السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کشف المحجوب

حصہ ۳ — ملامت — آٹھواں باب

حصہ ۳
صفحہ ۱۶۲

ملامت

علماء طریقت کے ایک گروہ نے ایک کٹھن راہ کو لازم کیا ہے جس کا نام ملامت ہے اور انہوں نے طریقت کے طریقہ کو خلوص و محبت میں ایک عظیم علامت مانا ہے اور اس کے مردانِ خدا اور اہل عقیدت معتقد ہیں۔ خصوصاً ہمارے پیشوایانِ امت، رسول کریم ﷺ جو امام اولیاء و الاتقیاء ہیں اور ان کے بعد وہ صحابہ جو عالی مرتبت اور گراں مایہ تھے، اس وقت تک بے نام رہے جب تک رسولِ حق کا ظہور نہ ہوا اور جب لباسِ محبت و خلوص پہنایا گیا تو لوگوں کی طرف سے ان کے حق میں زبانِ ملامت دراز ہو گئی۔ کسی نے کہا: جادوگر ہیں، بعض نے کہا: شاعر ہیں، کسی نے کہا: مجنون ہیں۔ کوئی کہنے لگا کاذب ہیں اور مثل اس کے بہت سی بدگمانی کی گئی، مگر اللہ جل شانہ نے ان کی تعریف میں فرمایا

﴿يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾ "وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف نہیں کرتے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑا وسعت والا اور علم والا ہے۔"

اور طریقہ یہ بنایا ہے کہ اسے جو یاد کرے اس کے ذکر کو سنائے، ذکرِ عالم کی ملامت میں مشغول ہو جاتا ہے اندرونی سے، اور اس کے راز کی نگہداشت اللہ تعالیٰ بذاتِ خود فرماتا ہے اور یہ درحقیقت غیرتِ الٰہی ہے کہ غیروں سے اپنے محبوبوں کے راز کو چھپا لیتا ہے تاکہ نہ کہ کوئی اس کے جمالِ باطنی پر نظر ڈالے اور ان کے نفس کو اس یقین سے گم نہیں فرماتا تاکہ وہ اپنا عمل پامال دیکھ کر مغرور نہ ہو جائیں اور کسی وقت غافل نہ ہوں۔

اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو عوام پر چھوڑا ہے تاکہ وہ ان پر زجر و توبیخ کرتے، ملامت دراز رکھیں اور نفسِ لوامہ ان کے اندر ترکیب کیا ہے تاکہ ان کا نفس ان کی کوتاہی پر ملامت کرتا رہے اور کسی فرض کے فوت ہو جانے پر وہ اپنے آپ پر ملامت کریں، یہ اگرچہ کچھ بھی کریں تو اس کے کم ہونے پر ملامت کریں اور یہ...

۱۶۳

راہِ مولا میں بڑی مضبوط جڑ ہے۔ کیونکہ عجب و تکبر سے بڑھ کر کوئی آفت اور حجاب نہیں اور عجب و تکبر کی جڑ دو چیزیں ہیں جن سے عجب و تکبر پیدا ہوتا ہے: وجاہت حاصل ہو جانا مخلوق میں اور مخلوق کی زبان سے اس کی مدح سرائی۔ اور یہ اس طرح ہوتا ہے کہ کسی انسان کی گفتار و کردار کو عوام پسند کریں، اس کی مدح سرائی کریں اور اسے اس سے غرور پیدا ہو۔

دوسرے یہ کہ جو کام وہ کر رہا ہے، لوگ اسے پسند کرتے ہیں تو یہ اس کام کا اہل اور اس کے قابل اپنے آپ کو سمجھنے لگتا ہے اور اس وجہ میں متکبر بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ خاص سے اس راستہ میں اپنے محبوں مقربوں پر یہ انعام فرما دیا ہے، تاکہ اس کے تمام کام اگرچہ نیک ہی ہوتے ہیں مگر عوام انہیں پسند نہ کریں اور عوام کے پسند نہ کرنے کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ وہ اس کام کی حقیقت کو دیکھنے سے قاصر ہیں اور مجاہدات و ریاضات ان محبانِ الٰہی کے بہت ہوتے ہیں مگر انہوں نے ان مجاہدات کو اپنی قوت کا نتیجہ کبھی نہیں سمجھا محض فضلِ الٰہی تصور کیا اور ان مجاہدات کی وجہ سے انہوں نے اپنی ذات کو پسندیدہ نظر سے نہیں دیکھا۔ اس وجہ سے وہ تکبر سے محفوظ رہے۔

تو خلاصہ یہ ہوا کہ جسے اللہ پسند فرماتا ہے عوام اسے پسند نہیں کرتے، اور جسے اپنا وجود پسند آیا اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا۔

جیسا کہ شیطان کہ اسے لوگوں نے پسند کیا اور ملائکہ نے بھی قبول کیا اور خود اس نے اپنے آپ کو اچھا سمجھا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے پسند نہیں کیا تو لوگوں اور فرشتوں کا پسند کرنا اس کے لیے عمر بھر کی لعنت بن گیا۔

اور آدم علیہ السلام کو اول ملائکہ نے پسند نہیں کیا اور صاف کہہ دیا: ﴿أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا﴾ کیا ایسے وجود کو دنیا میں پیدا فرما رہا ہے جو فساد کرے۔

اور خود آدم علیہ السلام نے اپنے وجود کو پسند نہ کیا اور عرض کر دیا: ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا﴾ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔

لیکن چونکہ آدم علیہ السلام پسندیدۂ حق تھے تو جنابِ باری عزاسمہ کی طرف سے ارشاد ہوا

۱۶۴

﴿فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا﴾ "سو وہ بھول گیا اور نہ پایا ہم نے اس کا کوئی عزم"۔

تو اللہ تعالیٰ کا پسند فرمانا آدم علیہ السلام کے لیے عمر بھر کی رحمت لایا تاکہ دنیا کے لوگ جان لیں کہ اللہ کا مقبول و مہجورِ خلق ہوتا ہے اور مقبولِ خلائق مہجورِ الٰہی ہوتا ہے۔

تو ثابت ہوا کہ ملامتِ خلقِ خدا علامت ہے محبوبانِ الٰہی کی، اور دلیل ہے اس کے مقربِ بارگاہ ہونے کی اور جس طرح مقبولِ خلائق ہو کر خرم و شاد ہونا عام طور پر پسندیدہ ہے اسی طرح خاصانِ بارگاہ خلق کے ساتھ شادکام و شادمان رہتے ہیں۔

حدیث میں آیا ہے کہ حضور ﷺ سے جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اور جبرائیل علیہ السلام سے رب العزت جل مجدہ نے فرمایا

فصل: أَوْلِيَائِي تَحْتَ قِبَابِي لَا يَعْرِفُهُمْ غَيْرِي إِلَّا أَوْلِيَائِي. "میرے دوست میری قباب (قبوں) کے اندر ہیں، انہیں میرے اور میرے دوستوں کے سوا کوئی نہیں جانتا۔"

ملامت کی تین صورتیں ہیں: راست روی، قصد کرنا، ترک کرنا۔ ایک سیدھا چلنے میں، دوسرے قصد کرنے میں، تیسرے ترک کرنے میں۔

راست روی میں صورتِ ملامت یہ ہے کہ اپنا کام کرتا رہے اور احکامِ دین کی پیروی کرے اور ہر معاملہ میں رعایت ملحوظ رکھے اور لوگ اسے ایسی حالت میں ملامت کریں جیسا کہ عوام کا رویہ ہے۔ مگر عارفِ کامل ان تین ملامتوں سے بھی بے تعلق اور فارغ ہو۔

اور قصد میں صورتِ ملامت یہ ہے کہ ایک شخص جبکہ اسے عز و جاہ کافی حاصل ہو چکی ہو اور لوگوں میں معزز و ممتاز ہو کر ان میں نشانہ ہو چکا ہو مگر اس کا دل اس عز و جاہ سے اور رجوعِ خلق سے متنفر ہو اور وہ چاہے کہ سب سے دل علیحدہ کر کے خلوتِ خاص میں اپنے جمیلِ حقیقی سے مشغول ہو تو اس تکلف کی وجہ میں لوگ ملامت کرنا شروع کر دیں، اور وہ بھی لوگوں کو دکھانے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کرے جو خلافِ شرع نہ ہو مگر اس رویہ سے لوگ اس کے ساتھ متنفر ہو جائیں مگر وہ خود لوگوں کے اس تنفر کی پرواہ نہ کرے۔ آخرش لوگ اس سے بے پرواہ ہو جائیں۔

۱۶۵

اور تیسرے یہ کہ ترک کرے۔ یہ صورتِ ملامت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو دنیا کی ترغیب ترک کر کے اور عز و جاہ کو چھوڑ کر وہ شریعت اور اذکار اور اتباعِ قانونِ اسلام کے لیے کہیں اور سمجھتا ہے کہ میں جس راہِ راست پر ہوں وہ بغیر ملامت سے نہیں اختیار کیا ہے اور وہ فی الحقیقت اس راہِ راست پر ہو۔ تا کہ اس کے دل کو لوگوں کی ملامت کی پروا نہ رہے اور ان کی بدگوئی سے وہ بچا رہے اور ایسی حالت میں اسے ملامت کا خوف نہیں ہوتا اور اپنے اس کام میں پرسکون رہتا ہے، جس نام سے بھی لوگ اسے پکاریں وہ سب نام اس کی نظر میں برابر ہوتے ہیں۔

ایک حکایت میں ہے کہ حضرت شیخ ابو طاہر حرمی رحمۃ اللہ علیہ ایک روز ایک گدھے پر سوار ہو کر بازار میں جا رہے تھے اور ان کے پیچھے ان کے ایک مرید اس گدھے کی باگ پکڑے ہوئے تھے۔ راہ میں جانے والے ایک شخص نے آواز دی کہ: "آ گیا بوڑھا زندیق!" مرید کو غصہ آ گیا اور اس مارنے کے لیے بڑھا۔ اس سے بازار کے لوگ طیش میں آ گئے اور ابو طاہر رحمۃ اللہ علیہ نے مرید سے فرمایا کہ اگر تو خاموش ہو جائے تو ہم تجھے ایسی چیز بتائیں گے کہ تیرا سارا رنج و غم جاتا رہے گا۔ مرید خاموش ہو گیا۔ جب اپنی جائے قیام پر تشریف لائے تو مرید کو حکم دیا کہ وہ صندوق لائے۔ مرید صندوق لایا۔ اس صندوق میں بہت سے خطوط جمع ہوئے تھے، آپ نے ایک خط نکال کر دیا اور فرمایا: دیکھو، ان متعدد لوگوں نے مجھے خط لکھے ہیں، ہر ایک نے میرے لیے الگ نام لکھے ہیں۔ ایک نے "شیخ الاسلام"، ایک نے "زاہد"، ایک نے "محی الدین" اور ایک نے گالیوں کے ساتھ لکھا اور فرمایا: دیکھو متعدد لوگوں کے خطوط ہیں، ہر ایک نے میرے لیے ایک لقب دے دیا ہے۔ اگر اس نے مجھے کوئی لقب دے دیا تو اس پر اتنا برا کیوں مانتے ہو؟

اب تجھ کو سمجھنا چاہیے! جو اس طریقۂ ملامت میں بقصدِ ترکِ جاہ، عزت و ریاست زہد اختیار کرتا ہے، وہ ایسا ہی ہے جیسے کہ روایت ہے کہ حضرت امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایک روز خیموں کے پاس سے تشریف لا رہے تھے اور شرم کی خشک لکڑیوں کا گٹھا آپ کے سر پر تھا۔ حالانکہ آپ کے پاس چار سو غلام تھے۔ لوگوں نے عرض کیا: حضور! یہ کیا فرمایا ہے؟ فرمایا: أَنْ أُجَرِّبَ نَفْسِي. "میں چاہتا ہوں کہ اپنے نفس کا تجربہ کروں۔"

میرے پاس اگرچہ بہت سے غلام ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرا نفس اس اعلیٰ مقام و جاہ اور عز و احترام کی وجہ سے کہیں سرکش نہ ہو جائے، یہ بات شانِ ملامت کے نزدیک ہے اور...

۱۶۶

اس سے اثباتِ ملامت واضح ہے۔ ایسا ہی ایک حکایت میں امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ اس کتاب میں جس جگہ ان کا ذکر ہوگا ان شاء اللہ وہاں لکھوں گا اور ابو یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ سفرِ حجاز سے تشریف لائے تو منادی کرادی گئی اور لوگوں میں شہرہ ہوا کہ بایزید تشریف لائے ہیں۔ شہر کے لوگ جمع ہوئے اور برائے استقبال شہر سے باہر آئے تاکہ اعزاز و اکرام کے ساتھ شہر میں لائیں۔ بایزید رحمۃ اللہ علیہ لوگوں کی آمد و رفت سے ان کی طرف مشغول ہوئے اور محسوس فرمایا کہ اب دل بھی تقربِ حق سے بعید ہو رہا ہے۔ پریشان ہو گئے تو آپ نے یہ حیلہ بنایا کہ (جب وسطِ شہر میں تشریف لائے تو) ایک ٹکیہ روٹی کی نکال کر برسرِ راہ کھانا شروع فرمادی۔ عوام میں اس حالت سے منافرت پیدا ہوگئی اور آپ کو تنہا چھوڑ کر چل دیئے۔ اس لیے کہ یہ واقعہ رمضان شریف میں ہوا۔ حضرت بایزید نے اپنے اس مرید سے فرمایا جو آپ کا ہم سفر تھا، کہ دیکھا تو نے! ایک مسئلہ پر شریعتِ مطہرہ کے میں نے عمل کیا تو لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا اور آزاد کر دیا (یعنی مسئلہ شرعی یہ ہے کہ مسافر اگر بحالتِ مسافرت روزہ نہ رکھے تو اس پر گناہ نہیں، وہ ان روزوں کی قضا دوسرے ایام میں کر سکتا ہے) اور میں یعنی علی بن عثمان جلابی (رضی اللہ عنہ) کہتا ہوں کہ اس حالت میں حصولِ ملامت کے لیے ایک برا فعل ہونا بھی بہتر تھا اور کوئی چیز خلافِ عادت ظاہر کرنا مناسب، لیکن آج وہ زمانہ ہے کہ اب اگر چاہے کہ لوگ اس کو ملامت کریں تو یہی کافی ہے کہ کہہ دے، جا! اور دو رکعت نفل لمبے کر کے پڑھ یا اپنے دین کو مضبوطی سے تھام اور اتباع مکمل کرے تو آج عوام میں اس کہنے سے تجھے علی الفور منافق اور ریا کار کہہ دیں گے۔

لیکن وہ شخص جس کا طریقہ ترک ہے اور اس کی وجہ میں وہ کوئی بات خلافِ شریعت اختیار کر کے کہتا ہے کہ میں یہ ملامت کا طریقہ اختیار کرتا ہوں تو یہ صراحتاً گمراہی، وضاحتاً آفت اور وہ کاذب ہے اور اس زمانہ میں ایسے بہت ہیں کہ ان کا مقصود لوگوں کے رد کرنے سے ان کا رجحان اپنی طرف بڑھانا ہے حالانکہ ردِ خلائق کرنا اسے زیبا ہے جو پہلے مقبولِ بارگاہ ہو چکا ہو، تو اس کے رد کرنے سے عوام اس کے اس رویہ کا رد کرنے لگتے ہیں۔

اور جو پہلے ہی مقبولِ بارگاہ نہیں، وہ اگر لوگوں سے مجتنب رہے اور ردِ خلائق کرنے کا تکلف کرے تو یہ یقیناً لوگوں کو اپنی طرف رجوع کرنے کا بہانہ ہوگا۔

مجھے ایک مصنوعی ملامتی سے سابقہ پڑا۔ میں نے دیکھا کہ وہ کسی خراب فعل میں مرتکب تھا اور اس فعل پر ملامت کو عذر بنا رکھا تھا۔ ایک شخص نے اسے کہا کہ یہ بہانہ لغو ہے۔ میں نے اسے...

۱۶۷

دیکھا کہ بڑا غضبناک ہو گیا۔ میں نے اسے کہا کہ تو در حقیقت ملامتی ہے اور یہ تیرا زبانی دعویٰ نہیں ہے۔ تو تیرے اس دعویٰ پر اس شخص کا انکار تیرے مقصد و مذہب کی تائید ہے اور جو تیرے خیالات و دعویٰ کی تائید کرتا ہے تو پھر اس پر تیرا غضبناک ہونا کیا معنی رکھتا ہے اور یہ قہر و غضب کس لیے؟ تیرا یہ رویہ اگرچہ مانندِ طریقۂ ملامت ہے (مگر دراصل کچھ نہیں ہے)، ہمیشہ یاد رکھ کہ جو شخص کسی کو امرِ حق کی دعوت دیتا ہے، وہ کوئی دلیل بھی رکھتا ہے اور اس کی دلیل محافظتِ سنت ہے۔

پھر تجھ سے میں ترکِ فرض کا رویہ بھی دیکھ رہا ہوں اور لوگوں کو بھی اسی گمراہی کی طرف دعوت دے رہا ہے تو تیرا یہ انکار ملامت کے طریقہ پر نہیں بلکہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

فصل: یاد رکھو مذہبِ ملامت کے اصول شیخِ وقت ابو حمدون قصاب رحمۃ اللہ علیہ نے جاری فرمائے اور طریقِ ملامت میں انہوں نے بہت سے لطائف و حقائق بیان فرمائے ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں: الْمَلَامَةُ تَرْكُ السَّلَامَةِ. "ملامت سلامتی ترک کر دینے کو کہتے ہیں۔" جب کوئی آدمی کشفِ جلال اور طلبِ مال سے بَری حاصل کرلے اور مخلوقات میں رہ کر مخلوق سے ناامید ہو جائے تو وہ ترکِ سلامتی کا قصد کرتا ہے اور صاف فیصلہ کر لیتا ہے کہ مجھ پر بلائیں آئیں۔ میری تمام مالوفات و راحت مجھ سے چھن جائیں، اس لیے کہ میری طبیعت ان تمام چیزوں کی محبت سے آزاد ہو چکی ہے۔

اور حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان جتنا ان چیزوں سے آزاد ہوتا جاتا ہے اپنے رب جل مجدہ کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ تو سلامتی جس کی طرف عوام کو احتیاج ہوتی ہے، اہلِ ملامت اس سے اجتناب کرتے ہیں، اس لیے کہ ان کا مقصد عوام کے مقصد کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ عوام کی سلامتی و جاہِ دنیا پر نظر ہوتی ہے۔ اہلِ ملامت کی اس سے پشت ہوتی ہے۔ اہلِ ملامت کی ہمت دنیا کی ہمت سے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ اس لیے کہ صوفی اپنے اوصاف میں یکتا ہوتا ہے جیسا کہ حضرت احمد بن فاتک رحمۃ اللہ علیہ حضرت حسین بن منصور سے روایت فرماتے ہیں کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ

مَنِ الصُّوفِي؟ قَالَ: وَجْدَانِيُّ الذَّاتِ. صوفی کون ہے؟ فرمایا: جو معرفتِ ذات کر چکا ہو۔

اور حضرت ابو حمدون سے ملامت کی بابت سوال ہوا۔ آپ نے فرمایا: راہِ آن بر خلق دشوار و مغلق است.

۱۶۸

"ملامت کا راستہ عوام پر دشوار بلکہ بند ہے۔"

مگر ہم کچھ بیان کرتے ہیں: رَجَاءُ الْمُرْجِيَةِ وَخَوْفُ الْقَدَرِيَّةِ. ترسِ قدریاں اور امیدِ مرجیاں صفتِ ملامت ہے اور اس اجمال میں ایک رمزِ خاص ہے وہ یہ کہ ملامتی کی طبیعت درگاہِ الٰہی کے علاوہ کسی طرف راغب نہیں ہوتی اور ماسوی اللہ سے نفرت جتنی اسے ہے، کسی کو اس سے زائد نہیں۔ یہ ہمیشہ وجاہت سے متنفر رہتا ہے، برخلاف عوام کے کہ وہ اس حد تک اپنے لیے وجاہت ضرور چاہتا ہے کہ لوگ اسے پسند کریں اور اس کی تعریف ہو بلکہ اپنی تعریف کے لیے جان و دل سے مر جاتا ہے اور اسی تعریف کی خواہش میں اپنے رب جل مجدہ سے جدا ہو جاتا ہے۔

تو خائف ہمیشہ یہ خوف کرتا ہے کہ خطرہ اس پر نہ آئے اور اس وجہ میں وہ خطرہ کے مقام سے بچا رہتا ہے اور اس سعی و کوشش میں طالب کو دو خطرے پیش ہوتے ہیں: ایک: خلقت کے حجاب کا خوف۔ دوسرے: ایسے فعل کا نہ کرنا جس سے لوگ اس کے فعل پر اس کے ساتھ گنہگار ہوں اور اس پر عوام زبانِ ملامت دراز کریں۔

نہ یہ اسے منظور ہو کہ اس کی وجاہت میں لوگ آرام کریں نہ یہ گوارا کہ وہ اپنے میں کسی کو گنہگار کرے تو ملامتی کو بالخصوص یہ لازم ہے کہ دنیا و عاقبت کی خصومت جو اس کے معاملہ میں ہے اس سے انقطاع کرے اور نجاتِ دل کے لیے وہ کام کرے جو شریعتِ مطہرہ میں نہ کبیرہ ہو نہ صغیرہ تاکہ لوگ اسے رد کریں اور اس کا خوف اس کے معاملات میں مثلِ خوفِ قدریان رہ جائے اور اس کی امید معاملۂ ذاتی میں ملامت کرنے والوں کی طرف سے مثلِ امیدِ مرجیان ہو۔

اور دوستی و محبت کے حقائق میں ملامت سے زیادہ خوشگوار کوئی چیز نہیں، اس لیے کہ دوست کے دل پر دوست کی ملامت کا اثر نہیں ہوتا اور دوست کو سوائے کوچہ گردیِ کوئے یار اور کسی سے سروکار بھی نہیں ہوتا اور بغیر کوئے یار اس کی گزر بھی مشکل ہے۔ اور اعتبار کا خطرہ دوست کے دل پر کبھی نہیں ہوتا۔

إِنَّ الْمَلَامَةَ رَوْضَةُ الْعَاشِقِينَ وَنُزْهَةُ الْمُحِبِّينَ وَرَاحَةُ الْمُشْتَاقِينَ وَسُرُورُ الْمُرِيدِينَ.

"ملامت عاشقوں کا باغ ہے، محبوں کی نزہت و تازگی ہے، مشتاقانِ جمال کی راحت ہے اور مریدینِ خالص کا سرور ہے۔"

یہ جماعت ملامت تن اختیار کر کے ثقلین میں ممتاز ہو گئے اور سلامتیِ دل میں کوئی ان کے...

۱۶۹

مقابل میں نہیں۔ مقربانِ بارگاہ اور کروبیاںِ خاص اور عالمِ ارواح والے ان کے اس درجہ کو نہیں پہنچتے ہیں۔ اور سابقہ امتیوں میں اگرچہ زاہد، عابد، راغب، طالب گزرے اور رب کے چاہنے والے تھے مگر اس مرتبہ کو کوئی نہ پہنچا، سوا اس گروہ کے جو اس امت میں ہوا کہ اپنے سلوکِ طریقت میں سب سے دل منقطع کر کے اپنے دل سے تعلق رکھا۔

لیکن میرے نزدیک طلبِ ملامت ریا خالص ہے اور ریا، عینِ نفاق۔ اس لیے کہ ریاکار اس راستہ پر چلنا پسند کرتا ہے جس میں عوام کی نگاہیں تکلف پائیں اور لوگ اسے اس راہ پر چلنے کی وجہ سے پسند کریں اور ملامتی اس راستہ پر جاتا ہے جس راستہ پر جاتے ہوئے کو لوگ رد کر دیں اور یہ دونوں قسم کے ملامتی مخلوق میں موجود ہیں۔ اور دونوں کو سوا اس کے اور کسی جگہ سے گزرنا بھی ناممکن ہے۔ ایک ایسی صورت میں ظاہر ہے تو دوسرا ویسی شکل میں، اور درویش کو مخلوق کی کسی بات سے تعلق ہی نہیں تو جبکہ اس کا دل مخلوق سے بے تعلق ہو چکا اور وہ ان دونوں قسموں سے آزاد ہے تو پھر کسی چیز کا پابند نہیں۔

مجھے ایک بار ماوراء النہر کے ملامتی سے ملاقات کا اتفاق ہوا تو جب وہ بے تکلف ہو گیا تو میں نے اس سے کہا: بھائی اس قسم کے شوریدہ افعال سے تمہاری کیا مراد ہے؟ کہنے لگا: مخلوق سے اپنے کو چھپانا۔ میں نے کہا کہ لوگ بہت ہیں اور تیری عمر کم، تو زمانہ میں ان سے پیچھا چھڑانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا لہذا تو خود ان کو کیوں نہیں چھوڑ دیتا تاکہ اس شغل سے بھی تو آزاد ہو جائے اور ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ لوگوں میں مشغول ہوتے ہیں، ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ لوگ ان کی طرف مشغول ہیں۔ تو ایسا کیوں نہیں کرتا کہ تو اپنے کو نہ دیکھتا کہ پھر تجھے کوئی نہ دیکھے۔ جب زمانہ کی الفت کی بلا تو نے دیکھی ہوئی ہے تو تجھے غیر سے کیا کام جس کو کچھ نہ کھانے سے ہی شفا مل جاتی ہے، اسے دوا کھانے کی کیا حاجت اور اگر وہ ایسا کر رہا ہے تو مرد نہیں۔

ایک گروہ محض ریاضتِ نفس کے لیے اپنے کو ملامتی بنا لیتا ہے تاکہ انہیں لوگ خوار کریں اور اس خواری سے ان کا نفس ادب سیکھے، کیونکہ ان کی خوشی اسی میں ہوتی ہے کہ اپنے نفس کو خواری اور ابتلاء میں دیکھیں۔

حضرت ابراہیم ادہم رحمۃ اللہ علیہ سے ایک حکایت ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ کبھی آپ اپنی مراد کو پہنچے ہیں یا نہیں؟ فرمایا: ہاں! دو بار مراد ملی ہے۔ ایک بار میں کشتی میں تھا اور کوئی مجھے وہاں نہیں جانتا تھا۔ میں نے بہت میلے کپڑے پہن رکھے تھے اور میرے سر کے بال لمبے تھے۔ میں اسی حالت میں کشتی میں سوار تھا کہ لوگ میری تحقیر کرنے لگے اور میرا مذاق اڑانے لگے۔

۱۷۰

اور ہنستے تھے اور مجھ پر تمسخر کرتے تھے۔ کشتی میں ایک شخص مسخرہ تھا وہ کھڑا ہوا اور تحقیر کے طور پر میرے سر کے بال نوچے اور داڑھی سے پکڑ کر دھکے دیے اور مجھ پر پیشاب کر دیا۔ ان باتوں کو دیکھ کر لوگ ہنسنے لگے اور میں اپنے دل میں سلوک کے راستے طے کر رہا تھا اور مجھے خوشی ہو رہی تھی اور میری خوشی اپنی حد کو پہنچ گئی اس طور پر کہ میں اس سے بے خبر تھا اور مرادِ دلی پا رہا تھا۔

دوسری بار اس طرح مراد کو پہنچا کہ سردی کے دن تھے اور سخت بارش ہو رہی تھی، میں جا رہا تھا کہ ایک گاؤں میں ایک مسجد نظر آئی، سوچا کہ اس رات اس مسجد میں سو رہوں مگر اہل مجلس نے مجھے مسجد سے نکال دیا، وہاں سے روتا ہوا ایک اور جگہ گیا لیکن اس جگہ سے بھی مجھے نکال دیا اور مجھے نہ پہچانا۔ سردی کی وجہ سے میرا دل آزرادہ تھا۔ ایک حمام کے چولہے پر گیا اور اپنا خرقہ اس چولہے کی راکھ سے بھر لیا، چولہے کے جھونکنے والے نے میرے کپڑے اور میرا منہ سیاہ کر دیا۔ اس وقت بھی میں اپنی مراد کو پہنچا۔

اور مجھے بھی (یعنی مجھے علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ کو) ایک واقعہ ایسا پیش آیا، میں نے اس امید پر بہت کوشش کی کہ یہ گرہ کھل جائے مگر نہ کھلی۔ اور ایک دفعہ اس سے بمشکل ایسا ہی واقعہ پیش آیا تو میں مزارِ حضرت شیخ ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ پر اس وقت تک مجاور بنا رہا جب تک وہ گرہ نہ کھلی، آخر گرہ کھل گئی۔

پھر وہاں سے روانہ ہوا، وہاں سے طوس کا قصد کیا۔ وہاں کا سفر اختیار کیا اور ایک گنجینہ کی زیارت کی اور حلِ مشکل کے لیے درخواست کی، پھر وہاں سے روانہ ہوا اور ہر روز زانو پر ہاتھ رکھ کر ننگے پاؤں بیس بار وضو سے رہا اور امیدِ کشف رہی مگر کشف نہ ہوا۔ آخر خراسان کا سفر اختیار کیا۔ وہاں کے ایک علاقہ دمشق کے ایک گاؤں "شامیکانی" میں پہنچا، یہاں ایک خانقاہ تھی اور اس خانقاہ میں صوفیوں کی ایک جماعت موجود تھی۔ میں نے درویشانہ لباس (یعنی ایک موٹا کپڑا) پہنا ہوا تھا اور نہایت تھکا ہوا تھا۔ میرے پاس سامانِ دنیا میں سے کچھ نہ تھا، ایک عصا اور کوزہ کے سوا سامان نہ تھا۔

وہاں کے صوفیوں کی نظر میں بہت حقیر نظر آیا اور میرا جاننے والا اس جماعت میں کوئی نہ تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے رسم کے مطابق گفتگو کی جس سے مجھے تکلیف پہنچائی اور بات بھی کی جو انہوں نے کہی تھی۔ میں فی الواقع ان میں سے نہیں تھا، انہوں نے مجھے نیچے بٹھا دیا اور خود اوپر چلے گئے اور مجھے ایک بالاخانہ پر جگہ دی۔

اور مجھے انہوں نے ایک روٹی پھینک دی جو سوکھی اور سرخ رنگ کی تھی، میں اسے کھانے لگا...

۱۷۱

بالاخانہ پر۔ جب وہ کھانے سے فارغ ہو گئے تو خربوزہ کھانے لگے اور اس کے چھلکے میرے اوپر پھینکتے رہے۔ اس لیے کہ میں ان کی نظروں میں بہت حقیر تھا، میں نے اپنے دل میں کہا: الٰہی! یہ لوگ وہ ہیں جو تیرے دوست ہیں اور دوستوں کا لباس پہنے ہوئے ہیں، اگر یہ مجھ سے نفرت نہ کرتے تو میں ان سے متنفر نہ ہوتا، لیکن جس قدر ان کی حقارت مجھ پر زیادہ ہوتی جاتی تھی میرا دل اندر سے بہت خوش ہو رہا تھا اور میں شادمان تھا کہ ان کی حقارت کے بوجھ سے مجھ پر میرا واقعہ کھل گیا اور مجھے معلوم ہوا کہ مشائخ نے ان جاہلوں کو کس لیے اپنے اندر رکھا ہوا ہے اور ان کا بار کیوں اٹھائے ہوئے ہیں۔

بحقِ خداوندی جل جلالہ! یہ ہیں احکامِ ملامت جو پورے طور پر میں نے حاصل کیے۔

صفحہ ۱۷۲

صحابهٔ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا احوال

سب کے پیشوا اور اربابِ تزکیہ میں امامِ گرامی ہیں، انبیاء کے بعد سب سے افضل اور معاملاتِ اولیاء و اتقیاء، اور تمام مہاجرین و انصار کے حالات، اور اہل صفا کی جماعت میں بعدِ انبیاء سب سے برتر ہیں: (تاکہ ان شاء اللہ عزوجل مراد و معلومات پوری ہو جائیں)۔

اہلِ گیتی، شہنشاہِ اربابِ صفا، امینِ اسلام، بعدِ امام، خیرِ الانام، خلیفۂ اول، سیدنا و امامنا، سندِ ہدایت، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تجرید و تفرید اور آفاتِ انسانی سے مبرا ہیں۔ آپ کے احکام و معاملات میں آپ کے فضائل و کرامات مشہور ہیں اور تصوف کے باب میں آپ کا مقام کمال پر ہے۔ آپ کا کچھ حال تصوف کے باب میں ذکر کیا جاتا ہے (اس لیے کہ اہل صفا آپ کو پیشوا اور اہل مشاہدہ مانتے ہیں) اس لیے کہ صاحبِ مشاہدہ جو ہوتا ہے، سيدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی تجرید کی وجہ سے دوسروں پر بہت فوقیت حاصل ہے (اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اہل مشاہدہ کے امام ہیں)۔ احادیث میں آیا ہے اور علماء سے یہ مشہور ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رات کے وقت نماز میں قرآنِ کریم بہت آہستہ پڑھتے، اور جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے دریافت ہوا تو وہ بلند آواز سے پڑھتے۔ حضور ﷺ نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ آپ آہستہ تلاوت کیوں کرتے ہیں؟ عرض کیا: مَنْ نَاجَيْتُهُ يَسْمَعُ. "حضور! اس لیے آہستہ پڑھتا ہوں کہ میں جانتا ہوں کہ جس سے میں مناجات کر رہا ہوں وہ مجھ سے غائب نہیں۔" اور اس حالت میں ان کے لیے امید، اور آہستہ پڑھنا یا بلند آواز سے پڑھنا برابر ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: آپ بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہیں؟ عرض کیا

أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ.

"میں سوتے ہوؤں کو جگاتا ہوں اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔"

مشاہدہ پر مبنی یہ مجاہدات کا مظاہرہ تھا اور وہ شانِ تزکیہ کا، اور ان دونوں کا مقصد ایک ہی ہے جس طرح طریقۂ براہ راست، اور یہی وجہ تھی کہ حضور ﷺ نے فرمایا

عُمَرُ حَسَنَةٌ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ.

۱۷۳

"عمر تم ابو بکر کی بھلائیوں میں سے ایک حصہ ہو۔" جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی جلیل القدر ہستی جن سے عزت و وقارِ اسلام ترقی پر آیا، وہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں ایک حصہ بھلائی کے مالک ہیں تو غور کر کے دیکھ دنیا کے لوگ آپ کے مقابلہ میں کس درجہ پر ہوں گے۔ پھر باوجود اس شان کے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں

دَارُنَا فَانِيَةٌ وَأَحْوَالُنَا عَارِيَةٌ وَأَنْفَاسُنَا مَحْدُودَةٌ وَكَسَلُنَا مَوْجُودَةٌ.

"ہمارا گھر فانی ہے، ہمارے حالات پرائے ہیں، ہماری سانسیں گنتی کی ہیں اور ہماری سستی بدستور موجود ہے۔"

تو سرائے فانی میں دل لگانا، عمارت کرنا جہالت کے مقتضیات سے ہے اور اپنے حالات و کوائف پر بھروسہ کرنا حماقت و بیوقوفی ہے اور چند سانس کے بھروسہ پر دل لگا لینا غفلت محض ہے اور اپنی کاہلی اور سستی کو دین کہنا خیانت مجرمانہ ہے جو موجب حرمان و نقصان ہے۔

اس لیے کہ جو چیز عاریہ آئے وہ واپس جائے گی اور جو چیز گزرنے والی ہے وہ فانی ہے اور کبھی نہیں رہ سکتی اور جو گنتی کے ساتھ ملی وہ ضرور ختم ہوگی اور کاہلی و سستی کی دوا معدوم ہے۔ اس فرمان میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ہوشیار فرمایا کہ دنیا اور دنیا کی چیزیں اس قابل نہیں کہ ان سے دل لگایا جائے، اس لیے کہ جو مشغول بہ فانی ہو گیا وہ باقی سے محجوب ہو جائے گا۔

تو جب دنیا اور نفسِ امارہ طالبِ حق کے لیے زبردست حجاب ہیں تو تجھے لازم ہے کہ ان سے اعراض کرے اور جب جان لیا کہ عاریہ جو چیز ملتی ہے وہ دوسرے کی ملک ہوتی ہے تو جو چیز کسی اور کی ملک ہے، اس سے اپنا دستِ تصرف کوتاہ رکھنا ہی مناسب ہے۔

اور ان ہی حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی دعاؤں میں فرمایا

اللَّهُمَّ ابْسُطْ لِيَ الدُّنْيَا وَزَهِّدْنِي فِيهَا.

"الٰہی! میرے لیے دنیا فراخ فرمادے اور مجھے دنیا سے زاہد رکھ" یعنی جب مجھ پر دنیا فراخ ہو جائے تو مجھے اس کی آفتوں سے محفوظ رکھ۔

اس دعا کے ضمن میں ایک رمز ہے، یعنی پہلے مال عطا فرما تاکہ اس کا شکر ادا کروں، پھر ایسی توفیق دے کہ تیرے لیے اس سے ہاتھ کھینچ لوں اور اس سے مستغنی ہو کر منہ پھیر لوں تاکہ مجھے شکر گزاری اور انفاق فی سبیل اللہ کا درجہ حاصل ہو جائے اور درجۂ صبر بھی اتنا عطا فرما کہ بحالتِ فقر...

۱۷۴

مضطر نہ ہو جاؤں تاکہ فقر اختیاری ہو۔ پھر اس میں معاملت کا قول درست ثابت ہوتا ہے، جو کہ فرمایا ہے: جس کا فقر اضطراری ہو، وہ مصنوعی ہے اور جس کا فقر اختیاری ہو وہ وہ ہے کہ اس کا یہ کسبِ فقر، جلبِ فقر سے منقطع ہوتا ہے تو وہ فقر اس سے بہتر ہے جو یہ تکلف اپنے لیے کوئی دوسرا درجہ بنائے۔

ہم کہتے ہیں کہ فقر کی صفت زیادہ تر ظاہر تب ہو سکتی ہے جبکہ بحالتِ غنا ارادۂ فقر اس کے دل پر مستولی ہو اور اس حد تک اس ارادہ کو عملی جامہ پہنائے کہ ابنائے بنی آدم کی تمام مرغوب چیزوں سے دل کا رجحان ہٹالے اور وہ تمام مرغوبِ انسان اشیاء کے مجموعہ کا نام دنیا ہے نہ یہ کہ بحالتِ فقر غنا کی خواہش اس کے دل پر مستولی ہو اور اس حد تک دنیا حاصل کرنے میں سعی کرے کہ حصولِ درہم و دینار کے لیے بارگاہِ امراء و سلاطین پر جبہ سائی کرتا پھرے۔ تو اچھی طرح سمجھ لو کہ صفتِ فقر یہ ہے کہ وہ غنا سے فقر کی طرف آئے نہ کہ بحالتِ فقر طالبِ ریاست ہو جائے۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ہستی مبارک وہ ہستی ہے کہ: أَفْضَلُ الْبَشَرِ بَعْدَ الأَنْبِيَاءِ ہیں، ان سے آگے بڑھ کر کسی کو قدم اٹھانا روا نہیں اور وہ ایسے الفاظ میں دعا فرما چکے ہیں (جو پہلے گزر چکی) اس لیے اختیاری فقر پر اضطراری فقر کو مقدم کرنا کسی طرح صحیح نہیں اور تمام مشائخِ متصوفہ اسی مذہب پر ہیں۔ مگر ایک پیر جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں اور اس کے حجت و دلائل نقل کر کے اس کا رد بھی کر دیا ہے اور اس رد کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اور مؤکد کرتے ہیں، جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان کو زہری نے روایت کیا ہے۔ یہ دلیل واضح ہے کہ جب آپ نے خلافت کے لیے لوگوں سے بیعت لی، آپ ممبر پر جلوہ آراء ہوئے اور خطبہ پڑھا۔ خطبہ میں آپ نے فرمایا

وَاللَّهِ مَا كُنْتُ حَرِيصًا عَلَى الْأِمَارَةِ يَوْمًا وَلَا لَيْلَةً وَلَا كُنْتُ فِيهَا رَاغِبًا وَلَا سَأَلْتُهَا اللَّهَ قَطُّ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَمَالِي فِي الْأِمَارَةِ مِنْ رَاحَةٍ.

"خدا کی قسم میں اس خلافت و امارت کا حریص نہیں ہوں اور نہ تھا اور کسی رات دن میں اس کی خواہش میرے دل میں پیدا نہیں ہوئی اور میری رغبت اس کی طرف نہیں اور نہ میں نے کبھی اللہ تعالیٰ کے حضور خفیہ و علانیہ اس کے لیے دعا کی اور مجھے اس میں کوئی راحت و خوشی نہیں"۔

حقیقتِ حال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے عبدِ صادق کو کمالِ صدق پر پہنچا دیتا ہے اور اس درجۂ تمکین کے ساتھ معزز و ممتاز بنا دیتا ہے تو وہ کسی معاملہ کو اپنے اختیار میں نہیں رکھتا بلکہ منتظر ہوتا...

۱۷۶

ہے کہ بارگاہِ الٰہی کی طرف سے کیا حکم وارد و صادر ہوتا ہے۔ پھر اگر صدورِ حکم ہوتا ہے کہ فقیر بن کر رہ، تو فقیری پسند کر لیتا ہے اور حکم آتا ہے کہ امارت پر متمکن ہو تو امیر بن جاتا ہے۔ کسی معاملہ میں اسے اپنے اختیارات کا تصرف و اختیار نہیں ہوتا اور نہ وہ خود کسی معاملہ میں تصرف کرنا چاہتا ہے۔ جیسا کہ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کہ آپ نے ابتداء میں بھی تسلیم ہی اختیار فرمائی اور انتہاء تک اسی تسلیم و رضا کے محور پر رہے۔ چنانچہ تسلیم و رضا کے مسئلہ پر جتنے بعد میں ہوئے، سب کے سب اُسی ہستی کو اپنا امام و پیشوا مانتے چلے آ رہے ہیں اور آپؓ تمام اربابِ تسلیم کے امام اور اہلِ طریقت کے پیشوا خاص ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

اور انہیں اجلِ صحابہ (رضی اللہ عنہم) میں سے سرہنگِ اہلِ ایمان، صعلوکِ اربابِ احسان، امامِ اہلِ تحقیق، در بحرِ محبت غریق یعنی سردارِ اہلِ ایمان، پیشوائے اربابِ احسان، امامِ اہلِ تحقیق، محبت کے دریا میں غریق ابو حفص سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ تھے کہ آپؓ کی کرامات بہت مشہور ہیں اور آپؓ کی فراست و سیاستِ عالم میں مذکور ہے۔ بلکہ احکامِ دین کا تشدد اور سیاساتِ اسلامی کا تفرّس آپ کا ضرب المثل ہے۔ آپ کی باریک بینی لطائف و طریقت میں اور آپ کے مسائلِ دقیقہ معانیِ تصوف میں مشہور ہیں۔ بلکہ خود سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا

اَلْحَقُّ يَنْطِقُ عَلٰى لِسَانِ عُمَرَ

"حق زبانِ عمر (رضی اللہ عنہ) پر کلام فرماتا ہے۔"

اور فرمایا حضور ﷺ نے

قَدْ كَانَ فِي الْاُمَمِ مُحَدَّثُوْنَ فَاِنْ يَّكُ مِنْهُمْ فِيْ اُمَّتِيْ فَعُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ۔

۱۷۷

"پہلی امتوں میں محدَّث تھے اور اگر میری اُمت میں کوئی محدَّث ہے تو وہ عمر (رضی اللہ عنہ) ہی ہے"۔

آپؓ کی طرف سے طریقت میں بے حد رموز و لطائف مذکور ہیں، حتیٰ کہ ان سب کا احصار و احاطہ اس کتاب میں نہیں ہو سکتا۔ تاہم بعض ان میں سے نقل کرتا ہوں۔

آپؓ نے فرمایا

اَلْعُزْلَةُ رَاحَةٌ مِّنْ خُلَطَاءِ السُّوْءِ۔

"گوشہ نشینی موجبِ راحت ہے بُرے ہم نشین و مصاحبین کے اندر رہنے سے۔"

عزلت دو قسم کی ہے: ایک اعراض از مخلوقات۔ دوسرے انقطاع از مخلوقات۔

خلقت سے منہ موڑنا ایسی صورت ہے کہ کسی علیحدہ مقام میں جا بیٹھے اور علانیہ طور پر صحبتِ ابناءِ جنس سے بے زار ہو جائے اور اس تخلیہ میں بیٹھ کر اپنے عیوب کی نگرانی کرے اور اپنے لیے مخالطتِ اغیار سے اتنی خلاصی پائے کہ لوگوں کی طرف سے ہر قسم کی بدی سے مامون کر دے۔

لیکن مخلوق سے انقطاعِ دلی سے ہوتا ہے اور اس تعلق دلی کی صفت اس شان کی ہوتی ہے کہ اسے ظاہر سے قطعاً تعلق نہیں ہوتا۔

اور جب انقطاعِ دل کے ساتھ مخلوق سے ہو جائے تو اس کے دل پر اندیشۂ مخلوق مستولی رہتا ہے۔ اس وقت اس کی یہ شان ہوتی ہے کہ اگرچہ مخلوق میں ہو مگر مخلوق سے تنہا ہی ہوتا ہے اور اس کی توجہ مخلوق سے بالکل علیحدہ ہوتی ہے اور یہ مقام نہایت بلند ہے اور ہر ایک کے لیے یہ شان بہت بعید ہے۔ اس راہ میں صحیح اترنے والے اور اس صفت کے صحیح موصوف حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے تخلیہ کی راحت کا پتہ دیا اور بظاہر لوگوں میں منصبِ امارت اور تختِ خلافت پر جلوہ فرما تھے۔

اور یہ دلیل واضح ہے کہ اہلِ باطن اگرچہ بظاہر مخلوق میں شامل ہوتے ہیں مگر ان کا دل اپنے جمیلِ حقیقی کے ساتھ آویختہ ہوتا ہے بلکہ ہر حال میں حقِ جل و علانہ کی طرف رجوع رہتے ہیں۔

اور جس قدر مخلوقات سے ان کی صحبت ہو، اُسے من جانب اللہ ایک بلا تصور کرتے ہیں اور مخلوق کی طرف اس مجبوری سے رجحان کر لیتے ہیں کہ سمجھتے ہیں کہ محبوبانِ الٰہی دنیا سے قطعی طور پر صاف نہیں ہو سکتے اور یہ اگرچہ انہیں گوارہ نہیں، جیسا کہ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا

"ذَاْ اُسِّسَتْ عَلَى الْبَلْوٰى بِلَا بَلْوٰى مُحَالٌ۔"

۱۷۸

"جس گھر کی بنیاد بلا پر رکھی گئی، محال ہے کہ وہ بلا سے خالی ہو۔"

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اجلِ صحابہ، خاص اصحابِ رسالت مآب ﷺ سے ہیں اور اس پایہ کے مقبولِ بارگاہِ لم یزل ہیں کہ آپؓ کے تمام افعال بارگاہِ ایزد پناہ میں مقبول ہیں، حتیٰ کہ جب آپؓ مشرف بااسلام ہونے آئے تو پہلے جبریل علیہ السلام بشارت لائے اور عرض کی

يَا مُحَمَّدُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَبْشَرَ اَهْلُ السَّمَاءِ الْيَوْمَ بِاِسْلَامِ عُمَرَ۔

"حضور! آج ملائکہ کو عمر کے اسلام کا مژدہ ملا ہے۔"

تو اس طائفۂ صوفیاء میں خرقہ پوشی میں بااقتداءِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ جاری ہے اور صوفیاء کرام کا مذہب میں سخت اور متصلب ہونا ہی اسی ہستیِ مقدس کی پیروی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بعدِ اسلام سب باتوں میں امامِ خلق ہوئے، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

انہیں اجلِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ابجد وفا بدرگاہِ رضا، گنجِ حیاء، عبدِ اہلِ صفا، متعلقِ درگاہِ کبریا، متجلّیٰ بطریقِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء ابو عمر حضرت عثمان بن عفان باحیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔

آپؓ کا وجود باوجودِ فوائدِ دین میں اظہر من الشمس ہے اور مقاصدِ اسلامی میں آپؓ کی فضیلت روشن ہے اور آپؓ کے مناقب ہر شان میں عام ہیں۔ حضرت عبداللہ بن رباح اور حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ "حربِ الدار" کے روز یعنی جس دن بلوائیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا تھا، ہم امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے۔ جب بلوائی بارگاہِ عثمانی میں جمع ہو گئے تو آپؓ کے غلاموں نے ہتھیار اٹھا لیے اور مقابلہ کو آمادہ ہوئے۔ حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جو میرا غلام ہتھیار اٹھانے سے رُکا رہے وہ میری طرف سے آزاد ہے۔ ہم خوفِ بلوہ کی وجہ سے باہر آئے تو راستے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہمیں ملے۔ ان کی ہمراہی میں پھر واپس حضرت امیر المومنینؓ کی خدمت میں حاضر آئے تاکہ ہمیں اس امر کا علم ہو جائے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کس غرض سے تشریف لائے ہیں۔

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے بعدِ سلام سنت الاسلام بلوائیوں کی شرارت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اجازت چاہی کہ ان بلوائیوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور کہا کہ چونکہ آپؓ ہمارے سچے امام ہیں، لہٰذا آپ کی بلا اجازت ہمیں تلوار اٹھانا روا نہیں۔ اس لیے ہم

[صفحہ ۱۷۹ کے آغاز سے پہلے، صفحہ ۱۷۸ کا تسلسل]

چاہتے ہیں کہ آپ سے اجازت حاصل کریں، پھر ان بلوائیوں کے فتنہ کو مٹائیں۔

امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا

يَا ابْنَ اَخِيْ اُرْجِعْ وَ اجْلِسْ فِيْ بَيْتِكَ حَتّٰى يَأْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيْ اِهْرَاقِ الدِّمَاءِ۔

"اے بھتیجے! واپس تشریف لے جاؤ اور گھر میں آرام کرو، حتیٰ کہ جو پردۂ تقدیر میں ہے آ جائے۔ ہمیں مسلمانوں کا خون بہانا، ان پر قتل کا بازار گرم کرنا زیبا نہیں، نہ ایسے کاموں سے ہمیں سروکار ہے۔"

یہ علاماتِ خاص تسلیم و رضا کی تھیں کہ عینِ کربت و غربت اور دردِ بلا کی حالت میں ظاہر ہوئیں اور یہ وہ درجۂ خلت ہے جو نمرود علیہ اللعنۃ کی آگ دہکانے کے وقت ابراہیم علیہ السلام کو عطا ہوا تھا کہ جب منجنیق کے پلے میں آپ علیہ السلام کو ڈال کر آگ کی طرف پھینکا گیا تو جبرائیل امین علیہ السلام حاضر آئے اور عرض کی: هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ؟ "کیا اس وقت کوئی آپ کو حاجت ہے؟" آپ نے فرمایا: اَمَّا اِلَيْكَ فَلَا۔ "جبریل! تمہاری طرف میری کوئی حاجت نہیں۔" جبریل علیہ السلام نے عرض کی: حضور! اگر میری طرف کوئی حاجت نہیں تو معطیِ حقیقی رب جلّ مجدہٗ کے حضور اپنی حاجت پیش فرما دیں۔ فرمایا: حَسْبِيْ مِنْ سُؤَالِيْ عِلْمُهٗ بِحَالِيْ۔ "یعنی مجھ کو وہ جانتا ہے کہ اس وقت مجھ پر کیا ہو رہا ہے اور وہ مجھ سے دانا ہے۔ وہ عالم ہے کہ میرے لیے کس حال میں صلاحیت ہے اور کیا چیز میرے حق میں مفید ہے۔" تو ثابت ہوا کہ عثمان رضی اللہ عنہ اس مقام پر مقامِ خلتِ ابراہیم علیہ السلام پر تھے کہ منجنیق اور اجتماعِ بلوائیاں بجائے آگ کے تھا اور حسن رضی اللہ عنہ بجائے جبریل علیہ السلام حاضر تھے۔

لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام عینِ بلا میں جا کر نجات پا چکے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس بلا میں ہلاک ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نجات متعلق بہ بقاء ہے اور ہلاک متعلق بفناء۔ اس حقیقت کے متعلق ہم کچھ پہلے بیان کر چکے ہیں۔

تو انفاقِ مال و ہدیۂ جان اور تسلیم امور و اخلاص میں مشائخِ طریقت حضرت امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے تتبع میں ہیں اور وہ یقیناً شریعت و حقیقت میں سچے امام تھے اور ان کی تعلیم و داد و محبتِ اسلامی میں اظہر من الشمس ہے۔ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ

اور انہی میں برادرِ مصطفیٰ ﷺ، غریقِ بحرِ بلا، جریقِ نارِ ولا، مقتدائے اولیاء و اصفیا ابو الحسن علی بن ابی طالب شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ ہیں۔ ان کی شان جادۂ طریقت میں بڑی ارفع و اعلیٰ ہے اور

۱۷۹

بیانِ حقیقت میں ان کی باریک بینی بہت بلند ہے۔ آپ کا اصولِ حقائق میں خاص حصہ تھا، حتیٰ کہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اُن کی شان میں فرماتے ہیں

شَيْخُنَا فِي الْاُصُوْلِ وَ الْبَلَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْمُرْتَضٰى رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ۔

"یعنی اصولِ عشق و محبت اور راضی برضاءِ الٰہی کے ماہر ہمارے شیخ و امام حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں۔"

گویا صاف فرما رہے ہیں کہ علمِ معاملاتِ طریقت میں ہمارے امام حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ ہیں، اور اصول اصطلاحِ صوفیاء میں علمِ تصوف اور طریقت کو کہتے ہیں اور طریقت میں عمل خاص جو ہے وہ بلاؤں کو برداشت کرتا ہے۔

روایت ہے کہ ایک شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پیرا ہوا کہ یا امیر المومنین! مجھے ہدایت فرمائیں۔ آپؓ نے فرمایا

لَا تَجْعَلَنَّ اَكْبَرَ شُغْلِكَ بِاَهْلِكَ وَ وَلَدِكَ فَاِنْ يَّكُنْ اَهْلُكَ وَ وَلَدُكَ مِنْ اَوْلِيَاءِ اللّٰهِ تَعَالٰى فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَوْلِيَاءَهٗ فَاِنْ كَانُوْا اَعْدَاءَ اللّٰهِ فَمَا هَمُّكَ وَ شُغْلُكَ لِاَعْدَاءِ اللّٰهِ سُبْحَانَهٗ۔

"یاد رکھو! کہ مشغولیت کو بیوی بچوں میں اہمیت کے ساتھ نہ رجوع کرنا، اس لیے کہ اگر وہ اولیاء اللہ سے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو خراب اور ضائع نہیں فرماتا اور اگر دشمنِ خدا ہوئے تو دشمنانِ خدا کے لیے غمخواری و ہمدردی کیوں ہو!!"

یہ مسئلہ انقطاعِ ماسویٰ اللہ سے متعلق ہے۔ اس لیے کہ اللہ جس طرح چاہے اپنے بندوں کو رکھتا ہے۔ جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کی دخترِ نیک اختر کو سخت تنگ حالت میں چھوڑ دیا اور سپردِ خدا کر دیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ کو اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ ہمراہ لے جا کر انہیں جنگل میں چھوڑا جہاں زراعت وغیرہ بھی نہ تھی۔ ﴿بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ﴾ جس کی شان میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے اور خدا کے سپرد کر دیا اور ان میں اپنے آپ کو مشغول نہ کیا اور اپنا دل اپنے ربِّ حقیقی کی طرف رجوع کر لیا، حتیٰ کہ ان دونوں کی مراد دو جہاں میں پوری ہوئی۔ باوجود اس کے کہ ظاہراً انہیں اپنے بحالتِ نامرادی میں چھوڑا گیا تھا مگر وہ اپنے سب کام اپنے ربِّ عز و جل کے سپرد کیے ہوئے تھے۔

۱۸۰

اسی قسم کی بات وہ ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک پوچھنے والے کو فرمائی، جبکہ آپؓ سے اس نے سوال کیا کہ پاکیزہ ترین عمل کیا ہے؟ فرمایا: غِنَاءُ الْقَلْبِ بِاللّٰهِ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے تقرب کے ساتھ دل کا ہر شے سے مستغنی ہو جانا، حتیٰ کہ دنیا کے نہ ہونے سے فقیر نہ ہو اور مال کی کثرت کی وجہ میں مسرور نہ ہو۔ اس قول کی حقیقت اسی فقر و صفوت کی طرف جاتی ہے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔

تو اہلِ طریقت حضرت شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ کی پیروی حقائق عبارات و دقائق اشارات میں کرتے ہیں اور تجریدِ علومِ دنیا و آخرت سے حاصل کرنے اور نظارۂ تقدیرِ حق میں رہنا بھی انہیں کی اطاعت کے ماتحت ہے اور لطائفِ کلام میں آپؓ کے مضامین اس قدر ہیں کہ ان کی گنتی نہیں ہو سکتی اور اس کتاب میں میرا رویہ اختصار پر ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔

صفحہ ۱۸۱

آٹھواں باب

اہلِ بیت رضی اللہ عنہم

اہلِ بیتِ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم وہ پاک ہستیاں ہیں کہ ان کے لیے پاکیِ ازلی ان کی ذات کے واسطے مخصوص ہے اور ان میں ہر ایک طریقت میں کامل اور مشائخِ طریقت کے امام ہیں۔ عام اس سے کہ عوام میں سے ہوں یا خواص میں سے۔ میں ان کے ایک گروہ کا کچھ بیان کرتا ہوں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

امام حسن سیدُ الشہداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ

ان میں سے جگر بندِ مصطفیٰ، ریحانِ دلِ مرتضیٰ، قرۃ العینِ زہراء، ابو محمد حسن بن علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ ان کو طریقت میں نظرِ کامل عطا ہوئی اور تصوف کے مسائل حل کرنے اور اس کے دقائق بیان فرمانے میں آپؓ کو بڑا حصہ ملا ہے۔ آپؓ نے فرمایا

"عَلَيْكُمْ بِحِفْظِ السَّرَائِرِ فَاِنَّ اللّٰهَ مُطَّلِعٌ عَلَى الضَّمَائِرِ۔"

"تمہیں اپنی اندرونی اسرار کا محفوظ رکھنا لازمی ہے اس لیے کہ اللہ ضمیروں کے حال کا جاننے والا ہے۔"

اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ کو حکم ہے کہ راز کے معاملات پر نگاہ رکھے اور اس کی محافظت ہمیشہ کرتا رہے تو رازِ الٰہیہ کا نگاہ رکھنا عدمِ التفات کی بالا غیار کو مستلزم ہے، اور اظہارِ راز کی محافظت کرنا مخالفتِ جبار کو مستلزم ہے۔

کہتے ہیں کہ جب قدریوں نے غلبہ پایا اور مذہبِ معتزلہ (یعنی منکرینِ عالمِ بطون) جہان میں پھیلا تو خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ نے حضرت مولاءِ کائنات شیرِ خدا علی کرم اللہ وجہہ کے صاحبزادے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عریضہ بھیجا جس پر یہ مرقوم تھا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ قُرَّةَ عَيْنَيْهِ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهٗ۔ اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّكُمْ مَعَاشِرَ بَنِيْ هَاشِمٍ كَالْفُلْكِ الْجَارِيَةِ فِيْ بَحْرٍ لُجِّيٍّ وَ مَصَابِيْحُ الدُّجٰى وَ اَعْلَامُ الْهُدٰى وَ الْاَئِمَّةُ الْقَادَةُ الَّذِيْنَ

۱۸۲

مَنْ تَبِعَهُمْ نَجَا كَسَفِيْنَةِ نُوْحٍ الْمَشْحُوْنَةِ الَّتِيْ يَئُوْلُ اِلَيْهَا الْمُؤْمِنُوْنَ وَ يَنْجُوْا فِيْهَا الْمُسْتَمْسِكُوْنَ فَمَا قَوْلُكَ يَا ابْنَ رَسُوْلِ اللّٰهِ عِنْدَ حَيْرَتِنَا فِي الْقَدَرِ وَ اخْتِلَافِنَا فِي الْاِسْتِطَاعَةِ لِتُعَلِّمَنَا بِمَا تَاكَّدَ عَلَيْهِ رَأْيُكَ فَاِنَّكُمْ ذُرِّيَّةٌ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ بِعِلْمِ اللّٰهِ عُلِّمْتُمْ وَ هُوَ الشَّاهِدُ عَلَيْكُمْ وَ اَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللّٰهِ عَلَى النَّاسِ۔۔۔ وَالسَّلَامُ

"سلام ہو آپ پر اے فرزندِ سرورِ عالم اور نورِ چشمِ رسول! اور خدا کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر ہمیشہ رہیں۔ آپ لوگ بنی ہاشم مثلِ ہمارے لیے ایسے کشتی کے ہیں جو موجزن دریا متلاطم میں چل رہی ہو اور آپ وہ ستارے ہیں کہ جو ان کی پیروی اور راہنمائی کے مطابق چلا، اس کو اس میں امن مل گئی اور جو آپ لوگوں کی پیروی کرے گا نجات پائے گا، جس طرح کشتیِ نوح علیہ السلام کے پیرو نجات پا گئے اور مومن ہو گئے۔ فرمایئے آپ کا کیا ارشاد ہے، اے ابنِ رسول ﷺ! ہمارے اس تحیّر میں جو قدریوں کی وجہ سے پیدا ہوا اور وہ اختلاف جو اپنی اپنی معلومات کے ماتحت پیدا ہو گیا ہے، تا کہ ہم سمجھ سکیں کہ اس وقت آپ کا مسلک کیا ہے، اس لیے کہ آپ اہلِ بیتِ نبی اکرم ﷺ سے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ آپ کا علمِ تعلیمِ الٰہی سے منقطع نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ ذاتِ پاک آپ کی نگہداشت و محافظت میں ہے اور آپ مخلوقات کے محافظ ہیں اور اُن کے گواہ۔۔۔ والسلام۔"

جب یہ نامہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو ملا، آپ نے حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ کو یہ جواب ارقام فرمایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

اَمَّا بَعْدُ فَقَدْ اَتَانِيْ اِلَيَّ كِتَابُكَ عِنْدَ حَيْرَتِكَ وَ حَيْرَةِ مَنْ زَعَمْتَ مِنْ اُمَّتِنَا وَ الَّذِيْ عَلَيْهِ رَأْيِيْ اِنَّ مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِالْقَدَرِ خَيْرِهٖ وَ شَرِّهٖ مِنَ اللّٰهِ تَعَالٰى فَقَدْ كَفَرَ وَ مَنْ حَمَلَ الْمَعَاصِيَ عَلَى اللّٰهِ فَقَدْ فَجَرَ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُطَاعُ بِاِكْرَاهٍ وَ لَا يُعْصٰى بِغَلَبَةٍ وَ لَا يُمْهِلُ الْعِبَادَ فِيْ مُلْكِهٖ لٰكِنَّهٗ الْمَالِكُ لِمَا مَلَّكَهُمْ وَ الْقَادِرُ عَلٰى مَا عَلَيْهِ ما قَدَّرَهُمْ فَاِنِ ائْتَمَرُوْا

۱۸۳

بِالطَّاعَةِ لَمْ يَكُنْ صَادًّا وَ لَا هُمْ عَنْهَا مُشْبِعًا وَ اِنْ اَتَوْا بِالْمَعْصِيَةِ وَ شَاءَ اَنْ يَمُنَّ عَلَيْهِمْ فَيَحُوْلُ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَهَا فَعَلَ وَ اِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ هُوَ حَمَلَهُمْ عَلَيْنَا اِجْبَارًا وَ لَا اَلْزَمَ اِكْرَاهًا بِاحْتِجَاجِهٖ عَلَيْهِمْ اِنْ عَرَّفَهُمْ وَ مَكَّنَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمُ السَّبِيْلَ اِلٰى اَخْذِ مَا دَعَاهُمْ اِلَيْهِ وَ تَرْكِ مَا نَهَاهُمْ عَنْهُ وَ لِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ۔۔۔۔ وَ السَّلَامُ۔

اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

"آپ کی کتاب یعنی تحریر ہمیں ملی۔ اس میں جو آپ نے اپنی حیرت کے متعلق لکھا ہے اور جو ہماری اُمت کے متعلق مسئلۂ قدر میں لکھا ہے اور اس کی بابت ہماری رائے مستقیم یہ ہے کہ جو شخص قدر خیر و شر من اللہ پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور جو اپنے افعالِ معصیت کو خدائے جلّ مجدہٗ کی مشیت کی طرف منسوب کرے وہ فاجر۔ یعنی انکارِ قدر و تقدیر کرنا مذہبِ قدریہ ہے اور اپنے بُرے افعال اور گناہوں کو مشیتِ الٰہیہ کی طرف منسوب کرنا مذہبِ جبریہ ہے۔ اس لیے کہ بندہ کو مختار کیا گیا ہے۔ اس کے افعال اور اکتساب میں اُس کی استطاعت و قوت کی حد تک اور یہ اختیار من جانب اللہ عطا ہوا ہے اور ہمارا دین قدر و جبر کے درمیان ہے اور میری مراد اس نامہ میں جو کچھ میں نے ظاہر کی ہے، اس سے زائد ایک کلمہ نہیں ہے۔"

لیکن کچھ اور الفاظ اس لیے لکھتا ہوں تا کہ مضمون زیادہ واضح اور فصیح ہو جائے، اس لیے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ حقائق اور اصولِ علم میں اتنے بلند درجہ پر تھے کہ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے اُن کی طرف علوم میں بہت مبالغہ کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے اور حکایتوں میں میں نے دیکھا ہے کہ جنگل سے ایک اعرابی آیا اور حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ اُس وقت کوفہ میں ایک مکان کے دروازے پر تشریف فرما تھے۔ اس نے امام حسن رضی اللہ عنہ سے سب و شتم کے ساتھ مکالمہ شروع کر دیا اور اتنا بڑھا کہ آپ کے آباء و اجدادِ کرام کی شان میں بھی کہنے لگا۔ حضرت امامؓ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ اُسے فرمایا کہ میاں اعرابی! تم مجھے بھوکے معلوم ہوتے ہو یا پیاسے یا تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہوئی ہے۔ اس نے جواب میں اور سخت کلام شروع کر دی۔ حتیٰ کہ کہنے لگا: تم ایسے، تمہاری والدہ ایسی، تمہارے باپ ایسے۔

امام سیدُ الشہداء رضی اللہ عنہ نے خادم کو حکم دیا کہ چاندی کا کوزہ اندر سے لائے، وہ لایا۔

۱۸۴

آپؓ نے وہ کوزہ نقری اسے عطا فرمایا اور کہا میاں معاف کرو، اس وقت ہمارے پاس یہی تھا اور نہ کچھ خدمت بھی کرنے میں دریغ نہ تھا۔ اعرابی نے جب یہ الفاظ سنے اور جب یہ سخاوت دیکھی تو پکار اٹھا

اَشْهَدُ اَنَّكَ ابْنُ رَسُوْلِ اللّٰهِ۔

"میں گواہی دیتا ہوں بیشک آپ ابنِ رسول اللہ ﷺ ہیں۔"

اور میں صرف آپ کے حلم و کظمِ غیظ کے تجربہ کے لیے آیا تھا اور یہ صفت محققانِ مشائخ کی ہے کہ مدح و ذمِ خلائق ان کے نزدیک یکساں ہوتی ہے اور وہ لوگ کسی کلمۂ سخت و دست سے اپنی حالت متغیر نہیں کرتے۔

امام حسین سیدُ الشہداء رضی اللہ عنہ

انہیں میں سے شمعِ آلِ محمد، از علائقِ خلائق مجرد، سیدِ زمانہ خود ابو عبداللہ حضرت امام حسین بن علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ جو محققانِ اولیاء کرام سے ہیں اور قبلۂ اہلِ صفاء، قتیلِ دشتِ کربلا ہیں اور شہزادۂ گلگوں قبا ہیں۔

اس قصہ میں محققین صحیح حالات کے ماتحت متفق ہیں کہ سیدُ الشہداء رضی اللہ عنہ نے اُس وقت تک اُن پر تلوار نہیں اٹھائی جب تک وہ کچھ بھی مائل بحق تھے اور اتباع کی طرف جھکے رہے، جبکہ احقاقِ حق ان سے مفقود و معدوم ہو گیا، اُن پر شمشیر کھینچی۔ حتیٰ کہ جانِ عزیز کو فدائے بارگاہِ الٰہی کر دیا اور جب تک جان فدا نہ فرما دی، آپؓ نے آرام نہ فرمایا۔ آپؓ میں سرکارِ ابد قرار ﷺ کے اخلاقِ کریم کے بہت سے ایسے نشان تھے کہ آپؓ کی ذاتِ مقدس ہی اُن نشانوں میں سے مخصوص تھی۔ چنانچہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں دربارِ رسالت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضور ﷺ نے سیدنا امام حسین سیدُ الشہداء رضی اللہ عنہ کو اپنی پشتِ اقدس پر سوار کر رکھا تھا اور ایک ڈوری اپنے دہنِ مبارک سے نکال کر امام حسین رضی اللہ عنہ کے دستِ مبارک میں دے رکھی تھی اور امام حسین رضی اللہ عنہ ہانک رہے اور حضور ﷺ اپنے گھٹنوں سے تشریف لے جا رہے تھے۔ تو جب میں نے یہ شان دیکھی تو عرض کیا

نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلُكَ يَا اَبَا عَبْدِ اللّٰهِ۔

"اے ابو عبداللہ! آپ نے سواری تو بہت عجیب پائی۔"

تو حضور ﷺ نے فرمایا

۱۸۵

وَنِعْمَ الرَّاكِبُ يَا عُمَرُ . اے عمر ! سوار بھی تو بہت اچھے ہیں ۔

اس گفتگو میں بہت لطیف باتیں اور اہل طریقت کے لیے بہت سے رموز ہیں اور عجیب و غریب معاملات ظاہر ہیں۔ انہیں عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : اشْفَقُ الْإِخْوَانِ عَلَيْكَ دِينُكَ. شفیق ترین تیرا بھائی تیرا دین ہے ۔

اس لیے کہ نجات انسان کی متابعت دین میں ہے اور اس کی ہلاکت مخالفت دین میں تو انسان کو چاہیے کہ اپنے مشفق کے حکم کے ماتحت چلے اور اس کی شفقت کا سایہ اپنے اوپر سمجھے اور اس کی پیروی بغیر کسی طرف نہ جائے ۔

اور بھائی وہی ہے کہ نصیحت کرتا رہے اور شفقت و محبت میں اس کا پابند نہ بنے۔ ایک حکایت میں ہے کہ ایک روز ایک شخص حضرت امام رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا۔ اے ابن رسول اللہ میں غریب و مفلس عیالدار ہوں ، مجھے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف سے آج شب کھانے کا انتظام ہونا چاہیے ۔ آپ نے فرمایا: بیٹھ جا ہمارا وظیفہ راستہ میں ہے ، آجائے تو تجھے دے دیں۔ تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ پانچ تھیلیاں دینار کی لائی گئیں ، جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے آئی تھیں ۔ ہر تھیلی میں ایک ہزار دینار تھے ۔ لانے والے نے کہا: حضور! معاویہ معافی چاہتے ہیں اور اُن کی یہ خواہش ہے کہ یہ رقم غرباء میں تقسیم فرمادیں ۔ آپ نے وہ تھیلیاں اسی سائل کو دے دیں اور معذرت فرمائی کہ تجھے انتظار میں بہت دیر ٹھہرنا پڑا ۔ اگر اتنی ہی رقم کا مجھے گمان ہوتا تو تجھے اس قدر زحمت کش انتظار نہ بناتا ۔ ہمیں معاف کر اس لیے کہ ہم اہل بلا سے

۱۸۶

علاوہ اس کے آپ کے بہت سے فضائل ایسے ہیں جو امت کے لیے روزِ روشن سے ظاہر ہیں۔

حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ

انہی میں وارثِ نبوت، چراغِ امت، شمعِ مظلوم، امامِ محروم زین العباد اور ان کا فخر ابوالحسن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو اکرم و امجد اپنے لوگوں کے زمانہ کے میں سے تھے۔

آپ جیسا فاخر اور انکشافِ دقائق لوگوں میں ان کے اندر مشہور تھا، آپ سے لوگوں نے پوچھا: حضور! دنیا و آخرت میں نیک بخت کون ہو سکتا ہے؟ فرمایا: مَنْ إِذَا رَضِيَ لَمْ يَحْمِلْهُ رِضَاهُ عَلَى الْبَاطِلِ وَإِذَا سَخِطَ لَمْ يُخْرِجْهُ سَخَطُهُ عَنِ الْحَقِّ. "وہ جو دارین میں نیک بخت ہو سکتا ہے، جب خوش ہو تو باطل پر نہ ہو اور جب غضب ناک ہو تو اس کا غصہ حق سے باہر نہ رہے۔"

اور یہ صفت اس کی مکمل ہوگی اپنے لیے جو اوصافِ کمال سے استقامت حاصل کر چکا ہو اس لیے کہ رضا بالباطل باطل ہے اور غضب کی حالت میں صداقت کے ہاتھ سے چلا جانا اور خشمگینی کی حالات میں انصاف کا خون کر دینا بھی باطل ہے اور مؤمنِ کامل، باطل کو دور کرنے اختیار والا ہی...

ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے گھرانے میں سے حضرت امام حسین سید الشہداء رضی اللہ عنہ کربلا میں شہید کر لیے گئے، تمام ہو جانے کے شہید کے بعد سوائے حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ کے مزاراتِ عصمت کی نگرانی کو کوئی نہیں تھا اور آپ اس وقت بیمار تھے، حضرت شہزادہِ گلگوں قبا حسین سید الشہداء رضی اللہ عنہ آپ کو "علی اصغر" کے نام سے پکارا کرتے تھے۔

جب وہ بارگاہِ فلک پناہ کے قافلہ کو اونٹوں پر بے کجاوہ بے پردہ میں لایا گیا اور یزید بن معاویہ عَلَيْهِمَا مَا يَسْتَحِقَّانِ أَخْزَاهُ دُونَهُ کے پاس روبرو کیا گیا تو کسی نے حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ يَا عَلِيُّ وَيَا أَهْلَ بَيْتِ الرَّحْمَةِ

یہ تینوں صفحات (187، 188، 189) کا اردو متن ہے۔ عربی اشعار پر اعراب کہیں کہیں دھندلے تھے، اس لیے اصل کتاب سے ایک بار ملا لیں۔

۱۸۷

"اے علی اور اے اہلِ بیتِ رحمت! آپ لوگوں نے آج کیسی صبح فرمائی؟"

آپ نے فرمایا

اَصْبَحْنَا فِیْ قَوْمِنَا بِمَنْزِلَةِ قَوْمِ مُوْسٰی مِنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاءَهُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَاءَهُمْ فَلَا نَدْرِیْ صَبَاحَنَا بَیْنَ مَسَائِنَا وَ هٰذَا مِنْ حَقِیْقَةِ بَلَائِنَا۔

"ہماری صبح ہماری قوم کے ظلم و جور سے ایسے ہوئی جیسے موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی صبح ظلمِ فرعون سے ہوئی کہ قومِ موسیٰ علیہ السلام کے بچوں کو ذبح کرتے اور عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم اس وقت اپنی صبح کو شام کے مابین نہیں جانتے۔ ہمارے امتحان و ابتلاء کی یہ حقیقت ہے اور ہم اپنے رب ذوالجلال کا شکر ہر حال میں بھی ادا کر رہے ہیں اور اس کے امتحان پر صبر کر رہے ہیں۔"

ایک حکایت میں ہے کہ ہشام بن عبدالملک بن مروان ایک سال حج کے لیے آیا اور طوافِ بیت اللہ سے فارغ ہو کر استلامِ حجرِ اسود کو چلا مگر ازدحامِ خلق کی وجہ سے اُسے راستہ نہ ملا۔ خدامِ عرب نے اس کے لیے کرسی لگا دی۔ وہ بیٹھا اور خطبہ کرنے لگا۔ اسی اثناء میں حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو آپ کے روئے انور سے چاند کی طرح روشنی پھیل رہی تھی اور رخسارۂ مبارک سے نور تاباں تھا اور لباسِ معطر کی عطر بیزی سے راستہ مہک گیا۔ اول آپ نے طوافِ بیت فرمایا، پھر جب آپ حجرِ اسود کے پاس پہنچے تو لوگوں نے آپ کو تشریف لاتے دیکھ کر تعظیماً راستہ صاف کر دیا اور آپ بآسانی حجرِ اسود کے بوسہ کے لیے تشریف لے گئے۔ ہشام آپ کی یہ ہیبت اور سطوت دیکھ رہا تھا۔

ایک شامی نے ہشام سے پوچھا: اے امیر المومنین! یہ عزت اور عظمت والا کون ہے کہ اس کے لیے لوگوں نے حجر تک راستہ دے دیا، اور آپ کو راستہ نہ دیا، حالانکہ امیر المومنین تو آپ ہیں اور یہ حسین و جمیل جوان رعنا کون ہے کہ جب وہ آیا تو تمام لوگ حجرِ اسود سے ایک طرف ہٹ گئے اور صرف اس کے لیے حجرِ اسود کا راستہ خالی کر دیا؟

ہشام اگرچہ جانتا تھا مگر محض اس خیال سے کہ شامی لوگ انہیں پہچان کر ان کے ساتھ عقیدت نہ کر لیں اور اس کی امارت و ریاست میں کہیں فرق نہ آ جائے، کہنے لگا: میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہے۔ اتفاقاً فرزدق شاعر وہاں کھڑا تھا۔ کہنے لگا: ہشام! تو نہ جانتا ہوگا مگر میں انہیں خوب جانتا ہوں۔ شامیوں نے کہا: ابوفارس! بتاؤ یہ کون ہیں تاکہ ہم معلوم کر سکیں کہ اتنی شان و شکوہ والا جوان

۱۸۸

آخر کون ہے؟ فرزدق نے کہا: لو سنو! میں ان کے صفاتِ جمیلہ تمہیں سناتا ہوں۔ پھر برجستہ فرزدق نے یہ اشعار آپ کی مدح میں سنائے

قصیدۂ فرزدق ابو فارس

(جو حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی مدح میں ہشام کے سامنے سنایا تھا)

هٰذَا الَّذِیْ تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَهٗ ۔ وَالْبَیْتُ یَعْرِفُهٗ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ

"یہ وہ ہستی ہے جس کے قدموں کی آہٹ سرزمینِ بطحا جانتی ہے اور ان کے منصبِ جلیل کو کعبہ جانتا ہے اور حل و حرم واقف ہے۔"

هٰذَا ابْنُ خَیْرِ عِبَادِ اللّٰهِ كُلِّهِمْ ۔ هٰذَا التَّقِیُّ النَّقِیُّ الطَّاهِرُ الْعَلَمُ

"یہ لختِ جگر ہے اس ہستیِ پاک کا جو اللہ کے بندوں میں سب سے افضل ہے، یہ خود پرہیزگار، پاکباز اور پاک باطن دنیا میں مشہور ہے۔"

هٰذَا ابْنُ فَاطِمَةَ اِنْ كُنْتَ جَاهِلَهٗ ۔ بِجَدِّهٖ اَنْبِیَاءُ اللّٰهِ قَدْ خُتِمُوْا

"اچھی طرح پہچان لے، یہ نورِ نظر سیدہ زہرا فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کا ہے، اگر تو ان سے بے خبر ہے، اور یہ وہ ہے جس کے جدِ امجد کی بعثت پر اللہ کے تمام نبیوں کی تشریف آوری ختم ہے۔"

یُنْمِیْ اِلٰی ذِرْوَةِ الْعِزِّ الَّتِیْ قَصُرَتْ ۔ عَنْ نَیْلِهَا عَرَبُ الْاِسْلَامِ وَالْعَجَمُ

"انہوں نے وہ بلند مقام حاصل فرمایا جس کے مساوی عزت حاصل کرنے سے قاصر ہیں عرب و عجم کے تمام مسلمان۔"

اِذَا رَأَتْهُ قُرَیْشٌ قَالَ قَائِلُهَا ۔ اِلٰی مَكَارِمِ هٰذَا یَنْتَهِی الْكَرَمُ

"جب قبائلِ قریش ان کی رفعت و شان دیکھتے ہیں تو کہنے والا کہہ دیتا ہے ان کے منصبِ جلیل تک اعزاز و مناقب ختم ہو جاتے ہیں۔"

مَنْ جَدُّهٗ دَانَ فَضْلُ الْاَنْبِیَاءِ لَهٗ ۔ وَفَضْلُ اُمَّتِهٖ دَانَتْ لَهُ الْاُمَمُ

"یہ وہ ہیں جن کے جدِ امجد کے منصب کے آگے تمام انبیاء جھکے ہیں اور یہ وہ ہے کہ ان کی امتیوں کی فضیلت سے تمام امتوں کی فضیلت کم ہو گئی۔"

یَنْشَقُّ نُوْرُ الدُّجٰی عَنْ نُوْرِ طَلْعَتِهٖ ۔ كَالشَّمْسِ یَنْجَابُ عَنْ اِشْرَاقِهَا الظُّلَمُ

۱۸۹

"ان کی وجہِ منیر کے ظہور سے ہدایت کے انوار پھیل گئے، جیسے سورج کی روشنی سے ظلمتیں کافور ہو جاتی ہیں۔"

یَكَادُ یُمْسِكُهٗ عِرْفَانَ رَاحَتِهٖ ۔ رُكْنُ الْحَطِیْمِ اِذَا مَا جَاءَ یَسْتَلِمُ

"شاید ان کے دستِ اقدس کی ہتھیلی کی خوشبو کو جمع کر لیا ہے رکنِ حطیم نے، جبکہ وہ حجر چومنے آئے۔"

یُغْضِیْ حَیَاءً وَ یُغْضٰی مِنْ مَهَابَتِهٖ ۔ فَمَا یُكَلَّمُ اِلَّا حِیْنَ یَبْتَسِمُ

"حیاءِ ایمانی کی وجہ سے ان کی آنکھیں بند ہیں اور لوگوں کی آنکھیں ان کی مہابت و شان سے بند ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان سے کلام صرف اس وقت کیا جا سکتا ہے جب وہ تبسم ریز لہجے میں ہوں۔"

فِیْ كَفِّهٖ خَیْزُرَانٌ رِیْحُهٗ عَبِقٌ ۔ مِنْ كَفِّ اَرْوَعَ فِیْ عِرْنِیْنِهٖ شَمَمُ

"ان کے دستِ نوری میں خیزران کی چھڑی ہے اور اس کی مہک اُڑ رہی ہے اور وہ ایسے کے ہاتھ میں ہے جو بہت اونچی ناک والا سردار ہے۔"

مُشْتَقَّةٌ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ نَبْعَتُهٗ ۔ طَابَتْ عَنَاصِرُهٗ وَالْخِیْمُ وَالشِّیَمُ

"یہ اللہ کے رسول ﷺ کی ذات سے مشتق ہے اور اس کی تعریف جہان کر رہا ہے۔ اس کا عنصری وجود ہی پاک ہے اور اس کی خصلتیں اور عادتیں بھی پاک ہیں۔"

فَلَیْسَ قَوْلُكَ مَنْ هٰذَا بِضَائِرِهٖ ۔ اَلْعَرَبُ تَعْرِفُ مَنْ اَنْكَرْتَ وَالْعَجَمُ

"تیرا یہ کہنا کہ یہ کون ہے، ان کو نقصان نہیں دے سکتا، اس لیے کہ انہیں عرب جانتا ہے اور جس سے تُو نے تجاہلِ عارفانہ کیا، اسے عجم جانتا ہے۔"

كِلْتَا یَدَیْهِ غِیَاثٌ عَمَّ نَفْعُهُمَا ۔ یَسْتَوْكِفَانِ وَلَا یَعْرُوْهُمَا الْعَدَمُ

"ان کے دونوں ہاتھ ایسے برستے ہوئے بادل ہیں جن سے عام نفع ہے، ہر ایک کے ساتھ وہ ہاتھ اعانت کرتے ہیں اور اُن پر اس صفت کا عدم نہیں آتا۔"

عَمَّ الْبَرِیَّةَ بِالْاِحْسَانِ فَانْقَشَعَتْ ۔ عَنْهَا الْغَیَابَةُ وَالْاِمْلَاقُ وَالظُّلَمُ

"محسنِ عالم ہیں اپنے احسانات کے ساتھ، اور ان کی شان جو ان کی وجہ سے ہے، پراگندہ ہو چکی ہیں گمراہی، محتاجی اور ظلم کی اندھیریاں۔"

لَا یَسْتَطِیْعُ جَوَادٌ بَعْدَ غَایَتِهِمْ ۔ وَلَا یُدَانِیْهِمْ قَوْمٌ وَاِنْ كَرُمُوْا

## صفحہ 190

"دنیا کا کوئی سخی ان کی منتہاءِ سخاوت کو پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتا، اور کوئی قوم کا بڑا ان کی برابری نہیں کر سکتا اگرچہ وہ اپنی قوم میں معزز ہو۔"

هُمُ الْغُیُوْثُ اِذَا مَا اَزْمَةٌ اَزَمَتْ ۔ وَالْاُسْدُ اُسْدُ الشَّرٰی وَالْبَاْسُ مُحْتَدِمُ

"قحط سالی میں یہ موسلا دھار بارش ہیں جبکہ وہ قحط سخت ہو چکا ہو اور شیر ہیں سخت گرم ایام اور انتہائی مایوسی میں۔"

سَهْلُ الْخَلِیْقَةِ لَا یُخْشٰی بَوَادِرُهٗ ۔ یَزِیْنُهٗ اثْنَانِ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالشِّیَمُ

"نہایت نرم دل ہیں، حتیٰ کہ ان کے غصہ سے بھی خوف زدہ نہیں ہوتا، سبب اس کے کہ یہ دو صفتوں، حسنِ خلق اور حسنِ خصلت سے مزیّن ہیں۔"

مِنْ مَعْشَرٍ حُبُّهُمْ دِیْنٌ وَبُغْضُهُمْ ۔ كُفْرٌ وَقُرْبُهُمْ مَنْجًى وَمُعْتَصَمُ

"یہ اس گھرانے سے ہیں جس کی محبت عینِ دین ہے اور ان سے بغض کرنا کفر، اور ان کا قرب مقامِ نجات ہے اور قلعۂ محافظت۔"

اِنْ عُدَّ اَهْلُ التُّقٰی كَانُوْا اَئِمَّتَهُمْ ۔ اَوْ قِیْلَ مَنْ خَیْرُ اَهْلِ الْاَرْضِ قِیْلَ هُمْ

"اگر زمانہ کے متقی گنے جائیں تو سب ان کے متبع ہوں گے۔ اگر پوچھا جائے کہ روئے زمین میں سب سے افضل کون ہے، تو کہا جائے گا یہی ہیں۔"

سِیَّانِ ذٰلِكَ اِنْ اَثْرَوْا وَاِنْ عَدِمُوْا ۔ لَا یَنْقُصُ الْعُسْرُ بَسْطًا مِنْ اَكُفِّهِمُ

"ان کا ہاتھ کبھی عطا کرنے سے نہیں رکتا خواہ تنگی ہو، برابر ہے ان کے لیے خواہ دولت ہو یا نہ ہو۔"

اَللّٰهُ فَضَّلَهٗ قِدْمًا وَشَرَّفَهٗ ۔ جَرٰی بِذَاكَ لَهٗ فِی اللَّوْحِ وَالْقَلَمُ

"اللہ نے فضیلت بخشی ہمیشہ سے اور شرف تام عطا فرمایا اور ان کے اکرام کا حکم لوح و قلم میں جاری ہو چکا۔"

مُقَدَّمٌ بَعْدَ ذِكْرِ اللّٰهِ ذِكْرُهُمْ ۔ فِیْ كُلِّ یَوْمٍ وَمَخْتُوْمٌ بِهِ الْكَلِمُ

"اللہ کے ذکر کے بعد ان کا ذکر ہی ہے، ہر دن، اور اس کے علاوہ ہر کلام پر مہر لگ گئی ہے۔"

مَنْ یَعْرِفِ اللّٰهَ یَعْرِفْ اَوَّلِیَّةَ ذَا ۔ وَالدِّیْنُ مِنْ بَیْتِ هٰذَا نَالَهُ الْاُمَمُ

"جو اس ہستیِ الٰہی کو جانتا ہے وہ ان کی فضیلت کو بھی جانتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ دین ان کے گھر سے امت نے حاصل کیا۔"

## صفحہ 191

اَیُّ الْقَبَائِلِ لَیْسَتْ فِیْ رِقَابِهِمُ ۔ لِاَوَّلِیَّةِ هٰذَا اَوْ لَهُ نِعَمُ

"عرب کا کون سا قبیلہ ہے جس کی گردن میں ان کی بزرگی کا قلادہ نہ ہو، یا اس کے لیے ان کے گھر سے نعمتیں نہ پہنچی ہوں۔"

اور اس کے مثل چند اور بیت فرزدق نے کہے اور اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم کی تعریف اتنی زیادہ کی کہ ہشام غضبناک ہو گیا اور حکم دے دیا کہ اسے عسفان میں قید کیا جائے۔ عسفان مکہ و مدینہ کے پاس ایک مقام ہے (جہاں ایک کنواں ہے جس میں قیدی بند کیے جاتے تھے)۔

اس واقعہ کی خبر لوگوں نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کر دی۔ آپ نے بارہ ہزار درہم فرزدق کو بطورِ عطیہ بھیجے اور فرمایا: اُسے کہنا ابو فارس! ہمیں معاف کرے کہ ہم لوگ اس وقت امتحان و ابتلاء میں ہیں، اس ہدیہ سے زائد اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا، جو کچھ زائد عطا فرماتے۔

فرزدق نے وہ درہم نقری واپس کیے اور کہلوایا کہ حضور! قسم بخدا! زر و سیم کے لالچ میں بادشاہ و امراء کے دربار میں بہت کچھ کہہ چکا ہوں مگر وہ محض دروغ بے فروغ ہی تھا، مگر یہ قصیدہ جو میں نے کہا ہے یہ محض اپنے گناہوں کے کفارہ کے لیے اور اللہ و رسول ﷺ کی محبت کے لیے لکھا ہے۔

جب یہ پیغام حضور زین العابدین رضی اللہ عنہ کو ملا تو آپ نے حکم دیا کہ درہم واپس لے جاؤ اور اُسے کہو کہ ابو فارس! اگر ہمیں دوست رکھتا ہے تو ایسا نہ کر، اس لیے کہ ہم جو چیز کسی کو عطا فرما دیں وہ واپس نہیں لیا کرتے۔ تو تعمیلِ حکم میں فرزدق نے وہ عطیہ قبول کیا۔

اور درحقیقت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے فضائل اس سے کہیں زیادہ ہیں جو فرزدق نے کہے۔ ان کا جمع کرنا امکان میں نہیں۔

### حضرت امام ابو جعفر محمد باقر رضی اللہ عنہ

اسی گھرانہ سے محبتِ اہلِ معاملت، برہانِ اربابِ مشاہدت، امامِ اولادِ نبی، برگزیدۂ نسلِ علی حضرت ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب الباقر رضی اللہ عنہ ہیں۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ کی کنیت "ابو عبد اللہ" بھی تھی اور آپ کا لقب "باقر" تھا۔ آپ بیانِ علومِ دقیقہ اور لطائفِ اشارات میں قرآن کریم کے ساتھ خصوصیت سے مشہور ہیں۔ آپ کی بہت سی کرامات مشہور ہیں اور آپ کے بہت سے نشانات اور دلائلِ انور معروف ہیں۔

## صفحہ 192

آپ کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ نے آپ کو اپنے پاس بلا بھیجا۔ اس نیت سے بلوایا کہ جب یہاں آ جائیں تو انہیں شہید کر دیا جائے۔ آپ بلا خوف و خطر اس کے پاس تشریف لے گئے۔ جب آپ اس کے قریب پہنچے تو اُس نے معذرت کی اور کچھ ہدیہ پیش کیا اور بڑے ادب و احترام سے واپس کیا۔ حاضرینِ دربار نے خلافِ توقع عمل دیکھ کر کہا کہ جہاں پناہ نے تو امام کو شہید کرنے کی نیت سے بلایا تھا، لیکن جب وہ تشریف لے آئے تو اور طرح برتاؤ کرتے دیکھا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ بادشاہ کہنے لگا کہ جب وہ میرے قریب آئے تو میں نے دیکھا کہ دو شیر ان کے دائیں بائیں کھڑے ہیں اور مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ اگر تو نے ان کے قتل کا ارادہ بھی کیا تو ہم تجھے ہلاک کر دیں گے۔

حضرت امام ابو جعفر رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت ہے کہ آپ نے آیۂ کریمہ: ﴿فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ بِاللّٰهِ﴾ کی تفسیر میں فرمایا

كُلُّ مَنْ شَغَلَكَ عَنْ مُطَالَعَةِ الْحَقِّ فَهُوَ طَاغُوْتُكَ

"ہر وہ چیز جو تجھے مطالعۂ حق سے باز رکھے وہی تیرا بت ہے۔"

تو خیال رکھ کہ کیا چیز تجھے حق سے محجوب رکھتی ہے اور کس چیز کی وجہ سے تجھے حق سے بُعد ہوا۔ اُسی کو ترک کر دے تاکہ تو مرتبۂ کشف میں پہنچے اور بارگاہِ تقرب سے ممنوع و محجوب نہ رہے، اور جو ممنوع ہے اُسے یہ زیبا نہیں کہ وہ دعویٰ تقرب کرے۔

آپ کی خصوصیات میں ایک روایت ہے کہ آپ کچھ رات گزر جانے کے بعد اپنے معمولات سے فارغ ہو جاتے تو با آوازِ بلند الفاظ میں دعا فرماتے

"اے میرے ربّ! اے میرے مالک! رات آ گئی ہے اور بادشاہوں کی حکومت انجام کو پہنچ گئی۔ ستارے آسمان پر ظاہر ہو گئے اور سب لوگ ایسے سو گئے ہیں کہ گویا ناپید ہو گئے۔ آدمیوں کی آوازیں بند ہیں اور ان کی آنکھیں جمی ہوئی ہیں اور تمام بنی امیہ آرام میں ہیں۔ اُن کے دروازوں پر پاسبان بیٹھے ہوئے ہیں اور بنی امیہ کے دربار بند پڑے ہیں اور ان کی ڈیوڑھیوں پر دربان لگے ہوئے ہیں۔ جن لوگوں کی خواہشات ان سے وابستہ تھیں وہ اس وقت چھوڑ چکے ہیں۔ اے میرے اللہ! تو زندہ و پائندہ، بینندہ و دانندہ ہے۔ اونگھ اور نیند سے تو مبرا ہے۔ جو تجھے اونگھنے اور سونے والا جانے وہ تیری نعمتوں سے محروم ہے۔ الٰہی! تو وہ ہے کہ کوئی تجھے تیرے ارادہ سے باز نہیں رکھ سکتا اور رات دن میں کسی ساعت تیری صفتِ بقا میں خلل نہیں آ سکتا۔ تیرا دَرِ رحمت کشادہ ہے۔ اس پر تجھے جو پکارے، تیرے خزانۂ بخشش اُس پر فدا ہیں۔ جو تیری ثناء میں رطب اللسان ہو،"

## صفحہ 193

"تو مالک الملک ہے، سائل کا رد کرنا تجھے روا نہیں۔ جو مومن تیری درگاہ میں سوال کرنے آئے، تو سائل کو روکنے والا نہیں، خواہ وہ مخلوقِ ارضی ہو یا سماوی۔ الٰہی! جب میں موت اور قبر کا خیال کرتا ہوں اور حساب کا تصور آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ تیری حضوری کے مقابل دنیا کی کس چیز سے سکون پکڑا جائے۔ جب ملک الموت کا خیال آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ کس طرح دنیا سے تعلق رکھوں۔ تو میں تجھ سے عرض پیرا ہوں، اس لیے کہ تر دامن ہوں اور تجھ سے تجھی کو چاہتا ہوں، اس لیے کہ جب تجھے پکارتا ہوں، دل میں سکون محسوس کرتا ہوں۔ الٰہی! مجھ پر کیفیتِ مرگ بے عذاب نازل کر اور زندگیِ اخروی میں حساب بے عذاب لے کر مجھے عزت دے۔"

یہ سب کچھ فرما کر اس قدر گریہ فرماتے کہ صبح ہو جاتی۔

ایک شب میں نے عرض کی کہ اے میرے سردار! میرے ماں باپ کے سردار! کب تک آپ روتے رہیں گے اور کب تک یہ خروش رہے گا؟ آپ نے فرمایا: بھائی! یعقوب علیہ السلام کا صرف ایک بیٹا گم ہوا تھا تو اتنے روئے کہ چشمِ مبارک سفید ہو گئیں، اور میں نے اپنے اٹھارہ آدمی معہ باپ، یعنی امام حسین سید الشہداء رضی اللہ عنہ اور شہداءِ کربلا کو اپنے سے گم کیے ہیں، تو اس وقت تک میں گم ہی رہوں گا جب تک اُن کی جدائی میں رو کر آنکھیں سفید نہ کر لوں۔

یہ مناجات عربی میں نہایت فصیح ہیں مگر بخوفِ طوالت اس کے معنی ہی فارسی میں نقل کیے گئے تاکہ تکرار نہ ہو جائے۔ انشاء اللہ کسی دوسری جگہ اس اصل کو بھی نقل کریں گے۔

### حضرت امام محمد جعفر رضی اللہ عنہ

انہیں میں سے سیفِ سنت، جمالِ طریقت، معبرِ اہلِ معرفت، مزینِ اہلِ صفوت ابو جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ہیں۔

آپ نہایت بلند خیال اور پسندیدہ سیرتوں سے مزین تھے اور سریرِ امامت کی رونقِ دینی میں آپ موزوں تھے۔ آپ کے اشاراتِ جمیلہ تمام علوم میں مشہور ہیں اور معانیِ دقیقہ میں آپ کی تقریر مسلّم تھی۔ مشائخِ کرام میں آپ کو لطائفِ کلام اور حقائقِ طریقت میں خاص درجہ حاصل ہے۔ بیانِ طریقت میں آپ کی تصنیفات مشہور ہیں۔

آپ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا

مَنْ عَرَفَ اللّٰهَ اَعْرَضَ عَمَّا سِوَاهُ

"جس نے اللہ کو جان لیا وہ ماسوی اللہ سے علیحدہ ہو گیا۔"

یعنی عارفِ الٰہی وہی ہے جو معرض از غیر اور منقطع از علل و اسباب ہو جائے، اس لیے کہ

## صفحہ 194

اللہ کی معرفت یہی ہے کہ غیرِ خدا کے ساتھ اجنبی ہو جائے۔

یہی وجہ ہے کہ عارفین مخلوقات اور اس کی فکر سے اپنے آپ کو جدا رکھتے اور اپنے ربّ سے ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ اُن کے دل میں غیر کی ایسی قدر و منزلت نہیں کہ اُس کی طرف متوجہ ہوں، اور نہ وجودِ غیر سے انہیں کچھ خطرہ ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ ذکرِ غیر کے لیے اپنے دل میں جگہ نہیں رکھتے۔

ایک روایت میں حضرت امام جعفر رضی اللہ عنہ سے یوں بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا

لَا تَصِحُّ الْعِبَادَةُ اِلَّا بِالتَّوْبَةِ لِاَنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی قَدَّمَ التَّوْبَةَ عَلَی الْعِبَادَةِ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: ﴿اَلتَّائِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ...﴾

"عبادت بغیر توبہ کے صحیح نہیں، حتیٰ کہ خود حضرت عزّ مجدہٗ و عزّ اسمہٗ نے عبادت پر توبہ کو مقدم کیا، اس لیے کہ توبہ عبادت کی ابتدا ہے اور عبودیت اس کی انتہا۔"

چنانچہ جہاں اللہ تعالیٰ نے گنہگاروں کا ذکر نہیں کیا، وہاں انہیں بھی توبہ کا حکم فرمایا۔ جیسا کہ ارشاد ہے

﴿وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾

"اللہ کی طرف اے مسلمانو! توبہ کرو تاکہ تم فلاح یافتہ ہو جاؤ۔"

اور جہاں سیدِ اکرم تاجدارِ عرب و عجم ﷺ کو یاد فرمایا وہاں بھی ﴿فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰی﴾ کہا، تو گویا مقامِ عبودیت منتہاءِ کمال کا نام ہے۔

ایک حکایت میں ہے کہ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ ایک روز امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور عرض کی: یا ابنَ رسول اللہ! مجھے کچھ نصیحت فرمایئے، اس لیے کہ میرا دل سیاہ ہو چکا ہے۔ آپ نے فرمایا: اے ابو سلیمان! (حضرت داؤد طائی کے صاحبزادے کا نام سلیمان تھا) آپ اس زمانے کے بڑے زاہدوں میں سے ہیں، آپ کو میری نصیحت کی کیا ضرورت ہے؟ ... عرض کی: اے فرزندِ رسول! آپ کو اللہ نے سب پر فضیلت بخشی ہے، آپ پر نصیحت کرنا واجب ہے۔ حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو سلیمان! میں اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں بروزِ قیامت جدِ امجد مجھے یہ نہ فرمائیں کہ تو نے ہماری اطاعت کا حق کیوں ادا نہیں کیا، اس لیے کہ یہ کام نسب کی نسبت سے صحیح نہیں اترتا، یہ کام عمل کے اوپر موقوف ہے۔

۱۹۵

یہ سن کر حضرت داؤد طائی رو پڑے اور کہنے لگے: الٰہی! جن ہستیوں کا خمیر آبِ نبوت سے ہو اور جن کی ترکیبِ طبعی اصولِ دین پر اور برہان و حجتِ قرآن سے ہو، جس کے دادا شفیع المذنبین ﷺ ہوں، جن کی ماں حضرت زہرا بتول رضی اللہ عنہا ہوں وہ اس خوف و حیرانی میں رکھے گئے ہیں اور اپنے اعمال کا اس شان سے محاسبہ کر رہے ہیں تو پھر داؤد طائی کس شمار میں ہے اور وہ اپنے اعمال و عبادات پر کیا فخر کرے!!

ایک روایت میں ہے کہ ایک روز حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے احباب و خدام میں تشریف فرما تھے تو آپ نے سب سے فرمایا: آؤ! ہم تم آپس میں بیعت کریں اور اس امر کا عہد کر لیں کہ جسے اللہ تعالیٰ بروزِ قیامت رستگاری عطا فرما دے وہ سب کی شفاعت کرے۔ سب نے عرض کی کہ اے ابنِ رسول اللہ! اس عہد کی اسے حاجت ہے جو محتاجِ شفاعت ہو، آپ کو ہماری شفاعت کی کیا پرواہ ہے! آپ کے جدِ امجد ﷺ شفیعِ مجرمانِ خلائق ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں اپنے اعمال پر شرماتا ہوں اور اپنے نفس کے عیبوں پر نظر کر کے ڈرتا ہوں کہ بروزِ قیامت جدِ امجد ﷺ کے حضور کس طرح منہ دکھاؤں گا۔

یہ وہ کمالِ خاص ہے جو عارفِ کامل کو حاصل ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے نفس کے عیبوں پر نظر رکھتا ہے۔ یہ صفت اوصافِ کمالیہ سے ہے۔

اور تمام ممکنانِ الٰہی، یعنی نبی، ولی، غوث، قطب سب کے سب اسی اصول پر قائم ہیں۔ چنانچہ حضور سید یوم النشور ﷺ نے فرمایا

اِذَا اَرَادَ اللّٰهُ بِعَبْدٍ خَیْرًا بَصَّرَهٗ بِعُیُوْبِ نَفْسِهٖ

"جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ ارادۂ خیر فرماتا ہے تو اسے عیوبِ نفس کے لیے چشمِ بینا عطا فرماتا ہے۔"

اور جو از رُوئے تواضع اپنا سر بارگاہِ حق میں جھکا دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مرادات دارین پوری فرماتا ہے۔

اب اگر ہم تمام مناقبِ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم بیان کریں اور ہر ایک کے فضائل مفصل بتائیں تو یہ کتاب اس کی متحمل نہیں۔ لہٰذا ان کے لیے جن کی عقلِ خلعت ادراک سے مزین ہے اور جو مریدانِ خاص ہیں، اسی قدر کافی ہے اور منکر کے لیے بھی، اگر سمجھنا چاہے تو کم نہیں۔

۱۹۶

اب اگر ہم اصحابِ صفہ رسولِ کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کا تذکرہ بہ سبیلِ ایجاز و اختصار کرتے ہیں اور فضائلِ اہلِ بیت میں علی التفصیل ایک کتاب مسمّی "منہاج الدین" ہم نے تالیف کی ہے، جس میں ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ فضائل درج ہیں۔ اس جگہ تو ہم نے محض اسمائے کنیت پر ہی اکتفا کیا ہے تاکہ پڑھنے والے کا مقصود معلومات حاصل ہو جائے۔

اَعَزَّكَ اللّٰهُ تَعَالٰی وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔

(اس صفحے پر پہلے باب کے اختتام کی زینتی علامت ہے۔)