گیارھواں باب
جاری ہے۔
حضرت ابو الحسن سمنون رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے آفتابِ اہلِ محبت، قدوۂ اہلِ معاملت حضرت ابو الحسن سمنون بن عبد اللہ الخواص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اپنے زمانہ کے بے نظیر عارف اور درجۂ عشق و محبت میں شانِ رفیع رکھنے والے تھے۔ مشائخ وقت آپ کو بزرگ جانتے اور "سمنون المحب" کے نام سے پکارتے تھے۔ لیکن آپ اپنے کو "سمنون الکذاب" فرمایا کرتے تھے۔
آپ نے "غلام الخلیل" سے بہت رنج اٹھائے۔ یہ وہ شخص تھا کہ اس نے خلیفۂ وقت کے سامنے خلاف واقعہ شہادتیں دیں اور اس سے شیخ سمنون کو دلی رنج تھا اور غلام الخلیل بڑا ریا کار تھا اور مدعیِ زہد و پارسائی بنا ہوا تھا اور اپنے آپ کو صوفی بنائے ہوئے تھا اور اعیانِ دولت اور خلیفۂ وقت کے ساتھ بہت زیادہ ربط ضبط کر رکھا تھا۔ گویا اس نے دین کو دنیا کے بدلے بیچ ڈالا تھا۔ جیسے کہ اس زمانہ میں اس قسم کے صوفی نما دنیا دار پھرتے ہیں۔ یہ وہ بد باطن تھا کہ لباسِ تصوف میں امراء و خلفاء کے دربار میں پہنچتا اور خاصانِ بارگاہ کے خلاف دربارِ شاہی میں زہر اگلتا اور اس سے اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ خاصانِ بارگاہ کے فیض سے یہ لوگ محروم رہیں اور ان کے فیضِ صحبت سے تبریک حاصل نہ کر سکیں اور یہ ان کی نظروں میں بچا رہے اور فروغِ صدق سے اس کا دروغ دب نہ جائے۔
بڑے خوش قسمت تھے حضرت سمنون کہ ان کے زمانہ میں ان کے اور دیگر مشائخ کرام کے لیے ایک ہی غلام الخلیل تھا۔ ہمارے اس زمانہ میں تو ہر محقق کے لیے لاکھ لاکھ غلام الخلیل موجود ہیں، مگر پرواہ نہیں، اس لیے کہ مردار، کرگس کا ہی حصہ ہوتا ہے۔ مردار گوشت کھانے کے لیے گدھ ہوا کرتے ہیں۔
جبکہ حضرت سمنون کے نورِ عرفان کی بارشوں نے بغداد میں انہیں مرجعِ خلائق بنایا اور ہر ایک آپ کے فیضِ صحبت سے استفادہ کرنے کو جھکا تو غلام الخلیل کو اس کی جلن ہوئی اور حضرت سمنون کے خلاف افتراء پردازیاں شروع کر دیں۔ مختصر یہ کہ ایک عورت حضرت سمنون رحمۃ اللہ علیہ
(صفحہ 277 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 278 پر ہے۔)
۲۷۸کی تابانیِ حسن پر فریفتہ ہو گئی اور خدمت میں حاضر آ کر اپنے آپ کو پیش کیا۔ آپ نے صاف انکار کر دیا۔ مایوس ہو کر حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ آپ حضرت سمنون کو حکم فرمائیں کہ مجھے قبول کر لیں۔ حضرت جنید اس عورت پر سخت ناراض ہوئے۔
جب عورت نے دیکھا کہ کامیابی ناممکن ہے تو اس نے غلام الخلیل کے پاس جا کر افتراء پردازی شروع کی، جیسا کہ عورتوں کا ان کے مکر کے اعتبار سے عام رویہ ہوتا ہے۔ غلام الخلیل تو پہلے ہی جل بھن رہا تھا، اس عورت کے بیانات اس طرح سنے جیسے ایک دشمن اپنے دشمن کے متعلق کچھ سنا کرتا ہے اور پھر خوب طعن و تشنیع حضرت سمنون کی شان میں کرتا رہا۔ حتیٰ کہ خلیفۂ وقت کے کان تک واقعہ پہنچا دیا۔ خلیفہ کچے کانوں کی وجہ سے علی الفور برہم ہوا اور تجویزِ قتلِ سمنون کی ٹھانی۔ جب جلاد بلا لیا گیا اور اس نے ضابطہ کے موافق حکم چاہا تو خلیفہ کی زبان قدرتاً بند ہو گئی اور کچھ حکم نہ دے سکا۔
رات جب سویا تو خواب میں منکشف ہوا کہ قتلِ سمنون تیری سلطنت کے زوال کا موجب ہے (ہوش کر اور غلام الخلیل کی فتنہ پردازی سے اپنی جان بچا)۔ صبح خدمتِ سمنون میں خلیفہ حاضر ہوا اور اپنی غلطی کی معافی چاہی اور بے شان و شکوہ آپ کو بری کیا۔
آپ کے بڑے بلند کلام اور دقیق ارشادات ہیں جن سے حقیقتِ محبت واضح ہوتی ہے اور یہ وہ بلند ہستی ہیں کہ ایک بار آپ سفرِ حجاز سے تشریف لا رہے تھے، مقامِ فید میں آئے تو اہلِ فید نے درخواست کی کہ کچھ وعظ سنائیں۔ آپ منبر پر رونق افروز ہوئے تو مجمع مجتمع نہ تھا۔ آپ نے قنادیل کی طرف رُخ کر کے فرمایا کہ میں تمہیں وعظ سناتا ہوں۔ یہ فرمانا تھا کہ تمام قندیلیں گر گر کر پُورا پُور ہو گئیں۔ آپ کا ارشاد ہے
لَا یُعَبَّرُ عَنْ شَیْءٍ اِلَّا بِمَا هُوَ اَرَقُّ مِنْهُ وَلَا شَیْءَ اَرَقُّ مِنَ الْمَحَبَّةِ فَبِمَ یُعَبَّرُ عَنْهَا۔
"کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ تعبیر نہیں دی جا سکتی مگر اس کی جو اس کی بہ نسبت رقیق ہو اور محبت ایک ایسی باریک چیز ہے کہ اس سے رقیق کوئی شے نہیں، تو اس کی تشبیہ و تعبیر کس شے سے کی جائے۔"
اور اس سے مراد یہ ہے کہ محبت وہ چیز ہے کہ تشبیہ کسی چیز کے ساتھ نہیں ہو سکتی اس لیے کہ محبت صفتِ محبوب ہے، تو پھر اس کی حقیقت تب بیان ہو سکتی ہے جبکہ اس کا ادراک ممکن ہو اور صفاتِ محبوب کا ادراک محال ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
۲۷۹ابو الفارس حضرت شاہ شجاع الکرمانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شاہ شیوخ، ابو الفارس حضرت شاہ شجاع الکرمانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ شہزادہ ہیں، اپنے زمانہ کے بے نظیر صوفی ہوئے ہیں۔ حضرت ابو تراب نخشبی رحمۃ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ ہیں اور بہت سے مشائخ کرام کی زیارت کر چکے ہیں۔ حضرت ابو عثمان حیری کے مناقب میں ان کا مختصر حال بیان ہو چکا ہے۔ تصوف میں ان کے مسائل مشہور ہیں، ایک کتاب "مِرآۃ الحکماء" ان کی مؤلفہ مشہور و معروف ہے۔ آپ کا کلام بہت بلند ہے۔ آپ کا ارشاد ہے
لِاَهْلِ الْفَضْلِ فَضْلٌ مَا لَمْ یَرَوْهُ فَاِذَا رَاَوْهُ فَلَا فَضْلَ لَهُمْ وَلِاَهْلِ الْوِلَایَةِ وِلَایَةٌ مَا لَمْ یَرَوْهَا فَاِذَا رَاَوْهَا فَلَا وِلَایَةَ لَهُمْ۔
"اہلِ فضیلت کو اسی وقت تک فضیلت حاصل ہے جب تک کہ وہ اپنی فضیلت کو خود نہ دیکھیں اور جب خود بینی آ گئی فضیلت جاتی رہتی ہے اور اہلِ ولایت اسی وقت تک ولی ہوتے ہیں جب تک انہیں اپنی ولایت کا احساس نہ ہو۔ جب وہ اپنے آپ کو ولی سمجھنے لگیں تو سمجھ لو کہ ان کی ولایت گئی۔"
اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک فضل و ولایت رہتا ہے تو خود بینی ساقط ہو جاتی ہے۔ جب خود بینی آ جاتی ہے تو معنیِ حقیقیِ ولایت کے اس سے ساقط ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ فضل ایسی صفت ہے کہ جسے وہ حاصل ہو جائے تو اسے معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح ولایت بھی ایک ایسی صفت ہے کہ ولی کو اپنی ولایت کی رویت نہیں ہوتی اور جب کوئی کہنے لگے کہ میں فاضل ہوں یا ولی، تو نہ وہ فاضل ہے نہ ولی۔ ان کی کرامتوں میں لکھا ہے کہ مکمل چالیس سال آپ نے دن رات خواب نہیں فرمایا اور قطعاً نہیں سوئے اور جب کبھی آنکھ لگی بھی تو اللہ تعالیٰ سے لگی۔ چنانچہ جب خواب میں جمالِ الٰہی سے مشرف ہوئے تو آپ نے عرض کی: الٰہی! میں تیرے جمالِ باکمال کو بیداریِ شب میں دیکھنا چاہتا تھا لیکن آج سویا تو جمال پایا۔ ارشاد ہوا: اے شاہ! ان راتوں کی بیداری کی بدولت ہی آج تُو ہمیں خواب میں دیکھ رہا ہے، اگر وہ راتیں بیداری میں نہ گزارتا تو آج ہمیں خواب میں نہ پاتا۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت عمرو بن عثمان مکی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سرورِ دل نور حضرت عمرو بن عثمان مکی رضی اللہ عنہ ہیں۔ کبرائے قوم اور سادات زمانہ سے گزرے ہیں۔ آپ کی تصانیف تصوف میں مشہور ہیں۔ آپ کو نسبتِ ارادت
۲۸۰حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ سے تھی۔ پہلے آپ حضرت ابو سعید خراز رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت سے مشرف ہوئے، پھر حضرت جنید سے بیعت کی۔
اصول میں آپ امامِ وقت تھے، آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
لَا یَقَعُ عَلٰی كَیْفِیَّةِ الْوَجْدِ عِبَارَةٌ لِاَنَّهٗ سِرٌّ لِلّٰهِ عِنْدَ الْمُؤْمِنِیْنَ۔
"کیفیتِ وجدانیہ کی ترجمانی کسی لفظ اور عبارت سے نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ وہ خاص سرِّ الٰہی ہے اور مومنین اس کے امین ہیں۔"
اور وہ چیز جس پر بندہ کی عبارت اور الفاظ کا تصرف ہو سکتا ہے وہ ہرگز سرِّ حق نہیں اس لیے کہ کلیتاً تصرف و تکلف کا اسرارِ ربانیہ سے منقطع ہے۔
کہتے ہیں کہ جب حضرت عمرو بن عثمان اصفہان تشریف لائے تو ایک بے ریش نوعمر لڑکا آپ کی صحبت میں آیا اور اس لڑکے کا باپ اسے آپ کی خدمت میں آنے سے مانع تھا۔ آخر وہ اس روک ٹوک کی وجہ سے اس قدر غمگین ہوا کہ بیمار ہو گیا۔ ایک مدت تک بیمار رہا۔ آخر ایک روز آپ اپنی جماعت کے ساتھ اس کی عیادت کو تشریف لے گئے۔ لڑکے نے حضرت عمرو بن عثمان سے عرض کی کہ حضور! قوال کو حکم فرمائیں کہ وہ کچھ سنائے۔ آپ نے قوال کو فرمایا۔ قوال نے گانا شروع کیا اور یہ بیت پڑھی
مَالِیْ مَرِضْتُ فَلَمْ یَعُدْنِیْ عَائِدٌ ۔ وَیَمْرَضُ عِنْدَكُمْ فَاُعِیْدُ
"کیا بات ہے کہ میں بیمار ہوا تو تم میں سے کسی نے میری عیادت نہ کی، حالانکہ تم میں سے کوئی بیمار ہو تو میں عیادت کرتا ہوں۔"
مریض نے جیسے ہی یہ شعر سنا تو بسترِ مرض سے اٹھا اور بیٹھ گیا اور اس کے چہرے سے ظاہر تھا کہ مرض میں افاقہ ہے۔ لڑکا بولا: زِدْنِیْ، کچھ اور بھی سنا۔ قوال نے یہ بیت سنائی
وَاَشَدُّ مِنْ مَرَضِیْ عَلَیَّ صُدُوْدُكُمْ ۔ وَصُدُوْدُ عَبْدِكُمْ عَلَیَّ شَدِیْدُ
"اور میرے مرض کی سخت ترین علت تم سے مجھے روکنا ہے اور اس سے زیادہ اشد اور بھاری تمہارا مجھ سے رک جانا ہے۔"
اس کے بعد وہ لڑکا تندرست ہو گیا۔ باپ نے یہ کرامت دیکھ کر لڑکے کو حضرت عمرو بن عثمان کے سپرد کر دیا اور جو بدگمانی اس کے دل میں تھی، وہ جاتی رہی اور تائب ہوا اور یہ لڑکا اپنی قوم کے بہترین درویشوں میں ہوا۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
۲۸۱حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے مالکِ القاب، ماحیِ العیوب حضرت ابو محمد سہل بن عبد اللہ تستری رضی اللہ عنہ اپنے وقت کے بہترین شیخ ہیں۔ اور آپ زبان دانوں میں نہایت ستودہ تھے۔ آپ کی ریاضتیں بہت زیادہ ہیں اور آپ نہایت باعمل تھے۔ آپ کا اخلاص و عیوبِ افعال میں نہایت لطیف کلام ہے۔ علماء ظاہری آپ کی شان میں کہتے
هُوَ جَمَعَ بَیْنَ الشَّرِیْعَةِ وَالْحَقِیْقَةِ۔
"انہوں نے شریعت و حقیقت میں اتحاد کر کے دکھا دیا۔"
لیکن یہ کہنا ان اربابِ ظواہر کا غلط ہے۔ اس لیے کہ کوئی صوفی ایسا نہیں جو شریعت و طریقت میں فرق کرتا ہو۔ اس لیے کہ شریعت بغیر حقیقت کے مکمل نہیں اور حقیقت بغیر شریعت کے حقیقت نہیں ہو سکتی۔
ہاں! یہ ضرور ہے کہ اور مشائخ کے کلام بہت باریک اور دقیق ہیں جسے عوام کے ذہن قبول نہیں کر سکتے اور حضرت سہل کے مضامین بہت سہل اور اس قدر آسان ہیں کہ عوام کے ذہن بھی اسے قبول کر لیتے ہیں۔ اسی وجہ میں انہوں نے اس خصوصیت کے ساتھ حضرت سہل کی تعریف کی، ورنہ جبکہ خود حضرت ربِّ عزّ اسمہٗ نے شریعت و طریقت اور حقیقت کو متحد کیا ہے تو اولیائے کرام کا اس میں فرق کرنا محال ہے۔ اس سے لا محالہ یہ بات ضرور ہوگی کہ جب فرق، حقیقت و شریعت میں سمجھا جائے گا تو ایک کو ردّ کر کے دوسرے کو قبول کرنا ہوگا اور یہ بات یاد رکھو کہ ردِّ شریعت الحادِ خالص ہے اور ردِّ حقیقت شرک، اور جو فرق کرتے ہیں وہ تفریقِ معنوی کے لیے کرتے ہیں تو وہ تفریق عین ثبات ہے۔
جیسے کہتے ہیں "لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ" حقیقت ہے اور "مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ" شریعت۔ اگر کوئی چاہے کہ ایمان صحیح رکھ کر ایک کو دوسرے سے جدا کر دے، ایسا ہرگز نہیں کر سکتا اور اس کی یہ خواہش باطل محض ہوگی۔ در حقیقت شرع فرعِ حقیقت ہے جس طرح معرفت فرعِ حقیقت ہے۔
تو خلاصہ یہ ہوا کہ امتثالِ امر اور تعمیلِ حکم کرنا، اہلِ ظواہر کے لیے شریعت کے معنی میں ہے۔ جس چیز کو اس کی طبیعت قبول نہ کرے اور بے جھی سے الجھ جائیں اس سے منکر ہو جاتے ہیں اور انکار کے اصل کا اصول راہِ حق میں نہایت خطرناک۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی الْاِیْمَانِ۔ "اور اس ربِّ جلیل وجہِ منیر کو عطاءِ ایمان پر حمد ہے۔" آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلٰی اَهْلِ وَجْهِ الْاَرْضِ اِلَّا وَهُمْ
۲۸۲جُهَّالٌ بِاللّٰهِ اِلَّا مَنْ یُؤْثِرُ اللّٰهَ عَلٰی نَفْسِهٖ وَرُوْحِهٖ وَدُنْیَاهُ وَاٰخِرَتِهٖ۔
"آفتاب طلوع اور غروب نہیں ہوتا کسی روئے زمین کے رہنے والے پر، مگر وہ ذاتِ عزّ اسمہٗ کے ساتھ جاہل ہوتا ہے مگر وہی جسے اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ فرما لیا ہو، اس کی جان و تن اور دنیا و آخرت سے۔"
یعنی جو اپنے کنجِ دل میں اپنے دستِ ارادی کو متصرف مانتا ہے یہ اس کی جہالت کی دلیل ہے ذاتِ واجب تعالیٰ شانہٗ سے، اور جسے نعمتِ عرفان حاصل ہے وہ ترکِ تدبیر میں جھکا ہوا ہے۔ یہ جہل سے معرفتِ تقدیر کی دلیل ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت ابو عبد اللہ محمد بن فضل بلخی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے برگزیدۂ اہلِ حرمین، قرۃ العین حضرت ابو عبد اللہ محمد بن فضل بلخی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اجلۂ مشائخ سے ہیں۔ اہلِ عراق و خراسان کے محبوب ترین پیشوا تھے۔ حضرت احمد بن خضرویہ کے مرید اور حضرت ابو عثمان حیری رحمۃ اللہ علیہ کو ان سے خاص محبت تھی۔ آپ کو بلخ کے متعصب کج رو جاہلوں نے آپ کے مسلکِ عشق سے بدظن ہو کر بلخ سے نکال دیا۔ مگر آپ نے اپنا مسلک نہ چھوڑا۔ بلخ چھوڑ کر سمرقند میں عمر بسر فرمائی۔
آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
اَعْرَفُ النَّاسِ بِاللّٰهِ اَشَدُّهُمْ مُجَاهَدَةً فِیْ اَوَامِرِهٖ وَاَتْبَعُهُمْ بِسُنَّةِ نَبِیِّهٖ ﷺ۔
"اربابِ عرفان میں بزرگ ترین وہ ہے جو اوامرِ شریعت کی اتباع میں سعی و مجاہدہ کرے اور اہلِ اتباع میں بہترین وہ ہے جو سنتِ رسالت مآب ﷺ کا نہایت کوشش سے پیرو ہو۔"
آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
عَجِبْتُ مِمَّنْ یَقْطَعُ الْبَوَادِیَ وَالْقِفَارَ وَالْمَفَاوِزَ حَتّٰی یَصِلَ اِلٰی بَیْتِهٖ وَحَرَمِهٖ لِاَنَّ فِیْهِ اٰثَارَ اَنْبِیَائِهٖ كَیْفَ لَا یَقْطَعُ نَفْسَهٗ وَهَوَاهُ حَتّٰی یَصِلَ اِلٰی قَلْبِهٖ لِاَنَّ فِیْهِ اٰثَارَ مَوْلَاهُ۔
"مجھے تعجب ہے اس پر جو وادی اور جنگل عبور کر کے اللہ کے گھر (مکہ) پہنچتا اور اس کی حرم سے آ ملتا، اس لیے کہ اس میں انبیائے کرام علیہم السلام کے آثار ہیں۔ وہ کیوں نفس کے لیے جنگلوں اور حرص کے دریاؤں کو قطع کر کے اپنے
(صفحہ 282 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 283 پر ہے۔)
۲۸۳کنجِ قلب تک نہیں پہنچتا کہ اس میں اس کے مالک کے نشان ہیں۔
یعنی دل محلِ معرفتِ الٰہی ہے اور فضیلت میں کعبہ سے افضل ہے۔ اس لیے کہ کعبہ قبلۂ عبادتِ ظاہری اور بندہ کی نگاہ اس پر رہتی ہے مگر دل وہ ہے کہ اس پر نظرِ ربِّ جلّت مجدہٗ عزّ اسمہٗ ہے، تو جہاں دل ہے وہاں میرا محبوب ہے اور جہاں اس کی ملکیت ہے میری مراد وہاں ہی ہے اور جہاں انبیائے کرام علیہم السلام کے نشان ہیں وہاں ہمارے دوستوں، محبوبوں کا قبلہ ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت ابو عبد اللہ محمد بن علی ترمذی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخِ باخطر، فانی از صفاتِ بشر ابو عبد اللہ حضرت محمد بن علی الترمذی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ علومِ فنون میں امامِ کامل اور محققین مشائخ سے گزرے ہیں۔ آپ کی بہت سی تصانیف ہیں اور کرامتیں بھی مشہور ہیں اور آپ کی تصانیف سے آپ کی کرامت شان ظاہر ہے، جیسے "ختم الولایت"، "کتاب المنہج"، "نوادر الاصول" وغیرہ۔ علاوہ اس کے بعض کتابیں بہت ہی زبردست ہیں۔ چنانچہ میرا ان کے ساتھ رابطۂ عقیدت اتنا ہے کہ گویا میں اور میرا دل تو ان کا شکار ہے اور میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ محمد بن علی وہ دُرِّ یتیم ہے کہ عالم میں اس کی مثال نہیں اور علومِ ظاہری میں بھی ان کی بہت سی تالیفات ہیں اور احادیث میں ان کی سندیں نہایت بلند ہیں اور قرآنِ کریم کی تفسیر بھی لکھنی شروع کی مگر عمر تمام ہو گئی، مگر جس قدر لکھی ہے وہ اہلِ علم میں موجود ہے۔
اور علمِ فقہ ترمذ ہی میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے خاص مصاحب و دوست حضرت محمد حکیم سے حاصل کیا۔ یہ وہ محمد حکیم ہیں کہ ولایتِ ترمذ کے صوفی حکماء ان کا ہی اقتداء کرتے تھے۔ غرضیکہ ان کے مناقب بہت ہیں۔ من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ آپ کو حضرت خضر علیہ السلام کی صحبت بھی حاصل ہوئی۔ اور آپ کے مرید حضرت ابو بکر وراق راوی ہیں کہ ہر یک شنبہ یعنی اتوار کو حضرت خضر علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لاتے تھے اور آپس میں واقعات پر سوال و جواب ہوا کرتے تھے۔ آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
مَنْ جَهِلَ بِاَوْصَافِ الْعُبُوْدِیَّةِ فَهُوَ بِنُعُوْتِ الرَّبُوْبِیَّةِ اَجْهَلُ۔
"جو علمِ شریعت اور اوصافِ بندگی سے جاہل ہے وہ نعتِ ربوبیت سے سخت ترین جاہل ہے۔"
اور جو ظاہر میں نفس کو نہیں پہچانتا وہ حق تعالیٰ شانہٗ کے عرفان کا راستہ ہرگز نہیں جان سکتا اور آفات، صفاتِ بشریت نہیں دیکھ سکتا۔ وہ لطائفِ صفاتِ حق ہرگز نہیں جان سکتا اس لیے کہ ظاہر کا تعلق باطن سے ہے۔ تو جو ظاہر سے بغیر باطن کے تعلق کرے، یہ محال ہے اور جو باطن سے تعلق
۲۸۴کرے، اس کا تعلق بغیر ظاہری تعلق کے محال ہے۔ تو خدا کی صفتوں کی معرفت عبودیت کے ارکان کی صحت پر موقوف ہے، اس کے بغیر معرفت حاصل نہیں ہو سکتی اور یہ کلمۂ اصل اصول ہے اور نہایت ہی مفید بات ہے۔ ان شاء اللہ اس کی مزید توضیح اپنی جگہ پر کی جائے گی۔
حضرت ابو بکر محمد بن عمر وراق رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شرفِ زہاد و امامت، سرتاجِ اہلِ فقر و صفوت حضرت ابو بکر محمد بن عمر الوراق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ بزرگانِ مشائخ سے گزرے ہیں اور زہادِ قوم میں تھے۔ حضرت احمد بن خضرویہ اور حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہما کے دیکھنے والے اور اُن کے صحبت یافتہ ہیں۔ آپ کی تالیفات آداب و معاملات میں متعدد ہیں اور مشائخ کرام میں آپ "مؤدبِ ادیب" کہلاتے ہیں۔
آپ ایک حکایت فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ نے چند اجزاء مجھے دیے اور فرمایا انہیں دریائے جیحون میں ڈال دے۔ میرے دل نے یہ گوارا نہ کیا، میں نے بجائے دریا میں ڈالنے کے انہیں گھر میں رکھ دیا اور خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ دریا میں ڈال آیا ہوں۔ فرمایا: پھر کیا دیکھا؟ میں نے عرض کی، کچھ نہیں دیکھا۔ فرمایا: تُو نے وہ دریا میں نہیں ڈالا، واپس جاؤ اور دریا میں ڈالو۔ واپس حکم کی تعمیل کے لیے چلا اور دل میں اس امر کا احساس ہوا کہ میں نے غلط بیانی کی۔ آخرش وہ اجزاء میں نے دریا میں ڈالے تو فوراً دریا پھٹا اور اس میں سے ایک صندوق ظاہر ہوا جس کا ڈھکنا کھلا ہوا تھا اور اس میں وہ جزو جو میں نے دریا میں ڈالے تھے چلے گئے اور صندوق کا ڈھکنا بند ہو گیا اور پانی بھی مل گیا اور صندوق واپس پانی میں چلا گیا۔ یہ سب تماشہ دیکھ کر میں واپس آیا اور تمام قصہ عرض کیا۔ فرمایا اب تو یقیناً وہ اجزاء پانی میں ڈال آیا۔ میں نے عرض کی: حضور! اس معاملہ کا راز تو معلوم ہونا چاہیے۔ فرمایا ہم نے اصول اور تحقیق میں کچھ تصنیف کیا تھا لیکن اس کے سمجھنے کی عام عقلوں میں اہلیت نہ تھی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے وہ مجھ سے طلب فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے دریائے جیحون کو حکم دیا کہ ان اجزاء کو خضر تک پہنچا دے۔ چنانچہ وہ اس ذریعہ سے خضر علیہ السلام تک پہنچ گئے۔
آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اَلنَّاسُ ثَلَاثَةٌ: اَلْعُلَمَاءُ وَالْاُمَرَاءُ وَالْفُقَرَاءُ، فَاِذَا فَسَدَ الْعُلَمَاءُ فَسَدَتِ الطَّاعَةُ وَالشَّرِیْعَةُ، وَاِذَا فَسَدَ الْاُمَرَاءُ فَسَدَ الْمَعَاشُ، وَاِذَا فَسَدَ الْفُقَرَاءُ فَسَدَ الْاَخْلَاقُ۔
"آدمی تین قسم کے ہیں: ایک علماء، دوسرے امراء، تیسرے فقراء۔ جب علماء
۲۸۵میں فساد پیدا ہوگا، طاعتِ الٰہی اور شریعتِ مطہرہ میں فساد ہو جائے گا اور جب امراء میں فساد آ گیا تو لوگوں کی معاش خراب ہو جائے گی اور جب فقراء بگڑ گئے تو لوگوں کے اخلاق و عادات خراب ہو جائیں گے۔"
تو امراء و سلاطین کا فساد، جور و تعدی، ظلم و ستم ہے اور علماء کا فساد طمع و حرصِ آز ہے اور فقراء کا فساد ریاست و جاہ طلبی۔
جب تک علماء، امراء، ملوک، علماء سے علیحدہ نہ ہوں گے، تباہ نہ ہوں گے اور جو ملوک بے علمی کی وجہ میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور علماء کا طمع بے دینی و ریا کی وجہ سے ہوگا اور فقر میں ریاست طلبی بے توکلی کی وجہ میں آئے گی۔ تو بادشاہ بے علم اور عالم بے عمل اور فقیر بے توکل شیطان کے قرین و انیس ہیں اور علم کا فساد ان تینوں میں آ جانے سے ہوتا ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابو سعید احمد بن خراز رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سفینۂ توکل و رضا، سالکِ طریقِ فنا ابو سعید احمد بن عیسیٰ خراز رضی اللہ عنہ ہیں۔ بڑے زبردست اہلِ کشف ہیں۔ مریدوں کے احوالِ درونی کے بہترین ترجمان اور طالبوں کے حالات پر زبردست برہان تھے۔ آپ کی خصوصیات سے یہ بات ہے کہ طریق "فنا و بقا" کو الفاظ کا جامہ پہنا کر واضح فرمانے والے ایک آپ ہی تھے۔ آپ کے مناقب مشہور ہیں اور آپ کی ریاضت اور نکات کا بہت زیادہ چرچا ہے۔ آپ کی تصانیف اور کلام اور رموزات نہایت بلند تھے۔ حضرت ذوالنون مصری کو آپ نے پایا اور حضرت بشر حافی اور سری سقطی رحمۃ اللہ علیہما کی صحبت یافتہ تھے۔ آپ نے حضور سید یوم النشور ﷺ کے اس فرمان پر کہا حضور کا فرمان ہے
جُبِلَتِ الْقُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْهَا۔
۲۸۶"دلوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ جبلی اثر رکھا ہے کہ وہ اس کی طرف مائل ہوتا ہے جو اس کے ساتھ نیکی کرے۔"
یعنی جو کسی کے ساتھ احسان کرے لامحالہ اس کے ساتھ انسان کا دل نیکی کرے گا اور اسے محبوب سمجھے گا تو آپ نے اس پر فرمایا
وَا عَجَبًا مِمَّنْ لَمْ یَرَ مُحْسِنًا غَیْرَ اللّٰهِ كَیْفَ لَا یَمِیْلُ بِكُلِّیَّةٍ اِلَی اللّٰهِ۔
"سخت تعجب ہے کہ جو شخص سوائے اپنے ربّ کے کسی کو محسن ہی نہ دیکھے، وہ کیوں کلیۃً اپنے ربّ کی طرف مائل نہیں ہوتا۔"
اس لیے کہ احسان درحقیقت اسی کا ہے جو مالکِ اعیانِ ربّ الارباب کر رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ احسان کسی کے ساتھ نیکی کرنے کو کہتے ہیں۔ پھر اس احسان کا بدلہ اس کے ساتھ پورا ہو سکتا ہے جو جزائے احسان کا محتاج ہو اور اس کا احسان بھی اس شان کا ہو کہ جس چیز سے وہ احسان کر رہا ہے وہ اس کی ملک بھی نہیں ہے۔ پھر وہ احسان نہ احسان ہے نہ اس احسان کا بدلہ
۲۸۷ہے۔ اس لیے کہ بدلہ بھی ایسی ہی چیز سے ہوتا ہے کہ جو بدلہ دینے والے کے ملک نہیں۔ تو تمام ملک، ملکِ الٰہی ہے اور وہ، وہ ذات ہے کہ اپنے غیر سے بے نیاز ہے۔ اور محبوبانِ بارگاہ اس کی حقیقت کو جانتے ہیں کہ انعام و احسان میں منعمِ حقیقی اور محسنِ حقیقی وہی ایک ذات ہے اور وہ اپنے دلوں کو کلیۃً اس کا اسیر بنائے ہوئے ہیں اور اُن کی دوستی اُسی ذات کے ساتھ ہے اور وہ غیر ذاتِ منعمِ حقیقی سے ہمیشہ اعراض کرتے ہیں۔
حضرت ابو الحسن علی بن محمد اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شاہدِ محققان، دلیلِ مریدان حضرت ابو الحسن علی بن محمد اصفہانی رضی اللہ عنہ ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت علی بن سہیل بھی مشائخ کبار سے گزرے ہیں اور حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کی خط و کتابت حضرت ابو الحسن علی کے ساتھ جو ہوئی ہے، وہ نہایت لطیف مضامین سے پُر ہے اور یہ اس پایہ کے بزرگ گزرے ہیں کہ حضرت عمرو بن عثمان ان کی زیارت کے لیے اصفہان حاضر ہوئے اور عمرو بن عثمان خود اتنے زبردست صوفی عارف تھے کہ انہیں حضرت ابو تراب رضی اللہ عنہ کی صحبت کا شرف حاصل تھا اور حضرت جنید کے رفیقِ خاص تھے۔ مگر ابو الحسن رضی اللہ عنہ کا پایۂ طریقِ تصوف میں بہت ستودہ تھا اور آپ فنِ تصوف میں رضا و ریاضت کے زیور سے آراستہ تھے اور تصرفِ نفسِ امارہ اور ہر قسم کے فتن و آفات سے محفوظ تسلیم کیے گئے ہیں۔ آپ کے طرزِ بیان کو حقائق و معاملات میں نہایت پسند کیا جاتا تھا اور دقائق و اشارات میں آپ کا کلام لطیف تھا۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اَلْحُضُوْرُ اَفْضَلُ مِنَ الْیَقِیْنِ لِاَنَّ الْحُضُوْرَ وَطَنَاتٌ وَالْیَقِیْنُ خَطَرَاتٌ۔
"حضورِ بارگاہِ لم یزل افضل ترین ہے محض یقین وجودِ ذات سے اس لیے کہ حضورِ ذات جو آئینۂ دل میں ہے وہ وطن کی طرح ہے اور اس پر غفلت کسی طرح روا و ممکن نہیں اور یقینِ خاطر ایک ایسا تصور ہے کہ کبھی آتا ہے اور کبھی جاتا رہتا ہے۔"
تو حاضرین حضورِ بارگاہِ لم یزل میں رہتے ہیں اور مومنین درگاہِ ایزدی پر کبھی غیبِ بیت کے حجاب میں ہوتے ہیں، اور حضورِ بارگاہ کی تفصیل کے لیے ایک علیحدہ باب اس کتاب میں آئے گا۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔
آپ نے فرمایا
مِنْ وَقْتِ اٰدَمَ اِلٰی قِیَامِ السَّاعَةِ اَلنَّاسُ یَقُوْلُوْنَ اَلْقَلْبَ اَلْقَلْبَ وَاَنَا
(صفحہ 287 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 288 پر ہے۔)
۲۸۸اُحِبُّ اَنْ اَرٰی رَجُلًا یُّنْصِفُ لِیْ شَقَّ الْقَلْبِ فَلَا اَرٰی۔
"آدم علیہ السلام کے وقت سے قیامت تک لوگ دل دل کہتے چلے آ رہے ہیں اور میں اس امر کو درست رکھتا ہوں کہ ایک ایسا آدمی دیکھوں جو بیان کرے کہ دل چیز کیا ہے اور وہ کیسا ہوتا ہے مگر میں نے ایسا آدمی نہیں دیکھا۔"
اور عوام الناس پارۂ گوشت کو دل کہتے ہیں اور وہ گوشت پارہ مجانین و اطفال اور مغلوب النفس لوگوں کے لیے دل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اہلِ دل نہیں بلکہ محض بے دل ہیں۔ تو دل کیا چیز ہوا؟ اگر دل وہ ہے جس سے انواع و اقسام کی عبارتیں مسموع ہو رہی ہیں تو پھر اسے عقل کیوں نہ کہا جائے، وہ دل نہیں ہے۔
اور اگر روح کا نام دل رکھا جائے تو وہ بھی نہیں ہے اور اگر علم کو دل کہا جائے تو وہ بھی دل نہیں۔ تو خلاصہ یہ ہوا کہ دل وہ ہے کہ جس میں شواہدِ حقہ کا قیام ہو اور اس کے علاوہ جسے بھی دل کہو وہ عبارتی اور لفظی دل ہے، حقیقتاً دل نہیں۔
حضرت ابو الحسن محمد بن اسماعیل خیر نساج رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے پیرِ اہلِ تسلیم اندر طریقِ محبت مستقیم حضرت ابو الحسن محمد بن اسماعیل خیر نساج رضی اللہ عنہ ہیں۔ بزرگانِ مشائخ سے تھے اور اعمال میں آپ بہترین واعظ گزرے ہیں۔ آپ کی عبارات نہایت مہذب ہوتی تھیں۔ عمر دراز پائی ہے۔ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں کی مجلس میں توبہ کی۔
آپ نے حضرت شبلی کو محافظتِ مراحمِ جنید کے لیے حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ آپ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے اور آپ حضرت جنید کے ہمعصر تھے اور حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ آپ کا بہت وقار کرتے تھے۔ حضرت ابو حمزہ بغدادی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے فرامین گوشِ قبول سے سنا کرتے تھے۔
آپ کو "خیر نساج" اس وجہ میں کہا جاتا ہے کہ ایک بار آپ مؤلد سے سامرہ کی طرف بقصدِ حج تشریف لے جا رہے تھے۔ راستہ میں آپ کا گزر کوفہ میں ہوا۔ دروازۂ کوفہ پر ایک خزباف یعنی ریشم بننے والے جلاہے نے پکڑ لیا اور کہا تم میرے غلام ہو اور تمہارا نام خیر ہے۔ آپ نے اس کی اس حرکت کو من جانبِ اللہ سمجھا اور اس کی مخالفت نہ کی۔ کئی سال اس کی خدمت کرتے رہے جبکہ وہ آپ کو پکارتا: یا خیر! تو آپ اس کے جواب میں لبیک فرماتے۔ یعنی وہ کہتا اے خیر، تو آپ
۲۸۹فرماتے حاضر۔ آخرش وہ اپنے کیے پر پشیمان ہوا اور ایک دن کہنے لگا تشریف لے جائیں، میں نے غلطی کی، آپ میرے غلام نہیں ہیں۔
آپ وہاں سے رخصت ہو کر مکہ معظمہ آ گئے۔ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے متعلق فرمایا: خَیْرٌ خِیَرَةٌ۔ "خیر ہماری نیکی ہے"، اور اسے آپ محبوب رکھتے جو آپ کو "خیر" کے نام سے پکارتا اور آپ فرماتے کہ میرے لیے روا نہیں کہ ایک مردِ خدا میرا نام رکھے اور میں اس نام کو پلٹ دوں۔
کہتے ہیں کہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا، نمازِ مغرب کا وقت تھا۔ جب آپ کو کیفیتِ غشیانی سے ہوش آیا اور آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ ملک الموت کھڑا ہے۔ آپ نے فرمایا
قِفْ عَافَاكَ اللّٰهُ فَاِنَّمَا اَنْتَ عَبْدٌ مَاْمُوْرٌ وَاَنَا عَبْدٌ مَاْمُوْرٌ وَمَا اُمِرْتَ بِهٖ لَا یَفُوْتُكَ وَمَا اُمِرْتُ بِهٖ فَهُوَ شَیْءٌ یَفُوْتُنِیْ فَدَعْنِیْ اَمْضِیْ فِیْمَا اُمِرْتُ بِهٖ ثُمَّ امْضِ بِمَا اُمِرْتَ بِهٖ۔
"ٹھہر، اللہ تجھے معاف فرمائے! بیشک تو بھی عبدِ مامور (حکم دیا ہوا بندہ) ہے اور میں بھی بندۂ حکمِ الٰہی ہوں اور جو کچھ تجھے حکم ملا ہے وہ ٹل نہیں سکتا، یعنی جان لینا لازمی ہے، اور جو حکم مجھے ملا ہے وہ میری فروگزاشت کی وجہ میں ٹل رہا ہے یعنی وقتِ نماز ہے وہ مجھے پڑھ لینے دے تاکہ میں اس حکم سے سبکدوش ہو لوں جو مجھے حکم ملا ہے، پھر میں تجھے اجازت دوں گا کہ تو اپنے متعلقہ حکم کی تعمیل سے سبکدوش ہو۔"
پھر آپ نے پانی طلب فرمایا اور وضو کیا، نمازِ شام ادا فرمائی۔ اُس کے بعد جانِ آفرین کو جان سپرد فرمائی۔ اسی شب آپ کو لوگوں نے خواب میں دیکھا۔ پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک فرمایا۔ جواب دیا
لَا تَسْاَلْنِیْ عَنْ هٰذَا وَلٰكِنْ اِسْتَرَحْتُ مِنْ دُنْیَاكُمْ۔
"مجھ سے یہ نہ پوچھو مگر اتنا بتائے دیتا ہوں کہ تمہاری اس دنیا سے بہت راحت میں ہوں۔"
آپ سے مروی ہے کہ اپنی مجلسِ خاص میں فرمایا
شَرَحَ اللّٰهُ صُدُوْرَ الْمُتَّقِیْنَ بِنُوْرِ الْیَقِیْنِ وَكَشَفَ بَصَائِرَ الْمُوْقِنِیْنَ بِنُوْرِ حَقَائِقِ الْاِیْمَانِ۔
۲۹۰"متقی کو یقین بغیر چارہ نہیں کہ اس کا دل نورِ یقین سے کھلا ہوا ہے اور مومن کو حقائقِ ایمان بغیر چارہ نہیں کہ ان کی چشمہائے عقل نورِ ایمان سے منور ہیں۔"
تو جس جگہ ایمان ہوگا اور جہاں یقین ہوگا، تقویٰ بھی ہوگا۔ اس لیے یہ سب باہم گِر تابع ہیں۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابو حمزہ خراسانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے داعیِ عصر، یگانۂ دہر حضرت ابو حمزہ خراسانی رضی اللہ عنہ ہیں۔ قدماء مشائخِ خراسان سے گزرے ہیں۔ حضرت ابو تراب رحمۃ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ تھے اور حضرت ابو سعید احمد خراز کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ توکل میں آپ کا قدم بہت راسخ تھا۔
ایک حکایت میں مشہور ہے کہ آپ ایک روز جاتے جاتے کنویں میں گر گئے۔ تین روز اسی کنویں میں رہے۔ ایک قافلہ اُدھر پہنچا۔ آپ نے دل میں کہا کہ انہیں آواز دوں۔ پھر دل ہی میں فرمایا کہ یہ اچھا نہیں ہے کہ اپنے ربّ کے سوا کسی سے مدد چاہی جائے بلکہ یہ شکایت اپنے مولا کی ہے جو غیر سے کی جائے۔ اس لیے کہ مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ میرے ربّ نے مجھے کنویں میں ڈالا، اب تم مجھے اس کنویں سے نکالو۔
کہتے ہیں کہ اس قافلہ کے لوگوں میں سے کسی نے اس کنویں کو دیکھا۔ آپس میں مشورہ کیا کہ یہ کنواں بر سرِ راہ ہے۔ اگر اسے بند کر دیا جائے تو ہمیں ثواب ملے گا (اور یہ اِمَاطَةُ الْاَذٰی ہے یعنی تکلیف دہ اور ایذا رساں چیز کو ہٹا دینا ثواب ہے)۔ آخرش وہ جمع ہوئے کہ اس کا منہ بند کر دیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اضطراب محسوس ہوا اور مایوسی پیدا ہوئی۔ جب ان لوگوں نے کنویں کا منہ استوار کرنا شروع کیا اور تمام کنویں کا منہ پاٹ دیا اور واپس ہو گئے، میں اس بند کنویں میں اپنے ربّ کے حضور مناجات میں مشغول ہو گیا اور جان دینے کے لیے آمادہ ہو گیا اور تمام مخلوق سے نا امید تھا۔ جب شام ہوئی تو میں نے دیکھا کہ کنویں کے اوپر کچھ جنبش معلوم ہوئی۔ میں نے غور سے دیکھا کہ یہ کنواں کون کھول رہا ہے تو معلوم ہوا کہ ایک سانپ کے مانند کوئی جانور ہے۔ اس نے اپنی دم نیچے لٹکا رکھی ہے۔ میں سمجھ گیا کہ من جانبِ اللہ میری اس کنویں سے نجات اس کے ذریعہ مقرر ہے۔ میں نے فوراً اس کی دم پکڑ لی۔ اس نے مجھے اوپر کھینچ لیا۔
غیب سے فرشتے نے آواز دی: اے حمزہ! تیری نجات بہت اچھی نجات ہے کیونکہ تجھے ایک بڑی ہلاکت کے بعد نجات ملی ہے۔
آپ سے لوگوں نے پوچھا غریب کون ہے؟ جواب دیا: اَلْمَوْحِشُ مِنَ الْاُلْفَةِ۔ "جو
۲۹۱الفت سے بھاگنے والا ہو۔" یعنی جس کو سب الفتوں سے وحشت ہوتی ہے وہ غریب ہے۔ اس لیے کہ دنیا اور عاقبت میں درویش کا وطن وحشت ہے اور الفتِ وطن میں وحشت ہوتی ہے۔ اور جب الفتِ محبوب کے سوا کائنات سے منقطع ہو گیا تو وہ تمام عالم سے متوحش ہوگا۔ اس وقت وہ غریب کہلائے گا اور یہ درجہ بہت بلند ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو العباس احمد بن مسروق رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے داعیِ مریدان حضرت ابو العباس احمد بن مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اجلہ بزرگانِ مشائخ سے گزرے ہیں اور تمام اولیائے کرام کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں "اوتاد الارض" بنایا۔ آپ کو "قطب المدار" کی صحبت کا شرف بھی حاصل ہے۔
آپ سے سوال کیا گیا کہ "قطب" کون ہے؟ آپ نے ظاہر نہیں فرمایا لیکن اشارۃً بتایا کہ شاید جنید رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ نے چالیس عارفانِ کامل کی خدمت کی اور ان سے فیض حاصل فرمایا اور علومِ ظاہری و باطنی میں آپ نہایت اعلیٰ دستگاہ رکھتے تھے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
مَنْ كَانَ سُرُوْرُهٗ بِغَیْرِ الْحَقِّ فَسُرُوْرُهٗ یُوْرِثُ الْهُمُوْمَ وَمَنْ لَمْ یَاْنَسْ فِیْ خِدْمَةِ رَبِّهٖ فَاُنْسُهٗ یُوْرِثُ الْوَحْشَةَ۔
"جو غیرِ اللہ کے ساتھ شاد و آباد ہے وہ مجسمۂ اندوہ و ملال ہے اور جسے اپنے ربّ کے ساتھ مؤانست نہیں اس کا اُنس خالص وحشت ہے۔"
یعنی وہ چیز جو ماسوائے اللہ میں ہے اسے فنا ہے اور جو فنا کے ساتھ شاد ہے، وہ باطل کے ساتھ باطل ہوگا اور اس کا نتیجہ غم و اندوہ ہے۔ اور سوائے اس ذات کے ہر شے "لا شے" ہے۔ تو لا شے سے اُنس رکھ کر جب اسے حقیر دیکھے گا تو اس کی حقارت اس پر منکشف ہو جائے گی۔ تو یہ اُنس ہی وحشت ہو گا۔ تو خلاصہ یہ ہوا کہ رویتِ غیرِ اللہ میں اندوہ و وحشت کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو عبد اللہ بن محمد اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے استادِ متوکلان، شیخِ محققان حضرت ابو عبد اللہ بن محمد اسماعیل مغربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اپنے وقت کے بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں اور مقبول استاد، نگہبانِ مریدان مانے گئے ہیں۔
حضرت ابراہیم خواص اور حضرت ابراہیم شیبانی رضی اللہ عنہما دونوں آپ کے مریدِ خاص
۲۹۲تھے۔ آپ کے براہین میں مباحثِ تجرید دنیا میں نہایت واضح تھے۔ آپ کا قدم انقطاعِ دنیا میں نہایت مضبوط تھا۔ آپ کا ارشاد ہے
مَا رَاَیْتُ اَنْصَفَ مِنَ الدُّنْیَا اِنْ خَدَمْتَهَا خَدَمَتْكَ وَاِنْ تَرَكْتَهَا تَرَكَتْكَ۔
"دنیا سے زیادہ منصف میں نے نہیں دیکھا، اگر تو اُس کی خدمت کرے تو وہ تیری خدمت کرتی ہے اگر تو اسے چھوڑ دے تو وہ تجھے چھوڑ دیتی ہے۔"
یعنی اگر تو اس سے اعراض کرے اور طلبِ ربّ عزّ اسمہٗ کو مضبوط کرے تو دنیا تجھ سے بھاگتی ہے اور اُس کے خطرات بھی تیرے دل پر نہیں آتے۔ تو جو شخص صداقت سے تارکِ دنیا ہو جائے وہ اس کے شر سے مامون ہو جاتا ہے اور اُس کی ہر قسم کی آفتوں سے نجات پا جاتا ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو الحسن بن علی جرجانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے پیرِ زمانہ اور زمانہ میں یگانہ حضرت ابو الحسن بن علی جرجانی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اپنے وقت میں بے نظیر عارف گزرے ہیں۔ آپ کی بہت سی تصانیف ہیں، معاملات میں بھی آپ نے تالیفات فرمائیں اور رویتِ آفاتِ نفس میں بھی بہت سی کتابیں لکھیں۔
آپ حضرت محمد بن علی ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں اور حضرت ابو بکر وراق رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عصر گزرے ہیں اور حضرت ابراہیم سمرقندی آپ کے مرید تھے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اَلْخَلْقُ كُلُّهُمْ فِیْ مَیَادِیْنِ الْغَفْلَةِ یَرْكُضُوْنَ وَعَلَی الظُّنُوْنِ یَعْتَمِدُوْنَ وَعِنْدَهُمْ اَنَّهُمْ فِی الْحَقِیْقَةِ یَنْقَلِبُوْنَ عَنِ الْمُكَاشَفَةِ یَنْطِقُوْنَ۔
"دنیا کے لوگ غفلت کے میدانوں میں ہیں اور اپنی توہمات و ظنیات پر اعتماد رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ سب باتیں مبنی بر حقیقت ہیں اور ان کی زبانی باتیں اسرار و مکاشفات کے ساتھ ہوتی ہیں۔"
اس فرمان میں آپ کا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ عوام گمانِ طبع اور غرورِ نفس پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی جاہل اپنی جہالت کا معترف نہیں، بالخصوص صوفیوں میں جو جاہل ہیں وہ بہت سخت ہیں۔
ایسے ہی علماء بھی اہلِ دنیا کے ہیں تو وہ اپنے کو "اَعَزُّ مَا خَلَقَ اللّٰهُ" سمجھے بیٹھے ہیں یعنی
(صفحہ 292 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 293 پر ہے۔)
۲۹۳تمام دنیا میں انہیں اپنے سے زیادہ عزت والا کوئی نظر نہیں آتا۔ تو پھر عوامِ جہال میں بھی "اَذَلُّ مَا خَلَقَ اللّٰهُ" ہو گئے ہیں کہ ان سے زیادہ ذلیل اللہ کی مخلوق میں کوئی نہیں۔
حالانکہ عالم کی یہ شان ہونی چاہیے تھی کہ اُن کی بات سوائے حقیقتِ حال نہ ہوتی اور غرور و نخوت ان میں قطعاً نہ ہوتا اور جاہلوں میں تو وجودِ حقیقت ہونا ہی محال ہے، تو ان میں غرور لازمی ہے۔
غرضیکہ سب غفلت کے میدان میں متحیر ہیں اور گمانِ باطل لیے بیٹھے ہیں کہ ہم جس حال میں ہیں وہ ولایت ہے اور اپنے ظن و وہم پر یقین کر کے سمجھ رہے ہیں کہ یہ خالص یقین ہے اور رسمِ تصوف کے موافق ہے، اور اپنی حرصِ آز کے ماتحت باتیں کر کے اسے مکاشفہ بنا بیٹھے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے اسرار سے باز نہیں آتا مگر رویتِ جمال و جلالِ حق کے ساتھ یا اظہارِ جمال اُن پر اتنا مستولی ہو جائے کہ ہر شے میں جلوۂ ذات کا مشاہدہ کرے اور اپنی شان کو فانی دیکھے اور کشفِ جلالِ ذات کے وقت اپنے وجود کو قطعاً نہ دیکھے اور اپنے وجود کا واہمہ بھی اس کے دل میں نہ ہو۔
حضرت ابو محمد احمد بن حسین حریری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے باسطِ علومِ واضح رسوم حضرت ابو محمد احمد بن حسین حریری رضی اللہ عنہ ہیں۔ معاصرین حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے ہیں اور حضرت سہل بن عبد اللہ کے صحبت یافتہ تھے اور تمام علوم میں بہترین مہارت رکھتے تھے اور فقہ کے امامِ وقت گزرے ہیں اور اصول میں نہایت اعلیٰ دستگاہ رکھتے تھے اور طریقت و تصوف میں اتنا بلند پایہ تھا کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے فرمایا کہ ہمارے مریدوں کو ادبِ تصوف اور ریاضتِ علم کی تعلیم دیں۔ حتیٰ کہ حضرت جنید کے بعد ان کی سجادگی آپ کو حاصل ہوئی۔
آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
دَوَامُ الْاِیْمَانِ وَقَوَامُ الْاَدْیَانِ وَصَلَاحُ الْاَبْدَانِ فِیْ ثَلَاثَةٍ: اَلْاِكْتِفَاءُ وَالْاِتِّقَاءُ وَالْاِحْتِمَاءُ۔ فَمَنِ اكْتَفٰی بِاللّٰهِ صَلُحَتْ سَرِیْرَتُهٗ وَمَنِ اتَّقٰی مَا نَهَاهُ اللّٰهُ عَنْهُ اسْتَقَامَتْ سِیْرَتُهٗ وَمَنِ احْتَمٰی مَا لَمْ یُوَافِقْهُ اِرْتَاضَتْ طَبِیْعَتُهٗ۔ فَثَمَرَةُ الْاِكْتِفَاءِ صَفْوَةُ الْمَعْرِفَةِ وَعَاقِبَةُ الْاِتِّقَاءِ حُسْنُ الْخَلِیْقَةِ وَغَایَةُ الْاِحْتِمَاءِ اِعْتِدَالُ الطَّبِیْعَةِ۔
"ایمان کا دوام و استمرار اور قوامِ دین اور اصلاحِ جسم تین چیزوں میں ہے: ایک کفایت کرنا، دوسرا پرہیزگاری اختیار کرنا، تیسرے غذا میں احتیاط
۲۹۴رکھنا۔ جو شخص اپنے ربّ کے ساتھ اکتفا کرے اس کے باطن کی اصلاح ہو جاتی ہے اور جو تقویٰ حاصل کرے اور پرہیزگار ہو جائے اس کی عادت و خصلت نیک ہو جاتی ہے اور جو غذا میں احتیاط رکھے اس کا نفس ریاضت سے پاک و درست ہو جاتا ہے۔ تو ثمرۂ اکتفا صفائیِ قلب ہے اور انجامِ تقویٰ اور پرہیزگاری حسنِ خلق ہے اور احتیاطِ غذا کا نتیجہ تندرستی اور اعتدالِ طبیعت ہے۔"
یعنی جو اپنے ربّ کے ساتھ توکل کرے، اس کا عرفان بلند اور قلب مصفّیٰ ہو جاتا ہے اور جو اعمال میں تقویٰ کا پابند ہو اس کا خلق درست ہو جاتا ہے اور دنیا و آخرت میں عزت پا جاتا ہے جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا
مَنْ كَثُرَتْ صَلَوَاتُهٗ بِاللَّیْلِ حَسُنَ وَجْهُهٗ بِالنَّهَارِ۔
"جو رات میں نمازیں زیادہ پڑھے اس کا چہرہ دن میں بہت منور ہو جاتا ہے۔"
دوسری حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن متقیوں کی جب جماعت آئے گی تو: وُجُوْهُهُمْ نُوْرٌ عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ "توان کے چہرے منبروں پر منور ہوں گے اور منبر بھی نوری ہوں گے۔" اور جو غذا میں احتیاط رکھے تو اُس کا تن ہر بیماری سے محفوظ رہے گا اور یہ کلام نہایت جامع ہے اور یاد رکھنے کے قابل۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابو العباس احمد بن محمد بن سہل آملی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخِ ظرفا، قدوۂ اہلِ وفا و صفا حضرت ابو العباس احمد بن محمد بن سہیل آملی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ بزرگانِ مشائخ سے گزرے ہیں اور اپنے ہمعصروں میں محتشم مانے گئے ہیں۔ علمِ تفسیر و علمِ تجوید کے بڑے عالم تھے۔ لطائفِ قرآنی کے بیان میں آپ مخصوص تھے۔ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کے مریدانِ خاص میں تھے۔ حضرت ابراہیم مارستانی کے صحبت یافتہ تھے اور حضرت ابو سعید خراز رحمۃ اللہ علیہ آپ کی بہت عزت فرماتے تھے بلکہ آپ کے سوا کسی کے علمِ تصوف میں تسلیم نہیں فرماتے تھے۔
آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اَلسُّكُوْنُ اِلٰی مَا لُوْفَاتِ الطَّبَائِعِ یَقْطَعُ صَاحِبَهَا عَنْ بُلُوْغِ دَرَجَاتِ الْحَقَائِقِ۔
"جس چیز کی طرف رغبتِ طبع ہو اُس سے آرام سکون حاصل کرنا بلندیِ
۲۹۵حقائق کے درجات سے گرا دیتا ہے۔"
یعنی جو مالوفات کے ساتھ آرام حاصل کرے وہ حقیقتِ آشنائی سے محروم رہ جاتا ہے۔
اس لیے کہ امزجہ اور طبائع، آلات و اوزارِ نفس ہیں اور نفس، محلِ حجاب ہے اور حقیقت، محلِ کشف۔ تو جو طالبِ محبوب ہے اور اس سے سکون چاہتا ہے جبکہ مکاشفہ نہیں تو ادراکِ حقائق کیونکر کر سکے گا۔ اس لیے کہ محلِ کشف سے وہ محجوب ہے چنے ہوئے اعراض سے جو مالوفِ طبع ہیں اور رجحانِ طبع دو چیزوں پر ہوتا ہے: ایک دنیا کے تمام ملحقات کے ساتھ، دوسرے عقبیٰ اور اس کے تمام احوال کے ساتھ۔
دنیا کے ساتھ بوجہ جنسیت الفت ہوگی یا عقبیٰ کے ساتھ بوجہ ناجنسیت، اور نادیدہ ہونے کے تو نفسِ عاقبت کے ساتھ الفت محض گمان پر کرتا ہے نہ کہ اس کی حقیقتِ عینیہ سمجھ کر۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس حقیقت آشنا نہیں ہوتا۔ اگر حقیقت شناس ہوتا تو دنیا سے اپنا تعلق قطع کر لیتا اور جب ایسی دنیا سے انقطاع کر لیتا تو ولایتِ طبع طے ہو جاتی اور ولایتِ طبع کے طے ہو جانے سے مکاشفۂ حقیقت ہو جاتا ہے کیونکہ عافیت کا خویش بالطبع فاطبع ہے: لِاَنَّ فِیْهَا مَا لَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ۔ "اس لیے کہ اس میں قلبِ بشر پر عقبیٰ کا تصور نہیں آ سکتا۔" کہ وہ راہ کیسی پُر خطر ہے، اور جو چیز بذریعۂ کشفِ دل میں متحضر ہو اس کا خطرہ نہیں ہوتا اور جب معرفتِ حقیقت عقبیٰ سے واہمہ انسان ہی عاجز آ جاتا ہے، تو پھر طبعیت اس کے عینِ حقیقت سے کیونکر الفت کر سکتی ہے۔ تو یہ بات صحیح ہوئی کہ الفتِ طبعیت گمانِ عاقبت سے ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے مستغرقِ معنی، ابو الغیث حضرت حسین بن منصور حلاج رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ آپ سرمستانِ بادۂ وحدت اور مشتاقِ جمالِ احدیت گزرے ہیں اور نہایت قوی الحال مشائخ میں سے تھے۔
آپ کی شان میں مشائخِ طریقت کے علیحدہ علیحدہ فیصلے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک گروہ نے آپ کو مردود کہہ گیا۔ ایک گروہ آپ کو مقبولِ بارگاہ بتا گیا۔
مردود کہنے والوں میں سے: ۱۔ عمرو بن عثمان مکی، ۲۔ ابو یعقوب نہر جوری، ۳۔ ابو ایوب قطع، ۴۔ علی بن سہل اصفہانی وغیرہ ہیں اور مقبولِ بارگاہ ماننے والے متاخرین میں سے بازیدہ عطا محمد بن حنیف، ابو القاسم نصر آبادی رضی اللہ عنہم ہیں۔ اور اُن کے علاوہ تمام متاخرین صوفیہ انہیں مقبول مانتے چلے آ رہے ہیں۔
۲۹۶اور ایک گروہ اور ہے جو آپ کے معاملہ میں توقف کرتا ہے جیسے حضرت جنید بغدادی، حضرت شبلی، حضرت حصری رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ اور ایک گروہ نے آپ کو جادو وغیرہ اسبابِ ظاہری کے ساتھ منتسب کیا ہے۔ لیکن حضرت شیخ المشائخ ابو سعید ابو الخیر اور شیخ ابو القاسم گرگانی اور شیخ ابو العباس شقانی رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں حسین بن منصور کو صاحبِ سرّ مانتے تھے اور ان لوگوں کے نزدیک حسین بن منصور ایک عارفِ کامل بزرگ تھے۔
لیکن استاذ ابو القاسم قشیری فرماتے ہیں کہ اگر وہ اربابِ معانی و حقیقت میں سے تھے تو لوگوں کے مطعون کرنے سے ایک عارف مجبور نہیں ہو سکتا اور اگر وہ مجبور فی الطریق و العرفان تھے اور مردودِ بارگاہ، تو خلقِ مقبول بنانے سے وہ مقبول نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا ان کا معاملہ ہم خدا کے سپرد کرتے ہیں اور جس قدر ان سے ہم علاماتِ عرفانی دیکھتے ہیں، اسی حد تک ہم انہیں بنظرِ عظمت سمجھتے ہیں۔
اور مشائخ میں علاوہ چند کے کوئی ان کی مقبولیت کا منکر نہیں بلکہ تمام مشائخ ان کے کمالِ فضل اور صفائیِ حال اور کثرتِ اجتہاد و ریاضت کے معترف ہیں، اور ان کے حالات کا اس کتاب میں ذکر نہ کرنا ایک حد تک بے امانتی و خیانت تھی۔ اس لیے کہ بعض لوگ اربابِ ظواہر سے ہیں جو ان کی تکفیر کرتے ہیں اور ان کی شانِ عرفان کے منکر ہیں اور ان کے تمام کمالات و خوارقِ عادات امور کو مکر اور جادو کے ساتھ نسبت کرتے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ یہ حسین بن منصور بن حلاج بغدادی ہے، جو محمود بن زکریا کا استاذ اور ابو سعید قرمطی کا رفیقِ خاص ہے۔ حالانکہ وہ "حسین بن منصور بن صلاح" ہے اور یہ "حسین بن منصور حلاج" ہیں رحمۃ اللہ علیہ۔ پھر وہ حسین بن منصور جو ابن صلاح ہے وہ بغداد کا ہے، یہ حسین بن منصور حلاج، یہی مقامِ "بیضا" کے ہیں۔
اور جو مشائخ حضرت حسین بن منصور حلاج ہی کو مردود و مجبور مانتے ہیں اور ان کے دین میں بھی طعن کرتے ہیں کہ یہ طعن درحقیقت ان کے دین میں نہیں بلکہ ان کے کیفیتِ حال پر ہے۔ وہ یہ کہ حضرت حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ پہلے حضرت سہل بن عبد اللہ سے بیعت ہوئے پھر ان کی بلا اجازت ان سے علیحدہ ہو کر حضرت عمرو بن عثمان مکی سے ملے، وہاں بھی مستقل طور پر نہیں رہے اور وہاں سے بھی بلا اجازت چل دیے اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے آ کر تعلق کر لیا۔ مگر حضرت جنید نے انہیں قبول نہ فرمایا اور اس وجہ میں سب نے انہیں اپنے یہاں سے رد کر دیا تو اس صورت میں آپ کو مجبور معاملت کہا جا سکتا ہے نہ کہ اصل میں آپ کو مردود مذہب مانا جائے۔
۲۹۷دیکھتے نہیں کہ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت حسین بن منصور کی شان میں کیا فرما رہے ہیں۔ آپ کا اعلان ہے
اَنَا وَالْحَلَّاجُ فِیْ شَیْءٍ وَاحِدٍ فَخَلَّصَنِیْ جُنُوْنِیْ وَاَهْلَكَهٗ عَقْلُهٗ۔
"میں اور حسین بن منصور حلاج ایک ہی طریق پر ہیں مگر مجھے میرے دیوانہ پن نے آزاد کرا دیا اور حسین بن منصور کو اس کی عقلمندی نے ہلاک کر دیا۔"
اگر (معاذ اللہ) وہ بے دین ہوتے تو شبلی رحمۃ اللہ علیہ نہ فرماتے کہ میں اور حلاج ایک چیز ہی ہیں۔ حضرت محمد بن خفیف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: هُوَ عَالِمٌ رَبَّانِیٌّ "حسین بن منصور حلاج عالمِ ربانی تھے" اور ایسے ہی اوروں نے بھی بہت کچھ تعریف کی اور انہیں بزرگ بتایا۔
تو مشائخِ کرام کی خوشنودی اور ان کی طرف سے عاق کر دینا اس امر کو مستلزم نہیں کہ انہیں اسلام و مذہب سے بھی خارج کر دیا جائے بلکہ یہ مجبوریِ طریقت کی مانی جائے گی اور اس کا طریقہ وحشت و اضطرار ہوتا ہے۔
آپ کی تصانیف مشہور ہیں اور آپ کے رموز اور کلام نہایت مہذب ہیں جو اصول و فروع میں آپ نے فرمائے اور لکھے اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) نے پچاس رسالے ان کی تصنیف کیے ہوئے بغداد و حوالیِ بغداد میں دیکھے۔ بعض خورستان میں، بعض فارس و خراسان میں۔ سب میں ہم نے ایسی باتیں دیکھیں جو مرید ابتداءِ سلوک میں کیا کرتا ہے اور اُن تصانیف میں بعض رسالے نہایت معمولی، بعض کچھ آسان، بعض نہایت ادق مضمون سے پُر تھے۔ اور یہ حالت کے ساتھ بات ہے۔ جب تجلیِ حق ہونے لگتی ہے تو اس کی قوتِ حال اس کی زبان و قلم پر بعض بار ایسی جلدی اور عجلت سے مضمون آ جاتے ہیں کہ ناواقف دیکھ کر تعجب ہی نہیں کرتا بلکہ اس کا وہم اس کے سننے سے متنفر ہو جاتا ہے اور عقل اس کے سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔ تو جو آشنائے رمزِ خاصانِ بارگاہ ہے وہ کہہ دیتا ہے کہ یہ مضمون بہت بلند ہے اور جو جماعت بے خبر اور رموزِ طریقت سے نا آشنا ہوتی ہے وہ قطعی منکر ہو جاتی ہے۔ تو ان کا انکار بھی بمنزلۂ اقرار کے ہوتا ہے اس لیے کہ وہ سمجھے بغیر منکر ہو کر اقرار کر رہے ہیں کہ یہ مضمون ہمارے محدود معلومات و بصارت کے ماتحت غلط ہے۔ مگر جب اہلِ بصیرت و محققانِ حقیقت دیکھتے ہیں تو وہ اُن منکرین کی ہمنوائی نہیں کرتے اور خدمت و تعریف دونوں سے علیحدہ ہو کر ساکت ہو جاتے ہیں (اس لیے کہ جانتے ہیں کہ ان منکرین کی عقل نارسا وہاں تک پہنچ نہ سکے گی۔ لہٰذا ان سے اعراض ہی مناسب ہے) تو منکر کو کہہ دیتے ہیں کہ تیرا انکار تیری حیثیتِ علمی سے صحیح ہے (اور جاننے والے تو پہلے ہی ہمنوا ہوتے ہیں
(صفحہ 297 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 298 پر ہے۔)
۲۹۸تو اُن سے کہنا تحصیلِ حاصل ہوتا ہے)۔
اور وہ لوگ جو اس مردِ خدا کے احوال کو سحر کے ساتھ منسوب کرتے ہیں، یہ انتساب اُن کی ذات سے محال ہے، اس لیے کہ اگرچہ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک جادو بھی ویسا ہی حق ہے جیسا کہ کراماتِ اولیاء کو حق مانا جاتا ہے۔ لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ ساحری کے کمال کا مظاہر کفر ہے اور کمالِ حال میں کرامت کا اظہارِ کمالِ معرفت۔ تو ایک کا نتیجہ کمالِ غضبِ الٰہی ہے اور ایک کا نتیجہ قربِ رضائے مولا ہونا۔
اور اس بحث کو تفصیل اثباتِ کراماتِ اولیاء کے باب میں بیان کیا جائے گا۔
اور بالا تفاق اہلِ بصیرت و اہلسنت، ایک مسلمان خاسر اور ساحر نہیں ہو سکتا اور ایک کافر مکرم اور واجب التکریم نہیں بن سکتا۔ اور ظاہر ہے کہ سحر و کرامت میں ضد ہے اور اجتماعِ اضداد محال ہے اور حضرت حسین بن منصور حلاج رضی اللہ عنہ اپنی مدتِ العمر میں لباسِ صلاحیت کے ساتھ مزین رہے، نماز کے پابند، ذکر و مناجات میں لیل و نہار گزارنے والے، روزہ کے پابند اور آپ کی حمد نہایت مہذب تھی اور توحید میں نہایت لطیف نکتہ بیان فرماتے تھے۔ اگر وہ جادو کا کام کرنے والے ہوتے تو صوم و صلوٰۃ کی پابندی اور ذکر و اذکار میں سرگرمی اُن سے محال تھی۔ تو صحیح طور پر ثابت ہوا کہ اُن سے جو امورِ خارقِ عادات ظہور میں آئے، وہ کرامت تھی اور کرامت سوائے ولی کے متحقق نہیں ہو سکتی۔
بعض اہلِ تصوف اُن کو اس وجہ میں ردّ کرتے ہیں کہ اُن کے بعض کلمات سے امتزاج و اتحاد کا مفہوم نکلتا ہے۔ یہ اعتراض بھی عبارت پر ہے نہ کہ ان کی حقیقتِ معنی پر۔ اس لیے کہ غلبۂ حال میں صوفی اس قدر مغلوب ہوتا ہے کہ وہ اداءِ عبارت پر قدرت نہیں رکھتا اور اس سے امکانِ عبارت ناممکن ہو جاتا ہے، اگرچہ عبارت فی نفسہٖ صحیح ہوتی ہے۔ (مگر اس میں اس قدر اغلاق ہوتا ہے کہ عوام اور اہلِ ظواہر اس کی حقیقتِ معنی کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں)۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ معنیِ عبارت اس قدر مشکل ہوں کہ اس کے مفہوم و مقصود کو عوام نہ سمجھ سکیں، اس وجہ میں اس کے منکر ہو جائیں۔ لیکن یہ انکار اُن کے سمجھنے کا انکار ہے نہ کہ اس عبارت کا۔
ہاں! یہ ضرور ہے کہ ہم نے بغداد اور اس کے گرد و نواح میں ملحدین کا گروہ دیکھا جو اپنے آپ کو حسین منصور حلاج رضی اللہ عنہ کا معتقد ظاہر کرتا ہے اور اپنے الحاد و زندقہ میں اُن کے کلام پر حجت لاتا ہے۔ اور اس گروہ کا نام ہی "حلاجی" ہے اور حضرت حسین بن حلاج کے معاملہ میں اس حد
۲۹۹تک غلو کرتا ہے جس حد تک روافض حبِّ علی کرم اللہ وجہہ میں کرتے ہیں۔
ان کی ردّ میں ایک باب ہم لائیں گے۔ اُس میں ان سب فرقوں کا حال بیان کریں گے۔ انشاء اللہ العزیز۔
تو اس امر کا خیال رہے کہ اس قسم کے مغلوب الحال صوفیوں کے کلام کا اتباع نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ وہ اپنے حال میں اس قدر مغلوب ہوتے ہیں کہ ان میں استقامت قطعی نہیں ہوتی اور صوفیائے کرام میں اُن کی پیروی کرنی چاہیے جو صاحبِ استقامت ہیں۔ میں حسین بن منصور حلاج رحمہ اللہ کو بجمیع اللہ تعالیٰ اپنے دل میں عزیز رکھتا ہوں اور اُن کی عظمت میرے دل میں ہے، لیکن یہ یقینی بات ہے، ان کی حالت مستقیم نہ تھی بلکہ وہ طریقت میں مغلوب الحال تھے، اور ہر مغلوب الحال کا کلام فتنہ سے خالی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت حسین بن منصور حلاج کے کلام سے بہت زیادہ خوفِ فتنہ ہے بلکہ میرے ساتھ بھی میری ابتدائی زمانہ میں ایسی کیفیتِ حالیہ گزر چکی ہے۔
میں نے حضرت حسین بن منصور حلاج کے کلام کی شرح بھی لکھی ہے اور اس کتاب میں دلائل و حجج باہرہ کے ساتھ ہم نے ثابت کیا ہے کہ یہ کلام اتنا بلند ہے کہ اس کو ارباب حال کے سوا اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
اور ایک کتاب مسمّی "منہاج الدین" ہماری تالیف ہے۔ اس میں حضرت حسین بن منصور حلاج کے ابتداء حال سے انتہا تک تمام کوائف ذکر کیے ہیں۔ یہاں بھی ہم نے مختصراً اُن کا کچھ تذکرہ کر دیا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس راستہ میں اس قدر پہلو موافق و مخالف نظر آئیں اس کی پیروی سے احتراز کرنا لازم ہے (مگر زبانِ طعن دراز کرنے سے بھی اجتناب کیا جائے) اور جو نفسانی خواہشات اور ہوائی پرستی کے تابع ہیں وہ ہر جگہ ایسے امور کے متلاشی ہوتے ہیں جس سے بجی اور تنفر پیدا ہو (اُن سے بھی بچنا چاہیے)۔
آپ کا ایک فرمان ہے جو آپ نے فرمایا
اَلَا اَلْسِنَةٌ مُسْتَنْطِقَاتٌ تَحْتَ نُطْقِهَا مُسْتَهْلِكَاتٌ۔
"یعنی گویا زبان، خاموش و بے زبان دل کی ہلاکت ہے۔"
یہ عبارت عوام کے لیے خاص آفت ہے۔ اس کے معنی میں حقیقتِ معنی کے بغیر بے ہودگی ہے اور جب اس کے معنی حاصل ہو جائیں تو وہ اس عبارت سے مفقود نہیں ہوتے۔ اس
۳۰۰لیے کہ جب معنی مفقود ہو جائیں تو عبارت کے ساتھ موجود نہیں ہو سکتے۔
غرضیکہ ایسی عبارتیں طالب کو ہلاکت کے سوا اور کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتیں سوا اس کے کہ عبارت پڑھ کر یہ سمجھ لیا جائے کہ اس کے یہ معنی ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو اسحاق ابراہیم بن احمد خواص رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سرہنگِ متوکلان، سالارِ مستسلمان ابو اسحاق حضرت ابراہیم بن احمد خواص رضی اللہ عنہ ہیں۔ توکل میں عظیم الشان تھے اور نہایت بلند رتبہ والے گزرے ہیں۔ بڑے بڑے مشائخ کو پا چکے ہیں، آپ کی کرامتیں بہت ہیں، اعمالِ طریقت میں آپ کی تصانیف بھی بہت ہیں۔
آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اَلْعِلْمُ كُلُّهٗ كَلِمَتَیْنِ: لَا تَتَكَلَّفْ فِیْمَا كُفِیْتَ وَلَا تُضِیْعْ مَا اسْتُكْفِیْتَ۔
"یعنی علم سارا دو کلموں میں ہے: ایک یہ کہ جس چیز کا اندیشہ اللہ تعالیٰ نے تیرے دل سے اٹھا لیا، اس میں تکلیف نہ کر۔ دوسرے یہ کہ جو تجھے کرنا ہے اور جو کچھ تجھ پر فرض و لازم ہے اُسے ضائع نہ کر تاکہ دنیا و آخرت میں خوش رہے۔"
اس فرمان سے یہ مراد ہے کہ نوشتۂ قسمت میں تکلیف نہ کر۔ اس لیے کہ جو تیرے لیے مقسوم ہے وہ تیری جد و جہد سے بدل نہیں سکتا اور جو حکم تجھے بذریعۂ شرع ملا ہے اس کی تعمیل میں قصور نہ کر، اس لیے کہ ترکِ فرمان تیرے لیے موجبِ عذاب ہے۔ آپ سے کسی نے پوچھا کہ عجائبات میں سے آپ نے کیا ملاحظہ کیا؟ فرمایا: بہت سے عجائبات دیکھے مگر اس سے زیادہ تعجب ناک بات میرے نزدیک کوئی نہیں: حضرت خضر علیہ السلام نے مجھ سے اجازتِ صحبت چاہی مگر میں نے انکار کر دیا۔ عرض کیا گیا: حضور کیوں انکار فرما دیا؟ فرمایا: اس لیے نہیں کہ اُن سے بہتر کا میں متلاشی تھا بلکہ اس خوف سے کہ کہیں اپنے ربّ عزّ و جلّ کے سوا غیر پر میرا اعتماد نہ ہو جائے اور ان کی صحبت میرے توکل کو نقصان نہ پہنچا دے اور نفل میں پڑ کر ادائے فرض سے کہیں نہ رہ جاؤں۔ یہ آپ کے درجۂ کمالِ توکل کی دلیل تھی۔
حضرت ابو حمزہ بغدادی رحمۃ اللہ علیہ
اہلِ یقین حضرت ابو حمزہ بغدادی رضی اللہ عنہ ہیں کہ یگانۂ متکلمین اور مشائخِ اہلِ بغداد سے گزرے ہیں۔ حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں۔ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ
۳۰۱علیہ کے صحبت یافتہ تھے اور حضرت نوری اور خیر نساج رحمہما اللہ کے ہمعصر تھے اور علاوہ ان کے بڑے بڑے مشائخ کرام کے ساتھ رہے ہیں۔ "مسجدِ رصافہ" میں بغداد کے اندر آپ وعظ فرمایا کرتے تھے اور علمِ تفسیر و قرأت فنِ روات کے زبردست عالم گزرے ہیں اور حدیث میں بھی آپ کو کافی مہارت تھی۔
اور یہ وہ ہیں کہ حضرت نوری رحمۃ اللہ علیہ کے ایک بلا کے موقع پر یہ ساتھ تھے۔ آخرش اللہ تعالیٰ نے سب کو اس بلا سے نجات دی۔ اس کی تفصیل ہم مذہبِ نوری کا جہاں ذکر کریں گے وہاں بیان کریں گے، ان شاء اللہ۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اِذَا اَسْلَمْتَ نَفْسَكَ فَقَدْ اَدَّیْتَ حَقَّهَا وَاِذَا سَلِمَ مِنْكَ الْخَلْقُ قَضَیْتَ حُقُوْقَهُمْ۔
"جب تُو اپنے نفس سے سلامتی حاصل کر لے تو تُو نے اپنی حفاظت کا حق ادا کر دیا اور جب خلق تجھ سے سلامتی حاصل کر لے تو تُو نے حقِ مخلوق ادا کر دیا۔"
یعنی حق دو ہیں: ایک نفس کا حق تجھ پر اور ایک مخلوق کا حق تجھ پر۔ تو جب تُو نے اپنے نفس کو معصیت سے روک لیا اور طریقۂ سلامتیِ عقبیٰ پر اسے چلایا، اس کا حق ادا کر دیا اور جب مخلوقات کو اپنے شر سے ایمن کر دیا اور ان سے برائی نہ کی تو مخلوق کا حق ادا کر دیا۔ گویا ایسی حالت میں زندگی گزار کہ تجھ کو خلائق سے اور تجھ سے خلائق کو کوئی برائی نہ پہنچے، اس کے بعد حقِ عبودیت اور عبادتِ الٰہی میں مشغول ہو۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت ابو بکر محمد بن موسیٰ واسطی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے امامِ عالی مقام حضرت ابو بکر محمد بن موسیٰ واسطی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ محققانِ مشائخ میں سے گزرے ہیں۔ حقائق شناسی میں عظیم الشان شخصیت تھی اور مدارجِ تصوف میں اعلیٰ درجہ رکھتے تھے۔ مشائخ کرام میں آپ ستودہ صفات مانے گئے اور حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے پرانے ہم صحبتوں سے ہیں۔ آپ کا کلام اس قدر دقیق ہے کہ اہلِ ظواہر کی اس کے مفہوم تک رسائی نہیں۔ اسی وجہ میں آپ نے اپنا کلام قلمبند نہیں فرمایا اور آپ کا کسی شہر میں قیام نہیں رہتا تھا (اسی وجہ میں کہ غالباً ہر جگہ نااہلوں سے واسطہ پڑتا ہوگا وہاں سے پراگندہ خاطر ہو کر دوسرے شہر کو تشریف لے جاتے ہوں گے)۔ سیاحت کرتے کرتے جب آپ مقام "مرو" تشریف لائے تو اہلِ مرو کو آپ نے باعتبارِ طبعِ لطیف اور نیک سیرت پایا اور اہلِ مرو نے بھی آپ کی عظمت کی اور
۳۰۲آپ کے پند و نصائح گوشِ دل سے سنے۔ چنانچہ بقیہ عمر یہیں پوری فرمائی۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اَلذَّاكِرُوْنَ فِیْ ذِكْرِهٖ اَكْثَرُ غَفْلَةً مِنَ النَّاسِیْنَ لِذِكْرِهٖ۔
"یاد کرنے والوں کو یاد کرنے میں، فراموش کر دینے والے سے ذکر میں زیادہ غفلت ہوتی ہے۔"
اس لیے کہ ربّ جل مجدہٗ کو یاد رکھتے ہوئے اگر اس کا ذکر بھول جائے تو اتنا نقصان نہیں اور بڑا نقصان اس میں ہے کہ اُسے فراموش کر دے اور اس کا ذکر کرتا رہے۔ اس لیے کہ ذکر ایک علیحدہ چیز ہے اور مذکور علیحدہ۔ تو جو خیال، ذکر میں مذکور کی ذات کو فراموش کر دے اور اس سے روگرداں ہو جائے تو یہ بہت بڑی غفلت ہے کہ اس میں ذکرِ غیر ہے بہ نسبت اس کے کہ مذکور کی یاد کا گمان بھی نہ رہے بلکہ بھول جائے تو اس بھولنے والے کو باوجود ذکر، غفلت سے قریب ہے اور بھولنے والے کو نسیان و غفلت میں حجابِ غیبت ہی ہے اور مشاہدۂ حضور نہیں۔ تو ذکر میں بحالتِ ذکر یاد اور تصورِ مذکور اگر ہے تو حجابِ غیبت میں بھی اُس کے لیے حضور ہے۔
تو خلاصہ یہ ہوا کہ اگر حضوری کا خود خیال کرے تو صوفی غفلت کے نزدیک ہے، اس لیے کہ طالبِ حق کے لیے اپنی طرف سے خواہش کرنا ہی ہلاک ہے کیونکہ اس راہ میں اگر گمان زیادہ ہو جائے تو معنی گم ہو جاتے ہیں اور اگر معنی زیادہ ہو جائیں تو گمان گم ہو جاتا ہے۔ درحقیقت صوفی کو گمان ہی جب ہوتا ہے جب عقل کے ساتھ وہ متہم ہو اور جب تک عقل کے ساتھ وہ متہم ہے ارادۂ نفسانی لازمی ہے اور یہاں ہمت کو تہمت اور ارادے سے کوئی تقرب کی منزل حاصل نہیں ہوتی، اور جسے حقیقتِ ذکر کہتے ہیں وہ یا تو حالِ غیبت میں ہوتا ہے یا مقامِ حضور میں۔
اور ذاکر مشاہدۂ حضورِ حق کر لیتا ہے تو پھر ذکر نہیں رہتا بلکہ مشاہدہ ہوتا ہے اور جب غائب از حق ہو اور اپنے وجود سے مطلع تو اگرچہ ذکر ہوتا ہے مگر اُسے ذکر نہیں کہتے بلکہ وہ غیبت ہے اور غیبت درحقیقت غفلت ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سکینۂ احوال، سفینۂ مقال حضرت ابو بکر دلف بن جحد شبلی رضی اللہ عنہ ہیں۔
۳۰۳بزرگانِ مشائخ سے گزرے ہیں اور آپ کے لیل و نہار نہایت مہذب و مطیبِ بحق گزرے ہیں۔ آپ کے اشارات لطیف و ستودہ ہیں۔ چنانچہ ایک متاخرین سے فرماتے ہیں
ثَلَاثَةٌ مِنْ عَجَائِبِ الدُّنْیَا: اِشَارَاتُ الشِّبْلِیِّ وَنُكَتُ الْمُرْتَعِشِ وَحِكَایَاتُ جَعْفَرٍ۔
"عجائباتِ عالم میں تین چیزیں ہیں: حضرت شبلی کے اشارات اور مرتعش کے نکتہ اور جعفر کی حکایتیں۔"
آپ قوم کے بہت بڑے لوگوں میں سے تھے۔ اربابِ طریقت میں سادات طریق سے شمار کیے گئے ہیں۔ ابتداء میں خلیفۂ وقت کے داروغہ ڈیوڑھی تھے۔ حضرت خیر نساج رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں آپ تائب ہوئے اور تعلقِ بیعت حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا۔ بہت سے مشائخ کرام کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے معنی یہ ہیں
﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۚ ذٰلِكَ اَزْكٰی لَهُمْ ۚ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ﴾
"اے محبوب! مومنین کو حکم فرماؤ کہ وہ چشمِ سر کو نظرِ شہوت سے نگاہ رکھیں اور چشمِ دل کو ماسوی اللہ سے اور انواع فکر و اندیشہ سے محفوظ کر کے رویتِ ذات کا خیال رکھیں۔"
اس لیے کہ شہوت کا اتباع اور محارم کے گھورا گھاری غفلت میں سے ایک غفلت ہے۔ اہلِ غفلت کے لیے عذابِ مہین یعنی نہایت ذلیل کرنے والا وہ عذاب ہے جو انہیں اپنے عیبوں سے جاہل کہہ رہا ہے اور جو اس دنیا میں جاہل رہا، وہ عقبیٰ میں بھی جاہل ہی رہے گا
﴿وَمَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰی فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰی﴾
"جو دنیا میں عیب و صواب کی طرف سے اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔"
جب تک اللہ تعالیٰ انسان کے دل سے ارادات و شہوت کی نجاست نہ نکال دے اس وقت تک اس کی چشمِ سر غوامض یعنی جن سے آنکھ بند ہونا ضروری ہے، محفوظ نہیں رہ سکتی اور جب تک اپنی محبت کسی کے دل میں ثابت نہ کرے، اس کی چشمِ سر بلا نظارۂ غیر محفوظ نہیں رہ سکتی۔
۳۰۴آپ کا ایک واقعہ مروی ہے کہ ایک دن آپ بازار میں تشریف لائے تو لوگوں نے کہنا شروع کیا: هٰذَا مَجْنُوْنٌ "یہ دیوانہ" ہے۔ آپ نے فرمایا
اَنَا عِنْدَكُمْ مَجْنُوْنٌ وَاَنْتُمْ عِنْدِیْ اَصِحَّاءُ فَزَادَ لِیَ اللّٰهُ فِیْ جُنُوْنِیْ وَزَادَكُمْ فِیْ صِحَّتِكُمْ۔
"میں تمہارے نزدیک دیوانہ ہوں اور تم میرے نزدیک ہوشیار ہو۔ میرا جنون شدتِ محبتِ محبوب سے ہے اور تمہاری صحت قوتِ غفلت سے۔ تو اللہ عزّ و جلّ میری دیوانگی زیادہ کرے تاکہ میرا تقرب قرب سے اقرب ہو اور تمہاری ہوشیاری زیادہ کرے تاکہ تمہارا بُعد موجود بُعد سے ابعد ہو جائے۔"
اور یہ ارشاد آپ کا بمقتضائے غیرت تھا کہ یہ لوگ دوست اور دیوانہ میں تمیز نہیں کرتے اور انہیں اپنی غفلت کا احساس نہیں تو یہ آخرت میں بھی ایسے ہی بے حس ہوں گے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو محمد بن جعفر بن نصیر خالدی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے حاکیِ احوال، بہ الطفِ اقوال و ادا حضرت ابو محمد بن جعفر بن نصیر خالدی رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت جنید رضی اللہ عنہ کے کبار اصحاب سے گزرے ہیں اور فنون و علم میں تبحر تھے اور مشائخ کرام کی سیروں کے حافظ اور ان کے مراتب کے خاص نگران مانے گئے ہیں۔
آپ کا کلام ہر فن میں مشہور ہے اور خاص کر رعونت میں آپ نے بہت کچھ فرمایا اور ہر مسئلہ پر آپ نے حکایت چسپاں فرمائی اور اس کا حوالہ کسی نہ کسی کی روایت سے ثابت کیا۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اَلتَّوَكُّلُ اِسْتِوَاءُ الْقَلْبِ عِنْدَ الْوُجُوْدِ وَالْعَدَمِ۔
"توکل یہ ہے کہ وجود و عدمِ رزق تیرے دل کے نزدیک یکساں ہو۔"
اور جب وجودِ رزق ہو تو خرم و شاد نہ ہوا اور عدمِ رزق کے وقت اندوہ گیں نہ ہو۔ اس لیے کہ یہ جسم مِلکِ مالک ہے اور پرورش و ملوک جسم کے لیے تجھ سے بہتر وہی مالکِ عالم ہے جیسے چاہے رکھے۔ تو اس کی دارالسلطنت میں کسی قسم کا دخل نہ دے اور مِلکِ مالک کے سپرد کر اور اپنا تصرف منقطع کر لے۔
حضرت ابو محمد جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت جنید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک بار حاضر ہوا اور دیکھا کہ آپ کو بخار ہے۔ میں نے عرض کی: حضور! اپنے ربّ سے دعا کریں تاکہ وہ آپ کو شفا دے۔ فرمایا: کل میں نے عرض کی تھی تو مجھے جواب ملا کہ "جنید! جسم ہماری ملک
۳۰۵ہے، ہم چاہیں تو تندرست رکھیں، چاہیں تو بیمار۔ تم کون ہو جو ہمارے اور ہماری ملک میں دخل و تصرف کر رہے ہو۔ خاموش رہو اور اپنا تصرف ہماری ملک سے منقطع کرو تاکہ ہمارے عبدِ صادق رہو۔" وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو محمد بن القاسم رود باری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخ محمود معدن جود حضرت ابو محمد ابن قاسم رود باری رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ شہزادہ تھے اور نو جوانانِ متصوفہ کے بزرگ تھے۔ اعمالِ طریقت میں عظیم الشان درجہ پایا ہے۔ دقائقِ طریقت میں آپ کا کلام بڑا لطیف ہے۔ آپ سے مردی ہے کہ فرمایا
اَلْمُرِیْدُ لَا یُرِیْدُ لِنَفْسِهٖ اِلَّا مَا اَرَادَ اللّٰهُ لَهٗ وَالْمُرَادُ لَا یُرِیْدُ مِنَ الْكَوْنَیْنِ شَیْئًا غَیْرَهٗ۔
"مرید وہ ہے جو کسی چیز کا ارادہ اپنی ذات کے لیے نہ رکھے مگر وہی جو اس کے ربّ کے ارادہ سے ہو، اور مراد وہ ہے کہ کونین میں سوائے ذاتِ حق کسی چیز کا طالب نہ ہو۔"
تو جب تک اپنی ارادات و عقیدت میں راضی ہے، مرید ہے اور محبّ کی ارادات و عقیدت جب نہیں رہتی تو وہ مراد ہو جاتا ہے۔ پھر جو حق تعالیٰ چاہے اس کے سوا وہ کچھ نہیں چاہتا اور جو خدا چاہے وہ کرے، سوائے خدائے تعالیٰ کے اور کچھ نہیں چاہتا۔ تو رضا مقاماتِ ابتدائی سے ہے اور محبت انتہاءِ حال کا نام ہے اور مقامات کی نسبت وجود و عبودیت تک ہے اور سر چشمہ اور درجاتِ تائیدِ ربوبیت میں ہیں۔ جب یہ سمجھ لیا تو خلاصہ یہ ہوا کہ مرید بخود قائم ہوتا ہے اور مرادِ بحق قائم ہوتا ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو العباس مہدی سیاری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے خزینۂ دار التوحید، عالم عامل علی الفرید ابو العباس حضرت مہدی سیاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ امامِ وقت تھے اور علومِ ظاہری و باطنی کے عالم گزرے ہیں۔ حضرت ابو بکر واسطی رحمۃ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ تھے اور بہت سے مشائخ کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے۔ نہایت عالی ظرف اور زہد و ورع میں مشہور۔ آپ کا کلام نہایت بلند اور تصانیف بہت زیادہ ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اَلتَّوْحِیْدُ اَنْ لَا یَخْطُرَ بِقَلْبِكَ مَا دُوْنَهٗ۔
۳۰۶"توحید یہ ہے کہ ماسوائے ذاتِ حق، تیرے دل کے نزدیک کوئی خطرہ نہ آئے۔"
اور مخلوقات کی نظر کا تیرے دل کے پاس گزر نہ ہو اور تیری صفائیِ معاملہ میں کدورت نہ ہو اس لیے کہ اندیشۂ غیر، اثباتِ غیر بغیر نہیں ہوتا اور اثباتِ غیر ہونے کی صورت میں حکمِ توحید ساقط ہو جاتا ہے۔
یہ مرو کے بڑے رئیسوں کے خاندان سے تھے۔ اہلِ مرو میں ان کے مقابلہ کا کوئی رئیس نہ تھا۔ انہیں میراثِ پدری کافی ملی تھی، وہ تمام کی تمام دے کر دو موئے مبارک حضور اکرم ﷺ کے حاصل کیے۔ اللہ تعالیٰ نے موئے مبارک کی برکت سے توفیقِ توبۃ النصوح دی۔
حضرت ابو بکر واسطی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں آ گئے اور اس درجہ کو پہنچ گئے کہ ایک گروہِ صوفیہ کے امام بن گئے۔ جب آپ نے دنیا سے رحلت فرمائی تو وصیت کی تھی کہ یہ موئے مبارک میرے منہ میں رکھ دیے جائیں۔ آج تک مرو میں ان کا یہ اثر ہے کہ لوگ اپنی حاجت روائی کے لیے اس قبر پر جاتے اور بامراد واپس آتے ہیں اور حلِ مقاصد کے لیے آپ کی قبر پر جانا مجرب ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابو عبد اللہ محمد بن خفیف رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے مالکِ وقت خود در تصوف، خالیِ طبع از تصرف و تکلف حضرت ابو عبد اللہ محمد بن خفیف رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اپنے زمانہ کے امامِ علوم گزرے ہیں اور مجاہدات میں آپ کی شان بہت بلند ہے اور آپ کا بیان معانیِ حقائق میں نہایت شانی ہے اور آپ کی عمر کا بیشتر زمانہ تصنیف و تالیف میں گزرا۔ حضرت ابن عطا، حضرت شبلی، حضرت حسین بن منصور وغیرہ رحمہم اللہ کی زیارت فرما چکے ہیں اور مکہ معظمہ میں حضرت یعقوب نہر جوری رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہ چکے ہیں اور سیر و مکاشفات آپ کی بہت اچھی ہے اور خلوت نشینی بھی آپ نے بہت کی ہے۔ آپ بھی خاندانِ شاہی سے گزرے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو توبہ کی توفیق دی اور حکومت و سلطنت سے اعراض فرما کر ماسوی اللہ سے انقطاع کیا۔
آپ کی بزرگی کا سکہ اربابِ معانی کے دلوں پر سکہ زن ہے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا: اَلتَّوْحِیْدُ الْاِعْرَاضُ عَنِ الطَّبِیْعَةِ۔ "توحید نام ہے طبیعت سے اعراض کرنے کا۔" اس لیے طبیعت آلاء و نعمتِ الٰہی سے محجوب و نابینا ہوتی ہے۔ تو جب تک طبائع سے اعراض نہ ہو تقربِ الی اللہ نہیں ہو سکتا اور صاحبِ طبع حقیقت و توحید سے محجوب رہتا ہے۔
جب آفتِ طبع نظر آ جائے تو یقیناً منزلِ توحید تک پہنچ جاتا ہے۔ آپ کی بہت سی کرامتیں
۳۰۷اور دلائل ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو عثمان سعید بن سلام مغربی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سیفِ سیادت، آفتابِ سادۃ حضرت ابو عثمان سعید بن سلام مغربی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اہلِ تمکین کے سردار اور علمِ خط کے بہترین ماہر تھے، ریاضت و ثباتِ توکل میں مشہور تھے۔ آفاتِ نفس کے عالم تھے۔ آپ کی علامات و روایات اور براہین روشن ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
مَنْ اٰثَرَ صُحْبَةَ الْاَغْنِیَاءِ عَلٰی مُجَالَسَةِ الْفُقَرَاءِ ابْتَلَاهُ اللّٰهُ بِمَوْتِ الْقَلْبِ۔
"جو صحبتِ اغنیاء، فقراء کی صحبت پر پسند کرے، اللہ تعالیٰ اسے موتِ قلب میں مبتلا کرے گا۔"
اس لیے غنی لوگوں سے صحبت رکھنے والا ان اغنیاء کے خیالات سے متاثر ہو کر ان کے فیضِ صحبت سے محروم ہو جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اغنیاء کی صحبت کسی غرضِ دنیاوی کی وجہ میں رکھی جاتی ہے تو جب غرضِ دنیا کی مجالست اغنیاء سے بڑھ گئی تو یقیناً دل نیاز مندیِ دنیا کی وجہ میں مر جاتا ہے۔
اور اس کا تن خواہشات کا شکار ہو جاتا ہے۔ تو پھر صحبتِ اغنیاء کا نتیجہ موتِ قلب ہے، تو کس لیے ان کی صحبت سے اعراض نہ کیا جائے۔ اس مضمون میں صحبت و مجالستِ فقراء و اغنیاء کا فرق واضح ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابراہیم محمد بن محمود نصیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے مبارز صفِ صوفیان، معبرِ احوالِ عارفان حضرت ابو القاسم ابراہیم محمد بن محمود نصیر آبادی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ نیشاپور میں مثلِ بادشاہ کے تھے۔ جس طرح نیشاپور میں شاہانِ حمویہ تھے ویسے ہی یہ بھی اپنے حال میں بلند اور شہنشاہِ عقبیٰ تھے۔ فرق اتنا تھا کہ شاہ حمویہ کی عزت دنیا میں تھی اور ان کی عزت کا تعلق عقبیٰ سے تھا۔ آپ کے کلامِ دیتیہ نہایت رفیع تھے۔ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدِ خاص تھے اور اہلِ خراسان کے متاخرین میں پیر و استاد مانے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ کے زمانہ میں آپ کے مقابلہ کا کوئی عارف نہ تھا اور آپ عالمِ اہلِ زمانہ اور متورع مانے جاتے تھے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا۔
(صفحہ 307 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آپ کا قول اگلے صفحہ 308 پر ہے۔)
۳۰۸اَنْتَ بَیْنَ النِّسْبَتَیْنِ: نِسْبَةٌ اِلٰی اٰدَمَ وَنِسْبَةٌ اِلَی الْحَقِّ۔ فَاِذَا انْتَسَبْتَ اِلٰی اٰدَمَ دَخَلْتَ فِیْ مَیَادِیْنِ الشَّهَوَاتِ وَمَوَاضِعِ الْاٰفَاتِ وَالزَّلَّاتِ وَهِیَ نِسْبَةُ تَحَقُّقِ الْبَشَرِیَّةِ، قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: ﴿اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا﴾۔ فَاِذَا انْتَسَبْتَ اِلَی الْحَقِّ دَخَلْتَ فِیْ مَقَامَاتِ الْكَشْفِ وَالْبَرَاهِیْنِ وَالْعِصْمَةِ وَالْوِلَایَةِ وَهِیَ نِسْبَةُ الْعُبُوْدِیَّةِ، قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: ﴿وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ هَوْنًا﴾
"تو دو نسبتوں میں ہے، ایک نسبتِ آدم، دوسری نسبتِ حق۔ جب تجھے آدم کے ساتھ نسبت ہوگی تو تجھے میدانِ شہوات و مقاماتِ آفات و ذلت میں پڑنا ہوگا۔ اس لیے کہ طبائعِ انسان نہایت ذلیل و بے قدر ہیں اور اگر تجھے نسبتِ حق حاصل ہوگئی تو مقاماتِ کشف و برہان اور عصمتِ ولایت میں آ جائے گا اور نسبتِ عبودیت حاصل کرے گا اور یقینی امر ہے کہ نسبتِ آدم بروزِ قیامت منقطع ہو جائے گی اور نسبتِ عبودیت ہمیشہ قائم رہے گی اور اس کا تغیر ہرگز نہ ہوگا۔"
تو جب بندہ اپنے کو اپنے ساتھ منتسب کرے یا آدم کے ساتھ (تو یہ درجہ بہت گرا ہوا ہے) مقامِ کمال یہ ہے کہ بندہ خود کسی طرف اپنی نسبت نہ کرے بلکہ خود حق تعالیٰ اسے فرمائے
﴿یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ﴾
"اے میرے بندو! آج کے دن تمہیں کوئی خوف نہیں۔"
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
حضرت ابو الحسن علی بن ابراہیم حصری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سرورِ سالکانِ طریق جمالِ جانِ نہایے تحقیق حضرت ابو الحسن علی بن ابراہیم حصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ احرارِ درگاہ کے محتشمان میں گزرے ہیں اور ائمہ تصوف میں بڑے امام مانے گئے ہیں۔ اپنے زمانہ کے بے نظیر صوفی تھے۔ آپ کے کلام نہایت بلند ہیں اور آپ کی عبارات نہایت پُر لطف ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
دَعُوْنِیْ فِیْ بَلَائِیْ هَاتُوْا مَالَكُمْ اَلَسْتُمْ مِنْ اَوْلَادِ اٰدَمَ الَّذِیْ خَلَقَهُ
۳۰۹اللّٰهُ تَعَالٰی بِیَدِهٖ وَنَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَسَجَدَ لَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ ثُمَّ اَمَرَهٗ بِاَمْرٍ فَخَالَفَ، اِذَا كَانَ اَوَّلُ اللَّبِنِ دُرْدِیًّا كَیْفَ یَكُوْنُ اٰخِرُهٗ۔
"چھوڑو مجھے میری بلا میں! کیا تم سب اولادِ آدم سے نہیں ہو اور کیا انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے یدِ قدرت سے پیدا نہیں فرمایا؟ پھر اس میں نفخِ روح کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدہ کریں۔ پھر اسے ایک حکم دیا گیا لیکن اس نے اس حکم کے خلاف کیا تو جب پہلی ہی خُم میں تلچھٹ ہو تو بتاؤ اس کے اخیر و اختتام میں کیا ہوگا؟"
جب آدمی کو اس کی نسبتِ آدمیت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ مجسمۂ مخالفت نہ ہوگا تو کیا ہوگا؟ اور جب عنایتِ حقہ نسبتِ حق کے ساتھ اس پر مستولی ہو تو پھر وہ محبتِ الٰہی میں عمر گزارنے کے سوا کچھ پسند نہ کرے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
یہاں تک یعنی متقدمین صوفیائے کرام کے حالات اور ان کے پیشواؤں کے مناقب بیان کیے گئے ہیں۔ اگر سب کے ذکر اس کتاب میں کیے جائیں اور ان کے حالات و کرامات و حکایات جمع کریں تو مقصودِ تالیف کتاب رہ جائے اور کتاب اتنی طویل ہو جائے (کہ مطالعہ مشکل ہو) اب ہم بعض متاخرین کے حالات نقل کریں گے۔