السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کشف المحجوب

حصہ ۱ — اثباتِ علم — فقر افضل ہے یا غنا

حصہ ۱
صفحہ ۸۳

اثباتِ علم

اثباتِ علم و عزتِ علماء کی صفت میں حضرت رب العزت جل شانہ فرماتا ہے

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ

"اللہ کے بندوں میں خشیتِ الٰہی رکھنے والے علماء ہی ہیں"۔

طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ

حضور سید یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

"ہر مسلمان مرد و عورت پر علمِ دین حاصل کرنا فرض ہے"۔

"طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْاهِرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّهَبَ"

۸۴

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ كَانَ بِالصِّينِ .

"علم حاصل کرو اگرچہ چین سے دستیاب ہو"۔

اور واضح رہے کہ اقسامِ علم بے حد ہیں اور عمرِ انسانی نہایت ناقص ۔۔۔ بنا بریں واضح ہو گیا کہ تمام علوم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض نہیں مثلاً علمِ نجوم، علمِ حساب، علمِ صنائع و بدائع وغیرہ وغیرہ۔

مگر ان علوم میں سے اتنا حاصل کرنا لازمی ہے جس کی شریعتِ مطہرہ کے اندر ضرورت...

۸۵

تک حفاظت؛ کوارِ ضلالت سے جانے۔ علم طب اس قدر پڑھا جائے جس سے انسان صحت کی حفاظت کر سکے اور بوقتِ حاجت علاج کر سکے۔ اسی طرح ریاضی اس قدر پڑھنا ضروری ہے جس سے فرائضِ آسمانی یعنی علمِ فرائض حل کر سکے۔ اسی طرح دنیاوی پیشے کا علم بھی اس قدر حاصل کرنا ضروری ہے جس سے ضروریاتِ شرعیہ پوری بھی ہوں اور تعیش و فخر کی طرف میلان نہ ہو۔ اسی لیے حضرت رب العزت جل جلالہ نے ارشاد فرمایا

وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ

"اور وہ سیکھتے ہیں وہ چیز جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع رساں نہ ہو"۔

اور ہمارے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے علم سے پناہ مانگی ہے اور فرمایا

"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ"

"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے"۔

بہرحال تھوڑے علم سے بہت عمل کیا جا سکتا ہے اور طالبِ علم کو لازم ہے کہ علمِ نافع حاصل کرے، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

"طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ"

2- حضرت حفص بن عمرو سے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت حفص سے مروی روایت کا حصہ ہے جسے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اس طرح ہوتی تھی

"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ"

۸۶

ایسے شخص کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو خراسان سے مکہ مکرمہ جائے اور بغیر علمِ فقہ کے عبادت کرنے والا بن جائے۔ جس نے دن کی شدت اور شام کو جہاں تھا، وہیں رہا۔ اور بے قاعدہ شرعی عبادت کا نتیجہ یہی ہے جو خراسان کے گدھے کا ہوا کہ دن بھر چلا مگر منزل طے نہ کر سکا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو علم کو فضیلت دیتے ہیں اور ایک جماعت میں نے عوام میں ایسی دیکھی کہ وہ جسمانی و روحانی دونوں طریقوں پر گمراہ تھے۔ اس لیے کہ عمل پر علم مقدم ہے اور درحقیقت عمل علم کا محتاج ہے۔ علم عمل کا رہنما اور مقدم ہے۔ علم کا صحتِ عمل میں ہونا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ نماز میں یہ ثواب یا درجہ ملے گا۔ جیسے نماز اور اس کی صحت کا علم ہو، پانی کے پاک ہونے کا علم ہو جائے، پڑھنے والا احکامِ طہارت کا علم حاصل نہ کر لے اور جب تک طہارت صحیح نہ ہو، وضو نہیں ہو سکتا۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر علم کی نماز درست نہیں، اب اسی طرح جب تک نیت کے متعلق علم نہ ہو، نماز کہاں درست ہو؟ حقیقت کا علم نہ ہو، نماز بے کار ہے۔ اسی طرح اگر ارکانِ نماز نہ جانے اور جہالت کی وجہ سے غلطی کرے تو بندگی سے بعید اور گناہ سے قریب ہوتا ہے۔ تو وہ جہالت پر عمل کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کا وجود افضل اور عمل پر فضیلت رکھتا ہے، جس پر قرآن و سنت اور عقلی دلائل شاہد ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

فَنَبَذَ فَرِيقٌ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

"پھر پھینک دیا ایک جماعت نے ان میں سے جنہیں کتاب دی گئی تھی، اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھ کے پیچھے گویا کہ وہ بالکل جاہل ہیں"۔

گویا رب جل جلالہ نے علماء کو، ان کے نا علموں کی جماعت کی طرح عمل کرنے کی وجہ سے، علماء کے نام سے نکال دیا۔ اگرچہ پڑھنا، یاد کرنا اور یاد رکھنا اپنے مقصد کے موافق ہو، اس سے بھی بندہ کو اجر کا مستحق بننا چاہیے، لیکن جب عالم کا علم اس کے اعمال کے خلاف ہو...

1- الفوائد المجموعة، ص 92.

۸۷

اس کو یاد کرنے وغیرہ کا کچھ ثواب نہیں ملتا ہے۔

اس مسئلہ میں دو فرقے ہیں : ایک وہ کہ وجاہتِ خلق علم کے چہرے میں دیکھ کر اس کے مقابلے کی تاب نہیں رکھتا اور علم کی حقیقت تک خود پہنچ کر عمل کو علم سے جدا کرتا ہے۔ یہ وہ فرقہ ہے جو نہ علم کو سمجھا نہ عمل کو، حتیٰ کہ جاہلوں کو کہتا پھرتا ہے قال نہیں چاہیے، کار چاہیے۔

دوسرا فرقہ کہتا ہے کہ عمل کچھ نہیں علم چاہیے۔

حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے راستہ میں ایک پتھر پڑا دیکھا، اس پر لکھا ہوا تھا : "مجھے پلٹ اور پڑھ"۔ میں نے پلٹا تو اس پر یہ لکھا دیکھا

أَنْتَ لَا تَعْمَلُ بِمَا تَعْلَمُ فَكَيْفَ تَطْلُبُ عِلْمَ مَا لَا تَعْلَمُ

"جب تو اپنے علم کے مطابق عمل سے قاصر ہے تو محال ہے کہ جس کا تجھے علم نہیں، اس کا علم (یا عمل) طلب کرے۔"

گویا یہ ہدایت اس پر منقش تھی کہ انسان اس حد تک عمل کوش رہے جس حد تک اسے علم ہے تاکہ اس کی برکت سے وہ بھی جان لے جو نہ جانتا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

هِمَّةُ الْعُلَمَاءِ الدِّرَايَةُ وَهِمَّةُ السُّفَهَاءِ الرِّوَايَةُ .

"علماء کا ہمت و مقصد درایت و فہمِ علم ہے اور جہلاء کا مقصد محض روایات کا نقل کر دینا ہے۔"

چونکہ علماء سے لوازماتِ جہالت منفی ہوتے ہیں اس وجہ سے وہ علم کو ذریعہ جاہ و عزتِ دنیا نہیں بناتے اور جو علم کے ذریعے جاہ طلبی کرتے اور دنیاوی فائدے چاہتے ہیں وہ لوازماتِ جہل میں ملوث رہ کر کوئی درجہ، درجاتِ اہل علم سے نہیں پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ علم بغیر کسی لطیفہ کے، ذریعہ خدا رسیدہ نہیں ہو سکتا اور علم کی برکت سے تمام مقامات کا مشاہدہ ہو جاتا ہے۔

وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ!

اب یہ سمجھنا چاہیے کہ علم دو ہیں: ایک علمِ الٰہی، دوئم علمِ خلق۔ اور علمِ خلق متناہی، علمِ الٰہی غیر متناہی ہوتا ہے۔ اس لیے کہ علمِ الٰہی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور صفتِ الٰہی ذاتِ الٰہی کے ساتھ قائم ہے اور صفاتِ الٰہیہ بے نہایت ہیں اور ہمارا علم (یعنی علمِ خلق) صفتِ خلق ہے اور صفتِ خلق مخلوق کے ساتھ قائم ہے اور مخلوق کی صفات متناہی ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

۸۸

وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا

"یعنی تم کو علم (تمہارے ظرف کے مطابق) قلیل دیا گیا ہے"۔

الغرض علم مدح کی صفتوں میں سے ہے اور اس کی تعریف احاطة المعلوم ہے، یعنی معلومات کا احاطہ کرنا یا تبیین المعلوم تعریفِ علم ہے، یعنی معلوم کا واضح طور پر بیان کرنا اور بہترین جامع و مانع تعریفِ علم یہ ہے کہ

الْعِلْمُ صِفَةٌ يَصِيرُ الْجَاهِلُ بِهَا عَالِمًا.

"یعنی علم ایک ایسی صفت ہے جس سے جاہل عالم ہو جاتا ہے"۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ

"بے شک اللہ کافروں کو گھیرنے والا ہے"۔

اور فرماتا ہے

وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

"اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے"۔

اور علمِ الٰہی ایک ایسی صفت ہے جس سے وہ تمام وجودات و معدومات کو جاننے والا مانا گیا ہے اور ایسا عالم مانا گیا کہ اس جیسا عالم ہونے میں مخلوق کا کوئی جز شریکِ صفت نہیں ہو سکتا، اور اس علمِ ذاتی کی تجزئہ بھی نہیں ہو سکتی اور نہ یہ علم اس کی ذات سے کبھی جدا ہو سکتا ہے۔

اور اس علم پر اس کی ترتیبِ فعالی دلیل ہے اس لیے کہ ہر فعلِ محکم علم سے ظہور پذیر ہوتا ہے اور علیمِ الٰہی کی ہی یہ شان ہے کہ ہر مکتوم و ظاہر پر ہر آن محیط ہے۔

طالبِ حق کو لازم ہے کہ بوقتِ عمل یہ یقین کرے کہ وہ عالمِ غیب، حاکمِ حقیقی میرے اس عمل کو دیکھ رہا ہے جیسا کہ اس کا عقیدہ ہے کہ وہ ہماری ہر حرکت و سکون کو دیکھنے والا ہے۔

حکایت

روایت ہے کہ ایک رئیسِ بصرہ کسی دن اپنے باغ میں گیا۔ اس کی نظر اپنے باغ کے مالی کی بیوی پر پڑی اور برا خیال پیدا ہو گیا۔ رئیس نے مالی کو کسی کام کے لیے بھیج دیا اور اس کی بیوی کو کہا: باغ کے سب دروازے بند کر دے۔ عورت نے آکر کہا: میں نے سب دروازے بند کر دیے...

۸۹

ہیں مگر ایک دروازہ ایسا ہے کہ میں اس کو بند نہیں کر سکتی۔ رئیس نے پوچھا وہ کون سا دروازہ ہے؟ مالی کی بیوی نے کہا وہ دروازہ وہ ہے جو میرے اور میرے رب کے مابین ہے۔ یہ سن کر رئیس شرمندہ ہوا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی مانگی۔

حاتم اصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے چار علم اختیار کیے ہیں اور دنیا کے تمام علوم سے آزاد ہوں۔ لوگوں نے پوچھا کہ حضرت وہ چار علم کون سے ہیں؟ فرمایا

پہلا علم تو یہ ہے کہ میرا رزق جتنا میرے لیے مقسوم ہے، کم یا زیادہ نہیں ہو سکتا، اس وجہ سے میں زیادہ کی تلاش سے بے پرواہ ہوں۔

دوسرا علم یہ ہے کہ مجھ پر میرے رب جل مجدہ کے ایسے حقوق ہیں، جو میرے سوا دوسرا ادا نہیں کر سکتا، تو میں ان حقوق کی ادائیگی میں مشغول ہو گیا ہوں۔

تیسرا علم یہ ہے کہ میرا ایک طالب ہے جسے موت کہتے ہیں، اس سے بھاگنا ناممکن ہے، اس لیے میں اس کے لیے تیار ہوں۔

چوتھا علم یہ ہے کہ میرا رب جل مجدہ و تعالیٰ شانہ مجھے ہر لمحہ دیکھنے والا ہے، میں اس سے شرماتا ہوں اور نا کردہ کاری سے اجتناب کرتا ہوں اور ہر ایسے فعل سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں، جس کی وجہ سے کل قیامت کے دن شرمندہ ہونا پڑے۔

بندہ کا علم اوامرِ الٰہیہ اور اس کی ذات کے جاننے میں ضروری ہے اور علمِ اوقات اور اوقات میں جو بندہ پر لازم ہے، اس کا جاننا بھی ضروری ہے۔ پھر احکامِ ظاہری و باطنی کا سمجھنا بھی ضروری ہے، اور ظاہر و باطن امور کے لحاظ سے علمِ مخلوق کی دو قسمیں ہیں: ایک علمِ اصول، دوسرا علمِ فروع۔

اصولِ ظاہری میں تو کلمہ شہادت ہے یعنی وحدانیتِ الٰہی کا اعتراف اور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق، اور اصولِ باطن میں معرفت کی تحقیق۔ اسی طرح فروعِ ظاہری آپس میں معاملات اور برتاؤ درست رکھنا اور فروعِ باطنی دل سے نیت صحیح رکھنا اور اس صحت پر قائم رہنا، اور یہ ایسی چیزیں ہیں کہ ایک کا وجود دوسرے کے وجود کے بغیر محال ہے۔

چنانچہ ظاہر کا برتاؤ صاف رکھنا اور دل میں اس کے خلاف ہونا نفاقِ خالص ہے۔ اسی وجہ سے باطن کی اصلاح ظاہر کے بغیر سمجھنا زندقہ ہے اور شریعت پر ظاہری اطاعت بغیر اطاعتِ باطنی یعنی قلبی کے ناقص ہے اور جو چیز باطن میں نہ ہو اسے ظاہرداری میں دکھانا ہوس و باطل ہے۔

۹۰

اس کی تشریح یہ ہے

رکنِ اول: ذاتِ باری تعالیٰ اور اس کی وحدانیت کا اعتقاد اور اعتراف۔

رکنِ دوم: صفاتِ باری تعالیٰ عزوجل اور اس کے احکام کا علم۔

رکنِ سوم: حکمتِ الٰہی کا علم اور اس کے افعال کو جاننا۔

اسی طرح علمِ شریعت کے بھی تین رکن ہیں

اول: کتاب اللہ

دوم: سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

سوم: اجماعِ امت

اور اثباتِ وجودِ ذاتِ واجب تعالیٰ شانہ اور علمِ صفات و افعال پر خود رب کا فرمان دلیل و دلالت ہے، جیسا کہ ارشاد ہے

فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

"پس جان لے کہ بے شک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں"۔

اور فرمایا

وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَوْلَاكُمْ

"اور جان لو کہ بے شک اللہ تمہارا مالک ہے"۔

اور فرمایا

أَلَمْ تَرَ إِلَى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ

"کیا تو نے نہ دیکھا اپنے رب کی طرف کہ کس طرح سایہ پھیلایا"۔

اور فرمایا

أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ

"کیا وہ نہیں دیکھتے اونٹ کی طرف کہ کس طرح پیدا کیا گیا"۔

علاوہ ازیں بہت سی آیات ہیں جو افعالِ الٰہی پر نظر کرنے کی تلقین کرتی ہیں تاکہ وجودِ صانع ثابت ہو، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا

۹۱

مَنْ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ رَبُّهُ وَأَنِّي نَبِيُّهُ حَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى لَحْمَهُ وَدَمَهُ عَلَى النَّارِ.

"جس نے دل سے جان لیا کہ بے شک اللہ اس کا رب ہے اور میں اس کا نبی ہوں، اس کے گوشت و خون کو اللہ تعالیٰ نے جہنم پر حرام فرمایا"۔

لیکن علمِ ذاتِ باری تعالیٰ عزاسمہ میں یہ شرط بھی ہے کہ ہر عاقل و بالغ اس امر کو یقیناً جان لے کہ حق تعالیٰ شانہ موجودِ قدیم ہے اور اس کی ذاتِ قدیم، غیر محدود اور مکان و جہت سے منزہ ہے اور وہ ذات موجبِ آفت نہیں اور وہ زن و فرزند سے پاک ہے۔ انسانی اوہام میں جو چیزیں متصور ہوتی ہیں ان کا بھی وہی آفریدگار ہے اور وہی تمام مخلوق کا پرورش کرنے والا۔ اس نے حق فرمایا

لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

"اس کی مثل کوئی شے نہیں، وہ سننے دیکھنے والا ہے"۔

اور علمِ صفاتِ ذات عزاسمہ یہ ہے کہ اسے جانے کہ اس کے لیے ایسی صفات ہیں جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ مگر وہ صفات نہ عینِ ذات ہیں نہ غیرِ ذات مگر ابدی و ازلی ہیں جیسے علم، قدرت، حیات، ارادہ، سمع، بصر، کلام، بقا، جیسا کہ خود ارشاد فرمایا

إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

"بے شک وہ ذاتِ پاک تمہارے دلوں کے خطرات کی بھی عالم ہے"۔

اور فرمایا

وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

"بے شک اللہ ہر چیز کے پیدا کرنے پر قادر ہے"۔

اور فرمایا

وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

"ذاتِ مقدس بلا احتیاجِ آلہ سمیع و بصیر ہے"۔

۹۲

اور فرمایا

فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ

"وہ زبردست اپنے ارادے کو پورا کرنے والا ہے"۔

اور فرمایا

هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ

"وہ وہی حیِ ازلی و ابدی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں"۔

اور فرمایا

أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ

"سنو! اسی کا فرمان، خلق و تخلیق ہے اور اسی کے احکام ہیں"۔

تصورِ الٰہی کی یہ صورت ہے۔ انسان چاہے اور نہ چاہے، اب علمِ اثباتِ افعال... اس کے لانے والا سوائے اس کے کوئی نہیں۔ مخلوق کے افعالِ الٰہی ہیں، علمِ موجودات کو وجودِ ظاہری میں لا کر... شرک کا خالق وہی ہے۔ جیسا کہ فرمایا

اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ

"اللہ ہر شے کا خالق ہے"۔

واجب الوجود نے ہم تک ان دلائل اور اثباتِ احکامِ شریعت پر دلیل دینے کے لیے، خلافِ عادات اور بعثتِ رسول فرمایا، انہیں گوناگوں معجزات عطا فرمائے جو قطعی خارقِ عادت ہیں... اور سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رسول ہیں، ان کے معجزات بے حد و عدد عطا کیے گئے اور ان کے ذریعے ہم رہنمائی پاتے ہیں، وہ امورِ غیب سے باخبر ہیں اور تمام انبیاء و مرسلین...

وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ

اور ارشاد فرمایا کہ شریعتِ مطہرہ کا اول رکن کتاب اللہ ہے۔ جیسا کہ واضح فرمایا کہ قرآن کریم کتاب اللہ ہے جس میں کوئی شک نہیں آیا۔ علمِ اطاعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کی اطاعت سے دوسرا رکنِ شریعتِ الٰہیہ قائم ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم نے فرمایا

۹۳

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا

"جو حکم ہمارے حبیب تمہیں دیں قبول کرو اور جس بات سے منع فرمائیں باز رہو"۔

تیسرا رکن اجماعِ امت ہے۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى الضَّلَالَةِ وَعَلَيْكُمُ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ.

"میری امت گمراہی پر کبھی جمع نہ ہوگی، تم بڑی جماعت یعنی اہلسنت والجماعت کو لازم پکڑے رہو"۔

ان تمام احکام میں حقیقتِ اسلام ہے۔ اب اگر کوئی چاہے کہ تمام اپنے اندر جمع کر لے تو ایسا نہیں کر سکتا، اس کی قوت سے ایسا ہونا وراء الوراء ہے، اس لیے کہ لطائفِ اسماءِ الٰہیہ بے نہایت ہیں اور جب ان کی حد اور منتہیٰ نہیں تو انسان ان سب پر حاوی نہیں ہو سکتا۔

یہ بات اچھی طرح یاد رکھو کہ ایک جماعت ملحدوں کی ہے۔ اللہ کی ان پر لعنت ہو، انہیں "سوفسطائی" کہا جاتا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ حقائقِ اشیاء کا علم حاصل ہونا محال ہے اور علمِ حاصل اشیاء خود کچھ نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اس امر کا انہیں علم ہوا یا نہیں؟ اگر وہ کہیں کہ ہاں اس امر کا ہمیں علم ہوا کہ حقائقِ اشیاء کا علم حاصل ہونا محال ہے، تو وہ خود اپنی زبانی اثباتِ علم کر چکے؛ اور اگر کہیں کہ نہیں تو پھر یہ کہنا غلط اور بے علمی ہے کہ علمِ اشیاء کا حصول محال ہے اور یہ دعویٰ قطعاً باطل۔ پھر ایسی جماعت سے گفتگو کرنا اور اسے منہ لگانا عقلمندی اور دانشمندی نہیں ہوتی۔

امام ابو نعیم نے "حلیة الاولیاء" میں، امام حاکم نے "المستدرک" میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا ہے: "إِنَّ اللَّهَ لَا يَجْمَعُ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلَى ضَلَالَةٍ أَبَدًا وَإِنَّ يَدَ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ، فَاتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ"۔ ابن ابی عاصم نے اسے "السنہ" میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے طریق سے ان الفاظ میں مرفوعاً روایت کیا ہے: "إِنَّ أُمَّتِي لَا تَجْتَمِعُ عَلَى ضَلَالَةٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الِاخْتِلَافَ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ"۔ امام عجلونی اسے "کشف الخفاء" 1/141 میں اور ملا علی قاری "الأسرار المرفوعة" میں لائے ہیں۔

۹۴

اور ملاحدہ کا یہ کہنا کہ ہمارا علم کسی چیز کے ساتھ درست نہیں، یہ دو حال سے خالی نہیں، یا نفیِ علم کا علم حاصل کر کے وہ کہہ رہے ہیں یا بذریعہ علم یہ دعویٰ کر رہے ہیں۔ بہرحال دونوں صورتوں میں اثباتِ علم یقینی ہوگا یا نفی کا علم یا حصولِ علم کا۔ اور یہ امر ظاہر ہے کہ علمِ شئی نفیِ علم نہیں کر سکتا۔ بہرحال علم کی ضد جو جہل ہے یہی نفی کی حقدار ہوگی۔ علم سے علم کی نفی ناممکن ہے اور اب دعویٰ محض حمق و جہالت ہے، اور جب یہ امر محقق ہو گیا کہ نفیِ علم جہل سے ہو سکتی ہے تو جاہل ذلیل و مذموم ہوتا ہے اور جہالت کفرِ خالص اور باطل کی علامت ہے، اور حق کو جہل سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہی عقیدہ تمام مشائخِ کرام کا ہے اور ملحدین کا تخیلِ باطل مشائخِ کرام کے قطعی خلاف ہے۔

اور جب عوام نے ملحدین کے اس قول کو سنا تو بہک گئے اور کہنے لگ گئے کہ اہل تصوف بھی اس جماعت میں سے ہیں اور ان کے اعتقادات بھی ایسے ہی پریشان خیالی پر قائم ہیں اور بوجہ جہل وہ حق کو باطل سے جدا کرنے میں عاجز رہ گئے۔ اب ہم ملحدین کے تمام معاملات کو خدا کے سپرد کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی ضلالت و گمراہی میں رہیں۔ اگر دینِ حق ان کی اعانت کرتا تو جو زور ان کا اس گمراہی میں صرف ہوا، احقاق میں صرف ہوتا، اور دینِ حق کی رعایت و اعانت کی حرمت ان کے ہاتھ سے نہ جاتی، اور خاصانِ بارگاہ کو وہ ایسی اندھی آنکھ سے نہ دیکھتے، بلکہ اپنے لیل و نہار کی اصلاح کے لیے ان کی خاص حرمت کرتے اور ملحدوں کی جماعت اہل تصوف کا احترام کرتی، ان کے نظریات کی تائید میں رہتی اور ان کے جمالِ وحدت و تجلیاتِ حق کے زیرِ سایہ رہ کر ہر قسم کی آفتوں سے محفوظ و مصون ہو جاتی اور ان کی عزت باطن کے سایہ میں نشو و نما پاتی۔ پھر ایسا ہرگز نہ ہوتا کہ سب کو اپنے جیسا سمجھ کر اہل تصوف کو بھی ملحد قرار دے کر ان کی عزتِ خداداد کو ٹھکرانے کی کوشش میں خود ذلیل و رسوا ہوتے۔

ہمارا ایک مدعیِ علم سے مقابلہ ہوا جو بجائے علم کے، کلاہِ رعونت و خود پسندی سر پر لیے پھرتا تھا اور اس ذلیل خصلت کا نام اس نے علمیت رکھ چھوڑا تھا۔ خواہشاتِ نفسانیہ کو متابعتِ سنتِ رسول کہتا تھا۔ موافقتِ شیطانی کو سیرتِ ائمہ کی پیروی کہتا تھا۔ اثنائے گفتگو میں کہنے لگا کہ ملاحدہ کے بارہ فرقے ہو گئے ہیں، انہیں میں سے ایک فرقہ متصوفین کا ہے۔

ہم نے کہا: اگر ایک فرقہ صوفیوں کا انہیں بارہ میں سے ہے تو گیارہ فرقے تم میں سے ہوئے۔ پھر جب ایک فرقہ سے تم اپنے آپ کو بچا سکتے ہو تو صوفی ان گیارہ سے اپنے آپ کو کیونکر نہیں محفوظ رکھ سکتے۔

درحقیقت یہ سب زمانہ کے پُر آشوب ہونے کا نتیجہ ہے۔ آج اس قدر فتنے ہیں جو عوام کو…

۹۵

خراب کر رہے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبوں کو اس قوم سے پوشیدہ کر لیا ہے اور سب سے جدا رکھ کر ان کی محافظت فرمائی ہے۔ کیا خوب فرمایا سرداروں کے سردار اور آفتابِ عقیدت مندان علی بن بندار صیرفی رحمۃ اللہ علیہ نے

فَسَادُ الْقَلْبِ عَلَى حَسْبِ فَسَادِ الزَّمَانِ وَأَهْلِهِ.

"دل کی خرابی زمانہ و اہل زمانہ کے خیالات کے فساد کے موافق ہے"۔

اب ہم ان اقوالِ مشائخِ کرام کی نقل کے لیے، ایک مستقل فصل بناتے ہیں تاکہ وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ کا کرم ہے، منکروں کے دامِ تزویر سے محفوظ رہیں اور اس فصل سے تنبیہ حاصل کریں۔ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

حضرت محمد بن فضل بلخی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا

الْعُلُومُ ثَلَاثَةٌ: عِلْمٌ مِّنَ اللَّهِ، وَعِلْمٌ مَّعَ اللَّهِ، وَعِلْمٌ بِاللَّهِ.

"علم تین قسم کے ہیں۔ اول علم اللہ کی طرف سے، دوسرا اللہ تعالیٰ کے فضل کی معیت سے، تیسرا اللہ تعالیٰ کی یاد کے ساتھ"۔

علم باللہ وہ عرفانِ تام ہے جو تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام اور اولیاءِ عظام کو حاصل ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ عارفِ الٰہی بنتے اور عرفانِ الٰہی حاصل کرتے ہیں۔ جب تک یہ معیتِ الٰہی حاصل نہ ہو تمام ذرائعِ جدوجہد منقطع رہتے ہیں۔ اس لیے کہ علمِ اکتسابی معرفتِ الٰہی کی علت نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ علمِ اکتسابی سے عرفانِ الٰہی ناممکن ہے۔ جب تک علم باللہ حاصل نہ ہو درجہِ عرفانِ حق کا حصول محال ہے۔

اور علم من اللہ وہ علمِ شریعتِ حقہ ہے کہ اس کے ذریعے ہم مکلفِ احکامِ بالا بنائے گئے اور وہ فرمانِ حق ہے جو زبانِ انبیاء سے ہم کو پہنچا۔

اور علم مع اللہ وہ علم ہے جو فضلِ الٰہی کی معیت میں حاصل ہوتا ہے، جس کے ذریعے مقاماتِ ولایت و طریقِ حق و ہدایت اور بیانِ نہایتِ مدارجِ ولایت بعنایتِ الٰہی حاصل ہوتے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ معرفتِ مدارجِ ولایت بغیر علمِ شریعت جانے صحیح نہیں اور اتباعِ شریعت بغیر مقاماتِ رشد و ہدایت جانے نہیں ہو سکتا (یعنی قانون کے مقتضیات کا جاننا قانون دانی ہو سکتا ہے نہ کہ قانونی کتابوں کا محض مطالعہ)۔

۹۶

حضرت انطاکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا

عِلْمُ الْعَارِفِ حَيٌّ مِّنَ الْجَهْلِ، وَنُورُ الْعَيْنِ مِنَ الظُّلْمَةِ.

"عارف کا علم جہالت کی موت سے حیات بخشتا ہے اور عین کا نور کفر و ظلمت کی تاریکی سے روشنی دیتا ہے"۔

خلاصہ یہ کہ جس کو علمِ عرفان حاصل نہیں، اس کا دل جہالت کی موت سے مردہ ہے۔ اور جسے شریعت حاصل نہیں، اس کا دل نادانی و بیماری کی تاریکی میں ہے۔ کفار کا دل مردہ ہے، اسی وجہ سے وہ ذاتِ واجب تعالی جل شانہ کے فرمان سے جاہل ہیں، اور اہل غفلت فرمانِ الٰہی سے بے خبر ہیں۔

حضرت ابو بکر وراق ترمذی رضی اللہ علیہ نے فرمایا

مَنْ اكْتَفَى بِالْكَلَامِ مِنَ الْعِلْمِ دُونَ الزُّهْدِ تَرَنْدَقَ، وَمَنْ اكْتَفَى بِالْفِقْهِ دُونَ الْوَرَعِ تَفَسَّقَ، وَمَنْ تَفَرَّدَ بِالتَّوْحِيدِ دُونَ الْمُشَاهَدَةِ تَعَطَّلَ.

"جس نے علمِ کلام (یعنی عقائد و علمِ توحید) کی عبارات و قواعد سیکھے اور زہد و تقویٰ کی حقیقت حاصل نہ کی وہ زندقہ میں پڑ گیا، اور جس نے علمِ فقہ و شریعتِ اسلامیہ پر الورع (پرہیزگاری) کے بغیر عمل کیا وہ حدود و احکام سے نکل کر فاسق ہو گیا"۔

اس قول سے مقصودِ قائل یہ ہے کہ عارف کے لیے مجاہدہ و تزکیہِ نفس ضروری ہے اور موحد کے لیے توحیدِ ربانی کا تعلق لازمی ہے، اور فقہی کے لیے تقویٰ و شرعی ہونا ضروری ہے تاکہ اس کا روز و شب روح و پروردگار کے مابین سچا رہے۔

اور اس بحث کا لبِ لباب وہی ہے جو شیخ ابو بکر وراق پیرِ کامل رحمۃ اللہ تعالی نے فرمایا

التَّوْحِيدُ بَيْنَ الْجَبْرِ وَالْقَدَرِ.

"توحید جبر اور قدر کے درمیان ہے"۔

خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص علمِ توحید کے صرف الفاظ یاد کر کے مطمئن ہو جائے اور اس کے خلاف باتوں سے اجتناب نہ کرے، وہ زندیق ہے؛ اور جو فقہ کے ظاہری مسائل پر عمل کرے مگر علمِ فقہ و شریعت کو پرہیزگاری اور حقیقتوں سے الگ کر کے تاویلوں کے ذریعے شبہات میں پڑے، وہ فاسق رہے گا۔ اور یہ سب جہل و غفلتِ دل کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ خوب فرمایا شاہِ عارفان نے کہ جو لوگ بغیر استاد کے اجتہادات کی جرأت کرنے لگے، وہ بہت جلدی آسانی سے بھٹک جاتے ہیں۔

۹۷

حضرت ابن معاذ رازی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا

اجْتَنِبْ صُحْبَةَ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ مِّنَ النَّاسِ: الْعُلَمَاءِ الْغَافِلِينَ، وَالْفُقَرَاءِ الْمُدَاهِنِينَ، وَالْمُتَصَوِّفَةِ الْجَاهِلِينَ.

"اجتناب کر تین قسم کے لوگوں کی صحبت سے: غافل بے عمل علماء، اور حق سے زبان بند کرنے والے فقیر، اور بنے ہوئے جاہل صوفی"۔

اب سمجھ لے کہ علماءِ غافل کون سے ہیں؟ یہ وہ ہیں جنہوں نے دنیا کو اپنا قبلہِ دلی بنا لیا ہے اور شریعتِ مطہرہ سے حیلے بہانے تراش کر آسانیاں گھڑ رکھی ہیں اور اہل حکومت کے پجاری بن گئے ہیں۔ ظالموں کی چاپلوسی کرنا اپنا روزمرہ کر چکے اور ان کی چوکھٹوں کے طواف کو کعبہِ مقصود بنا چکے ہیں اور عوام میں عزت و جاہ حاصل کرنا ان کی محرابِ مسجد ہو چکی ہے۔ اپنے غرور و نخوت کو اپنی زیرکی اور ہوشیاری جانتے ہیں اور اس پر فریفتہ ہیں اور کلام میں اس قدر تصنع پسند کرنے والے ہیں کہ ان کا کلام عوام میں نہایت دقیق اور باریک مشہور ہے، اور ائمہِ کرام کی شان میں اور اپنے استادوں کی قابلیت میں ان کی زبانِ طعن دراز ہے اور بزرگانِ دین سلفِ صالحین کے مقابلے میں اپنی فوقیتِ علمی بگھارتے ہیں۔ اگر کونین کا ان کے تفوقِ علمی کے مقابلے میں وزن کیا جائے تو ان کی تعلی کا وزن زیادہ ہو۔ جس قدر حسد کو انہوں نے مذہب بنا لیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام جہان کا کوئی عالم نہیں ہو سکتا۔ پھر علم ایک ایسی صفت ہے کہ انواعِ جہل علم سے منفی ہو جاتے ہیں۔

اور فقیرِ مداہن وہ ہے کہ اگر اس کی خواہشاتِ نفسانی کے مطابق کوئی کتنا ہی غلط کام کرے وہ اس کا مداح ہوگا، اور اگر اس کی مرضی کے خلاف کچھ کرے خواہ کتنا ہی صحیح کام کیوں نہ ہو، اس کی برائی میں وہ کبھی کمی نہ رکھے؛ اور عوام کے آگے اپنے عملوں کا مظاہرہ کر کے عزت و رفعت کا خواہشمند رہے اور باطل پرستی میں عوام کے آگے حق گوئی سے زبان روکتا رہے۔

اور متصوفہِ جاہل وہ ہیں جو کبھی کسی پیرِ کامل کی صحبت سے مستفید نہ ہوئے اور کسی مرشد سے تعلیم نہ لی اور عوام میں اپنے آپ کو باکمال کہلانے کی آرزو رکھیں۔ مصائبِ زمانہ اور نشیب و فرازِ علم کا ذائقہ تک کبھی نہ چکھا ہو، مگر اندھے جاہلوں میں اپنے کو بہکی بہکی باتیں بنا کر کامل کہلوائیں اور ذلت و تذلیل کی راہیں اختیار کر لیں اور بے وقوفوں میں بیٹھ کر سب کو اپنے جیسا کہتے پھریں۔ ایسی حالت میں ان پر منجانب اللہ راہِ حق پوشیدہ ہو جاتی ہے اور وہ اسی ظلمت میں پڑے رہتے ہیں۔

غرضیکہ یہ ہر سہ گروہ وہ ہیں جنہیں حضرت معاذ بن رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بتا کر اپنے مریدوں کو ان کی صحبت سے مجتنب رہنے کی ہدایت فرمائی ہے[cite: 33, 34]۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ تینوں گروہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے عمل کی رفتار باطل ہے۔

۹۸

حضرت ابو یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

عَمِلْتُ فِي الْمُجَاهَدَةِ ثَلَاثِينَ سَنَةً، فَمَا وَجَدْتُ شَيْئًا أَشَدَّ عَلَيَّ مِنَ الْعِلْمِ وَمُتَابَعَتِهِ.

"میں نے تیس سال مجاہدہ کیا مگر مجھ پر کوئی چیز سخت ترین نہ محسوس ہوئی سوائے علم اور اس کے اتباع کے"۔

ہر قدم آگ پر رکھنا طبیعت گوارا کر سکتی ہے مگر علم کے موافق اطاعت کرنا اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ پل صراط پر سے جاہل ہزارہا بار گزرنا گوارا کر سکتا ہے مگر اسلامی احکام کے ایک مسئلے کو سیکھ کر اس پر عمل کرنا مصیبت اور بلا ہے۔ جہنم میں خیمہ لگا کر بیٹھنا آسان ہے اس سے کہ ایک مسئلہ شرعی معلوم کر کے اس پر عمل کرے۔

لہٰذا چاہیے کہ علم حاصل کیا جاوے، اور اس پر بحدِ وسعت عمل کرنے کی سعی ہو اور یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ بندہ جب علم میں درجہِ کمال حاصل کر لیتا ہے تو وہ علمِ الٰہی کے مقابلے میں ایک جاہل کا درجہ پاتا ہے۔ پس لازم ہے کہ انسان وہاں تک علم حاصل کرے اور حقائق جانے جہاں تک وہ نہ جانتا تھا۔ اس اجمال کا خلاصہ یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی بندگی کے سوا کچھ جان ہی نہیں سکتا۔

اور بندگی ہی بندہ کے لیے حجابِ اکبر ہے (جو جہنم سے اسے بچائے گی)۔ اسی حقیقت کے اظہار میں کسی بزرگ نے فرمایا ہے

الْعِجْزُ عَنْ دَرْكِ الْإِدْرَاكِ إِدْرَاكٌ

وَالْوَقْفُ فِي طُرُقِ الْأَخْيَارِ إِشْرَاكٌ

"درکِ ادراکِ ذات سے اظہارِ عجز کرنا ہی ادراکِ ذات ہے اور محض روایاتِ اخیار پڑھ کر کورانہ تقلید کرتے ہوئے ان کے اقوال کی نقل کرتے پھرنا شرکِ اکبر ہے"۔

1- تفسیر مظہری میں یہ شعر اس طرح نقل کیا گیا ہے

العجز عن درك الإدراك إدراك، والبحث عن سر الذات إشراك

سمجھ آئی سمجھ میں کچھ نہ آیا

سمجھنا ہی تمہارا یہ خطا ہے

۹۹

جو کچھ جانتے ہیں، ناچار ہیں کہ وہ حقیقت ہے؛ اور وہ ہیں لوگ جو جانتے ہیں اور ان پر ان کے علم کے کمال نے یہ ظاہر کر دیا ہے، ان پر فضلِ الٰہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے علم پر غرور و فوقیت کرنے سے محفوظ ہو جاتے ہیں اور ان پر حقیقتِ واقعہ ظاہر ہو جاتی ہے کہ ان کا علم، علمِ الٰہی کے مقابلے میں کچھ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ درحقیقت اور واقعہ بھی یہی ہے کہ حق تعالی جل شانہ کے نزدیک علمِ مخلوق محض عدم سے ہے، وہ سیاہی اور اس کا اثر معانی نہیں ہیں۔

پس خلاصہ یہ ہے کہ ادراکِ ذات سے اظہارِ عجز کرنا ہی ادراکِ ذات ہے[cite: 34, 35]۔

صفحہ ۱۰۰

باب ۲: اثباتِ فقر

اے عزیز! یاد رکھو کہ فقر و درویشی کا راہِ معرفت میں بہت بڑا نام و درجہ ہے اور درویشی کے اس راستے میں بڑے خطراتِ جلی و خفی ہیں۔ ارشادِ باری تعالی جل شانہ ہے

لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ

"(ان صدقات کے مستحق) وہ فقراء ہیں جو اللہ کی راہ میں روکے گئے ہیں، وہ زمین میں سفر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، ناواقف انسان ان کی بے نیازی و تعفف کی وجہ سے انہیں غنی و مالدار سمجھتا ہے"۔

اور ارشاد ہے

وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَن رَّزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا

"اور اللہ نے مثال بیان فرمائی ایک بندہِ مملوک (غلام) کی جو ظاہر کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ (دوسرا آزاد) جسے ہم نے اپنے پاس سے عمدہ رزق عطا فرمایا"۔

اور فرمایا

تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا

"جدا رہتے ہیں ان کے پہلو خواب گاہوں سے، وہ اپنے رب کو خوف اور امیدِ بے نیازی سے پکارتے ہیں"۔

اور حضور سیدِ دو عالم الفخر و السرور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا اور فقر کو یوں فرمایا و پسند کیا

اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ[cite: 36, 37]

۱۰۱

"اے اللہ! مجھے مسکینی کی کیفیت میں زندہ رکھ اور مسکینی ہی میں مار اور زمرہِ مساکین ہی میں محشور فرما"۔

اور اللہ تعالی قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا

ادْنُوا مِنِّي أَحِبَّائِي، فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: مَنْ أَحِبَّاؤُكَ؟ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فُقَرَاءُ الْمَسَاكِينِ۔

"قریب لاؤ میرے احباء و محبوبوں کو! تو فرشتے عرض کریں گے: اے رب! وہ محبوب کون ہیں؟ تو ارشادِ باری ہوگا: وہ فقراء و مساکین ہیں"۔

اور مثل اس کے فضل و مناقب کی بہت سی آیات اور احادیث ہیں جو شہرتِ روایت کے ساتھ مستند و دلالتِ کتاب ہیں۔

اور مراد ان سے یہ ہے کہ عہدِ رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم میں جو خاص فقراء و مساکین تھے وہ مہاجرینِ کرام تھے۔ جنہوں نے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے مسجدِ نبوی میں قیام فرمایا اور عبودیت ادا کرنے کے لیے چھوڑ دیا اپنا گھر بار (انہیں اصحابِ صفہ کہا جاتا ہے)۔

۱۰۲

جنہوں نے دنیا سے اعراض کر کے، توکل اور فضلِ الٰہی پر نفع رساں ہونے کے وعدے پر یقین کر کے بیٹھ رہنے کے متعلق ارشادِ باری تعالی ہوا اور اپنے حبیبِ پاک کو مخاطب کر کے ان کا خیال رکھنے کی ہدایت فرمائی

وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ

"ان لوگوں کو نظر انداز نہ فرما جو لوگ اپنے رب کو صبح و شام یاد کرتے اور پکارتے ہیں اور صرف اس کی رضا چاہتے ہیں"۔

اور فرمایا جل جلالہ

وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا

"ان سے اپنی نظر نہ ہٹاؤ کہ حیاتِ دنیا کی زینت کا خواہش مند بنے"۔

چنانچہ حضور سیدِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان اصحابِ صفہ کو ملاحظہ فرماتے تو بے ساختہ آپ کی زبانِ مبارک سے ارشاد ہوتا: "میرے ماں باپ ان پر نثار ہوں کہ اللہ تعالی نے ان کی نگرانی کی مجھے ہدایت فرمائی"۔ غرض یہ کہ اللہ تعالی کے نزدیک ان کا بڑا درجہ و مقام ہے اور فقیری کو ان کے مرتبہِ عالی کے ساتھ ممتاز فرمایا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جو درویش ہیں انہوں نے اسبابِ ظاہری و باطنی کو ترک کر کے خلق سے اسباب کی توجہ رب کی طرف موڑ دی اور اس پر توکل رکھا، اور احکامِ الٰہی کا اتباع فقراء کے لیے محبوب ہے۔ اور رضا، تسلیم اور فقر کا وقار ان کے دلوں پر اس طرح نقش ہے کہ اس کے چھوٹ جانے سے وہ ایک لمحہ کے لیے زندہ نہیں رہ سکتے۔ ان کے لیے فقر کے لوازمات و مراسم خاص ہیں، لہٰذا اس کے سب سے زیادہ مستحق یہ مقدم لوگ ہیں اور اسی سے راضی و مسرور ہیں، اور ان کی نظروں میں سواۓ حق کے تمام اسباب ذلیل ہیں۔

اور جس نے بغیر فقر کے درویشی اختیار کی وہ صرف نام کا فقیر رہا، اور اس میں اس نے مراد نہ پائی تو حقیقتِ فقر سے کوسوں دور رہا؛ اور جس نے حقیقتِ فقر کو پا لیا، اس نے موجودات سے بے نیازی حاصل کر لی اور فناء فی اللہ میں مستغرق ہو کر بقاء باللہ میں چلا گیا۔

مَنْ لَمْ يَكُنْ لِلْفَقْرِ لَمْ يَسْمَعْ سِوَى هَوَى رَسْمِهِ.

"یعنی جس نے فقر کی حقیقت نہ جانی اس نے سواۓ اسمِ فقر کے کچھ نہ سنا"۔

۱۰۳

تو حاصلِ کلام یہ ہوا کہ فقیر وہی ہے جو اپنے پاس علل و اسباب سے کچھ نہ رکھے اور اس کی طمانیتِ قلب میں اس کے نہ ہونے سے کچھ خلل واقع نہ ہو؛ اور اسباب کو دیکھ کر غنی نہ ہو اور اسباب نہ ہوں تو ان کی طرف احتیاج محسوس نہ کرے۔ گویا اسباب کا ہونا یا نہ ہونا اس کی نظر میں مساوی ہو، بلکہ اسبابِ ظاہری نہ ہوں تو اسے فرحت زیادہ ہو، یہ بلند مرتبہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مشائخِ کرام نے فرمایا کہ درویش جس قدر تنگ دست ہو، اس کے لیے مفید ہے تاکہ حقیقتِ توکل و شانِ رزاق کے راز کا اس پر انکشاف ہو۔ اس لیے کہ درویش کے لیے علائقِ دنیاوی جس قدر زیادہ ہوں گے اسی قدر اس کو نقصان ہوگا۔ غرض یہ کہ درویش در حقیقت وہی ہے جو ضروریاتِ زندگی کی کسی چیز سے واسطہ نہ رکھے مگر اسی قدر جس قدر کہ اس کی ضرورتِ قوتِ لایموت کو کافی ہو۔ غرضیکہ محبوبانِ الٰہی کی زندگی کا محض الطافِ خفی اور اسرارِ بے نیازی کے ساتھ وابستہ رہنا ہی بہتر و افضل ہے۔

لہٰذا صوفی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اپنے محبوب سے وابستہ رکھے اور دنیائے غدار و بے وفا کے علل و اسباب سے آزاد رہے کہ یہ دنیا سرائے فجار و فساق ہے؛ اور صوفی کا سرمایہِ زندگی محبتِ محبوبِ حقیقی ہے اور متاعِ دنیا متاعِ راہِ رضا و صبر ہے۔

حکایت

کہتے ہیں کہ ایک درویش کی ملاقات ایک بادشاہ سے ہوئی۔ بادشاہ نے کہا کہ کچھ مانگیے۔ درویش نے کہا: میں اپنے غلاموں سے کوئی حاجت روائی نہیں چاہتا۔ بادشاہ نے کہا: یہ کس طرح؟ درویش نے فرمایا: میرے دو غلام ہیں اور وہ دونوں تیرے مالک و صاحب ہیں: ایک حرصِ دنیا، دوسرا طولِ امل (یعنی امیدِ غیر متناہی)۔

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے

الْفَقْرُ عِزٌّ لِّأَهْلِهِ.

"فقر اہل فقر کے لیے موجبِ عزت ہے"۔

تو جو چیز اس کے اہل کے حق میں عزت ہوتی ہے، وہ اس کے نااہل کے لیے موجبِ ذلت ہے۔ اور فقیر کی عزت یہی ہے کہ وہ محفوظ الجوارح ہو یعنی اس کے جسم کا کوئی جز حوائج و ضروریات کا احساس کر کے جادہِ صبر و رضا سے لغزش نہ کرے، اور اس کے دل و جان پر کبھی غفلت نہ آئے[cite: 39, 40]۔

1- المقاصد الحسنة / احیاء علوم الدین

۱۰۴

اور نااہل کا فقر و فاقہ ہمیشہ ظاہر ہوتا ہے اور اس سے ہر وقت دنیا کی آفت و بلا ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا اس کا روحانی اور دلی رابطہ اللہ کے ساتھ نہیں قائم ہو سکتا۔ لیکن جب انسان کا باطن شمعِ محبتِ الٰہیہ سے منور ہو جاتا ہے تو ہر چیز اس کے تصرف میں آ جاتی ہے اور یہی فقرِ حقیقی ہے اور عوام الناس کو اس سے کوئی علم نہیں۔

فقیر وہ شخص ہے جو شہرت، لوگوں کے رجوع اور دکھاوے سے بے نیاز ہو۔ اگر یہ تمام دنیاوی دولت و ملکیت کا مالک بھی بن جائے تو اسے دنیاوی ملکیت سے کوئی غرض و بے پروائی رہتی ہے۔ پھر اس فقیر کا باطن ایسا ہوتا ہے کہ دونوں جہان اس کے فقر کے پائے میں تنکے کے برابر بھی وزن نہیں رکھتے اور ایک سکون و اطمینانِ سالک میں سما نہیں سکتے۔

صفحہ ۱۰۵

فقر افضل ہے یا غنا

با اعتبارِ تاریخ و قرونِ نخستین اس امر میں مشائخِ کرام کا اختلاف ہے کہ فقر افضل ہے یا غنا۔ اس کی حقیقی تو صرف ذاتِ واجب تعالی شانہ ہے، اور ما سوا کے اوصاف میں کامل ذاتِ واجب تعالیٰ کے کوئی نہیں۔ حضرت یحییٰ بن معاذ رازی، اور خواجہ جنید، ابوالحسن بن عطاء، رویم بن احمد، ابوالحسن بن شمعون رحمہم اللہ اور متاخرین میں سے جن کے الفاظ ہیں: فناء السالکین صفتِ فقر، حضرت ابو الحسن علی بن احمد الخرقانی رحمۃ اللہ علیہ اس امر پر متفق کے مقابلے میں، اس دعوےٰ پر ان کی دلیل یہ ہے کہ غنا صفتِ حق سبحانہ وتعالیٰ ہے اور فقر اس کی ذات کے لیے ممنوع ہے۔ تعلق ولاء میں وہ صفت جو میانِ عبد و معبود مشترک ہو، وہ غنا ہے اور شرکتِ صفت نظیر ذاتِ واجب تعالیٰ شانہ کے لیے روا نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ بیشک یہ بھی صحیح ہے لیکن شرکتِ معنوی، اور شرکتِ معنوی اس وقت ہو سکتی ہے جب امکانِ مشارکت ہو۔ پر وہ صفاتِ واجب تعالیٰ شانہ قدیم اور صفاتِ خلق حادث۔ جلال ہے اور یحییٰ بن عثمان جلابی کہتے ہیں کہ شرکتِ معنوی کا نام غنا صرف ذاتِ باری تعالیٰ شانہ کے لیے شایانِ شان اور لائق ہے، اس نام کی صفت نہیں ہوتی۔

زیبائے اور حضرت جلّ وعزّ اس کی اور فراوانی صفت ہے کہ اس میں فقر مخلوق کے لیے اور ذات کے لیے یہ ناروا۔ اور اگر مجازاً اس کو غنا کہہ دیتے ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ درحقیقت غنا ہے؛ اور پھر یہ بھی روشن و با ہر ہے کہ ہمارا غنا محض وجودِ اسبابِ ظاہری پر مبنی ہے اور ہم اس سبب سے فنا کی وجہ سے اس وقت تک کہلا رہے ہیں جب تک کہ ہمارے پاس مال و دولت ہے۔ برخلاف غنائے حقیقی پروردگار عالم کے، کہ وہ اسباب والا بندے کو اور اپنے فضل کے ذریعہ غنی بنانے والا ہے۔ پس غنائے حقیقی کے لیے ملک و اسباب علتِ غنا نہیں۔ مشارکت اس اعتبار سے صفتِ غنا کا وہم بھی باطل ہوا۔

اور حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کو ذاتِ خالق میں مشارکت نوعِ ذات ہے، تو جب شرکتِ مرتبتِ ذات میں نہ ہوئی تو یقیناً صفات میں بھی شرکت نہ ہوگی...

۱۰۶

اب رہا نام رکھ دینا، اور کہہ دینا کہ فلاں مالدار ہے، یہ بنا خود ایک نام ہے جو میانِ عبد و معبود مشترک ہے۔ اس کی حقیقت کی حد نہیں۔ پس خلاصہ اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ وہ غنا جو حق تعالیٰ شانہ کی صفت ہے، اس کی صفتِ قائم بذات ہے... بندے پر جو چاہے کرے؛ اس کے ارادے اور مشیت کو کوئی نہیں روک سکتا، نہ اس کے پیدا ہونے میں کوئی مانع بننے کی طاقت رکھتا ہے، نہ اس کے ارادے کے مقابل کوئی مخالف ارادہ لا سکتا ہے۔ اس کے دار الاختيار میں کسی کو مجالِ دَم زدن نہیں۔ اس کی تمام صفات قدیم ہیں۔ ہمیشہ وہ اپنی صفات سے متصف رہے گا اور ہمیشہ سے متصف تھا، برخلاف غنائے بندہ کے کہ وہ اپنی حیاتِ چند روزہ میں حصولِ مال و اسباب سے مالدار ہوتا ہے...

نسبت میں بھی غنا کے ایک فرض ہے۔ فرض کیجیے، حادث فقیر بھی، طالب بھی، عاجز بھی، کبھی واہبِ ارادہ... غرض کہ بندہ ہر حال میں محتاجِ بازالۂ احتیاج ہے، اور تعالیٰ شانہ کا غنا ذاتی و قدیم ہے۔ اس پر عدم کی فکر نہیں۔ چنانچہ وضوحِ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِيْدُ ﴿۱۵﴾ "اے لوگو! تم محتاج اور فقیر ہو اللہ کے، اور اللہ ہی غنی اور حمید ہے۔" (سورۃ فاطر: ۱۵)

اور فرمایا

وَاللّٰهُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ

"اور اللہ غنی ہے اور تم سب اس کے محتاج اور فقیر ہو۔" (سورۃ محمد: ۳۸)

عوام الناس میں یہ عام مشہور ہے کہ اگر درویش مالدار سے افضل ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خوش قسمت بنایا اور عطائے نعمت پر شکر کا حکم دیا، اور وہ جاہل اس غنا اور نعمت سے مراد کثرتِ مالِ دنیا چاہتے اور سمجھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ دنیا میں شہواتِ نفسانیہ کے موافق عمل کرنا اور اس کی خواہش کا پورا ہو جانا کامیابی ہے، اور اسی کا نام غنا و تو نگری ہے؛ اور اس قسم کی نعمت پر شکر کرنے کا حکم فرمایا، اور فقر و صبر کی فضیلت پر جو مصیبت و بلا ہے جس پر صبر کا حکم ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حقیقتِ شکر معلوم ہو چکی کہ وہ بذلِ نعمت پر ہوتا ہے اور شکرِ نعمت پر کثرتِ مال و غنا پر شکر کرنے پر زیادہ کر دینے کا وعدہ فرمایا ہے... مگر فقیر صبر ہی کرتے ہیں...

۱۰۷

پر صبر پر تقرب عطا فرمانے کی بشارت ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے

"بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔" فَإِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

اور شکر تو صرف علتِ ازدیادِ نعمت ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے

لَئِن شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ ﴿۷﴾ "اگر تم شکر کرو گے تو نعمت میں تم کو زیادہ دوں گا۔" (سورۃ ابراہیم: ۷)

اور جو فقر میں ہے وہ اصل امتحان ہے، جو صبر کرے گا، جو موجبِ تقرب ہے، اس کا تقرب اور بڑھ جائے گا، یہاں تک کہ ہم اس کے ساتھ ہوں گے۔ لیکن وہ غنا جس کو مشائخ کرام غنا کہتے ہیں، وہ دنیاوی مال و دولت نہیں ہے بلکہ وہ غنا مقامِ محبت میں ہے۔ تو اب واضح ہو گیا کہ غفلت اور چیز ہے اور محبت اور... اور محبت کا غنا وہی ہے جس کو ہمارے بعض مشائخ نے کہا ہے

اَلْفَقْرُ هُوَ الْغَنَاءُ بِاللّٰهِ.

"فقر وہ غنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی معیت سے حاصل ہوتا ہے۔"

اور اس سے مراد کشف و ابدیت ہے، جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے حاصل ہوتا ہے۔

لیکن ہم کہتے ہیں کہ کشف جو مشاہدۂ جمال سے حاصل ہوتا ہے، اس کو مشائخ نے غنا کا نام دیا۔ یہ لیکن حجاب سے پاک نہیں۔ اگر کہا جائے کہ کشف بھی حجاب ہے، تو لا محالہ بقائے حجاب میں اسے احتیاجِ مشاہدہ ہوگی۔ اس صورت میں اگر کہو کہ حجاب دوامِ کشف و مشاہدہ نہیں ہوا، یہ محال ہے؛ اور اگر کہو کہ مشاہدہ محتاجِ دلیل ہوتا ہے، تو نامِ غنا ساقط ہو گیا۔ اور درحقیقت جس غنا کو مشائخ غنا کہتے ہیں، وہ کبھی کسی درویش کو حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کو حاصل ہوتا ہے جو تمام الصفت اور ثابت الارادہ ہو؛ اور بقائے اقامتِ مراد اور اثباتِ اوصافِ آدمیت میں لفظِ "غنا" درست نہیں ہوتا۔

اس لیے کہ انسان کا موجود کیف قابلِ غنا ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لیے کہ وجودِ بشر حقیقت میں عینِ نیاز ہے، اور جو حادث طرفِ امتیاز ہو، وہ محتاج ہے۔ تو جو باقی الصفت ہو تو وہ غنی ہے، اور جو فانی الصفت ہو اس کے لیے کوئی نام بھی موزوں نہیں۔

اَلْغَنِيُّ مَنْ اَغْنَاهُ اللّٰهُ یعنی غنی وہ ہے جسے اللہ غنی کر دے (کا مفہوم بلحاظِ معنی یہی ہے)۔ یعنی اللہ ہے جو فاعل ہے اور جسے غنی کیا وہ مفعول ہے۔ نیز فاعل ہمیشہ قائم بالذات ہوتا ہے، وجود مفعول فاعل کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے...

۱۰۸

بندگی درست اور پاک ہوئی۔ یحییٰ بن معاذ جلابی کہتے ہیں کہ: جب اثباتِ عبدیت صفتِ ربوبیت بن صفتِ عبودیت کے لیے درست نہ ہوا۔ اس لیے کہ بقائے عبدیت و فنائے صفتِ ربوبیت، ان تمام صفات کے سوا ہے جو فنا کے دلائل میں بیان کرتے ہیں؛ اور فنا وہ صفت ہے جو علت و موجبِ آفت ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے اور کسی اسم کی ذات کے ساتھ باقی نہ رہے، اسے فانی کہنا بھی درست نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ جو فانی کے ساتھ قائم ہے، جب صفت فانی ہے، اس کا قائم بنانا لغو ہے؛ اور ظاہر ہے کہ انسان کی صفت سے تجاوز ہو کر صفتِ غنا صفتِ واجب تعالیٰ شانہ کا نام رہے گا۔ بندے کی صفت ثابت نہیں رہ سکتی۔ اس لیے کہ معدوم پر فنا کا اطلاق درست نہیں، اور صفتِ فقر عاجز انسان کے لیے ہے۔

جس کے لیے لوگ مشائخِ کرام کے اس قول کی فضیلت اور اس مسئلہ میں پر اجماعِ امت ہے۔ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ میں اس کی فضیلت پر برقرار ہے۔ اور ابنِ عطاء کے اس مسئلہ پر بحث کی کہ ان کا قول ملتا ہے کہ روزِ محشر ایک فقیر قیامت میں حساب میں پیش کرے گا، اور کہا جائے گا کہ اغنیا سے لغزش ہو گئی۔ ابن عطاء کی فضیلت پر دلیل... اور اگرچہ ان میں واسطہ ہو، اس کا شرف سرِ مو اس محاسبہ میں تفتیشِ حقیقی سے کام لیا جاتا ہے۔

حضرت جنید نے فرمایا: نے یہ دیکھا کہ حساب بھی بندہ سے معاتَبت کا سبب بنے گا اور عذر خود بھی... محاسبہ فرمایا، اغنیا سے پوچھا جائے گا مگر درویشوں سے عذر لیا جائے گا۔

چاہنا عذر کا بھی۔ یہ ایک عجیب و غریب لطیف بات سنائیں: وہ کہ مقامِ محبت میں ایسا مقام ہوتا ہے جو مخالفت اور عتاب اس پر ہوتا ہے جو محبوب کی مرضی کے خلاف ہو۔ اور دل سے عذر کیا جاتا ہے۔ جب کہ محب کے لیے یہ دونوں باتیں آفت ہیں۔ اس لیے فروگزاشت کہ عذر ہی پر اپنا حق طلب کرے۔ تو محبوب اس کا حق ادا کرے... دوست کے ساتھ دوست کی یہ شان نہیں ہوتی کہ جب دوست محبوب کے خلاف کام کر بیٹھا ہو۔ اس وقت عذر کرے اور عتاب و بے عزتی اور حضور پر ہوتا ہے جو فرمایا... اور دونوں باتیں محال ہیں۔ رب و محبوب اپنے محب سے نافرمانی پر عتاب کرتا ہے، اور وہ اپنے اپنے مطلب میں ہوں گے۔

دوست کو دوست سے سوا طلبِ قرب کے ساتھ غنا کے ساتھ، اور درحقیقت کوئی فرق نہیں۔ سیدنا امیر... مگر دوست رہے گا، عطیات کو رد فرمائے گا۔ دوسری جگہ اسمِ فقیر رکھا حالانکہ اس کے رب نے... اس نے اپنے اوپر ظلم کیا جس نے ابنِ آدم ہو کر اپنا نام (ظاہراً امیر ہے اگرچہ اس نے اپنا نام فقیر رکھا ہے)۔ (وہ وجود کا نام خدائے فقیر کی بارگاہ میں فقیر ہے)۔

۱۰۹

ہو، مگر درحقیقت فقیر ہے، اور وہی ہلاک کیا گیا جس نے اپنے محبوب کو زندگی میں چھپایا۔ اگرچہ بظاہر اس کی بارگاہ میں خلعت و مسرت رہی ہو، اور صاحبِ صدق، صاحبِ صدق نہیں ہو سکتے۔

تفریق کا خلاصہ یہ ہے کہ ایوب علیہم السلام (مثلِ غنا) و سلیمان علیہم السلام (علیہ الصلاۃ والسلام)۔ اس لیے حضرت ایوب علیہ السلام کو جو کہ صفتِ صبر کرنے والے تھے

نِعْمَ الْعَبْدُ ﴿۴۴﴾ "کیا خوب بندہ ہے!" (سورۃ ص: ۴۴)

فرمایا۔ اور سلیمان علیہ السلام کو جب کہ وہ مملکت و حکومت کے اندر استقامت پر تھے، تو نِعْمَ الْعَبْدُ فرمایا۔

جب رضاۓ رحمٰن حاصل ہوئی تو ایوب علیہ السلام کو غنی اور سلیمان علیہ السلام کو فقیر گردانا گیا۔

نکتہ: میں نے استاد ابو علی دقق سے سنا کہ لوگوں نے فقر اور غنا میں گفتگو کر کے اپنے لیے ایک مقام منتخب کر لیا ہے۔ میں پسند کرتا ہوں کہ میرے لیے میرا رب جو پسند فرمائے اس میں ہی مجھے رکھے۔ اگر میرے لیے پسند فرمائے غنا، تو مجھے اپنی یاد سے غافل نہ کرے؛ اور اگر فقر پسند فرمائے، تو اس میں آفت میں ہونے سے محفوظ رکھے۔

غرضیکہ غنا بھی اس کی نعمت ہے، مگر اس سے جو غفلت پیدا ہو وہ آفت ہے سب کی متفقہ؛ اور فقر بھی اس کی نعمت ہے مگر اس میں اگر شکایت پیدا ہو جائے تو وہ بھی بلا و آفت ہے۔ گویا غنا و فقر دونوں نعمتِ حقیقی کے مظاہر ہیں، مگر اس میں جو عوارض پیدا ہوتے ہیں وہ مختلف ہیں۔ اس لیے کہ فقر نام ہے ماسوا اللہ سے دل کا فارغ ہونا، اور غنا نام ہے ماسوا اللہ سے مشغول ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔

جب توفیق الٰہی دونوں سے آزاد ہو جائے، تو نہ فقر غنا سے بہتر ہے اور نہ غنا فقر سے۔

غنا کثرتِ مال ہے، اور فقر قِلّتِ مال و وسائل ہے۔ اور مال وہ سب رب العزت کی ملکیت ہے۔ طالب نے جب ملک ترک کر دی تو مشارکت باقی نہ رہی، اور جب مشارکت نہ رہی تو غنا و فقر دونوں سے فراغت مل گئی۔

مشائخِ حقیقت میں سے ہر ایک نے فقر اور غنا کے معنی میں بہت سی باتیں کہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں اپنی استطاعت کے موافق ان کے ارشادات اس کتاب میں نقل کرتا ہوں۔

۱۱۰

ایک متاخرین صوفیاء میں سے فرماتے ہیں

لَيْسَ الْفَقِيرُ مَنْ خَلَا مِنَ الزَّادِ إِنَّمَا الْفَقِيرُ مَنْ خَلَا مِنَ الْمُرَادِ

"فقیر وہ نہیں جو مال و متاع سے خالی ہو بلکہ فقیر وہ ہے کہ جس کا دل خواہشاتِ باطل اور طمع و آز سے خالی ہو۔"

چنانچہ اگر کسی کو اللہ مال دے اور وہ اس کی محافظت میں اپنی زندگی بسر کرے تو وہ بھی غنی ہے، اور اگر منجانب اللہ کسی کو مال ملے اور وہ اس کے صرف میں اپنی قوت صرف کرتا ہے۔ لیکن یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جن کا تعلق ملک میں تصرف کرنے سے ہے اور یہ شانِ فقر کے خلاف ہے۔ در حقیقت فقر میں ترکِ محافظت اور ترکِ خیالِ اسراف لازمی ہے۔

حضرت یحییٰ بن معاذ رازی فرماتے ہیں

عَلَامَةُ الْفَقْرِ خَوْفُ الْفَقْرِ

"یعنی فقر کی علامت خوفِ فقر ہے۔"

یعنی سچا فقیر وہ ہے کہ کمالِ ولایت کی فرقت، قیامِ مشاہدۂ ذات کا آرزو مند رہ کر اس صفت کے فنا ہونے میں خائف رہے، اور زوالِ کمال و قطعیتِ مشاہدۂ جمال سے ڈرے۔ جب یہ بات فقیر میں پیدا ہو جائے تو سمجھ لو کہ اب وہ اپنے حال میں درجہ کمال کو پہنچ گیا؛ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کمال کو پہنچنے کے بعد زوال سے ڈرا جائے۔

اور رویم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

مِنْ نَعْتِ الْفَقِيرِ حِفْظُ سِرِّهِ وَصِيَانَةُ نَفْسِهِ وَأَدَاءُ فَرَائِضِهِ

"فقیر کی خوبیوں میں سے اپنے رازِ مکتوم کی محافظت اور اپنے نفس کے جھانسوں سے ہوشیار رہ کر فرائضِ محبوب کا ادا کرنا ہے۔"

غرضیکہ فقیر وہ ہے کہ اس کا ضمیر اغراض و ہوائے نفسانی سے محفوظ رہے، اور قیدِ نفس سے ہوشیار رہ کر اپنے معبودِ حقیقی کے فرائض کما حقہ ادا کرے، اور اس قدر ہوشیار رہے کہ جو اسرارِ باطنی اس پر منکشف ہوں ان کو ظاہر نہ ہونے دے، اور ہمیشہ اپنے حال پر قال کو نہ آنے دے؛ اور یہ علامت اس فقیر کی ہوگی جو کیفیتِ بشریہ سے متجاوز ہو کر عبدِ مطلق ہو چکا اور واصل بحق ہو گیا۔

بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

أَفْضَلُ الْمَقَامَاتِ اعْتِقَادُ الصَّبْرِ عَلَى الْفَقْرِ إِلَى الْقَبْرِ

"افضل ترین درجہ فقر کا یہ ہے کہ وہ صبر کے ساتھ دنیاوی تنگ دستی کو اس حد تک گزارے کہ میدانِ حشر کی محتاجگی تک وہ قائم رہے۔"

۱۱۱

یعنی فقر پر ہمیشہ صبر کے ساتھ رہنا فقیر کا درجہ کمال ہے، اور یہ مرتبہ عبدیت کا خاص مقام ہے۔ مقامِ عبدیت مقامِ فنا ہے۔ مقامِ فقر وہ مقام ہے جہاں مقامات بھی فنا ہو جاتے ہیں۔ غرضیکہ مقامِ فقر پر ہی کیفیتِ اعمال اور آفاتِ مال و مصائبِ زوال کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ اس اجمال کے ظاہر معنی یہ ہوں گے کہ غنا پر فقر کو فضیلت ہے، اور جب فضیلتِ فقر ظاہر ہو جائے گی تو فقیر اس امر کا عہد کرے گا کہ میں جادۂ فقر سے کبھی سرتابی اور روگردانی نہ کروں گا۔

حضرت شبلی نے فرمایا

اَلْفَقِيرُ مَنْ لَّا يَسْتَغْنِي بِشَيْءٍ دُونَ اللَّهِ.

"فقیر وہ ہے جو کسی چیز کے ساتھ سوا ذاتِ پاک سبحانہ و تعالیٰ کے، آرام نہ پکڑے۔"

اس لیے کہ اس کی مراد سوا اس ذات کے کوئی نہیں، اور اصل مطلب یہ ہے کہ بغیر اس ذاتِ غنی جلّ شانہ کے تو نگری حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو جب اس ذات کو پا لیا، تو نگر ہو گیا؛ اور یہ ظاہر ہے کہ وجودِ فقیر ذات کے سوا ہے۔ تو جب تو نگری ما سوا کو ترک کیے بغیر نہیں پا سکتا، تو خود وجودِ فقیر غنا و تو نگری کا حجاب ہوا۔ تو جب تک یہ وجود جو ما سوائے اللہ سے ہے، فنا نہ ہو جائے گا غنی نہیں ہو سکتا؛ اور جب اپنے کو فنا کر لے گا غنی ہو جائے گا۔

اہلِ تحقیق کے نزدیک یہ نکتہ نہایت باریک اور لطیف ہے، اور اس کی تحقیق و حقیقتِ معنی یہی صحیح ہو سکتے ہیں کہ

اَلْفَقِيرُ مَنْ لَا يَسْتَغْنِي عَنْهُ.

"یعنی فقیر وہ ہے کہ اس کی ذات میں ہرگز غنا نہ ہو۔"

اور یہ وہی بات ہے جو پیرِ کامل حضرت عبداللہ انصاری ہروی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمائی: کہ ہمارا رنج و اندوہ ابدی ہے، نہ ہمارا مرکزِ ہمت مقصود پا سکتا ہے، نہ ہمارا وجود کلیۃً دنیا و آخرت میں فنا ہو سکتا ہے؛ اس لیے کہ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لیے مجانست لازمی ہے اور وہ مقصودِ ازلی ہمارا ہم جنس نہیں۔ اور اس کے فرمانے اور اعراض کرنے کے لیے غفلت کی ضرورت ہے اور درویش غافل نہیں ہوتا، وہ تو دوامی خدمتِ ذمہ ہے اور ایک راہِ مشکل گزار سامنے۔

غرضیکہ ہمارا دوست وہ ہے کہ اس سے ملنے کے لیے ہماری سعی مدد نہیں کر سکتی، اور اس کا شربتِ دیدار حاصل ہونے کے لیے ہمارے اختیارات کو کوئی دخل ہی نہیں، اور اس کا وصل حاصل کرنا مقدورِ خلائق سے بالاتر۔ فنا ہونے سے اس کیفیت میں تبدل نہیں آتا اور باقی رہنے سے وہ متغیر نہیں ہوتا۔ پھر فانی محض باقی کیونکر ہوتا کہ وصل حاصل کرے، اور باقیِ ازلی کس طرح فانی ہوتا کہ فانی سے قربت کرے۔

مختصر یہ کہ اس کے طالب اور دوست کا کام محنت و مشقت میں رہنا ہے، اور جو کچھ لوگوں کے بیانات ہیں وہ سب دل کی تسلی کے لیے گھڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح اپنی جان کو تسکین دینے کے لیے مقامات و منازل و طریق کے نام رکھ لیے ہیں، ورنہ وہ جمیلِ حقیقی ان تمام اختراعی ناموں اور مقاموں سے پاک اور بالاتر ہے، اور وہ ذات اوصاف و احوالِ خلق سے منزہ۔

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ ﴿۱۵۹﴾ (سورۃ الصافات: ۱۵۹)

۱۱۲

حضرت ابو الحسن نوری قدس سرہ فرماتے ہیں

نَعْتُ الْفَقِيرِ السَّكُوتُ عِنْدَ الْعَدَمِ وَالْبَذْلُ عِنْدَ الْوُجُودِ.

"فقیر کی تعریف میں یہ ہے کہ جب نہ ہو، تو خاموش رہے اور جب ہو، تو خوب خرچ کرے۔"

اور فرمایا

اَلِاضْطِرَابُ عِنْدَ الْوُجُودِ.

"جب ہو تو مضطرب رہے۔"

یعنی جب نہ پائے سکوت کرے، اور جب پائے تو دوسرے کو اپنے سے زیادہ حق دار سمجھ کر اس پر خرچ کرے۔ اور یہ بھی فرمایا: کہ جب پاس ہو تو اس کو خرچ کرنے کی عجلت میں بے قرار ہو۔ اور چونکہ انسان کا مقصد لقمہ ہے، تو جب لقمہ حاصل ہو تو خود کھانے کی بجائے دوسرے آدمی کو اپنے سے زیادہ حق دار جانے اور اس پر وہ لقمہ صرف کرے؛ اور جب اس کی مراد لقمہ اسے حاصل نہ ہو تو اطمینانِ قلب کے ساتھ خاموش رہے۔

اس مقولہ میں جو حضرت ابو الحسن نوری نے فرمایا، دو معنی ہیں

ایک فقیر کا سکون و اطمینان بحالِ عدمِ رضا ہونا۔ یعنی خواہش و مراد کے خلاف میں خاموش و ساکت رہنا، اور حالِ رضا وجودِ لقمہ کے وقت دوسروں پر خرچ کر دینا۔ اور یہ دونوں باتیں وجودِ محبت کے بغیر نہیں ہو سکتیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ راضی برضاۓ محبوب مستحقِ خلعت ہوتا ہے اور عطا تقرب کی نشانی ہے۔ اور محب تارکِ خلعت اس لیے ہوتا ہے کہ اسے عطائے خلعت میں علاماتِ فرقت نظر آتی ہیں۔

دوسرے یہ سکونِ فقیر عدمِ وجودِ لقمہ میں ہو، اس لیے کہ وجودِ لقمہ وجودِ ماسوی اللہ ہے اور فقیر ماسوی اللہ سے آرام و سکون نہیں پاتا۔ اسی وجہ سے وہ ماسوی اللہ کو ترک کر دیتا ہے۔

اور یہی معنی شیخ المشائخ حضرت ابو القاسم جنید بن محمد الجنید رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کے ہیں جو آپ نے فرمایا

اَلْفَقْرُ خُلُوُّ الْقَلْبِ عَنِ الْإِشْكَالِ.

"فقر نام ہے تمام توہمات سے دل کا خالی رکھنا۔"

۱۱۳

جب فقیر کا دل تمام ترردات اور وہموں سے خالی ہو جاتا ہے، غرض سوا ایک کے اپنے دل سے نکال دینے کے سوا اور چارہ نہیں رہتا، اس لیے کہ وہ تمام غیرِ خدا اور ماسوائے اللہ ہیں۔

حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا

اَلْفَقْرُ بَحْرُ الْبَلَاءِ وَبَلَاؤُهُ كُلُّهُ عِزٌّ

"فقر دریاۓ بلا کا نام ہے، اور فقیر کے لیے بلا ہے؛ فقر میں عزت ہے۔"

اس پر ظاہر ہے، اور فقیر تمام اس کا حال ہے، اور حالِ فقیر زائلِ محبت اور محبتِ محبوب کے ذریعہ سے آ پہنچتا ہے۔ جیسا کہ دیدارِ طالبِ دیدارِ کامل ہو جائے، اور اغراض و خیال و حضورِ جمال کے گیل دینے کے لائق ہو سکے، اور فرمانِ محبوب ہی کانوں کے سنیں گے۔

غرضیکہ محبوبِ حقیقی کا عزیز بندہ وہی ہے جو بلاۓ محبوب بطیبِ خاطر اٹھائے۔ اس لیے کہ وہ بلا جو از جہتِ محبوب آائے، عزت و و حاصل ہے؛ اور تمناۓ دنیا و بلاۓ عرشِ دنیا حقیقت میں خوار ہیں۔ اس لیے عزت اس بندے کو ملنا ہے جو سچائیِ محبوب کے ساتھ اپنے حضور حاضر رہے، اور ذات اسے جو مشاہدہ کرے۔ اسے اپنے کو نشانِ محبت بنایا۔

لوگوں کو! بلا نظرِ شانِ حضوری ہے، اور رامِ غیر اور عیشِ غنا وہ بلا ہے جس کا مت مشاہدہ (حاضر بصورتِ حسن سے) وہ عاجز غنا ہے اور جو اعظمِ حضورِ حسن ہے وہ ذلیل۔

فقراء کرام رحمہم اللہ جمال اور دیدار کو بہر صورت اولیٰ پر معرفت ہے۔ حضرت جنید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

يَا مَعْشَرَ الْفُقَرَاءِ إِنَّكُمْ تُعْرَفُونَ بِاللَّهِ وَتُكْرَمُونَ بِاللَّهِ

"اے جماعتِ فقراء! تم عارف ہو نہ بننے کی وجہ سے ممتاز ہوئے ہو شان، اور یہی تمہاری عزت کا موجب ہے؛ پس لازم ہے کہ اپنی خلوتوں میں ہوشیار رہو قریب ہو۔"

اور دیکھو کہ اپنے رب کے ساتھ اس وقت تم کس طرح ادا کرتے ہیں، اور تمہیں معلوم ہے جب لوگوں میں تم درویش مشہور ہو جاؤ اور وہ تمہارے حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر منکرِ عظمت دیکھیں تو اس وقت تمہیں درویشی ادا کرنے میں ناسمٹ لو؛ یہ تمہاری اصلیت کے خلاف تمہارا نام اور ریس، تو تم ان کی اس آواز و پند سے سنو۔ اپنے کو با انصاف دیکھو، تم ایک فقیر جانو۔ اس لیے کہ بدترین انسان وہی مردِ خدا چاہیے کہ لوگ اسے بہترین انسان دیں، لوگ اسے درویش جانیں اور وہ درحقیقت ایمانِ بے گراں سے غنی ہو، اور محبت...

۱۱۴

منہ موڑے، وہ کامل مرد اور درحقیقت وہ درویشی ہوا، اور سب سے زیادہ افضل وہ ہے جو درحقیقت اللہ پاک کا مردِ خدا ہو۔ اس کی مثال جیسے کامل ہو جاتے ہوں درحقیقت اور ہو۔ اس طرح ہے جیسے کوئی ہو اور طبیبِ حکمت مریضوں کا علاج کرتا ہو، مگر جب بیمار ہو تو اس کی طب سے اسے کچھ فائدہ نہ پہنچے اور دوسروں کے آگے جھکتا پھرے کہ علاج کرائے؛ مگر طبیب کہے اور وہ درویش نہ ہو، اسے دوا کے مادے سے مطلق بے خبر ہے۔

اور اس کی مثال جس کو لوگ درویش جانتے ہیں: طبیبِ حقیقی ہے کہ فی الواقع طبیب ہے اور تمام مریضوں کا علاج کرتا ہے اور جب خود بیمار ہوتا ہے... اور اسے دوسرے طبیب کی اسے ضرورت پڑے گی، مگر اس کے تجویز کردہ نسخے سے فائدہ خود ہی اٹھاتا ہے... اس کا خیال کہ لوگ مریض کہیں، لوگ طبیب کامل نہیں جانتے، اور وہ کامل مرد ہوتا ہے اس لیے کہ ایک طبیبِ کامل سے لوگ طبیبِ کامل نہیں مانتے، اور وہ عوام کی مشغولیت سے آزاد رہ کر اپنے نظامِ حکمت کا پورا نظام ہوئے سے ہے۔ اپنے مزاج کے موافق کے بغیر لطیف بشریت، معطر، ہوا معتدل حاصل کر کے...

تاکہ اس کے پاس مریضوں کا اثر بھی نہ بنے، اور عوام کی... اس کے حال سے بالکل بے خبر ہیں۔

بعض عارفین فرماتے ہیں

اَلْفَقْرُ عَدَمٌ بِلَا وُجُودٍ.

"اصل فقر عدم بلا وجود کا نام ہے۔"

اس کا مطلب واضح طور پر بیان کرنا سخت مشکل ہے۔ اس لیے کہ فقر میں... ہوتی ہے اور جب تک عدم کا نام ہے وجود نہ بیان کی طرح کیا جائے۔ عدم کا مفہوم اس بارِ سوائے اللہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ان کے نزدیک فقر کوئی چیز اور اعیانِ اشیا کا اجتماع اور اقوال و افعال ان کے باطل ہیں۔ اس لیے کہ فقیر اپنی ذات میں معدوم نہیں ہے؛ اور اگر اس عبارت میں عدم سے عدمِ مراد نہ لیا جائے بلکہ عدمِ آفت مراد ہو تو صحیح ہے، اس لیے کہ آفت اوصافِ انسان سے ہے...

اور فقیر کا قرب و...

گو کوئی صفت... اور وہ صفتِ ربوبیت الٰہی سے... عَزِيزٌ إِلَى اللَّهِ... مَوْصُولٌ إِلَى اللَّهِ

ذلیل ہے... جب اس کو معدوم کر دیا تو انسانی رفتار کو بھی معدوم کیا، وہی یارِ منزل حقیقی وجود ہوگی؛ اور اس میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔

پس میں نے کلام کا یہ اربابِ علم ایک گروہ دیکھا جو نہیں جانتا، تو وہ اس قول کا استہزاء کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قال غیر معقول ہے... اگر دوسرا دیکھا تو جو اس قول کا ماننے والا اور اس پر عقیدہ رکھتا ہے کہ اَلْفَقْرُ عَدَمٌ بِلَا وُجُودٍ ہے۔

اور حقیقتِ حال یہ ہے کہ اصل حال دونوں کو معلوم نہیں، اسی واسطے دونوں...

ہاں تمام فراہم کردہ صفحات کا تحریری (Text) متناظر درج ذیل ہے

۱۱۶

...رد ا ج 5و نے .-ای گروہ بھی رنگم رصراقت لم ہوااوردسرا ۳-ل رت جان کر: بب میا ایک چا کی دوسرے نے عم اور تا ے عرادنا قاملِ تحریف صفات نےکرستودہ صفا تکی طل بکر نی ترک تکوستودوشعفت عف بگولیا- اورورخیقت بات بی ےکر نف ر کےسعتیکلیہ کے یان سے فخودورولیش بھی عارل اور ے ورولی پروی کا کام سےحکتسب جال کے تام افا لکو دراو لی می قولیت بت عاسل ال تتقصود کے اسبا بکلیہ سے ق لا یکا نہتگراسراادالہ یک یگزرگاە وی درو ہہوتاسے اور ج بتک ہوی تک سے۔ ایک دقت وہ جا ےک تمام افعالل درولیش قیرکسب سے جاتے دبا ہو ہیں۔ ال وت اس کپ لکی بت بھی اس سے تفع ہو انی ہے)ا(۔ اورالفاط دس یکوحتتا ےکوئی تیر نت بیئتیں بل اسرارورمو ز اہی ے جو پوٹخیر یر واردوصادروتا سےا سیگ لگز رگا نی رہوتا ہے خودراہ نکر زویا صاحب انقیار۔ یق یکا ممکواپے افقیار ےی ںکرنا۔ نکی کو اپنے اغیارے لیتاء ند یکو پااختیارخودو کا ہے۔ اگر چو ون یٹ الجرذات واجب تع لی شاء سے نی ر ےگ ذات تی شال کا یی نان خائ ے۔

ھم نے ای کگردہاورگھی دیکھا جو مدگ یکلام اورائل ز بان تھا۔ لمفمون دہ ا وجودکی ے کال عی نفقر جا تھا اوراسے ببہ تدم پالشا نتھری فکتا تھا۔ دوس اگردو دی اک یقت نر کے بیان م ادرعدم نف ی جیا نکومقدم جات تھ اور ننق رم صفات نی کے” قرارد ی تھ۔ ایک گردہ ایا دیھا کہ اس کے نز ویک عفوت ام جب ہی عاصل ہوقی ہے تہ طلب می میںنی دی فقھرہے اوردرتقیقت متا مگردہ اپنے اپے خیالات کے تیابوں یں قیقد نقرسے موب ہیں۔ تحیق تک دکی جاے۔أی کگروہ دیکھا ٹن کے نزو موجودات کیک سوا ساب تک مم ٹیک ام اس لیک سب سے کال ولابیت ‏ ان سکاب یھنا ضمروری ہے اور اس ہی تو لکی عقیقت سو طرزٹ یکرنا اور انس کے کیک نہکی محبت پیا ہونا ہی ضطایت الخایا ت أظر ہے و طال بج یکو ای تقییقت کے ببھے اض چار یں اور اس را وکوکبور کسے خی رکا میا یل اور انی عبارا ت کا اکچھی طرح جھ نا اس راس ت کی رادو لازگی رکم شش اکہراہ ہت ور محبت ے ناواقف ر ہک رعوا مکی طرح موک مان پٹ جانمیءااس لیک رتا قواعداصول سے یلت ہیں اورقمام جن تیات فرو سے پچ رم

١۔ بقول شاعر: تم ذات خداے نہ جداہو شراہو الج یکومعلوم ہے مکون ہو کیا ہو چوش خدائی محبت بر درست ‏ خدرد داد گواہی بر تو نضسب