گیارھواں باب
تبع تابعین تا بہ زمانۂ حال
حضرت حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ
شجاعِ طریقت، متمکن اندرِ شریعت حضرت حبیب عجمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑے بلند ہمت اور بہت باقدر لوگوں سے گزرے ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشائخ میں بہت معزز تھے۔ آپ کی ابتدائی توجہ اور بیعت حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے تھی۔
آپ ابتداء زمانہ میں بڑے ریا کار اور فتنہ و فساد میں مشاق تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیقِ توبۃ النصوح عطا فرمائی اور ایسے مقربِ بارگاہ ہو گئے۔
کچھ علم و عمل حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ آپ کی زبان عجمی تھی اس وجہ سے زبانِ عربی پر دشواری سے چلتی تھی۔ آپ کی بہت سی کرامتیں مخصوص ہیں۔ آپ کا درجہ یہاں تک بلند ہوا کہ ایک روز حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ آپ کی عبادت گاہ میں آئے۔ نمازِ شام کی تکبیر ہو رہی تھی اور جماعت کھڑی ہو چکی تھی۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کھڑے ہو کر اقتداء کی مگر جب دیکھا کہ حضرت حبیب عجمی کی زبان سے مخارجِ قرآن کریم صحیح نہیں نکل رہے تھے، نماز تو آپ نے پڑھی مگر یہ محسوس فرمایا کہ ان کے مخارج صحیح نہیں ہیں۔
شام کو جب سوئے تو خواب میں جمالِ الٰہی سے مشرف ہوئے۔ عرض کی: الٰہی! تیری رضا کس چیز میں ہے؟ جواب ملا: حسن! اگر میرے حبیب عجمی کے پیچھے نماز پڑھتا اور صحیح نیت کرنے سے تجھے اس کی عجمی زبان نہ روکتی تو میں تجھ سے راضی ہو جاتا۔
اور مشائخ میں مشہور ہے کہ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ جب ظلمِ حجاج سے فرار ہو کر تشریف لائے تو حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ کے حجرہ میں روپوش ہوئے۔ حجاج کے آدمی آئے اور آپ سے کہنے لگے: حبیب! تم نے حسن کو کبھی دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ ملازموں نے کہا: کہاں دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ابھی میرے عبادت خانہ میں تشریف لے گئے ہیں۔ متلاشی اندر حجرہ میں گئے، کسی کو نہ پایا، سمجھے کہ حبیب عجمی نے ہم سے مذاق کیا ہے۔ غضبناک ہو کر بولے: سچ بتاؤ کہ کس جگہ انہیں دیکھا ہے۔ آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ سچ کہتا ہوں کہ وہ میرے حجرۂ عبادت میں
۲۰۹ہیں۔ دوبارہ پھر گئے مگر حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ انہیں نظر نہ آئے۔ پھر سہ بارہ دیکھنے گئے، آخر مایوس ہو کر چلے گئے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ حجرہ سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: حبیب! تُو میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برکت سے مجھے ان کی نظر سے مخفی کر دیا مگر تم نے ان سے یہ کیوں کہہ دیا کہ حسن بصری اس جگہ اندر ہیں۔ عرض کی: استاد! میری برکت سے آپ ان کی نظر سے پوشیدہ نہیں کیے گئے بلکہ وہ سچ جو میں نے بولا اس کی برکت سے آپ کو وہ سیاہی نہ دیکھ سکے۔ اگر میں جھوٹ بول دیتا تو مجھے اور آپ کو وہ رسوا کرتے۔
اس قسم کی بہت سی کرامتیں آپ سے ظاہر ہوئیں۔
آپ سے لوگوں نے پوچھا: رضاءِ الٰہی کس چیز میں ہے؟ آپ نے فرمایا
فِیْ قَلْبٍ لَیْسَ فِیْهِ غُبَارُ النِّفَاقِ۔
"اس دل میں رضاءِ الٰہی ہے جس پر غبارِ نفاق نہ ہو۔"
اس لیے کہ نفاق خلافِ وفاق ہے اور رضا عینِ وفاق اور محبت کو نفاق کے ساتھ کچھ تعلق نہیں۔ اس کا مقام محض رضا ہے تو رضا صفتِ محبوبان ہوئی اور نفاق صفتِ دشمنان اور یہ مضمون بڑا زبردست ہے۔ ان شاء اللہ کسی دوسری جگہ بیان کیا جائے گا۔
حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے نقیبِ اہلِ انس، زینِ جملہ جن و انس حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے سرِ خاص تھے۔ مشائخ میں آپ کی کرامات مشہور ہیں اور ریاضت و مجاہدہ میں آپ کی خصلتیں مذکور۔
"دینار" ایک غلام تھا اور یہ صاحبزادہ اسی حالت میں پیدا ہوئے کہ ان کے والد غلام تھے۔ آپ کی بیعت کا واقعہ یوں ہے کہ حضرت مالک ایک شب ہم چشموں میں مشغولِ عیش و طرب تھے۔ جب سب سو گئے تو آپ نے اس عود سے آواز سنی جیسے بجار ہے تھے
یَا مَالِكُ مَا لَكَ اَنْ لَا تَتُوْبَ؟
"اے مالک! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو توبہ نہیں کرتا؟"
یہ سنتے ہی آپ نے سب کاموں سے ہاتھ کھینچا اور حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آ کر بیعتِ توبہ کی اور اپنے چال چلن کی اصلاح اس درجہ کی کہ ایک دن مالک بن دینار کشتی میں لوگوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ کسی کا ایک نگینہ جواہرات کا گم ہو گیا۔ سب کی طرف نظر ڈالی، حضرت مالک بن دینار ہی سب میں اجنبی نظر آئے۔ آپ پر اس نگینہ کی چوری کا الزام لگ
۲۱۰گیا۔ آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی کہ یک لخت تمام دریا کی مچھلیاں دریا سے منہ نکالے ہوئے نظر آئیں اور دیکھا کہ ہر مچھلی کے منہ میں ایک ایک نگینہ ہے۔ آپ نے ایک نگینہ لے کر اسے دے دیا اور خود کشتی سے سطحِ آب پر اتر کر کنارہ پر تشریف لائے اور دریا سے باہر ہو گئے۔ آپ کے ارشادوں میں سے ہے کہ
اَحَبُّ الْاَعْمَالِ عَلَیَّ الْاِخْلَاصُ فِی الْاَعْمَالِ۔
"عملوں میں سے محبوب ترین عمل مجھے وہ اخلاص ہے جو عمل میں ہو۔"
اس لیے کہ عمل بااخلاص ہی عمل ہوتا ہے اور اخلاص عمل کے اندر بمنزلۂ روح ہے اور عمل بمنزلۂ جسم۔ چنانچہ جب جسم بے روح رہ جاتا ہے تو وہ جمادِ محض ہوتا ہے۔ اسی طرح عمل بلا اخلاص محض ہباءً منثوراً ہے۔ مگر اخلاص تمام اعمال میں باطن ہے اور طاعات اعمالِ ظاہرہ کا نام ہے۔ اعمالِ ظاہری عملِ باطن کے ساتھ تکمیل کو پہنچتے ہیں اور اعمالِ باطن کی قدر و قیمت اعمالِ ظاہر پر موقوف ہے۔
جیسے اگر کوئی کسی کے ساتھ ہزار برس دل سے مخلصانہ محبت رکھے مگر جب تک اس کا عمل اخلاص کا نظر نہ آئے گا وہ اخلاص، اخلاص نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی ہزار سال ظاہری عمل کرتا رہے مگر جب تک اس میں اخلاص نہ آئے گا، وہ عمل طاعتِ مخلصانہ نہ کہلائے گا۔
حضرت ابو حبیب بن سلیم الراعی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے امیر الاولیاء، فقیر بے ریا ابو حلیم حضرت حبیب بن سلیم الراعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں۔ مشائخ کرام میں آپ کی بہت زیادہ قدر و منزلت ہے۔ آپ دلائل اور آیات کے بیان فرمانے میں خاص مہارت رکھتے تھے اور آپ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے خاص مصاحب تھے اور آپ کے حالات اصحابِ حال کے سے تھے۔ آپ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
نِیَّةُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِنْ عَمَلِهٖ۔
"مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔"
آپ بکریاں چراتے اور کنارۂ فرات پر تشریف رکھتے۔ آپ کا طریقہ زیادہ تر عزلت نشینی تھا۔
مشائخ کرام میں سے ایک راوی ہیں کہ جب میں فرات کے کنارے سے گزرا، حبیب کو
۱۔ اس حدیثِ پاک کا تفصیلی ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔
۲۱۱نماز میں پایا اور آپ کی بکریوں کی نگرانی بھیڑیا کر رہا تھا۔ میں نے کہا اس بزرگ کی زیارت کرنی چاہیے، اس میں علاماتِ ولایت پائے جاتے ہیں۔ میں ٹھہرا رہا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، میں نے سلام عرض کیا۔ آپ نے فرمایا: صاحبزادہ! کس کام سے ادھر آئے ہیں؟ میں نے عرض کی: حضور کی زیارت کے لیے۔ آپ نے فرمایا: جزاک اللہ۔
میں نے کہا: حضرت! یہ کیا معاملہ ہے کہ بھیڑیے اور بکریوں کو ایک جگہ دیکھ رہا ہوں؟ فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ بکریوں کا چرواہا اپنے ربّ کے ساتھ موافق ہے۔ یہ فرمایا اور اپنا پیالہ ایک پتھر کے نیچے رکھ دیا۔ اس پتھر سے دو چشمے جاری ہو گئے: ایک دودھ کا اور دوسرا شہد کا۔ میں نے یہ دیکھ کر عرض کیا: حضور! یہ درجہ کس عمل کے بدلہ میں حاصل کیا؟ فرمایا
بِمُتَابَعَةِ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللّٰهِ حضور سید یوم النشور ﷺ۔
پھر فرمایا: صاحبزادے! قومِ موسیٰ علیہ السلام جبکہ ان کی مخالف تھی تو پتھر نے انہیں پانی دیا تھا، حالانکہ موسیٰ علیہ السلام درجۂ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے برابر نہ تھے۔ پھر جبکہ میں حضور ﷺ کا پیرو کار ہوں تو پتھر مجھے کیوں نہ شیر و شہد دے؟ اور پھر محمد ﷺ تو موسیٰ علیہ السلام سے کہیں افضل و اعلیٰ مرتبہ پر ہیں۔ میں نے عرض کی: حضور! مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا
لَا تَجْعَلْ قَلْبَكَ صُنْدُوْقَ الْحِرْصِ وَبَطْنَكَ وِعَاءَ الْحَرَامِ۔
"اپنے دل کو حرص و ہوس کا صندوق نہ بنا اور اپنے شکم کو حرام کا برتن نہ کر۔"
اس لیے کہ ہدایتِ مخلوق انہی دو چیزوں میں ہے اور نجات انہی دو چیزوں سے مجتنب رہنے میں ہے۔ علاوہ اس کے میرے شیخ سے یہاں بہت سی روایات ہیں، لیکن میں اس وقت ضیق میں ہوں، اس وجہ سے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔ میری کتابیں غزنی میں رہ گئیں۔ اللہ اس شہر کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ میں اس وقت ہندوستان کے شہر لہانور میں ہوں جو مضافاتِ ملتان سے ہے اور ناجنسوں میں پھنسا ہوا ہوں۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ۔
حضرت ابو حازم مدنی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے پیرِ صالح حضرت ابو حازم مدنی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ بھی مشائخ کرام میں مقتدا مانے جاتے ہیں۔ آپ کو معاملاتِ عبادت میں خاص حصہ عطا ہوا اور میدانِ فقر میں آپ کا قدم بہت صحیح تھا اور آپ کے مجاہدات کی روش نہایت پاکیزہ تھی۔
۱۔ "لہانور" سے مراد شہر لاہور ہی ہے۔
۲۱۲اور حضرت عمرو بن عثمان مکی نے آپ کے حالات میں بہت کوشش کی ہے۔ آپ کے کلام و مضامین خواص میں مقبول ہیں اور آپ کے عملی جواہر پارے بہت سی کتابوں میں مشہور ہیں۔ اور عمرو بن عثمان روایت کرتے ہیں کہ آپ سے کہا گیا
مَا مَالُكَ؟ قَالَ: اَلرِّضَاءُ مِنَ اللّٰهِ وَالْغِنٰی عَنِ النَّاسِ۔
آپ کا خزانہ اور مال کیا ہے؟ فرمایا: میرا مال رضاءِ الٰہی ہے اور مخلوقات سے بے نیازی۔
جو اپنے ربّ سے راضی ہو گیا وہ مخلوقات سے مستغنی ہو گیا۔ اور مردِ کامل کا زبردست خزانہ رضائے مولا ہے اور اس میں اشارۂ غنا جو ہے وہ من جانب اللہ ہے۔ تو جو من جانب اللہ غنی ہوگا وہ یقیناً غیرِ خدا سے مستغنی ہوگا۔ اس کا راستہ بجز درگاہِ الٰہی کوئی نہیں، وہ خلاء و ملا میں بجز اپنے ربِّ حقیقی کے کسی کو نہیں پکارتا۔
مشائخ میں سے کسی نے کہا کہ میں حضرت ابو حازم کے پاس آیا، دیکھا کہ آپ سو رہے ہیں۔ میں کچھ دیر ٹھہرا رہا تاکہ وہ بیدار ہوں۔ تھوڑی دیر بعد آپ اٹھے، مجھے دیکھ کر فرمایا کہ میں نے حضور ﷺ کی زیارت کی، حضور ﷺ نے میرے ذریعہ آپ کو پیام فرمایا ہے کہ جاؤ ماں کی خدمت کرو، یہ حج سے بہتر ہے۔ یہ سنتے ہی میں واپس گھر آ گیا اور حج کو نہیں گیا۔ بس اس زائدان سے میری گفتگو نہیں ہوئی۔
حضرت محمد بن واسع رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے داعیِ اہلِ مجاہدت، قائم اندر مشاہدت حضرت محمد بن واسع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں۔ آپ اپنے زمانہ میں اپنی نظیر آپ ہی تھے اور آپ کو بہت سے تابعین (یعنی وہ جنہوں نے صحابہ کرام کی زیارت کی) کی صحبت کا شرف ملا اور بہت سے مشائخ آپ کو اپنا امام و پیشوا مانتے ہیں۔ رموزِ طریقت میں آپ پوری دستگاہ رکھتے تھے اور حقائقِ تصوف میں آپ کے خیالات بہت بلند تھے۔ آپ کے ارشادات جامع اور کامل ہوتے تھے۔ آپ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
مَا رَاَیْتُ شَیْئًا اِلَّا وَرَاَیْتُ اللّٰهَ فِیْهِ۔
"میں نے کوئی چیز نہ دیکھی مگر جو دیکھا اس میں جلوۂ الٰہی دیکھا۔"
اور یہ خاص مقامِ مشاہدہ ہے کہ بندہ غلبۂ محبتِ یار میں اس مقام پر پہنچ جائے کہ جب وہ فعل میں نظر ڈالے تو اسے فعل نہ سمجھے۔ جیسے کوئی تصویر کو دیکھے تو اس کی نظر مصور پر پڑتی ہے۔ اس مضمون کی حقیقت بموجب فرمانِ ابراہیم علیہ السلام ہے کہ جب آپ نے ماہتاب و آفتاب کو دیکھا
۲۱۳تو "ہٰذَا رَبِّیْ" فرمایا، اور جب ستارہ دیکھا تو "ہٰذَا رَبِّیْ"۔ اور یہ کہنا تمام تر غلبۂ شوق میں تھا کہ جس چیز کو دیکھا اس میں صفاتِ محبوب کا مشاہدہ کیا۔
اس لیے کہ جب محبانِ خاص عالم پر نظر ڈالتے ہیں تو ہر شے کو مقہور و قہر و اسیرِ سلطانِ دہر دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اس کے پردہ میں فاعلِ حقیقی کی قدرت کام کر رہی ہے۔ تو اس کی تلاش کرتے کرتے اپنے دل میں ہر چیز کو محض ناچیز یقین کر لیتے ہیں۔ اور جب محبوبانِ بارگاہ بچشمِ اشتیاق اس عالم پر نظر ڈالتے ہیں تو مقہور نہیں بلکہ سب کو قاہر دیکھتے ہیں اور مخلوق کو نہیں بلکہ سب میں جلوۂ خالق دیکھتے ہیں۔ اس بحث کو ہم بابِ مشاہدہ میں بیان کریں گے، اِنْ شَاءَ اللّٰه۔
اس مسئلہ میں ایک جماعت کو غلطی ہو گئی ہے اور وہ اس غلطی کے ماتحت کہتے ہیں کہ وہ مرد جس نے کہا: "رَاَیْتُ اللّٰهَ فِیْهِ" یعنی اللہ کو میں نے اس میں دیکھا، اس سے مکان اور حلول ثابت ہوتا ہے۔ اگر بالفرض کوئی کہے کہ مکان مخلوق ہے تو مکین بھی مخلوق ہوگا، اور اگر مکین قدیم ہو تو مکان بھی قدیم ماننا پڑے گا۔ اس میں دو فساد آتے ہیں: یا خلق کو قدیم کہا جائے، یا معاذ اللہ خالق کو محدث۔ اور یہ دونوں کفر ہیں۔
تو دیکھنے سے مراد ذاتِ حقیقی نہیں ہوگی بلکہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہر چیز میں نشانیِ قدرتِ الٰہیہ اور براہینِ فطرتِ قادریہ کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ اور یہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں۔ پھر اس بحث میں بڑے لطیف رموز و نکات ہیں جو اپنی جگہ پر ان شاء اللہ بیان کریں گے۔
حضرت ابو حنیفہ النعمان رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے امام الامان، مقتدائے سنیاں، شرفِ فقہاء، رئیس العلماء حضرت امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الخزاز رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ مجاہدات و عبادات میں نہایت ثابت قدم تھے اور طریقت کے اصول میں بڑے جلیل الشان عالم مانے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ ابتدائے زمانہ میں آپ نے عزمِ عزلت نشینی فرما لیا تھا اور مخلوقات سے علیحدگی فرمائی تھی۔ چاہتے تھے کہ مخلوقات سے علیحدہ ہو کر دل کو ریاست و جاہِ مخلوق سے پاک فرمائیں اور خالص ربِّ جل مجدہ کی اطاعت میں کمر بستہ ہوں۔ کہ ایک شب خواب میں دیکھا کہ حضور سید اکرم ﷺ کے استخوانِ مبارک لحدِ مبارک سے جمع کر کے ان میں سے بعض کو بعض پر ترجیح دے کر پسند کر رہے تھے۔ اس خواب سے اتنی ہیبت طاری ہوئی کہ بیدار ہو گئے اور سخت پریشان۔ آخر صحابہ کرام کے ایک تلامذہ میں سے حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ تھے، ان کی خدمت میں گئے اور خواب بیان کیا۔ آپ نے تعبیر دی کہ خوابِ مبارک ہے، تم
۲۱۴علمِ سید الانبیاء ﷺ حاصل کر کے محافظتِ سنت میں اعلیٰ درجہ پاؤ گے، بلکہ ان روایاتِ سنت میں نقد و تنقیح کر کے تصرف فرمانے کے مجاز ہو گے اور صحیح کو سقیم سے علیحدہ کرو گے۔
دوبارہ پھر خواب میں جنابِ رسالت مآب ﷺ کو دیکھا کہ حضور ﷺ فرما رہے ہیں: "ابو حنیفہ! تجھے اللہ نے میری سنت زندہ کرنے کے لیے بنایا ہے، گوشہ نشینی کا عزم نہ کر۔"
چنانچہ آپ نے خدمتِ دین شروع کر دی اور بڑے بڑے مشائخ کرام سے، مثلِ ابراہیم اور فضیل بن عیاض، داؤد طائی، بشر حافی رحمہم اللہ وغیرہم کے، استاد ہوئے۔ اور علاوہ اس کے آپ کے تورع اور اتقاء کے بہت سے واقعات علماء میں مشہور ہیں۔ چنانچہ بادشاہ ابو جعفر منصور کے عہد کا واقعہ مشہور ہے کہ اس نے چار آدمی اپنی سلطنت کے قضاۃ کے لیے خاص طور پر منتخب کیے اور فیصلہ کیا کہ ان میں سے ایک قاضیِ اسلام بنایا جائے
[i] امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ [ii] حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ [iii] حضرت مسعر ابن کدام رحمۃ اللہ علیہ [iv] حضرت شریح رحمۃ اللہ علیہ
اور یہ حقیقت ہے کہ یہ چاروں زبردست علماء میں سے تھے۔ ملازمین میں سے کسی کو حکم ملا کہ ان چاروں کو بلا لائے۔ جب ایلچی آیا، چاروں روانہ ہوئے۔ راستہ میں امام صاحب نے فرمایا کہ میں آپ حضرات کو کچھ باتیں کہوں جو فراستاً میرے ذہن میں آئی ہیں۔ سب نے جواب دیا کہ فرمائیں۔
آپ نے فرمایا: میں تو حیلہ سے اپنے کو عہدۂ قضا سے بچا لوں گا، اور مسعر دیوانہ بن کر بچ جائیں گے، اور سفیان دربار سے بھاگ جائیں گے۔ اب رہے شریح، یہ قاضی بنیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت سفیان تو راستے ہی سے بھاگے اور کشتی میں بیٹھ کر فرمانے لگے: مجھے چھپا لو کہ حکومت میرا سر کاٹنا چاہتی ہے۔ اور یہ جملہ حدیثِ سید اکرم ﷺ سے ماخوذ فرمایا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے
مَنْ جُعِلَ قَاضِیًا فَقَدْ ذُبِحَ بِغَیْرِ سِکِّیْنٍ۔
"جو قاضی بنایا گیا وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا۔"
ملاحوں نے آپ کو چھپا دیا اور یہ تینوں حضرات دربارِ ابو جعفر منصور میں پہنچے۔
۲۱۵ابو جعفر منصور نے خصوصیت سے حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ آپ کو منصبِ قضاء پر متمکن ہونا چاہیے۔ آپ نے فرمایا: امیر المومنین! میں عربی النسل نہیں بلکہ ان سے محبت رکھنے والا ہوں تو سادات عرب میرے حکم پر خوش نہ ہوں گے۔ ابو جعفر منصور نے کہا: حضرت! اس عہدہ کو نسب سے تعلق نہیں ہے، یہ عہدہ علم والے کو ملتا ہے۔ آپ نے فرمایا: پھر بات یہ ہے کہ میں اس منصب کے لائق نہیں اور سچ کہتا ہوں کہ لائق نہیں۔ پھر اگر میں سچ کہہ رہا ہوں تو ظاہر ہے کہ میں اس عہدہ کے لائق نہیں، اور اگر میں جھوٹ کہہ رہا ہوں تو ظاہر ہے کہ دروغ گو قاضیِ مسلمانان بننے کا کس طرح اہل ہو سکتا ہے؟ اور آپ کہ خلیفۂ الٰہی ہیں، کبھی روا نہیں رکھ سکتے کہ دروغ گو کو اپنا نائب بنائیں اور مسلمانوں کے خون، مال، عزت و روپیہ کا اس پر بھروسہ کریں۔ یہ فرمایا اور بموجب پیشگوئی نجات پا گئے۔
اب حضرت مسعر بن کدام کی باری آئی۔ آپ آگے بڑھے اور امیر المومنین ابو جعفر منصور کا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے: ابو جعفر! اچھی طرح ہو؟ تمہارے بچے بیوی تو اچھے ہیں؟ منصور نے یہ بے ربط کلام سن کر حکم دیا کہ اسے دربار سے نکال دو، یہ دیوانہ معلوم ہوتا ہے۔
اس کے بعد حضرت شریح کو فرمایا گیا کہ تمہیں منصبِ قضا پر آنا چاہیے۔ آپ نے کہا کہ میں سودائی آدمی ہوں، میرا دماغ کمزور ہے۔ منصور نے کہا علاج کرا لیں، عصار ہائے موافقہ اور نبیذ ہائے مثلث استعمال کریں، آپ کی عقل کامل ہو جائے گی۔ آخرش منصبِ قضا شریح کو دے دیا گیا۔
حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے اسی وقت شریح کو چھوڑ دیا اور کبھی ان سے کلام نہ فرمایا۔ اور یہ آپ کے کمالِ حال کی خاص نشانی تھی۔ ان میں دو علیحدہ علیحدہ شانیں نظر آئیں: ایک تو ان کی پیشگوئی کی صداقت کہ جیسا فرمایا ویسا ہوا، دوسرے اپنے کو صحت و سلامتی پر اتنا قائم رکھا کہ جاہ و اعزازِ خلقت کی پرواہ نہ کی۔
یہ ستون ایسے پایہ کے نکلے کہ کسی نہ کسی حیلہ سے مخلوق کو اپنے سے دور رکھ کر اتنے بڑے
۲۱۶منصب سے مجتنب ہو گئے۔ آج کے دن عام علماء و فضلاء اس قسم کے عمل اور ورع و تقویٰ کی پرواہ نہیں کرتے، اس لیے کہ وہ سب کے سب حرص و ہوس کے ساتھ وابستہ ہیں اور طریقۂ حق سے فرار شدہ ہیں۔ ان کے لیے امراء کے گھر بمنزلۂ قبلہ ہیں، ظالم اہلِ حکومت کی بارگاہ بیت المعمور ہے اور جابروں کے دربار میں ان کے فرش تک پہنچ جانا "قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی" ہے۔ کم نہیں سمجھتے اور جو کچھ ان کی مرضی کے خلاف بات ہو اس سے یہ پہلے منکر ہو جاتے ہیں۔
ایک دفعہ غزنی میں (خدا اس شہر کو محفوظ رکھے) علم و امامت کے مدعیوں میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ مرقعہ پہننا بدعت ہے۔ میں نے اسے جواب دیا کہ جبّہ، حشیش اور پوشاک دیبق جو خالص ابریشم سے تیار ہوتا ہے تمہارے اور تمام مردوں کے لیے شرعاً حرام ہے۔ تم ان عباؤں اور قباؤں کو ظالم جابر حکام سے خوشامد کر کے لیتے اور پہنتے ہو۔ اس میں اول تو خوشامد حرام، پھر ظالم سے لے کر حرام، پھر اس کا پہننا حرام۔ لیکن اسے تم پہنتے ہو اور کبھی اسے بدعت تک نہیں کہتے۔ برخلاف خرقہ کے کہ وہ جامہ حلال ہوتا ہے اور مالِ حلال سے خریدا جاتا ہے، اس کا پہننا کس طرح بدعت بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر تمہارے دلوں پر رغبتِ نفس غالب نہ ہو اور نفس کی گمراہی میں تم نہ پھنسے ہوتے تو اس کے بجائے کہ خرقہ کو بدعت کہہ دیا کوئی اچھی بات کہہ دیتے۔
عورتوں پر لباسِ ابریشم حلال ہے اور مردوں پر حرام اور دیوانوں پر مباح۔ اگر تم لوگ عورت یا دیوانہ ہو تو پھر تم معذور ہو۔ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ عَدَمِ الْاِنْصَافِ۔
حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت نوفل بن حیان رضی اللہ عنہ نے وفات پائی تو میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہے اور مخلوقات حساب و کتاب کے مقام پر کھڑی ہے۔ حضور سید یوم النشور ﷺ کو دیکھتا ہوں کہ حوضِ کوثر کے کنارے جلوہ فرما ہیں اور آپ کے بائیں طرف بہت سے مشائخ حاضر ہیں۔ ایک بزرگ معمر کو دیکھا کہ بہت خوبصورت ہیں اور آپ کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنا رخسارِ مبارک حضور ﷺ کے رُخِ اقدس پر رکھا ہوا ہے اور ان کے برابر حضرت نوفل بن حیان رضی اللہ عنہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے جیسے ہی مجھے دیکھا تو میری طرف آئے اور سلام فرمایا۔ میں نے انہیں کہا: مجھے پانی دیجیے۔ فرمایا: حضور ﷺ سے اجازت لے لوں، کہ حضور ﷺ نے انہیں انگلی سے اشارہ فرما کر پانی دینے کا حکم فرمایا۔ میں نے پانی پیا اور میرے ساتھی جو تھے انہیں پلایا۔ مگر وہ جام جس میں پانی ملا تھا، بدستور مملو ہی رہا، کچھ کم نہ ہوا۔
میں نے حضرت نوفل بن حیان سے پوچھا کہ یہ بزرگ سفید بالوں والے جو حضور
۲۱۷ﷺ کے داہنے جانب کھڑے ہیں کون ہیں؟ فرمایا: یہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا و علیہ السلام ہیں اور بائیں طرف جو کھڑے ہیں وہ صدیقِ اکبر خلیفۂ رسول رضی اللہ عنہ ہیں۔
اسی طرح میں پوچھتا رہا اور اپنی انگلیوں میں گنتا رہا حتیٰ کہ سولہ بزرگوں کو میں نے گنا۔ جب میں بیدار ہوا تو سولہ عدد پر میری انگلی میں گرہ کے نشان تھے۔
حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اَیْنَ اَطْلُبُكَ؟ قَالَ: عِنْدَ عِلْمِ اَبِیْ حَنِیْفَةَ۔ "حضور! میں حضور کو کہاں تلاش کروں؟ فرمایا: ابو حنیفہ کے علم کے نیچے۔"
غرضیکہ حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے ورع و تقویٰ میں اس قدر مناقب ہیں کہ یہ کتاب ان کی متحمل نہیں۔
میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) ایک بار شام میں تھا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ مؤذنِ حضور اکرم ﷺ کے مزار کے سرہانے سو رہا تھا کہ اپنے آپ کو مکہ میں دیکھا اور اسی خواب میں دیکھا کہ سرکارِ مدینہ ﷺ بابِ بنی شیبہ سے تشریف لا رہے ہیں اور ایک بزرگ معمر کو اپنے پہلو میں اس طرح لے رکھا ہے جیسے بچوں کو شفقت سے لیتے ہیں۔
میں فرطِ محبت سے دوڑا اور حضور ﷺ کے پائے اقدس کو چومنے لگا اور میں اس تعجب میں تھا کہ یہ معمر حضور ﷺ کے اتنے محبوب کون ہیں!! حضور ﷺ میرے تعجب کو نورِ نبوت سے سمجھ گئے۔ مجھے فرمانے لگے: یہ تیرا امام ہے اور تیرے شہر کے لوگوں کا امام ہے، یعنی ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ۔ مجھے اس خواب کے بعد اس ہستیِ پاک کے ساتھ امیدِ قوی ہے اور میرے اہلِ شہر بھی بالخصوص امیدوار ہیں اور اس خواب سے میرا یہ خیال بھی صحیح ہو گیا کہ حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ انہیں پاک ہستیوں میں سے تھے جو اوصافِ طبع سے فانی اور احکامِ شرع کے ساتھ باقی و قائم ہیں۔ اس لیے ان کے چلانے والے حضور سید یوم النشور ﷺ ہیں۔ اگر آپ خود چلتے تو باقی الصفت ہوتے اور باقی الصفت یا تخطی ہوتا ہے (یعنی ارادۂ صواب کرے گا مگر بلا ارادہ خطا ظاہر ہو جائے) یا مصیب ہوتا ہے (یعنی حقیقتِ معاملہ کو اچھی طرح پہنچنے والا)۔
اور جب ان کے قائد خود حضور ﷺ ہیں تو فانی الصفت ہوئے اور نبی کی صفتِ بقا سے قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر سے صدورِ خطا ناممکن ہے جو اس ذات کے ساتھ قائم ہے، اس سے بھی خطا نہیں ہو سکتی۔ یہ در حقیقت ایک نہایت لطیف رمز ہے۔
مروی ہے کہ جب حضرت داؤد طائی رضی اللہ عنہ علمِ دین حاصل فرما کر پیشوا بن چکے اور
(صفحہ 217 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، اگلا حصہ صفحہ 218 پر ہے۔)
۲۱۸منصبِ افتاء حاصل کر لیا تو حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اب مجھے کیا حکم ہے؟ امام صاحب نے فرمایا
عَلَیْكَ بِالْعَمَلِ فَاِنَّ الْعِلْمَ بِلَا عَمَلٍ كَالْجَسَدِ بِلَا رُوْحٍ
"اب تم پر عمل لازم ہے، اس لیے کہ علم بلا عمل ایسے ہے جیسے جسم بلا روح۔"
جب تک علم عمل کے ساتھ نہ ہو، صاف نہیں ہوتا اور نہ بغیر عمل زمانہ سے مخلصی ملتی ہے، اور جو مجرد علم پر قناعت کرے وہ عالم نہیں ہے۔ اس لیے کہ عالم مجرد علم پر قانع نہیں ہوتا اور علم کا جو عین ہے وہ خود عمل کا متقاضی ہے۔ جس طرح ہدایت، مجاہدہ کی متقاضی ہے یا جیسے مشاہدہ بلا مجاہدہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح علم بے عمل نہیں آتا اور علم میراثِ عمل ہے اور علم کا فائدہ اور اس کا انکشاف عمل کی برکت سے حاصل ہوتا ہے۔ غرضیکہ کسی صورت میں علم کو عمل سے جدا نہیں کرنا چاہیے، جیسے نور و آفتاب کو آفتاب سے علیحدہ نہیں کر سکتے۔ اور ابتدائے کتاب میں ہم نے بیانِ علم پر ایک مختصر باب لکھ دیا ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
حضرت عبد اللہ بن المبارک رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے سیدِ زہاد، قائد اوتاد حضرت عبد اللہ بن المبارک مروزی ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ آپ کا وجود اپنے زمانہ میں محسنان قوم میں سے تھا اور شریعت و طریقت کے احوال و اسباب و اقوال میں آپ کو امامِ وقت مانا گیا۔ آپ نے بڑے بڑے مشائخ کرام و صوفیائے عظام کی زیارت فرمائی اور ان کے فیضِ صحبت سے مستفیض ہوئے۔ آپ کی تصانیف ہر علم و فن میں مشہور اور کرامتیں مذکور ہیں۔
ابتدائی دور آپ کا ایسا تھا کہ آپ ایک کنیز پر فریفتہ تھے اور اتنے دلدادہ تھے کہ ایک رات مستانہ وار اٹھے اور ایک اپنے ہم چشم کو ساتھ لے کر اپنی معشوقہ کے مکان کے زیرِ دیوار کھڑے ہو گئے۔ معشوقہ بھی آپ کی فریفتہ تھی، وہ وقتِ معہودہ پر برسرِ بام آ گئی اور تمام شب یہ اسے دیکھتے رہے، وہ انہیں دیکھتی رہی۔ تمام شب گزر گئی۔
جب صبح کی اذان کی آواز آئی، ابن مبارک کو خیال آیا کہ عشاء کی اذان ہو رہی ہے مگر جب دن نکل آیا تو سمجھ گئے کہ یہ عشاء کی نہیں فجر کی اذان تھی اور میں نے تمام شب حسن پرستی معشوقہ میں گزار دی۔ نفسِ لوامہ نے ملامت کی، آپ کو محسوس ہوا اور دل سے کہنے لگے: تجھے شرم کرنی چاہیے کہ تمام رات محض ہوائے نفسانی کو پورا کرنے کو تو نے ایک پاؤں کھڑے ہو کر گزار دی، اس پر خواہش ہے کہ اعزازِ اخروی حاصل کرے۔ اگر یہ شب نماز میں طویل سورت شروع کر کے
۲۱۹اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہوتا تو دیوانہ وار خود رفتہ ہو جاتا۔ ابن مبارک! اس پر دعویٰ ایمان!!
پس یہ مکالمہ دل سے کر کے آپ نے فی الفور توبہ کی اور ایسی توبہ کی کہ اس کے بعد آپ کے اوقات علم اور طلبِ حق میں صرف ہوئے اور زہد و دیانت میں یہ درجہ پایا کہ ایک بار آپ کی والدہ باغ میں گئیں اور آپ کو باغ میں سویا ہوا دیکھا۔ قریب پہنچیں تو دیکھتی ہیں کہ ایک بہت بڑا سانپ شاخِ گل منہ میں لے کر آپ کے سرہانے مگس رانی کر رہا ہے۔ اس زمانہ میں آپ مقامِ مرو میں تھے۔ اس کے بعد آپ یہاں سے بغداد شریف چلے آئے اور بزرگانِ عظام کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے، پھر کچھ عرصہ مکہ معظمہ میں حاضر رہے، بعد ازاں پھر مرو واپس آ گئے۔
لوگوں کو معلوم ہوا تو برائے زیارت حاضر آئے اور ایک درس آپ کے لیے قائم کیا گیا اور ایک مجلسِ خاص آپ کے فیضِ صحبت سے استفادہ کرنے کو قائم ہو گئی۔ مرو میں مسلمانوں کے اندر کچھ لوگ عقلی دلائل کے ماتحت اپنی رائے کے مطابق عمل کرنے والے تھے اور کچھ لوگ فرمانِ رسالت مآب ﷺ پر عامل تھے۔ اب تک ان کا یہی رویہ ہے۔ ان لوگوں کو "رضی الفریقین" کہتے ہیں، اس لیے کہ دونوں فریق باہم موافق تھے۔ پھر آپ نے یہاں دو مسافر خانے بنوائے: ایک ان لوگوں کے لیے جو حضور ﷺ کے حکم کے ماتحت عمل کرتے تھے، دوسرا ان کے لیے جو اپنی رائے اور عقل کی روشنی میں چلتے تھے۔ چنانچہ آج تک یہ دونوں لوگ وہاں موجود ہیں اور اصلی عقیدہ میں دونوں متحد اور ایک عقیدہ پر قائم ہیں۔
بعد ازاں آپ وہاں سے پھر حجاز تشریف لے آئے اور یہاں ہی ہمیشہ کے لیے رہ گئے۔ لوگوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ نے عجائباتِ عالم میں سے کیا چیز خاص دیکھی؟ فرمایا: ایک راہب دیکھا (راہب نصاریٰ کے زاہد کو کہتے ہیں جو تارک الدنیا ہو) جو اپنے طریقہ کے مجاہدہ و ریاضت میں گھل کر زار و نزار ہو چکا تھا اور خوفِ الٰہی سے اس کی کمر اتنی جھک گئی تھی کہ دوہرا ہو گیا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا
یَا رَاهِبُ! كَیْفَ الطَّرِیْقُ اِلَی اللّٰهِ؟ فَقَالَ: لَوْ عَرَفْتَ اللّٰهَ لَعَرَفْتَ الطَّرِیْقَ اِلَیْهِ۔ فَقَالَ: اَعْبُدُ مَنْ لَا اَعْرِفُهُ وَتَعْصِیْ مَنْ تَعْرِفُهُ۔
"اللہ تعالیٰ تک رسائی کا کون سا راستہ ہے؟ کہنے لگا: اگر تو اللہ کو پہچان لے گا، اس کے راستہ کو بھی جان لے گا۔ (پھر) کہنے لگا: میں اس کا پرستار ہوں جسے آج تک نہیں پہچانا اور تو اس کی نافرمانی کر رہا ہے جسے تو جانتا ہے۔"
۲۲۰یعنی معرفتِ ذات مقتضیِ خوف ہے اور میں تجھے بے خوف اور بے غم پاتا ہوں اور بے خوفی مقتضیِ کفر و جہل ہے۔ اس جواب سے میں نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا اور اس کے الفاظ نے مجھ پر یہ اثر کیا کہ بہت سے ناکردنی افعال سے رکا رہا۔
آپ سے ایک روایت ہے کہ آپ نے فرمایا
اَلسُّكُوْنُ حَرَامٌ عَلٰی قُلُوْبِ اَوْلِیَائِهٖ۔
"محبوبانِ بارگاہ کے قلوب پر سکون حرام ہے۔"
اس لیے ان کے دل سکون میں نہیں ہوتے۔ دنیا میں ان کا اضطراب طلبِ جمال کے لیے رہتا ہے اور عقبیٰ میں ان کا اضطراب طربِ بے کیف کی وجہ میں۔ چونکہ دنیا میں وہ جلوۂ یار سے غیبت میں رہنے کی وجہ سے مضطر رہتے ہیں اور عقبیٰ میں وصلِ بے کیف کے باعث۔ تو خلاصہ یہ نکلا کہ ان کی دنیا مثلِ عقبیٰ کے ہے اور عقبیٰ مثلِ دنیا کے۔ اس لیے کہ سکونتِ دل کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں: یا حصولِ مقصود یا مراد پانے سے غفلت، اور یہ لوگ ان دونوں چیزوں کو روا نہیں رکھتے۔ ☆
ان کا مقصد یہ ہے کہ خفقانِ محبت کو سکون ہی نہ ملے اور غفلت، محبانِ الٰہی کے یہاں حرام ہے، اس لیے کہ غفلت آئی اور حرکاتِ طلب میں سکون ہوا، اور وہ اضطرار و اضطراب طلب سے دل میں سکون پسند نہیں کرتے۔ اس بحث میں اہلِ طریقت محققین کے بہت قوی دلائل ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ
انہیں میں سے شاہِ اہلِ حضرت، بادشاہِ درگاہ و صلت ابو علی الفضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ بھی "صعالیک" قوم میں سے تھے اور اکابر صوفیا سے گزرے ہیں۔ آپ کو اعمال و عبادات سے خاص حصہ عطا ہوا تھا اور ارباب طریقت میں ایک مشہور صوفی مانے گئے۔
آپ کی بھی ابتدائی کیفیت عیاری و راہزنی میں رہی۔ مرو سے باورد کے مابین ان کا محافظ قزاقی تھا، لیکن طبیعت کی خوبی اس وقت بھی اتنی تھی کہ آپ کو جوانمرد اور رحم دل، صلح پسند و بلند ہمت کہا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ جس قافلہ میں نسوانی طبقہ ہوتا اسے لوٹنا برا جانتے تھے، اس کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہ فرماتے اور جس کے پاس کالائے سفر یا سرمایۂ زاد و راہ کم ہوتا اس سے کچھ نہ لیتے بلکہ متمول کو اگر لوٹتے تو اتنا مال ضرور چھوڑ دیتے جس سے وہ اپنا سفر پورا کر سکے۔
آخر کار ایک سوداگر مرو سے روانہ ہوا۔ لوگوں نے اسے کہا کہ راستہ میں فضیل راہزن
☆ دو گونہ رنج و عذاب است جانِ مجنون را ۔ بلا فرقتِ لیلیٰ و صحبتِ لیلیٰ
۲۲۱ہے۔ اس کے لیے کچھ بدرقہ لے جاؤ (یعنی اس کے مقابلہ کا انتظام کر کے جاؤ)۔ سوداگر نے کہا: میں نے اس کی راہزنی کے ساتھ یہ بھی سنا ہے کہ وہ خدا ترس آدمی ہے، اس لیے کسی خاص انتظام کی حاجت نہیں۔ صرف ایک قاری صاحب کو کچھ روزینہ مقرر کر کے ساتھ لے لیا ہے اور اونٹ پر بٹھا کر کہہ دیا ہے کہ آپ راستہ بھر تلاوتِ قرآنِ مجید شب و روز فرمائیں۔ غرضیکہ قافلہ اس جنگل میں آ گیا جہاں فضیل کی کمیں گاہ تھی۔
قافلہ دیکھتے ہی فضیل گھات میں لگے اور قافلہ کے قریب پہنچے۔ اتفاقاً اس وقت قاری کی زبان پر یہ آیتِ کریمہ آ گئی
﴿اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ﴾
"کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر اور یاد سے خشوع و خضوع حاصل کریں۔"
اس آیت کے سنتے ہی فضیل رضی اللہ عنہ کے دل میں رقّت محسوس ہوئی اور آفتابِ ہدایت و رحمت ان کی پیشانی پر تاباں ہوا۔ انہوں نے رہزنی کے ایام میں جن جن پر غارت کی تھی سب کی فہرست بنا رکھی تھی۔ اسی وقت توبہ کی اور جن جن کا مال لوٹا تھا انہیں راضی کر کے معافی لی اور مرو سے روانہ ہو کر بیت اللہ شریف کے مجاور بن گئے۔ یہاں بڑے بڑے بزرگانِ دین اور عرفائے کاملین کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے۔ پھر کوفہ میں آ کر حضرت امام ہمام ابو حنیفہ النعمان رضی اللہ عنہ کی صحبت سے ایک مدت تک متمتع رہے۔ آپ ہی سے فنِ حدیث میں بڑی بڑی بلند روایات منقول ہیں اور فنِ تصوف و معرفت میں بہت سے بلند کلام مشہور ہیں۔ آپ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
مَنْ عَرَفَ اللّٰهَ حَقَّ مَعْرِفَتِهٖ عَبَدَهٗ بِكُلِّ طَاقَتِهٖ
"جو اللہ تعالیٰ کا عرفان کامل کر لے وہ ضرور اپنی تمام ہمت و قوت اس کی پرستش میں صرف کرے گا۔"
اس لیے کہ جو بھی عارفِ الٰہی ہو جائے گا، وہ یقیناً اس کے انعام و احسان کو جان لے گا اور اس کی رافت و رحمت سے واقف ہوگا، پھر جب اسے جان لے گا اس کا یقیناً دوست بن جائے گا اور جب دوست بنے گا تو دوست کی پیروی بحد استطاعت لازمی کرے گا، اس لیے کہ حکمِ محبوب محبت پر دشوار و بارِ گراں نہیں ہوا کرتا۔
۲۲۲تو جس کی دوستی جس سے زیادہ ہوگی، حرصِ اطاعت بھی اس میں بڑھ جائے گی اور ازدیادِ محبت حقائقِ معرفت میں سے ہے۔ جیسا کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے۔ آپ فرماتی ہیں کہ ایک شب حضور ﷺ میرے پاس سے اٹھے اور میری نظروں سے اوجھل ہوئے۔ مجھے وہم ہوا کہ شاید حضور ازواج کے کسی کمرہ میں تشریف لے گئے ہیں۔ میں حضور ﷺ کے پیچھے پیچھے چلی، مسجد میں آئی تو میں نے حضور ﷺ کو نماز میں قیام فرما دیکھا اور اشکباری میں تمام شب گزر گئی۔ صبح کو بلال آئے، فجر کی اذان دی مگر حضور ﷺ بدستور نماز میں اشکباری کے ساتھ مشغول تھے۔
جب جماعت سے فارغ ہو گئے تو حضور ﷺ حجرہ میں تشریف لائے۔ میں نے دیکھا کہ پائے اقدس اس قدر متورم ہیں کہ انگلیوں سے شقاق ہو کر زرد پانی جاری ہے۔ میں رونے لگی اور عرض کی: حضور ﷺ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب خواص کے اول و آخر تمام گناہ معاف فرما دیے، پھر اس قدر غم کیسا! چھوڑیے، یہ کام وہ کرے گا جسے اپنی عاقبت کے امن کا خطرہ ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! یہ میرے ربّ کا فضل ہے کہ اس نے مجھے یہ منصبِ جلیل عطا فرمایا
اَفَلَا اَكُوْنُ عَبْدًا شَكُوْرًا
"تو کیا مجھے اس کی بارگاہ میں شکر گزار بندہ نہ ہونا چاہیے؟"
جبکہ اس نے مجھ پر کرم فرمایا، مژدۂ بخشش سنایا، تو کیا تم یہ چاہتی ہو کہ میں عبادت و شکر بھی نہ کروں اور اپنی استطاعت و قوت کے موافق استقبالِ نعمت بھی نہ کروں۔
۲۲۳یہی وجہ ہے کہ حضور سرورِ عالم ﷺ نے لیلۃ المعراج میں پچاس نمازیں قبول فرما لیں اور وہ حضور ﷺ کو قطعاً گراں نہ گزریں، حتیٰ کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے عرض کرنے سے حضور ﷺ محض امت کی خاطر واپس تشریف لے گئے اور پچاس کی، پانچ نمازیں کرالائے۔ اس لیے کہ اس ہستیِ مقدس کی طبعِ مقدسہ فرمانِ محبوب کے ساتھ کسی مخالفت کی روادار نہ تھی
لِاَنَّ الْمَحَبَّةَ هِیَ الْمُوَافَقَةُ۔
"اس لیے کہ محبت نام ہی موافقتِ محبوب کا ہے۔"
حضرت فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا
اَلدُّنْیَا دَارُ الْمَرْضٰی وَالنَّاسُ فِیْهَا كَالْمَجَانِیْنِ وَلِلْمَجَانِیْنِ فِیْ دَارِ الْمَرْضٰی اَلْغُلُّ وَالْقَیْدُ۔
"دنیا بیمار خانہ ہے اور لوگ اس میں پاگلوں کی طرح آباد ہیں اور ظاہر ہے کہ پاگلوں کے لیے زنجیر و قید ہوتی ہیں تو ہماری خواہشاتِ نفسانیہ ہمارے لیے بیڑیاں ہیں اور ہماری معصیت شعاریاں ہماری قید۔"
حضرت فضل بن ربیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ہارون رشید کے ہمراہ مکہ معظمہ میں تھا۔ جب حج کیا تو مجھے کہنے لگے اس جگہ مردانِ خدا میں سے کوئی خدا کا بندہ ہو تو اس کی زیارت کریں۔ میں نے عرض کی: ہاں! حضرت عبد الرزاق صنعانی رحمۃ اللہ علیہ اس جگہ ہیں۔ ہارون رشید نے کہا: چلو مجھے ان کی خدمت میں لے چلو۔ ہم ان کے پاس پہنچے اور تھوڑی دیر باتیں ہوتی رہیں۔ جب رخصت ہونے لگے تو ہارون رشید نے میرے ذریعہ دریافت کرایا کہ آیا آپ پر کچھ قرض ہے؟ تو فرمائیں تاکہ ادا کر دیا جائے۔ آپ نے فرمایا: ہاں کچھ مقروض ہوں۔ مختصر یہ کہ بحکم ہارون رشید وہ قرض ادا کر دیا گیا۔ جب باہر آ گئے تو ہارون نے مجھ سے کہا: فضل! ابھی میرا دل کسی، ان سے زیادہ رفیع الشان مقربِ بارگاہ کی زیارت کا متقاضی ہے۔ میں نے کہا حضرت سفیان بن عیینہ بھی یہاں ہیں۔ ہارون نے کہا چلو۔ چنانچہ وہاں پہنچے، تھوڑی دیر فیضِ صحبت سے مستفید ہو کر رخصت ہونے لگے اور حسبِ سابق میرے ذریعہ یہاں بھی سوالِ قرض داری کا کیا گیا۔ آپ نے بھی اپنا مقروض ہونا ظاہر کیا اور بموجب حکمِ شاہی وہ ادا کر دیا گیا۔ باہر آ کر ہارون مجھ سے کہنے لگے: فضل! ابھی میرے دل کا مقصد حل نہیں ہوا کہ اچانک مجھے یاد آ گیا کہ فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ بھی یہاں ہی ہیں۔ میں ہارون کو ان کی خدمت میں لے گیا۔ آپ بالا خانہ کے حجرہ میں تلاوتِ قرآن فرما
۲۲۴رہے تھے۔ ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ نے اندر سے دریافت فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا امیر المومنین ہیں۔ فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے جواب سن کر فرمایا: مجھ سے اور امیر المومنین سے کیا تعلق؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! حضور ﷺ کی حدیث ہے جس میں ارشاد ہے
لَیْسَ لِلْعَبْدِ اَنْ یُذِلَّ نَفْسَهٗ فِیْ طَاعَةِ اللّٰهِ۔
"بندہ کو یہ زیبا نہیں کہ اطاعتِ الٰہی میں اپنے کو ذلیل کرے۔"
آپ نے فرمایا
بَلٰی، اَمَّا الرِّضَاءُ فَبِعِزٍّ دَائِمٍ عِنْدَ اللّٰهِ۔
"ٹھیک ہے مگر رضائے مولا میں رہنا دوامی عزت ہے۔"
اس رضا کے اہل کے نزدیک تو میری ذلت دیکھ رہا ہے، اور میں ربِّ جل و تعالیٰ کے حکم کے آگے راضی ہو کر ہمیشہ کی عزت پاتا ہوں۔ پھر آپ نیچے تشریف لائے اور دروازہ کھول کر چراغ گل فرما دیا اور ایک گوشہ میں حجرہ کے اندر تشریف فرما ہو گئے۔ ہارون اندھیرے میں آپ کو ڈھونڈنے لگے۔ آخر حضرت فضیل پر ہارون کا ہاتھ جا پڑا۔ حضرت فضیل نے فرمایا وہ ہاتھ جس سے زیادہ نرم میں نے نہیں دیکھا، اگر عذابِ الٰہی سے نجات یافتہ ہے تو بہت ہی اچھا ہے۔ ہارون رشید سن کر رو پڑے اور اتنے روئے کہ بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا عرض کی: حضور! مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: اے امیر المومنین! تمہارے باپ حضور ﷺ کے چچا تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ سے درخواست کی تھی کہ مجھے کسی ایک قوم کا امیر بنا دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: چچا! میں نے آپ کے ایک ایک سانس کو آپ کی دنیائے جسم کا امیر بنایا۔ یعنی آپ کا ایک ایک سانس جو اطاعتِ الٰہی میں گزرے وہ مخلوقات کی اطاعت سے تمہارے لیے بہتر ہے۔ لِاَنَّ الْاِمَارَةَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ النَّدَامَةُ۔ "اس لیے کہ امارت سے قیامت کے روز ندامت کچھ حاصل نہیں۔"
ہارون عرض کرنے لگے: حضور! کچھ اور بھی فرمائیں۔ حضرت فضیل نے فرمایا: جب عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کو مسندِ خلافت پر متمکن کیا تو آپ نے حضرت سالم بن عبد اللہ اور رجاء بن حیوۃ اور محمد بن کعب القرظی رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بلا کر عرض کی کہ میں اس بلا میں مبتلا ہو گیا ہوں، اب بتایئے ان بلاؤں کا علاج میرے لیے کیا ہے؟ میں در حقیقت اس منصب کو بلا سمجھتا ہوں اگرچہ عوام اسے نعمت جانیں۔ ان حضرات میں ایک صاحب فرمانے لگے کہ امیر المومنین! اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ کل روزِ قیامت عذاب سے مامون رہیں تو ہماری اس نصیحت پر عمل پیرا ہو جائیں
معمر مسلمانوں کو باپ کی طرح بانگاہِ عزت دیکھو۔
۲۲۵جوان مسلمان کو مثلِ بھائی کے برتو۔ مسلمانوں کے بچوں کو بیٹوں کی طرح سمجھو۔
پھر انہیں باپ، بھائی، بیٹوں کی طرح سمجھنا ہی کافی نہیں بلکہ ان کے ساتھ معاملہ بھی باپ، بیٹوں، بھائیوں کا سا رہے۔ پھر یقیناً دیارِ اسلامیہ گھر کی طرح ہوں گے اور اہل و عیال کا سا برتاؤ تیرے ساتھ رہے گا۔ اور بموجبِ حکمِ حدیث نبی کریم ﷺ آپ کی حکومت قائم ہوگی جیسا کہ ارشاد ہے
زُرْ اَبَاكَ وَاَكْرِمْ اَخَاكَ وَاَحْسِنْ عَلٰی وَلَدِكَ۔
"اپنے باپ کی زیارت کر اور بھائی کے ساتھ احترام سے پیش آ اور اولاد کے ساتھ نیک برتاؤ کر۔"
پھر حضرت فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ نے ہارون کو فرمایا: امیر المومنین! مجھے خوف ہے کہ یہ آپ کا حسین رُخِ زیبا کہیں دوزخ کی آگ میں نہ جھلسے۔ لہٰذا آپ سب سے زیادہ خوفِ الٰہی رکھیں اور اس کے احکام کے حقوق اس وقت سے زیادہ بہترین صورت میں ادا کریں۔ اس کے بعد امیر المومنین ہارون رشید نے عرض کی: حضرت! آپ پر کچھ قرضہ تو نہیں؟ حضرت فضیل نے فرمایا: ہاں قرضہ ہے مگر وہ تیرے ادا کرنے کا نہیں۔ مجھ پر اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی پیروی کا قرضہ ہے۔ اگر اس قرضہ میں وہ مجھے پکڑ لے تو مجھے افسوس ہی افسوس ہے۔ ہارون رشید عرض کرنے لگے: حضرت! میں تو لوگوں کے قرض کے متعلق استفسار کر رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا اللہ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس کی طرف سے مجھے بے حد نعمتیں مل رہی ہیں، مجھے ہرگز اپنے رزاقِ حقیقی کا شکوہ نہیں جو میں بندوں سے کرتا رہوں۔
ہارون رشید نے ہزار دینار پیش کیے اور عرض کی یہ قبول فرمائیں اور اپنی ضرورتوں میں صرف کریں۔ حضرت فضیل فرمانے لگے: امیر المومنین! میری کوئی نصیحت تم پر کارگر نہ ہوئی اور ابھی سے ظلم و جور اور ریاکاری شروع کر دی۔ ہارون کہنے لگے: حضور! میں نے کیا ظلم کیا؟ فرمایا: میں نے تجھے نجات کی طرف بلانا چاہا، تو نے مجھے بلا میں پھانسنے کا ارادہ کیا، یہ ظلم نہیں تو کیا ہے۔
مختصر یہ کہ ہارون اور فضیل رحمہما اللہ دونوں روتے ہوئے رخصت ہوئے۔ حضرت فضل بن ربیع فرماتے ہیں کہ باہر آ کر ہارون نے مجھ سے کہا: اے فضل! فرشتہ خصلت صوفی اگر ہے تو یہ ہے۔ یہ شانِ بے نیازی اور یہ رعب و داب ان کے کمالِ ولایت کی دلیل ہیں۔ ان کی نظر میں دنیا اور اہلِ دنیا ہی جو حقارت ہے اس کی نظیر وہی حضرت فضیل ہیں اور زینتِ دنیا سے منافرت اور
۲۲۶اہلِ دنیا کی تواضع سے بے پرواہی جو میں نے ان میں پائی اس کی مثال بھی یہی خود ہیں۔
علاوہ ازیں حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے بہت سے مناقب و پاک حالات ہیں، مگر یہاں مختصراً اسی پر اکتفا کیا گیا۔
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سفینۃ التحقیق و کرامت، شمشیرِ شرف و ولایت ابو الفیض حضرت ذوالنون بن ابراہیم مصری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ نہایت خوش خلق تھے، آپ کو "ثوبان" کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ خاندانی حیثیت سے عالی اور اہلِ طریقت میں عارف اور صوفیِ کامل مانے گئے ہیں۔ آپ طریقۂ ملامتیہ پر تھے۔ اسی وجہ سے اہلِ مصر کی نظروں سے آپ کے مناصبِ عالی مخفی رہے۔
کوئی آپ کو بری نظر سے دیکھتا، کوئی معمولی آدمی سمجھتا۔ غرضیکہ جب تک آپ مصر میں رہے کسی نے آپ کے حالِ باطن اور جمالِ ایمانی کو نہ پہچانا۔ جب آپ کی رحلت ہوئی اور جس رات دنیا سے کوچ فرمایا تو شہر کے ستر آدمیوں نے حضور ﷺ کی خواب میں زیارت کی اور یہ فرماتے سنا کہ: "اللہ کا دوست ذوالنون مصری آ رہا ہے، ہم اس کے استقبال کو آئے ہیں۔"
جب وفات ہو گئی تو آپ کی پیشانی پر بخطِ جلی لکھا ہوا پایا
"هٰذَا حَبِیْبُ اللّٰهِ مَاتَ فِیْ حُبِّ اللّٰهِ قَتِیْلُ اللّٰهِ۔"
"یہ خدا کا محبوب ہے۔ اللہ کی محبت میں وفات پائی، یہ قتیلِ اللہ ہے۔"
جب آپ کا جنازہ اٹھایا گیا تو مرغانِ ہوائی آپ کے جنازہ پر اس طرح چھا گئے کہ پر سے پر ملا کر مثلِ ابر، سایہ کناں تھے۔ اہالیانِ مصر نے جب آپ کا یہ درجۂ رفیع دیکھا تو پچھتائے اور جو لوگ آپ کو بری نظر سے دیکھتے تھے تائب ہوئے۔
آپ کی تعلیمات اور حقائقِ علوم میں کافی نہایت نفیس بیانات موجود ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں
اَلْعَارِفُ كُلَّ یَوْمٍ اَخْشَعُ لِاَنَّهٗ فِیْ كُلِّ سَاعَةٍ مِنَ الرَّبِّ اَقْرَبُ۔
"ہر روز عارفِ کامل خاشع و ترساں رہتا ہے اس لیے کہ اس کی ہر ساعت تقرب مرتبۂ قرب میں قریب تر ہوتی ہے۔"
اور ظاہر ہے کہ جو شخص بارگاہ میں قریب تر ہوتا جائے گا لا محالہ شیونِ جبروتی کا تحیر بڑھتا رہے گا اور جتنا تحیر ترقی افزاء ہوگا، خشوع و خضوع ترقی کرے گا اور جلالِ حق اس پر اور اس کے دل پر مستولی ہوتا جائے گا۔
۲۲۷تو پھر وہ اپنے کو اتنا اجنبی اور بعید دیکھتا ہے کہ آرزوئے وصل بھی فنا ہو جاتی ہے اور خشوع پر خشوع زیادہ ہونے لگ جاتا ہے۔ چنانچہ موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام نے بحالتِ مکالمہ جنابِ باری سے عرض کیا
اَیْنَ اَطْلُبُكَ؟ قَالَ: عِنْدَ الْمُنْكَسِرَةِ قُلُوْبُهُمْ۔
"الٰہی! میں تجھے کہاں تلاش کروں؟ فرمانِ الٰہی ہوا: ٹوٹے دلوں میں۔" اور ان میں جو قیدِ عشق سے اپنے کو مایوس کر چکے ہیں۔ ☆
موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: الٰہی! مجھے میرے دل سے زیادہ کوئی نا امید تر اور شکستہ نظر نہیں آتا۔ تو ارشادِ باری ہوا کہ موسیٰ! پھر میں وہیں ہوں جہاں تو ہے۔ خلاصہ یہ نکلا کہ جس میں ترس و خشوع نہیں اس کا دعویٔ عرفان جہالت خالص ہے، اسے عارف نہیں کہہ سکتے۔
اس لیے کہ حقیقتِ معرفت کے لیے علاماتِ صدق، ارادت لازمی ہے اور ارادتِ صادق بندۂ کامل کے اسباب و انساب کو قطع کرنے کی طرف آمادہ کرتی ہے۔ اسے سوائے اپنے ربِّ جل مجدہ کے کسی سے تعلق و نسبت نہیں رہتی۔ جیسا کہ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
اَلصِّدْقُ سَیْفُ اللّٰهِ فِیْ اَرْضِهٖ مَا وُضِعَ عَلٰی شَیْءٍ اِلَّا قَطَعَهٗ۔
"سچائی ایسی شمشیرِ الٰہی ہے کہ روئے زمین پر کوئی چیز اس کے سامنے نہیں ہوتی مگر اسے کاٹ دیتی ہے۔"
اور صدق رویتِ مسبب کی طرف ہے نہ کہ اسباب سببی کی طرف اور جب سبب ثابت ہو گیا، حکمِ صدق ساقط ہو گیا۔ ایک حکایت میں ہے کہ حضرت ذوالنون رحمۃ اللہ علیہ اپنے یارانِ طریقت کے ساتھ کشتی میں تشریف فرما تھے اور رودِ نیل کی سیر میں مشغول تھے جیسا کہ اہلِ مصر کی عادت ہے، کہ اچانک ایک اور کشتی آئی جس میں ایک جماعت اہلِ طرب و نشاط کی بیٹھی تھی اور باہم جھگڑے فساد کی باتیں کرتے جا رہے تھے۔ حضرت ذوالنون رحمۃ اللہ علیہ کے ہمنشیں شاگردوں کو ان سے سخت نفرت پیدا ہوئی، حتیٰ کہ آپ کی خدمت میں عرض گزار ہوئے کہ حضور! ان کے لیے بددعا فرمائیں کہ یہ سب غرقِ دریا ہو جائیں تاکہ مخلوق سے ان کی شومی و بدچلنی منقطع ہو جائے۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ کھڑے ہوئے اور دستِ دعا دراز فرما کر عرض کی: الٰہی! جس طرح اس گروہ کو دنیا کے عیش عطا فرمائے ہیں اسی طرح انہیں اس جہاں کا عیش بھی عطا فرما دے۔ یہ سن کر مریدانِ خاص متعجب ہوئے، جب ان اوباشوں کی کشتی آپ کے قریب آئی اور ان
☆ بقول شاعر: مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا ۔ اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
۲۲۸کی نگاہیں حضرت ذوالنون رحمۃ اللہ علیہ پر پڑیں، یک لخت سب رونے لگے اور اپنے عود اور تمام ساز توڑ کر توبہ کرتے ہوئے رجوع الی اللہ میں متوجہ ہو گئے۔
آپ نے اپنے خواص کو فرمایا: تم دیکھ رہے ہو اس جہان کا عیش، اس جہان کے عیش سے توبہ کرنے میں تھا، دیکھا! دونوں کی مراد حاصل ہو گئی اور اس طرح مراد ملی کہ کسی کو رنج نہ ہوا۔ یہ فرمانِ مسلمانوں پر اس مردِ خدا کی شفقتِ خاص کے ماتحت تھا اور اس میں حضور سید یوم النشور ﷺ کی اقتداء بھی تھی کہ کفار نے جس قدر ظلم و تعدی میں زیادتی کی، حضور ﷺ کی شانِ رحمت اتنی ہی بڑھتی گئی اور ان کے مظالم سے شانِ رحمت میں تغیر نہ آیا بلکہ فرمایا
اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِیْ فَاِنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔
"الٰہی! اس قوم کو راہِ ہدایت دکھا دے، یہ نادان ہیں۔"
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس سے مصر آ رہا تھا۔ راستہ میں ایک شخص کو دیکھا کہ دور سے آ رہا ہے۔ میں نے دل میں سوچا کہ اس سے کچھ باتیں کی جائیں۔ چنانچہ جب وہ قریب آیا تو میں نے دیکھا وہ مرد نہیں ہے بلکہ ایک بڑھیا معمر ہے، ہاتھ میں لکڑی ہے اور پشمینہ کا جبہ زیبِ تن ہے۔ میں نے کہا: مِنْ اَیْنَ؟ "آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟" فَقَالَتْ: مِنَ اللّٰهِ۔ "فرمایا: اللہ کی طرف سے۔" قُلْتُ: اِلٰی اَیْنَ؟ "میں نے کہا کدھر تشریف لائے جا رہی ہیں؟" فَقَالَتْ: اِلَی اللّٰهِ۔ "فرمایا: اللہ کی طرف۔" میرے پاس کچھ دینار تھے۔ میں نے نکال کر پیش کرنے چاہے کہ اشارے سے مجھے روک دیا اور فرمایا کہ "ذوالنون! تیرا وہم جو میری طرف سے تیرے دل میں پیدا ہوا یہ تیری عقل کے ضعف کے بنا پر ہے۔ میں جو کام کرتی ہوں اللہ کے لیے کرتی ہوں اور سوائے اپنے ربّ کے کسی سے کچھ نہیں لیتی۔ اس لیے کہ میں سوائے اس کے کسی کی پرستار نہیں، تو جس کی پرستار ہوں اسی سے جو لینا ہو وہ لیتی ہوں۔" یہ فرمایا اور مجھ سے علیحدہ ہو کر چل دیں۔ اسی واقعہ میں ایک عجیب و غریب رمزِ لطیف ہے کہ
اِنِّیْ لَمْ اُبْعَثْ لَعَّانًا وَلٰكِنْ بُعِثْتُ دَاعِیًا وَرَحْمَةً، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ اَوِ اهْدِ قَوْمِیْ، فَاِنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔
۲۲۹اس لیے کہ لوگوں کے عمل دو صورت پر ہوتے ہیں: ایک تو وہ جو اپنا ہر کام صرف اللہ کے لیے کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہم نے یہ کام خالص اللہ کے لیے کیا ہے، لیکن باوجود اس کے کہ وہ خالصتاً لوجہ اللہ کرتے ہیں مگر پھر بھی وہ اپنے لیے کرتے ہیں اگرچہ ان کی ہوائے نفسانی اور خواہش ان سے منقطع ہوتی ہے مگر آخر وہ جو عمل کر رہے ہیں اس میں حرصِ ثوابِ آخرت اور جزائے جنت کا لالچ ضرور ہوتا ہے۔ دوسرے وہ ہیں کہ عمل کرتے ہیں مگر ثواب و عتابِ آخرت اور ریا و سمعۂ دنیا دونوں سے علیحدہ ہو کر محض تعمیلِ حکمِ محبوب کے لیے کرتے ہیں اور حقیقتاً محبتِ حق تعالیٰ اس کی متقاضی ہے کہ اپنے حقوق سے بھی علیحدہ ہو کر فرمانِ محبوب کی تعمیلِ حکم اور تعظیم میں جھک جائے۔
پہلی جماعت کے خیال میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ جو کچھ آخرت کے لیے کیا جائے وہ خالص اللہ کے لیے ہے اور انہوں نے یہی سمجھ رکھا ہے کہ اطاعت کرنے سے مطیع کو جو بے حد و کراں حصہ ملے گا وہ دنیا کی اس مصیبت سے بہتر ہے جس میں اس دنیا کے اندر راحت اور تھوڑی دیر لطف حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے اطاعتِ الٰہی کے بدلہ جو راحتِ ابدی ملے گی وہ ہمیشہ کے لیے ہو گی۔ اور ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کو ہمارے اعمال و عبادات و ریاضات و مجاہدات سے کیا فائدہ ہے اور اعمالِ صالحہ ترک کرنے سے کیا نقصان!! اگر تمام عالم صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ حاصل کرے تو اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے اور کذب و فرعونی اختیار کرے تو اس کی ذاتِ ستودہ صفات کا کیا نقصان!! سوا اس کے کہ اپنی جان پر ظلم ہوگا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے
﴿اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۖ وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا﴾
"اگر تم اچھے عمل کرو گے تو اپنی جانوں کے لیے۔ بھلائی کرو گے اور اگر برے عمل کرو گے تو وہ بھی تمہاری جانوں پر ہیں۔"
اور یہ بھی فرمایا
﴿وَمَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ ۖ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ﴾
"جس نے کوشش کی تو یقیناً اس نے اپنے لیے کوشش کی، بیشک اللہ تمام عالم سے بے نیاز ہے۔"
لوگ ملکِ ابدی اپنے لیے چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ خالص اللہ کے لیے کر رہے ہیں۔ یاد رکھو! محبتِ الٰہی میں طریقِ محبت اختیار کرنا، یہ بالکل علیحدہ چیز ہے۔ دوست دوست کے حکم کی تعمیل اس غرض سے نہیں کیا کرتا کہ اس کا معاوضہ ملنے کی امید رکھے بلکہ اس
۲۳۰کا مقصد اس تعمیل میں صرف اور صرف دوست کے حکم کی ادائیگی اور اس کی خوشنودگی مرکوز ہوتی ہے۔ اس کی نظر کسی اور چیز پر نہیں جاتی۔ یہاں صرف اتنا ہی کافی ہے، خدا نے چاہا تو اس کی تفصیل بابِ اخلاص میں بیان ہوگی۔
حضرت ابراہیم ادہم رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے امیر امراء، سالکِ طریق، لقاء ابو اسحاق حضرت ابراہیم بن ادہم بن منصور رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اپنے زمانہ کے یگانہ عارفِ طریقت اور سیرا قران گزرے ہیں۔ آپ کی بیعت حضرت خضر علی نبینا و علیہ السلام سے تھی۔ آپ نے بہت سے قدماء مشائخ کو دیکھا اور حضرت امام ہمام حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ النعمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہ کر تحصیلِ علم فرمایا۔ ابتدائی دور میں آپ امیرِ بلخ تھے۔ ایک دن آپ شکار کو گئے اور اتفاقاً لشکر سے بچھڑ گئے اور ایک ہرن کے پیچھے لگ گئے۔
اللہ تعالیٰ نے اس ہرن کو قوتِ ناطقہ عطا فرمائی۔ اس نے بزبانِ فصیح حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کو مخاطب کر کے کہا
اَلِهٰذَا خُلِقْتَ اَوْ بِهٰذَا اُمِرْتَ؟
"کیا اسی لیے تم پیدا کیے گئے تھے یا اسی کام کا تمہیں حکم ملا ہے؟"
یہ سنتے ہی آپ کے دل میں خیال آیا اور توبہ فرما کر سب سے ہاتھ اٹھا لیا اور زہد و ورع کے پابند ہو گئے۔ پھر حضرت فضیل ابن عیاض رضی اللہ عنہ اور حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ سے ملے۔ ان کی صحبت میں رہ کر مستفید ہوئے اور توبہ کے بعد آپ نے اپنی محنت کی آمدنی کے سوا بیت المال وغیرہ کسی ذریعہ کو ذریعۂ معاش نہ بنایا۔ آپ کی عملی شان اظہر من الشمس ہے اور آپ کی کرامات بے حد مشہور ہیں۔ فنِ تصوف میں آپ کے بڑے بڑے لطیف و بدیع اقوالِ نفیسہ منقول ہیں۔ چنانچہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ آپ کی توصیف میں فرماتے ہیں
مَفَاتِیْحُ الْعُلُوْمِ اِبْرَاهِیْمُ۔
"تمام علوم کی کنجیاں ابراہیم بن ادہم ہیں۔"
آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
اِتَّخِذِ اللّٰهَ صَاحِبًا وَذَرِ النَّاسَ جَانِبًا۔
"اللہ جل شانہٗ کو اپنا یار پکڑ اور لوگوں کو ایک طرف چھوڑ۔"
اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ جب بندہ کا رجوع حق تعالیٰ درست ہو تو وہ محبتِ الٰہی
۲۳۱میں مخلص بنتا ہے اور مخلصانہ رجوع الی اللہ اس امر کا متقاضی ہے کہ ماسوائے اللہ سے اعراض و انحراف کر لے، اس لیے کہ محبتِ خلق کو معاملۂ الٰہی سے کوئی سروکار نہیں اور صحبتِ الٰہی اگر صحیح طور پر قبول کر لی جائے تو پھر مخلصِ حق تعالیٰ ایسا ہو جاتا ہے کہ فرمانِ الٰہیہ کے پورے کرنے اور اطاعتِ الٰہی میں نگونسار رہنے میں اخلاص کے سوا اور کچھ نہیں رہا اور ظاہر ہے کہ خلوصِ عینِ محبت ہے اور خلوصِ محبتِ حق جب ہی پیدا ہو سکتا ہے جب نفسِ امارہ سے دشمنی ہو جائے، تو نفسِ امارہ کے دشمن سے حرص و ہوس کی تمام بھیڑ بھاڑ دور ہو جاتی ہے اس لیے کہ جو ہوا و حرص کا آشنا و پابند ہے وہ یقیناً خدا سے جدا ہے اور جو شاخِ ہوس کو کاٹ چکا، وہ اپنے ربّ کی خلوتِ خاص میں آ رمیدہ ہو گیا۔
تو در حقیقت وجودِ انسان ہی اپنے حق میں دنیا ہے۔ جب انسان اپنے وجود سے اعراض کرے تو گویا اس نے مخلوقات سے اعراض کر لیا اور جس نے اپنے وجود کی طرف توجہ کی تو گویا مخلوق کی طرف متوجہ ہوا اور یہی وہ جفا ہے جو اس نے اپنے اوپر کی اور یہ بھی مسلم امر ہے کہ تمام مخلوقات جس حال میں ہے بحکمِ قضا و قدر صحیح ہے مگر ہر انسان کو اپنے سے کام ہے اور ہر انسان مخلوق ہے۔
تو بناءِ استقامت ظاہر و باطنی، طالب کے لیے دو چیزوں پر ہے: ایک اس امر پر کہ اپنے کو پہچانے اور جانے یعنی علم حاصل کرے، دوسرے وہ عمل جو کر رہا ہے اسے سمجھے، اس کا تعلق رؤیتِ لوحِ تقدیر پر ہے۔ اس میں ترکِ فرمانِ حق کو حجت ماتحتِ تقدیر نہیں بنایا جا سکتا۔
اس لیے اعراضِ مخلوقات سے اس وقت تک صحیح نہیں ہوگا جب تک خود اس کی جانب سے ارادتاً اعراض نہ ہو۔ تو جب خود اپنے ارادہ سے اعراضِ مخلوقات سے کر لیا تو سب کچھ مرادیں اپنے ربّ سے پائے گا اور جب حقِ تعالیٰ شانہٗ کی طرف رجوع ہوا، تو گویا اقامتِ امرِ حق کے لیے خود آیا۔ اب مخلوقات سے آرام حاصل کرنے کی کوئی صورت تیرے پاس نہ رہے گی تو جو چیز بھی سوائے حق جل علا شانہٗ کے کسی غیر سے چاہے گا تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ غیر اللہ سے آرام جان طلب کر رہا ہے اور بغیر رؤیتِ توحید ہوگا اور آرام اپنی ذات سے حاصل کرنا اثباتِ تعطل ہے۔
حضرت شیخ ابو الحسن سالبہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مرید کا بلی کی طرح رہنا، اس سے بہتر ہے کہ اپنے اختیارات میں رہے۔ اس لیے کہ محبت یا غیرِ خدا کے لیے ہے اور صحبت باخود، حرص و ہوا کے پا لینے کے لیے۔ اب اس بحث کو ہم اسی کتاب میں کسی اور جگہ مفصل بیان کریں گے۔
حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کی ایک حکایت ہے جو فرماتے ہیں کہ جب میں جنگل میں گیا ایک ضعیف العمر بزرگ صورت سے ملا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا: اے ابراہیم! تمہیں معلوم ہے یہ کون سی جگہ ہے تم بغیر زاد و راہ کے جا رہے ہو؟ میں اسے سمجھ گیا کہ یہ ضعیف العمر بزرگ نہیں
۲۳۲بلکہ شیطان ہے۔ میری جیب میں چار درم نقرئی پڑے تھے جو میں نے کوفہ میں زنبیل بیچ کر جیب میں ڈال لیے تھے۔ میں نے انہیں نکال کر پھینک دیا اور عہد کیا کہ ہر میل پر چار سو رکعت نفل پڑھوں گا۔ چار سال متواتر صحرا نوردی میں رہا۔ میرا رزاقِ مطلق بلا کسی تکلیف کے مجھے روزی پہنچا تا رہا۔ اسی اثناء میں حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔ ان کے فیضِ صحبت میں میں نے ان سے اللہ کا نام سیکھا۔ بس اس کے بعد سے میرا دل ماسوائے اللہ سے قطعاً فارغ ہو گیا۔ علاوہ ازیں آپ کے بہت سے مناقب ہیں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سریرِ معرفت کے تاج، اہلِ معاملت حضرت بشر بن الحارث الحافی رضی اللہ عنہ ہیں۔ مجاہدات و ریاضات میں بڑی بلند شان والے ہیں۔ اعمال و اخلاص میں حظِّ تام رکھتے ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے خاص صحبت یافتہ لوگوں میں سے تھے۔ وہ اپنے ماموں حضرت علی بن خشرم رضی اللہ عنہ کے مرید تھے۔ علمِ اصول و فروع کے بڑے جیّد عالم گزرے ہیں۔ آپ کی توبہ کا ذکر یوں ہے کہ ایک روز آپ مست شراب ہوئے جا رہے تھے۔ راستہ میں ایک کاغذ کا ٹکڑا ملا۔ اسے تعظیم کے ساتھ آپ نے اٹھا لیا۔ اسے پڑھا تو لکھا ہوا تھا: "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ"۔ آپ نے اسے عطر لگا کر پاک مقام پر رکھ دیا۔
اسی رات خواب میں جمالِ الٰہی سے مشرف ہوئے اور یہ بشارت سنی
یَا بِشْرُ! طَیَّبْتَ اسْمِیْ فَبِعِزَّتِیْ لَاُطَیِّبَنَّ اسْمَكَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ۔
"اے بشر! تو نے میرے نام کو خوشبو کیا، میری عزت و جلال کی قسم! میں تیرے نام کی مہک دنیا و آخرت میں پھیلاؤں گا۔"
حتیٰ کہ کوئی تیرا نام نہ سنے گا مگر نام سن کر اسے راحتِ دلی ملے گی۔ آپ نے اپنی آزاد روش سے اسی وقت توبہ کر لی اور زہد و تقویٰ کا طریقہ مضبوط تھام لیا اور مشاہدۂ جمالِ یار میں اتنے محو ہو گئے کہ غایتِ استغراق میں جوتی بھی نہ پہنتے، اسی وجہ سے آپ "حافی" کہلاتے ہیں (حافی "ننگے پیر" کو کہتے ہیں)۔ لوگوں نے پوچھا آپ نے جوتی پہننا کیوں ترک کر دی؟ فرمایا: زمین میرے محبوب کا بنایا ہوا فرش ہے، میں جائز نہیں سمجھتا کہ محبوب کے بچھائے ہوئے فرش سے اپنے پیروں کو علیحدہ کروں اور میرے پیر اور اس کی بساط میں کوئی واسطہ رکھوں۔
یہ بات آپ کے غرائب معاملات میں سے ہے کہ ان کے نظر و خیال میں پاؤں اور زمین کے مابین جوتی حجاب تھی۔ آپ سے مروی ہے کہ فرمایا
(صفحہ 232 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، آپ کا قول اگلے صفحہ 233 پر ہے۔)
۲۳۳"مَنْ اَرَادَ اَنْ یَكُوْنَ عَزِیْزًا فِی الدُّنْیَا وَشَرِیْفًا فِی الْاٰخِرَةِ فَلْیَجْتَنِبْ ثَلَاثًا: لَا یَسْاَلُ اَحَدًا حَاجَتَهٗ وَلَا یَذْكُرُ اَحَدًا بِسُوْءٍ وَلَا یُجِیْبُ اَحَدًا اِلٰی طَعَامِهٖ۔"
"جو چاہے کہ دنیا میں عزت دار رہے اور آخرت میں شریف، تو اسے چاہیے کہ تین باتوں سے مجتنب رہے
مخلوقات میں سے کسی سے اپنی حاجت روائی نہ چاہے۔ کسی کا ذکر برائی کے ساتھ نہ کرے۔ اور کسی کا مہمان نہ بنے۔"
اس لیے کہ جو اپنے ربّ کے دروازہ کو جانتا ہے، اسے مخلوق کے سامنے حاجت لے جانے کی کیوں حاجت ہو؟ اور یہ حقیقت ہے کہ وہاب مطلق کے در کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف وہی دستِ سوال دراز کرے گا جسے کیفِ عرفانِ حق حاصل نہ ہوا ہو اور جبکہ یقینِ قلب کے ساتھ وہ جان چکا کہ قاضی الحاجات تمام عالم کا وہی جمیلِ حقیقی ہے تو جس غیر سے حاجت روائی چاہے گا وہ اپنے جیسے سے حاجت روائی چاہنا ہوگا۔
لِاَنَّ اسْتِعَانَةَ الْمَخْلُوْقِ مِنَ الْمَخْلُوْقِ كَاسْتِعَانَةِ الْمَسْجُوْنِ مِنَ الْمَسْجُوْنِ۔
"اس لیے کہ طلبِ اعانت مخلوق کی مخلوق سے ایسے ہے جیسے ایک قیدی اپنے ساتھ کے قیدی سے اعانت چاہے۔"
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے فلکِ معرفت، فلکِ محبت ابو یزید طیفور بن علی بسطامی رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲۳۴اجل مشائخ سے گزرے ہیں۔ ان کی کیفیتِ حالیہ اعلیٰ درجہ پر تھی اور ان کی شانِ تصوف بہت بلند مانی گئی ہے، حتیٰ کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
اَبُوْ یَزِیْدَ مِنَّا بِمَنْزِلَةِ جِبْرَئِیْلَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ۔
"بایزید بسطامی ہم میں ایسے معظم ہیں جیسے جماعتِ ملائکہ میں جبریلِ امین۔"
آپ کے جدِ امجد مجوسی تھے اور بسطام کے معززین میں سے ایک آپ کے والد بھی تھے، اور آپ سے احادیثِ نبی کریم ﷺ میں بہت روایات ہیں اور آپ اپنے بسطام کی آبادی میں فرد الفرید گزرے ہیں اور فنِ تصوف میں آپ کو یکتا عالم مانا گیا ہے اور حقائقِ علم بیان کرنے میں آپ سے زائد دوسرا نظر نہ آیا اور آپ علم کے ساتھ محبت اور شریعتِ مطہرہ کی خاص طور پر تعظیم کرنے والے تھے اور یہ تمام صفات آپ میں حقیقتاً موجود تھیں، یہ نہیں کہ الحاد و زندقہ کی مدد کے لیے زہد و ورع کا محض پردہ ڈال لیا ہو، جیسا کہ اکثر ایسا کر لیتے ہیں۔
بلکہ آپ ابتداء سے مجاہدہ و عملِ صالح میں رہے۔ چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں
عَمِلْتُ فِی الْمُجَاهَدَةِ ثَلَاثِیْنَ سَنَةً فَمَا وَجَدْتُ شَیْئًا اَشَدَّ عَلَیَّ مِنَ الْعِلْمِ وَمُتَابَعَتِهٖ وَلَوْ لَا اخْتِلَافُ الْعُلَمَاءِ لَبَقِیْتُ وَاخْتِلَافُ الْعُلَمَاءِ رَحْمَةٌ اِلَّا فِیْ تَجْرِیْدِ التَّوْحِیْدِ۔
"تیس سال مجاہدہ کرتا رہا، میں نے شدید ترین علم و عمل سے زیادہ کسی چیز کو نہ پایا اور اختلافِ علماء نہ ہوتا تو میں زہد و ورع سے رہ جاتا اور حقِ اطاعتِ دین ادا نہ کر سکتا اور سچ بات یہ ہے کہ اختلافِ علماء رحمت ہے مگر جبکہ توحید میں مجرد ہو جائے تو پھر یہ اختلاف نہیں رہتا۔"
بقولِ شاعر
چہ کافر چہ مومن چہ گبر و چہ ترسا دو عالم بدو زلف شیدا برآمد (مترجم)
اور حقیقت حال یہ ہے کہ عام طور پر طبیعت علم کے مقابلہ میں جہل کی طرف زیادہ میلان رکھتی ہے اور جہل کا یہ ادنیٰ فائدہ واضح ہے کہ بہت سے کام بغیر کسی فکر کے انسان کر سکتا ہے اور اس علم کا پہلا نتیجہ یہ ہے کہ عالم کا کوئی قدم فکر و غور کے بغیر نہیں اٹھ سکتا اور شریعتِ اسلامیہ کا راستہ اور اس کی پلِ صراطِ اخروی پلِ صراط سے کہیں زیادہ باریک اور پُر خطر ہے۔
تو ایسے ماحول میں انسان کو چاہیے کہ ہر حال میں اس طرح رہے کہ اگر بلند و بالا
۲۳۵مقاماتِ ولایت حاصل کرنے سے عاجز ہو تو میدانِ شریعت میں رہ جائے اور بلندی سے گرے تو ادھر ادھر نہ گرے بلکہ شریعت کے ماحول میں گر کر ٹھہر جائے تاکہ اگر تمام کمالات و مراتبِ تقرب تجھ سے رہ جائیں تو کم از کم تیری عملی کیفیت تو باقی رہے۔ اس لیے کہ مرید کے لیے سب سے سلوک میں بڑی بلا اور آفت ترکِ عمل ہے اور شریعتِ مطہرہ کی اتباع اور اس کے ماتحت معاملہ رکھنے میں مدعیانِ ولایت و کرامت کے تمام دعاوی گم ہو جاتے ہیں اور تمام انسان اپنی لسان سے جو پردہ ڈال کر لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں، برہنہ ہو جاتے ہیں۔
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا
اَلْجَنَّةُ لَا خَطَرَ لَهَا عِنْدَ اَهْلِ الْمَحَبَّةِ وَاَهْلُ الْمَحَبَّةِ مَحْجُوْبُوْنَ بِمَحَبَّتِهِمْ۔
"عشاق اور اہلِ محبت کے دلوں میں جنت کا کبھی خطرہ بھی نہیں گزرتا، اس لیے کہ وہ اپنے محبوب کے پردۂ محبت میں محجوب ہیں۔"
انہیں اپنے محبوب کے انداز و ناز کے مقابلہ میں کسی دوسرے کی طرف دیکھنے کی مہلت ہی نہیں۔
اور چونکہ بہشت مخلوق ہے، اگرچہ مخلوقات میں بہترین مخلوق سہی مگر محبتِ محبوب، صفتِ محبوب ہے اور صفتِ مخلوق نہیں، تو قدیم کو چھوڑ کر جو مخلوق کی طرف گیا، وہ محروم ہوا۔ تو محبانِ محبوب پردۂ محبت میں روپوش ہیں اس لیے کہ وجودِ محبتِ محبوب، مقتضیِ دوئی ہے اور اصلِ توحید میں دوئی کا وجود ہی نہیں۔ اس لیے محبانِ الٰہی وحدانیت سے دوحانیت کی طرف ہوتے ہیں اور ماسوائے اللہ سے بالکل محجوب۔ اور یہ بھی حقیقۃ الامر ہے کہ طریقۂ محبت میں علتِ محبت بھی محبت ہی ہے۔ اب ایک بڑی آفت جو اس بحث میں ہے وہ یہ کہ دوستی میں ایک مرید اور ایک مراد ضروری ہے تو اب اگر مرید حق ہے تو بندہ مراد ہوگا اور اگر مرادِ حق ہے تو مرید بندہ ہوگا۔
تو ایسی صورت میں جبکہ حق کو مرید اور بندہ کو مراد کہا جائے تو بندہ کا ثابت ہونا لازم ہوگا (جو بالکل باطل ہے) اور اگر حق تعالیٰ مراد اور بندہ مرید قرار دیا جائے تو بھی طلب و ارادتِ مخلوق بجانبِ حق لازم آئے گی۔ اور طریقۂ محبت میں ان تو ہمات کا قطعاً دخل نہیں۔ بہر حال محبت میں آفتِ ہستیِ وجود جب تک ہے اس وقت تک محبت نہیں ہو سکتا۔ محبت، محبت ہی جب کہلائے گا جبکہ اس کے ارادہ اور دعاوی تمام فنا ہو جائیں اور یہی محبت کے لیے بہترین مقام ہے اور محبت در حقیقت وہی ہے جو بقاءِ محبت کے ساتھ فنا ہو جائے۔ حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ ہی سے مروی ہے آپ
۲۳۶نے فرمایا
"ایک دفعہ میں مکہ معظمہ گیا تو صرف بیت اللہ نظر آیا۔ میں نے کہا حج مقبول نہیں ہوا اس لیے کہ ایسے پتھر میں نے بہت سے دیکھے ہیں۔ دوبارہ جب گیا تو بیت اللہ بھی دیکھا اور ربِّ جل علا صاحبِ بیت کو بھی پایا۔ تو میں نے کہا ابھی حقیقتِ توحید منکشف نہیں ہوئی (اس لیے کہ قدیم کے ساتھ حادث بھی نظر آ رہا ہے)۔
تیسری بار گیا تو تمام کا تمام جلوۂ خداوندی نظر آیا۔ نہ بیت تھا نہ کوہ۔ تو غیب سے ندا آئی: اے بایزید! تو اگر اپنے کو بھی نہ دیکھتا تو خواہ تمام عالم دیکھتا مگر مشرک نہ ہوتا، اور جبکہ تو تمام عالم کو میرے ساتھ نہیں دیکھتا مگر اپنے کو دیکھ رہا ہے، مشرک ہے۔ میں نے فوراً توبہ کی اور توبہ کرنے سے بھی توبہ کی (اس لیے کہ توبہ کرنے والا حادث ہو کر اپنا وجود مانتا ہوا توبہ کرتا ہے) اور اس مقام پر وجود کا اثبات ہی عند الصوفیاء شرکِ خالص ہے۔"
حضرت عبد اللہ بن حارث رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے امامِ فنون، جاسوس ظنون حضرت ابو عبد اللہ حارث بن اسد محاسبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ عالم تھے اور اصول و فروع میں عالم کے علماء آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اپنے زمانہ کے علماء میں ممتاز اور یکتائے زمانہ تھے۔ آپ نے ایک کتاب اصولِ تصوف میں تالیف کی "رعائب" نام رکھا۔ علاوہ اس کے بہت سی تصانیف بڑے بلند فنون میں تصنیف فرمائیں۔ اتنے بلند ہمت تھے کہ بغداد شریف میں اپنے وقت کے شیخ المشائخ مانے گئے۔
آپ کا ایک ارشاد منقول ہے کہ آپ نے فرمایا
"اَلْعِلْمُ بِحَرَكَاتِ الْقُلُوْبِ فِیْ مُطَالَعَةِ الْغُیُوْبِ اَشْرَفُ مِنَ الْعَمَلِ بِحَرَكَاتِ الْجَوَارِحِ۔"
"جو حرکاتِ دل عیوب پر واقف و نگران رہے، وہ عملِ ظاہری کرنے والے سے افضل ہے۔"
اس سے مراد یہ ہے کہ علم محلِ کمال ہے اور جہل محلِ طلب اور علمِ بارگاہِ ربّ العزت میں بہتر ہے اور جہل بدتر۔ علم انسان کو درجۂ کمال تک پہنچانے والا ہے اور جہل بارگاہِ الٰہی میں جانے سے روکتا ہے۔
۲۳۷اور خلاصہ تو یہ ہے کہ حقیقتاً علم عمل سے بزرگ ترین ہے، اس لیے علم ہی وہ چشمہ ہے جس کے ذریعہ انسان کو عرفانِ الٰہی حاصل ہوتا ہے اور اگر بحالتِ جہل عمل کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ کو نہیں پا سکتا۔ مصرع
کہ بے علم نتواں خدا را شناس (از مترجم)
اور پھر واضح طور پر ظاہر ہے کہ اگر عمل بلا علم میں کوئی قوت ہوتی تو نصاریٰ کے رہبان اپنے انتہاءِ زہد اور شدتِ مجاہدے سے مقامِ مشاہدہ پر پہنچ جاتے اور مومن غیبت میں پڑے رہ کر عاصی کے عاصی ہی رہ جاتے۔
یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ عمل بندہ کی صفت ہے اور علم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ بعض راویوں نے ہماری مذکورہ بالا عبارت میں غلطی کی اور انہوں نے علم و عمل کی جگہ عمل ہی نقل کر دیا، یعنی اسی طرح انہوں نے کہا
اَلْعَمَلُ بِحَرَكَاتِ الْقُلُوْبِ اَشْرَفُ مِنَ الْعَمَلِ بِحَرَكَاتِ الْجَوَارِحِ۔ ☆
حالانکہ یہ محال ہے کہ بندہ کا عمل حرکاتِ دل کے ساتھ ہوا اور اگر اس سے مراد فکر و مراقبہ اور حالاتِ قلبیہ ہوں تو تعجب نہیں اس لیے کہ حضور سید یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
تَفَكُّرُ سَاعَةٍ خَیْرٌ مِّنْ عِبَادَةِ سِتِّیْنَ سَنَةً۔
☆ (یہ حکم ایسی ہستیوں کے لیے ہے، عوام اس سے علیحدہ ہیں) یہ ایک لطیف واقعہ حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ کے حال کی ترجمانی کے لیے کافی ہے۔ (از مترجم غفرلہ)
۲۳۸"ایک ساعت قدرتِ الٰہیہ کے فکر و مراقبہ میں بیٹھنا ساٹھ ہزار برس کی عبادت سے افضل ہے۔"
لیکن درحقیقت عملِ جوارح کو فکر و مراقبۂ سری سے کوئی نسبت نہیں، اگرچہ وہ یقیناً عملِ سری ہونے کے علاوہ اعمالِ جوارح سے فاضل ترین ہے اور افعالِ باطن سے جو حالات پر اثر ہوتا ہے وہ درحقیقت اعمالِ ظاہر کی تاثیر سے اثر پذیر ہوتا ہے۔
اسی بنا پر حضور ﷺ نے فرمایا
نَوْمُ الْعَالِمِ عِبَادَةٌ وَسَهَرُ الْجَاهِلِ مَعْصِیَةٌ۔
"عالم کا سونا بھی عبادت ہے اور جاہل کی بیداری معصیت۔"
اس لیے کہ خواب و بیداری میں جاہل کا سرّ یعنی قلب مغلوب ہوتا ہے اور جس کا دل مغلوب ہے اس کا جسم بھی یقیناً مغلوب ہے، تو دل کا مغلوبِ حق ہونا حرکاتِ ظاہری اور محنت کے سبب نفسِ امارہ کے غالب ہونے سے بہتر ہے۔
آپ سے ایک روایت ہے کہ ایک روز آپ نے ایک درویش کو فرمایا
كُنْ لِلّٰهِ وَاِلَّا فَلَا تَكُنْ۔
"تو یا تو اپنے کو ذاتِ واجب کے سپرد کر دے یا فنا ہو جا۔"
یعنی یا حق باقی بن یا از خود فانی ہو یا اس صفت سے متصف ہو، جیسے ربِّ جل مجدہٗ نے فرمایا
﴿اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ﴾
"آدم کو سجدہ کرو۔"
یا اس صفت سے متصف ہو
﴿هَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا﴾
"کیا انسان پر وہ وقت آ گیا اس زمانہ سے جبکہ وہ کچھ نہ تھا۔"
۲۳۹اگر تو حق باقی رہتا ہے تو تیری قیامت تیرے اختیار میں ہوگی اور اگر فنا ہو جائے گا تو باقی بحق رہ کر قیامت بحق کے ساتھ تیرا نشر ہوگا اور اس میں ایک معنی ہیں (جسے رازدانِ راز جمیل جانتے ہیں)۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے معرضِ خلق، طلبِ ریاست سے منقطع حضرت ابو سلیمان داؤد بن نصر طائی رحمۃ اللہ تعالیٰ ہیں۔ کبراء مشائخ سے گزرے ہیں اور اہلِ تصوف میں سید السادات تھے۔ اپنے زمانہ کے بے مثل صوفی اور امام اعظم رضی اللہ عنہ کے شاگردِ رشید ہیں اور حضرت فضیل ابن عیاض و ابراہیم بن ادہم رحمہما اللہ وغیرہ عارفانِ کامل کے ہمعصر گزرے ہیں اور حضرت حبیب ابن سلیم راعی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدِ خاص ہیں۔ آپ علومِ عقلیہ و نقلیہ سے حظِّ وافر ملا اور فنِ فقہ میں "فقیہ الفقہاء" مشہور ہیں۔
حکومت و ریاست چھوڑ کر آپ نے گوشہ نشینی اختیار فرمائی۔ آپ کا زہد و ورع خصوصیت سے مشہور ہے۔ آپ کے مناقب و فضائل بہت زیادہ ہیں اور آپ کی عملی شان خاص طور پر قابلِ ذکر ہے اور بیانِ حقائقِ معرفت میں آپ کامل گزرے ہیں۔
آپ سے مروی ہے کہ آپ نے اپنے مریدانِ خاص میں سے ایک مرید کو فرمایا
اِنْ اَرَدْتَ السَّلَامَةَ سَلِّمْ عَلَی الدُّنْیَا وَاِنْ اَرَدْتَ الْكَرَامَةَ كَبِّرْ عَلَی الْاٰخِرَةِ۔
"بیٹے! اگر دنیا کی سلامتی چاہتا ہے تو دنیا سے وداع ہو کر اس سے غائب ہو جا اور اگر کرامتِ آخرت چاہتا ہے تو آخرت پر تکبیرِ مرگ پڑھ لے۔"
یعنی یہ دونوں چیزیں محلِ حجاب ہیں اور تمام فراغتیں دنیا و آخرت کے ترک میں مضمر ہیں۔ اگر کوئی چاہے کہ وجود سے فارغ ہو جائے، اسے کہہ دو کہ دنیا سے اعراض کرے اور جو چاہے کہ دل فارغ ہو اس سے کہہ دو کہ عاقبت کی امیدوں سے اپنا دل علیحدہ کر لے۔
ایک حکایت ہے کہ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ حضرت محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ربط ضبط رکھتے اور حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ قاضیِ اسلام سے ملنا جلنا پسند نہ فرماتے۔ عرض کیا گیا: یہ دونوں علم مانے ہوئے ہیں، پھر ان میں سے ایک کو آپ محبوب رکھتے ہیں اور ایک سے تعلقات ربط نہیں فرماتے۔
آپ نے فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ محمد بن الحسن نے نعمت ہائے دنیاوی ترک کر دیں اور
۲۴۰منصبِ علم کو پسند فرمایا ہے تو اس کی عزت کا دینی سبب علم ہے اور ذلتِ دنیاوی اس کی نظر میں ہے اور قاضی ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اول سے ایک درویش تارک الدنیا تھے اور ان کی تنگدستی حصولِ علم کی وجہ میں رہی۔ اب ان کی عزت کا سبب اور وجاہت و ثروت کا باعث ان کا علم بنا ہے۔ تو محمد بن حسن ابو یوسف جیسا نہیں۔
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے حضرت داؤد طائی جیسا "مستغنی عن الدنیا" نہیں دیکھا۔ ان کی نظر میں تمام دنیا اور اہلِ دنیا کی کچھ حیثیت ہی نہیں۔ آپ کو حزبِ فقراء بچشمِ کمال دیکھتے تھے اگرچہ آپ دنیاوی بلا میں بھی ہوتے۔ علاوہ اس کے آپ کے بہت سے مناقب ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے شیخِ اہلِ حقائق، منقطع از علائق حضرت ابو الحسن سری بن مغلس السقطی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے ماموں تھے اور تمام علوم میں اعلیٰ دستگاہ رکھتے تھے، بالخصوص فنِ تصوف میں آپ کی شان بہت بلند تھی اور تصوف کی ترتیب، مقامات اور بسط احوال میں سب سے اول جس نے غور و خوض کیا وہ یہی سری سقطی ہیں اور مشائخینِ عراق کا اکثر حصہ آپ کے ہی بیعت سے مشرف ہے۔ آپ نے حضرت حبیب بن سلیم راعی رحمۃ اللہ علیہ کی بھی زیارت کی اور ان کی فیضِ صحبت سے بھی مستفیض ہوئے۔ آپ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے۔ چونکہ آپ بازارِ بغداد میں "سقط فروشی" کیا کرتے تھے (جسے اردو زبان میں "کباڑی" کہتے ہیں) اسی بنا پر آپ کو "سقطی" کہا جاتا ہے۔
آپ کا رجوع الی اللہ کا واقعہ یوں ہے کہ جس بازار میں آپ کباڑی کا کام کرتے تھے اس میں آگ لگ گئی۔ تمام بازار جل کر خاک سیاہ ہو گیا۔ آپ سے کہا گیا کہ حضرت! آپ کی دکان بھی جل گئی ہے۔ آپ نے فرمایا میں دکان اور مال کی قید سے آزاد ہو چکا ہوں۔ جب آ کر لوگوں نے دکان دیکھی کہ تمام بازار میں وہی ایک دکان ہے جو جلنے سے بچی ہوئی تھی اور چاروں طرف کی تمام دکانیں سوختہ تھیں۔ جب آپ نے اپنے حافظِ حقیقی کا یہ کرم دیکھا تو فرطِ مسرت میں تمام سامان و دکان درویشوں کو دے کر طریقۂ تصوف اختیار فرما لیا۔
بعض نے آپ سے پوچھا کہ ابتداءِ عرفان آپ کو کس طرح حاصل ہوا؟ فرمایا: ایک روز حبیب بن سلیم راعی رحمۃ اللہ علیہ کا میری دکان پر گزر ہوا، میں نے اپنے کباڑ خانہ کی بعض شکستہ چیزیں انہیں دیں کہ وہ درویشوں میں تقسیم فرما دیں تو انہوں نے مجھے دعا دی: خَیَّرَكَ اللّٰهُ (اللہ
۲۴۱تجھے اختیار فرمائے)۔ اس روز سے کہ میرے کان میں ان کی دعا کی آواز آئی، میرا دل دنیاوی معاملات سے متنفر ہو گیا۔
آپ سے مروی ہے کہ آپ دعا میں فرمایا کرتے
اَللّٰهُمَّ مَهْمَا عَذَّبْتَنِیْ بِهٖ مِنْ شَیْءٍ فَلَا تُعَذِّبْنِیْ بِذُلِّ الْحِجَابِ۔
"الٰہی! مجھے عذاب دینا ہی منظور ہو تو اپنے جمال کے حجاب کا عذاب مجھ پر نہ فرمانا۔"
اس لیے کہ اگر میں مشاہدۂ جمال سے محجوب نہ ہوا تو پھر کوئی بھی مصیبت و بلا آئے، مجھے آسان ہو گی اور اگر تیرے مشاہدۂ جمال سے محجوب رہ کر معذب ہوا تو ذلتِ حجاب کی وجہ میں تیری نعمتیں بھی میرے لیے موجبِ ہلاکت ہوں گی۔ اور بات بھی ٹھیک ہے کہ مشاہدۂ جمالِ محبوب ہوتے ہوئے جو بلا بھی آئے وہ بلا نہیں ہو سکتی لیکن بغیر مشاہدہ یا نعمت بھی اگر ہو تو بوجۂ حجاب بلاء عظیم ہے۔ اور جہنم میں سب سے اشد ترین جو عذاب ہے وہ حجاب ہے اور اگر جہنم میں جلوۂ ذات کا مشاہدہ رہے تو کسی مومن کو بہشت یاد نہ آئے اس لیے کہ دیدارِ حق کی اس قدر مسرت و فرحت ہوگی کہ بلاءِ تن اور عذابِ جسم کا ہوش ہی نہ رہے گا۔
اور بہشت میں کوئی نعمت جمالِ ذاتِ باری عزّ اسمہٗ سے بڑھ کر نہ ہوگی اگر وہ نعمتیں جو بہشت میں ہیں ان سے سوگنی اور نعمتیں ملیں اور جلوۂ احدیت سے جتنی محجوب ہو جائے تن من دھن سب فنا کر دے اور ہلاک ہو جائے۔
تو سنتِ الٰہیہ یہی ہے کہ اپنے محبوبوں کے قلوب کو اپنے جمال کے مشاہدہ میں بہر حال رکھتا ہے تا کہ مجاہدہ و ریاضت و بلاہائے ترکِ اکل و شرب تمام برداشت کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ عارفانِ کامل کی یہی صدا و دعا ہے کہ ہر عذاب منظور ہے مگر اپنے جمال کے حجاب سے محفوظ رکھ۔ اگر تیرا جمال ہمارے دلوں کی چشمِ حق میں منکشف ہے تو پھر ہمیں کسی بلا و مصیبت کی پرواہ نہیں۔ ☆ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
☆ بقول شخصے: پکارا، دیکھ کر مجھ کو حور کی شکل — خداوندا! یہ صورت نہیں ہے گریباں چاک کر کر باغِ رضواں سے نکل بھاگیں — مزا آیا ہے جن کو آپ کی جلوہ نمائی کا (از مترجم)
حضرت ابو علی شقیق بن ابراہیم ازدی رحمۃ اللہ علیہ
انہیں میں سے سرہنگِ اہلِ بلا و بلویٰ، مایۂ زہد و تقویٰ حضرت ابو علی شقیق ابن ابراہیم ازدی رضی اللہ عنہ ہیں۔ بڑے معزز قوم اور مقتدائے ہم چشماں، عالمِ جمیعِ علومِ شرعی و فقہی گزرے ہیں۔ آپ کی بہت سی تصانیف، تصوف اور دیگر علوم میں مشہور ہیں۔ حضرت
۲۴۲ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے ہم صحبت تھے اور بڑے بڑے مشائخِ کرام کی زیارت سے مشرف ہوئے اور ان کے فیضِ صحبت سے مستفیض ہوئے۔
آپ سے مروی ہے آپ نے فرمایا
جَعَلَ اللّٰهُ اَهْلَ طَاعَتِهٖ اَحْیَاءً فِیْ مَمَاتِهِمْ وَاَهْلَ الْمَعَاصِیْ اَمْوَاتًا فِیْ حَیَاتِهِمْ۔
"اللہ تعالیٰ نے اپنے اطاعت کرنے والے کو موت کے اندر بھی زندہ فرمایا ہے اور اہلِ معصیت کو زندگی کے اندر بھی مردہ بنایا ہے۔"
یعنی مطیع اگرچہ مردہ ہو، زندہ ہوتا ہے اس لیے کہ تمام ملائکہ اس کی اطاعت پر آفرین کہتے ہیں جو قیامت کے دن ان کے اجر و ثواب کے لیے مؤید ہوگی تو وہ لوگ فنا مرگ میں باقی بہ بقاء جزا ہوتے ہیں۔
ایک واقعہ ہے کہ ایک ضعیف العمر حضرت ابو علی شقیق رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ حضور! میں سخت گناہ گار ہوں اور توبہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا بڑے میاں بڑی دیر میں توبہ کی طرف رخ کیا!! وہ عرض کرنے لگا: حضور! دیر میں نہیں آیا بلکہ جلدی آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا وہ کیسے؟ عرض کی: حضور! جو مرنے سے قبل توبہ کی طرف آ جائے اگرچہ بظاہر دیر میں آئے، اس کا نام جلدی آنے کے مترادف ہے۔
مشہور ہے کہ حضرت ابو علی شقیق رحمۃ اللہ علیہ کا رجوع الی اللہ بالاخلاص اس طرح ہوا کہ ایک سال بلخ میں قحط پڑا اور اتنا شدید پڑا کہ آدمی آدمی کو کھانے لگ گیا۔ تمام مسلمان غمناک تھے کہ بازار میں ایک غلام آپ نے دیکھا جو نہایت بے فکر اور ہنسی مذاق کر رہا تھا۔ لوگوں نے اسے کہا تُو اتنا بے فکر ہو کر ہنستا پھر رہا ہے تجھے شرم کرنی چاہیے اس لیے کہ مسلمانوں میں تو سخت اضطراب اور غم ہے، تو یہ خوشیاں رچا رہا ہے۔ غلام کہنے لگا بات یہ ہے کہ مجھے اصلاً کسی بات کا غم نہیں اس لیے کہ میں جس کا غلام ہوں وہ جاگیردار ہے اور اس گاؤں کی پیداوار کافی ہے، اس کی فراخدستی نے مجھے بے غم کر رکھا ہے۔
حضرت ابو علی شقیق رحمۃ اللہ علیہ نے غلام کا یہ جواب سنتے ہی عبرت حاصل کی اور دل میں کہا کہ اس غلام کو ایک جاگیردار کے استغنا کی وجہ میں بے غمی حاصل ہوئی اور میں جس کا بندہ ہوں وہ مالک الملک، رزاقِ کل ربّ الارباب ہے اور سب کو بلا معاوضہ روزی پہنچانے والا ہے
(صفحہ 242 اسی جملے پر ختم ہوتا ہے، اگلا حصہ صفحہ 243 پر ہے۔)
۲۴۳پھر ہمیں کسی اندوہ و غم کا شکار بننا کیونکر روا ہے۔ ☆
یہ سوچا اور شغلِ دنیا سے منہ پھیر کر طریقِ حق کا رُخ فرما لیا اور غمِ روزی سے آزاد ہو گئے اور یہ قصہ بھی آپ کی کیفیتِ تواضع پر ہے۔ آپ کے بہت سے فضائل و مناقب ہیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں ایک غلام کا شاگرد ہوں، جو کچھ مجھے ملا اسی کی بدولت ملا۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔