السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کشف المحجوب

حصہ ۱۶ — اٹھائیسواں باب — انتیسواں باب

حصہ ۱۶
صفحہ ۵۶۳

اٹھائیسواں باب

آدابِ سوال و ترکِ سوال

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَا يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا﴾ "لجاجت کے ساتھ لوگوں سے سوال نہیں کرتے۔" اور جب کوئی ان سے سوال کرے تو رد نہیں کرتے۔ جیسا کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾ "سوالی کو نہ جھڑک۔" اور چاہیے تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے سوال نہ کرے اور غیر کو محلِ سوال بھی نہ بنائے۔ اس لیے کہ غیر سے سوال جب ہی کیا جائے گا جب اللہ تعالیٰ سے منہ موڑ کر غیر خدا کی طرف متوجہ ہو۔ تو جب بندہ اللہ تعالیٰ سے روگرداں ہو تو وہ رد کر دیا جاتا ہے، یعنی پھر اللہ تعالیٰ اس کی طرف توجہ نہیں فرماتا۔

مجھے معلوم ہوا کہ ایک دنیا دار نے حضرت رابعہ عدویہ رحمۃ اللہ علیہا سے عرض کی: آپ مجھ سے کچھ مانگیں تاکہ میں آپ کو پیش کروں۔ آپ نے فرمایا: مجھے تو خالقِ دنیا سے مانگتے شرم آتی ہے تو کیا مجھے اپنے جیسے سے سوال کرتے ہوئے شرم نہ آئے گی۔ کہتے ہیں ابو مسلم صاحبِ دعوت کے عہد میں ایک بے گناہ درویش پر چوری کی تہمت لگی۔ انہیں قید خانہ میں بند کر دیا گیا۔ جب رات ہوئی ابو مسلم نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ فرما رہے ہیں: اے ابو مسلم! مجھے اللہ تعالیٰ نے تیرے پاس بھیجا ہے کہ میرے دوست کو بے گناہ قید میں بند کیا ہے۔ اُٹھ اور اسے نکال۔

ابو مسلم خواب سے چونک پڑا، ننگے سر، ننگے پیر قید خانہ کے دروازہ پر آیا اور حکم دیا کہ دروازہ کھولو اور اس درویش کو باہر نکالو۔ جب آپ باہر تشریف لائے تو ابو مسلم نے معذرت کی اور عرض کیا: حضور! کسی چیز کی ضرورت ہو تو فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: اے امیر! جس کا ایسا خداوند ہو کہ آدھی رات کے وقت ابو مسلم کو بستر سے اٹھا کر میری رہائی کے لیے بھیج دے اور اسے قید سے آزاد کرائے، اسے کیا یہ جائز ہے کہ اپنی ضرورت غیروں سے پوری کرائے۔ یہ سن کر ابو مسلم رو پڑا اور وہ درویش چلے گئے۔

پھر ایک جماعت کہتی ہے کہ درویش کو خلقت سے سوال کرنا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿لَا يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا﴾ فرماتا ہے، یعنی "لجاجت کے بغیر وہ لوگوں سے سوال کرتے

۵۶۴

ہیں۔" اور حضور ﷺ نے بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی ضرورت کے وقت سوال فرمایا اور ہمیں بھی حکم دیا: اُطْلُبُوا الْحَوَائِجَ عِنْدَ حِسَانِ الْوُجُوْهِ "اچھی صورت والوں سے حاجتیں طلب کرو۔"

دوسرے مشائخِ کرام نے سوال تین وجوہ سے جائز رکھا ہے۔ ایک فراغتِ دل کے لیے، جو ضروری ہو اور کہتے ہیں کہ ہم دونوں جہان کی وہ قیمت نہیں سمجھتے کہ دن رات اس کے انتظار میں گزاریں اور بحالتِ اضطرار اللہ تعالیٰ کے سوا حاجت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ کوئی شغل کھانے کا ہو یا اس کے انتظار کا ہو، کچھ نہیں اور اسی قسم پر حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ نے شفیق کے مرید کو فرمایا جب وہ آپ کی زیارت کے لیے آیا۔ اول آپ نے حضرت شفیق کا حال پوچھا۔ مرید نے عرض کیا وہ فارغ از خلقت ہو کر توکل میں بیٹھے ہیں۔

حضرت ابو یزید نے فرمایا: تو واپس جا اور شفیق سے کہہ کہ اللہ تعالیٰ کو دو روٹی پر نہ آزما۔ جب تجھے بھوک ہو تو دو روٹی ہم جنسوں سے مانگ لے اور توکل چھوڑ، تاکہ شہرو ولایت تیرے عمل کی نحوست سے غرق نہ ہو اور دوسرے لوگوں نے ریاضتِ نفس کے لیے سوال اختیار کیا ہے

۵۶۵

تاکہ نفس کو ذلیل کریں اور اپنے دل کو رنجور کریں اور اپنی حیثیت سمجھیں کہ ہر ایک ان کی کتنی قدر کرتا ہے۔ پھر تکبر نہ کریں اور کسی کو رنج نہ دیں۔

کیا تو نے نہ دیکھا کہ جب شبلی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آئے۔ حضرت جنید نے فرمایا: اے ابو بکر شبلی! جب تک تیرے سر میں یہ غرور ہے کہ میں خلیفہ صاحبِ الحجاب کا بیٹا ہوں اور سامرہ کا امیر ہوں تو تجھ سے کچھ نہ ہو سکے گا۔ جب تک تو بازار میں ہر کس و ناکس سے سوال نہ کرے گا، تجھے اپنی قیمت معلوم نہ ہوگی۔

چنانچہ حضرت شبلی نے ہدایت کے موافق عمل کیا۔ ہر روز ان کی قدر و منزلت کم ہوتی گئی۔ چھ سال میں یہ حال ہو گیا کہ تمام بازار میں پھرے اور کسی نے انہیں کچھ نہ دیا۔ پھر حضرت جنید کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حال سنایا۔ حضرت جنید نے فرمایا کہ اے ابو بکر! اب اپنی قدر جان لے کہ خلقت تجھے کس نظر سے دیکھتی ہے تو بھی ان سے دل نہ لگا اور ان کی قدر نہ کر۔ یہ معنی ریاضت کے لیے ہیں، کسب کے لیے نہیں۔

اور حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں ایک رفیق موافق رکھتا تھا، اسے موت آ گئی اور وہ دنیا کی محبت سے عاقبت کی نعمت پر پہنچ گیا۔ میں نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے بخشا گیا۔ آپ نے پوچھا کس خصلت کے سبب؟ اس نے عرض کیا: مجھے لاکھڑا کیا گیا اور مجھ سے کہا گیا اے میرے بندے! چونکہ تو بہت ذلیل رہا اور سفلہ لوگوں اور بخیلوں سے تو نے رنج اٹھایا اور ان کے آگے ہاتھ پھیلایا اور صبر کیا، تجھے اس سبب سے بخشا گیا!

تیسرے لوگوں نے ادبِ حق کے لیے خلقت سے سوال کیا اور دنیا کا سب حال حق تعالیٰ کا سمجھا اور عامۂ خلائق کو اس کا وکیل سمجھا اور جو چیز ان کے نفس کے نصیب میں آئی اس کی حق تعالیٰ سے درخواست نہ کی بلکہ اس کے وکیل سے طلب کی اور اپنی بات وکیل سے کہی اور شاہد کے روبرو اپنی ضرورت جو بندہ وکیل کے پیش کرتا ہے، وہ زیادہ ادب و اطاعت سے ہے بہ نسبت اس کے کہ شاہد سے طلب کرے۔ پس اس کا غیر سے سوال کرنا جنابِ حق میں حضور اور توجہ کی اطاعت ہے۔ اس میں اغراض نہیں پائے جاتے۔

مجھے معلوم ہوا کہ یحییٰ بن معاذ کی ایک بیٹی تھی۔ ایک روز اس نے اپنی ماں سے کہا کہ مجھے فلاں چیز درکار ہے۔ اس کی ماں نے کہا: بیٹی خدا سے مانگ۔ لڑکی نے جواب دیا: اماں مجھے شرم آتی ہے کہ نفسانی ضرورت اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کروں اور جو کچھ تو دے گی وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ہوگی اور

۵۶۶

میری روزی مقرر ہوگی۔

تو آدابِ سوال یہ ہے کہ اگر تجھے مقصود مل جائے تو نہ ملنے کی نسبت زیادہ خوش نہ ہو اور خلقت کو ویران نہ دیکھے اور عورتوں اور بازاریوں سے سوال نہ کرے۔ اپنا راز صرف اس پر ظاہر کرے جس کا مال حلال ہونے پر اعتبار ہو اور جہاں تک ہو سکے اپنا نصیب سمجھ کر سوال نہ کرے اور اس سے شانِ خانہ داری مطلوب نہ ہو اور اس چیز کو اپنی ملک نہ سمجھے اور وقت چلانے کا ارادہ نہ کرے۔ کل کا خیال دل پر نہ لائے تاکہ ہمیشہ کی ہلاکت میں گرفتار نہ ہو اور اللہ کا نام اپنی گدائی کے پلہ میں نہ باندھے۔ یعنی خدا کے واسطہ سے کچھ طلب نہ کرے اور اپنی پارسائی نہ جتائے تاکہ پارسائی کے خیال سے کچھ زیادہ دیں۔

میں نے معلوم کیا کہ صوفیان صاحبِ رتبہ میں سے ایک شخص جنگل سے بھوکا اور سفر کا رنج اٹھائے ہوئے کوفہ کے بازار میں آیا اور ایک چڑیا ہاتھ پر بٹھائے ہوئے کہتا تھا کہ اس چڑیا کے واسطے کچھ مجھے دو۔ لوگوں نے کہا تو کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا یہ محال ہے کہ میں کہوں خدا کے واسطے مجھے دو۔ دنیا کے لیے حقیر چیز کے سوا سفارش کرنے والا نہ چاہیے۔

یہ بیان بہت ہے۔ بخوفِ طوالت مختصر کیا ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

صفحہ ۵۶۷

انتیسواں باب

آدابِ نکاح و تجرد

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾ "عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو۔" اور حضور ﷺ نے فرمایا: تَنَاكَحُوْا وَتَكَاثَرُوْا فَاِنِّيْ اُبَاهِيْ بِكُمُ الْاُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَوْ بِسِقْطٍ۔ "آپس میں نکاح کرو اور بڑھاؤ (اپنی نسلیں) میں تمہاری کثرت سے بروزِ قیامت امتوں پر فخر کروں گا، اگرچہ ساقط شدہ ہی بچہ ہو۔"

اور یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا: اِنَّ اَعْظَمَ النِّسَاءِ بَرَكَةً اَقَلُّهُنَّ مَؤُوْنَةً وَّ اَحْسَنُهُنَّ وُجُوْهًا وَ اَرْخَصُهُنَّ مُهُوْرًا۔ "برکت میں زیادہ وہ عورت ہے جس کی تکلیف کم ہو اور

۵۶۸

خوبصورت ہو اور مہر کم ہو۔" اور یہ صحیح خبروں میں ہے کہ نکاح ہر مرد و عورت پر مباح ہے اور اس پر فرض ہے جو حرام سے بچ نہ سکے اور جو حقِ عیالداری پورا کر سکے اس کو سنت ہے۔ اس قصہ میں ایک جماعت کہتی ہے کہ نکاح دفعِ شہوت کے لیے اور فراغِ دل کے لیے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ نکاح نسل بڑھانے کو کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ جب فرزند ہو کر بچپن کی حالت میں فوت ہو جائے تو وہ شفیع ہوگا، اور اگر یہ فرزند ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ بچہ اس کا دُعا گو رہے گا۔

اور حدیث میں ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ام کلثوم بنت سیدہ زہرہ رضی اللہ عنہما سے نکاح کی درخواست ان کے والد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جواب دیا کہ وہ صغیرہ ہے اور آپ معمر ہیں، اور میرا خیال ہے کہ میں اپنے بھتیجے عمر بن جعفر سے اس کا نکاح کروں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آدمی بھیجا اور کہلوایا کہ ابو الحسن! دنیا میں بہت عورتیں ہیں، ام کلثوم سے میری نیت دفعِ شہوت نہیں بلکہ نسب ثابت کرنا مراد ہے۔ اس لیے کہ میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: كُلُّ نَسَبٍ وَّحَسَبٍ يَّنْقَطِعُ بِالْمَوْتِ اِلَّا نَسَبِيْ وَحَسَبِيْ "موت سے تمام حسب و نسب منقطع ہو جائیں گے مگر میرا نسب و حسب۔" اور ایک روایت میں ہے: كُلُّ سَبَبٍ وَّنَسَبٍ يَّنْقَطِعُ اِلَّا سَبَبِيْ وَنَسَبِيْ "ہر نسب اور حسب قطع ہو جائیں گے مگر میرا سبب اور نسب۔" اب مجھے سبب تو حاصل ہے، نسب آپ کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کی برکت سے میں محکم ہو جاؤں۔

۵۶۹

چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی صاحبزادی اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا آپؓ کے عقد میں دے دی۔ پھر آپؓ سے حضرت زید بن عمر رضی اللہ عنہ متولد ہوئے اور حضور ﷺ نے فرمایا ہے: تُنْكَحُ النِّسَاءُ عَلٰى اَرْبَعَةٍ عَلَى الْمَالِ وَالْحَسَبِ وَالْحُسْنِ وَالدِّيْنِ فَعَلَيْكُمْ بِذَاتِ الدِّيْنِ فَاِنَّهٗ مَا اسْتَفَادَ امْرُؤٌ بَعْدَ الْاِسْلَامِ خَيْرًا مِنْ زَوْجَةٍ مُّؤْمِنَةٍ مُّوَافِقَةٍ يَّسُرُّ بِهَا اِذَا نَظَرَ اِلَيْهَا "عورتیں چار وجہ سے نکاح میں لائی جاتی ہیں: مال کی وجہ سے، حسب سے، حسن کی وجہ سے، دین کی وجہ سے۔ تو تم دین پر لازم پکڑنا کہ وہ تمہیں فائدہ دے گی اور اسلام کے بعد بہتر بیوی مومنہ ہے جو موافق ہوگی، جس کے دیکھنے سے دل خوش ہو جب اس کی طرف نظر ڈالو۔"

اس کی صحبت سے دین قوت پائے اور دنیا اُنس و محبت سے گزرے کیونکہ تنہائی میں وحشت ہے اور صحبت میں خوشی۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَلشَّيْطَانُ مَعَ الْوَاحِدِ مرد اور عورت جب تنہا ہوں تو ان کا مصاحب شیطان ہوتا ہے کہ شہوت کو اس کے دل میں ابھارے اور کوئی صحبت امان اور حرمت کے حکم میں عورت اور خاوند سے زیادہ نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اتفاق اور موافقت ہو اور ناجنس عورت سے زیادہ عذاب اور کسی چیز کا نہیں۔

تو درویش کو لازم ہے کہ پہلے اپنے معاملہ میں غور کرے اور تجرد کی آفتوں اور نکاح کی ذمہ داریوں کا خیال کرے کہ ان میں سے کس کا دفع اس کے دل میں آسان ہے۔ جو آسان ہو اس کی پیروی کرے۔ غرضیکہ مجرد رہنے میں دو آفتیں ہیں: ایک ترکِ سنت، دوسرا شہوت کا دل میں پرورش پانا اور حرام کے خطرے میں پڑنا۔ اور نکاح میں دو آفتیں ہیں: ایک غیر کی طرف دل کا مشغول ہونا۔ دوسرے بدن کو حظِّ نفس میں مشغول ہونا۔

۲۔ اس حدیثِ شریف کا تفصیلی ذکر پیچھے آ چکا ہے۔

۵۷۰

اس مسئلہ کی اصل، گوشہ نشینی اور مجلس گزینی کی طرف رجوع کرتی ہے اور جو خلقت میں صحبت اختیار کرے اس کے لیے نکاح ضروری ہے اور خلقت سے گوشہ نشینی چاہے، اسے مجرد رہنا موزوں ہے۔

حضور ﷺ نے فرمایا: سِيْرُوْا فَقَدْ سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ "سفر کرو مجرد لوگ تم سے آگے بڑھ چکے ہیں۔" اور حسن بن حسین بصریؒ فرماتے ہیں: نَجَا الْمُخَفِّفُوْنَ وَهَلَكَ الْمُثَقَّلُوْنَ۔ "ہلکے بوجھ والے نجات پا گئے اور بھاری بوجھ والے ہلاک ہوئے۔"

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں ایک گاؤں میں ایک بزرگ کی زیارت کو گیا۔ جب میں وہاں پہنچا اور اس کا گھر دیکھا تو اولیاء اللہ کے گھروں کی طرح ستھرا تھا۔ اس میں دو محراب بنے ہوئے تھے۔ ایک محراب میں وہ بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسری محراب میں ایک بڑھیا پاکیزہ اور منور چہرہ لیے ہوئے بیٹھی ہوئی تھیں۔ دونوں ریاضت کی وجہ سے ضعیف ہو چکے تھے۔ میری حاضری سے بہت خوش ہوئے۔ تین روز میں وہاں رہا۔ جب میں نے واپسی کا ارادہ کیا تو چلتے ہوئے میں نے پوچھا کہ یہ پاک دامن آپ سے کیا تعلق رکھتی ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ یہ ایک جہت سے تو چچا کی بیٹی ہیں اور ایک جہت سے میری بیوی ہیں۔

میں نے کہا تین دن میں نے تمہیں آپس میں بہت بیگانہ دیکھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں پینسٹھ سال سے ہم دونوں اس حال میں ہیں۔ میں نے اس کی وجہ دریافت کی۔ فرمایا ہم بچپن میں باہمی عاشق تھے۔ ان کے والد مجھ سے اس کا نکاح نہیں کرنا چاہتے تھے اور انہیں ہماری محبت معلوم ہو چکی تھی۔ ایک مدت تک میں رنجیدہ رہا۔ حتیٰ کہ ان کے والد انتقال کر گئے۔ آخرش میرے والد نے اس کے ساتھ میرا عقد کر دیا۔ جب پہلی رات ہم یکجا ہوئے تو اس نے مجھ سے کہا: تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا انعام فرمایا کہ ہمیں ملا دیا اور ہمارے دلوں کو خوف و غم سے صاف کیا۔ میں نے کہا کہ بیشک! ہم پر یہ بڑا فضل ہوا ہے۔

تو بیوی نے کہا اب ہمیں چاہیے کہ اپنے کو خواہشِ نفسانی سے روکیں اور آج رات میں سب سے پہلے اپنے نفس کو روک کر اپنی خواہش کو زیر پارو ندتی ہوں اور اس نعمت کے شکر میں عبادت کرتی ہوں۔

۵۷۱

میں نے کہا بہت اچھا۔ دوسری رات جب آئی تو اس نے وہی کہا اور ویسے ہی رات عبادت میں گزار دی۔ تیسری شب میں نے کہا کہ دو راتیں تو تمہاری خاطر سے گزریں، آج کی رات میری خاطر شب بیداری ہونی چاہیے۔ آج پینسٹھ سال گزر گئے ہیں کہ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا بھی نہیں اور لمس بھی نہیں کیا اور تمام عمر اس نعمت کے شکر میں گزار رہے ہیں۔

تو درویش جب نکاح کرے تو چاہیے کہ اس پردہ نشین کی خوراک حلال سے کمائے اور اس کا مہر مالِ حلال سے ادا کرے اور جب تک حقوقِ الٰہی اور اتباعِ امر سے اس کے ذمہ باقی رہے، ظِلِّ نفس کی طرف مشغول نہ ہو۔ پھر جب اپنے اور ادو معمولات سے فارغ ہو جائے اور اس سے ہمبستری کا ارادہ کرے تو بارگاہِ حق میں مناجات کرے: الٰہی! تو نے مشتِ خاکِ انسان میں شہوت پیدا کی ہے تاکہ دنیا آباد ہو اور تو نے اپنے علم میں ارادہ فرمایا کہ مجھے یہ صحبت ملی۔ یارب! میری اس محبت سے دو چیزیں بدل دے: ایک حرام کو حلال سے، دوسرے فرزندِ ولی پسندیدہ مجھے عطا ہو، نہ ایسا فرزند کہ میرے دل سے تیری یاد فراموش کرے۔

حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ کے یہاں فرزند متولد ہوا۔ بچپن میں وہ جب اپنی والدہ سے کھانا مانگتا تو والدہ کہتی کہ بیٹا اپنے رب سے مانگ۔ وہ محراب میں جاتا اور سجدہ کرتا۔ آپؒ کی والدہ خفیہ طور سے اس کی مطلوبہ چیز دے دیتیں اور صاحبزادے پر ظاہر نہ ہونے دیتیں کہ والدہ نے دیا ہے۔ حتیٰ کہ انہیں اپنے ربّ سے مانگنے کی عادت پڑ گئی۔ ایک روز جب وہ مکتب سے آئے، دیکھا کہ اماں موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے حسب معمول سجدہ کیا اور کھانا مانگا۔ اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیا۔ جب آپ کی والدہ آئیں تو دیکھا صاحبزادے کھانا کھا رہے ہیں، فرمایا: بیٹا! یہ کھانا کہاں سے آیا؟ فرمایا جہاں سے ہمیشہ آتا تھا۔

جب حضرت زکریا علیہ السلام، حضرت مریم علیہا السلام کے پاس آتے تو موسمِ گرما میں سرما کے پھل اور موسمِ سرما میں گرما کے پھل دیکھتے تو متعجب ہو کر پوچھتے ﴿اَنّٰى لَكِ هٰذَا﴾ "یہ تمہیں کس جگہ سے ملے؟" وہ فرماتیں: ﴿مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ﴾ "اللہ کے پاس سے۔"

تو درویش پر لازم ہے کہ کسی سنت کا استعمال دنیا اور حرام مشغلہ ذلیل میں نہ کرے کیونکہ درویش کی ہلاکت اس کے دل کی خرابی میں ہوتی ہے۔ جس طرح مالدار کی خرابی خانماں اور گھر کی خرابیوں سے ہوتی ہے۔ مگر جو کچھ مالدار کا نقصان ہو تو اس کی تلافی ہو سکتی ہے، لیکن جو درویش پر آفت آتی ہے اس کی تلافی نہیں ہوتی۔ ہم اپنے زمانہ میں دیکھتے ہیں کہ عورت کتنی ہی موافق ہو مگر

۵۷۲

لازمی طور پر وہ بلا ضرورت زیادہ اور فضول اشیاء کی طالب ہوتی ہے۔

اس سبب سے ایک گروہ کہتا ہے کہ مجرد رہنے میں ہلکا رہا جاتا ہے اور انہوں نے تجرد ہی اختیار کیا ہے اور اس رعایت پر وہ عامل ہیں جو حضور ﷺ نے فرمایا: خَيْرُ النَّاسِ فِيْ اٰخِرِ الزَّمَانِ خَفِيْفُ الْحَاذِ قِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَا خَفِيْفُ الْحَاذِ؟ قَالَ الَّذِيْ لَا اَهْلَ لَهٗ وَلَا وَلَدَ لَهٗ "آخر زمانہ میں بہترین آدمی وہ ہوگا جو خفیف الحاذ ہو۔ عرض کیا گیا، حضور! خفیف الحاذ کیا ہے؟ فرمایا وہ لوگ جن کے بیوی بچے نہ ہوں۔"

۵۷۳

اور یہ بھی فرمایا: سِيْرُوْا فَقَدْ سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ "سیر کرو بیشک مجرد لوگ سبقت لے گئے ہیں۔" اور اس طریقت کے مشائخ اس امر پر متفق ہیں کہ اس طریقت میں بہت اچھے اور فاضل مجرد لوگ ہیں کہ ان کا دل آفات سے خالی ہے اور ان کی طبیعت معصیت کے ارادے اور شہوت سے روگرداں ہے۔

عام لوگ شہوت پرستی کے لیے اس حدیث کو دلیل لاتے ہیں جو حضور ﷺ سے مروی ہے: حُبِّبَ اِلَيَّ مِنْ دُنْيَاكُمْ ثَلَاثٌ الطِّيْبُ وَالنِّسَاءُ وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِيْ فِي الصَّلٰوةِ۔ "مجھے تمہاری دنیا سے تین چیزیں پسند کر دی گئیں: خوشبو، عورتیں اور نماز میں آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی۔" اور کہتے ہیں کہ جب عورتیں حضور ﷺ کو پیاری ہوئی تو نکاح کرنا تجرد سے افضل ہوا۔

میں کہتا ہوں کہ حضور ﷺ نے فرمایا

۱۔ اس حدیثِ مبارکہ کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔

۵۷۴

لِيْ حِرْفَتَانِ اَلْفَقْرُ وَالْجِهَادُ

"میرے لیے دو حرفے ہیں: فقر اور جہاد۔"

تو اسے بھی اختیار کرنا چاہیے اور اس پیشہ کے علاوہ تمام پیشے ترک کرنے چاہئیں۔ اگر عورت بموجبِ حدیث پسند ہے تو بموجبِ حدیث پیشے بھی یہی دو پسند ہونے چاہئیں۔ لیکن چونکہ عورت کی طرف میلان زیادہ ہوتا ہے تو اس پر حدیث سند میں لانا زیادہ آسان ہوگیا اور فقر چونکہ مشکل ہے۔ جہاد چونکہ تکلیف لایطاق ہے لہٰذا اس طرف میلان دشوار ہے۔ یاد رکھو کہ کوئی پچاس سال اتباعِ شہوت میں گزارے اور خیال کرے کہ میں سنت کا تابع ہوں وہ بڑی سخت غلطی پر ہے۔

غرضیکہ پہلے فساد کا فتنہ سرِ آدم علیہ السلام پر جو آیا اس کا سبب عورت تھی اور پہلا فساد جو دنیا میں ہوا اس کا سبب بھی عورت تھی، یعنی فتنۂ ہابیل و قابیل، یہ بھی عورت کی وجہ سے ہوا۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو عذاب کرنا چاہا تو اس کی بنا بھی عورت ہوئی اور ہماری اس دنیا میں آج تک دین و دنیا کے سب فسادوں کی باعث عورتیں ہی ہیں اور حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا

مَا تَرَكْتُ بَعْدِيْ فِتْنَةً اَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ۔

"میں نے اپنے بعد کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا جو مردوں کو زیادہ ضرر رساں ہو عورتوں کے سوا۔" تو جب ان کا فساد ظاہر میں اتنا ہے تو باطن میں کیسا ہوگا۔

اور میں علی بن عثمان جلابی کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے گیارہ سال آفتِ نکاح سے محفوظ رکھا۔ پھر اس کی تقدیر سے میں فساد میں مبتلا ہوا تو میرا ظاہر و باطن عیالداری کے باعث ایسے حال میں

۵۷۵

گرفتار ہوا جو میں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی دکھایا اور ایک سال میں اس میں مستغرق رہا، حتیٰ کہ میرا دین تباہ ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ کمال سے پاکدامنی کو مجھ بیچارے کی پیشوائی کے لیے بھیجا اور اپنی رحمت سے خلاصی عطا فرمائی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى جَزِيْلِ نِعَمَائِهٖ۔

غرض یہ کہ اس طریقت کا قاعدہ مجرد پر رکھا گیا ہے۔ جب نکاح کا وقت آتا ہے، حال دگرگوں ہو جاتا ہے اور کوئی لشکر ایسا نہیں ہوتا جو عسا کرِ شہوت کا مقابلہ کر سکے۔ مگر ہتّش جہد و یقین سے ہی اسے بجھا سکتے ہیں۔ اس لیے کہ جو آفت ہوا کے دفعہ کا آلہ بھی تیرے ساتھ ہوگا۔ غیر سے ہرگز تیری حالت نہیں بدل سکتی۔ شہوت دو چیز سے زائل ہوتی ہے، ایک تکلیف سے، دوسرے کسبِ مجاہدہ سے۔ لیکن تکلیف، وہ آدمی کے مقدر میں ہے جو بھوک ہے اور جو تکلف سے بالاتر ہے وہ خوفِ الٰہی اور بیقرار کر دینے والی سچی محبت ہے جو متفرق ہمتوں سے جمع ہوتی ہے، اور محبت اپنا غلبہ اجزاءِ بدنی پر کرتی ہے اور تمام حواس کو اپنے وصف سے معزول کر دیتی ہے اور بندہ کو سب سے جدا کر دیتی ہے اور واہیات کو اس سے فنا کر دیتی ہے۔

حضرت احمد حماد سرخسی رحمۃ اللہ علیہ جو ماوراء النہر میں میرے رفیق تھے اور صاحبِ شان مرد تھے۔ لوگوں نے انہیں مجبور کیا کہ آپ کو نکاح کی ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ انہوں نے پوچھا کیوں؟ آپ نے فرمایا اس لیے کہ میں اپنے حال میں آپ سے غائب ہوتا ہوں یا حاضر۔ جب غائب ہوتا ہوں تو دو جہاں سے بے خبر ہوتا ہوں اور جب حاضر ہوتا ہوں تو میں اپنے نفس کو اتنا قابو میں رکھتا ہوں کہ جب اُسے دو روٹیاں ملتی ہیں تو وہ سمجھتا ہے کہ مجھے ہزار حوریں ملیں۔ تو دل کا شغل بڑا کام ہے، جس چیز سے ہو سکے بہتر ہے۔

دوسرے گروہ نے کہا کہ ہم بھی اپنا اختیار دونوں حال سے جدا کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ پردۂ غیب سے حکمِ تقدیر کیا ہوتا ہے۔ اگر مجرد ہونا ہمارے نصیب میں ہو تو اس میں پاکدامنی کی کوشش کریں گے اور اگر نکاح کرنا نصیب میں ہو تو سنت کے تابع ہو جائیں گے اور فراغتِ دل کی کوشش کریں گے۔

جب اللہ تعالیٰ کی حفاظت قائم ہوتی ہے تو بندہ کا مجرد ہونا ایسا ہوتا ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا زلیخا کی بلاء میں بچاؤ کی طاقت رکھتے ہوئے اپنی مراد سے روگردانی رہی اور خواہش کو مغلوب کرنے اور نفس کو عیب سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ جب زلیخا نے ان سے خلوت چاہی اور نکاح کی خواہش کی تو یہ نکاح مثلِ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہوا، جو حقِ تعالیٰ کے بھروسہ پر تھا اور مشاغلِ خانگی کو مشاغل نہ سمجھا۔ حتیٰ کہ جب حضرت سارہ علیہا السلام کو رشک ہوا اور

۵۷۶

غیرت بڑھی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو ہمراہ لیا اور ایسے جنگل میں لے گئے جہاں کھیتی باڑی بھی نہ تھی۔ جسے ﴿بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ﴾ فرمایا گیا اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو حفاظتِ حق میں چھوڑ کر اُن سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی حفاظت میں رکھا جیسے چاہا۔ تو بندہ کا ہلاک ہو نا نکاح کرنے اور مجرد رہنے میں نہیں بلکہ اس کی بلا اپنے اختیار اور اتباعِ خواہشات پر ہے اور ہر متاہل کی شرطِ ادب یہ ہے کہ اس رشد کے بعد کوئی وِرد اس کے اوراد سے فوت نہ ہو۔

اور جس حال میں وہ تھا وہ ضائع نہ ہو، اور اس کا تباہ نہ ہو، اس کے ساتھ اپنے اہل کے ساتھ شفقت بھی رہے اور حلال نان و نفقہ کی رعایت بھی رکھے اور ظلم و جور بھی نہ کرے۔ حتیٰ کہ فرزند بھی اگر ہو تو انہیں شرائطِ ادب میں ہو۔

حکایت

مشہور ہے کہ حضرت احمد بن حرب نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ ایک روز رؤساء و سادات نیشاپور سے ملے۔ وہ سلام کرنے حاضر ہوئے تھے۔ سب ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک لڑکا شراب سے بدمست گاتا ہوا آیا اور بلا خوف ان میں سے گزر گیا۔ تمام حضارِ مجلس کو ناگوار گزرا۔ شیخ احمد نے لوگوں سے کہا تمہیں کیا ہوا کہ یک لخت متغیر ہو گئے؟ سب نے عرض کیا کہ حضرت اس لڑکے کی بے حجابی سے صحبت پراگندہ ہو گئی۔ شیخ احمد نے فرمایا وہ معذور ہے، اس لیے کہ ایک رات ہمارے ہمسایہ نے کچھ کھانا بھیجا اور اسے ہم نے کھایا اور اس رات ہم بستری ہوئی۔ اس کھانے سے لڑکے کا نطفہ قرار پایا۔ اس رات نیند بھی اس قدر آئی کہ شب کے اوراد بھی رہ گئے۔ ہم نے جستجو کی۔ ہمسایہ سے پوچھا کہ جو کھانا تو نے بھیجا تھا، وہ کہاں سے آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ شادی والے گھر سے۔ جب مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ کھانا بادشاہ کے یہاں سے آیا تھا۔

اور شرطِ آدابِ مجرد یہ ہے کہ آنکھ نامناسب جگہ نہ ڈالے اور جو نہ کہنے کی بات ہو، نہ کہے اور جو نہ سوچنے کی بات ہو نہ سوچے۔ شہوت کی آگ کو بھوک کے پانی سے بجھائے اور دل کو دنیا و حوادثات کی مشغولیت سے نگاہ رکھے اور محض خواہشاتِ نفسانی کو الہام اور علم نہ کہے اور شعبداتِ شیطانی کی تاویل نہ کرے تاکہ طریقت میں مقبول ہو۔ یہ آدابِ صحبت اور عمل کا مختصر بیان ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔