہر کے ساتھ قائم ہو۔
الجسم: جو اجزاءِ متفرقہ سے مرکب ہو۔
السوال: طلبِ حقیقت۔
الجواب: سوالِ سائل پر خبر دینا۔
الحسن: جو موافقِ امر ہو۔
القبیح: جو مخالفِ امر ہو۔
السفہ: جو مخالفِ ترکِ امر ہو۔
الظلم: کسی شے کو غیر موقع رکھنا۔
العدل: کسی شے کو اس کے قابل جگہ رکھنا۔
صفحہ۵۹۶
الملک: جس کے لیے اعتراض نہ ہو سکے۔ یہ دو حدیں ہیں کہ طالب کو ان سے چارہ نہیں۔ یہ بطورِ اختصار بیان کر دی گئیں۔
نوعِ آخر: یہ ایسی بات ہے جو شرح کی محتاج ہے اور صوفیائے کرامؒ میں یہ متداول ہے اور اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ اہلِ زبان کو معلوم ہو جائے اور ظاہر لفظ ہی سے مفہوم واضح کر دے۔
الخاطر: مرضی کے مطابق حصولِ معنی کا خواستگار ہونا کہ اس کو جلد زوال ہو اور دوسری خاطر آئے اور صاحبِ خاطر اس کے دل سے دفع کرنے پر قادر ہو اور اہلِ خاطر پہلے خاطر کے تابع ہوتے ہیں ان امور میں جو حق تعالیٰ میں بندہ پر بے وجہ آ جائیں۔
اور کہتے ہیں کہ خیر النساج رحمۃ اللہ علیہ پر ایک خاطر رونما ہوئے کہ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ دروازہ پر ہیں۔ آپ نے اس خطرہ کو اپنے سے دور کرنا چاہا کہ دوسرا خطرہ خاطرِ مبارک میں آیا۔ آپ اس کے دفع میں مشغول ہوئے کہ پھر تیسری بار خطرہ ہوا کہ حضرت جنیدؒ دروازے پر تشریف فرما ہیں۔ جا کر دیکھا تو حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کو دروازہ پر کھڑا پایا۔ حضرت جنیدؒ نے فرمایا! اے خیر نساج! اگر تو پہلے خطرہ کو خاطر میں لے آتا اور سیرتِ مشائخ پر عمل پیرا ہوتا تو میں اتنی دیر دروازہ پر کھڑا نہ رہتا۔
مشائخ فرماتے ہیں کہ اگر خطرہ خاطرِ خیر میں آیا تو اس میں حضرت جنیدؒ کو کیا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جنیدؒ، شیخ خیر نساج تھے اور شیخ لامحالہ احوالِ مرید سے واقف ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کا فرمانا صحیح تھا۔
الواقع: سے مراد یہ ہے کہ جو دل میں مرید کے ظاہر ہو اور باقی رہے، برخلافِ خاطر کے کہ وہ باقی نہیں رہتا اور کسی حال میں طالب اس کے دفع کرنے پر قدرت نہیں رکھتا۔ جیسے کہتے ہیں خَطَرَ عَلٰى قَلْبِيْ "میرے دل میں خطرہ گزرا" وَوَقَعَ فِيْ قَلْبِيْ "اور دل میں واقع ہوا ہے۔" تو دل خاطر کا محل ہے۔ لیکن واقعات ولی ہی کے دل پر گزرتے ہیں غیر ولی پر نہیں۔ کیونکہ ولی کا دل وہ ہے جس میں تمام حدیثِ حق ہوتی ہیں۔ بدیں وجہ جب مرید کے دل میں راہِ حق کی طرف سے کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اسے قید کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں کو واقعہ ہوا ہے اور اہلِ زبان واقعہ میں مسائل اشکال بیان کرتے ہیں اور جب کوئی اس کا جواب دے اور شبہ اٹھا دے تو کہتے ہیں یہ واقعہ حل ہوا۔ لیکن محققین اسی طرف ہیں کہ واقعہ وہ ہوتا ہے جس پر حل روانہ ہو اور جو حل ہو جائے وہ خاطر کا خطرہ ہوتا ہے، واقعہ نہیں۔ کیونکہ اہلِ تحقیق کا بند حقیر نہیں ہوتا کہ اس کا حکم بدل جاتا ہے اور حال
صفحہ۵۹۷
سے پھر جاتا ہے۔
الاختیار: یہ وہ ہے کہ حق کے اختیار کو اپنے اختیار پر اختیار کریں۔ یعنی جو کچھ حق تعالیٰ نے ان کے لیے اختیار کیا ہے خواہ خیر ہو یا شر، اسی کو پسندیدہ رکھیں۔
اور در حقیقت بندہ کا اختیارِ حق کو اختیار کرنا بھی اختیارِ حق سے ہوتا ہے اور اگر وہ بات نہ ہوتی اور اللہ تعالیٰ اسی کو اختیار کر دیتا تو وہ اپنا اختیار کبھی نہ چھوڑتا اور ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ امیر کسے کہتے ہیں۔ فرمایا کہ امیر وہ ہے جس کا اختیار نہ رہا ہو اور حق کے اختیار کو اس نے اختیار کر کے اپنا اختیار بنایا ہو۔
اور حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ کو ایک وقت بخار آیا۔ عرض کی الٰہی! مجھے آرام عطا فرما۔ آپ کو ندا آئی کہ جنید! تو کون ہے جو میری ملکیت میں تصرف کرتا ہے اور اپنا اختیار ظاہر کرتا ہے؟ میں اپنی ملک میں تجھ سے زیادہ مدبر ہوں، تو میرے اختیار کو اختیار کر اور اپنا اختیار ظاہر نہ کر۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
الامتحان: اس لفظ سے امتحانِ دلِ اولیاء مراد ہے۔ اس لیے کہ ولی کے دل پر من جانب اللہ کئی طرح کی بلائیں آتی ہیں۔ جیسے خوف، غم، ہیبت، قبض اور مثل اس کے جیسا کہ قرآنِ پاک میں فرمایا: ﴿اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ﴾ (۱) "یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ امتحان میں ڈالتا ہے، تقویٰ کے لیے انہیں بخشش ہے اور بڑا اجر، اور یہ بہت بلند درجہ ہے۔" وَاللّٰهُ اَعْلَمُ
البلاء: بلاء سے مراد محبوں کے تن کا امتحان متعدد طرح سے ہے: غمیں، بیماریاں اور رنج و محن سے کیا جاتا ہے اور جس قدر بندہ پر بلا زیادہ قوی ہوتی جاتی ہے، اسے قربِ حق زیادہ ملتا ہے۔ اس لیے کہ بلا لباسِ اولیاء ہے اور برگزیدہ ہستیوں کا گہوارہ اور انبیاء کرام کی غذا۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: نَحْنُ مَعَاشِرُ الْاَنْبِيَاءِ اَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً۔ "ہم نبیوں کا گروہ ہیں، بلا کے لیے لوگوں سے زیادہ سخت ہیں۔"
پھر اولیاء، پھر مقرب لوگ، پھر ان کی مثل۔ غرضیکہ بلا رنج کا نام ہے جو بندۂ مومن کے دل اور تن پر آتی ہے اور در اصل یہ اس کے حق میں نعمت ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اس کا راز بندہ پر پوشیدہ ہوتا ہے اور اس کا درد اٹھانے کا ثواب ملتا ہے اور جو کفار پر بلا نازل ہوتی ہے وہ بلا بمعنی استیلا نہیں ہوتی بلکہ وہ ان کی کم بختی ہوتی ہے اور کافر کبھی شقاوت سے شفا نہیں پاتا۔
حاشیہ: ۱۔ سورۃ الحجرات: ۳
صفحہ۵۹۸
تو خلاصہ یہ ہے کہ بلا مرتبۂ امتحان میں بڑا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے کہ بلا کا اثر تن پر ہوتا ہے اور دل بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اور امتحان کا اثر دل پر ہوتا ہے اور یہ بہت قوی ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
التحلّی: کسی قوم سے قول و فعل میں مساوی ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:
ایمان ظاہر داری سے نہیں لیکن دل میں وقر پیدا کرے اور عمل اسے سچا کرے تو یہ تحلی۔ ایک گروہ کے نزدیک بدونِ حقیقتِ معاملہ کے مشابہ ہونا تحلّل کہلاتا ہے اور جو دکھاوے کے لیے ایسا کرے اور حقیقت میں نہ ہو محض ظاہر داری کرتا ہو، وہ جلدی سے خوار ہو جاتا ہے اور اس کا بھید کھل جاتا ہے۔
التجلی: یہ انوارِ حق کی تاثیر ہے جو مقبولانِ بارگاہ پر ہوتی ہے جس سے وہ اس درجہ پر پہنچتے ہیں کہ حق تعالیٰ کو دیکھتے ہیں۔ اسی وجہ میں رویت بالقلب اور رویت بالعین دو صورتوں میں رکھی گئی۔ تجلی اگر چاہے دیکھے، اگر نہ چاہے نہ دیکھے۔ (۲)
ایک صورت یہ ہے کہ کسی وقت دیکھ سکے اور کسی وقت نہ دیکھ سکے۔ (۳)
ایک وہ اہلِ نظر ہیں کہ اگر بہشت میں بھی دیکھنا نہ چاہیں، نہ دیکھیں کیونکہ ان کے لیے تجلی پر پردہ اختیار روا ہو جاتا ہے اور رویت پر پردہ جائز نہیں ہوتا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
التخلّی: وہ بندہ کا ایسا شغل ہے جو مانعِ ذکرِ حق ہو جائے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہاتھ خالی کرنا چاہے دنیا سے۔ دوسرے یہ کہ عقبیٰ سے اپنا دل خالی کر دے۔ تیسرے یہ کہ خواہشِ نفسانی کی متابعت کو اس سے اپنا سر خالی کر دے۔ چوتھے خلقت کی صحبت سے اپنے کو خالی کرے اور اس کا اندیشہ بھی دل میں نہ آنے دے۔
الشرود: معنی شرود طلبِ خاص کے ہیں۔ یہ آفت و حجاب و بیقراری سے خلاصی پانے کے لیے حق کو طلب کرنا ہے۔ کیونکہ طلب پر تمام بلائیں حجاب سے آتی ہیں۔ تو اگر وہ طالب کا کشفِ حجاب ہے تو اس کے سفر اور تعلق کی ہر شے کو شرود کہتے ہیں۔ اس میں ابتدائے
حواشی:
۱۔ ابن عربی نے اسے "الکامل فی ضعفاء الرجال" (۶/۲۹۰) میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: لیس الایمان بالتحلّی ولا بالتمنّی، ولکن ما وقر فی القلب وصدقہ الاعمال۔
۲۔ جیسے کسی نے کہا: دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار، جب ذرا گردن جھکائی، دیکھ لی (مترجم)
۳۔ بقولِ شاعر: گہے بر تارمِ اعلیٰ نشینم، گہے بر پشتِ پائے خود نہ بینم (مترجم)
صفحہ۵۹۹
طلب میں بے قراری زیادہ ہوتی ہے اور انتہا میں وصل قائم ہو جاتا ہے۔
القصود: یہ طلبِ مقصود کے لیے حقیقت ارادۂ صحیح اس گروہ کا قصود ہے۔ یہ حرکت و سکون سے متعلق نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ دوست اگرچہ دوستی میں ساکن ہوتا ہے یا قاصد، مگر یہ خلافِ عادت ہے۔ اس لیے کہ قاصدوں کا مقصد یا ظاہر پر موثر ہوتا ہے یا ان کے باطن پر نشان دیتا ہے مگر جو دوست بے وجہ طلب کرتے ہیں اور بدونِ حرکات قاصد ہوتے ہیں ان کے سبب صفتیں خود قصد ہوتی ہیں اور جو انتہا کا قصد کرتے ہیں تو جب دوستی حاصل ہو جاتی ہے تو سب قصد ہو جاتے ہیں۔
اصطناع: اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ مہذب ہو جائے اور اس کی سب صفتیں فنا ہوں اور تمام خطوطِ نفسانی اوصافِ نفس بدل جائیں تاکہ اوصافِ ذاتی کے زوال اور اوصافِ نفسانی کے تبدیل ہو جانے سے بیخود ہو جائے اور اس درجۂ خاص میں انبیاء کرام ہوتے ہیں۔ اولیاء اللہ کو یہ درجہ نہیں ملتا۔ ایک گروہ مشائخ سے انبیاء اور اولیاء میں بھی روا رکھتا ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
الاصطفاء: اصطفا یہ ہے کہ حق تعالیٰ بندہ کے دل کو اپنی معرفت کے لیے فارغ فرما دے تاکہ اس کی معرفتِ صفات اس کے دل میں جاگزیں ہو اور اس درجہ میں خاص و عام ہے، مومنین سب بلکہ عاصی، مطیع، ولی نبی سب پہنچ سکتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرٰتِ﴾ (۱) "کتاب کا وارث کیا ہم نے اپنے بندوں سے جن کو چن لیا تو ان میں ظالم ہیں اپنی جان میں اور ان میں میانہ رو ہیں اور ان میں سابق بالخیرات ہیں۔" دوسری جگہ فرمایا: ﴿وَاِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْاَخْيَارِ﴾ (۲)
الاصطلام: اصطلام تجلیاتِ حق ہیں کہ بندہ ان سے مقہور ہو جاتا ہے تاکہ امتحان لطفِ نفی میں اس کے ارادہ اور قلوب پر عائد ہو اور مصطلم اور قلبِ ممتحن دونوں کے معنی ایک ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ الاصطلام زیادہ خاص ہے اور امتحان اس سے زیادہ رقیق ہے اور اربابِ طریقت اصطلاح میں مروّج ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
الرّین: رین ایک حجاب ہے جو دل پر آتا ہے اور اس کا کشف ایمان کے بغیر نہیں اور وہ حجابِ کفر اور گمراہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور یہ کفار کی صفت ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ﴾ (۳)
ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ وہ حجاب ہے جس کا زوال خود ممکن نہیں خواہ کسی صفت سے ہو کیونکہ کافر کا دل اسلام پذیر نہیں ہوتا اور جوان میں سے ایمان لاتے ہیں وہ خداوند تعالیٰ کے علم میں مومن ہوتے ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰى اَعْلَمُ۔
الغین: یہ دل پر ایک پردہ ہوتا ہے جو استغفار سے اٹھ جاتا ہے اور یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک خفیف، ایک غلیظ۔ غلیظ کافروں، غافلوں کے واسطے ہے اور خفیف اولیاء انبیاء سب پر آ سکتا ہے۔ جیسے حضور ﷺ نے فرمایا: اِنَّهٗ لَيُغَانُ عَلٰى قَلْبِيْ فَاِنِّيْ لَاَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ فِيْ كُلِّ يَوْمٍ مِّائَةَ مَرَّةٍ (۱) "بے شک میرے دل پر پردہ کیا جاتا ہے اور روزانہ اپنے رب سے ستر بار استغفار کرتا ہوں۔" اور خفیف کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور توبہ کے معنی گناہ سے اطاعت کی طرف جانا ہے اور رجوع کے معنی ہیں اپنے آپ سے خداوند تعالیٰ کی طرف لوٹنا۔ تو توبہ گناہ سے ہوتی ہے اور محبوں کا جرم اپنی ہستی کو دیکھنا بھی ہے۔ اگر کوئی خطا سے صواب کی طرف جائے تو کہتے ہیں کہ یہ قول راجح ہے۔ فلاں شخص راجع ہے، اور یہ تمام بحث میں نے توبہ کے باب میں کر دی ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ
التلبیس: کسی چیز کا اس کی اصل کے خلاف دکھانے کو تلبیس کہتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَّا يَلْبِسُوْنَ﴾ (۲) "البتہ پہنایا ہم نے جو پہنتے ہیں۔" یعنی پردہ ڈال دیا اور غیر اللہ تعالیٰ میں یہ صفت محال ہے۔ اس لیے کہ کافر کو نعمت سے وہی مومن کرتا ہے اور مومن کو اپنی نعمت سے کافر بناتا ہے تاکہ اس کے اظہارِ حکم اور حقیقت کا وقت ہر ایک میں آ جائے اور جب اس گروہ سے ایک شخص نیک خصلتوں کو بری صفتوں میں چھپا دیتا ہے، کہتے ہیں یہ تلبیس کرتا ہے اور اس جگہ کے سوا اس عبادت کو استعمال نہیں کرتے اور نفاق اور ریا کو تلبیس نہیں کہتے۔ گو اصل میں وہ بھی تلبیس ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اقامتِ فعلِ حق کے سوا تلبیس کا استعمال نہیں۔
الشرب: طاعت کی شیرینی کو اور کرامت کی لذت کو اور راحتِ اُنس کو یہ طائفہ شرب کہتا ہے اور کوئی شخص کوئی کام لذتِ شرب کے سوا نہیں کر سکتا جیسے تن کا سیراب ہونا، پانی سے ہوتا
حاشیہ:
۱۔ اس حدیثِ مبارکہ کا تفصیلی ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
۲۔ سورۃ الانعام: ۹
صفحہ۶۰۱
ہے۔ ایسے ہی دل کا شرب راحت اور شیرینی طاعات سے ہے۔ اور میرے شیخ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مرید بے شرب اور عارف باشرب ہوتا ہے اور یہ ارادہ و معرفت سے خالی ہوتے ہیں۔ اس لیے مرید کو چاہیے کہ اپنے کام سے شرب ہو، تاکہ ارادتِ حق طالب بجا لائے لیکن غارت گرِ شرب نہ ہونا چاہیے تاکہ بدونِ ارادۂ حق شرب سے اس پر ایسی حالت ہو جائے کہ اگر اپنے نفس کی طرف رجوع کرے تو آرام نہ پائے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
الذوق: یہ شرب کی مانند ہوتا ہے۔ لیکن شراب راحتوں کے سوا مستعمل نہیں اور ذوق رنج و راحت کو اچھا تحمل کرنا ہے۔ جیسا کہ کوئی کہے: ذُقْتُ الْحَلَاوَةَ وَذُقْتُ الْبَلَاءَ وَذُقْتُ الرَّاحَةَ۔ تو سب درست ہیں۔ پھر شرب کو بھی کہتے ہیں: شَرِبْتُ بِكَاْسِ الْوَصْلِ اَوْ بِكَاْسِ الْوُدِّ۔ اور ایسی ہی اور بھی مثالیں ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْٓئًا﴾ (۱) "مزے سے کھاؤ پیو" اور جب ذوق کا بیان فرمایا: ﴿ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ﴾ (۲) دوسری جگہ فرمایا: ﴿ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ﴾ (۳) یہ حدود الفاظ کے حکم میں ہیں جو صوفیوں کے لیے ہم نے مروجہ اصطلاحات جمع کر دیں۔ اگر سب بیان کریں تو کتاب طویل ہو جائے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
کشفِ حجابِ یازدہم: سماع
یاد رکھو! حصولِ علم کے پانچ اسباب ہوتے ہیں۔ اول سمع، دوم بصر، سوم ذوق، چہارم شم، پنجم لمس۔ سمع سننے کا کام دیتا ہے۔ بصر دیکھنے کے ذریعہ علم پہنچاتا ہے۔ ذوق چکھ کر حقیقتِ شے معلوم کی جاتی ہے۔ شم سونگھنے سے پتہ لگانا۔ لمس چھو کر مس کے ذریعے معلوم کرنا۔
یہ پانچ ذرایع ہیں جو دل کے لیے اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں اور ہر چیز کا علم انہیں پانچ دروں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ جیسے سماعت کے ذریعے آواز اور خبر کا علم ہوتا ہے۔ بصارت کے ذریعے رنگ اور شکلیں معلوم ہوتی ہیں۔ ذائقہ کے ذریعے شیریں، تلخ، میٹھا معلوم ہوتا ہے۔ شامہ کے ذریعے خوشبو و بدبو کا علم حاصل ہوتا ہے۔
ان پانچ حواس سے چار کے مقامات خاص ہیں اور ایک تمام بدن میں پھیلا ہوا ہے۔
سماعت کے لیے کان، بصارت کے لیے آنکھ، ذائقہ کے لیے زبان، شامہ کے لیے ناک ہے اور لمس کو تمام بدن میں جگہ ہے۔ اس لیے کہ آنکھ سواد دیکھنے کے اور کام نہیں کرتی اور کان سننے کے سوا اور کام نہیں دیتا۔ ناک سونگھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی۔ زبان چکھنے کے سوا اور کسی کام کی نہیں۔ لیکن تمام بدن سے نرم، گرم، کھردرا، سرد وغیرہ معلوم کرنے والا لمس ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہر ایک حس تمام اعضاء میں مثلِ لمس کے پھیلا ہوا ہو۔ اور معتزلہ کے نزدیک ہر حس اپنے محل کے سوا اور جگہ روا نہیں مگر ان کا یہ قول باطل ہے۔ اس لیے کہ لمس کے سواسب کے محل خاص ہیں اور لمس کا کوئی محل خاص نہیں ہے۔ اور جب ایک بھی ان پانچ سے محلِ خاص نہیں رکھتا سوائے ایک کے، تو اوروں کے واسطے بھی یہی صفت روا ہے۔ حالانکہ یہاں یہ مقصود نہیں ہے بلکہ اسی قدر بیان ضروری تھا تاکہ تحقیقِ معنی ہو سکے۔
تو چار حواس کا ذکر ہو چکا ہے۔ ان میں سے چار سننے، دیکھنے، سونگھنے، چکھنے کے ہیں اور ایک چھونا ہے۔ تو یہ امر جائز ہوا کہ حواس ہجو بہ علم کو دیکھنا اور خوشبو سونگھنا ہے۔ نعمتوں کو چکھنا ہے اور ایک چھونا ہے۔ تو یہ رہنمائے عقل ہوئے اور یہی اللہ کی طرف رہنما ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ذریعہ انسان جانتا ہے کہ جہان محدث ہے اور محلِ تغیر اور جو حادث ہے وہ محدث سے خالی نہیں اس لیے کہ پیدا کرنے والا ہے اور خالق جنسِ مخلوق سے نہیں۔ اس لیے کہ وہ خالق ہے، یہ مخلوق ہے۔ یہ جسم پذیر ہے وہ پیدا کرنے والا اور جسم دینے والا۔ یہ محدث ہے اور وہ اس کا پیدا کرنے والا ہے۔ محدود ہے اور اس کا خالق غیرِ محدود اور سب اشیاء پر قادر ہے اور سب کچھ کر سکتا ہے۔ تمام معلومات کا علم اس کا تصرف ملک میں جاری ہے۔ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس نے برہانِ صادق کے ساتھ رسول بھیجے اور جب تک اس کی معرفت کا وجوب سماعت سے علم نہ ہو لوگوں کا اس پر ایمان لانا اور رسولوں کا حکم ماننا واجب نہیں ہوتا کیونکہ شرع کا وہی موجب ہے۔ اس سبب سے اہلِ سنت دنیا میں سماعت کو بصارت پر فضیلت دیتے ہیں اور اگر کوئی خطا کار کہے کہ کان محلِ خبر ہیں اور آنکھیں محلِ نظر اور ان سے ہی اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا تو وہ سماعت سے زیادہ افضل ہے۔
میں کہتا ہوں ہم سمع سے جانتے ہیں کہ دیدارِ الٰہی مومنوں کو بہشت میں ہوگا کیونکہ دیدار کو عقل سے جائز ماننا اس کا حجابِ کشف سے زیادہ اچھا نہیں اس لیے کہ ہم نے خبر سے معلوم کر لیا ہے کہ مومن کو کشف ہوگا اور اس کی نظر سے حجاب اٹھ جائے گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کو دیکھیں تو سمع بصر
صفحہ۶۰۳
سے افضل ہوا اور یہ بدیہہ ہے کہ تمام امورِ شریعت سماعت پر مبنی ہیں۔ اگر سماعت نہ ہوتی تو اس کا ثبوت ملنا محال ہوتا۔ اور انبیاء علیہم السلام بھی آئے، پہلے انہوں نے فرمایا اور اسے سننے والوں نے سنا تو ایمان لائے۔ پھر انہوں نے معجزات دکھائے اور معجزہ دیکھنے میں اس کی تاکید بھی کان سے تھی۔ تو وہ دلائل سے جو سماعت کا انکار کرے وہ در حقیقت منکرِ شریعت ہے اور اس نے اس کا حکم اپنے اوپر چھپایا۔ اب میں اس کا حکمِ جامع ظاہر کرتا ہوں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔
صفحہ۶۰۴
تیسواں باب
سماعِ قرآن اور اُس کے متعلقات
اعلیٰ ترین سننے والی چیز جو دل کو فائدہ دے، کلامِ الٰہی عزّاسمہ ہے اور اس کلامِ پاک کے سننے پر تمام مومن اور کافر مکلف ہیں، خواہ آدمی ہوں یا جن پری۔ اور معجزۂ قرآن ظاہر یہ ہے کہ اس کے پڑھنے اور سننے سے ملول نہیں ہوتا اور اس میں بڑی رقت ہے۔ حتیٰ کہ کفار شب میں پوشیدہ طور پر آتے۔ اور حضور ﷺ جب نماز میں ہوتے یہ چپکے کر سنتے اور پسند کرتے بلکہ جامعیتِ کلام پر اور تعجب ہوتا۔ جیسے نضر بن حارث جو بڑا فصیح اللسان تھا اور عتبہ بن ربیعہ کو بلاغت میں جادوگر مانا جاتا تھا اور ابو جہل بن ہشام جو کلام و برہان میں شانِ بیضا دکھاتا تھا اور خطبات میں خاص شان دکھاتا تھا اور مثلِ ان کے اور بلغاء و فصحاءِ عرب۔
حتیٰ کہ ایک رات حضور ﷺ تلاوت فرما رہے تھے کہ عتبہ سنتے سنتے بیہوش ہو گیا اور ابو جہل سے بعد میں کہنے لگا کہ مجھے معلوم ہوتا ہے یہ مخلوقات کا کلام نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے جنوں اور پریوں کو فوج در فوج کر کے بھیجا تاکہ وہ حضور ﷺ سے کلامِ پاک سنیں۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے: ﴿اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا﴾ (۱) "ہم نے ایک کلام عجیب سنا ہے۔" جس کے اثر سے مطلع کیا کہ قرآن بیمار دلوں کو صحت کی طرف لاتا ہے۔ ﴿يَّهْدِيْٓ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ وَلَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا﴾ (۲) "تو ہم اس پر ایمان لائے اور ہم ہرگز اپنے رب کا کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔"
اس لیے کہ اس کلام کی نصیحت تمام نصیحتوں سے بہتر ہے اور اس کے الفاظ نہایت مختصر اور جامع ہیں۔ اس کا حکم تمام اوامر سے لطیف تر ہے۔ اس کی نہی تمام مناہی سے صاف ہے۔ اس کے مواعید سب وعدوں سے زیادہ دلربا ہیں اور اس کے عذاب کی شان تمام عذابوں سے دل گداز ہے۔ اس کے قصے تمام قصوں سے زیادہ سیر کرنے والے۔ اس کی مثالیں سب مثالوں سے زیادہ فصیح ہیں۔ اس کے سننے سے ہزار دل شکار ہوتے ہیں۔ اس کے لطیفے ہزار ہا جانوں کو بلا میں مبتلا کرتے ہیں۔ دنیا داروں کو ذلیل کرتا ہے اور تارک الدنیا کو عزت دیتا ہے۔
حواشی: ۱۔ سورۃ الجن: ۱ ۲۔ سورۃ الجن: ۲
صفحہ۶۰۵
جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنا کہ ان کی بہن اور بہنوئی مسلمان ہو گئے ہیں، تلوار سونت کر ان کے قتل کو آمادہ ہوئے اور دل میں ان کی محبت نکالی۔ حق تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے سورۂ طٰہٰ کا لشکر گوشوں پر ان کی تاک میں بٹھا دیا۔ جب وہ بہن کے دروازے پر آئے تو بہن پڑھ رہی تھیں: ﴿طٰهٰ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰىٓ اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى﴾ (۱) "اے ماہِ کامل! ہم نے تیری طرف قرآن اس لیے نازل کیا کہ تو مشقت میں پڑے، مگر ڈرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔"
یہ آیت سنتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جان اس کے دقائق کا شکار ہوئی اور ان کا دل اس کے لطائف کی زنجیروں میں قید ہو گیا اور صلح اختیار کی اور ارادۂ قتل ترک کر کے مخالفت کی بجائے موافقت کی طرف آئے۔ اور مشہور ہے کہ جب حضور ﷺ کے حضور یہ آیت پڑھی گئی:
﴿اِنَّ لَدَيْنَآ اَنْكَالًا وَّجَحِيْمًا وَّطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّعَذَابًا اَلِيْمًا﴾ (۲) "بیشک ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور دوزخ اور کھانا گلا گھونٹنے والا اور دردناک عذاب ہے۔" یہ سنتے ہی حضور ﷺ پر غشی طاری ہو گئی۔
اور مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے رو برو پڑھا: ﴿اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ﴾ (۳) "بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے، کوئی اس کے دفع کرنے پر قادر نہیں۔" تو آپ نے ایک نعرہ مارا اور بیہوش ہو گئے۔ آپ کو اٹھا کر گھر لے آئے۔ ایک ماہ تک آپ بیمار رہے، اس لیے آپ پر خوفِ خداوندی مسلط رہا۔
روایت ہے کہ ایک صحابی نے عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت پڑھی: ﴿لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ﴾ (۴) "ان کے لیے جہنم کا جھولا ہے اور ان کے اوپر پردہ ہے۔" آپ نے یہ سنتے ہی رونا شروع کر دیا، حتیٰ کہ راوی کہتا ہے کہ مجھے خیال ہوا کہ ان کی جان نکل گئی۔ پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے، لوگوں نے کہا بیٹھ جایئے۔ آپ نے کہا کہ اس آیت کی مصیبت مجھے بیٹھنے نہیں دیتی۔
روایت ہے کہ حضرت جنید رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ﴾ (۵) "اے ایمان والو کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے۔" آپ نے کہا: اِلٰهِيْ اِنْ قُلْنَا بِكَ وَاِنْ فَعَلْنَا فَعَلْنَا بِتَوْفِيْقِكَ فَاَيْنَ الْقَوْلُ
وَالْفِعْلُ۔ "اے میرے ربّ! اگر ہم کہیں تو تیری ہی توفیق سے کہتے ہیں اور اگر کرتے ہیں تو تیری ہی توفیق سے کرتے ہیں تو کہاں ہے قول و فعل۔" حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت ہے کہ ان کے سامنے: ﴿وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ﴾ (۱) یعنی "یاد کر اپنے رب کو جب تو بھول جائے" پڑھی گئی تو آپ نے فرمایا کہ ذکر کی شرط نسیان میں ہے اور سب جہان اس کے ذکر میں ہے۔ پھر آپ نے نعرہ مارا اور بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا تو کہا مجھے تعجب ہے اس جان پر جو کلامِ الٰہی سنے اور نہ نکلے۔
ایک بزرگ نے فرمایا: ایک وقت میں کلام اللہ سے پڑھتا تھا: ﴿وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ﴾ (۲) "ڈرو اس دن سے جب تم رجوع کرو گے اللہ کی طرف۔" تو ہاتفِ غیبی نے پکارا: آہستہ پڑھ کیونکہ چند پریاں اس کی مصیبت سے مر گئیں۔
ایک درویش فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال سے نماز میں قرآنِ پاک جواز سے زیادہ نہیں پڑھا اور نہ سنا۔ لوگوں نے سبب پوچھا۔ فرمایا: اس خوف سے کہ مجھ پر حجت ہو جائے گی۔
ایک روز میں شیخ ابو العباس شقانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہیں میں نے یہ آیت پڑھتے ہوئے پایا: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَقْدِرُ عَلٰى شَيْءٍ﴾ (۳) "مثال دیتا ہے اللہ اس بندۂ مملوک کی جو کسی شے پر قادر نہیں۔" اور رو رہے تھے کہ ایک نعرہ مار کر بیہوش ہو گئے۔ میں نے گمان کیا کہ شاید دنیا سے رحلت فرما گئے۔ میں نے عرض کیا حضور! یہ کیا حال ہے؟ فرمایا کہ گیارہ سال ہوئے کہ میں اس آیت تک آیا ہوں اب اس سے آگے جانہیں سکتا۔
حضرت ابو العباس عطا رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ حضور نے قرآنِ کریم کی روزانہ کتنی تلاوت مقرر کی ہے۔ جواب دیا: اس سے قبل آٹھ پہر میں دو ختم کرتا تھا۔ اب چودہ سال سے آج تک سورۃ الانفال تک پہنچا ہوں۔ حضرت ابو العباس نے قصاب قاری کو فرمایا: پڑھ۔ اس نے پڑھا: ﴿يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ﴾ (۴) "اے عزیز! ہم کو اور ہمارے اہل کو ضرر پہنچا اور ہم تھوڑا سا اسباب لائے ہیں۔" آپ نے فرمایا پھر پڑھ۔ اس نے پڑھا: ﴿قَالُوْٓا اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ﴾ (۵) "بولے اگر اس نے چرایا ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی (بنیامین) چوری کر چکا ہے۔" آپ نے فرمایا اور پڑھ۔ اس نے پڑھا: ﴿لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ﴾ (۶) "آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں بخش دے گا۔" آپ نے عرض کی: الٰہی! میں یوسف کے بھائیوں سے زیادہ ہوں اور تو کرم میں یوسف
سے زیادہ ہے۔ میرے ساتھ ایسا کر جیسا یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا۔
اور باس ہمہ ہم سب اس کلامِ پاک کے سننے پر مامور ہیں۔ تمام اہلِ اسلام خواہ وہ مطیع ہوں یا عاصی۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾ (۱) "جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔" اس حکم میں سننا اور چپ رہنا خلقت پر حکم فرمایا۔ اس حال میں جب قرآنِ کریم پڑھا جائے اور یہ بھی فرمایا: ﴿فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ﴾ (۲) "خوشخبری دے میرے ان بندوں کو جو سنتے ہیں کلام اور اچھی تابعداری کرتے ہیں۔" یعنی اس کا حکم مانتے اور تعظیم سے سنتے ہیں اور یہ بھی فرمایا: ﴿اَلَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ﴾ (۳) "یعنی وہ لوگ جن کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو لرز جاتا ہے ان کا دل۔" اور یہ بھی فرمایا: ﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ﴾ (۴) "جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مطمئن ہوئے۔ خبردار رہو! اللہ کا ذکر دلوں کا چین ہے۔" اور ایسی بہت سی آیتیں ہیں جو اس حکم کی تائید کرتی ہیں۔
پھر اس کے برخلاف وہ گروہ بھی ہے جو کلامِ الٰہی کو سن کر کان سے دل کی طرف نہیں جانے دیتا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا: ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ وَعَلٰىٓ اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ﴾ (۵) "اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ان کے دلوں پر، ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔" پردہ ڈالنے سے مراد گوشۂ سماعت بند کرنا ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ جہنمی قیامت کے روز کہیں گے: ﴿لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ﴾ (۶) "اگر ہم ایسے ہوتے کہ سنتے اور سمجھتے تو ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے۔"
اور فرمایا: ﴿وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا﴾ (۷) "اور ایک گروہ ان میں سے وہ ہے جو آپ سے سنتا ہے اور ہم نے ان کے دلوں پر حجاب ڈال دیا کہ نہ سمجھ سکیں اور ان کے کان بہرے ہیں تو گویا وہ ایسے ہیں جیسے سنا ہی نہیں۔" اور فرمایا: ﴿وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ﴾ (۸) "یہ ہی وجہ شکایت ہے یعنی تم ایسے نہ جاؤ کہ ہم نے سنا ہو حالانکہ انہوں نے نہیں سنا۔" اور بہت سی آیتیں ہیں۔
اور حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرمایا: اِقْرَاْ عَلَيَّ فَقَالَ اَنَا اَقْرَاُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ اُنْزِلَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنِّيْٓ اُحِبُّ اَنْ اَسْمَعَ عَنْ غَيْرِيْ۔ "مجھ پر قرآن پڑھ۔" ابن مسعود نے عرض کیا حضور! میں پڑھوں، حالانکہ قرآنِ کریم حضور ﷺ پر اترا تو حضور ﷺ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اسے کسی سے سنوں۔ اور یہ دلیل واضح ہے اس بات پر سننے والا قاری سے زیادہ کامل ہوتا ہے کیونکہ حضور نے فرمایا: میں غیر سے سننا زیادہ پسند کرتا ہوں۔
اس لیے کہ پڑھنے والا حال سے پڑھے یا غیرِ حال سے، مگر سننے والا بغیر حال کے نہیں سنتا کیونکہ کلام کرنے میں ایک نوعِ تکبر ہوتی ہے اور سننے میں تواضع۔ یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا: شَيَّبَتْنِيْ سُوْرَةُ هُوْدٍ۔ (۱) "مجھے سورت ہود نے بوڑھا کر دیا۔" اور روایت ہے کہ یہ سورت ہود کی
حاشیہ:
۱۔ اسے امام بزار نے اپنی "مسند" میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے جل شانہ کے رسول (علیہ الصلوٰۃ والسلام)! میں آپ کو بوڑھا ہوتا دیکھ رہا ہوں۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: شیبتنی ھود، والواقعۃ، والمرسلات، وعم یتساء لون۔ ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں محمد بن سیرین کے طریق سے انہوں نے عمران بن حصین سے روایت کیا ہے، راوی عرض کرتے ہیں اے اللہ جل شانہ کے رسول (علیہ الصلوٰۃ والسلام) آپ پر بڑھاپا جلدی طاری ہو رہا ہے۔ فرمایا: شیبتنی ھود، والواقعۃ وأخواتھا۔ اسے امام ترمذی نے، ابو نعیم نے "حلیۃ الاولیاء" میں شیبان کے طریق سے انہوں نے اسحاق السبیعی سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ روایت حسن غریب ہے اور ہم صرف اسی سند کے ساتھ جانتے ہیں۔ ابن ابی شیبہ نے اپنی "مصنف" میں اور ابو یعلیٰ نے ابوالاحوص کے طریق سے اسے ذکر کیا ہے۔ ابو الاحوص نے ابو اسحاق سے، انہوں نے حضرت عکرمہ سے روایت کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی کہ آپ کا بڑھاپا کیا ہے؟ فرمایا: شیبتنی ھود، والواقعۃ، والمرسلات، وعمّ یتساء لون، وإذا الشمس کوّرت۔ امام بیہقی نے "دلائل النبوۃ" میں عطیہ کے طریق سے، انہوں نے ابو سعید سے روایت کیا ہے کہ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام! آپ پر بڑھاپا جلدی طاری ہو گیا ہے؟ تو آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: شیبتنی ھود، وأخواتھا۔ الواقعۃ وعمّ یتساء لون، وإذا الشمس کوّرت۔ ابن سعد نے اسے "طبقات" میں اور ابن عدی نے "الکامل" میں یزید الرقاشی کے طریق سے اور انہوں نے حضرت انس سے روایت کیا ہے۔ اسی طرح امام طبرانی نے عقبہ بن عامر کے طریق سے روایت کیا ہے۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ کیجیے: کشف الخفاء للعجلونی (۱۵۲۷)، المقاصد الحسنۃ للسخاوی (۶۶۳)، الجامع الکبیر (۲/۲۶۶)، أسنی المطالب (۴۹۷)، حلیۃ الاولیاء لابن نعیم، تاریخ بغداد للخطیب (۳/۵۰)، الدرر المنتثرۃ للسیوطی (۲۵۶)، سنن الترمذی، تفسیر (۵۶)
صفحہ۶۰۹
اس آخری آیت کے متعلق فرمایا: ﴿فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ﴾ (۱) "اس پر قائم رہیں جس کا تمہیں حکم کیا گیا۔"
اور حقیقت ہے کہ انسان امورِ حقیقت میں حق پر قائم ہونے سے عاجز ہے۔ اس لیے بندہ بغیر توفیقِ حق کچھ نہیں کر سکتا تو جب فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ سنا تو حیران ہوئے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ میں اس حکم پر قائم رہ سکوں۔ تو دل کے رنج سے قوت جاتی رہی اور رنج پر رنج اتنا بڑھا کہ ایک روز تشریف فرماتھے، جب اٹھنے لگے تو ہاتھ زمین پر رکھ کر قیام فرمایا۔
حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: حضور کیا حال ہے۔ ابھی تو حضور ﷺ جوان ہیں تو فرمایا سورۂ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا۔ یعنی اس حکم کے سننے سے میرے دل پر ایسی کیفیت ہو گئی کہ جیسے قوت ساقط ہو گئی ہو۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اصحاب سے ایک راوی ہیں کہ آپ نے فرمایا:
حواشی: ۱۔ ہود: ۱۱۲ ۲۔ اس روایت کو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ اسی مفہوم کی ایک حدیث امام دارمی نے اپنی "سنن" میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے: (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر)
صفحہ۶۱۰
"میں ایک ضعیف مہاجروں کی جماعت میں تھا کہ انہوں نے بعض بدن، بعض جسم سے عریانی کے سبب چھپا رکھا تھا اور ان میں ایک قاری پڑھ رہا تھا۔ ہم لوگ اس کی قراءت سن رہے تھے کہ حضور ﷺ تشریف لائے۔ جب قاری نے حضور ﷺ کی جلوہ آرائی دیکھی تو وہ خاموش ہو گیا۔ حضور ﷺ نے سلام علیک فرمایا اور پوچھا تم کیا کر رہے تھے۔ ہم نے عرض کی: حضور ﷺ ایک قاری ہمیں قرآنِ کریم سنا رہا تھا، ہم سن رہے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے میری امت میں ایسے آدمی پیدا فرمائے جن کے ساتھ میں صبر کرنے پر مامور ہوا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضور ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما ہو گئے۔ پھر دستِ اقدس کے اشارہ سے ہمیں حلقہ کر کے بیٹھنے کا حکم فرمایا۔ ہم نے حلقہ باندھ لیا۔ حضور ﷺ کو ان ضعیف مہاجروں نے نہ پہچانا کہ سب مہاجر ضعیف تھے۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا بشارت دو مفلس مہاجرین کو کامل کامیابی کی، قیامت کے روز آدھے دن کے لیے جو پانچ سو برس کے برابر ہوگا غنی لوگوں سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔"
اور یہ بھی حدیث حضرت جنید رضی اللہ عنہ سے ہے لیکن یہ اختلافِ الفاظ ہے، مگر معنی سب کے ایک ہیں۔
فصل:
اور زرارہ ابن ابی اوفیٰ کبار صحابہ سے تھے رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ آپ صحابہ میں امامت فرماتے تھے۔ ایک روز ایک آیت پڑھی اور نعرہ مار کر جان دے دی۔ حضرت جعفی کبار تابعین میں سے تھے۔ صالح مری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ پر ایک آیت پڑھی۔ بیہوش ہو گئے اور جان بحق ہو گئے۔ ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ راوی ہیں کہ میں کوفہ کے ایک گاؤں میں گیا، ایک بڑھیا کو دیکھا نماز میں کھڑی تھیں۔ ان کے آثارِ نیک ظاہر تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوئیں میں نے سلام
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ سے)
قال: بینما أنا قاعد فی المسجد، وحلقۃ من فقراء المھاجرین، فقمت إلیھم۔ فقال لی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ابشر فقراء المھاجرین بما یسر وجوھھم، فإنھم یدخلون الجنۃ قبل الأغنیاء بأربعین عاماً، قال: فلقد رأیت الوانھم أسفرت۔ قال عبداللہ بن عمرو: حتی تمنیت أن أکون معھم أو منھم۔
صفحہ۶۱۱
(مشکوٰۃ المصابیح ۳/۱۴۴۷، کتاب الرقاق: باب فضل الفقراء)
کیا۔ انہوں نے جواب سلام کے بعد پوچھا تو قرآن کریم جانتا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں۔ فرمایا کوئی آیت پڑھ۔ میں نے پڑھی۔ انہوں نے آیت سن کر ایک آواز نکالی اور بیہوش ہو گئی اور جان استقبالِ رویتِ حق کے لیے بھیج دی۔
احمد بن ابی الحواری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ میں جنگل میں جا رہا تھا کہ ایک جوان کو دیکھا کہ گدی کانٹے دار لیے کنویں پر کھڑا ہے۔ مجھے فرمایا: اے احمد! قرآنِ کریم کی کوئی آیت پڑھ کہ تو بروقت آیا ہے۔ مجھے سماعتِ کلام کی احتیاج ہے۔
فرماتے ہیں کہ مجھے اس حال میں الہام ہوا کہ یہ آیت پڑھ: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا﴾ (۱) جوان بولا قسم بخدا کعبہ! تو نے وہی آیت پڑھی جو اس وقت فرشتے نے مجھے سنائی اور جان دے دی اور اگر ایسی ایسی سب روایتیں بیان کر دیں تو اصل مقصد رہ جائے گا۔
وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ
حاشیہ: ۱۔ سورۃ الاحقاف: ۱۳
صفحہ۶۱۲
اکتیسواں باب
سماعِ شعر اور اُس کے متعلقات
شعر سننا مباح ہے اور حضور ﷺ نے سنا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے بھی کہا ہے اور سنا ہے اور حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِكْمَةً (۱) اور فرمایا: اَلْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ وَمَنْ وَجَدَهَا فَهُوَ اَحَقُّ بِهَا "کلمۂ حکمت مومن کی گمشدہ چیز ہے، تو جو اسے پائے تو وہ زیادہ اس کا حقدار ہے۔" اور شعر سے وہ شعر مراد ہے کہ جس میں حکمت ہو اور حکمت چونکہ مومن کی گمشدہ چیز ہے کہ اس سے غائب تھی تو جب اسے پایا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَتْهَا الْعَرَبُ قَوْلُ لَبِيْدٍ۔ "یعنی سب سے سچا کلام جو عرب کے لوگوں میں کہا، وہ لبید کا کلام ہے۔"
"خبردار رہو! ہر شے اللہ تعالیٰ کے سوا باطل ہے اور ہر نعمت لامحالہ زائل ہونے والی ہے۔"
عمر بن شرید اپنے والد سے راوی ہیں کہ: قَالَ اِسْتَنْشَدَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَرٰى مِنْ شِعْرِ اُمَيَّةَ ابْنِ اَبِي الصَّلْتِ شَيْئًا فَاَنْشَدْتُهٗ مِائَةَ قَافِيَةٍ كُلَّمَا
حواشی:
۱۔ امام بخاری نے اپنی "صحیح" (۹/۹۰۸، کتاب الادب) میں، امام عسقلانی نے "فتح الباری" (۱۰/۵۳۱) میں عبدالرحمٰن بن الاسود بن عبد یغوث عن ابی بن کعب کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، امام ترمذی نے اسے اپنی "جامع" (حدیث: ۲۸۳۷) میں حضرت عاصم سے انہوں نے حضرت زر سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور امام ابو داؤد نے سماک بن حرب کے طریق سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے: "ان من الشعر حکماً"۔
۲۔ اصدق کلمۃ قالتھا العرب قول لبید: الا کل شیء ما خلا اللہ باطل، وکل نعیم لا محالۃ زائل۔ اسے امام مسلم نے اپنی "صحیح" کے کتاب الشعر (۷/۴۹) میں، امام بخاری نے اپنی "صحیح" (۵/۳۵) میں، امام ترمذی نے "الشمائل المحمدیۃ" (۲۲۴) میں، ابن ماجہ نے اپنی "سنن" (۳۷۵۷) میں نقل کیا ہے۔ شعر کے حوالہ کے لیے دیکھیے: دیوان طرفہ بن العبد (ص: ۶۸)۔
صفحہ۶۱۳
مَرَرْتُ عَلٰى بَيْتٍ قَالَ هِيْهِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَادَ اَنْ يُّسْلِمَ فِيْ شِعْرِهٖ۔ (۱) "مجھے حضور ﷺ نے شعر سنانے کا حکم دیا اور فرمایا: امیہ بن ابی الصلت کے شعر تجھے یاد ہیں؟ تو میں نے سو قافیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائے۔ تو جب میں ایک بیت سے گزر رہا تو فرماتے ہاں اور سنا۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا قریب تھا کہ وہ اپنے شعروں میں اسلام لے آتا۔" اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بہت سی روایتیں ہیں۔
اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ اس مسئلہ میں مغالطہ پر ہیں۔ چنانچہ ایک گروہ تو تمام اشعار کا سننا حرام کہتا ہے اور شب و روزِ غیبت مسلمانوں کی کرتا ہے اور ایک گروہ سب قسم کے اشعار حلال کہتا ہے اور شب و روز چہرے، زلف، خد و خال اور معشوق کی صفتِ غزل میں سنتا ہے اور ہر ایک اس بحث میں ایک دوسرے پر دلائل لاتا ہے اور میری مراد ان کے کہنے سننے سے اثباتِ نفی ہے۔
مشائخِ صوفیاء رضی اللہ عنہم کا اس بارہ میں یہ طریقہ ہے کہ حضور ﷺ سے شعر کے بارے میں سوال ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا: كَلَامٌ حَسَنُهٗ حَسَنٌ وَّ قَبِيْحُهٗ قَبِيْحٌ (۲) "یہ کلام ہے حسن کلام حسن ہے اور قبیح قبیح ہے۔" جس کا سننا حرام ہے، جیسے غیبت، بہتان، فواحشات، کسی کی مذمت یا کلمۂ کفر، خواہ وہ نظم میں ہو یا نثر میں، سب حرام ہے۔
اور جس کلام کا نثر میں سننا حلال ہے جیسے عقلی باتیں اور نصیحت، اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلائل مشاہداتِ حق میں نظر کرنا، یہ نظم میں بھی جائز ہے۔
غرضیکہ جیسے حسن کا دیکھنا جو محلِ خطر ہو، ممنوع ہے، اس کا چھونا حرام ہے۔ ایسے ہی نظم و نثر
حواشی:
۱۔ حوالہ کے لیے: الشمائل المحمدیۃ للامام الترمذی (حدیث: ۲۴۰)، صحیح مسلم (۷/۴۸)، الادب المفرد للبخاری (حدیث: ۸۶۹)، سنن ابن ماجہ (۳۷۶۲)۔
۲۔ کلام حسنہ حسن وقبیحہ قبیح۔ ابن جوزی نے اسے "العلل المتناہیہ" (۱/۱۲۹) میں عروہ کے طریق سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے: سئل النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن الشعر: فقال: کلام حسنہ حسن وقبیحہ قبیح۔ امام شافعی نے مروۃ سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے، جیسا کہ "مشکوٰۃ المصابیح" (ص: ۴۱۱) میں ہے۔ امام ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (۸/۱۲۲) میں کہا ہے کہ اسے امام ابو یعلیٰ نے نقل کیا ہے اور اس میں عبدالرحمٰن بن ثابت بن ثوبان ہیں جن کی ایک جماعت نے توثیق کی ہے (ثقہ کہا ہے) لیکن ابن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ اس کے بقیہ راوی صحیح کے راویوں کی طرح ہیں۔ امام نووی "الاذکار" میں کہتے ہیں: "مسند ابو یعلیٰ" میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسنادِ حسن کے ساتھ مروی ہے اور امام بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (۱۰/۲۳۹) میں ابو یعلیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک جماعت نے اسے مقبول قرار دیا ہے اور صحیح یہ ہے کہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے۔
صفحہ۶۱۴
جو محرکِ شہوات ہوں وہ محلِ خطر ہیں، ایسا سننا حرام ہے۔ اور جو لوگ ایسے فحش مضمون کو حلال کہتے ہیں ان کو دیکھنا اور چھونا بھی حلال کہنا چاہیے اور ایسی صورت میں یہ بے دینی کفر ہے۔
اور جو کہتا ہے کہ میں آنکھ، رخسار اور زلف کے بیان میں جلوۂ حق دیکھتا ہوں اور حق کو ڈھونڈتا ہوں، وہ در حقیقت واجب کرتا ہے کہ اور چیز کی طرف بھی دھیان کرے اور رخسار خال بھی اور کہے کہ میں اس جلوہ میں حق ڈھونڈتا ہوں۔
اس لیے کہ آنکھ اور کان جائے عبرت اور منبعِ علم ہیں، اس لیے واجب ہے۔ تاکہ دوسرا کہے کہ میں چھوتا ہوں اس شخص کو جس کی صفت سننا جائز ہے اور دوسرا اس کا دیکھنا روا رکھے اور کہے میں اس میں حق دیکھتا ہوں اور ایک خواہش دوسری خواہش سے زیادہ اچھی نہیں ہوتی جس سے معنی معلوم ہو سکیں۔ ایسی صورت میں شریعت بالکل باطل ہوتی ہے۔
اور حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: اَلْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ (۱) "دونوں آنکھیں زنا کرتی ہیں۔" تو ان سے نظر بندی کے ماتحت یہ حکم اٹھ جاتا ہے اور نامحرموں کے چھونے کی علامت قطع ہو جاتی ہے اور حدود و شرع بھی ساقط ہو جاتی ہے اور یہ واضح گمراہی ہے۔
اسی وجہ سے جب جاہل صوفیوں نے دیکھا کہ استغراق میں سماع والے شریک ہوتے ہیں، اس حال سے خیال کیا کہ یہ سب نفس کی پیروی میں کرتے ہیں تو یہ حلال ہے۔ اگر حلال نہ ہوتا تو یہ نہ کرتے۔ ان کی تقلید میں انہوں نے باطن ترک کر کے ظاہر کیا اور خود ہلاک ہو کر قوم کو بھی ہلاک کیا اور یہ آفتِ زمانہ سے ایک آفت ہے۔ اس کا بیان اپنے موقع پر کیا جائے گا۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ
حاشیہ:
۱۔ یہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زنا العیون النظر، وزنا اللسان النطق، وزنی الید البطش، وزنا الرجل المشی، وانما یصدق ذلک الفرج او یکذب عنہ۔ اس حدیثِ شریف کو امام احمد نے اپنی "مسند" (۲/۴۷۶) میں، امام بخاری نے اپنی "صحیح" (حدیث: ۶۲۴۳، ۶۶۱۲) میں، امام مسلم نے اپنی "صحیح" (حدیث: ۲۶۵۷) میں، ابو داؤد نے اپنی "سنن" (حدیث: ۲۱۵۳) میں، امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (حدیث: ۱۰۳۰۳) میں، امام ابو یعلیٰ نے اپنی "مسند" (۲/۲۳۹) میں اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء (۲/۹۸) میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے طریق سے نقل کیا ہے جبکہ امام ترمذی نے اپنی "سنن" (حدیث: ۲۹۳۷) میں ابو موسیٰ کے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: کل عین زانیۃ۔ اسی طرح امام دارمی نے اپنی "سنن" (حدیث: ۲۶۴۹) میں روایت کیا ہے۔
صفحہ۶۱۵
بتیسواں باب
سماعِ لحن و نغمہ
حضور اکرم ﷺ فرمایا کرتے: زَيِّنُوْا اَصْوَاتَكُمْ بِالْقُرْاٰنِ (۱) "اپنی آواز قرآنِ کریم پڑھنے میں مزیّن کیا کرو۔" اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَزِيْدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَآءُ﴾ (۲) بڑھاتا ہے مخلوق میں جتنا چاہے۔ مفسرین نے کہا یہ آوازِ حسن کے متعلق ہے اور حضور ﷺ نے فرمایا: مَنْ اَرَادَ اَنْ يَّسْمَعَ صَوْتَ دَاوُدَ فَلْيَسْتَمِعْ صَوْتَ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ (۳) "جو چاہے
حواشی:
۱۔ مذکورہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن عبدالرزاق نے اسے روایت کیا ہے اور انہی کے طریق سے امام حاکم نے "المستدرک" میں معمر سے اس نے اعمش سے انہوں نے طلحہ بن مصرف سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن عوسجہ سے انہوں نے حضرت براء سے مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "زینوا القرآن بأصواتکم" انہی الفاظ کے ساتھ امام طبرانی نے سندِ حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور امام حاکم نے حضرت براء والی روایت مختلف اسناد لانے میں توسیع کی ہے۔ اور "زینوا القرآن بأصواتکم" کے الفاظ پر اتفاق ہوا ہے۔ امام دارمی نے اسے اپنی "سنن" میں ابو نعیم نے "حلیۃ الاولیاء" میں شیبان کے طریق سے انہوں نے اسحاق السبیعی سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا ہے۔ امام بخاری نے "خلق افعال العباد" میں حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کیا ہے اور "التراجم" کے الفاظ کے ساتھ اپنی "صحیح" کے اواخر میں اعتماد و یقین کے ساتھ تعلیق کی ہے لیکن اسے باب "خلق افعال العباد" میں کئی سندوں سے ذکر کیا ہے اسی طرح اسے امام ابو داؤد، امام نسائی اور امام ابن حبان نے اپنی "صحیح" میں بیان کیا ہے۔
حوالہ کے لیے دیکھیے: المستدرک للحاکم (۱/۵۷۱)، سنن الدارمی (۲/۳۴۰)، (باب فضائل القرآن)، سنن ابی داؤد (۱/۵۴۷)، (کتاب الصلاۃ)، سنن نسائی (۱/۱۵۷)، (باب تزیین القرآن بالصوت)، مسند الامام احمد (۴/۲۸۳، ۲۸۵، ۳۰۴)، سنن ابن ماجہ (ص: ۹۰)، احیاء علوم الدین (۱/۳۷۰)، (باب قیام شھر رمضان)، المستدرک (۱/۵۷۱)، (فی فضائل القرآن)، مصنف عبدالرزاق (۲/۴۸۵)، (الصلاۃ: باب حسن الصوت)، المعجم للطبرانی (۲/۴۸۵)۔
۲۔ سورۃ فاطر: ۱
۳۔ اسے امام بخاری نے اپنی "صحیح" (۲/۷۵۵، کتاب: فضائل القرآن، باب حسن الصوت بالقراءۃ) میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو قراءت (قرآن) کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: لقد اوتی ھذا مزماراً من مزامیر آل داؤد۔ مزید حوالہ کے لیے: صحیح مسلم (۲/۱۹۳، فی صلاۃ المسافرین، باب: استحباب تحسین الصوت بالقرآن)، سنن الدارمی (۲/۳۳۹، فی فضائل القرآن، باب: تغنی بالقرآن)
صفحہ۶۱۶
کہ داود علیہ السلام کی آواز سنے، وہ ابو موسیٰ اشعری کی آواز سنے۔"
احادیث میں ہے کہ بہشتیوں کے لیے بھی سماع ہوگا اور وہ ایسا ہوگا کہ ایک درخت سے آوازیں مختلف سروں میں آئیں گی۔ جب وہ مختلف آوازیں ملائی جائیں گی تو اس سے طبیعتوں کو بڑی لذت حاصل ہوگی۔ اس قسم کی آواز عامِ مخلوق میں عام ہوتی ہے، خواہ وہ آدمیوں میں ہو یا جانوروں میں۔ اس لذت کا باعث یہ ہے کہ روح لطیف ہے اور اس قسم کی آوازں میں بھی لطافت ہے تو جب روح ایسی آوازیں سنتی ہے تو جنس جنس کی طرف مائل ہوتی ہے اور یہ اس گروہ کا قول ہے جس کا ذکر ہو چکا اور محققین اہلِ خبر اس میں بہت کلام کرتے ہیں بلکہ سروں کے ملانے نیز عیوب کی تحقیق میں انہوں نے کتابیں لکھی ہیں اور فن کو بڑی اہمیت دی ہے اور موجودہ زمانہ میں ان کی صنعت کے آثار مزامیر ہیں، جو انہوں نے ایجاد کیے ہیں۔ ان کے ذریعے خواہشِ نفسانی، لہو و لعب، کھیل تماشے کی زینت کے لیے انہوں نے شیطان سے اتفاق کیا ہے۔ بلکہ اس حد تک بڑھے کہ روایات بنا کر سناتے ہیں کہ حضرت اسحاق ایک باغ میں سرود کر رہے تھے اور ایک بلبل بول رہی تھی۔ وہ آواز سن کر خاموش ہو گئی اور سنتی رہی حتیٰ کہ وہ درخت سے گر کر مر گئی۔
میں نے اس قسم کی بہت سی حکایتیں سنی ہیں۔ اس سے میری مراد یہ نہیں کہ یہ جو کہتے ہیں سب راحتیں اور تالیفِ طبع کے لیے اور الحان دلوں کے لیے ہیں۔
حضرت ابراہیم خواص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک وقت میں عرب کے ایک قبیلہ میں گیا اور ایک امیر کے مہمان خانے میں اُترا۔ میں نے وہاں ایک حبشی دیکھا جو زنجیروں میں جکڑا ہوا دھوپ میں پڑا تھا۔ اس پر خیمہ لگا ہوا تھا۔ مجھے اس پر رحم آیا۔ میں نے اس کی سفارش کے لیے خیال کیا۔ پھر جب کھانا لایا گیا تو امیر بھی خود مہمانوں کی تعظیم کے لیے آیا تاکہ اپنے سامنے سب کو کھانا کھلائے۔ جب میرے سامنے کھانا آیا تو میں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔ عرب میں اس سے معیوب بات کوئی نہیں سمجھی جاتی کہ مہمان کھانا نہ کھائے۔ چنانچہ امیر خود میرے پاس آیا اور کھانا نہ کھانے کی وجہ دریافت کی۔ میں نے اُسے کہا کہ مجھے تیری مہربانی سے سب کچھ اُمید ہے۔ امیر نے کہا کہ آپ کو میری تمام مِلک میں تصرف کا حق ہے لیکن کھانا کھا لو۔ میں نے جواب دیا کہ مجھے تیری مِلک کی ضرورت نہیں۔ میری صرف اتنی خواہش ہے کہ یہ غلام جو پابہ جولاں ہے، یہ مجھے دے دیا جائے اور بس۔ اس نے کہا مجھے اس میں کوئی عذر نہیں لیکن اوّل اس کا قصور معلوم کر لیجیے پھر جیسے آپ چاہیں وہ کریں۔
میں نے پوچھا تو امیر نے کہا یہ میرا غلام ہے اور نہایت خوش الحان ہے۔ میں نے اسے
صفحہ۶۱۷
چند اونٹ دیے تاکہ یہ کھیتوں میں جا کر دانہ وغیرہ لے آئے۔ اس نے ایک ایک اونٹ پر دو اُونٹوں کا بار ڈالا اور راستہ میں گانا شروع کیا۔ جس سے اونٹ مست ہو گئے اور دوڑتے ہوئے واپس آئے اور جتنا بوجھ لانا تھا اس سے دو چند بوجھ لے آئے۔ جب ان سے بوجھ اُتارا گیا تو وہ اونٹ ایک ایک دو دو کر کے مر گئے۔
ابراہیم خواصؒ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ سن کر تعجب ہوا۔ میں نے کہا مجھے اس بات پر دلیل کی ضرورت ہے کہ اتنے میں چند اونٹ گھاٹ پر آئے کہ پانی پئیں۔ امیر نے ان اونٹوں کے آدمیوں سے پوچھا کہ یہ کتنے روز سے پیاسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین چار روز سے پیاسے ہیں۔ امیر نے (غلام سے) کہا کہ اب تو گانا کہ ران اونٹوں کو مست کر۔ اس نے گانا شروع کیا اور اونٹ اس کی آواز سن کر پانی پینا بھول گئے۔ کسی نے پانی کی طرف رخ نہ کیا اور دیوانہ وار جنگل کی طرف بھاگے اور پراگندہ ہو گئے۔ اس کے بعد امیر نے غلام کو آزاد کر کے مجھے بخش دیا۔
اور اس قسم کے مشاہدے مجھے بلوچوں میں بھی ہوئے کہ وہ گدھے اور اونٹ لے کر چلتے ہیں اور راستہ میں انہیں اپنے گانے سے مست کرتے ہیں اور خراسان و عراق میں شکاری رات کو تھال بجاتے ہیں جس سے جنگل کے ہرن کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ شکاری انہیں پکڑ لیتے ہیں۔
اور مشہور ہے کہ ہندوستان میں ایک گروہ جنگل میں جا کر سرود کرتا ہے اور انواع و اقسام کے راگ گاتا ہے جس سے ہرن اس آواز کی طرف آتے ہیں یہ ان کے گرد پھر کر سرود کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ وہ ہرن مست ہو کر آنکھیں بند کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں، وہ لوگ انہیں پکڑ لیتے ہیں۔ اور شیر خوار بچوں میں یہ دستور ہے کہ جب وہ پالنے میں روتے ہیں تو ان کے پاس ان کی ماں یا کوئی انواع اقسام کی آواز کرتا ہے، وہ چپ ہو جاتے ہیں اور اس آواز کے سننے میں محو ہو جاتے ہیں اور جو بچہ ایسی آواز پر روتا ہوا چپ ہو جائے اطباء اس بچے کو زیرک کہتے ہیں۔
اور اس کا تجربہ اس طرح حاصل ہوا کہ ایک عجمی بادشاہ مر گیا۔ اس کا دو سالہ بچہ تھا۔ وزیروں نے اسے تختِ نشین کرنا چاہا۔ بزرجمہر نے کہا کہ اسے تخت نشینی سے پہلے امتحان کرنا ضروری ہے کہ اس کے حواس درست ہیں یا نہیں تاکہ نظامِ مملکت کی اس سے امید ہو سکے۔ لوگوں نے پوچھا وہ امتحان کیسے لیا جائے۔ اس نے کہا گانے والے بلائے اور اس بچے کے آگے وہ گانے لگے۔ بچہ خوشی میں آیا اور ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ بزرجمہر نے کہا کہ یہ بچہ زیرک ہے اس سے نظامِ مملکت کی امید ہے۔
اور عقلاء کے نزدیک جس پر آواز کی تاثیر نہ ہو وہ بے حس ہے یا جھوٹا ہے یا نفاق کرتا ہے۔
صفحہ۶۱۸
یا آدمی اور جانوروں کے طبقہ سے خارج ہے۔
اور ایک جماعت راگ سننے کی اس وجہ میں ممانعت کرتی ہے کہ اس میں امرِ حق کی پیروی نہیں ہے اور فقہاء کا اتفاق ہے کہ گانا سننا اس وقت جائز ہے جب راگ و رنگ کا سامان موجود نہ ہو اور آواز سننے سے بُری نیت ظاہر نہ ہو اور اس پر وہ دلائل میں بہت سے اخبارِ واحادیث لاتے ہیں، جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
"حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک گانے والی لونڈی گا رہی تھی۔ اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ جب اس لونڈی نے معلوم کیا اور حضرت عمرؓ کی آواز سنی تو وہ بھاگ گئی۔ جب حضرت عمرؓ داخل ہوئے تو حضور ﷺ تبسم فرما رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی: حضور ﷺ کو کس چیز نے ہنسایا؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ہمارے پاس ایک لونڈی گا رہی تھی، جب اس نے تمہاری آواز سنی تو بھاگ گئی۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا: میں ضرور سنوں گا جو میرے حضور ﷺ نے سنا ہے۔ تو حضور ﷺ نے اسے بلایا۔ وہ آ کر گانے لگی اور حضور ﷺ سن رہے تھے۔"
اور اکثر صحابہ کرام نے ایسی روایات بیان کی ہیں۔ شیخ عبدالرحمٰن سلمی رحمۃ اللہ علیہ ان سب روایات کو اپنی کتاب "السماع" میں جمع کیا ہے اور اس کی اباحت کا فیصلہ کیا ہے۔
لیکن مشائخِ صوفیاء نے اسے مباح کہنا عوام کا کام بتایا ہے اس لیے اعمالِ مشائخ میں وہی کام رائج ہے جس سے ثواب اور فائدہ حاصل ہو۔ مباح کاموں میں پڑنا عوام کا ہی کام ہے یا چوپایوں کا۔ بالغ بندوں کو چاہیے کہ ایسا کام کریں کہ جس سے فائدہ حاصل ہو۔ ایک وقت میں
صفحہ۶۱۹
مقامِ مرو میں تھا۔ ایک محدث نے جو ائمۂ حدیث میں مشہور تھے، مجھ سے کہا کہ میں نے اباحتِ سماع میں کتاب لکھی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ دین میں بڑی مصیبت کی بات ہے کہ ایک امامِ فن ایسی چیز کو جو سب جہالتوں کی جڑ ہو، حلال کرے۔ پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ آپ حلال نہیں جانتے تو سماع کیوں کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ اس کا حکم چند صورتوں پر ہے، ایک حال پر منحصر نہیں۔ اگر دل میں حلال تاثیر ہو تو حلال ہے اور اگر حرام کی تاثیر ہو تو حرام ہے، اور اگر مباح کی تاثیر ہو تو مباح ہے، اور جس کا ظاہر حکم گناہ ہے، اس کے باطنی حال میں کئی وجوہ پر اس کا حکم ہے۔ ایک چیز پر مطلق حکم کرنا محال ہے۔
صفحہ۶۲۰
تینتیسواں باب
احکامِ سماع
اچھی طرح سمجھ لو کہ سماع کے متعلق اختلافِ طبائع کے ساتھ علیحدہ علیحدہ حکم ہیں، جیسے ارادت کے دلوں پر مختلف حکم ہیں اور یہ ظلم ہے کہ کوئی شخص اسے یکساں سمجھے۔ غرض کہ سننے والے دو گروہ ہیں: ایک معنی سننے والے، دوسرے آواز سننے والے، اور ان دونوں میں فائدے بھی ہیں اور آفات بھی۔ اس لیے کہ خوش آواز سننے سے جو معنی آدمیوں میں مرکب ہوتے ہیں اور وہ جوش میں آتے ہیں، اس کے دو نتیجے ہیں۔ اگر طبیعت میں حق ہو تو حق جوش دیتا ہے اور اگر باطل ہو تو باطل جوش مارتا ہے۔ جس کی طبیعت میں مادۂ فساد ہو تو وہ جب سماع کرے گا فساد ہی پیدا ہوگا۔ اور یہ دونوں باتیں حضرت داؤد علیہ السلام کی حکایتوں سے ظاہر ہیں۔
جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا خلیفہ بنایا تو آپ کو لحن عطا فرما کر گویا آپ کے گلے کو ساز بنا دیا، حتیٰ کہ پہاڑ بھی نرم ہوئے اور وحوش و طیور بھی سماعتِ داؤد علیہ السلام سے باہر آ جاتے اور پانی چلتا ہوا ٹھہر جاتا اور پرندے ہوا پر سے گر جاتے۔
روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی آواز سن کر پرندے ایک ایک ماہ تک مدہوش ہوتے کہ کچھ نہ کھاتے۔ بچے نہ روتے، نہ دودھ مانگتے اور جب خلقت وہاں سے واپس آ جاتی تو بہت سے آدمی آپ علیہ السلام کے خوبصورت کلام سے متاثر ہو کر مر جاتے۔ حتیٰ کہ ایک بار تخمینہ لگایا تو سات سو خوبصورت لونڈیاں اور بارہ ہزار بوڑھے مر گئے تھے۔ پھر مشیتِ حق اس طرف ہوئی کہ حق اور حقیقت نوش لوگوں کو متبعینِ حرص و آز سے جدا کیا جائے۔ چنانچہ شیطان کی بے قراری نے زور پکڑا اور اسے ان کے دلوں میں وسواس الخناس ڈالنے کی اجازت ملی تاکہ وہ حیلہ سازی سے جو کچھ کر سکتا ہے کر لے۔ تو اس نے بنسری اور طنبور کی ترکیب نکالی اور مجلسِ داؤد علیہ السلام کے مقابل ایک مجلس تیار کی۔
چنانچہ سامعینِ داؤد علیہ السلام کے دو گروہ ہو گئے۔ ایک اہلِ شقاوت جو مزامیر کی طرف مائل ہو گیا۔ دوسرا صرف لحنِ داؤد کا مشتاق رہا۔ اور جو اہلِ معنی تھے وہ لحنِ داؤد کے علاوہ کسی اور طرف مائل نہ ہوئے، اس لیے کہ وہ حق کو بھی دیکھتے تھے اور اگر شیطانی ساز سنتے تو اس میں منجانب
صفحہ۶۲۱
اللہ انہیں فتنہ نظر آتا اور جب لحنِ داؤد سنتے تو اس میں ہدایتِ حق دیکھتے۔ حتیٰ کہ سب سے رہ گئے اور متعلقات سے روگرداں ہو کر کماحقہ صواب کو صواب دیکھا اور خطا کو خطا۔ تو جس کا سماع ایسا ہے وہ جو کچھ سنتا ہے سب اس کو حلال ہے۔ اور ایک گروہ مدعیوں کا کہتا ہے کہ ہم پر سماع کا اثر برخلاف پڑتا ہے اور یہ محال ہے۔ اس لیے کہ کمالِ ولایت یہ ہے کہ ہر چیز کی اصلیت نظر آئے تاکہ اس کا دیکھنا صحیح ہو اور اگر اس کے برخلاف دیکھے تو وہ دیکھنا درست نہیں۔
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اَللّٰهُمَّ اَرِنَا حَقَائِقَ الْاَشْيَاءِ كَمَا هِيَ (۱) "الٰہی! ہمیں ہر چیز اپنی اصل اصلیت میں دکھا دے۔" تو جب دیکھنا درست ہوا، یعنی چیزوں کے مطابق اصل۔ تو چاہیے کہ سماع میں درست ہو اور اسے ایسا سنے جیسا کہ وہ اپنی صفت اور حکم میں ہے۔ اور جو لوگ ساز اور باجے میں مبتلا ہیں اور نفسانی خواہش اور شہوات میں ہیں، وہ برخلافِ اصلیت کے سنتے ہیں۔ اگر اس حکم کے مطابق اصل سماع کرتے تو سب آفات سے بچے رہتے۔
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ گمراہوں نے کلامِ الٰہی سنا اور اس سے ان کی گمراہی زیادہ ہوئی۔ جیسے نضر بن حارث نے کہا: ﴿اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ﴾ (۲) "یہ پہلے قصے ہیں۔" اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کاتبِ وحی تھا، کہہ بیٹھا: ﴿سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ﴾ اور ایک گروہ ﴿لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ﴾ (۳) کو دلیل بنا بیٹھا کہ اس کا دیدار نہیں ہوگا اور ایک گروہ نے ﴿ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ﴾ (۴) کو مکان اور جہت کا ثبوت اور ایک گروہ نے ﴿وَجَآءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا﴾ (۵) کو جسمیت کی دلیل بنا لیا۔ جب ان کا دل گمراہی کا محل تھا، اسے کلامِ الٰہی سننے سے کچھ فائدہ نہ ہوا۔
ایسے ہی جب موحد نے شاعر کے شعر کی طرف نگاہ کی اور اس کی طبع پیدا کرنے والے کو دیکھا اور اپنے دلوں کو آراستہ کرنے والی چیز کا اس میں مطالعہ کیا اور فاعلِ فعل پر دلیل کی تو اس گروہ نے حق میں راستہ گم کیا اور باطل میں راستہ پایا اور ان معنی کا انکار ظاہر مکابرہ ہے۔
اور مشائخ رضی اللہ عنہم نے ان معنی میں لطیف کلمات بیان کیے ہیں جو اس کتاب میں نہیں رکھتے۔
حواشی: ۱۔ یہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن "اتحاف السادۃ المتقین" میں یہ الفاظ آئے ہیں: اللہم ارنی الدنیا کما تریھا صالح عبادک۔ ۲۔ سورۃ الانعام: ۲۵ ۳۔ سورۃ الانعام: ۱۰۳ ۴۔ سورۃ الاعراف: ۵۴ ۵۔ سورۃ الفجر: ۲۲
صفحہ۶۲۲
فصل:
میں اس فصل میں ثابت کرتا ہوں تاکہ کامل فائدہ ہو۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلسِّمَاعُ وَارِدُ الْحَقِّ يُزْعِجُ الْقُلُوْبَ اِلَى الْحَقِّ فَمَنْ اَصْغٰى اِلَيْهِ بِحَقٍّ تَحَقَّقَ وَمَنْ اَصْغٰى اِلَيْهِ بِنَفْسٍ تَزَنْدَقَ۔ "سماع واردِ حق ہے اور دلوں کا اللہ کی طرف میلان ہے۔ جو اسے حق سے سنتا ہے وہ حق کی طرف راستہ پاتا ہے اور نفس سے سنتا ہے زندیق ہو جاتا ہے۔" اس سے حضرت ذوالنونؒ کی مراد یہ نہیں ہے کہ سماع علتِ وصلِ حق ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سننے والے کو معنی حق سننے چاہئیں نہ کہ آواز اور اس کا دل ورودِ حق کا محل ہو۔ تو جب وہ معنی دل پر پہنچتے ہیں، دل کو ابھارتے ہیں۔
اور جو سماع تابعِ حق ہو وہ مکاشفِ حق ہوتا ہے اور جو نفس کے تابع ہو وہ محجوب ہوتا ہے، تاویل سے تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس کا ثمرہ کشف ہوتا ہے اور اس سماع سے پردہ۔ لیکن زندقہ ایک فارسی لفظ سے معرب کیا گیا ہے اور عجمی زبان میں زندقہ، زند تاویل ہے اور اس سبب سے انہوں نے اپنی کتاب کی تفسیر کو "زند پاژند" کہا ہے اور جب اہلِ لغت چاہتے ہیں کہ ابناء مجوس کو کسی نام سے ظاہر کریں تو "زندیق" کہتے ہیں۔
اس بناء پر وہ کہا کرتے تھے کہ جو کچھ مسلمان کرے اس کے لیے تاویل ہے۔ اس لیے کہ اس کا ظاہر نقض ہے اور تنزیل دیانت دار قول ہے اور تاویل اس سے باہر ہے اور مشتبہ فقر جو آج ان سے باقی ہیں یہی کہتے ہیں۔ اور یہ زندیقی نام ان کے لیے علم ہے۔ تو اس سے ذوالنون مصریؒ کی مراد یہ ہے کہ اہلِ تحقیق سماعِ محقق ہوتے ہیں اور نفسانی لوگ تاویل کنندہ۔ تو جو اس کی تاویل حقیقت سے دور کرتے ہیں وہ سب سے گنہگار ہوتے ہیں۔
اور حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اَلسِّمَاعُ ظَاهِرُهٗ فِتْنَةٌ وَبَاطِنُهٗ عِبْرَةٌ فَمَنْ عَرَفَ الْاِشَارَةَ حَلَّ لَهٗ اِسْتِمَاعُ الْعِبْرَةِ وَاِلَّا فَقَدِ اسْتَدْعَى الْفِتْنَةَ وَتَعَرَّضَ لِلْبَلِيَّةِ۔ "سماع بظاہر فتنہ ہے اور بباطن عبرت۔ جو اس کے اشارات کا فہم حاصل کر لے اس کے لیے سماعِ عبرت حلال ہے ورنہ فتنہ اپنے لیے بلا رہا ہے اور بلاؤں کے لیے اپنے کو پیش کر رہا ہے۔" یعنی جس کا دل بالکل حدیثِ حق میں مستغرق نہیں اس کے لیے سماع بلا ہے اور وہ موردِ آفات ہے۔
حضرت ابو علی رود باری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا، جب کہ ایک شخص نے کہہ کر سماع سے متعلق پوچھا: لَيْتَنَا تَخَلَّصْنَا مِنْهُ رَاْسًا بِرَاْسٍ۔ "کاش کہ ہم اس سماع
صفحہ۶۲۳
سے سر بسر چھوٹ جاتے۔" اس لیے کہ آدمی سب چیزوں کے حق ادا کرنے میں عاجز ہے۔ جب کسی چیز کا حق فوت ہو جائے تو بندہ اس میں اپنا قصور دیکھتا ہے اور جب اپنا قصور دیکھتا ہے تو دعا کرتا ہے کہ کاش اس سے چھوٹ جائے۔
ایک شیخ فرماتے ہیں: اَلسِّمَاعُ تَنْبِيْهُ الْاَسْرَارِ لِمَا فِيْهِ مِنَ الْمُغَيَّبَاتِ۔ "سماع بیدار کرتا ہے رازوں سے اور لازم کرتا ہے کہ اس سے ہمیشہ حق کی جانب حاضر ہو جائے۔" اس لیے کہ رازوں کا غائب ہونا مدعیوں کے حق میں بُرا ہے اور یہ ان کی بُری صفتوں سے ہے۔ اس لیے کہ دوست سے اگر غائب ہو تو بھی دل سے حاضر ہوتا ہے اور جب غیبت آئے تو دوستی جاتی رہتی ہے۔
یہی میرے شیخ نے فرمایا ہے: اَلسِّمَاعُ زَادُ الْمُضْطَرِّيْنَ فَمَنْ وَصَلَ اسْتَغْنٰى عَنِ السِّمَاعِ۔ "سماع تھکے ماندوں کا توشہ ہے، جب پہنچ گیا اسے سماع سے استغنا حاصل ہوتا ہے۔" اس لیے کہ وصل کے محل میں سماعت معزول ہوتی ہے۔ کیونکہ سماع خبر ہے اور خبر غائب سے ہوتی ہے اور جب روبرو ہو گیا تو سننا جاتا رہا۔
حضری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَيُّ شَيْءٍ اَعْمَلُ بِالسِّمَاعِ يَنْقَطِعُ اِذَا انْقَطَعَ مِمَّنْ يُسْمَعُ مِنْهُ يَنْبَغِيْ اَنْ يَكُوْنَ سِمَاعُكَ مُتَّصِلًا غَيْرَ مُنْقَطِعٍ۔ "میں سماع کو کیا کروں، کیونکہ جب سنانا بند ہو جاتا ہے تو سماع بھی بند ہو جاتا ہے اور چاہیے کہ یہ تیرا سماع متصل ہو اور کبھی بند نہ ہو۔"
اور ہمت کا نشان اجتماع ہے، جب گلستانِ محبت میں جمع ہو۔ کیونکہ جب بندہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے تو سب جہان حتیٰ کہ حجر و مدر سب اس کے لیے سماع ہو جاتے ہیں اور یہ بہت بڑا درجہ ہے۔ وَاللّٰهُ وَلِيُّ التَّوْفِيْقِ
صفحہ۶۲۴
چونتیسواں باب
اختلافِ سماع
مشائخِ محققان کے اندر سماع میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ سماع آلۂ غیب ہے اور دلیل یہ لاتے ہیں کہ بحالتِ مشاہدہ سماع محال ہے۔ کیونکہ دوست کے محل میں اور دوست کے دیکھنے کے وقت سماع سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ سماع خبر کے واسطے سے ہے اور خبر دیدار کے وقت دوری اور حجاب مشغول ہوتی ہے، تو سماع مبتدیوں کا آلہ ہے۔ اس سے غفلت اور پراگندگی جمع ہو جاتی ہے اور جو جمع ہونا ضرور ہو اس سے پراگندہ ہو جاتا ہے۔
ایک گروہ کہتا ہے کہ سماع آلۂ حضور ہے اس لیے کہ محبت میں کلیت درکار ہے تاکہ کل محب کا کل محبوب میں مستغرق نہ ہو، وہ محبت میں ناقص ہے۔ تو جیسا کہ دل کو وصل کے محل میں محبت نصیب ہوتی ہے اور سر میں مشاہدہ اور روح کو وصل اور تن کو خدمت تو چاہیے کہ کان کا نصیب بھی ہو جائے جیسے آنکھوں کو دیکھنا نصیب ہوا ہے۔ کسی شاعر نے ہزل کے محل میں خوب کہا ہے جب کہ اس نے شراب کی دوستی کا دعویٰ کیا ہے:
"یعنی مجھے شراب دے تاکہ میری آنکھیں دیکھیں اور ہاتھ چھوئیں اور ذائقہ چکھے اور ناک سونگھے۔"
ایک حاسدان میں سے بے نصیب رہ جاتا ہے اور وہ کان ہے تو اب کہے جا کہ یہ شراب ہے تاکہ کان بھی اپنا حصہ پائے تاکہ میرے تمام حواس اس میں ہوں اور اس سے لذت پائیں۔
کہتے ہیں کہ سماع آلۂ حضور ہے اس لیے کہ غائب خود غائب ہے اور غائب خود منکر ہوتا ہے اور منکر اس لائق نہیں ہوتا۔
تو سماع دو طرح پر ہوتا ہے۔ ایک بالواسطہ، دوسرا بلا واسطہ۔ جو سنانے والے سے سنا جائے وہ آلۂ غیبت ہوتا ہے اور جو یار سے سنا جائے وہ آلۂ حضور ہوتا ہے۔ اسی سبب سے کسی پیر نے کہا میں مخلوق کو اس درجہ نہیں جانتا کہ اس کی بات سنیں یا اس کا ذکر کروں مگر خاصانِ حق اس درجہ میں ہیں۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
صفحہ۶۲۵
پینتیسواں باب
مقاماتِ سماع
جاننا چاہیے کہ ان میں سے ہر ایک کا اس سماع میں ایک رتبہ ہے اس لیے کہ مشرب اور ذوقِ سماع بمقدارِ رتبہ ہوتا ہے۔ جیسے تائب جو کچھ سنتا ہے اس کو مسرت اور ندامت کا تذکار ہوتا ہے اور مشتاق کے لیے شوق اور رویت کا سرمایہ ہوتا ہے اور صاحبِ یقین کو یقین کا درجہ ہوتا ہے اور مرید کے لیے بیان کی تحقیق اور محب کو قطعِ تعلقات کا باعث اور فقیر کے لیے کل سے ناامیدی اور اصل سماع مثلِ آفتاب ہے جو سب چیزوں پر روشن ہوتا ہے۔ لیکن ہر چیز اپنے مرتبہ کے مطابق اس سے مزہ پاتی ہے۔ ایک کو روشن کرتا ہے، ایک کو پگھلا دیتا ہے اور ایک کو منور کرتا ہے۔ یہ سب گروہ جو ہم نے بیان کیے تین مرتبہ میں ہیں: ایک ان میں مبتدی ہے، دوسرا متوسط ہے، تیسرا کامل۔ اور میں سماع میں ہر ایک کے حال میں تین فصل بیان کرتا ہوں تاکہ تیرے قریب الفہم ہو۔
فصل:
جاننا چاہیے کہ سماع وارد حق ہے۔ اس کی ترکیب ہزل و لہو سے مرکب ہے اور مبتدی کی طبیعت کسی حال میں قابلِ ذکر نہیں اور ان ربانی معنی کے وارد ہونے سے طبع کو سوز اور قہر سے بلندی اور پستی ہوتی ہے۔ جیسے کہ ایک گروہ کے لوگ سماع میں بیہوش ہو جاتے ہیں اور ایک گروہ والے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کوئی ایسا نہیں جو اعتدال سے باہر نہ جائے اور اس کے لیے دلیل ظاہر ہے اور مشہور ہے کہ روم کے شفاخانہ میں ایک عجیب باجا بنایا گیا ہے جسے "ارغنون" کہتے ہیں اور جس چیز میں کوئی بڑی عجیب بات ہو اس کا نام روم والے ارغنون رکھتے ہیں، جیسے کشادہ صحن کو ارغنون کہتے ہیں اور مانی کی نقاشی کو بھی ارغنون کہتے ہیں اور مثل اس کے مظاہرِ حکمت پر ایسے نام لاتے ہیں اور اس سے مراد نہ اظہارِ حکم ہے بلکہ وہ ایک ساز ہے کھال سے منڈھا ہوا۔ ہفتے میں دو بار مریض کو اس کے پاس لے جاتے ہیں اور اسے بجاتے ہیں اور بیمار کے مرض کے اندازے تک اسے بجاتے ہیں پھر اسے وہاں سے لاتے ہیں۔ اور جب کسی کو مارنا چاہیں تو اسے زیادہ مدت تک وہاں رکھتے ہیں حتیٰ کہ وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی مدتیں مقرر نہیں لیکن موت کے اسباب ہوتے ہیں۔ چنانچہ طبیب ہمیشہ سنتے ہیں، ان میں اس کا اثر ہوتا ہے، نہ ہونا چاہیے۔
(نوٹ: "ارغنون" کا لفظ اسکین میں "انگلیون" جیسا دکھائی دیتا ہے۔ سیاق کی بنا پر میں نے اسے ارغنون پڑھا ہے۔ اصل سے ملا لیں۔)
صفحہ۶۲۶
اس لیے کہ وہ طبیعت کے موافق ہو گیا ہوتا ہے اور مبتدیوں کی طبیعت کے خلاف ہوتا ہے۔ اور میں نے ہندوستان میں دیکھا کہ زہرِ قاتل میں ایک کیڑا پیدا ہوتا ہے۔ اس کی زندگی اس زہر سے ہے اس لیے کہ وہ تمام کا تمام زہر ہوتا ہے۔
میں نے ترکستان میں ایک شہر دیکھا جو سرحدِ اسلامی پر ہے۔ وہاں ایک پہاڑ آتش فشاں تھا جو آگ کے شعلے دے رہا تھا اور اس کے پتھروں سے نوشادر جوش مار کر ابل رہا تھا اور اس آگ میں چوہے تھے۔ جب انہیں آگ سے باہر لایا جائے تو وہ مر جاتے تھے۔ اس بیان سے مراد صرف یہ ہے کہ مبتدیوں کے لیے یہ سب اضطراب ہوتا ہے جب ان پر واردِ حق کا حلول ہو جاتا ہے تو پھر سب برداشت ہوتا ہے۔ جب متواتر کسی پر کوئی معاملہ ہو تو وہ موجبِ سکون بن جاتا ہے۔
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ روح الامین جب پہلی بار حضور ﷺ کی خدمت میں آئے تو حضور ﷺ اس کی تاب نہ لا سکے۔ جب بار بار جلوہ افروز ہوئے تو پھر جبرائیل علیہ السلام ایک ساعت نہ آتے تو حضور ﷺ تنگدل ہو جاتے۔ اس کے بہت سے شواہد ہیں اور یہ حالات بھی مبتدیوں کے اضطراب کی دلیل ہیں اور منتہیوں کے سماع میں سکون کی حجت۔
اور مشہور ہے کہ حضرت جنید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک مرید تھا کہ سماع میں بہت بیقرار ہوتا اور درویش اس کی طرف مشغول ہوتے، حتیٰ کہ شیخ سے اس کی شکایت کی۔ جنیدؒ نے اسے فرمایا کہ اگر اس کے بعد تو سماع میں بیقرار ہوا تو میں تجھے صحبت سے مشرف نہ کروں گا۔ ابو محمد حریری فرماتے ہیں کہ میں سماع میں حضرت جنیدؒ کی طرف دیکھتا تھا۔ لب بند اور خاموش تشریف فرما تھے اور آپ کے بدن پر ہر بال سے چشمہ کھلا ہوا ہے۔ آپ ایک روزِ کامل ویسے ہی بیہوش پڑے رہے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ سماع میں زیادہ درست تھے یا پیر کی حرمت زیادہ تھی۔ کہتے ہیں کہ ایک مرد نے سماع میں نعرہ مارا۔ پیر نے فرمایا: چپ رہ۔ اس نے سر گھٹنے پر رکھا۔ جب دیکھا تو انتقال کر چکا تھا۔
اور ابو مسلم فارس بن غالب فارسی سے میں نے سنا کہ ایک درویش سماع میں اضطراب کر رہے تھے۔ ایک نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ بیٹھ جا۔ وہ بیٹھتے ہی انتقال کر گئے۔
حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے ایک درویش کو دیکھا۔ اس نے سماع میں جان دے دی۔ اور حضرت دقی حضرت دواج سے راوی ہیں کہ میں ابن القرظی کے ساتھ دریائے دجلہ کے کنارے بصرہ اور ایلہ کے درمیان جا رہا تھا۔ ایک محل دیکھا اس کے دروازے پر ایک مرد بیٹھا ہوا تھا اور ایک لونڈی اس کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی جو سرود کر رہی تھی اور یہ بیت پڑھ رہی تھی:
"بہت پہلے سے مجھے تیرے ساتھ اللہ کے لیے محبت ہے، تو ہر روز رنگ بدلتا ہے تاہم تیرے لیے یہ زیادہ اجمل ہے۔"
اور ایک نوجوان کو دیکھا کہ محل کے نیچے کھڑا ہے۔ گدڑی اس کے جسم پر ہے اور چھاگل ہاتھ میں ہے اور پکار رہا ہے: اے کنیز! تجھے خدا کی قسم، یہ شعر ایک بار اور سنا دے۔ میری زندگی میں ایک سانس زیادہ نہیں ہے۔ شاید اس شعر کے سنتے ہی دم نکل جائے۔ کنیز نے وہ شعر پڑھا اور اس نوجوان نے نعرہ مارا اور جان دے دی۔ محل کے مالک نے کنیز کو آزاد کر دیا اور محل سے نیچے اترا اور اس نوجوان کی تجہیز و تکفین کی اور بصرہ کے تمام رہنے والوں نے اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ پھر وہ پیر مرد صاحبِ محل نے کھڑے ہو کر کہا: اے بصرہ والو! میں فلاں بن فلاں ہوں۔ میں نے اپنی تمام ملکیت فی سبیل اللہ وقف کی اور سب غلام آزاد کیے۔ یہ کہا اور وہاں سے چل دیا۔ پھر اس کی خبر کسی کو نہ ملی۔
اس حکایت سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مرید کو غلبۂ سماع میں ایسا حال چاہیے تاکہ اس کے سماع سے گناہگار گناہوں سے نجات پائیں۔ اور موجودہ زمانہ میں مجالسِ سماع یہ ہیں کہ گمراہوں کا گروہ، فاسقوں کا مجمع اس میں شریک ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ حق طریق سے سماع کرتے ہیں۔ فاسق لوگ ان پیروں کو اپنے موافق پا کر گناہوں پر زیادہ حریص ہو جاتے ہیں اور آخرت دونوں ہلاک ہو جاتے ہیں۔
لوگوں نے حضرت جنید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر ہم عبرت حاصل کرنے کی غرض سے کلیسا جائیں تو جائز ہے؟ یعنی اس ارادہ سے وہاں جائیں کہ ان کی ذلت اور کج فہمی دیکھ کر عبرت حاصل کریں اور اپنی نعمتِ اسلام پر شکر کریں تو پھر اس میں ہمارا مواخذہ تو نہ ہوگا۔ شیخ نے فرمایا: اگر تم ایسے ہو کہ وہاں جا کر واپس آتے ہوئے ان میں سے چند آدمی اپنے ساتھ لا سکو تو تمہارے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر تم اس قابل نہیں تو ہرگز نہ جاؤ، اس لیے کہ اگر صاحبِ حجرہ شراب خانہ میں جاتا ہے تو خراباتی کہلاتا ہے اور خراباتی حجرہ میں آتا ہے تو صاحبِ حجرہ کہلانے لگتا ہے۔
ایک بزرگ شیخ نے فرمایا کہ میں بغداد جا رہا تھا اور ایک درویش میرے ساتھ تھا۔ میں نے ایک گویّے کی آواز سنی جو یہ شعر گا رہا تھا:
تو وہ پھاڑ کر تقسیم کریں یا ایک درویش کو دینا چاہیں دے دیں یا قوال کے حوالے کر دیں۔ اگر قوال کو دینا ہو تو درویش کی مراد اور اتفاق شرط نہیں۔
اور جب اتفاق کے بعد دینا ہو تو درویش کا کپڑا قوال کو نہ دے، کیونکہ یہ نالائق کو دینا ہے۔ اور وہ کپڑا اگر درویش نے حالتِ اختیار میں دیا ہوگا یا حالتِ اضطرار میں، دوسروں کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اور اگر جماعت کے ارادہ پر کپڑا جدا کیا ہے یا اس کی مراد کے بغیر، تو اس کی موافقت شرط ہے۔ جب کپڑا پھینکنے میں اتفاق کیا گیا ہو تو پھر پیر کو زیبا نہیں کہ وہ درویشوں کا کپڑا قوال کو دے۔ لیکن یہ جائز ہے کہ اس کا محب جو چاہے کرے، درویشوں کو دے یا سب پھاڑ کر تقسیم کرے۔
اور اگر کپڑا مغلوبیت کی حالت میں گر پڑا ہو تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ اکثر کہتے ہیں کہ قوال کو دینا چاہیے، کیونکہ اس میں حدیث ہے: مَنْ قَتَلَ قَتِيْلًا فَلَهٗ سَلَبُهٗ (۱) "جس نے عاشق کو قتل کیا، اس کا لباس اسی کے لیے ہے۔" اگر وہ قوال کو نہ دیں تو شرطِ طریقت سے باہر ہو جاتے ہیں۔
ایک اور گروہ کہتا ہے کہ اس میں پیر کو بھی اختیار ہے، جیسا کہ مذہبِ فقہ میں کہ بادشاہ کی اجازت کے بغیر مقتول کا کپڑا قاتل کو نہیں دیتے۔ یہاں بھی یہ کپڑا بدون حکمِ پیر کے قوال کو نہ دینا چاہیے۔ لیکن اگر کسی پیر کو نہ دینا چاہے تو بھی کچھ مضائقہ نہیں۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ
حاشیہ: ۱۔ مَنْ قَتَلَ قَتِيْلًا فَلَهٗ سَلَبُهٗ۔ ترجمہ: "جس نے (میدانِ جنگ میں) کسی کو قتل کیا تو مقتول سے چھینی گئی اشیاء قتل کرنے والے کے لیے ہوں گی۔" حوالہ کے لیے: سنن ابی داؤد (کتاب الجہاد، ۱۴۴، ۱۳۶)، مسند الامام احمد بن حنبل ۳/۱۱۴، ۱۲۳، ۱۹۰، ۵/۲۷۹، ۲۹۵، جامع ترمذی (کتاب السیر)
صفحہ۶۳۹
انتالیسواں باب
آدابِ سماع
جاننا چاہیے کہ شرطِ ادبِ سماع یہ ہے کہ جب تک ضرورت نہ ہو، سماع نہ کرے اور اسے عادت نہ بنائے اور دیر کے بعد کرے تاکہ اس کی عظمت دل سے نہ جائے۔ یہ بھی لازم ہے کہ جب سماع کرے تو شیخ وہاں حاضر ہو اور عوام سے وہ جگہ خالی ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ قوال صاحبِ عزت ہو اور دل شغلوں سے خالی ہو اور طبیعت لہو و لعب سے متنفر ہو اور تکلف درمیان میں نہ ہو اور جب تک قوتِ سماع پیدا نہ ہو، یہ شرط نہیں کہ تو اس میں مبالغہ کرے۔
جب قوتِ سماع قوی ہو جائے تو اسے اپنے آپ سے ہٹانا شرط نہیں اور قوتِ سماع کا تابع ہو جائے، یعنی جو اس کا مقتضا ہو وہی کرے۔ اگر وہ قوت ہلائے تو ہلے، اگر ٹھہرائے تو ٹھہرا رہے، اور قوتِ طبع اور سوز اور وجد میں فرق کرے۔ اور چاہیے کہ سننے والے کو اس قدر طاقتِ دیدار ہو کہ وارِدِ حق قبول کر سکے اور اس کی داد دے سکے۔ اور جب اس کا غلبہ دل پر ظاہر ہو تو تکلف سے اسے اپنے آپ سے دفع نہ کرے اور جب اس کی قوت ٹوٹ جائے تو تکلف سے جذب نہ کرے۔ اور چاہیے کہ حرکت کی حالت میں کسی سے مدد کی امید نہ رکھے اور اگر کوئی مدد کرے تو منع نہ کرے اور اس کا اس کی نیت میں امتحان نہ کرے، کیونکہ اس میں آزمانے والے کو بہت پریشانی اور بے برکتی ہوتی ہے۔ اور کسی کے سماع میں دخل نہ دے تاکہ اس کا وقت پراگندہ نہ ہو اور اس کے روزگار میں تصرف نہ کرے۔
اور چاہیے کہ اگر قوال خوش گو ہو تو اسے یہ نہ کہے کہ تو نے خوب کہا ہے اور اگر ناخوش کہے تو اسے برا نہ کہے۔ یا اگر شعر نا موزوں کہے جو طبع کو پریشان کرے تو یہ نہ کہے کہ اچھا کہو اور دل میں اس سے غصہ نہ کرے اور اسے درمیان نہ دیکھے بلکہ سب حوالہ حق کرے اور وہ درست سنے۔ اور اگر کسی گروہ کو سماع میں دیکھے تو اہل کو اس سے فائدہ نہ ہو تو یہ شرط نہیں کہ اپنی ہوشیاری میں اس کی مستی نہ دیکھے۔ اور چاہیے کہ اپنے وقت میں با آرام ہو، اس سے اسے فائدہ ہوگا۔ اور سلطانِ وقت کی عزت کرے تاکہ اس کی برکتیں اسے ملیں۔
اور میں علی بن عثمان جلابی (رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ مجھے وہ پسند ہے کہ مبتدیوں کو سماع
صفحہ۶۴۰
میں نہ چھوڑیں تاکہ ان کی طبیعت پریشان نہ ہو، کیونکہ اس میں بڑے خطرے ہیں اور آفت ہے۔ اس لیے کہ عورتیں چھت سے یا بلند مکان سے انھیں ان کی حالتِ سماع میں دیکھیں اور اس سبب سے سننے والے کو سخت حجاب پڑتے ہیں۔ اور چاہیے کہ جوان بچوں کو بھی اس کے درمیان نہ بٹھائیں۔ اور ایسا نہ ہو کہ اس کے بعد جاہل صوفیوں نے ان باتوں کو مذہب بنا رکھا ہو اور سچ کو درمیان سے دور کر دیا ہو۔ اور میں اس جنس کی آفتوں سے جو مجھ پر گزریں استغفار کرتا ہوں اور خداوند تعالیٰ سے مدد چاہتا ہوں تاکہ میرے ظاہر و باطن کو آفات سے بچائے۔ اور میں اس کتاب کے پڑھنے والوں کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کے حکموں کی رعایت رکھیں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ