مرزا اسد اللہ خان غالب کی اردو غزلیں، حامد علی خان کے دیوان (پنجاب یونیورسٹی پریس، لاہور، ۱۹۶۹ء) کی ترتیب میں۔ ہر غزل اپنے پہلے مصرع سے کھلتی ہے۔ تلاش میں کوئی لفظ یا مصرع لکھیں، یا نیچے حرف پر کلک کر کے اس حصے پر جائیں۔
۱نقشِ فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا؟
۱نقشِ فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا؟کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
۲کاوکاوِ سخت جانی ہاۓ تنہائی، نہ پوچھصبح کرنا شام کا، لانا ہے جوۓ شیر کا
۳جذبۂ بےاختیارِ شوق دیکھا چاہیےسینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
۴آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھاۓمدّعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
۵بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرِ پاموۓ آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
۳کہتے ہو نہ دیں گے ہم، دل اگر پڑا پایا
۱کہتے ہو نہ دیں گے ہم، دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے، ہم نے مدّعا پایا
۲عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادردِ کی دوا پائی، دردِ بے دوا پایا
۳دوستدارِ دشمن ہے، اعتمادِ دل معلومآہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا
۴سادگی و پرکاری، بےخودی و ہشیاریحسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
۵غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دلخوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا
۶حالِ دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنیہم نے بارہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا
۷شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکاآپ سے کوئی پوچھے، تم نے کیا مزا پایا؟
۴جز قیس اور کوئی نہ آیا بہ روۓ کار
۱جز قیس اور کوئی نہ آیا بہ روۓ کارصحرا مگر بہ تنگیِ چشمِ حسود تھا
۲آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درستظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
۳تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہجب آنکھ کھل گئی، نہ زیاں تھا نہ سود تھا
۴لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوزلیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
۵ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگیمیں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا
۶تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن، اسد!سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا
۵دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
۱دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیاآتشِ خاموش کے مانند گویا جل گیا
۲دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیںآگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
۳میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہامیری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
۴عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
۵دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہاراس چراغاں کا کروں کیا، کارفرما جل گیا
۶میں ہوں اور افسردگی کی آرزو، غالب! کہ دلدیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا
۶شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا
۱شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلاقیسِ تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
۲زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یا رب!تیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا
۳بوۓ گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفلجو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
۴دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذّتِ دردکام یاروں کا بہ قدرِ لب و دنداں نکلا
۵اے نو آموزِ فنا ہمّتِ دشوار پسند!سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
۶دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالب!آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
۷دھمکی میں مر گیا جو، نہ بابِ نبرد تھا
۱دھمکی میں مر گیا جو، نہ بابِ نبرد تھاعشق نبرد پیشہ، طلبگارِ مرد تھا
۲تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوااڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
۳تالیفِ نسخہ ہاۓ وفا کر رہا تھا میںمجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
۴دل تا جگر کہ ساحلِ دریاۓ خوں ہے اباس رہگزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
۵جاتی ہے کوئی کشمکشِ اندوہِ عشق کی؟دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
۶احباب چارہ سازیِ وحشت نہ کر سکےزنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا
۷یہ لاشِ بے کفن اسدِ خستہ جاں کی ہےحق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا
۹دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلّی نہ ہوا
۱دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلّی نہ ہواہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
۲سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبایہ زمرّد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا
۳میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوںوہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
۴دل گزرگاہِ خیالِ مے و ساغر ہی سہیگر نفس جادہ سنجِ منزلِ تقوی نہ ہوا
۵ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی، کہ کبھیگوش منّت کشِ گلبانگِ تسلّی نہ ہوا
۶کس سے محرومیِ قسمت کی شکایت کیجےہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں، سو وہ بھی نہ ہوا
۷مر گیا صدمۂ یک جنبشِ لب سے غالب!ناتوانی سے حریفِ دمِ عیسی نہ ہوا
۱۰ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغِ رضواں کا
۱ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغِ رضواں کاوہ اک گلدستہ ہے ہم بےخودوں کے طاقِ نسیاں کا
۲بیاں کیا کیجیے بیدادِ کاوشہاۓ مژگاں کاکہ ہر اک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا
۳نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع میرے نالوں کولیا دانتوں میں جو تنکا، ہوا ریشہ نیستاں کا
۴دکھاؤں گا تماشا، دی اگر فرصت زمانے نےمرا ہر داغِ دل اک تخم ہے سروِ چراغاں کا
۵کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نےکرے جو پرتوِ خورشید، عالم شبنمستاں کا
۶مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کیہیولی برقِ خرمن کا ہے خونِ گرم دہقاں کا
۷اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ، ویرانی تماشا کر!مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا
۸خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیںچراغِ مردہ ہوں میں بے زباں، گورِ غریباں کا
۹ہنوز اک پرتوِ نقشِ خیالِ یار باقی ہےدلِ افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
۱۰بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہسبب کیا خواب میں آ کر تبسّم ہاۓ پنہاں کا؟
۱۱نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگاقیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
۱۲نظر میں ہے ہماری جادۂ راہِ فنا، غالب!کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزاۓ پریشاں کا
۱۱محرم نہیں ہے تو ہی نواہاۓ راز کا
۱محرم نہیں ہے تو ہی نواہاۓ راز کایاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا
۲رنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہےیہ وقت ہے شگفتنِ گلہاۓ ناز کا
۳تو اور سوۓ غیر نظر ہاۓ تیز تیزمیں اور دکھ تری مژہ ہاۓ دراز کا
۴صرفہ ہے ضبطِ آہ میں میرا، وگرنہ میںطعمہ ہوں ایک ہی نفسِ جاں گداز کا
۵میں، بسکہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہےہر گوشۂ بساط ہے سرِ شیشہ باز کا
۶کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوزناخن پہ قرض اس گرہِ نیم باز کا
۷تاراجِ کاوشِ غمِ ہجراں ہوا، اسد!سینہ، کہ تھا دفینہ گہرہاۓ راز کا
۱۲بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
۱بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلارکھیو یا رب! یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا
۲شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلااس تکلّف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا
۳گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریبآستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا
۴گو نہ سمجھوں اس کی باتیں، گو نہ پاؤں اس کا بھیدپر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
۵ہے خیالِ حسن میں حسنِ عمل کا سا خیالخلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
۶منہ نہ کھلنے پر وہ عالم ہے کہ دیکھا ہی نہیںزلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا
۷در پہ رہنے کو کہا، اور کہہ کے کیسا پھر گیاجتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا
۸کیوں اندھیری ہے شبِ غم؟ ہے بلاؤں کا نزولآج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
۹کیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حالنامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا
۱۰اس کی امّت میں ہوں میں، میرے رہیں کیوں کام بندواسطے جس شہ کے، غالب! گنبدِ بے در کھلا
۱۳شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا
۱شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھاشعلۂ جوّالہ ہر اک حلقۂ گِرداب تھا
۲واں کرم کو عذرِ بارش تھا عناں گیرِ خرامگریے سے یاں پنبۂ بالش کفِ سیلاب تھا
۳واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیالیاں ہجومِ اشک میں تارِ نگہ نایاب تھا
۴جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جویاں رواں مژگانِ چشمِ تر سے خونِ ناب تھا
۵یاں سرِ پُرشور بیخوابی سے تھا دیوار جوواں وہ فرقِ ناز محوِ بالشِ کمخواب تھا
۶یاں نفس کرتا تھا روشن، شمعِ بزمِ بیخودیجلوۂ گل واں بساطِ صحبتِ احباب تھا
۷فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موجِ رنگ کایاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
۱۴ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
۱ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حسابخونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا
۲اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزوتوڑا جو تو نے آئنہ، تمثال دار تھا
۳گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میںجاں دادۂ ہواۓ سرِ رہگزار تھا
۴موجِ سراب دشتِ وفا کا نہ پوچھ حالہر ذرّہ، مثلِ جوہرِ تیغ، آب دار تھا
۵کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر ابدیکھا تو کم ہوۓ پہ غمِ روزگار تھا
۱۵بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
۱بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا
۲گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کیدر و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا
۳وائے دیوانگیِ شوق کہ ہر دم مجھ کوآپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا
۴جلوہ، از بسکہ تقاضاۓ نگہ کرتا ہےجوہرِ آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا
۵عشرتِ قتل گہِ اہلِ تمنّا مت پوچھعیدِ نظّارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
۶لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنّاۓ نشاطتو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا
۷عشرتِ پارۂ دل، زخمِ تمنّا کھانالذّتِ ریشِ جگر، غرقِ نمکداں ہونا
۸کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہہاۓ اس زودپشیماں کا پشیماں ہونا
۹حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت، غالب!جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
۱۶شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا
۱شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھاتا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا
۲یک قدم وحشت سے درسِ دفترِ امکاں کھلاجادہ، اجزاۓ دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
۳مانعِ وحشت خرامیہاۓ لیلیٰ کون ہے؟خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا
۴پوچھ مت رسوائیِ اندازِ استغناۓ حسندست مرہونِ حنا، رخسار رہنِ غازہ تھا
۵نالۂ دل نے دیے اوراقِ لختِ دل بہ بادیادگارِ نالہ اک دیوانِ بے شیرازہ تھا
۱۷دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
۱دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیازخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا
۲بے نیازی حد سے گزری، بندہ پرور! کب تلکہم کہیں گے حالِ دل اور آپ فرمائیں گے کیا
۳حضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہکوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا
۴آج واں تیغ و کفن باندھے ہوۓ جاتا ہوں میںعذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا
۵گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچّھا، یوں سہییہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا
۶خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوںہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبرائیں گے کیا
۷ہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت، اسد!ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں، کھائیں گے کیا؟
۱۸یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
۱یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
۲ترے وعدے پر جیے ہم، تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
۳تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بوداکبھی تو نہ توڑ سکتا، اگر استوار ہوتا
۴کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کوکہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
۵یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصحکوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غمگسار ہوتا
۶رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا
۷غمِ اگرچہ جاں گسل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہےغمِ عشق اگر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا
۸کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟ شبِ غم بری بلا ہےمجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا
۹ہوۓ مر کے ہم جو رسوا، ہوۓ کیوں نہ غرقِ دریانہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا
۱۰اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتاجو دوئی کی بو بھی ہوتی، تو کہیں دو چار ہوتا
۱۱یہ مسائلِ تصوّف، یہ ترا بیان، غالب!تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا
۱۹ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
۱ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیانہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
۲تجاہل پیشگی سے مدّعا کیاکہاں تک اے سراپا ناز! کیا کیا؟
۳نوازش ہاۓ بے جا دیکھتا ہوںشکایت ہاۓ رنگیں کا گلا کیا
۴نگاہِ بے محابا چاہتا ہوںتغافل ہاۓ تمکیں آزما کیا
۵فروغِ شعلۂ خس یک نفس ہےہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
۶نفس موجِ محیطِ بیخودی ہےتغافل ہاۓ ساقی کا گلا کیا
۷دماغِ عطرِ پیراہن نہیں ہےغمِ آوارگیہاۓ صبا کیا
۸دلِ ہر قطرہ ہے سازِ "انا البحر"ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا
۹محابا کیا ہے، میں ضامن، ادھر دیکھشہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا
۱۰سن اے غارتگرِ جنسِ وفا، سنشکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا
۱۱کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ؟شکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا
۱۲یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟یہ کافر فتنۂ طاقت رُبا کیا؟
۱۳بلاۓ جاں ہے، غالب! اس کی ہر باتعبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!
۲۰درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
۱درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہواپھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
۲بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں، کہ ہماُلٹے پھر آۓ درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
۳سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کاروبرو کوئی بتِ آئنہ سیما نہ ہوا
۴کم نہیں نازشِ ہمنامیِ چشمِ خوباںتیرا بیمار، برا کیا ہے، گر اچّھا نہ ہوا
۵سینے کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیاخاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
۶نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملاکام میں میرے ہے جو فرصت نہ کہ بر پا نہ ہوا
۷ہر بنِ مو سے دمِ ذکر نہ ٹپکے خوں نابحمزہ کا قصّہ ہوا، عشق کا چرچا نہ ہوا
۸قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کلکھیل لڑکوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا
۹تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزےدیکھنے ہم بھی گئے تھے، پہ تماشا نہ ہوا
۲۲پۓ نذرِ کرم تحفہ ہے شرمِ نارسائی کا
۱پۓ نذرِ کرم تحفہ ہے شرمِ نارسائی کابہ خوں غلتیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا
۲نہ ہو حسنِ تماشا دوست، رسوا بے وفائی کابہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
۳زکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش، کہ مہر آساچراغِ خانۂ درویش ہو، کاسہ گدائی کا
۴نہ مارا جان کر بے جرم، غافل! تیری گردن پررہا مانندِ خونِ بے گنہ، حق آشنائی کا
۵تمنّاۓ زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہےمٹا جس سے تقاضا، شکوۂ بے دست و پائی کا
۶وہی اک بات ہے جو یاں نفس، واں نکہتِ گل ہےچمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
۷دہانِ ہر بتِ پیغارہ جُو، زنجیرِ رسوائیعدم تک بے وفا! چرچا ہے تیری بے وفائی کا
۸نہ دے نامے کو اتنا طول، غالب! مختصر لکھ دےکہ حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہاۓ جدائی کا
۲۳گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جاۓ گا
۱گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جاۓ گابے تکلّف، داغِ مہ مہرِ دہاں ہو جاۓ گا
۲زہرہ گر ایسا ہی شامِ ہجر میں ہوتا ہے آبپرتوِ مہتاب سیلِ خانماں ہو جاۓ گا
۳لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ، مگرایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہو جاۓ گا
۴دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے، کیا معلوم تھایعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہو جاۓ گا
۵سب کے دل میں ہے جگہ تیری، جو تو راضی ہوامجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جاۓ گا
۶گر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیمِ ضبطشعلۂ خس جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جاۓ گا
۷باغ میں مجھ کو نہ لے جا، ورنہ میرے حال پرہر گلِ تر ایک چشمِ خوں فشاں ہو جاۓ گا
۸ولے گر میرا اترا انصاف محشر میں نہ ہواب تلک تو یہ توقّع ہے کہ واں ہو جاۓ گا
۹فائدہ کیا؟ سوچ، آخر تو بھی دانا ہے، اسد!دوستی ناداں کی ہے، جی کا زیاں ہو جاۓ گا
۲۴دردِ منّت کشِ دوا نہ ہوا
۱دردِ منّت کشِ دوا نہ ہوامیں نہ اچّھا ہوا، برا نہ ہوا
۲جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کواک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا
۳ہم کہاں قسمت آزمانے جائیںتو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
۴کتنے شیریں ہیں تیرے لب، کہ رقیبگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
۵ہے خبر گرم ان کے آنے کیآج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
۶کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
۷جان دی، دی ہوئی اسی کی تھیحق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
۸زخم گر دب گیا، لہو نہ تھماکام گر رک گیا، رَوا نہ ہوا
۹رہزنی ہے کہ دلستانی ہے؟لے کے دل، دلستاں روانہ ہوا
۱۰کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیںآج غالب غزل سرا نہ ہوا
۲۵گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیِ جا کا
۱گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیِ جا کاگہر میں محو ہوا اضطرابِ دریا کا
۲یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخِ مکتوب!مگر ستمزدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کا
۳حناۓ پاۓ خزاں ہے بہار اگر ہے یہیدوامِ کلفتِ خاطر ہے عیشِ دنیا کا
۴غمِ فراق میں تکلیفِ سیرِ باغ نہ دومجھے دماغ نہیں خندہاۓ بے جا کا
۵ہنوز محرمیِ حسن کو ترستا ہوںکرے ہے ہر بنِ مو کام چشمِ بینا کا
۶دل اس کو، پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھےہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا
۷نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدارِ حسرتِ دل ہےمری نگاہ میں ہے جمع و خرجِ دریا کا
۸فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد، اسد!جفا میں اس کی ہے اندازِ کارفرما کا
۲۷جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا
۱جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھاتپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دل باندھا
۲اہلِ بینش نے بہ حیرت کدے کیۓ شوخیِ نازجوہرِ آئنہ کو طوطیِ بسمل باندھا
۳یاس و امّید نے یک عربدہ میداں مانگاعجزِ ہمّت نے طلسمِ دلِ سائل باندھا
۴نہ بندھے تشنگیِ ذوق کے مضموں، غالب!گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
۳۱یک ذرّہ زمیں نہیں بیکار باغ کا
۱یک ذرّہ زمیں نہیں بیکار باغ کایاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
۲بے مۓ، کسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہیکھینچا ہے عجز نے حوصلے نے خطِ ایاغ کا
۳بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہاۓ گلکہتے ہیں جس کو عشق، خلل ہے دماغ کا
۴تازہ نہیں ہے نشۂ فکرِ سخن مجھےتریاکیِ قدیم ہوں دودِ چراغ کا
۵سو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوۓپر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
۶بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غباریہ مۓ کدہ خراب ہے مۓ کے سراغ کا
۷باغِ شگفتہ تیرا، بساطِ نشاطِ دلابرِ بہار خمکدہ کس کے دماغ کا؟
۳۲وہ مری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا
۱وہ مری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھارازِ مکتوب بہ بے ربطیِ عنواں سمجھا
۲یک الف بیش نہیں صیقلِ آئنہ ہنوزچاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
۳شرحِ اسبابِ گرفتاریِ خاطر مت پوچھاس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
۴بدگمانی نے نہ چاہا اسے سرگرمِ خرامرخ پہ ہر قطرۂ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
۵عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بدخو ہوگانبضِ خس سے تپشِ شعلۂ سوزاں سمجھا
۶سفرِ عشق میں کی ضعف نے راحت طلبیہر قدم ساۓ کو میں اپنے شبستاں سمجھا
۷تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دمِ مرگدفعِ پیکانِ قضا اس قدر آساں سمجھا
۸دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار، اسد!غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
۳۳پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
۱پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیادل، جگر تشنۂ فریاد، آیا
۲دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوزپھر ترا وقتِ سفر یاد آیا
۳سادگی ہاۓ تمنّا، یعنیپھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا
۴عذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل!نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا
۵زندگی یوں بھی گزر ہی جاتیکیوں ترا راہگزر یاد آیا
۶کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگیگھر ترا خلد میں گر یاد آیا
۷آہ وہ جرأتِ فریاد کہاںدل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
۸پھر ترے کوچے کو جاتا ہے خیالدل، گم گشتہ، مگر، یاد آیا
۹کوئی ویرانی سی ویرانی ہے!دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
۱۰میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں، اسد!سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
۳۴ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
۱ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
۲تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہاس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا
۳تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
۴قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یادہاں کچھ اک رنجِ گرانباریِ زنجیر بھی تھا
۵بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیابات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
۶یوسف اس کو کہوں، اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئیگر بگڑ بیٹھے تو میں لائقِ تعزیر بھی تھا
۷دیکھ کر غیر کو کیوں ہو کہ نہ کلیجا ٹھنڈانالہ کرتا تھا، ولے طالبِ تاثیر بھی تھا
۸پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نامہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جوانِ میر بھی تھا
۹ہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہیآخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
۱۰پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحقآدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟
۱۱ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو، غالب!کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
۳۷تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا
۱تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھااوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
۲چھوڑا مہِ نخشب کی طرح دستِ قضا نےخورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
۳توفیق بہ اندازۂ ہمّت ہے ازل سےآنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
۴جب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار کا عالممیں معتقدِ فتنۂ محشر نہ ہوا تھا
۵میں سادہ دل، آزردگیِ یار سے خوش ہوںیعنی سبقِ شوق مکرّر نہ ہوا تھا
۶دریاۓ معاصی تنک آبی سے ہوا خشکمیرا سرِ دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
۷جاری تھی اسد داغِ جگر سے مری تحصیلآتشکدہ جاگیرِ سمندر نہ ہوا تھا
۳۸شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا
۱شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھارشتۂ ہر شمعِ خار، کسوتِ فانوس تھا
۲مشہدِ عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حناکس قدر یا رب! ہلاکِ حسرتِ پابوس تھا
۳حاصلِ الفت نہ دیکھا جز شکستِ آرزودل بہ دل پیوستہ، گویا، یک لبِ افسوس تھا
۴کیا کروں بیماریِ غم کی فراغت کا بیاںجو کہ کھایا خونِ دل، بے منّتِ کیموس تھا
۴۰عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
۱عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے، وہ دل نہیں رہا
۲جاتا ہوں داغِ حسرتِ ہستی لیے ہوۓہوں شمعِ کشتہ، درخورِ محفل نہیں رہا
۳مرنے کی اے دل! اور ہی تدبیر کر کہ میںشایانِ دست و بازوۓ قاتل نہیں رہا
۴بر روۓ ششجہت درِ آئنہ باز ہےیاں امتیازِ ناقص و کامل نہیں رہا
۵وا کر دیے ہیں شوق نے بندِ نقابِ حسنغیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
۶گو میں رہا رہینِ ستم ہاۓ روزگارلیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
۷دل سے ہواۓ کشتِ وفا مٹ گئی کہ واںحاصل، سواۓ حسرتِ حاصل، نہیں رہا
۸بیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا، مگر اسد!جس دل پہ ناز تھا مجھے، وہ دل نہیں رہا
۴۱رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص، حیف!
۱رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص، حیف!عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر، کس کس کا آشنا
۲ذرّہ ذرّہ ساغرِ مۓ خانۂ نیرنگ ہےگردشِ مجنوں بہ چشمکہاۓ لیلیٰ آشنا
۳شوق ہے ساماں طرازِ نازشِ اربابِ عجزذرّہ، صحرا دستگاہ و قطرہ، دریا آشنا
۴میں اور اک آفت کا ٹکڑا، وہ دلِ وحشی کہ ہےعافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا
۵شکوہ سنجِ رشکِ ہمدیگر نہ رہنا چاہیےمیرا زانو مونس، اور آئنہ تیرا آشنا
۶کوہکن نقّاش یک تمثالِ شیریں تھا، اسد!سنگ سے سر مار کہ ہو وے نہ پیدا آشنا
۴۲ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا
۱ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنابن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا
۲مۓ وہ کیوں بہت پیتے بزمِ غیر میں یا رب!آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا؟
۳منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتےعرش سے ادھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنا
۴دے وہ جس قدر ذلّت، ہم ہنسی میں ٹالیں گےبارے آشنا نکلا، ان کا پاسباں اپنا
۵دردِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلا دوںانگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا
۶گھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلاننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپنا
۷تا کرے نہ غمّازی، کر لیا ہے دشمن کودوست کی شکایت میں، ہم نے ہمزباں اپنا
۸ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھےبے سبب ہوا، غالب! دشمن آسماں اپنا
۴۴غافل! بہ وہمِ ناز خود آرا ہے، ورنہ یاں
۱غافل! بہ وہمِ ناز خود آرا ہے، ورنہ یاںبے شانۂ صبا نہیں طرّۂ گیاہ کا
۲بزمِ قدح سے عیش تمنّا نہ رکھ، کہ رنگصیدِ ز دامِ جستہ ہے اس دامگاہ کا
۳رحمت اگر قبول کرے، کیا بعید ہےشرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
۴مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں، کہ ہےپُر گل خیالِ زخم سے دامن نگاہ کا
۵جاں در ہواۓ یک نگہِ گرم ہے، اسد!پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
۴۵جور سے باز آۓ، پر باز آئیں کیا؟
۱جور سے باز آۓ، پر باز آئیں کیا؟کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
۲رات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ، گھبرائیں کیا
۳لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
۴ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھیا رب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا
۵موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جاۓآستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا؟
۶عمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہمر گئے پر، دیکھیے، دکھلائیں کیا
۷پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہےکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
۴۷عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
۱عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادردِ کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
۲تجھ سے قسمت میں مری، صورتِ قفلِ ابجدتھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
۳دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تماممٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا
۴اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم، اللہ اللہ!اس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا
۵ضعف سے گریہ مبدّل بہ دمِ سرد ہواباور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
۶دل سے مٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیالہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
۷ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھلناروتے روتے غمِ فرقت میں فنا ہو جانا
۸گر نہیں نکہتِ گل کو ترے کوچے کی ہوسکیوں ہے گرد رہِ جولانِ صبا ہو جانا
۹تا کہ تجھ پر کھلے اعجازِ ہواۓ صیقلدیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا
۱۰بخشے ہے جلوۂ گل، ذوقِ تماشا غالب!چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
۴۸پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موجِ شراب
۱پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موجِ شرابدے بطِ مۓ کو دل و دستِ شنا موجِ شراب
۲پوچھ مت وجہِ سیہ مستیِ اربابِ چمنسایہ تاک میں ہوتی ہے ہوا موجِ شراب
۳جو ہوا غرقۂ مۓ، بختِ رسا رکھتا ہےسر سے گزرے پہ بھی ہے بالِ ہما موجِ شراب
۴ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگرموجِ ہستی کو کرے فیضِ ہوا موجِ شراب
۵چار موج اٹھتی ہے طوفانِ طرب سے ہر سوموجِ گل، موجِ شفق، موجِ صبا، موجِ شراب
۶جس قدر روحِ نباتی ہے جگر تشنۂ نازدے ہے تسکیں بہ دمِ آبِ بقا موجِ شراب
۷بسکہ دوڑے ہے رگِ تاک میں خوں ہو ہو کرشہپرِ رنگ سے ہے بال کشا موجِ شراب
۸موجۂ گل سے چراغاں ہے گزرگاہِ خیالہے تصوّر میں ز بس جلوہ نما موجِ شراب
۹نشے کے پردے میں ہے محوِ تماشاۓ دماغبسکہ رکھتی ہے سرِ نشو و نما موجِ شراب
۱۰ایک عالم پہ ہیں طوفانیِ کیفیتِ فصلموجۂ سبزۂ نوخیز سے تا موجِ شراب
۱۱شرحِ ہنگامۂ ہستی ہے، زہے موسمِ گل!رہبرِ قطرہ بہ دریا ہے، خوشا موجِ شراب!
۱۲ہوش اڑتے ہیں مرے، جلوۂ گل دیکھ، اسد!پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موجِ شراب
۴۹رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
۱رہا گر کوئی تا قیامت سلامتپھر اک روز مرنا ہے، حضرت سلامت!
۲جگر کو مرے عشقِ خونناب مشربلکھے ہے: "خداوندِ نعمت سلامت!"
۳علی الرغمِ دشمن، شہیدِ وفا ہوں"مبارک مبارک! سلامت سلامت!"
۴نہیں گر سر و برگِ ادراکِ معنیتماشاۓ نیرنگِ صورت سلامت
۵۱آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
۱آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوستدودِ شمعِ کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست
۲اے دلِ ناعاقبت اندیش! ضبطِ شوق کرکون لا سکتا ہے تابِ جلوۂ دیدارِ دوست
۳خانہ ویراں سازیِ حیرت تماشا کیجیےصورتِ نقشِ قدم ہوں رفتۂ رفتارِ دوست
۴عشق میں بیدادِ رشکِ غیر نے مارا مجھےکشتۂ دشمن ہوں آخر، گرچہ تھا بیمارِ دوست
۵چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہےدیدۂ پُر خوں ہمارا ساغرِ سرشارِ دوست
قطعہ
۶غیریوں کرتا ہے میری پرسش، اس کے ہجر میںبے تکلّف، دوست ہو جیسے کوئی غم خوارِ دوست
۷تا کہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلکمجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدۂ دیدارِ دوست
۸جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعفِ دماغسرکرے ہے وہ حدیثِ زلفِ عنبر بارِ دوست
۹چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگرہنس کے کرتا ہے بیانِ شوخیِ گفتارِ دوست
۱۰مہرباں ہو کر بلاۓ دشمن کی شکایت کیجیے؟یاں بیاں کیجے سپاسِ لذّتِ آزارِ دوست؟
۱۱یہ غزل اپنی، مجھے جی سے پسند آئی ہے، آپہے ردیفِ شعر میں غالب زبس تکرارِ دوست
۵۴نفس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ
۱نفس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچاگر شراب نہیں، انتظارِ ساغر کھینچ
۲کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید نہ پوچھبہ رنگِ خارِ مرے آئنے سے جوہر کھینچ
۳تجھے بہانۂ راحت ہے انتظار، اے دل!کیا ہے کس نے اشارہ کہ نازِ بستر کھینچ
۴تری طرف ہے، بہ حسرت، نظارۂ نرگسبہ کوریِ دل و چشمِ رقیب، ساغر کھینچ
۵بہ نیمِ غمزہ ادا کر حقِ ودیعتِ نازنیام پردۂ زخمِ جگر سے خنجر کھینچ
۶مرے قدح میں ہے صہباۓ آتشِ پنہاںبہ روۓ سفرہ کبابِ دلِ سمندر کھینچ
۵۵حسنِ غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
۱حسنِ غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعدبارے، آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد
۲منصبِ شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہاہوئی معزولیِ اندازِ ادا میرے بعد
۳شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہےشعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
۴خوں ہے دل، خاک میں احوالِ بتاں پر، یعنیان کے ناخن ہوۓ محتاجِ حنا میرے بعد
۵درخورِ عرض نہیں جوہرِ بیداد کو جانگہِ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد
۶ہے جنوں اہلِ جنوں کے لیے آغوشِ وداعچاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
۷کون ہوتا ہے حریفِ مۓ مردافگنِ عشقہے مکرّر لبِ ساقی میں صلا میرے بعد
۸غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئیکہ کرے تعزیتِ مہر و وفا میرے بعد
۹آئے ہے بیکسیِ عشق پہ رونا، غالب!کس کے گھر جاۓ گا سیلابِ بلا میرے بعد
۵۶بلا سے، ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار
۱بلا سے، ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوارنگاہِ شوق کو ہیں بال و پر، در و دیوار
۲وفورِ اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگکہ ہو گئے مرے دیوار و در، در و دیوار
۳نہیں ہے سایہ، کہ سن کر نویدِ مقدمِ یارگئے ہیں چند قدم پیشتر، در و دیوار
۴ہوئی ہے کس قدر ارزانیِ مۓ جلوہکہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
۵جو ہے تجھے سرِ سوداۓ انتظار، تو آکہ ہیں دکانِ متاعِ نظر، در و دیوار
۶ہجومِ گریہ کا ساماں کب کیا میں نےکہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر، در و دیوار
۷وہ آ رہا مرے ہمساۓ میں، تو ساۓ سےہوۓ فدا در و دیوار پر، در و دیوار
۸نظر میں کھٹکے ہے بن تیرے، گھر کی آبادیہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر، در و دیوار
۹نہ پوچھ بے خودیِ عیشِ مقدمِ سیلابکہ ناچتے ہیں پڑے، سر بہ سر، در و دیوار
۱۰نہ کہہ کسی سے، کہ غالب نہیں زمانے میںحریفِ رازِ محبّت، مگر در و دیوار
۵۷گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
۱گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر، کہے بغیر؟
۲کہتے ہیں، جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخنجانوں کسی کے دل کی میں کیوں کر کہے بغیر؟
۳کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میںلیوے نہ کوئی نامِ ستمگر کہے بغیر
۴جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے، وگرنہ ہمسر جاۓ یا رہے، نہ رہیں پر کہے بغیر
۵چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجناچھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
۶مقصد ہے نازو غمزہ، ولے گفتگو میں کامچلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر
۷ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگوبنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
۸بہرا ہوں میں تو چاہیے دونا ہو التفاتسنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر
۹غالب! نہ کر حضور میں تو بار بار عرضظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر
۵۸کیوں جل گیا نہ تابِ رخِ یار دیکھ کر
۱کیوں جل گیا نہ تابِ رخِ یار دیکھ کرجلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر
۲آتش پرست کہتے ہیں اہلِ جہاں مجھےسرگرمِ نالہ ہاۓ شرر بار دیکھ کر
۳کیا آبروۓ عشق جہاں عام ہو جفارکتا ہوں، تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
۴آتا ہے میرے قتل کو، پر جوشِ رشک سےمرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
۵ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلقلرزے ہے موجِ مۓ تری رفتار دیکھ کر
۶واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھہم کو حریصِ لذّتِ آزار دیکھ کر
۷بک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھلیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر
۸زنّار باندھ، سبحۂ صد دانہ توڑ ڈالرہرو چلے ہے، راہ کو ہموار دیکھ کر
۹ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میںجی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر
۱۰کیا بدگماں ہے مجھ سے، کہ آئنے میں مرےطوطی کا عکس سمجھے ہے، زنگار دیکھ کر
۱۱گرنی تھی ہم پہ برقِ تجلّی، نہ طور پردیتے ہیں بادہ ظرفِ قدح خوار دیکھ کر
۱۲سر پھوڑنا وہ غالبِ شوریدہ حال کایاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
۵۹لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
۱لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پرمیں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر
۲نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائیسفیدیِ دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
۳فنا تعلیمِ درسِ بے خودی ہوں، اس زمانے سےکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر
۴فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویشِ مرہم سےبہم گر صلح کرتے پارہ ہاۓ دل نمکداں پر
۵نہیں اقلیمِ الفت میں کوئی طومارِ ناز ایساکہ پشتِ چشم سے، جس کے، نہ ہو وے مہرِ عنواں پر
۶مجھے اب، دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ، یاد آیاکہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر
۷بجز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہوگاقیامت اک ہواۓ تند ہے خاکِ شہیداں پر
۸نہ لڑ ناصح سے، غالب! کیا ہوا گر اس نے شدّت کیہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر!
۶۰ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
۱ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اورکرتے ہیں محبّت تو گزرتا ہے گماں اور
۲یا رب! وہ نہ سمجھے ہیں، نہ سمجھیں گے مری باتدے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور
۳ابرو سے ہے کیا اس نگہِ ناز کو پیوندہے تیرِ مقرّر مگر اس کی ہے کماں اور
۴تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم؟ جب اٹھیں گےلے آئیں گے بازار سے، جا کر، دل و جاں اور
۵ہر چند سبکدست ہوۓ بت شکنی میںہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگِ گراں اور
۶ہے خونِ جگر جوش میں، دل کھول کے روتاہوتے جو کئی دیدۂ خوننابہ فشاں اور
۷مرتا ہوں اس آواز پہ، ہر چند سر اڑ جاۓجلّاد کو، لیکن، وہ کہے جائیں کہ "ہاں اور"
۸لوگوں کو ہے خورشیدِ جہاں تاب کا دھوکاہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغِ نہاں اور
۹لیتا، نہ اگر دل تمہیں دیتا، کوئی دم چینکرتا، جو نہ مرتا، کوئی دن آہ و فغاں اور
۱۰پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالےرکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
۱۱ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچّھےکہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
۶۲جنوں کی دستگیری کس سے ہو، گر ہو نہ عریانی
۱جنوں کی دستگیری کس سے ہو، گر ہو نہ عریانیگریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
۲بہ رنگِ کاغذِ آتش زدہ، نیرنگِ بیتابیہزار آئنہ دل باندھے ہے بالِ یک تپیدن پر
۳فلک سے ہم کو عیشِ رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہےمتاعِ بردہ کو سمجھے ہوۓ ہیں قرضِ رہزن پر
۴ہم اور وہ بے سبب رنج، آشنا دشمن، کہ رکھتا ہےشعاعِ مہر سے تہمت نگہ کی، چشمِ روزن پر
۵فنا کو سونپ، گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کافروغِ طالعِ خاشاک ہے موقوفِ گلخن پر
۶اسد، بسمل ہے کس اندازِ کا، قاتل سے کہتا ہے"تو مشقِ ناز کر، خونِ دو عالم میری گردن پر"
۶۴لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
۱لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اورتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
۲مٹ جاۓ گا سر، گر ترا پتّھر نہ گھسے گاہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
۳آۓ ہو کل، اور آج ہی کہتے ہو کہ "جاؤں؟"مانا کہ ہمیشہ نہیں، اچّھا، کوئی دن اور
۴جاتے ہوۓ کہتے ہو "قیامت کو ملیں گے"کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
۵ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارفکیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور؟
۶تم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کےپھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور؟
۷تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کے!کرتا، ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
۸مجھ سے تمہیں نفرت سہی، نیّر سے لڑائیبچّوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
۹گزری نہ، بہ ہر حال، یہ مدّت خوش و ناخوشکرنا تھا جواں مرگ! گزارا کوئی دن اور
۱۰ناداں ہو جو کہتے ہو کہ "کیوں جیتے ہیں غالب"؟قسمت میں ہے مرنے کی تمنّا کوئی دن اور
۶۶حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز
۱حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیازدعا قبول ہو یا رب! کہ عمرِ خضر دراز
۲نہ ہو، بہ ہرزہ، بیاباں نوردِ وہم و وجودہنوز تیرے تصوّر میں ہے نشیب و فراز
۳وصال جلوہ تماشا ہے، پر دماغ کہاںکہ دیجے آئنۂ انتظار کو پرداز
۴ہر ایک ذرّہ عاشق ہے آفتاب پرستگئی نہ خاک ہوۓ پر ہواۓ حلوۂ ناز
۵نہ پوچھ وسعتِ مۓ خانۂ جنوں، غالب!جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
۶۹نہ گل نغمہ ہوں، نہ پردہ ساز
۱نہ گل نغمہ ہوں، نہ پردہ سازمیں ہوں اپنی شکست کی آواز
۲تو اور آرائشِ خمِ کاکلمیں اور اندیشہ ہاۓ دور دراز
۳لافِ تمکیں، فریبِ سادہ دلیہم ہیں، اور رازہاۓ سینہ گداز
۴ہوں گرفتارِ الفتِ صیّادورنہ باقی ہے طاقتِ پرواز
۵وہ بھی دن ہو کہ اس ستمگر سےناز کھینچوں، بجاۓ حسرتِ ناز
۶نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خوںجس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گل باز
۷اے ترا غمزہ، یک قلم انگیزاے ترا نغمہ، سر بہ سر انداز
۸تو ہوا جلوہ گر، مبارک ہوریزشِ سجدۂ جبینِ نیاز
۹مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوامیں غریب، اور تو غریب نواز
۱۰اسد اللہ خاں تمام ہوااے دریغا! وہ رندِ شاہباز
۷۰مژدہ، اے ذوقِ اسیری! کہ نظر آتا ہے
۱مژدہ، اے ذوقِ اسیری! کہ نظر آتا ہےدامِ خالی قفسِ مرغِ گرفتار کے پاس
۲جگر تشنۂ آزار، تسلّی نہ ہواجوۓ خوں ہم نے بہائی بنِ ہر خار کے پاس
۳مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں، ہے ہے!خوب وقت آۓ تم اس عاشقِ بیمار کے پاس
۴میں بھی رک رک کے نہ مرتا، جو زباں کے بدلےدشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غمخوار کے پاس
۵دہنِ شیر میں جا بیٹھیے، لیکن، اے دل!نہ کھڑے ہو وے جہاں خوبانِ دل آزار کے پاس
۶دیکھ کر تجھ کو، چمن بسکہ نمو کرتا ہےخود بخود پہنچے ہے گل، گوشۂ دستار کے پاس
۷مر گیا پھوڑ کے سر، غالبِ وحشی، ہے ہے!بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس
۷۳رخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمع
۱رخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمعہوئی ہے آتشِ گل، آبِ زندگانیِ شمع
۲زبانِ اہلِ زباں میں ہے مرگ خاموشییہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانیِ شمع
۳کرے ہے صرف بہ ایماۓ شعلہ، قصّہ تمامبطرزِ اہلِ فنا ہے فسانہ خوانیِ شمع
۴غمِ اس کو حسرتِ پروانہ کا ہے، اے شعلہ!ترے لرزنے سے ظاہر ہے ناتوانیِ شمع
۵ترے خیال سے روح اہتزاز کرتی ہےبہ جلوہ ریزیِ باد و بہ پُر فشانیِ شمع
۶نشاطِ داغِ غمِ عشق کی بہار نہ پوچھشگفتگی ہے شہیدِ گلِ خزانیِ شمع
۷جلے ہے دیکھ کے بالینِ یار پر مجھ کونہ کیوں ہو دل پہ مرے داغِ بدگمانیِ شمع
۷۶زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک
۱زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمککیا مزہ ہوتا اگر پتّھر میں بھی ہوتا نمک
۲گردِ راہِ یار ہے سامانِ نازِ زخمِ دلورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
۳مجھ کو ارزانی رہے، تجھ کو مبارک ہو، جیو!نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک
۴شورِ جولاں تھا کنارِ بحر پر کس کا کہ آجگردِ ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک
۵داد دیتا ہے مرے زخمِ جگر کی، واہ واہ!یاد کرتا ہے مجھے، دیکھے ہے وہ جس جا نمک
۶چھوڑ کر جانا تنِ مجروحِ عاشق حیف ہےدل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
۷غیر کی منّت نہ کھینچوں گا، پۓ توہینِ دردزخم مثلِ خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
۸یاد ہیں غالب تجھے وہ دن کہ وجدِ ذوق میںزخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
۷۷آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
۱آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
۲دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگدیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
۳عاشقی صبر طلب اور تمنّا بیتابدل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہوتے تک
۴ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے، لیکنخاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہوتے تک
۵پرتوِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیممیں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
۶یک نظر بیش نہیں فرصتِ ہستی، غافل!گرمیِ بزم ہے اک رقصِ شرر ہوتے تک
۷غمِ ہستی کا، اسد! کس سے ہو جز مرگ علاجشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
۸۰ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفاۓ گل
۱ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفاۓ گلبلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہاۓ گل
۲آزادیِ نسیم مبارک کہ ہر طرفٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دامِ ہواۓ گل
۳جو تھا سو موجِ رنگ کے دھوکے میں مر گیااے واۓ! نالۂ لبِ خونیں نواۓ گل
۴خوش حال اس حریفِ سیہ مست کا کہ جورکھتا ہو مثلِ سایۂ گل، سر بہ پاۓ گل
۵ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہارمیرا رقیب ہے نفسِ عطر ساۓ گل
۶شرمندہ رکھتے ہیں مجھے بادِ بہار سےمینا ۓ بے شراب و دلِ بے ہواۓ گل
۷سطوت سے تیرے جلوۂ حسنِ غیور کیخوں ہے مری نگاہ میں رنگ اداۓ گل
۸تیرے ہی جلوے کا ہے یہ دھوکا کہ آج تکبے اختیار دوڑے ہے گل در قفاۓ گل
۹غالب! مجھے ہے اس سے ہم آغوشیِ آرزوجس کا خیال ہے گلِ جیبِ قباۓ گل
۸۱غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
۱غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفسبرق سے کرتے ہیں روشن شمعِ ماتم خانہ ہم
۲محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیالہیں ورق گردانیِ نیرنگِ یک بت خانہ ہم
۳باوجودِ یک جہاں ہنگامہ، پیدائی نہیںہیں چراغانِ شبستانِ دلِ پروانہ ہم
۴ضعف سے ہے، نے قناعت سے، یہ ترکِ جستجوہیں وبالِ تکیہ گاہِ ہمّتِ مردانہ ہم
۵دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنّائیں، اسد!جانتے ہیں سینۂ پُر خوں کو زنداں خانہ ہم
۸۵وہ فراق اور وہ وصال کہاں
۱وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
۲فرصتِ کاروبارِ شوق کسےذوقِ نظّارۂ جمال کہاں
۳دل تو دل، وہ دماغ بھی نہ رہاشورِ سوداۓ خطّ و خال کہاں
۴تھی وہ اک شخص کے تصوّر سےاب وہ رعنائیِ خیال کہاں
۵ایسا آساں نہیں لہو رونادل میں طاقت، جگر میں حال کہاں
۶ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشقواں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں
۷فکرِ دنیا میں سر کھپاتا ہوںمیں کہاں اور یہ وبال کہاں
۸مضمحل ہو گئے قوی، غالب!وہ عناصر میں اعتدال کہاں
۸۶کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
۱کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیںہوتی آئی ہے کہ اچّھوں کو برا کہتے ہیں
۲آج ہم اپنی پریشانیِ خاطر ان سےکہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھیے کیا کہتے ہیں
۳اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انہیں کچھ نہ کہوجو مۓ و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیں
۴دل میں آ جاۓ ہے، ہوتی ہے جو فرصت، غش سےاور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں
۵ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجودقبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں
۶پاۓ افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہےخارِ رہ کو ترے ہم مہرِ گیاہ کہتے ہیں
۷اک شرر دل میں ہے، اس سے کوئی گھبراۓ گا کیاآگ مطلوب ہے، ہم کو، جو ہوا کہتے ہیں
۸دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگاس کی ہر بات پہ ہم نامِ خدا کہتے ہیں
۹وحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شایدمر گیا غالب آشفتہ نوا، کہتے ہیں
۸۷آبرو کیا خاک اس گل کی، کہ گلشن میں نہیں
۱آبرو کیا خاک اس گل کی، کہ گلشن میں نہیںہے گریباں، ننگِ پیراہن، جو دامن میں نہیں
۲ضعف سے، اے گریہ! کچھ باقی مرے تن میں نہیںرنگ ہو کر اڑ گیا، جو خوں کہ دامن میں نہیں
۳ہو گئے ہیں جمع اجزاۓ نگاہِ آفتابذرّے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
۴کیا کہوں تاریکیِ زندانِ غم؟ اندھیر ہےپنبۂ نورِ صبح سے کم، جس کے روزن میں نہیں
۵رونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سےانجمن بے شمع ہے، گر برق خرمن میں نہیں
۶زخم سلوانے سے مجھ کو چارہ جوئی کا ہے طعنغیر سمجھا ہے کہ لذّتِ زخمِ سوزن میں نہیں
۷بسکہ ہیں ہم اک بہارِ ناز کے مارے ہوۓجلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
۸قطرہ قطرہ اک ہیولی ہے نۓ ناسور کاخوں بھی ذوقِ درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
۹لے گئی ساقی کی نخوتِ قلزم آشامی مریموجِ مۓ کی آج، رگ، مینا کی گردن میں نہیں
۱۰ہو فشارِ ضعف میں کیا ناتوانی کی نمودقد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں
۱۱تھی وطن میں شان کیا؟ غالب، کہ ہو غربت میں قدربے تکلّف، ہوں وہ مشتِ خس، کہ گلخن میں نہیں
۸۸عہدے سے مدحِ ناز کے، باہر نہ آ سکا
۱عہدے سے مدحِ ناز کے، باہر نہ آ سکاگر اک ادا ہو تو، اسے اپنی قضا کہوں
۲حلقے ہیں چشم ہاۓ کشادہ بہ سوۓ دلہر تارِ زلف کو نگہِ سرمہ سا کہوں
۳میں اور صد ہزار نواۓ جگر خراشتو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
۴ظالم! مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہہے ہے! خدا نہ کردہ، تجھے بے وفا کہوں
۹۰ہم سے کھل جاؤ بہ وقتِ مۓ پرستی ایک دن
۱ہم سے کھل جاؤ بہ وقتِ مۓ پرستی ایک دنورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذرِ مستی ایک دن
۲غرّہ اوجِ بناۓ عالمِ امکاں نہ ہواس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن
۳قرض کی پیتے تھے مۓ، لیکن سمجھتے تھے کہ ہاںرنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
۴نغمہ ہاۓ غم کو بھی، اے دل! غنیمت جانیےبے صدا ہو جاۓ گا یہ سازِ ہستی ایک دن
۵دھول دھپّا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیںہم ہی کر بیٹھے تھے، غالب! پیش دستی ایک دن
۹۱ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں
۱ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیںاک چھیڑ ہے، وگرنہ مرادِ امتحاں نہیں
۲کس منہ سے شکر کیجیے اس لطفِ خاص کاپرسش ہے، اور پاۓ سخن درمیاں نہیں
۳ہم کو ستم عزیز، ستمگر کو ہم عزیزنامہرباں نہیں ہے، اگر مہرباں نہیں
۴بوسہ نہیں، نہ دیجیے، دشنام ہی سہیآخر زباں تو رکھتے ہو، تم گر دہاں نہیں
قطعہ
۵ہر چند جاں گدازیِ قہر و عتاب ہےہر چند پشت گرمیِ تاب و تواں نہیں
۶جاں مطرب ترانہ ہل من مزید ہےلب پردہ سنجِ زمزمۂ الاماں نہیں
۷خنجر سے چیر سینہ، اگر دل نہ ہو دو نیمدل میں چھری چھپو، مژہ گر خوں چکاں نہیں
۸ہے ننگِ سینہ دل اگر آتشکدہ نہ ہوہے عارِ دل نفس اگر آذر فشاں نہیں
۹نقصان نہیں جنوں میں، بلا سے! ہو گھر خرابسو گز زمیں کے بدلے، بیاباں گراں نہیں
۱۰کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سرنوشت میںگویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں
۱۱پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کیروح القدس، اگرچہ مرا ہمزباں نہیں
۱۲جاں ہے بہاۓ بوسہ، ولے کیوں کہے ابھیغالب کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں
۹۲مانعِ دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
۱مانعِ دشت نوردی کوئی تدبیر نہیںایک چکّر ہے مرے پاؤں میں، زنجیر نہیں
۲شوق اس دشت میں دوڑاۓ ہے مجھ کو کہ جہاںجادہ غیر از نگہِ دیدۂ تصویر نہیں
۳حسرتِ لذّتِ آزار رہی جاتی ہےجادۂ راہِ وفا، جز دمِ شمشیر نہیں
۴رنجِ نومیدیِ جاوید! گوارا رہیوخوش ہوں، گر نالہ زبونی کش تاثیر نہیں
۵سر کھجاتا ہے، جہاں زخم سر اچّھا ہو جاۓلذّتِ سنگ بہ اندازۂ تقدیر نہیں
۶جب کرم رخصتِ بیباکی و گستاخی دےکوئی تقصیر، بجز خجلتِ تقصیر، نہیں
۷غالب اپنا یہ عقیدہ ہے، بقولِ ناسخ:"آپ بے بہرہ ہے، جو معتقدِ میر نہیں"
۹۵عشق تاثیر سے نومید نہیں
۱عشق تاثیر سے نومید نہیںجاں سپاری، شجرِ بید نہیں
۲سلطنت دست بہ دست آئی ہےجامِ مۓ خاتمِ جمشید نہیں
۳ہے تجلّی تری، سامانِ وجودذرّہ بے پرتوِ خورشید نہیں
۴رازِ معشوق نہ رسوا ہو جاۓورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
۵گردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہےغمِ محرومیِ جاوید نہیں
۶کہتے ہیں، جیتے ہیں اُمّید پہ لوگہم کو جینے کی بھی اُمّید نہیں
۹۶جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
۱جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
۲دلِ آشفتگاں خالِ کنجِ دہن کےسویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیں
۳ترے سرو قامت سے اک قدِّ آدمقیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
۴تماشا! کہ اے محوِ آئینہ داریتجھے کس تمنّا سے ہم دیکھتے ہیں
۵سراغِ تفِ نالہ لے، داغِ دل سےکہ شبرو کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
۶بنا کر فقیروں کا ہم بھیس، غالب!تماشاۓ اہلِ کرم دیکھتے ہیں
۹۷ملتی ہے خوۓ یار سے نار التہاب میں
۱ملتی ہے خوۓ یار سے نار التہاب میںکافر ہوں، گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
۲کب سے ہوں، کیا بتاؤں، جہانِ خراب میںشبِ ہاۓ ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
۳تا پھر نہ انتظار میں نیند آۓ، عمر بھرآنے کا عہد کر گئے، آۓ جو خواب میں
۴قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوںمیں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
۵مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جامساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
۶جو منکرِ وفا ہو، فریب اس پہ کیا چلے؟کیوں بدگماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں
۷میں مضطرب ہوں وصل میں، خوفِ رقیب سےڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
۸میں اور حظِّ وصل، خدا ساز بات ہےجاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں
قطعہ
۹ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کےاک شکن پڑی ہوئی طرفِ نقاب میں
۱۰لاکھوں لگاؤ، اک چرانا نگاہ کالاکھوں بناؤ، ایک بگڑنا عتاب میں
۱۱وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پاۓجس نالے سے شگاف پڑے آفتاب میں
۱۲وہ سحر مدّعا طلبی میں نہ کام آۓجس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں
۱۳غالب چھٹی شراب، پر اب بھی کبھی کبھیپیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں
۹۸کل کے لیے کر آج نہ خِسّت شراب میں
۱کل کے لیے کر آج نہ خِسّت شراب میںیہ سوءِ ظن ہے ساقیِ کوثر کے باب میں
۲ہیں آج کیوں ذلیل، کہ کل تک نہ تھی پسندگستاخیِ فرشتہ ہماری جناب میں
۳جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماعگر وہ صداۓ سماعی ہے چنگ و رباب میں
۴رو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمےنے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں
۵اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہےجتنا کہ وہم و غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
۶اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہےحیراں ہوں، پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
۷ہے مشتمل نمودِ صور پر وجودِ بحریاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
۸شرم اک اداۓ ناز ہے، اپنے ہی سے سہیہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں
۹آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوزپیشِ نظر ہے آئنہ دائم نقاب میں
۱۰ہے غیب غیب، جس کو سمجھتے ہیں ہم شہودہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
۱۱غالب ندیمِ دوست سے آتی ہے بوۓ دوستمشغولِ حق ہوں، بندگیِ بو تراب میں
۹۹حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
۱حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میںمقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
۲چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوںہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
۳جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار باراے کاش! جانتا نہ ترے رہگزر کو میں
۴ہے کیا جو کس کے باندھیے، میری بلا ڈرےکیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں
۵لو، وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہےیہ جانتا اگر تو، لٹاتا نہ گھر کو میں
۶چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھپہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
۷خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرارکیا پوچھتا ہوں اس بتِ بیداد گر کو میں
۸پھر بیخودی میں بھول گیا راہِ کوۓ یارجاتا، وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
۹اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہلِ دہر کاسمجھا ہوں دلپذیر متاعِ ہنر کو میں
۱۰غالب! خدا کرے کہ سوارِ سمندِ نازدیکھوں علی بہادرِ عالی گہر کو میں
۱۰۰ذکرِ میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں
۱ذکرِ میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیںغیر کی بات بگڑ جاۓ تو کچھ دور نہیں
۲وعدۂ سیرِ گلستاں ہے، خوشا طالعِ شوق!مژدۂ قتل مقدّر ہے، جو مذکور نہیں
۳شاہدِ ہستیِ مطلق کی کمر ہے عالملوگ کہتے ہیں کہ ہے، پر ہمیں منظور نہیں
۴قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا، لیکنہم کو تقلیدِ تنک ظرفیِ منصور نہیں
۵حسرت، اے ذوقِ خرابی! کہ وہ طاقت نہ رہیعشق پُر عربدہ کی گوں تنِ رنجور نہیں
۶میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمھیںکس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
۷ظلم کر ظلم، اگر لطف دریغ آتا ہوتو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
۸صاف دُردی کش پیمانۂ جم ہیں ہم لوگواسے وہ بادہ کہ افسردۂ انگور نہیں
۹ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی، غالب!میرے دعوے پہ یہ حجّت ہے کہ مشہور نہیں
۱۰۱نالہ، جز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد! نہیں
۱نالہ، جز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد! نہیںہے تقاضاۓ جفا، شکوۂ بیداد نہیں
۲عشق و مزدوریِ عشرت گہِ خسرو، کیا خوب!ہم کو تسلیم نکو نامیِ فرہاد نہیں
۳کم نہیں وہ بھی خرابی میں، پہ وسعت معلومدشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
۴اہلِ بینش کو ہے طوفانِ حوادث مکتبلطمۂ موج کم از سیلیِ استاد نہیں
۵واۓ محرومیِ تسلیم و بدا حالِ وفاجانتا ہے کہ ہمیں طاقتِ فریاد نہیں
۶رنگِ تمکینِ گل و لالہ پریشاں کیوں ہےگر چراغانِ سرِ رہگزرِ باد نہیں
۷سبزۂ گل کے تلے بند کرے ہے گلچیںمژدہ! اے مرغ، کہ گلزار میں صیّاد نہیں
۸نفی سے کرتی ہے اثبات ترواش، گویادی ہے جاۓ دہنِ اس کو، دمِ ایجاد نہیں
۹کم نہیں جلوہ گری میں تیرے کوچے سے بہشتیہی نقشہ ہے، ولے اس قدر آباد نہیں
۱۰کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت، غالب؟تم کو بے مہریِ یارانِ وطن یاد نہیں؟
۱۰۶یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
۱یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیںکبھی صبا کو، کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں
۲وہ آۓ گھر میں ہمارے، خدا کی قدرت ہےکبھی ہم ان کو، کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
۳نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کویہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں
۴ترے جواہرِ طرفِ کلہ کو کیا دیکھیںہم اوجِ طالعِ لعل و گہر کو دیکھتے ہیں
۱۰۷نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
۱نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیںشبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیں
۲کوئی کہے کہ شبِ مہ میں کیا برائی ہے؟بلا سے، آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
۳جو آؤں سامنے ان کے تو مرحبا نہ کہیںجو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیر باد نہیں
۴کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیںکہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں؟
۵علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شرابگداۓ کوچۂ مۓ خانہ نامراد نہیں
۶جہاں میں ہو غم و شادیِ بہم، ہمیں کیا کام!دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
۷تم ان کے وعدے کا ذکر ان سے کیوں کرو، غالب؟یہ کہہ کہ تم کہو، اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
۱۰۸تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
۱تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
۲آہ کا کس نے اثر دیکھا ہےہم بھی اک اپنی ہوا باندھتے ہیں
۳تیری فرصت کے مقابل، اے عمر!برق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں
۴قیدِ ہستی سے رہائی معلوماشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں
۵نشۂ رنگ سے ہے واشدِ گلمست کب بندِ قبا باندھتے ہیں
۶غلطی ہاۓ مضامیں مت پوچھلوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
۷اہلِ تدبیر کی واماندگیاں!آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
۸سادہ پُر کار ہیں خوباں، غالب!ہم سے پیمانِ وفا باندھتے ہیں
۱۰۹دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
۱دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میںخاک ایسی زندگی پہ کہ پتّھر نہیں ہوں میں
۲کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جاۓ دلانسان ہوں، پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
۳یا رب! زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے؟لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرّر نہیں ہوں میں
۴حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطےآخر گنہگار ہوں، کافر نہیں ہوں میں
۵کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے؟لعل و زمرّد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
۶رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ؟رتبے میں مہر و ماہ سے کمتر نہیں ہوں میں
۷کرتے ہو مجھ کو منعِ قدم بوس، کس لیے؟کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں؟
۸غالب! وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعاوہ دن گئے کہ کہتے تھے "نوکر نہیں ہوں میں"
۱۱۰سب کہاں، کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
۱سب کہاں، کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیںخاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
۲یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاںلیکن اب نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں
۳تھیں بناتُ النعش گردوں دن کو پردے میں نہاںشب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
۴قید میں یعقوب نے لی، گو، نہ یوسف کی خبرلیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہو گئیں
۵سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، پر زنانِ مصر سےہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہِ کنعاں ہو گئیں
۶جوۓ خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراقمیں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں
۷ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقامقدرتِ حق سے، سہی، حوریں اگر واں ہو گئیں
۸نیند اس کی ہے، دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی ہیںتیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
۹میں چمن میں کیا گیا، گویا دبستاں کھل گیابلبلیں سن کر مرے نالے، غزل خواں ہو گئیں
۱۰وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں، یا رب! دل کے پارجو مری کوتاہیِ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
۱۱بسکہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پےمیری آہیں بخیۂ چاکِ گریباں ہو گئیں
۱۲واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب؟یاد تھیں جتنی دعائیں، صرفِ درباں ہو گئیں
۱۳جاں فزا ہے بادہ، جس کے ہاتھ میں جام آ گیاسب لکیریں ہاتھ کی، گویا رگِ جاں ہو گئیں
۱۴ہم موحّد ہیں، ہمارا کیش ہے ترکِ رسومملّتیں جب مٹ گئیں، اجزاۓ ایماں ہو گئیں
۱۵رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنجمشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
۱۶یوں ہی گر روتا رہا، غالب! تو اے اہلِ جہاںدیکھنا ان بستیوں کو، تم کہ ویراں ہو گئیں
۱۱۱دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں
۱دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیںیعنی، ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں
۲دل کو نیازِ حسرتِ دیدار کر چکےدیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار بھی نہیں
۳ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہےدشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
۴بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے، اور یاںطاقت بہ قدرِ لذّتِ آزار بھی نہیں
۵شورِ پریدگی کے ہاتھ سے ہے، سر وبالِ دوشصحرا میں، اے خدا! کوئی دیوار بھی نہیں
۶گنجائشِ عداوتِ اغیار یک طرفیاں دل میں ضعف سے ہوس یار بھی نہیں
۷ڈر نالہ ہاۓ زار سے میرے، خدا کو مانآخر نواۓ مرغِ گرفتار بھی نہیں
۸دل میں ہے یار کی صفِ مژگاں سے کشمکشحالانکہ طاقتِ خلشِ خار بھی نہیں
۹اس سادگی پہ کون نہ مر جاۓ، اے خدا!لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
۱۰دیکھا اسد کو خلوت و جلوت میں بارہادیوانہ گر نہیں ہے، تو ہشیار بھی نہیں
۱۱۲نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے درخور مرے تن میں
۱نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے درخور مرے تن میںہوا ہے تارِ اشکِ یاس رشتہ چشمِ سوزن میں
۲ہوئی ہے مانعِ ذوقِ تماشا خانہ ویرانیکفِ سیلاب باقی ہے بہ رنگِ پنبہ روزن میں
۳ودیعت خانۂ بیدادِ کاوش ہاۓ مژگاں ہوںنگیں نامِ شاہد ہے، مرا ہر قطرہ خوں تن میں
۴بیاں کس سے ہو ظلمت گستریِ میری شبستاں کیشبِ مہ ہو، جو رکھ دیں پنبہ دیواروں کے روزن میں
۵نکوہش مانعِ بے ربطیِ شورِ جنوں آئیہوا ہے خندۂ احباب بخیہ جیبِ و دامن میں
۶ہوۓ اس مہرِ وش کے جلوۂ تمثال کے آگےپرافشاں، جو مہرِ آئنے میں مثلِ ذرّہ روزن میں
۷نہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں، پہ صحبت مخالف ہےجو گل ہوں تو ہوں گلخن میں، جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں
۸ہزاروں دل دیے جوشِ جنونِ عشق نے مجھ کوسیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرہ خوں تن میں
۹اسد! زندانیِ تاثیرِ الفت ہاۓ خوباں ہوںخمِ دستِ نوازش ہو گیا ہے طوقِ گردن میں
۱۱۳مرے جہاں سکے، اپنی نظر میں خاک نہیں
۱مرے جہاں سکے، اپنی نظر میں خاک نہیںسواۓ خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیں
۲مگر، غبار ہوۓ پر، ہوا اڑا لے جاۓوگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
۳یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہےکہ غیرِ جلوۂ گل رہگزر میں خاک نہیں
۴بھلا اسے نہ سہی، کچھ مجھی کو رحم آتااثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیں
۵خیالِ جلوۂ گل سے خراب ہیں میکششرابِ خانے کے دیوار و در میں خاک نہیں
۶ہوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہسواۓ حسرتِ تعمیر، گھر میں خاک نہیں
۷ہمارے شعر میں اب صرف دل لگی کے، اسد!کھلا کہ فائدہ عرضِ ہنر میں خاک نہیں
۱۱۴دل ہی تو ہے، نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آۓ کیوں
۱دل ہی تو ہے، نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آۓ کیوںروئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستاۓ کیوں
۲دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیںبیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم، غیر ہمیں اٹھاۓ کیوں
۳جب وہ جمال دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روزآپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپاۓ کیوں
۴دشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہتیرا ہی عکس رخ سہی، سامنے تیرے آۓ کیوں
۵قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاۓ کیوں
۶حسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بو الہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے، غیر کو آزماۓ کیوں
۷واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجاب پاسِ وضعراہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلاۓ کیوں
۸ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہیجس کو ہو دین و دل عزیز، اس کی گلی میں جاۓ کیوں
۹غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیںروئیے زار زار کیا، کیجیے ہاۓ ہاۓ کیوں؟
۱۱۵غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یوں
۱غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یوںبوسے کو پوچھتا ہوں میں، منہ سے مجھے بتا، کہ یوں
۲پرسشِ طرزِ دلبری کیجیے کیا کہ بن سکےاس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا، کہ یوں
۳رات کے وقت مۓ پیے ساتھ رقیب کو لیےآۓ وہ یاں خدا کرے، پر نہ کرے خدا کہ یوں
۴غیرے سے رات کیا بنی، یہ جو کہا تو دیکھیےسامنے آن بیٹھنا، اور یہ دیکھنا کہ یوں
۵بزم میں اس کے رو بہ رو کیوں نہ خموش بیٹھیےاس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدّعا کہ یوں
۶میں نے کہا کہ "بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی"سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
۷مجھ سے کہا جو یار نے "جاتے ہیں ہوش کس طرح؟"دیکھ کے میری بیخودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
۸کب مجھے کوۓ یار میں رہنے کی وضع یاد تھیآئنہ دار بن گئی حیرتِ نقش پا کہ یوں
۹گر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوالموج، محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
۱۰جو یہ کہے کہ "ریختہ کیوں کہ ہو رشکِ فارسی؟"گفتۂ غالب ایک بار پڑھ کے، اسے سنا کہ یوں
۱۱۷کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں
۱کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیںبھولا ہوں حقِّ صحبتِ اہلِ کنشت کو؟
۲طاعت میں تا رہے نہ مۓ و انگبیں کی لاگدوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
۳ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسمِ ثواب سےٹیڑھا لگا ہے قط، قلمِ سرنوشت کو
۴غالب کچھ اپنی سعی سے لینا نہیں مجھےخرمن جلے، اگر نہ ملخ کھاۓ کشت کو
۱۱۸وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو
۱وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہوکیجیے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو
۲چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگِ اختلاط کاہے دل پہ بارِ نقشِ محبّت ہی کیوں نہ ہو
۳ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہہر چند برسبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہو
۴پیدا ہوئی ہے، کہتے ہیں، ہر دردِ کی دوایوں ہو تو چارۂ غمِ الفت ہی کیوں نہ ہو
۵ڈالا نہ بیکسی نے کسی سے معاملہاپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو
۶ہے آدمی بجاۓ خود اک محشرِ خیالہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
۷ہنگامہ، زبونیِ ہمّت ہے، بے التفاتحائل نہ کیجیے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو
۸وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیںاپنے سے کر، نہ غیر سے، وحشت ہی کیوں نہ ہو
۹مٹتا ہے فوتِ فرصتِ ہستی کا غم کوئی؟عمرِ عزیز صرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہو
۱۰اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں، اسد!اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو
۱۱۹قفس میں ہوں، گر اچّھا بھی نہ جانیں، میرے شیون کو
۱قفس میں ہوں، گر اچّھا بھی نہ جانیں، میرے شیون کومرا ہونا برا کیا ہے، نواسنجانِ گلشن کو
۲نہیں گر ہمدمی آساں، نہ ہو، یہ رشک کیا کم ہےنہ دی ہوتی خدایا! آرزوۓ دوست، دشمن کو
۳نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو، اس جراحت پرکیا سیلے میں، جس نے، خوں چکاں مژگانِ سوزن کو
۴خدا شرماۓ ہاتھوں کو، کہ رکھتے ہیں کششِ کش میںکبھی میرے گریباں کو، کبھی جاناں کے دامن کو
۵ابھی ہم قتل گہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیںنہیں دیکھا شناور جوۓ خوں میں تیرے توسن کو
۶ہنوز اک پارچہ، جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کاکیا بے تاب کاں میں جنبشِ جوہر نے آہن کو
۷خوشی کیا، کھیت پر میرے، اگر سو بار ابر آۓسمجھتا ہوں کہ ڈھونڈتے ہے ابھی سے برقِ خرمن کو
۸وفاداری بہ شرطِ استواری، اصلِ ایماں ہےمرے بُت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
۹شہادت تھی مری قسمت میں، جو دی تھی یہ خو مجھ کوجہاں تلوار کو دیکھا، جھکا دیتا تھا گردن کو
۱۰نہ لٹتا دن کو، تو کب رات کو یوں بے خبر سوتارہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو
۱۱سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواب اس کے؟جگر کیا؟ ہم نہیں رکھتے، کہ کھودیں جا کے معدن کو
۱۲مرے شاہِ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں، غالب!فریدون و جم و کیخسرو و داراب و بہمن کو
۱۲۰دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
۱دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤںرکھتا ہے ضد سے، کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
۲دی سادگی سے جان، پڑوں کوہکن کے پاؤںہیہات! کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں
۳بھاگے تھے ہم بہت، سو اسی کی سزا ہے یہہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں
۴مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں، جو دور دورتن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
۵اللہ رے! ذوقِ دشت نوردی، کہ بعدِ مرگچلتے ہیں خود بخود مرے اندر کفن کے پاؤں
۶ہے جوششِ گلِ بہار میں یاں تک کہ ہر طرفاڑتے ہوۓ، الجھتے ہیں مرغِ چمن کے پاؤں
۷شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیںدکھتے ہیں آج اس بتِ نازک بدن کے پاؤں
۸غالب! مرے کلام میں کیوں کر مزہ نہ ہوپیتا ہوں دھو کے خسروِ شیریں سخن کے پاؤں
۱۲۲واں پہنچ کر جو غش آتا پے بہ پے، ہے ہم کو
۱واں پہنچ کر جو غش آتا پے بہ پے، ہے ہم کوصد رۂ آہنگِ زمیں بوسِ قدم، ہے ہم کو
۲دل کو میں، اور مجھے دل، محوِ وفا رکھتا ہےکس قدر ذوقِ گرفتاری ہے ہم کو
۳ضعف سے، نقشِ پۓ مور ہے طوقِ گردنتیرے کوچے سے کہاں طاقتِ رم، ہے ہم کو
۴جان کر کیجیے تغافل کہ کچھ اُمّید بھی ہویہ نگاہِ غلط انداز تو سم، ہے ہم کو
۵رشک ہم طرحی و دردِ اثرِ بانگِ حزیںنالۂ مرغِ سحر دمِ تیغِ دو دم، ہے ہم کو
۶سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرّر چاہاہنس کے بولے کہ "ترے سر کی قسم، ہے ہم کو"
۷دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ، ولیکن ناچارپاسِ بے رونقیِ دیدہ اہم، ہے ہم کو
۸تم وہ نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہوہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم، ہے ہم کو
قطعہ
۹لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا، یعنیہوس سیر و تماشا، سو وہ کم، ہے ہم کو
۱۰مقطعِ سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہرعزمِ سیرِ نجف و طوفِ حرم، ہے ہم کو
۱۱لیے جاتی ہے کہیں ایک توقّع، غالب!جادۂ رہ کششِ کافِ کرم، ہے ہم کو
۱۲۳تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
۱تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہومجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
۲بکتے نہیں، مواخذۂ روزِ حشر سےقاتل اگر رقیب ہے، تو تم گواہ ہو
۳کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیںمانا کہ تم بشر نہیں، خورشید و ماہ ہو
۴ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تارمرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
۵جب مۓ کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قیدمسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہو
۶سنتے ہیں، جو بہشت کی تعریف، سب درستلیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو
۷غالب بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیںدنیا ہو یا رب! اور مرا بادشاہ ہو
۱۲۴گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
۱گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہوکہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیونکر ہو؟
۲ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصالکہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں، ہو تو کیونکر ہو
۳ادب ہے، اور یہی کشمکش تو کیا کیجےحیا ہے، اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو
۴تمھیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کابتوں کی ہو، اگر ایسی ہی خو تو کیونکر ہو
۵الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئنہجو تم سے شہر میں ہوں ایک دو، تو کیونکر ہو؟
۶جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا ساوہ شخص دن نہ کے، رات کو، تو کیونکر ہو
۷ہمیں پھر ان سے اُمّید، اور انھیں ہماری قدرہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو
۸غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلّی کانہ مانے دیدۂ دیدار جو تو کیونکر ہو؟
۹بتاؤ، اس مژہ کو دیکھ کر، کہ مجھ کو قرارنیش، جو رگِ جاں میں فرو، تو کیونکر ہو
۱۰مجھے جنوں نہیں، غالب! ولے، بہ قولِ حضور"فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیونکر ہو"
۱۲۵کسی کو دے کے دل کوئی، نواسنجِ فغاں کیوں ہو
۱کسی کو دے کے دل کوئی، نواسنجِ فغاں کیوں ہونہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
۲وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیںسبک سر بن کے کیا پوچھیں، کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
۳کیا غمخوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کونہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا رازداں کیوں ہو
۴وفا کیسی، کہاں کا عشق، جب سر پھوڑنا ٹھہراتو پھر، اے سنگدل! تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو
۵قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدمگری ہے جس پہ کل بجلی، وہ میرا آشیاں کیوں ہو
۶یہ کہہ سکتے ہو، "ہم دل میں نہیں ہیں"، پر یہ بتلاؤکہ جب دل میں تمھیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
۷غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ، دیکھو جرم کس کا ہے؟نہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو
۸یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہےہوۓ تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
۹یہی ہے آزمانا، تو ستانا کس کو کہتے ہیں؟عدو کے ہو لیے، جب تم، تو میرا امتحاں کیوں ہو
۱۰کہا تم نے کہ "کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی؟"بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ "ہاں، کیوں ہو"
۱۱نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو، غالب؟ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
۱۳۰مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
۱مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیےبھبوں پاس آنکھ، قبلۂ حاجات! چاہیے
۲عاشق ہوۓ ہیں آپ بھی اک اور شخص پرآخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
۳دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کیہاں، کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
۴سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّریتقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
۵نے سے غرض نشاط ہے، کس رو سیاہ کواک گو نہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے
۶ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جداہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
قطعہ
۷سر پاۓ خم پہ چاہیے ہنگامِ بیخودیرو سوۓ قبلہ، وقتِ مناجات چاہیے
۸یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفاتعارف ہمیشہ مستِ مۓ ذات چاہیے
۹نشو و نما ہے اصل سے غالب! فروع کوخاموشی ہی سے نکلے ہے، جو بات چاہیے
۱۳۱بساطِ عجز میں تھا ایک دل، یک قطرہ خوں، وہ بھی
۱بساطِ عجز میں تھا ایک دل، یک قطرہ خوں، وہ بھیسو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں، وہ بھی
۲رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے، تکلّف سےتکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں، وہ بھی
۳خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشےمرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں، وہ بھی
۴نہ کرتا کاش! نالہ، مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم!کہ ہوگا باعثِ افزائشِ دردِ دروں، وہ بھی
۵نہ اتنا بُرشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤمرے دریاۓ بے تابی میں ہے اک موجِ خوں، وہ بھی
۶ہوس، عشرت کی خواہش، ساقیِ گردوں سے کیا کیجےلیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں، وہ بھی
۷مرے دل میں ہے، غالب! شوقِ وصل و شکوۂ ہجراںخدا وہ دن کرے، جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی
۱۳۲ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
۱ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سےتنگ آۓ ہیں ہم، ایسے خوشامد طلبوں سے
۲ہے دورِ قدح وجہِ پریشانیِ صہبایک بار لگا دو خمِ مۓ میرے لبوں سے
۳رندانِ درِ مۓ کدہ گستاخ ہیں زاہدزنہار! نہ ہونا طرفِ ان بے ادبوں سے
۴بیدادِ وفا دیکھ، کہ جاتی رہی آخرہر چند مری جان کو تھا ربطِ لبوں سے
۱۳۴غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
۱غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کیفلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
۲کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا، یا رب!قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
۳لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہےولے مشکل ہے حکمت دل میں سوزِ غم چھپانے کی
۴اُنھیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھااٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی
۵ہماری سادگی تھی، التفاتِ ناز پر مرناترا آنا نہ تھا ظالم! مگر تمہید جانے کی
۶فلک کو بارِ حوادث کا تحمّل کر نہیں سکتیمری طاقت کہ ضامن تھی، بتوں کے ناز اٹھانے کی
۷کہوں کیا خوبیِ اوضاعِ ابناۓ زماں، غالب!بدی کی اس نے، جس سے، ہم نے کی تھی بارہا نیکی
۱۳۵کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
۱کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہےجس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
۲ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سےپرتو سے آفتاب کے، ذرّے میں جان ہے
۳حالانکہ ہے یہ سیلیِ خارا سے لالہ رنگغافل کو میرے شیشے پہ مۓ کا گمان ہے
۴کی اس نے گرم، سینۂ اہلِ ہوس میں جاآوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
۵کیا خوب، تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا؟بس چپ رہو، ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
۶بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوارِ یار میںفرماں رواۓ کشورِ ہندوستان ہے
۷ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیاکس سے کہوں کہ داغِ جگر کا نشان ہے
۸ہے، بارے، اعتمادِ وفاداری اس قدرغالب! ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے
۱۳۶درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری، بلے بلے!
۱درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری، بلے بلے!کیا ہوئی ظالم! تری غفلت شعاری، بلے بلے!
۲تیرے دل میں گر نہ تھا آشوبِ غم کا حوصلہتُو نے پھر کیوں کی تھی میری غمگساری، بلے بلے!
۳کیوں مری غمخوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیالدشمنی اپنی تھی، میری دوستداری، بلے بلے!
۴عمرِ بھر کا تُو نے پیمانِ وفا باندھا تو کیاعمر کو بھی تو نہیں ہے پائداری، بلے بلے!
۵زہر لگتی ہے مجھے آب و ہواۓ زندگییعنی تجھ سے تھی اِسے ناسازگاری، بلے بلے!
۶گل فشانی ہاۓ نازِ جلوہ کو کیا ہو گیاخاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری، بلے بلے!
۷شرمِ رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میںختم ہے اُلفت کی تجھ پر پردہ داری، بلے بلے!
۸خاک میں ناموسِ پیمانِ محبّت مل گئیاٹھ گئی دنیا سے راہ و رسمِ یاری، بلے بلے!
۹ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہادل پہ اک لگنے نہ پایا زخمِ کاری، بلے بلے!
۱۰کس طرح کاٹے کوئی شب ہاۓ تارِ برشکالہے نظر خوکردۂ اختر شماری، بلے بلے!
۱۱گوش منجورِ پیام و چشم محرومِ جمالایک دل، تس پر یہ نا اُمّید واری، بلے بلے!
۱۲عشق نے پکڑا نہ تھا، غالب! ابھی وحشت کا رنگرہ گیا، تھا دل میں جو کچھ ذوقِ خواری، بلے بلے!
۱۳۷سرگشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے
۱سرگشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہےتسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے
۲لیتا نہیں مرے دلِ آوارہ کی خبراب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
۳کیجے بیاں سرورِ تبِ غم کہاں تلکہر مو مرے بدن پہ زبانِ سپاس ہے
۴ہے وہ غرورِ حسن سے بیگانۂ وفاہر چند اس کے پاس دلِ حق شناس ہے
۵پی جس قدر ملے، شبِ مہتاب میں شراباس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
۶ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف، اسد!مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اُداس ہے
۱۳۸گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہے
۱گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہےخوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
۲کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہدل فردِ جمع و خرجِ زبانہاۓ لال ہے
۳کس پردے میں ہے آئنہ پرداز، اے خدا!رحمت کہ عذر خواہِ لبِ بے سوال ہے
۴ہے ہے! خدا نخواستہ، وہ اور دشمنی!اے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے
۵مشکیں لباس کعبہ علی کے قدم سے جاننافِ زمین ہے، نہ کہ نافِ غزال ہے
۶وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھادریا زمین کو عرقِ انفعال ہے
۷ہستی کے مت فریب میں آ جائیو، اسد!عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
۱۴۲ایک جا حرفِ وفا لکھا تھا، سو بھی مٹ گیا
۱ایک جا حرفِ وفا لکھا تھا، سو بھی مٹ گیاظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے
۲جی جلے، ذوقِ فنا کی ناتمامی پر نہ کیوںہم نہیں جلتے، نفس ہر چند آتش بار ہے
۳آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صداہر کوئی درماندگی میں نالے سے ناچار ہے
۴ہے وہی بدمستیِ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہجس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
۵مجھ سے مت کہہ: "تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی"زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
۶آنکھ کی تصویر سرنامے پہ کھینچی ہے کہ تاتجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرتِ دیدار ہے
۱۴۳مری ہستی فضاۓ حیرت آبادِ تمنّا ہے
۱مری ہستی فضاۓ حیرت آبادِ تمنّا ہےجسے کہتے ہیں نالہ، وہ اسی عالم کا عنقا ہے
۲خزاں کیا، فصلِ گل کہتے ہیں کس کو؟ کوئی موسم ہووہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے
۳وفاۓ دلبراں ہے اتّفاقی، ورنہ اے ہمدم!اثرِ فریادِ دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
۴نہ لائی شوخیِ اندیشہ تاب، رنجِ نومیدیکفِ افسوس ملنا عہدِ تجدیدِ تمنّا ہے
۱۴۶عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی
۱عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہیمیری وحشت، تری شہرت ہی سہی
۲قطع کیجے نہ تعلّق ہم سےکچھ نہیں ہے، تو عداوت ہی سہی
۳میرے ہونے میں ہے کیا رسوائیاسے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
۴ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنےغیر کو تجھ سے محبّت ہی سہی
۵اپنی ہستی ہی سے ہو، جو کچھ ہوآگہی گر نہیں، غفلت ہی سہی
۶عمر، ہر چند کہ ہے برق خرامدل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
۷ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیں؟نہ سہی عشق، مصیبت ہی سہی
۸کچھ تو دے، اے فلکِ نا انصاف!آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
۹ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گےبے نیازی تری عادت ہی سہی
۱۰یار سے چھیڑ چلی جاۓ، اسد!گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
۱۴۷ہے آرمیدگی میں نکوہشِ بجا مجھے
۱ہے آرمیدگی میں نکوہشِ بجا مجھےصبحِ وطن ہے، خندۂ دنداں نما مجھے
۲ڈھونڈے ہے اس مغنّیِ آتش نفس کو جیجس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے
۳مستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیِ خیالتا، بازگشت سے نہ رہے مدّعا مجھے
۴کرتا ہے، بسکہ باغ میں تو بے حجابیاںآنے لگی ہے نکہتِ گل سے حیا مجھے
۵کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہشعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
۱۴۹اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
۱اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےبیٹھا رہا، اگرچہ اشارے ہوا کیے
۲دل ہی تو ہے، سیاستِ درباں سے ڈر گیامیں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے؟
۳رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجّادہ رہنِ مۓمدّت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کیے
۴بے صرفہ ہی گزرتی ہے، ہو گرچہ عمرِ خضرحضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے!
۵مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم!تُو نے وہ گنجہاۓ گرانمایہ کیا کیے؟
۶کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدوکس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے
۷صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خودینے لگا ہے بوسہ، بغیر التجا کیے
۸ضد کی ہے اور بات، مگر خو بری نہیںبھولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کیے
۹غالب! تمھیں کہو کہ ملے گا جواب کیامانا کہ تم کہا کیے، اور وہ سنا کیے
۱۵۰رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے
۱رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہےاس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
۲بیناۓ مۓ ہے سرو نشاطِ بہار مۓبالِ تدرو جلوۂ موجِ شراب ہے
۳زخمی ہوا ہے پاشنہ پاۓ ثبات کانے بھاگنے کی گو نہ اقامت کی تاب ہے
۴جاداد بادہ نوشیِ رنداں ہے شش جہتغافل، گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے
۵نظّارہ کیا حریف ہو اس برقِ حسن کاجوششِ بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے
۶میں، نامرادِ دل کی تسلّی کو کیا کروںمانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے
۷گزرا اسد! مسرّت پیغامِ یار سےقاصد پہ مجھ کو رشکِ سوال و جواب ہے
۱۵۱دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جاۓ ہے
۱دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جاۓ ہےمیں اسے دیکھوں، بھلا! کب مجھ سے دیکھا جاۓ ہے
۲ہاتھ دھو دل سے، یہی گرمی گر اندیشے میں ہےآبگینہ تندیِ صہبا سے پگھلا جاۓ ہے
۳غیر کو، یا رب! وہ کیونکر منعِ گستاخی کرےگر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جاۓ ہے
۴شوق کو یہ لَت، کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیےدل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جاۓ ہے
۵دورِ چشمِ بد، تری بزمِ طرب سے، واہ واہ!نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جاۓ ہے
۶گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشقپر ہم ایسے کھوۓ جاتے ہیں کہ وہ پا جاۓ ہے
۷اس کی بزم آرائیاں سن کر، دلِ رنجور، یاںمثلِ نقشِ مدّعاۓ غیر بیٹھا جاۓ ہے
۸ہوکے عاشق، وہ پری رخ اور نازک بن گیارنگ کھلتا جاۓ ہے، جتنا کہ اڑتا جاۓ ہے
۹نقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیںکھینچتا ہے، جس قدر، اتنا ہی کھنچتا جاۓ ہے
۱۰سایہ میرا مجھ سے، مثلِ دود، بھاگے ہے، اسد!پاس مجھ آتشِ بجاں کے کس سے ٹھہرا جاۓ ہے!
۱۵۲گرمِ فریاد رکھا، شکلِ نہالی نے مجھے
۱گرمِ فریاد رکھا، شکلِ نہالی نے مجھےتب امان، ہجر میں دی، برد لیالی نے مجھے
۲نسیہ و نقدِ دو عالم کی حقیقت معلوملے لیا مجھ سے، مری ہمّتِ عالی نے مجھے
۳کثرت آرائیِ وحدت ہے پرستاریِ وہمکر دیا کافر، ان اصنامِ خیالی نے مجھے
۴ہوسِ گل کا تصوّر میں بھی کھٹکا نہ رہاعجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
۱۵۵سادگی پہ اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
۱سادگی پہ اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہےبس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے
۲دیکھنا تقدیر کی لذّت کہ جو اس نے کہامیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
۳گرچہ ہے کس کس برائی سے، ولے، با ایں ہمہذکرِ میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
۴بس ہجومِ نا اُمّیدی، خاک میں مل جاۓ گییہ جو اک لذّت ہماری سعیِ بے حاصل میں ہے
۵رنج رہ کیوں کھینچیے، واماندگی کو عشق ہے!اٹھ نہیں سکتا ہمارا، جو قدم، منزل میں ہے
۶جلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہی!فتنۂ شورِ قیامت کس کی آب و گل میں ہے؟
۷ہے دلِ شوریدہ، غالب! طلسمِ پیچ و تابرحم کر اپنی تمنّا پر، کہ کس مشکل میں ہے
۱۵۶دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
۱دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئیدونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
۲شق ہو گیا ہے سینہ، خوشا لذّتِ فراغتکلیفِ پردہ داری زخمِ جگر گئی
۳وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاںاُٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی
۴اڑتی پھرے ہے خاک مری کوۓ یار میںبارے اب، اے ہوا! ہوسِ بال و پر گئی
۵دیکھو تو دلفریبیِ اندازِ نقشِ پاموجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی
۶ہر بو الہوس نے حسن پرستی شعار کیاب آبروۓ شیوۂ اہلِ نظر گئی
۷نظّارے نے بھی کام کیا واں نقاب کامستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
۸فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیاکل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
۹مارا زمانے نے، اسد اللہ خاں! تمھیںوہ ولولے کہاں، وہ جوانی کدھر گئی
۱۵۷تسکیں کو ہم نہ روئیں، جو ذوقِ نظر ملے
۱تسکیں کو ہم نہ روئیں، جو ذوقِ نظر ملےحورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے
۲اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتلمیرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
۳ساقی گری کی شرم کرو آج، ورنہ ہمہر شب پیا ہی کرتے ہیں مۓ، جس قدر ملے
۴تجھ سے تو کچھ کلام نہیں، لیکن اے ندیم!میرا سلام کہیو، اگر نامہ بر ملے
۵تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیافرصت کشاکشِ غمِ پنہاں سے گر ملے
۶لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریںجانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے
۷اے ساکنانِ کوچۂ دلدار! دیکھناتم کو کہیں جو غالبِ آشفتہ سر ملے
۱۵۸کوئی دن گر زندگانی اور ہے
۱کوئی دن گر زندگانی اور ہےاپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
۲آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاںسوزِ غم ہاۓ نہانی اور ہے
۳بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیںپر کچھ اب کی، سرگرانی اور ہے
۴دے کے خط، منہ دیکھتا ہے نامہ برکچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے
۵قاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوموہ بلاۓ آسمانی اور ہے
۶ہو چکیں، غالب! بلائیں سب تمامایک مرگِ ناگہانی اور ہے
۱کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی
۲موت کا ایک دن معیّن ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی
۳آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی
۴جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہدپر طبیعت اِدھر نہیں آتی
۵ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتی
۶کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیںمیری آواز گر نہیں آتی
۷داغِ دل گر نظر نہیں آتابو بھی، اے چارہ گر! نہیں آتی؟
۸ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتی
۹مرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے، پر نہیں آتی
۱۰کعبے کس منہ سے جاؤ گے، غالب!شرم تم کو مگر نہیں آتی
۱۶۰دل نادان تجھے ہوا کیا ہے
۱دل نادان تجھے ہوا کیا ہےآخرِ اس درد کی دوا کیا ہے
۲ہم ہیں مشتاق، اور وہ بیزاریا الٰہی! یہ ماجرا کیا ہے
۳میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوںکاش! پوچھو کہ مدّعا کیا ہے
قطعہ
۴جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ، اے خدا! کیا ہے
۵یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیںغمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
۶شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہےنگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے
۷سبزہ و گل کہاں سے آۓ ہیںابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے
۸ہم کو ان سے وفا کی ہے اُمّیدجو نہیں جانتے، وفا کیا ہے
۹ہاں بھلا کر، ترا بھلا ہوگااور درویش کی صدا کیا ہے
۱۰جان تم پر نثار کرتا ہوںمیں نہیں جانتا، دعا کیا ہے
۱۱میں نے مانا کہ کچھ نہیں، غالب!مفت ہاتھ آۓ، تو برا کیا ہے
۱۶۱کہتے تو ہو تم سب کہ "بتِ غالیہ مو آۓ"
۱کہتے تو ہو تم سب کہ "بتِ غالیہ مو آۓ"یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی، کہ "وہ آۓ"
۲ہوں کشمکشِ نزع میں، ہاں جاذبِ محبّت!کچھ کہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آۓ
۳ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالمآنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آۓ
۴ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرینہاں منہ سے، مگر بادۂ دوشینہ کی بو آۓ
۵جلّاد سے ڈرتے ہیں، نہ واعظ سے جھگڑتےہم سمجھے ہوۓ ہیں اسے، جس بھیس میں جو آۓ
۶ہاں! اہلِ طلب! کون سُنے طعنۂ نایافتدیکھا کہ وہ ملتا نہیں، اپنے ہی کو کھو آۓ
۷اپنا نہیں وہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیںاس در پہ نہیں بار، تو کعبے ہی کو ہو آۓ
۸کی ہمنفسوں نے اثرِ گریہ میں تقریراچّھے رہے، آپ اُس سے، مگر مجھ کو ڈبو آۓ
۹اس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے، غالب!ہم بھی گئے واں، اور تری تقدیر کو رو آۓ
۱۶۲پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
۱پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہےسینہ جوباۓ زخمِ کاری ہے
۲پھر جگر کھودنے لگا ناخنآمدِ فصلِ لالہ کاری ہے
۳قبلۂ مقصدِ نگاہِ نیازپھر وہی پردۂ عماری ہے
۴چشمِ دلّالِ جنسِ رسوائیدل خریدارِ ذوقِ خواری ہے
۵وہی صد رنگ نالہ فرسائیوہی صد گونہ اشکباری ہے
۶دل ہواۓ خرامِ ناز سے پھرمحشرستانِ بے قراری ہے
۷جلوہ پھر عرضِ ناز کرتا ہےروزِ بازارِ جاں سپاری ہے
۸پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیںپھر وہی زندگی ہماری ہے
۹پھر کھلا ہے درِ عدالتِ نازگرم بازارِ فوجداری ہے
۱۰ہو رہا ہے جہان میں اندھیرزلف کی پھر سررشتہ داری ہے
۱۱پھر دیا پارۂ جگر نے سوالایک فریاد و آہ و زاری ہے
۱۲پھر ہوۓ ہیں گواہِ عشق طلباشکباری کا حکم جاری ہے
۱۳دل و مژگاں کا جو مقدّمہ تھاآج پھر اُس کی روبکاری ہے
۱۴بے خودی بے سبب نہیں، غالب!کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے
۱۶۵نکوہش ہے سزا فریادیِ بیدادِ دلبر کی
۱نکوہش ہے سزا فریادیِ بیدادِ دلبر کیمبادا خندۂ دنداں نما ہو صبحِ محشر کی
۲رگِ لیلیٰ کو خاکِ دشتِ مجنوں ریشگی بخشےاگر بووے، بجاۓ دانہ، دہقاں نوکِ نشتر کی
۳پرِ پروانہ شاید بادبانِ کشتیِ مۓ تھاہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دورِ ساغر کی
۴کروں بیدادِ ذوقِ پرفشانی عرض، کیا قدرتکہ طاقت اڑ گئی، اڑنے سے پہلے، میرے شہپر کی
۵کہاں تک روؤں اُس کے خیمے کے پیچھے، قیامت ہے!مری قسمت میں، یا رب! کیا نہ تھی دیوارِ پتّھر کی؟
۱۶۶بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوۓ
۱بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوۓجتنے زیادہ ہو گئے، اتنے ہی کم ہوۓ
۲پنہاں تھا دام، سخت قریب آشیان کےاڑنے نہ پاۓ تھے کہ گرفتار ہم ہوۓ
۳ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہےیاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوۓ
۴سختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبر؟وہ لوگ، رفتہ رفتہ، سراپا الم ہوۓ
۵تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میںتیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوۓ
۶لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاںہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوۓ
۷اللہ رے! تیری تندیِ خو، جس کے بیم سےاجزاۓ نالہ دل میں مرے رزقِ ہم ہوۓ
۸اہلِ ہوس کی فتح ہے ترکِ نبردِ عشقجو پاؤں اٹھ گئے، وہی اُن کے علم ہوۓ
۹نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھےجو واں نہ کھپ سکے، سو وہ یاں آ کے دم ہوۓ
۱۰چھوڑی، اسد! نہ ہم نے گدائی میں دل لگیسائل ہوۓ تو عاشقِ اہلِ کرم ہوۓ
۱۶۸ظلمت کدے میں میرے، شبِ غم کا جوش ہے
۱ظلمت کدے میں میرے، شبِ غم کا جوش ہےاک شمع ہے، دلیلِ سحر، سو خموش ہے
۲نے مژدۂ وصال، نہ نظّارۂ جمالمدّت ہوئی کہ آشتیِ چشم و گوش ہے
۳مۓ نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاباے شوق! یاں اجازتِ تسلیمِ ہوش ہے
۴گوہر کو عقدِ گردنِ خوباں میں دیکھناکیا اوجِ پر ستارہ گوہر فروش ہے!
۵دیدارِ بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہِ مستبزمِ خیال، مۓ کدۂ بے خروش ہے
۶اے تازہ واردانِ بساطِ ہوا پرست!زنہار! اگر تمھیں ہوسِ نالہ و نوش ہے
۷دیکھو مجھے، جو دیدۂ عبرت نگاہ ہومیری سُنو، جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
۸ساقی بہ جلوہ، دشمنِ ایمان و آگہیمطرب بہ نغمہ، رہزنِ تمکین و ہوش ہے
۹یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساطدامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے
۱۰لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صداۓ چنگیہ جنبشِ نگاہ، وہ فردوسِ گوش ہے
۱۱یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میںنے وہ سرور و سوز، نہ جوش و خروش ہے
۱۲داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئیاک شمع رہ گئی ہے، سو وہ بھی خموش ہے
۱۳آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میںغالب! صریرِ خامہ نواۓ سروش ہے
۱۶۹آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
۱آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہےطاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے
۲دیتے ہیں جنّت حیاتِ دہر کے بدلےنشّہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
۳گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کوہاۓ! کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
۴ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطرخاک میں عشّاق کی غبار نہیں ہے
۵دل سے اٹھا لطفِ جلوہ ہاۓ معانیغیرِ گل، آئنۂ بہار نہیں ہے
۶قتل کا میرے کیا ہے عہد، تو بارے!واۓ! اگر عہد استوار نہیں ہے
۷تو نے قسم مۓ کشی کی کھائی ہے، غالب!تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
۱۷۲جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
۱جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےجاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوے
۲ساۓ کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبرتو اِس قدِ دلکش سے جو گلزار میں آوے
۳تب نازِ گراں مایگیِ اشک بجا ہےجب لختِ جگر دیدۂ خونبار میں آوے
۴دے مجھ کو شکایت کی اجازت، کہ ستمگر!کچھ تجھ کو مزہ بھی مرے آزار میں آوے
۵اُس چشمِ فسوں گر کا اگر پاۓ اشارہطوطی کی طرح آئنہ گفتار میں آوے
۶کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے، یا رب!اک آبلہ پا وادیِ پُر خار میں آوے
۷مر جاؤں نہ کیوں رشک سے، جب وہ تنِ نازکآغوشِ خمِ حلقۂ زنّار میں آوے
۸غارت گرِ ناموس نہ ہو، گر ہوسِ زرکیوں شاہدِ گل باغ سے بازار میں آوے
۹تب چاکِ گریباں کا مزہ ہے، دلِ نالاں!جب اک نفس اُلجھا ہوا ہر تار میں آوے
۱۰آتشکدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سےاے وے لے، اگر معرضِ اظہار میں آوے
۱۱گنجینۂ معنی کا طلسم اُس کو سمجھیےجو لفظ کہ، غالب! مرے اشعار میں آوے
۱۷۳حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
۱حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہےاُس سے میرا مہ خورشید جمال اچّھا ہے
۲بوسہ دیتے نہیں، اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ "مفت آۓ تو مال اچّھا ہے"
۳اور بازار سے لے آۓ، اگر ٹوٹ گیاساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے
۴بے طلب دیں تو مزہ اُس میں سوا ملتا ہےوہ گدا، جس کو نہ ہو خوۓ سوال، اچّھا ہے
۵ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے
۶دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے
۷ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیاجس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچّھا ہے
۸قطرہ دریا میں جو مل جاۓ تو دریا ہو جاۓکام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے
۹خضرِ سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبزشاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے
۱۰ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت، لیکندل کے خوش رکھنے کو، غالب! یہ خیال اچّھا ہے
۱۷۴عجب نشاط سے جلّاد کے چلے ہیں ہم آگے
۱عجب نشاط سے جلّاد کے چلے ہیں ہم آگےکہ اپنے ساۓ سے، سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
۲قضا نے تھا مجھے چاہا خرابِ بادۂ الفتفقط خراب لکھا، بس! نہ چل سکا قلم آگے
۳غمِ زمانہ نے جھاڑی نشاطِ عشق کی مستیوگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذّتِ الم آگے
۴خدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دیناکہ اُس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
۵یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نےتمھارے آئیو، اے طرّہ ہاۓ خم بہ خم! آگے
۶دل و جگر میں پرافشاں جو ایک موجۂ خوں ہےہم اپنے زعم میں سمجھے ہوۓ تھے اس کو دم آگے
۷قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں، غالب!ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم، آگے
۱۷۵شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
۱شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہےیہ بھی مت کہہ، کہ جو کہیے تو گلا ہوتا ہے
۲پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجااِک ذرا چھیڑیے، پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
۳گو سمجھتا نہیں، پر حسنِ تلافی دیکھوشکوۂ جور سے سرگرمِ جفا ہوتا ہے
۴عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چالسُست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
۵کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوکِ بیداد، کہ ہمآپ اُٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
۶خوب تھا، پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بدخواہکہ بھلا چاہتے ہیں، اور بُرا ہوتا ہے
۷نالہ جاتا تھا پرے عرش سے، میرا، اور ابلب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
قطعہ
۸بزمِ سخن ۔ اے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علمشاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
۹سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجےتیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
۱۰ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلالتو وہ شکر کا ترے، نعل بہا ہوتا ہے
۱۱میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میںیہ بھی تیرا ہی کرم، ذوقِ فزا ہوتا ہے
۱۲رکھیو، غالب! مجھے اس تلخ نوائی میں معافآج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
۱۷۶ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ "تو کیا ہے؟"
۱ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ "تو کیا ہے؟"تمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
۲نہ شعلے میں یہ کرشمہ، نہ برق میں یہ اداکوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے
۳یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سےوگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے
۴چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہمارے جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
۵جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگاکریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے
۶رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
۷وہ چیز، جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیزسواۓ بادۂ گلفامِ مشکبو کیا ہے
۸پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چاریہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
۹رہی نہ طاقتِ گفتار، اور اگر ہو بھیتو کس اُمّید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے؟
۱۰ہوا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اِتراتاوگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
۱۷۷میں اُنھیں چھیڑوں، اور کچھ نہ کہیں
۱میں اُنھیں چھیڑوں، اور کچھ نہ کہیںچل نکلتے جو مۓ پیے ہوتے
۲قہر ہو یا بلا ہو، جو کچھ ہوکاش کے تم مرے لیے ہوتے
۳میری قسمت میں غم گر اتنا تھادل بھی، یا رب! کئی دیے ہوتے
۴آ ہی جاتا وہ راہ پر، غالب!کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
۱۷۸غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
۱غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب، پیغام کے
۲خستگی کا تُم سے کیا شکوہ، کہ یہہتکھنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے
۳خط لکھیں گے، گرچہ مطلب کچھ نہ ہوہم تو عاشق ہیں تمھارے نام کے
۴رات پی زمزم پہ مۓ، اور صبح دمدھوۓ دھبّے جامۂ احرام کے
۵دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا، مگریہ بھی حلقے ہیں تمھارے دام کے
۶شاہ کے ہے غسلِ صحّت کی خبردیکھیے کب دن پھریں حمّام کے
۷عشق نے، غالب! نکمّا کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
۱۷۹پھر اس انداز سے بہار آئی
۱پھر اس انداز سے بہار آئیکہ ہوۓ مہر و مہ تماشائی
۲دیکھو اے ساکنانِ خطّۂ خاکاس کو کہتے ہیں عالم آرائی
۳کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سرروکشِ سطحِ چرخِ مینائی
۴سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملیبن گیا روۓ آب پر کائی
۵سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیےچشمِ نرگس کو دی ہے بینائی
۶ہے ہوا میں شراب کی تاثیربادہ نوشی ہے باد پیمائی
۷کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی، غالب!شاہِ دیندار نے شفا پائی
۱۸۰کب وہ سنتا ہے کہانی میری
۱کب وہ سنتا ہے کہانی میریاور پھر وہ بھی زبانی میری
۲خلشِ غمزۂ خونریز نہ پوچھدیکھ خوننابہ فشانی میری
۳کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یارمگر آشفتہ بیانی میری
۴ہوں ز خود رفتۂ بیدا اے خیال!بھول جانا ہے نشانی میری
۵متقابل ہے مقابل میرارک گیا دیکھ روانی میری
۶قدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوںسخت ارزاں ہے گرانی میری
۷گردِ بادِ رہِ بیتابی ہوںصرصرِ شوق ہے بانی میری
۸دہنِ اُس کا، جو نہ معلوم ہواکھل گئی ہیچ مدانی میری
۹کر دیا ضعف نے عاجز، غالب!ننگِ پیری ہے جوانی میری
۱۸۳جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
۱جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کیلکھ دیجیو، یا رب! اُسے قسمت میں عدو کی
۲اچّھا ہے، سرِ انگشتِ حنائی کا تصوّردل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
۳کیوں ڈرتے ہو عشّاق کی بے حوصلگی سے؟یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
۴دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کوخنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
۵صد حیف! وہ ناکام، کہ اک عمر سے، غالب!حسرت میں رہے ایک بتِ عربدہ جو کی
۱۸۶چاہیے اچّھوں کو، جتنا چاہیے
۱چاہیے اچّھوں کو، جتنا چاہیےیہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
۲صحبتِ رنداں سے واجب ہے حذرجاۓ مۓ، اپنے کو کھینچا چاہیے
۳چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل؟بارے، اب اس سے بھی سمجھا چاہیے!
۴چاک مت کر جیب، بے ایّامِ گلکچھ اُدھر کا بھی اشارا چاہیے
۵دوستی کا پردہ ہے بیگانگیمنہ چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
۶دشمنی نے میری، کھویا غیر کوکس قدر دشمن ہے، دیکھا چاہیے
۷اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعی؟یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے
۸منحصر مرنے پہ ہو جس کی اُمّیدنا اُمّیدی اُس کی دیکھا چاہیے
۹غافل! ان مہ طلعتوں کے واسطےچاہنے والا بھی اچّھا چاہیے
۱۰چاہتے ہیں خوبرویوں کو، اسد!آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
۱۸۷ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سے
۱ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سےمیری رفتار سے، بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
۲درسِ عنوانِ تماشا، بہ تغافل خوش ترہے نگہ رشتۂ شیرازۂ مژگاں مجھ سے
۳وحشتِ آتشِ دل سے، شبِ تنہائی میںصورتِ دود رہا سایہ گریزاں مجھ سے
۴غمِ عشّاق نہ ہو سادگی آموزِ بتاںکس قدر خانہ آئنہ ہے ویراں مجھ سے!
۵اثرِ آبلہ سے، جادۂ صحراۓ جنوںصورتِ رشتہ گوہر ہے چراغاں مجھ سے
۶بیخودی! بسترِ تمہیدِ فراغت ہو جوپُر ہے، ساۓ کی طرح، میرا شبستاں مجھ سے
۷شوقِ دیدار میں گر تُو مجھے گردن مارےہو نگہ مثلِ گلِ شمع، پریشاں مجھ سے
۸بیکسی ہاۓ شبِ ہجر کی وحشت، ہے ہے!سایہ خورشیدِ قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
۹گردشِ ساغرِ صد جلوۂ رنگیں تجھ سےآئنہ داری یک دیدۂ حیراں مجھ سے
۱۰نگہِ گرم سے اک آگ ٹپکتی ہے، اسد!ہے چراغاں خس و خاشاکِ گلستاں مجھ سے
۱۸۸نکتہ چیں ہے، غمِ دل، اُس کو سناۓ نہ بنے
۱نکتہ چیں ہے، غمِ دل، اُس کو سناۓ نہ بنےکیا بنے بات، جہاں بات بناۓ نہ بنے
۲میں بلاتا تو ہوں اُس کو، مگر، اے جذبہ دل!اُس پہ بن جاۓ کچھ ایسی، کہ بن آۓ نہ بنے
۳کھیل سمجھا ہے، کہیں چھوڑ نہ دے، بھول نہ جاۓکاش! یوں بھی ہو، کہ بن میرے، ستاۓ نہ بنے
۴غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو، کہ اگرکوئی پوچھے کہ "یہ کیا ہے؟" تو چھپاۓ نہ بنے
۵اس نزاکت کا بُرا ہو! وہ بھلے ہیں، تو کیاہاتھ آویں تو اُنھیں ہاتھ لگاۓ نہ بنے
۶کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے؟پردہ چھوڑا ہے وہ اُس نے، کہ اٹھاۓ نہ بنے
۷موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بن آۓ نہ رہےتم کو چاہوں؟ کہ نہ آؤ تو بلاۓ نہ بنے
۸بوجھ وہ سر سے گرا ہے، کہ اٹھاۓ نہ اٹھےکام وہ آن پڑا ہے، کہ بناۓ نہ بنے
۹عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش، غالب!کہ لگاۓ نہ لگے، اور بجھاۓ نہ بنے
۱۸۹چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عریانی کرے
۱چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عریانی کرےصبح کے مانند زخمِ دل، گریبانی کرے
۲جلوے کا تیرے، وہ عالم ہے، کہ گر کیجے خیالدیدۂ دل کو زیارت گاہِ حیرانی کرے
۳ہے شکستن سے بھی، دل نومید! یا رب کب تلک؟آئگینہ کوہ پر، عرضِ گرانجانی کرے
۴مۓ کدہ گر چشمِ مستِ ناز سے پاوے شکستمُوۓ شیشہ، دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے
۵خطِّ عارض سے لکھا ہے، زلف کو الفت نے عہدیک قلم منظور ہے، جو کچھ پریشانی کرے
۱۹۰وہ آ کے خواب میں تسکینِ اضطراب تو دے
۱وہ آ کے خواب میں تسکینِ اضطراب تو دےولے مجھے تپشِ دل، مجالِ خواب تو دے
۲کرے ہے قتل، لگاوٹ میں تیرا رو دیناتری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے
۳دکھا کے جنبشِ لب ہی تمام کر ہم کونہ دے جو بوسہ، تو منہ سے کہیں جواب تو دے
۴پلا دے اوک سے ساقی! جو ہم سے نفرت ہےپیالہ گر نہیں دیتا، نہ دے، شراب تو دے
۵اسد! خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئےکہا جو اُس نے: "ذرا میرے پاؤں داب تو دے"
۱۹۳فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
۱فریاد کی کوئی لے نہیں ہےنالہ پابندِ نے نہیں ہے
۲کیوں بوتے ہیں باغبان تو نےگر باغ، گدا ۓ نے نہیں ہے
۳ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہےپر تجھ سی تو کوئی شے نہیں ہے
۴ہاں! کھائیو مت فریبِ ہستیہر چند کہیں کہ "ہے"، نہیں ہے
۵شادی سے گزر، کہ غم نہ ہووےاُردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے
۶کیوں رد قدح کرے ہے زاہد؟مۓ ہے، یہ مگس کی قۓ نہیں ہے
۷ہستی ہے، نہ کچھ عدم ہے، غالب!آخر تو کیا ہے؟ "اۓ نہیں ہے!"
۱۹۶کرے ہے بادہ ترے لب سے کسبِ رنگِ فروغ
۱کرے ہے بادہ ترے لب سے کسبِ رنگِ فروغخطِ پیالہ، سراسر، نگاہِ گلچیں ہے
۲کبھی تو اس دلِ شوریدہ کی بھی داد ملےکہ ایک عمر سے حسرت پرستِ بالیں ہے
۳بجا ہے، گر نہ سُنے نالہ ہاۓ بلبلِ زارکہ گوشِ گل، نمِ شبنم سے، پنبہ آگیں ہے
۴اسد! ہے نزع میں، چل بے وفا! براۓ خدامقامِ ترکِ حجاب و وداعِ تمکیں ہے
۱۹۸دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے
۱دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیےہوا رقیب تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیے
۲یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آۓ بن نہ رہےقضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے، کیا کہیے
۳رہے ہے یوں گہ و بے گہ، کہ کوۓ دوست کو اباگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے، کیا کہیے؟
۴زِ ہے، کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے، ہم کو فریبکہ بن کہے ہی اُنھیں سب خبر ہے، کیا کہیے
۵سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسشِ حالکہ یہ کہے کہ سرِ رہگزر ہے، کیا کہیے
۶تمھیں نہیں ہے سرِ رشتۂ وفا کا خیالہمارے ہاتھ میں کچھ ہے، مگر ہے، کیا کہیے!
۷اُنھیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے، کیوں لڑیے؟ہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے، کیا کہیے!
۸حسد سے، اے! کمالِ سخن ہے، کیا کہیے!ستم بہاۓ متاعِ ہنر ہے، کیا کہیے!
۹کہا ہے کس نے کہ "غالب بُرا نہیں، لیکنسِوا ۓ اس کے کہ آشفتہ سر ہے"، کیا کہیے
۱۹۹دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
۱دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھےکر گئی وابستۂ تن، میری عریانی مجھے
۲بن گیا تیغِ نگاہِ یار کا سنگِ فساںمرحبا! کیا مبارک ہے، گرانجانی مجھے
۳کیوں نہ ہو بے التفاتی، اُس کی خاطر جمع ہےجانتا ہے، محوِ پرسش ہاۓ پنہانی مجھے
۴میرے غم خانے کی قسمت، جب رقم ہونے لگیلکھ دیا منجملۂ اسبابِ ویرانی مجھے
۵بدگماں ہوتا ہے وہ کافر، نہ ہوتا کاش کےاس قدر ذوقِ نۓ مرغِ بستانی مجھے
۶وعدہ آنے کا وفا کیجے، یہ کیا انداز ہے!تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
۷ہاں! نشاطِ آمدِ فصلِ بہاری، واہ واہ!پھر ہوا ہے تازہ سوداۓ غزل خوانی مجھے
۸دی مرے بھائی کو حق نے، از سرِ نو زندگیمیرزا یوسف ہے غالب، یوسفِ ثانی مجھے
۲۰۰یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ "یا رب!" مجھے
۱یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ "یا رب!" مجھےسبحۂ زاہد ہوا ہے خندہ زیرِ لب مجھے
۲ہے کشادِ خاطرِ وابستہ در زمِّ سخنتھا طلسم، قفلِ ابجد، خانۂ مکتب مجھے
۳یا رب! اس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے؟رشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
۴طبع ہے مشتاقِ لذّت ہاۓ حسرت، کیا کروں؟آرزو سے ہے شکستِ آرزو مطلب مجھے
۵دل لگا کر آپ بھی، غالب! مجھی سے ہو گئے؟عشق سے آتے تھے مانع میرزا صاحب مجھے!
۲۰۱حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
۱حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہےچمن میں خوشنوایانِ چمن کی آزمائش ہے
۲قد و گیسو میں قیس و کوہکن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
۳کریں گے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخرہنوز اُس خستہ کے نیروۓ تن کی آزمائش ہے
۴نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہواخواہیاُسے یوسف کی نۓ پیرہن کی آزمائش ہے
۵وہ آیا بزم میں، دیکھو، نہ کہیو پھر کہ "غافل تھے"شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے
۶رہے دل ہی میں تیر اچّھا، جگر کے پار ہو بہترغرض شستِ بتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے
۷نہیں کچھ سبحہ و زنّار کے پھندے میں گیرائیوفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
۸پڑا رہ، اے دلِ وابستہ! بیتابی سے کیا حاصل؟مگر پھر تابِ زلفِ پُر شکن کی آزمائش ہے؟
۹رگ و پے میں جب اُترے زہرِ غم، تب دیکھیے کیا ہوابھی تو تلخیِ کام و دہن کی آزمائش ہے
۱۰وہ آویں گے مرے گھر؛ وعدہ کیسا! دیکھنا، غالب!نۓ فتنوں میں اب اس چرخِ کہن کی آزمائش ہے
۲۰۲کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں گر آ جاۓ ہے مجھ سے
۱کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں گر آ جاۓ ہے مجھ سےجفائیں کر کے اپنی یاد شرما جاۓ ہے مجھ سے
۲خدایا! جذبہ دل کی مگر تاثیر اُلٹی ہےکہ جتنا کھینچتا ہوں، اور کھِچتا جاۓ ہے مجھ سے
۳وہ بدخو، اور میری داستانِ عشق طولانیعبارت مختصر، قاصد بھی گھبرا جاۓ ہے مجھ سے
۴اُدھر وہ بدگمانی ہے، اِدھر یہ ناتوانی ہےنہ پوچھا جاۓ ہے اُس سے، نہ بولا جاۓ ہے مجھ سے
۵سنبھلنے دے مجھے، اے نا اُمّیدی! کیا قیامت ہےکہ دامانِ خیالِ یار چھوٹا جاۓ ہے مجھ سے
۶تکلّف بر طرف، نظّارگی میں بھی سہی، لیکنوہ دیکھا جاۓ، کب یہ ظلم دیکھا جاۓ ہے مجھ سے
۷ہوۓ ہیں پاؤں ہی پہلے نبردِ عشق میں زخمینہ بھاگا جاۓ ہے مجھ سے، نہ ٹھہرا جاۓ ہے مجھ سے
۸قیامت ہے کہ ہووے مدّعی کا ہم سفر، غالب!وہ کافر، جو خدا کو بھی نہ سونپا جاۓ ہے مجھ سے
۲۰۳ز بسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے
۱ز بسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہےکشاد و بستِ مژہ سیلیِ ندامت ہے
۲نہ جانوں کیونکہ مٹے داغِ طعنِ بدعہدیتجھے کہ آئنہ بھی ورطۂ ملامت ہے
۳بہ پیچ و تابِ ہوس، سلکِ عافیت مت توڑنگاہِ عجز، سرِ رشتۂ سلامت ہے
۴وفا مقابل و دعواۓ عشق بے بنیادجنونِ ساختہ و فصلِ گل، قیامت ہے
۲۰۴لاغر اتنا ہوں کہ گر تُو بزم میں جا دے مجھے
۱لاغر اتنا ہوں کہ گر تُو بزم میں جا دے مجھےمیرا ذمّہ، دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
۲کیا تعجّب ہے کہ اُس کو دیکھ کر آ جاۓ رحمواں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے
۳منہ نہ دِکھلاوے، نہ دِکھلا، پر بہ اندازِ عتابکھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دِکھلا دے مجھے
۴یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میںزُلف گر بن جاؤں تو شانے میں اُلجھا دے مجھے
۲۰۵بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
۱بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
۲اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیکاک بات ہے اعجازِ مسیحا مرے آگے
۳جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظورجز وہم نہیں ہستیِ اشیا مرے آگے
۴ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتےگھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
۵مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھےتو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
۶سچ کہتے ہو، خود بین و خود آرا ہوں، نہ کیوں ہوںبیٹھا ہے بتِ آئنہ سیما مرے آگے
۷پھر دیکھیے اندازِ گل افشانیِ گفتاررکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
۸نفرت کا گماں گزرے ہے، میں رشک سے گزراکیونکر کہوں، لو نام نہ اُن کا مرے آگے
۹ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفرکعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے
۱۰عاشق ہوں، پہ معشوق فریبی ہے مرا کاممجنوں کو بُرا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
۱۱خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتےآئی شبِ ہجراں کی تمنّا مرے آگے
۱۲ہے موجزن اک قلزمِ خوں، کاش! یہی ہوآتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
۱۳گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہےرہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
۱۴ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میراغالب کو بُرا کیوں کہو، اچّھا! مرے آگے
۲۰۶کہوں جو حال تو کہتے ہو مدّعا کہیے
۱کہوں جو حال تو کہتے ہو مدّعا کہیےتمھیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟
۲نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ "ہم ستمگر ہیں"مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو، بجا کہیے
۳وہ نیشتر سہی، پر دل میں جب اُتر جاۓنگاہِ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
۴نہیں ذریعۂ راحت جراحتِ پیکاںوہ زخمِ تیغ ہے، جس کو کہ دلکشا کہیے
۵جو مدّعی بنے، اُس کے نہ مدّعی بنیےجو نا سزا کہے، اُس کو نہ ناسزا کہیے
۶کہیں حقیقتِ جاں کاہی مرض لکھیےکہیں مصیبتِ ناسازیِ دوا کہیے
۷کبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجےکبھی حکایتِ رنجِ صبر گریز پا کہیے
۸رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجےکٹے زبان، تو خنجر کو مرحبا کہیے
۹نہیں نگار کو اُلفت، نہ ہو، نگار تو ہے!روانیِ روِش و مستیِ ادا کہیے
۱۰نہیں بہار کو فرصت، نہ ہو، بہار تو ہے!طراوتِ چمن و خوبیِ ہوا کہیے
۱۱سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا، غالب!خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے!
۲۰۷رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
۱رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئےدھوۓ گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے
۲صرفِ بہاۓ مۓ ہوۓ آلاتِ مۓ کشیتھے یہ ہی دو حساب، سو یوں پاک ہو گئے
۳رُسواۓ دہر گو ہوۓ آوارگی سے تمبارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے
۴کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثر؟پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
۵پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہلِ شوق کاآپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
۶کرنے گئے تھے اُس سے تغافل کا ہم گلہکی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
۷اِس رنگ سے اُٹھائی کل اُس نے، اسد! کی نعشدشمن بھی جس کو دیکھ کے غمناک ہو گئے
۲۰۹عرضِ نازِ شوخیِ دنداں براۓ خندہ ہے
۱عرضِ نازِ شوخیِ دنداں براۓ خندہ ہےدعوی ۓ جمعیّتِ احباب جاۓ خندہ ہے
۲ہے عدم میں غنچہ محوِ عبرتِ انجامِ گلیک جہاں زانوۓ تامّل در قفاۓ خندہ ہے
۳کلفتِ افسُردگی کو عیش بیتابی حرامورنہ دنداں در دلِ افشُردہ بناۓ خندہ ہے
۴سوزشِ باطن کے ہیں احباب مُنکر، ورنہ یاںدل، محیطِ گریہ و لب، آشناۓ خندہ ہے
۲۱۱جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی
۱جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئیمشکل کہ تجھ سے راہِ سخن وا کرے کوئی
۲عالم غبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بہ سرکب تک خیالِ طرّۂ لیلیٰ کرے کوئی
۳افسردگی نہیں طرب انشاۓ التفاتہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
۴رونے سے، اے ندیم! ملامت نہ کر مجھےآخر کبھی تو عقدۂ دل وا کرے کوئی
۵چاکِ جگر سے جب رہ پُرسش نہ وا ہوئیکیا فائدہ کہ جیب کو رُسوا کرے کوئی
۶لخنتِ جگر سے ہے رگِ ہر خارِ شاخِ گلتا چند باغبانی صحرا کرے کوئی
۷ناکامیِ نگاہ ہے برقِ نظارہ سوزتو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
۸ہر سنگ و خشت ہے صدفِ گوہرِ شکستنقصان نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
۹سر بر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عمرفرصت کہاں کہ تیری تمنّا کرے کوئی
۱۰ہے وحشتِ طبیعتِ ایجاد یاس خیزیہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
۱۱بیکاریِ جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغلجب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
۱۲حُسنِ فروغِ شمعِ سخن دور ہے، اسد!پہلے دلِ گداختہ پیدا کرے کوئی
۲۱۲ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
۱ابنِ مریم ہوا کرے کوئیمیرے دُکھ کی دوا کرے کوئی
۲شرع و آئین پر مدار سہیاَیسے قاتل کا کیا کرے کوئی؟
۳چال جیسے کڑی کمان کا تیردل میں اَیسے کے جا کرے کوئی؟
۴بات پر واں زبان کٹتی ہےوہ کہیں اور سُنا کرے کوئی
۵بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھکچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
۶نہ سُنو، گر بُرا کہے کوئینہ کہو، گر بُرا کرے کوئی
۷روک لو، گر غلط چلے کوئیبخش دو، گر خطا کرے کوئی
۸کون ہے جو نہیں ہے حاجتمندکس کی حاجت رَوا کرے کوئی؟
۹کیا کیا خضر نے سکندر سےاب کسے رہنما کرے کوئی
۱۰جب توقّع ہی اُٹھ گئی غالب!کیوں کسی کا گِلا کرے کوئی
۲۱۴باغ پا کر خفقانی، یہ ڈراتا ہے مجھے
۱باغ پا کر خفقانی، یہ ڈراتا ہے مجھےسایۂ شاخِ گل، افعی نظر آتا ہے مجھے
۲جوہرِ تیغ بہ سرچشمۂ دیگر معلوم!ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اُگاتا ہے مجھے
۳مدّعا محوِ تماشاۓ شکستِ دل ہےآئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
۴نالہ سرمایہ یک عالم و عالم کفِ خاکآسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
۵زندگی میں تو وہ محفل سے اُٹھا دیتے تھےدیکھوں اب مر گئے پر کون اُٹھاتا ہے مجھے
۲۱۶ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
۱ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے
۲ڈرے کیوں میرا قاتل، کیا رہے گا اُس کی گردن پروہ خُوں، جو چشمِ تر سے عُمر بھر یوں دم بہ دم نکلے؟
۳نکلنا خُلد سے آدم کا سُنتے آۓ ہیں، لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
۴بھرم کھل جاۓ ظالم! تیرے قامت کی درازی کااگر اس طُرّہ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
۵ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامیپھر آیا وہ زمانہ، جو جہاں میں جامِ جم نکلے
۶ہوئی جن سے تَوقّع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستہ تیغِ ستم نکلے
۷محبّت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااُسی کو دیکھ کر جیتے ہیں، جس کافر پہ دم نکلے
۸کہاں مۓ خانے کا دروازہ غالب! اور کہاں واعظپر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
۲۲۳ہجُومِ نالہ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہے
۱ہجُومِ نالہ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہےخموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بدنداں ہے
۲تکلّف بر طرف، ہے جانستاں تر لطفِ بدخویاںنگاہِ بے حجابِ ناز، تیغِ تیز عریاں ہے
۳ہوئی یہ کثرتِ غم سے تلف کیفیّتِ شادیکہ صبحِ عید مجھ کو بدتر از چاکِ گریباں ہے
۴دل و دیں نقد لا، ساقی سے گر سَودا کیا چاہےکہ اِس بازار میں ساغر متاعِ دستگرداں ہے
۵غمِ آغوشِ بلا میں پَرورش دیتا ہے عاشق کوچراغِ روشن اپنا قُلزُم صَرصَر کا مَرجاں ہے
۲۲۴جس جا نسیم شانہ کشِ زُلفِ یار ہے
۱جس جا نسیم شانہ کشِ زُلفِ یار ہےنافہ دماغِ آہوۓ دشتِ تتار ہے
۲کس کا سُراغِ جلوہ ہے حیرت کو، اے خدا!آئنہ فرشِ شش جہتِ انتظار ہے
۳ہے ذرّہ ذرّہ تنگیِ جا سے غبارِ شوقگر دام یہ ہے، وسعتِ صحرا شکار ہے
۴دل مُدّعی و دیدہ بنا مُدّعیٰ علیہنظّارے کا مُقدّمہ پھر رُوبکار ہے
۵چھڑکے ہے شبنم آئنہ برگِ گل پہ آباے عندلیب! وقتِ وداعِ بہار ہے
۶پیچ آ پڑی ہے، وعدۂ دلدار کی مجھےوہ آۓ یا نہ آۓ، پہ یاں انتظار ہے
۷بے پردہ سوۓ وادیِ مجنوں گزر نہ کرہر ذرّے کے نقاب میں دل بے قرار ہے
۸اے عندلیب! یک کفِ خس بہرِ آشیاںطوفانِ آمدِ فصلِ بہار ہے
۹دل مت گنوا، خبر نہ سہی، سیر ہی سہیاے بے دماغِ آئنہ! تمثال دار ہے
۱۰غفلت کفیلِ عُمر و اسد ضامنِ نشاطاے مرگِ ناگہاں! تجھے کیا انتظار ہے
۲۲۵آئنہ کیوں نہ دُوں کہ تماشا کہیں جیسے
۱آئنہ کیوں نہ دُوں کہ تماشا کہیں جیسےاَیسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جیسے
۲حسرت نے لا رکھا تری بزمِ خیال میںگلدستۂ نگاہ، سُوَیدا کہیں جیسے
۳پھونکا ہے کس نے گوشِ محبّت میں، اے خدا!افسُونِ انتظارِ تمنّا کہیں جیسے
۴سر پہ ہجُوم دردِ غریبی سے ڈالیےوہ ایک مُشتِ خاک کہ صحرا کہیں جیسے
۵ہے چشمِ تر میں حسرتِ دیدار سے نہاںشوقِ عناں گُسیختہ، دریا کہیں جیسے
۶در کار ہے شگُفتنِ گلہاۓ عیش کوصبحِ بہار، پنبۂ مینا کہیں جیسے
۷غالب بُرا نہ مان جو واعظ بُرا کہےاَیسا بھی کوئی ہے کہ سب اچّھا کہیں جیسے؟
۲۲۶شبنم بہ گُلِ لالہ نہ خالی زِ ادا ہے
۱شبنم بہ گُلِ لالہ نہ خالی زِ ادا ہےداغِ دل بے درد، نظر گاہِ حیا ہے
۲دل خُوں شُدہ کشمکشِ حسرتِ دیدارآئنہ بہ دستِ بُتِ بدمست حنا ہے
۳شعلے سے نہ ہوتی، ہوسِ شُعلہ نے جو کیجی کس قدر افسُردگی دل پہ چبلا ہے
۴تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوقآئنہ بہ اندازِ گل آغوش کُشا ہے
۵قُمری کفِ خاکستر و بُلبل قفسِ رنگاے نالہ! نشانِ جگرِ سوختہ کیا ہے؟
۶خُو نے تری، افسُردہ کیا وحشتِ دل کومعشُوقی و بے حوصلگی طُرفہ بلا ہے
۷مجبُوری و دعواۓ گرفتاریِ اُلفتدستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے
۸معلُوم ہُوا حالِ شہیدانِ گُزشتہتیغِ ستم آئنۂ تصویر نُما ہے
۹اے پرتوِ خورشیدِ جہاں تاب! اِدھر بھیساۓ کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
۱۰ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے دادیا رب! اگر اِن کردہ گناہوں کی سزا ہے
۱۱بیگانگیِ خلق سے بیدل نہ ہو غالبکوئی نہیں تیرا، تو مری جان، خُدا ہے
۲۲۷منظُور تھی یہ شکلِ تجلّی کو نُور کی
۱منظُور تھی یہ شکلِ تجلّی کو نُور کیقسمت کھُلی ترے قد و رُخ سے ظہُور کی
۲اِک خُونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیںپڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حُور کی
۳واعظ! نہ تُم پیو نہ کسی کو پلا سکوکیا بات ہے تُمھاری شرابِ طہُور کی!
۴لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل، کہ کیوں اُٹھا؟گویا ابھی سُنی نہیں آواز صُور کی
۵آمدِ بہار کی ہے، جو بُلبل ہے نغمہ سنجاُڑتی سی اِک خبر ہے زبانی طیُور کی
۶گو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہُوۓ تو ہیںکعبے سے اِن بُتوں کو بھی نسبت ہے دُور کی
۷کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جوابآؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طُور کی
۸گرمی سہی کلام میں، لیکن نہ اِس قدرکی جس سے بات، اُس نے شکایت ضرُور کی
۹غالب! گر اِس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیںحج کا ثَواب نذر کروں گا حضُور کی
۲۲۸غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے
۱غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہےیہ رنج کہ کم ہے مۓ گُلفام، بہت ہے
۲کہتے ہُوۓ ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہہے یُوں کہ مجھے دُردِ تہِ جام بہت ہے
۳نے تیر کماں میں ہے، نہ صیّاد کمیں میںگوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
۴کیا زُہد کو مانُوں کہ نہ ہو گرچہ ریائیپاداشِ عمل کی طمعِ خام بہت ہے
۵ہیں اہلِ خرد کس روِشِ خاص پہ نازاں؟پابستگیِ رسم و رہِ عام بہت ہے
۶زمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حرم سے؟آلُودہ بہ مۓ جامۂ احرام بہت ہے
۷ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ اُن کواِنکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہے
۸خُوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں، اے مرگ!رہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہے
۹ہوگا کوئی اَیسا بھی کہ غالب کو نہ جانے؟شاعِر تو وہ اچّھا ہے، پہ بدنام بہت ہے
۲۲۹مُدّت ہُوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوۓ
۱مُدّت ہُوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوۓجوشِ قدح سے بزمِ چراغاں کیے ہوۓ
۲کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کوعرصہ ہُوا ہے دعوتِ مژگاں کیے ہوۓ
۳پھر وضعِ احتیاط سے رُکنے لگا ہے دمبرسوں ہُوۓ ہیں چاکِ گریباں کیے ہوۓ
۴پھر گرم نالہ ہاۓ شرر بار ہے نفسمُدّت ہُوئی ہے سیرِ چراغاں کیے ہوۓ
۵پھر پُرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشقسامانِ صد ہزار نمکداں کیے ہوۓ
۶پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خُونِ دلسازِ چمن طرازیِ داماں کیے ہوۓ
۷باہمدگر ہوۓ ہیں دل و دیدہ پھر رقیبنظّارہ و خیال کا ساماں کیے ہوۓ
۸دل پھر طوافِ کوۓ ملامت کو جاۓ ہےپندار کا صنمکدہ ویراں کیے ہوۓ
۹پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلبعرضِ متاعِ عقل و دل و جاں کیے ہوۓ
۱۰دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیالصد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوۓ
۱۱پھر چاہتا ہوں نامۂ دلدار کھولناجاں نذرِ دلفریبیِ عنواں کیے ہوۓ
۱۲مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوسزُلفِ سیاہ رُخ پہ پریشاں کیے ہوۓ
۱۳چاہے ہے پھر کسی کو مُقابل میں آرزوسُرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوۓ
۱۴اِک نوبہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہچہرہ فرُوغِ مۓ سے گُلستاں کیے ہوۓ
۱۵پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیںسر زیرِ بارِ منّتِ درباں کیے ہوۓ
۱۶جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ رات دنبیٹھے رہیں تصوّرِ جاناں کیے ہوۓ
۱۷غالب! ہمیں نہ چھیڑ، کہ پھر جوشِ اشک سےبیٹھے ہیں ہم تہیّۂ طوفاں کیے ہوۓ
۲۳۰نویدِ امن ہے بیدادِ دوستِ جاں کے لیے
۱نویدِ امن ہے بیدادِ دوستِ جاں کے لیےرہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لیے
۲بلا سے! اگر مژۂ یار تشنۂ خُوں ہےرکھوں کچھ اپنی بھی مژگانِ خُوں فشاں کے لیے
۳وہ زندہ ہم ہیں، کہ ہیں رُوشناسِ خَلق، اے خضر!نہ تُم، کہ چور بنے عُمرِ جاوداں کے لیے
۴رہا بلا میں بھی، مَیں مُبتلاۓ آفتِ رشکبلاۓ جاں ہے، ادا تیری، اِک جہاں کے لیے
۵فلک نہ دُور رکھ اُس سے مجھے، کہ مَیں ہی نہیںدراز دستیِ قاتل کے اِمتحاں کے لیے
۶مثال یہ مری کوششِ کی ہے، کہ مُرغِ اسیرکرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
۷گدا سمجھ کے وہ چُپ تھا، مری جو شامت آۓاُٹھا، اور اُٹھ کے قدم مَیں نے پاسباں کے لیے!
قطعہ
۸بہ قدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگناۓ غزلکچھ اور چاہیے وُسعت مِرے بیاں کے لیے
۹دیا ہے خَلق کو بھی، تا اُسے نظر نہ لگےبنا ہے عیشِ تجمُّلِ حُسین خاں کے لیے
۱۰زباں پہ بارِ خُدایا! یہ کس کا نام آیاکہ میرے نُطق نے بوسے مِری زباں کے لیے
۱۱نصیرِ دولت و دیں اور مُعینِ مِلّت و مُلکبنا ہے چرخِ بریں جس کے آستاں کے لیے
۱۲زمانہ عہد میں اُس کے ہے محوِ آرائشبنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
۱۳ورق تمام ہُوَا اور مَدح باقی ہےسَفینہ چاہیے اِس بحرِ بے کراں کے لیے
۱۴اداۓ خاص سے غالب ہُوَا ہے نکتہ سراصلاۓ عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے