السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مرزا اسد اللہ خان غالب · ۱۷۹۷–۱۸۶۹ء

دیوانِ غالب

اردو غزلیں

تصحیح و ترتیب: حامد علی خان · لاہور، ۱۹۶۹ء

۲۳۰ غزلیں ۱۴۳۰ اشعار نسخۂ حامد علی خان

مرزا اسد اللہ خان غالب کی اردو غزلیں، حامد علی خان کے دیوان (پنجاب یونیورسٹی پریس، لاہور، ۱۹۶۹ء) کی ترتیب میں۔ ہر غزل اپنے پہلے مصرع سے کھلتی ہے۔ تلاش میں کوئی لفظ یا مصرع لکھیں، یا نیچے حرف پر کلک کر کے اس حصے پر جائیں۔

۱نقشِ فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا؟۲جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغِ جگر ہدیہ۳کہتے ہو نہ دیں گے ہم، دل اگر پڑا پایا۴جز قیس اور کوئی نہ آیا بہ روۓ کار۵دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا۶شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا۷دھمکی میں مر گیا جو، نہ بابِ نبرد تھا۸شمارِ سبحہ، مرغوبِ بتِ مشکل پسند آیا۹دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلّی نہ ہوا۱۰ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغِ رضواں کا۱۱محرم نہیں ہے تو ہی نواہاۓ راز کا۱۲بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا۱۳شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا۱۴ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب۱۵بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا۱۶شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا۱۷دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا۱۸یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا۱۹ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا۲۰درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا۲۱اسد! ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں۲۲پۓ نذرِ کرم تحفہ ہے شرمِ نارسائی کا۲۳گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جاۓ گا۲۴دردِ منّت کشِ دوا نہ ہوا۲۵گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیِ جا کا۲۶قطرہ مۓ بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا۲۷جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا۲۸میں اور بزمِ مۓ سے یوں تشنہ کام آؤں۲۹نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا۳۰سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی۳۱یک ذرّہ زمیں نہیں بیکار باغ کا۳۲وہ مری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا۳۳پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا۳۴ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۳۵لبِ خشک در تشنگیِ مردگاں کا۳۶گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا۳۷تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا۳۸شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا۳۹آئنہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے۴۰عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا۴۱رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص، حیف!۴۲ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا۴۳سرمۂ مفتِ نظر ہوں، مری قیمت یہ ہے۴۴غافل! بہ وہمِ ناز خود آرا ہے، ورنہ یاں۴۵جور سے باز آۓ، پر باز آئیں کیا؟۴۶لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی۴۷عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا۴۸پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موجِ شراب۴۹رہا گر کوئی تا قیامت سلامت۵۰مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں، غالب!۵۱آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست۵۲گلشن میں بند و بست بہ رنگِ دگر ہے آج۵۳لو ہم مریضِ عشق کے بیمار دار ہیں۵۴نفس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ۵۵حسنِ غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد۵۶بلا سے، ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار۵۷گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر۵۸کیوں جل گیا نہ تابِ رخِ یار دیکھ کر۵۹لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر۶۰ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور۶۱صفاۓ حیرتِ آئنہ ہے سامانِ زنگ آخر۶۲جنوں کی دستگیری کس سے ہو، گر ہو نہ عریانی۶۳ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں۶۴لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور۶۵فارغ مجھے نہ جان، کہ مانندِ صبح و مہر۶۶حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز۶۷وسعتِ سعیِ کرم دیکھ، کہ سر تا سرِ خاک۶۸کیوں کر اس بت سے رکھوں جانِ عزیز؟۶۹نہ گل نغمہ ہوں، نہ پردہ ساز۷۰مژدہ، اے ذوقِ اسیری! کہ نظر آتا ہے۷۱نہ لیوے گر خسِ جوہر طراوت سبزۂ خط سے۷۲جادۂ رہِ خور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاع۷۳رخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمع۷۴بیم رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوش۷۵افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے۷۶زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک۷۷آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک۷۸گر تجھ کو ہے یقینِ اجابت، دعا نہ مانگ۷۹دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا۸۰ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفاۓ گل۸۱غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس۸۲بہ نالہ حاصلِ دلبستگی فراہم کر۸۳مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور۸۴لوں وامِ بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش، ولے۸۵وہ فراق اور وہ وصال کہاں۸۶کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں۸۷آبرو کیا خاک اس گل کی، کہ گلشن میں نہیں۸۸عہدے سے مدحِ ناز کے، باہر نہ آ سکا۸۹مہرباں ہو کے بلا لو مجھے، چاہو جس وقت۹۰ہم سے کھل جاؤ بہ وقتِ مۓ پرستی ایک دن۹۱ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں۹۲مانعِ دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں۹۳مت مردمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں۹۴برشکالِ گریۂ عاشق ہے، دیکھا چاہیے۹۵عشق تاثیر سے نومید نہیں۹۶جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں۹۷ملتی ہے خوۓ یار سے نار التہاب میں۹۸کل کے لیے کر آج نہ خِسّت شراب میں۹۹حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں۱۰۰ذکرِ میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں۱۰۱نالہ، جز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد! نہیں۱۰۲دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا۱۰۳ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر۱۰۴قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آنا۱۰۵زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسد!۱۰۶یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں۱۰۷نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں۱۰۸تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں۱۰۹دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں۱۱۰سب کہاں، کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں۱۱۱دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں۱۱۲نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے درخور مرے تن میں۱۱۳مرے جہاں سکے، اپنی نظر میں خاک نہیں۱۱۴دل ہی تو ہے، نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آۓ کیوں۱۱۵غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یوں۱۱۶حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرم تماشا ہو۱۱۷کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں۱۱۸وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو۱۱۹قفس میں ہوں، گر اچّھا بھی نہ جانیں، میرے شیون کو۱۲۰دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں۱۲۱واں اس کو ہولِ دل ہے، تو یاں میں ہوں شرمسار۱۲۲واں پہنچ کر جو غش آتا پے بہ پے، ہے ہم کو۱۲۳تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو۱۲۴گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو۱۲۵کسی کو دے کے دل کوئی، نواسنجِ فغاں کیوں ہو۱۲۶رہیے اب ایسی جگہ چل کر، جہاں کوئی نہ ہو۱۲۷از مہر تا بہ ذرّہ، دل و دل ہے آئنہ۱۲۸ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غمکدہ۱۲۹گھر میں تھا کیا، کہ ترا غم اسے غارت کرتا۱۳۰مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے۱۳۱بساطِ عجز میں تھا ایک دل، یک قطرہ خوں، وہ بھی۱۳۲ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے۱۳۳تا، ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا۱۳۴غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی۱۳۵کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے۱۳۶درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری، بلے بلے!۱۳۷سرگشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے۱۳۸گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہے۱۳۹حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ، اے آرزوۓ خام!۱۴۰تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو۱۴۱پالکی میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے۱۴۲ایک جا حرفِ وفا لکھا تھا، سو بھی مٹ گیا۱۴۳مری ہستی فضاۓ حیرت آبادِ تمنّا ہے۱۴۴رحم کر ظالم! کہ کیا بودِ چراغ کشتہ ہے۱۴۵چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے۱۴۶عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی۱۴۷ہے آرمیدگی میں نکوہشِ بجا مجھے۱۴۸زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری، غالب!۱۴۹اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے۱۵۰رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے۱۵۱دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جاۓ ہے۱۵۲گرمِ فریاد رکھا، شکلِ نہالی نے مجھے۱۵۳کارگاہِ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے۱۵۴اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ، غالب!۱۵۵سادگی پہ اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے۱۵۶دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی۱۵۷تسکیں کو ہم نہ روئیں، جو ذوقِ نظر ملے۱۵۸کوئی دن گر زندگانی اور ہے۱۵۹کوئی امید بر نہیں آتی۱۶۰دل نادان تجھے ہوا کیا ہے۱۶۱کہتے تو ہو تم سب کہ "بتِ غالیہ مو آۓ"۱۶۲پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے۱۶۳جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو، گر شادمانی کی۱۶۴خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے۱۶۵نکوہش ہے سزا فریادیِ بیدادِ دلبر کی۱۶۶بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوۓ۱۶۷جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی۱۶۸ظلمت کدے میں میرے، شبِ غم کا جوش ہے۱۶۹آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے۱۷۰ہجومِ غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے۱۷۱پا بہ دامن ہو رہا ہوں، بسکہ میں صحرا نورد۱۷۲جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے۱۷۳حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے۱۷۴عجب نشاط سے جلّاد کے چلے ہیں ہم آگے۱۷۵شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے۱۷۶ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ "تو کیا ہے؟"۱۷۷میں اُنھیں چھیڑوں، اور کچھ نہ کہیں۱۷۸غیر لیں محفل میں بوسے جام کے۱۷۹پھر اس انداز سے بہار آئی۱۸۰کب وہ سنتا ہے کہانی میری۱۸۱نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیب۱۸۲تغافُل دوست ہوں، میرا دماغِ عجز عالی ہے۱۸۳جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی۱۸۴سیماب پشت گرمیِ آئنہ دے ہے، ہم۱۸۵ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میں۱۸۶چاہیے اچّھوں کو، جتنا چاہیے۱۸۷ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سے۱۸۸نکتہ چیں ہے، غمِ دل، اُس کو سناۓ نہ بنے۱۸۹چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عریانی کرے۱۹۰وہ آ کے خواب میں تسکینِ اضطراب تو دے۱۹۱خطرہ ہے رشتۂ الفت، رگِ گردن نہ ہو جاۓ۱۹۲گلشن کو تری صحبت، از بسکہ خوش آئی ہے۱۹۳فریاد کی کوئی لے نہیں ہے۱۹۴نہ پوچھ نسخۂ مرہمِ جراحتِ دل کا۱۹۵ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے۱۹۶کرے ہے بادہ ترے لب سے کسبِ رنگِ فروغ۱۹۷کیوں نہ ہو چشمِ بتاں، محوِ تغافل، کیوں نہ ہو۱۹۸دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے۱۹۹دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے۲۰۰یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ "یا رب!" مجھے۲۰۱حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے۲۰۲کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں گر آ جاۓ ہے مجھ سے۲۰۳ز بسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے۲۰۴لاغر اتنا ہوں کہ گر تُو بزم میں جا دے مجھے۲۰۵بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے۲۰۶کہوں جو حال تو کہتے ہو مدّعا کہیے۲۰۷رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے۲۰۸نشہ ہا شاداب، رنگ و سازِ ہا مستِ طرب۲۰۹عرضِ نازِ شوخیِ دنداں براۓ خندہ ہے۲۱۰حُسن بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے۲۱۱جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی۲۱۲ابنِ مریم ہوا کرے کوئی۲۱۳بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟۲۱۴باغ پا کر خفقانی، یہ ڈراتا ہے مجھے۲۱۵رَوندی ہوئی ہے، گو کہ گزرگہِ شہریار کی۲۱۶ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۲۱۷کوہ کے ہوں بارِ خاطر، گر صدا ہو جائیے۲۱۸مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی، ہلاک ہے۲۱۹لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی۲۲۰آمدِ سیلابِ طوفانِ صداۓ آب ہے۲۲۱ہوں میں بھی تماشائیِ نیرنگِ تمنّا۲۲۲سیاہی جیسے گر جاوے دمِ تحریر کاغذ پر۲۲۳ہجُومِ نالہ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہے۲۲۴جس جا نسیم شانہ کشِ زُلفِ یار ہے۲۲۵آئنہ کیوں نہ دُوں کہ تماشا کہیں جیسے۲۲۶شبنم بہ گُلِ لالہ نہ خالی زِ ادا ہے۲۲۷منظُور تھی یہ شکلِ تجلّی کو نُور کی۲۲۸غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے۲۲۹مُدّت ہُوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوۓ۲۳۰نویدِ امن ہے بیدادِ دوستِ جاں کے لیے

اس لفظ سے کوئی غزل نہیں ملی۔

حرف ا

۱

نقشِ فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا؟

۱

نقشِ فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا؟کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

۲

کاوکاوِ سخت جانی ہاۓ تنہائی، نہ پوچھصبح کرنا شام کا، لانا ہے جوۓ شیر کا

۳

جذبۂ بےاختیارِ شوق دیکھا چاہیےسینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

۴

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھاۓمدّعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا

۵

بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرِ پاموۓ آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

۲

جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغِ جگر ہدیہ

۱

جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغِ جگر ہدیہمبارک باد اسد، غمخوارِ جانِ دردمند آیا

۳

کہتے ہو نہ دیں گے ہم، دل اگر پڑا پایا

۱

کہتے ہو نہ دیں گے ہم، دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے، ہم نے مدّعا پایا

۲

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادردِ کی دوا پائی، دردِ بے دوا پایا

۳

دوستدارِ دشمن ہے، اعتمادِ دل معلومآہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا

۴

سادگی و پرکاری، بےخودی و ہشیاریحسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

۵

غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دلخوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا

۶

حالِ دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنیہم نے بارہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا

۷

شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکاآپ سے کوئی پوچھے، تم نے کیا مزا پایا؟

۴

جز قیس اور کوئی نہ آیا بہ روۓ کار

۱

جز قیس اور کوئی نہ آیا بہ روۓ کارصحرا مگر بہ تنگیِ چشمِ حسود تھا

۲

آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درستظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا

۳

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہجب آنکھ کھل گئی، نہ زیاں تھا نہ سود تھا

۴

لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوزلیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

۵

ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگیمیں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا

۶

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن، اسد!سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

۵

دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا

۱

دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیاآتشِ خاموش کے مانند گویا جل گیا

۲

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیںآگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

۳

میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہامیری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا

۴

عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

۵

دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہاراس چراغاں کا کروں کیا، کارفرما جل گیا

۶

میں ہوں اور افسردگی کی آرزو، غالب! کہ دلدیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا

۶

شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا

۱

شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلاقیسِ تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

۲

زخم نے داد نہ دی تنگیِ دل کی یا رب!تیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا

۳

بوۓ گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفلجو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

۴

دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذّتِ دردکام یاروں کا بہ قدرِ لب و دنداں نکلا

۵

اے نو آموزِ فنا ہمّتِ دشوار پسند!سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا

۶

دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالب!آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا

۷

دھمکی میں مر گیا جو، نہ بابِ نبرد تھا

۱

دھمکی میں مر گیا جو، نہ بابِ نبرد تھاعشق نبرد پیشہ، طلبگارِ مرد تھا

۲

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوااڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا

۳

تالیفِ نسخہ ہاۓ وفا کر رہا تھا میںمجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا

۴

دل تا جگر کہ ساحلِ دریاۓ خوں ہے اباس رہگزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا

۵

جاتی ہے کوئی کشمکشِ اندوہِ عشق کی؟دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا

۶

احباب چارہ سازیِ وحشت نہ کر سکےزنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا

۷

یہ لاشِ بے کفن اسدِ خستہ جاں کی ہےحق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا

۸

شمارِ سبحہ، مرغوبِ بتِ مشکل پسند آیا

۱

شمارِ سبحہ، مرغوبِ بتِ مشکل پسند آیاتماشاۓ بہ یک کف بردنِ صد دل، پسند آیا

۲

بہ فیضِ بیدلی نومیدیِ جاوید آساں ہےکشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل، پسند آیا

۳

ہواۓ سیرِ گل آئینۂ بے مہریِ قاتلکہ اندازِ بہ خوں غلتیدنِ بسمل پسند آیا

۹

دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلّی نہ ہوا

۱

دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلّی نہ ہواہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا

۲

سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبایہ زمرّد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا

۳

میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوںوہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

۴

دل گزرگاہِ خیالِ مے و ساغر ہی سہیگر نفس جادہ سنجِ منزلِ تقوی نہ ہوا

۵

ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی، کہ کبھیگوش منّت کشِ گلبانگِ تسلّی نہ ہوا

۶

کس سے محرومیِ قسمت کی شکایت کیجےہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں، سو وہ بھی نہ ہوا

۷

مر گیا صدمۂ یک جنبشِ لب سے غالب!ناتوانی سے حریفِ دمِ عیسی نہ ہوا

۱۰

ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغِ رضواں کا

۱

ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغِ رضواں کاوہ اک گلدستہ ہے ہم بےخودوں کے طاقِ نسیاں کا

۲

بیاں کیا کیجیے بیدادِ کاوشہاۓ مژگاں کاکہ ہر اک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا

۳

نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع میرے نالوں کولیا دانتوں میں جو تنکا، ہوا ریشہ نیستاں کا

۴

دکھاؤں گا تماشا، دی اگر فرصت زمانے نےمرا ہر داغِ دل اک تخم ہے سروِ چراغاں کا

۵

کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نےکرے جو پرتوِ خورشید، عالم شبنمستاں کا

۶

مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کیہیولی برقِ خرمن کا ہے خونِ گرم دہقاں کا

۷

اگا ہے گھر میں ہر سو سبزہ، ویرانی تماشا کر!مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا

۸

خموشی میں نہاں خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیںچراغِ مردہ ہوں میں بے زباں، گورِ غریباں کا

۹

ہنوز اک پرتوِ نقشِ خیالِ یار باقی ہےدلِ افسردہ گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا

۱۰

بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہسبب کیا خواب میں آ کر تبسّم ہاۓ پنہاں کا؟

۱۱

نہیں معلوم کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگاقیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا

۱۲

نظر میں ہے ہماری جادۂ راہِ فنا، غالب!کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزاۓ پریشاں کا

۱۱

محرم نہیں ہے تو ہی نواہاۓ راز کا

۱

محرم نہیں ہے تو ہی نواہاۓ راز کایاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا

۲

رنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہےیہ وقت ہے شگفتنِ گلہاۓ ناز کا

۳

تو اور سوۓ غیر نظر ہاۓ تیز تیزمیں اور دکھ تری مژہ ہاۓ دراز کا

۴

صرفہ ہے ضبطِ آہ میں میرا، وگرنہ میںطعمہ ہوں ایک ہی نفسِ جاں گداز کا

۵

میں، بسکہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہےہر گوشۂ بساط ہے سرِ شیشہ باز کا

۶

کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوزناخن پہ قرض اس گرہِ نیم باز کا

۷

تاراجِ کاوشِ غمِ ہجراں ہوا، اسد!سینہ، کہ تھا دفینہ گہرہاۓ راز کا

۱۲

بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا

۱

بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلارکھیو یا رب! یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا

۲

شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلااس تکلّف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا

۳

گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریبآستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا

۴

گو نہ سمجھوں اس کی باتیں، گو نہ پاؤں اس کا بھیدپر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا

۵

ہے خیالِ حسن میں حسنِ عمل کا سا خیالخلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا

۶

منہ نہ کھلنے پر وہ عالم ہے کہ دیکھا ہی نہیںزلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا

۷

در پہ رہنے کو کہا، اور کہہ کے کیسا پھر گیاجتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا

۸

کیوں اندھیری ہے شبِ غم؟ ہے بلاؤں کا نزولآج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا

۹

کیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حالنامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا

۱۰

اس کی امّت میں ہوں میں، میرے رہیں کیوں کام بندواسطے جس شہ کے، غالب! گنبدِ بے در کھلا

۱۳

شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا

۱

شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھاشعلۂ جوّالہ ہر اک حلقۂ گِرداب تھا

۲

واں کرم کو عذرِ بارش تھا عناں گیرِ خرامگریے سے یاں پنبۂ بالش کفِ سیلاب تھا

۳

واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیالیاں ہجومِ اشک میں تارِ نگہ نایاب تھا

۴

جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جویاں رواں مژگانِ چشمِ تر سے خونِ ناب تھا

۵

یاں سرِ پُرشور بیخوابی سے تھا دیوار جوواں وہ فرقِ ناز محوِ بالشِ کمخواب تھا

۶

یاں نفس کرتا تھا روشن، شمعِ بزمِ بیخودیجلوۂ گل واں بساطِ صحبتِ احباب تھا

۷

فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موجِ رنگ کایاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا

۱۴

ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب

۱

ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حسابخونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا

۲

اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزوتوڑا جو تو نے آئنہ، تمثال دار تھا

۳

گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میںجاں دادۂ ہواۓ سرِ رہگزار تھا

۴

موجِ سراب دشتِ وفا کا نہ پوچھ حالہر ذرّہ، مثلِ جوہرِ تیغ، آب دار تھا

۵

کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر ابدیکھا تو کم ہوۓ پہ غمِ روزگار تھا

۱۵

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

۱

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا

۲

گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کیدر و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

۳

وائے دیوانگیِ شوق کہ ہر دم مجھ کوآپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا

۴

جلوہ، از بسکہ تقاضاۓ نگہ کرتا ہےجوہرِ آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا

۵

عشرتِ قتل گہِ اہلِ تمنّا مت پوچھعیدِ نظّارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

۶

لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنّاۓ نشاطتو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا

۷

عشرتِ پارۂ دل، زخمِ تمنّا کھانالذّتِ ریشِ جگر، غرقِ نمکداں ہونا

۸

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہہاۓ اس زودپشیماں کا پشیماں ہونا

۹

حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت، غالب!جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

۱۶

شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا

۱

شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھاتا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا

۲

یک قدم وحشت سے درسِ دفترِ امکاں کھلاجادہ، اجزاۓ دو عالم دشت کا شیرازہ تھا

۳

مانعِ وحشت خرامیہاۓ لیلیٰ کون ہے؟خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا

۴

پوچھ مت رسوائیِ اندازِ استغناۓ حسندست مرہونِ حنا، رخسار رہنِ غازہ تھا

۵

نالۂ دل نے دیے اوراقِ لختِ دل بہ بادیادگارِ نالہ اک دیوانِ بے شیرازہ تھا

۱۷

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

۱

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیازخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا

۲

بے نیازی حد سے گزری، بندہ پرور! کب تلکہم کہیں گے حالِ دل اور آپ فرمائیں گے کیا

۳

حضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہکوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا

۴

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوۓ جاتا ہوں میںعذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا

۵

گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچّھا، یوں سہییہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا

۶

خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوںہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبرائیں گے کیا

۷

ہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت، اسد!ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں، کھائیں گے کیا؟

۱۸

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

۱

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا

۲

ترے وعدے پر جیے ہم، تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

۳

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بوداکبھی تو نہ توڑ سکتا، اگر استوار ہوتا

۴

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کوکہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

۵

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصحکوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غمگسار ہوتا

۶

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا

۷

غمِ اگرچہ جاں گسل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہےغمِ عشق اگر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا

۸

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟ شبِ غم بری بلا ہےمجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

۹

ہوۓ مر کے ہم جو رسوا، ہوۓ کیوں نہ غرقِ دریانہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا

۱۰

اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتاجو دوئی کی بو بھی ہوتی، تو کہیں دو چار ہوتا

۱۱

یہ مسائلِ تصوّف، یہ ترا بیان، غالب!تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا

۱۹

ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا

۱

ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیانہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

۲

تجاہل پیشگی سے مدّعا کیاکہاں تک اے سراپا ناز! کیا کیا؟

۳

نوازش ہاۓ بے جا دیکھتا ہوںشکایت ہاۓ رنگیں کا گلا کیا

۴

نگاہِ بے محابا چاہتا ہوںتغافل ہاۓ تمکیں آزما کیا

۵

فروغِ شعلۂ خس یک نفس ہےہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا

۶

نفس موجِ محیطِ بیخودی ہےتغافل ہاۓ ساقی کا گلا کیا

۷

دماغِ عطرِ پیراہن نہیں ہےغمِ آوارگیہاۓ صبا کیا

۸

دلِ ہر قطرہ ہے سازِ "انا البحر"ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا

۹

محابا کیا ہے، میں ضامن، ادھر دیکھشہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا

۱۰

سن اے غارتگرِ جنسِ وفا، سنشکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا

۱۱

کیا کس نے جگر داری کا دعویٰ؟شکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا

۱۲

یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟یہ کافر فتنۂ طاقت رُبا کیا؟

۱۳

بلاۓ جاں ہے، غالب! اس کی ہر باتعبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!

۲۰

درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا

۱

درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہواپھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا

۲

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں، کہ ہماُلٹے پھر آۓ درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا

۳

سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کاروبرو کوئی بتِ آئنہ سیما نہ ہوا

۴

کم نہیں نازشِ ہمنامیِ چشمِ خوباںتیرا بیمار، برا کیا ہے، گر اچّھا نہ ہوا

۵

سینے کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیاخاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا

۶

نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملاکام میں میرے ہے جو فرصت نہ کہ بر پا نہ ہوا

۷

ہر بنِ مو سے دمِ ذکر نہ ٹپکے خوں نابحمزہ کا قصّہ ہوا، عشق کا چرچا نہ ہوا

۸

قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کلکھیل لڑکوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا

۹

تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزےدیکھنے ہم بھی گئے تھے، پہ تماشا نہ ہوا

۲۱

اسد! ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں

۱

اسد! ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیںکہ ہے سرِ پنجۂ مژگانِ آہو پشتِ خار اپنا

۲۲

پۓ نذرِ کرم تحفہ ہے شرمِ نارسائی کا

۱

پۓ نذرِ کرم تحفہ ہے شرمِ نارسائی کابہ خوں غلتیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا

۲

نہ ہو حسنِ تماشا دوست، رسوا بے وفائی کابہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا

۳

زکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش، کہ مہر آساچراغِ خانۂ درویش ہو، کاسہ گدائی کا

۴

نہ مارا جان کر بے جرم، غافل! تیری گردن پررہا مانندِ خونِ بے گنہ، حق آشنائی کا

۵

تمنّاۓ زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہےمٹا جس سے تقاضا، شکوۂ بے دست و پائی کا

۶

وہی اک بات ہے جو یاں نفس، واں نکہتِ گل ہےچمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا

۷

دہانِ ہر بتِ پیغارہ جُو، زنجیرِ رسوائیعدم تک بے وفا! چرچا ہے تیری بے وفائی کا

۸

نہ دے نامے کو اتنا طول، غالب! مختصر لکھ دےکہ حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہاۓ جدائی کا

۲۳

گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جاۓ گا

۱

گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جاۓ گابے تکلّف، داغِ مہ مہرِ دہاں ہو جاۓ گا

۲

زہرہ گر ایسا ہی شامِ ہجر میں ہوتا ہے آبپرتوِ مہتاب سیلِ خانماں ہو جاۓ گا

۳

لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ، مگرایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہو جاۓ گا

۴

دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے، کیا معلوم تھایعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہو جاۓ گا

۵

سب کے دل میں ہے جگہ تیری، جو تو راضی ہوامجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہو جاۓ گا

۶

گر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیمِ ضبطشعلۂ خس جیسے خوں رگ میں نہاں ہو جاۓ گا

۷

باغ میں مجھ کو نہ لے جا، ورنہ میرے حال پرہر گلِ تر ایک چشمِ خوں فشاں ہو جاۓ گا

۸

ولے گر میرا اترا انصاف محشر میں نہ ہواب تلک تو یہ توقّع ہے کہ واں ہو جاۓ گا

۹

فائدہ کیا؟ سوچ، آخر تو بھی دانا ہے، اسد!دوستی ناداں کی ہے، جی کا زیاں ہو جاۓ گا

۲۴

دردِ منّت کشِ دوا نہ ہوا

۱

دردِ منّت کشِ دوا نہ ہوامیں نہ اچّھا ہوا، برا نہ ہوا

۲

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کواک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا

۳

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیںتو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا

۴

کتنے شیریں ہیں تیرے لب، کہ رقیبگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

۵

ہے خبر گرم ان کے آنے کیآج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا

۶

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

۷

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھیحق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

۸

زخم گر دب گیا، لہو نہ تھماکام گر رک گیا، رَوا نہ ہوا

۹

رہزنی ہے کہ دلستانی ہے؟لے کے دل، دلستاں روانہ ہوا

۱۰

کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیںآج غالب غزل سرا نہ ہوا

۲۵

گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیِ جا کا

۱

گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیِ جا کاگہر میں محو ہوا اضطرابِ دریا کا

۲

یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخِ مکتوب!مگر ستمزدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کا

۳

حناۓ پاۓ خزاں ہے بہار اگر ہے یہیدوامِ کلفتِ خاطر ہے عیشِ دنیا کا

۴

غمِ فراق میں تکلیفِ سیرِ باغ نہ دومجھے دماغ نہیں خندہاۓ بے جا کا

۵

ہنوز محرمیِ حسن کو ترستا ہوںکرے ہے ہر بنِ مو کام چشمِ بینا کا

۶

دل اس کو، پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھےہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا

۷

نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدارِ حسرتِ دل ہےمری نگاہ میں ہے جمع و خرجِ دریا کا

۸

فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد، اسد!جفا میں اس کی ہے اندازِ کارفرما کا

۲۶

قطرہ مۓ بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا

۱

قطرہ مۓ بسکہ حیرت سے نفس پرور ہواخطِ جامِ مۓ سراسر، رشتۂ گوہر ہوا

۲

اعتبارِ عشق کی خانہ خرابی دیکھناغیرے کی آہ، لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا

۲۷

جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا

۱

جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھاتپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دل باندھا

۲

اہلِ بینش نے بہ حیرت کدے کیۓ شوخیِ نازجوہرِ آئنہ کو طوطیِ بسمل باندھا

۳

یاس و امّید نے یک عربدہ میداں مانگاعجزِ ہمّت نے طلسمِ دلِ سائل باندھا

۴

نہ بندھے تشنگیِ ذوق کے مضموں، غالب!گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا

۲۸

میں اور بزمِ مۓ سے یوں تشنہ کام آؤں

۱

میں اور بزمِ مۓ سے یوں تشنہ کام آؤںگر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا

۲

ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیںوہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا

۳

درماندگی میں غالب کچھ بن پڑے تو جانوںجب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا

۲۹

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

۱

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتاڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

۲

ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کانہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانوں پر دھرا ہوتا

۳

ہوئی مدّت کہ غالب مر گیا، پر یاد آتا ہےوہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

۳۰

سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی

۱

سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستیعبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

۲

بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھیجو تو دریاۓ مۓ ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا

۳۱

یک ذرّہ زمیں نہیں بیکار باغ کا

۱

یک ذرّہ زمیں نہیں بیکار باغ کایاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا

۲

بے مۓ، کسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہیکھینچا ہے عجز نے حوصلے نے خطِ ایاغ کا

۳

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہاۓ گلکہتے ہیں جس کو عشق، خلل ہے دماغ کا

۴

تازہ نہیں ہے نشۂ فکرِ سخن مجھےتریاکیِ قدیم ہوں دودِ چراغ کا

۵

سو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوۓپر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا

۶

بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غباریہ مۓ کدہ خراب ہے مۓ کے سراغ کا

۷

باغِ شگفتہ تیرا، بساطِ نشاطِ دلابرِ بہار خمکدہ کس کے دماغ کا؟

۳۲

وہ مری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا

۱

وہ مری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھارازِ مکتوب بہ بے ربطیِ عنواں سمجھا

۲

یک الف بیش نہیں صیقلِ آئنہ ہنوزچاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا

۳

شرحِ اسبابِ گرفتاریِ خاطر مت پوچھاس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا

۴

بدگمانی نے نہ چاہا اسے سرگرمِ خرامرخ پہ ہر قطرۂ عرق دیدۂ حیراں سمجھا

۵

عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بدخو ہوگانبضِ خس سے تپشِ شعلۂ سوزاں سمجھا

۶

سفرِ عشق میں کی ضعف نے راحت طلبیہر قدم ساۓ کو میں اپنے شبستاں سمجھا

۷

تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دمِ مرگدفعِ پیکانِ قضا اس قدر آساں سمجھا

۸

دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار، اسد!غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا

۳۳

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا

۱

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیادل، جگر تشنۂ فریاد، آیا

۲

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوزپھر ترا وقتِ سفر یاد آیا

۳

سادگی ہاۓ تمنّا، یعنیپھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا

۴

عذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل!نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا

۵

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتیکیوں ترا راہگزر یاد آیا

۶

کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگیگھر ترا خلد میں گر یاد آیا

۷

آہ وہ جرأتِ فریاد کہاںدل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا

۸

پھر ترے کوچے کو جاتا ہے خیالدل، گم گشتہ، مگر، یاد آیا

۹

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے!دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

۱۰

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں، اسد!سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

۳۴

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا

۱

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

۲

تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہاس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا

۳

تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا

۴

قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یادہاں کچھ اک رنجِ گرانباریِ زنجیر بھی تھا

۵

بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیابات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا

۶

یوسف اس کو کہوں، اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئیگر بگڑ بیٹھے تو میں لائقِ تعزیر بھی تھا

۷

دیکھ کر غیر کو کیوں ہو کہ نہ کلیجا ٹھنڈانالہ کرتا تھا، ولے طالبِ تاثیر بھی تھا

۸

پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نامہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جوانِ میر بھی تھا

۹

ہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہیآخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا

۱۰

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحقآدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟

۱۱

ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو، غالب!کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

۳۵

لبِ خشک در تشنگیِ مردگاں کا

۱

لبِ خشک در تشنگیِ مردگاں کازیارتکدہ ہوں دلِ آزردگاں کا

۲

ہمہ نا امیدی، ہمہ بدگمانیمیں دل ہوں فریب خوردگاں کا

۳۶

گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا

۱

گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتابحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا

۲

تنگیِ دل کا گلہ کیا، یہ وہ کافر دل ہےکہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا

۳

بعدِ یک عمر ورع بار تو دیتا بارےکاش رضواں ہی درِ یار کا درباں ہوتا

۳۷

تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا

۱

تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھااوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

۲

چھوڑا مہِ نخشب کی طرح دستِ قضا نےخورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا

۳

توفیق بہ اندازۂ ہمّت ہے ازل سےآنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

۴

جب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار کا عالممیں معتقدِ فتنۂ محشر نہ ہوا تھا

۵

میں سادہ دل، آزردگیِ یار سے خوش ہوںیعنی سبقِ شوق مکرّر نہ ہوا تھا

۶

دریاۓ معاصی تنک آبی سے ہوا خشکمیرا سرِ دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

۷

جاری تھی اسد داغِ جگر سے مری تحصیلآتشکدہ جاگیرِ سمندر نہ ہوا تھا

۳۸

شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا

۱

شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھارشتۂ ہر شمعِ خار، کسوتِ فانوس تھا

۲

مشہدِ عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حناکس قدر یا رب! ہلاکِ حسرتِ پابوس تھا

۳

حاصلِ الفت نہ دیکھا جز شکستِ آرزودل بہ دل پیوستہ، گویا، یک لبِ افسوس تھا

۴

کیا کروں بیماریِ غم کی فراغت کا بیاںجو کہ کھایا خونِ دل، بے منّتِ کیموس تھا

۳۹

آئنہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے

۱

آئنہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئےصاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

۲

قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریےاس کی خطا نہیں ہے، یہ میرا قصور تھا

۴۰

عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا

۱

عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے، وہ دل نہیں رہا

۲

جاتا ہوں داغِ حسرتِ ہستی لیے ہوۓہوں شمعِ کشتہ، درخورِ محفل نہیں رہا

۳

مرنے کی اے دل! اور ہی تدبیر کر کہ میںشایانِ دست و بازوۓ قاتل نہیں رہا

۴

بر روۓ ششجہت درِ آئنہ باز ہےیاں امتیازِ ناقص و کامل نہیں رہا

۵

وا کر دیے ہیں شوق نے بندِ نقابِ حسنغیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا

۶

گو میں رہا رہینِ ستم ہاۓ روزگارلیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

۷

دل سے ہواۓ کشتِ وفا مٹ گئی کہ واںحاصل، سواۓ حسرتِ حاصل، نہیں رہا

۸

بیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا، مگر اسد!جس دل پہ ناز تھا مجھے، وہ دل نہیں رہا

۴۱

رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص، حیف!

۱

رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص، حیف!عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر، کس کس کا آشنا

۲

ذرّہ ذرّہ ساغرِ مۓ خانۂ نیرنگ ہےگردشِ مجنوں بہ چشمکہاۓ لیلیٰ آشنا

۳

شوق ہے ساماں طرازِ نازشِ اربابِ عجزذرّہ، صحرا دستگاہ و قطرہ، دریا آشنا

۴

میں اور اک آفت کا ٹکڑا، وہ دلِ وحشی کہ ہےعافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا

۵

شکوہ سنجِ رشکِ ہمدیگر نہ رہنا چاہیےمیرا زانو مونس، اور آئنہ تیرا آشنا

۶

کوہکن نقّاش یک تمثالِ شیریں تھا، اسد!سنگ سے سر مار کہ ہو وے نہ پیدا آشنا

۴۲

ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا

۱

ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنابن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا

۲

مۓ وہ کیوں بہت پیتے بزمِ غیر میں یا رب!آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا؟

۳

منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتےعرش سے ادھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنا

۴

دے وہ جس قدر ذلّت، ہم ہنسی میں ٹالیں گےبارے آشنا نکلا، ان کا پاسباں اپنا

۵

دردِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلا دوںانگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا

۶

گھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلاننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپنا

۷

تا کرے نہ غمّازی، کر لیا ہے دشمن کودوست کی شکایت میں، ہم نے ہمزباں اپنا

۸

ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھےبے سبب ہوا، غالب! دشمن آسماں اپنا

۴۳

سرمۂ مفتِ نظر ہوں، مری قیمت یہ ہے

۱

سرمۂ مفتِ نظر ہوں، مری قیمت یہ ہےکہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا

۲

رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا، ظالم!تیرے چہرے سے ہو ظاہر غمِ پنہاں میرا

۴۴

غافل! بہ وہمِ ناز خود آرا ہے، ورنہ یاں

۱

غافل! بہ وہمِ ناز خود آرا ہے، ورنہ یاںبے شانۂ صبا نہیں طرّۂ گیاہ کا

۲

بزمِ قدح سے عیش تمنّا نہ رکھ، کہ رنگصیدِ ز دامِ جستہ ہے اس دامگاہ کا

۳

رحمت اگر قبول کرے، کیا بعید ہےشرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا

۴

مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں، کہ ہےپُر گل خیالِ زخم سے دامن نگاہ کا

۵

جاں در ہواۓ یک نگہِ گرم ہے، اسد!پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا

۴۵

جور سے باز آۓ، پر باز آئیں کیا؟

۱

جور سے باز آۓ، پر باز آئیں کیا؟کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا

۲

رات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ، گھبرائیں کیا

۳

لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا

۴

ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھیا رب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

۵

موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جاۓآستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا؟

۶

عمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہمر گئے پر، دیکھیے، دکھلائیں کیا

۷

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہےکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

۴۶

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

۱

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتیچمن زنگار ہے آئنۂ بادِ بہاری کا

۲

حریفِ جوششِ دریا نہیں خودداریِ ساحلجہاں ساقی ہو تو، باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا

۴۷

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

۱

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادردِ کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

۲

تجھ سے قسمت میں مری، صورتِ قفلِ ابجدتھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

۳

دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تماممٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا

۴

اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم، اللہ اللہ!اس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا

۵

ضعف سے گریہ مبدّل بہ دمِ سرد ہواباور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا

۶

دل سے مٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیالہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

۷

ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھلناروتے روتے غمِ فرقت میں فنا ہو جانا

۸

گر نہیں نکہتِ گل کو ترے کوچے کی ہوسکیوں ہے گرد رہِ جولانِ صبا ہو جانا

۹

تا کہ تجھ پر کھلے اعجازِ ہواۓ صیقلدیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا

۱۰

بخشے ہے جلوۂ گل، ذوقِ تماشا غالب!چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا

حرف ب

۴۸

پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موجِ شراب

۱

پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موجِ شرابدے بطِ مۓ کو دل و دستِ شنا موجِ شراب

۲

پوچھ مت وجہِ سیہ مستیِ اربابِ چمنسایہ تاک میں ہوتی ہے ہوا موجِ شراب

۳

جو ہوا غرقۂ مۓ، بختِ رسا رکھتا ہےسر سے گزرے پہ بھی ہے بالِ ہما موجِ شراب

۴

ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگرموجِ ہستی کو کرے فیضِ ہوا موجِ شراب

۵

چار موج اٹھتی ہے طوفانِ طرب سے ہر سوموجِ گل، موجِ شفق، موجِ صبا، موجِ شراب

۶

جس قدر روحِ نباتی ہے جگر تشنۂ نازدے ہے تسکیں بہ دمِ آبِ بقا موجِ شراب

۷

بسکہ دوڑے ہے رگِ تاک میں خوں ہو ہو کرشہپرِ رنگ سے ہے بال کشا موجِ شراب

۸

موجۂ گل سے چراغاں ہے گزرگاہِ خیالہے تصوّر میں ز بس جلوہ نما موجِ شراب

۹

نشے کے پردے میں ہے محوِ تماشاۓ دماغبسکہ رکھتی ہے سرِ نشو و نما موجِ شراب

۱۰

ایک عالم پہ ہیں طوفانیِ کیفیتِ فصلموجۂ سبزۂ نوخیز سے تا موجِ شراب

۱۱

شرحِ ہنگامۂ ہستی ہے، زہے موسمِ گل!رہبرِ قطرہ بہ دریا ہے، خوشا موجِ شراب!

۱۲

ہوش اڑتے ہیں مرے، جلوۂ گل دیکھ، اسد!پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موجِ شراب

۴۹

رہا گر کوئی تا قیامت سلامت

۱

رہا گر کوئی تا قیامت سلامتپھر اک روز مرنا ہے، حضرت سلامت!

۲

جگر کو مرے عشقِ خونناب مشربلکھے ہے: "خداوندِ نعمت سلامت!"

۳

علی الرغمِ دشمن، شہیدِ وفا ہوں"مبارک مبارک! سلامت سلامت!"

۴

نہیں گر سر و برگِ ادراکِ معنیتماشاۓ نیرنگِ صورت سلامت

۵۰

مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں، غالب!

۱

مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں، غالب!یار لاۓ مری بالیں پہ اسے، پر کس وقت

۵۱

آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست

۱

آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوستدودِ شمعِ کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست

۲

اے دلِ ناعاقبت اندیش! ضبطِ شوق کرکون لا سکتا ہے تابِ جلوۂ دیدارِ دوست

۳

خانہ ویراں سازیِ حیرت تماشا کیجیےصورتِ نقشِ قدم ہوں رفتۂ رفتارِ دوست

۴

عشق میں بیدادِ رشکِ غیر نے مارا مجھےکشتۂ دشمن ہوں آخر، گرچہ تھا بیمارِ دوست

۵

چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہےدیدۂ پُر خوں ہمارا ساغرِ سرشارِ دوست

قطعہ

۶

غیریوں کرتا ہے میری پرسش، اس کے ہجر میںبے تکلّف، دوست ہو جیسے کوئی غم خوارِ دوست

۷

تا کہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلکمجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدۂ دیدارِ دوست

۸

جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعفِ دماغسرکرے ہے وہ حدیثِ زلفِ عنبر بارِ دوست

۹

چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگرہنس کے کرتا ہے بیانِ شوخیِ گفتارِ دوست

۱۰

مہرباں ہو کر بلاۓ دشمن کی شکایت کیجیے؟یاں بیاں کیجے سپاسِ لذّتِ آزارِ دوست؟

۱۱

یہ غزل اپنی، مجھے جی سے پسند آئی ہے، آپہے ردیفِ شعر میں غالب زبس تکرارِ دوست

حرف ج

۵۲

گلشن میں بند و بست بہ رنگِ دگر ہے آج

۱

گلشن میں بند و بست بہ رنگِ دگر ہے آجقمری کا طوقِ حلقۂ بیرونِ در ہے آج

۲

آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھتارِ نفس کمندِ شکارِ اثر ہے آج

۳

اے عافیت! کنارہ کر، اے انتظام! چلسیلابِ گریہ در پۓ دیوار و در ہے آج

۵۳

لو ہم مریضِ عشق کے بیمار دار ہیں

۱

لو ہم مریضِ عشق کے بیمار دار ہیںاچّھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج!

حرف چ

۵۴

نفس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ

۱

نفس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچاگر شراب نہیں، انتظارِ ساغر کھینچ

۲

کمالِ گرمیِ سعیِ تلاشِ دید نہ پوچھبہ رنگِ خارِ مرے آئنے سے جوہر کھینچ

۳

تجھے بہانۂ راحت ہے انتظار، اے دل!کیا ہے کس نے اشارہ کہ نازِ بستر کھینچ

۴

تری طرف ہے، بہ حسرت، نظارۂ نرگسبہ کوریِ دل و چشمِ رقیب، ساغر کھینچ

۵

بہ نیمِ غمزہ ادا کر حقِ ودیعتِ نازنیام پردۂ زخمِ جگر سے خنجر کھینچ

۶

مرے قدح میں ہے صہباۓ آتشِ پنہاںبہ روۓ سفرہ کبابِ دلِ سمندر کھینچ

حرف د

۵۵

حسنِ غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد

۱

حسنِ غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعدبارے، آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد

۲

منصبِ شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہاہوئی معزولیِ اندازِ ادا میرے بعد

۳

شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہےشعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد

۴

خوں ہے دل، خاک میں احوالِ بتاں پر، یعنیان کے ناخن ہوۓ محتاجِ حنا میرے بعد

۵

درخورِ عرض نہیں جوہرِ بیداد کو جانگہِ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد

۶

ہے جنوں اہلِ جنوں کے لیے آغوشِ وداعچاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد

۷

کون ہوتا ہے حریفِ مۓ مردافگنِ عشقہے مکرّر لبِ ساقی میں صلا میرے بعد

۸

غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئیکہ کرے تعزیتِ مہر و وفا میرے بعد

۹

آئے ہے بیکسیِ عشق پہ رونا، غالب!کس کے گھر جاۓ گا سیلابِ بلا میرے بعد

حرف ر

۵۶

بلا سے، ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار

۱

بلا سے، ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوارنگاہِ شوق کو ہیں بال و پر، در و دیوار

۲

وفورِ اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگکہ ہو گئے مرے دیوار و در، در و دیوار

۳

نہیں ہے سایہ، کہ سن کر نویدِ مقدمِ یارگئے ہیں چند قدم پیشتر، در و دیوار

۴

ہوئی ہے کس قدر ارزانیِ مۓ جلوہکہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار

۵

جو ہے تجھے سرِ سوداۓ انتظار، تو آکہ ہیں دکانِ متاعِ نظر، در و دیوار

۶

ہجومِ گریہ کا ساماں کب کیا میں نےکہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر، در و دیوار

۷

وہ آ رہا مرے ہمساۓ میں، تو ساۓ سےہوۓ فدا در و دیوار پر، در و دیوار

۸

نظر میں کھٹکے ہے بن تیرے، گھر کی آبادیہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر، در و دیوار

۹

نہ پوچھ بے خودیِ عیشِ مقدمِ سیلابکہ ناچتے ہیں پڑے، سر بہ سر، در و دیوار

۱۰

نہ کہہ کسی سے، کہ غالب نہیں زمانے میںحریفِ رازِ محبّت، مگر در و دیوار

۵۷

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر

۱

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر، کہے بغیر؟

۲

کہتے ہیں، جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخنجانوں کسی کے دل کی میں کیوں کر کہے بغیر؟

۳

کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میںلیوے نہ کوئی نامِ ستمگر کہے بغیر

۴

جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے، وگرنہ ہمسر جاۓ یا رہے، نہ رہیں پر کہے بغیر

۵

چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجناچھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر

۶

مقصد ہے نازو غمزہ، ولے گفتگو میں کامچلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر

۷

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگوبنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

۸

بہرا ہوں میں تو چاہیے دونا ہو التفاتسنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر

۹

غالب! نہ کر حضور میں تو بار بار عرضظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر

۵۸

کیوں جل گیا نہ تابِ رخِ یار دیکھ کر

۱

کیوں جل گیا نہ تابِ رخِ یار دیکھ کرجلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر

۲

آتش پرست کہتے ہیں اہلِ جہاں مجھےسرگرمِ نالہ ہاۓ شرر بار دیکھ کر

۳

کیا آبروۓ عشق جہاں عام ہو جفارکتا ہوں، تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

۴

آتا ہے میرے قتل کو، پر جوشِ رشک سےمرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

۵

ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلقلرزے ہے موجِ مۓ تری رفتار دیکھ کر

۶

واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھہم کو حریصِ لذّتِ آزار دیکھ کر

۷

بک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھلیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر

۸

زنّار باندھ، سبحۂ صد دانہ توڑ ڈالرہرو چلے ہے، راہ کو ہموار دیکھ کر

۹

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میںجی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر

۱۰

کیا بدگماں ہے مجھ سے، کہ آئنے میں مرےطوطی کا عکس سمجھے ہے، زنگار دیکھ کر

۱۱

گرنی تھی ہم پہ برقِ تجلّی، نہ طور پردیتے ہیں بادہ ظرفِ قدح خوار دیکھ کر

۱۲

سر پھوڑنا وہ غالبِ شوریدہ حال کایاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر

۵۹

لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر

۱

لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پرمیں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر

۲

نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائیسفیدیِ دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر

۳

فنا تعلیمِ درسِ بے خودی ہوں، اس زمانے سےکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر

۴

فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویشِ مرہم سےبہم گر صلح کرتے پارہ ہاۓ دل نمکداں پر

۵

نہیں اقلیمِ الفت میں کوئی طومارِ ناز ایساکہ پشتِ چشم سے، جس کے، نہ ہو وے مہرِ عنواں پر

۶

مجھے اب، دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ، یاد آیاکہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر

۷

بجز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہوگاقیامت اک ہواۓ تند ہے خاکِ شہیداں پر

۸

نہ لڑ ناصح سے، غالب! کیا ہوا گر اس نے شدّت کیہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر!

۶۰

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور

۱

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اورکرتے ہیں محبّت تو گزرتا ہے گماں اور

۲

یا رب! وہ نہ سمجھے ہیں، نہ سمجھیں گے مری باتدے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

۳

ابرو سے ہے کیا اس نگہِ ناز کو پیوندہے تیرِ مقرّر مگر اس کی ہے کماں اور

۴

تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم؟ جب اٹھیں گےلے آئیں گے بازار سے، جا کر، دل و جاں اور

۵

ہر چند سبکدست ہوۓ بت شکنی میںہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگِ گراں اور

۶

ہے خونِ جگر جوش میں، دل کھول کے روتاہوتے جو کئی دیدۂ خوننابہ فشاں اور

۷

مرتا ہوں اس آواز پہ، ہر چند سر اڑ جاۓجلّاد کو، لیکن، وہ کہے جائیں کہ "ہاں اور"

۸

لوگوں کو ہے خورشیدِ جہاں تاب کا دھوکاہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغِ نہاں اور

۹

لیتا، نہ اگر دل تمہیں دیتا، کوئی دم چینکرتا، جو نہ مرتا، کوئی دن آہ و فغاں اور

۱۰

پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالےرکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

۱۱

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچّھےکہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

۶۱

صفاۓ حیرتِ آئنہ ہے سامانِ زنگ آخر

۱

صفاۓ حیرتِ آئنہ ہے سامانِ زنگ آخرتغیّرِ آب برجا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر

۲

نہ کی سامانِ عیش و جاہ نے تدبیرِ وحشت کیہوا جامِ زمرّد بھی مجھے داغِ پلنگ آخر

۶۲

جنوں کی دستگیری کس سے ہو، گر ہو نہ عریانی

۱

جنوں کی دستگیری کس سے ہو، گر ہو نہ عریانیگریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر

۲

بہ رنگِ کاغذِ آتش زدہ، نیرنگِ بیتابیہزار آئنہ دل باندھے ہے بالِ یک تپیدن پر

۳

فلک سے ہم کو عیشِ رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہےمتاعِ بردہ کو سمجھے ہوۓ ہیں قرضِ رہزن پر

۴

ہم اور وہ بے سبب رنج، آشنا دشمن، کہ رکھتا ہےشعاعِ مہر سے تہمت نگہ کی، چشمِ روزن پر

۵

فنا کو سونپ، گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کافروغِ طالعِ خاشاک ہے موقوفِ گلخن پر

۶

اسد، بسمل ہے کس اندازِ کا، قاتل سے کہتا ہے"تو مشقِ ناز کر، خونِ دو عالم میری گردن پر"

۶۳

ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں

۱

ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیںتکلّف بر طرف، مل جاۓ گا تجھ سا رقیب آخر

۶۴

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور

۱

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اورتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور

۲

مٹ جاۓ گا سر، گر ترا پتّھر نہ گھسے گاہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور

۳

آۓ ہو کل، اور آج ہی کہتے ہو کہ "جاؤں؟"مانا کہ ہمیشہ نہیں، اچّھا، کوئی دن اور

۴

جاتے ہوۓ کہتے ہو "قیامت کو ملیں گے"کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

۵

ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارفکیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور؟

۶

تم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کےپھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور؟

۷

تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کے!کرتا، ملک الموت تقاضا کوئی دن اور

۸

مجھ سے تمہیں نفرت سہی، نیّر سے لڑائیبچّوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور

۹

گزری نہ، بہ ہر حال، یہ مدّت خوش و ناخوشکرنا تھا جواں مرگ! گزارا کوئی دن اور

۱۰

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ "کیوں جیتے ہیں غالب"؟قسمت میں ہے مرنے کی تمنّا کوئی دن اور

حرف ز

۶۵

فارغ مجھے نہ جان، کہ مانندِ صبح و مہر

۱

فارغ مجھے نہ جان، کہ مانندِ صبح و مہرہے داغِ عشق زینتِ جیبِ کفن ہنوز

۲

ہے نازِ مفلساں زرِ از دستِ رفتہ پرہوں گل فروشِ شوخیِ داغِ کہن ہنوز

۳

مۓ خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیںخمیازہ کھینچے ہے بتِ بیدادِ فن ہنوز

۶۶

حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز

۱

حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیازدعا قبول ہو یا رب! کہ عمرِ خضر دراز

۲

نہ ہو، بہ ہرزہ، بیاباں نوردِ وہم و وجودہنوز تیرے تصوّر میں ہے نشیب و فراز

۳

وصال جلوہ تماشا ہے، پر دماغ کہاںکہ دیجے آئنۂ انتظار کو پرداز

۴

ہر ایک ذرّہ عاشق ہے آفتاب پرستگئی نہ خاک ہوۓ پر ہواۓ حلوۂ ناز

۵

نہ پوچھ وسعتِ مۓ خانۂ جنوں، غالب!جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز

۶۷

وسعتِ سعیِ کرم دیکھ، کہ سر تا سرِ خاک

۱

وسعتِ سعیِ کرم دیکھ، کہ سر تا سرِ خاکگزرے ہے آبلہ پا ابرِ گہر بار ہنوز

۲

یک قلم کاغذِ آتش زدہ ہے صفحۂ دشتنقشِ پا میں ہے تبِ گرمیِ رفتار ہنوز

۶۸

کیوں کر اس بت سے رکھوں جانِ عزیز؟

۱

کیوں کر اس بت سے رکھوں جانِ عزیز؟کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز؟

۲

دل سے نکلا، پہ نہ نکلا دل سےہے ترے تیر کا پیکان عزیز

۳

تاب لاۓ ہی بنے گی، غالب!واقعہ سخت ہے اور جان عزیز

۶۹

نہ گل نغمہ ہوں، نہ پردہ ساز

۱

نہ گل نغمہ ہوں، نہ پردہ سازمیں ہوں اپنی شکست کی آواز

۲

تو اور آرائشِ خمِ کاکلمیں اور اندیشہ ہاۓ دور دراز

۳

لافِ تمکیں، فریبِ سادہ دلیہم ہیں، اور رازہاۓ سینہ گداز

۴

ہوں گرفتارِ الفتِ صیّادورنہ باقی ہے طاقتِ پرواز

۵

وہ بھی دن ہو کہ اس ستمگر سےناز کھینچوں، بجاۓ حسرتِ ناز

۶

نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خوںجس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گل باز

۷

اے ترا غمزہ، یک قلم انگیزاے ترا نغمہ، سر بہ سر انداز

۸

تو ہوا جلوہ گر، مبارک ہوریزشِ سجدۂ جبینِ نیاز

۹

مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوامیں غریب، اور تو غریب نواز

۱۰

اسد اللہ خاں تمام ہوااے دریغا! وہ رندِ شاہباز

حرف س

۷۰

مژدہ، اے ذوقِ اسیری! کہ نظر آتا ہے

۱

مژدہ، اے ذوقِ اسیری! کہ نظر آتا ہےدامِ خالی قفسِ مرغِ گرفتار کے پاس

۲

جگر تشنۂ آزار، تسلّی نہ ہواجوۓ خوں ہم نے بہائی بنِ ہر خار کے پاس

۳

مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں، ہے ہے!خوب وقت آۓ تم اس عاشقِ بیمار کے پاس

۴

میں بھی رک رک کے نہ مرتا، جو زباں کے بدلےدشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غمخوار کے پاس

۵

دہنِ شیر میں جا بیٹھیے، لیکن، اے دل!نہ کھڑے ہو وے جہاں خوبانِ دل آزار کے پاس

۶

دیکھ کر تجھ کو، چمن بسکہ نمو کرتا ہےخود بخود پہنچے ہے گل، گوشۂ دستار کے پاس

۷

مر گیا پھوڑ کے سر، غالبِ وحشی، ہے ہے!بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس

حرف ش

۷۱

نہ لیوے گر خسِ جوہر طراوت سبزۂ خط سے

۱

نہ لیوے گر خسِ جوہر طراوت سبزۂ خط سےلگا دے خانۂ آئنہ میں روۓ نگار آتش

۲

فروغِ حسن سے ہوتی ہے حلِّ مشکلِ عاشقنہ نکلے شمع کے پا سے، نکالے گر نہ خار آتش

حرف ع

۷۲

جادۂ رہِ خور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاع

۱

جادۂ رہِ خور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاعچرخ وا کرتا ہے ماہِ نو سے آغوشِ وداع

۷۳

رخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمع

۱

رخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمعہوئی ہے آتشِ گل، آبِ زندگانیِ شمع

۲

زبانِ اہلِ زباں میں ہے مرگ خاموشییہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانیِ شمع

۳

کرے ہے صرف بہ ایماۓ شعلہ، قصّہ تمامبطرزِ اہلِ فنا ہے فسانہ خوانیِ شمع

۴

غمِ اس کو حسرتِ پروانہ کا ہے، اے شعلہ!ترے لرزنے سے ظاہر ہے ناتوانیِ شمع

۵

ترے خیال سے روح اہتزاز کرتی ہےبہ جلوہ ریزیِ باد و بہ پُر فشانیِ شمع

۶

نشاطِ داغِ غمِ عشق کی بہار نہ پوچھشگفتگی ہے شہیدِ گلِ خزانیِ شمع

۷

جلے ہے دیکھ کے بالینِ یار پر مجھ کونہ کیوں ہو دل پہ مرے داغِ بدگمانیِ شمع

حرف ف

۷۴

بیم رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوش

۱

بیم رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوشمجبور، یاں تلک ہوۓ، اے اختیار! حیف

۲

جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئےاے ناتمامیِ نفسِ شعلہ بار! حیف

حرف ت

۷۵

افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے

۱

افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نےجن لوگوں کی تھی درخورِ عقدِ گہر انگشت

۲

کافی ہے نشانی تری، چھلّے کا نہ دیناخالی مجھے دکھلا کے، بہ وقتِ سفر، انگشت

۳

لکھتا ہوں اسد سوزشِ دل سے، سخن گرمتا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت

حرف ک

۷۶

زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک

۱

زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمککیا مزہ ہوتا اگر پتّھر میں بھی ہوتا نمک

۲

گردِ راہِ یار ہے سامانِ نازِ زخمِ دلورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک

۳

مجھ کو ارزانی رہے، تجھ کو مبارک ہو، جیو!نالۂ بلبل کا درد اور خندۂ گل کا نمک

۴

شورِ جولاں تھا کنارِ بحر پر کس کا کہ آجگردِ ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک

۵

داد دیتا ہے مرے زخمِ جگر کی، واہ واہ!یاد کرتا ہے مجھے، دیکھے ہے وہ جس جا نمک

۶

چھوڑ کر جانا تنِ مجروحِ عاشق حیف ہےدل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک

۷

غیر کی منّت نہ کھینچوں گا، پۓ توہینِ دردزخم مثلِ خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک

۸

یاد ہیں غالب تجھے وہ دن کہ وجدِ ذوق میںزخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک

۷۷

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک

۱

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

۲

دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگدیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک

۳

عاشقی صبر طلب اور تمنّا بیتابدل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہوتے تک

۴

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے، لیکنخاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہوتے تک

۵

پرتوِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیممیں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک

۶

یک نظر بیش نہیں فرصتِ ہستی، غافل!گرمیِ بزم ہے اک رقصِ شرر ہوتے تک

۷

غمِ ہستی کا، اسد! کس سے ہو جز مرگ علاجشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک

حرف گ

۷۸

گر تجھ کو ہے یقینِ اجابت، دعا نہ مانگ

۱

گر تجھ کو ہے یقینِ اجابت، دعا نہ مانگیعنی بغیرِ یک دلِ بے مدّعا نہ مانگ

۲

آتا ہے داغِ حسرتِ دل کا شمار یادمجھ سے مرے گنہ کا حساب، اے خدا! نہ مانگ

۷۹

دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا

۱

دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنابارے، اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد، یاں

۲

ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تماممہرِ گردوں ہے چراغِ رہگزارِ باد، یاں

حرف ل

۸۰

ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفاۓ گل

۱

ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفاۓ گلبلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہاۓ گل

۲

آزادیِ نسیم مبارک کہ ہر طرفٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دامِ ہواۓ گل

۳

جو تھا سو موجِ رنگ کے دھوکے میں مر گیااے واۓ! نالۂ لبِ خونیں نواۓ گل

۴

خوش حال اس حریفِ سیہ مست کا کہ جورکھتا ہو مثلِ سایۂ گل، سر بہ پاۓ گل

۵

ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہارمیرا رقیب ہے نفسِ عطر ساۓ گل

۶

شرمندہ رکھتے ہیں مجھے بادِ بہار سےمینا ۓ بے شراب و دلِ بے ہواۓ گل

۷

سطوت سے تیرے جلوۂ حسنِ غیور کیخوں ہے مری نگاہ میں رنگ اداۓ گل

۸

تیرے ہی جلوے کا ہے یہ دھوکا کہ آج تکبے اختیار دوڑے ہے گل در قفاۓ گل

۹

غالب! مجھے ہے اس سے ہم آغوشیِ آرزوجس کا خیال ہے گلِ جیبِ قباۓ گل

حرف م

۸۱

غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس

۱

غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفسبرق سے کرتے ہیں روشن شمعِ ماتم خانہ ہم

۲

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیالہیں ورق گردانیِ نیرنگِ یک بت خانہ ہم

۳

باوجودِ یک جہاں ہنگامہ، پیدائی نہیںہیں چراغانِ شبستانِ دلِ پروانہ ہم

۴

ضعف سے ہے، نے قناعت سے، یہ ترکِ جستجوہیں وبالِ تکیہ گاہِ ہمّتِ مردانہ ہم

۵

دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنّائیں، اسد!جانتے ہیں سینۂ پُر خوں کو زنداں خانہ ہم

۸۲

بہ نالہ حاصلِ دلبستگی فراہم کر

۱

بہ نالہ حاصلِ دلبستگی فراہم کرمتاعِ خانۂ زنجیرہ، جز صداۓ معلوم

۸۳

مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور

۱

مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دوررکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم

۲

وہ حلقہ ہاۓ زلف کمیں میں ہیں، اے خدا!رکھ لیجو میرے دعوی ۓ وارستگی کی شرم

حرف ن

۸۴

لوں وامِ بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش، ولے

۱

لوں وامِ بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش، ولےغالب! یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں

۸۵

وہ فراق اور وہ وصال کہاں

۱

وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاں

۲

فرصتِ کاروبارِ شوق کسےذوقِ نظّارۂ جمال کہاں

۳

دل تو دل، وہ دماغ بھی نہ رہاشورِ سوداۓ خطّ و خال کہاں

۴

تھی وہ اک شخص کے تصوّر سےاب وہ رعنائیِ خیال کہاں

۵

ایسا آساں نہیں لہو رونادل میں طاقت، جگر میں حال کہاں

۶

ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشقواں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں

۷

فکرِ دنیا میں سر کھپاتا ہوںمیں کہاں اور یہ وبال کہاں

۸

مضمحل ہو گئے قوی، غالب!وہ عناصر میں اعتدال کہاں

۸۶

کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں

۱

کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیںہوتی آئی ہے کہ اچّھوں کو برا کہتے ہیں

۲

آج ہم اپنی پریشانیِ خاطر ان سےکہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھیے کیا کہتے ہیں

۳

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انہیں کچھ نہ کہوجو مۓ و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیں

۴

دل میں آ جاۓ ہے، ہوتی ہے جو فرصت، غش سےاور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں

۵

ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجودقبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں

۶

پاۓ افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہےخارِ رہ کو ترے ہم مہرِ گیاہ کہتے ہیں

۷

اک شرر دل میں ہے، اس سے کوئی گھبراۓ گا کیاآگ مطلوب ہے، ہم کو، جو ہوا کہتے ہیں

۸

دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگاس کی ہر بات پہ ہم نامِ خدا کہتے ہیں

۹

وحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شایدمر گیا غالب آشفتہ نوا، کہتے ہیں

۸۷

آبرو کیا خاک اس گل کی، کہ گلشن میں نہیں

۱

آبرو کیا خاک اس گل کی، کہ گلشن میں نہیںہے گریباں، ننگِ پیراہن، جو دامن میں نہیں

۲

ضعف سے، اے گریہ! کچھ باقی مرے تن میں نہیںرنگ ہو کر اڑ گیا، جو خوں کہ دامن میں نہیں

۳

ہو گئے ہیں جمع اجزاۓ نگاہِ آفتابذرّے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں

۴

کیا کہوں تاریکیِ زندانِ غم؟ اندھیر ہےپنبۂ نورِ صبح سے کم، جس کے روزن میں نہیں

۵

رونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سےانجمن بے شمع ہے، گر برق خرمن میں نہیں

۶

زخم سلوانے سے مجھ کو چارہ جوئی کا ہے طعنغیر سمجھا ہے کہ لذّتِ زخمِ سوزن میں نہیں

۷

بسکہ ہیں ہم اک بہارِ ناز کے مارے ہوۓجلوۂ گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں

۸

قطرہ قطرہ اک ہیولی ہے نۓ ناسور کاخوں بھی ذوقِ درد سے فارغ مرے تن میں نہیں

۹

لے گئی ساقی کی نخوتِ قلزم آشامی مریموجِ مۓ کی آج، رگ، مینا کی گردن میں نہیں

۱۰

ہو فشارِ ضعف میں کیا ناتوانی کی نمودقد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں

۱۱

تھی وطن میں شان کیا؟ غالب، کہ ہو غربت میں قدربے تکلّف، ہوں وہ مشتِ خس، کہ گلخن میں نہیں

۸۸

عہدے سے مدحِ ناز کے، باہر نہ آ سکا

۱

عہدے سے مدحِ ناز کے، باہر نہ آ سکاگر اک ادا ہو تو، اسے اپنی قضا کہوں

۲

حلقے ہیں چشم ہاۓ کشادہ بہ سوۓ دلہر تارِ زلف کو نگہِ سرمہ سا کہوں

۳

میں اور صد ہزار نواۓ جگر خراشتو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں

۴

ظالم! مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہہے ہے! خدا نہ کردہ، تجھے بے وفا کہوں

۸۹

مہرباں ہو کے بلا لو مجھے، چاہو جس وقت

۱

مہرباں ہو کے بلا لو مجھے، چاہو جس وقتمیں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

۲

ضعف میں طعنۂ اغیار کا شکوہ کیا ہےبات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

۳

زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو، ستمگر! ورنہکیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں؟

۹۰

ہم سے کھل جاؤ بہ وقتِ مۓ پرستی ایک دن

۱

ہم سے کھل جاؤ بہ وقتِ مۓ پرستی ایک دنورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذرِ مستی ایک دن

۲

غرّہ اوجِ بناۓ عالمِ امکاں نہ ہواس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

۳

قرض کی پیتے تھے مۓ، لیکن سمجھتے تھے کہ ہاںرنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

۴

نغمہ ہاۓ غم کو بھی، اے دل! غنیمت جانیےبے صدا ہو جاۓ گا یہ سازِ ہستی ایک دن

۵

دھول دھپّا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیںہم ہی کر بیٹھے تھے، غالب! پیش دستی ایک دن

۹۱

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں

۱

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیںاک چھیڑ ہے، وگرنہ مرادِ امتحاں نہیں

۲

کس منہ سے شکر کیجیے اس لطفِ خاص کاپرسش ہے، اور پاۓ سخن درمیاں نہیں

۳

ہم کو ستم عزیز، ستمگر کو ہم عزیزنامہرباں نہیں ہے، اگر مہرباں نہیں

۴

بوسہ نہیں، نہ دیجیے، دشنام ہی سہیآخر زباں تو رکھتے ہو، تم گر دہاں نہیں

قطعہ

۵

ہر چند جاں گدازیِ قہر و عتاب ہےہر چند پشت گرمیِ تاب و تواں نہیں

۶

جاں مطرب ترانہ ہل من مزید ہےلب پردہ سنجِ زمزمۂ الاماں نہیں

۷

خنجر سے چیر سینہ، اگر دل نہ ہو دو نیمدل میں چھری چھپو، مژہ گر خوں چکاں نہیں

۸

ہے ننگِ سینہ دل اگر آتشکدہ نہ ہوہے عارِ دل نفس اگر آذر فشاں نہیں

۹

نقصان نہیں جنوں میں، بلا سے! ہو گھر خرابسو گز زمیں کے بدلے، بیاباں گراں نہیں

۱۰

کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سرنوشت میںگویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں

۱۱

پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کیروح القدس، اگرچہ مرا ہمزباں نہیں

۱۲

جاں ہے بہاۓ بوسہ، ولے کیوں کہے ابھیغالب کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں

۹۲

مانعِ دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں

۱

مانعِ دشت نوردی کوئی تدبیر نہیںایک چکّر ہے مرے پاؤں میں، زنجیر نہیں

۲

شوق اس دشت میں دوڑاۓ ہے مجھ کو کہ جہاںجادہ غیر از نگہِ دیدۂ تصویر نہیں

۳

حسرتِ لذّتِ آزار رہی جاتی ہےجادۂ راہِ وفا، جز دمِ شمشیر نہیں

۴

رنجِ نومیدیِ جاوید! گوارا رہیوخوش ہوں، گر نالہ زبونی کش تاثیر نہیں

۵

سر کھجاتا ہے، جہاں زخم سر اچّھا ہو جاۓلذّتِ سنگ بہ اندازۂ تقدیر نہیں

۶

جب کرم رخصتِ بیباکی و گستاخی دےکوئی تقصیر، بجز خجلتِ تقصیر، نہیں

۷

غالب اپنا یہ عقیدہ ہے، بقولِ ناسخ:"آپ بے بہرہ ہے، جو معتقدِ میر نہیں"

۹۳

مت مردمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں

۱

مت مردمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیںہیں جمع سویدا ۓ دلِ چشم میں آہیں

۹۴

برشکالِ گریۂ عاشق ہے، دیکھا چاہیے

۱

برشکالِ گریۂ عاشق ہے، دیکھا چاہیےکھل گئی مانندِ گل سو جا سے دیوارِ چمن

۲

الفتِ گل سے غلط ہے دعوی ۓ وارستگیسرو ہے، با وصفِ آزادی، گرفتارِ چمن

۹۵

عشق تاثیر سے نومید نہیں

۱

عشق تاثیر سے نومید نہیںجاں سپاری، شجرِ بید نہیں

۲

سلطنت دست بہ دست آئی ہےجامِ مۓ خاتمِ جمشید نہیں

۳

ہے تجلّی تری، سامانِ وجودذرّہ بے پرتوِ خورشید نہیں

۴

رازِ معشوق نہ رسوا ہو جاۓورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں

۵

گردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہےغمِ محرومیِ جاوید نہیں

۶

کہتے ہیں، جیتے ہیں اُمّید پہ لوگہم کو جینے کی بھی اُمّید نہیں

۹۶

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

۱

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں

۲

دلِ آشفتگاں خالِ کنجِ دہن کےسویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیں

۳

ترے سرو قامت سے اک قدِّ آدمقیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں

۴

تماشا! کہ اے محوِ آئینہ داریتجھے کس تمنّا سے ہم دیکھتے ہیں

۵

سراغِ تفِ نالہ لے، داغِ دل سےکہ شبرو کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

۶

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس، غالب!تماشاۓ اہلِ کرم دیکھتے ہیں

۹۷

ملتی ہے خوۓ یار سے نار التہاب میں

۱

ملتی ہے خوۓ یار سے نار التہاب میںکافر ہوں، گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں

۲

کب سے ہوں، کیا بتاؤں، جہانِ خراب میںشبِ ہاۓ ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں

۳

تا پھر نہ انتظار میں نیند آۓ، عمر بھرآنے کا عہد کر گئے، آۓ جو خواب میں

۴

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوںمیں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

۵

مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جامساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

۶

جو منکرِ وفا ہو، فریب اس پہ کیا چلے؟کیوں بدگماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں

۷

میں مضطرب ہوں وصل میں، خوفِ رقیب سےڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں

۸

میں اور حظِّ وصل، خدا ساز بات ہےجاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں

قطعہ

۹

ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کےاک شکن پڑی ہوئی طرفِ نقاب میں

۱۰

لاکھوں لگاؤ، اک چرانا نگاہ کالاکھوں بناؤ، ایک بگڑنا عتاب میں

۱۱

وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پاۓجس نالے سے شگاف پڑے آفتاب میں

۱۲

وہ سحر مدّعا طلبی میں نہ کام آۓجس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں

۱۳

غالب چھٹی شراب، پر اب بھی کبھی کبھیپیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں

۹۸

کل کے لیے کر آج نہ خِسّت شراب میں

۱

کل کے لیے کر آج نہ خِسّت شراب میںیہ سوءِ ظن ہے ساقیِ کوثر کے باب میں

۲

ہیں آج کیوں ذلیل، کہ کل تک نہ تھی پسندگستاخیِ فرشتہ ہماری جناب میں

۳

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماعگر وہ صداۓ سماعی ہے چنگ و رباب میں

۴

رو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمےنے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں

۵

اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہےجتنا کہ وہم و غیر سے ہوں پیچ و تاب میں

۶

اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہےحیراں ہوں، پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں

۷

ہے مشتمل نمودِ صور پر وجودِ بحریاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں

۸

شرم اک اداۓ ناز ہے، اپنے ہی سے سہیہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں

۹

آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوزپیشِ نظر ہے آئنہ دائم نقاب میں

۱۰

ہے غیب غیب، جس کو سمجھتے ہیں ہم شہودہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں

۱۱

غالب ندیمِ دوست سے آتی ہے بوۓ دوستمشغولِ حق ہوں، بندگیِ بو تراب میں

۹۹

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

۱

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میںمقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

۲

چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوںہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں

۳

جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار باراے کاش! جانتا نہ ترے رہگزر کو میں

۴

ہے کیا جو کس کے باندھیے، میری بلا ڈرےکیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں

۵

لو، وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہےیہ جانتا اگر تو، لٹاتا نہ گھر کو میں

۶

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھپہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

۷

خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرارکیا پوچھتا ہوں اس بتِ بیداد گر کو میں

۸

پھر بیخودی میں بھول گیا راہِ کوۓ یارجاتا، وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں

۹

اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہلِ دہر کاسمجھا ہوں دلپذیر متاعِ ہنر کو میں

۱۰

غالب! خدا کرے کہ سوارِ سمندِ نازدیکھوں علی بہادرِ عالی گہر کو میں

۱۰۰

ذکرِ میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں

۱

ذکرِ میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیںغیر کی بات بگڑ جاۓ تو کچھ دور نہیں

۲

وعدۂ سیرِ گلستاں ہے، خوشا طالعِ شوق!مژدۂ قتل مقدّر ہے، جو مذکور نہیں

۳

شاہدِ ہستیِ مطلق کی کمر ہے عالملوگ کہتے ہیں کہ ہے، پر ہمیں منظور نہیں

۴

قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا، لیکنہم کو تقلیدِ تنک ظرفیِ منصور نہیں

۵

حسرت، اے ذوقِ خرابی! کہ وہ طاقت نہ رہیعشق پُر عربدہ کی گوں تنِ رنجور نہیں

۶

میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمھیںکس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں

۷

ظلم کر ظلم، اگر لطف دریغ آتا ہوتو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں

۸

صاف دُردی کش پیمانۂ جم ہیں ہم لوگواسے وہ بادہ کہ افسردۂ انگور نہیں

۹

ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی، غالب!میرے دعوے پہ یہ حجّت ہے کہ مشہور نہیں

۱۰۱

نالہ، جز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد! نہیں

۱

نالہ، جز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد! نہیںہے تقاضاۓ جفا، شکوۂ بیداد نہیں

۲

عشق و مزدوریِ عشرت گہِ خسرو، کیا خوب!ہم کو تسلیم نکو نامیِ فرہاد نہیں

۳

کم نہیں وہ بھی خرابی میں، پہ وسعت معلومدشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں

۴

اہلِ بینش کو ہے طوفانِ حوادث مکتبلطمۂ موج کم از سیلیِ استاد نہیں

۵

واۓ محرومیِ تسلیم و بدا حالِ وفاجانتا ہے کہ ہمیں طاقتِ فریاد نہیں

۶

رنگِ تمکینِ گل و لالہ پریشاں کیوں ہےگر چراغانِ سرِ رہگزرِ باد نہیں

۷

سبزۂ گل کے تلے بند کرے ہے گلچیںمژدہ! اے مرغ، کہ گلزار میں صیّاد نہیں

۸

نفی سے کرتی ہے اثبات ترواش، گویادی ہے جاۓ دہنِ اس کو، دمِ ایجاد نہیں

۹

کم نہیں جلوہ گری میں تیرے کوچے سے بہشتیہی نقشہ ہے، ولے اس قدر آباد نہیں

۱۰

کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت، غالب؟تم کو بے مہریِ یارانِ وطن یاد نہیں؟

۱۰۲

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

۱

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہایاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

۲

تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئےتیرا پتا نہ پائیں، تو ناچار کیا کریں

۳

کیا شمع کے نہیں ہیں ہواخواہ اہلِ بزمہو غم ہی جاں گداز تو غمخوار کیا کریں

۱۰۳

ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر

۱

ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگرعشق کا اس کو گماں، ہم بے زبانوں پر نہیں

۱۰۴

قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آنا

۱

قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آناتعجّب سے وہ بولا: "یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں؟"

۲

دلِ نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے، غالب!نہ کر سرگرم اس کافر کو الفت آزمانے میں

۱۰۵

زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسد!

۱

زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسد!وگرنہ ہم تو توقّع زیادہ رکھتے ہیں

۱۰۶

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

۱

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیںکبھی صبا کو، کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں

۲

وہ آۓ گھر میں ہمارے، خدا کی قدرت ہےکبھی ہم ان کو، کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

۳

نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کویہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں

۴

ترے جواہرِ طرفِ کلہ کو کیا دیکھیںہم اوجِ طالعِ لعل و گہر کو دیکھتے ہیں

۱۰۷

نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں

۱

نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیںشبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیں

۲

کوئی کہے کہ شبِ مہ میں کیا برائی ہے؟بلا سے، آج اگر دن کو ابر و باد نہیں

۳

جو آؤں سامنے ان کے تو مرحبا نہ کہیںجو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیر باد نہیں

۴

کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیںکہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں؟

۵

علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شرابگداۓ کوچۂ مۓ خانہ نامراد نہیں

۶

جہاں میں ہو غم و شادیِ بہم، ہمیں کیا کام!دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں

۷

تم ان کے وعدے کا ذکر ان سے کیوں کرو، غالب؟یہ کہہ کہ تم کہو، اور وہ کہیں کہ یاد نہیں

۱۰۸

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں

۱

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں

۲

آہ کا کس نے اثر دیکھا ہےہم بھی اک اپنی ہوا باندھتے ہیں

۳

تیری فرصت کے مقابل، اے عمر!برق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں

۴

قیدِ ہستی سے رہائی معلوماشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں

۵

نشۂ رنگ سے ہے واشدِ گلمست کب بندِ قبا باندھتے ہیں

۶

غلطی ہاۓ مضامیں مت پوچھلوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں

۷

اہلِ تدبیر کی واماندگیاں!آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں

۸

سادہ پُر کار ہیں خوباں، غالب!ہم سے پیمانِ وفا باندھتے ہیں

۱۰۹

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

۱

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میںخاک ایسی زندگی پہ کہ پتّھر نہیں ہوں میں

۲

کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جاۓ دلانسان ہوں، پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

۳

یا رب! زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے؟لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرّر نہیں ہوں میں

۴

حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطےآخر گنہگار ہوں، کافر نہیں ہوں میں

۵

کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے؟لعل و زمرّد و زر و گوہر نہیں ہوں میں

۶

رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ؟رتبے میں مہر و ماہ سے کمتر نہیں ہوں میں

۷

کرتے ہو مجھ کو منعِ قدم بوس، کس لیے؟کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں؟

۸

غالب! وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعاوہ دن گئے کہ کہتے تھے "نوکر نہیں ہوں میں"

۱۱۰

سب کہاں، کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

۱

سب کہاں، کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیںخاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

۲

یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاںلیکن اب نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں

۳

تھیں بناتُ النعش گردوں دن کو پردے میں نہاںشب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں

۴

قید میں یعقوب نے لی، گو، نہ یوسف کی خبرلیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہو گئیں

۵

سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، پر زنانِ مصر سےہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہِ کنعاں ہو گئیں

۶

جوۓ خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراقمیں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں

۷

ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقامقدرتِ حق سے، سہی، حوریں اگر واں ہو گئیں

۸

نیند اس کی ہے، دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی ہیںتیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں

۹

میں چمن میں کیا گیا، گویا دبستاں کھل گیابلبلیں سن کر مرے نالے، غزل خواں ہو گئیں

۱۰

وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں، یا رب! دل کے پارجو مری کوتاہیِ قسمت سے مژگاں ہو گئیں

۱۱

بسکہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پےمیری آہیں بخیۂ چاکِ گریباں ہو گئیں

۱۲

واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب؟یاد تھیں جتنی دعائیں، صرفِ درباں ہو گئیں

۱۳

جاں فزا ہے بادہ، جس کے ہاتھ میں جام آ گیاسب لکیریں ہاتھ کی، گویا رگِ جاں ہو گئیں

۱۴

ہم موحّد ہیں، ہمارا کیش ہے ترکِ رسومملّتیں جب مٹ گئیں، اجزاۓ ایماں ہو گئیں

۱۵

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنجمشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

۱۶

یوں ہی گر روتا رہا، غالب! تو اے اہلِ جہاںدیکھنا ان بستیوں کو، تم کہ ویراں ہو گئیں

۱۱۱

دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں

۱

دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیںیعنی، ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں

۲

دل کو نیازِ حسرتِ دیدار کر چکےدیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار بھی نہیں

۳

ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہےدشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں

۴

بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے، اور یاںطاقت بہ قدرِ لذّتِ آزار بھی نہیں

۵

شورِ پریدگی کے ہاتھ سے ہے، سر وبالِ دوشصحرا میں، اے خدا! کوئی دیوار بھی نہیں

۶

گنجائشِ عداوتِ اغیار یک طرفیاں دل میں ضعف سے ہوس یار بھی نہیں

۷

ڈر نالہ ہاۓ زار سے میرے، خدا کو مانآخر نواۓ مرغِ گرفتار بھی نہیں

۸

دل میں ہے یار کی صفِ مژگاں سے کشمکشحالانکہ طاقتِ خلشِ خار بھی نہیں

۹

اس سادگی پہ کون نہ مر جاۓ، اے خدا!لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

۱۰

دیکھا اسد کو خلوت و جلوت میں بارہادیوانہ گر نہیں ہے، تو ہشیار بھی نہیں

۱۱۲

نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے درخور مرے تن میں

۱

نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے درخور مرے تن میںہوا ہے تارِ اشکِ یاس رشتہ چشمِ سوزن میں

۲

ہوئی ہے مانعِ ذوقِ تماشا خانہ ویرانیکفِ سیلاب باقی ہے بہ رنگِ پنبہ روزن میں

۳

ودیعت خانۂ بیدادِ کاوش ہاۓ مژگاں ہوںنگیں نامِ شاہد ہے، مرا ہر قطرہ خوں تن میں

۴

بیاں کس سے ہو ظلمت گستریِ میری شبستاں کیشبِ مہ ہو، جو رکھ دیں پنبہ دیواروں کے روزن میں

۵

نکوہش مانعِ بے ربطیِ شورِ جنوں آئیہوا ہے خندۂ احباب بخیہ جیبِ و دامن میں

۶

ہوۓ اس مہرِ وش کے جلوۂ تمثال کے آگےپرافشاں، جو مہرِ آئنے میں مثلِ ذرّہ روزن میں

۷

نہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں، پہ صحبت مخالف ہےجو گل ہوں تو ہوں گلخن میں، جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں

۸

ہزاروں دل دیے جوشِ جنونِ عشق نے مجھ کوسیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرہ خوں تن میں

۹

اسد! زندانیِ تاثیرِ الفت ہاۓ خوباں ہوںخمِ دستِ نوازش ہو گیا ہے طوقِ گردن میں

۱۱۳

مرے جہاں سکے، اپنی نظر میں خاک نہیں

۱

مرے جہاں سکے، اپنی نظر میں خاک نہیںسواۓ خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیں

۲

مگر، غبار ہوۓ پر، ہوا اڑا لے جاۓوگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں

۳

یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہےکہ غیرِ جلوۂ گل رہگزر میں خاک نہیں

۴

بھلا اسے نہ سہی، کچھ مجھی کو رحم آتااثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیں

۵

خیالِ جلوۂ گل سے خراب ہیں میکششرابِ خانے کے دیوار و در میں خاک نہیں

۶

ہوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہسواۓ حسرتِ تعمیر، گھر میں خاک نہیں

۷

ہمارے شعر میں اب صرف دل لگی کے، اسد!کھلا کہ فائدہ عرضِ ہنر میں خاک نہیں

۱۱۴

دل ہی تو ہے، نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آۓ کیوں

۱

دل ہی تو ہے، نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آۓ کیوںروئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستاۓ کیوں

۲

دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیںبیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم، غیر ہمیں اٹھاۓ کیوں

۳

جب وہ جمال دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روزآپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپاۓ کیوں

۴

دشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہتیرا ہی عکس رخ سہی، سامنے تیرے آۓ کیوں

۵

قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاۓ کیوں

۶

حسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بو الہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے، غیر کو آزماۓ کیوں

۷

واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجاب پاسِ وضعراہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلاۓ کیوں

۸

ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہیجس کو ہو دین و دل عزیز، اس کی گلی میں جاۓ کیوں

۹

غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیںروئیے زار زار کیا، کیجیے ہاۓ ہاۓ کیوں؟

۱۱۵

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یوں

۱

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یوںبوسے کو پوچھتا ہوں میں، منہ سے مجھے بتا، کہ یوں

۲

پرسشِ طرزِ دلبری کیجیے کیا کہ بن سکےاس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا، کہ یوں

۳

رات کے وقت مۓ پیے ساتھ رقیب کو لیےآۓ وہ یاں خدا کرے، پر نہ کرے خدا کہ یوں

۴

غیرے سے رات کیا بنی، یہ جو کہا تو دیکھیےسامنے آن بیٹھنا، اور یہ دیکھنا کہ یوں

۵

بزم میں اس کے رو بہ رو کیوں نہ خموش بیٹھیےاس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدّعا کہ یوں

۶

میں نے کہا کہ "بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی"سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں

۷

مجھ سے کہا جو یار نے "جاتے ہیں ہوش کس طرح؟"دیکھ کے میری بیخودی چلنے لگی ہوا کہ یوں

۸

کب مجھے کوۓ یار میں رہنے کی وضع یاد تھیآئنہ دار بن گئی حیرتِ نقش پا کہ یوں

۹

گر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوالموج، محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں

۱۰

جو یہ کہے کہ "ریختہ کیوں کہ ہو رشکِ فارسی؟"گفتۂ غالب ایک بار پڑھ کے، اسے سنا کہ یوں

حرف و

۱۱۶

حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرم تماشا ہو

۱

حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرم تماشا ہوکہ چشمِ تنگ شاید کثرتِ نظارہ سے وا ہو

۲

بہ قدرِ حسرتِ دل، چاہیے ذوقِ معاصی بھیبھروں یک گوشۂ دامن، گر آبِ ہفت دریا ہو

۳

اگر وہ سرو قد، گرمِ خرامِ ناز آ جاوےکفِ ہر خاکِ گلشن، شکلِ قمری، نالہ فرسا ہو

۱۱۷

کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں

۱

کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیںبھولا ہوں حقِّ صحبتِ اہلِ کنشت کو؟

۲

طاعت میں تا رہے نہ مۓ و انگبیں کی لاگدوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو

۳

ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسمِ ثواب سےٹیڑھا لگا ہے قط، قلمِ سرنوشت کو

۴

غالب کچھ اپنی سعی سے لینا نہیں مجھےخرمن جلے، اگر نہ ملخ کھاۓ کشت کو

۱۱۸

وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو

۱

وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہوکیجیے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو

۲

چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگِ اختلاط کاہے دل پہ بارِ نقشِ محبّت ہی کیوں نہ ہو

۳

ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہہر چند برسبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہو

۴

پیدا ہوئی ہے، کہتے ہیں، ہر دردِ کی دوایوں ہو تو چارۂ غمِ الفت ہی کیوں نہ ہو

۵

ڈالا نہ بیکسی نے کسی سے معاملہاپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو

۶

ہے آدمی بجاۓ خود اک محشرِ خیالہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

۷

ہنگامہ، زبونیِ ہمّت ہے، بے التفاتحائل نہ کیجیے دہر سے عبرت ہی کیوں نہ ہو

۸

وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیںاپنے سے کر، نہ غیر سے، وحشت ہی کیوں نہ ہو

۹

مٹتا ہے فوتِ فرصتِ ہستی کا غم کوئی؟عمرِ عزیز صرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہو

۱۰

اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں، اسد!اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو

۱۱۹

قفس میں ہوں، گر اچّھا بھی نہ جانیں، میرے شیون کو

۱

قفس میں ہوں، گر اچّھا بھی نہ جانیں، میرے شیون کومرا ہونا برا کیا ہے، نواسنجانِ گلشن کو

۲

نہیں گر ہمدمی آساں، نہ ہو، یہ رشک کیا کم ہےنہ دی ہوتی خدایا! آرزوۓ دوست، دشمن کو

۳

نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو، اس جراحت پرکیا سیلے میں، جس نے، خوں چکاں مژگانِ سوزن کو

۴

خدا شرماۓ ہاتھوں کو، کہ رکھتے ہیں کششِ کش میںکبھی میرے گریباں کو، کبھی جاناں کے دامن کو

۵

ابھی ہم قتل گہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیںنہیں دیکھا شناور جوۓ خوں میں تیرے توسن کو

۶

ہنوز اک پارچہ، جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کاکیا بے تاب کاں میں جنبشِ جوہر نے آہن کو

۷

خوشی کیا، کھیت پر میرے، اگر سو بار ابر آۓسمجھتا ہوں کہ ڈھونڈتے ہے ابھی سے برقِ خرمن کو

۸

وفاداری بہ شرطِ استواری، اصلِ ایماں ہےمرے بُت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو

۹

شہادت تھی مری قسمت میں، جو دی تھی یہ خو مجھ کوجہاں تلوار کو دیکھا، جھکا دیتا تھا گردن کو

۱۰

نہ لٹتا دن کو، تو کب رات کو یوں بے خبر سوتارہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو

۱۱

سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواب اس کے؟جگر کیا؟ ہم نہیں رکھتے، کہ کھودیں جا کے معدن کو

۱۲

مرے شاہِ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں، غالب!فریدون و جم و کیخسرو و داراب و بہمن کو

۱۲۰

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں

۱

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤںرکھتا ہے ضد سے، کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں

۲

دی سادگی سے جان، پڑوں کوہکن کے پاؤںہیہات! کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں

۳

بھاگے تھے ہم بہت، سو اسی کی سزا ہے یہہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں

۴

مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں، جو دور دورتن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں

۵

اللہ رے! ذوقِ دشت نوردی، کہ بعدِ مرگچلتے ہیں خود بخود مرے اندر کفن کے پاؤں

۶

ہے جوششِ گلِ بہار میں یاں تک کہ ہر طرفاڑتے ہوۓ، الجھتے ہیں مرغِ چمن کے پاؤں

۷

شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیںدکھتے ہیں آج اس بتِ نازک بدن کے پاؤں

۸

غالب! مرے کلام میں کیوں کر مزہ نہ ہوپیتا ہوں دھو کے خسروِ شیریں سخن کے پاؤں

۱۲۱

واں اس کو ہولِ دل ہے، تو یاں میں ہوں شرمسار

۱

واں اس کو ہولِ دل ہے، تو یاں میں ہوں شرمساریعنی، یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو

۲

اپنے کو دیکھتا نہیں، ذوقِ ستم تو دیکھآئنہ تا کہ، دیدۂ نخچیر سے نہ ہو

۱۲۲

واں پہنچ کر جو غش آتا پے بہ پے، ہے ہم کو

۱

واں پہنچ کر جو غش آتا پے بہ پے، ہے ہم کوصد رۂ آہنگِ زمیں بوسِ قدم، ہے ہم کو

۲

دل کو میں، اور مجھے دل، محوِ وفا رکھتا ہےکس قدر ذوقِ گرفتاری ہے ہم کو

۳

ضعف سے، نقشِ پۓ مور ہے طوقِ گردنتیرے کوچے سے کہاں طاقتِ رم، ہے ہم کو

۴

جان کر کیجیے تغافل کہ کچھ اُمّید بھی ہویہ نگاہِ غلط انداز تو سم، ہے ہم کو

۵

رشک ہم طرحی و دردِ اثرِ بانگِ حزیںنالۂ مرغِ سحر دمِ تیغِ دو دم، ہے ہم کو

۶

سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرّر چاہاہنس کے بولے کہ "ترے سر کی قسم، ہے ہم کو"

۷

دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ، ولیکن ناچارپاسِ بے رونقیِ دیدہ اہم، ہے ہم کو

۸

تم وہ نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہوہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم، ہے ہم کو

قطعہ

۹

لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا، یعنیہوس سیر و تماشا، سو وہ کم، ہے ہم کو

۱۰

مقطعِ سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہرعزمِ سیرِ نجف و طوفِ حرم، ہے ہم کو

۱۱

لیے جاتی ہے کہیں ایک توقّع، غالب!جادۂ رہ کششِ کافِ کرم، ہے ہم کو

۱۲۳

تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو

۱

تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہومجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو

۲

بکتے نہیں، مواخذۂ روزِ حشر سےقاتل اگر رقیب ہے، تو تم گواہ ہو

۳

کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیںمانا کہ تم بشر نہیں، خورشید و ماہ ہو

۴

ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تارمرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو

۵

جب مۓ کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قیدمسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہو

۶

سنتے ہیں، جو بہشت کی تعریف، سب درستلیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو

۷

غالب بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیںدنیا ہو یا رب! اور مرا بادشاہ ہو

۱۲۴

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو

۱

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہوکہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیونکر ہو؟

۲

ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصالکہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں، ہو تو کیونکر ہو

۳

ادب ہے، اور یہی کشمکش تو کیا کیجےحیا ہے، اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو

۴

تمھیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کابتوں کی ہو، اگر ایسی ہی خو تو کیونکر ہو

۵

الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئنہجو تم سے شہر میں ہوں ایک دو، تو کیونکر ہو؟

۶

جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا ساوہ شخص دن نہ کے، رات کو، تو کیونکر ہو

۷

ہمیں پھر ان سے اُمّید، اور انھیں ہماری قدرہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو

۸

غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلّی کانہ مانے دیدۂ دیدار جو تو کیونکر ہو؟

۹

بتاؤ، اس مژہ کو دیکھ کر، کہ مجھ کو قرارنیش، جو رگِ جاں میں فرو، تو کیونکر ہو

۱۰

مجھے جنوں نہیں، غالب! ولے، بہ قولِ حضور"فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیونکر ہو"

۱۲۵

کسی کو دے کے دل کوئی، نواسنجِ فغاں کیوں ہو

۱

کسی کو دے کے دل کوئی، نواسنجِ فغاں کیوں ہونہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

۲

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیںسبک سر بن کے کیا پوچھیں، کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو

۳

کیا غمخوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کونہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا رازداں کیوں ہو

۴

وفا کیسی، کہاں کا عشق، جب سر پھوڑنا ٹھہراتو پھر، اے سنگدل! تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو

۵

قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدمگری ہے جس پہ کل بجلی، وہ میرا آشیاں کیوں ہو

۶

یہ کہہ سکتے ہو، "ہم دل میں نہیں ہیں"، پر یہ بتلاؤکہ جب دل میں تمھیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو

۷

غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ، دیکھو جرم کس کا ہے؟نہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو

۸

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہےہوۓ تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

۹

یہی ہے آزمانا، تو ستانا کس کو کہتے ہیں؟عدو کے ہو لیے، جب تم، تو میرا امتحاں کیوں ہو

۱۰

کہا تم نے کہ "کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی؟"بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ "ہاں، کیوں ہو"

۱۱

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو، غالب؟ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

۱۲۶

رہیے اب ایسی جگہ چل کر، جہاں کوئی نہ ہو

۱

رہیے اب ایسی جگہ چل کر، جہاں کوئی نہ ہوہم سخن کوئی نہ ہو، اور ہم زباں کوئی نہ ہو

۲

بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیےکوئی ہمسایہ نہ ہو، اور پاسباں کوئی نہ ہو

۳

پڑیے گر بیمار، تو کوئی نہ ہو بیمار داراور اگر مر جائیے، تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

حرف ہ

۱۲۷

از مہر تا بہ ذرّہ، دل و دل ہے آئنہ

۱

از مہر تا بہ ذرّہ، دل و دل ہے آئنہطوطی کو شش جہت سے مقابل ہے آئنہ

۱۲۸

ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غمکدہ

۱

ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غمکدہجس کی بہار یہ ہو، پھر اس کی خزاں نہ پوچھ

۲

ناچار بیکسی کی بھی حسرت اٹھائیےدشواریِ رہ و ستمِ ہمراہاں نہ پوچھ

۱۲۹

گھر میں تھا کیا، کہ ترا غم اسے غارت کرتا

۱

گھر میں تھا کیا، کہ ترا غم اسے غارت کرتاوہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہے

۱۳۰

مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے

۱

مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیےبھبوں پاس آنکھ، قبلۂ حاجات! چاہیے

۲

عاشق ہوۓ ہیں آپ بھی اک اور شخص پرآخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے

۳

دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کیہاں، کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے

۴

سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّریتقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے

۵

نے سے غرض نشاط ہے، کس رو سیاہ کواک گو نہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے

۶

ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جداہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے

قطعہ

۷

سر پاۓ خم پہ چاہیے ہنگامِ بیخودیرو سوۓ قبلہ، وقتِ مناجات چاہیے

۸

یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفاتعارف ہمیشہ مستِ مۓ ذات چاہیے

۹

نشو و نما ہے اصل سے غالب! فروع کوخاموشی ہی سے نکلے ہے، جو بات چاہیے

۱۳۱

بساطِ عجز میں تھا ایک دل، یک قطرہ خوں، وہ بھی

۱

بساطِ عجز میں تھا ایک دل، یک قطرہ خوں، وہ بھیسو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں، وہ بھی

۲

رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے، تکلّف سےتکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں، وہ بھی

۳

خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشےمرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں، وہ بھی

۴

نہ کرتا کاش! نالہ، مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم!کہ ہوگا باعثِ افزائشِ دردِ دروں، وہ بھی

۵

نہ اتنا بُرشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤمرے دریاۓ بے تابی میں ہے اک موجِ خوں، وہ بھی

۶

ہوس، عشرت کی خواہش، ساقیِ گردوں سے کیا کیجےلیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں، وہ بھی

۷

مرے دل میں ہے، غالب! شوقِ وصل و شکوۂ ہجراںخدا وہ دن کرے، جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی

۱۳۲

ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے

۱

ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سےتنگ آۓ ہیں ہم، ایسے خوشامد طلبوں سے

۲

ہے دورِ قدح وجہِ پریشانیِ صہبایک بار لگا دو خمِ مۓ میرے لبوں سے

۳

رندانِ درِ مۓ کدہ گستاخ ہیں زاہدزنہار! نہ ہونا طرفِ ان بے ادبوں سے

۴

بیدادِ وفا دیکھ، کہ جاتی رہی آخرہر چند مری جان کو تھا ربطِ لبوں سے

۱۳۳

تا، ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا

۱

تا، ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جاسن لیتے ہیں، گو ذکر ہمارا نہیں کرتے

۲

غالب! ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کووہ سن کے بلا لیں، یہ اجارا نہیں کرتے

۱۳۴

غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی

۱

غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کیفلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی

۲

کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا، یا رب!قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی

۳

لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہےولے مشکل ہے حکمت دل میں سوزِ غم چھپانے کی

۴

اُنھیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھااٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی

۵

ہماری سادگی تھی، التفاتِ ناز پر مرناترا آنا نہ تھا ظالم! مگر تمہید جانے کی

۶

فلک کو بارِ حوادث کا تحمّل کر نہیں سکتیمری طاقت کہ ضامن تھی، بتوں کے ناز اٹھانے کی

۷

کہوں کیا خوبیِ اوضاعِ ابناۓ زماں، غالب!بدی کی اس نے، جس سے، ہم نے کی تھی بارہا نیکی

۱۳۵

کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے

۱

کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہےجس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے

۲

ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سےپرتو سے آفتاب کے، ذرّے میں جان ہے

۳

حالانکہ ہے یہ سیلیِ خارا سے لالہ رنگغافل کو میرے شیشے پہ مۓ کا گمان ہے

۴

کی اس نے گرم، سینۂ اہلِ ہوس میں جاآوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے

۵

کیا خوب، تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا؟بس چپ رہو، ہمارے بھی منہ میں زبان ہے

۶

بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوارِ یار میںفرماں رواۓ کشورِ ہندوستان ہے

۷

ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیاکس سے کہوں کہ داغِ جگر کا نشان ہے

۸

ہے، بارے، اعتمادِ وفاداری اس قدرغالب! ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے

۱۳۶

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری، بلے بلے!

۱

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری، بلے بلے!کیا ہوئی ظالم! تری غفلت شعاری، بلے بلے!

۲

تیرے دل میں گر نہ تھا آشوبِ غم کا حوصلہتُو نے پھر کیوں کی تھی میری غمگساری، بلے بلے!

۳

کیوں مری غمخوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیالدشمنی اپنی تھی، میری دوستداری، بلے بلے!

۴

عمرِ بھر کا تُو نے پیمانِ وفا باندھا تو کیاعمر کو بھی تو نہیں ہے پائداری، بلے بلے!

۵

زہر لگتی ہے مجھے آب و ہواۓ زندگییعنی تجھ سے تھی اِسے ناسازگاری، بلے بلے!

۶

گل فشانی ہاۓ نازِ جلوہ کو کیا ہو گیاخاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری، بلے بلے!

۷

شرمِ رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میںختم ہے اُلفت کی تجھ پر پردہ داری، بلے بلے!

۸

خاک میں ناموسِ پیمانِ محبّت مل گئیاٹھ گئی دنیا سے راہ و رسمِ یاری، بلے بلے!

۹

ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہادل پہ اک لگنے نہ پایا زخمِ کاری، بلے بلے!

۱۰

کس طرح کاٹے کوئی شب ہاۓ تارِ برشکالہے نظر خوکردۂ اختر شماری، بلے بلے!

۱۱

گوش منجورِ پیام و چشم محرومِ جمالایک دل، تس پر یہ نا اُمّید واری، بلے بلے!

۱۲

عشق نے پکڑا نہ تھا، غالب! ابھی وحشت کا رنگرہ گیا، تھا دل میں جو کچھ ذوقِ خواری، بلے بلے!

۱۳۷

سرگشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے

۱

سرگشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہےتسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے

۲

لیتا نہیں مرے دلِ آوارہ کی خبراب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے

۳

کیجے بیاں سرورِ تبِ غم کہاں تلکہر مو مرے بدن پہ زبانِ سپاس ہے

۴

ہے وہ غرورِ حسن سے بیگانۂ وفاہر چند اس کے پاس دلِ حق شناس ہے

۵

پی جس قدر ملے، شبِ مہتاب میں شراباس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے

۶

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف، اسد!مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اُداس ہے

۱۳۸

گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہے

۱

گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہےخوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

۲

کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہدل فردِ جمع و خرجِ زبانہاۓ لال ہے

۳

کس پردے میں ہے آئنہ پرداز، اے خدا!رحمت کہ عذر خواہِ لبِ بے سوال ہے

۴

ہے ہے! خدا نخواستہ، وہ اور دشمنی!اے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے

۵

مشکیں لباس کعبہ علی کے قدم سے جاننافِ زمین ہے، نہ کہ نافِ غزال ہے

۶

وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھادریا زمین کو عرقِ انفعال ہے

۷

ہستی کے مت فریب میں آ جائیو، اسد!عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے

۱۳۹

حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ، اے آرزوۓ خام!

۱

حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ، اے آرزوۓ خام!دل، جوششِ گریہ میں ہے، ڈوبی ہوئی اسامی

۲

اُس شمع کی طرح سے، جس کو کوئی بجھا دےمیں بھی جلے ہوؤں میں ہوں، داغِ ناتمامی

۱۴۰

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو

۱

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھوحذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے

۲

ولا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخرنہ گریۂ سحری ہے، نہ آہِ نیم شبی ہے

۱۴۱

پالکی میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے

۱

پالکی میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرےکندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے

۱۴۲

ایک جا حرفِ وفا لکھا تھا، سو بھی مٹ گیا

۱

ایک جا حرفِ وفا لکھا تھا، سو بھی مٹ گیاظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے

۲

جی جلے، ذوقِ فنا کی ناتمامی پر نہ کیوںہم نہیں جلتے، نفس ہر چند آتش بار ہے

۳

آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صداہر کوئی درماندگی میں نالے سے ناچار ہے

۴

ہے وہی بدمستیِ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہجس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے

۵

مجھ سے مت کہہ: "تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی"زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے

۶

آنکھ کی تصویر سرنامے پہ کھینچی ہے کہ تاتجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرتِ دیدار ہے

۱۴۳

مری ہستی فضاۓ حیرت آبادِ تمنّا ہے

۱

مری ہستی فضاۓ حیرت آبادِ تمنّا ہےجسے کہتے ہیں نالہ، وہ اسی عالم کا عنقا ہے

۲

خزاں کیا، فصلِ گل کہتے ہیں کس کو؟ کوئی موسم ہووہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے

۳

وفاۓ دلبراں ہے اتّفاقی، ورنہ اے ہمدم!اثرِ فریادِ دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے

۴

نہ لائی شوخیِ اندیشہ تاب، رنجِ نومیدیکفِ افسوس ملنا عہدِ تجدیدِ تمنّا ہے

۱۴۴

رحم کر ظالم! کہ کیا بودِ چراغ کشتہ ہے

۱

رحم کر ظالم! کہ کیا بودِ چراغ کشتہ ہےنبضِ بیمارِ وفا، دودِ چراغ کشتہ ہے

۲

دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیںورنہ یاں بے رونقی سودِ چراغ کشتہ ہے

۱۴۵

چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے

۱

چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہےسرمہ، تو کہوے کہ، دودِ شعلۂ آواز ہے

۲

پیکرِ عشّاق ساز طالعِ ناساز ہےنالہ گویا گردشِ سیّارہ کی آواز ہے

۳

دستگاہِ دیدۂ خوننبارِ مجنوں دیکھنایک بیاباں جلوۂ گل، فرشِ پا انداز ہے

۱۴۶

عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی

۱

عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہیمیری وحشت، تری شہرت ہی سہی

۲

قطع کیجے نہ تعلّق ہم سےکچھ نہیں ہے، تو عداوت ہی سہی

۳

میرے ہونے میں ہے کیا رسوائیاسے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی

۴

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنےغیر کو تجھ سے محبّت ہی سہی

۵

اپنی ہستی ہی سے ہو، جو کچھ ہوآگہی گر نہیں، غفلت ہی سہی

۶

عمر، ہر چند کہ ہے برق خرامدل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی

۷

ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیں؟نہ سہی عشق، مصیبت ہی سہی

۸

کچھ تو دے، اے فلکِ نا انصاف!آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی

۹

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گےبے نیازی تری عادت ہی سہی

۱۰

یار سے چھیڑ چلی جاۓ، اسد!گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

۱۴۷

ہے آرمیدگی میں نکوہشِ بجا مجھے

۱

ہے آرمیدگی میں نکوہشِ بجا مجھےصبحِ وطن ہے، خندۂ دنداں نما مجھے

۲

ڈھونڈے ہے اس مغنّیِ آتش نفس کو جیجس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے

۳

مستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیِ خیالتا، بازگشت سے نہ رہے مدّعا مجھے

۴

کرتا ہے، بسکہ باغ میں تو بے حجابیاںآنے لگی ہے نکہتِ گل سے حیا مجھے

۵

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہشعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

۱۴۸

زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری، غالب!

۱

زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری، غالب!ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے!

۱۴۹

اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے

۱

اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےبیٹھا رہا، اگرچہ اشارے ہوا کیے

۲

دل ہی تو ہے، سیاستِ درباں سے ڈر گیامیں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے؟

۳

رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجّادہ رہنِ مۓمدّت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کیے

۴

بے صرفہ ہی گزرتی ہے، ہو گرچہ عمرِ خضرحضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے!

۵

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم!تُو نے وہ گنجہاۓ گرانمایہ کیا کیے؟

۶

کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدوکس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے

۷

صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خودینے لگا ہے بوسہ، بغیر التجا کیے

۸

ضد کی ہے اور بات، مگر خو بری نہیںبھولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کیے

۹

غالب! تمھیں کہو کہ ملے گا جواب کیامانا کہ تم کہا کیے، اور وہ سنا کیے

۱۵۰

رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہے

۱

رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہےاس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے

۲

بیناۓ مۓ ہے سرو نشاطِ بہار مۓبالِ تدرو جلوۂ موجِ شراب ہے

۳

زخمی ہوا ہے پاشنہ پاۓ ثبات کانے بھاگنے کی گو نہ اقامت کی تاب ہے

۴

جاداد بادہ نوشیِ رنداں ہے شش جہتغافل، گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے

۵

نظّارہ کیا حریف ہو اس برقِ حسن کاجوششِ بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے

۶

میں، نامرادِ دل کی تسلّی کو کیا کروںمانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے

۷

گزرا اسد! مسرّت پیغامِ یار سےقاصد پہ مجھ کو رشکِ سوال و جواب ہے

۱۵۱

دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جاۓ ہے

۱

دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جاۓ ہےمیں اسے دیکھوں، بھلا! کب مجھ سے دیکھا جاۓ ہے

۲

ہاتھ دھو دل سے، یہی گرمی گر اندیشے میں ہےآبگینہ تندیِ صہبا سے پگھلا جاۓ ہے

۳

غیر کو، یا رب! وہ کیونکر منعِ گستاخی کرےگر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جاۓ ہے

۴

شوق کو یہ لَت، کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیےدل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جاۓ ہے

۵

دورِ چشمِ بد، تری بزمِ طرب سے، واہ واہ!نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جاۓ ہے

۶

گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشقپر ہم ایسے کھوۓ جاتے ہیں کہ وہ پا جاۓ ہے

۷

اس کی بزم آرائیاں سن کر، دلِ رنجور، یاںمثلِ نقشِ مدّعاۓ غیر بیٹھا جاۓ ہے

۸

ہوکے عاشق، وہ پری رخ اور نازک بن گیارنگ کھلتا جاۓ ہے، جتنا کہ اڑتا جاۓ ہے

۹

نقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیںکھینچتا ہے، جس قدر، اتنا ہی کھنچتا جاۓ ہے

۱۰

سایہ میرا مجھ سے، مثلِ دود، بھاگے ہے، اسد!پاس مجھ آتشِ بجاں کے کس سے ٹھہرا جاۓ ہے!

۱۵۲

گرمِ فریاد رکھا، شکلِ نہالی نے مجھے

۱

گرمِ فریاد رکھا، شکلِ نہالی نے مجھےتب امان، ہجر میں دی، برد لیالی نے مجھے

۲

نسیہ و نقدِ دو عالم کی حقیقت معلوملے لیا مجھ سے، مری ہمّتِ عالی نے مجھے

۳

کثرت آرائیِ وحدت ہے پرستاریِ وہمکر دیا کافر، ان اصنامِ خیالی نے مجھے

۴

ہوسِ گل کا تصوّر میں بھی کھٹکا نہ رہاعجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے

۱۵۳

کارگاہِ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے

۱

کارگاہِ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہےبرقِ خرمنِ راحت، خونِ گرم دہقاں ہے

۲

غنچہ تا شگفتن ہا، برگِ عافیت معلومباوجودِ دل جمعی، خوابِ گل پریشاں ہے

۳

ہم سے رنجِ بیتابی کس طرح اٹھایا جاۓداغِ پشتِ دستِ عجز، شعلہ خس بدنداں ہے

۱۵۴

اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ، غالب!

۱

اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ، غالب!ہم بیاباں میں ہیں، اور گھر میں بہار آئی ہے

۱۵۵

سادگی پہ اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے

۱

سادگی پہ اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہےبس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے

۲

دیکھنا تقدیر کی لذّت کہ جو اس نے کہامیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

۳

گرچہ ہے کس کس برائی سے، ولے، با ایں ہمہذکرِ میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

۴

بس ہجومِ نا اُمّیدی، خاک میں مل جاۓ گییہ جو اک لذّت ہماری سعیِ بے حاصل میں ہے

۵

رنج رہ کیوں کھینچیے، واماندگی کو عشق ہے!اٹھ نہیں سکتا ہمارا، جو قدم، منزل میں ہے

۶

جلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہی!فتنۂ شورِ قیامت کس کی آب و گل میں ہے؟

۷

ہے دلِ شوریدہ، غالب! طلسمِ پیچ و تابرحم کر اپنی تمنّا پر، کہ کس مشکل میں ہے

۱۵۶

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی

۱

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئیدونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی

۲

شق ہو گیا ہے سینہ، خوشا لذّتِ فراغتکلیفِ پردہ داری زخمِ جگر گئی

۳

وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاںاُٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی

۴

اڑتی پھرے ہے خاک مری کوۓ یار میںبارے اب، اے ہوا! ہوسِ بال و پر گئی

۵

دیکھو تو دلفریبیِ اندازِ نقشِ پاموجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی

۶

ہر بو الہوس نے حسن پرستی شعار کیاب آبروۓ شیوۂ اہلِ نظر گئی

۷

نظّارے نے بھی کام کیا واں نقاب کامستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی

۸

فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیاکل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی

۹

مارا زمانے نے، اسد اللہ خاں! تمھیںوہ ولولے کہاں، وہ جوانی کدھر گئی

۱۵۷

تسکیں کو ہم نہ روئیں، جو ذوقِ نظر ملے

۱

تسکیں کو ہم نہ روئیں، جو ذوقِ نظر ملےحورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے

۲

اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتلمیرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے

۳

ساقی گری کی شرم کرو آج، ورنہ ہمہر شب پیا ہی کرتے ہیں مۓ، جس قدر ملے

۴

تجھ سے تو کچھ کلام نہیں، لیکن اے ندیم!میرا سلام کہیو، اگر نامہ بر ملے

۵

تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیافرصت کشاکشِ غمِ پنہاں سے گر ملے

۶

لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریںجانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے

۷

اے ساکنانِ کوچۂ دلدار! دیکھناتم کو کہیں جو غالبِ آشفتہ سر ملے

۱۵۸

کوئی دن گر زندگانی اور ہے

۱

کوئی دن گر زندگانی اور ہےاپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے

۲

آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاںسوزِ غم ہاۓ نہانی اور ہے

۳

بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیںپر کچھ اب کی، سرگرانی اور ہے

۴

دے کے خط، منہ دیکھتا ہے نامہ برکچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے

۵

قاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوموہ بلاۓ آسمانی اور ہے

۶

ہو چکیں، غالب! بلائیں سب تمامایک مرگِ ناگہانی اور ہے

۱۵۹

کوئی امید بر نہیں آتی

۱

کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی

۲

موت کا ایک دن معیّن ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی

۳

آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی

۴

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہدپر طبیعت اِدھر نہیں آتی

۵

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتی

۶

کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیںمیری آواز گر نہیں آتی

۷

داغِ دل گر نظر نہیں آتابو بھی، اے چارہ گر! نہیں آتی؟

۸

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتی

۹

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے، پر نہیں آتی

۱۰

کعبے کس منہ سے جاؤ گے، غالب!شرم تم کو مگر نہیں آتی

۱۶۰

دل نادان تجھے ہوا کیا ہے

۱

دل نادان تجھے ہوا کیا ہےآخرِ اس درد کی دوا کیا ہے

۲

ہم ہیں مشتاق، اور وہ بیزاریا الٰہی! یہ ماجرا کیا ہے

۳

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوںکاش! پوچھو کہ مدّعا کیا ہے

قطعہ

۴

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ، اے خدا! کیا ہے

۵

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیںغمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے

۶

شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہےنگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے

۷

سبزہ و گل کہاں سے آۓ ہیںابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے

۸

ہم کو ان سے وفا کی ہے اُمّیدجو نہیں جانتے، وفا کیا ہے

۹

ہاں بھلا کر، ترا بھلا ہوگااور درویش کی صدا کیا ہے

۱۰

جان تم پر نثار کرتا ہوںمیں نہیں جانتا، دعا کیا ہے

۱۱

میں نے مانا کہ کچھ نہیں، غالب!مفت ہاتھ آۓ، تو برا کیا ہے

۱۶۱

کہتے تو ہو تم سب کہ "بتِ غالیہ مو آۓ"

۱

کہتے تو ہو تم سب کہ "بتِ غالیہ مو آۓ"یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی، کہ "وہ آۓ"

۲

ہوں کشمکشِ نزع میں، ہاں جاذبِ محبّت!کچھ کہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آۓ

۳

ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالمآنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آۓ

۴

ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرینہاں منہ سے، مگر بادۂ دوشینہ کی بو آۓ

۵

جلّاد سے ڈرتے ہیں، نہ واعظ سے جھگڑتےہم سمجھے ہوۓ ہیں اسے، جس بھیس میں جو آۓ

۶

ہاں! اہلِ طلب! کون سُنے طعنۂ نایافتدیکھا کہ وہ ملتا نہیں، اپنے ہی کو کھو آۓ

۷

اپنا نہیں وہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیںاس در پہ نہیں بار، تو کعبے ہی کو ہو آۓ

۸

کی ہمنفسوں نے اثرِ گریہ میں تقریراچّھے رہے، آپ اُس سے، مگر مجھ کو ڈبو آۓ

۹

اس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے، غالب!ہم بھی گئے واں، اور تری تقدیر کو رو آۓ

۱۶۲

پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

۱

پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہےسینہ جوباۓ زخمِ کاری ہے

۲

پھر جگر کھودنے لگا ناخنآمدِ فصلِ لالہ کاری ہے

۳

قبلۂ مقصدِ نگاہِ نیازپھر وہی پردۂ عماری ہے

۴

چشمِ دلّالِ جنسِ رسوائیدل خریدارِ ذوقِ خواری ہے

۵

وہی صد رنگ نالہ فرسائیوہی صد گونہ اشکباری ہے

۶

دل ہواۓ خرامِ ناز سے پھرمحشرستانِ بے قراری ہے

۷

جلوہ پھر عرضِ ناز کرتا ہےروزِ بازارِ جاں سپاری ہے

۸

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیںپھر وہی زندگی ہماری ہے

۹

پھر کھلا ہے درِ عدالتِ نازگرم بازارِ فوجداری ہے

۱۰

ہو رہا ہے جہان میں اندھیرزلف کی پھر سررشتہ داری ہے

۱۱

پھر دیا پارۂ جگر نے سوالایک فریاد و آہ و زاری ہے

۱۲

پھر ہوۓ ہیں گواہِ عشق طلباشکباری کا حکم جاری ہے

۱۳

دل و مژگاں کا جو مقدّمہ تھاآج پھر اُس کی روبکاری ہے

۱۴

بے خودی بے سبب نہیں، غالب!کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

۱۶۳

جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو، گر شادمانی کی

۱

جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو، گر شادمانی کینمک پاشِ خراشِ دل ہے لذّتِ زندگانی کی

۲

کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعیِ آزادیہوئی زنجیرِ موجِ آب کو فرصت روانی کی

۳

پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہِ طفلاں ہےشرارِ سنگ نے تُربت پہ میری، گل فشانی کی

۱۶۴

خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے

۱

خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہےنگاہِ دل سے تری سرمہ سا نکلتی ہے

۲

فشارِ تنگیِ خلوت سے، بنتی ہے شبنمصبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے

۳

نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آبِ تیغِ نگاہکہ زخمِ روزنِ در سے ہوا نکلتی ہے

۱۶۵

نکوہش ہے سزا فریادیِ بیدادِ دلبر کی

۱

نکوہش ہے سزا فریادیِ بیدادِ دلبر کیمبادا خندۂ دنداں نما ہو صبحِ محشر کی

۲

رگِ لیلیٰ کو خاکِ دشتِ مجنوں ریشگی بخشےاگر بووے، بجاۓ دانہ، دہقاں نوکِ نشتر کی

۳

پرِ پروانہ شاید بادبانِ کشتیِ مۓ تھاہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دورِ ساغر کی

۴

کروں بیدادِ ذوقِ پرفشانی عرض، کیا قدرتکہ طاقت اڑ گئی، اڑنے سے پہلے، میرے شہپر کی

۵

کہاں تک روؤں اُس کے خیمے کے پیچھے، قیامت ہے!مری قسمت میں، یا رب! کیا نہ تھی دیوارِ پتّھر کی؟

۱۶۶

بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوۓ

۱

بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوۓجتنے زیادہ ہو گئے، اتنے ہی کم ہوۓ

۲

پنہاں تھا دام، سخت قریب آشیان کےاڑنے نہ پاۓ تھے کہ گرفتار ہم ہوۓ

۳

ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہےیاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوۓ

۴

سختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبر؟وہ لوگ، رفتہ رفتہ، سراپا الم ہوۓ

۵

تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میںتیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوۓ

۶

لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاںہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوۓ

۷

اللہ رے! تیری تندیِ خو، جس کے بیم سےاجزاۓ نالہ دل میں مرے رزقِ ہم ہوۓ

۸

اہلِ ہوس کی فتح ہے ترکِ نبردِ عشقجو پاؤں اٹھ گئے، وہی اُن کے علم ہوۓ

۹

نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھےجو واں نہ کھپ سکے، سو وہ یاں آ کے دم ہوۓ

۱۰

چھوڑی، اسد! نہ ہم نے گدائی میں دل لگیسائل ہوۓ تو عاشقِ اہلِ کرم ہوۓ

۱۶۷

جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی

۱

جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانیتو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی

۲

مجھے اُس سے کیا توقّع، بہ زمانۂ جوانیکبھی کودکی میں جس نے، نہ سُنی مری کہانی

۳

یوں ہی دُکھ کسی کو دینا نہیں خوب، ورنہ کہتاکہ مرے عدو کو، یا رب! ملے میری زندگانی

۱۶۸

ظلمت کدے میں میرے، شبِ غم کا جوش ہے

۱

ظلمت کدے میں میرے، شبِ غم کا جوش ہےاک شمع ہے، دلیلِ سحر، سو خموش ہے

۲

نے مژدۂ وصال، نہ نظّارۂ جمالمدّت ہوئی کہ آشتیِ چشم و گوش ہے

۳

مۓ نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاباے شوق! یاں اجازتِ تسلیمِ ہوش ہے

۴

گوہر کو عقدِ گردنِ خوباں میں دیکھناکیا اوجِ پر ستارہ گوہر فروش ہے!

۵

دیدارِ بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہِ مستبزمِ خیال، مۓ کدۂ بے خروش ہے

۶

اے تازہ واردانِ بساطِ ہوا پرست!زنہار! اگر تمھیں ہوسِ نالہ و نوش ہے

۷

دیکھو مجھے، جو دیدۂ عبرت نگاہ ہومیری سُنو، جو گوشِ نصیحت نیوش ہے

۸

ساقی بہ جلوہ، دشمنِ ایمان و آگہیمطرب بہ نغمہ، رہزنِ تمکین و ہوش ہے

۹

یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساطدامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے

۱۰

لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صداۓ چنگیہ جنبشِ نگاہ، وہ فردوسِ گوش ہے

۱۱

یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میںنے وہ سرور و سوز، نہ جوش و خروش ہے

۱۲

داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئیاک شمع رہ گئی ہے، سو وہ بھی خموش ہے

۱۳

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میںغالب! صریرِ خامہ نواۓ سروش ہے

۱۶۹

آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے

۱

آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہےطاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے

۲

دیتے ہیں جنّت حیاتِ دہر کے بدلےنشّہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے

۳

گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کوہاۓ! کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے

۴

ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطرخاک میں عشّاق کی غبار نہیں ہے

۵

دل سے اٹھا لطفِ جلوہ ہاۓ معانیغیرِ گل، آئنۂ بہار نہیں ہے

۶

قتل کا میرے کیا ہے عہد، تو بارے!واۓ! اگر عہد استوار نہیں ہے

۷

تو نے قسم مۓ کشی کی کھائی ہے، غالب!تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے

۱۷۰

ہجومِ غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے

۱

ہجومِ غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہےکہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے

۲

رفوۓ زخم سے مطلب ہے لذّتِ زخمِ سوزن کیسمجھیو مت کہ پاسِ درد سے دیوانہ غافل ہے

۳

وہ گل، جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے، غالب!چٹکنا غنچۂ گل کا صداۓ خندۂ دل ہے

۱۷۱

پا بہ دامن ہو رہا ہوں، بسکہ میں صحرا نورد

۱

پا بہ دامن ہو رہا ہوں، بسکہ میں صحرا نوردخارِ پا ہیں، جوہرِ آئنۂ زانو مجھے

۲

دیکھنا حالت مرے دل کی، ہم آغوشی کے وقتہے نگاہِ آشنا، تیرا سرِ ہر مو مجھے

۳

ہوں سراپا سازِ آہنگِ شکایت، کچھ نہ پوچھہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے

۱۷۲

جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے

۱

جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےجاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوے

۲

ساۓ کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبرتو اِس قدِ دلکش سے جو گلزار میں آوے

۳

تب نازِ گراں مایگیِ اشک بجا ہےجب لختِ جگر دیدۂ خونبار میں آوے

۴

دے مجھ کو شکایت کی اجازت، کہ ستمگر!کچھ تجھ کو مزہ بھی مرے آزار میں آوے

۵

اُس چشمِ فسوں گر کا اگر پاۓ اشارہطوطی کی طرح آئنہ گفتار میں آوے

۶

کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے، یا رب!اک آبلہ پا وادیِ پُر خار میں آوے

۷

مر جاؤں نہ کیوں رشک سے، جب وہ تنِ نازکآغوشِ خمِ حلقۂ زنّار میں آوے

۸

غارت گرِ ناموس نہ ہو، گر ہوسِ زرکیوں شاہدِ گل باغ سے بازار میں آوے

۹

تب چاکِ گریباں کا مزہ ہے، دلِ نالاں!جب اک نفس اُلجھا ہوا ہر تار میں آوے

۱۰

آتشکدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سےاے وے لے، اگر معرضِ اظہار میں آوے

۱۱

گنجینۂ معنی کا طلسم اُس کو سمجھیےجو لفظ کہ، غالب! مرے اشعار میں آوے

۱۷۳

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے

۱

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہےاُس سے میرا مہ خورشید جمال اچّھا ہے

۲

بوسہ دیتے نہیں، اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ "مفت آۓ تو مال اچّھا ہے"

۳

اور بازار سے لے آۓ، اگر ٹوٹ گیاساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے

۴

بے طلب دیں تو مزہ اُس میں سوا ملتا ہےوہ گدا، جس کو نہ ہو خوۓ سوال، اچّھا ہے

۵

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے

۶

دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے

۷

ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیاجس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچّھا ہے

۸

قطرہ دریا میں جو مل جاۓ تو دریا ہو جاۓکام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے

۹

خضرِ سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبزشاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے

۱۰

ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت، لیکندل کے خوش رکھنے کو، غالب! یہ خیال اچّھا ہے

۱۷۴

عجب نشاط سے جلّاد کے چلے ہیں ہم آگے

۱

عجب نشاط سے جلّاد کے چلے ہیں ہم آگےکہ اپنے ساۓ سے، سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے

۲

قضا نے تھا مجھے چاہا خرابِ بادۂ الفتفقط خراب لکھا، بس! نہ چل سکا قلم آگے

۳

غمِ زمانہ نے جھاڑی نشاطِ عشق کی مستیوگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذّتِ الم آگے

۴

خدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دیناکہ اُس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے

۵

یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نےتمھارے آئیو، اے طرّہ ہاۓ خم بہ خم! آگے

۶

دل و جگر میں پرافشاں جو ایک موجۂ خوں ہےہم اپنے زعم میں سمجھے ہوۓ تھے اس کو دم آگے

۷

قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں، غالب!ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم، آگے

۱۷۵

شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے

۱

شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہےیہ بھی مت کہہ، کہ جو کہیے تو گلا ہوتا ہے

۲

پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجااِک ذرا چھیڑیے، پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے

۳

گو سمجھتا نہیں، پر حسنِ تلافی دیکھوشکوۂ جور سے سرگرمِ جفا ہوتا ہے

۴

عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چالسُست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے

۵

کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوکِ بیداد، کہ ہمآپ اُٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے

۶

خوب تھا، پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بدخواہکہ بھلا چاہتے ہیں، اور بُرا ہوتا ہے

۷

نالہ جاتا تھا پرے عرش سے، میرا، اور ابلب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے

قطعہ

۸

بزمِ سخن ۔ اے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علمشاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے

۹

سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجےتیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے

۱۰

ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلالتو وہ شکر کا ترے، نعل بہا ہوتا ہے

۱۱

میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میںیہ بھی تیرا ہی کرم، ذوقِ فزا ہوتا ہے

۱۲

رکھیو، غالب! مجھے اس تلخ نوائی میں معافآج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

۱۷۶

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ "تو کیا ہے؟"

۱

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ "تو کیا ہے؟"تمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

۲

نہ شعلے میں یہ کرشمہ، نہ برق میں یہ اداکوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے

۳

یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سےوگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے

۴

چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہمارے جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے

۵

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگاکریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے

۶

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

۷

وہ چیز، جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیزسواۓ بادۂ گلفامِ مشکبو کیا ہے

۸

پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چاریہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے

۹

رہی نہ طاقتِ گفتار، اور اگر ہو بھیتو کس اُمّید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے؟

۱۰

ہوا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اِتراتاوگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

۱۷۷

میں اُنھیں چھیڑوں، اور کچھ نہ کہیں

۱

میں اُنھیں چھیڑوں، اور کچھ نہ کہیںچل نکلتے جو مۓ پیے ہوتے

۲

قہر ہو یا بلا ہو، جو کچھ ہوکاش کے تم مرے لیے ہوتے

۳

میری قسمت میں غم گر اتنا تھادل بھی، یا رب! کئی دیے ہوتے

۴

آ ہی جاتا وہ راہ پر، غالب!کوئی دن اور بھی جیے ہوتے

۱۷۸

غیر لیں محفل میں بوسے جام کے

۱

غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب، پیغام کے

۲

خستگی کا تُم سے کیا شکوہ، کہ یہہتکھنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے

۳

خط لکھیں گے، گرچہ مطلب کچھ نہ ہوہم تو عاشق ہیں تمھارے نام کے

۴

رات پی زمزم پہ مۓ، اور صبح دمدھوۓ دھبّے جامۂ احرام کے

۵

دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا، مگریہ بھی حلقے ہیں تمھارے دام کے

۶

شاہ کے ہے غسلِ صحّت کی خبردیکھیے کب دن پھریں حمّام کے

۷

عشق نے، غالب! نکمّا کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

۱۷۹

پھر اس انداز سے بہار آئی

۱

پھر اس انداز سے بہار آئیکہ ہوۓ مہر و مہ تماشائی

۲

دیکھو اے ساکنانِ خطّۂ خاکاس کو کہتے ہیں عالم آرائی

۳

کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سرروکشِ سطحِ چرخِ مینائی

۴

سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملیبن گیا روۓ آب پر کائی

۵

سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیےچشمِ نرگس کو دی ہے بینائی

۶

ہے ہوا میں شراب کی تاثیربادہ نوشی ہے باد پیمائی

۷

کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی، غالب!شاہِ دیندار نے شفا پائی

۱۸۰

کب وہ سنتا ہے کہانی میری

۱

کب وہ سنتا ہے کہانی میریاور پھر وہ بھی زبانی میری

۲

خلشِ غمزۂ خونریز نہ پوچھدیکھ خوننابہ فشانی میری

۳

کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یارمگر آشفتہ بیانی میری

۴

ہوں ز خود رفتۂ بیدا اے خیال!بھول جانا ہے نشانی میری

۵

متقابل ہے مقابل میرارک گیا دیکھ روانی میری

۶

قدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوںسخت ارزاں ہے گرانی میری

۷

گردِ بادِ رہِ بیتابی ہوںصرصرِ شوق ہے بانی میری

۸

دہنِ اُس کا، جو نہ معلوم ہواکھل گئی ہیچ مدانی میری

۹

کر دیا ضعف نے عاجز، غالب!ننگِ پیری ہے جوانی میری

۱۸۱

نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیب

۱

نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیبپاۓ طاؤس پۓ خامہ مانی مانگے

۲

تُو وہ بدخو، کہ تحیّر کو تماشا جانےغم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے

۳

وہ تبِ عشق، تمنّا ہے کہ پھر صورتِ شمعشعلہ تا نبضِ جگر ریشہ دوانی مانگے

۱۸۲

تغافُل دوست ہوں، میرا دماغِ عجز عالی ہے

۱

تغافُل دوست ہوں، میرا دماغِ عجز عالی ہےاگر پہلو تہی کیجے، تو جا میری بھی خالی ہے

۲

رہا آباد عالم اہلِ ہمّت کے نہ ہونے سےبھرے ہیں جس قدر جام و سبو، میناخانہ خالی ہے

۱۸۳

جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی

۱

جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کیلکھ دیجیو، یا رب! اُسے قسمت میں عدو کی

۲

اچّھا ہے، سرِ انگشتِ حنائی کا تصوّردل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی

۳

کیوں ڈرتے ہو عشّاق کی بے حوصلگی سے؟یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی

۴

دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کوخنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی

۵

صد حیف! وہ ناکام، کہ اک عمر سے، غالب!حسرت میں رہے ایک بتِ عربدہ جو کی

۱۸۴

سیماب پشت گرمیِ آئنہ دے ہے، ہم

۱

سیماب پشت گرمیِ آئنہ دے ہے، ہمحیراں کیے ہوۓ ہیں دلِ بیقرار کے

۲

آغوشِ گل کشودہ براۓ وداع ہےاے عندلیب! چل، کہ چلے دن بہار کے

۱۸۵

ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میں

۱

ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میںمعشوقِ شوخ و عاشقِ دیوانہ چاہیے

۲

اُس لب سے مل ہی جاۓ گا بوسہ کبھی تو، ہاں!شوقِ فضول و جرأتِ رندانہ چاہیے

۱۸۶

چاہیے اچّھوں کو، جتنا چاہیے

۱

چاہیے اچّھوں کو، جتنا چاہیےیہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے

۲

صحبتِ رنداں سے واجب ہے حذرجاۓ مۓ، اپنے کو کھینچا چاہیے

۳

چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل؟بارے، اب اس سے بھی سمجھا چاہیے!

۴

چاک مت کر جیب، بے ایّامِ گلکچھ اُدھر کا بھی اشارا چاہیے

۵

دوستی کا پردہ ہے بیگانگیمنہ چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے

۶

دشمنی نے میری، کھویا غیر کوکس قدر دشمن ہے، دیکھا چاہیے

۷

اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعی؟یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے

۸

منحصر مرنے پہ ہو جس کی اُمّیدنا اُمّیدی اُس کی دیکھا چاہیے

۹

غافل! ان مہ طلعتوں کے واسطےچاہنے والا بھی اچّھا چاہیے

۱۰

چاہتے ہیں خوبرویوں کو، اسد!آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے

۱۸۷

ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سے

۱

ہر قدم دوریِ منزل ہے نمایاں مجھ سےمیری رفتار سے، بھاگے ہے بیاباں مجھ سے

۲

درسِ عنوانِ تماشا، بہ تغافل خوش ترہے نگہ رشتۂ شیرازۂ مژگاں مجھ سے

۳

وحشتِ آتشِ دل سے، شبِ تنہائی میںصورتِ دود رہا سایہ گریزاں مجھ سے

۴

غمِ عشّاق نہ ہو سادگی آموزِ بتاںکس قدر خانہ آئنہ ہے ویراں مجھ سے!

۵

اثرِ آبلہ سے، جادۂ صحراۓ جنوںصورتِ رشتہ گوہر ہے چراغاں مجھ سے

۶

بیخودی! بسترِ تمہیدِ فراغت ہو جوپُر ہے، ساۓ کی طرح، میرا شبستاں مجھ سے

۷

شوقِ دیدار میں گر تُو مجھے گردن مارےہو نگہ مثلِ گلِ شمع، پریشاں مجھ سے

۸

بیکسی ہاۓ شبِ ہجر کی وحشت، ہے ہے!سایہ خورشیدِ قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے

۹

گردشِ ساغرِ صد جلوۂ رنگیں تجھ سےآئنہ داری یک دیدۂ حیراں مجھ سے

۱۰

نگہِ گرم سے اک آگ ٹپکتی ہے، اسد!ہے چراغاں خس و خاشاکِ گلستاں مجھ سے

۱۸۸

نکتہ چیں ہے، غمِ دل، اُس کو سناۓ نہ بنے

۱

نکتہ چیں ہے، غمِ دل، اُس کو سناۓ نہ بنےکیا بنے بات، جہاں بات بناۓ نہ بنے

۲

میں بلاتا تو ہوں اُس کو، مگر، اے جذبہ دل!اُس پہ بن جاۓ کچھ ایسی، کہ بن آۓ نہ بنے

۳

کھیل سمجھا ہے، کہیں چھوڑ نہ دے، بھول نہ جاۓکاش! یوں بھی ہو، کہ بن میرے، ستاۓ نہ بنے

۴

غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو، کہ اگرکوئی پوچھے کہ "یہ کیا ہے؟" تو چھپاۓ نہ بنے

۵

اس نزاکت کا بُرا ہو! وہ بھلے ہیں، تو کیاہاتھ آویں تو اُنھیں ہاتھ لگاۓ نہ بنے

۶

کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے؟پردہ چھوڑا ہے وہ اُس نے، کہ اٹھاۓ نہ بنے

۷

موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بن آۓ نہ رہےتم کو چاہوں؟ کہ نہ آؤ تو بلاۓ نہ بنے

۸

بوجھ وہ سر سے گرا ہے، کہ اٹھاۓ نہ اٹھےکام وہ آن پڑا ہے، کہ بناۓ نہ بنے

۹

عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش، غالب!کہ لگاۓ نہ لگے، اور بجھاۓ نہ بنے

۱۸۹

چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عریانی کرے

۱

چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عریانی کرےصبح کے مانند زخمِ دل، گریبانی کرے

۲

جلوے کا تیرے، وہ عالم ہے، کہ گر کیجے خیالدیدۂ دل کو زیارت گاہِ حیرانی کرے

۳

ہے شکستن سے بھی، دل نومید! یا رب کب تلک؟آئگینہ کوہ پر، عرضِ گرانجانی کرے

۴

مۓ کدہ گر چشمِ مستِ ناز سے پاوے شکستمُوۓ شیشہ، دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے

۵

خطِّ عارض سے لکھا ہے، زلف کو الفت نے عہدیک قلم منظور ہے، جو کچھ پریشانی کرے

۱۹۰

وہ آ کے خواب میں تسکینِ اضطراب تو دے

۱

وہ آ کے خواب میں تسکینِ اضطراب تو دےولے مجھے تپشِ دل، مجالِ خواب تو دے

۲

کرے ہے قتل، لگاوٹ میں تیرا رو دیناتری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے

۳

دکھا کے جنبشِ لب ہی تمام کر ہم کونہ دے جو بوسہ، تو منہ سے کہیں جواب تو دے

۴

پلا دے اوک سے ساقی! جو ہم سے نفرت ہےپیالہ گر نہیں دیتا، نہ دے، شراب تو دے

۵

اسد! خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئےکہا جو اُس نے: "ذرا میرے پاؤں داب تو دے"

۱۹۱

خطرہ ہے رشتۂ الفت، رگِ گردن نہ ہو جاۓ

۱

خطرہ ہے رشتۂ الفت، رگِ گردن نہ ہو جاۓغرورِ دوستی، آفت ہے، تُو دشمن نہ ہو جاۓ

۲

سمجھ اس فصل میں کوتاہیِ نشو و نما، غالب!اگر گل، سرو کے قامت پہ، پیراہن نہ ہو جاۓ

۱۹۲

گلشن کو تری صحبت، از بسکہ خوش آئی ہے

۱

گلشن کو تری صحبت، از بسکہ خوش آئی ہےہر غنچے کا گل ہونا، آغوش کشائی ہے

۲

واں گنگِ استغنا، ہر دم ہے بلندی پریاں نالے کو، اور اُلٹا، دعوے رسائی ہے

۳

از بسکہ سکھاتا ہے، غم، ضبط کے اندازےجو داغ نظر آیا، اک چشم نمائی ہے

۱۹۳

فریاد کی کوئی لے نہیں ہے

۱

فریاد کی کوئی لے نہیں ہےنالہ پابندِ نے نہیں ہے

۲

کیوں بوتے ہیں باغبان تو نےگر باغ، گدا ۓ نے نہیں ہے

۳

ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہےپر تجھ سی تو کوئی شے نہیں ہے

۴

ہاں! کھائیو مت فریبِ ہستیہر چند کہیں کہ "ہے"، نہیں ہے

۵

شادی سے گزر، کہ غم نہ ہووےاُردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے

۶

کیوں رد قدح کرے ہے زاہد؟مۓ ہے، یہ مگس کی قۓ نہیں ہے

۷

ہستی ہے، نہ کچھ عدم ہے، غالب!آخر تو کیا ہے؟ "اۓ نہیں ہے!"

۱۹۴

نہ پوچھ نسخۂ مرہمِ جراحتِ دل کا

۱

نہ پوچھ نسخۂ مرہمِ جراحتِ دل کاکہ اُس میں ریزۂ الماس جزوِ اعظم ہے

۲

بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کیوہ اک نگہ، کہ بہ ظاہر نگاہ سے کم ہے

۱۹۵

ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے

۱

ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتےمرتے ہیں، ولے اُن کی تمنّا نہیں کرتے

۲

در پردہ اُنھیں غیر سے ہے ربطِ نہانیظاہر کا یہ پردہ ہے، کہ پردا نہیں کرتے

۳

یہ باعثِ نومیدیِ اربابِ ہوس ہےغالب کو بُرا کہتے ہو، اچّھا نہیں کرتے!

۱۹۶

کرے ہے بادہ ترے لب سے کسبِ رنگِ فروغ

۱

کرے ہے بادہ ترے لب سے کسبِ رنگِ فروغخطِ پیالہ، سراسر، نگاہِ گلچیں ہے

۲

کبھی تو اس دلِ شوریدہ کی بھی داد ملےکہ ایک عمر سے حسرت پرستِ بالیں ہے

۳

بجا ہے، گر نہ سُنے نالہ ہاۓ بلبلِ زارکہ گوشِ گل، نمِ شبنم سے، پنبہ آگیں ہے

۴

اسد! ہے نزع میں، چل بے وفا! براۓ خدامقامِ ترکِ حجاب و وداعِ تمکیں ہے

۱۹۷

کیوں نہ ہو چشمِ بتاں، محوِ تغافل، کیوں نہ ہو

۱

کیوں نہ ہو چشمِ بتاں، محوِ تغافل، کیوں نہ ہویعنی اِس بیمار کو نظّارے سے پرہیز ہے

۲

مرتے مرتے، دیکھنے کی آرزو رہ جاۓ گیواۓ ناکامی! کہ اُس کافر کا خنجر تیز ہے

۳

عارضِ گل دیکھ، روۓ یار یاد آیا، اسد!جوششِ فصلِ بہاری، اشتیاق انگیز ہے

۱۹۸

دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے

۱

دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیےہوا رقیب تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیے

۲

یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آۓ بن نہ رہےقضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے، کیا کہیے

۳

رہے ہے یوں گہ و بے گہ، کہ کوۓ دوست کو اباگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے، کیا کہیے؟

۴

زِ ہے، کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے، ہم کو فریبکہ بن کہے ہی اُنھیں سب خبر ہے، کیا کہیے

۵

سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسشِ حالکہ یہ کہے کہ سرِ رہگزر ہے، کیا کہیے

۶

تمھیں نہیں ہے سرِ رشتۂ وفا کا خیالہمارے ہاتھ میں کچھ ہے، مگر ہے، کیا کہیے!

۷

اُنھیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے، کیوں لڑیے؟ہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے، کیا کہیے!

۸

حسد سے، اے! کمالِ سخن ہے، کیا کہیے!ستم بہاۓ متاعِ ہنر ہے، کیا کہیے!

۹

کہا ہے کس نے کہ "غالب بُرا نہیں، لیکنسِوا ۓ اس کے کہ آشفتہ سر ہے"، کیا کہیے

۱۹۹

دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے

۱

دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھےکر گئی وابستۂ تن، میری عریانی مجھے

۲

بن گیا تیغِ نگاہِ یار کا سنگِ فساںمرحبا! کیا مبارک ہے، گرانجانی مجھے

۳

کیوں نہ ہو بے التفاتی، اُس کی خاطر جمع ہےجانتا ہے، محوِ پرسش ہاۓ پنہانی مجھے

۴

میرے غم خانے کی قسمت، جب رقم ہونے لگیلکھ دیا منجملۂ اسبابِ ویرانی مجھے

۵

بدگماں ہوتا ہے وہ کافر، نہ ہوتا کاش کےاس قدر ذوقِ نۓ مرغِ بستانی مجھے

۶

وعدہ آنے کا وفا کیجے، یہ کیا انداز ہے!تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے

۷

ہاں! نشاطِ آمدِ فصلِ بہاری، واہ واہ!پھر ہوا ہے تازہ سوداۓ غزل خوانی مجھے

۸

دی مرے بھائی کو حق نے، از سرِ نو زندگیمیرزا یوسف ہے غالب، یوسفِ ثانی مجھے

۲۰۰

یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ "یا رب!" مجھے

۱

یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ "یا رب!" مجھےسبحۂ زاہد ہوا ہے خندہ زیرِ لب مجھے

۲

ہے کشادِ خاطرِ وابستہ در زمِّ سخنتھا طلسم، قفلِ ابجد، خانۂ مکتب مجھے

۳

یا رب! اس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے؟رشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے

۴

طبع ہے مشتاقِ لذّت ہاۓ حسرت، کیا کروں؟آرزو سے ہے شکستِ آرزو مطلب مجھے

۵

دل لگا کر آپ بھی، غالب! مجھی سے ہو گئے؟عشق سے آتے تھے مانع میرزا صاحب مجھے!

۲۰۱

حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے

۱

حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہےچمن میں خوشنوایانِ چمن کی آزمائش ہے

۲

قد و گیسو میں قیس و کوہکن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے

۳

کریں گے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخرہنوز اُس خستہ کے نیروۓ تن کی آزمائش ہے

۴

نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہواخواہیاُسے یوسف کی نۓ پیرہن کی آزمائش ہے

۵

وہ آیا بزم میں، دیکھو، نہ کہیو پھر کہ "غافل تھے"شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے

۶

رہے دل ہی میں تیر اچّھا، جگر کے پار ہو بہترغرض شستِ بتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے

۷

نہیں کچھ سبحہ و زنّار کے پھندے میں گیرائیوفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے

۸

پڑا رہ، اے دلِ وابستہ! بیتابی سے کیا حاصل؟مگر پھر تابِ زلفِ پُر شکن کی آزمائش ہے؟

۹

رگ و پے میں جب اُترے زہرِ غم، تب دیکھیے کیا ہوابھی تو تلخیِ کام و دہن کی آزمائش ہے

۱۰

وہ آویں گے مرے گھر؛ وعدہ کیسا! دیکھنا، غالب!نۓ فتنوں میں اب اس چرخِ کہن کی آزمائش ہے

۲۰۲

کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں گر آ جاۓ ہے مجھ سے

۱

کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں گر آ جاۓ ہے مجھ سےجفائیں کر کے اپنی یاد شرما جاۓ ہے مجھ سے

۲

خدایا! جذبہ دل کی مگر تاثیر اُلٹی ہےکہ جتنا کھینچتا ہوں، اور کھِچتا جاۓ ہے مجھ سے

۳

وہ بدخو، اور میری داستانِ عشق طولانیعبارت مختصر، قاصد بھی گھبرا جاۓ ہے مجھ سے

۴

اُدھر وہ بدگمانی ہے، اِدھر یہ ناتوانی ہےنہ پوچھا جاۓ ہے اُس سے، نہ بولا جاۓ ہے مجھ سے

۵

سنبھلنے دے مجھے، اے نا اُمّیدی! کیا قیامت ہےکہ دامانِ خیالِ یار چھوٹا جاۓ ہے مجھ سے

۶

تکلّف بر طرف، نظّارگی میں بھی سہی، لیکنوہ دیکھا جاۓ، کب یہ ظلم دیکھا جاۓ ہے مجھ سے

۷

ہوۓ ہیں پاؤں ہی پہلے نبردِ عشق میں زخمینہ بھاگا جاۓ ہے مجھ سے، نہ ٹھہرا جاۓ ہے مجھ سے

۸

قیامت ہے کہ ہووے مدّعی کا ہم سفر، غالب!وہ کافر، جو خدا کو بھی نہ سونپا جاۓ ہے مجھ سے

۲۰۳

ز بسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہے

۱

ز بسکہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہےکشاد و بستِ مژہ سیلیِ ندامت ہے

۲

نہ جانوں کیونکہ مٹے داغِ طعنِ بدعہدیتجھے کہ آئنہ بھی ورطۂ ملامت ہے

۳

بہ پیچ و تابِ ہوس، سلکِ عافیت مت توڑنگاہِ عجز، سرِ رشتۂ سلامت ہے

۴

وفا مقابل و دعواۓ عشق بے بنیادجنونِ ساختہ و فصلِ گل، قیامت ہے

۲۰۴

لاغر اتنا ہوں کہ گر تُو بزم میں جا دے مجھے

۱

لاغر اتنا ہوں کہ گر تُو بزم میں جا دے مجھےمیرا ذمّہ، دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے

۲

کیا تعجّب ہے کہ اُس کو دیکھ کر آ جاۓ رحمواں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے

۳

منہ نہ دِکھلاوے، نہ دِکھلا، پر بہ اندازِ عتابکھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دِکھلا دے مجھے

۴

یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میںزُلف گر بن جاؤں تو شانے میں اُلجھا دے مجھے

۲۰۵

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

۱

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

۲

اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیکاک بات ہے اعجازِ مسیحا مرے آگے

۳

جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظورجز وہم نہیں ہستیِ اشیا مرے آگے

۴

ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتےگھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے

۵

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھےتو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے

۶

سچ کہتے ہو، خود بین و خود آرا ہوں، نہ کیوں ہوںبیٹھا ہے بتِ آئنہ سیما مرے آگے

۷

پھر دیکھیے اندازِ گل افشانیِ گفتاررکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے

۸

نفرت کا گماں گزرے ہے، میں رشک سے گزراکیونکر کہوں، لو نام نہ اُن کا مرے آگے

۹

ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفرکعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے

۱۰

عاشق ہوں، پہ معشوق فریبی ہے مرا کاممجنوں کو بُرا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے

۱۱

خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتےآئی شبِ ہجراں کی تمنّا مرے آگے

۱۲

ہے موجزن اک قلزمِ خوں، کاش! یہی ہوآتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے

۱۳

گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہےرہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

۱۴

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میراغالب کو بُرا کیوں کہو، اچّھا! مرے آگے

۲۰۶

کہوں جو حال تو کہتے ہو مدّعا کہیے

۱

کہوں جو حال تو کہتے ہو مدّعا کہیےتمھیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟

۲

نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ "ہم ستمگر ہیں"مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو، بجا کہیے

۳

وہ نیشتر سہی، پر دل میں جب اُتر جاۓنگاہِ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے

۴

نہیں ذریعۂ راحت جراحتِ پیکاںوہ زخمِ تیغ ہے، جس کو کہ دلکشا کہیے

۵

جو مدّعی بنے، اُس کے نہ مدّعی بنیےجو نا سزا کہے، اُس کو نہ ناسزا کہیے

۶

کہیں حقیقتِ جاں کاہی مرض لکھیےکہیں مصیبتِ ناسازیِ دوا کہیے

۷

کبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجےکبھی حکایتِ رنجِ صبر گریز پا کہیے

۸

رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجےکٹے زبان، تو خنجر کو مرحبا کہیے

۹

نہیں نگار کو اُلفت، نہ ہو، نگار تو ہے!روانیِ روِش و مستیِ ادا کہیے

۱۰

نہیں بہار کو فرصت، نہ ہو، بہار تو ہے!طراوتِ چمن و خوبیِ ہوا کہیے

۱۱

سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا، غالب!خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے!

۲۰۷

رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے

۱

رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئےدھوۓ گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے

۲

صرفِ بہاۓ مۓ ہوۓ آلاتِ مۓ کشیتھے یہ ہی دو حساب، سو یوں پاک ہو گئے

۳

رُسواۓ دہر گو ہوۓ آوارگی سے تمبارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے

۴

کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثر؟پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے

۵

پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہلِ شوق کاآپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے

۶

کرنے گئے تھے اُس سے تغافل کا ہم گلہکی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے

۷

اِس رنگ سے اُٹھائی کل اُس نے، اسد! کی نعشدشمن بھی جس کو دیکھ کے غمناک ہو گئے

۲۰۸

نشہ ہا شاداب، رنگ و سازِ ہا مستِ طرب

۱

نشہ ہا شاداب، رنگ و سازِ ہا مستِ طربشیشہ مۓ، سرو و سبزہ، جوۓ بار، نغمہ ہے

۲

ہم نشیں! مت کہہ کہ برہم کر نہ بزمِ عیشِ دوستواں تو میرے نالے کو بھی اعتبارِ نغمہ ہے

۲۰۹

عرضِ نازِ شوخیِ دنداں براۓ خندہ ہے

۱

عرضِ نازِ شوخیِ دنداں براۓ خندہ ہےدعوی ۓ جمعیّتِ احباب جاۓ خندہ ہے

۲

ہے عدم میں غنچہ محوِ عبرتِ انجامِ گلیک جہاں زانوۓ تامّل در قفاۓ خندہ ہے

۳

کلفتِ افسُردگی کو عیش بیتابی حرامورنہ دنداں در دلِ افشُردہ بناۓ خندہ ہے

۴

سوزشِ باطن کے ہیں احباب مُنکر، ورنہ یاںدل، محیطِ گریہ و لب، آشناۓ خندہ ہے

۲۱۰

حُسن بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے

۱

حُسن بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہےآئنہ زانوۓ فکرِ اختراعِ جلوہ ہے

۲

تا کجا، اے آگہی! رنگِ تماشا باختن؟چشم، وا گر دیدہ، آغوشِ وداعِ جلوہ ہے

۲۱۱

جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی

۱

جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئیمشکل کہ تجھ سے راہِ سخن وا کرے کوئی

۲

عالم غبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بہ سرکب تک خیالِ طرّۂ لیلیٰ کرے کوئی

۳

افسردگی نہیں طرب انشاۓ التفاتہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی

۴

رونے سے، اے ندیم! ملامت نہ کر مجھےآخر کبھی تو عقدۂ دل وا کرے کوئی

۵

چاکِ جگر سے جب رہ پُرسش نہ وا ہوئیکیا فائدہ کہ جیب کو رُسوا کرے کوئی

۶

لخنتِ جگر سے ہے رگِ ہر خارِ شاخِ گلتا چند باغبانی صحرا کرے کوئی

۷

ناکامیِ نگاہ ہے برقِ نظارہ سوزتو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی

۸

ہر سنگ و خشت ہے صدفِ گوہرِ شکستنقصان نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی

۹

سر بر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عمرفرصت کہاں کہ تیری تمنّا کرے کوئی

۱۰

ہے وحشتِ طبیعتِ ایجاد یاس خیزیہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی

۱۱

بیکاریِ جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغلجب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی

۱۲

حُسنِ فروغِ شمعِ سخن دور ہے، اسد!پہلے دلِ گداختہ پیدا کرے کوئی

۲۱۲

ابنِ مریم ہوا کرے کوئی

۱

ابنِ مریم ہوا کرے کوئیمیرے دُکھ کی دوا کرے کوئی

۲

شرع و آئین پر مدار سہیاَیسے قاتل کا کیا کرے کوئی؟

۳

چال جیسے کڑی کمان کا تیردل میں اَیسے کے جا کرے کوئی؟

۴

بات پر واں زبان کٹتی ہےوہ کہیں اور سُنا کرے کوئی

۵

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھکچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

۶

نہ سُنو، گر بُرا کہے کوئینہ کہو، گر بُرا کرے کوئی

۷

روک لو، گر غلط چلے کوئیبخش دو، گر خطا کرے کوئی

۸

کون ہے جو نہیں ہے حاجتمندکس کی حاجت رَوا کرے کوئی؟

۹

کیا کیا خضر نے سکندر سےاب کسے رہنما کرے کوئی

۱۰

جب توقّع ہی اُٹھ گئی غالب!کیوں کسی کا گِلا کرے کوئی

۲۱۳

بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟

۱

بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟غلامِ ساقیِ کوثر ہوں، مجھ کو غم کیا ہے!

۲

تمھاری طرز و روِش جانتے ہیں ہم، کیا ہےرقیب پر ہے اگر لطف، تو ستم کیا ہے؟

۳

سُخن میں خامۂ غالب کی آتش افشانییقیں ہے ہم کو بھی، لیکن اب اُس میں دم کیا ہے!

۲۱۴

باغ پا کر خفقانی، یہ ڈراتا ہے مجھے

۱

باغ پا کر خفقانی، یہ ڈراتا ہے مجھےسایۂ شاخِ گل، افعی نظر آتا ہے مجھے

۲

جوہرِ تیغ بہ سرچشمۂ دیگر معلوم!ہوں میں وہ سبزہ کہ زہراب اُگاتا ہے مجھے

۳

مدّعا محوِ تماشاۓ شکستِ دل ہےآئنہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے

۴

نالہ سرمایہ یک عالم و عالم کفِ خاکآسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے

۵

زندگی میں تو وہ محفل سے اُٹھا دیتے تھےدیکھوں اب مر گئے پر کون اُٹھاتا ہے مجھے

۲۱۵

رَوندی ہوئی ہے، گو کہ گزرگہِ شہریار کی

۱

رَوندی ہوئی ہے، گو کہ گزرگہِ شہریار کیاِترا ۓ کیوں نہ خاک، سرِ رہگزار کی

۲

جب اُس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہلوگوں میں کیوں نمُود نہ ہو لالہ زار کی

۳

بھوکے نہیں ہیں ہم سیرِ گلستاں کے ہم ولےکیونکر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی

۲۱۶

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

۱

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے

۲

ڈرے کیوں میرا قاتل، کیا رہے گا اُس کی گردن پروہ خُوں، جو چشمِ تر سے عُمر بھر یوں دم بہ دم نکلے؟

۳

نکلنا خُلد سے آدم کا سُنتے آۓ ہیں، لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

۴

بھرم کھل جاۓ ظالم! تیرے قامت کی درازی کااگر اس طُرّہ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

۵

ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامیپھر آیا وہ زمانہ، جو جہاں میں جامِ جم نکلے

۶

ہوئی جن سے تَوقّع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستہ تیغِ ستم نکلے

۷

محبّت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااُسی کو دیکھ کر جیتے ہیں، جس کافر پہ دم نکلے

۸

کہاں مۓ خانے کا دروازہ غالب! اور کہاں واعظپر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

۲۱۷

کوہ کے ہوں بارِ خاطر، گر صدا ہو جائیے

۱

کوہ کے ہوں بارِ خاطر، گر صدا ہو جائیےبے تکلّف، اے شرارِ جستہ! کیا ہو جائیے

۲

بیضہ آسا، ننگِ بال و پر ہے، یہ کنجِ قفساز سرِ نو زندگی ہو، گر رہا ہو جائیے

۲۱۸

مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی، ہلاک ہے

۱

مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی، ہلاک ہےموجِ شراب، یک مژۂ خواب ناک ہے

۲

جُز زخمِ تیغِ ناز، نہیں دل میں آرزوجیبِ خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے

۳

جوششِ جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں، اسد!صحرا ہماری آنکھ میں یک مُشتِ خاک ہے

۲۱۹

لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی

۱

لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانیقیامت کُشتۂ لعلِ بتاں کا خواب سنگیں ہے

۲۲۰

آمدِ سیلابِ طوفانِ صداۓ آب ہے

۱

آمدِ سیلابِ طوفانِ صداۓ آب ہےنقشِ پا جو کان میں رکھتا ہے اُنگلی، جادہ سے

۲

بزمِ مۓ، وحشت کدہ ہے کس کی چشمِ مست کاشیشے میں نبضِ پری پنہاں ہے، موجِ بادہ سے

۲۲۱

ہوں میں بھی تماشائیِ نیرنگِ تمنّا

۱

ہوں میں بھی تماشائیِ نیرنگِ تمنّامطلب نہیں کچھ اِس سے کہ مطلب ہی بر آوے

۲۲۲

سیاہی جیسے گر جاوے دمِ تحریر کاغذ پر

۱

سیاہی جیسے گر جاوے دمِ تحریر کاغذ پرمری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہاۓ ہجراں کی

۲۲۳

ہجُومِ نالہ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہے

۱

ہجُومِ نالہ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہےخموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بدنداں ہے

۲

تکلّف بر طرف، ہے جانستاں تر لطفِ بدخویاںنگاہِ بے حجابِ ناز، تیغِ تیز عریاں ہے

۳

ہوئی یہ کثرتِ غم سے تلف کیفیّتِ شادیکہ صبحِ عید مجھ کو بدتر از چاکِ گریباں ہے

۴

دل و دیں نقد لا، ساقی سے گر سَودا کیا چاہےکہ اِس بازار میں ساغر متاعِ دستگرداں ہے

۵

غمِ آغوشِ بلا میں پَرورش دیتا ہے عاشق کوچراغِ روشن اپنا قُلزُم صَرصَر کا مَرجاں ہے

۲۲۴

جس جا نسیم شانہ کشِ زُلفِ یار ہے

۱

جس جا نسیم شانہ کشِ زُلفِ یار ہےنافہ دماغِ آہوۓ دشتِ تتار ہے

۲

کس کا سُراغِ جلوہ ہے حیرت کو، اے خدا!آئنہ فرشِ شش جہتِ انتظار ہے

۳

ہے ذرّہ ذرّہ تنگیِ جا سے غبارِ شوقگر دام یہ ہے، وسعتِ صحرا شکار ہے

۴

دل مُدّعی و دیدہ بنا مُدّعیٰ علیہنظّارے کا مُقدّمہ پھر رُوبکار ہے

۵

چھڑکے ہے شبنم آئنہ برگِ گل پہ آباے عندلیب! وقتِ وداعِ بہار ہے

۶

پیچ آ پڑی ہے، وعدۂ دلدار کی مجھےوہ آۓ یا نہ آۓ، پہ یاں انتظار ہے

۷

بے پردہ سوۓ وادیِ مجنوں گزر نہ کرہر ذرّے کے نقاب میں دل بے قرار ہے

۸

اے عندلیب! یک کفِ خس بہرِ آشیاںطوفانِ آمدِ فصلِ بہار ہے

۹

دل مت گنوا، خبر نہ سہی، سیر ہی سہیاے بے دماغِ آئنہ! تمثال دار ہے

۱۰

غفلت کفیلِ عُمر و اسد ضامنِ نشاطاے مرگِ ناگہاں! تجھے کیا انتظار ہے

۲۲۵

آئنہ کیوں نہ دُوں کہ تماشا کہیں جیسے

۱

آئنہ کیوں نہ دُوں کہ تماشا کہیں جیسےاَیسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جیسے

۲

حسرت نے لا رکھا تری بزمِ خیال میںگلدستۂ نگاہ، سُوَیدا کہیں جیسے

۳

پھونکا ہے کس نے گوشِ محبّت میں، اے خدا!افسُونِ انتظارِ تمنّا کہیں جیسے

۴

سر پہ ہجُوم دردِ غریبی سے ڈالیےوہ ایک مُشتِ خاک کہ صحرا کہیں جیسے

۵

ہے چشمِ تر میں حسرتِ دیدار سے نہاںشوقِ عناں گُسیختہ، دریا کہیں جیسے

۶

در کار ہے شگُفتنِ گلہاۓ عیش کوصبحِ بہار، پنبۂ مینا کہیں جیسے

۷

غالب بُرا نہ مان جو واعظ بُرا کہےاَیسا بھی کوئی ہے کہ سب اچّھا کہیں جیسے؟

۲۲۶

شبنم بہ گُلِ لالہ نہ خالی زِ ادا ہے

۱

شبنم بہ گُلِ لالہ نہ خالی زِ ادا ہےداغِ دل بے درد، نظر گاہِ حیا ہے

۲

دل خُوں شُدہ کشمکشِ حسرتِ دیدارآئنہ بہ دستِ بُتِ بدمست حنا ہے

۳

شعلے سے نہ ہوتی، ہوسِ شُعلہ نے جو کیجی کس قدر افسُردگی دل پہ چبلا ہے

۴

تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوقآئنہ بہ اندازِ گل آغوش کُشا ہے

۵

قُمری کفِ خاکستر و بُلبل قفسِ رنگاے نالہ! نشانِ جگرِ سوختہ کیا ہے؟

۶

خُو نے تری، افسُردہ کیا وحشتِ دل کومعشُوقی و بے حوصلگی طُرفہ بلا ہے

۷

مجبُوری و دعواۓ گرفتاریِ اُلفتدستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے

۸

معلُوم ہُوا حالِ شہیدانِ گُزشتہتیغِ ستم آئنۂ تصویر نُما ہے

۹

اے پرتوِ خورشیدِ جہاں تاب! اِدھر بھیساۓ کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے

۱۰

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے دادیا رب! اگر اِن کردہ گناہوں کی سزا ہے

۱۱

بیگانگیِ خلق سے بیدل نہ ہو غالبکوئی نہیں تیرا، تو مری جان، خُدا ہے

۲۲۷

منظُور تھی یہ شکلِ تجلّی کو نُور کی

۱

منظُور تھی یہ شکلِ تجلّی کو نُور کیقسمت کھُلی ترے قد و رُخ سے ظہُور کی

۲

اِک خُونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیںپڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حُور کی

۳

واعظ! نہ تُم پیو نہ کسی کو پلا سکوکیا بات ہے تُمھاری شرابِ طہُور کی!

۴

لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل، کہ کیوں اُٹھا؟گویا ابھی سُنی نہیں آواز صُور کی

۵

آمدِ بہار کی ہے، جو بُلبل ہے نغمہ سنجاُڑتی سی اِک خبر ہے زبانی طیُور کی

۶

گو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہُوۓ تو ہیںکعبے سے اِن بُتوں کو بھی نسبت ہے دُور کی

۷

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جوابآؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طُور کی

۸

گرمی سہی کلام میں، لیکن نہ اِس قدرکی جس سے بات، اُس نے شکایت ضرُور کی

۹

غالب! گر اِس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیںحج کا ثَواب نذر کروں گا حضُور کی

۲۲۸

غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے

۱

غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہےیہ رنج کہ کم ہے مۓ گُلفام، بہت ہے

۲

کہتے ہُوۓ ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہہے یُوں کہ مجھے دُردِ تہِ جام بہت ہے

۳

نے تیر کماں میں ہے، نہ صیّاد کمیں میںگوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

۴

کیا زُہد کو مانُوں کہ نہ ہو گرچہ ریائیپاداشِ عمل کی طمعِ خام بہت ہے

۵

ہیں اہلِ خرد کس روِشِ خاص پہ نازاں؟پابستگیِ رسم و رہِ عام بہت ہے

۶

زمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حرم سے؟آلُودہ بہ مۓ جامۂ احرام بہت ہے

۷

ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ اُن کواِنکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہے

۸

خُوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں، اے مرگ!رہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہے

۹

ہوگا کوئی اَیسا بھی کہ غالب کو نہ جانے؟شاعِر تو وہ اچّھا ہے، پہ بدنام بہت ہے

۲۲۹

مُدّت ہُوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوۓ

۱

مُدّت ہُوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوۓجوشِ قدح سے بزمِ چراغاں کیے ہوۓ

۲

کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کوعرصہ ہُوا ہے دعوتِ مژگاں کیے ہوۓ

۳

پھر وضعِ احتیاط سے رُکنے لگا ہے دمبرسوں ہُوۓ ہیں چاکِ گریباں کیے ہوۓ

۴

پھر گرم نالہ ہاۓ شرر بار ہے نفسمُدّت ہُوئی ہے سیرِ چراغاں کیے ہوۓ

۵

پھر پُرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشقسامانِ صد ہزار نمکداں کیے ہوۓ

۶

پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خُونِ دلسازِ چمن طرازیِ داماں کیے ہوۓ

۷

باہمدگر ہوۓ ہیں دل و دیدہ پھر رقیبنظّارہ و خیال کا ساماں کیے ہوۓ

۸

دل پھر طوافِ کوۓ ملامت کو جاۓ ہےپندار کا صنمکدہ ویراں کیے ہوۓ

۹

پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلبعرضِ متاعِ عقل و دل و جاں کیے ہوۓ

۱۰

دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیالصد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوۓ

۱۱

پھر چاہتا ہوں نامۂ دلدار کھولناجاں نذرِ دلفریبیِ عنواں کیے ہوۓ

۱۲

مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوسزُلفِ سیاہ رُخ پہ پریشاں کیے ہوۓ

۱۳

چاہے ہے پھر کسی کو مُقابل میں آرزوسُرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوۓ

۱۴

اِک نوبہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہچہرہ فرُوغِ مۓ سے گُلستاں کیے ہوۓ

۱۵

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیںسر زیرِ بارِ منّتِ درباں کیے ہوۓ

۱۶

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ رات دنبیٹھے رہیں تصوّرِ جاناں کیے ہوۓ

۱۷

غالب! ہمیں نہ چھیڑ، کہ پھر جوشِ اشک سےبیٹھے ہیں ہم تہیّۂ طوفاں کیے ہوۓ

۲۳۰

نویدِ امن ہے بیدادِ دوستِ جاں کے لیے

۱

نویدِ امن ہے بیدادِ دوستِ جاں کے لیےرہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لیے

۲

بلا سے! اگر مژۂ یار تشنۂ خُوں ہےرکھوں کچھ اپنی بھی مژگانِ خُوں فشاں کے لیے

۳

وہ زندہ ہم ہیں، کہ ہیں رُوشناسِ خَلق، اے خضر!نہ تُم، کہ چور بنے عُمرِ جاوداں کے لیے

۴

رہا بلا میں بھی، مَیں مُبتلاۓ آفتِ رشکبلاۓ جاں ہے، ادا تیری، اِک جہاں کے لیے

۵

فلک نہ دُور رکھ اُس سے مجھے، کہ مَیں ہی نہیںدراز دستیِ قاتل کے اِمتحاں کے لیے

۶

مثال یہ مری کوششِ کی ہے، کہ مُرغِ اسیرکرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے

۷

گدا سمجھ کے وہ چُپ تھا، مری جو شامت آۓاُٹھا، اور اُٹھ کے قدم مَیں نے پاسباں کے لیے!

قطعہ

۸

بہ قدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگناۓ غزلکچھ اور چاہیے وُسعت مِرے بیاں کے لیے

۹

دیا ہے خَلق کو بھی، تا اُسے نظر نہ لگےبنا ہے عیشِ تجمُّلِ حُسین خاں کے لیے

۱۰

زباں پہ بارِ خُدایا! یہ کس کا نام آیاکہ میرے نُطق نے بوسے مِری زباں کے لیے

۱۱

نصیرِ دولت و دیں اور مُعینِ مِلّت و مُلکبنا ہے چرخِ بریں جس کے آستاں کے لیے

۱۲

زمانہ عہد میں اُس کے ہے محوِ آرائشبنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے

۱۳

ورق تمام ہُوَا اور مَدح باقی ہےسَفینہ چاہیے اِس بحرِ بے کراں کے لیے

۱۴

اداۓ خاص سے غالب ہُوَا ہے نکتہ سراصلاۓ عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے