اکتیسواں باب
سماعِ شعر اور اُس کے متعلقات
شعر سننا مباح ہے اور حضور ﷺ نے سنا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے بھی کہا ہے اور سنا ہے اور حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِكْمَةً اور فرمایا: اَلْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ وَمَنْ وَجَدَهَا فَهُوَ اَحَقُّ بِهَا "کلمۂ حکمت مومن کی گمشدہ چیز ہے، تو جو اسے پائے تو وہ زیادہ اس کا حقدار ہے۔" اور شعر سے وہ شعر مراد ہے کہ جس میں حکمت ہو اور حکمت چونکہ مومن کی گمشدہ چیز ہے کہ اس سے غائب تھی تو جب اسے پایا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَتْهَا الْعَرَبُ قَوْلُ لَبِيْدٍ۔ "یعنی سب سے سچا کلام جو عرب کے لوگوں میں کہا، وہ لبید کا کلام ہے۔"
اَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَّا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلٌ وَكُلُّ نَعِيْمٍ لَّا مَحَالَةَ زَائِلٌ
"خبردار رہو! ہر شے اللہ تعالیٰ کے سوا باطل ہے اور ہر نعمت لامحالہ زائل ہونے والی ہے۔"
عمر بن شرید اپنے والد سے راوی ہیں کہ: قَالَ اِسْتَنْشَدَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَرٰى مِنْ شِعْرِ اُمَيَّةَ ابْنِ اَبِي الصَّلْتِ شَيْئًا فَاَنْشَدْتُهٗ مِائَةَ قَافِيَةٍ كُلَّمَا
۶۱۳مَرَرْتُ عَلٰى بَيْتٍ قَالَ هِيْهِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَادَ اَنْ يُّسْلِمَ فِيْ شِعْرِهٖ۔ "مجھے حضور ﷺ نے شعر سنانے کا حکم دیا اور فرمایا: امیہ بن ابی الصلت کے شعر تجھے یاد ہیں؟ تو میں نے سو قافیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائے۔ تو جب میں ایک بیت سے گزر رہا تو فرماتے ہاں اور سنا۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا قریب تھا کہ وہ اپنے شعروں میں اسلام لے آتا۔" اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بہت سی روایتیں ہیں۔
اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ اس مسئلہ میں مغالطہ پر ہیں۔ چنانچہ ایک گروہ تو تمام اشعار کا سننا حرام کہتا ہے اور شب و روزِ غیبت مسلمانوں کی کرتا ہے اور ایک گروہ سب قسم کے اشعار حلال کہتا ہے اور شب و روز چہرے، زلف، خد و خال اور معشوق کی صفتِ غزل میں سنتا ہے اور ہر ایک اس بحث میں ایک دوسرے پر دلائل لاتا ہے اور میری مراد ان کے کہنے سننے سے اثباتِ نفی ہے۔
مشائخِ صوفیاء رضی اللہ عنہم کا اس بارہ میں یہ طریقہ ہے کہ حضور ﷺ سے شعر کے بارے میں سوال ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا: كَلَامٌ حَسَنُهٗ حَسَنٌ وَّ قَبِيْحُهٗ قَبِيْحٌ "یہ کلام ہے حسن کلام حسن ہے اور قبیح قبیح ہے۔" جس کا سننا حرام ہے، جیسے غیبت، بہتان، فواحشات، کسی کی مذمت یا کلمۂ کفر، خواہ وہ نظم میں ہو یا نثر میں، سب حرام ہے۔
اور جس کلام کا نثر میں سننا حلال ہے جیسے عقلی باتیں اور نصیحت، اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلائل مشاہداتِ حق میں نظر کرنا، یہ نظم میں بھی جائز ہے۔
غرضیکہ جیسے حسن کا دیکھنا جو محلِ خطر ہو، ممنوع ہے، اس کا چھونا حرام ہے۔ ایسے ہی نظم و نثر
۶۱۴جو محرکِ شہوات ہوں وہ محلِ خطر ہیں، ایسا سننا حرام ہے۔ اور جو لوگ ایسے فحش مضمون کو حلال کہتے ہیں ان کو دیکھنا اور چھونا بھی حلال کہنا چاہیے اور ایسی صورت میں یہ بے دینی کفر ہے۔
اور جو کہتا ہے کہ میں آنکھ، رخسار اور زلف کے بیان میں جلوۂ حق دیکھتا ہوں اور حق کو ڈھونڈتا ہوں، وہ در حقیقت واجب کرتا ہے کہ اور چیز کی طرف بھی دھیان کرے اور رخسار خال بھی اور کہے کہ میں اس جلوہ میں حق ڈھونڈتا ہوں۔
اس لیے کہ آنکھ اور کان جائے عبرت اور منبعِ علم ہیں، اس لیے واجب ہے۔ تاکہ دوسرا کہے کہ میں چھوتا ہوں اس شخص کو جس کی صفت سننا جائز ہے اور دوسرا اس کا دیکھنا روا رکھے اور کہے میں اس میں حق دیکھتا ہوں اور ایک خواہش دوسری خواہش سے زیادہ اچھی نہیں ہوتی جس سے معنی معلوم ہو سکیں۔ ایسی صورت میں شریعت بالکل باطل ہوتی ہے۔
اور حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: اَلْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ "دونوں آنکھیں زنا کرتی ہیں۔" تو ان سے نظر بندی کے ماتحت یہ حکم اٹھ جاتا ہے اور نامحرموں کے چھونے کی علامت قطع ہو جاتی ہے اور حدود و شرع بھی ساقط ہو جاتی ہے اور یہ واضح گمراہی ہے۔
اسی وجہ سے جب جاہل صوفیوں نے دیکھا کہ استغراق میں سماع والے شریک ہوتے ہیں، اس حال سے خیال کیا کہ یہ سب نفس کی پیروی میں کرتے ہیں تو یہ حلال ہے۔ اگر حلال نہ ہوتا تو یہ نہ کرتے۔ ان کی تقلید میں انہوں نے باطن ترک کر کے ظاہر کیا اور خود ہلاک ہو کر قوم کو بھی ہلاک کیا اور یہ آفتِ زمانہ سے ایک آفت ہے۔ اس کا بیان اپنے موقع پر کیا جائے گا۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ
بتیسواں باب
سماعِ لحن و نغمہ
حضور اکرم ﷺ فرمایا کرتے: زَيِّنُوْا اَصْوَاتَكُمْ بِالْقُرْاٰنِ "اپنی آواز قرآنِ کریم پڑھنے میں مزیّن کیا کرو۔" اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَزِيْدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَآءُ﴾ بڑھاتا ہے مخلوق میں جتنا چاہے۔ مفسرین نے کہا یہ آوازِ حسن کے متعلق ہے اور حضور ﷺ نے فرمایا: مَنْ اَرَادَ اَنْ يَّسْمَعَ صَوْتَ دَاوُدَ فَلْيَسْتَمِعْ صَوْتَ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ "جو چاہے
۶۱۶کہ داود علیہ السلام کی آواز سنے، وہ ابو موسیٰ اشعری کی آواز سنے۔"
احادیث میں ہے کہ بہشتیوں کے لیے بھی سماع ہوگا اور وہ ایسا ہوگا کہ ایک درخت سے آوازیں مختلف سروں میں آئیں گی۔ جب وہ مختلف آوازیں ملائی جائیں گی تو اس سے طبیعتوں کو بڑی لذت حاصل ہوگی۔ اس قسم کی آواز عامِ مخلوق میں عام ہوتی ہے، خواہ وہ آدمیوں میں ہو یا جانوروں میں۔ اس لذت کا باعث یہ ہے کہ روح لطیف ہے اور اس قسم کی آوازں میں بھی لطافت ہے تو جب روح ایسی آوازیں سنتی ہے تو جنس جنس کی طرف مائل ہوتی ہے اور یہ اس گروہ کا قول ہے جس کا ذکر ہو چکا اور محققین اہلِ خبر اس میں بہت کلام کرتے ہیں بلکہ سروں کے ملانے نیز عیوب کی تحقیق میں انہوں نے کتابیں لکھی ہیں اور فن کو بڑی اہمیت دی ہے اور موجودہ زمانہ میں ان کی صنعت کے آثار مزامیر ہیں، جو انہوں نے ایجاد کیے ہیں۔ ان کے ذریعے خواہشِ نفسانی، لہو و لعب، کھیل تماشے کی زینت کے لیے انہوں نے شیطان سے اتفاق کیا ہے۔ بلکہ اس حد تک بڑھے کہ روایات بنا کر سناتے ہیں کہ حضرت اسحاق ایک باغ میں سرود کر رہے تھے اور ایک بلبل بول رہی تھی۔ وہ آواز سن کر خاموش ہو گئی اور سنتی رہی حتیٰ کہ وہ درخت سے گر کر مر گئی۔
میں نے اس قسم کی بہت سی حکایتیں سنی ہیں۔ اس سے میری مراد یہ نہیں کہ یہ جو کہتے ہیں سب راحتیں اور تالیفِ طبع کے لیے اور الحان دلوں کے لیے ہیں۔
حضرت ابراہیم خواص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک وقت میں عرب کے ایک قبیلہ میں گیا اور ایک امیر کے مہمان خانے میں اُترا۔ میں نے وہاں ایک حبشی دیکھا جو زنجیروں میں جکڑا ہوا دھوپ میں پڑا تھا۔ اس پر خیمہ لگا ہوا تھا۔ مجھے اس پر رحم آیا۔ میں نے اس کی سفارش کے لیے خیال کیا۔ پھر جب کھانا لایا گیا تو امیر بھی خود مہمانوں کی تعظیم کے لیے آیا تاکہ اپنے سامنے سب کو کھانا کھلائے۔ جب میرے سامنے کھانا آیا تو میں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔ عرب میں اس سے معیوب بات کوئی نہیں سمجھی جاتی کہ مہمان کھانا نہ کھائے۔ چنانچہ امیر خود میرے پاس آیا اور کھانا نہ کھانے کی وجہ دریافت کی۔ میں نے اُسے کہا کہ مجھے تیری مہربانی سے سب کچھ اُمید ہے۔ امیر نے کہا کہ آپ کو میری تمام مِلک میں تصرف کا حق ہے لیکن کھانا کھا لو۔ میں نے جواب دیا کہ مجھے تیری مِلک کی ضرورت نہیں۔ میری صرف اتنی خواہش ہے کہ یہ غلام جو پابہ جولاں ہے، یہ مجھے دے دیا جائے اور بس۔ اس نے کہا مجھے اس میں کوئی عذر نہیں لیکن اوّل اس کا قصور معلوم کر لیجیے پھر جیسے آپ چاہیں وہ کریں۔
میں نے پوچھا تو امیر نے کہا یہ میرا غلام ہے اور نہایت خوش الحان ہے۔ میں نے اسے
۶۱۷چند اونٹ دیے تاکہ یہ کھیتوں میں جا کر دانہ وغیرہ لے آئے۔ اس نے ایک ایک اونٹ پر دو اُونٹوں کا بار ڈالا اور راستہ میں گانا شروع کیا۔ جس سے اونٹ مست ہو گئے اور دوڑتے ہوئے واپس آئے اور جتنا بوجھ لانا تھا اس سے دو چند بوجھ لے آئے۔ جب ان سے بوجھ اُتارا گیا تو وہ اونٹ ایک ایک دو دو کر کے مر گئے۔
ابراہیم خواصؒ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ سن کر تعجب ہوا۔ میں نے کہا مجھے اس بات پر دلیل کی ضرورت ہے کہ اتنے میں چند اونٹ گھاٹ پر آئے کہ پانی پئیں۔ امیر نے ان اونٹوں کے آدمیوں سے پوچھا کہ یہ کتنے روز سے پیاسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین چار روز سے پیاسے ہیں۔ امیر نے (غلام سے) کہا کہ اب تو گانا کہ ران اونٹوں کو مست کر۔ اس نے گانا شروع کیا اور اونٹ اس کی آواز سن کر پانی پینا بھول گئے۔ کسی نے پانی کی طرف رخ نہ کیا اور دیوانہ وار جنگل کی طرف بھاگے اور پراگندہ ہو گئے۔ اس کے بعد امیر نے غلام کو آزاد کر کے مجھے بخش دیا۔
اور اس قسم کے مشاہدے مجھے بلوچوں میں بھی ہوئے کہ وہ گدھے اور اونٹ لے کر چلتے ہیں اور راستہ میں انہیں اپنے گانے سے مست کرتے ہیں اور خراسان و عراق میں شکاری رات کو تھال بجاتے ہیں جس سے جنگل کے ہرن کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ شکاری انہیں پکڑ لیتے ہیں۔
اور مشہور ہے کہ ہندوستان میں ایک گروہ جنگل میں جا کر سرود کرتا ہے اور انواع و اقسام کے راگ گاتا ہے جس سے ہرن اس آواز کی طرف آتے ہیں یہ ان کے گرد پھر کر سرود کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ وہ ہرن مست ہو کر آنکھیں بند کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں، وہ لوگ انہیں پکڑ لیتے ہیں۔ اور شیر خوار بچوں میں یہ دستور ہے کہ جب وہ پالنے میں روتے ہیں تو ان کے پاس ان کی ماں یا کوئی انواع اقسام کی آواز کرتا ہے، وہ چپ ہو جاتے ہیں اور اس آواز کے سننے میں محو ہو جاتے ہیں اور جو بچہ ایسی آواز پر روتا ہوا چپ ہو جائے اطباء اس بچے کو زیرک کہتے ہیں۔
اور اس کا تجربہ اس طرح حاصل ہوا کہ ایک عجمی بادشاہ مر گیا۔ اس کا دو سالہ بچہ تھا۔ وزیروں نے اسے تختِ نشین کرنا چاہا۔ بزرجمہر نے کہا کہ اسے تخت نشینی سے پہلے امتحان کرنا ضروری ہے کہ اس کے حواس درست ہیں یا نہیں تاکہ نظامِ مملکت کی اس سے امید ہو سکے۔ لوگوں نے پوچھا وہ امتحان کیسے لیا جائے۔ اس نے کہا گانے والے بلائے اور اس بچے کے آگے وہ گانے لگے۔ بچہ خوشی میں آیا اور ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ بزرجمہر نے کہا کہ یہ بچہ زیرک ہے اس سے نظامِ مملکت کی امید ہے۔
اور عقلاء کے نزدیک جس پر آواز کی تاثیر نہ ہو وہ بے حس ہے یا جھوٹا ہے یا نفاق کرتا ہے۔
۶۱۸یا آدمی اور جانوروں کے طبقہ سے خارج ہے۔
اور ایک جماعت راگ سننے کی اس وجہ میں ممانعت کرتی ہے کہ اس میں امرِ حق کی پیروی نہیں ہے اور فقہاء کا اتفاق ہے کہ گانا سننا اس وقت جائز ہے جب راگ و رنگ کا سامان موجود نہ ہو اور آواز سننے سے بُری نیت ظاہر نہ ہو اور اس پر وہ دلائل میں بہت سے اخبارِ واحادیث لاتے ہیں، جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے
قَالَتْ كَانَتْ عِنْدِيْ جَارِيَةٌ تُغَنِّيْنِيْ فَاسْتَاْذَنَ عُمَرُ فَلَمَّا اَحَسَّتْهُ وَسَمِعَتْ حِسَّهُ فَرَّتْ فَلَمَّا دَخَلَ عُمَرُ تَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَا اَضْحَكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ عِنْدَنَا جَارِيَةٌ تُغَنِّيْ فَلَمَّا سَمِعَتْ حِسَّكَ فَرَّتْ فَقَالَ عُمَرُ لَا اَبْرَحُ حَتّٰى اَسْمَعَ مَا كَانَ سَمِعَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰهِ بِتِلْكَ الْجَارِيَةِ فَاَخَذَتْ تُغَنِّيْ وَرَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ۔
"حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک گانے والی لونڈی گا رہی تھی۔ اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ جب اس لونڈی نے معلوم کیا اور حضرت عمرؓ کی آواز سنی تو وہ بھاگ گئی۔ جب حضرت عمرؓ داخل ہوئے تو حضور ﷺ تبسم فرما رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی: حضور ﷺ کو کس چیز نے ہنسایا؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ہمارے پاس ایک لونڈی گا رہی تھی، جب اس نے تمہاری آواز سنی تو بھاگ گئی۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا: میں ضرور سنوں گا جو میرے حضور ﷺ نے سنا ہے۔ تو حضور ﷺ نے اسے بلایا۔ وہ آ کر گانے لگی اور حضور ﷺ سن رہے تھے۔"
اور اکثر صحابہ کرام نے ایسی روایات بیان کی ہیں۔ شیخ عبدالرحمٰن سلمی رحمۃ اللہ علیہ ان سب روایات کو اپنی کتاب "السماع" میں جمع کیا ہے اور اس کی اباحت کا فیصلہ کیا ہے۔
لیکن مشائخِ صوفیاء نے اسے مباح کہنا عوام کا کام بتایا ہے اس لیے اعمالِ مشائخ میں وہی کام رائج ہے جس سے ثواب اور فائدہ حاصل ہو۔ مباح کاموں میں پڑنا عوام کا ہی کام ہے یا چوپایوں کا۔ بالغ بندوں کو چاہیے کہ ایسا کام کریں کہ جس سے فائدہ حاصل ہو۔ ایک وقت میں
۶۱۹مقامِ مرو میں تھا۔ ایک محدث نے جو ائمۂ حدیث میں مشہور تھے، مجھ سے کہا کہ میں نے اباحتِ سماع میں کتاب لکھی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ دین میں بڑی مصیبت کی بات ہے کہ ایک امامِ فن ایسی چیز کو جو سب جہالتوں کی جڑ ہو، حلال کرے۔ پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ آپ حلال نہیں جانتے تو سماع کیوں کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ اس کا حکم چند صورتوں پر ہے، ایک حال پر منحصر نہیں۔ اگر دل میں حلال تاثیر ہو تو حلال ہے اور اگر حرام کی تاثیر ہو تو حرام ہے، اور اگر مباح کی تاثیر ہو تو مباح ہے، اور جس کا ظاہر حکم گناہ ہے، اس کے باطنی حال میں کئی وجوہ پر اس کا حکم ہے۔ ایک چیز پر مطلق حکم کرنا محال ہے۔
تینتیسواں باب
احکامِ سماع
اچھی طرح سمجھ لو کہ سماع کے متعلق اختلافِ طبائع کے ساتھ علیحدہ علیحدہ حکم ہیں، جیسے ارادت کے دلوں پر مختلف حکم ہیں اور یہ ظلم ہے کہ کوئی شخص اسے یکساں سمجھے۔ غرض کہ سننے والے دو گروہ ہیں: ایک معنی سننے والے، دوسرے آواز سننے والے، اور ان دونوں میں فائدے بھی ہیں اور آفات بھی۔ اس لیے کہ خوش آواز سننے سے جو معنی آدمیوں میں مرکب ہوتے ہیں اور وہ جوش میں آتے ہیں، اس کے دو نتیجے ہیں۔ اگر طبیعت میں حق ہو تو حق جوش دیتا ہے اور اگر باطل ہو تو باطل جوش مارتا ہے۔ جس کی طبیعت میں مادۂ فساد ہو تو وہ جب سماع کرے گا فساد ہی پیدا ہوگا۔ اور یہ دونوں باتیں حضرت داؤد علیہ السلام کی حکایتوں سے ظاہر ہیں۔
جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا خلیفہ بنایا تو آپ کو لحن عطا فرما کر گویا آپ کے گلے کو ساز بنا دیا، حتیٰ کہ پہاڑ بھی نرم ہوئے اور وحوش و طیور بھی سماعتِ داؤد علیہ السلام سے باہر آ جاتے اور پانی چلتا ہوا ٹھہر جاتا اور پرندے ہوا پر سے گر جاتے۔
روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی آواز سن کر پرندے ایک ایک ماہ تک مدہوش ہوتے کہ کچھ نہ کھاتے۔ بچے نہ روتے، نہ دودھ مانگتے اور جب خلقت وہاں سے واپس آ جاتی تو بہت سے آدمی آپ علیہ السلام کے خوبصورت کلام سے متاثر ہو کر مر جاتے۔ حتیٰ کہ ایک بار تخمینہ لگایا تو سات سو خوبصورت لونڈیاں اور بارہ ہزار بوڑھے مر گئے تھے۔ پھر مشیتِ حق اس طرف ہوئی کہ حق اور حقیقت نوش لوگوں کو متبعینِ حرص و آز سے جدا کیا جائے۔ چنانچہ شیطان کی بے قراری نے زور پکڑا اور اسے ان کے دلوں میں وسواس الخناس ڈالنے کی اجازت ملی تاکہ وہ حیلہ سازی سے جو کچھ کر سکتا ہے کر لے۔ تو اس نے بنسری اور طنبور کی ترکیب نکالی اور مجلسِ داؤد علیہ السلام کے مقابل ایک مجلس تیار کی۔
چنانچہ سامعینِ داؤد علیہ السلام کے دو گروہ ہو گئے۔ ایک اہلِ شقاوت جو مزامیر کی طرف مائل ہو گیا۔ دوسرا صرف لحنِ داؤد کا مشتاق رہا۔ اور جو اہلِ معنی تھے وہ لحنِ داؤد کے علاوہ کسی اور طرف مائل نہ ہوئے، اس لیے کہ وہ حق کو بھی دیکھتے تھے اور اگر شیطانی ساز سنتے تو اس میں منجانب
۶۲۱اللہ انہیں فتنہ نظر آتا اور جب لحنِ داؤد سنتے تو اس میں ہدایتِ حق دیکھتے۔ حتیٰ کہ سب سے رہ گئے اور متعلقات سے روگرداں ہو کر کماحقہ صواب کو صواب دیکھا اور خطا کو خطا۔ تو جس کا سماع ایسا ہے وہ جو کچھ سنتا ہے سب اس کو حلال ہے۔ اور ایک گروہ مدعیوں کا کہتا ہے کہ ہم پر سماع کا اثر برخلاف پڑتا ہے اور یہ محال ہے۔ اس لیے کہ کمالِ ولایت یہ ہے کہ ہر چیز کی اصلیت نظر آئے تاکہ اس کا دیکھنا صحیح ہو اور اگر اس کے برخلاف دیکھے تو وہ دیکھنا درست نہیں۔
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اَللّٰهُمَّ اَرِنَا حَقَائِقَ الْاَشْيَاءِ كَمَا هِيَ "الٰہی! ہمیں ہر چیز اپنی اصل اصلیت میں دکھا دے۔" تو جب دیکھنا درست ہوا، یعنی چیزوں کے مطابق اصل۔ تو چاہیے کہ سماع میں درست ہو اور اسے ایسا سنے جیسا کہ وہ اپنی صفت اور حکم میں ہے۔ اور جو لوگ ساز اور باجے میں مبتلا ہیں اور نفسانی خواہش اور شہوات میں ہیں، وہ برخلافِ اصلیت کے سنتے ہیں۔ اگر اس حکم کے مطابق اصل سماع کرتے تو سب آفات سے بچے رہتے۔
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ گمراہوں نے کلامِ الٰہی سنا اور اس سے ان کی گمراہی زیادہ ہوئی۔ جیسے نضر بن حارث نے کہا: ﴿اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ﴾ "یہ پہلے قصے ہیں۔" اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کاتبِ وحی تھا، کہہ بیٹھا: ﴿سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ﴾ اور ایک گروہ ﴿لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ﴾ کو دلیل بنا بیٹھا کہ اس کا دیدار نہیں ہوگا اور ایک گروہ نے ﴿ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ﴾ کو مکان اور جہت کا ثبوت اور ایک گروہ نے ﴿وَجَآءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا﴾ کو جسمیت کی دلیل بنا لیا۔ جب ان کا دل گمراہی کا محل تھا، اسے کلامِ الٰہی سننے سے کچھ فائدہ نہ ہوا۔
ایسے ہی جب موحد نے شاعر کے شعر کی طرف نگاہ کی اور اس کی طبع پیدا کرنے والے کو دیکھا اور اپنے دلوں کو آراستہ کرنے والی چیز کا اس میں مطالعہ کیا اور فاعلِ فعل پر دلیل کی تو اس گروہ نے حق میں راستہ گم کیا اور باطل میں راستہ پایا اور ان معنی کا انکار ظاہر مکابرہ ہے۔
اور مشائخ رضی اللہ عنہم نے ان معنی میں لطیف کلمات بیان کیے ہیں جو اس کتاب میں نہیں رکھتے۔
۶۲۲میں اس فصل میں ثابت کرتا ہوں تاکہ کامل فائدہ ہو۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلسِّمَاعُ وَارِدُ الْحَقِّ يُزْعِجُ الْقُلُوْبَ اِلَى الْحَقِّ فَمَنْ اَصْغٰى اِلَيْهِ بِحَقٍّ تَحَقَّقَ وَمَنْ اَصْغٰى اِلَيْهِ بِنَفْسٍ تَزَنْدَقَ۔ "سماع واردِ حق ہے اور دلوں کا اللہ کی طرف میلان ہے۔ جو اسے حق سے سنتا ہے وہ حق کی طرف راستہ پاتا ہے اور نفس سے سنتا ہے زندیق ہو جاتا ہے۔" اس سے حضرت ذوالنونؒ کی مراد یہ نہیں ہے کہ سماع علتِ وصلِ حق ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سننے والے کو معنی حق سننے چاہئیں نہ کہ آواز اور اس کا دل ورودِ حق کا محل ہو۔ تو جب وہ معنی دل پر پہنچتے ہیں، دل کو ابھارتے ہیں۔
اور جو سماع تابعِ حق ہو وہ مکاشفِ حق ہوتا ہے اور جو نفس کے تابع ہو وہ محجوب ہوتا ہے، تاویل سے تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس کا ثمرہ کشف ہوتا ہے اور اس سماع سے پردہ۔ لیکن زندقہ ایک فارسی لفظ سے معرب کیا گیا ہے اور عجمی زبان میں زندقہ، زند تاویل ہے اور اس سبب سے انہوں نے اپنی کتاب کی تفسیر کو "زند پاژند" کہا ہے اور جب اہلِ لغت چاہتے ہیں کہ ابناء مجوس کو کسی نام سے ظاہر کریں تو "زندیق" کہتے ہیں۔
اس بناء پر وہ کہا کرتے تھے کہ جو کچھ مسلمان کرے اس کے لیے تاویل ہے۔ اس لیے کہ اس کا ظاہر نقض ہے اور تنزیل دیانت دار قول ہے اور تاویل اس سے باہر ہے اور مشتبہ فقر جو آج ان سے باقی ہیں یہی کہتے ہیں۔ اور یہ زندیقی نام ان کے لیے علم ہے۔ تو اس سے ذوالنون مصریؒ کی مراد یہ ہے کہ اہلِ تحقیق سماعِ محقق ہوتے ہیں اور نفسانی لوگ تاویل کنندہ۔ تو جو اس کی تاویل حقیقت سے دور کرتے ہیں وہ سب سے گنہگار ہوتے ہیں۔
اور حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اَلسِّمَاعُ ظَاهِرُهٗ فِتْنَةٌ وَبَاطِنُهٗ عِبْرَةٌ فَمَنْ عَرَفَ الْاِشَارَةَ حَلَّ لَهٗ اِسْتِمَاعُ الْعِبْرَةِ وَاِلَّا فَقَدِ اسْتَدْعَى الْفِتْنَةَ وَتَعَرَّضَ لِلْبَلِيَّةِ۔ "سماع بظاہر فتنہ ہے اور بباطن عبرت۔ جو اس کے اشارات کا فہم حاصل کر لے اس کے لیے سماعِ عبرت حلال ہے ورنہ فتنہ اپنے لیے بلا رہا ہے اور بلاؤں کے لیے اپنے کو پیش کر رہا ہے۔" یعنی جس کا دل بالکل حدیثِ حق میں مستغرق نہیں اس کے لیے سماع بلا ہے اور وہ موردِ آفات ہے۔
حضرت ابو علی رود باری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا، جب کہ ایک شخص نے کہہ کر سماع سے متعلق پوچھا: لَيْتَنَا تَخَلَّصْنَا مِنْهُ رَاْسًا بِرَاْسٍ۔ "کاش کہ ہم اس سماع
۶۲۳سے سر بسر چھوٹ جاتے۔" اس لیے کہ آدمی سب چیزوں کے حق ادا کرنے میں عاجز ہے۔ جب کسی چیز کا حق فوت ہو جائے تو بندہ اس میں اپنا قصور دیکھتا ہے اور جب اپنا قصور دیکھتا ہے تو دعا کرتا ہے کہ کاش اس سے چھوٹ جائے۔
ایک شیخ فرماتے ہیں: اَلسِّمَاعُ تَنْبِيْهُ الْاَسْرَارِ لِمَا فِيْهِ مِنَ الْمُغَيَّبَاتِ۔ "سماع بیدار کرتا ہے رازوں سے اور لازم کرتا ہے کہ اس سے ہمیشہ حق کی جانب حاضر ہو جائے۔" اس لیے کہ رازوں کا غائب ہونا مدعیوں کے حق میں بُرا ہے اور یہ ان کی بُری صفتوں سے ہے۔ اس لیے کہ دوست سے اگر غائب ہو تو بھی دل سے حاضر ہوتا ہے اور جب غیبت آئے تو دوستی جاتی رہتی ہے۔
یہی میرے شیخ نے فرمایا ہے: اَلسِّمَاعُ زَادُ الْمُضْطَرِّيْنَ فَمَنْ وَصَلَ اسْتَغْنٰى عَنِ السِّمَاعِ۔ "سماع تھکے ماندوں کا توشہ ہے، جب پہنچ گیا اسے سماع سے استغنا حاصل ہوتا ہے۔" اس لیے کہ وصل کے محل میں سماعت معزول ہوتی ہے۔ کیونکہ سماع خبر ہے اور خبر غائب سے ہوتی ہے اور جب روبرو ہو گیا تو سننا جاتا رہا۔
حضری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَيُّ شَيْءٍ اَعْمَلُ بِالسِّمَاعِ يَنْقَطِعُ اِذَا انْقَطَعَ مِمَّنْ يُسْمَعُ مِنْهُ يَنْبَغِيْ اَنْ يَكُوْنَ سِمَاعُكَ مُتَّصِلًا غَيْرَ مُنْقَطِعٍ۔ "میں سماع کو کیا کروں، کیونکہ جب سنانا بند ہو جاتا ہے تو سماع بھی بند ہو جاتا ہے اور چاہیے کہ یہ تیرا سماع متصل ہو اور کبھی بند نہ ہو۔"
اور ہمت کا نشان اجتماع ہے، جب گلستانِ محبت میں جمع ہو۔ کیونکہ جب بندہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے تو سب جہان حتیٰ کہ حجر و مدر سب اس کے لیے سماع ہو جاتے ہیں اور یہ بہت بڑا درجہ ہے۔ وَاللّٰهُ وَلِيُّ التَّوْفِيْقِ
چونتیسواں باب
اختلافِ سماع
مشائخِ محققان کے اندر سماع میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ سماع آلۂ غیب ہے اور دلیل یہ لاتے ہیں کہ بحالتِ مشاہدہ سماع محال ہے۔ کیونکہ دوست کے محل میں اور دوست کے دیکھنے کے وقت سماع سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ سماع خبر کے واسطے سے ہے اور خبر دیدار کے وقت دوری اور حجاب مشغول ہوتی ہے، تو سماع مبتدیوں کا آلہ ہے۔ اس سے غفلت اور پراگندگی جمع ہو جاتی ہے اور جو جمع ہونا ضرور ہو اس سے پراگندہ ہو جاتا ہے۔
ایک گروہ کہتا ہے کہ سماع آلۂ حضور ہے اس لیے کہ محبت میں کلیت درکار ہے تاکہ کل محب کا کل محبوب میں مستغرق نہ ہو، وہ محبت میں ناقص ہے۔ تو جیسا کہ دل کو وصل کے محل میں محبت نصیب ہوتی ہے اور سر میں مشاہدہ اور روح کو وصل اور تن کو خدمت تو چاہیے کہ کان کا نصیب بھی ہو جائے جیسے آنکھوں کو دیکھنا نصیب ہوا ہے۔ کسی شاعر نے ہزل کے محل میں خوب کہا ہے جب کہ اس نے شراب کی دوستی کا دعویٰ کیا ہے
اَلَا فَاسْقِنِيْ خَمْرًا وَقُلْ لِيْ هِيَ الْخَمْرُ وَلَا تَسْقِنِيْ سِرًّا اِذَا اَمْكَنَ الْجَهْرُ
"یعنی مجھے شراب دے تاکہ میری آنکھیں دیکھیں اور ہاتھ چھوئیں اور ذائقہ چکھے اور ناک سونگھے۔"
ایک حاسدان میں سے بے نصیب رہ جاتا ہے اور وہ کان ہے تو اب کہے جا کہ یہ شراب ہے تاکہ کان بھی اپنا حصہ پائے تاکہ میرے تمام حواس اس میں ہوں اور اس سے لذت پائیں۔
کہتے ہیں کہ سماع آلۂ حضور ہے اس لیے کہ غائب خود غائب ہے اور غائب خود منکر ہوتا ہے اور منکر اس لائق نہیں ہوتا۔
تو سماع دو طرح پر ہوتا ہے۔ ایک بالواسطہ، دوسرا بلا واسطہ۔ جو سنانے والے سے سنا جائے وہ آلۂ غیبت ہوتا ہے اور جو یار سے سنا جائے وہ آلۂ حضور ہوتا ہے۔ اسی سبب سے کسی پیر نے کہا میں مخلوق کو اس درجہ نہیں جانتا کہ اس کی بات سنیں یا اس کا ذکر کروں مگر خاصانِ حق اس درجہ میں ہیں۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
پینتیسواں باب
مقاماتِ سماع
جاننا چاہیے کہ ان میں سے ہر ایک کا اس سماع میں ایک رتبہ ہے اس لیے کہ مشرب اور ذوقِ سماع بمقدارِ رتبہ ہوتا ہے۔ جیسے تائب جو کچھ سنتا ہے اس کو مسرت اور ندامت کا تذکار ہوتا ہے اور مشتاق کے لیے شوق اور رویت کا سرمایہ ہوتا ہے اور صاحبِ یقین کو یقین کا درجہ ہوتا ہے اور مرید کے لیے بیان کی تحقیق اور محب کو قطعِ تعلقات کا باعث اور فقیر کے لیے کل سے ناامیدی اور اصل سماع مثلِ آفتاب ہے جو سب چیزوں پر روشن ہوتا ہے۔ لیکن ہر چیز اپنے مرتبہ کے مطابق اس سے مزہ پاتی ہے۔ ایک کو روشن کرتا ہے، ایک کو پگھلا دیتا ہے اور ایک کو منور کرتا ہے۔ یہ سب گروہ جو ہم نے بیان کیے تین مرتبہ میں ہیں: ایک ان میں مبتدی ہے، دوسرا متوسط ہے، تیسرا کامل۔ اور میں سماع میں ہر ایک کے حال میں تین فصل بیان کرتا ہوں تاکہ تیرے قریب الفہم ہو۔
جاننا چاہیے کہ سماع وارد حق ہے۔ اس کی ترکیب ہزل و لہو سے مرکب ہے اور مبتدی کی طبیعت کسی حال میں قابلِ ذکر نہیں اور ان ربانی معنی کے وارد ہونے سے طبع کو سوز اور قہر سے بلندی اور پستی ہوتی ہے۔ جیسے کہ ایک گروہ کے لوگ سماع میں بیہوش ہو جاتے ہیں اور ایک گروہ والے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کوئی ایسا نہیں جو اعتدال سے باہر نہ جائے اور اس کے لیے دلیل ظاہر ہے اور مشہور ہے کہ روم کے شفاخانہ میں ایک عجیب باجا بنایا گیا ہے جسے "ارغنون" کہتے ہیں اور جس چیز میں کوئی بڑی عجیب بات ہو اس کا نام روم والے ارغنون رکھتے ہیں، جیسے کشادہ صحن کو ارغنون کہتے ہیں اور مانی کی نقاشی کو بھی ارغنون کہتے ہیں اور مثل اس کے مظاہرِ حکمت پر ایسے نام لاتے ہیں اور اس سے مراد نہ اظہارِ حکم ہے بلکہ وہ ایک ساز ہے کھال سے منڈھا ہوا۔ ہفتے میں دو بار مریض کو اس کے پاس لے جاتے ہیں اور اسے بجاتے ہیں اور بیمار کے مرض کے اندازے تک اسے بجاتے ہیں پھر اسے وہاں سے لاتے ہیں۔ اور جب کسی کو مارنا چاہیں تو اسے زیادہ مدت تک وہاں رکھتے ہیں حتیٰ کہ وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی مدتیں مقرر نہیں لیکن موت کے اسباب ہوتے ہیں۔ چنانچہ طبیب ہمیشہ سنتے ہیں، ان میں اس کا اثر ہوتا ہے، نہ ہونا چاہیے۔
۶۲۶اس لیے کہ وہ طبیعت کے موافق ہو گیا ہوتا ہے اور مبتدیوں کی طبیعت کے خلاف ہوتا ہے۔ اور میں نے ہندوستان میں دیکھا کہ زہرِ قاتل میں ایک کیڑا پیدا ہوتا ہے۔ اس کی زندگی اس زہر سے ہے اس لیے کہ وہ تمام کا تمام زہر ہوتا ہے۔
میں نے ترکستان میں ایک شہر دیکھا جو سرحدِ اسلامی پر ہے۔ وہاں ایک پہاڑ آتش فشاں تھا جو آگ کے شعلے دے رہا تھا اور اس کے پتھروں سے نوشادر جوش مار کر ابل رہا تھا اور اس آگ میں چوہے تھے۔ جب انہیں آگ سے باہر لایا جائے تو وہ مر جاتے تھے۔ اس بیان سے مراد صرف یہ ہے کہ مبتدیوں کے لیے یہ سب اضطراب ہوتا ہے جب ان پر واردِ حق کا حلول ہو جاتا ہے تو پھر سب برداشت ہوتا ہے۔ جب متواتر کسی پر کوئی معاملہ ہو تو وہ موجبِ سکون بن جاتا ہے۔
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ روح الامین جب پہلی بار حضور ﷺ کی خدمت میں آئے تو حضور ﷺ اس کی تاب نہ لا سکے۔ جب بار بار جلوہ افروز ہوئے تو پھر جبرائیل علیہ السلام ایک ساعت نہ آتے تو حضور ﷺ تنگدل ہو جاتے۔ اس کے بہت سے شواہد ہیں اور یہ حالات بھی مبتدیوں کے اضطراب کی دلیل ہیں اور منتہیوں کے سماع میں سکون کی حجت۔
اور مشہور ہے کہ حضرت جنید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک مرید تھا کہ سماع میں بہت بیقرار ہوتا اور درویش اس کی طرف مشغول ہوتے، حتیٰ کہ شیخ سے اس کی شکایت کی۔ جنیدؒ نے اسے فرمایا کہ اگر اس کے بعد تو سماع میں بیقرار ہوا تو میں تجھے صحبت سے مشرف نہ کروں گا۔ ابو محمد حریری فرماتے ہیں کہ میں سماع میں حضرت جنیدؒ کی طرف دیکھتا تھا۔ لب بند اور خاموش تشریف فرما تھے اور آپ کے بدن پر ہر بال سے چشمہ کھلا ہوا ہے۔ آپ ایک روزِ کامل ویسے ہی بیہوش پڑے رہے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ سماع میں زیادہ درست تھے یا پیر کی حرمت زیادہ تھی۔ کہتے ہیں کہ ایک مرد نے سماع میں نعرہ مارا۔ پیر نے فرمایا: چپ رہ۔ اس نے سر گھٹنے پر رکھا۔ جب دیکھا تو انتقال کر چکا تھا۔
اور ابو مسلم فارس بن غالب فارسی سے میں نے سنا کہ ایک درویش سماع میں اضطراب کر رہے تھے۔ ایک نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ بیٹھ جا۔ وہ بیٹھتے ہی انتقال کر گئے۔
حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے ایک درویش کو دیکھا۔ اس نے سماع میں جان دے دی۔ اور حضرت دقی حضرت دواج سے راوی ہیں کہ میں ابن القرظی کے ساتھ دریائے دجلہ کے کنارے بصرہ اور ایلہ کے درمیان جا رہا تھا۔ ایک محل دیکھا اس کے دروازے پر ایک مرد بیٹھا ہوا تھا اور ایک لونڈی اس کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی جو سرود کر رہی تھی اور یہ بیت پڑھ رہی تھی
۶۲۷فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وُدٌّ كَانَ مِنِّيْ لَكَ اَقْبَلْ كُلَّ يَوْمٍ تَتَلَوَّنُ غَيْرَ هٰذَا بِكَ اَجْمَلْ
"بہت پہلے سے مجھے تیرے ساتھ اللہ کے لیے محبت ہے، تو ہر روز رنگ بدلتا ہے تاہم تیرے لیے یہ زیادہ اجمل ہے۔"
اور ایک نوجوان کو دیکھا کہ محل کے نیچے کھڑا ہے۔ گدڑی اس کے جسم پر ہے اور چھاگل ہاتھ میں ہے اور پکار رہا ہے: اے کنیز! تجھے خدا کی قسم، یہ شعر ایک بار اور سنا دے۔ میری زندگی میں ایک سانس زیادہ نہیں ہے۔ شاید اس شعر کے سنتے ہی دم نکل جائے۔ کنیز نے وہ شعر پڑھا اور اس نوجوان نے نعرہ مارا اور جان دے دی۔ محل کے مالک نے کنیز کو آزاد کر دیا اور محل سے نیچے اترا اور اس نوجوان کی تجہیز و تکفین کی اور بصرہ کے تمام رہنے والوں نے اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ پھر وہ پیر مرد صاحبِ محل نے کھڑے ہو کر کہا: اے بصرہ والو! میں فلاں بن فلاں ہوں۔ میں نے اپنی تمام ملکیت فی سبیل اللہ وقف کی اور سب غلام آزاد کیے۔ یہ کہا اور وہاں سے چل دیا۔ پھر اس کی خبر کسی کو نہ ملی۔
اس حکایت سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مرید کو غلبۂ سماع میں ایسا حال چاہیے تاکہ اس کے سماع سے گناہگار گناہوں سے نجات پائیں۔ اور موجودہ زمانہ میں مجالسِ سماع یہ ہیں کہ گمراہوں کا گروہ، فاسقوں کا مجمع اس میں شریک ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ حق طریق سے سماع کرتے ہیں۔ فاسق لوگ ان پیروں کو اپنے موافق پا کر گناہوں پر زیادہ حریص ہو جاتے ہیں اور آخرت دونوں ہلاک ہو جاتے ہیں۔
لوگوں نے حضرت جنید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر ہم عبرت حاصل کرنے کی غرض سے کلیسا جائیں تو جائز ہے؟ یعنی اس ارادہ سے وہاں جائیں کہ ان کی ذلت اور کج فہمی دیکھ کر عبرت حاصل کریں اور اپنی نعمتِ اسلام پر شکر کریں تو پھر اس میں ہمارا مواخذہ تو نہ ہوگا۔ شیخ نے فرمایا: اگر تم ایسے ہو کہ وہاں جا کر واپس آتے ہوئے ان میں سے چند آدمی اپنے ساتھ لا سکو تو تمہارے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر تم اس قابل نہیں تو ہرگز نہ جاؤ، اس لیے کہ اگر صاحبِ حجرہ شراب خانہ میں جاتا ہے تو خراباتی کہلاتا ہے اور خراباتی حجرہ میں آتا ہے تو صاحبِ حجرہ کہلانے لگتا ہے۔
ایک بزرگ شیخ نے فرمایا کہ میں بغداد جا رہا تھا اور ایک درویش میرے ساتھ تھا۔ میں نے ایک گویّے کی آواز سنی جو یہ شعر گا رہا تھا
مُنًى اِنْ تَكُنْ حَقًّا تَكُنْ اَحْسَنَ الْمُنٰى وَاِلَّا فَقَدْ عِشْنَا بِهَا زَمَنًا رَغَدًا
۶۳۸تو وہ پھاڑ کر تقسیم کریں یا ایک درویش کو دینا چاہیں دے دیں یا قوال کے حوالے کر دیں۔ اگر قوال کو دینا ہو تو درویش کی مراد اور اتفاق شرط نہیں۔
اور جب اتفاق کے بعد دینا ہو تو درویش کا کپڑا قوال کو نہ دے، کیونکہ یہ نالائق کو دینا ہے۔ اور وہ کپڑا اگر درویش نے حالتِ اختیار میں دیا ہوگا یا حالتِ اضطرار میں، دوسروں کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اور اگر جماعت کے ارادہ پر کپڑا جدا کیا ہے یا اس کی مراد کے بغیر، تو اس کی موافقت شرط ہے۔ جب کپڑا پھینکنے میں اتفاق کیا گیا ہو تو پھر پیر کو زیبا نہیں کہ وہ درویشوں کا کپڑا قوال کو دے۔ لیکن یہ جائز ہے کہ اس کا محب جو چاہے کرے، درویشوں کو دے یا سب پھاڑ کر تقسیم کرے۔
اور اگر کپڑا مغلوبیت کی حالت میں گر پڑا ہو تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ اکثر کہتے ہیں کہ قوال کو دینا چاہیے، کیونکہ اس میں حدیث ہے: مَنْ قَتَلَ قَتِيْلًا فَلَهٗ سَلَبُهٗ "جس نے عاشق کو قتل کیا، اس کا لباس اسی کے لیے ہے۔" اگر وہ قوال کو نہ دیں تو شرطِ طریقت سے باہر ہو جاتے ہیں۔
ایک اور گروہ کہتا ہے کہ اس میں پیر کو بھی اختیار ہے، جیسا کہ مذہبِ فقہ میں کہ بادشاہ کی اجازت کے بغیر مقتول کا کپڑا قاتل کو نہیں دیتے۔ یہاں بھی یہ کپڑا بدون حکمِ پیر کے قوال کو نہ دینا چاہیے۔ لیکن اگر کسی پیر کو نہ دینا چاہے تو بھی کچھ مضائقہ نہیں۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ
انتالیسواں باب
آدابِ سماع
جاننا چاہیے کہ شرطِ ادبِ سماع یہ ہے کہ جب تک ضرورت نہ ہو، سماع نہ کرے اور اسے عادت نہ بنائے اور دیر کے بعد کرے تاکہ اس کی عظمت دل سے نہ جائے۔ یہ بھی لازم ہے کہ جب سماع کرے تو شیخ وہاں حاضر ہو اور عوام سے وہ جگہ خالی ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ قوال صاحبِ عزت ہو اور دل شغلوں سے خالی ہو اور طبیعت لہو و لعب سے متنفر ہو اور تکلف درمیان میں نہ ہو اور جب تک قوتِ سماع پیدا نہ ہو، یہ شرط نہیں کہ تو اس میں مبالغہ کرے۔
جب قوتِ سماع قوی ہو جائے تو اسے اپنے آپ سے ہٹانا شرط نہیں اور قوتِ سماع کا تابع ہو جائے، یعنی جو اس کا مقتضا ہو وہی کرے۔ اگر وہ قوت ہلائے تو ہلے، اگر ٹھہرائے تو ٹھہرا رہے، اور قوتِ طبع اور سوز اور وجد میں فرق کرے۔ اور چاہیے کہ سننے والے کو اس قدر طاقتِ دیدار ہو کہ وارِدِ حق قبول کر سکے اور اس کی داد دے سکے۔ اور جب اس کا غلبہ دل پر ظاہر ہو تو تکلف سے اسے اپنے آپ سے دفع نہ کرے اور جب اس کی قوت ٹوٹ جائے تو تکلف سے جذب نہ کرے۔ اور چاہیے کہ حرکت کی حالت میں کسی سے مدد کی امید نہ رکھے اور اگر کوئی مدد کرے تو منع نہ کرے اور اس کا اس کی نیت میں امتحان نہ کرے، کیونکہ اس میں آزمانے والے کو بہت پریشانی اور بے برکتی ہوتی ہے۔ اور کسی کے سماع میں دخل نہ دے تاکہ اس کا وقت پراگندہ نہ ہو اور اس کے روزگار میں تصرف نہ کرے۔
اور چاہیے کہ اگر قوال خوش گو ہو تو اسے یہ نہ کہے کہ تو نے خوب کہا ہے اور اگر ناخوش کہے تو اسے برا نہ کہے۔ یا اگر شعر نا موزوں کہے جو طبع کو پریشان کرے تو یہ نہ کہے کہ اچھا کہو اور دل میں اس سے غصہ نہ کرے اور اسے درمیان نہ دیکھے بلکہ سب حوالہ حق کرے اور وہ درست سنے۔ اور اگر کسی گروہ کو سماع میں دیکھے تو اہل کو اس سے فائدہ نہ ہو تو یہ شرط نہیں کہ اپنی ہوشیاری میں اس کی مستی نہ دیکھے۔ اور چاہیے کہ اپنے وقت میں با آرام ہو، اس سے اسے فائدہ ہوگا۔ اور سلطانِ وقت کی عزت کرے تاکہ اس کی برکتیں اسے ملیں۔
اور میں علی بن عثمان جلابی (رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ مجھے وہ پسند ہے کہ مبتدیوں کو سماع
۶۴۰میں نہ چھوڑیں تاکہ ان کی طبیعت پریشان نہ ہو، کیونکہ اس میں بڑے خطرے ہیں اور آفت ہے۔ اس لیے کہ عورتیں چھت سے یا بلند مکان سے انھیں ان کی حالتِ سماع میں دیکھیں اور اس سبب سے سننے والے کو سخت حجاب پڑتے ہیں۔ اور چاہیے کہ جوان بچوں کو بھی اس کے درمیان نہ بٹھائیں۔ اور ایسا نہ ہو کہ اس کے بعد جاہل صوفیوں نے ان باتوں کو مذہب بنا رکھا ہو اور سچ کو درمیان سے دور کر دیا ہو۔ اور میں اس جنس کی آفتوں سے جو مجھ پر گزریں استغفار کرتا ہوں اور خداوند تعالیٰ سے مدد چاہتا ہوں تاکہ میرے ظاہر و باطن کو آفات سے بچائے۔ اور میں اس کتاب کے پڑھنے والوں کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کے حکموں کی رعایت رکھیں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ اَجْمَعِيْنَ وَسَلَّمَ تَسْلِيْمًا كَثِيْرًا كَثِيْرًا بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ ○ اٰمِيْنَ ثُمَّ اٰمِيْنَ