السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کشف المحجوب

حصہ ۸ — بارھواں باب — تیرھواں باب

حصہ ۸
صفحہ ۳۱۰

بارھواں باب

صوفیائے متاخرین

ناظرینِ کرام! اللہ تمہیں توفیق عطا فرمائے۔ اچھی طرح یاد رکھو کہ ہمارے زمانہ میں اس قسم کے لوگ باقی ہیں جو ریاستِ عرفان پر قبضہ بلا ریاضت و مجاہدہ کے چاہتے ہیں اور متصوف بن کر ارباب قصد و حزم کو بھی اپنے اور پر قیاس کر کے اپنے جیسا سمجھتے ہیں۔

(طریقہ ان کا یہ ہے کہ) جب ذکرِ وارفتگانِ سلف اور حالاتِ سلف سن کران کے تشرفِ قرب کو دیکھتے ہیں اور ان کے زہد و ورع اور مجاہدہ کا قصہ معلوم کرتے ہیں، اپنے نفس اور دل سے پوچھتے اور نگاہ کرتے ہیں (کہ آیا ہم اتنا مجاہدہ، اس قدر ریاضت کرنے کے اہل ہیں یا نہیں)۔ تو وہ اپنے نفس اور دل کو ان مجاہدوں سے دور اور بعید پاتے ہیں (مگر صوفی بن کر عوام پر دام تزویر ڈالنے کے شوقین ہیں)۔ تو بس ان چیزوں سے انکار شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ نہیں، اور ہم میں اس قسم کے لوگ اب باقی نہیں رہے۔

حالانکہ یہ قول ان کا بمرتبہ محال کے ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی زمین کو بے حجتِ الٰہیہ نہیں چھوڑا اور امتِ مرحومہ کبھی بغیر ولی کے نہیں رہی اور نہ رہے گی۔

چنانچہ حضور سید یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے

لَا یَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ اُمَّتِیْ عَلَی الْخَیْرِ وَالْحَقِّ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ۔

"ہمیشہ میری امت ایسی جماعت سے خالی نہ رہے گی جو خیر اور حق پر قیامت تک رہے گی۔"

اور فرمایا

لَا یَزَالُ فِیْ اُمَّتِیْ اَرْبَعُوْنَ عَلٰی خُلُقِ اِبْرَاهِیْمَ عَلَیْهِ السَّلَامُ۔

۳۱۱

"ہمیشہ میری امت میں چالیس مردانِ خدا خُلقِ ابراہیم علیہ السلام پر رہیں گے۔"

اب ہم جن لوگوں کا اس کتاب میں ذکر کر چکے ہیں وہ گزر گئے اور ان کی روحیں راحت ریحان میں پہنچ گئیں اور بعض ان میں سے ابھی حیاتِ جسمانی میں موجود ہیں۔ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَعَنَّا وَعَنْ جَمِیْعِ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ۔

"میری امت سے چالیس آدمی ایسے رہیں گے جن کے دل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی طرح ہوں گے۔ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اہلِ زمین سے مصائب دور کرے گا اور لوگ نماز، روزہ اور صدقہ کے سبب نہ پا سکیں گے۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر لوگ انہیں کس طرح پائیں گے؟ تو فرمایا کہ سخاوت کے ساتھ۔"

امام احمد بن حنبل نے اسے اپنی مسند میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے: اَلَا اِنَّ الْاَبْدَالَ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ ثَلَاثُوْنَ مِثْلَ اِبْرَاهِیْمَ الْخَلِیْلِ عَلَیْهِ السَّلَامُ، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ اَبْدَلَ اللّٰهُ مَكَانَهٗ رَجُلًا۔ "اس امت سے تیس ابدال حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی طرح ہوں گے، جب (ان میں سے) کوئی ایک آدمی فوت ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا بدل دے گا۔"

۳۱۲

حضرت ابو العباس احمد بن قصاب رحمۃ اللہ علیہ

اُن متاخرین صوفیہ سے طرازِ طریقِ ولایت، جمالِ اہلِ ہدایت ابو العباس حضرت احمد بن قصاب رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ نے متقدمین ماوراء النہر کی زیارت کی ہے اور ان کے فیضِ صحبت سے بھی مستفید ہوئے ہیں۔ آپ اپنے علوِ حال اور صدقِ فراست اور کثرتِ برہان و کرامات میں مشہور و معروف تھے۔ حضرت ابو عبد اللہ خیاط رحمۃ اللہ علیہ جو امامِ طبرستان تھے فرماتے ہیں کہ حضرت جلت مجدہٗ عزّ اسمہٗ کے فضلوں میں سے ایک فضل یہ ہے کہ اپنے مقرب بندے کو بلا تعلیمِ علم یہ ذہنِ سلیم عطا فرماتا ہے کہ اگر مجھے اصولِ طریقت میں یا دقائقِ توحید میں کوئی مشکل پیش آ جاتی ہے تو میں ابو العباس احمد سے پوچھ کر حل کر لیتا ہوں۔ آپ غیر تعلیم یافتہ امی تھے مگر کلام اور نکات اتنے بلند بیان فرماتے تھے کہ علمِ تصوف اور اصولِ طریقت میں ابتداء سے انتہا تک آپ کو عالی حال نیک سیرت مانا گیا۔

آپ سے بہت زیادہ حکایتیں میں نے سنی ہیں مگر اس کتاب میں میرا رویہ اختصار پر ہے (اس لیے بعض صرف نقل کروں گا)۔ آپ فرماتے ہیں ایک بچہ سامان لادے ہوئے اونٹ کی نکیل تھامے بازار "آمل" میں جا رہا تھا اور اس بازار میں عموماً کیچڑ رہتی تھی۔ اتفاقاً اونٹ کا پاؤں پھسلا اور گر پڑا، پنڈلی چور ہو گئی۔ لوگوں نے ارادہ کیا کہ اونٹ کی پشت سے سامان اتار دیں۔ لڑکے نے منع کیا اور رو کر بارگاہِ الٰہی میں دست بدعا ہوا۔ فرماتے ہیں کہ میں بھی ادھر سے گزرا۔ دریافت کیا، لوگوں نے کہا اونٹ کا پاؤں ٹوٹ گیا۔ آپ نے اونٹ کی باگ تھامی اور آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور عرض کی: الٰہی! اس اونٹ کا پاؤں ٹھیک کر دے، اگر درست کرنا منظور نہیں تو قصاب کا دل اس بچہ کے رونے سے کیوں سوختہ ہے؟ اتنے میں اونٹ اٹھا اور بآسانی چلنے لگا۔

آپ سے مروی ہے کہ فرمایا: تمام عالم خواہ چاہے یا نہ چاہے اللہ تعالیٰ کی رضا کا خوگر کرنا چاہیے ورنہ رنج میں رہیں گے اس لیے کہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی رہنے کا خوگر ہوگا وہ ہر بلا کو من جانبِ مبلی سمجھ کر بلا نہ سمجھے گا، پھر گویا جو بلا اس پر آئے گی وہ بلا نہ ہوگی۔ اور اگر خوگرِ رضا نہ ہو تو بلا جو آنی ہے آئے گی مگر رنجیدگی اس پر لازمی ہے اور درحقیقت بلا و عذاب جو ہمارے لیے مقدر ہے، اس تقدیر کو ہم متغیر نہیں کر سکتے اور اگر ہم راضی برضا رہیں گے تو ہماری رضا کی وجہ میں وہ بلا بحکمِ قادر ہمارے لیے راحت ہو جائے گی۔

تو جو اپنے ربّ کی رضا میں راضی رہنے کا خوگر ہے اس کا دل ہر حال میں راحت پاتا ہے اور جو قضا و قدر سے اعراض کرتا ہے تو وَرودِ قضا کے وقت رنجیدہ دل ہوتا ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔

۳۱۳

حضرت علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ

انہیں متاخرین میں سے صوفیہ بیان، مریدانِ برہانِ محققان حضرت ابو علی بن حسن بن محمد دقاق رضی اللہ عنہ ہیں۔ امامِ فن تھے، اپنے زمانہ میں یکتائے عالم گزرے ہیں۔ بیان صریح، زبان فصیح رکھتے تھے اور کشفِ راہِ مولا میں کامل بہت سے مشائخ کرام کو دیکھ چکے ہیں اور ان کے فیضِ صحبت میں مستفید رہے ہیں۔ آپ حضرت محمد بن محمود نصیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور بہترین واعظ تھے۔

آپ سے مروی ہے کہ فرمایا

مَنْ اَنِسَ بِغَیْرِهٖ ضَعُفَ فِیْ حَالِهٖ وَمَنْ نَطَقَ مِنْ غَیْرِهٖ كَذَبَ فِیْ مَقَالِهٖ۔

"جسے غیرِ خدا کے ساتھ مؤانست ہو وہ اپنے کیفیتِ حال میں ضعیف ہے اور جو اپنے ربّ کے سوا کسی سے مکالمہ کرے وہ اپنے بیان میں جھوٹا ہے۔"

اس لیے کہ اُنسِ غیر، قلتِ عرفان کی وجہ میں ہوتا ہے اور اس ذاتِ حق سے اُنس تب ہوتا ہے جبکہ وحشتِ دلی جاتی رہے اور جو متوحش بالغیر ہوگا، غیرِ خدا سے ناطق نہیں ہو سکتا۔

ایک بزرگ سے سنا کہ وہ فرماتے تھے کہ ایک روز مجلسِ علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ میں اس نیت سے پہنچا کہ متوکلوں کا حال دریافت کروں۔ آپ کے سرِ اقدس پر دستارِ طبری زیب تھی۔ میرے دل میں اس دستار کی طرف میلان ہوا۔ میں نے علی دقاق سے عرض کی کہ حضور! توکل کیا چیز ہے؟ فرمایا تو کل یہ ہے کہ تو اپنے دل کا میلان کسی کی دستار کی طرف نہ ہونے دے۔ یہ فرمایا اور دستارِ سرِ اقدس سے اتار کر میری طرف پھینک دی۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

حضرت ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ

انہیں متاخرین صوفیاء سے شرفِ اہلِ زمانہ، امامِ یگانہ ابو الحسن حضرت علی بن احمد خرقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اجلہ مشائخ سے تھے اور اپنے وقت میں ممدوحِ اولیاء گزرے ہیں حتیٰ کہ حضرت شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ بقصدِ زیارت آپ کے پاس آئے اور آپ کے ساتھ خاص راز کی باتیں ہوئیں۔ جب واپس ہوئے تو فرمایا: ابو الحسن! ہم نے تمہیں اپنی عہدِ ولایت کے لیے منتخب کیا اور حسن مؤدب خادم شیخ ابو سعید کہتے ہیں کہ جب شیخ حضرت ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پہنچے تو آپ نے اپنی طرف سے کوئی بات نہ کی اور حضرت ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ کی باتیں سنتے رہے، کبھی کبھی کسی بات کے جواب میں کلام فرماتے۔ میں نے عرض کی حضرت! آپ کس لیے

۳۱۴

خاموش رہے؟ فرمایا: ایک بات کے لیے ایک ہی بولنے والا کافی ہوتا ہے۔

اور استاد ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ سے سنا کہ فرماتے ہیں جب ہم ولایتِ خراسان میں آئے تو ہماری فصاحت ختم ہو گئی اور عباراتِ حال جاتی رہیں۔ یہ دبدبہ و شوکت پیرِ خراسانی کا تھا، حتیٰ کہ ہم اپنے منصبِ ولایت سے وہاں کی مدتِ قیام میں معزول ہو گئے۔

آپ سے مروی ہے کہ فرمایا: راستے دو ہیں: ایک راہِ ضلالت ہے، دوسرا راہِ ہدایت۔ جو راہِ ضلالت ہے، وہ بندہ کا راستہ ہے خدا کی طرف اور وہ جو راہِ ہدایت ہے وہ خدا کا راستہ ہے بندہ کی طرف۔ تو جو بندہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ تک پہنچا، وہ ہرگز نہیں پہنچا اور جو کہے مجھے اللہ تعالیٰ تک پہنچا دیا وہ یقیناً پہنچ گیا۔ اس لیے کہ کامیابی پہنچنے اور نہ پہنچنے اور کامیاب ہونے اور نہ ہونے میں نہیں ہے کہ پہنچانے اور نہ پہنچانے اور آزاد کرنے اور نہ کرنے میں مضمر ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔

حضرت ابو عبد اللہ محمد بن معروف بسطامی رحمۃ اللہ علیہ

انہیں متاخرین صوفیہ سے بادشاہِ زمان حضرت ابو عبد اللہ محمد بن معروف بہ داستانی بسطامی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ علوم میں بہترین عالم اور درگاہِ حق میں محتشم تھے۔ آپ کا کلام نہایت مہذب تھا اور ارشادات نہایت لطیف۔

شیخ سہلکی رحمۃ اللہ علیہ جو اس ملک کے امام تھے، آپ سے بہت محبت کرتے تھے اور میں نے شیخ سہلکی سے ان کے کچھ اقوال سنے ہیں۔ من جملہ ان کے یہ ہے کہ آپ نے فرمایا

اَلتَّوْحِیْدُ عَنْكَ مَوْجُوْدٌ وَاَنْتَ فِی التَّوْحِیْدِ مَفْقُوْدٌ۔

"تجھ میں توحید درست ہے لیکن تو توحید میں نادرست اور مفقود ہے۔"

یعنی بموجب اقتضائے حق، توحید پر تیرا قیام صحیح نہیں اور ادنیٰ درجۂ توحید کا نفیِ تصرف ہے۔ ملکِ جسم سے اپنے امور میں حق عزّ و جلّ کا اثبات۔ شیخ سہلکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس وقت بسطام میں ٹڈیاں اس قدر آئیں کہ تمام درختوں کو چاٹ گئیں اور کشتیاں ان کی سیاہ ہو گئیں اور لوگ تفرج وزاری میں مشغول ہو گئے تو شیخ بسطامی نے مجھ سے پوچھا: یہ کیسا شور ہے؟ عرض کی: حضور ٹڈیاں آئی ہیں اور لوگ ان سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ یہ سنتے ہی شیخ اٹھے اور چھت پر تشریف لائے اور آسمان کی طرف رخ کیا کہ اسی وقت تمام ٹڈیاں اٹھیں اور عصر کی نماز تک ایک بھی نہ رہی اور کسی کا ایک پتہ برابر نقصان نہ ہوا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔

۳۱۵

حضرت ابو سعید فضل بن محمد مہنی رحمۃ اللہ علیہ

انہیں متاخرین صوفیہ سے شہنشاہِ مجاہ، ملکِ ملوکِ صوفیاں حضرت ابو سعید فضل اللہ بن محمد مہنی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ سلطانِ وقت و جمالِ طریقت گزرے ہیں۔ تمام اہلِ زمانہ آپ سے مسخر تھے۔ کوئی آپ کے دیدار کا مشتاق رہتا، کوئی آپ سے حسنِ عقیدت رکھتا۔ کوئی آپ کی قوتِ حال کا قائل تھا۔ علوم و فنون میں مانے ہوئے عالم ہونے کے علاوہ اشرافِ قوم میں عظیم الشان درجہ رکھتے تھے۔ مرید برآں طریقت میں آپ کی نشانیاں اور براہین بے حد ہیں۔ چنانچہ آج تک آپ کے آثار کمالات اتنے ظاہر ہیں کہ دنیا جانتی ہے۔

ابتدائی زمانہ میں آپ بغرضِ حصولِ علم مقام "مہنہ" سے مقام "سرخس" میں آئے اور حضرت ابو علی رائض یعنی چاہ سوار کی خدمت میں رہے۔ آپ کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ تین روز کا سبق ایک دن میں پڑھا کرتے اور تین دن عبادتِ الٰہی میں بسر فرماتے۔ امام ابو علی رحمۃ اللہ علیہ نے جب آپ کی یہ راست روی ملاحظہ فرمائی تو آپ کی عظمت فرمانے لگے اور تعلیم میں کچھ زیادتی کر دی۔ اس زمانہ میں والیِ سرخس شیخ ابو الفضل حسن تھا۔ ایک دن حضرت فضل اللہ ابو سعید "جوبار" نہر پر گلگشت فرما رہے تھے کہ ابو الفضل والیِ سرخس سے دو چار ہو گئے۔ ابو الفضل حسن نے آپ سے کہا: ابو سعید! جس راستے پر تم جا رہے ہو یہ تمہارا راستہ نہیں، اپنا راستہ لو۔ حضرت ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی طرف التفات نہ کیا اور سیر فرما کر اپنی قیام گاہ پر تشریف لے آئے اور اپنے مشاغلِ ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہو گئے، حتیٰ کہ حق تعالیٰ نے درِ ہدایت کھولا اور حضرت ابو سعید کو مدارجِ علیا پر فائز فرمایا۔

شیخ ابو فارس فرماتے ہیں کہ مجھے ابو سعید فضل اللہ سے دیرینہ خصومت تھی (لیکن ان کے زہد و ورع کا شہرہ سن کر) جب ان کی زیارت کا شوق ہوا تو میں ایسی حالت میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا کہ میرے جسم پر ایسا خرقہ تھا کہ میلا ہو کر چمڑے کی طرح ہو گیا تھا۔ جب میں آپ کی خدمت میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ آپ تختِ مربع پر ردائے مصری ڈالے تشریف فرما ہیں۔ میں نے اپنے دل میں یہ اعتراض کیا کہ یہ مردِ دعویٔ فقیری کر کے اس قدر علائقِ دنیاوی میں پھنسا ہوا ہے اور تمام علائق سے انقطاع کر کے مدعیِ فقر ہونے سے میری اس کے ساتھ کیونکر موافقت ہوگی۔ ابو سعید فضل اللہ اپنے نورِ فراست سے میرے اس خطرے سے واقف ہو گئے اور سر اٹھا کر مجھ سے فرمایا

یَا اَبَا مُسْلِمٍ فِیْ اَیِّ دِیْوَانٍ وَجَدْتَ مَنْ كَانَ قَلْبُهٗ قَائِمًا فِیْ مُشَاهَدَةِ الْحَقِّ یَقَعُ عَلَیْهِ اِسْمُ الْفَقْرِ۔

۳۱۶

"ابو مسلم! تم نے کس کتاب میں دیکھا کہ جب کسی کا دل خدا کے مشاہدہ میں قائم ہو، اس پر نامِ فقر آتا ہے۔"

یعنی جو اصحابِ مشاہدہ ہیں وہ اپنے ربّ کے ساتھ غنی ہیں اور جو فقیر ہیں وہ اربابِ مجاہدہ کہلاتے ہیں۔ ابو مسلم نے کہا یہ جواب سن کر اپنے دل میں خجل و پریشان ہوا اور اپنے بے جا وسوسہ سے توبہ کی۔

آپ سے مروی ہے کہ فرمایا

اَلتَّصَوُّفُ قِیَامُ الْقَلْبِ مَعَ اللّٰهِ بِلَا وَاسِطَةٍ۔

"تصوف قیامِ دل بحق کا نام ہے جو بلا واسطہ ہو۔"

اور یہ بھی مشاہدہ کی طرف اشارہ ہے، اس لیے کہ مشاہدہ غلبۂ دوستی سے ہوتا ہے اور شوقِ رویت و مشاہدہ استغراق میں ہوتا ہے اور فنا جسے کہتے ہیں وہ بقاء بحق کہلاتی ہے۔ اس بحث کو کتاب الحج کے عنوان سے مشاہدۂ وجود کی تفصیل کے لیے علیحدہ باب میں بیان کیا جائے گا۔ انشاء اللہ۔

ایک بار حضرت ابو سعید فضل اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے نیشاپور سے طوس کا قصد فرمایا۔ راستہ میں سردی سخت تھی۔ حتیٰ کہ موزوں کے اندر بھی پائے مبارک سردی محسوس کرنے لگے۔ ایک درویش کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ اپنی کمر کی پٹی کے دو ٹکڑے کر کے پائے مبارک میں لپیٹ دوں مگر میرے دل نے اس کا کاٹنا گوارہ نہ کیا اس لیے کہ وہ بہت عمدہ تھی۔ جب ہم طوس آ گئے۔ ایک روز محل میں میں نے عرض کی کہ حضور! وسواسِ شیطانی اور الہام میں کیا فرق ہے؟ فرمایا: الہام وہ ہے جس میں تجھے کہا گیا کہ کمر پٹی کاٹ کر ابو سعید کے پیروں کو سردی سے محفوظ کر اور وسواسِ شیطانی وہ ہے جس نے تجھے اس کام سے روکا۔ اور اس قسم کی بہت سی باتیں متواتر ہیں، لیکن اس مختصر میں یہ ہی بس ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

حضرت شیخ ابو الفضل محمد بن حسن ختلی رحمۃ اللہ علیہ

(یہ حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے مرشد ہیں)

انہیں متاخرین صوفیاء میں میرے مرشدِ بحق، زینِ اوتاد، شیخ عباد ابو الفضل حضرت محمد بن حسن ختلی رضی اللہ عنہ ہیں۔ طریقت میں میری پیروی و اقتداء ان کے ساتھ ہے۔ علمِ تفسیر و روایات کے زبردست عالم تھے اور تصوف میں مسلکِ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ رکھتے تھے اور آپ حضرت حصری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور سیری کے مصاحب اور حضرت ابو عمر قزوینی اور ابو الحسن بن سالبہ رحمہم اللہ کے ہمعصر تھے۔

۳۱۷

ساٹھ سال عزلت نشین رہ کر مخلوق میں سے اپنا نام گم فرما چکے ہیں۔ زیادہ تر آپ کا قیام "جبلِ لگام" میں رہا، کافی عمر پائی۔ آپ کی آیات و براہین بہت ہیں مگر آپ کا لباس متصوفین کی رسم کا نہ تھا اور رسمی چیزوں کے آپ سخت خلاف تھے۔ میں نے اس مردِ خدا سے زیادہ بارُعب کوئی نہیں دیکھا۔ آپ سے میں نے سنا کہ فرمایا: اَلدُّنْیَا یَوْمٌ وَلَنَا فِیْهِ صَوْمٌ۔ "دنیا مثلِ ایک دن کے ہے اور اس دن میں ہمارا روزہ ہے۔" یعنی اس دنیا سے ہم نے کچھ حصہ نہیں لیا اور اس کی قید میں ہم نہیں آئے، اس لیے کہ دنیا کی آفتیں ہماری دیکھی ہوئی ہیں اور اس کا جو حجاب ہے اس سے ہم واقف ہو چکے ہیں۔

ایک روز میں وضو کے لیے حضور کے ہاتھ پر پانی ڈال رہا تھا تو میرے دل میں خطرہ پیدا ہوا کہ جب تمام نظامِ عالم اور کاروبارِ دنیا قسمت پر موقوف ہے تو کس لیے اچھے خاصے آزاد لوگ امیدِ کرامت و فیوض پر اپنے آپ کو پیروں، فقیروں کا غلام اور بندۂ حکم بناتے ہیں۔ (میرے دل میں یہ خطرہ گزر رہا تھا کہ) حضور فرمانے لگے: صاحب زادے! جو وسوسہ تمہارے دل میں پیدا ہوا، ہمیں معلوم ہے۔ یاد رکھو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ قضا و قدر کے ہر حکم کے لیے اللہ تعالیٰ نے سبب رکھے ہیں۔ جب ظالم بچہ یعنی سپاہی زادہ کو اللہ تعالیٰ تاجِ عرفان و مملکتِ عشق سے نوازنا چاہتا ہے تو اسے توفیقِ توبہ دے کر اپنے کسی مقرب دوست کی خدمت میں مشغول فرما دیتا ہے، تاکہ وہ خدمت گزاری اس کی عزت و کرامت کے لیے سبب بنے۔ اور مثل اس کے بہت سے لطائف ہر روز اور پر ظاہر ہوتے رہتے تھے۔

جس روز کہ حضرت کی وفات کا وقت آیا، آپ اس روز "بیت الجن" میں تھے۔ یہ ایک گاؤں ہے جو "دمشق" اور "بانیا روذ" کے مابین ایک گھاٹی پر آباد ہے۔ آپ کا سرِ مبارک میری گود میں تھا اور مجھے ایک پیر بھائی سے دل میں رنج تھا، جیسا کہ عام لوگوں کی عادت کے ماتحت لوگوں میں ہوتا ہے تو سرکار مجھ سے فرمانے لگے: بیٹا! تمہیں ایک عقیدہ بتاتا ہوں اگر تم اس پر قائم ہو گئے تو تمام جہان کے غموں سے آزاد ہو جاؤ گے۔ "یاد رکھو! ہر جگہ اور ہر حال اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کا پیدا کیا ہوا ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد، ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی کسی پیدا کی ہوئی چیز سے خصومت نہ رکھیں اور کسی کی طرف سے دل میں رنج نہ رکھیں۔" بس اس وصیت کے بعد اور کچھ نہ فرمایا اور جان جانِ آفرین کے سپرد فرما دی۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

ابو القاسم حضرت عبد الکریم بن ہوازن قشیری رحمۃ اللہ علیہ

انہیں متاخرین صوفیاء میں استاد و امام زین الاسلام ابو القاسم حضرت عبد الکریم بن

(صفحہ 317 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 318 پر ہے۔)

۳۱۸

ہوازن قشیری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اپنے زمانے کے بدیع المثال لوگوں میں تھے اور عزت و حرمت میں رفیع المثال اور منزلوں میں علوّ الحال تھے۔ ان کی بزرگی کا زمانہ مقرر ہے اور ان کے فضائل عام طور پر مشہور ہیں۔ ہر فن میں ان کے لطائف بے حد ہیں۔ تصانیف بہت زیادہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے حال و قال کو حشو و زوائد سے محفوظ فرما دیا تھا۔

آپ سے میں نے سنا کہ فرمایا

مَثَلُ الْمُتَصَوِّفِ كَمِثْلِ الْبِرْسَامِ اَوَّلُهٗ هَذَیَانٌ وَاٰخِرُهٗ سُكُوْتٌ وَاِذَا تَمَكَّنَتْ خَرَسَ۔

"صوفی کی مثال مریضِ برسام کی سی ہے جس کی ابتدا ہذیان اور بہکی بہکی باتوں سے ہوتی ہے اور آخر میں خاموشی اور جب وہ متمکن ہو جاتا ہے تو گونگا کر دیتا ہے۔"

تو صفاءِ قلب کے دو رُخ ہیں: ایک وجد، دوسرے نمود۔ وجد کیفیتِ مبتدیانہ ہے اور نمود وجدِ منتہیان ہے اور وجد ایک ایسی کیفیت ہے کہ اس کی ترجمانی عبارت میں محال ہے تو جب تک مبتدی طالب رہتا ہے اپنی علوِّ ہمت میں ناطق ہوتا ہے، جو مثلِ بکواس ہے اور اسی کو ہذیان کہا گیا اور جب منتہاءِ کمال کو پہنچ گیا تو پھر نہ عبارت رہتی ہے نہ بیان نہ ہذیان۔

اس کی مثال یوں سمجھنی چاہیے کہ جب موسیٰ علیہ السلام درجۂ مبتدی میں تھے، آپ کی ہمت رویت کی طالب تھی، حتیٰ کہ اپنی ہمت کے ماتحت طلبِ رویت کی عبارت بھی کہہ ڈالی اور صاف عرض کیا: ﴿رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْكَ﴾ "اے ربّ! اپنا تجلیِ حسن دکھا کہ میں اس جلوہ کو دیکھوں۔"

یہ وہ عبارت ہے جس سے مقصود حاصل نہ ہونا تھا تو یہ نطق بے معنی ہی تھا اور ہمارے حضور سید یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ منتہیٰ پر متمکن تھے۔ تو جب کسی کی شخصیت تمام مقامات سے عبور کر کے منتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اس کی ہمت و خواہش سب فنا ہو جاتی ہے، تو حضور فرما رہے ہیں: لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْكَ۔ "تیری حمد و ثناء کا احصا ناممکن ہے۔" یہ منزلِ رفیع اور مقامِ عالی ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

۳۱۹

حضرت ابو العباس احمد بن محمد شقانی رحمۃ اللہ علیہ

انہیں متاخرین صوفیاء سے امام اوحد ابو العباس احمد بن محمد شقانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اصول و فروع میں بڑے ماہر اور امامِ وقت گزرے ہیں۔ بہت سے مشائخِ کبار کی زیارت سے مشرف ہو چکے ہیں۔ متصوفین کی جماعت میں خاص طور پر کبراءِ قوم مانے گئے۔ آپ خود کو مقامِ فنا کے ساتھ تعبیر فرماتے تھے اور آپ کی عبارات بہت مغلق ہوتی ہیں اور ان عبارتوں کے لیے آپ مخصوص ہیں۔

میں نے ایک جماعت جاہلوں کی پائی جو آپ کی عبارت کے ظاہر پر کورانہ تقلید کرتی ہے اور یہ تقلید بے معنی اور نا ستودہ ہے (یعنی مفہوم مضمون قائل نہ سمجھ کر محض عبارت کے سطحی معنی کی تقلید جہالت محض ہے اور وہ تقلید جو امام معین کی جاتی ہے وہ عین منشاءِ اسلام ہے)۔ تم دیکھو کہ ان کی عبارتیں کس قسم کی ہیں۔ میرے دل میں ان کی زبردست محبت ہے اور مجھ پر ان کی بحدِ غایت صادق شفقت ہے اور بعض علوم میں وہ میرے استاد بھی ہیں۔ جب تک میں ان کے پاس رہا، میں نے تعظیم شرع کرنے والا ان سے زیادہ کسی کو نہ پایا۔

۳۲۰

انہوں نے ماسوی اللہ اور کل موجودات سے اپنے دل کو صاف کر رکھا تھا۔ ان کے علم و عبادات دقیقہ کا بحران کے کسی کے لیے فائدہ نہیں تھا۔ ان کے وقتِ حال کے مطابق ان کی عبارت علمِ اصول سے پیوستہ ہوتی تھی اور ان کا دل دنیا و عقبیٰ دونوں سے متنفر تھا۔ ہمیشہ جوش و خروش میں فرمایا کرتے تھے: اَشْتَهِیْ عَدَمًا لَا وُجُوْدَ لَهٗ۔ "میں نے ایسے عدم کی خواہش کی جس کا وجود ہی نہیں۔"

کبھی فارسی میں فرماتے

مر آدمی را بایست محال باشد و مرانیز بایست محالست که بہ یقین دانم آں نبا شد کہ وآں آنست کہ میبا یدم کہ خداوند تعالیٰ مرا بعدم بروکہ ہرگز آں عدم را وجود نبا شد۔

"ہر آدمی کے لیے ایک جگہ ہے اور میرے لیے بھی یقیناً ایک محل ہے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ وہ عدمِ محض ہے اور وہ عدم وہ ہے کہ ضرور مجھے وہاں لے جایا جائے گا، اور میرا ربّ مجھے عدم میں پہنچا دے گا اور وہ وہ جگہ ہے جس کا وجود نہیں۔"

اس لیے کہ مقامات و کرامات تمام کے تمام محلِ حجاب و بلا ہیں اور انسان اپنے حجاب کا عاشق ہے اور نیستی و عدم جو دیدارِ یار میں ہو، وہ بہترین نعمت ہے اور اس بہشت سے افضل ہے جس میں حجابِ محبوب ہو اور جب حق جل علا شانہٗ وہ ہستی ہے کہ اس پر عدم محال ہے پھر اس کی ملکیت میں میرے نیست ہو جانے سے کیا زیاں ہو سکتا ہے اور یقیناً میرے عدم کو و جود نہیں ہے۔ یہ ان کی اصل طریقت میں دلیلِ قوی ہے جو مرتبۂ فنا میں منکشف ہوتی ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔

حضرت ابو القاسم بن علی بن عبد اللہ گرگانی رحمۃ اللہ علیہ

انہیں متاخرین صوفیاء میں قطبِ زمانہ حضرت ابو القاسم بن علی بن عبد اللہ گرگانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ متَّعَنَا اللّٰهُ وَالْمُسْلِمِیْنَ بِبَقَائِهٖ۔ اپنے وقت میں عارف بے نظیر اور اپنے زمانہ میں صوفی بے بدیل گزرے ہیں۔ آپ کا ابتدائی زمانہ بھی بہت نیک گزرا اور آپ کے سفر بشرائطِ مجاہدہ بہت کامیاب ہوئے۔ آپ کی طرف قریب قریب ہر دل رجوع کرتا رہا ہے اور ہر ایک کی نظر میں آپ کا بہت زیادہ اعتماد تھا۔

۳۲۱

مریدوں میں آپ کا کشف مشہور تھا۔ علومِ ظاہری میں تمام فنون میں ماہر تھے۔ آپ کا ہر مرید ایک امتیاز خاص رکھتا تھا۔ آپ کا خُلق بھی نہایت اچھا تھا اور آپ کے پسماندگان بھی ان شاء اللہ ایسے ہی ہوں گے کہ قوم ان کی اقتداء و پیروی کرے۔ آپ کو "لسان العصر" مانا جاتا تھا۔

حضرت ابو علی حضرت ابو الفضل بن محمد فارمدی ابقاء اللہ نے دنیا سے اپنا حصہ ترک کر کے سب سے اعراض کر لیا ہے اور علامہ حضرت گرگانی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت اختیار کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مراد اس مبارک ہستی کے صدقہ میں پوری کی اور سید علی گرگانی کی زبان بنا دیا۔ ایک روز میں شیخ گرگان کی خدمت میں حاضر تھا اور اپنے لطائف جو مجھ پر منکشف ہوئے تھے، عرض کر رہا تھا تاکہ اپنا حال ان کی ہدایت کے مطابق درست کروں کیونکہ آپ ناقدِ وقت تھے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

حضرت علی گرگانی رحمۃ اللہ علیہ میرا تمام حال احترام کے ساتھ سنتے ہیں۔ میرا لڑکپن اور بچپن کا نخوت اور جوشِ جوانی مجھے اپنے حال کی ترجمانی پر حرص بڑھا رہا تھا اور دل میں یہ خیال سکہ زن ہوا کہ جو لطائف مجھ پر منکشف ہوئے ہیں شاید اس قدر لطائف ان پر منکشف نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اتنے غور و خوض سے سن رہے ہیں۔ شیخ علی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی فراستِ ولایت سے میرے ضمیر کی آواز و خیال کو پہچان لیا اور فرمایا: اے جانِ پدر! میری یہ فروتنی اور نیاز مندی تیرے لیے نہیں ہے بلکہ ہر مبتدی سے جو اپنے حالات لطائف مجھے سناتا ہے، ایسے ہی سنتا ہوں، یہ تمہارے لیے ہی خاص نہیں ہے۔ جب میں نے آپ سے یہ الفاظ سنے تو میں خاموش ہو گیا۔ آپ نے جب میری یہ خجالت محسوس فرمائی تو مجھ سے فرمایا: بیٹا! انسان کو طریقت میں اس سے زیادہ نسبت نہیں کہ جب وہ اس طریق کو اختیار کرتا ہے تو پھر اس کو چہ کے سوا کسی اور سمت اُسے جانا منظور نہیں ہوتا اور جب وہ اس منصب سے معزول کر دیا جاتا ہے تو اُسے اس کوچہ کے مذاکرہ سے فرحت ہوتی ہے۔ تو نفی و اثبات اور فقدانِ وجود ہر دو ایک خواہش کے ماتحت ہیں اور انسان کبھی اپنے پندارِ وہم و خواہش سے رستگار نہیں ہو سکتا۔ اسے چاہیے کہ بارگاہِ ایزدی میں بندگی و عبودیت اختیار کرے اور تمام نسبتوں کو اپنے سے رفع کر کے سوا نسبتِ مردانگی اور خرم و استقلال و فرمانبرداری کے، کسی وقت التفات نہ رکھے۔ (اس کے بعد من جانبِ اللہ اس پر اسرار منکشف ہوں گے)۔ علاوہ اس کے، اُن کے اور میرے مابین بہت سے راز تھے۔ اگر ان کی تفصیل کی طرف رجوع ہو جاؤں تو جو مقصودِ تالیفِ کتاب ہے، وہ رہ جائے۔ اس لیے اس اختصار پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔

حضرت ابو احمد مظفر بن حمدان رحمۃ اللہ علیہ

انہیں متاخرین میں سے رئیس الاولیاء، ناصحِ اہلِ صفا حضرت ابو احمد مظفر بن حمدان رضی

۳۲۲

اللہ عنہ نے سریرِ سلطنت پر دروازۂ اسرار منکشف فرمایا اور تاجِ کرامت و عرفان سے انہیں نوازا۔ بحثِ فنا و بقا میں اُن کا پیغام نہایت عمدہ و بلند ہے۔

اور شیخ المشائخ حضرت سید ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں بندگی و عبودیت کے ذریعہ سے یہ راہِ طریقت ملی مگر ابو احمد مظفر کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ یعنی ہم مجاہدہ کر کے مرتبۂ مشاہدہ تک پہنچے مگر وہ بفضلِ الٰہی مشاہدہ سے مجاہدہ کی طرف آئے۔

میں نے خود حضرت ابو احمد مظفر سے سنا کہ فرماتے تھے کہ وہ نعمت جو عرفاء و کملاء کو قطعِ بوادیِ عشق اور طے مراحلِ جہد کے بعد حاصل ہوئی، اللہ تعالیٰ نے مجھے مسند پر حکومت کرتے ہوئے عطا فرمائی۔ بلکہ جو لوگ متکبر ہیں وہ (اپنے اوپر قیاس کر کے) حضرت خواجہ ابو احمد مظفر کے اس قول کو محض تعلّی خبر کرتے ہیں، حالانکہ یہ اُن کا عیب ہے۔ اس لیے کہ جو اپنے حال کو صداقت سے بیان کرے وہ محض دعویٰ نہیں ہوتا، علی الخصوص جب کہ اُن کی رفعتِ مکانی کو اربابِ معنی بھی بیان کر رہے ہوں۔

اور آج ان کے فرزندِ رشید موجود ہیں اور حضرت خواجہ احمد فرماتے ہیں کہ ایک روز میں اُن کی خدمت میں حاضر تھا کہ نیشاپور کا ایک مدعیِ تصوف ان کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: "فانی شود آنگاہ باقی شود۔" "یعنی اوّل فانی ہو تو پھر باقی ہوگا۔" حضرت خواجہ مظفر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: فنا بقاء کس طرح صورت حاصل کر سکتی ہے اس لیے کہ فنا کے معنی نیست کے ہیں اور بقاء کے معنی ہست کے، اور ان دونوں صورتوں میں ایک دوسرے کی نفی ہے (اس لیے کہ فناء بقا کی ضد ہے اور بقاء فنا کی ضد)۔ تو جب فنا ہوئی تو فنا معلوم کی ہوگی مگر یہ فنا عین نہیں بلکہ جسے فنا کہا جاتا ہے، وہ کچھ اور ہی چیز ہے، وہ جائز نہیں کہ حقیقتیں فنا ہوں تو درحقیقت فنا نامِ صفتِ فنا کا ہے، اس لیے کہ سبب کا فنا ہونا جائز ہے۔

تو صفت و سبب کے فنا ہو جانے سے موصوف اور مسبب باقی رہتا ہے اور یہ یاد رکھو کہ ذات پر فنا کبھی درست نہیں۔ اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ مجھے خواجہ مظفر رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت بلفظ یاد نہیں رہی۔ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ اس عبارت کا مفہوم بیان کیا ہے۔

اور عبارت کے مفہوم کو میں اور زیادہ وضاحت سے بیان کرتا ہوں تاکہ عام فہم ہو جائے وہ یہ ہے کہ بندہ کا اختیار بندہ کی صفت پر ہے اور جب تک بندہ اپنے اختیار میں رہتا ہے محجوب ہوتا ہے تو گویا صفتِ عبد، حق تعالیٰ کی طرف بندہ کے لیے حجاب ہے اور اختیارِ ذات واجب اللہ تعالیٰ

۳۲۳

شانہٗ ازلی و ابدی ہے اور اختیاراتِ عبد حادث ہیں اور ازلی پر فنا محال ہے۔ تو جب اختیار فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ حق عبد میں بمرتبۂ بقا قائم ہوتا ہے تو اس وقت اختیارِ عبد فانی ہو کر تصرفِ عبدیت کو منقطع کر دیتا ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔

ایک دن میں گرمی کی شدت سے شیخ ابو المظفر کی خدمت میں اپنے کپڑوں کو شور یدہ کیے ہوئے پسینہ میں شرابور سراسیمہ حاضر ہوا۔ مجھ سے فرمایا: ابو الحسن! کیا حال ہے جو اس قدر گھبرا رہے ہو! میں نے عرض کی: سرکار! سماع کی خواہش ہے۔ اسی وقت کسی خادم کو حکم ہوا، علی الفور قوال حاضر ہو گئے اور ایک جماعتِ اہلِ مشرف کی بھی آ گئی۔ قوالی شروع ہوئی کہ ایک نو عمر لڑکے نے جوشِ جوانی اور قوتِ ارادہ و آتشِ عشق حرارت سے اثنائے سماع میں مجھے مضطرب کر دیا۔ کچھ اس کے جذبات سے اور کچھ کلماتِ پُر سوز سے میں بیقرار ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں وہ کیفیتِ غیبانی جو آفتِ حال سے مجھ پر طاری ہوئی تھی، کم ہوئی۔ تو مجھ سے دریافت فرمایا: اب تیرا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی: اب بہت سکون ہے۔

سماع و قوالی کے نقصانات

فرمایا: ایک وقت تجھ پر وہ آئے گا کہ یہ آوازِ سماع اور کوے کی کائیں کائیں تیرے لیے یکساں ہوگی، اس لیے کہ سماع کا اثر صوفی کے قلب پر اسی وقت ہوتا ہے جب تک وہ مشاہدہ سے محروم ہے اور جب مشاہدہ حاصل ہو جاتا ہے تو اثرِ سماع بیکار ہو جاتا ہے۔ خیال رکھنا! اس سماع کی عادت نہ ڈال لینا، کہیں یہ طبیعتِ ثانیہ بن کر تجھے مشاہدہ سے محجوب نہ کر دے۔

وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

صفحہ ۳۲۴

تیرھواں باب

مختلف ممالک کے مشائخِ متاخرین

بطریقِ اختصار اُن صوفیاء کرام کے حالات میں جو متاخرین میں سے ان شہروں میں جلوہ افروز ہیں۔ اگر میں اس وقت تمام متاخرین صوفیاء کے حالات مفصل اس کتاب میں بیان کروں تو طوالتِ کتاب یقینی ہے اور اگر بعض کے حالات چھوڑ دوں جو مقصودِ کتاب ہے وہ پورا نہیں ہوتا۔ لہٰذا اب ہم اُن کے اسمائے گرامی لکھتے ہیں جو ہمارے زمانہ میں ہیں اور وہ حقیقتاً اہلِ معانی اور اربابِ بالحق سے ہیں اور وہ رسمی صوفی نہیں ہیں تاکہ اگر خدا چاہے تو حصولِ عوام سے قرب حاصل ہو جائے۔ ان شاء اللہ۔

مشائخ اہلِ شام و عراق

۱۔ حضرت شیخ ذکی ابن العلا رحمۃ اللہ علیہ: بزرگانِ مشائخ سے ہیں اور سادات زمانہ سے مانے جاتے ہیں۔ میں نے انہیں شعلۂ محبت میں مثلِ شعلہ پایا۔ ان کی کرامات مشہور ہیں۔

۲۔ حضرت شیخ ابو جعفر محمد بن مصباح صیدلانی رحمۃ اللہ علیہ: رئیس الصوفیا ہیں۔ تحقیقِ تصوف میں نہایت سلیس بیان رکھتے ہیں۔ حضرت حسین بن منصور حلاج کے ساتھ خاص تعلق رکھتے ہیں، آپ کی بعض تصانیف میں نے پڑھی ہیں۔

۳۔ حضرت ابو القاسم مسدی رحمۃ اللہ علیہ: بڑے مجاہدہ والے بزرگ ہیں اور بلند حال۔ چرواہے ہیں۔ بزرگوں کے ساتھ بہت عقیدت مند ہیں۔

مشائخ اہلِ فارس

۱۔ شیخ الشیوخ حضرت ابو الحسن بن سالبہ رحمۃ اللہ علیہ: تصوف میں فصیح اللسان تھے اور مسائلِ توحید میں واضح البیان۔ مشہور و معروف عالم ہیں۔

۲۔ شیخ مرشد حضرت ابو اسحاق بن شہریار رحمۃ اللہ علیہ: محتشمانِ قوم ہیں۔ سیاست و شرع کے بہترین عالم ہیں۔

۳۲۵

۳۔ شیخِ طریقت حضرت ابو الحسن بن بکران رحمۃ اللہ علیہ: بزرگانِ متصوفہ سے ہیں۔

۴۔ شیخ ابو الفتح رحمۃ اللہ علیہ: اپنی سلطنت کے بہترین خلف اور امید افزا حال کے مالک ہیں۔

۵۔ شیخ ابو طالب رحمۃ اللہ علیہ: مرو کے رہنے والے، عاشق کلمہ گو گزرے ہیں۔

۶۔ شیخ الشیوخ حضرت ابو اسحاق رحمۃ اللہ علیہ: ان کی میں زیارت نہ کر سکا۔

مشائخ قہستان و آذربائیجان و طبرستان و فک

۱۔ شیخ شفیق فرخ المعروف بہ اخی زنجانی رحمۃ اللہ علیہ: نہایت نیک سیرت اور ستودہ طریقت ہیں۔

۲۔ شیخ اندرین رحمۃ اللہ علیہ: بزرگانِ قوم سے ہیں۔ آپ کی بہت سی نیکیاں قابلِ تحسین ہیں۔

۳۔ حضرت بادشاہ تائب رحمۃ اللہ علیہ: راہِ خدا میں مستقل گزرے ہیں۔

۴۔ شیخ ابو عبد اللہ جنید رحمۃ اللہ علیہ: پیرِ کامل اور بہترین رفیقِ طریقت ہیں۔

۵۔ شیخ ابو طاہر رحمۃ اللہ علیہ: کشف میں اجلہ کملاء سے گزرے ہیں۔

۶۔ حضرت خواجہ حسن سمنان رحمۃ اللہ علیہ: عاشقِ زارِ جمیلِ حقیقی اور امیدوارِ رحمتِ جلی ہیں۔

۷۔ شیخ سہلکی رحمۃ اللہ علیہ: صوفیوں میں بڑے مجاہدہ و ریاضت کرنے والے ہیں۔

۸۔ حضرت احمد پیر شیخ قرقانی رحمۃ اللہ علیہ: فرزندِ سعید ہیں۔

۹۔ حضرت ادیب گندی رحمۃ اللہ علیہ: سادات زمانہ سے ہیں۔

مشائخ اہلِ کرمان

۱۔ خواجہ علی الحسین سیرکانی رحمۃ اللہ علیہ: سیاحِ وقت، صاحبِ طریقت، توحید میں کامیاب اور سفرہائے عرفان میں کامل گزرے ہیں۔

۲۔ خواجہ علی الحسین کے صاحبزادہ: حکیم اور مقبولِ حق ہیں۔

۳۔ شیخ محمد بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ: بزرگانِ وقت سے ہیں۔

ان کے علاوہ کرمان میں بہت سے مشائخ، اولیاء کرام، جوان و معمر، عوام سے مکتوم و مخفی بھی ہیں۔

مشائخ خراسان

۱۔ شیخ مجتہد حضرت ابو العباس سر معانی رحمۃ اللہ علیہ: آپ کی زندگی خوب ہے اور وقت

۳۲۶

نہایت اچھا ہے۔

۲۔ خواجہ ابو جعفر محمد بن علی حواری رحمۃ اللہ علیہ: بزرگانِ قوم اور محققانِ صوفیاء میں ہیں۔

۳۔ خواجہ ابو جعفر ترشیزی رحمۃ اللہ علیہ: معززین قوم میں سے ہیں۔

۴۔ خواجہ محمود نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ: مقتدائے زمانہ اور زبان با اثر رکھتے ہیں۔

۵۔ حضرت شیخ محمد معشوق رحمۃ اللہ علیہ: نیک زندگی گزار رہے ہیں اور صاحبِ باطن ہیں۔

۶۔ خواجہ رشید بن شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ: امیدوارِ لجۂ رحمت، مقتدائے قوم و قبلۂ قلوب ہیں۔

۷۔ خواجہ احمد خاوی سرخسی رحمۃ اللہ علیہ: زبردست مبارز وقت اور ایک مدت تک میرے رفیق رہے ہیں، ان کے معاملات عجیب میں نے دیکھے۔

۸۔ شیخ احمد نجار رحمۃ اللہ علیہ سمرقندی: مقیم مرو، اپنے زمانے کے سلطان گزرے ہیں۔

۹۔ شیخ ابو الحسن علی بن اسود رحمۃ اللہ علیہ: اپنے باپ کے بہترین خلف ہیں۔ آپ کی علوِّ ہمت و صدقِ فراست کی تفصیل کروں تو اہلِ خراسان کے حالات ہی میں کتاب بہت طویل ہو جائے گی۔ میں نے تین سو مردانِ خدا، خراسان میں ایسے پائے جو آفتاب و ماہتابِ طریقت ہیں۔

مشائخ ماوراء النہر

۱۔ خواجہ امام رحمۃ اللہ علیہ: مقبولِ خواص و عوام سے ہیں۔

۲۔ حضرت ابو جعفر بن محمد حسین حرمی رحمۃ اللہ علیہ: مردِ مستمع و گرفتارِ عشقِ حقیقی ہیں، آپ کی ہمت عالی اور لیل و نہار نہایت مصفیٰ ہیں۔

۳۔ خواجہ فقیہہ رحمۃ اللہ علیہ: اپنے ہمعصر لوگوں میں وجاہت رکھتے ہیں۔

۴۔ حضرت ابو محمد بالعزی یا بانعزی رحمۃ اللہ علیہ: نہایت قوی المعاملہ اور عارفِ کامل ہیں۔

۵۔ حضرت احمد ایلاقی رحمۃ اللہ علیہ: شیخِ وقت مخدومِ زمانہ تھے۔

۶۔ خواجہ عارف رحمۃ اللہ علیہ: فریدِ وقت اور بدیع العصر گزرے ہیں۔

۷۔ حضرت علی بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ: پیشوائے زمانہ اور مردِ محتشم تھے۔ زیارت کی اور ان کے مناصب دیکھے۔

مشائخ غزنی

۱۔ شیخ عارف رحمۃ اللہ علیہ: حضرت ابو الفضل بن اسدی پیر بزرگ گزرے ہیں، آپ کی

۳۲۷

کرامتیں بہت ہیں اور آتشِ عشق میں مثلِ شعلہ تھے۔

۲۔ شیخ اسماعیل شاشی رحمۃ اللہ علیہ: پیرِ محتشم تھے اور آپ کا طریقہ ملامتیہ تھا۔

۳۔ شیخ سالار طبری رحمۃ اللہ علیہ: علماء صوفیہ سے گزرے ہیں۔

۴۔ حضرت ابو عبد اللہ محمد بن الحکیم المعروف بہ مرید رحمۃ اللہ علیہ: مستانِ حضرتِ حق سے گزرے ہیں، اپنے مرتبۂ کمال میں لاثانی تھے اور لوگوں سے آپ کا حال مخفی تھا، آپ کے دلائل واضح اور آپ کا حال بہترین تھا۔

۵۔ شیخ محترم حضرت سعید بن ابی سعید رضی اللہ عنہ: حافظِ حدیث تھے، کافی عمر پائی تھی۔ بہت سے مشائخ کی زیارت فرمائی، قوی الحال تھے مگر لوگوں سے اپنا حال مخفی رکھا۔

۶۔ خواجہ بزرگوار حضرت ابو العلا عبد الرحیم بن محمد سعدی رحمۃ اللہ علیہ: معززِ قوم تھے۔ مجھے ان سے بہت محبت ہے، نہایت قوی الحال اور عالمِ علوم تھے۔

۷۔ شیخ اوحد قودہ بن محمد جرویزی رحمۃ اللہ علیہ: اہلِ طریقت کے ساتھ محبت رکھنے والے اور صوفیاء میں آپ کی عزت بے حد تھی، امید ہے کہ جتنی عقیدت لوگوں کو ان سے ہے، ان کے بعد بھی کوئی ایسا پیدا ہو جس سے ایسی ہی عقیدت ہو۔ آپ نے بہت سے مشائخ کی زیارت کی۔

اس وقت اگرچہ یہاں کے مکاروں نے شہر میں گندگی پھیلا دی ہے، امید ہے کہ ان سے جلدی شہر پاک ہو جائے گا اور پھر اولیائے کرام کا قدم گاہ بن جائے گا۔

اب ہم صوفیائے کرام کے فرقوں کا فرق بیان کرتے ہیں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ۔