السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کشف المحجوب

حصہ ۴ — نواں باب — باب دہم

حصہ ۴
صفحہ ۱۹۷

نواں باب

اصحابِ صُفّہ رضوان اللہ علیہم

اس امر پر اجماعِ امت ہے کہ حضور ﷺ کی ایک خاص جماعت تھی۔ صحابہ کرام میں جو تارکِ الدنیا ہو کر مسجدِ نبوی میں اللہ کی خاص عبادت کے لیے بیٹھ گئے تھے اور ہر قسم کے کسبِ معاش سے دست بردار تھے انہی کی شان میں قرآن پاک نے اپنے حبیبِ پاک محمد ﷺ کو فرمایا

﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ﴾

"اے محبوب! نہ فراموش فرماؤ ان لوگوں کو جو اپنے ربّ کی عبادت میں صبح و شام مشغول ہیں اور اسی کی رضا چاہتے ہیں۔"

تو خدا کی کتاب ان کی افضلیت پر شاہد ہے اور حضور یوم النشور ﷺ کی احادیث ان کے فضائل میں ہمیں بہت پہنچی ہیں۔ ہم نے ان کا تھوڑا سا حصہ مقدمۂ کتاب میں نقل کیا ہے۔ حضرت امام المفسرین ابنِ عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں

وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ عَلٰی اَصْحَابِ الصُّفَّةِ فَرَاٰی فَقْرَهُمْ وَجُهْدَهُمْ وَطِیْبَ قُلُوْبِهِمْ فَقَالَ اَبْشِرُوْا یَا اَصْحَابَ الصُّفَّةِ فَمَنْ بَقِیَ مِنْ اُمَّتِیْ عَلَی النَّعْتِ الَّذِیْ اَنْتُمْ عَلَیْهِ رَاضِیًا بِمَا فِیْهِ فَاِنَّهٗ مِنْ رُفَقَائِیْ فِی الْجَنَّةِ۔

اس حدیث کے معنی ہیں کہ حضور ﷺ اصحابِ صفہ پر تشریف لائے، ان کو دیکھ کر ٹھہر گئے تو ان کے دل اس فقر و مجاہدہ میں حضور ﷺ نے نہایت خوش دیکھے۔ فرمایا: اے اصحابِ صفہ! تمہیں مبارک ہو! تمہارے بعد جو بھی تمہاری سی شان میں خرم و شاد رہے گا، وہ بروزِ قیامت جنت میں میرا رفیق ہوگا۔

ان اصحابِ صفہ میں سے

۱۔ الانعام: ۵۲

۱۹۸

پہلے: منادیِ حضرت، جبار کے پسندیدہ، سیدُ الابرار حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ ہیں۔

دوسرے: دوستِ خداوند اور محرمِ احوالِ پیغمبر ابو عبد اللہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں۔

تیسرے: سرہنگِ مہاجر و انصار، متوجہِ رضوانِ جبار ابو عبیدہ بن عامر بن عبد اللہ الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔

چوتھے: برگزیدہ اصحاب، زینتِ اربابِ ابو الیقظان حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں۔

پانچویں: گنجِ علم، خزانۂ حلم حضرت ابو مسعود عبد اللہ بن مسعود ہذلی رضی اللہ عنہ ہیں۔

چھٹے: متمسک درگاہِ حرمتِ پاک از عیب و آفت حضرت عتبہ بن مسعود، برادر عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔

ساتویں: سالکِ طریقِ عزلت، معرض از معائب و ذلت حضرت مقداد ابن الاسود رضی اللہ عنہ ہیں۔

آٹھویں: دائمی مقامِ تقویٰ پر راضی بہ بلا و بلویٰ حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ ہیں۔

نویں: قاصدِ درگاہِ رضا، طالبِ بارگاہِ بقا اور فنا، حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ ہیں۔

دسویں: دُرِّ دُرجِ سعادت، بحرِ قناعت حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ ہیں۔

گیارہویں: برادرِ فاروق، معرض از کونین و مخلوق حضرت زید بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔

بارہویں: خداوندِ مجاہدات اندر طلبِ مشاہدات حضرت ابو کبشہ، مولیٰ حضور ﷺ ہیں۔

تیرہویں: عزیز از کلِ خلائق، بحقِ جلّ مجدہ آیت، حضرت ابو لبر کنانہ بن الحصین عدوی رضی اللہ عنہ ہیں۔

چودھویں: عامرِ طریق، تواضع سپرندہ، مجانبِ تقاطع، حضرت سالم مولیٰ حذیفہ الیمان رضی اللہ عنہ ہیں۔

پندرھویں: خائفِ عقوبت، ہاربِ از طریقِ مخالفت، حضرت عکاشہ ابن محصن رضی اللہ عنہ ہیں۔

سولہویں: زینِ مہاجر و انصار، سید بنی قارّ، حضرت مسعود بن ربیع القاری رضی اللہ عنہ ہیں۔

سترہویں: اندر زہد مانندِ عیسیٰ، اندر شوق بدرجۂ موسیٰ، ابو ذر جندب ابن جنادہ الغفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔

اٹھارہویں: حافظِ انفاسِ پیغمبر ﷺ، مرخیرات در خور، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔

انیسویں: اندر استقامت مقیم و اندر متابعت مستقیم، حضرت صفوان بن بیضاء رضی اللہ عنہ ہیں۔

بیسویں: صاحبِ ہمت، خالی از تہمت، حضرت ابو الدرداء عویمر بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں۔

اکیسویں: متعلقِ درگاہِ جابر، گزیدۂ رسول پادشاہ، حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ ہیں۔

بائیسویں: کیمیائے بحرِ شرف در، توکل راصد ف، حضرت عبد اللہ بن بدر الجہنی رضی اللہ عنہ ہیں۔

غرضیکہ اسی طرح اور بھی بہت ہیں۔ اگر ہم تمام اہلِ صفہ کا ذکر کریں تو کتاب طویل ہو جائے۔

حضرت شیخ ابو عبد الرحمٰن محمد بن حسین سلمی رضی اللہ عنہ بڑے زبردست ناقلِ مسائلِ طریقت اور جامعِ کلامِ مشائخ گزرے ہیں۔ انہوں نے صرف اہلِ صفہ کے حالات میں ایک تاریخ تالیف فرمائی ہے۔ اس میں اُن کے علیحدہ علیحدہ فضائل اور نام بنام حالات اور ان کی کیفیتیں

۱۹۹

لکھی ہیں۔

اُس میں انہوں نے مسطح بن اثاثہ بن عباد کو بھی اہلِ صفہ میں نقل کیا ہے مگر میں اسے درست نہیں سمجھتا۔ اس لیے کہ یہ وہ مسطح ہیں جنہوں نے قصۂ افک میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ابتداء کی تھی۔ لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ثوبان اور حضرت معاذ بن حارث اور حضرت سائب بن خلاد اور حضرت ثابت بن ودیعہ اور حضرت ابو الیسر کعب بن عمرو اور حضرت وہب بن مغفل اور حضرت عبد اللہ بن انیس اور حضرت حجاج بن عمرو الاسلمی رضی اللہ عنہم اجمعین تمام اہلِ صفہ سے ہیں۔ اگرچہ کبھی یہ کسی سبب سے دنیا کی طرف مشغول فرما لیتے تھے مگر تاہم یہ تمام درجہ میں برابر اور حقیقتاً قرنوں کے خیر القرون سے تھے اور جس وقت بھی یہ جس درجہ پر تھے، متاخرین سے بہتر اور افضل ترین خلائق تھے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صحبتِ سید الانبیاء ﷺ کا شرف بخشا تھا۔ ان کے ضمیر تمام عیوب سے محفوظ تھے۔ جیسا کہ خود حضور ﷺ نے فرمایا

خَیْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَهُمْ... الخ

"زمانوں سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے پھر وہ زمانہ جو اس سے قریب ہے..."

اور خود اللہ جلّ مجدہٗ و تبارک و تعالیٰ و عزّ اسمہٗ نے فرمایا

﴿وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ﴾

"اور وہ لوگ جو مسابقت کرنے والے ہیں پہلے ایمان لانے والوں میں مہاجرین و انصار سے اور وہ لوگ جو پیروی اسلام کرتے ہیں اور نیک ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔"

خَیْرُكُمْ قَرْنِیْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَهُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَهُمْ۔

صفحہ ۲۰۰

باب دہم

ائمۂ تابعین رضوان اللہ علیہم

حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ

ان میں سے آفتابِ امت، شمعِ دین و ملت حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ ہستی مشائخ کرام کے طبقہ کی بہت بڑی مانی گئی ہے اور اہلِ تصوف میں معظم ہیں۔ یہ عہدِ رسول پاک ﷺ میں تھے لیکن حضور ﷺ کے فیضِ صحبت سے دو وجہ سے مستفیض نہ ہو سکے اور شربتِ دیدار سے محروم رہے

ایک: مانعِ حضوری آپ کا غلبۂ حال رہا۔

دوسرے: اپنی والدہ ماجدہ کے حقِ خدمت ادا کرنے میں مصروف رہے۔

مگر حضور فخرِ عالم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں فرما دیا تھا کہ ایک مردِ خدا مقامِ قرن میں ہے۔ اس کا نام اویس ہے۔ اس کا یہ مرتبہ ہے کہ اس کی شفاعت میری امت میں قبیلۂ ربیعہ اور قبیلۂ مضر کی بکریوں کے بالوں کے برابر ہوگی۔ پھر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اور حضرت مولائے کائنات علی کرم اللہ وجہہ کی طرف رخ فرما کر ارشاد ہوا: تم دونوں اسے دیکھو گے، ان کا قد چھوٹا ہوگا، ان کے سر کے بال لمبے ہوں گے، ان کے پہلو میں بائیں طرف ایک درہم کے برابر سفید داغ ہے اور ایک اور نشان ان کے ہاتھ کی ہتھیلی پر ہے۔ جب تم اس سے ملو، ہمارا اسے سلام کہنا اور کہنا کہ وہ ہماری امت کے لیے دعا کریں۔

بعد وفاتِ سید اکرم ﷺ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما مکہ معظمہ تشریف لائے۔ اثنائے خطبہ میں آپ نے فرمایا: یَا اَهْلَ نَجْدٍ قُوْمُوْا۔ "اے اہلِ نجد کے لوگو! کھڑے ہو جاؤ۔" حکم سن کر سب کھڑے ہو گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے اندر کوئی مقامِ قرن کا رہنے والا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: حاضر ہے۔ اور جو مقامِ قرن کے لوگ تھے، انہیں امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔

آپ نے پوچھا کہ تمہارے اندر کوئی "اویس" نام کا آدمی ہے؟ عرض کی: "اویس"

۲۰۱

ایک دیوانہ آدمی ہے جو آبادی میں نہیں آتا، کسی کے پاس نہیں بیٹھتا، لوگوں کی غذا سے اس کی غذا بھی علیحدہ ہے، خوشی و غم اس کے نزدیک یکساں ہیں، جب لوگ ہنستے ہیں تو وہ روتا ہے، جب لوگ روتے ہیں تو وہ ہنستا ہے۔ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: حضور! جنگل میں اونٹوں کے پاس ملے گا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور جنگل میں جا کر ان سے ملے۔ دیکھا کہ اویس (رضی اللہ عنہ) نماز میں مشغول ہیں۔ بیٹھ گئے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو فاروق و اسد اللہ نے انہیں سلام کیا اور ہاتھوں کی ہتھیلی پر نشان دیکھے۔ پھر حضور ﷺ کا سلام پہنچایا اور امت کے حق میں دعا کرنے کا حکمِ حضور ﷺ سنایا۔

تھوڑی دیر فاروق و اسد اللہ (رضی اللہ عنہما) اویس کے پاس بیٹھے رہے، پھر حضرت اویس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ حضرات کو تکلیف ہوئی، اچھا اب تشریف لے جائیں، قیامت بہت نزدیک ہے، اس جگہ ہمیں وہ دیدار ہوگا جس کے لیے بازگشت نہیں، میں اب قیامت کے راستہ کے سامان میں مشغول ہوں۔

جب قرنی لوگ حضرت فاروق اور اسد اللہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت اویس کی خدمت میں آئے تو انہوں نے آپ کا مرتبہ سمجھا اور آپ کا احترام کرنے لگے، تو حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ وہاں سے کوفہ آ گئے۔ اس کے بعد ہرم ابن حیان نے ایک روز انہیں دیکھا۔ اس کے بعد جنگ و غزوات میں علی کرم اللہ وجہہ تک کسی نے نہ دیکھا۔ پھر جب حربِ صفین ہوئی، اس میں حضرت اویس رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرفداری میں آئے، شریکِ حرب ہو کر شہید ہو گئے۔ عَاشَ حَمِیْدًا وَمَاتَ شَهِیْدًا۔

"زندہ رہے تو حضور ﷺ کی زبانِ مبارک سے تعریف ہوئی، انتقال فرمایا تو شہادت پائی۔"

حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: "اَلسَّلَامَةُ فِی الْوَحْدَةِ"، یعنی سلامتی تخلیہ اور تنہائی میں ہے۔ اس لیے کہ جو اپنا دل (غیر سے) خالی رکھے وہ اغیار کے خطرہ اور اندیشہ سے آزاد ہے اور اپنے ماحول میں سب سے مایوس رہتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اغیار کی تمام آفتوں سے سلامتی میں رہتا ہے اور سب سے منہ پھیرے ہوئے ہوتا ہے۔

لیکن اگر کوئی یہ خیال کرے کہ وحدت سے مراد تنہا زندگی بسر کرنا ہے تو یہ محال ہے۔ اس لیے کہ جب تک کسی کے دل میں شیطان کی محبت ہو اور اس کے سینہ میں نفس غالب ہو اور دنیا و عاقبت کی فکر اور لوگوں کا اندیشہ ہو، اس وقت تک اس کو کیفیتِ وحدت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ ماسوائے اللہ سے آرام ہو یا اس کا اندیشہ، دونوں کی ایک ہی کیفیت ہے۔ تو جو تنہا ہوتا ہے، اگرچہ اس

۲۰۲

کی صحبت لوگوں میں ہو، اسے اپنی کیفیتِ وحدت میں کوئی خلل نظر نہیں آتا۔ اور جو غیر اللہ میں مشغول ہو، اگرچہ خلوت نشین ہی کیوں نہ ہو، وہ کیفیتِ وحدت سے محروم ہی رہے گا۔

تو قطعِ محبتِ ماسوی اللہ کے یہ معنی ہیں کہ اس کے دل میں سوا ذاتِ واحد کے، کسی کا تعلق اور کسی کی محبت نہ ہو، اور جب اس کے دل میں خالص ذاتِ واحد جاگزیں ہو چکی، وہ کتنا ہی لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے، اسے کوئی خطرہ نہیں۔

اور جو مخلوق سے محبت رکھے، اس کے دل میں محبتِ الٰہیہ کا گزر نہیں ہو سکتا۔ گویا وہ محبتِ الٰہی کو سمجھتا ہی نہیں۔ لِاَنَّ الْوَحْدَةَ صِفَةُ عَبْدٍ صَافٍ سَمِعَ قَوْلَهٗ تَعَالٰی: ﴿اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ﴾

"صفتِ عبدِ صافی محض وحدت ہے۔ سن اللہ کا فرمان! کیا اللہ اپنے بندہ کو کافی نہیں؟"

حضرت ہرم بن حیان رضی اللہ عنہ

انہیں تابعین میں سے شمعِ صفا، معدنِ وفا حضرت ہرم بن حیان رضی اللہ عنہ ہیں، جو بزرگانِ طریقت سے گزرے ہیں اور معاملۂ حقیقت میں حظِّ وافر رکھتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صحبت یافتہ ہیں، حتیٰ کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی بھی زیارت کر چکے ہیں۔ آپ کی ملاقات کا واقعہ یوں ہے کہ آپ نے اویس قرنی کی زیارت کا قصد کیا، حتیٰ کہ قرن پہنچے مگر نا امید واپس آئے۔ پھر مکہ معظمہ گئے تو خبر ملی کہ اویس اب کوفہ میں رہتے ہیں۔ آپ شوقِ زیارت لیے کوفہ آئے مگر زیارت نصیب نہ ہوئی۔ امیدِ زیارت میں ایک مدتِ دراز کوفہ میں گزاری۔ آخر بصرہ آنے کا عزم کیا، روانہ ہوئے تو راستہ میں دیکھا کہ لبِ فرات اویس طہارت فرما رہے ہیں اور آپ کے جسم پر خرقہ ہے، پہچان لیا۔ وضو فرما کر اویس نے کنگھی کر کے بالوں کو سنوارا اور چلنے لگے تو ہرم بن حیان سامنے آئے اور سلام کیا۔

حضرت اویس نے جوابِ سلام میں فرمایا: وَعَلَیْكُمُ السَّلَامُ یَا هَرِمُ بْنَ حَیَّانَ۔ ہرم متعجب ہو کر کہنے لگے: آپ نے کس طرح پہچان لیا؟ آپ نے فرمایا

عَرَفَتْ رُوْحِیْ رُوْحَكَ۔

"میری جان نے تیری جان کو پہچان لیا۔"

تھوڑی دیر بیٹھے، پھر مجھے رخصت فرما دیا۔ میرے ساتھ جو گفتگو فرمائی اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق زیادہ باتیں تھیں اور مجھے حضرت عمر و علی رضی اللہ عنہما کی روایت سے حضور

۲۰۳

ﷺ کی یہ حدیث سنائی اور کہا کہ انہوں نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے فرمایا

اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَّا نَوٰی فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ اِلَی اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ فَهِجْرَتُهٗ اِلَی اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ اِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُهَا اَوِ امْرَاَةٍ یَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهٗ اِلٰی مَا هَاجَرَ اِلَیْهِ۔

"عملوں کی جزا نیتوں پر ہے اور ہر ایک شخص کے لیے وہی بدلہ ہے جو اس کی نیت ہو۔ تو جس نے ہجرت کی اللہ و رسول (ﷺ) کی طرف تو اس کی ہجرت اللہ و رسول (ﷺ) کی طرف ہوگی، اور جس نے ہجرت کی حصولِ دنیا کے لیے یا کسی عورت کے لیے کہ اس سے عقد کرے تو اس کی ہجرت اسی طرف ہوگی جس نیت سے ہجرت کی۔"

اس کے بعد فرمایا: "عَلَیْكَ بِقَلْبِكَ"۔

"اپنے دل کی نگرانی ہر قسم کے اندیشۂ غیر سے رکھ۔"

اس عبارت کے دو معنی ہیں: ایک یہ کہ مجاہدہ اتنا ہو کہ اپنے دل کو تابعِ حق کر لیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اپنی خواہشات کو اس دل کا فرمانبردار بنا لے۔

یہ دونوں زبردست اصول ہیں، مگر دل کو خدا کا تابع کرنا ان مریدوں کا کام ہے جو کثرتِ شہوت اور محبتِ حرص سے مجتنب ہو جائیں اور ہر قسم کے تفکرات جو درجہ بدرجہ پیدا ہوتے ہیں، انہیں دل سے دور کریں اور تدبیرِ صحت و حفظِ امور میں کوشاں رہیں اور ہر معاملہ میں نظر برحق رکھیں تاکہ ازدیادِ محبت ہو۔ اور اپنے کو دل کا تابع بنا لینا کاملوں کا کام ہے۔ اس لیے حق تعالیٰ شانہٗ ان کے دلوں کو اپنے نورِ جمال سے منور فرما دیتا ہے اور تمام علل و اسباب سے آزاد کر دیتا ہے، اور وہاں پہنچا کر خلعتِ تقرب بخش کر اپنے الطاف کی تجلیات ان پر فرماتا ہے اور اپنا مشاہدۂ جمال اور قرب

۲۰۴

ان پر مستولی کر دیتا ہے۔ اس وقت ان کا جسم بھی ان کے دل کے موافق کر دیا جاتا ہے۔

تو وہ گروہ جو پہلے اہلِ دل گزرا، وہ صاحبِ القلوب اور باقی الصفت ہے، اور یہ گروہ جو مغلوب القلوب ہے وہ فانی الصفت ہے۔ اور اس مسئلہ کی حقیقت یہ ہے جو حق جل جلالہٗ نے فرمائی

﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ﴾

"مگر وہ بندے جو خالص کیے گئے۔"

اسے بفتحِ لام پڑھا گیا اس لیے کہ مُخْلِصِیْنَ فاعل ہے اور باقی الصفت کے لیے ہے، اور مُخْلَص مفعول ہے اور فانی الصفت کے لیے۔ اور یہ بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں کہ تن کو موافقِ دل بناتے ہیں، اس لیے کہ ان کے دل تجلیِ حق کی طرف مائل اور مشاہدۂ جمال میں محو رہتے ہیں۔ اور باقی الصفت جو ہیں وہ دل کو بتکلف موافق امر بناتے ہیں۔

یہ مسئلہ در حقیقت صحو و سکر اور مشاہدہ و مجاہدت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مسئلہ کو زیادہ وضاحت سے مشرح طور پر کسی اور جگہ بیان کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔

حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ

انہیں تابعین میں امامِ عصر، فریدِ دہر، ابو علی الحسن بن ابی الحسن البصری رضی اللہ عنہ ہیں۔ ایک گروہ نے آپ کی کنیت "ابو محمد" لکھی ہے اور ایک جماعت نے "ابو سعید"۔ آپ کا مرتبہ اہلِ طریقت میں بہت بلند ہے اور فنِ تصوف میں آپ کے نہایت لطیف اشارات ہیں۔

ایک حکایت ہے کہ آپ کی خدمت میں ایک اعرابی آیا اور اس نے صبر کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: صبر دو طرح کا ہوتا ہے

ایک صبر وہ ہے جو مصائب و بلا کے اندر کیا جائے۔

دوسرا صبر ان چیزوں سے جن سے ہمیں باز رہنے کا حکمِ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا، ان سے اطاعتِ حکم کرتے ہوئے رکنا اور خواہشات کے خلاف صبر کرنا۔

اعرابی نے کہا

اَنْتَ زَاهِدٌ مَا رَاَیْتُ اَزْهَدَ مِنْكَ۔

"آپ ایسے زاہد ہیں کہ آپ سے زیادہ زاہد میں نے نہیں دیکھا۔"

اور آپ سے زیادہ صابر بھی کوئی نہ ہوگا۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے اعرابی! میرا زہد تو رغبتِ کلی ہے اور میرا صبر خالص جزع اور بے صبری۔ اعرابی نے عرض کی کہ

۲۰۵

حضرت! اس اجمال کی تفصیل فرمائیے؟ آپ نے ان جملوں سے تو مجھے مدہوش کر دیا اور میرا عقیدہ مذبذب ہو گیا۔

آپ نے فرمایا: ہمارا صبر بلا پر یا اطاعتِ حکم پر بوجہِ خوفِ جہنم ہے اور یہ عین بے صبری ہے، اور ہمارا زہد دنیا میں رغبتِ خالص ہے نعمتِ آخرت کے ساتھ اور یہ عین رغبت ہے۔ نہایت مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنا حصہ اور اپنی قوتِ ارادی کو درمیان سے اٹھا چکے۔ ان کا صبر خالص اللہ کے لیے ہے نہ کہ اپنے جسم کو جہنم سے امن دینے کے لیے، اور زہد ہمارا خالص اللہ کے لیے ہو نہ کہ خصوصیت سے بہشت میں داخل ہونے کے لیے، اور یہ علامتِ صحتِ اخلاص کی ہے۔

آپ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا

اِنَّ صُحْبَةَ الْاَشْرَارِ تُوْرِثُ الظَّنَّ بِالْاَخْیَارِ۔

"جو بدبختوں میں رہے گا تو نیکوں کی جماعت سے اور ان کے پیشواؤں سے بدگمان ہو جائے گا۔"

اور یہ بات متفق علیہ ہے بلکہ یقینی اور موجودہ دور کے لوگوں کے بالکل موافق حال ہے جو عام طور پر محبوبانِ بارگاہ کے منکر ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رسمی صوفیوں کی مجالس میں عوام بیٹھے اور ان کے ہر کام میں انہیں خیانت نظر آئی اور ان کی زبانوں پر دروغِ بے فروغ پایا اور دوسروں کی غیبت کرتے سنا اور ان کے کان دو پیت اور ہزلیات پر لگے ہوئے دیکھے۔ ان کی آنکھیں لہو و لعب اور شہوت پرستی پر لگی ہوئی دیکھیں اور ان کی تمام تر کوششیں حرام و مشتبہ مال جمع کرنے میں صرف پائیں۔ تو انہوں نے خیال کر لیا کہ صوفی عام طور پر ایسے ہی ہوتے ہیں اور ان کا عمل اور مجاہدہ یہی ہے بلکہ صوفیاء کا یہی مذہب ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط اور اتہام ہے۔ بلکہ صوفیوں کے تمام افعال اطاعتِ الٰہی پر ہیں اور ان کی زبان کلامِ حق اور ثمرۂ محبتِ حق حاصل کرنے پر کھلتی ہے۔ ان کے ضمیروں میں خالص محبتِ الٰہی بھری ہوئی ہوتی ہے، ان کے کان سماعِ حق کے محل اور حقیقت نیوش ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں مشاہدۂ جمالِ یار کو کھلی ہوتی ہیں۔ ان کی سعی و کوشش تمام حصولِ اسرارِ خفیہ پر ہوتی ہے اور وہ رازِ مخفی کے دیکھنے میں مجاہدہ کرتے ہیں۔

اگر کوئی قوم ایسی ظاہر ہو جائے کہ صوفیاء کے زمرہ میں مل کر ان کی سی رفتار و گفتار میں خیانت کرے تو ان کی خیانت کا اثر ان پر ہی پڑے گا نہ کہ ان احرارِ جہان اور سادات زمان پر۔ یاد رکھو! جو شریر لوگوں سے صحبت رکھے گا وہ اپنی شرارتِ نفس کے ماتحت ہوگا اور اگر اس میں بھلائی اور نیکی ہوگی تو وہ اخیار کے ساتھ ہی صحبت پسند کرے گا۔ (از مترجم) شعر

۲۰۶

(شعر کا تسلسل: ہم جنس باہم جنس پرواز، کبوتر با کبوتر باز با باز)

تو یاد رکھو! ہر کسی کی برائی اس کی ذات سے ہوگی، صحبتِ نا مناسب اور غیر کفو قبول کرنا اس کی نااہلی ہے، بلکہ وہ روزِ ازل ہی سے اس قوم اشرار سے ہوگا اور اس نے اپنے نفس کے شرکو نہ سمجھا ہوگا۔ تو ایسے منکر جو خاصانِ بارگاہ سے بدظن ہو گئے، وہ ایسے مکاروں کی اقتداء میں خراب ہوئے، برخلاف ان اخیار و محبوبانِ بارگاہ کے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بچشمِ رضا دیکھا اور اپنے خواص میں انہیں جگہ عطا فرمائی۔ ان کی صحبت اگر جان و دل کے بدلے میں حاصل ہو تو بھی ارزاں ہے، اس لیے کہ ان کا طریقِ عمل برگزیدہ اور وہ تمام عالم سے علیحدہ اور ان کی برکت سے انسان مقاصدِ دارین حاصل کرتا ہے۔ ان کا حال اس شعر میں کسی نے خوب کہا ہے

فَلَا تَحْقِرَنَّ نَفْسِیْ وَاَنْتَ حَبِیْبُهَا ۔ فَكُلُّ امْرِئٍ یَصْبُوْ اِلٰی مَنْ یُجَانِسُ

"نہ حقیر سمجھ تو میرے وجود کو حالانکہ تو اس کا محبوب ہے، یاد رکھ! ہر شخص اپنے ہم جنس سے مطلب کو پہنچتا ہے۔"

حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ

انہیں میں سے رئیس العلماء، فقیہ الفقہاء، حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ بڑے عظیم الشان اور بلند رتبہ والے گزرے ہیں۔ آپ کے فرامین بہت مقبول ہیں اور بہت زیادہ پاک باطن تھے۔ آپ کے مناقب بہت ہیں، خصوصاً فقہ میں اور توحید و حقائقِ تفسیر و شعر و لغت وغیرہ میں آپ یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ مشہور ہے کہ آپ بظاہر مردِ عیار نظر آتے اور دل کے اعتبار سے نہایت پارسا تھے، کہ پارسا نما اور عیار طبع اور مذہبِ طریقت میں یہ صورت نہایت محمود ہے۔

مشائخِ کرام رضی اللہ عنہم میں آپ سے ایک روایت مشہور ہے کہ آپ نے فرمایا

اِرْضَ بِالْیَسِیْرِ مِنَ الدُّنْیَا مَعَ سَلَامَةِ دِیْنِكَ كَمَا رَضِیَ قَوْمٌ بِكَثِیْرِهَا مَعَ ذِهَابِ دِیْنِهِمْ۔

"راضی رہ اس تھوڑی دنیا سے جس میں تیرا دین سلامت رہے، جیسے راضی ہیں کثرتِ مال و دنیا کے ساتھ اپنا دین فنا کر کے عوام الناس۔"

یعنی فقر سلامتیِ دین کے ساتھ اس سے بہتر ہے کہ غنا غفلت کے ساتھ حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب فقیر اپنے دل میں نظر کرتا ہے تو اندیشہ کی زیادتی نہیں پاتا اور جب ہاتھ پر نظر ڈالتا ہے تو اسے قانع پاتا ہے اور غنی، اور غنی جب دل میں نگاہ کرتا ہے تو اندیشوں کی دنیا آباد دیکھتا ہے

۲۰۷

اور جب ہاتھ کو دیکھتا ہے تو مشتبہ مال سے ملوث ہوتا ہے۔

تو رضاء دوستانِ الٰہی اس کے خداوندی پر بلا غفلت رہتی ہے اور رضائے غافلانِ دنیا پر غرور کے حصول اور آفت بے حسرت و ندامت اس آفت سے اچھی ہے جو آفت پر ذلت و معصیت ہو۔ غرضیکہ جب کوئی بلا غافلوں پر آتی ہے تو کہتے ہیں الحمد للہ مال پر ٹل گئی، جان و تن اس آفت سے محفوظ رہے، اور جب کوئی بلا محبوبانِ بارگاہ پر آتی ہے تو کہتے ہیں الحمد للہ کہ یہ بلا تن پر ٹل گئی اور دل محفوظ رہ گیا۔ اس لیے کہ جو بلا تن پر آئی اور اس سے دل محفوظ رہ جائے وہ نہایت اچھی بلا ہے، اور اگر وہ بلا دل پر آتی اور دل غافل ہو جاتا تو اگرچہ تن نعمتوں میں ہوتا مگر ایسی نعمت، نعمت نہیں بلکہ قمت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قلیلِ دنیا کے ساتھ راضی رہنا اس کے کثیر ہو جانے کی موجب ہے اور رضا کثیرِ دنیا کے ساتھ اسے قلیل کر دینے والی ہے اور ایسی جماعت کے لیے قلیل مثلِ کثیر ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک روایت ہے کہ آپ مکہ معظمہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا: سعید! مجھے وہ حلال بتاؤ کہ اس میں حرام نہ ہو اور وہ حرام بتاؤ جس کے اندر حلال نہ ہو۔ آپ نے فرمایا

ذِكْرُ اللّٰهِ حَلَالٌ لَیْسَ فِیْهِ حَرَامٌ وَذِكْرُ غَیْرِهٖ حَرَامٌ لَیْسَ فِیْهِ حَلَالٌ

"اللہ تعالیٰ کا یاد کرنا ایسا حلال ہے کہ اس میں حرام نہیں اور غیرِ خدا کا ذکر ایسا حرام ہے کہ اس میں حلال نہیں۔"

اس لیے کہ اس کے ذکر میں نجات ہے اور اس کے غیر کے ذکر میں ہلاک ہی ہلاک۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔

(اس صفحے پر پچھلے باب کے اختتام کی زینتی علامت ہے۔)