کیوں زیاں کار بنوں، سود فراموش رہوں؟فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بلبل کے سنوں، اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا! میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں؟
جرأت آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے، خاکم بدہن، ہے مجھ کو
اور جوابِ شکوہ
شکوہ اور جوابِ شکوہ علامہ محمد اقبال کی دو مشہور نظمیں ہیں۔ شکوہ (۱۹۰۹ء) میں اقبال مسلمانوں کی زبانی اللہ تعالیٰ سے گلہ کرتے ہیں کہ امت نے دین کی راہ میں کیا قربانیاں دیں اور آج کیوں خواری ان کے حصے میں آئی۔ جوابِ شکوہ (۱۹۱۳ء) میں اسی شکوے کا جواب آتا ہے: اللہ کی رحمت باقی ہے، مگر مسلمانوں کو قرآن، عمل اور اتحاد کی طرف لوٹنا ہو گا۔ دونوں نظمیں مسدس کی ہیئت میں ہیں — ہر بند چھ مصرعوں پر مشتمل ہے۔
کیوں زیاں کار بنوں، سود فراموش رہوں؟فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بلبل کے سنوں، اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا! میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں؟
جرأت آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے، خاکم بدہن، ہے مجھ کو
ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
سازِ خاموش ہیں، فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم
اے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سن لےخوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذاتِ قدیمپھول تھا زیبِ چمن، پر نہ پریشاں تھی شمیم
شرطِ انصاف ہے، اے صاحبِ الطافِ عمیم!بوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم؟
ہم کو جمعیتِ خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھی؟
ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر، کہیں معبود شجر
خوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر؟
تجھ کو معلوم ہے، لیتا تھا کوئی نام ترا؟قوتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا!
بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی، تورانی بھیاہلِ چیں چین میں، ایران میں ساسانی بھی
اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے، نصرانی بھی
پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے؟بات جو بگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے؟
تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شانِ آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی
ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے؟
قوم اپنی جو زر و مالِ جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی!
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے
تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
نقشِ توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیرِ خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے
تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا درِ خیبر کس نے؟شہر قیصر کا جو تھا، اس کو کیا سر کس نے؟
توڑے مخلوقِ خداوندوں کے پیکر کس نے؟کاٹ کر رکھ دیے کفار کے لشکر کس نے؟
کس نے ٹھنڈا کیا آتش کدۂ ایراں کو؟کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو؟
کون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئی؟اور تیرے لیے زحمت کشِ پیکار ہوئی؟
کس کی شمشیر جہاں گیر، جہاں دار ہوئی؟کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی؟
کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ھُوَ اللہُ اَحَد کہتے تھے
آ گیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
محفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمےِ توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے
کوہ میں، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو، کبھی ناکام پھرے؟
دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے
تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے
پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں، تو بھی تو دلدار نہیں!
امتیں اور بھی ہیں، ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں، مستِ مےِ پندار بھی ہیں
ان میں کاہل بھی ہیں، غافل بھی ہیں، ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر
بت صنم خانوں میں کہتے ہیں، مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے
منزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے
خندہ زن کفر ہے، احساس تجھے ہے کہ نہیں؟اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں؟
یہ شکایت نہیں، ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنھیں بات بھی کرنے کا شعور
قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بےچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور!
اب وہ الطاف نہیں، ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں؟
کیوں مسلمانوں میں ہے دولتِ دنیا نایاب؟تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب
تو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہروِ دشت ہو سیلی زدۂ موجِ سراب!
طعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے، ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟
بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیا!
ہم تو رخصت ہوئے، اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا!
ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے، جام رہے؟
تیری محفل بھی گئی، چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں، صبح کے نالے بھی گئے
دل تجھے دے بھی گئے، اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے
آئے عشاق، گئے وعدۂ فردا لے کراب انھیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر
دردِ لیلیٰ بھی وہی، قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رمِ آہو بھی وہی
عشق کا دل بھی وہی، حسن کا جادو بھی وہیامتِ احمدِ مرسل بھی وہی، تو بھی وہی
پھر یہ آزردگیِ غیر سببب کیا معنی؟اپنے شیداؤں پہ یہ چشمِ غضب کیا معنی؟
تجھ کو چھوڑا کہ رسولِ عربی کو چھوڑا؟بت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟
عشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟رسمِ سلمان و اویسِ قرنی کو چھوڑا؟
آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثلِ بلالِ حبشی رکھتے ہیں
عشق کی خیر، وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائیِ تسلیم و رضا بھی نہ سہی
مضطرب دل صفتِ قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندیِ آئینِ وفا بھی نہ سہی
کبھی ہم سے، کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں، تو بھی تو ہرجائی ہے!
سرِ فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نے
آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمیِ رخسار سے محفل تو نے
آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیں؟ہم وہی سوختہ ساماں ہیں، تجھے یاد نہیں؟
وادیِ نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہا
حوصلے وہ نہ رہے، ہم نہ رہے، دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونقِ محفل نہ رہا!
اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفلِ ما باز آئی!
بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لبِ جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھے!
دور ہنگامۂ گلزار سے یک سو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظرِ ھو بیٹھے!
اپنے پروانوں کو پھر ذوقِ خود افروزی دےبرقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے
قومِ آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبلِ بے پر کو مذاقِ پرواز
مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے، تشنۂ مضراب ہے ساز
نغمے بے تاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے!
مشکلیں امتِ مرحوم کی آساں کر دےمورِ بےمایہ کو ہمدوشِ سلیماں کر دے
جنسِ نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دے
جوئے خوں می چکد از حسرتِ دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ ما!
بوئے گل لے گئی بیرونِ چمن رازِ چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غمازِ چمن!
عہدِ گل ختم ہوا، ٹوٹ گیا سازِ چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پردازِ چمن
ایک بلبل ہے کہ ہے محوِ ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک
قمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں
وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہنِ برگ سے عریاں بھی ہوئیں
قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی!
لطف مرنے میں ہے باقی، نہ مزا جینے میںکچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں
کتنے بےتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میں!
اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں، وہ لالے ہی نہیں
چاک اس بلبلِ تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگِ درا سے دل ہوں
یعنی پھر زندہ نئے عہدِ وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوں
عجمی خم ہے تو کیا، مےَ تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا، لے تو حجازی ہے مری!
دل سے جو بات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہےپر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے، گردوں پہ گزر رکھتی ہے
عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بے باک مرا!
پیرِ گردوں نے کہا سن کے، کہیں ہے کوئی!بولے سیارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی!
چاند کہتا تھا، نہیں! اہلِ زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئی!
کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا!
تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا!عرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیا!
تا سرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا!آ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا!
غافلِ آداب ہے سکانِ زمیں کیسے ہیں!شوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں!
اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجودِ ملائک، یہ وہی آدم ہے؟
عالمِ کیف ہے، دانائے رموزِ کم ہےہاں، مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے!
ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو!
آئی آواز، غم انگیز ہے افسانہ ترااشکِ بےتاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا
آسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ ترا!
شکر شکوے کو کیا حسنِ ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے
ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے؟ رہروِ منزل ہی نہیں
تربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہ گل ہی نہیں
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعثِ رسوائیِ پیغمبر ہیں
بت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر، اور پسر آزر ہیں
بادہ آشام نئے، بادہ نیا، خم بھی نئےحرمِ کعبہ نیا، بت بھی نئے، تم بھی نئے!
وہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازشِ موسمِ گل لالۂ صحرائی تھا
جو مسلماں تھا، اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھا
کسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کر لوملتِ احمدِ مرسل کو مقامی کر لو!
کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے!ہم سے کب پیار ہے؟ ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
طبعِ آزاد پہ قیدِ رمضاں بھاری ہےتمہی کہہ دو، یہی آئینِ وفاداری ہے؟
قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیںجذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ، وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو
ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے!
صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نے؟نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے؟
میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے؟میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے؟
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو؟ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!
کیا کہا؟ بہرِ مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
عدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور
تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک!
فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختار؟مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟ہو گئی کس کی نگہ طرزِ سلف سے بیزار؟
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں!
جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا، تو غریبزحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا، تو غریب
نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا، تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمھارا، تو غریب
امرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملتِ بیضا غربا کے دم سے
واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرقِ طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے
شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلمان نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود؟
وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود؟
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!
دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بےباکعدل اس کا تھا قوی، لوثِ مراعات سے پاک
شجرِ فطرتِ مسلم تھا حیا سے نم ناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک
خود گدازی نمِ کیفیتِ صہبایش بودخالی از خویش شدن صورتِ مینایش بود
ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھا
جو بھروسا تھا اسے قوتِ بازو پر تھاہے تمھیں موت کا ڈر، اس کو خدا کا ڈر تھا
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیونکر ہو!
ہر کوئی مستِ مےِ ذوقِ تن آسانی ہےتم مسلماں ہو؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے؟
حیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
تم ہو آپس میں غضبناک، وہ آپس میں رحیمتم خطاکار و خطابیں، وہ خطا پوش و کریم
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیم!
تختِ فغفور بھی ان کا تھا، سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھی؟
خود کشی شیوہ تمھارا، وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں، وہ اخوت پہ نثار
تم ہو گفتار سراپا، وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو، وہ گلستاں بہ کنار
اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کی
مثلِ انجم افقِ قوم پہ روشن بھی ہوئےبتِ ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئے
شوقِ پرواز میں مہجورِ نشیمن بھی ہوئےبےعمل تھے ہی جواں، دیں سے بدظن بھی ہوئے
ان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیا!
قیس زحمت کشِ تنہائیِ صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا، بادیہ پیما نہ رہے
وہ تو دیوانہ ہے، بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجابِ رخِ لیلیٰ نہ رہے!
گلۂ جور نہ ہو، شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے، کیوں حسن بھی آزاد نہ ہو!
عہدِ نو برق ہے، آتش زنِ ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہے
اس نئی آگ کا اقوامِ کہن ایندھن ہےملتِ ختمِ رسل شعلہ بہ پیراہن ہے
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
دیکھ کر رنگِ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکبِ غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خونِ شہدا کی لالی
رنگِ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے!
امتیں گلشنِ ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں، خزاں دیدہ بھی ہیں
سیکڑوں نخل ہیں، کاہیدہ بھی، بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطنِ چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیں
نخلِ اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کا
پاک ہے گردِ وطن سے سرِ داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیرا
ہے تنگ مایہ! تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج سے ہنگامۂ طوفاں ہو جا
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسمِ محمد سے اجالا کر دے
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمنِ دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خم بھی نہ ہوبزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
دشت میں، دامنِ کہسار میں، میدان میں ہےبحر میں، موج کی آغوش میں، طوفان میں ہے
چین کے شہر، مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہے
چشمِ اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعتِ شانِ رفعنا لک ذکرک دیکھے
مردمِ چشمِ زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمھارے شہدا پالنے والی دنیا
گرمیِ مہر کی پروردہ، ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیا
تپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرح
عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تریمرے درویش! خلافت ہے جہاں گیر تری
ما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں