گیارھواں باب
جاری ہے۔
حضرت ابو سلیمان عبد الرحمٰن بن عطیہ دارانی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے اپنے وقت کے شیخِ فرد، طریقِ حق میں مجرد و دہر حضرت ابو سلیمان عبد الرحمٰن بن عطیہ دارانی رضی اللہ عنہ ہیں۔ قوم کے چمکتے جوہر اور ریحانِ قلوبِ خلائق گزرے ہیں۔ آپ کا ریاضت و مجاہدہ آپ کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ اپنے وقت کے عالمِ فرزانہ تھے اور نفسِ امارہ کی عیاریوں پر آپ خاص طور سے متنبہ تھے۔
آپ کے اقوال نہایت لطیف و نفیس ہیں۔ معاملات اور محافظتِ قلوب اور رعایتِ جوارح میں آپ کی نصائح رجوع الی اللہ میں نہایت مفید ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
اِذَا غَلَبَ الرَّجَا عَلَی الْخَوْفِ فَسَدَ الْوَقْتُ۔
"جب امیدیں خوف و بے نیازی پر غالب آ جائیں تو اس کا وقت خراب ہو جاتا ہے۔"
اس لیے کہ وقت کہتے ہیں اپنی حالت کی نگہبانی کو، تو جب انسان اپنی حالت و ماحول کا نگہبان نہ رہا تو کس طرح خوف و بے نیازی اس کے دل پر مستولی ہو سکتا ہے، اور جب اٹھ گیا تو یقیناً انسان نگہبانی کے ماحول سے بے پرواہ ہو جائے گا اور ایسی صورت میں اس کا وقت ضائع ہونے کے سوا اور کیا ہوگا۔ اور اگر خوف و امید پر غالب رہا تو کیفِ توحید باطل ہو جائے گا اس لیے کہ غلبۂ خوف سے مایوسی ہوتی ہے اور حق سے مایوسی (مذہبِ صوفیا میں) شرکِ خالص ہے۔ (تو بہترین حالِ صوفی یہ ہے کہ) محافظِ کیفِ توحید رہے اور امید کے میدان کو بھی ہاتھ سے چھٹنے نہ دے اور اپنے وقت کی محافظت بھی کرے اور خوفِ الٰہی بھی دل پر مستولی رکھے۔ گویا خوف و امید کے دونوں پلّے مساوی ہوں اور بندہ محافظتِ توحید میں مومن ہوتا ہے۔ کَمَا فِی الْحَدِیْثِ: اَلْاِیْمَانُ بَیْنَ الْخَوْفِ وَالرَّجَا (از مترجم غفرلہ)۔ اور محافظتِ وقت کے ساتھ ساتھ مطیع بنتا ہے اور امید و رجاء کا تعلق محضِ مشاہدہ سے ہے اور اسی میں اعتقادات کی جزِ مستتر ہے اور خوف کا تعلق محضِ مجاہدہ سے ہے اور اس میں اضطرار ہی اضطرار ہے اور مشاہدۂ جمال مورثِ مجاہدہ ہے۔
☆ دوستاں را کجا کنی محروم ۔ تو کہ با دشمناں نظر داری (از مترجم)
۲۴۴اور اس کے معنی یہ ہیں کہ تمام امیدیں نا امیدی سے ظاہر ہوتی ہیں اور جو اپنے اعمال کی فلاح و بہبود سے نا امید ہو تو اس کا نا امید ہونا نجات و فلاح اور کرمِ الٰہی کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور اس پر منجانبِ اللہ درِ کشادگی کھل جاتا ہے اور اس کے دل کو خواہشات کی بلاؤں سے پاکی حاصل ہو جاتی ہے اور تمام اسرارِ ربّانی اس پر کھل جاتے ہیں۔
حضرت احمد بن حواری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شب خلوت میں نوافل پڑھ رہا تھا کہ اثنائے نماز میں مجھے نہایت راحت محسوس ہوئی۔ دوسرے دن حضرت ابو سلیمان رحمۃ اللہ سے عرض کی تو فرمایا: ابھی تو ضعیف ہے، ابھی خطرۂ خلائق تیرے دل سے نہیں نکلا، یہی وجہ ہے کہ خلوت میں تیرا اور حال ہے اور جلوت میں اور حال۔
دونوں جہان میں اس سے بدتر کوئی وسوسہ اور خطرہ نہیں جو بندہ کو تقربِ ذات سے روک دے۔ جب دلہن کو رونمائی کے لیے بٹھاتے ہیں تو اس غرض کے لیے بٹھاتے ہیں کہ سب اسے دیکھیں اور اس رونمائی میں اس کی عزت بڑھتی ہے، لیکن دلہن کو یہ ناز بجا ہے کہ اس وقت اپنے کو خود دیکھنے میں مصروف ہو جائے اور غیر کے دیکھنے سے اس کی ذلت ہو۔
اسی طرح اگر سب لوگ مطیع کی اطاعت کو دیکھنے لگیں تو اس میں مطیع کا کچھ نقصان نہیں لیکن اگر مطیع خود اپنی اطاعت اور حسنِ عمل پر ناز کرنے لگے تو یہ اس کی ہلاکت کا موجب ہے۔ عِیَاذًا بِاللّٰهِ مِنْهَا۔
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے پروردۂ حضرت علی بن موسیٰ رضا رضی اللہ عنہ، وابستۂ درگاہِ مولا، ابو محفوظ حضرت معروف بن فیروز الکرخی رضی اللہ عنہ ہیں۔ قدماء سادات اور مشائخِ کبار سے گزرے ہیں۔ جوانمردی اور ورع و تقویٰ میں آپ مشہور و معروف تھے۔
آپ کا ذکر اس سے پہلے چاہیے تھا لیکن میں نے یہ ترتیب دو بزرگوں کی تتبع میں مناسب سمجھی۔ حضرت شیخ عبد الرحمٰن سلمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں اسی ترتیب پر اذکارِ مشائخ بیان فرمائے اور استاد ابو القاسم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی کتاب میں اسی ترتیب سے بیان فرمایا۔ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ تھے اور حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ کے خاص مرید۔
ابتداء میں غیر مسلم تھے پھر حضرت علی بن موسیٰ رضا رضی اللہ عنہ کے دستِ حق پرست پر
۲۴۵اسلام قبول فرمایا اور ان کی خدمت میں نہایت محبوب بن کر رہے۔ ان کے اوصافِ حمیدہ بہت ہیں، حتیٰ کہ آپ فنون و علوم میں "سید القوم" کہلائے۔
آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
لِلْفُتُوَّةِ ثَلَاثُ عَلَامَاتٍ: وَفَاءٌ بِلَا خِلَافٍ وَمَدْحٌ بِلَا جُوْدٍ وَعَطَاءٌ بِلَا سُؤَالٍ۔
"جوانمرد کے لیے تین علامتیں ہیں: وفاداری میں پورا اترنا کہ کبھی بے وفائی نہ کرے، اور مدح بلا امید جود و بخشش اور عطا بلا سوال۔"
وفاءِ بلا بے وفائی یہ ہے کہ بندہ اپنے عہدِ عبودیت میں بے وفائی اور معصیت کو اپنے اوپر حرام جانے۔ اور مدحِ بلا جود یہ ہے کہ تعریف اس کی کرے جس سے اپنے اوپر کوئی احسان کا بار نہ لیا ہو۔ اور عطا بے سوال یہ ہے کہ جب استطاعت ہو تو دینے میں کسی کی تمیز نہ کرے اور جب کسی کا حال معلوم ہو تو اسے سوال کرنے سے پہلے کچھ بخشے۔
اور یہ تینوں صفتیں خلق سے خلق میں ہیں مگر تمام مخلوقات ان صفتوں سے عاریتاً متصف ہیں۔ اس لیے کہ درحقیقت یہ ہر سہ صفتِ صفاتِ حق سے ہیں اور ان صفات کا مظہر بندگانِ الٰہی ہیں اور بندگانِ الٰہی ان صفات میں حقیقتِ صفتِ الٰہیہ کے دکھانے والے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ وہ وفا ہے کہ اس کا خلاف نہیں۔ ہر چند کہ بندے اپنی وفا میں خلاف کرتے ہیں مگر وہ ان پر اپنے الطاف کی بارشیں ہی کرتا ہے۔
دوسرے اس کی وفا پر یہ امر بھی دلیلِ واضح ہے کہ روزِ ازل میں بلا کسی فعل کے نیک بندوں کو، جو مقدر میں نیک تھے، جلا لے گا اور دنیا میں فعلِ بد کی وجہ سے فہرستِ مردودین سے خارج نہیں فرماتا اور مدح ہے جو سوائے اس ذاتِ پاک کے کوئی نہیں کر سکتا اس لیے کہ بندہ کے کسی فعل کا وہ محتاج نہیں ہے مگر بندہ کے ادنیٰ نیک عمل کی وہی تعریف فرماتا ہے۔
اور عطاءِ بے سوال بھی سوائے اس کے کوئی نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ کریم وہی ہے اور ہر ایک کا حال اس پر منکشف ہے اور ہر ایک کا مقصود بغیر زبان ظاہر کیے وہی جانتا ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو اعزاز و کرامت کا منصب عطا فرماتا ہے، اسے بزرگ بناتا ہے تو وہ اپنی استطاعت و قوت کے مطابق بندوں کے ساتھ ان ہر سہ صفات کو لے کر برتاؤ کرتا ہے۔ اس وقت بارگاہِ ایزدی سے اس کا نام "صاحبِ فتوت" رکھا جاتا ہے اور جماعتِ فتیان میں اس کا نام درج ہو جاتا ہے۔
۲۴۶یہ ہر سہ صفت حضرت ابراہیم علیہ السلام میں دیکھی گئی تھیں اور اس کا خلاصہ اس کی جگہ ان شاء اللہ بیان کیا جائے گا۔
حضرت حاتم الاصم رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے زبدۂ عباد، جمال الاوتاد حضرت ابو عبد الرحمٰن حاتم بن الاصم رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ محسنِ مسلمان بلخ سے ہیں اور قدماء مشائخ خراسان سے گزرے ہیں۔ آپ حضرت ابو علی شقیق بن ابراہیم ازدی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں اور حضرت احمد خضرویہ رحمۃ اللہ علیہ کے استاد۔ آپ کا ابتداء سے انتہاء تک کوئی قدم صدق و اخلاص کے خلاف نہیں اٹھا، حتیٰ کہ ان کے منقبت میں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
صِدِّیْقُ زَمَانِنَا حَاتِمٌ الْاَصَمُّ۔
"ہمارے زمانے کا صدیق حاتم اصم ہے۔"
آپ کے اقوال، آفاتِ نفس کے دیکھنے اور سمجھنے میں نہایت دقیق اور بلند منقول ہیں اور رعونت و تلونِ طبع کے متعلق بہت کچھ ارشادات ہیں۔ آپ کی بہت سی تصانیف معاملات و عبادات میں مشہور ہیں۔ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
اَلشَّهْوَةُ ثَلَاثَةٌ: شَهْوَةٌ فِی الْاَكْلِ وَشَهْوَةٌ فِی الْكَلَامِ وَشَهْوَةٌ فِی النَّظَرِ۔ فَاحْفَظِ الْاَكْلَ بِالثِّقَةِ وَاللِّسَانَ بِالصِّدْقِ وَالنَّظَرَ بِالْعِبْرَةِ۔
"شہوت تین ہیں: ایک کھانے کے اندر، ایک کلام کرنے میں اور ایک دیکھنے میں۔ لہٰذا کھانے میں ہوشیار رہ اور اپنی روزی کا خدا پر بھروسہ رکھ اور زبان کو سچ بولنے کے علاوہ محفوظ رکھ اور آنکھ کو محفوظ رکھ، جہاں نظر پڑے اس سے عبرت حاصل کر۔"
تو جو کھانے پینے میں اللہ پر توکل کر لیتا ہے وہ شہواتِ اکل و شرب سے آزاد ہو جاتا ہے اور جو بات کرنے میں راست گوئی کا پابند ہو جاتا ہے وہ شہوتِ کذب سے آزاد ہو جاتا ہے۔ جو آنکھ سے دیکھتے وقت راستی ملحوظ رکھتا ہے (یعنی جائز و ناجائز کا خیال کر لیتا ہے) وہ شہوتِ چشم سے آزاد ہو جاتا ہے۔
اور حقیقتِ توکل یہ ہے کہ اپنا ربِّ حقیقی دل و زبان سے اپنے ربّ حقیقی کو جانے اور اس پر اسے استقامت حاصل ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے
۲۴۷﴿اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا...﴾ الخ
اس وقت اس کی عبادت بھی اخلاص اور راستی سے ادا ہوگی اور معرفت و صداقت کے ساتھ ہر شے پر نظر رکھے گا، حتیٰ کہ اس کا اکل و شرب سوائے دوست کے نہ ہوگا۔
اور اس کی ہر حرکت و سکون میں کیفیتِ وجدانیہ کے سوا کچھ نہ ہوگا اور اس کی نظر سوائے مشاہدۂ ذات کے کسی طرف نہ جائے گی۔ تو جب وہ صحیح طور پر کھائے گا، صحیح کلام کرے گا تو یہ کھانا خالص حلال ہوگا اور یہ کلام خالص ذکرِ دوست ہوگا اور صحیح دیکھنا بھی جب ہی صحیح ہوگا جبکہ سوائے ذات کے کچھ نہ دیکھے۔
اس لیے کہ عارف کے لیے وہی کھانا حلال ہوتا ہے جو ربِّ حقیقی کا عطیہ ہو اور بلا اذنِ محبوب اسے وہ کھانا کھانا بھی حلال نہیں ہوتا اور سوائے ذکرِ محبوب کے اٹھارہ ہزار عالموں میں سے کسی عالم کا ذکر راست نہیں آتا۔
اور سوائے جمال و جلالِ محبوب، موجوداتِ عالم میں اس کا نظارہ ہی جائز نہیں۔ پھر جب اسی سے کھائے، اسی سے بولے، اسی کو دیکھے تو شہوت نہ ہوئی اور جب اس سے کلام ہوا اور بلا اس کی اجازت کلام بھی نہ ہوا تو یہ بھی شہوتِ لسانی نہ رہی اور جب ہر شے میں جو فعل دیکھا اس کی طرف سے دیکھا اور اس کے اذن سے دیکھا تو یہ دیکھنا بھی مبنی علی الشہوت نہ ہوا۔
اور اگر تو اپنی خواہش اور حرص سے کھائے اگرچہ کسب حلال ہی سے کھائے مگر یقیناً شہوتِ اکل ہے اور اگر تو اپنی ہوائے نفسانی کے ماتحت کلام کرے اگرچہ وہ دروغ نہ ہو مگر شہوتِ لسانی ہے اور اگر اپنی خواہشِ نفسانی سے دیکھے اگرچہ اس دیکھنے سے شہادت وغیرہ میں کام لے مگر یہ وبال اور شہوتِ نظر ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت امام محمد بن ادریس شافعی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے امامِ مطلبی، ابنِ عمِ نبی ﷺ حضرت ابو عبد اللہ محمد بن ادریس شافعی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ اپنے وقت کے تمام علوم میں امام گزرے ہیں اور جوانمردی و ورع میں مشہور ہیں۔ آپ کے بہت زیادہ مناقب ہیں اور آپ کا کلام بہت بلند مانا گیا ہے۔
آپ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے اس وقت تک شاگرد رہے جب تک مدینہ منورہ میں آپ کا قیام رہا، پھر جب عراق میں تشریف لائے تو حضرت محمد بن حسن کرد رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ نشست و برخاست رکھی۔ آپ کے مزاج میں خلوت نشینی کا خاص شوق تھا، مگر ایک جماعت
۲۴۸آپ کی خدمت میں آئی اور آپ کی مقلد بن گئی۔ حضرت امام احمد حنبل رحمۃ اللہ علیہ بھی انہیں تابعین میں سے ہیں۔ جب اس خدمت کی طرف آپ مجبور ہو گئے تو پھر آپ نے اجتہادیات کے ذریعہ خدمتِ امامت انجام دینی شروع فرمائی اور آپ کی وجاہت عام ہوئی اور خلوت نشینی نہ فرما سکے، لیکن اس امامت و جاہت کے دور میں بھی آپ محمود الخصال رہے۔
ابتداءِ دور میں آپ کے مزاج کے اندر کچھ سختی تھی۔ جب حضرت سلیمان راعی رحمۃ اللہ علیہ کے فیضِ صحبت سے مستفیض ہوئے تو اس کے بعد آپ کی وہ خشونت جاتی رہی اور جہاں بھی آپ تشریف لے گئے طلبِ حق میں رہے۔ آپ کا ارشاد ہے
اِذَا رَاَیْتَ الْعَالِمَ یَشْتَغِلُ بِالرُّخَصِ فَلَیْسَ یَجِیْءُ مِنْهُ شَیْءٌ۔
"جب تو علماء کو دیکھے کہ رخصت اور تاویلات میں مشغول ہیں، سمجھ لے کہ اب ان سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔"
یعنی علماء پیشوا تمام اصنافِ خلائق سے ہیں اور یہ ہرگز روا نہیں کہ ان سے آگے کوئی ایک قدم بھی بڑھے اور راہِ حق اور معنیِ حقیقی کا انکشاف بغیر احتیاط اور مجاہدہ کے ہرگز نہیں ہو سکتا اور علم حاصل کرنا اس کا کام ہے جو مجاہدہ سے گریز کرے اور طالبِ علم کو چاہیے کہ احکام میں تخفیف اختیار کرے۔ اس لیے کہ علم حاصل کرنا درجۂ عوام میں ہے تاکہ کم از کم اس علم کے ذریعے دائرۂ شریعت سے تو باہر نہ گریں اور مجاہدہ و ریاضت یہ درجۂ خواص ہے۔ ان کا عام درجہ جو ہے وہ رضائے محض ہے، اس سے زائد وہ کسی چیز پر نظر نہیں ڈالتے اور نہ انہیں نظر ڈالنا چاہیے۔
اور علماء حق اس درجہ میں اخص الخواص ہیں۔ جب یہ اخص الخواص عوام کے درجہ پر راضی ہو گئے تو اس کا نتیجہ کچھ نہیں اور نہ ایسی حالت میں ان سے کچھ امید رکھنی چاہیے اور رخصت اور تاویلات ڈھونڈنا خدا تعالیٰ کے احکام میں نرمی اور خفت نکالنا ہے۔
اور علماء تو خاص محبوبانِ خدا ہیں پھر فرمانِ دوست کو ہلکا اور خفیف کرنا کس طرح گوارہ کر سکتا ہے اور وہ تعمیلِ حکمِ دوست میں ادنیٰ درجہ ہرگز منظور نہیں کر سکتا بلکہ ہر حکم کی تعمیل اعلیٰ درجۂ احتیاط پر کرے گا۔
ایک شیخِ مشائخ کرام سے راوی ہیں کہ ایک شب حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ عرض کی: حضور! مجھے روایت پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر اوتاد اولیاء مقرر فرمائے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اس راوی نے تجھے خبر صحیح پہنچائی ہے۔ میں نے عرض کی: حضور! میں چاہتا ہوں کہ ان میں سے کسی ایک کی زیارت کروں۔ فرمایا: حضرت محمد بن ادریس ان میں سے ایک ہیں۔ آپ
۲۴۹کے مناقب اس کے علاوہ اور بہت ہیں۔
حضرت امام ابو محمد احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ
انہیں میں سے شیخِ سنت، قاہرِ اہلِ بدعت حضرت ابو محمد احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ ورع و تقویٰ میں امتیازِ خصوصی رکھتے ہیں، حافظِ حدیث تھے اور انہیں اربابِ شرع اور اہلِ طریقت دونوں فریق مبارک مانتے ہیں۔ آپ بڑے بڑے مشائخ کرام کے صحبت یافتہ ہیں، مثل حضرت ذوالنون مصری اور بشر حافی اور سری سقطی، معروف کرخی رحمہم اللہ تعالیٰ اور ان کے علاوہ اور بھی مشائخ کرام کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے۔ آپ کی کرامتیں بہت ہیں اور آپ کی فراست (یعنی نورِ ایمانی سے خطراتِ قلوبِ عوام پر عبور) بالکل صحیح ہے۔
بعض لوگ حضرت ممدوح کا تعلق فرقۂ مشبہہ سے بتاتے ہیں، یہ محض غلط ہے اور ان پر افتراء ہے (مشبہ مثل معتزلہ و دہریہ کے اس زمانہ میں کوئی فرقہ تھا) وہ قطعاً اس الزام سے بری ہیں۔ ان کے عقائد اور اصولِ دین و مذہب نہایت پسندیدہ تھے اور تمام علماء اس پر متفق ہیں۔ جبکہ آپ بغداد شریف تشریف لائے تو فرقۂ معتزلہ نے آپ پر غلبہ کیا اور یہ تجویز کی کہ آپ کو تکلیف دے کر مجبور کیا جائے تاکہ آپ بھی قرآن کریم کو مخلوق فرما دیں۔
باوجود یکہ آپ معمر اور نہایت ضعیف تھے، آپ کی مشکیں کسی گئیں، ہزار تازیانہ آپ کو لگائے گئے اور پھر کہا کہ قرآن کریم کو مخلوق کہیں مگر آپ مستقیم علی الحق رہے۔ اسی حالت میں آپ کی شلوارِ مبارک کا کمر بند کھل گیا اور چونکہ آپ کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے تھے اسے باندھنے میں آپ عاجز ہوئے کہ یہ کرامت ظاہر ہوئی کہ ایک تیسرا ہاتھ غیب سے نمودار ہوا اور کمر بند باندھ کر غائب ہو گیا۔ جب ان ظالموں نے آپ کی یہ کرامت دیکھی تو گھبرا گئے اور آپ کو چھوڑ دیا۔ آپ نے اس تمام تکلیف کو بھی من جانبِ اللہ سمجھا اور ان سے کوئی انتقام قوتِ باطنی کے ذریعہ نہ لیا۔
غرضیکہ آخر عہدِ حکومتِ معتزلہ میں ایک جماعت آپ کی خدمت میں حاضر آئی اور عرض کیا کہ جن لوگوں نے آپ کو یہ تکلیف دی اس کی بابت آپ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا میں کیا کہوں، میرا خیال تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ واسطے مجھے یہ تکلیف دی، وہ یہ سمجھے کہ میں قرآن کریم کو مخلوق نہ کہنے
۲۵۰میں باطل پر ہوں اور وہ اپنے کو حق پر سمجھتے رہے۔ میں یہاں تو بروزِ قیامت بھی ان تازیانوں کے بدلہ میں ان سے خصومت کے لیے تیار نہیں۔
آپ کا کلام بہت بلند ہے اور معاملات میں آپ کے احکام نہایت واضح ہیں۔ چنانچہ جب کوئی آپ کے پاس مسئلہ پوچھنے آتا تو آپ معاملات کے سوال کا جواب واضح دیتے اور اگر حقائقِ تصوف کے متعلق ہوتا تو اسے حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد فرماتے۔ چنانچہ ایک روز ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا: مَا الْاِخْلَاصُ؟ "حضور! اخلاص کی کیا تعریف ہے؟" فرمایا
اَلْاِخْلَاصُ هُوَ الْخَلَاصُ مِنْ اٰفَاتِ الْاَعْمَالِ۔
"اخلاص کہتے ہیں اعمال سے آفات کے نجات پانے کو۔" یعنی جو عمل کرے اس میں اس کی آفت جو ریا ہے وہ قطعاً نہ ہو اور دکھاوے کا کوئی حصہ تیرے عمل میں نہ آئے۔
اس نے عرض کی: مَا التَّوَكُّلُ؟ "حضور! توکل کیا ہے؟" فرمایا: اَلثِّقَةُ بِاللّٰهِ۔ "اللہ پر پورا بھروسہ کر لینا اور اس کی رزاقی پر یقین واثق کر لینا۔" عرض کی: حضور! مَا الرِّضَا؟ "رضا کیا چیز ہے؟" فرمایا: تَسْلِیْمُ الْاُمُوْرِ اِلَی اللّٰهِ۔ "اپنے تمام کام اللہ کے سپرد کر دینا۔" عرض کی: حضور! مَا الْمَحَبَّةُ؟ "محبت کیا چیز ہے؟" فرمایا: یہ بشر حافی سے جا کر پوچھ، اس لیے کہ جب تک وہ رونق افروز ہیں میں اس کا جواب دینے کا اہل نہیں۔ اور حضرت احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ تمام احوال میں امتحان لیے گئے۔ اپنی زندگی میں تو طعنِ معتزلہ سے امتحان ہوا اور بعد وفات مشبہ کے ساتھ مل جانے کی تہمت سے، حتیٰ کہ آج تک بعض اہلِ سنت و جماعت میں بوجہ عدمِ واقفیتِ حال آپ پر تہمت لگاتے رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ آپ ان اتہامات سے بالکل بری ہیں۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
حضرت ابو الحسن احمد بن حواری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سراجِ وقت، واقفِ اسرارِ آفاتِ مقت حضرت ابو الحسن حواری رضی اللہ عنہ ہیں۔ مشائخِ شام میں بڑے زبردست شیخ مانے گئے ہیں اور ان کی تعریف مشائخ نے خود بے حد فرمائی، حتیٰ کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَحْمَدُ بْنُ الْحَوَارِیِّ رَیْحَانَةُ الشَّامِ۔ "احمد بن حواری ملکِ شام کے مہکتے ہوئے پھول ہیں۔" ان کا کلام بہت بلند ہے، ان کے اشارات بغایت لطیف ہیں۔ علمِ طریقت اور متعدد فنون میں ماہر گزرے ہیں۔ آپ سے صحیح روایات کے ساتھ حضور ﷺ کی احادیث بھی مروی ہیں اور آپ کے زمانہ میں لوگوں کا رجوع آپ کی طرف زیادہ تھا، یعنی اپنے قضیہ جھگڑے کا فیصلہ لوگ آپ سے ہی کراتے تھے۔ آپ ابو سلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور حضرت سفیان بن عیینہ اور مروان بن معاویہ فرازی کی صحبت میں رہ چکے
۲۵۱ہیں۔ علاوہ اس کے، سیاحت کر کے متعدد مقامات سے ادب و فائدہ حاصل فرمایا۔ آپ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا
اَلدُّنْیَا مَزْبَلَةٌ وَمَجْمَعُ الْكِلَابِ وَاَقَلُّ مِنَ الْكِلَابِ مَنْ عَكَفَ عَلَیْهَا فَاِنَّ الْكَلْبَ یَاْخُذُ مِنْهَا حَاجَةً وَیَنْصَرِفُ وَالْمُحِبُّ لَهَا لَا یَزُوْلُ عَنْهَا وَلَا یَتْرُكُهَا بِحَالٍ۔
"دنیا گندگی کا ڈھیر ہے (یعنی کوڑھی ہے) اور کتوں کا جمع رہنے کا مقام، اور ادنیٰ درجہ کا ذلیل کتا وہ ہے جو اس کے گرد پھرتا رہے اور ہوسِ دنیا سے اسے سیری نہ ہو۔ اس لیے کہ کتا مزبلہ پر آ کر اپنی حاجت کے مطابق لیتا ہے اور لوٹ جاتا ہے اور دنیا کا دوست اور حریصِ خالص وہ ہے جو کبھی مالِ دنیا سے سیر نہیں ہوتا۔"
حضرت ابو الحسن احمد رحمۃ اللہ علیہ ان مردانِ خدا سے گزرے ہیں کہ ان کی نظر میں دنیا اتنی حقیر تھی کہ اسے "مزبلہ" سے تشبیہ دی اور دنیا دار کو ذلیل ترین کتا بتایا اور اس پر دلیل میں فرمایا کہ کتا اپنا پیٹ بھر کر مزبلہ سے ہٹ جاتا ہے مگر دنیا دار مالِ دنیا سے سیر نہیں ہوتا اس کی حرص میں آخر عمر تک لگا رہتا ہے۔
یہ فرمان آپ کے انقطاعِ دنیا پر خاص نشان ہے اور اہلِ دنیا سے آپ کے اعراض پر خاص دلیل ہے اور دنیا سے قطعِ تعلق کر لینا ہے، اہلِ طریقت کا خوش آئند چمن زار اور میدانِ خوشگوار ہے۔ آپ نے ابتداء میں علمِ حاصل فرمایا حتیٰ کہ اماموں کے منصبِ جلیل پر پہنچے۔ اس کے بعد اپنی تمام کتابیں اٹھا کر دریا برد فرما دیں اور کہا
نِعْمَ الدَّلِیْلُ اَنْتَ وَاَمَّا الْاِشْتِغَالُ بِالدَّلِیْلِ بَعْدَ الْوُصُوْلِ مَحَالٌ۔
"میرے لیے بہترین دلیل اور میرا راہبر تو ہے اور جب تو میرے لیے کافی ہے (تو پاء استدلالیان چوبین بود) کے بموجب: اِشْتِغَالٌ بِالدَّلِیْلِ وَاصِلٌ اِلَی اللّٰهِ کے لیے محال ہے۔"
اس لیے دلیل کی اس وقت حاجت ہے جبکہ مرید راستہ میں ہو اور جب بارگاہ تک پہنچ چکا ہو تو دیدار کا جلوہ مل گیا۔ اب بارگاہ اور راہ دونوں کی قدر و قیمت نہ رہی۔ مشائخ کرام فرماتے ہیں کہ یہ فعل آپ کا بحالتِ سکر ہوا تھا اور یہ کلام بھی سکر ہے۔
اس لیے کہ اس راہ میں جو یہ کہے "وَصَلْتُ" (میں مل گیا)، فَقَدْ فَصَلَ (وہ یقیناً علیحدہ ہو گیا)، کیونکہ اس بارگاہ تک خود پہنچنا اس بارگاہ سے دور ہونے کے مترادف ہے۔ تو ہر شغل، شغل ہی
۲۵۲ہے اور ہر فراغت، فراغت ہی ہے اور ہر اصول مشاغل وصول میں اپنے وجود سے نیست ہونا ہے۔
اس لیے کہ وصل و فصل اور شغل و فراغت اور اصول و وصول یہ سب بندہ کی صفت ہیں۔ فصل و وصل اور عنایتِ الٰہی بارگاہِ احدیت سے ازل میں اس کے انتخاب کے موافق ہو چکی ہوتی ہے اور بندہ اپنی قوتِ ارادی سے کسی طرح اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتا۔
اور عنایتِ الٰہی اور اس کے ازلی مقررہ حصہ کے وصول کے لیے اس کا کوئی اصول، اصول نہیں اور نہ ملازمت اور ارادہ قرب و مجاورت اور مجاہدہ اس کا قدیم بن سکتے ہیں تو عاشق کے لیے یہ دعویٰ روا ہی نہیں ہو سکتا۔
ہاں! یہ ضرور ہے کہ وصلِ ذات بندہ کی عزت کا موجب ہے اور فصل و ہجر بندہ کی ذلت و اہانت کا سبب۔ اور صفاتِ قدیمہ میں تغیر جائز نہیں۔
میری رائے ہے کہ (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں) ممکن ہے "وصول الی اللہ" کے لفظ سے شیخِ کامل کی مراد خدا کا راستہ ہو، اس لیے کہ کتابوں میں خدا کا راستہ ہے، تو جب راستہ واضح ہو گیا تو کتاب و عبارت منقطع ہو گئی۔ اس لیے کہ عباراتِ کتب میں وہ فقرہ نہیں جو مشاہدہ میں ہے۔ عبارت تو مقصود کو غائبانہ ہی سمجھا سکتی ہے اور جب مشاہدہ حاصل ہو گیا تو عبارت گم ہو گئی اور پھر مشاہدہ و معرفت کے بعد زبان بھی عبارت کی طرف سے گونگی ہو جاتی ہے۔ تو جب عبارت کی طرف سے زبان ہی گنگ ہو تو کتاب کا ضائع کرنا ہی بہتر ہے۔
حضرت ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ اور بزرگوں نے بھی ایسا کیا، من جملہ ان کے حضرت ابو سعید فضل اللہ محمد مہنی کے صاحبزادہ ہیں، جب ان پر یہ کیفِ شہودی طاری ہوا، انہوں نے بھی اپنی تمام کتابیں دریا برد کر دیں۔
اور محض رسمی لوگوں نے مصنوعی صوفی بن کر اپنی کاہلی اور نااہلی کی وجہ میں ان مردانِ خدا کی تقلید کی، مگر وہ بے حاصل بات ہے۔ ان خاصانِ خدا نے جو ایسا کیا وہ محض تعلق دنیاوی کے انقطاع کی غرض سے کیا اور توجہ الی الغیر کو ترک فرمایا ماسوی اللہ سے اپنے قلبِ منور کو فارغ غرض سے ان کا یہ فعل ہوا۔
اور یہ حالت جب تک ازلی سکر اور ازلی دانش و بینش و دیعت نہ ہو، کبھی نہیں ہو سکتی اور اس حالت کا تعلق کیفیتِ سکر اور ابتدائے عشق کی آگ میں ہے۔ نتیجی کو اس سے یوں تعلق نہیں ہوتا کہ وہ متمکن بالمشاہدہ ہوتا ہے اور متمکن کے لیے کونین بھی حجاب نہیں بن سکتے۔ اس لیے کہ ان کا دل علائق سے بالکل منقطع ہو جاتا ہے۔ تو جس پر کونین حاجب نہ ہو سکے اس پر ایک کاغذ کی کیا حیثیت
(صفحہ 252 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 253 پر ہے۔)
۲۵۳ہے جو حجاب بن سکے (اور اگر یہ کہا جائے کہ کتابیں دھوڈالیں) تو اس سے مراد نفیِ عبارت ہو سکتی ہے، اس لیے کہ جب حقیقتِ معنی حاصل ہو جائے تو عبارت بے کار ہے، جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں۔ تو بہترین بات یہ ہے کہ عبارت خود بخود زبان سے منتفی ہو۔
اور جو عبارت کتاب میں لکھی ہے وہ زبان پر جاری ہے اور عبارت، عبارت سے اولیٰ نہیں ہوتی۔ میرا خیال ہے کہ شیخ ابو الحسن احمد بن حواری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے غلبۂ حال میں کچھ لکھا ہوگا مگر جب اس کے سننے والے نہ پائے تو اسے دریا برد کر دیا ہوگا اور یہ جو فرمایا کہ تو بہترین میری دلیل اور میرا راہنما ہے، تو جب مرادِ مرید اس ذات سے پوری ہو گئی تو ماسوی اللہ سے اس کی مشغولی محال ہے۔
اس امر میں یہ بھی احتمال ہے کہ آپ کے پاس بہت سی کتابیں جمع ہو گئی ہوں جو آپ کو اپنے اور ادو اعمال سے روکتی ہوں اور مشغول کرتی ہوں تو آپ نے مشغول غیر اللہ کو اٹھا ڈالا ہو اور فراغتِ قلبی غیر سے حاصل کی ہو اور ترکِ عبارت کے لیے فرمایا ہو۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
ابو حامد حضرت احمد بن خضرویہ البلخی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سرہنگِ جوانمردان، آفتابِ خراسان حضرت ابو حامد احمد بن خضرویہ البلخی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ اپنے حال میں بہت بلند گزرے ہیں اور شرافتِ وقت میں مخصوص ہیں اور اپنے زمانہ کے مقتدائے قوم اور مرجعِ خواص و عوام تھے اور آپ کا طریقہ ملامتیہ تھا۔ آپ کا لباس ہمیشہ سپاہیانہ ہوتا تھا اور آپ کی بیوی صاحبہ مساۃ فاطمہ، امیرِ بلخ کی صاحبزادی تھیں رحمہما اللہ۔ یہ بھی طریقت میں عظیم الشان مرتبہ رکھتی تھیں اور امیرِ بلخ کی صاحبزادی یعنی بیگمات شاہی سے تھیں۔ جب ان کے دل میں نورِ عرفان من جانبِ اللہ پیدا ہوا، حضرت احمد خضرویہ کی خدمت میں آدمی بھیجا اور عرض کرایا کہ آپ مجھے میرے والد سے طلب فرمائیں۔ آپ نے التفات نہ کیا، دوبارہ پھر آدمی بھیجا اور کہلایا کہ حضور! میں آپ کو اس وجہ میں چاہتی ہوں کہ آپ راہِ برحق ہیں، نہ اس لیے کہ آپ کو جوان حسین دیکھ کر آپ کی طرف مائل ہوں، راہِ راست سے ہٹا دینے والے بہت ہیں، مجھے راہبر کی تلاش ہے، لہٰذا آپ پیام دیں۔
آخرش آپ نے امیرِ بلخ کے یہاں پیام دیا۔ امیرِ بلخ نے ایک مردِ خدا، عارفِ کامل سے اپنی صاحبزادی کو نامزد کرنا اپنے لیے عینِ سعادت جانا اور فوراً رشتہ کر دیا۔ بعد شادی حضرت فاطمہ بنتِ امیرِ بلخ نے آپ کی خدمت میں آتے ہی مشاغلِ دنیا ترک فرما دیے اور گوشہ نشیں ہو گئیں۔ آپ کے خلوت خانہ خاص میں صرف حضرت احمد اور حضرت فاطمہ ہی رہتے۔
۲۵۴حتیٰ کہ ایک بار حضرت احمد بن خضرویہ رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ کی زیارت کا شوق ہوا۔ حضرت فاطمہ رحمۃ اللہ علیہا بھی حضرت بایزید کے دربار میں ہمراہ حاضر ہوئیں۔ جب حضرت بایزید کے سامنے دونوں آ گئے، حضرت فاطمہ نے نقاب ہٹا دیا اور حضرت بایزید رضی اللہ عنہ کے ساتھ بے حجابانہ گفتگو شروع کر دی۔ حضرت احمد خضرویہ کو ان کی اس حرکت پر تعجب ہوا اور غیرتِ زوجیت آپ پر مستولی ہوئی۔ فرمانے لگے: فاطمہ! جس بے حجابی سے تم بایزید کے سامنے باتیں کر رہی ہو اس کی وجہ مجھے بھی معلوم ہونی چاہیے۔
حضرت فاطمہ نے فرمایا: احمد! تم محرمِ طبیعت ہو اور بایزید محرمِ طریقت۔ تمہارے ذریعہ میری آتشِ حرص و ہوس کا علاج ہوتا ہے اور ان کے ذریعہ خدا رسی ہوتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بایزید مجھ سے بے نیاز ہے اور تم میرے محتاج ہو۔
غرضیکہ حضرت فاطمہ ہمیشہ حضرت بایزید کے سامنے بے حجاب رہتیں اور نہایت بے تکلفی سے کلام فرماتیں۔ ایک روز حضرت بایزید کی نظر حضرت فاطمہ کے ہاتھ پر پڑی، دیکھا مہندی لگی ہوئی ہے۔ فرمایا: فاطمہ! ہاتھوں میں مہندی لگا رکھی ہے۔ آپ نے فرمایا: بایزید! اب تک کہ تمہاری نظر میرے ہاتھ پر نہ پڑی تھی، میرا آپ کے ساتھ رابطہ بے حجاب تھا، اب جبکہ تمہاری نظر مجھ پر پڑنے لگی اب آپ سے بے حجابی حرام ہے۔ بس اسی روز واپس ہو گئیں اور نیشاپور تشریف لا کر قیام فرمایا۔ اہلِ نیشاپور آپ کے ساتھ نہایت خوش اعتقاد تھے اور مشائخِ نیشاپور بھی آپ کے یہاں زانوئے عقیدت تہ فرماتے تھے۔
ایک بار کا واقعہ ہے کہ حضرت یحییٰ بن معاذ رازی نیشاپور آئے۔ بلخ جانے کا عزم تھا۔ حضرت احمد رحمۃ اللہ علیہ نے دعوت کرنی چاہی۔ حضرت فاطمہ سے مشورہ کیا کہ دعوتِ یحییٰ میں کیا کیا کھانے ہوں اور کیا کیا سامان مہیا ہونا چاہیے۔ آپ نے فرمایا: اتنی گائیں، اتنی بکریاں، اتنا سامانِ تزئین، اتنے چراغ، اتنی قسم کے عطر اور ان تمام سامانوں کے ساتھ بیس گدھے بھی ذبح ہونے چاہئیں۔ حضرت احمد نے فرمایا یہ بیس گدھوں کے گوشت سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا جب کوئی صاحبِ کرم صاحبِ ثروت کے گھر جاتا ہے تو محلہ کے لوگوں کے ساتھ محلہ کے کتوں کے لیے بھی کچھ ہونا چاہیے۔
حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ نے آپ کی منقبت میں فرمایا
مَنْ اَرَادَ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنَ الرِّجَالِ مَخْبُوْءٍ تَحْتَ لِبَاسِ النِّسْوَانِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی فَاطِمَةَ رَحِمَهَا اللّٰهُ۔
۲۵۵"جو چاہے کہ کسی مرد کو عورت کے لباس میں مخفی دیکھے اس سے کہو کہ وہ فاطمہ کو دیکھ لے۔"
اور حضرت ابو حفص حداد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
لَوْ لَا اَحْمَدُ بْنُ خِضْرَوَیْهِ مَا ظَهَرَتِ الْفُتُوَّةُ۔
"اگر احمد بن خضرویہ نہ ہوتے تو دنیا میں مروت و جوانمردی پیدا نہ ہوتی۔"
آپ کے بڑے بلند کلام اور نہایت مہذب تخیل ہیں اور آپ کی تصانیف ہر فن میں اعمال و آداب و نکات میں مشہور و معروف ہیں۔
آپ سے ایک روایت ہے کہ آپ نے فرمایا
اَلطَّرِیْقُ وَاضِحٌ وَالْحَقُّ لَائِحٌ وَالرَّاعِیْ قَدْ اَسْمَعَ فَمَا الْمُتَحَیِّرُ بَعْدَهَا اِلَّا مِنَ الْاَعْمٰی۔
"راستہ کھلا ہے اور حق روشن ہے اور نگہبان سنا چکا، پھر تحیر وہی کر سکتا ہے جو اندھا ہو۔"
یعنی اب راستہ ڈھونڈنا محض غلطی ہے اس لیے کہ راہِ حق مثلِ آفتاب کے تاباں ہے بلکہ انسان اپنے آپ کو ڈھونڈے کہ وہ کہاں ہے اور جب اپنے کو پا لے تو راستہ پر آ جائے کیونکہ حق اس سے بھی زیادہ اظہر ہے کہ طالب اس کی طلب کرے۔
آپ ہی سے مروی ہے کہ فرمایا
اُسْتُرْ عِزَّ فَقْرِكَ۔
"فقیری کے منصبِ جلیل کو پوشیدہ رکھ۔"
یعنی مخلوق کے آگے نہ کہتا پھر کہ میں درویش ہوں تاکہ تیرا راز نہ کھل جائے، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی زبردست بخشش ہے۔
آپ ہی سے مروی ہے کہ فرمایا ایک درویش نے رمضان المبارک میں ایک متمول کی دعوت کر دی اور ان کے گھر میں ایک روٹی کے سوا کچھ نہ تھا۔ جب وہ دولتمند واپس ہوا تو اس نے ایک سنہری تھیلی سکہ کی ان کی خدمت میں بھیج دی۔ آپ نے اس تھیلی کو واپس کر دیا اور کہلا دیا کہ یہ تھیلی اسے دے جو اپنا راز تیرے جیسے کے آگے ظاہر کر دے یا تیرے جیسے دولت مند کو اپنی عزتِ فقر سے بلند جانے۔
یہ ان کے سچے فقر کی دلیل ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
۲۵۶حضرت عسکری بن الحسین رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے امامِ متوکلان، برگزیدۂ اہلِ زمان، ابو تراب حضرت عسکری بن الحسین رضی اللہ عنہ ہیں۔ مشائخِ خراسان میں اجلۂ سادات میں مشہور ہیں اور جوانمردی و زہد و ورع میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی بے حد کرامتیں ہیں اور بہت زیادہ عجائبات ایسے ہیں جو جنگلوں میں دیکھے گئے۔
سیاح متصوفین میں سے آپ تھے اور ہمیشہ جنگل میں خلوت نشیں رہا کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی وفات بھی بصرہ کے ایسے جنگل میں ہوئی کہ بعد وفات کئی سال بعد ایک قافلہ پہنچا تو آپ کی لاشِ مبارک کو ایک پیر پر قبلہ رو کھڑے دیکھا۔ لاشِ مبارک بے جان تھی اور خشک ہو چکی تھی اور آپ کے پاس سامنے چمڑے کا کوزہ یعنی کشکول چرمی رکھا ہوا تھا اور عصا ہاتھ میں تھا لیکن جنگل کے درندے آپ کی لاشِ مبارک کے پاس نہ پھٹکے اور اتنی مدت تک پاءِ مبارک سے لاش نہ گری۔
آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اَلْفَقِیْرُ قُوْتُهٗ مَا وَجَدَ وَلِبَاسُهٗ مَا سَتَرَ وَمَسْكَنُهٗ حَیْثُ نَزَلَ۔
"فقیر کی غذا وہی ہے جو مل جائے اسی کو اختیار کرے، اور لباس وہ ہے جس سے بدن ڈھانپ لے، اس میں اپنا تصرف نہ کرے اور اس کے مقام کے لیے وہی جگہ ہے جہاں چلتے چلتے ٹھہر جائے، اپنے لیے کوئی خاص جگہ نہ بنائے۔"
اس لیے کہ ان تین چیزوں میں تصرف کرنا غیر اللہ ہونا ہے اور درحقیقت تمام عالم ان ہی تین چیزوں کی بلاء میں مبتلا ہے (اور یہ جو کچھ تین چیزوں کا ذکر فقیر کا ہوا) یہ بھی اسبابِ ظاہری کے لحاظ سے ہے، ورنہ درحقیقتِ غذائے درویش وجد ہے اور لباسِ درویش تقویٰ ہے اور مسکنِ درویش مقامِ غیب۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
﴿وَاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًا﴾
"اور اگر یہ لوگ صراطِ مستقیم پر قائم رہتے تو ہم انہیں کافی پانی پلاتے۔"
اور فرمایا
﴿وَرِیْشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِكَ خَیْرٌ﴾
"اور باعثِ زینت ہے اور پرہیزگاری کا لباس سب سے بہتر ہے۔"
حضور ﷺ نے فرمایا: اَلْفَقْرُ وَطَنُ الْغَیْبِ۔ "فقر وطنِ غیب ہے۔" تو جب اکل و
۲۵۷شربِ فقیر، شرابِ دیدارِ یار ہے اور لباسِ فقیر، تقویٰ اور مجاہدہ اور وطنِ فقیر مقامِ غیب اور وصل کے مقام کا اظہار چاہنا فقر کے طریقہ کا کھلا راستہ ہے اور اس کے عمل روشن ہیں اور یہ فقیر کا درجۂ کمال ہے۔
حضرت ابو زکریا یحییٰ بن معاذ رازی رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے لسانِ محبت و وفا، زینِ طریقت و ولا حضرت ابو زکریا یحییٰ بن معاذ رازی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ نہایت بلند حال اور نیک سیرت بزرگ گزرے ہیں اور آپ کا مقام رجاء میں میدانِ حقیقت کے اندر پورا قدم راسخ تھا۔ حتیٰ کہ حسن بصری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دو یحییٰ پیدا فرمائے ہیں: ایک نبیوں میں اور ایک ولیوں میں۔ انبیاء میں حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام تھے کہ آپ کو طریقِ خوف اس درجہ عطا ہوا کہ تمام مدعیانِ افراطِ خوف کی وجہ میں اپنی کامیابی سے نا امید ہو گئے۔
اور حضرت یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ کو طریقِ رجاء و امید اس درجہ عطا ہوا کہ تمام مدعیوں کے ہاتھ امید سے بھر گئے۔ کسی نے کہا حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کا حال تو معلوم ہے لیکن یہ یحییٰ کون ہیں اور ان کا حال کیا ہے؟ تو جواب دیا گیا کہ یہ یحییٰ، جہالت کی طرف ہرگز نہیں تھے اور آپ سے کبھی کبیرہ گناہ سرزد نہیں ہوا اور اعمال و عبادت میں پوری سعی فرماتے تھے۔ بلکہ ایسی جدوجہد کرتے تھے کہ ان کی سی کسی میں محنت کرنے کی تاب و طاقت نہیں۔
ان سے کسی نے فرمایا کہ یحییٰ! تمہارا مقام، مقامِ رجاء ہے اور تمہارا عملِ عملی خائفان ہے۔ آپ نے فرمایا صاحبزادے! اچھی طرح یاد رکھو! ترکِ عبودیت ضلالت ہے اور خوف و رجاء ستونِ ایمان ہیں۔
یہ محال ہے کہ کوئی ارکانِ ایمانیہ کی حفاظت میں سعی کرتا ہوا گمراہ ہو جائے۔ خوف والا اس خوف سے عبادت کرتا ہے کہ وہ مقامِ تقرب سے کہیں قطع نہ ہو جائے اور رجاء والا با امیدِ وصلِ جمیل عبادت کرتا ہے اور جب تک عبودیت و عبادت نہ ہو تو خوفِ صحیح ہے نہ رجاء، اور جب عبادت حاصل ہے تو دونوں یعنی خوف و رجاء عبادت ہیں اور جہاں عبادت نہیں وہاں عبارت اور لفظِ امید و رجاء کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔
آپ کی تصانیف بہت ہیں اور نکات و اشارات عجائب و غرائب کافی۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم کے بعد جو سب سے پہلے مشائخِ کرام میں سے برسرِ منبر جلوہ افروز ہوئے وہ بھی ابو زکریا حضرت یحییٰ بن معاذ ہیں اور میں ان کے کلام کو بہت پسند کرتا ہوں اس لیے کہ ان کا کلام
(صفحہ 257 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 258 پر ہے۔)
۲۵۸میرا رفیق طبع ہے اور سماعت میں نہایت لذیذ اور اصلیت میں بحد غایت دقیق اور عبارت کی حیثیت سے نہایت مفید ہے۔
آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
اَلدُّنْیَا دَارُ الْاَشْغَالِ وَالْاَعْمَالِ وَالْاٰخِرَةُ دَارُ الْاَهْوَالِ وَلَا یَزَالُ الْعَبْدُ بَیْنَ الْاَشْغَالِ وَالْاَهْوَالِ حَتّٰی یَسْتَقِرَّ بِهِ الْقَرَارُ اِمَّا اِلَی الْجَنَّةِ وَاِمَّا اِلَی النَّارِ۔
"دنیا جائے اشغال و اعمال ہے اور آخرت مقامِ خوف و ہول اور بندہ ہمیشہ اعمال اور خوف میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے ٹھہرنے کا مقام یا جنت ہو جاتی ہے یا جہنم بن جاتا ہے کہ اس میں پڑا روتا رہے۔"
بہت بختاور اور خوش وقت وہ ولی ہے کہ اعمال و اشغال اور خوف سے مامون ہو کر اپنی ہمت کو دونوں سے جدا کر کے اپنے ربِّ حقیقی سے پیوستہ ہو چکا ہو۔
آپ اپنے خیال میں غنا کو فقر پر بزرگ جانتے تھے اور جب مقام "رے" میں آپ پر بہت قرض ہو گیا تو خراسان کا قصد فرمایا۔ جب بلخ پہنچے تو اہلِ بلخ نے آپ کو روکا تاکہ کچھ وعظ و پند سنیں۔ غرضیکہ یہاں کے لوگوں نے آپ کو ایک لاکھ درہم نذر کیے۔ جب آپ یہاں سے واپس ہوئے تو راستہ میں چوروں نے سب لوٹ لیے اور آپ تنہا نیشاپور تشریف لے آئے۔ آپ کی وفات نیشاپور میں ہوئی، لوگوں میں آپ کی خاص عزت تھی۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت عمرو بن سالم نیشاپوری حدادی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخ المشائخ خراسان، نادرِ زمین و زمان ابو حفص حضرت عمرو بن سالم نیشاپوری حدادی رضی اللہ عنہ ہیں۔ قوم کے بڑے بزرگ اور سادات سے تھے۔ مشائخِ وقت کے بڑے مدوح گزرے ہیں۔ حضرت ابو عبد اللہ الدبوری کے ہمنشیں اور حضرت احمد خضرویہ کے رفیقِ خاص ہیں۔ کرمان سے شاہ شجاع ان کی زیارت کے لیے آئے اور آپ اس وقت بغداد میں تشریف فرما تھے۔ مریدوں نے آپس میں کہا سخت افسوس ہے کہ شیخ الشیوخ خراسان سے یہاں تشریف لائیں اور ہم ان کے کلام فیض ترجمان سے استفادہ نہ کریں، آپ کے لیے ایک ترجمان تلاش کیا جائے (اس لیے کہ عام طور پر یہ سب جانتے تھے کہ آپ کو عربی زبان نہیں آتی)۔
جب آپ مسجدِ شونیزیہ میں تشریف لائے تو بہت سے مشائخ یہاں جمع ہوئے۔ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے۔ آپ نے تمام مشائخ کے ساتھ ایسی فصیح و بلیغ عربی
۲۵۹زبان میں گفتگو فرمائی کہ حاضرینِ جلسہ آپ کے بلاغت کے مقابلہ سے عاجز آ گئے۔ آپ سے سوال کیا گیا: "مَا الْفُتُوَّةُ؟" (حضرت! فتوت کیا چیز ہے؟)
آپ نے فرمایا: تمام مشائخ تشریف فرما ہیں اور سب کے بعد دیگرے تعریفِ فتوت کریں۔
چنانچہ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ پہلے شروع ہوئے اور فرمایا
اَلْفُتُوَّةُ عِنْدِیْ تَرْكُ الرُّؤْیَةِ وَاِسْقَاطُ النِّسْبَةِ۔
"میرے نزدیک فتوت یہ ہے کہ انسان اپنی فتوت یعنی جوانمردی کو نہ دیکھے اور جو کچھ کر رہا ہے اس فعل کو اپنی طرف منسوب نہ کرے اور یوں نہ کہے کہ یہ میں کرتا ہوں۔"
حضرت ابو حفص رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
مَا اَحْسَنَ مَا قَالَ الشَّیْخُ! (نہایت اچھا بیان فرمایا شیخ نے) وَلٰكِنَّ الْفُتُوَّةَ عِنْدِیْ اَدَاءُ الْاِنْصَافِ وَتَرْكُ مُطَالَبَةِ الْاِنْصَافِ۔
"لیکن میرے نزدیک فتوت نام ہے انصاف کا حق ادا کرنا اور اپنے لیے طلبِ انصاف کو ترک کرنا۔"
حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
قُوْمُوْا اَصْحَابَنَا فَقَدْ زَادَ اَبُوْ حَفْصٍ عَلٰی اٰدَمَ وَذُرِّیَّتِهٖ۔
"اے میرے یارو! کھڑے ہو جاؤ، ابو حفص جوانمردی میں آدم (علیہ السلام) اور آدم کی اولاد سے بڑھ گیا۔"
آپ کی ابتداء توبہ کا حال یوں بیان کرتے ہیں کہ آپ ایک لونڈی پر فریفتہ ہو گئے تھے۔ لوگوں نے آپ سے کہا کہ شہر نیشاپور میں ایک جادوگر یہودی ہے اس کے ذریعہ سے تمہارا مقصد حل ہو جائے گا۔ حضرت ابو حفص اس کے پاس آئے اور سب حال سنایا۔ یہودی نے کہا چالیس روز کے لیے نماز چھوڑنی ہوگی اور اپنے تمام ذکر و اذکار نیک نیتی کے اعمال دل اور زبان سے ترک کرنے ہوں گے تو میں جوافسوں کروں گا وہ تیری کامیابی میں پورا ہوگا۔
آپ نے ایسا ہی کیا۔ جب چالیس دن گزر گئے یہودی نے اپنا منتر کیا لیکن آپ کی مراد پوری نہ ہوئی تو یہودی کہنے لگا آپ نے تمام باتیں میری ہدایت کے موافق پوری نہیں کیں، آپ کچھ نہ کچھ کرتے رہے ہیں۔
۲۶۰حضرت ابو حفص نے فرمایا: اپنے اعمالِ ظاہری میں نے سب ترک کر دیے لیکن میرا ضمیر جو ملامت کرتا رہا وہ علیحدہ بات ہے، یا ایک روز جس راستہ سے میں آ رہا تھا وہاں ایک پتھر پڑا ہوا تھا اسے میں نے راستہ سے علیحدہ کر دیا تھا تاکہ اس سے کسی کو ٹھوکر نہ لگے۔
یہودی نے کہا ابو حفص! لوگوں کی ایذا رساں چیز کو تم نے ہٹایا، اور اپنے ربّ کو غضبناک کیا اور چالیس روز کا حکم ضائع کر دیا۔ اگر تو اپنے ربّ کو غضبناک نہ کرتا تو وہ تجھے اس لونڈی کی مہاجرت کے رنج سے نجات دے دیتا۔
حضرت ابو حفص رحمۃ اللہ علیہ نے اسی وقت توبہ کی اور وہ یہودی بھی مشرف باسلام ہو گیا۔ آپ لوہار کا کام کرتے تھے، آپ مقام باورد گئے اور حضرت عبد اللہ باوردی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کی اور ان کے دستِ حق پرست پر بیعت ہو گئے۔ جب واپس نیشاپور تشریف لائے، بازار میں ایک نابینا کو دیکھا کہ تلاوتِ کلامِ پاک کر رہا ہے، آپ اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے اس کی تلاوت سن رہے تھے کہ آپ پر وجد طاری ہوا اور حالتِ جذب میں بغیر سندا سے کے، سرخ لوہا بھٹی سے ہاتھ میں لے لیا۔ جب شاگردوں نے یہ حال دیکھا تو حواس باختہ ہو گئے۔ جب آپ کی کیفیتِ وجدانی فرو ہوئی اور ہوش میں آئے تو کسبِ معاش سے ہاتھ اٹھا لیا اور دکان چھوڑ دی۔
آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
تَرَكْتُ الْعَمَلَ ثُمَّ رَجَعْتُ اِلَیْهِ ثُمَّ تَرَكَنِی الْعَمَلُ فَلَمْ اَرْجِعْ اِلَیْهِ۔
"میں نے کسبِ معاش چھوڑا، پھر اس کی طرف رجوع ہوا، پھر کسب نے مجھے چھوڑا تو اب میرا اس کی طرف رجوع نہیں۔"
اس لیے کہ جو چیز بندہ اپنے ارادہ سے ترک کرے وہ ترک کرنا بہتر نہیں، اس لیے کہ یہ صحیح اصول ہے کہ ہر کسب محلِ آفت ہے اور یہ بہتر نہیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ بلا قصد و ارادہ غیب سے وہ چیز ترک ہو اور ہر موقع پر اختیارِ بندہ اس سے متصل نہ رہے اس لیے کہ لطیفِ حقیقت اس ارادہ کے ساتھ زائل ہو جاتا ہے۔
تو کسی کا ترک و اخذ بندہ کی طرف سے بالکل درست نہیں اس لیے کہ عطا و زوال درحقیقت من جانبِ اللہ ہے تو پھر جو عطا آئے تو حق کی طرف سے اسے لے اور جب زوال آئے تو ترک کر دے۔
جب اس حال میں صوفی ہو جاتا ہے تو وجودِ اخذ و ترک من جانبِ اللہ ہو جاتا ہے نہ یہ کہ بندہ کی طرف سے ہو کہ بندہ اپنی کوشش سے اس کا لینے والا بنے یا دفع کرنے والا۔ تو اگر ہزار سال
۲۶۱مرید قبولِ حق میں کوشاں رہے تو اتنا نہیں ہو سکتا کہ ایک لمحہ بھی اس کا قبولیتِ حق کے ساتھ مانا جائے اس لیے اقبالِ لایزال قبولیتِ ازلی کے ساتھ بستہ ہے اور سرور و سرمدی سعادتِ سابقۂ ازلیہ سے پیوستہ اور بندہ کو اخلاص و خلوص کے سوا چارہ نہیں۔ تو وہ بندہ محبوبِ بارگاہ ہے جو تمام اسباب و مسبب کی مشیت پر چھوڑ دے۔
حضرت ابو صالح حمدون رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے قدوۂ اہلِ ملامت حضرت ابو صالح حمدون ابن احمد بن عمار القصار رضی اللہ عنہ ہیں۔ قدماء مشائخ میں متورع اور فقہ کے اندر خاص درجہ کے مالک تھے، آپ کا سلسلہ نوری تھا اور حضرت ابو تراب نخشبی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور حضرت علی نصر آبادی کے مقربوں میں سے تھے۔ آپ کے نہایت دقیق رموز اور اعمال میں آپ کا کلام دقیق مشہور ہے اور مجاہدات میں اتنے منصب بلند پر تھے کہ نیشاپور کے ائمہ و مشائخ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ آپ منبر پر جلوہ فرما ہوں اور لوگوں کو وعظ کریں تاکہ آپ کے کلام سے لوگوں کے دلوں میں فائدہ پہنچے۔
آپ نے فرمایا مجھے وعظ کہنا روا نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ ابھی میرا دل دنیا اور جاہ کے ساتھ وابستہ ہے۔ میرا کلام بے فائدہ ہے اور لوگوں کے دلوں پر اثر نہیں کرے گا اور جو کلام دلوں پر اثر پذیر نہ ہو وہ علم کے استخفاف کا موجب ہے اور شریعتِ مطہرہ کا استہزاء کرنا ہے۔ کلام کرنا اس کے لیے مسلّم ہے کہ خاموشی اس کی دین میں داخل ہو اور جب بولے تو جتنا خلل ہومٹ جائے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ ہم سلفِ صالحین کس لیے دلوں کے واسطے بہت مفید ہیں آج کل کی باتیں کرنے سے۔ آپ نے فرمایا
لِاَنَّهُمْ تَكَلَّمُوْا لِعِزِّ الْاِسْلَامِ وَنَجَاةِ النُّفُوْسِ وَرِضَاءِ الرَّحْمٰنِ وَنَحْنُ نَتَكَلَّمُ لِعِزِّ النَّفْسِ وَطَلَبِ الدُّنْیَا وَقَبُوْلِ الْخَلْقِ۔
"اس لیے کہ وہ کلام فرماتے تھے اعزازِ اسلام کے لیے اور نفوس سے نجات کے لیے اور رضاءِ الٰہی حاصل کرنے کو اور ہم بولتے ہیں نفس کے اعزاز کی خاطر اور طلبِ دنیا کے لیے اور لوگوں میں مقبولیت پیدا ہونے کی غرض سے۔"
تو جو کلام موافقتِ حق کے لیے ہو وہ حق کی مدد کے ساتھ ہوتا ہے، اس میں رعب و داب ہوتا ہے اور اشرار پر اثر کرتا ہے اور جو کلام اپنی موافقت کے لیے ہو اس میں ذلت و خواری ہے اور اس کا فائدہ کچھ نہیں، ایسے بولنے سے نہ بولنا بہتر ہے اس لیے کہ ایسا بولنے والا اپنے لفظوں سے خود بیگانہ ہوتا ہے۔
۲۶۲حضرت منصور بن عمار رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخِ باوقار، مشرفِ خواطر و اسرار حضرت ابو سری منصور بن عمار رضی اللہ عنہ ہیں۔ اکابر مشائخ سے گزرے ہیں اور اہلِ عراق کے ہم صحبت اور اہلِ خراسان میں مقبول الکلام واعظ تھے۔ آپ کے بیانِ لطیف کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ اثنائے تقریر میں فنون و علوم و روایات و درایات، احکام و معاملات کے دریا موجزن ہوتے تھے بلکہ بعض اہلِ تصوف نے تو آپ کی تعریف میں بہت ہی مبالغہ کیا ہے۔
آپ کے ذکر میں ہے کہ آپ نے فرمایا
سُبْحَانَ مَنْ جَعَلَ قُلُوْبَ الْعَارِفِیْنَ اَوْعِیَةَ الذِّكْرِ وَقُلُوْبَ الزَّاهِدِیْنَ اَوْعِیَةَ التَّوَكُّلِ وَقُلُوْبَ الْمُتَوَكِّلِیْنَ اَوْعِیَةَ الرِّضَا وَقُلُوْبَ الْفُقَرَاءِ اَوْعِیَةَ الْقَنَاعَةِ وَقُلُوْبَ اَهْلِ الدُّنْیَا اَوْعِیَةَ الطَّمَعِ۔
"اس کے وجہِ منیر کو پاکی ہے جس نے عرفاء کے قلوب کو ذکر کا برتن بنایا اور زاہدوں کے دلوں کو ظرفِ توکل کیا اور متوکلین کے قلوب کو منبعِ رضاء بنا دیا اور درویشوں کے ضمیر کو محلِ قناعت قرار دیا اور دنیا داروں کے دلوں کو طمع کا برتن کیا۔"
اس میں عبرت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عضو کو حساس بنایا اور اس میں معنی متجانس رکھے، چنانچہ ہاتھوں کو محلِ بطش و گرفت بنایا، پیروں کو چلنے کے کام کا آلہ قرار دیا، آنکھوں کو دیکھنے کے لیے پیدا کیا، کانوں کو سماعت کے واسطے مخصوص بنایا اور زبان کو بولنے کے لیے رکھا۔
اور ان اعضاء کے اسماء خلقی میں اور وہ افعال جو ان سے ظاہر ہوتے ہیں، ان میں کوئی زیادہ خلاف نہیں رہا بلکہ ہر جگہ ہر عضو ایک کا اپنے کام میں یکساں ہی ہے مگر دل ایک ایسی چیز پیدا فرمائی کہ ہر ایک کے اندر وہی دل ہے مگر اس میں مختلف ارادے اور مختلف خواہشات ہیں۔ ایک دل ظرفِ عرفان بنایا تو ایک دل منبعِ ضلالت کر دیا۔ ایک دل میں قناعت ڈال دی تو ایک دل کو اوعیۂ سمعہ دریا کر دیا۔ تو معلوم ہوا کہ مخلوقات میں سے وہ مخلوق جس سے خلاقِ عالم کی صنعتِ کمال تعجب خیز ظاہر ہو، سوا دل کے نظر نہیں آتی۔
آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
اَلنَّاسُ رَجُلَانِ: عَارِفٌ بِنَفْسِهٖ فَشُغْلُهٗ فِی الْمُجَاهَدَاتِ وَالرِّیَاضَةِ وَعَارِفٌ بِرَبِّهٖ وَشُغْلُهٗ بِخِدْمَتِهٖ وَعِبَادَتِهٖ وَمَرْضَاتِهٖ۔
۲۶۳"لوگوں میں دو گروہ ہیں: یا بخود عارف ہیں یا بحق عارف ہیں۔ وہ لوگ جو بخود عارف ہیں ان کا مشغلہ مجاہدہ و ریاضت ہے اور وہ لوگ جو بحق عارف ہیں ان کا مشغلہ خدمت و عبادت و طلبِ رضا ہے۔"
تو عارفانِ بخود کی عبادت ریاضت ہوئی اور عرفانِ بحق کی عبادت ریاست ہوئی۔ پہلا اس لیے عبادت کر رہا ہے کہ درجہ حاصل کرے، دوسرا اس لیے عبادت کرتا ہے کہ عطا شدہ نعمت کا شکر گزار رہے۔
فَشَتَّانَ مَا بَیْنَ الْمَنْزِلَتَیْنِ۔ "تو دونوں کے منازل و مقام میں بڑا فرق ہے۔" یعنی عارف بخود وہ بندہ ہے جو مجاہدہ پر قائم ہے اور عارف بحق وہ بندہ ہے جو مشاہدہ میں محو ہے۔ آپ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
اَلنَّاسُ رَجُلَانِ: مُفْتَقِرٌ اِلَی اللّٰهِ فَهُوَ فِیْ اَعْلَی الدَّرَجَاتِ عَلٰی لِسَانِ الشَّرِیْعَةِ، وَاٰخَرُ لَا یَرَی الْاِفْتِقَارَ بِمَا عَلِمَ مِنْ فَرَاغِ اللّٰهِ مِنَ الْخَلْقِ وَالرِّزْقِ وَالْاَجَلِ وَالْحَیَاةِ وَالسَّعَادَةِ وَالشَّقَاوَةِ، فَهُوَ فِیْ افْتِقَارِهٖ اِلَیْهِ وَاسْتِغْنَائِهٖ بِهٖ۔
"لوگ دو قسم کے ہیں: ایک نیاز مند بخدا، یہ نہایت اعلیٰ و ارفع درجہ والے ہیں اور شریعتِ مطہرہ نے بھی انہیں بلند درجہ کہا۔ دوسرے وہ ہیں جو اپنی نیاز مندی اور حاجت کو نہیں دیکھتے، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ازل ہی میں مخلوق کے رزق، اجل، حیات، شقاوت، سعادت سب مقدر کر دی ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ تو وہ گروہ اپنی حوائج میں حاجات کا محتاج ہوا اور یہ گروہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے مستغنی۔"
یعنی پہلا گروہ عینِ افتقار میں مقاديرِ الٰہی سے محجوب ہوا۔ دوسرا گروہ اپنی حاجتوں سے مستغنی ہو کر اللہ کے ساتھ غنا و مشاہدہ میں ہوا۔ تو پہلا گروہ نعمت کے ساتھ ہوا اور دوسرا گروہ منعم کے ساتھ۔ پہلا گروہ مشاہدۂ نعمت میں اگرچہ غنی ہے مگر فقیر ہے، دوسرا گروہ مشاہدۂ منعم میں اگرچہ فقیر ہے مگر غنی ہے۔
حضرت احمد بن عاصم انطاکی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے ممدوحِ اولیاء، قدوۂ اہلِ رضا حضرت ابو عبد اللہ احمد بن عاصم انطاکی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اعیانِ قوم اور سادات قبائل سے گزرے ہیں۔ علومِ شریعت کے بہترین عالم، اصول و
۲۶۴فروع میں اعلیٰ ماہر تھے، نہایت دراز عمر پائی۔ قدماء مشائخ کی صحبتوں سے مستفیض ہوئے۔ اتباعِ تابعین کو دیکھا اور بشر حافی اور سری سقطی رضی اللہ عنہما کے ہمعصر تھے، حضرت حارث محاسبی کے مرید تھے۔ حضرت فضیل ابن عیاض کی بھی آپ نے زیارت کی اور ان کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے۔ آپ اکثر زبانوں میں ستودہ تھے، آپ کا کلام بہت بلند مانا گیا ہے۔ آپ کے لطائف نہایت شانی ہیں۔ علمِ طریقت میں آپ ماہر گزرے ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اَنْفَعُ الْفَقْرِ مَا كُنْتَ بِهٖ مُتَجَمِّلًا وَبِهٖ رَاضِیًا۔
"نافع ترین فقر وہ ہے جس سے تُو جمال پائے اور اپنے جمیل کے ساتھ راضی رہے۔"
یعنی مخلوقات کا جمال جو ہے وہ اسباب میں ہے اور فقیر کا جمال نفیِ اسباب اور اثباتِ مسبب میں، اور اسی کی طرف رجوع رہ کر اس کے احکام پر راضی رہنے میں۔ اس لیے کہ فقر فقدانِ سبب کا نام ہے اور غنا وجودِ سبب کو کہتے ہیں۔ تو فقیر بلا سبب حق کے ساتھ ہے اور جہاں سبب ہے وہاں وجودِ خودی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سبب محلِ حجاب ہے اور ترکِ سبب محلِ کشف و جمالِ دو جہاں، اور کشف میں رضاء ہے۔ سخط و غضب میں تمام عالم حجاب میں ہے اور یہ بیان فضیلتِ فقر میں واضح ہے۔
حضرت ابو محمد عبد اللہ خبیق رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سالکِ طریقِ تقویٰ، حضرت ابو محمد عبد اللہ بن خبیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ زہاد قوم میں سے گزرے ہیں اور ہر معاملہ میں اعلیٰ متورع تھے، آپ سے بہت روایات ہیں اور آپ فنِ حدیث میں مشہور ہیں، آپ کا مسلک فقہ میں مسلکِ ثوری تھا اور معرفت و حقیقت میں ماہر تھے۔
اور آپ نے مشائخ کرام کی زیارت کی اور ان کے فیضِ صحبت میں رہے۔ آپ کے مضامین قال و عمل میں نہایت لطیف ہیں۔ آپ کا ایک ارشاد ہے
مَنْ اَرَادَ اَنْ یَكُوْنَ حَیًّا فِیْ حَیَاتِهٖ فَلَا یُسْكِنِ الطَّمَعَ فِیْ قَلْبِهٖ۔
"جو چاہتا ہے کہ دنیاوی زندگی میں زندہ ہو جائے اسے کہو کہ وہ اپنے دل کو مسکنِ طمع نہ بنائے تاکہ کل ماسوی اللہ سے آزاد ہو۔"
اس لیے کہ طماع ہمیشہ مردہ ہوتا ہے اور اپنے طمع کی قید میں مقید۔ تو جس دل میں طمع ہے وہ دل ایسا ہے جس پر مہر لگی ہو اور لازمی ہے کہ جو دل مختوم یعنی مہر شدہ ہے وہ یقیناً مردہ ہے۔
۲۶۵سبحان اللہ! دل وہی دل ہے جو ماسوی اللہ سے مردہ ہو اور اپنے ربّ کی محبت میں زندہ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے دل کے لیے عزت و ذلت پیدا فرمائی ہے اور جو دل اس کی یاد سے معمور ہے اسے دل کی عزت قرار دیا اور جس میں طمع ہے اسے دل کی ذلت قرار دیا۔ جیسا آپ نے فرمایا ہے
خَلَقَ اللّٰهُ تَعَالَی الْقُلُوْبَ مَسَاكِنَ الذِّكْرِ فَصَارَتْ مَسَاكِنَ الشَّهَوَاتِ، وَلَا یَمْحُوا الشَّهَوَاتِ مِنَ الْقُلُوْبِ اِلَّا خَوْفٌ مُزْعِجٌ اَوْ شَوْقٌ مُقْلِقٌ۔
"اللہ تعالیٰ نے دلوں کو مساکنِ ذکر بنایا مگر جب نفسِ امارہ کی محبت کا اثر پڑا تو مسکنِ شہوت بن گیا۔ اب اس دل کو کوئی چیز شہوات سے پاک نہیں کر سکتی مگر وہ خوف جو مضطر کر دے یا وہ شوق جو آرام بھلا کر قلق پیدا کر دے۔"
تو خوف اور شوق دو ستون ہوئے ایمان کے، جیسے دل محلِ ایمان ہے اور اس کے قرین قناعت و ذکر ہیں نہ کہ طمع اور غفلت۔ تو قلبِ مومن طماع اور تابعِ شہوات نہیں ہو سکتا۔ اس لیے طمع و شہوت کا نتیجہ وحشت ہے جو دل کو متوحش کر کے ایمان سے بے خبر کر دیتی ہے، اور ایمان کو انس بحق لازمی ہے اور وحشت کو انس بغیرِ حق کے ساتھ ضروری۔ جیسا کہ کہا ہے کہ: اَلطَّمَّاعُ مُتَوَحِّشٌ مِنْهُ كُلُّ وَاحِدٍ۔ "طماع کی محبت سے ہر ایک وحشت زدہ ہو جاتا ہے۔"
حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے شیخِ طریقت، امامِ شریعت ابو القاسم حضرت جنید بن محمد بن جنید بغدادی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اہلِ ظواہر اور اربابِ قلوب میں مقبول تھے۔ علوم کے تمام فنون میں کامل اور اصول و فروع و معاملات و عبادات میں مفتیِ اعظم، اور امام اصحابِ ثوری مانے گئے ہیں۔ آپ کے فرامین نہایت عالی ہیں اور آپ کا حال بدرجہ غایت کامل، حتیٰ کہ تمام اہلِ طریقت آپ کی امامت پر متفق ہیں اور کسی مدعیِ علم و تصوف کو آپ پر اعتراض نہیں۔
اور آپ حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے بھانجے ہیں اور انہیں کے مرید ہیں۔ ایک روز حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ کوئی مرید ایسا بھی ہے جس کا مرتبہ پیر سے بلند ہو گیا ہو؟ فرمایا: ہاں، اس کے براہین ظاہر ہیں (یعنی حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا) اس کا درجہ میرے درجہ سے بلند ہے (اگرچہ یہ فرمان حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کا بصورتِ تواضع تھا) اور آپ نے جو کچھ فرمایا اپنی بصیرتِ باطنی کے ذریعہ فرمایا، اس لیے کہ کوئی اپنے سے اوپر والے کو نہیں دیکھ سکتا کیونکہ دیدار کا تعلق تحت سے ہے۔ بناء بریں آپ نے یعنی
۲۶۶حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے جبکہ انہیں دیکھا اپنی نظر میں بلند دیکھا مگر یقیناً اپنے درجہ سے یہ دیکھنا نیچے ہی درجہ کا دیکھنا ہوگا۔
اور مشہور ہے کہ زمانۂ حیاتِ سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ میں پیر بھائیوں نے حضرت جنید بن محمد سے عرض کی کہ ہمیں کچھ فرمایئے تاکہ ہمارے دل سکون و راحت پائیں۔ آپ نے صاف انکار کر دیا اور فرمایا جب تک میرے شیخ حضرت سری جلوہ آرا مسندِ ظاہر ہیں، میں کوئی بات کہنے کا مجاز نہیں رکھتا۔ یہاں تک کہ ایک رات خوابِ استراحت میں تھے کہ سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آراء سے مشرف ہوئے۔ دیکھا کہ حضور ﷺ فرما رہے ہیں: "جنید! لوگوں کو کچھ سنایا کر، اس لیے کہ تیرے بیان سے اللہ تعالیٰ ایک عالم کی نجات فرمائے گا۔"
جب بیدار ہوئے تو دل میں خطرہ پیدا ہوا کہ میں اپنے مرشد کے درجہ سے اتنا بلند ہو گیا ہوں کہ حضور ﷺ نے مجھے حکمِ دعوت فرمایا۔ جب صبح ہوئی حضرت سری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرید بھیجا اور حکم دیا کہ جب جنید نماز سے فارغ ہوں تو کہو کہ میرے مریدوں کی درخواست تم نے رد کر دی اور انہیں کچھ نہ سنایا، اشیاخِ بغداد نے سفارش کی اسے بھی تم نے رد کر دیا، میں نے پیغام بھیجا پھر بھی آمادۂ وعظ نہ ہوئے، اب جبکہ پیغمبرِ عالم سید اکرم ﷺ کا حکم تمہیں ملا ہے لہٰذا اس حکم کی تعمیل کرو۔
حضرت جنید بن محمد نے یہ حکم سنتے ہی جواب میں کہلا بھیجا کہ حضور! جو میرے دماغ میں افضلیت کا سودا سمایا تھا وہ جاتا رہا ہے اور میں نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ سری سقطی میرا مرشدِ کامل میرے تمام حالاتِ ظاہر و باطن سے مشرف ہے۔
اور آپ کا درجہ ہر حال میں میرے درجہ سے بلند ہے اور آپ یقیناً میرے اسرار پر مطلع ہیں اور میں آپ کے منصبِ جلیل کی بلندی سے محض بے خبر ہوں اور اپنی اس غلطی سے استغفار کرتا ہوں جو میں نے اس خواب کے بعد اپنے متعلق سوچا تھا۔
حضرت جنید بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی: حضور! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ میں نے خواب میں حضور ﷺ کی زیارت کی؟ فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ کے جمال سے خواب میں شرف حاصل کیا، مجھے جنابِ باری تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ میں نے اپنے حبیب محمد ﷺ کو جنید کے پاس بھیجا کہ اُسے حکم دو تاکہ وہ وعظ کہے تاکہ اہلِ بغداد کی مراد برآئے۔
یہ حکایت واضح دلیل ہے کہ پیرانِ کامل ہر صورت میں مرید کے حالات پر واقف ہوتے
۲۶۷ہیں۔ آپ کے کلام بہت بلند ہیں اور رموز نہایت لطیف۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
كَلَامُ الْاَنْبِیَاءِ نَبَأٌ عَنِ الْحُضُوْرِ وَكَلَامُ الصِّدِّیْقِیْنَ اِشَارَةٌ عَنِ الْمُشَاهَدَةِ۔
"کلامِ انبیائے کرام حضور کے ذریعے ہوتا ہے (یعنی وہ جو کچھ فرماتے ہیں آنکھوں دیکھی اور تفصیلی علم کے ذریعے ہوتا ہے) اور کلامِ صدیقین مشاہدہ سے ہوتا ہے۔"
یعنی ان کی صحبتِ خبر محض مشاہدے پر ہے جو نظرِ ناظر سے ہوتا ہے اور اسی وجہ میں مشاہدہ تخیل سے ہے اور خبر سوائے آنکھ کے دیکھی نہیں جا سکتی اور اشارات سوائے غیر کے نہیں ہوتے۔
تو صدیقین کا مرتبۂ کمال انبیائے کرام علیہم السلام کے ابتدائی مراتب کے برابر ہوتا ہے اور اس میں جو فرق ہے وہ واضح ہے، اور یہ عقیدہ ملحدین کا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کو فضیلت میں مؤخر مانتے ہیں اور اولیائے کرام کو مقدم کہتے ہیں۔
آپ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ایک بار میرے دل میں خواہش ہوئی کہ ابلیس لعین کو دیکھوں۔ میں ایک دن مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا تھا کہ ایک بڈھا آیا اور دور سے میری طرف دیکھا۔ جب میں نے اس کو دیکھا تو میں نے اپنے دل میں وحشت کا اثر محسوس کیا۔ جب وہ میرے نزدیک آیا میں نے اس سے پوچھا: بڈھے! تو کون ہے کہ میری نظر اثرِ وحشت سے تجھے دیکھنے کی تاب نہیں لاتی اور تیری نحوست کی ہیبت کو میرا دل برداشت نہیں کرتا!! کہنے لگا کہ میں وہی ہوں جس کے دیکھنے کی آپ نے خواہش فرمائی تھی۔ میں نے کہا: ملعون! تجھے حضرت آدم علیہ السلام کے سجدہ سے کس چیز نے روکا؟ بولا: جنید! آپ کا یہ خیال ہے کہ میں غیرِ خدا کو سجدہ کر لیتا۔ حضرت جنید فرماتے ہیں: میں متحیر سا ہو گیا اور اس کا یہ کلام میرے ضمیر پر اثر پذیر ہوا ہی تھا کہ مجھے الہام ہوا
قُلْ لَهٗ كَذَبْتَ، لَوْ كُنْتَ عَبْدًا مَاْمُوْرًا مَا خَرَجْتَ عَنْ اَمْرِهٖ وَنَهْیِهٖ۔ فَسَمِعَ النِّدَاءَ مِنْ قَلْبِیْ فَصَاحَ وَقَالَ: اَحْرَقْتَنِیْ بِاللّٰهِ، وَغَابَ۔
"اے جنید! اس خبیث کو کہہ دو کہ بے ایمان تو جھوٹا ہے، اگر تو بندہ تھا تو اپنے مالک کے حکم سے باہر نہ ہوتا اور اس کی نہی سے تقرب نہ کرتا۔ شیطان نے یہ آواز میرے قلب کی سن لی اور ایک چیخ ماری اور بولا: خدا کی قسم! اے جنید! تو نے مجھے جلا ڈالا، اور نظر سے غائب ہو گیا۔"
یہ حکایت آپ کے تحفظِ عصمت پر خاص دلیل ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولی کی خود
(صفحہ 267 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 268 پر ہے۔)
۲۶۸نگرانی فرماتا ہے اور ہر حالت میں مکرہائے شیطانی سے محفوظ رکھتا ہے۔
ایک واقعہ ہے کہ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کا ایک مرید کچھ بداعتقاد ہوا اور اس غلط فہمی میں پڑا کہ اب میں بھی کسی درجہ پر فائز ہو چکا ہوں۔ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ سے کچھ اعراض کر لیا۔ چند روز بعد اس غرض سے آیا کہ تجربہ کرے اور دیکھے کہ میرا خیال حضرت جنید پر منکشف بھی ہوا یا نہیں۔ حضرت جنید اپنے نورِ فراست سے اس کی حالت ملاحظہ فرما رہے تھے۔ جب وہ مرید آیا، آپ سے کچھ سوال کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا: کیسا جواب چاہتا ہے، الفاظ و عبارات میں یا حقیقتِ معنی میں؟ مرید نے عرض کی دونوں طرح۔ آپ نے فرمایا کہ عبارتی جواب تو یہ ہے کہ اگر میرا تجربہ کرنے کی بجائے اپنا تجربہ کر لیتا تو میرے تجربہ کا محتاج نہ ہوتا اور اس جگہ تجربہ کی غرض سے نہ آتا۔
اور معنوی جواب یہ ہے کہ میں نے تجھے منصبِ ولایت سے معزول کیا۔ یہ فرمانا تھا کہ مرید کا چہرہ سیاہ ہو گیا اور پکارا کہ حضور! راحتِ یقین میرے دل سے جاتی رہی۔ توبہ کرنے لگا اور پہلی بکواس سے ہاتھ اٹھایا۔ اس وقت حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تُو نہیں جانتا کہ اللہ کے ولی والیانِ اسرار ہوتے ہیں، تجھ میں ان کی ضرب کی برداشت نہیں۔ پھر ایک پھونک اس پر ماری، وہ پھر اپنے پہلے درجہ پر متمکن ہوا۔ اُس دن سے خاصانِ بارگاہ کے معاملات میں دخل دینے سے بھی توبہ کی اور پختہ عہد کر لیا۔
حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخ المشائخِ طریقت، امامِ ائمۂ شریعت، شاہِ اہلِ تصوف، بری از آفتِ تکلف حضرت ابو الحسن احمد بن محمد نوری رحمۃ اللہ علیہ نہایت نیک عمل اور واضح کلام فرمانے والے اور مجاہدات میں نہایت عالی ظرف گزرے ہیں۔ تصوف میں آپ کا مسلک مخصوص ہے اور صوفیوں میں اسی وجہ سے ان کی جماعت کو "نوری" کہتے ہیں۔ اور یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ متصوفین میں باعتبارِ مسلک بارہ فرقے ہیں۔ دو گروہ مردود ہیں اور دس گروہ مقبولِ بارگاہ ہیں۔ وہ بارہ فرقے یہ ہیں
۲۶۹۱۔ محاسبیان ۲۔ قصاریان ۳۔ طیفوریان ۴۔ جنیدیان ۵۔ نوریان ۶۔ سہلیان ۷۔ حکیمان ۸۔ خرازیان ۹۔ خفیفیان ۱۰۔ سیّاریان ۱۱۔ حلولیان ۱۲۔ حلاجیان
دوسرا فرقہ حلاجیان ہے جن کے نزدیک ترکِ شریعت اور الحاد موجبِ نجات ہے۔ یہ فرقہ بھی مردود ہے اور ان میں دو فرقہ ہیں: ایک اباحتیان، دوسرا فارسیان۔ ان کی تصریح اسی کتاب میں اپنے مقام پر تمہیں ملے گی۔
ان فرقوں کے عقائد اور ان کے فرق اور اختلاف کا بیان مفصل درج کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔ لیکن حضرت ابو الحسن احمد نوری رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ پاکیزہ ہے اور ترکِ مداہنت اور رفعِ مساحت میں آپ نہایت سخت تھے اور ہمیشہ مجاہدات و ریاضات میں رہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک بار حاضر ہوا۔ میں نے دیکھا آپ صدر مقام پر تشریف فرما ہیں۔ میں نے کہا
یَا اَبَا الْقَاسِمِ! غَشَشْتَهُمْ فَصَدَّرُوْكَ وَنَصَحْتُهُمْ فَرَمَوْنِیْ بِالْحِجَارَةِ۔
"اے ابو القاسم! تم نے ان سے چھپایا تو انہوں نے تمہیں صدر نشین بنا لیا اور میں نے انہیں نصیحت کی تو انہوں نے مجھے پتھروں سے مارا۔"
اس لیے کہ مداہنت کو خواہشاتِ نفسانی سے موافقت ہے اور حق گوئی اور نصیحت کو مخالفت۔ اور آدمی اس چیز کا دشمن ہے جو اس کی خواہشات کے مخالف ہو اور اس کا دوست ہے جو اس کے ہوائے نفسانی کے موافق ہو۔ حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے رفیقِ خاص تھے اور حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید۔ اور آپ نے بہت سے مشائخ کرام کی زیارت کی اور ان کی صحبت میں رہے اور آپ نے حضرت احمد بن ابی الحواری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی پایا۔
۲۷۰فنِ تصوف میں آپ کے اشارات نہایت لطیف ہیں اور آپ کے اقوال نہایت پیارے اور جمیل، فنون میں آپ کے نکات عالی مشہور ہیں۔
آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
اَلْجَمْعُ بِالْحَقِّ تَفْرِقَةٌ عَنْ غَیْرِهٖ وَتَفْرِقَةٌ عَنْ غَیْرِهٖ جَمْعٌ بِهٖ۔
"اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملنا غیر سے مفارقت ہے اور غیر اللہ سے علیحدہ ہونا اللہ سے ملنا ہے۔"
یعنی جس کا دل اللہ تعالیٰ کے ساتھ جمعیتِ خاطر حاصل کر لے تو غیر خدا سے وہ قطعاً علیحدہ ہے اور اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملنا اندیشۂ مخلوق سے جدا ہو جانا ہے۔ تو جب مخلوقات سے اعراض صحیح ہو جائے تو اقبالِ بحق درست ہوگا اور یہ مسلّم امر ہے کہ اقبالِ بحق درست ہونے کی صورت میں ضِدّان لَایَجْتَمِعَانِ "دو ضدیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔"
بقولِ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ
ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں ۔ ایں خیالست و محالست و جنوں (از مترجم)
ایک حکایت میں ہے کہ حضرت ابو الحسن احمد نوری رحمۃ اللہ علیہ ایک بار ایک مکان میں تین روز تک متواتر شور کرتے رہے۔ لوگوں نے حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں عرض کی۔ آپ فوراً اٹھے اور تشریف لائے اور فرمایا: اے ابو الحسن! اگر تمہیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ اس بے نیازی کے ساتھ شور کرنا فائدہ مند نہیں ہے تو اپنے دل کو رضا و تسلیم کے محور پر لاؤ تاکہ تمہارا دل خوش و خرم رہے۔
حضرت ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ، حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی اس ہدایت پر خاموش ہوئے اور فرمانے لگے: ابو القاسم! تم میرے بہترین استاد ہو۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اَعَزُّ الْاَشْیَاءِ فِیْ زَمَانِنَا شَیْئَانِ: عَالِمٌ یَعْمَلُ بِعِلْمِهٖ وَعَارِفٌ یَنْطِقُ عَنْ حَقِیْقَتِهٖ۔
"ہمارے زمانے میں محبوب ترین دو چیزیں ہیں: ایک وہ عالم جو اپنے علم پر عامل ہو، دوسرا وہ عارف جو حقائق و راز اپنے کلام میں بیان کرے۔"
یعنی ہمارے زمانہ میں علم و معرفت دونوں محبوب ہیں اس لیے کہ علم بے عمل علم نہیں اور عرفان بے حقیقت عرفان نہیں۔
۲۷۱اس بیان میں حضرت ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے زمانہ کا پتہ دیا اور حقیقتاً ان کے وقت تک ہمیشہ یہ دونوں چیزیں محبوب رہیں۔
آج کے دن بھی اگرچہ یہ دونوں چیزیں عزیز ہیں مگر اب بات یہ ہے کہ جو شخص کسی عالم کی یا عارف کی تلاش میں مشغول ہو تو اس کے لیل و نہار پراگندہ ہو جائیں گے مگر اُسے عارف و عالم نہیں ملے گا۔ آج کے دن طالب کو چاہیے کہ خود جدوجہد میں مشغول ہو اور اپنے ربّ کی طرف رجوع کرے تاکہ اسے عالم میں عالم و عارف ہی نظر آئیں اس لیے کہ عالم و عارف اسے عزیز ہے اور عزیز شے مشکل ملتی ہے اور ظاہر ہے کہ جو شے عزیز الوجود ہو اس کی تلاش میں پریشان ہونا تضیعِ وقت کرنا ہے۔ تو پھر جب اس نے علم و معرفت اپنے میں طلب کی تو گویا اس نے حقیقت و معرفت اپنے اندر پائی۔ لہٰذا یہی طریقہ بہترین ہے کہ فی زمانہ خود جدوجہد کرے اور اپنے ربّ سے اس درجہ کی طلب کرے۔
آپ ہی سے مروی ہے کہ فرمایا
مَنْ عَلِمَ الْاَشْیَاءَ بِاللّٰهِ فَرُجُوْعُهُ فِیْ كُلِّ شَیْءٍ اِلَی اللّٰهِ۔
"جو حقائقِ اشیاء تقربِ الٰہی سے جانے، تو تمام اشیاء کی طرف جو اس کا رجوع ہے، وہ خالقِ اشیاء کی طرف ہے نہ کہ اشیاء کی طرف۔"
اس لیے کہ وجودِ ملک اور ظہورِ ملک، مالک پر موقوف ہے۔
تو عارف کی راحت رویتِ مکون پر ہے نہ کہ کون پر۔ اس لیے کہ اگر اشیاء کو علتِ افعال جانے گا ہمیشہ رنجور و غمگین رہے گا اور ہر شے کی طرف رجوع کرنا اس کے لیے شرک ہوگا اس لیے کہ یہ اشیاء کو سببِ فعل جانتا ہے اور سبب اپنے آپ بھی قائم نہیں ہوتا، بلکہ وہ مسبب کے ماتحت ہوتا ہے۔ تو جب مسبب الاسباب ہی خالقِ اسباب ہے تو اسی کی طرف رجوع کرنا مشاغلِ ماسوی اللہ سے نجات دلاتا ہے۔
ابو عثمان حضرت سعید بن اسماعیل حیری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے مقدم سلف از سلف خود خلف ابو عثمان حضرت سعید بن اسماعیل حیری رضی اللہ عنہ ہیں۔ قدماء و اجلہ صوفیاء سے گزرے ہیں اور اپنے زمانہ میں فردِ فرید تھے اور اہلِ دل آپ کو منصبِ رفیع پر مانتے تھے۔ آپ کی ابتدائی صحبت حضرت یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی۔ اس زمانہ میں ایک مدت تک حضرت شاہ شجاع کرمانی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں بھی رہ چکے ہیں اور انہیں کے ہمراہ نیشاپور آئے اور حضرت ابو حفص حداد رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کی اور انہیں کی خدمت
۲۷۲میں بقیہ عمر پوری فرمائی۔
آپ سے حکایت منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: میرا دل ہمیشہ سے طلبِ حقیقت کی طرف راجع تھا اور بچپن ہی سے مجھے اہلِ ظواہر سے نفرت تھی۔ تو میں سمجھتا تھا کہ اس ظاہری عمل کے سوا جس پر عوام لگے ہوئے ہیں، شریعتِ مطہرہ میں ضرور کوئی خاص راز بھی ہوگا۔ آخرش میں اپنے مقصود کو پہنچا۔
وہ اس طرح کہ ایک روز یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں میرا گزر ہوا، میں ان سے ملا اور ان کی فیضِ صحبت سے جس راز کی مجھے تلاش تھی وہ مجھے حاصل ہو گیا۔ میں نے ان کی صحبت میں رہنا پسند کیا۔ پھر ایک جماعت شاہ شجاع کے پاس سے آئی، اس نے ان کے فضائل مجھے سنائے مگر میں نے اپنے دل کا رجحان اسی طرف پایا۔ غرضیکہ "رے" سے "کرمان" آیا اور شاہ شجاع کی خدمت میں رہنا چاہا۔ انہوں نے مجھے رہنے کی اجازت نہ دی اور فرمایا تیرا دل رجاء پروردہ ہو چکا ہے، تو نے یحییٰ بن معاذ کی صحبت پائی ہے اس کا مقامِ رجاء ہے اور جس نے مقامِ رجاء حاصل کر لیا ہو وہ طریقتِ ... نہیں پا سکتا۔ اس لیے کہ پیروی رجاء سے سستی کا پھل ملتا ہے۔
فرماتے ہیں کہ میں نے بہت تفرع و زاری کی اور بیس دن تک اُن کے در پر پڑا رہا۔ آخر کرم فرمایا اور مجھے قبول کیا اور فیضِ صحبت سے مستفیض فرمایا۔ ایک مدت تک اُن کی خدمت میں رہا۔ بڑے زبردست مردِ غیور تھے۔ آپ کا ارادہ نیشاپور جا کر حضرت ابو حفص کی زیارت کرنے کا ہوا تو میں بھی آپ کے ہمراہ آیا۔ جس روز شاہ شجاع حضرت ابو حفص حداد کے یہاں آئے، قبا پہنے ہوئے تھے۔
حضرت ابو حفص نے شاہ شجاع کو دیکھتے ہی قیام فرمایا اور استقبال کے لیے آگے بڑھے اور فرمایا: وَجَدْتُ فِی الْقَبَاءِ مَا طَلَبْتُ فِی الْعَبَاءِ۔ "قبا میں وہ چیز میں نے پائی جو میں عباء میں مانگ رہا تھا۔" میں ایک مدت تک وہاں رہا، میری وابستگی یہاں ہو گئی۔ میں شاہ شجاع کے دبدبہ و ولایت نے ان کی صحبت میں زیادہ دیر رہنے سے مجھے روک دیا۔ حضرت ابو حفص فراستِ ولایت سے میری دلی مرضی کو دیکھ رہے تھے اور در حقیقت میں تفرع و زاری کے ساتھ جنابِ باری میں دستِ دعا کیا کہ مجھے ابو حفص کی صحبت اس طرح میسر ہو کہ شاہ شجاع مجھ سے آزردہ نہ ہوں۔
غرضیکہ وہ دن جس دن شاہ شجاع کا قصدِ واپسی کا ہوا تو میں نے اُن کی پیروی میں کپڑے پہنے مگر میرا دل ابو حفص کے پاس ہی تھا کہ روانہ ہونے لگے تو حضرت ابو حفص رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شاہ شجاع رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ حضرت! اس بچے کو خوشی سے میری دلبستگی کے
(صفحہ 272 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آگے صفحہ 273 پر ہے۔)
۲۷۳لیے چھوڑ دیں کہ میں اسے محبوب رکھتا ہوں۔
حضرت شاہ شجاع رحمۃ اللہ علیہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: اَجِبِ الشَّیْخَ "شیخ کے حکم کی تعمیل کر" اور تشریف لے گئے۔ میں بخوشی یہاں رہ گیا۔
اب میں نے ان کی صحبت میں جو جو عجائبات دیکھے (وہ قابلِ بیان نہیں بس اتنا سمجھ لو کہ) اللہ تعالیٰ نے انہیں مقامِ شفقت فرمایا تھا۔ خداوندِ کریم نے حضرت ابو عثمان کو تین پیروں کے ذریعہ تین مقامات سے عبور کرایا اور یہ تینوں لطیفے ان تین پیروں کے ذریعہ انہیں ملے۔ مقامِ رجاء حضرت یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت سے، مقامِ غیرت صحبتِ حضرت شاہ شجاع رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعہ اور مقامِ شفقت حضرت ابو حفص رحمۃ اللہ علیہ کے فیضِ صحبت سے۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرید پانچ یا چھ یا اس سے بھی زائد مرشدوں کے ذریعے منزل رسیدہ ہو سکے اور ہر پیر کی صحبت علیحدہ علیحدہ اس کے ایک مقام کی کشف کے لیے ہو۔
مگر بہترین اخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے پیر کو اپنی ترقی مقامات میں محدود کر کے اس کی شان نہ گھٹائے اور یہ نہ سمجھے کہ میرے پیر کی قوت کا انتہا یہیں تک تھا۔ بلکہ یوں کہے کہ اُن کے دَر سے میری قسمت میں اتنا ہی حصہ تھا، اس سے زائد نہ تھا اور میرا مرشد اس سے کہیں زیادہ درجہ و رتبہ کا مالک ہے اور یہی ادب کا مقتضیٰ ہے۔ اس لیے کہ راہِ حق میں جو منزل تک پہنچ چکے ہیں انہیں کسی مقام اور حال سے کام نہیں رہتا۔
اور اظہارِ حقائقِ تصوف کے سبب نیشاپور اور خراسان میں حضرت جنید اور حضرت رویم اور حضرت یوسف بن الحسین اور حضرت محمد بن فضل بلخی ہوئے کہ ان کے فیضِ صحبت سے استفادہ کیا اور یہ لوگ اپنے فن میں زبردست دستگاہ رکھتے تھے کہ ان کے برابر مشائخ میں میں نے قوتِ باطنی نہیں دیکھی۔ نیشاپور کے لوگوں نے حضرت ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ کے لیے منبر لگایا اور انہوں نے تصوف کی تعلیم لوگوں میں پھیلائی۔ ان کی کتابیں نہایت اعلیٰ درجہ کے تصوف میں ہیں اور فنِ تصوف میں ان کی روایات بہت یقینی ہیں!
اُن سے مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا
حَقٌّ لِمَنْ اَعَزَّهُ اللّٰهُ بِالْمَعْرِفَةِ اَنْ لَا یُذِلَّهُ بِالْمَعْصِیَةِ۔
"اللہ تعالیٰ کے لیے یہی زیبا ہے کہ جسے اپنے جامِ عرفان سے سرشار کر دے اور اپنی معرفت کی عزت سے نوازے دے اُسے معصیت کے ساتھ ذلیل نہ کرے۔"
۲۷۴اور اس مرتبہ کا تعلق کسبِ بندہ پر ہے اور اس کے مجاہدۂ دوامی پر اور مورِ حقہ کی رعایت کرنے پر، لیکن حضرت سعید بن اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ کے منقولہ فرمان کے مطابق جب یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہے کہ جب کسی کو اپنی معرفت کے ساتھ نواز دے تو معصیت سے اسے خوار نہ کرے، تو اس کا مفہوم یہ ہوگا: معرفت عطائے حق پر موقوف ہے اور معصیت منتسب الی العبد ہے۔
تو جب کسی کو عطاءِ الٰہی اعزازِ عرفان مل گیا تو محال ہوگا کہ وہ بندہ اپنے کسی برے فعل کے ساتھ ذلیل ہو۔ جیسے حضرت آدم علیہ السلام کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کیفِ عرفان سے نوازا اور تاجِ معرفت بخشا تو محض ذلتِ آدم کے ذریعہ انہیں ذلیل نہیں فرمایا۔
ابو عبد اللہ حضرت احمد بن یحییٰ بن الجلال رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سہیلِ معرفت، قطبِ محبت ابو عبد اللہ حضرت احمد بن یحییٰ بن الجلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ قوم کے سردار سادات وقت سے گزرے ہیں۔ آپ کا طریقہ نہایت نیک اور آپ کی سیرت نہایت پاکیزہ۔ مصاحبِ جنید بغدادی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو الحسن نوری اور ایک جماعت کبرا مشائخ کی زیارت کیے ہوئے ہیں۔ آپ کا کلام نہایت بلند ہے۔ آپ کے اشارات بہت لطیف ہیں، حقائقِ معنی کے بیان میں آپ مخصوص تھے۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
هِمَّةُ الْعَارِفِ اِلٰی مَوْلَاهُ فَلَمْ یَعْطِفْ عَلٰی شَیْءٍ سِوَاهُ۔
"عارف کے تمام ارادے اور قوتیں اس کے مولا کی طرف موقوف ہیں تو ہرگز وہ اپنے مولا کے حکم بغیر کسی طرف رجوع نہیں ہوتا۔"
اس لیے کہ عارف کو معرفت کے بغیر کچھ معلوم نہیں اور عارف کا سرمایہ ضمیرِ معرفت ہی ہے اور اس کے ضمیر کا مقصود رویت کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے کہ ہمت و تخیل کی پراگندی رنج و غم کا پھل دیتی ہے اور رنج و غم انسان کو بارگاہِ خاص سے روک دیتا ہے۔
آپ سے ایک حکایت ہے، فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے ایک خوبصورت جوان کو دیکھا۔ وہ جوان آتش پرست تھا۔ میں اس کے جمال کو دیکھ کر متحیر ہو گیا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گیا کہ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ میری طرف سے گزرے۔ میں نے عرض کی: حضور! کیا اللہ تعالیٰ ایسی صورت کو بھی آگ میں جلا دے گا؟ حضرت جنید نے فرمایا
"صاحبزادے! یہ چند لمحاتِ زندگی کی گرم بازاری ہے جس نے تجھے اس خیال میں پھانسا ہے۔ تو ان چیزوں کو بنظرِ عبرت نہیں دیکھتا، اگر بنظرِ عبرت دیکھے تو ہر ذرہ میں ایسے ہی عجائبات موجود ہیں لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا
۲۷۵ہے کہ تو ضرور اس چہ میگوئی اور بے حرمتی میں معذب ہوگا۔"
حضرت جنید یہ فرما کر تشریف لے گئے اور مجھ پر یہ عذاب آیا کہ کیفِ قرآنی مجھ سے فراموش ہو گیا۔ کئی سال بحضورِ عزّ و جلّ توبہ کرتا رہا، تو کہیں جا کر وہ بلا دفع ہوئی اور اب میری ہمت نہیں کہ موجودات میں سے کسی چیز پر التفات کروں یا اپنے وقت کو بنظرِ عبرت بھی موجودات میں ضائع کروں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت رویم بن احمد رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے وحید العصر، امام الدہر حضرت محمد رویم بن احمد رضی اللہ عنہ ہیں۔ اجلۂ مشائخ و سادات قوم سے گزرے ہیں۔ حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کے خاص راز دار، مرید اور آپ کے ہمعصر تھے۔ آپ کا مسلک حضرت داؤد طائی کے موافق تھا۔ فنِ فقہ میں فقیہ الفقہاء تھے اور علمِ تفسیر و قرأت میں کافی حصہ لیے ہوئے تھے۔ مختصر یہ کہ آپ اپنے زمانہ میں یکتائے علماء مانے گئے۔ آپ کی کیفیتِ حالیہ نہایت بلند تھی اور آپ کا مقامِ تقربِ رفیع، سیاحیِ تصوف کی وجہ میں تجرید اور کثرتِ ریاضت کے باعث تفرید میں آپ مشہور تھے۔ آپ نے اپنی آخری عمر اہلِ دنیا میں محض اپنے آپ کو مخفی رکھنے کے لیے گزاری اور خلیفۂ وقت کے معتمد خاص بن گئے اور "قاضی القضاۃ" کے عہدہ پر مامور ہوئے۔ حالانکہ آپ کا درجۂ کمال اس سے کہیں زیادہ بلند تھا۔ اس وجہ سے آپ اس عہدہ میں بھی چھپ نہ سکے۔
حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ نے ان کی تعریف میں فرمایا
مَا فَارِغَانِ مَشْغُوْلِیْمُ وَرُوَیْمُ مَشْغُوْلٌ فَارِغَسْتْ۔
"ہم دنیا کے علائق سے فارغ ہو کر مشغولِ بدنیا ہیں اور رویم بن احمد علائق میں مشغول رہ کر بھی دنیا سے فارغ ہے۔"
آپ کی تصانیف فنِ طریقت و حقیقت میں بہت ہیں۔ خاص کر بحثِ سماع میں ایک کتاب ہے جس کا نام "غلط الواجدین" ہے۔ میں اس کتاب پر عاشق ہوں۔
آپ سے روایت ہے کہ ایک روز کوئی شخص آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کی: کَیْفَ حَالُكَ؟ "حضرت کیسے مزاج ہیں؟" آپ نے جواب دیا
كَیْفَ حَالُ مَنْ دِیْنُهٗ هَوَاهُ وَهِمَّتُهٗ دُنْیَاهُ لَیْسَ هُوَ بِصَالِحٍ تَقِیٍّ وَلَا بِعَارِفٍ نَقِیٍّ۔
"اس کا مزاج کیا ہو سکتا ہے جس کا دین اس کی حرص آز ہو اور جس کی منتہاء
۲۷۶مقصود اس کی دنیا ہو، نہ وہ صالح اور متقی ہے اور نہ عارفِ نقی۔"
اس جواب میں آپ نے عیوبِ نفس کی طرف اشارہ فرمایا ہے، اس لیے کہ نفسِ امارہ کے نزدیک ہوائے وحرص ہی دین ہے اور نفس کے تابع کا دین حرص کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے اور اس کی شریعت اس کا اتباع ہوتا ہے۔ جو شخص ان کی پیروی کرے، اگرچہ وہ بدعتی ہی کیوں نہ ہو مگر ان کے نزدیک دیندار ہوگا اور جوان کے خلاف چلے اگرچہ وہ پرہیزگار ہی کیوں نہ ہو بے دین کہلائے گا۔
اور یہ آفت ہمارے زمانہ میں اتنی عام ہے کہ اس سے کوئی بھی بچا ہوا نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں ایسے شخص کی صحبت سے جس میں یہ صفت ہو۔
لیکن حضرت محمد رویم بن احمد رحمۃ اللہ علیہ نے مسائل کے جواب میں احوالِ زمانہ کی طرف اشارہ فرمایا تھا اور ممکن ہے کہ انہیں اس حال میں اپنا وجود معلوم ہوا ہو اور اس سے اپنے وجود کی صفت بیان فرمائی ہو، اور عارف چونکہ منصف ہوتا ہے اس لیے منصفانہ انداز میں جواب دیا ہو۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت ابو یعقوب یوسف رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے یگانۂ زمانہ، بلند قدر حضرت ابو یعقوب یوسف رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اپنے وقت کے امام اور مشائخِ عظام میں سے گزرے ہیں، معمر تھے۔ حضرت ذوالنون مصری کے مرید تھے۔ علاوہ ان کے بہت سے مشائخ کی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے
اَرْذَلُ النَّاسِ الْفَقِیْرُ الطَّمَّاعُ كَمَا اَعَزُّهُمُ الْمُحِبُّ الصَّادِقُ۔
"ذلیل ترین انسانوں میں طماع فقیر ہے جیسے معزز ترین انسان راستباز محبِّ صادق ہے۔"
طمع، درویش کو دونوں جہان کی ذلت کا شکار بنا دیتی ہے۔ اس لیے کہ درویش پہلے ہی اہلِ دنیا کی نظر میں حقیر و ذلیل ہوتا ہے۔ تو جب وہ اہلِ دنیا سے طمع کرتا ہے تو اور بھی زیادہ حقیر و ذلیل ہو جاتا ہے۔ تو عزت کا غنا اس فقیر سے بہت افضل ہے جو ذلت کے ساتھ فقیر ہو اور طمع درویش کو جھوٹ کے ساتھ منتسب کر دیتی ہے اور محبت اپنے محبوب کی نظر میں سب سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ محبت اپنے آپ کو محبوب کے مقابلے میں حقیر سمجھتا ہے اور محبوب کی تواضع میں رہتا ہے اور یہ بھی نتائجِ طمع میں سے ایک نتیجہ ہے۔ پھر جب طمع جاتی رہتی ہے تو ذلت، عزت سے بدل جاتی ہے۔ جب تک زلیخا کو حضرت یوسف علیہ السلام کی طمع تھی، ہر لحظہ رسوا اور ذلیل ہوتی تھی۔ پھر جب ان کے دل سے طمع جاتی رہی تو پھر اللہ تعالیٰ نے خوبصورتی اور جوانی سب کچھ عطا فرما کر
۲۷۷معزز کر دیا۔ اور قاعدہ ہی کچھ ایسا ہے کہ دوست کی توجہ محبوب کی بے توجہی کے موجب ہوتی ہے اور جب محبت بے نیاز ہو جائے اور طمع جاتی رہے تو محبوب اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اور در حقیقت محبت کی اس وقت تک ہی عزت ہوتی ہے جب تک طمعِ وصل نہ ہو اور جب طمعِ وصل آ جائے اور وہ حاصل نہ ہو تو سب ذلتوں سے بدترین ذلت ہے۔ تو محبت وہی ہے جو محبوب کے وصال و فراق میں مشغول نہ ہو۔