السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کشف المحجوب

حصہ ۲ — بابِ تصوف — پانچواں باب

حصہ ۲
صفحہ ۱۱۷

بابِ تصوف

فروع سے بے خبر رہا وہ اصول سے یقیناً بے خبر رہے گا، اور جو اصول سے بے خبر ہوا وہ کسی جگہ بھی صحیح نہیں اتر سکتا۔ یہ اس لیے میں نے کہا تاکہ تم ان معنی کی راہ پہلے طے کرو اور اس کے حقوق کی رعایت کی طرف مشغول ہو سکو۔

اب ہم تھوڑے سے باب تصوف میں فرقہ صوفیہ کے اصول و اشارات بیان کریں گے، پھر ان مردان خدا کے اسماء گرامی بتائیں گے جنہوں نے اس شاہراہ کو عبور فرمایا اور منزل حاصل کی۔ پھر صوفیائے کرام کے مسلک پر بحث کریں گے تاکہ تم سمجھ سکو کہ ان کے اختلافات، اختلاف نہیں۔ پھر معرفت و حقیقت و احکام شریعت کا تذکرہ کریں گے۔ پھر بعد مقدور ان کے مقامات اور مقامات، رموز و حقائق و آداب بیان کریں گے تاکہ تم پر اور دوسرے پڑھنے والوں پر اس مقام کی حقیقت کا انکشاف ہو سکے۔

وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ۔

۱۱۸

ال تھا لی بل مد ۂکاارشادے: لویب الاخن الین الازضض شع ع َو 1اط الہ لذِتَ اڑا ملماہ4 )0

“ا بنگان لی دہ ہیں جو ز شن پہ جح کک جیلتے ہیں اور جب چائل آنیں پیر و دہ ججاے جواب کے مان سےکہہدیتے ہی ںکہاسچھاں خل لریی۔

اورتحخرتگحھر ملا نے فرمایا: مَن سَوع ضَوٴت اَهل النّضَوي فلا بُڑمَنْ علٰی ُا ِهِمْ کيبَ عِنْد اللِيِنَ الْعافْلیْنَ .

یجن ینس نے بولی تو فک یآوا زی نکرا نکی دکو تکوقبدل شہکیاد انل کے نزدیک ناظوں می ں کل اگیا_”

حم یھنا ضردرکی ہک رص وٹیکون ہے اس لہ لوگوں نے نام صوئی کی بہ تک تنرٹیں نا ری ہیں اور اس پٹ می بہ تک یکنای بھی جلیف ہو گی ہیں۔ ایک جماعت کی س ےکعوث یکوصونی اس کہا چاتا کے ا اوڑھتا ہے۔ ایک جماع تکہتی ےکرصوٹ یکو صصوئ اس لی ےکہا جاجا س ےکدہ برونر قیاصت صفِ ال مٹش ہوں گے ء ای کگردہ اس طر فگیاکہ صوئی د کہا جا سکتا جواصحاب ہے مٴقہ کے سا محبت د ولا کا رابطہ ر گھے۔ ایک فرقہسییے لاصو کم سے چو عفا ےشن ہے۔ شف جس کے انددد باہرصفائی ے ووصوئیکہلا کا تار ہے۔ اکر چٹھا وط رکیقت اان و بات ٹس ببت سے لطاکف حامصل ہو سے ہیں نا نآ خری مدکی تھریف کے انقبار سےلفوئیمسنی اس کےععد: ہیں کےگر چرمغا صفاتی نی ہے اور صفائی ہر پپہلد سے اکچی ےاورمفال ایا ضدکرورت ےے۔

او رتضور فرمایا: مےللا ن ےبھی

١۔ سور؟الفر ان :٢۳۷‏

۱۱۹

٭حمصمحصصفاکضرآ (ٰش۰-ص-صصسچ-سظت ذَھَبَ صَفُو الڈُنیا وَبَقیٰ کذرھاً .(١)‏ “دنا کی صفائی جا ی ری اورا لک یکدورت پائی روگئی ”'

۔ اور پہ رتاہرو اع اور ظا ہر ےک لیف وصاف زاو ری وکدر چزعور:ظور ہے و ےک ال اصوف ےے اپے قما معاطاتِ اظالیٴ ومعاشی وموای ٹیم بک لے اوراپے د لکدورستيآفاتددنیا سے صاففر ما لیے۔ اس لیے ایس صوثیکہاگیا اور اسم عارفوں کے لیے اما اعلام سے ےکیونل ال تصوف کے قط رات قلمیہ اوراموراتی عالیہ ال ام ےکی بڑ کر ہیںء درتقیقت بلہ لفظط“صوئی” ان صفات کے با نکی تر جمالی کے ےکافی ہی نکی اود ان کے معاطا تتقرب پر ا لک تتریف می نٹیں ہ وکتی۔بابرمیں ا صوثی کامبراء اتا تی “فا ”نکر اسے قراردیتا امم صفت ا ہوکھا۔ نی پھر یز مانر وہ ےک عفر تعن تھالی شی نے عوا مکو قیقت! نقصوف اوراہل تحسوف سےقیاب میں فر ران کے منص ب تھی لکی بلعدی اورورائی تق یکو عوام کے واوں ےہ یکردیاے۔

بی بد ےک لی جماعت تو شش یکرتسوف ایک طری تکا نام مشابرة ہے جو پا مین مددتا ےاوراملاں اہر یکر دتا ہے کوئی ا گان میں بب کگیاکہ برصوٹی اورھوی ایک تقیقت بے چیز ہے اور ہنا من ہے بے ال نام کیجتف لیذ جال رہپ نکر کے اہم اب لعل مکواپنے ساجحھ مکی نظاہ رین نظروں سے دس بھا لمکرسرے سےتصوف کے تھر ہو باوجود گے اور کہ و ومخقت حرا فلت میں تو ب ہیں من انی انی نظ نین رسفشن ہیں۔ ا نکی پیردئی جائل وا مکا لا نعام ن ےکی اورصفاء با نکی خوابش ہی دل سے کال دبی اورحلف صالھین اورسحا ہکرام رضصوان ایہم کےط ری ہکوچھوڑ ٹیٹے_

“لی اک رق واٹتی صوئی کا متلائی ہو بادرےکرصوفی ہہون ےکی صنت شمان الم سِفَة الیْرِیق إِن اٹ الَحْقِیْقي صُوفِيًا عَلی صرف صد بی اکبرنیشی الل عنم تی ۔”

۱۲۰

قریب ہے کہ فقر کفر بن جائے۔ اس لیے فقیر وہ ہوتا ہے جو کسی سبب کے ساتھ وابستہ ہو اور مسکین وہ ہوتا ہے جو اسباب کو منقطع کردے۔

۱۲۱

گویا دوسرے الفاظ میں اپنی صفوۃ کا مظاہرہ فرمایا کہ تعلیم مصطفی علیہ التحیۃ والثنا یہ ہے کہ سوا ذات باقی کے سب فانی ہیں اور فانی سے وراء الورٹی ذات باقی ہے۔ تو جس کا دل فانی سے فانی تو بندھا ہوا ہے وہ سمجھ لے کہ صورت فانی فنا ہو گئی اور اس کی تمام محنت رائیگاں گئی اور جس نے اپنی جان حضرت باقی کے سپرد فرمادی اس کی شان یہ ہے کہ اس کا نفس فانی فنا ہو جاتا ہے اور وہ ذات باقی کے ساتھ دوامی بقا میں رہتا ہے۔ لہذا جس نے ذات محمد ص کو چشم ظاہر سے دیکھا ہے وہ اپنا اسلام اور ان کی تعظیم ختم کر دے ، اس لیے کہ وہ صورت ظاہری تو فنا ہو گئی اور جس نے اس ہستی پاک کو بچشم حقیقت دیکھا ہے اسے نقش ظاہری سے کچھ تعلق نہیں۔ اس کے نزدیک اس صورت کا رہنا اور غائب ہو جانا دونوں برابر ہیں۔ اس لیے کہ حالت بقاء میں وہ اپنی بقاء منجانب اللہ سمجھتا اور یقین کرتا ہے ، اور کیفیت فنا کو بھی منجانب اللہ جانتا ہے۔ جب اس نے ہر دو کیفیات منجانب محول حقیقی دیکھیں تو محول سے اعراض کر کے محول حقیقی کا اعتراف کر لیا اور جان لیا کہ ہر محول یعنی متغیر ہونے والے کا وجود محول حقیقی یعنی متغیر کرنے والے اور پھیرنے والے کے قبضہ قدرت میں ہے۔

تو پھر فرمان رب العزت جل مجدہ کے مطابق وہ ہر شے کی تعظیم و تکریم کرنے والا ہو گیا اور بنظر دل کسی غیر کو دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا اور نظر ظاہر کو بھی ماسوا اللہ سے بند کر لیا۔

مَنْ نَظَرَ إِلَى الْخَلْقِ هَلَكَ وَمَنْ رَجَعَ إِلَى الْحَقِّ مَلَكَ۔ (جس نے مخلوق فانی کی طرف نظر کی ہلاک ہوا ، اور جس نے وجود باقی اور ذات حق کی طرف رجوع کیا ملکی صفات سے متصف ہو گیا )۔ یعنی ماسوی اللہ اور مخلوق کی طرف نظر ہونا نشان ہلاکت ہے اور رجوع بحق ہونا علامت ملکیت ہے۔ تو خلو دل ما سوائے اللہ کے یا دنیا و مافیہا سے یہ ہوا کہ جو کچھ مال و متاع غلام اس کے قبضے میں ہو، راہ مولی میں دے ڈالے اور ایک کملی میں لیٹ کر دربار رسالت پناہ میں حاضر ہو۔ جیسا کہ صدیق اکبر کا واقعہ ہے کہ سب مال و متاع ، غلام، لونڈی اللہ کے واسطے تصدیق کر کے اس شان سے حاضر ہوئے کہ ایک کملی جسم اطہر پر تھی۔ حضور ص نے فرمایا مَا خَلَفْتَ لِعَيَالِكَ ؟۔

ابو بکر ! اپنے بیوی بچوں کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو؟ عرض کی : اللهُ وَرَسُولُهُ۔ بیوی بچوں کے لیے دو خزانے بے خزاں اور دو گنج بیکراں چھوڑ کر آیا ہوں۔ ایک محبت واحد حقیقی دوسرا متابعت رسول بھی۔ اس لیے کہ جب میرا دل تعلق دنیا سے آزاد ہو چکا تو مجھے ناگزیر تھا کہ گندگی اور میل کچیل سے صفائی حاصل کروں۔ یہ ہے مکمل صفت صوفی صافی و عارف صادق کی اور اس سے انکار کرنا در حقیقت انکار ذات باقی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ در حقیقت، حقیقت تصوف یہی ہے۔ اس لیے کہ صوفی وہ ہے جو صاف دل ہو، اقسام کدورات سے اور صفائی کی ضد تکدر اور میلا پن ہے۔

۱۲۲

ووسرےکدرولوث بد یا ہوناصفا تی بش رگی یل داٹل ہے اوردرتقیت صصو فیدہ ے جوطلیق گدر لاف ان بیس فکر کےز نان مھ پرکیاریت بش ریہ نے خلہکیا. برا لکیت خلبۂ بش ر ہت پہ جب ےگ رک صفامت لشرگی سے پا ما تر ہوجاے۔ لیا کہ جحالت اتتخراق وو بیت مشاہر ٤‏ مال و صن اپناعسحسن بی نے ڈالاتذ دوخب بشریت درجہ خذاحی تکوڑ گیا بچمرجب مشاہ صن خہابمت پٹ وغلپ” بی ریت فا ہوگیا اور یں زنالن مرک زہان سے ف حا نَلومَا هْدَابَکرا” (104 لگیا۔'میشنی خدا یحم ہہ بشرنٹیں ہے” ۔)یہاں در یقت بُخ صن وی نے زنان مصرکی کیفیں شر یکوبد ڈالاتھا لی انہوں مگ نے اس ولوب کا نان ایسف علیالسلا مک بنیا اور فی لوا اپنا حعال بیا نکیاتھا۔ ا کی تا یرٹ مشا نا مم یقت رہم الش نے فرمایا

“لس الطْفَاِنْ ِقات الَقرٍِی الفَرمَترُوَالمئز لأبَخلن مِنَ الگثر.ِ”

صفائی مفات بشریہ ےیل ال لے کہ بش رک یحلیق سی اورمٹی سے ہے کے خواس 7ںشکدورت وکا فت ہے۔ہنابرایی یشون فت ولرورت مفیرچا روہیں۔

ق نما ہ رہ وگیاک حم ول صفاءافعال داعمالی سےکجیں ہوسلمااور بش کی صفت نال ماہرہ ود ات ے زال ہون ائمکن ہے۔ اس لیک تکوافعال صف داعوای ےکوی نہد تی اود اسم مفا سی نام ای قب ےکوئی حاص٥‏ نی سکر کت ب۔: اَصَفَا صِفَهاّخباب وَهُمْ شَمُوْسٌ' ٌللا تاب .“مخت صفامحبو بارن ال یکیصفت ہے اوردددہ می کہ اپتی صفت شی ے فاٹی ہو کرصضیی ممبوہان ال ساتھ کے باقی ہو چچے ہیں اوھ باان بارگا دہ ہی ںکہاُ نک سیت عالی ال حا کان روں یں :شل ا اورنمایاں ںآ قاب کے رشن ہے جس پ ہآب رکا بھی توا نیس۔ چنا نچ صدیثٹش ہ ےکہمرددعالم 7سے سا ہکپاریشی الڈشت م نے نحضرت حارش بن ز ید نشی ۴ عنہ تلق وریاف تکیا۔حضمور فرمایا:د۔ ط ےکا نے

َبّ نوز الله لب بلایمَان. “وەوویئرہ ےس کا دی ال تا یٰ نے و یایمان سےمنورکردیا سے

ا یکا چر راڈ رتا ےک اس می سلکیفی بت معمر موجود ہے )یچنی جس طرخ چان ھآ غاب کو دک ےک ررؤشن ہو چاجا ہے۔حعحفرت عارش بن ز یڑ کے چرےکود کے سےء د یھن وانے میں پور

١۔ -ور8 ايٰوس :٣٣‏

۱۲۳

آجاتا ہے ) اور حارثہ " کو اللہ نے اپنے نور سے مصور و مخلوق فرمایا۔ کہتے ہیں کہ مشائخ سلاسل میں سے کسی نے یہ شعر فرمایا

ضِيَاءُ الشَّمْسِ وَ الْقَمَرِ إِذَا اشْتَرَكَا

انُمُوذَجٌ مِنْ صَفَاءِ الْحُبِّ وَالتَّوْحِيدِ إِذَا اشْتَبَكَا

نور آفتاب و قمر جب بیک دیگر مل جائیں تو ان کی مثال توحید و محبت کی صفائی ہے جبکہ یہ دونوں یکجا جمع ہو جائیں۔

لیکن یاد رکھو کہ نور آفتاب و ماہتاب کے وہاں کچھ حقیقت نہیں ، جہاں نور محبت و توحید جبار کی جلوہ ریزی ہو۔ مگر اس مثال نور محبت و توحید کو اس لیے محبت دی گئی کہ اس دنیا میں کوئی نور اس سے زیادہ منور نہیں اور ہماری چشم ظاہر آفتاب و ماہتاب کے نور سے آسمان دیکھ رہی ہے اور بس۔ اور نور توحید و محبت سے قیام قیامت تک کے تمام احوال دنیا میں منکشف ہوتے ہیں اور اس پر جملہ مشائخ طریقت مجتمع ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ جب بندہ قید و مقامات سے آزاد ہو جاتا ہے تو کیفیت مکدرہ سے خالی ہو کر مقام تغیر و تکون سے بھی آزادی حاصل کر لیتا ہے، اور اس میں تمام احوال محمود آجاتے ہیں اور وہ صفات محمودہ کے ساتھ متصف ہوتا ہے مگر اس وقت وہ فی نفسہ قید اوصاف سے بھی بیگانہ ہوتا ہے اور قید صفات سے بالاتر ہو کر حمید و محمود کو نہیں دیکھتا، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی لطائف کے مشاہدہ سے عجب و نخوت نہیں کرتا ، مغرور نہیں ہوتا۔ بلکہ اُس کی کیفیت حالیہ اور اک عقل سے مخفی ہو جاتی ہے اور اس کا ظاہر و باطن شکوک وظنون و اوہام کی دستبرد سے محفوظ بلکہ پاک ہوتا ہے۔ یہ اس لیے کہ اس کی کیفیت حضوری کو ذہاب یعنی حجاب و خفا نہ ہو اور اس کا وجود ظاہری علل و اسباب کا محتاج نہ رہے۔

لأنَّ الصَّفَا حُضُورٌ ۚ بِلَا ذَهَابٍ وَ وُجُودَم بِلَا أَسْبَابٍ۔

یعنی مقتضاء صفاء قلب یہ ہے کہ اسے زائل نہ ہونے والا حضور حاصل ہو اور بلا احتیاج سبب سب کچھ موجود ہو۔

حاضری بارگاہ بلا غیبت ہو اور ہر چیز بلا سبب و علت موجود اس لیے کہ جو حضور غیبت سے مٹ جائے وہ حضور نہیں اور جو موجود سبب وعلت سے موجود ہو ، وہ موجود کوئی وجود نہیں رکھتا۔

جب اس درجہ پر صوفی پہنچ جاتا ہے تو دنیا و عقبی میں فنا ہو جاتا ہے اور بظاہر ؟ بظاہر جسم انسانی رکھ کر ربانی بن جاتا ہے۔ پھر اس کی نظر میں زر و جواہر اور کنکر و پتھر یکساں ہوتے ہیں اور جو کچھ اہل دنیا پر دشوار ہوتا ہے وہ سب اس پر آسان ہو جاتا ہے خواہ اتباع احکام ہو یا اور کچھ۔

۱۲۴

اللہ نے فرمایا

چنانچہ حضرت حارثہ بن زید رضی اللہ عنہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے۔ حضور نے فرمایا

كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا حَارِثَةُ ؟

"اے ابن زید آج تم نے کیسی صبح کی؟"

قَالَ أَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ حَقًّا فَقَالَ انْظُرُ مَا تَقُولُ يَا حَارِثَهُ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ حَقِيقَةٌ فَمَا حَقِيقَةُ إِيْمَانِكَ فَقَالَ عَزَلْتُ وَ حَرَّفْتُ نَفْسِي عَنِ الدُّنْيَا فَاسْتَوَى عِنْدِى حَجَرُهَا وَذَهَبُهَا وَفِضَّتُهَا وَمَدَرُهَا فَاسْهَرْتُ لَيْلِي وَأَطْمَأْتُ نَهَارِي حَتَّى صِرْتُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَرْشِ رَبِّي بَارِزًا وَكَأَنِّي انْظُرُ إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَزَا وَرُوْنَ فِيْهَا وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ النَّارِ يَتَضَارَعُونَ وَفِي رَوَايَةٍ يَتَعَاوَرُونَ۔ الحديث

حارثہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: حضور! میں نے آج سچا مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا : حارثہ غور کر کیا کہہ رہے ہو؟ یاد رکھو ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور ہر چیز پر ایک دلیل، تیرے اس دعوی کی کیا حقیقت ہے اور تیرے ایمان کی کیا دلیل ؟ عرض کی حضور ! میں نے اپنی جان کو دنیا سے علیحدہ کر لیا اور اپنا منہ دنیا سے موڑ لیا ، اب میری نظر میں دنیا کا پتھر ،سونا، چاندی، کنکر، کوڑا سب یکساں ، ہے، اور جب میں دنیا و مافیہا سے آزاد ہو چکا تو مقام

۱۔ یہ اس حدیث کا جزو ہے جسے امام ہزار اور ابن ابی شیبہ نے یوسف بن عطیہ کے طریق سے، انہوں نے حضرت ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے۔ مکمل حدیث یوں ہے

بينما رسول الله الله يمشى اذا استقبلة شاب من الأنصار يقال له حارثة، فقال له النبي كيف أصبحت يا حارثه ؟ قال : أصبحت مؤمناً حقاً ، فقال : انظر ما تقول يا حارثة إن لكل حق حقيقة، فما حقيقة ايمانك ؟ فقال: عزلت نفسي عن الدنيا، فاستوى عندي حجرها و ذهبها وفضتها و مدرها ، فأسهرت ليلي وأظمات نهاري، حتى صرت كأني انظر الى أهل الجنة يتزاورون فيها، وكأني أنظر الى أهل النار يتضارعون فيها، وفي رواية يتغامرون فيها، فقال له عرفت فالزم، قالها ثلاثا .

۱۲۵

شِكَايَةٍ۔ صفاء ولایت کا نام ہے اور اس کے لیے علامت اور روایت کی ضرورت ہے اور تصوف بلا شبہ حصول صفا کے لیے ایک حکایت ہے۔ جس میں شائبہ شکایت نہیں ہوتا تو صفاء کے روشن معنی ظاہر ہو گئے اور تصوف کا محض تو حکایت ہونا واضح ہو گیا۔ تو درجہ تصوف میں جو لوگ ہیں ان کی تین قسم ہیں : ایک صوفی ، دوسرا متصوف، تیسرا مستصوف۔ صوفی وہ ہے جو اپنے وجود سے فانی ہو کر باقی بحق ہو گیا۔ قید مزاج و طبائع سے آزاد ہو کر حقیقت حقائق کے ساتھ مل گیا۔ متصوف وہ ہے جو اس درجہ کے حاصل کرنے کی آرزو میں تکلف و مشقت و مجاہدہ کر رہا ہے ، اور صوفی بننے کا خواہش مند ہے اور صوفیائے کرام کے رسم و رواج کی پیروی میں اپنی اصلاح کرتا ہے ، اور مستصوف وہ ہے جو مال و منال دنیاوی حاصل کرنے کی غرض سے صوفیاء کرام کے اعمال و افعال و حرکات کی نقل کرتا ہے۔ صوفیاء کے اقوال کہتا پھرتا ہے مگر خود محض بے خبر ہے اور کچھ نہیں جانتا۔ چنانچہ ایسے شخص ہی کے حق میں مشائخ کرام نے فرمایا

الْمُسْتَصْوِفُ عِنْدَ الصُّوْفِيَةِ كَالذُّبَابِ وَعِنْدَ غَيْرِهِمْ كَالذِّئْبِ۔ متصوف صوفیائے کرام کے نزدیک ایک ذلیل مکھی ہے، ( جو کچھ کرتا ہے وہ محض لغو اور فضول ہے۔ ) اور عوام کے حق میں متصوف مثل بھیڑیے کے ہے ( یا بجو کی طرح ، وہ جو کچھ کرتا ہے سب بیکار ہے۔)

اس لیے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے اس کی مراد تھوڑے سے ٹکڑے کا حاصل کرنا ہے۔ تو خلاصہ یہ نکلا کہ صوفی صاحب وصول ہوتا ہے اور متصوف صاحب اصول اور مستصوف صاحب فضول۔ جو صوفی ہے اسے اصل کشف و وصل محبوب نصیب ہو گیا اور وہ ہمیشہ رسم و لطائف میں مستقیم رہا، اور جس کو درجہ فضول ملا وہ سب سے پیچھے رہ گیا اور رسم کے دروازے پر پڑا رہا اور اس پر حجاب معنی اس قدر پڑے کہ وہ محجوب ہو کر وصل واصل دونوں سے محروم رہ گیا۔ اس حال کو مشائخ کرام نے اس قدر رموز میں بیان فرمایا ہے کہ سب کا بیان کرنا ممکن نہیں تاہم بعض اُن کی رموزات اس کتاب میں ہم بیان کریں گے تاکہ ناظرین کو کافی فائدہ پہنچے۔ ان شاء اللہ

فصل: حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: الصُّوفِى إِذَا نَطَقَ بَانَ نُطْقُهُ مِنَ الْحَقَائِقِ وَإِنْ سَكَتَ نَطَقَتْ عَنْهُ

۱۲۶

الجوارح بتقطّع الروابط۔ “صوفی وہ ہے کہ جب کلام کرے تو اس کا کلام اس کے حال کی حقیقت کا مظہر ہو اور کوئی ایسی بات نہ کہے جو اس میں نہ ہو، اور جب خاموش رہے تو اس کی خاموشی اور اس کا جوارح (اعضاء) اس کے حال کے ترجمان ہوں اور علائق دنیاوی سے اس کے قطعِ تعلق کو واضح کرتے ہوں۔”

گویا گفتارِ صوفی اس کے حسبِ حالِ صوفی ہو اور کردار میں شانِ تجرید اس قدر عظیم اور سچی نظر آئے اور دنیا و اسبابِ دنیا سے ایسا انقطاع نظر آئے کہ اگر وہ کلام کرے تو حقیقت کا بیان ہو اور اگر خاموش رہے تو اس کے جوارح سے اس کے قطعِ علائق کی ادائیں نظر آئیں۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

“تصوف ایک ایسی صفت ہے کہ بندہ اس کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔” کسی نے کہا کہ یہ صفت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے یا بندہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا: “یہ صفت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے کیونکہ صفت بذاتِ باری تعالیٰ حق ہے، مگر صفت بطورِ مجاز و رسم بندہ کے لیے ہوتی ہے۔”

یعنی حقیقتِ تصوف یہ ہے کہ بندہ کی صفت کو فناء کر دے اور صفاتِ عبد کا فناء ہونا صفتِ حق سے متصف ہونے کو کہتے ہے، اور یہی صفتِ حق ہے اور رسمِ تصوف دوامِ بندہ سے مجاہدات و ریاضات کا التزام کراتی ہے اور بقائے صفتِ استقامت و استمرار اس مجاہدہ پر رکھنا یہ بندہ کی شان ہے، اور اس مضمون کو بالفاظِ دیگر ادا کریں تو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ حقیقتِ توحید میں بندہ کو کسی صفت سے متصف کرنا نہیں، اس لیے کہ صفاتِ عبدیت عبد میں دوامی ہیں اور بندہ کی صفت کی حقیقت بعدِ عدم ہے۔ اور یہ واضح طور پر روشن ہے کہ صفتِ عبد باقی نہیں رہتی بلکہ بندہ میں صفتِ حق کا آنا ہی ایک کل ہے اس کی تمام صفات کا۔ اور ذاتِ فاعل الصفات کے جتنے افعال ہیں وہ سب اس کی ملک اور تحتِ قدرت ہیں۔ پس درحقیقت جو صفت بندہ میں ہوگی وہ صفتِ واجب تعالیٰ شانہ کی طرف مائل رہے گی۔

اسے اور وضاحت سے یوں سمجھا جائے گا کہ جب انسان کو روزہ رکھنے کا حکم دیا جائے تو اس کی تعمیل میں "صائم" (روزہ دار) کا نام مل جاتا ہے۔ تو روزہ رکھنا بظاہر بندے کی طرف منسوب ہے، مگر درحقیقت یہ رسم بجا لانا من جانبِ رب ہے۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی میں حضور نے فرمایا

۱۲۷

کو جناب باری تعالیٰ شانہ نے فرمایا: الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ۔ "روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں دوں گا۔"

یعنی وہ روزہ جو بندہ نے رکھا، وہ میرے حکم سے رکھا اور اس کے تمام کام اُس کے ملک ہیں۔ مگر یہ اضافتِ ملک بندہ کی طرف جو ہے درحقیقت بطریق رسم و مجاز ہے نہ کہ بطریق حقیقت۔ حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

التَّصَوُّفُ تَرْكُ كُلِّ حَظٍّ لِلنَّفْسِ تصوف نام ہے تمام حظوظ نفسانیہ کا ترک۔

اور یہ دو طرح ہوتا ہے : ایک رسمی طور پر، دوسرے حقیقی صورت میں۔ یہ بھی در حقیقت عجیب و غریب شان ہے اس لیے کہ اگر بندہ نے خوشی سے ترکِ حظِ نفس کیا تو فی نفسہ ترکِ حظ بھی تو ایک حظ ہے اور یہ خالص رسم ہے اور اگر خوشی نے بندہ کو ترک کر دیا اور حظِ نفس خود علیحدہ ہو گیا تو یہ فناء حظ ہوگا اور اس معنی کا تعلق در حقیقت مشاہدہ سے ہے۔ اس لیے کہ یہ امر واضح ہے کہ ترکِ حظ یعنی خوشی اور لذاتِ نفسانیہ کا ترک کر دینا یہ بندہ کا فعل ہے اور لذاتِ نفسانیہ اور حظوظِ جسمانیہ کا فنا ہونا من جانب اللہ ہے اور یہ امر مسلمات سے ہے کہ فعلِ عبد محض رسم و مجاز ہے اور فعلِ حق حقیقتِ ذات، اور حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کا وہ قول جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں وہ بھی اس امر کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت ابوالحسن نوری کہتے ہیں

الصُّوفِيَّةُ هُمُ الَّذِينَ صَفَتْ أَرْوَاحُهُمْ فَصَارُوا فِي الصَّفِ الْأَوَّلِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَقِّ۔ "صوفی وہ ہیں کہ ان کی روحیں کدورتِ بشریت سے مجلا ہو چکی ہوں اور تمام آفاتِ نفسانیہ سے پاک ہو کر حرص و ہوائے شہوانیہ سے خلاصی پا کر دربارِ الہی میں صفِ اول کے اندر درجہ تقرب پاتی ہیں۔ ماسوائے اللہ سے بعید ہو چکی ہیں۔"

اور حضرت ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: الصُّوفِي الَّذِي لَا يَمْلِكُ وَلَا يُمْلَكُ۔

۱۲۸

صوفی وہ ہے جو نہ کسی کا مالک ہو، نہ کسی کی ملک۔

یعنی صوفی وہ ہے جس کی قید میں کچھ نہ ہو اور وہ خود کسی کی قید میں مقید نہ ہو۔ اور یہ تعریف عینِ فنا کی ہے ، اس لیے کہ فانی فی الصفت نہ کسی شے کا مالک بالذات ہوتا ہے نہ مملوک غیر ذات۔ اس لیے کہ ملک اس کی صحیح ہوتی ہے، جو خود موجود ہو اور مملوکیت کا بھی وہی اہل ہے، جو موجود ہو۔ تو مسئلہ واضح ہو گیا کہ صوفی متاعِ دنیا و آخرہ میں سے خود کس چیز کا مالک نہیں ہوتا اور آپ نفس و حرص و حظ اور خواہشات کے ملک میں نہیں رہتا۔ گویا اپنی مشیت اور ارادہ کو ماسوائے اللہ سے منقطع کر لیتا ہے تاکہ غیر اس کی اطاعت و بندگی کا طمع نہ کر سکے اور یہ قول بالخصوص اس گروہِ صوفیاء کے بہت مناسبِ حال ہے جو فناءِ کل کے قائل ہیں اور میں ان کے خیالات کو اس کتاب میں نقل کروں گا تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے اِنْ شَاءَ اللہ، اللہ تمہیں اپنا برگزیدہ بنائے۔

حضرت علی بن عثمان الجلابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ حَقِيقَةٌ لَا رَسْمَ لَهُ تصوف ایسی حقیقت کا نام ہے جس کی تعریف رسمی نہیں ہو سکتی۔

اس لیے کہ رسم مخلوقات کا وہ حصہ ہے جو معاملات میں مستعمل ہے اور تصوف حقیقۃً خاصہ الہی ہے اور بات بھی یہی ہے کیونکہ جب تصوف مخلوقات سے اعراض کرنے کو کہا جاتا ہے تو لامحالہ اس کے لیے رسم و رواجِ مخلوقی سے علیحدہ ہونا ضروری ہے۔

حضرت ابو عمرو دمشقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ رُؤْيَةُ الْكَوْنِ بِعَيْنِ النَّقْصِ بَلْ غَضُّ الطَّرْفِ عَنِ الْكَوْنِ۔ یعنی تصوف یہ ہے کہ عالمِ کون کو بنظرِ نقص و حدوث دیکھے اور یہ بھی بقائے صفت کی دلیل ہے، بلکہ عالم سے آنکھ کو بند کر لے تاکہ یہ دلیل فناءِ صفت کی مکمل ہو جائے۔ اس لیے کہ جب تک نظر عالمِ کون کی طرف رہے گی خواہ ناقص ہو خواہ کامل، تو صفت باقی رہے گی مگر جب کون ہی نہ رہے گا تو نظر بھی اس پر نہ رہے گی ، تو صفت کا فانی ہونا متحقق ہو جائے گا۔

غرضیکہ جب صوفی اپنی ذات سے نابینا ہو جاتا ہے، ذاتِ واجب کے ساتھ بینا بن جاتا ہے اور جبکہ صوفی ہو کر طالبِ کون و فساد ہوا تو اس کے تمام کاروبار کا تعلق اسی کی ذات کے ساتھ رہے گا۔ تو پھر اسے اپنے سوا کسی اور کے ساتھ کوئی راستہ نہیں مل سکتا، تو ایک وہ ہوا جو خود کو دیکھتا ہے مگر ناقص دیکھتا ہے اور ایک وہ ہے جو اپنی آنکھیں ماسوی اللہ سے بلند کر کے کسی کو نہیں دیکھتا۔ تو جو دیکھ رہا ہے اگرچہ ناقص ہی دیکھے مگر ابھی اس کی چشمِ بینا پر حجابِ دوئی ہے۔ اور ایک وہ ہے جو دیکھتا ہے تو اپنی بینائی کی وجہ سے محجوب ہو جاتا ہے اور ایک وہ جو ماسوی اللہ کو دیکھتا ہی نہیں ، وہ اپنی چشمِ حق میں سے محجوب نہیں ہوتا اور یہی اصل قوت ہے جسے متصوفہ اور اربابِ معانی اعلیٰ مقام بتاتے

۱۲۹

ہیں، بس اب اس سے زائد شرح کرنا اس مقام کے ساتھ ناموزوں ہے۔

حضرت ابو بکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: التَّصَوُّفُ شِرْكٌ لِأَنَّهُ صِيَانَةُ الْقَلْبِ عَنْ رُؤْيَةِ الْغَيْرِ وَلَا غَيْرَ۔ "تصوف شرکِ طریقت ہے، اس لیے کہ متصوف اپنے دل کو محفوظ کرتا ہے غیر کے دیکھنے سے، اور صوفی کی نظر میں وجودِ غیر معدوم ہے۔“

یعنی جب صوفی پر وحدۃِ ذات کا پرتو کما حقہُ پڑ جائے تو مقامِ توحید میں رؤیتِ غیر کو شرکِ طریقت کہا گیا ، اس لیے کہ جب قلبِ صوفی میں وجودِ غیر کی قدر و منزلت ہی نہیں تو اس سے حفاظت کرنا یا اس کے وہم میں ذکرِ غیر آنا ہی محال ہے۔

حضرت ابو الحسن حصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: التَّصَوُّفُ صَفَاءُ السِّرِّ مِنْ كُدُورَةِ الْمُخَالَفَةِ۔ "تصوف نام ہے اپنے ضمیر کو مخالفتِ حق سے محفوظ رکھنے اور اس کی جلاء و نورانیت کو کدورتِ اوہام سے بچانے کا۔"

اس لیے کہ محبت و وداد نام موافقت کا ہے اور موافقت ضدِ مخالفت ہے اور دوست کو تمام عالم میں سوا اطاعتِ فرمانِ دوست کے کچھ محبوب ہی نہیں۔ تو جب دوست کی مراد وہی ہوئی جو دوست کی مراد تھی تو پھر مخالفت وہاں کیونکر ممکن ہو سکتی ہے اور جب ممکن ہی نہیں تو اس کا وجود کہاں؟

حضرت ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین ابن علی بن ابی طالب رحمہم اللہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ خُلُقٌ فَمَنْ زَادَ عَلَيْكَ فِي الْخُلُقِ زَادَ عَلَيْكَ فِي التَّصَوُّفِ۔ "تصوف ایک نیک خصلت ہے، جو زیادہ نیک خصلت ہے وہ اعلیٰ صوفی ہے۔“

اور نیک خصلت دو قسم پر ہے: ایک خصلتِ نیک بحق۔ دوسری خصلتِ نیک بمخلوق۔ نیک خو بحق وہ ہے جو رب جل مجدہ کی رضا و قضا میں راضی رہے اور نیک خو بمخلوق وہ ہے جو اللہ کے لیے مخلوق کا بارِ خدمت اپنے سر لے اور یہ دونوں خصلتیں در حقیقت طالب کی طرف ہی ہوتی ہیں۔ یعنی ان خصلتوں کا محتاج طالبِ حق ہی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ ذاتِ بے نیاز متصف باستغنا ہے اور رضا و سخط، خوشی و غصہ کے بار اٹھانے سے مبرا و بے نیاز ہے۔ یہ ہر دو صفت در حقیقت نظارۂ وحدانیت میں موقوف و مربوط ہیں۔

حضرت ابو محمد مرتعش رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا

۱۳۰

الصُّوْفِى لَا يَسْتَبِقُ هِمَّتُهُ خَطْوَتَهُ۔ "صوفی وہ ہے کہ اس کا خطرہ قلبی بھی اس کے قدمِ ہمت سے قطعاً نہ بڑھ سکے۔“

ہمیشہ اس کی ہمت، اس کا خطرہ، اس کا ارادہ سب یکساں ہو۔ یعنی اس کا جسم جہاں ہو دل بھی وہاں ہو۔ اور جس مقام پر دل ہو اس جگہ اس کا تن ہو، جہاں اس کا قدم ہو وہاں ہی اس کا قول ہو، جہاں اس کا قول ہو ، وہاں ہی اس کا قدم ہو ، اور یہ بلا غیریت نشانِ حضوری ہے، برخلاف ان کے جو کہتے ہیں کہ صوفی اپنے وجود سے غائب ہو کر ذاتِ صمدی کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔ یہ کچھ نہیں بلکہ حاضر بحق بھی ہو اور حاضر بخود بھی۔ اور یہی حقیقی جمع الجمع ہے کیونکہ جب تک رؤیتِ ذات اپنی ذات سے ہو، اس وقت تک وہ اپنے سے غائب و فناء نہیں اور جب یہ رؤیت اٹھ گئی تو بغیر غیریت کے حضوری ہوئی۔ اس اجمال کی تفصیل میں حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول خوب ہے

الصُّوفِى لَا يَرَى فِي الدَّارَيْنِ مَعَ اللهِ غَيْرَ اللهِ۔ "صوفی وہ ہے جو دونوں جہان میں سوائے ذاتِ قدیم کے کچھ نہیں دیکھتا۔"

تو چونکہ بندہ غیر ہے، تو غیر کو نہ دیکھنا اپنے آپ کو نہ دیکھنا ہوا۔ گویا حالتِ نفی و اثبات میں صوفی اپنے آپ سے بالکل فارغ ہوتا ہے۔

حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ مَبْنِيٌّ عَلَى ثَمَانِ خِصَالٍ : السَّخَاءُ وَالرِّضَاءُ وَالصَّبْرُ وَالْإِشَارَةُ وَالْغُرْبَةُ وَلُبْسُ الصُّوفِ وَالسِّيَاحَةُ وَالْفَقْرُ۔ أَمَّا السَّخَاءُ فَلِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَمَّا الرِّضَاءُ فَلِإِسْحَاقَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَمَّا الصَّبْرُ فَلِأَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَمَّا الْإِشَارَةُ فَلِزَكَرِيَّا عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَمَّا الْغُرْبَةُ فَلِيَحْيَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَمَّا لُبْسُ الصُّوْفِ فَلِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَمَّا السِّيَاحَةُ فَلِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَمَّا الْفَقْرُ فَلِمُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ۔

تصوف آٹھ خصلتوں پر مبنی ہے یعنی آٹھ پیغمبرانِ اولوالعزم کی اقتداء سے صوفی، صوفی بنتا ہے: سخاوت ابراہیم علیہ السلام سے حاصل کرے کہ رضائے محبوب میں اپنے لختِ جگر کو فدا کر دیا۔

۱۳۱

اور رضا اسحاق علیہ السلام کی اقتداء میں کہ رضاء مولا پر اس درجہ راضی ہو کہ جان کی پرواہ نہ کرے۔ اور صبر ایوب علیہ السلام کی اقتداء میں کہ کیڑوں کے ساتھ بھی اگر امتحان ہو تو بخوشی برداشت کرے۔ اور اشارہ زکریا علیہ السلام یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا ﴾ ( تم لوگوں سے تین دن تک نہ بول سکو گے مگر اشارہ سے ) اور اسی سورۃ میں فرمایا: ﴿ إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا ﴾ (جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا خفیہ طور سے )۔ تو صوفی کو بھی اس اشارہ کی اقتداء کرنا ہوتی ہے۔ اور غربت میں یحییٰ علیہ السلام کی اقتداء کرے کہ وہ اپنے وطن میں اپنے آپ کو مسافر سمجھتے تھے اور رشتہ دار ، عزیز و اقارب میں رہ کر سب سے بیگانہ تھے۔ اور سیاحت میں عیسی علیہ السلام کی اقتداء ہو کہ آپ اپنے سفر میں اس قدر مجرد تھے کہ سوائے ایک پیالہ اور ایک کنگھی کے ہمراہ کچھ نہ رکھا حتی کہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دونوں ہاتھوں سے پانی پی رہا ہے تو اپنے پیالے کو پھینک دیا، اور جب ایک شخص کو دیکھا کہ بالوں میں انگلیوں سے خلال کر کے شانہ کا کام لے رہا ہے تو کنگھی بھی ضائع فرمادی۔ اور لبسِ صوف میں اتباعِ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہو کہ آپ کا لباس ہمیشہ پشمینہ کا رہتا تھا۔ اور فقر میں سید الانبیاء حبیبِ کبریا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی جائے کہ باآنکہ حق تعالیٰ شانہ نے خزانہائے روئے زمین کی کنجی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجی اور فرمایا اے محبوب! اپنی جانِ پاک پر محنت و مشقت نہ ڈالیے اور خزانوں سے جس قدر چاہیے خرچ فرما کر اپنی شانِ تجمل دو بالا کیجئے۔ حضور سیدِ یومِ النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ جل مجدہ میں عرض کی کہ الٰہی میں یہ نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ ایک روز کھاؤں اور ایک روز بھوکا رہوں، اور یہ اصول معاملۂ تصوف میں انتہائی بہترین خصلت ہے۔

حضرت حصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: الصُّوْفِي لَا يُوجَدُ بَعْدَ عَدَمِهِ وَلَا يَعْدِمُ بَعْدَ وُجُودِهِ۔

اسحاق علیہ السلام سے یہاں مراد شاید اسماعیل علیہ السلام ہوں ۱- سورة آل عمران : ۴۱ ۲- سورة مريم : ۳

۱۳۲

صوفی وہ ہے کہ اس کی ہستی کو نیستی نہ ہو اور اس کی نیستی کو ہستی نہ ملے۔ یعنی جو کچھ وہ پائے وہ ہر گز گم نہ ہو اور جس چیز کو اس نے گم کر دیا وہ کبھی وجود میں نہ آئے اور بالفاظِ دیگر اس کے یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ صوفی وہ ہے جو ملی ہوئی چیز کو ملی ہوئی نہ جانے اور جو نہ ملی ہوئی چیز ہو، وہ اسے ملنے والی نہ ہو یا اس کے پاس وہ اثبات ہو جس کی نفی نہیں اور وہ نفی ہو جس کا اثبات نہ ہو۔

اس تمام مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ صوفی اس درجہ تک آجائے کہ حالیتِ بشریہ سے کلیۃً اُسے سقوط حاصل ہو کر شواہدِ جسمانی ذاتِ حق کے ساتھ معدوم و فوت ہو جائیں اور اس کی نسبت کلیۃً منقطع ہو جائے تاکہ سرِ بشریت اس کے حق میں ظاہر ہو جائے تاکہ اس کی تفریق اور اختلاف اس کے عین میں خود جمع ہو جائیں اور پھر خود بخود قیام پائے اور یہ صورت دو پیغمبروں میں ظاہر کی جا سکتی ہے۔ ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام میں ان کے وجودِ پاک میں عدم نہ تھا۔ حتی کہ آپ نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ﴾ اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔

اور دوسرے ہمارے سرورِ عالم کہ آپ کے عدم میں وجود ہی نہ تھا یہاں تک کہ فرمایا: ﴿ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ﴾ ( کیا نہیں کھول دیا اے محبوب! ہم نے تیرا سینہ پاک) ایک نے تو آرائش چاہی اور زینت طلب کی، دوسری ہستیِ پاک کو خود آراستہ کیا اور آراستہ کر کے اسے اتنا چاہا کہ محبوب بنا لیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت علی بن بندار الصوفی نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ إِسْقَاطُ الرُّؤْيَةِ لِلْحَقِّ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا۔ "تصوف یہ ہے کہ صاحبِ تصوف اپنے کو ظاہراً اور باطناً کسی حالت میں نہ دیکھے اور دیکھے تو کلیۃً ذاتِ والا صفات کو دیکھے۔“

کیونکہ اگر ظاہر دیکھے تو ظاہر میں نشانِ توفیق پائے گا اور اگر معاملاتِ ظاہر کو دیکھے گا تو اپنے پہلو میں مچھر کے پر کے برابر توفیقِ حق نہ جانے دے گا۔ تو لامحالہ رؤیتِ ظاہری کو ترک کرے گا پھر اگر باطن پر نشانِ تائیدِ حق پائے گا تو معاملاتِ باطنی دیکھنے سے پہلو میں تائیدِ حق ذرہ بھر نہ ملے گی۔ تو ترکِ باطن کے لیے کہے گا۔ لہٰذا ظاہر باطن کی رؤیت کو ترک کر کے ذاتِ حق کو دیکھے گا جب

۱۳۳

صرف ذاتِ حق کو دیکھے گا تو خود کو ہرگز نہ دیکھے گا۔

حضرت محمد بن احمد مقری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ اِسْتِقَامَةُ الْأَحْوَالِ مَعَ الْحَقِّ۔ "تصوف وہ استقامتِ حال ہے جو ذاتِ حق کے ساتھ ہو۔“

یعنی صوفی کی کیفیتِ حالیہ اس کے سر اور ضمیر کے موافق ہونی چاہئے۔ اس کے اسرار اسے کبھی شکوک و شبہات میں نہیں جانے دیتے۔ گویا جس کا دل صیدِ محولِ حال ہے اس کی کیفیتِ حالیہ اسے محورِ استقامت سے ہٹنے نہیں دیتی اور قربِ حق سے نہیں روکتی۔

فصل: جو کچھ معاملاتِ تصوف میں بزرگوں نے فرمایا ہے، اس میں سے حضرت ابو حفص حداد نیشاپوری کا یہ ارشاد ہے

التَّصَوُّفُ كُلُّهُ آدَابٌ ، لِكُلِّ وَقْتٍ اَدَبٌ وَ لِكُلِّ مَقَامٍ أَدَبٌ وَ لِكُلِّ حَالٍ أَدَبٌ، فَمَنْ لَّزِمَ آدَابَ الْأَوْقَاتِ بَلَغَ مَبْلَغَ الرِّجَالِ وَمَنْ ضَيَّعَ الْأَدَابَ فَهُوَ بَعِيدٌ مِنْ حَيْثُ يَظُنُّ الْقُرْبَ وَمَرْدُودٌ مِنْ حَيْثُ يَظُنُّ الْقُبُولَ۔

"تصوف ایک ایسا مجموعۂ ادب کا نام ہے جو ہر وقت اور ہر مقام اور ہر حال میں ایک خاص ادب کی راہنمائی کرتا ہے۔ جس نے اس راہ میں ملازمتِ آداب و اوقات کر لی، مردانِ خدا کے درجہ کو پہنچ گیا اور جس نے اس راہ کی رسمِ ادب ترک کر دی اور آداب ضائع کر دیئے وہ ان درجہ والوں سے بعید ہو گیا باوجودیکہ گمان کرتا رہا کہ میں ان کے قریب ہوں اور وہ ان کی بارگاہ سے مردود ہو گیا باوجودیکہ اسے یہی خیال رہا کہ میں قرب کے درجہ پر ہوں۔“

بموجب ارشاد حضرت ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ آپ فرماتے ہیں: لَيْسَ التَّصَوُّفُ رُسُومًا وَلَا عُلُومًا وَلَكِنَّهُ أَخْلَاقٌ۔ "تصوف رسوم و علم نہیں ہے لیکن یہ ایک خاص خصلت ہے۔“

یعنی اگر تصوف رسمی چیز ہوتی تو مجاہدہ و ریاضت سے حاصل ہو جاتا اور اگر یہ علم ہوتا تو محض تعلیم و تعلم سے حاصل ہو جاتا۔ تو ثابت ہوا کہ تصوف ایک خصلتِ خاص کا نام ہے اور جب تک یہ خصلت خود اپنے اندر نہ پیدا کرے اس وقت تک وہ حاصل نہیں ہوتا۔

۱۳۴

صرف ذات حق کو دے گا، خود کو ہرگز نہ دے گا۔

فریابی، مریدِ امام مقربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ إِسْتِقَامَةٌ فِي الْحَقِّ وَالْأَحْوَالِ مَعَ اللَّهِ. یعنی صوفی کی کیفیتِ عالیہ اس کے صبر اور تحمّلِ ہوا کے ہونی چاہیے۔ اس کے اسرار وہ ذواتِ احتشامِ عالیہ ہیں جو ذاتِ الٰہی کے ساتھ ہوں۔ اسے کہیں نہیں جانے دیتے، گویا جس کا دل صحیح حولِ حالی ہے، اس کی کیفیتِ عالیہ اسے موافقِ استقامت سے نہیں گرنے دیتی اور روکنے سے نہیں روکتی۔

جو معاملاتِ تصوف میں بزرگوں نے فرمایا ہے، اس میں سے حضرت ابو حفص حداد نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے: التَّصَوُّفُ كُلُّهُ آدَابٌ، لِكُلِّ وَقْتٍ أَدَبٌ، وَلِكُلِّ مَقَامٍ أَدَبٌ، وَلِكُلِّ حَالٍ أَدَبٌ، فَمَنْ لَزِمَ آدَابَ الْأَوْقَاتِ بَلَغَ مَبْلَغَ الرِّجَالِ، وَمَنْ ضَيَّعَ الْآدَابَ فَهُوَ بَعِيدٌ مِنْ حَيْثُ يَظُنُّ الْقُرْبَ، وَمَرْدُودٌ مِنْ حَيْثُ يَظُنُّ الْقَبُولَ.

"تصوف ایک ایسا ادب کا نام ہے جو ہر وقت، ہر مقام اور ہر حال میں ایک خاص ادب کی راہنمائی کرتا ہے۔ جس نے اس راہ میں ملازمتِ آدابِ اوقات کی، وہ مردانِ خدا کے درجے کو پہنچ گیا، اور جس نے اس راہ کے آداب ترک کر دیے اور آداب ضائع کر دیے، وہ خدا سے بعید ہو گیا اور اس گمان میں رہا کہ وہ اللہ کے قریب ہے، اور وہ اس کی بارگاہ سے مردود ہو گیا باوجودیکہ اسے یہی خیال تھا کہ وہ قرب کے درجے پر ہے۔"

ارشاد حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ، آپ فرماتے ہیں: "یعنی اگر تصوف کوئی رسمی چیز ہوتی تو یہ سخت مجاہدے سے حاصل ہو جاتی، اور اگر یہ علم ہوتا تو تعلیم و تعلم سے حاصل ہو جاتا۔ پس ثابت ہوا کہ تصوف ایک خصلتِ خاص کا نام ہے:" لَيْسَ التَّصَوُّفُ رُسُومًا وَلَا عُلُومًا وَلَكِنَّهُ أَخْلَاقٌ. "اور جب تک یہ خصلت خود اپنے اندر نہ پیدا کرے، اس وقت تک وہ حاصل نہیں ہوتا۔"

۱۳۵

فرقِ رسم و خصلت

اور رسم و خصلت میں یہ فرق ہے کہ رسم وہ فعل ہے جو تکلف انسان کر سکتا ہے اور یہ امر واضح ہے کہ بظاہر انسان جو کچھ کرتا ہے اگر باطن اس کے موافق نہیں تو وہ فعلِ ظاہر محض بے معنی اور فضول ہے، اور خصلت اس خاص فعل کو کہتے ہیں جو بغیر بناوٹ اور تکلف کے صادر ہو اور اس کے تمام اسبابِ ظاہری اس کے باطنی کے موافق ہوں اور زبانی دعاویِ محمود سے وہ بالکل خالی اور پاک ہو۔ حضرت مرتعش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ حُسْنُ الْخُلُقِ. "تصوف نیک خصلت کو کہتے ہیں۔"

یہ خصائلِ حمیدہ تین قسم کے ہیں

ایک وہ کہ اوامرِ الٰہیہ ادا کرنے میں کسی قسم کا ریا اور دکھاوا نہ ہو اور اپنے رب کی رضا جوئی میں اداءِ حقِ فرائض ہوں۔

دوسری یہ کہ عوام کے ساتھ نیک خصلت ہو؛ بڑوں کی عزت، چھوٹوں پر رحم اور ہر معاملے میں انصاف پسند ہو اور اس میں کسی قسم کا معاوضہ حاصل کرنا مطلوب نہ ہو۔

تیسری یہ کہ اپنے کو ہواءِ شیطانی کی متابعت سے مجتنب رکھے، اور ہر قسم کی حرص و خواہشِ نفسانی سے بچے ۔

جو ان تینوں تعریفوں کے ساتھ اپنے کو متصف کر لے، وہ نیک خصلت انسانوں میں شمار ہوگا اور وہ اس درجے کو حاصل کرنے والا ہو سکتا ہے جو ہم نے اول بیان فرمایا۔ اس کی تائید میں ایک واقعہ ہے؛ ایک صحابی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ہمیں اخلاقِ محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق کچھ سنائیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "قرآن میں دیکھ لے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کے اخلاق کی خبر دی اور فرمایا ہے:" خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (اے محبوب! درگزر فرمانے کی خصلت کو پکڑے رہو اور لوگوں کو بھلائی کرنے کی ترغیب فرماؤ اور جاہلوں سے علیحدگی اور اعراض کرو۔)

حضرت مرتعش نے بھی تصوف کے معاملے میں فرمایا: هَذَا مَذْهَبٌ كُلُّهُ جِدٌّ فَلَا تَخْلِطُوهُ بِشَيْءٍ مِنَ الْهَزْلِ. "یہ مذہبِ تصوف تمام کا تمام مجاہدہ ہے، اس میں لہو و لعب کا اختلاط نہ کرنا۔"

۱۳۶

اور مترسمین یعنی رسم پرست لوگوں کی متابعت کر کے اسے مخلوط نہ کر دینا اور جو تصوف میں کورانہ تقلید کر رہے ہیں اور صوفی بن رہے ہیں ان سے اپنے آپ کو بچانا۔ عوام الناس نے جب اس زمانہ کے لوگوں کو دیکھا کہ رسمی متصوف لوگوں میں ٹھمکے کے ساتھ ناچنا اور رقص و سرود کرنا، بارگاہِ سلاطین میں پہنچ کر ایک ایک لقمے پر جھگڑنا اور بادشاہ کی بارگاہ میں مشرف ہونا کمالِ فقر بن گیا ہے اور عوام کے خیالات خراب ہو گئے ہیں اور صوفیائے کرام سے اس قدر بدعقیدہ ہو گئے کہ عام طور پر کہنے لگ گئے کہ ان صوفیوں کا یہی طغرائے امتیاز ہے اور پہلے لوگ بھی ایسے ہی حال میں گزر گئے اور یہ نہ سمجھنا کہ یہ زمانہ فترت اور فتنہ کا ہے اور روز بروز بلائیں بڑھ رہی ہیں۔ غرض کہ جب بادشاہوں کی حرص بڑھ گئی تو اس نے انہیں ظلم و جور کی طرف مائل کر دیا اور زمانہ میں عوام کے اندر بدکاری و زنا اور فسق و فجور عام ہونے لگا۔ اسی طرح جب زہد و ورع میں ریا پیدا ہو جاتا ہے تو وہ زاہد کو نفاق کی بیماری میں مبتلا کر دیتا ہے اور ہوا و حرصِ شیطانی صوفی کو رقص و سرور کی طرف مائل کر دیتا ہے۔

اچھی طرح یاد رکھو! اگرچہ اہل طریقت تباہ ہو جائیں مگر اصولِ طریقت تباہ نہیں ہو سکتے، اور اچھی طرح جان لو کہ اگر ایک جماعت افعالِ ہزل میں سے کچھ اختیار کر لے اور اس ہزل کو مجاہدہ و ریاضت یا جذبِ دل کے پردے میں پوشیدہ کرنا چاہے تو اہل طریقت کے مجاہدات اس کی وجہ سے ہزل و لغو نہیں ہو سکتے (ان کے جذباتِ صادق، صادق ہی رہیں گے اور اہل ہزل کے ہزل ریاضت نما خالص ہزل ہی ہوں گے)۔

حضرت ابو علی قزوینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ هُوَ الْأَخْلَاقُ الرَّضِيَّةُ. "تصوف ایک خصلتِ پسندیدہ ہے۔" اور خصائلِ پسندیدہ وہ ہوتے ہیں کہ بندہ تمام حالات میں اپنے رب کی رضا میں راضی رہے۔

حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ هُوَ الْحُرِّيَّةُ وَالْفُتُوَّةُ وَتَرْكُ التَّكَلُّفِ وَالسَّخَاءُ وَبَذْلُ الدُّنْيَا. "تصوف ایک ایسی آزادی ہے کہ بندہ قیدِ حرص سے آزاد ہو جاتا ہے، تصوف ایک ایسی جوانمردی ہے کہ بندہ خواہشاتِ شہوانیہ سے مجرد ہوتا ہے

۱۳۷

تصوف تکلفات کا ایسا ترک کر دینا ہے کہ بندہ ہر متعلق اور مقسوم کے اندر خوش رہتا ہے، اور تصوف ایک ایسی سخاوت کا نام ہے کہ دنیا اہل دنیا پر ہی چھوڑ دیتا ہے اور خود بے تعلق ہو جاتا ہے۔"

حضرت ابو الحسن بوشنجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التَّصَوُّفُ الْيَوْمَ اسْمٌ بِلَا حَقِيقَةٍ وَقَدْ كَانَ حَقِيقَةً بِلَا اسْمٍ. "آج کے دن تصوف کا نام ہی نام رہ گیا اور حقیقتاً کچھ نہیں رہا۔ ایک دن وہ تھا کہ تصوف حقیقتاً خالص تصوف تھا اور نام و نمود نہ تھی ۔"

یعنی عہدِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین رحمہم اللہ میں تصوف نام کا نہ تھا بلکہ حقیقتِ تصوف کا پرتو ہر کس و ناکس میں تھا۔ اب وہ انحطاطی دور آیا کہ تصوف نام تو باقی ہے مگر معنی حقیقی معدوم ہیں، یعنی اعمال تو صوفیوں کی نقل میں ہو رہے ہیں اور رسمی صوفی بہت مشہور ہیں مگر ان کے دعاویِ تصوف میں بالکل مجہول ہیں۔ گویا اب صوفی ہونے کا دعویٰ تو مشہور و معروف ہے لیکن افعال و اعمال بالکل مجہول ہو گئے۔

یہاں تک میں نے اقوالِ مشائخ کرام کی تحقیق نقل کی تاکہ اللہ تعالیٰ تجھے سعادت عطا فرمائے اور تجھ پر طریقِ تصوف کا حال منکشف ہو جائے، اور منکرینِ تصوف کو بتا سکو کہ تصوف کے انکار سے ان کی کیا مراد ہے۔ اگر تنہا اسمِ تصوف کا انکار کرتے ہیں تو مضائقہ نہیں، اس لیے کہ معانی حقائق میں مسمیات سے بالکل بیگانہ ہیں؛ اور اگر عینِ تصوف کے منکر ہیں تو یہ انکار تمام احکامِ شرعیہ اور انبیاء کرام علیہم السلام کا ہے اور ان کے خصائلِ ستودہ کا انکار لازم آتا ہے۔ اللہ تجھے وہ سعادت عطا فرمائے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو سعید بنایا۔

اس کتاب میں ہم تمہیں ہدایت کرتے ہیں تاکہ تم حقِ تصوف کی رعایت رکھو اور انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور سچے صوفیوں کے ساتھ نیک اعتقاد رکھو۔

وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

صفحہ ۱۳۸

چوتھا باب

خرَقہ پوشی

صوفیائے کرام کا شعار کمبل پوشی ہے اور کمبل پوشی باتباعِ سنت ہے۔ جیسا کہ خود سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا: عَلَيْكُمْ بِلُبْسِ الصُّوفِ تَجِدُونَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ فِي قُلُوبِكُمْ. "اپنے پر کمبل پوشی لازم کرو، اپنے دلوں میں حلاوتِ ایمان پاؤ گے۔"

اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کسی ایک صحابی کا ارشاد ہے: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَلْبَسُ الصُّوفَ وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ. "حضور ﷺ پشمینہ زیبِ تن فرماتے اور عربی گدھے کی سواری فرماتے تھے۔"

اور حضور سیدِ یومِ النشور ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرمایا: لَا تُضَيِّعِي الثَّوْبَ حَتَّى تُرَقِّعِيهِ. "اے عائشہ! کپڑا ضائع نہ کرنا جب تک اس پر پیوند نہ لگ جائیں۔"

۱۳۹

ایسے ہی خلیفۃ المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا حال تھا کہ آپ ایسا خرقہ زیبِ تن فرمایا کرتے جس پر تیس پیوند لگے ہوتے، اور حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ بہترین لباس وہ ہے جو کم قیمت میں حاصل ہو سکے۔

حضرت امیر المؤمنین مولائے کائنات سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ آپ کا پیراہنِ مبارک ایسا ہوتا تھا کہ اس کی آستین انگلیوں تک ہوتی اور اگر کبھی اس سے لمبی آستینوں کا پیراہن زیبِ تن فرمایا تو جتنی لمبی اور زائد آستین ہوتی اسے آپ کاٹ ڈالتے تھے۔ اور جنابِ سرورِ عالم ﷺ بفرمانِ الٰہی کپڑا متوسط زیبِ تن فرماتے تھے۔ جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (یعنی اے محبوب! اپنے لباسِ مبارک کو درست رکھیو) یعنی دراز اور لمبا ہو تو اسے کاٹ دو۔

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ستر صحابہ بدر پشمینہ پوش کی زیارت کی ہے اور سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو میں نے بحالتِ تجرید دیکھا کہ آپ نے پوشاکِ پشم زیبِ تن فرما رکھی تھی؛ اور وہی حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ کمبل اوڑھے ہوئے ہیں اور اس کمبل پر بہت سے پیوند لگے ہوئے تھے۔

اور سیدنا امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ اور ہرم ابن حبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کو ایسے لباسِ پشم میں ملبوس دیکھا جس پر بہت سے پیوند لگے ہوئے تھے۔

اور حضرت حسن بصری، مالک بن دینار اور حضرت سفیان ثوری رحمہم اللہ تمام کے تمام مرقعہ صوف زیبِ تن فرماتے تھے۔

اور حضرت امامِ ہمام سیدنا ابو حنیفہ النعمان کوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (یہ روایت تاریخِ مشائخ مصنفہ محمد بن علی حکیم ترمذی میں موجود ہے) لکھا ہے کہ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ اول

۱۴۰

پوشاکِ پشمینہ زیبِ تن فرمایا کرتے تھے، بعد ازاں آپ نے گوشہ نشینی کا عزم فرمایا تو سرکارِ دو عالم ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "ابو حنیفہ! گوشہ نشیں مت بنو بلکہ لوگوں میں تمہارا رہنا ضروری ہے، تمہارے سبب اللہ تعالیٰ میری سنت اور میرے طریقے کو زندہ فرمائے گا۔" تو پھر آپ نے عزلت نشینی کے ارادے کو فسخ فرما دیا اور آپ نے کبھی قیمتی جامہ زیبِ تن نہ فرمایا۔

حضرت داؤد طائی رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ اپنا لباس صوف کا رکھا اور آپ محققینِ طبقہ صوفیائے کرام سے تھے۔ حضرت ابراہیم بن ادہم ایک روز حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے تو آپ کے جسمِ مبارک پر پوشاکِ پشمینی تھی۔ حاضرینِ مجلس نے آپ کو کچھ نظرِ حقارت سے دیکھا، سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یہ ابراہیم بن ادہم ہمارے سردار ہیں۔" اصحابِ مجلس نے یہ سن کر آپس میں کہا کہ امامِ ہمام کی زبانِ حق ترجمان سے بھی سچ اور حق کے سوا کوئی بات نہیں نکلی، لیکن ابراہیم بن ادہم نے سید کا درجہ کیونکر پایا اور کہاں سے پایا؟ حضرت امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یہ رتبہ ابراہیم بن ادہم نے اپنے رب کی یاد دہانی کی برکت سے حاصل کیا اور وہ خدمتِ خداوندی میں جا مشغول رہا اور ہم اپنی تنہائی کی خدمت میں محو ہیں، اس لیے وہ ہمارا سردار ہو گیا۔"

اگر موجودہ زمانہ میں محض اہل زمانہ خرقہ پوش بن کر عوام میں عزت حاصل کرنا چاہیں اور درحقیقت ان کا دل اس لباس کے ساتھ موافق نہ ہو تب بھی روا ہے، اس لیے کہ لشکر میں مبارز طلب اور جنگ کا فاتح ایک ہی ہوتا ہے، اور اسی طرح ہر فرقہ میں محقق کم ہوتے ہیں۔ مگر چونکہ نسبت سب کی ایک ہی ہوتی ہے اور اس ایک کی طرف سب اپنے کو منتسب کرتے ہیں، تو اگر احکام میں سے کسی ایک حکم میں بھی محققوں کا اتباع ہو گیا تو وہ انہی میں شمار ہو جائے گا۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ.

۱۴۱

"جو شخص (رفتار و گفتار میں یا اعتقاد میں یا اعمال میں) کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ اسی قوم میں شمار ہوگا۔"

لیکن بعض نظریں ان کے ظاہری عمل اور رسوم پر پڑتی ہیں اور بعض کی نگاہ ان کی صفائے باطن کی طرف جاتی ہے۔ غرضیکہ نظر بظاہر رکھنے والے اور نظر باطن کی طرف ڈالنے والے جو بھی ہیں، اگر ان کا قصد صورتِ متصوف بنانا یا صوفی بننے کا ہے، یہ چار حال سے باہر نہیں

(ا) یا تو باطن کی صفائی اور دل کی روشنی، مزاج کی پاکیزگی، خواہشات کا اعتدال، خصلتوں کا نیک کرنا، خاصانِ بارگاہ کے اسرارِ خاص کی جلوہ ریزیوں سے منور ہونا، محققینِ راہِ طریقت کا تقرب حاصل کرنا اور ان کی بلندیوں کا معائنہ مقصود ہے تاکہ ان کی برکت سے یہ بھی اس درجے تک پہنچ سکے۔

(ب) یا ان کی نقل اس لیے کرے گا کہ ان کی طرح صفائی حاصل کرے، بدن ستھرا کرے، دل کو اطمینان پہنچائے اور پاکیزگیِ طبع کے بعد سینے میں صفائی ان کی ظاہری اتباع سے حاصل ہو اور اتباعِ طریقت کرے اور آدابِ اسلامی پر نگاہ رکھنے میں آسانی ہو، ان کی ابتداء مجاہدہ اور حسنِ معاملہ سے ہوتی ہے۔

(ج) یا اس لیے کہ ان کی پیروی میں لگے گا تاکہ مروتِ انسانی سے آپس میں بیٹھنے کے آداب درست کرے اور خصائل میں خوبی پیدا کرے اور ان کی زندگی کا ظاہر دیکھ کر اس کی نقل کرے، بڑوں سے عزت کے ساتھ ملے، چھوٹوں پر شفقت اور رحم کی عادت اختیار کرے، اپنے اعزہ و اقرباء کے ساتھ خنداں پیشانی کا برتاؤ کرے، زیادہ حرص و حصولِ

۱۴۲

مال سے بے پروائی دکھائے، قناعت کا خوگر بن کر ان کی صحبت اختیار کرے اور محنت و مشقت کی بجائے حصولِ دنیا کے طریقے اپنے پر آسان بنائے، اپنے آپ کو نیکوں کی جماعت میں شمار کرائے۔ 4. (د) یا بوجہ تن آسانی کے، اپنے میں رعونت اور نفس پرستی پیدا کر کے طلبِ حکومت و ریاست رکھے، بغیر منصبِ صدر نشینی کے صدر نشیں بننا چاہے، بغیر علم اہل علم میں اپنی شخصیت قائم کرنے کو صوفی بنے اور سمجھے ہوئے ہو کہ صوفی میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

تمام خواصِ صوفی کا یہی خلاصہ اور مقصود ہے۔ اس وجہ سے وہ صوفیوں کی طرح صلح اور نرمی کے ساتھ زندگی کے لیل و نہار گزارتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دلوں میں حقانیت قطعی نہیں ہوتی اور محض تنہا رہنے اور لوگوں میں دکھانے کو کم گو بننے کو طریقت بنا لیتے ہیں، حالانکہ اس طرح زندگی رائیگاں کرنے سے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا، ان کا صرف مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ ان کی ایسی عزت کریں جیسی محقق صوفیائے کرام کی کی جاتی ہے اور ایسی عظمت ہونے لگے جیسی خاصانِ بارگاہ کی!

وہ صحبتِ صوفیاء سے یہی فائدہ چاہتے ہیں کہ اپنی آفتِ حرص و ہوا کو ان کے معاملہِ تجرید کے ظاہری پردے میں مخفی کر کے ان کا سا جامہ پہن کر عوام میں کچھ مکر پھیلا سکیں، اور درحقیقت یہ فرقہ بغیر کسی عمل اور بلا کسی حقیقت کے ہے، وہ خود پکارتا اور اعلان کرتا ہے کہ یہ جامہ جامہِ مکر ہے، لباسِ تکبر و غرور ہے اور بروزِ قیامت موجبِ حسرت و ندامت ہوگا۔

مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا بئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

(ان لوگوں کی مثال جو تورات کو اٹھائے ہوئے ہیں اور در حقیقت اسے نہیں اٹھائے ہوئے، اس گدھے کی طرح ہے جس نے کتابوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہے؛ بری مثال ہے اس قوم کی جس نے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو جھٹلایا، اور اللہ ظالم بے دین کو راہ نہیں دیتا۔)

اس زمانہ میں ایسے گروہ بہت ہیں، لہذا تم پر لازم ہے کہ جو کام تم سے نہ ہو سکے اس کا ارادہ نہ کرو، اس لیے کہ اگر تم ہزار بار طریقت کے قبول کا اعلان کرو تو صوفی نہیں ہو سکتے، نہ ہو سکو گے، اور ایک لحظہ کے لیے طریقت تمہیں قبول نہ کرے گی۔ کیونکہ طریقت خرقہ پوشی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ

۱۴۳

حرقت سے حاصل ہوتی ہے یعنی آتشِ عشق میں جلنے کا نام طریقت ہے۔

جس کو طریقت سے آشنائی حاصل ہو گئی اس کے لیے قبا و عبا موزوں ہے، اور جس نے بلا آشنائی طریقت خرقہ پوشی کی اور مرقعہ صوف پہنا تو وہ مرقعہ اس کے حق میں رقعہِ ادبار و ناشرِ شقاوتِ یومِ النشور ہو جائے گا۔ جیسا کہ ایک پیرِ مرد کے حال میں ہے کہ ان سے لوگوں نے پوچھا: لِمَ لَا تَلْبَسُ الْمُرَقَّعَةَ؟ قَالَ: مِنَ النِّفَاقِ أَنْ تَلْبَسَ لِبَاسَ الْفِتْيَانِ وَلَا تَدْخُلَ فِي حَمْلِ أَثْقَالِ الْفُتُوَّةِ. "آپ مرقعہ یعنی خرقہ کیوں نہیں پہنتے؟ فرمایا: اگر جوان جوانمرد نہ ہو اور جوانوں کا لباس پہنے تو یہ منافقت ہے، اس لیے کہ ان کے معاملات کا بوجھ تو اٹھا نہ سکے اور جوانمرد بنا پھرے۔"

کیونکہ جوانمردوں کے لباس کو ملبوس کر کے جوانمردوں کے بوجھ سے بچنا خالص نفاق ہے۔ تو اگر یہ لباس اس لیے ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے اپنے خاصوں میں سمجھ لے تو وہ بلا لباس بھی جانتا ہے، اور اگر اس لیے کہ لوگ اس خرقہ میں دیکھ کر خاصہِ خاصان سمجھنے لگیں تو یہ ریا محض ہے یا نفاقِ خالص! یہ راستہ بہت مشکل اور خطرناک ہے۔ یاد رکھو! خدا کے خاصوں کی شہرت جامہ اور خرقہ پر موقوف نہیں، ان کا درجہ اس سے بالاتر ہے۔

الصَّفَا مِنَ اللَّهِ تَعَالَى إِنْعَامٌ وَإِكْرَامٌ وَالصُّوفُ لِبَاسُ الْأَنْعَامِ.

"صفا (صوفی) من جانبِ اللہ انعام و اکرامِ الٰہی ہے اور صوف (اون/کمبل) لباسِ حیوانی ہے۔"

تو خرقہ صوفی ایک حیلہ ہے۔ بعض لوگ تو یہ حیلہ بغرضِ تقرب کرتے ہیں اور جو کچھ اس خرقہ پوش پر لازم ہوتا ہے اسے پورا کرتے ہیں اور اپنے ظاہر کو خرقہ سے آراستہ کرتے ہیں، اس امید پر کہ شاید اس لباس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے حضور ہم بھی صوفیوں میں شمار ہو جائیں؛ اور مشائخِ تصوف نے خرقہ پوشی کرنا اور اس سے زینت حاصل کرنے کا اسی لیے حکم فرمایا اور خود بھی پہنا تاکہ وہ عوام میں ممتاز ہو جائے اور عوام اس کے ہر قدم کی نگرانی میں لگے رہیں، اور وہ اگر کبھی اپنے طریقے کے خلاف قدم رکھے تو عوام اسے ملامت کریں، تو اگر کبھی یہ شامتِ اعمال کوئی گناہ کا ارتکاب بھی کرنا چاہیں تو اس خرقہ کی وجہ سے لوگوں سے شرما کر رک جائیں۔

مختصر یہ کہ کمبل پوشی محبوبوں کی ایسی زینت ہے کہ عام لوگ اس سے لوگوں میں ممتاز اور باعزت ہو جاتے ہیں اور خواص اس میں ذلیل۔ عوام کی عزت تو اس خرقہ پوشی میں یہ ہے کہ دنیا...

یہ فراہم کردہ صفحات (کشف المحجوب صفحات ۱-۴۴ تا ۱-۵۰) کا مکمل، واضح اور باقاعدہ اردو متن ہے

۱۵۰

بھی سلب کر لیں گے۔

گویا وہ لباس جس کے پہننے سے رضاءِ الٰہی مقصود ہو اور محبوبِ الٰہی کے تتبع میں اسے پہننا ہو تو اپنے ربّ سے علاقہ رکھنے کے لیے ہمیشہ اس پر راضی رہنا ضروری ہے اور یہ استقامت نہایت مبارک و مسعود ہے ورنہ اپنے دین کی محافظت کافی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر لباسِ اولیاء میں جانا در حقیقت خیانتِ مجرمانہ ہے۔ اس لیے کہ بلا کسی دعوئ محبت کے محض مسلمان ہونا اور اسلام پر رہنا اس سے بہتر ہے کہ جھوٹا مدعئ عشق و محبت بنے تو خرقہ پوشی صرف دو قسم کے لوگوں کے لیے موزوں و مناسب ہے

ایک تارک الدنیا جماعت کے لیے۔ دوسرے مشتاقانِ جمالِ الٰہی کے لیے۔

یہی وجہ ہے کہ مشائخ کرام رحمہم اللہ کا طریقہ ہے کہ جب کوئی مرید ترکِ تعلق ماسویٰ اللہ کر کے اُن کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو دو سے تین سال تک تین معنی کے سمجھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ اگر وہ ان تین سال میں اس تعلیم پر ثابت قدم ہو تو فبہا، ورنہ اسے کہہ دیتے ہیں کہ طریقت اسے قبول نہیں کرتی۔ پہلے سال خدمتِ خلق کراتے ہیں۔ دوسرے سال اطاعتِ حق (یعنی تورع و تقویٰ بدرجۂ غایت)۔ تیسرے سال میں دل کی (مراعات و) نگہداشت ہوتی ہے (یعنی خواہشات و لذاتِ نفسانیہ پر قبضہ کرنا)۔

یہ امر ظاہر ہے کہ انسان خدمتِ خلق جب ہی کر سکتا ہے جب کہ وہ اپنے کو خادم کی جگہ سمجھ کر خلقِ خدا کو اپنا مخدوم سمجھ لے۔ گویا بلا تمیزِ خورد و کلاں سب کو اپنے سے بہتر جانے اور سب کی خدمت اپنے اُوپر واجب سمجھے۔ نہ یہ کہ خدمت تو کرے مگر اس خدمت کرنے میں اپنے آپ کو مخدوموں میں فضیلت دے۔ ایسے تخیل سے خدمت کرنا اپنے لیے نقصان میں ڈالنا اور بے نصیب ہونا ہے! یہ زمانہ کی بلاؤں میں سے ایک بلا ہے۔

اور خدمت و اطاعتِ حق عز وجل اس وقت کر سکتا ہے جب اپنی تمام خطوطِ نفسانیہ کو دنیا و عقبیٰ سے منقطع کر لے اور خالصاً مخلصاً لوجہ اللہ اس کی پرستاری کرے اور اسی کے لیے وہ عبادت ہو اور اگر کسی چیز کے لالچ میں عبادت کرتا ہے خواہ وہ دنیا کی ہو یا آخرت کی، تو وہ پرستش اپنی پرستش ہے، نہ کہ خدائے قدس کی۔ اور دل کی مراعات و نگہداشت اس وقت ہو سکتی ہے کہ اس کی ہمت یکسو ہو اور ہر قسم کے غم سے اس کا دل پاک ہو اور بارگاہِ الفت میں مواقعِ غفلت سے دل کی نگہداشت کرے۔

جب مریدان ہر سہ شرائط میں مکمل اترتا ہے تو اسے خرقہ پوشی کرنا مرتبۂ تحقیق کے ساتھ موزوں ہوتا ہے اور یہ خرقہ پوشی رسمی اور کورانہ تقلید میں نہیں ہوتی۔

۱۵۱

مگر پھر بھی مرقّع پہننے والوں کو چاہیے کہ وہ مستقیم الحال ہو۔ تمام نشیب و فرازِ طریقت سے گزر چکا ہو اور چاشنیِ حال چشیدہ ہو اور طرقِ اعمال سے پورا واقف ہو، قہرِ جلال و محبوبی اور لطفِ جمالِ جمیلی دیکھے ہوئے ہو۔

اور پیرِ کامل اس درجہ کامل ہو کہ احوالِ مرید سے پورا پورا واقف ہو کہ وہ درجۂ کمال میں کس حد تک پہنچ سکے اور اس مقام پر پہنچ کر اس کا واپس نزول ہوگا یا ٹھہر جانے والوں میں سے نکلے گا (یعنی درجۂ قبض میں رہ جائے گا یا اس کا بسط بعد القبض ہوگا۔) اگر خرقہ پوشی کرنے والا پیرِ کامل دیکھ لے کہ یہ ایک نہ ایک دن اس کیفِ طریقت سے واپس لوٹ جائے گا تو اسے کہہ دے کہ تو اس راہ نوردی نہ کر اور اگر جانے کہ اس مقام پر ٹھہر سکے تو اس سے معاملۂ طریقت شروع کرے اور اگر جانے کہ منتہی کو پہنچ جائے گا تو اس کی پرورش کرے اور نگاہ رکھے۔

اور اس قسم کے جو مشائخ ہیں وہ در حقیقت طبیبِ قلب ہیں، یعنی مرشدِ کامل مرید کے حق میں طبیبِ قلب کی حیثیت رکھتا ہے اور جو طبیب مریض کی بیماری سے جاہل اور بے خبر ہو تو ایسا طبیب اپنی تجویز سے مریض کو ہلاک کر دیتا ہے۔ اس لیے کہ جب معالج مریض کی نگرانی میں جاہل ہوگا تو خطراتِ مرض کو کیسے سمجھ سکتا ہے۔ پھر ایسا معالج مریض کی غذا اور شربت اور دوا تمام مرض کے خلاف ہی تیار کرے گا۔

حضرت سیدِ یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

"اَلشَّيْخُ فِيْ قَوْمِهٖ كَالنَّبِيِّ فِيْ اُمَّتِهٖ."

امام ذہبی نے "میزان الاعتدال" میں محمد بن عبدالمالک القناطری کے تعارف میں اسے ذکر کیا ہے کہ اس نے اپنے باپ سے، اس نے رافع سے باطل حدیث روایت کی ہے: الشيخ في أهله كالنبي في أمته۔ اسے قناطری اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ قناطیر یعنی انبار جھوٹ بولتا تھا۔ (بقیہ حواشی اگلے صفحہ پر۔۔۔)

۱۵۲

"شیخ پیرِ کامل اپنی قوم اور مریدوں میں ایسے ہیں جیسے نبی اپنی امت میں"۔

تو جیسے انبیاء اکرام علیہم السلام نے عوام کو دعوتِ توحید دے کر بصیرتِ حقہ بخشی اور ہر ایک قبول کرنے والے کو اس کے درجۂ ایمان کے مطابق درجۂ تقرب بخشا اور جس میں جیسی بیماریِ جہل کی تھی ویسا ہی علاج کیا۔ اسی طرح مرشدِ کامل شیخِ وقت کو بھی بصارتِ حق کی دعوت دینی چاہیے اور ہر ایک کی تعلیمی غذا اس کے اندرونی درجۂ ایمان کے مطابق تجویز کرنی چاہیے تاکہ مرید کرنے کا جو مقصد ہے، وہ حاصل ہو۔

تو جب مرشدِ کامل صاحبِ ولایت مرید کو ان تین سال کے بعد ریاضت کی تعلیم دے کر اسے خرقہ پہنائے تو جائز ہے اور خرقہ پوشی کا مقصد در حقیقت حیاتِ دنیاوی کی لذتوں اور حصول (اگلے صفحہ پر جاری)

بجّل المشائخ فان تبجيل المشائخ من اجلال الله عزوجل، فمن لم يبجلهم فليس منّا۔ امام سخاوی "المقاصد الحسنة" میں فرماتے ہیں کہ مذکورہ تمام روایات سے بھی زیادہ صحیح روایت کے الفاظ یہ ہیں: ما اکرم شاب شیخاً لسنّه الا قيض الله له في سنّه من يكرمه۔ امام ترمذی نے اسے اپنی "سنن" میں ذکر کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے۔ امام شیرازی نے "الألقاب" میں، ابن حبان نے "کتاب الضعفاء" میں، امام دیلمی نے "مسند الفردوس" میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: الشيخ في بيته كالنبي في قومه۔

امام سیوطی اسے "الجامع الصغیر" میں لائے ہیں اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ملا علی قاری "الأسرار المرفوعة" میں رقمطراز ہیں: مذکورہ روایت کو معنی کے اعتبار سے یہ صحیح حدیث تقویت دیتی ہے: العلماء ورثة الانبياء۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی اسی کی تائید کرتا ہے: فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (سورۃ النحل: ۴۳)

۱۵۳

نعمتِ دنیا کی مرادوں سے انقطاع کر کے دل کو زندگی کی راحتوں سے صاف کرتے ہوئے اپنی عمر ساعتِ حق کے لیے وقف کرنے اور دنیا سے فنا ہو کر کفن پہننے میں ہے اور خرقہ پوش ہو کر سوائے طلبِ حق کے سب چیزوں سے کنارہ کشی کرنا اس کی شرطِ اولین ہے۔ جب مرید اس قسم کا خرقہ پہن لے گا تو وہ خرقہ پوش بارگاہِ جل مجدہٗ میں عزت پائے گا۔ پھر اس کا فرض ہے کہ اس خرقہ کا خاص لحاظ رکھے، اس کا حق کماحقہ ادا کرنے میں پوری استقامت اور ہمت سے مساعی کرے اور اپنی تمنائیں اور خواہشات اپنے اوپر حرام کر لے۔

اب بحثِ خرقہ پوشی میں بہت سے حقائق و ارشادات بتا دیے گئے۔

شیخ ابو عمر اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بحث میں ایک مکمل کتاب تالیف فرمائی ہے۔ اس کے ساتھ عوام متصوفہ کو بہت زیادہ غلو اور شغف و عقیدت ہے۔

اور چونکہ میری مراد اس کتاب میں محض نقلِ اقوال نہیں بلکہ انکشافاتِ حقیقت و مغلقات مقصود ہے اور یہی مقصودِ طریقت ہے۔

لہٰذا بہترین اشاراتِ خرقہ پوشی ہم بتا دیتے ہیں۔

یاد رکھو! کہ خرقہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس کا گنبد یعنی اوپر کا حصہ صبر کے ساتھ ہو اور دونوں آستین خوف و امید کی ہوں اور اس کے آگے پیچھے کے دامن قبض و بسط سے بنیں اور اس کا گریبان جہاں سے کمر باندھتے ہیں، مخالفتِ نفس کے ساتھ ہو اور دونوں کرسیاں یعنی کلیاں صحت و یقین کی ہوں۔ اس کی سنجاف یعنی مغزی، اخلاص کی ہو۔

اس سے بھی بہتر حقائقِ خرقہ یہ ہیں کہ وہ قبۂ محبت میں رنگِ فنا سے رنگا جائے اور اس کی دونوں آستین حفظ و عصمتِ نفس کی ہوں اور اس کا آگا پیچھا فقر اور صعوبت کا بنے اور گریبان جہاں سے کمر بند ہے، مشاہدۂ جمال کے لیے مضبوط اور قائم ہو اور اس کی کرسیاں یعنی کلیاں ایسی امن کی ہوں کہ تقربِ احدیت میں مامون رکھیں اور اس کی مغزی اور سنجاف قرارِ تام ہو جو مقامِ وصل میں اسے مضطرب نہ ہونے دے۔

جب صوفی اپنے باطن کو اس شان کا مرقعہ بنا لے گا تو ظاہر کے لیے بھی اسے خرقہ بنانا چاہیے اور ہماری ایک کتاب اس بحث میں ہے جس کا نام "اسرار الخرق والمؤنات" ہے۔ اس کتاب کا ایک نسخہ ہمارے مرید کے پاس ہونا ضروری ہے۔

لیکن خرقہ پہننے کے بعد اگر صوفی غلبۂ حال یا قہرِ سلطانِ وقت سے تنگ آ کر اُس خرقہ کو چاک کر دے گا تو اسے معذور سمجھا جائے گا اور خرق خرقہ اس کا مسلم ہوگا مگر خرق خرقہ باختیارِ خود

۱۵۴

بحالتِ تمیز و درستیِ حواس میں کر ڈالا تو اسے خرقہ پوشی پھر جائز نہیں اور اہلِ طریقت اس رویہ کو نہیں مانتے۔

اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خرقہ پوشی دیرینہ بھی ہو اور بغیر صفاءِ باطن کے محض ظاہری خرقہ پوش رہے۔ یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ مریدِ خرقہ کے معنی یہ ہیں کہ جب صوفی اس مقام سے جہاں خرقہ پوش ہوا تھا دوسرے مقام کی طرف انتقال ہوتا ہے تو وہ ترقیِ درجۂ شکر میں اُس پہلے جامہ سے باہر ہو جاتا ہے اور خرقہ کی بجائے دوسرا لباس ملبوس کر لیتا ہے۔ اس لیے کہ ہر ایک مقام کا لباس علیحدہ ہے تو دوسرے مقام پر پہنچ کر دوسرا لباس ملبوس کرنا صحیح ہے۔

اگرچہ خرقہ ایک لباس ہے کہ طریقتِ فقر و صفوت کے تمام مقامات پر یہ لباس موزوں رہتا ہے تو ان مذکورہ مقامات سے بالا ہونے کی صورت میں تمام مقامات سے تبرّی کرنا بھی ضروری ہے، ہر چند کہ اس بحث کے لیے یہ مقام موزوں نہیں، اس کے لیے باب "خروق و کشف و حجاب السماع" مخصوص ہے۔ ہم وہاں اس بحث کو بیان کریں گے۔ مگر اس جگہ اشارتاً اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ لطائفِ خرقہ کے بیان میں فروگذاشت نہ ہو جائے۔ خدا کو منظور ہے تو اس مسئلہ کو وضاحت کے ساتھ اس کی جگہ پر بیان کریں گے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ خرقہ پہنانے والے کو حقیقت اور طریقت کے اندر اس قدر حکومت و قوت ہونی چاہیے کہ اگر کسی بیگانہ پر نظر ڈالے تو اسے چشمِ شفقت سے آشنا بنا دے اور اگر اس خرقہ کو کسی عاصی پر ڈال دے تو وہ ولی بن جائے۔

ایک دن میں اپنے شیخ کے ہمراہ تھا، چلتے چلتے آذربائیجان کی آبادی سے گزرا۔ میں نے دو تین خرقہ پوش دیکھے کہ گندم کے ڈھیروں کے کھڑے ہیں اور اپنے خرقہ کے دامنوں کو کسانوں کی طرف پھیلا رکھا ہے تاکہ وہ اس گندم میں سے ان کے دامنوں میں کچھ ڈالیں۔ میرے شیخ قدس سرہٗ نے ان کی طرف نظر ڈالی اور یہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی

﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ﴾

"یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی خریدی ہدایت کے بدلے، تو ان کی تجارت نے انہیں کچھ فائدہ نہ پہنچایا اور یہ ہدایت یافتہ نہیں ہیں"۔

میں نے عرض کی: حضور! یہ لوگ کس قدر ذلت میں مبتلا ہیں کہ لوگوں کی نظر میں ذلیل

۱۵۵

ہو رہے ہیں۔ شیخؒ نے فرمایا کہ ان کے پیر کو مرید جمع کرنے کی حرص ہوئی ہے تو ان کو دنیا جمع کرنے کی حرص ہو گئی اور کوئی حرص کسی حرص سے بہتر نہیں اور خلافِ امر و حکم کسی کو دعوتِ دینی حرصِ محض ہوتی ہے۔

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے "باب الطاق" میں ایک ترسا کو دیکھا، بڑا خوبصورت جوان تھا۔ میں نے دعا کی: یا الٰہی! اس جوان کو میرے کام کا بنا دے، اس لیے کہ اسے تو نے بڑا حسین بنایا ہے۔ تھوڑی مدت اس دعا کو گذری تھی کہ وہ ترسا میرے پاس آیا اور کہنے لگا اے شیخ! مجھے کلمہ تلقین فرمائیے۔ وہ مسلمان ہو گیا اور جماعتِ اولیاء میں سے ایک ولی نکلا۔

حضرت شیخ ابو علی سیاح رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ خرقہ کس کے لیے پہننا درست ہے؟ فرمایا: اس کے لیے کہ مملکتِ الٰہیہ میں تمام احکام و احوال اس کے حکم بغیر ظہور پذیر نہ ہوں۔

اب واضح ہو گیا کہ خرقہ صالحین اور اللہ کے نیک بندوں کا لباس ہے اور فقراء و صوفیاء اسے ملبوس فرماتے ہیں اور حقائقِ فقر و حقیقتِ صفوت ہم اس سے قبل بیان کر چکے ہیں۔

تو یاد رکھو جو کوئی لباسِ اولیاء کو کسبِ دنیا کے لیے آلہ بنائے گا وہ اپنے لیے آفت مول لے گا۔ فقراء و صوفیاء کا اس میں زیادہ نقصان نہیں۔

ہدایت یافتہ لوگوں کے لیے جو کچھ لکھا ہے وہی کافی ہے۔ اگر ہم اس کی شرح کی طرف مشغول ہو جائیں تو یہ کتاب کافی نہیں ہوگی۔ وَ بِاللّٰهِ التَّوْفِيْق۔

صفحہ ۱۵۶

پانچواں باب

فقر و صفوت

فقر اور صفوت کے فضائل میں علماءِ طریقت کا اختلاف ہے۔ ایک جماعت کے نزدیک فقر افضل ہے اور ایک کے نزدیک صفوت فقر سے افضل ہے۔ وہ لوگ جو فقر کو صفوت پر ترجیح دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ فقر فناءِ کلی کا نام ہے اور اس میں انقطاعِ اسرار ہو جاتا ہے اور صفوت مقاماتِ فقر کے ایک مقام کا نام ہے اور جب فنا حاصل ہو گئی تو تمام مقامات ناچیز ہو گئے اور یہ مسئلہ بحثِ فقر و غنا کے ساتھ متعلق ہے جس کی تصریح ہم اول کر چکے ہیں۔

اور جو لوگ صفوت کو فقر پر مقدم رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ فقر ایک چیز ہے جو موسوم بہ اسم ہے اور صفوت نام ہے تمام موجودات سے صفائی حاصل کرنے کا۔ اور جو صفوت عینِ فنا رہے اور فقر عینِ بقا تو معلوم ہوا کہ فقر نام ہے مقامات و درجاتِ صفوت سے کسی درجہ یا مقام کا اور صفوت مقامِ کمال کا نام ہے۔

اس بحث میں بات بہت طول پکڑ گئی ہے اور اس زمانہ میں تو عجیب و غریب طریقہ سے فقر و صفوت کی تعبیرات پیش کی جا رہی ہیں اور ایک جماعت دوسری جماعت پر عجیب و غریب طریقے سے دلائل قائم کر رہی ہے اور در حقیقت یہ لوگ فقر و صفوت کی فضیلت اور اس کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہیں اور بغیر سوچے سمجھے مقدم مؤخر بنا رہے ہیں۔

یاد رکھو! اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ زبانی جمع خرچ کر کے محض تقریر کر دینے کا نام نہ فقر ہے نہ صفوت، اور عوام نے جو اپنے ذہنی و وہمی تخیلات کے گھوڑے دوڑائے تو اپنے اپنے خیال کے مطابق معنی گھڑ لیے اور حقیقتِ معنی سمجھنے سے اپنے دل اور ذہن کو خالی کر کے روشِ حق و صداقت سے دُور ہو گئے، کسی نے نفیِ حرص کا نام فقر عین رکھ لیا اور اثباتِ مراد کا نام اثباتِ عین گھڑ لیا۔

اور حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مقصود منفی و مثبت تمام کے تمام ایسے ہیں کہ قیامِ نفس و وجودِ ہواءِ نفسانی اور اس کے طریقوں سے منزہ ہیں اور طریقت جھوٹے مدعیوں کی لغو باتوں سے بالکل پاک ہے۔

مختصر یہ کہ اولیاءِ الٰہی اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں مکان و مقام ہی نہیں ہوتا اور تمام

۱۵۷

مکان و مقام وہاں فنا ہوتے ہیں اور زبانی الفاظ اور عبارتیں اس حقیقت کے معنی بیان کرنے سے منقطع ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ نہ شرب رہتا ہے نہ ذائقہ، نہ ممتنع، نہ قہر، نہ صحو، نہ محو۔ اس جگہ کا نام اربابِ ظہور ہی ڈھونڈتے ہیں اور فکر کرتے ہیں کہ کوئی ایسا نام مل جائے کہ اس مقام پر چسپاں ہو سکے اور وہ مقام کسی نام کے نیچے آ کر مسمّیٰ بن جائے۔ لیکن جو مقام کہ معانی اسم کے تحت آ ہی نہیں سکتا اور اس پر کسی صفت کا استعمال ہی صحیح نہیں، اسے کسی اسم یا صفت سے کیونکر تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ تو مجبور ہو کر اربابِ معنی کے نزدیک جو نام سب سے بزرگ نظر آیا اُسے اس مقام کے لیے مقرر کر دیتے ہیں۔

اور یہاں تقدیم و تاخیر کی اصل ہی نہیں۔ فقر و صفوت سے کسی کو مقدم و مؤخر کہنا بالکل ناروا ہے۔ تو خلاصہ یہ نکلا کہ ایک گروہ کو نامِ فقر زیادہ واجب الترجیح نظر آیا۔ اُن کے دلوں میں اس کی عظمت جاگزیں ہو گئی، اس لیے کہ نامِ فقر سے انہیں ترکِ ماسویٰ اللہ اور تواضع نظر آئی۔

دوسرے گروہ کو نامِ صفوت مقدم نظر آیا۔ اُن کے دلوں پر اس کی تعظیم و تکریم سکّہ زن ہو گئی۔ اس لیے کہ رفعِ کدورت اور فناءِ آفات میں انہیں یہ نزدیک نظر آیا۔

غرضیکہ انہوں نے یہ دو نام ذریعۂ اعلام بنانے چاہے۔ اگرچہ اس کی حقیقت الفاظ کا جامہ پہنا کر بیان نہیں ہو سکتی تھی۔ ان ناموں سے انہیں صرف یہ فائدہ حاصل ہو سکا کہ حقیقت بیان کرنے سے قاصر تھے، انہیں ان اشارات کے ذریعے ایک دوسرے پر ظاہر کرتے رہیں اور ان ناموں کے ذریعے اپنے ذاتی کشف کو بتمامہ ظاہر کر سکیں اور ان جماعتوں نے فقر یا صفوت اس درجہ کا نام رکھ لیا مگر پھر بھی حقیقتِ معنی میں کوئی اختلاف نہیں کیا۔ ہاں اربابِ لسان یا اصحابِ عبارات جو اس حقیقت سے محض بے خبر ہیں، انہیں محض الفاظ پر بحث کا میدان مل گیا اور ان میں سے کوئی فقر کو مقدم کہنے لگا، کوئی صفوت کو ترجیح دینے بیٹھ گیا اور یہ محض ان کی لفاظی یا لسانی ہے۔ یہ دونوں گروہ محض لفظی تحقیقِ معانی میں جا کر تاریکیِ عبارت میں رہ گئے۔ ان میں سے جسے حقیقتِ معنی منکشف ہو گئی وہ اہلِ حال میں مل کر تحقیقِ حق کو اپنا قبلۂ دلی بنا بیٹھے اور اسے اس کی پرواہ نہیں رہی کہ اُسے صوفی کہا جا رہا ہے یا فقیر۔ اس لیے کہ یہ دونوں نام اضطراری ہیں اور حقیقتِ فقر کے اسم کے تحت میں نہیں آ سکتی۔

یہ اختلافِ معنوی حضرت شیخ ابو الحسن سمنونی رحمۃ اللہ علیہ کے وقت سے چلا آ رہا ہے۔ اس لیے کہ وہ کبھی بحالتِ کشف فقر کو صفوت پر ترجیح دیتے، کبھی صفوت کو فقر پر۔ تو اس وقت کے محققین نے آپ سے عرض کی کہ حضرت ایسا کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا: میرا ایک حال نہیں، کبھی

۱۵۸

میری طبعِ معانی کو فنا و نگونساری کا مشرب حاصل ہوتا ہے اور بقاء کے درجہ میں بلندیِ کامل مل جاتی ہے اور کبھی ایسے مقام پر ہوتا ہوں کہ اُس کا تعلق فنا سے ہوتا ہے اور ایسی حالت میں فقر پر صفوت کو ترجیح دے دیتا ہوں اور جب اس درجہ پر ہوتا ہوں جس کا تعلق بقا سے ہے تو صفوت پر فقر کو ترجیح دے دیتا ہوں اور اس لیے کہ فقر نام ہے بقا کا اور صفوت فنا کا۔

تو چونکہ مقامِ فناروی کو خود سے بھی فنا کر دیتا ہے تو میری طبعِ معانی بھی فنا سے فنا ہو جاتی ہے اور مقامِ بقا میں یہی فنا ہے اور یہ گفتگو اگرچہ از روئے عبادت خوب ہے مگر یاد رکھو کہ فنا کو بھی فنا نہیں اور بقا کو بھی فنا نہیں اور جو باقی فانی ہوگا وہ خود سے ہی فانی ہوگا اور جو فانی باقی ہوگا وہ خود سے باقی ہوگا اور در حقیقت فنا بھی محض ایک ایسا اسم ہے جس میں مبالغہ محال ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی کہے کہ فنا، فنا ہوتا ہے تو اس میں مبالغہ ہوا، ہستی کے وجود کے اثر کی نفی کا۔ اس لیے کہ جو فنا ہو رہا ہے وہ جب تک فنا نہ ہو، اس وقت تک اس کا کچھ اثر باقی ہے اور جب تک اثر باقی ہے فنا نہیں اور جب فنا ہو چکا تو فنا کا فنا ہونا بے معنی ہوگا اور اس عبارت میں تحریر کے سوا کچھ حاصل نہیں اور یہ لسانیاں زبان درازی لوگوں کی سخن پروری کے ماتحت ہیں۔

اور کتاب "فنا و بقا" میں ہم نے بھی ایک بحث لکھی تھی لیکن وہ اس وقت لکھی تھی جبکہ ہماری نوعمری کا جوش تھا اور جذباتِ حالیہ تیزی میں تھے۔ اس کتاب میں احتیاط کے ساتھ اس کے احکام و حقائق بیان کرتا ہوں۔ ان شاء اللہ عز و جل۔

اچھی طرح سمجھ لو! کہ فقر اور صفوت میں فرقِ معنوی یہ ہے کہ دنیا کی تجرید کی رُو سے تو فقر و صفوت ایک ہے اور اپنے آپ کو اس سے خالی کر دینا یہ دوسری شان ہے اور پھر اس کی حقیقت فقر و مسکنت کے معنی میں ہوگی۔ ایک جماعت نے مشائخ کرام میں سے فرمایا ہے کہ فقیر، مسکین سے افضل ہے، اس لیے کہ حضرت جلّ مجدہٗ نے فرمایا

﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ﴾

"مالِ زکوٰۃ ان فقراء کے لیے ہے جو اللہ کی راہ اور اس کی اطاعت میں ایسے محصور ہیں کہ تجارت و رزق طلب کرنے کو زمین پر سیر نہیں کر سکتے"۔

اس لیے کہ مسکین صاحبِ مال ہوتا ہے اور فقیر تارکِ مال۔ تو ظاہر ہے کہ فقر عزت ہے اور مسکنت ذلت اور صاحبِ مال طریقت میں ذلیل ہوتا ہے۔ کیونکہ حضرت سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا

۱۵۹

تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَ تَعِسَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ وَ تَعِسَ عَبْدُ الْخَمِيصَةِ وَالْقَطِيفَةِ.

"ہلاک ہو گیا دینار و درہم کا بندہ اور ہلاک ہو گیا تھیلے کا پجاری اور تارک معلوم یعنی جس کے پاس مال ہے اس کا تارک عزت والا ہے"۔

اس لیے کہ مال دار کا اعتماد اس مال پر ہوتا ہے اور جو تارکِ مال ہوگا اس کا بھروسہ ربّ عز و جل پر ہوگا اور مالدار کو اگر کوئی کام ہوگا تو اپنا مال بڑھانے اور اس کے حاصل کرنے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہوگا۔

ایک جماعت نے کہا کہ مسکین افضل ہے، اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں فرمایا

اَللّٰهُمَّ اَحْيِنِيْ مِسْكِيْنًا وَ اَمِتْنِيْ مِسْكِيْنًا وَ احْشُرْنِيْ فِيْ زُمْرَةِ الْمَسَاكِيْنِ.

"اے میرے ربّ! مجھے مسکین ہی زندہ رکھ اور اسی حال میں دنیا سے اٹھا اور میدانِ حشر میں بھی مساکین میں مجھے محشور فرما"۔

تو جب حضور سیّدِ عالم ﷺ مسکین کو یاد فرما کر اس طرح دعا کریں کہ اللہ مجھے مسکینوں کی زندگی عطا فرما اور حالتِ رحلت میں بھی مسکین رکھ اور جب فقر کا تذکرہ فرمایا تو کہا

كَادَ الْفَقْرُ اَنْ يَّكُوْنَ كُفْرًا.

۲۔ اس حدیث کا تفصیلی ذکر پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔

ذیلی صفحات کے اردو متن کی نقل ملاحظہ فرمائیں