کشفِ حجابِ وہم: اصطلاحاتِ صوفیاء
جان لے تُو! اللہ تجھے سعید فرمائے کہ ہر اہلِ صنعت و معاملت نے باہمی کلام کرنے کو الفاظ و کلمات وضع کیے ہیں، جن سے عوام واقف نہیں ہوتے لیکن اہلِ فن سمجھ لیتے ہیں اور ان اصطلاحات و کلمات کے وضع کرنے سے دو چیزیں مراد ہوتی ہیں: ایک سمجھانے میں خوبیوں اور باریکیوں کا آسان ہونا ہے تاکہ پوشیدہ راز آسان ہو جائیں۔ دوسرے فن والا فن والے سے سمجھ سکے اور ناہل لوگ اس بھید سے محروم ہی رہیں۔
اس کے دلائل واضح ہیں، جیسے صرف والے فعلِ ماضی، مضارع، صحیح، معتل، اجوف، لفیف، ناقص وغیرہ بولتے ہیں۔ نحوی لوگ رفع، ضمہ، نصب، فتح، خفض، کسر، جزم، جر، منصرف، غیر منصرف وغیرہ بولتے ہیں۔ اہلِ عروض بولتے ہیں بحور، دوائر، سبب و تد، فاصلہ وغیرہ۔ اہلِ حساب اپنی مخصوص اصطلاحات میں فرد، زوج، ضرب، قسمت، کعب، جذر، اضافت، تضعیف و تنصیف، جمع و تفریق بولتے ہیں۔
فقہاء کی اصطلاحات مخصوص ہیں: جیسے علت، معلول، قیاس، اجتہاد، دفع، الزام وغیرہ۔ محدثین بھی مخصوص اصطلاح میں مسند، مرسل، احاد، متواتر، جرح، تعدیل وغیرہ کہتے ہیں۔ متکلمین نے بھی اپنے لیے اصطلاحات وضع کر رکھی ہیں جیسے عرض، جوہر، کل، جزو، جسم، حدث، تحیز و توالی وغیرہ۔
اسی طرح اس طائفۂ صوفیاء کی بھی اصطلاحات ہیں تاکہ اس راہ میں کوئی ناواقف تصرف نہ کر سکے اور اربابِ طریقت اپنا مقصد پورا ادا کر سکیں۔ چنانچہ ان کی اصطلاحات میں سے کچھ بیان کرتا ہوں تاکہ واضح ہو سکے کہ اس کی مراد اس بیان سے کیا ہوتی ہے اور اس کتاب کے پڑھنے والے فائدہ حاصل کر کے میرے حق میں دعا کریں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اسی میں سے حال اور وقت اور دونوں کا فرق بیان کرتا ہوں۔
حال اور وقت
طائفۂ صوفیاء میں یہ لفظ بہت مشہور ہے اور مشائخِ کرامؒ کے اس میں بہت اقوال ہیں۔ میری مراد اس سے اثباتِ تحقیق ہے نہ کہ طویل بیان۔ وقت اسے کہتے ہیں کہ بندہ اس کی وجہ سے ماضی و مستقبل سے فارغ ہوتا ہے۔ یعنی ایک کیفیت جو وارد ہوتی ہے، وہ حق کی طرف سے اس کے دل پر پہنچے اور اس کے سر کو اس سے جمع کرے جیسے کشف میں جمع ہوتی ہے تو اس حال میں، اسے نہ تو
(یہ صفحہ یہیں ختم ہوتا ہے۔ جملہ "اسے نہ تو" اگلے صفحے پر جاری ہے جو فائلوں میں نہیں آیا۔)
۵۷۸گذشتہ حال یاد آتا ہے اور نہ آئندہ۔ تو یہ تمام مخلوق کو حاصل نہیں ہوتا اور وہ نہیں جانتے کہ ہمارا سابقہ حال کیا ہوگا اور ہمارا انجام کیا ہوگا۔
لیکن خداوندانِ وقت کہتے ہیں کہ ہمارا علمِ اوّل و آخر کو معلوم کر سکتا ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا اچھا وقت حاصل ہوتا ہے کہ ہم آئندہ کی طرف مشغول ہو جائیں یا اس کا اندیشہ دل پر لائیں۔ تو وقت سے محجوب ہو جاتے ہیں اور حجاب بڑی پریشانی ہوتی ہے۔ تو جو چیز حاصل نہ ہو سکے، اس کا اندیشہ محال ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوسعید خراز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اپنے وقت کو زیادہ عزیز چیزوں کے سوا مشغول نہ کر، اور بندہ کی عزیز چیز ماضی و مستقبل کا شغل ہے۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا: لِيْ مَعَ اللّٰهِ وَقْتٌ لَّا يَسَعُنِيْ فِيْهِ مَلَكٌ مُّقَرَّبٌ وَّلَا نَبِيٌّ مُّرْسَلٌ "مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ایسا وقت ہے جس میں مقرب فرشتہ اور نبی مرسل کو گنجائش نہیں۔" اس میں اٹھارہ ہزار عالم کا دل ہرگز نہیں ہوتا اور میری نظر میں اس کی کچھ قدر نہیں۔
اسی سبب سے جب شبِ معراج آسان و زمین کی زینت حضور ﷺ پر آشکارا کی گئی تو آپ ﷺ نے کسی چیز کو نہ دیکھا۔ حتیٰ کہ جنابِ رب العزت نے فرمایا: ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى﴾ "ہمارے حبیب کی نظر نہ پھری، نہ حد سے گزری۔" اس لیے کہ حضور ﷺ عزیز تھے اور عزیز کو عزیز کے سوا مشغلہ نہیں ہوتا۔ تو موجد کے دو وقت ہوتے ہیں: ایک ازخود رفتگی کی حالت میں، دوسرا وجد کی حالت میں۔ ایک وصال کے مقام میں، ایک فراق کے محل میں، اور وہ دونوں وقت میں مقہور ہوتا ہے، اس لیے کہ وصل میں اس کا وصل حق ہوتا ہے اور فضل میں اس کا فضل
۵۷۹حق ہوتا ہے اور اس میں اختیار و کسب نہیں ہوتا کہ اس کا وصف کیا جائے۔ جب بندہ کا اختیار اس کے وقت سے قطع ہو جائے تو وہ جو کچھ کرتا ہے وقت کو دیکھ کر نہیں کرتا۔
حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ آپؒ نے فرمایا کہ میں نے جنگل میں ایک درویش کو دیکھا۔ خارِ مغیلاں پر بیٹھا تھا اور وہ جگہ سخت تکلیف دہ تھی۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ بھائی! تو ایسی سخت جگہ سے آرام کیوں بیٹھا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا ایک وقت تھا جو یہاں ضائع ہوا ہے، اب یہاں بیٹھا ہوں اور غم کھاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہاں تو کتنی مدت سے ہے؟ اس نے کہا بارہ سال سے۔ اب اگر شیخ مجھ پر توجہ کرے تو میں کامیاب ہو جاؤں اور اپنا وقت حاصل کروں۔
حضرت جنیدؒ فرماتے ہیں: میں چل دیا اور حج ادا کر کے اس کے لیے دعا کی۔ اللہ نے قبول فرمائی، وہ کامیاب ہو گیا۔ جب میں واپس آیا تو اسے وہیں بیٹھا دیکھا۔ میں نے کہا اے جوانمرد! اب تجھے وقت مل گیا، اب یہاں سے کیوں نہیں گیا؟ عرض کی: اے شیخ! میں نے قدامت اختیاری کی ہے۔ جو جائے وحشت تھی اور میں نے جہاں سرمایہ گم کیا تھا، وہ مل گیا۔ تو کیا یہ اب جائز ہے کہ جہاں سے سرمایہ ملا اس جگہ کو چھوڑ دوں؟ یہ تو میرے اُنس کا مقام ہے۔ آپ تشریف لے جائیں کہ میں یہاں کی خاک اپنی خاک میں ملاؤں گا اور بروزِ قیامت اسی خاک سے سر اٹھاؤں گا کہ میرے اُنس کا سرمایہ اور سرور کا مقام یہی ہے۔
فَكُلُّ امْرِئٍ يُوْلِيْ الْجَمِيْلَ مُحَبَّبٌ وَكُلُّ مَكَانٍ يُنْبِتُ الْعِزَّ طَيِّبٌ
"ہر انسان خوبصورت دوست کو قبول کرنے والا ہے اور جس مکان میں عزت پیدا ہو وہ پسند آتا ہے۔"
تو جو چیز بلا کسب آدمی کو حاصل ہو، یعنی تکلیف سے نہ ملے ایسی چیز بازار میں نہیں بیچی جاتی، گو اس کے عوض جان دے دی جائے اور بعض کو حاصل کرنے یا دور کرنے میں ارادہ نہیں ہوتا۔ اس کی رعایت میں دونوں پہلو برابر ہوتے ہیں اور اس کی تقدیر میں بندہ کا اختیار باطل ہے، اور مشائخ رحمۃ اللہ علیہم نے فرمایا ہے: اَلْوَقْتُ سَيْفٌ قَاطِعٌ۔ "وقت کاٹنے والی تلوار ہے۔" چونکہ تلوار کی صفت کاٹنا ہے اور وقت کی صفت بھی کاٹنا یعنی ماضی و مستقبل کا مٹانا اور کل گذشتہ اور کل آئندہ کو دل سے محو کر دینا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ تلوار کی صحبت باخطر ہے۔ اِمَّا هَلَكَ اَوْ اِمَّا مَلَكَ "یا ہلاک ہوا یا مالک ہوا۔" اگر کوئی ہزار سال تلوار کی خدمت کرے اور اپنے
۵۸۰عزیز کندھوں پر اٹھائے پھرے تو بھی کاٹنے کے وقت اپنے صاحب اور غیر میں فرق نہ کرے۔ اس لیے کہ اس کی صفت ہی قہر ہے اور مصاحبت اختیار کرنے سے صفت اس کی زائل نہیں ہو جاتی اور حال ایک وارد وقت ہوتا ہے، جو وقت کو ہی زیبا ہے، جیسے روح بدن کو زیبا ہے اور وقت لازماً محتاجِ حال ہوتا ہے۔ اس میں وقت کی صفائی حال کے ساتھ ہوتی ہے اور اس کا قیام اسی سے ہوتا ہے۔ تو خلاصہ یہ نکلا کہ صاحبِ وقت جب صاحبِ حال ہو جاتا ہے تو تغیر اس سے قطع ہو جاتا ہے اور وہ اپنے وقت میں قائم ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ وقت بے حال محض زوال ہوتا ہے۔ جب حال اس سے ملا تو اس کا سب زمانہ حال ہوتا ہے۔ اس پر زوال روا نہیں ہوتا اور جب آمد و شد معلوم ہو تو وہ وارد ہونے والا ظہور ہوتا ہے، جیسا کہ اس سے پہلے صاحبِ وقت پر وارد تھا اور ممکن کو غفلت جائز ہے اور صاحبِ غفلت پر جب حال نازل ہو تو وہ ممکن وقت ہو جاتا ہے اور اس پر بوجہ صاحبِ حال ہونے کے غفلت روا نہیں ہوتی اور کہتے ہیں: اَلْحَالُ سُكُوْتُ اللِّسَانِ فِيْ فُنُوْنِ الْبَيَانِ۔ "حال کیا ہے! زبانِ خاموش سے فنونِ بیان میں بولنا۔"
چنانچہ صاحبِ حال کی زبانِ بیانِ حال سے ساکت ہوتی ہے اور اس کی تمام کیفیت اور تحقیقِ حال کی گویا ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے پیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اَلسُّؤَالُ عَنِ الْحَالِ مُحَالٌ "یعنی حال سے سوال کرنا محال ہے۔" اس لیے کہ حال کلام فنا کرنے کا ہی نام ہے اور استاد ابو علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر دنیا یا عاقبت میں سرور ہے یا ہلاکت، وہ اس کے وقت کو نصیب ہے جس میں تو ہے۔ پھر حال ایسا نہیں ہوتا کیونکہ وہ بندہ پر حقِ تعالیٰ کی طرف سے وارد ہوتا ہے۔ تو جب وہ آتا ہے تو سب کے دل سے نفی کرتا ہے۔
جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام صاحبِ وقت تھے۔ کبھی فراق در فراق میں آنکھیں سفید کر لیتے تھے اور کبھی وصال در وصال سے آنکھیں روشن فرماتے تھے۔ کبھی گریہ فرماتے فرماتے بال کی طرح لاغر، کبھی نالہ کرتے کرتے ریشۂ قلم کی طرح مضمحل۔ کبھی خوشی سے مثلِ روحِ تازہ، کبھی خوشی سے مجسمۂ سرور۔
اور حضرت ابراہیم علیہ السلام صاحبِ حال تھے۔ نہ تو فراق غم سے غم ناک، نہ وصال سے خوش حال۔ ستارہ، چاند، آفتاب سب کے سب حال کے معاون تھے اور وہ رویت میں سب سے فارغ۔ حتیٰ کہ جو دیکھتے، سب حق دیکھتے اور صاف فرماتے: ﴿لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ﴾ "غروب ہونے والوں کو پیارا نہیں کرتا۔" کبھی جہان صاحبِ وقت کے لیے جہنم ہوتا ہے کیونکہ مشاہدہ
۵۸۱غیبت میں ہوتا ہے اور جہل کے اور حبیب کے وحشت ہوتا ہے۔ اور کبھی خوشی سے اس کا دل بہشتِ بریں ہوتا ہے اور نعمتِ مشاہدہ سے ہر آن اسے حق کا تحفہ ملتا ہے۔ پھر صاحبِ حال کو حق سے بشارت رہتی ہے۔ اسی وجہ سے اس پر حجاب ہو یا کشفِ نعمت ہو یا بلا، سب اس پر یکساں ہوتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ محلِ حال میں ہوتا ہے اور حال صفت مراد ہے اور وقت درجۂ مرید۔ ایک شخص وقت میں خوش ہوتا ہے اور حال میں بھی خوش۔ کیونکہ وہ ہر حال ہے باحق ہوتا ہے اور ایک شخص وقت کی خوشی میں باخوف رہتا ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
مقام اور تمکین
مقام سے مراد ادائے حقوقِ مطلوب میں طالب کا قیام ہے بشدتِ اجتہاد و صحتِ نیت، اور ہر ایک مریدانِ حق سے اس کے لیے ایک مقام رکھتا ہے جو ابتدائے طلب میں اس کے لیے وہ سبب ہوتا ہے۔ اگرچہ طالب ہر مقام سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ہر ایک مقام پر گزرتا ہے لیکن ان میں سے ایک رہنے کے وقت تک قائم ہونا مقام ہے۔ اس لیے کہ اس مقام اور اس کا ارادہ سرشت اور اصل میں ہوتا ہے، عمل کی روش سے نہیں ہوتا۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: ﴿وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ﴾ "ہم میں سے کوئی طالب نہیں مگر اس کے لیے مقام مقرر ہے۔"
چنانچہ آدم علیہ السلام کا مقام توبہ تھا اور نوح علیہ السلام کا مقام زہد، ابراہیم علیہ السلام کا مقام تسلیم تھا اور موسیٰ علیہ السلام کا مقام نابت بغیر عاجزی اور داود علیہ السلام کا مقام غم اور عیسیٰ علیہ السلام کا مقام رضا تھا، یحییٰ علیہ السلام کا مقام خوف تھا تو ہمارے حضور سید یوم النشور ﷺ کا مقام ذکر۔
اگرچہ ہر ایک محل و مقام ایک سِر ہوتا ہے لیکن آخرکار رجوع اپنے اصل مقام کی طرف ہی ہوتا ہے اور مذہبِ محاسبیان میں جو مقام ہیں میں نے ان کا مختصر سا بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ حال اور مقام میں کیا فرق ہے۔ لیکن یہاں اس قدر ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ عز و جل کی راہ تین اقسام پر ہے: اول مقام، دوسرے حال، تیسرے تمکین۔
اور اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اپنا بیان فرمانے کے لیے مبعوث فرمایا ہے تاکہ وہ مقامات کے حکم بیان فرمائیں اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء تشریف لائے اور ان سب کے مقامات علیحدہ علیحدہ تھے۔
۵۸۲پھر ہمارے حضور ﷺ کے تشریف لانے سے ہر اہلِ مقام کے لیے حال ظاہر ہوا اور وہ وہاں تک پہنچا کہ مخلوق کا کسب وہاں سے آگے بند ہو، حتیٰ کہ مخلوقات کا دین کامل ہوا اور نعمت اپنی حد کو پہنچی۔ چنانچہ اللہ عز و جل نے فرمایا: ﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ﴾ "آج کے دن کامل کر دیا میں نے تمہارا دین اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔" پھر مکان گیروں کا مکان ظاہر ہوا۔ اگر میں یہ سب حالات شمار کروں اور مقامات کی تشریح کرنے پر آؤں تو مقصد بیان سے رہ جاؤں گا۔ پس اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ تمکین سے محلِ کمال اور تحقیق کا اعلیٰ مقام مراد ہے اور اس مقام کو مقامات سے گزرنا ممکن ہے مگر درجۂ تمکین سے گزرنا محال ہوتا ہے۔ اس لیے کہ مقام مبتدی کا درجہ ہے اور تمکین ملتبسوں کا ٹھکانہ ہے جو ابتداء سے چل کر یہاں تک پہنچتا ہے۔ مگر یہاں سے گزرنا صورت پذیر نہیں۔ اس لیے کہ مقامات منازلِ راہ ہیں اور تمکین حضور میں قرار لینا ہے۔
چنانچہ محبانِ حق کے راستہ میں مقام عارض ہوتے ہیں اور منزل میں مثلِ مسافر بیگانہ ہوتے ہیں۔ اس کا سرِ جنابِ حق میں ہوتا ہے اور حضور میں آلہ و اکتساب آفت ہوتا ہے اور رغبت اور علت کا راز۔ اور زمانۂ جہالت میں شاعر جیسے اپنے ممدوحوں کی تعریف ان کی حرکات و سکنات سے کرتے ہیں۔ مگر جب تک کچھ عرصہ قیام نہ کریں مقام مقرر نہیں کر سکتے۔ مثلاً ایک شاعر اپنے ممدوح کے حضور پہنچ کر تلوار سونت کر اپنے گھوڑے کی ٹانگ کاٹ دیتا ہے اور پھر تلوار بھی توڑ دیتا ہے۔ اس سے اس کا یہ مقصود ہوتا ہے کہ مجھے ایک ایسا گھوڑا چاہیے جو تیرے حضور کا راستہ طے کرے اور تلوار ایسی درکار تھی جوان حاسدوں کا سر کاٹے جو تیری خدمت میں حاضر ہونے سے مانع ہیں۔ اب میں سب کو دور کرتا ہوں اس لیے کہ تیرے حضور آ پہنچا ہوں۔ اب آلۂ سفر میرے لیے بیکار ہے اس لیے میں نے گھوڑا لنگڑا کر دیا کیونکہ اب مجھے تیرے حضور سے جدا ہونا گوارا نہیں اور تلوار اس لیے توڑ دی کہ تیرے ذرے سے جانے کا مجھے خیال ہی نہیں۔ جب چند روز گزرتے ہیں تو پھر شعر پڑھتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اسی طرح جب کہ وہ منزلیں قطع کر چکے اور مقامات سے گزر کر محلِ تمکین میں پہنچے تو حقِ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ﴾ "اپنی جوتیاں اتار دو" اور ﴿وَاَلْقِ عَصَاكَ﴾ "اور عصا ڈال دو۔" کیونکہ یہ سفر آلہ سے تھا اور مقامِ وصل میں آلہ باطل ہو جاتا ہے اور ابتدا دوستی میں طلب ہوتی ہے مگر انتہا میں قرار ہو جاتا ہے۔ پانی جب تک راستہ میں ہوتا ہے جاری رہتا ہے، جب سمندر میں پہنچ جاتا ہے تو قرار پا لیتا ہے اور جب قرار پکڑ لیتا ہے تو اس کا مزہ بھی بدل جاتا ہے۔ حتیٰ کہ جسے پانی کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی اس کی طرف مائل نہیں ہوتا۔
۵۸۳البتہ اس کی طرف وہ مائل ہوتا ہے جس کو جواہر اور موتی کی ضرورت ہو۔ وہ جان پر کھیل کر طلب کا بار پاؤں پر باندھتا ہے اور سر کے بل اس دریا میں کود پڑتا ہے۔ پھر یا تو جواہر و موتی لاتا ہے یا جانِ عزیز فنا کر ڈالتا ہے۔
ایک مشائخ میں سے فرماتے ہیں: اَلتَّمْكِيْنُ رَفْعُ التَّلْوِيْنِ۔ "تمکین رفعِ تلوین کو کہتے ہیں۔" یہ تلوین اس جماعت کے نزدیک ہے جو حال اور مقام کو ایک معنی میں مانتی ہے اور تلوین نام ہے ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنے کا۔ مراد یہ ہے کہ متمکن متردد نہیں ہوتا اور حضور میں فائز ہوتا ہے اور غیر کا اندیشہ اپنے دل سے صاف کیے ہوئے ہوتا ہے اور نہ اس پر ایسا معاملہ آتا ہو چکا ہوتا ہے اور نہ ایسا حال ہوتا ہے کہ اس کے باطن کے حکم کو بدل دے، جیسے اس کے ظاہر کو بدل دے۔ جیسا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام متلون تھے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک نظر طور پر متجلی ہونے سے بیہوش ہو گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَخَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا﴾ "موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے۔" اور ہمارے حضور ﷺ متمکن تھے۔ مکہ معظمہ سے قابَ قوسین تک عینِ تجلی میں رہے اور اپنی اصل حال نہ بدلی نہ متغیر ہوئے اور یہ درجۂ اعلیٰ تھا۔ واللہ عالم۔
تو تمکین دو قسم پر ہے: ایک یہ کہ شاہد کی وضاحت اپنی طرف ہو اور وہ محول بہ شاہدِ حق ہو کر فانی الصفت ہو اور فانی الصفت کو محو اور صحو و محن وفنا و بقا و وجود و عدم کچھ بھی نہ طاری ہو اس لیے کہ ان اوصاف کی اقامت موصوف سے ہونی چاہیے۔ جب موصوف مستغرق ہو تو حکمِ اقامتِ وصف اس سے ساقط ہو اور اس معنی میں بہت باتیں ہیں۔ میں نے اس پر اختصار کیا: وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ۔ اور اس سے محاضرہ و مکاشفہ سے۔ ان دونوں کا فرق یہ ہے۔
محاضرہ اور مکاشفہ اور ان کا فرق
اچھی طرح جان لے کہ محاضرہ حضورِ دل کے لیے بولا جاتا ہے، لطائفِ بیان میں اور مکاشفہ حضورِ سر پر ہوتا ہے جو خطرہ میں عیاں ہو۔ تو محاضرہ شواہدِ آیات پر ہوتا ہے اور مکاشفہ شواہدِ مشاہدات میں۔ اور محاضرہ کی علامت دوامِ فکر کرنا ہے، کنہ ذات میں جب تک فکر باقی رہے رویتِ آیت کے ساتھ اور مکاشفۂ دوامِ تحیر میں ہوتا ہے جو کنہ ذات میں ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ افعال میں متفکر ہو اور جلال میں متحیر ہو۔ ان دو میں سے ایک خلت ہے، دوسرا قرینِ محبت۔
۵۸۴کیا تو نے نہیں دیکھا کہ حضرت خلیل علیہ السلام نے ملکوتِ سماء میں نگاہ فرما کر اس کی حقیقت و وجود میں تامل و تفکر کیا اور ان کا دل رویتِ فعل طالب کے ساتھ حاضر ہو کر فاعل ہوا، تاکہ اس کے حضورِ فعل میں دلیلِ فاعل ہو جائے۔ حتیٰ کہ کمالِ مرفعت میں فرمایا: ﴿اِنِّيْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا﴾ "یعنی میں متوجہ ہوتا ہوں اس جناب کی طرف جس نے آسان و زمین کو بنایا۔" اور حبیبِ خاص کو جب ملکوت میں لے گئے تو ان کی نظر سب اشیاء موجود سے بلند ہو گئی اور فعل و مخلوق کو نہ خود کو دیکھا اور نہ خود کو دیکھا تاکہ فاعل کا مکاشفہ ہو۔ تو کشف میں شوق پر شوق زیادہ ہو اور اس کی بیقراری پر بیقراری طلبِ رویت میں بڑھے۔ نہ منہ دیکھنا قریب کی قربت سے ممکن ہو، نہ امکانِ اقبال میں متغیر ہو۔ پس اس جگہ کہ خلوت ہو، وہاں حیرت کفر دکھاتی ہے اور اس جگہ کہ محبت ہو و صلت شرک ہوتا ہے اور حیرت اس کا سرمایہ۔ اس لیے کہ خلقت کی ہستی میں حیرت تھی اور وہ شرک تھا اور محبت میں حیرت اس کی چگونگی ہوتی ہے اور یہ توحید ہے۔
اس سے ملتا ہوا مقولہ حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: يَا دَلِيْلَ الْمُتَحَيِّرِيْنَ زِدْنِيْ تَحَيُّرًا۔ "اے متحیروں کے راہنما! مجھے حیرت میں زیادہ کر۔" اس لیے کہ تحیر کا زیادہ ہونا مشاہدہ کی زیادتی کا موجب ہوتا ہے۔
اور مشہور حکایتوں میں ہے کہ جب حضرت ابوسعید خزار اور سعد علوی رحمہما اللہ نے دریا کے کنارے اس دوست خدا کو دیکھا۔ پوچھا، خدا کی طرف راستہ کس طرف سے جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف دو راستے ہیں۔ ایک عام ایک خاص۔ انہوں نے فرمایا: اس کی شرح فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا: عام راہ تو یہ ہے کہ جس پرتم ہو کہ ایک علت سے قبول کیے ہوئے ہو اور ایک علت سے رد کر رہے ہو اور خواص کا راستہ یہ ہے کہ جو نہ معلّل علت کو دیکھے اور نہ علت کو۔
اور اس حکایت کی شرح گزر چکی ہے اور مراد سوا اس کے نہیں ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ
قبض اور بسط اور ان میں فرق
اور اس سے القبض والبسط ہے اور اس کا فرق جاننا چاہیے کہ قبض اور بسط دو حال ہیں اور یہ بندہ کی سعی سے بالا ہیں۔ اس کا آنا کسبی نہیں اور جانا کوشش سے نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاللّٰهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ﴾ "اللہ قبض کرتا ہے اور کھولتا ہے۔" قبض کہتے ہیں حجاب کی حالت میں ولی کا مقبوض ہونا اور بسط کہتے ہیں حالتِ کشف میں دل کا کشادہ ہونا۔ یہ دونوں حالتیں بلا تکلف و محنت بندہ پر عائد ہوتی ہیں من جانبِ اللہ۔ اور قبض عارفوں کے وقت میں ایسا ہے جیسے
۵۸۵مریدوں کے وقت میں خوف اور یہ ایک گروہ ہے جو قبض و بسط کو اس معنی میں حمل کرتا ہے اور مشائخ سے ایک گروہ اس طرف ہے کہ قبض رتبہ میں بسط سے زیادہ بلند ہے اور اس کے وہ دو سبب کہتا ہے: ایک یہ اس کا ذکر کتاب میں مقدم ہے۔ دوسرے یہ کہ قبض میں گزارش اور قہر ہے اور بسط میں نوازش اور لطف ہے اور لامحالہ گزارشِ بشریت اور قہرِ نفس فاضل تر ہے۔ پرورش اور لطف سے اس لیے کہ وہ حجابِ اعظم ہے اور ایک گروہ اس طرف ہے کہ بسط قبض سے فائق ہے۔ اس لیے کہ کتاب میں قبض کا مقدم ہونا بسط کی فضیلت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ عرب کا طریقہ ہے کہ موخر میں اوّل سے لاتے ہیں جو کم ہو۔
جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ﴾ "بعض ان میں سے اپنے نفس پر ظالم ہیں اور بعض ان میں سے میانہ رو اور بعض ان میں سے بھلائی میں مسابقت کرنے والے ہیں۔" اور یہ فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ﴾ "بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔" اور یہ بھی فرمایا: ﴿يٰمَرْيَمُ اقْنُتِيْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ﴾ "اے مریم اپنے رب کے لیے عاجزی کر اور رکوع و سجود کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔"
اور یہ بھی فرمایا کہ بسط میں سرور اور قبض میں ہلاکت ہے اور سرور عارفین سوا وصل و معرفت کے نہیں ہوتا اور ان کی ہلاکت فضل کے سوا مقصود نہیں، تو محلِ وصل بہ نسبت محلِ فراق بہتر ہے۔
اور میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ قبض و بسط سے ایک ہی مراد ہے جو حقِ تعالیٰ سے بندہ کو ملتا ہے اور جب وہ معنی میرے دل کو پریشان کرتے یا اس کے سر سے مسرور ہوتا ہوں تو اور نفس مقہور یا سر مقہور ہوتا ہے اور نفس مسرور تو قبض میں ہر ایک بسطِ نفس ہوتا ہے اور بسط میں دوسرا سر اس کا قبضِ نفس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس مسئلہ میں اور کچھ بتانا تضییعِ اوقات ہے۔
اسی سبب بایزید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: قَبْضُ الْقُلُوْبِ فِيْ بَسْطِ النُّفُوْسِ وَبَسْطُ الْقُلُوْبِ فِيْ قَبْضِ النُّفُوْسِ۔ "دلوں کا تنگ ہونا نفوس کی کشادگی ہے اور دلوں کا کشادہ ہونا نفوس کی تنگی ہے۔" تو نفس تنگ شدہ خلل سے محفوظ ہوتا ہے اور کشادہ ذلت سے ضبط میں۔ اس لیے کہ غیرت سے دوستی کرنے میں ندامت ہے اور قبض غیرتِ حق تعالیٰ کی علامت ہے اور دوست
۵۸۶کو دوست سے عتاب شرط ہے اور کشائش نشانِ عتاب ہے اور آثار میں مشہور ہے کہ جب تک یحییٰ علیہ السلام روتے رہے، جب تک عیسیٰ علیہ السلام ہنستے رہے۔ اس لیے کہ یحییٰ علیہ السلام قبض میں رہے اور عیسیٰ علیہ السلام بسط میں۔ اور جب ایک دوسرے سے ملتے تو یحییٰ علیہ السلام کہتے کہ اے عیسیٰ! تم رحمت سے مایوس ہوئے تو عیسیٰ علیہ السلام فرماتے یحییٰ! تم جدائی سے بے غم ہوئے اور عیسیٰ علیہ السلام فرماتے یحییٰ! تم رحمت سے مایوس ہوئے تو تمہارا رونا حکمِ ازل کو نہیں مٹا سکتا، قضاءِ الٰہی کو نہیں روک سکتا۔ لَا قَبْضَ وَلَا بَسْطَ وَلَا طَمَعَ وَلَا اُنْسَ وَلَا مَحْوَ وَلَا صَحْوَ وَلَا سُكْرَ وَلَا عِجْزَ وَلَا جَهْلَ اِلَّا بِمَنِّ اللّٰهِ۔ "تنگی، کشائش، طمع اور اُنس اور محو اور بیہوش اور عاجز ہونا، جاہل ہونا بدون حکمِ اللہ تعالیٰ کے نہیں۔ اور وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔"
محبت اور ڈر اور ان میں فرق
اور اسی سے اُنس و ہیبت ہے۔ اور ان کا فرق یہ ہے، جان لینا چاہیے کہ ہیبت اور اُنس یہ دو حالتیں ہیں جو رہروانِ طریقت کے اوپر آتی ہیں۔ اس میں سے یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ بندہ کے دل پر تجلی فرماتا ہے تو اگر وہ شہود و جلال ہو تو ہیبت ہوتی ہے اور اگر مشہود و جمال ہو تو بندہ پر اُنس ہوتا ہے۔ تو اہلِ ہیبت اس کی جلالت سے تختی میں ہوتے ہیں اور اہلِ اُنس اس کے جمال سے خوش ہوتے ہیں۔
تو جو ولی اس کی جلالتِ شان کی آگ میں جلتا ہو اور وہ جو اس کے مشاہدۂ جمال کے نور سے روشن ہو، ان دونوں میں فرق ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ ہیبت عارفوں کا درجہ ہے۔ اس لیے کہ جسے حضورِ حق اور تنزیہ اوصاف میں ثابت قدم کرنا ہو، اس کے دل پر ہیبت کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے اور اُنس سے اس کی طبیعت نفرت کرتی ہے۔ اس لیے کہ اُنس جنس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب بندہ کا حق تعالیٰ سے ہم جنس ہونا محال ہے تو حق سے اُنس نہیں ہو سکتا اور حق سے مخلوق کا اُنس محال ہوتا ہے۔ البتہ اگر اُنس ممکن ہے تو ذکرِ حق سے ہے۔ اس لیے کہ اس کا ذکر اس سے غیر ہے کیونکہ وہ بندہ کی صفت ہے اور محبت میں کسی غیر کے ساتھ آرام کرنا محض دعویٰ اور غرور ہے۔ پھر ہیبت مشاہدۂ عظمت سے ہوتی ہے اور عظمت صفتِ حق ہے تو اس بندہ میں کہ اس کا کام آپ ہی ہو اور اس بندہ میں کہ جس کا کام فنا سے بقاءِ حق پر ہو، بڑا فرق ہے۔
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کی حکایت ہے کہ آپ نے فرمایا مدتِ مدید تک خیال کرتا تھا کہ میں محبت میں خوش ہوں اور مشاہدۂ حق سے اُنس رکھتا ہوں۔ لیکن اب مجھے معلوم ہوا کہ انسان، انسان کی جنس کے سوا نہیں۔
۵۸۷ایک گروہ کہتا ہے کہ ہیبت، فراق اور غذا سب قرینے ہیں اور اُنس وصل رحمت کے نیچے۔ محبت کو چاہیے کہ ہیبت کی باتوں سے پرہیز کرے اور محفوظ رہے اور اُنس کے قریب ہو، اس لیے کہ اُنس ضرر و محبت کا تقاضا کرتا ہے اور جسے محبت کو مجانست محال ہے، اُنس کو بھی محال ہے۔
اور میرے شیخؒ فرماتے ہیں کہ میں متعجب ہوں ان پر جو کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ سے اُنس محال ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ عِبَادِيْ﴾ "بے شک میرے بندے" ﴿قُلْ يٰعِبَادِيْ﴾ "فرما دیجیے میرے بندوں سے" اور ﴿اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ﴾ ﴿يٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ﴾ "اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔"
جب بندے اپنے ربّ کا ایسا فضل دیکھتے ہیں تو اسے دوست پکڑتے ہیں اور جب دوست پکڑتے ہیں تو لازمی اُنس اختیار کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ہیبت دوست سے بیگانگی ہے اور اُنس مقتضی یگانگت ہے اور آدمی کی صفت یہ ہے کہ نعمت دینے والے سے اُنس کرے۔ تو جب حق تعالیٰ ہمیں اس قدر نعمتوں سے نوازتا ہے اور ہم اسے منعم جانتے ہیں تو پھر محال ہے کہ اس سے ہیبت محسوس کریں۔
اور میں علی بن عثمان جلابی (رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ دونوں گروہ اختلاف کی وجہ سے مصیبت میں ہیں۔ اس لیے کہ غلبۂ ہیبت نفس اور اس کی خواہش اور بشریت کے فنا کرنے سے ہے اور اس میں غلبۂ سر ہے اور سر میں معرفت حاصل ہو جانے سے حق تعالیٰ شانہ کی جلالت اپنی تجلی سے محبت کے نفس کو فنا کر دیتی ہے اور جلوۂ جمال ان کے سر کو باقی کر دیتی ہے۔ تو جو اہلِ فنا ہیں وہ ہیبت کو مقدم کرتے ہیں اور جو اصحابِ بقا ہیں وہ اُنس کو فضیلت دیتے ہیں اور اس سے قبل فنا و بقا کے باب میں بیان ہو چکا ہے۔
قہر اور لطف اور ان میں فرق
اس میں لطف اور قہر ہے۔ ان کا فرق یہ ہے کہ مشائخ کی جماعتیں یہ دونوں الفاظ اپنے زمانہ میں بیان کرتی ہیں۔ چنانچہ قہر سے ان کی مراد تائیدِ حق ہے جو مرادوں کو فنا کرنے اور نفس کی آرزو سے علیحدہ کرنے میں ہوتی ہے اور لطف وہ تائیدِ حق ہے جو بقاء، اسرار دوامِ مشاہدہ اور استقامت کے درجہ میں قرارِ حال سے ہوتی ہے، حتیٰ کہ ایک گروہ کہتا ہے کہ کراماتِ حق تعالیٰ ہی حصولِ مراد ہے اور یہ گروہ اربابِ لطف سے ہے۔
۵۸۸ایک گروہ کہتا ہے کہ قہر وہ ہے جو حق تعالیٰ اپنی مرضی سے بندہ کو نامراد رکھے اور اس نامرادی میں مقہور فرما دے، حتیٰ کہ وہ اگر پیاس کے سبب دریا میں جائے تو دریا خشک ہو جائے۔
روایت ہے کہ بغداد میں دو بڑے شاندار فقیر تھے۔ ایک صاحبِ قہر دوسرے صاحبِ لطف۔ یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف رہتے اور ہر ایک اپنے زمانہ کو دوسرے کے زمانہ پر فضیلت دیتا۔ ایک کہتا حق تعالیٰ کا لطف بندہ پر تمام نعمتوں سے افضل و اشرف ہے۔ اس لیے ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ لَطِيْفٌ بِعِبَادِهٖ﴾ "اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربان ہے۔"
دوسرا کہتا ہے کہ قہرِ حق بندہ کے لیے بڑی کامل نعمت ہے، اس لیے کہ اس نے فرمایا ہے: ﴿وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ﴾ "اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر قہار ہے۔" اور یہ اختلاف دونوں میں بہت طول پکڑ گیا۔ حتیٰ کہ ان میں سے ایک صاحبِ لطف نے مکہ معظمہ کا قصد کیا اور جنگلوں میں پھرتا پھرتا گم ہو گیا اور کسی کو پتہ نہ چلا۔ ایک شخص مکہ سے بغداد جا رہا تھا۔ اس نے انہیں راستہ میں دیکھا۔ انہوں نے اس سے کہا بھائی تم عراق پہنچو تو ہمارے ساتھی کو کہنا کہ اگر تم صحرا اور جنگل کو عجائباتِ کرخ اور بغداد کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہو تو آؤ میرے لیے یہ جنگل، کرخ اور بغداد سے اچھا ہے۔
غرض یہ کہ جب یہ سیاح کرخ اور بغداد آئے تو انہوں نے ان کے رفیق کو پیغام دیا اور کہہ دیا جو انہوں نے کہا تھا۔ یہ سن کر فرمایا جب تم واپس جاؤ تو کہہ دینا اگر جنگل تیرے حق میں کرخ اور بغداد ہیں تو اس میں شرف نہیں، اس لیے کہ تو حضور سے دور ہے بلکہ شرف اس میں ہے کہ کرخ اور بغداد باوجود عجائبات کے، ایک کے حق میں جنگل بیابان ہو اور وہ اس میں خوش ہو۔ اور حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی مناجات میں فرمایا
"الٰہی! اگر میرے گلے میں آسان کا طوق ڈالا جائے اور زمین کو زنجیر پا کر دیا جائے اور تمام جہان میرے خون کا پیاسا ہو جائے تو بھی میں تیرے جناب سے نہ ہٹوں گا۔"
اور میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایک سال اولیاء کا جنگل میں اجتماع تھا اور میرے شیخ حصری رحمۃ اللہ علیہ مجھے بھی وہاں لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک گروہ تخت کے نیچے ہوا پر جا رہا ہے اور ایک گروہ تخت کے اوپر علیحدہ اڑ رہا ہے اور ایک گروہ علیحدہ رتبہ میں تھا۔ حضرت حصری رحمۃ اللہ علیہ ان کی طرف توجہ نہ فرماتے۔ لیکن ایک جوان ٹوٹی جوتی، پھٹے لباس میں چلنے سے
۵۸۹ناچار، سر سے ننگا، بدن جھلسا ہوا، تن لاغر ظاہر ہوئے تو حضرت حصری رحمۃ اللہ علیہ کو دے اور ان کے آگے پہنچے۔ انہیں بلند درجہ پر بٹھایا۔ میں متعجب ہوا اور عرض کی کہ حضور یہ کس پائے کے بزرگ ہیں؟ فرمایا، یہ اولیاء اللہ میں سے ایک ولی ہے کہ یہ طلبگارِ ولایت نہیں بلکہ ولایت اس کی طلبگار ہے۔ اس کا میلان کرامات کی طرف نہیں۔
اور جو کچھ ہم اپنے واسطے اختیار کرتے ہیں وہ ہماری بلا ہوتی ہے اور میں وہی چاہتا ہوں جو حق تعالیٰ میرے واسطے چاہتا ہے۔ اس صورت میں مجھے اس کی آفت سے بچا رکھتا ہے اور مجھے نفس کی شرارت سے رہائی دیتا ہے اور اگر قہر کرے تو میں لطف نہیں چاہتا اور اگر لطف فرمائے تو مجھے قہر کا ارادہ نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں اس کے اختیار میں اختیار نہیں۔
نفی اور اثبات اور ان میں فرق
اور اس سے نفی و اثبات ہے۔ ان میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ مشائخِ طریقت رضوان اللہ علیہم اجمعین تائیدِ حق تعالیٰ ثابت کرنے میں صفتِ آدمیت محو کرنے کو نفی و اثبات کہتے ہیں اور نفیِ صفتِ بشریت کی نفی کو کہتے ہیں اور اثبات اثباتِ غلبۂ حقیقت کو اس لیے کہتے ہیں کہ محو کل ہو جاتا ہے اور نفی کل اثبات کے سوا نہیں۔ اس لیے کہ بقاءِ بشریت کی حالت میں نفیِ ذات نہیں ہو سکتی۔
تو لازم ہے کہ فضائلِ محمود کے قائم رکھنے سے بُری صفات کی نفی ہو اور معنی ثابت ہونے سے دعویٰ محبتِ حق تعالیٰ کی نفی کرتا ہے۔ اس لیے کہ دعویٰ رعونتِ نفس سے ہوتا ہے اور یہ عادت جاریہ ہے کہ صفاتِ سلطانِ حقیقت کی متبہور ہو جائیں اور کہتے ہیں کہ اثباتِ بقاءِ صفاتِ بشریت کی نفی کرتا ہے اور اس مسئلہ کی تفصیل اس سے پہلے فقر اور صفوت، فنا و بقا کے باب میں ہو چکی ہے۔ یہاں میں نے اسی پر اختصار کیا۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے اختیارِ حق سے اختیارِ بندہ کا ثبوت کرنا ہے اور اس سبب سے موفق نے کہا: اِخْتِيَارُ الْحَقِّ بِعَبْدِهٖ مَعَ عِلْمِهٖ بِعَبْدِهٖ خَيْرٌ مِّنْ اِخْتِيَارِ عَبْدِهٖ لِنَفْسِهٖ مَعَ جَهْلِهٖ بِرَبِّهٖ۔ "حق تعالیٰ بندہ کو جانتا ہے، وہ جو کچھ بندہ کے حق میں اختیار فرمائے اور اس سے نسبت بندہ با آنکہ اپنے رب سے بے خبر ہے، اپنے نفس کے لیے جو اختیار کرے بہتر ہے۔" اس لیے کہ دوستی اس کا نام ہے جو اختیارِ محبوب کو ثابت کر کے محبت کے اختیار کی نفی کرے اور یہ سب کے نزدیک مقرر ہے۔
اور میں نے حکایتوں میں معلوم کیا کہ ایک درویش دریا میں غرق ہو رہے تھے کہ کسی نے ان سے پوچھا کیا آپ اس غرق سے رہائی چاہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ دریافت کیا کہ پھر ڈوبنا ہی پسند کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ تو سائل نے کہا کہ عجیب بات ہے نہ آپ ڈوبنا
۵۹۰چاہتے ہیں نہ نجات پانا۔ درویش نے فرمایا کہ مجھے ہلاکت سے غرض نہ نجات سے، مطلب مجھے وہی منظور ہے جو اللہ تعالیٰ میرے لیے اختیار فرما دے۔ اس لیے کہ اختیارِ الٰہی ازلی ہے جس کی نفی ممکن نہیں اور بندہ کا اختیار عارضی ہے جس کی نفی جائز ہے۔ تو ہمیں لازم ہے کہ عارضی اختیار کو پامال کریں تاکہ اختیارِ ازلی ہی باقی رہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام جب پہاڑ پر خوش ہوئے اور حق تعالیٰ کی رویت کی تمنا کی۔ گویا اپنا اختیار ثابت کرنے میں سعی کی اور جنابِ حق میں ﴿رَبِّ اَرِنِيْٓ﴾ کہہ دیا تو ﴿لَنْ تَرَانِيْ﴾ حکم ہوا یعنی آپ نے عرض کی الٰہی! اپنا دیدار دے تو حق تعالیٰ نے فرمایا: "ہرگز ہرگز تم نہیں دیکھ سکتے" اور بتایا کہ دیدارِ حق ہے لیکن محبت میں اختیار باطل ہے۔ اور اس میں بہت کلام ہے لیکن میری مراد اس سے زیادہ نہ تھی کہ تجھے معلوم ہو جائے کہ اس طبقہ کی کیا مراد ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ۔
اور اس کا بیان جمع اور تفرقہ، فنا اور بقا، غیب اور حضور، مذاہبِ صوفیہ گزر چکا ہے وہاں صحو اور سکر اس کی مانند ذکر ہو چکا ہے۔ وہاں دیکھیں جہاں جہاں اس بیان کا موقع تھا وہاں لکھا گیا اور ضرورت کے موافق یہاں بھی کچھ بیان کیا ہے تاکہ ہر مذہب کا مشرح ہو سکے۔
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
مسامرہ اور محادثہ اور ان میں فرق
اور اس سے مراد مسامرہ اور محادثہ ہے۔ ان کا فرق یہ ہے کہ ان دو جملوں میں دو حال کاملانِ طریقت کے بیان کرنے ہیں۔ مراد اور حقیقتِ محادثہ یہ ہے کہ وہ حدیثِ سر ہے جو سکوتِ زبان سے مقرون ہے۔ یعنی محادثہ زبان سے متعلق نہیں اور حقیقتِ مسامرہ سِرّ کے چھپانے سے ہمیشہ خوش رہتا ہے۔ اس کے خلاصہ معنی یہ ہیں کہ بندہ کا شبِ تنہائی میں ایک وقت خاص ہوتا ہے، اور محادثہ دن میں ایک وقت ہوتا ہے۔ اس میں سوال جواب ظاہری و باطنی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے شب کی مناجات کو مسامرہ کہتے ہیں اور دن کی دعاؤں کو محادثہ سے تعبیر کرتے ہیں اور مسامرہ کا تعلق حضور ﷺ کے حال سے ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے چاہا اور وقتِ خاص ہوا تو روح الامین کو معہ براق بھیجا تاکہ مکہ معظمہ سے قابَ قوسین تک پہنچایا جائے اور اپنے رب سے راز کی گفتگو بلا صوت و حرف سنی۔ جب حد کو پہنچے تو کشف کی جلالت سے آپ کی زبان مبارک بند ہوئی اور دل کنہِ عظمت میں حیران اور آپ کا علم و ادراک رہ گیا اور زبان بیان سے بند ہوئی۔ چنانچہ عرض کیا: لَا اُحْصِيْ
۵۹۱ثَنَاءً عَلَيْكَ۔
اور محادثہ کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حال سے ہے۔ جب آپ نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ سے ایک وقت خاص حاصل کریں۔ چالیس روز کے انتظار اور وعدہ کے بعد دن میں کوہ طور پر آئے اور کلامِ الٰہی سنا اور فرطِ شوق میں دیدار کا سوال کر ڈالا مگر کامیابی نہ ہوئی اور ساری مسرتیں ختم ہو گئیں۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا: ﴿تُبْتُ اِلَيْكَ﴾ تاکہ فرق ظاہر ہو جائے، اس ہستی کے مابین جنہیں لے جایا گیا اور ﴿سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا﴾ فرمایا گیا کہ "پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ کو لے گیا رات کے اقل قلیل حصہ میں۔" اور کلیم اللہ کے لیے فرمایا: ﴿وَلَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِيْقَاتِنَا﴾ "جب موسیٰ ہماری میقات کے لیے آیا۔" تو معلوم ہوا کہ رات خلوتِ محبت کا وقت ہے اور دن بندہ کی خدمت کا اور بندہ اپنی حد مقرر سے تجاوز کرے تو ﴿لَنْ تَرَانِيْ﴾ سے جواب مل جاتا ہے مگر محبوبِ خاص کے لیے کوئی حد نہیں ہوتی جس کے آگے گزرنے کی ممانعت ہو اس لیے کہ دوست جو کرتا ہے وہ دوست کو پسند ہوتا ہے۔
علم الیقین اور عین الیقین اور حق الیقین اور ان کے درمیان فرق
اور اس سے علم الیقین اور حق الیقین اور عین الیقین میں ان کا فرق یہ ہے کہ علمِ اصولِ صوفیہ میں سب اپنے معلوم کو جاننے سے یہ الفاظ بیان ہوتے ہیں۔ چنانچہ محبت کا علم ہو جانے پر یقین کے بغیر علم نہیں ہوتا۔ جب علم حاصل ہوتا ہے تو اس میں غیبِ عین کی مانند ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ فردائے قیامت جو مومنین لقاءِ ربانی سے مشرف ہوں گے تو ان کے دیکھنے کی صفت وہی ہوگی جو آج جاننے میں ہے اور اس کے برخلاف دیکھیں گے تو یا تو فردائے قیامت کا دیدار صحیح نہیں ہوگا یا آج کا علم درست نہیں اور یہ دونوں صورت خلافِ توحید نہیں۔ اس لیے کہ اگر آج کے روز خلقت کا علم درست ہو اور کل رویت اس کی رویت درست ہوئی تو علم الیقین، عین الیقین ہو جاتا ہے اور حق الیقین کو علم الیقین جن لوگوں نے رویت میں کہا ہے وہ عین الیقین کو استغراق کے طور پر لائے ہیں، وہ محال ہے۔ اس لیے کہ رویت مثلِ سماع کے حصولِ عام کا آلہ ہے اور ایسے ہی جب استغراقِ علم کا
۵۹۲سماع میں محال ہے تو ان لوگوں کا علم یقین سے علمِ معاملۂ دنیا کے حکموں میں مراد ہے۔ اور علم عین الیقین سے علم بحالتِ نزع جب دنیا سے رخصت ہو۔ اور عین الیقین سے بہشت میں کشفِ رویت مراد ہے اور مکاشفہ سے کیفیتِ حالات۔ تو علم الیقین عالموں کا درجہ ہے، اس سبب سے کہ وہ احکام امور پر استقامت کرتے ہیں۔
اور عین الیقین عارفوں کا مقام ہے۔ اس حکم سے کہ وہ صورت کی استعداد رکھتے ہیں۔ اور حق الیقین محبوں کا مقام فنا ہے کیونکہ وہ کل موجودات سے روگرداں ہوتے ہیں۔ تو علم الیقین مجاہدہ سے ہوتا ہے اور عین الیقین اُنس سے اور حق الیقین مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایک عام ہے اور دوسرا خاص، تیسرا خاص الخاص۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ
علم اور معرفت اور ان میں فرق
اور اس سے علم و معرفت ہے۔ ان کا فرق یہ ہے کہ اربابِ اصول نے علم اور معرفت میں فرق نہیں کیا۔ وہ دونوں کو ایک کہتے ہیں۔ صرف اتنا کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو عالم کہا جاتا ہے، عارف نہیں کہتے۔ اس سبب سے یہ دونوں مترادف نہیں۔
مشائخِ صوفیاء رحمۃ اللہ علیہم نے اس کی تصریح یوں فرمائی کہ وہ علم جو حال کے نزدیک ہے اس کا علم اپنے حال سے جو بیان کرتا ہے، وہ معرفت ہے اور اس کے عالم کو عارف کہتے ہیں اور جو علمِ معنی جدا اور معاملات سے خالی ہو، اسے علم کہتے ہیں اور اس کے جاننے کو عالم۔ تو جو کسی چیز کے معنی اور حقیقت کا عالم ہو، اسے عارف کہا جائے۔
اور جو صرف عبادت اور اس کے حفظ میں مشغول ہو اور حفاظتِ معنی نہ جانتا ہو، اس کو عالم کہیں گے اور یہی سبب ہے کہ اس گروہ کو لوگ اپنے نزدیک بے قدر سمجھتے ہیں اور محض دانشمند کہتے ہیں اور عوام اسے برا جانتے ہیں اور اس سے مراد ان کی خفت ہے۔ کیونکہ اس میں ترکیبِ معاملات ہے۔ لِاَنَّ الْعَالِمَ قَائِمٌ بِنَفْسِهٖ وَالْعَارِفَ قَائِمٌ بِرَبِّهٖ۔ "اس لیے کہ عالم بذاتِ خود قائم ہے اور عارف قائم برب الارباب۔" اس میں اور بہت سی باتیں ہیں جو کشفِ حجابِ وقت میں ذکر ہو چکیں اور یہاں اسی قدر کافی ہے اور اسی سے شریعت و حقیقت ہے۔ اور ان کا فرق یہ ہے کہ دونوں لفظوں کا استعمال صوفیاء کے لیے ہے۔ ایک صحتِ حال سے ظاہر کرتے ہیں اور ایک اقامتِ حالِ باطن کے ساتھ اور دو گروہ اس کے معنی میں غلطی پر ہیں۔
ایک گروہ علماءِ ظاہر کا ہے جو کہتا ہے شریعت و حقیقت میں فرق نہیں۔ اس لیے کہ شریعت خود حقیقت ہے اور حقیقت شریعت ہے۔ ایک گروہ ملاحدہ کا ہے جو کہتا ہے ان دونوں میں ہر ایک
۵۹۳دوسرے کے سوا قائم ہو سکتا ہے اور کہتے ہیں جب حقیقت کا حال کھل گیا تو شریعت جاتی رہی اور یہ خیال قرامطہ کا ہے اور شیعہ بھی انہیں میں سے ہیں اور موسویان بھی انہیں میں سے ہیں، اور وہ دلیل دیتے ہیں کہ حکم میں شریعت، طریقت سے جدا ہے کیونکہ ایمان میں تصدیق قول سے جدا ہے اور اس امر کی دلیل کہ اصل میں جدا نہیں ایک ہی ہیں، یہ ہے کہ تصدیق بلا قول ایمان نہیں ہوتی اور قول بلا تصدیق موجبِ ایمان نہیں۔ تو قول اور تصدیق کا فرق ظاہر ہو گیا تو حقیقت کے معنی جو مراد ہیں ان کا منسوخ ہونا جائز نہیں۔ اور ابتداءِ آفرینشِ آدم سے جہان فنا ہونے تک اس کا حکم مساوی ہے جیسا اللہ تعالیٰ کی معرفت اور خلوصِ نیت سے معاملہ کی نیت مساوی ہے۔
شریعت اور حقیقت اور ان میں فرق
اور شریعت نام ہے اس کا جس پر نسخ و تبدل روا ہو، جیسے احکام و اوامر۔ تو شریعت فعلِ بندہ کا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی محافظت کرے۔ تو معلوم ہوا کہ شریعت کا قیام بلا وجودِ حقیقت محال ہے اور بلا شریعت وجودِ حقیقت بھی محال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص زندہ جان سے ہوتا ہے۔ جب جان جاتی ہے تو وہ شخص مردہ ہوتا ہے اور جان اس کے ساتھ ایسے ہے کہ ان کی قدر و قیمت ایک دوسرے کے ساتھ ہے۔ اسی طرح شریعت بلا حقیقت ریاکاری ہے اور حقیقت بلا شریعت نفاق۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾ "جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنا راستہ دکھاتے ہیں۔" اور مجاہدہ شریعت میں ہے اور ہدایت حقیقت۔ یہ ایک بندے کو احکامِ ظاہری کا پابند رکھتی ہے اور دوسرے احوالِ باطنی میں بندہ پر قائم ہے۔ تو گویا شریعت مکاسب سے ہے اور حقیقت مواہب سے۔ یہ حدیں وہ حدیں ہیں کہ بطور استعارہ بولی جاتی ہیں اور اس کی تفصیل اور اس کے احکام کی تشریح بہت مشکل ہے۔ میں علی الاختصار اس نوع کا بیان کرتا ہوں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ الْحَقُّ۔
الحق: اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس لیے کہ اسماءِ الٰہی میں سے یہ ایک نام ہے۔ جیسے قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ﴾
الحقیقت: اس سے بندہ کا محلِ وصلِ الٰہی میں قائم ہونا مراد ہے اور اس کے وقوف کا سرِ محلِ تنزیہ ہے۔
الخطرات: جو کچھ احکامِ تفریق سے دل پر گزرے۔
الوطنات: جو اسرارِ الٰہی سے اس میں متوطن ہو۔
الطمس: وہ نفیِ عین مراد ہے جس کا اثر نہ رہے۔
۵۹۴الرمس: جو دل سے نفیِ عین ہو اور اس کا اثر رہے۔
العلائق: وہ اسباب جن سے طالب تعلق کرتے ہیں اور مراد سے رہ جاتے ہیں۔
الوسائط: وہ اسباب جن سے طالب تعلق کرتے ہیں اور مراد کو پہنچتے ہیں۔
الزوائد: دل پر انوار زیادہ ہونا۔
الفوائد: اسرارِ ضرور یہ کو ادراک کرنا۔
الملجا: حصولِ مراد پر دل کا بھروسہ۔
المنجا: محفلِ آفت سے دل کا خلاصی پانا۔
الکلیہ: اوصافِ آدمیت کا کلیۃً مستغرق ہونا۔
اللوائح: مراد کا ثابت ہونا اور اس کی نفی کا ورد۔
اللوامع: نور کا دل پر اظہار اور اس کے فوائد کی بقا۔
الطوالع: انوارِ معرفت کا دل پر روشن ہونا۔
الطوارق: رات کی مناجات میں بشارت یا زجر کا وارد ہونا۔
اللصیفہ: دقائقِ حال سے دل پر سری طور پر دوستی کا اشارہ۔
النجویٰ: اطلاعِ غیر سے آفات کا مخفی کرنا۔
الاشارات: بے الفاظ و زبان اخبار غیر دینا۔
الایماء: تعریضِ خطاب بے اشارت و عبارت۔
الوارد: دل میں معنی کا طلوع۔
الانتباہ: زوالِ غفلت دل سے۔
الاشتباہ: حکمِ حق اور باطل میں اشتباہ پیدا ہونا۔
القرار: حقیقتِ حال زوال و تردد۔
الانزعاج: حالِ وحدانیت میں تحرکِ دل سے بعض مختصر الفاظ کا ورد۔
نوعِ آخر: یہ وہ عددِ الفاظ ہیں کہ توحیدِ حق میں استعمال کرتے اور حقیقتوں میں ان کے اعتقاد کا بیان اس میں استعارہ نہیں اور ان میں سے ایک
العالم: یہ مخلوقِ الٰہی ہے اور کہتے ہیں کہ یہ اٹھارہ ہزار ہیں، اور فلاسفہ پچاس ہزار عالم کہتے ہیں اور اس کے علاوہ ایک عالمِ سفلی اور ایک عالمِ علوی بھی ہے اور اربابِ اصول کہتے ہیں کہ عرش سے تحت الثریٰ تک جو کچھ ہے، وہ عالم ہے۔ بہرحال عالم مختلف چیزوں کا جمع ہونا
۵۹۵ہے اور اہلِ طریقت کے نزدیک عالمِ ارواح اور عالمِ نفوس ہے اور ان کی اس سے یہ مراد نہیں ہے جو فلاسفہ کی ہے کیونکہ ان کے نزدیک ارواح اور نفوس کا جمع ہونا ہے۔
المحدث: یہ وہ ہے جو متاخر وجود میں ہو یعنی پہلے نہ ہو پھر ہو جائے۔
القدیم: جو وجود میں سابق اور ہمیشہ ہو اور اس کی ہستی سب ہستیوں سے مقدم ہو، یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔
الازل یا الاوّل: جس کی ابتداء نہ ہو۔
الابد: جس کے لیے انتہا نہ ہو۔
الذات: کسی شے کی ہستی اور اس کی حقیقت۔
الصفہ: جو نعت میں ہو اور خود قائم نہ ہو۔
الاسم: مسمیٰ کا جو غیر ہو۔
التسمیہ: خبرِ مسمیٰ۔
النفی: جو عدم اور منفی کا مقتضی ہو۔
الاثبات: جو وجود و ثبت کا مقتضی ہو۔
الشیئان: جب ایک کا وجود دوسرے پر وارد ہو۔
الضدان: یعنی ایک کا وجود دوسرے کی موجودگی میں ایک حال کے ساتھ روا نہ ہو۔
الغیران: ایک کا وجود دوسرے کے فنا کے ساتھ روا ہو۔
الجوہر: وہ چیز جو قائم بالذات ہو۔
العرض: جو جوہر کے ساتھ قائم ہو۔
الجسم: جو اجزاءِ متفرقہ سے مرکب ہو۔
السوال: طلبِ حقیقت۔
الجواب: سوالِ سائل پر خبر دینا۔
الحسن: جو موافقِ امر ہو۔
القبیح: جو مخالفِ امر ہو۔
السفہ: جو مخالفِ ترکِ امر ہو۔
الظلم: کسی شے کو غیر موقع رکھنا۔
العدل: کسی شے کو اس کے قابل جگہ رکھنا۔
۵۹۶الملک: جس کے لیے اعتراض نہ ہو سکے۔ یہ دو حدیں ہیں کہ طالب کو ان سے چارہ نہیں۔ یہ بطورِ اختصار بیان کر دی گئیں۔
نوعِ آخر: یہ ایسی بات ہے جو شرح کی محتاج ہے اور صوفیائے کرامؒ میں یہ متداول ہے اور اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ اہلِ زبان کو معلوم ہو جائے اور ظاہر لفظ ہی سے مفہوم واضح کر دے۔
الخاطر: مرضی کے مطابق حصولِ معنی کا خواستگار ہونا کہ اس کو جلد زوال ہو اور دوسری خاطر آئے اور صاحبِ خاطر اس کے دل سے دفع کرنے پر قادر ہو اور اہلِ خاطر پہلے خاطر کے تابع ہوتے ہیں ان امور میں جو حق تعالیٰ میں بندہ پر بے وجہ آ جائیں۔
اور کہتے ہیں کہ خیر النساج رحمۃ اللہ علیہ پر ایک خاطر رونما ہوئے کہ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ دروازہ پر ہیں۔ آپ نے اس خطرہ کو اپنے سے دور کرنا چاہا کہ دوسرا خطرہ خاطرِ مبارک میں آیا۔ آپ اس کے دفع میں مشغول ہوئے کہ پھر تیسری بار خطرہ ہوا کہ حضرت جنیدؒ دروازے پر تشریف فرما ہیں۔ جا کر دیکھا تو حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کو دروازہ پر کھڑا پایا۔ حضرت جنیدؒ نے فرمایا! اے خیر نساج! اگر تو پہلے خطرہ کو خاطر میں لے آتا اور سیرتِ مشائخ پر عمل پیرا ہوتا تو میں اتنی دیر دروازہ پر کھڑا نہ رہتا۔
مشائخ فرماتے ہیں کہ اگر خطرہ خاطرِ خیر میں آیا تو اس میں حضرت جنیدؒ کو کیا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جنیدؒ، شیخ خیر نساج تھے اور شیخ لامحالہ احوالِ مرید سے واقف ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کا فرمانا صحیح تھا۔
الواقع: سے مراد یہ ہے کہ جو دل میں مرید کے ظاہر ہو اور باقی رہے، برخلافِ خاطر کے کہ وہ باقی نہیں رہتا اور کسی حال میں طالب اس کے دفع کرنے پر قدرت نہیں رکھتا۔ جیسے کہتے ہیں خَطَرَ عَلٰى قَلْبِيْ "میرے دل میں خطرہ گزرا" وَوَقَعَ فِيْ قَلْبِيْ "اور دل میں واقع ہوا ہے۔" تو دل خاطر کا محل ہے۔ لیکن واقعات ولی ہی کے دل پر گزرتے ہیں غیر ولی پر نہیں۔ کیونکہ ولی کا دل وہ ہے جس میں تمام حدیثِ حق ہوتی ہیں۔ بدیں وجہ جب مرید کے دل میں راہِ حق کی طرف سے کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اسے قید کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں کو واقعہ ہوا ہے اور اہلِ زبان واقعہ میں مسائل اشکال بیان کرتے ہیں اور جب کوئی اس کا جواب دے اور شبہ اٹھا دے تو کہتے ہیں یہ واقعہ حل ہوا۔ لیکن محققین اسی طرف ہیں کہ واقعہ وہ ہوتا ہے جس پر حل روانہ ہو اور جو حل ہو جائے وہ خاطر کا خطرہ ہوتا ہے، واقعہ نہیں۔ کیونکہ اہلِ تحقیق کا بند حقیر نہیں ہوتا کہ اس کا حکم بدل جاتا ہے اور حال
۵۹۷سے پھر جاتا ہے۔
الاختیار: یہ وہ ہے کہ حق کے اختیار کو اپنے اختیار پر اختیار کریں۔ یعنی جو کچھ حق تعالیٰ نے ان کے لیے اختیار کیا ہے خواہ خیر ہو یا شر، اسی کو پسندیدہ رکھیں۔
اور در حقیقت بندہ کا اختیارِ حق کو اختیار کرنا بھی اختیارِ حق سے ہوتا ہے اور اگر وہ بات نہ ہوتی اور اللہ تعالیٰ اسی کو اختیار کر دیتا تو وہ اپنا اختیار کبھی نہ چھوڑتا اور ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ امیر کسے کہتے ہیں۔ فرمایا کہ امیر وہ ہے جس کا اختیار نہ رہا ہو اور حق کے اختیار کو اس نے اختیار کر کے اپنا اختیار بنایا ہو۔
اور حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ کو ایک وقت بخار آیا۔ عرض کی الٰہی! مجھے آرام عطا فرما۔ آپ کو ندا آئی کہ جنید! تو کون ہے جو میری ملکیت میں تصرف کرتا ہے اور اپنا اختیار ظاہر کرتا ہے؟ میں اپنی ملک میں تجھ سے زیادہ مدبر ہوں، تو میرے اختیار کو اختیار کر اور اپنا اختیار ظاہر نہ کر۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
الامتحان: اس لفظ سے امتحانِ دلِ اولیاء مراد ہے۔ اس لیے کہ ولی کے دل پر من جانب اللہ کئی طرح کی بلائیں آتی ہیں۔ جیسے خوف، غم، ہیبت، قبض اور مثل اس کے جیسا کہ قرآنِ پاک میں فرمایا: ﴿اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ﴾ "یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ امتحان میں ڈالتا ہے، تقویٰ کے لیے انہیں بخشش ہے اور بڑا اجر، اور یہ بہت بلند درجہ ہے۔" وَاللّٰهُ اَعْلَمُ
البلاء: بلاء سے مراد محبوں کے تن کا امتحان متعدد طرح سے ہے: غمیں، بیماریاں اور رنج و محن سے کیا جاتا ہے اور جس قدر بندہ پر بلا زیادہ قوی ہوتی جاتی ہے، اسے قربِ حق زیادہ ملتا ہے۔ اس لیے کہ بلا لباسِ اولیاء ہے اور برگزیدہ ہستیوں کا گہوارہ اور انبیاء کرام کی غذا۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: نَحْنُ مَعَاشِرُ الْاَنْبِيَاءِ اَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً۔ "ہم نبیوں کا گروہ ہیں، بلا کے لیے لوگوں سے زیادہ سخت ہیں۔"
پھر اولیاء، پھر مقرب لوگ، پھر ان کی مثل۔ غرضیکہ بلا رنج کا نام ہے جو بندۂ مومن کے دل اور تن پر آتی ہے اور در اصل یہ اس کے حق میں نعمت ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اس کا راز بندہ پر پوشیدہ ہوتا ہے اور اس کا درد اٹھانے کا ثواب ملتا ہے اور جو کفار پر بلا نازل ہوتی ہے وہ بلا بمعنی استیلا نہیں ہوتی بلکہ وہ ان کی کم بختی ہوتی ہے اور کافر کبھی شقاوت سے شفا نہیں پاتا۔
۵۹۸تو خلاصہ یہ ہے کہ بلا مرتبۂ امتحان میں بڑا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے کہ بلا کا اثر تن پر ہوتا ہے اور دل بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اور امتحان کا اثر دل پر ہوتا ہے اور یہ بہت قوی ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
التحلّی: کسی قوم سے قول و فعل میں مساوی ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا
لَيْسَ الْاِيْمَانُ بِالتَّحَلِّيْ وَالتَّمَنِّيْ وَلٰكِنْ مَّا وَقَرَ فِي الْقُلُوْبِ وَصَدَّقَهُ الْعَمَلُ۔
ایمان ظاہر داری سے نہیں لیکن دل میں وقر پیدا کرے اور عمل اسے سچا کرے تو یہ تحلی۔ ایک گروہ کے نزدیک بدونِ حقیقتِ معاملہ کے مشابہ ہونا تحلّل کہلاتا ہے اور جو دکھاوے کے لیے ایسا کرے اور حقیقت میں نہ ہو محض ظاہر داری کرتا ہو، وہ جلدی سے خوار ہو جاتا ہے اور اس کا بھید کھل جاتا ہے۔
التجلی: یہ انوارِ حق کی تاثیر ہے جو مقبولانِ بارگاہ پر ہوتی ہے جس سے وہ اس درجہ پر پہنچتے ہیں کہ حق تعالیٰ کو دیکھتے ہیں۔ اسی وجہ میں رویت بالقلب اور رویت بالعین دو صورتوں میں رکھی گئی۔ تجلی اگر چاہے دیکھے، اگر نہ چاہے نہ دیکھے۔
ایک صورت یہ ہے کہ کسی وقت دیکھ سکے اور کسی وقت نہ دیکھ سکے۔
ایک وہ اہلِ نظر ہیں کہ اگر بہشت میں بھی دیکھنا نہ چاہیں، نہ دیکھیں کیونکہ ان کے لیے تجلی پر پردہ اختیار روا ہو جاتا ہے اور رویت پر پردہ جائز نہیں ہوتا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
التخلّی: وہ بندہ کا ایسا شغل ہے جو مانعِ ذکرِ حق ہو جائے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہاتھ خالی کرنا چاہے دنیا سے۔ دوسرے یہ کہ عقبیٰ سے اپنا دل خالی کر دے۔ تیسرے یہ کہ خواہشِ نفسانی کی متابعت کو اس سے اپنا سر خالی کر دے۔ چوتھے خلقت کی صحبت سے اپنے کو خالی کرے اور اس کا اندیشہ بھی دل میں نہ آنے دے۔
الشرود: معنی شرود طلبِ خاص کے ہیں۔ یہ آفت و حجاب و بیقراری سے خلاصی پانے کے لیے حق کو طلب کرنا ہے۔ کیونکہ طلب پر تمام بلائیں حجاب سے آتی ہیں۔ تو اگر وہ طالب کا کشفِ حجاب ہے تو اس کے سفر اور تعلق کی ہر شے کو شرود کہتے ہیں۔ اس میں ابتدائے
۱۔ ابن عربی نے اسے "الکامل فی ضعفاء الرجال" (۶/۲۹۰) میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: لیس الایمان بالتحلّی ولا بالتمنّی، ولکن ما وقر فی القلب وصدقہ الاعمال۔
۵۹۹طلب میں بے قراری زیادہ ہوتی ہے اور انتہا میں وصل قائم ہو جاتا ہے۔
القصود: یہ طلبِ مقصود کے لیے حقیقت ارادۂ صحیح اس گروہ کا قصود ہے۔ یہ حرکت و سکون سے متعلق نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ دوست اگرچہ دوستی میں ساکن ہوتا ہے یا قاصد، مگر یہ خلافِ عادت ہے۔ اس لیے کہ قاصدوں کا مقصد یا ظاہر پر موثر ہوتا ہے یا ان کے باطن پر نشان دیتا ہے مگر جو دوست بے وجہ طلب کرتے ہیں اور بدونِ حرکات قاصد ہوتے ہیں ان کے سبب صفتیں خود قصد ہوتی ہیں اور جو انتہا کا قصد کرتے ہیں تو جب دوستی حاصل ہو جاتی ہے تو سب قصد ہو جاتے ہیں۔
اصطناع: اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ مہذب ہو جائے اور اس کی سب صفتیں فنا ہوں اور تمام خطوطِ نفسانی اوصافِ نفس بدل جائیں تاکہ اوصافِ ذاتی کے زوال اور اوصافِ نفسانی کے تبدیل ہو جانے سے بیخود ہو جائے اور اس درجۂ خاص میں انبیاء کرام ہوتے ہیں۔ اولیاء اللہ کو یہ درجہ نہیں ملتا۔ ایک گروہ مشائخ سے انبیاء اور اولیاء میں بھی روا رکھتا ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
الاصطفاء: اصطفا یہ ہے کہ حق تعالیٰ بندہ کے دل کو اپنی معرفت کے لیے فارغ فرما دے تاکہ اس کی معرفتِ صفات اس کے دل میں جاگزیں ہو اور اس درجہ میں خاص و عام ہے، مومنین سب بلکہ عاصی، مطیع، ولی نبی سب پہنچ سکتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرٰتِ﴾ "کتاب کا وارث کیا ہم نے اپنے بندوں سے جن کو چن لیا تو ان میں ظالم ہیں اپنی جان میں اور ان میں میانہ رو ہیں اور ان میں سابق بالخیرات ہیں۔" دوسری جگہ فرمایا: ﴿وَاِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْاَخْيَارِ﴾
الاصطلام: اصطلام تجلیاتِ حق ہیں کہ بندہ ان سے مقہور ہو جاتا ہے تاکہ امتحان لطفِ نفی میں اس کے ارادہ اور قلوب پر عائد ہو اور مصطلم اور قلبِ ممتحن دونوں کے معنی ایک ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ الاصطلام زیادہ خاص ہے اور امتحان اس سے زیادہ رقیق ہے اور اربابِ طریقت اصطلاح میں مروّج ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
الرّین: رین ایک حجاب ہے جو دل پر آتا ہے اور اس کا کشف ایمان کے بغیر نہیں اور وہ حجابِ کفر اور گمراہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور یہ کفار کی صفت ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ﴾
۶۰۰ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ وہ حجاب ہے جس کا زوال خود ممکن نہیں خواہ کسی صفت سے ہو کیونکہ کافر کا دل اسلام پذیر نہیں ہوتا اور جوان میں سے ایمان لاتے ہیں وہ خداوند تعالیٰ کے علم میں مومن ہوتے ہیں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰى اَعْلَمُ۔
الغین: یہ دل پر ایک پردہ ہوتا ہے جو استغفار سے اٹھ جاتا ہے اور یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک خفیف، ایک غلیظ۔ غلیظ کافروں، غافلوں کے واسطے ہے اور خفیف اولیاء انبیاء سب پر آ سکتا ہے۔ جیسے حضور ﷺ نے فرمایا: اِنَّهٗ لَيُغَانُ عَلٰى قَلْبِيْ فَاِنِّيْ لَاَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ فِيْ كُلِّ يَوْمٍ مِّائَةَ مَرَّةٍ "بے شک میرے دل پر پردہ کیا جاتا ہے اور روزانہ اپنے رب سے ستر بار استغفار کرتا ہوں۔" اور خفیف کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور توبہ کے معنی گناہ سے اطاعت کی طرف جانا ہے اور رجوع کے معنی ہیں اپنے آپ سے خداوند تعالیٰ کی طرف لوٹنا۔ تو توبہ گناہ سے ہوتی ہے اور محبوں کا جرم اپنی ہستی کو دیکھنا بھی ہے۔ اگر کوئی خطا سے صواب کی طرف جائے تو کہتے ہیں کہ یہ قول راجح ہے۔ فلاں شخص راجع ہے، اور یہ تمام بحث میں نے توبہ کے باب میں کر دی ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ
التلبیس: کسی چیز کا اس کی اصل کے خلاف دکھانے کو تلبیس کہتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَّا يَلْبِسُوْنَ﴾ "البتہ پہنایا ہم نے جو پہنتے ہیں۔" یعنی پردہ ڈال دیا اور غیر اللہ تعالیٰ میں یہ صفت محال ہے۔ اس لیے کہ کافر کو نعمت سے وہی مومن کرتا ہے اور مومن کو اپنی نعمت سے کافر بناتا ہے تاکہ اس کے اظہارِ حکم اور حقیقت کا وقت ہر ایک میں آ جائے اور جب اس گروہ سے ایک شخص نیک خصلتوں کو بری صفتوں میں چھپا دیتا ہے، کہتے ہیں یہ تلبیس کرتا ہے اور اس جگہ کے سوا اس عبادت کو استعمال نہیں کرتے اور نفاق اور ریا کو تلبیس نہیں کہتے۔ گو اصل میں وہ بھی تلبیس ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اقامتِ فعلِ حق کے سوا تلبیس کا استعمال نہیں۔
الشرب: طاعت کی شیرینی کو اور کرامت کی لذت کو اور راحتِ اُنس کو یہ طائفہ شرب کہتا ہے اور کوئی شخص کوئی کام لذتِ شرب کے سوا نہیں کر سکتا جیسے تن کا سیراب ہونا، پانی سے ہوتا
۱۔ اس حدیثِ مبارکہ کا تفصیلی ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
۶۰۱ہے۔ ایسے ہی دل کا شرب راحت اور شیرینی طاعات سے ہے۔ اور میرے شیخ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مرید بے شرب اور عارف باشرب ہوتا ہے اور یہ ارادہ و معرفت سے خالی ہوتے ہیں۔ اس لیے مرید کو چاہیے کہ اپنے کام سے شرب ہو، تاکہ ارادتِ حق طالب بجا لائے لیکن غارت گرِ شرب نہ ہونا چاہیے تاکہ بدونِ ارادۂ حق شرب سے اس پر ایسی حالت ہو جائے کہ اگر اپنے نفس کی طرف رجوع کرے تو آرام نہ پائے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔
الذوق: یہ شرب کی مانند ہوتا ہے۔ لیکن شراب راحتوں کے سوا مستعمل نہیں اور ذوق رنج و راحت کو اچھا تحمل کرنا ہے۔ جیسا کہ کوئی کہے: ذُقْتُ الْحَلَاوَةَ وَذُقْتُ الْبَلَاءَ وَذُقْتُ الرَّاحَةَ۔ تو سب درست ہیں۔ پھر شرب کو بھی کہتے ہیں: شَرِبْتُ بِكَاْسِ الْوَصْلِ اَوْ بِكَاْسِ الْوُدِّ۔ اور ایسی ہی اور بھی مثالیں ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْٓئًا﴾ "مزے سے کھاؤ پیو" اور جب ذوق کا بیان فرمایا: ﴿ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ﴾ دوسری جگہ فرمایا: ﴿ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ﴾ یہ حدود الفاظ کے حکم میں ہیں جو صوفیوں کے لیے ہم نے مروجہ اصطلاحات جمع کر دیں۔ اگر سب بیان کریں تو کتاب طویل ہو جائے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
کشفِ حجابِ یازدہم: سماع
یاد رکھو! حصولِ علم کے پانچ اسباب ہوتے ہیں۔ اول سمع، دوم بصر، سوم ذوق، چہارم شم، پنجم لمس۔ سمع سننے کا کام دیتا ہے۔ بصر دیکھنے کے ذریعہ علم پہنچاتا ہے۔ ذوق چکھ کر حقیقتِ شے معلوم کی جاتی ہے۔ شم سونگھنے سے پتہ لگانا۔ لمس چھو کر مس کے ذریعے معلوم کرنا۔
یہ پانچ ذرایع ہیں جو دل کے لیے اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں اور ہر چیز کا علم انہیں پانچ دروں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ جیسے سماعت کے ذریعے آواز اور خبر کا علم ہوتا ہے۔ بصارت کے ذریعے رنگ اور شکلیں معلوم ہوتی ہیں۔ ذائقہ کے ذریعے شیریں، تلخ، میٹھا معلوم ہوتا ہے۔ شامہ کے ذریعے خوشبو و بدبو کا علم حاصل ہوتا ہے۔
ان پانچ حواس سے چار کے مقامات خاص ہیں اور ایک تمام بدن میں پھیلا ہوا ہے۔
۶۰۲سماعت کے لیے کان، بصارت کے لیے آنکھ، ذائقہ کے لیے زبان، شامہ کے لیے ناک ہے اور لمس کو تمام بدن میں جگہ ہے۔ اس لیے کہ آنکھ سواد دیکھنے کے اور کام نہیں کرتی اور کان سننے کے سوا اور کام نہیں دیتا۔ ناک سونگھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی۔ زبان چکھنے کے سوا اور کسی کام کی نہیں۔ لیکن تمام بدن سے نرم، گرم، کھردرا، سرد وغیرہ معلوم کرنے والا لمس ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہر ایک حس تمام اعضاء میں مثلِ لمس کے پھیلا ہوا ہو۔ اور معتزلہ کے نزدیک ہر حس اپنے محل کے سوا اور جگہ روا نہیں مگر ان کا یہ قول باطل ہے۔ اس لیے کہ لمس کے سواسب کے محل خاص ہیں اور لمس کا کوئی محل خاص نہیں ہے۔ اور جب ایک بھی ان پانچ سے محلِ خاص نہیں رکھتا سوائے ایک کے، تو اوروں کے واسطے بھی یہی صفت روا ہے۔ حالانکہ یہاں یہ مقصود نہیں ہے بلکہ اسی قدر بیان ضروری تھا تاکہ تحقیقِ معنی ہو سکے۔
تو چار حواس کا ذکر ہو چکا ہے۔ ان میں سے چار سننے، دیکھنے، سونگھنے، چکھنے کے ہیں اور ایک چھونا ہے۔ تو یہ امر جائز ہوا کہ حواس ہجو بہ علم کو دیکھنا اور خوشبو سونگھنا ہے۔ نعمتوں کو چکھنا ہے اور ایک چھونا ہے۔ تو یہ رہنمائے عقل ہوئے اور یہی اللہ کی طرف رہنما ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ذریعہ انسان جانتا ہے کہ جہان محدث ہے اور محلِ تغیر اور جو حادث ہے وہ محدث سے خالی نہیں اس لیے کہ پیدا کرنے والا ہے اور خالق جنسِ مخلوق سے نہیں۔ اس لیے کہ وہ خالق ہے، یہ مخلوق ہے۔ یہ جسم پذیر ہے وہ پیدا کرنے والا اور جسم دینے والا۔ یہ محدث ہے اور وہ اس کا پیدا کرنے والا ہے۔ محدود ہے اور اس کا خالق غیرِ محدود اور سب اشیاء پر قادر ہے اور سب کچھ کر سکتا ہے۔ تمام معلومات کا علم اس کا تصرف ملک میں جاری ہے۔ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس نے برہانِ صادق کے ساتھ رسول بھیجے اور جب تک اس کی معرفت کا وجوب سماعت سے علم نہ ہو لوگوں کا اس پر ایمان لانا اور رسولوں کا حکم ماننا واجب نہیں ہوتا کیونکہ شرع کا وہی موجب ہے۔ اس سبب سے اہلِ سنت دنیا میں سماعت کو بصارت پر فضیلت دیتے ہیں اور اگر کوئی خطا کار کہے کہ کان محلِ خبر ہیں اور آنکھیں محلِ نظر اور ان سے ہی اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا تو وہ سماعت سے زیادہ افضل ہے۔
میں کہتا ہوں ہم سمع سے جانتے ہیں کہ دیدارِ الٰہی مومنوں کو بہشت میں ہوگا کیونکہ دیدار کو عقل سے جائز ماننا اس کا حجابِ کشف سے زیادہ اچھا نہیں اس لیے کہ ہم نے خبر سے معلوم کر لیا ہے کہ مومن کو کشف ہوگا اور اس کی نظر سے حجاب اٹھ جائے گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کو دیکھیں تو سمع بصر
۶۰۳سے افضل ہوا اور یہ بدیہہ ہے کہ تمام امورِ شریعت سماعت پر مبنی ہیں۔ اگر سماعت نہ ہوتی تو اس کا ثبوت ملنا محال ہوتا۔ اور انبیاء علیہم السلام بھی آئے، پہلے انہوں نے فرمایا اور اسے سننے والوں نے سنا تو ایمان لائے۔ پھر انہوں نے معجزات دکھائے اور معجزہ دیکھنے میں اس کی تاکید بھی کان سے تھی۔ تو وہ دلائل سے جو سماعت کا انکار کرے وہ در حقیقت منکرِ شریعت ہے اور اس نے اس کا حکم اپنے اوپر چھپایا۔ اب میں اس کا حکمِ جامع ظاہر کرتا ہوں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔
تیسواں باب
سماعِ قرآن اور اُس کے متعلقات
اعلیٰ ترین سننے والی چیز جو دل کو فائدہ دے، کلامِ الٰہی عزّاسمہ ہے اور اس کلامِ پاک کے سننے پر تمام مومن اور کافر مکلف ہیں، خواہ آدمی ہوں یا جن پری۔ اور معجزۂ قرآن ظاہر یہ ہے کہ اس کے پڑھنے اور سننے سے ملول نہیں ہوتا اور اس میں بڑی رقت ہے۔ حتیٰ کہ کفار شب میں پوشیدہ طور پر آتے۔ اور حضور ﷺ جب نماز میں ہوتے یہ چپکے کر سنتے اور پسند کرتے بلکہ جامعیتِ کلام پر اور تعجب ہوتا۔ جیسے نضر بن حارث جو بڑا فصیح اللسان تھا اور عتبہ بن ربیعہ کو بلاغت میں جادوگر مانا جاتا تھا اور ابو جہل بن ہشام جو کلام و برہان میں شانِ بیضا دکھاتا تھا اور خطبات میں خاص شان دکھاتا تھا اور مثلِ ان کے اور بلغاء و فصحاءِ عرب۔
حتیٰ کہ ایک رات حضور ﷺ تلاوت فرما رہے تھے کہ عتبہ سنتے سنتے بیہوش ہو گیا اور ابو جہل سے بعد میں کہنے لگا کہ مجھے معلوم ہوتا ہے یہ مخلوقات کا کلام نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے جنوں اور پریوں کو فوج در فوج کر کے بھیجا تاکہ وہ حضور ﷺ سے کلامِ پاک سنیں۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے: ﴿اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا﴾ "ہم نے ایک کلام عجیب سنا ہے۔" جس کے اثر سے مطلع کیا کہ قرآن بیمار دلوں کو صحت کی طرف لاتا ہے۔ ﴿يَّهْدِيْٓ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ وَلَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا﴾ "تو ہم اس پر ایمان لائے اور ہم ہرگز اپنے رب کا کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔"
اس لیے کہ اس کلام کی نصیحت تمام نصیحتوں سے بہتر ہے اور اس کے الفاظ نہایت مختصر اور جامع ہیں۔ اس کا حکم تمام اوامر سے لطیف تر ہے۔ اس کی نہی تمام مناہی سے صاف ہے۔ اس کے مواعید سب وعدوں سے زیادہ دلربا ہیں اور اس کے عذاب کی شان تمام عذابوں سے دل گداز ہے۔ اس کے قصے تمام قصوں سے زیادہ سیر کرنے والے۔ اس کی مثالیں سب مثالوں سے زیادہ فصیح ہیں۔ اس کے سننے سے ہزار دل شکار ہوتے ہیں۔ اس کے لطیفے ہزار ہا جانوں کو بلا میں مبتلا کرتے ہیں۔ دنیا داروں کو ذلیل کرتا ہے اور تارک الدنیا کو عزت دیتا ہے۔
۶۰۵جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنا کہ ان کی بہن اور بہنوئی مسلمان ہو گئے ہیں، تلوار سونت کر ان کے قتل کو آمادہ ہوئے اور دل میں ان کی محبت نکالی۔ حق تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے سورۂ طٰہٰ کا لشکر گوشوں پر ان کی تاک میں بٹھا دیا۔ جب وہ بہن کے دروازے پر آئے تو بہن پڑھ رہی تھیں: ﴿طٰهٰ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰىٓ اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى﴾ "اے ماہِ کامل! ہم نے تیری طرف قرآن اس لیے نازل کیا کہ تو مشقت میں پڑے، مگر ڈرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔"
یہ آیت سنتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جان اس کے دقائق کا شکار ہوئی اور ان کا دل اس کے لطائف کی زنجیروں میں قید ہو گیا اور صلح اختیار کی اور ارادۂ قتل ترک کر کے مخالفت کی بجائے موافقت کی طرف آئے۔ اور مشہور ہے کہ جب حضور ﷺ کے حضور یہ آیت پڑھی گئی
﴿اِنَّ لَدَيْنَآ اَنْكَالًا وَّجَحِيْمًا وَّطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّعَذَابًا اَلِيْمًا﴾ "بیشک ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور دوزخ اور کھانا گلا گھونٹنے والا اور دردناک عذاب ہے۔" یہ سنتے ہی حضور ﷺ پر غشی طاری ہو گئی۔
اور مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے رو برو پڑھا: ﴿اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ﴾ "بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے، کوئی اس کے دفع کرنے پر قادر نہیں۔" تو آپ نے ایک نعرہ مارا اور بیہوش ہو گئے۔ آپ کو اٹھا کر گھر لے آئے۔ ایک ماہ تک آپ بیمار رہے، اس لیے آپ پر خوفِ خداوندی مسلط رہا۔
روایت ہے کہ ایک صحابی نے عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت پڑھی: ﴿لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ﴾ "ان کے لیے جہنم کا جھولا ہے اور ان کے اوپر پردہ ہے۔" آپ نے یہ سنتے ہی رونا شروع کر دیا، حتیٰ کہ راوی کہتا ہے کہ مجھے خیال ہوا کہ ان کی جان نکل گئی۔ پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے، لوگوں نے کہا بیٹھ جایئے۔ آپ نے کہا کہ اس آیت کی مصیبت مجھے بیٹھنے نہیں دیتی۔
روایت ہے کہ حضرت جنید رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ﴾ "اے ایمان والو کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے۔" آپ نے کہا: اِلٰهِيْ اِنْ قُلْنَا بِكَ وَاِنْ فَعَلْنَا فَعَلْنَا بِتَوْفِيْقِكَ فَاَيْنَ الْقَوْلُ
۶۰۶وَالْفِعْلُ۔ "اے میرے ربّ! اگر ہم کہیں تو تیری ہی توفیق سے کہتے ہیں اور اگر کرتے ہیں تو تیری ہی توفیق سے کرتے ہیں تو کہاں ہے قول و فعل۔" حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت ہے کہ ان کے سامنے: ﴿وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ﴾ یعنی "یاد کر اپنے رب کو جب تو بھول جائے" پڑھی گئی تو آپ نے فرمایا کہ ذکر کی شرط نسیان میں ہے اور سب جہان اس کے ذکر میں ہے۔ پھر آپ نے نعرہ مارا اور بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا تو کہا مجھے تعجب ہے اس جان پر جو کلامِ الٰہی سنے اور نہ نکلے۔
ایک بزرگ نے فرمایا: ایک وقت میں کلام اللہ سے پڑھتا تھا: ﴿وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ﴾ "ڈرو اس دن سے جب تم رجوع کرو گے اللہ کی طرف۔" تو ہاتفِ غیبی نے پکارا: آہستہ پڑھ کیونکہ چند پریاں اس کی مصیبت سے مر گئیں۔
ایک درویش فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال سے نماز میں قرآنِ پاک جواز سے زیادہ نہیں پڑھا اور نہ سنا۔ لوگوں نے سبب پوچھا۔ فرمایا: اس خوف سے کہ مجھ پر حجت ہو جائے گی۔
ایک روز میں شیخ ابو العباس شقانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہیں میں نے یہ آیت پڑھتے ہوئے پایا: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَقْدِرُ عَلٰى شَيْءٍ﴾ "مثال دیتا ہے اللہ اس بندۂ مملوک کی جو کسی شے پر قادر نہیں۔" اور رو رہے تھے کہ ایک نعرہ مار کر بیہوش ہو گئے۔ میں نے گمان کیا کہ شاید دنیا سے رحلت فرما گئے۔ میں نے عرض کیا حضور! یہ کیا حال ہے؟ فرمایا کہ گیارہ سال ہوئے کہ میں اس آیت تک آیا ہوں اب اس سے آگے جانہیں سکتا۔
حضرت ابو العباس عطا رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ حضور نے قرآنِ کریم کی روزانہ کتنی تلاوت مقرر کی ہے۔ جواب دیا: اس سے قبل آٹھ پہر میں دو ختم کرتا تھا۔ اب چودہ سال سے آج تک سورۃ الانفال تک پہنچا ہوں۔ حضرت ابو العباس نے قصاب قاری کو فرمایا: پڑھ۔ اس نے پڑھا: ﴿يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ﴾ "اے عزیز! ہم کو اور ہمارے اہل کو ضرر پہنچا اور ہم تھوڑا سا اسباب لائے ہیں۔" آپ نے فرمایا پھر پڑھ۔ اس نے پڑھا: ﴿قَالُوْٓا اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ﴾ "بولے اگر اس نے چرایا ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی (بنیامین) چوری کر چکا ہے۔" آپ نے فرمایا اور پڑھ۔ اس نے پڑھا: ﴿لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ﴾ "آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں بخش دے گا۔" آپ نے عرض کی: الٰہی! میں یوسف کے بھائیوں سے زیادہ ہوں اور تو کرم میں یوسف
۶۰۷سے زیادہ ہے۔ میرے ساتھ ایسا کر جیسا یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا۔
اور باس ہمہ ہم سب اس کلامِ پاک کے سننے پر مامور ہیں۔ تمام اہلِ اسلام خواہ وہ مطیع ہوں یا عاصی۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾ "جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سنو اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔" اس حکم میں سننا اور چپ رہنا خلقت پر حکم فرمایا۔ اس حال میں جب قرآنِ کریم پڑھا جائے اور یہ بھی فرمایا: ﴿فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ﴾ "خوشخبری دے میرے ان بندوں کو جو سنتے ہیں کلام اور اچھی تابعداری کرتے ہیں۔" یعنی اس کا حکم مانتے اور تعظیم سے سنتے ہیں اور یہ بھی فرمایا: ﴿اَلَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ﴾ "یعنی وہ لوگ جن کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو لرز جاتا ہے ان کا دل۔" اور یہ بھی فرمایا: ﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ﴾ "جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مطمئن ہوئے۔ خبردار رہو! اللہ کا ذکر دلوں کا چین ہے۔" اور ایسی بہت سی آیتیں ہیں جو اس حکم کی تائید کرتی ہیں۔
پھر اس کے برخلاف وہ گروہ بھی ہے جو کلامِ الٰہی کو سن کر کان سے دل کی طرف نہیں جانے دیتا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا: ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ وَعَلٰىٓ اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ﴾ "اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ان کے دلوں پر، ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔" پردہ ڈالنے سے مراد گوشۂ سماعت بند کرنا ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ جہنمی قیامت کے روز کہیں گے: ﴿لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ﴾ "اگر ہم ایسے ہوتے کہ سنتے اور سمجھتے تو ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے۔"
اور فرمایا: ﴿وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا﴾ "اور ایک گروہ ان میں سے وہ ہے جو آپ سے سنتا ہے اور ہم نے ان کے دلوں پر حجاب ڈال دیا کہ نہ سمجھ سکیں اور ان کے کان بہرے ہیں تو گویا وہ ایسے ہیں جیسے سنا ہی نہیں۔" اور فرمایا: ﴿وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ﴾ "یہ ہی وجہ شکایت ہے یعنی تم ایسے نہ جاؤ کہ ہم نے سنا ہو حالانکہ انہوں نے نہیں سنا۔" اور بہت سی آیتیں ہیں۔
۶۰۸اور حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرمایا: اِقْرَاْ عَلَيَّ فَقَالَ اَنَا اَقْرَاُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ اُنْزِلَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنِّيْٓ اُحِبُّ اَنْ اَسْمَعَ عَنْ غَيْرِيْ۔ "مجھ پر قرآن پڑھ۔" ابن مسعود نے عرض کیا حضور! میں پڑھوں، حالانکہ قرآنِ کریم حضور ﷺ پر اترا تو حضور ﷺ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اسے کسی سے سنوں۔ اور یہ دلیل واضح ہے اس بات پر سننے والا قاری سے زیادہ کامل ہوتا ہے کیونکہ حضور نے فرمایا: میں غیر سے سننا زیادہ پسند کرتا ہوں۔
اس لیے کہ پڑھنے والا حال سے پڑھے یا غیرِ حال سے، مگر سننے والا بغیر حال کے نہیں سنتا کیونکہ کلام کرنے میں ایک نوعِ تکبر ہوتی ہے اور سننے میں تواضع۔ یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا: شَيَّبَتْنِيْ سُوْرَةُ هُوْدٍ۔ "مجھے سورت ہود نے بوڑھا کر دیا۔" اور روایت ہے کہ یہ سورت ہود کی
۶۰۹اس آخری آیت کے متعلق فرمایا: ﴿فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ﴾ "اس پر قائم رہیں جس کا تمہیں حکم کیا گیا۔"
اور حقیقت ہے کہ انسان امورِ حقیقت میں حق پر قائم ہونے سے عاجز ہے۔ اس لیے بندہ بغیر توفیقِ حق کچھ نہیں کر سکتا تو جب فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ سنا تو حیران ہوئے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ میں اس حکم پر قائم رہ سکوں۔ تو دل کے رنج سے قوت جاتی رہی اور رنج پر رنج اتنا بڑھا کہ ایک روز تشریف فرماتھے، جب اٹھنے لگے تو ہاتھ زمین پر رکھ کر قیام فرمایا۔
حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: حضور کیا حال ہے۔ ابھی تو حضور ﷺ جوان ہیں تو فرمایا سورۂ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا۔ یعنی اس حکم کے سننے سے میرے دل پر ایسی کیفیت ہو گئی کہ جیسے قوت ساقط ہو گئی ہو۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اصحاب سے ایک راوی ہیں کہ آپ نے فرمایا
كُنْتُ فِيْ عِصَابَةٍ فِيْهَا ضُعَفَاءُ الْمُهَاجِرِيْنَ ۚ وَاِنَّ بَعْضَهُمْ يَسْتُرُ بَعْضًا مِنَ الْعُرْيِ، وَقَارِيٌ يَقْرَاُ عَلَيْنَا، وَنَحْنُ نَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِهٖ، فَقَالَ: فَجَاءَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ حَتّٰى قَامَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَآهُ الْقَارِيُّ سَكَتَ، قَالَ: فَسَلَّمَ وَقَالَ: مَاذَا كُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ؟ قُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَكَانَ قَارِيٌ يَقْرَاُ عَلَيْنَا، وَنَحْنُ نَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِهٖ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَ فِيْ اُمَّتِيْ مَنْ اُمِرْتُ اَنْ اَصْبِرَ نَفْسِيْ مَعَهُمْ، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ وَسْطَنَا لِيَعْدِلَ نَفْسَهٗ فِيْنَا، ثُمَّ قَالَ: بِيَدِهٖ هٰكَذَا، فَتَحَلَّقُوْا، فَلَمْ يَعْرِفْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ اَحَدًا، قَالَ: وَكَانُوْا ضُعَفَاءَ الْمُهَاجِرِيْنَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَبْشِرُوْا يَا صَعَالِيْكَ الْمُهَاجِرِيْنَ بِالْفَوْزِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ قَبْلَ اَغْنِيَائِكُمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ، وَذٰلِكَ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ۔
۶۱۰"میں ایک ضعیف مہاجروں کی جماعت میں تھا کہ انہوں نے بعض بدن، بعض جسم سے عریانی کے سبب چھپا رکھا تھا اور ان میں ایک قاری پڑھ رہا تھا۔ ہم لوگ اس کی قراءت سن رہے تھے کہ حضور ﷺ تشریف لائے۔ جب قاری نے حضور ﷺ کی جلوہ آرائی دیکھی تو وہ خاموش ہو گیا۔ حضور ﷺ نے سلام علیک فرمایا اور پوچھا تم کیا کر رہے تھے۔ ہم نے عرض کی: حضور ﷺ ایک قاری ہمیں قرآنِ کریم سنا رہا تھا، ہم سن رہے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے میری امت میں ایسے آدمی پیدا فرمائے جن کے ساتھ میں صبر کرنے پر مامور ہوا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضور ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما ہو گئے۔ پھر دستِ اقدس کے اشارہ سے ہمیں حلقہ کر کے بیٹھنے کا حکم فرمایا۔ ہم نے حلقہ باندھ لیا۔ حضور ﷺ کو ان ضعیف مہاجروں نے نہ پہچانا کہ سب مہاجر ضعیف تھے۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا بشارت دو مفلس مہاجرین کو کامل کامیابی کی، قیامت کے روز آدھے دن کے لیے جو پانچ سو برس کے برابر ہوگا غنی لوگوں سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔"
اور یہ بھی حدیث حضرت جنید رضی اللہ عنہ سے ہے لیکن یہ اختلافِ الفاظ ہے، مگر معنی سب کے ایک ہیں۔
اور زرارہ ابن ابی اوفیٰ کبار صحابہ سے تھے رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ آپ صحابہ میں امامت فرماتے تھے۔ ایک روز ایک آیت پڑھی اور نعرہ مار کر جان دے دی۔ حضرت جعفی کبار تابعین میں سے تھے۔ صالح مری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ پر ایک آیت پڑھی۔ بیہوش ہو گئے اور جان بحق ہو گئے۔ ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ راوی ہیں کہ میں کوفہ کے ایک گاؤں میں گیا، ایک بڑھیا کو دیکھا نماز میں کھڑی تھیں۔ ان کے آثارِ نیک ظاہر تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوئیں میں نے سلام
قال: بینما أنا قاعد فی المسجد، وحلقۃ من فقراء المھاجرین، فقمت إلیھم۔ فقال لی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ابشر فقراء المھاجرین بما یسر وجوھھم، فإنھم یدخلون الجنۃ قبل الأغنیاء بأربعین عاماً، قال: فلقد رأیت الوانھم أسفرت۔ قال عبداللہ بن عمرو: حتی تمنیت أن أکون معھم أو منھم۔
۶۱۱(مشکوٰۃ المصابیح ۳/۱۴۴۷، کتاب الرقاق: باب فضل الفقراء)
کیا۔ انہوں نے جواب سلام کے بعد پوچھا تو قرآن کریم جانتا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں۔ فرمایا کوئی آیت پڑھ۔ میں نے پڑھی۔ انہوں نے آیت سن کر ایک آواز نکالی اور بیہوش ہو گئی اور جان استقبالِ رویتِ حق کے لیے بھیج دی۔
احمد بن ابی الحواری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ میں جنگل میں جا رہا تھا کہ ایک جوان کو دیکھا کہ گدی کانٹے دار لیے کنویں پر کھڑا ہے۔ مجھے فرمایا: اے احمد! قرآنِ کریم کی کوئی آیت پڑھ کہ تو بروقت آیا ہے۔ مجھے سماعتِ کلام کی احتیاج ہے۔
فرماتے ہیں کہ مجھے اس حال میں الہام ہوا کہ یہ آیت پڑھ: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا﴾ جوان بولا قسم بخدا کعبہ! تو نے وہی آیت پڑھی جو اس وقت فرشتے نے مجھے سنائی اور جان دے دی اور اگر ایسی ایسی سب روایتیں بیان کر دیں تو اصل مقصد رہ جائے گا۔
وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ