قَصِيدَةُ الْبُرْدَةِ الشَّرِيفَةقصیدہ بُردہ شریف
امام شرف الدین محمد بن سعید البوصیری رحمۃ اللہ علیہ
قصیدہ بُردہ شریف عربی قصائد میں سب سے زیادہ مشہور نعتیہ قصیدہ ہے۔ اس کے مصنف امام شرف الدین محمد بن سعید البوصیری رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جو اپنے زمانے کے عاشقِ رسول بزرگ تھے۔ روایت ہے کہ فالج کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد آپ نے یہ قصیدہ کہا اور خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے شفا پائی؛ آپ نے اپنی چادر (بُردہ) عطا فرمائی، اسی نسبت سے یہ قصیدہ بُردہ کہلایا۔ قصیدہ دس فصلوں پر مشتمل ہے اور اس کے اشعار کی تعداد ایک سو چونسٹھ ہے۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
اَلْحَمْدُ لِلهِ مُنْشِي الْخَلْقِ مِنْ عَدَمِ
ثُمَّ الصَّلَاةُ عَلَى الْمُخْتَارِ فِي الْقِدَمِ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مخلوق کو عدم سے پیدا کیا، پھر درود ہو اُس برگزیدہ ہستی پر جسے ازل میں چُن لیا گیا۔
مَوْلَايَ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
عَلَى حَبِيبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
اے میرے مولیٰ! ہمیشہ ہمیشہ اپنے حبیب پر، جو ساری مخلوق سے بہتر ہیں، درود و سلام بھیج۔
اَلْفَصْلُ الْأَوَّلُ: فِي ذِكْرِ الشَّوْقِ إِلَى الْأَحْبَابِپہلی فصل: محبوب کے شوق اور یادِ محبت کے بیان میں
أَمِنْ تَذَكُّرِ جِيرَانٍ بِذِي سَلَمِ
مَزَجْتَ دَمْعًا جَرَى مِنْ مُقْلَةٍ بِدَمِ
۱۔ کیا ذی سلم کے ہمسایوں کی یاد نے تجھے یہ حال کیا کہ تُو نے آنکھ سے بہنے والے آنسوؤں میں خون ملا دیا؟
أَمْ هَبَّتِ الرِّيحُ مِنْ تِلْقَاءِ كَاظِمَةٍ
وَأَوْمَضَ الْبَرْقُ فِي الظَّلْمَاءِ مِنْ إِضَمِ
۲۔ یا کاظمہ کی سمت سے ہوا چلی، یا اِضم کی جانب اندھیری رات میں بجلی چمکی؟
فَمَا لِعَيْنَيْكَ إِنْ قُلْتَ اكْفُفَا هَمَتَا
وَمَا لِقَلْبِكَ إِنْ قُلْتَ اسْتَفِقْ يَهِمِ
۳۔ تیری آنکھوں کو کیا ہوا کہ رُکنے کو کہے تو اور بہتی ہیں، اور تیرے دل کو کیا ہوا کہ ہوش میں آنے کو کہے تو اور بے قرار ہوتا ہے؟
أَيَحْسَبُ الصَّبُّ أَنَّ الْحُبَّ مُنْكَتِمٌ
مَا بَيْنَ مُنْسَجِمٍ مِنْهُ وَمُضْطَرِمِ
۴۔ کیا عاشق یہ سمجھتا ہے کہ محبت چھپ سکتی ہے، جب کہ ایک طرف آنسو بہہ رہے ہیں اور دوسری طرف دل جل رہا ہے؟
لَوْلَا الْهَوَى لَمْ تُرِقْ دَمْعًا عَلَى طَلَلٍ
وَلَا أَرِقْتَ لِذِكْرِ الْبَانِ وَالْعَلَمِ
۵۔ اگر عشق نہ ہوتا تو تُو کسی اُجڑے مکان پر آنسو نہ بہاتا، اور نہ بان و عَلَم کی یاد میں راتیں جاگتا۔
فَكَيْفَ تُنْكِرُ حُبًّا بَعْدَ مَا شَهِدَتْ
بِهِ عَلَيْكَ عُدُولُ الدَّمْعِ وَالسَّقَمِ
۶۔ پھر تُو محبت کا انکار کیسے کرے، جب کہ آنسو اور بیماری دونوں تیرے خلاف سچی گواہی دے چکے ہیں؟
وَأَثْبَتَ الْوَجْدُ خَطَّيْ عَبْرَةٍ وَضَنًى
مِثْلَ الْبَهَارِ عَلَى خَدَّيْكَ وَالْعَنَمِ
۷۔ اور غمِ عشق نے تیرے رخساروں پر آنسو اور نقاہت کی دو لکیریں کھینچ دیں، زرد پھول اور سرخ ٹہنی کی مانند۔
نَعَمْ سَرَى طَيْفُ مَنْ أَهْوَى فَأَرَّقَنِي
وَالْحُبُّ يَعْتَرِضُ اللَّذَّاتِ بِالْأَلَمِ
۸۔ ہاں، رات کو میرے محبوب کا خیال آیا اور اُس نے مجھے جگائے رکھا؛ محبت لذتوں کے راستے میں تکلیف کھڑی کر دیتی ہے۔
يَا لَائِمِي فِي الْهَوَى الْعُذْرِيِّ مَعْذِرَةً
مِنِّي إِلَيْكَ وَلَوْ أَنْصَفْتَ لَمْ تَلُمِ
۹۔ اے میرے پاکیزہ عشق پر ملامت کرنے والے! مجھے معذور سمجھ؛ اگر تُو انصاف کرتا تو ہرگز ملامت نہ کرتا۔
عَدَتْكَ حَالِي لَا سِرِّي بِمُسْتَتِرٍ
عَنِ الْوُشَاةِ وَلَا دَائِي بِمُنْحَسِمِ
۱۰۔ میرا حال تجھ پر کھل چکا ہے؛ نہ میرا راز چغل خوروں سے پوشیدہ ہے اور نہ میرا مرض ختم ہونے والا ہے۔
مَحَّضْتَنِي النُّصْحَ لَكِنْ لَسْتُ أَسْمَعُهُ
إِنَّ الْمُحِبَّ عَنِ الْعُذَّالِ فِي صَمَمِ
۱۱۔ تُو نے خالص خیرخواہی سے نصیحت کی، مگر میں سنتا نہیں؛ عاشق ملامت کرنے والوں کی بات سے بہرا ہوتا ہے۔
إِنِّي اتَّهَمْتُ نَصِيحَ الشَّيْبِ فِي عَذَلِي
وَالشَّيْبُ أَبْعَدُ فِي نُصْحٍ عَنِ التُّهَمِ
۱۲۔ میں نے تو بڑھاپے کی نصیحت کو بھی تہمت سمجھا، حالانکہ بڑھاپا نصیحت میں تہمت سے بہت دور ہے۔
اَلْفَصْلُ الثَّانِي: فِي مَنْعِ هَوَى النَّفْسِدوسری فصل: نفس کی خواہش سے روکنے کے بیان میں
فَإِنَّ أَمَّارَتِي بِالسُّوءِ مَا اتَّعَظَتْ
مِنْ جَهْلِهَا بِنَذِيرِ الشَّيْبِ وَالْهَرَمِ
۱۳۔ میرے نفسِ امّارہ نے اپنی جہالت کے سبب بڑھاپے اور ضعف کے ڈرانے والے سے کوئی نصیحت نہ لی۔
وَلَا أَعَدَّتْ مِنَ الْفِعْلِ الْجَمِيلِ قِرَى
ضَيْفٍ أَلَمَّ بِرَأْسِي غَيْرَ مُحْتَشِمِ
۱۴۔ اور اُس نے اُس مہمان کے لیے، جو بے تکلف میرے سر پر آ اُترا، نیک اعمال کی کوئی ضیافت تیار نہ کی۔
لَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنِّي مَا أُوَقِّرُهُ
كَتَمْتُ سِرًّا بَدَا لِي مِنْهُ بِالْكَتَمِ
۱۵۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں اِس مہمان کی عزت نہ کر سکوں گا تو جو راز کھل گیا اُسے خضاب سے چھپا لیتا۔
مَنْ لِي بِرَدِّ جِمَاحٍ مِنْ غَوَايَتِهَا
كَمَا يُرَدُّ جِمَاحُ الْخَيْلِ بِاللُّجُمِ
۱۶۔ کون ہے جو میرے سرکش نفس کو گمراہی سے یوں روک دے جیسے لگام سرکش گھوڑے کو روک دیتی ہے؟
فَلَا تَرُمْ بِالْمَعَاصِي كَسْرَ شَهْوَتِهَا
إِنَّ الطَّعَامَ يُقَوِّي شَهْوَةَ النَّهِمِ
۱۷۔ پس گناہوں کے ذریعے اُس کی خواہش توڑنے کی کوشش نہ کر؛ کھانا تو پیٹو کی بھوک اور بڑھا دیتا ہے۔
وَالنَّفْسُ كَالطِّفْلِ إِنْ تُهْمِلْهُ شَبَّ عَلَى
حُبِّ الرَّضَاعِ وَإِنْ تَفْطِمْهُ يَنْفَطِمِ
۱۸۔ نفس بچے کی طرح ہے: چھوڑ دو تو دودھ کی محبت پر جوان ہو گا، اور چھڑا دو تو چھوٹ جائے گا۔
فَاصْرِفْ هَوَاهَا وَحَاذِرْ أَنْ تُوَلِّيَهُ
إِنَّ الْهَوَى مَا تَوَلَّى يُصْمِ أَوْ يَصِمِ
۱۹۔ پس اُس کی خواہش پھیر دے اور خبردار رہ کہ اُسے اپنا حاکم نہ بنا لے؛ خواہش جس پر غالب آئے، اُسے ہلاک یا داغدار کر دیتی ہے۔
وَرَاعِهَا وَهْيَ فِي الْأَعْمَالِ سَائِمَةٌ
وَإِنْ هِيَ اسْتَحْلَتِ الْمَرْعَى فَلَا تُسِمِ
۲۰۔ اور اعمال کی چراگاہ میں چرتے ہوئے اُس کی نگرانی کر؛ اگر وہ چرنے میں مزہ لینے لگے تو کھلا نہ چھوڑ۔
كَمْ حَسَّنَتْ لَذَّةً لِلْمَرْءِ قَاتِلَةً
مِنْ حَيْثُ لَمْ يَدْرِ أَنَّ السُّمَّ فِي الدَّسَمِ
۲۱۔ کتنی ہی بار اُس نے آدمی کے لیے قاتل لذت کو خوشنما بنا دیا، اور اُسے خبر نہ ہوئی کہ چکنائی میں زہر ملا ہے۔
وَاخْشَ الدَّسَائِسَ مِنْ جُوعٍ وَمِنْ شِبَعٍ
فَرُبَّ مَخْمَصَةٍ شَرٌّ مِنَ التُّخَمِ
۲۲۔ بھوک اور پیٹ بھرنے، دونوں کے فتنوں سے ڈر؛ کبھی بھوک بدہضمی سے بھی زیادہ نقصان دیتی ہے۔
وَاسْتَفْرِغِ الدَّمْعَ مِنْ عَيْنٍ قَدِ امْتَلَأَتْ
مِنَ الْمَحَارِمِ وَالْزَمْ حِمْيَةَ النَّدَمِ
۲۳۔ اُس آنکھ سے آنسو بہا دے جو حرام نظاروں سے بھر چکی ہے، اور ندامت کے پرہیز کو لازم پکڑ۔
وَخَالِفِ النَّفْسَ وَالشَّيْطَانَ وَاعْصِهِمَا
وَإِنْ هُمَا مَحَّضَاكَ النُّصْحَ فَاتَّهِمِ
۲۴۔ نفس اور شیطان کی مخالفت کر اور دونوں کی نافرمانی کر؛ اور اگر وہ خالص خیرخواہی بھی جتائیں تو انہیں متہم سمجھ۔
وَلَا تُطِعْ مِنْهُمَا خَصْمًا وَلَا حَكَمًا
فَأَنْتَ تَعْرِفُ كَيْدَ الْخَصْمِ وَالْحَكَمِ
۲۵۔ اِن دونوں میں سے نہ کسی کو فریق مان اور نہ منصف؛ تُو خود جانتا ہے کہ فریق اور منصف کیا چال چلتے ہیں۔
أَسْتَغْفِرُ اللهَ مِنْ قَوْلٍ بِلَا عَمَلٍ
لَقَدْ نَسَبْتُ بِهِ نَسْلًا لِذِي عُقُمِ
۲۶۔ میں اللہ سے اُس قول کی معافی مانگتا ہوں جس پر عمل نہ ہو؛ میں نے تو بانجھ کی طرف اولاد منسوب کر دی۔
أَمَرْتُكَ الْخَيْرَ لَكِنْ مَا ائْتَمَرْتُ بِهِ
وَمَا اسْتَقَمْتُ فَمَا قَوْلِي لَكَ اسْتَقِمِ
۲۷۔ میں نے تجھے بھلائی کا حکم دیا مگر خود اُس پر عمل نہ کیا، اور خود سیدھا نہ ہوا تو تجھے سیدھا رہنے کا کہنا کیا معنی رکھتا ہے؟
وَلَا تَزَوَّدْتُ قَبْلَ الْمَوْتِ نَافِلَةً
وَلَمْ أُصَلِّ سِوَى فَرْضٍ وَلَمْ أَصُمِ
۲۸۔ میں نے موت سے پہلے نفلوں کا زادِ راہ تیار نہ کیا، اور فرض کے سوا نہ نماز پڑھی نہ روزے رکھے۔
اَلْفَصْلُ الثَّالِثُ: فِي مَدْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتیسری فصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں
ظَلَمْتُ سُنَّةَ مَنْ أَحْيَا الظَّلَامَ إِلَى
أَنِ اشْتَكَتْ قَدَمَاهُ الضُّرَّ مِنْ وَرَمِ
۲۹۔ میں نے اُس ہستی کی سنت پر ظلم کیا جنہوں نے راتیں عبادت میں زندہ کیں، یہاں تک کہ اُن کے قدمِ مبارک ورم سے تکلیف میں آ گئے۔
وَشَدَّ مِنْ سَغَبٍ أَحْشَاءَهُ وَطَوَى
تَحْتَ الْحِجَارَةِ كَشْحًا مُتْرَفَ الْأَدَمِ
۳۰۔ اور بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھے، اور اپنے نرم و نازک پہلو کو اُن کے نیچے لپیٹ لیا۔
وَرَاوَدَتْهُ الْجِبَالُ الشُّمُّ مِنْ ذَهَبٍ
عَنْ نَفْسِهِ فَأَرَاهَا أَيَّمَا شَمَمِ
۳۱۔ بلند و بالا پہاڑوں نے سونا بن کر آپ کو مائل کرنا چاہا، مگر آپ نے اُنہیں اپنی بے نیازی دکھا دی۔
وَأَكَّدَتْ زُهْدَهُ فِيهَا ضَرُورَتُهُ
إِنَّ الضَّرُورَةَ لَا تَعْدُو عَلَى الْعِصَمِ
۳۲۔ اور آپ کی حاجت مندی نے آپ کے زہد کو اور مضبوط کر دیا؛ بے شک ضرورت معصوم ہستیوں پر غالب نہیں آتی۔
وَكَيْفَ تَدْعُو إِلَى الدُّنْيَا ضَرُورَةُ مَنْ
لَوْلَاهُ لَمْ تَخْرُجِ الدُّنْيَا مِنَ الْعَدَمِ
۳۳۔ اور بھلا اُس ہستی کو دنیا کی حاجت کیسے کھینچ سکتی ہے جن کے نہ ہونے سے دنیا عدم سے وجود میں ہی نہ آتی؟
مُحَمَّدٌ سَيِّدُ الْكَوْنَيْنِ وَالثَّقَلَيْـ
ـنِ وَالْفَرِيقَيْنِ مِنْ عُرْبٍ وَمِنْ عَجَمِ
۳۴۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جہانوں کے سردار ہیں، جن و انس کے، اور عرب و عجم دونوں گروہوں کے۔
نَبِيُّنَا الْآمِرُ النَّاهِي فَلَا أَحَدٌ
أَبَرَّ فِي قَوْلِ لَا مِنْهُ وَلَا نَعَمِ
۳۵۔ ہمارے نبی حکم دینے اور روکنے والے ہیں؛ کوئی نہیں جو ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ کہنے میں آپ سے زیادہ سچا ہو۔
هُوَ الْحَبِيبُ الَّذِي تُرْجَى شَفَاعَتُهُ
لِكُلِّ هَوْلٍ مِنَ الْأَهْوَالِ مُقْتَحَمِ
۳۶۔ وہی محبوب ہیں جن کی شفاعت کی اُمید ہر اُس ہول کے لیے ہے جو قیامت کے دن پیش آئے گا۔
دَعَا إِلَى اللهِ فَالْمُسْتَمْسِكُونَ بِهِ
مُسْتَمْسِكُونَ بِحَبْلٍ غَيْرِ مُنْفَصِمِ
۳۷۔ آپ نے اللہ کی طرف بلایا؛ پس جو آپ کو تھامے ہوئے ہیں، وہ ایسی رسّی تھامے ہیں جو کبھی نہیں ٹوٹتی۔
فَاقَ النَّبِيِّينَ فِي خَلْقٍ وَفِي خُلُقٍ
وَلَمْ يُدَانُوهُ فِي عِلْمٍ وَلَا كَرَمِ
۳۸۔ آپ صورت اور سیرت دونوں میں تمام انبیا سے بڑھ گئے، اور کوئی علم و کرم میں آپ کے برابر نہ آ سکا۔
وَكُلُّهُمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ مُلْتَمِسٌ
غَرْفًا مِنَ الْبَحْرِ أَوْ رَشْفًا مِنَ الدِّيَمِ
۳۹۔ اور سب انبیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کا ایک چُلّو یا بارش کا ایک گھونٹ طلب کرتے ہیں۔
وَوَاقِفُونَ لَدَيْهِ عِنْدَ حَدِّهِمِ
مِنْ نُقْطَةِ الْعِلْمِ أَوْ مِنْ شَكْلَةِ الْحِكَمِ
۴۰۔ اور سب آپ کے سامنے اپنی اپنی حد پر کھڑے ہیں، علم کے ایک نقطے یا حکمت کے ایک اِعراب کے برابر۔
فَهْوَ الَّذِي تَمَّ مَعْنَاهُ وَصُورَتُهُ
ثُمَّ اصْطَفَاهُ حَبِيبًا بَارِئُ النَّسَمِ
۴۱۔ پس وہی ہیں جن کے معنی اور صورت دونوں کامل ہوئے، پھر خالقِ کائنات نے اُنہیں اپنا حبیب چُن لیا۔
مُنَزَّهٌ عَنْ شَرِيكٍ فِي مَحَاسِنِهِ
فَجَوْهَرُ الْحُسْنِ فِيهِ غَيْرُ مُنْقَسِمِ
۴۲۔ آپ اپنے محاسن میں ہر شریک سے پاک ہیں؛ حُسن کا جوہر آپ میں غیر منقسم ہے۔
دَعْ مَا ادَّعَتْهُ النَّصَارَى فِي نَبِيِّهِمِ
وَاحْكُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحًا فِيهِ وَاحْتَكِمِ
۴۳۔ نصاریٰ نے اپنے نبی کے بارے میں جو دعویٰ کیا، اُسے چھوڑ دے؛ باقی جو مدح چاہے کر اور جیسے چاہے فیصلہ کر۔
وَانْسُبْ إِلَى ذَاتِهِ مَا شِئْتَ مِنْ شَرَفٍ
وَانْسُبْ إِلَى قَدْرِهِ مَا شِئْتَ مِنْ عِظَمِ
۴۴۔ آپ کی ذات کی طرف جو شرف چاہے منسوب کر، اور آپ کی قدر کی طرف جو عظمت چاہے منسوب کر۔
فَإِنَّ فَضْلَ رَسُولِ اللهِ لَيْسَ لَهُ
حَدٌّ فَيُعْرِبَ عَنْهُ نَاطِقٌ بِفَمِ
۴۵۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کی کوئی حد نہیں کہ کوئی بولنے والا زبان سے اُسے بیان کر سکے۔
لَوْ نَاسَبَتْ قَدْرَهُ آيَاتُهُ عِظَمًا
أَحْيَا اسْمُهُ حِينَ يُدْعَى دَارِسَ الرِّمَمِ
۴۶۔ اگر آپ کے معجزات آپ کی قدر کے برابر ہوتے تو آپ کا نام لینے سے بوسیدہ ہڈیاں زندہ ہو جاتیں۔
لَمْ يَمْتَحِنَّا بِمَا تَعْيَا الْعُقُولُ بِهِ
حِرْصًا عَلَيْنَا فَلَمْ نَرْتَبْ وَلَمْ نَهِمِ
۴۷۔ آپ نے ہم پر شفقت کے سبب ہمیں ایسی چیزوں سے نہ آزمایا جن سے عقلیں عاجز ہو جائیں، سو نہ ہم شک میں پڑے نہ حیران ہوئے۔
أَعْيَا الْوَرَى فَهْمُ مَعْنَاهُ فَلَيْسَ يُرَى
لِلْقُرْبِ وَالْبُعْدِ فِيهِ غَيْرُ مُنْفَحِمِ
۴۸۔ آپ کی حقیقت کا فہم لوگوں کو عاجز کر گیا؛ قریب ہو یا دور، ہر ایک اُسے بیان کرنے سے لاجواب ہی رہا۔
كَالشَّمْسِ تَظْهَرُ لِلْعَيْنَيْنِ مِنْ بُعُدٍ
صَغِيرَةً وَتُكِلُّ الطَّرْفَ مِنْ أَمَمِ
۴۹۔ سورج کی طرح جو دور سے آنکھوں کو چھوٹا دکھائی دیتا ہے، مگر قریب سے نگاہ کو خیرہ کر دیتا ہے۔
وَكَيْفَ يُدْرِكُ فِي الدُّنْيَا حَقِيقَتَهُ
قَوْمٌ نِيَامٌ تَسَلَّوْا عَنْهُ بِالْحُلُمِ
۵۰۔ اور بھلا دنیا میں آپ کی حقیقت وہ لوگ کیسے پا سکتے ہیں جو سوئے ہوئے ہیں اور خوابوں میں دل بہلا رہے ہیں؟
فَمَبْلَغُ الْعِلْمِ فِيهِ أَنَّهُ بَشَرٌ
وَأَنَّهُ خَيْرُ خَلْقِ اللهِ كُلِّهِمِ
۵۱۔ پس آپ کے بارے میں علم کی انتہا یہی ہے کہ آپ بشر ہیں، اور اللہ کی تمام مخلوق سے بہتر ہیں۔
وَكُلُّ آيٍ أَتَى الرُّسْلُ الْكِرَامُ بِهَا
فَإِنَّمَا اتَّصَلَتْ مِنْ نُورِهِ بِهِمِ
۵۲۔ اور ہر وہ معجزہ جو معزز رسول لائے، وہ درحقیقت آپ ہی کے نور سے اُن تک پہنچا۔
فَإِنَّهُ شَمْسُ فَضْلٍ هُمْ كَوَاكِبُهَا
يُظْهِرْنَ أَنْوَارَهَا لِلنَّاسِ فِي الظُّلَمِ
۵۳۔ کیونکہ آپ فضل کے سورج ہیں اور وہ اُس کے ستارے، جو اندھیروں میں لوگوں کے لیے اُسی کی روشنی ظاہر کرتے ہیں۔
حَتَّى إِذَا طَلَعَتْ فِي الْكَوْنِ عَمَّ هُدَا
هَا الْعَالَمِينَ وَأَحْيَتْ سَائِرَ الْأُمَمِ
۵۴۔ یہاں تک کہ جب وہ آفتاب کائنات میں طلوع ہوا تو اُس کی ہدایت سارے جہان پر چھا گئی اور تمام اُمتوں کو زندہ کر دیا۔
أَكْرِمْ بِخَلْقِ نَبِيٍّ زَانَهُ خُلُقٌ
بِالْحُسْنِ مُشْتَمِلٍ بِالْبِشْرِ مُتَّسِمِ
۵۵۔ کیا ہی خوب ہے اُس نبی کا حُسنِ خلقت جسے حُسنِ اخلاق نے سنوارا، جو خوبی سے آراستہ اور بشاشت سے موصوف ہے۔
كَالزَّهْرِ فِي تَرَفٍ وَالْبَدْرِ فِي شَرَفٍ
وَالْبَحْرِ فِي كَرَمٍ وَالدَّهْرِ فِي هِمَمِ
۵۶۔ تازگی میں پھول کی مانند، شرف میں چودھویں کے چاند کی مانند، سخاوت میں سمندر اور ہمت میں زمانے کی مانند۔
كَأَنَّهُ وَهْوَ فَرْدٌ مِنْ جَلَالَتِهِ
فِي عَسْكَرٍ حِينَ تَلْقَاهُ وَفِي حَشَمِ
۵۷۔ گویا آپ تنہا بھی ہوں تو اپنی جلالت کے سبب ایسے لگتے ہیں جیسے لشکر اور خدم و حشم کے درمیان ہوں۔
كَأَنَّمَا اللُّؤْلُؤُ الْمَكْنُونُ فِي صَدَفٍ
مِنْ مَعْدِنَيْ مَنْطِقٍ مِنْهُ وَمُبْتَسَمِ
۵۸۔ گویا آپ کی گفتگو اور تبسم وہ موتی ہیں جو سیپ میں محفوظ تھے اور دو کانوں سے نکلے۔
لَا طِيبَ يَعْدِلُ تُرْبًا ضَمَّ أَعْظُمَهُ
طُوبَى لِمُنْتَشِقٍ مِنْهُ وَمُلْتَثِمِ
۵۹۔ کوئی خوشبو اُس مٹی کے برابر نہیں جس نے آپ کے جسدِ اطہر کو سمیٹا؛ خوش نصیب ہے وہ جو اُسے سونگھے اور اُس کا بوسہ لے۔
اَلْفَصْلُ الرَّابِعُ: فِي مَوْلِدِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُچوتھی فصل: ولادتِ باسعادت کے بیان میں
أَبَانَ مَوْلِدُهُ عَنْ طِيبِ عُنْصُرِهِ
يَا طِيبَ مُبْتَدَإٍ مِنْهُ وَمُخْتَتَمِ
۶۰۔ آپ کی ولادت نے آپ کے پاکیزہ اصل کو ظاہر کر دیا؛ کیا ہی پاکیزہ ہے آپ کی ابتدا اور انتہا۔
يَوْمٌ تَفَرَّسَ فِيهِ الْفُرْسُ أَنَّهُمُ
قَدْ أُنْذِرُوا بِحُلُولِ الْبُؤْسِ وَالنِّقَمِ
۶۱۔ وہ دن جس میں اہلِ فارس نے بھانپ لیا کہ اُنہیں مصیبت اور عذاب کے آنے کی خبر دے دی گئی ہے۔
وَبَاتَ إِيوَانُ كِسْرَى وَهْوَ مُنْصَدِعٌ
كَشَمْلِ أَصْحَابِ كِسْرَى غَيْرَ مُلْتَئِمِ
۶۲۔ اور کسریٰ کا ایوان اُس رات یوں شکستہ ہوا جیسے کسریٰ کے ساتھیوں کا شیرازہ بکھرا، پھر جُڑ نہ سکا۔
وَالنَّارُ خَامِدَةُ الْأَنْفَاسِ مِنْ أَسَفٍ
عَلَيْهِ وَالنَّهْرُ سَاهِي الْعَيْنِ مِنْ سَدَمِ
۶۳۔ اور آتش کدے کی آگ غم سے ٹھنڈی پڑ گئی، اور دریا رنج کے مارے خشک ہو گیا۔
وَسَاءَ سَاوَةَ أَنْ غَاضَتْ بُحَيْرَتُهَا
وَرُدَّ وَارِدُهَا بِالْغَيْظِ حِينَ ظَمِي
۶۴۔ اور ساوہ کو یہ صدمہ ہوا کہ اُس کی جھیل خشک ہو گئی اور پانی لینے والا پیاسا ہی غصے میں لوٹا۔
كَأَنَّ بِالنَّارِ مَا بِالْمَاءِ مِنْ بَلَلٍ
حُزْنًا وَبِالْمَاءِ مَا بِالنَّارِ مِنْ ضَرَمِ
۶۵۔ گویا غم کے سبب آگ میں پانی کی تری آ گئی، اور پانی میں آگ کی حرارت پیدا ہو گئی۔
وَالْجِنُّ تَهْتِفُ وَالْأَنْوَارُ سَاطِعَةٌ
وَالْحَقُّ يَظْهَرُ مِنْ مَعْنًى وَمِنْ كَلِمِ
۶۶۔ اور جن پکار رہے تھے، انوار چمک رہے تھے، اور حق معنی اور کلام دونوں سے ظاہر ہو رہا تھا۔
عَمُوا وَصَمُّوا فَإِعْلَانُ الْبَشَائِرِ لَمْ
تُسْمَعْ وَبَارِقَةُ الْإِنْذَارِ لَمْ تُشَمِ
۶۷۔ وہ اندھے اور بہرے ہو گئے، سو بشارتوں کا اعلان اُنہوں نے نہ سنا اور تنبیہ کی بجلی اُنہیں دکھائی نہ دی۔
مِنْ بَعْدِ مَا أَخْبَرَ الْأَقْوَامَ كَاهِنُهُمْ
بِأَنَّ دِينَهُمُ الْمُعْوَجَّ لَمْ يَقُمِ
۶۸۔ اِس کے بعد بھی کہ اُن کے کاہن اُن قوموں کو بتا چکے تھے کہ اُن کا ٹیڑھا دین اب قائم نہ رہے گا۔
وَبَعْدَ مَا عَايَنُوا فِي الْأُفْقِ مِنْ شُهُبٍ
مُنْقَضَّةٍ وَفْقَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ صَنَمِ
۶۹۔ اور اِس کے بعد بھی کہ اُنہوں نے اُفق میں ٹوٹتے ہوئے شہاب دیکھے، جیسے زمین پر بت گرتے ہوں۔
حَتَّى غَدَا عَنْ طَرِيقِ الْوَحْيِ مُنْهَزِمٌ
مِنَ الشَّيَاطِينِ يَقْفُو إِثْرَ مُنْهَزِمِ
۷۰۔ یہاں تک کہ وحی کے راستے سے شیطان یکے بعد دیگرے بھاگتے چلے گئے، ایک بھاگتا ہوا دوسرے کے پیچھے۔
كَأَنَّهُمْ هَرَبًا أَبْطَالُ أَبْرَهَةٍ
أَوْ عَسْكَرٌ بِالْحَصَى مِنْ رَاحَتَيْهِ رُمِي
۷۱۔ گویا وہ ابرہہ کے لشکریوں کی طرح بھاگ رہے ہوں، یا وہ لشکر ہوں جس پر آپ کی مٹھی سے کنکریاں پھینکی گئیں۔
نَبْذًا بِهِ بَعْدَ تَسْبِيحٍ بِبَطْنِهِمَا
نَبْذَ الْمُسَبِّحِ مِنْ أَحْشَاءِ مُلْتَقِمِ
۷۲۔ یہ کنکریاں آپ کی ہتھیلی میں تسبیح کرنے کے بعد یوں پھینکی گئیں جیسے مچھلی کے پیٹ سے تسبیح کرنے والے کو باہر ڈالا گیا۔
اَلْفَصْلُ الْخَامِسُ: فِي مُعْجِزَاتِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُپانچویں فصل: معجزات کے بیان میں
جَاءَتْ لِدَعْوَتِهِ الْأَشْجَارُ سَاجِدَةً
تَمْشِي إِلَيْهِ عَلَى سَاقٍ بِلَا قَدَمِ
۷۳۔ آپ کے بلانے پر درخت سجدہ کرتے ہوئے حاضر ہوئے، بغیر پاؤں کے اپنے تنے پر چلتے ہوئے۔
كَأَنَّمَا سَطَرَتْ سَطْرًا لِمَا كَتَبَتْ
فُرُوعُهَا مِنْ بَدِيعِ الْخَطِّ فِي اللَّقَمِ
۷۴۔ گویا اُن کی شاخوں نے راستے پر خوبصورت خط کی ایک سطر لکھ دی ہو۔
مِثْلَ الْغَمَامَةِ أَنَّى سَارَ سَائِرَةً
تَقِيهِ حَرَّ وَطِيسٍ لِلْهَجِيرِ حَمِي
۷۵۔ اور بادل کی طرح جہاں آپ چلتے، وہ ساتھ چلتا اور دوپہر کی جھلستی گرمی سے آپ کو بچاتا۔
أَقْسَمْتُ بِالْقَمَرِ الْمُنْشَقِّ إِنَّ لَهُ
مِنْ قَلْبِهِ نِسْبَةً مَبْرُورَةَ الْقَسَمِ
۷۶۔ میں شق ہونے والے چاند کی قسم کھاتا ہوں کہ اُسے آپ کے قلبِ مبارک سے ایسی نسبت ہے جو قسم کو سچا کر دیتی ہے۔
وَمَا حَوَى الْغَارُ مِنْ خَيْرٍ وَمِنْ كَرَمٍ
وَكُلُّ طَرْفٍ مِنَ الْكُفَّارِ عَنْهُ عَمِي
۷۷۔ اور غار نے جس خیر و کرم کو سمیٹا، اُس کے باوجود کفار کی ہر نگاہ آپ سے اندھی رہی۔
فَالصِّدْقُ فِي الْغَارِ وَالصِّدِّيقُ لَمْ يَرِمَا
وَهُمْ يَقُولُونَ مَا بِالْغَارِ مِنْ أَرِمِ
۷۸۔ صداقت اور صدیق دونوں غار میں تھے، اور وہ کہہ رہے تھے کہ غار میں تو کوئی نہیں۔
ظَنُّوا الْحَمَامَ وَظَنُّوا الْعَنْكَبُوتَ عَلَى
خَيْرِ الْبَرِيَّةِ لَمْ تَنْسُجْ وَلَمْ تَحُمِ
۷۹۔ اُنہوں نے گمان کیا کہ کبوتر اور مکڑی خیرُ البریہ کے لیے نہ جالا بُن سکتے ہیں نہ منڈلا سکتے ہیں۔
وِقَايَةُ اللهِ أَغْنَتْ عَنْ مُضَاعَفَةٍ
مِنَ الدُّرُوعِ وَعَنْ عَالٍ مِنَ الْأُطُمِ
۸۰۔ اللہ کی حفاظت نے دوہری زرہوں اور بلند قلعوں سے بے نیاز کر دیا۔
مَا سَامَنِي الدَّهْرُ ضَيْمًا وَاسْتَجَرْتُ بِهِ
إِلَّا وَنِلْتُ جِوَارًا مِنْهُ لَمْ يُضَمِ
۸۱۔ زمانے نے جب بھی مجھے ستایا اور میں نے آپ کی پناہ لی، تو مجھے ایسی پناہ ملی جو کبھی پامال نہ ہوئی۔
وَلَا الْتَمَسْتُ غِنَى الدَّارَيْنِ مِنْ يَدِهِ
إِلَّا اسْتَلَمْتُ النَّدَى مِنْ خَيْرِ مُسْتَلَمِ
۸۲۔ اور میں نے جب بھی آپ کے دستِ مبارک سے دونوں جہاں کی دولت مانگی، تو بہترین ہاتھ سے عطا پائی۔
لَا تُنْكِرِ الْوَحْيَ مِنْ رُؤْيَاهُ إِنَّ لَهُ
قَلْبًا إِذَا نَامَتِ الْعَيْنَانِ لَمْ يَنَمِ
۸۳۔ آپ کے خواب سے آنے والی وحی کا انکار نہ کر؛ آپ کا دل تو اُس وقت بھی جاگتا تھا جب آنکھیں سو جاتی تھیں۔
وَذَاكَ حِينَ بُلُوغٍ مِنْ نُبُوَّتِهِ
فَلَيْسَ يُنْكَرُ فِيهِ حَالُ مُحْتَلِمِ
۸۴۔ اور یہ اُس وقت تھا جب آپ نبوت کے کمال کو پہنچ چکے تھے، سو اِس حال میں خواب کا انکار روا نہیں۔
تَبَارَكَ اللهُ مَا وَحْيٌ بِمُكْتَسَبٍ
وَلَا نَبِيٌّ عَلَى غَيْبٍ بِمُتَّهَمِ
۸۵۔ اللہ بڑی برکت والا ہے؛ وحی کوئی کمائی ہوئی چیز نہیں، اور نہ کوئی نبی غیب کی خبر میں متہم ہے۔
كَمْ أَبْرَأَتْ وَصِبًا بِاللَّمْسِ رَاحَتُهُ
وَأَطْلَقَتْ أَرِبًا مِنْ رِبْقَةِ اللَّمَمِ
۸۶۔ کتنے ہی بیماروں کو آپ کے ہاتھ کے لمس نے شفا دی، اور کتنے ہی دیوانوں کو جنون کی قید سے آزاد کیا۔
وَأَحْيَتِ السَّنَةَ الشَّهْبَاءَ دَعْوَتُهُ
حَتَّى حَكَتْ غُرَّةً فِي الْأَعْصُرِ الدُّهُمِ
۸۷۔ اور آپ کی دعا نے قحط زدہ سال کو ایسا سرسبز کر دیا کہ وہ سیاہ زمانوں میں سفید پیشانی کی مانند ہو گیا۔
بِعَارِضٍ جَادَ أَوْ خِلْتَ الْبِطَاحَ بِهَا
سَيْبًا مِنَ الْيَمِّ أَوْ سَيْلًا مِنَ الْعَرِمِ
۸۸۔ ایسے بادل کے ساتھ جو خوب برسا، یہاں تک کہ وادیاں سمندر کی روانی یا سیلابِ عرم کی طرح بہہ نکلیں۔
اَلْفَصْلُ السَّادِسُ: فِي شَرَفِ الْقُرْآنِ وَمَدْحِهِچھٹی فصل: قرآن مجید کے شرف اور مدح میں
دَعْنِي وَوَصْفِيَ آيَاتٍ لَهُ ظَهَرَتْ
ظُهُورَ نَارِ الْقِرَى لَيْلًا عَلَى عَلَمِ
۸۹۔ مجھے چھوڑ دے اور اُن نشانیوں کے بیان کو، جو یوں نمایاں ہوئیں جیسے رات کو ٹیلے پر مہمان نوازی کی آگ روشن ہو۔
فَالدُّرُّ يَزْدَادُ حُسْنًا وَهْوَ مُنْتَظِمٌ
وَلَيْسَ يَنْقُصُ قَدْرًا غَيْرَ مُنْتَظِمِ
۹۰۔ موتی لڑی میں پرو دیا جائے تو حُسن بڑھ جاتا ہے، اور بکھرا ہو تب بھی اُس کی قدر کم نہیں ہوتی۔
فَمَا تَطَاوُلُ آمَالِ الْمَدِيحِ إِلَى
مَا فِيهِ مِنْ كَرَمِ الْأَخْلَاقِ وَالشِّيَمِ
۹۱۔ پس مدح کی اُمیدیں آپ کے کریمانہ اخلاق اور عادات تک کہاں پہنچ سکتی ہیں؟
آيَاتُ حَقٍّ مِنَ الرَّحْمَنِ مُحْدَثَةٌ
قَدِيمَةٌ صِفَةُ الْمَوْصُوفِ بِالْقِدَمِ
۹۲۔ یہ رحمٰن کی سچی آیتیں ہیں: نزول کے اعتبار سے حادث، اور قدیم ذات کی صفت ہونے کے اعتبار سے قدیم۔
لَمْ تَقْتَرِنْ بِزَمَانٍ وَهْيَ تُخْبِرُنَا
عَنِ الْمَعَادِ وَعَنْ عَادٍ وَعَنْ إِرَمِ
۹۳۔ یہ کسی زمانے کے ساتھ بندھی ہوئی نہیں، اور ہمیں آخرت کی، عاد کی اور اِرم کی خبر دیتی ہیں۔
دَامَتْ لَدَيْنَا فَفَاقَتْ كُلَّ مُعْجِزَةٍ
مِنَ النَّبِيِّينَ إِذْ جَاءَتْ وَلَمْ تَدُمِ
۹۴۔ یہ ہمارے پاس ہمیشہ رہیں، سو انبیا کے اُن سب معجزات پر فوقیت لے گئیں جو آئے اور باقی نہ رہے۔
مُحَكَّمَاتٌ فَمَا تُبْقِينَ مِنْ شُبَهٍ
لِذِي شِقَاقٍ وَلَا تَبْغِينَ مِنْ حَكَمِ
۹۵۔ یہ محکم آیتیں ہیں؛ نہ جھگڑالو کے لیے کوئی شبہ چھوڑتی ہیں اور نہ کسی منصف کی محتاج ہیں۔
مَا حُورِبَتْ قَطُّ إِلَّا عَادَ مِنْ حَرَبٍ
أَعْدَى الْأَعَادِي إِلَيْهَا مُلْقِيَ السَّلَمِ
۹۶۔ جس نے بھی اِن سے لڑائی کی، بڑے سے بڑا دشمن آخرکار ہتھیار ڈالتا ہوا لوٹا۔
رَدَّتْ بَلَاغَتُهَا دَعْوَى مُعَارِضِهَا
رَدَّ الْغَيُورِ يَدَ الْجَانِي عَنِ الْحُرَمِ
۹۷۔ اِن کی بلاغت نے مقابلہ کرنے والے کا دعویٰ یوں رد کیا جیسے غیرت مند ظالم کا ہاتھ حرم سے ہٹا دیتا ہے۔
لَهَا مَعَانٍ كَمَوْجِ الْبَحْرِ فِي مَدَدٍ
وَفَوْقَ جَوْهَرِهِ فِي الْحُسْنِ وَالْقِيَمِ
۹۸۔ اِن کے معانی سمندر کی موجوں کی طرح بے کنار ہیں، اور حُسن و قیمت میں اُس کے موتیوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔
فَلَا تُعَدُّ وَلَا تُحْصَى عَجَائِبُهَا
وَلَا تُسَامُ عَلَى الْإِكْثَارِ بِالسَّأَمِ
۹۹۔ سو اِن کے عجائب نہ گنے جا سکتے ہیں نہ شمار ہو سکتے ہیں، اور کثرتِ تلاوت سے بھی طبیعت نہیں اُکتاتی۔
قَرَّتْ بِهَا عَيْنُ قَارِيهَا فَقُلْتُ لَهُ
لَقَدْ ظَفِرْتَ بِحَبْلِ اللهِ فَاعْتَصِمِ
۱۰۰۔ پڑھنے والے کی آنکھ اِن سے ٹھنڈی ہوئی تو میں نے اُس سے کہا: تُو نے اللہ کی رسّی پا لی، اب اِسے مضبوطی سے تھام لے۔
إِنْ تَتْلُهَا خِيفَةً مِنْ حَرِّ نَارِ لَظَى
أَطْفَأْتَ حَرَّ لَظَى مِنْ وِرْدِهَا الشَّبِمِ
۱۰۱۔ اگر تُو دوزخ کی آگ کے ڈر سے اِن کی تلاوت کرے تو اِن کے ٹھنڈے چشمے سے جہنم کی تپش بجھ جائے گی۔
كَأَنَّهَا الْحَوْضُ تَبْيَضُّ الْوُجُوهُ بِهِ
مِنَ الْعُصَاةِ وَقَدْ جَاءُوهُ كَالْحُمَمِ
۱۰۲۔ گویا یہ حوض ہے جس سے گناہ گاروں کے چہرے روشن ہو جاتے ہیں، حالانکہ وہ کوئلوں کی طرح سیاہ آئے تھے۔
وَكَالصِّرَاطِ وَكَالْمِيزَانِ مَعْدِلَةً
فَالْقِسْطُ مِنْ غَيْرِهَا فِي النَّاسِ لَمْ يَقُمِ
۱۰۳۔ اور یہ پُلِ صراط اور میزان کی طرح عدل کرنے والی ہیں؛ اِن کے بغیر لوگوں میں انصاف قائم نہیں ہو سکتا۔
لَا تَعْجَبَنْ لِحَسُودٍ رَاحَ يُنْكِرُهَا
تَجَاهُلًا وَهْوَ عَيْنُ الْحَاذِقِ الْفَهِمِ
۱۰۴۔ اُس حاسد پر تعجب نہ کر جو انجان بن کر اِن کا انکار کرتا ہے، حالانکہ وہ خود سمجھدار اور ہوشیار ہے۔
قَدْ تُنْكِرُ الْعَيْنُ ضَوْءَ الشَّمْسِ مِنْ رَمَدٍ
وَيُنْكِرُ الْفَمُ طَعْمَ الْمَاءِ مِنْ سَقَمِ
۱۰۵۔ کبھی آشوب کے سبب آنکھ سورج کی روشنی کا انکار کرتی ہے، اور بیماری کے سبب منہ پانی کا مزہ نہیں پہچانتا۔
اَلْفَصْلُ السَّابِعُ: فِي إِسْرَائِهِ وَمِعْرَاجِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَساتویں فصل: اسرا و معراج کے بیان میں
يَا خَيْرَ مَنْ يَمَّمَ الْعَافُونَ سَاحَتَهُ
سَعْيًا وَفَوْقَ مُتُونِ الْأَيْنُقِ الرُّسُمِ
۱۰۶۔ اے سب سے بہتر ہستی! حاجت مند آپ کے آستانے کی طرف پیدل اور تیز رفتار اونٹنیوں پر سوار چلے آتے ہیں۔
وَمَنْ هُوَ الْآيَةُ الْكُبْرَى لِمُعْتَبِرٍ
وَمَنْ هُوَ النِّعْمَةُ الْعُظْمَى لِمُغْتَنِمِ
۱۰۷۔ اور جو عبرت لینے والے کے لیے سب سے بڑی نشانی ہیں، اور فائدہ اُٹھانے والے کے لیے سب سے بڑی نعمت۔
سَرَيْتَ مِنْ حَرَمٍ لَيْلًا إِلَى حَرَمٍ
كَمَا سَرَى الْبَدْرُ فِي دَاجٍ مِنَ الظُّلَمِ
۱۰۸۔ آپ نے رات کو ایک حرم سے دوسرے حرم تک سفر کیا، جیسے چاند گھٹا ٹوپ اندھیری رات میں چلتا ہے۔
وَبِتَّ تَرْقَى إِلَى أَنْ نِلْتَ مَنْزِلَةً
مِنْ قَابِ قَوْسَيْنِ لَمْ تُدْرَكْ وَلَمْ تُرَمِ
۱۰۹۔ اور آپ رات بھر بلند ہوتے رہے یہاں تک کہ قابَ قوسین کے مقام کو پہنچے، جہاں نہ کوئی پہنچا نہ کسی نے قصد کیا۔
وَقَدَّمَتْكَ جَمِيعُ الْأَنْبِيَاءِ بِهَا
وَالرُّسْلِ تَقْدِيمَ مَخْدُومٍ عَلَى خَدَمِ
۱۱۰۔ تمام انبیا اور رسولوں نے آپ کو آگے بڑھایا، جیسے خادموں پر مخدوم کو مقدم کیا جاتا ہے۔
وَأَنْتَ تَخْتَرِقُ السَّبْعَ الطِّبَاقَ بِهِمْ
فِي مَوْكِبٍ كُنْتَ فِيهِ صَاحِبَ الْعَلَمِ
۱۱۱۔ اور آپ اُن کے ساتھ ساتوں آسمانوں کو عبور کرتے رہے، اُس قافلے میں آپ ہی علم بردار تھے۔
حَتَّى إِذَا لَمْ تَدَعْ شَأْوًا لِمُسْتَبِقٍ
مِنَ الدُّنُوِّ وَلَا مَرْقًى لِمُسْتَنِمِ
۱۱۲۔ یہاں تک کہ آپ نے قربِ الٰہی میں کسی سبقت لے جانے والے کے لیے کوئی حد اور کسی چڑھنے والے کے لیے کوئی زینہ باقی نہ چھوڑا۔
خَفَضْتَ كُلَّ مَقَامٍ بِالْإِضَافَةِ إِذْ
نُودِيتَ بِالرَّفْعِ مِثْلَ الْمُفْرَدِ الْعَلَمِ
۱۱۳۔ آپ نے ہر مقام کو اپنی نسبت سے پست کر دیا، جب آپ کو مفردِ عَلَم کی طرح رفعت کے ساتھ پکارا گیا۔
كَيْمَا تَفُوزَ بِوَصْلٍ أَيِّ مُسْتَتِرٍ
عَنِ الْعُيُونِ وَسِرٍّ أَيِّ مُكْتَتَمِ
۱۱۴۔ تاکہ آپ ایسے وصل سے سرفراز ہوں جو نگاہوں سے پوشیدہ ہے، اور ایسے راز سے جو ہر ایک سے چھپا ہوا ہے۔
فَحُزْتَ كُلَّ فَخَارٍ غَيْرَ مُشْتَرَكٍ
وَجُزْتَ كُلَّ مَقَامٍ غَيْرَ مُزْدَحَمِ
۱۱۵۔ پس آپ نے ہر فخر بغیر کسی شریک کے حاصل کیا، اور ہر مقام سے بغیر کسی بھیڑ کے گزر گئے۔
وَجَلَّ مِقْدَارُ مَا وُلِّيتَ مِنْ رُتَبٍ
وَعَزَّ إِدْرَاكُ مَا أُولِيتَ مِنْ نِعَمِ
۱۱۶۔ اور جو مرتبے آپ کو عطا ہوئے اُن کی قدر بہت بلند ہے، اور جو نعمتیں ملیں اُن کا ادراک بہت مشکل ہے۔
بُشْرَى لَنَا مَعْشَرَ الْإِسْلَامِ إِنَّ لَنَا
مِنَ الْعِنَايَةِ رُكْنًا غَيْرَ مُنْهَدِمِ
۱۱۷۔ اے گروہِ اسلام! ہمارے لیے بشارت ہے کہ ہمیں عنایتِ الٰہی کا ایسا سہارا ملا جو کبھی نہ ڈھے گا۔
لَمَّا دَعَا اللهُ دَاعِينَا لِطَاعَتِهِ
بِأَكْرَمِ الرُّسْلِ كُنَّا أَكْرَمَ الْأُمَمِ
۱۱۸۔ جب اللہ نے ہمیں بلانے والے کو، سب رسولوں میں سب سے معزز کو، اپنی اطاعت کی طرف بلانے کے لیے بھیجا، تو ہم سب اُمتوں سے افضل ٹھہرے۔
اَلْفَصْلُ الثَّامِنُ: فِي جِهَادِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَآٹھویں فصل: جہادِ نبوی کے بیان میں
رَاعَتْ قُلُوبَ الْعِدَا أَنْبَاءُ بِعْثَتِهِ
كَنَبْأَةٍ أَجْفَلَتْ غُفْلًا مِنَ الْغَنَمِ
۱۱۹۔ آپ کی بعثت کی خبروں نے دشمنوں کے دل ایسے دہلا دیے جیسے اچانک آواز بے خبر بکریوں کو بھگا دیتی ہے۔
مَا زَالَ يَلْقَاهُمُ فِي كُلِّ مُعْتَرَكٍ
حَتَّى حَكَوْا بِالْقَنَا لَحْمًا عَلَى وَضَمِ
۱۲۰۔ آپ ہر معرکے میں اُن کا سامنا کرتے رہے یہاں تک کہ وہ نیزوں کے نیچے قصاب کے تختے پر رکھے گوشت کی مانند ہو گئے۔
وَدُّوا الْفِرَارَ فَكَادُوا يَغْبِطُونَ بِهِ
أَشْلَاءَ شَالَتْ مَعَ الْعِقْبَانِ وَالرَّخَمِ
۱۲۱۔ وہ بھاگنے کی تمنا کرنے لگے، یہاں تک کہ اُن اعضا پر رشک کرتے جنہیں عقاب اور گِدھ اُڑا لے جاتے۔
تَمْضِي اللَّيَالِي وَلَا يَدْرُونَ عِدَّتَهَا
مَا لَمْ تَكُنْ مِنْ لَيَالِي الْأَشْهُرِ الْحُرُمِ
۱۲۲۔ راتیں گزرتی رہیں اور وہ اُن کی گنتی تک نہ جانتے تھے، سوائے اُن کے جو حرمت والے مہینوں کی راتیں ہوتیں۔
كَأَنَّمَا الدِّينُ ضَيْفٌ حَلَّ سَاحَتَهُمْ
بِكُلِّ قَرْمٍ إِلَى لَحْمِ الْعِدَا قَرِمِ
۱۲۳۔ گویا دین ایک مہمان تھا جو اُن کے صحن میں ایسے سرداروں کے ساتھ اُترا جو دشمن کے گوشت کے شوقین تھے۔
يَجُرُّ بَحْرَ خَمِيسٍ فَوْقَ سَابِحَةٍ
يَرْمِي بِمَوْجٍ مِنَ الْأَبْطَالِ مُلْتَطِمِ
۱۲۴۔ وہ تیز رفتار گھوڑوں پر لشکر کا سمندر کھینچ لاتا، جو بہادروں کی ٹکراتی موجیں پھینکتا تھا۔
مِنْ كُلِّ مُنْتَدِبٍ لِلهِ مُحْتَسِبٍ
يَسْطُو بِمُسْتَأْصِلٍ لِلْكُفْرِ مُصْطَلِمِ
۱۲۵۔ ہر وہ سپاہی جو اللہ کے لیے آمادہ اور ثواب کا اُمیدوار تھا، ایسی تلوار سے حملہ کرتا جو کفر کو جڑ سے اُکھاڑ دیتی۔
حَتَّى غَدَتْ مِلَّةُ الْإِسْلَامِ وَهْيَ بِهِمْ
مِنْ بَعْدِ غُرْبَتِهَا مَوْصُولَةَ الرَّحِمِ
۱۲۶۔ یہاں تک کہ ملتِ اسلام اُن کے سبب اپنی غربت کے بعد رشتوں سے جُڑی ہوئی ہو گئی۔
مَكْفُولَةً أَبَدًا مِنْهُمْ بِخَيْرِ أَبٍ
وَخَيْرِ بَعْلٍ فَلَمْ تَيْتَمْ وَلَمْ تَئِمِ
۱۲۷۔ ہمیشہ کے لیے اُن کی طرف سے بہترین باپ اور بہترین شوہر کی کفالت میں آ گئی، سو نہ یتیم ہوئی نہ بیوہ۔
هُمُ الْجِبَالُ فَسَلْ عَنْهُمْ مُصَادِمَهُمْ
مَاذَا رَأَى مِنْهُمُ فِي كُلِّ مُصْطَدَمِ
۱۲۸۔ وہ پہاڑ ہیں؛ اُن سے ٹکرانے والے سے پوچھ کہ اُس نے ہر ٹکراؤ میں اُن سے کیا دیکھا۔
وَسَلْ حُنَيْنًا وَسَلْ بَدْرًا وَسَلْ أُحُدًا
فُصُولَ حَتْفٍ لَهُمْ أَدْهَى مِنَ الْوَخَمِ
۱۲۹۔ اور حنین سے پوچھ، بدر سے پوچھ، اُحد سے پوچھ — وہ اُن کے لیے وبا سے بھی زیادہ ہلاکت خیز فیصلے تھے۔
الْمُصْدِرِي الْبِيضِ حُمْرًا بَعْدَ مَا وَرَدَتْ
مِنَ الْعِدَا كُلَّ مُسْوَدٍّ مِنَ اللِّمَمِ
۱۳۰۔ وہ اپنی سفید تلواروں کو سرخ کر کے واپس لاتے، بعد اِس کے کہ وہ دشمنوں کی سیاہ زلفوں تک جا پہنچتیں۔
وَالْكَاتِبِينَ بِسُمْرِ الْخَطِّ مَا تَرَكَتْ
أَقْلَامُهُمْ حَرْفَ جِسْمٍ غَيْرَ مُنْعَجِمِ
۱۳۱۔ اور وہ گندمی نیزوں سے یوں لکھتے کہ اُن کے قلموں نے جسم کا کوئی حرف بغیر نقطے کے نہ چھوڑا۔
شَاكِي السِّلَاحِ لَهُمْ سِيمَا تُمَيِّزُهُمْ
وَالْوَرْدُ يَمْتَازُ بِالسِّيمَا مِنَ السَّلَمِ
۱۳۲۔ پورے مسلح، اُن کی ایک ایسی نشانی تھی جو اُنہیں ممتاز کرتی، جیسے گلاب اپنی علامت سے کیکر سے ممتاز ہوتا ہے۔
تُهْدِي إِلَيْكَ رِيَاحُ النَّصْرِ نَشْرَهُمُ
فَتَحْسَبُ الزَّهْرَ فِي الْأَكْمَامِ كُلَّ كَمِي
۱۳۳۔ فتح کی ہوائیں تیرے پاس اُن کی خوشبو لاتی ہیں، سو تُو ہر بہادر کو کلی میں چھپا ہوا پھول سمجھے گا۔
كَأَنَّهُمْ فِي ظُهُورِ الْخَيْلِ نَبْتُ رُبًا
مِنْ شِدَّةِ الْحَزْمِ لَا مِنْ شِدَّةِ الْحُزُمِ
۱۳۴۔ گویا وہ گھوڑوں کی پشت پر ٹیلے کے پودے ہوں، مضبوطی سے جمے ہوئے — عزم کی پختگی سے، نہ کہ تنگ تسموں سے۔
طَارَتْ قُلُوبُ الْعِدَا مِنْ بَأْسِهِمْ فَرَقًا
فَمَا تُفَرِّقُ بَيْنَ الْبَهْمِ وَالْبُهَمِ
۱۳۵۔ دشمنوں کے دل اُن کی شجاعت سے خوف کے مارے اُڑ گئے، یہاں تک کہ وہ بکری کے بچوں اور بہادروں میں فرق نہ کر سکے۔
وَمَنْ تَكُنْ بِرَسُولِ اللهِ نُصْرَتُهُ
إِنْ تَلْقَهُ الْأُسْدُ فِي آجَامِهَا تَجِمِ
۱۳۶۔ اور جس کی مدد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کریں، اگر شیر بھی اپنے جنگلوں میں اُس سے ٹکرائیں تو خاموش ہو جائیں۔
وَلَنْ تَرَى مِنْ وَلِيٍّ غَيْرَ مُنْتَصِرٍ
بِهِ وَلَا مِنْ عَدُوٍّ غَيْرَ مُنْقَصِمِ
۱۳۷۔ اور تُو آپ کا کوئی دوست ایسا نہ دیکھے گا جو مدد نہ پائے، اور نہ کوئی دشمن ایسا جو ٹوٹ نہ جائے۔
أَحَلَّ أُمَّتَهُ فِي حِرْزِ مِلَّتِهِ
كَاللَّيْثِ حَلَّ مَعَ الْأَشْبَالِ فِي أَجَمِ
۱۳۸۔ آپ نے اپنی اُمت کو اپنی ملت کے مضبوط قلعے میں جگہ دی، جیسے شیر اپنے بچوں کے ساتھ جنگل میں رہتا ہے۔
كَمْ جَدَّلَتْ كَلِمَاتُ اللهِ مِنْ جَدِلٍ
فِيهِ وَكَمْ خَصَمَ الْبُرْهَانُ مِنْ خَصِمِ
۱۳۹۔ کتنے ہی جھگڑالوؤں کو اللہ کے کلام نے آپ کے بارے میں چِت کر دیا، اور کتنے ہی مخالفوں کو برہان نے مغلوب کیا۔
كَفَاكَ بِالْعِلْمِ فِي الْأُمِّيِّ مُعْجِزَةً
فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالتَّأْدِيبِ فِي الْيُتُمِ
۱۴۰۔ آپ کے لیے یہی معجزہ کافی ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں ایک اُمّی ہو کر صاحبِ علم ہوئے، اور یتیمی میں صاحبِ ادب۔
اَلْفَصْلُ التَّاسِعُ: فِي التَّوَسُّلِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنویں فصل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے کے بیان میں
خَدَمْتُهُ بِمَدِيحٍ أَسْتَقِيلُ بِهِ
ذُنُوبَ عُمْرٍ مَضَى فِي الشِّعْرِ وَالْخِدَمِ
۱۴۱۔ میں نے ایسی مدح سے آپ کی خدمت کی جس کے ذریعے شعر اور ملازمت میں گزری عمر کے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں۔
إِذْ قَلَّدَانِي مَا تُخْشَى عَوَاقِبُهُ
كَأَنَّنِي بِهِمَا هَدْيٌ مِنَ النَّعَمِ
۱۴۲۔ کیونکہ اِن دونوں نے میرے گلے میں وہ طوق ڈالا جس کے انجام سے ڈر لگتا ہے، گویا میں اُن کے ساتھ قربانی کا جانور ہوں۔
أَطَعْتُ غَيَّ الصِّبَا فِي الْحَالَتَيْنِ وَمَا
حَصَلْتُ إِلَّا عَلَى الْآثَامِ وَالنَّدَمِ
۱۴۳۔ میں نے دونوں حالتوں میں جوانی کی گمراہی کی اطاعت کی، اور گناہوں اور ندامت کے سوا کچھ نہ پایا۔
فَيَا خَسَارَةَ نَفْسٍ فِي تِجَارَتِهَا
لَمْ تَشْتَرِ الدِّينَ بِالدُّنْيَا وَلَمْ تَسُمِ
۱۴۴۔ پس افسوس ہے اُس نفس کے سودے پر جس نے دنیا کے بدلے دین نہ خریدا اور نہ خریدنے کا ارادہ کیا۔
وَمَنْ يَبِعْ آجِلًا مِنْهُ بِعَاجِلِهِ
يَبِنْ لَهُ الْغَبْنُ فِي بَيْعٍ وَفِي سَلَمِ
۱۴۵۔ اور جو اپنی آخرت کو نقد دنیا کے بدلے بیچے، اُس پر بیع اور بیعِ سلم دونوں میں خسارہ کھل جائے گا۔
إِنْ آتِ ذَنْبًا فَمَا عَهْدِي بِمُنْتَقِضٍ
مِنَ النَّبِيِّ وَلَا حَبْلِي بِمُنْصَرِمِ
۱۴۶۔ اگر مجھ سے گناہ ہو جائے تو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا عہد نہیں ٹوٹا، اور نہ میری رسّی کٹی ہے۔
فَإِنَّ لِي ذِمَّةً مِنْهُ بِتَسْمِيَتِي
مُحَمَّدًا وَهْوَ أَوْفَى الْخَلْقِ بِالذِّمَمِ
۱۴۷۔ کیونکہ میرا نام محمد رکھے جانے کے سبب مجھے آپ سے ایک نسبت اور ذمہ داری حاصل ہے، اور آپ سب سے بڑھ کر عہد پورا کرنے والے ہیں۔
إِنْ لَمْ يَكُنْ فِي مَعَادِي آخِذًا بِيَدِي
فَضْلًا وَإِلَّا فَقُلْ يَا زَلَّةَ الْقَدَمِ
۱۴۸۔ اگر آپ نے قیامت کے دن فضل فرما کر میرا ہاتھ نہ تھاما تو پھر کہہ دے: ہائے قدم کی لغزش!
حَاشَاهُ أَنْ يَحْرِمَ الرَّاجِي مَكَارِمَهُ
أَوْ يَرْجِعَ الْجَارُ مِنْهُ غَيْرَ مُحْتَرَمِ
۱۴۹۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ آپ اُمیدوار کو اپنے کرم سے محروم کریں، یا پناہ لینے والا آپ کے ہاں سے بے عزت لوٹے۔
وَمُنْذُ أَلْزَمْتُ أَفْكَارِي مَدَائِحَهُ
وَجَدْتُهُ لِخَلَاصِي خَيْرَ مُلْتَزِمِ
۱۵۰۔ اور جب سے میں نے اپنے افکار کو آپ کی مدح سے وابستہ کیا، میں نے آپ کو اپنی نجات کا بہترین ضامن پایا۔
وَلَنْ يَفُوتَ الْغِنَى مِنْهُ يَدًا تَرِبَتْ
إِنَّ الْحَيَا يُنْبِتُ الْأَزْهَارَ فِي الْأَكَمِ
۱۵۱۔ اور آپ کی سخاوت کبھی خالی ہاتھ کو محروم نہ کرے گی؛ بارش تو ٹیلوں پر بھی پھول اُگا دیتی ہے۔
وَلَمْ أُرِدْ زَهْرَةَ الدُّنْيَا الَّتِي اقْتَطَفَتْ
يَدَا زُهَيْرٍ بِمَا أَثْنَى عَلَى هَرِمِ
۱۵۲۔ اور میں نے اُس دنیاوی مال کی خواہش نہ کی جو زُہیر نے ہَرِم کی مدح کے بدلے سمیٹا تھا۔
اَلْفَصْلُ الْعَاشِرُ: فِي الْمُنَاجَاةِ وَعَرْضِ الْحَاجَاتِدسویں فصل: مناجات اور عرضِ حال کے بیان میں
يَا أَكْرَمَ الْخَلْقِ مَا لِي مَنْ أَلُوذُ بِهِ
سِوَاكَ عِنْدَ حُلُولِ الْحَادِثِ الْعَمِمِ
۱۵۳۔ اے سب سے معزز مخلوق! جب عام آفت نازل ہو تو آپ کے سوا میرا کوئی سہارا نہیں۔
وَلَنْ يَضِيقَ رَسُولَ اللهِ جَاهُكَ بِي
إِذَا الْكَرِيمُ تَجَلَّى بِاسْمِ مُنْتَقِمِ
۱۵۴۔ اور اے اللہ کے رسول! آپ کی جاہ میرے لیے تنگ نہ ہو گی، جس دن کریم ’’منتقم‘‘ کے نام سے جلوہ گر ہو۔
فَإِنَّ مِنْ جُودِكَ الدُّنْيَا وَضَرَّتَهَا
وَمِنْ عُلُومِكَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ
۱۵۵۔ کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں آپ کی سخاوت کا ایک حصہ ہیں، اور لوح و قلم کا علم آپ کے علوم میں سے ہے۔
يَا نَفْسُ لَا تَقْنَطِي مِنْ زَلَّةٍ عَظُمَتْ
إِنَّ الْكَبَائِرَ فِي الْغُفْرَانِ كَاللَّمَمِ
۱۵۶۔ اے نفس! کسی بڑی لغزش سے مایوس نہ ہو؛ بخشش کے سامنے کبیرہ گناہ بھی صغیرہ کی مانند ہیں۔
لَعَلَّ رَحْمَةَ رَبِّي حِينَ يَقْسِمُهَا
تَأْتِي عَلَى حَسَبِ الْعِصْيَانِ فِي الْقِسَمِ
۱۵۷۔ اُمید ہے کہ میرے رب کی رحمت جب تقسیم ہو گی تو گناہوں کی مقدار کے حساب سے آئے گی۔
يَا رَبِّ وَاجْعَلْ رَجَائِي غَيْرَ مُنْعَكِسٍ
لَدَيْكَ وَاجْعَلْ حِسَابِي غَيْرَ مُنْخَرِمِ
۱۵۸۔ اے میرے رب! میری اُمید کو اپنے ہاں ناکام نہ کر، اور میرے حساب کو ٹوٹا ہوا نہ رکھ۔
وَالْطُفْ بِعَبْدِكَ فِي الدَّارَيْنِ إِنَّ لَهُ
صَبْرًا مَتَى تَدْعُهُ الْأَهْوَالُ يَنْهَزِمِ
۱۵۹۔ اور دونوں جہانوں میں اپنے بندے پر لطف فرما؛ اُس کا صبر ایسا ہے کہ ہول اُسے پکاریں تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
وَأْذَنْ لِسُحْبِ صَلَاةٍ مِنْكَ دَائِمَةٍ
عَلَى النَّبِيِّ بِمُنْهَلٍ وَمُنْسَجِمِ
۱۶۰۔ اور اپنی طرف سے ہمیشہ برسنے والے درود کے بادلوں کو اجازت دے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر موسلا دھار برستے رہیں۔
ثُمَّ الرِّضَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعَنْ عُمَرٍ
وَعَنْ عَلِيٍّ وَعَنْ عُثْمَانَ ذِي الْكَرَمِ
۱۶۱۔ پھر ابوبکرؓ، عمرؓ، علیؓ اور عثمانِ ذی الکرمؓ سے راضی ہو۔
وَالْآلِ وَالصَّحْبِ ثُمَّ التَّابِعِينَ لَهُمْ
أَهْلِ التُّقَى وَالنُّقَى وَالْحِلْمِ وَالْكَرَمِ
۱۶۲۔ اور آل و اصحاب سے، پھر اُن کے تابعین سے، جو تقویٰ، پاکیزگی، حلم اور کرم والے ہیں۔
مَا رَنَّحَتْ عَذَبَاتِ الْبَانِ رِيحُ صَبًا
وَأَطْرَبَ الْعِيسَ حَادِي الْعِيسِ بِالنَّغَمِ
۱۶۳۔ جب تک صبا کی ہوا بان کی شاخوں کو جھلاتی رہے، اور ساربان اپنے نغموں سے اونٹوں کو مست کرتا رہے۔
فَاغْفِرْ لِنَاشِرِهَا وَاغْفِرْ لِقَارِئِهَا
سَأَلْتُكَ الْخَيْرَ يَا ذَا الْجُودِ وَالْكَرَمِ
۱۶۴۔ پس اے جود و کرم والے! اِس قصیدے کے پھیلانے والے اور پڑھنے والے کو بخش دے؛ میں تجھ سے بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔