السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کشف المحجوب

حصہ ۱۵ — انیسواں باب — ستائیسواں باب

حصہ ۱۵
صفحہ ۵۲۴

انیسواں باب

مشاہدہ

حضور ﷺ نے فرمایا

اَجِیْعُوْا بُطُوْنَكُمْ دَعُوا الْحِرْصَ وَاَعْرُوْا اَجْسَامَكُمْ قَصِّرُوا الْاَمَلَ وَاَظْمَاُوْا اَكْبَادَكُمْ دَعُوا الدُّنْیَا لَعَلَّكُمْ تَرَوْنَ اللّٰهَ بِقُلُوْبِكُمْ۔

"اپنے پیٹ بھوکے رکھو اور حرص چھوڑو، بدن ننگے رکھو اور امیدیں کم کرو اور اپنے جگر پیاسے رکھو۔ دنیا چھوڑ دو۔ تو قریب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو دل کی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔"

اور حضور ﷺ نے فرمایا: جب کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضور سے احسان کی بابت سوال کیا: اَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَاِنَّهٗ یَرَاكَ۔ "اللہ کی عبادت ایسے کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اتنا نہ ہو سکے کہ اسے دیکھے تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔"

اور اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: ﴿یَا دَاوٗدُ اَتَدْرِیْ مَا مَعْرِفَتِیْ فَقَالَ لَا فَقَالَ هِیَ حَیٰوةُ الْقَلْبِ فِیْ مُشَاهَدَتِیْ﴾ "اے داؤد! تم جانتے ہو کہ میری معرفت کیا ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا وہ دل کا زندہ ہونا ہے میرے مشاہدہ میں۔" اور اس گروہ کی مراد مشاہدہ سے دیدار ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر حال میں غلا وملا بے چون بے چگون دیکھے۔

اور حضرت ابو العباس بن عطاء فرماتے ہیں اس فرمانِ الٰہی پر: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ (بِالْمُجَاهَدَةِ) ثُمَّ اسْتَقَامُوْا﴾ (عَلٰی بِسَاطِ الْمُشَاهَدَةِ) "وہ لوگ جو کہیں ہمارا ربّ اللہ ہے (مجاہدہ کے ساتھ) پھر استقامت رکھیں (بساطِ مشاہدہ پر)۔" اور حقیقتِ مشاہدہ دو طریق پر ہے۔ ایک محبت یقین سے دوسرے غلبہ محبت سے۔ یعنی دوست غلبہ محبت میں اس درجہ تک پہنچے کہ خود گم ہو جائے اور دوست ہی دوست رہ جائے اور سوائے دوست کے کسی غیر کو نہ دیکھے۔ اور محمد بن واسع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مَا رَاَیْتُ شَیْئًا قَطُّ اِلَّا وَرَاَیْتُ اللّٰهَ فِیْهِ اَیْ

۱۔ اس حدیث شریف کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔

۵۲۵

بِصِحَّةِ الْیَقِیْنِ۔ "میں نے کسی شے کو کبھی نہیں دیکھا مگر اللہ تعالیٰ کو دیکھا اس میں صحتِ یقین کے ساتھ۔"

اور مشائخ کرام میں سے ایک فرماتے ہیں: مَا رَاَیْتُ شَیْئًا اِلَّا وَرَاَیْتُ اللّٰهَ فِیْهِ قَبْلَهٗ "نہیں دیکھا میں نے کسی شے کو مگر میں نے اللہ تعالیٰ کو اس میں دیکھا اس سے پہلے۔" اور یہ دیکھنا حق سے خلق کا ہے۔

اور شبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مَا رَاَیْتُ شَیْئًا قَطُّ اِلَّا اللّٰهَ یَعْنِیْ بِغَلَبَاتِ الْمَحَبَّةِ وَغَلَیَانِ الْمُشَاهَدَةِ۔ "میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی مگر اللہ تعالیٰ کو محبت کے غلبہ اور جوشِ مشاہدہ میں دیکھا۔"

گویا ایک شخص فعل بچشمِ سر دیکھتا ہے اور چشمِ حق بین سے فاعلِ حقیقی کو دیکھتا ہے۔ پھر محبتِ فاعل اس کے نظر سے غیر کی محبت محو کر دیتی ہے۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک متبدل ہوتا ہے۔ تا کہ اثباتِ دلائل اس پر عیاں ہو جائیں اور ایک مجذوب ہوتا ہے جو ربودۂ شوقِ حق ہوتا ہے۔ یعنی دلائل و حقائق اس کے لیے حجاب ہو جاتے ہیں۔

لِاَنَّ مَنْ عَرَفَ شَیْئًا لَّا یَخَافُ غَیْرَهٗ وَمَنْ اَحَبَّ شَیْئًا لَّا یُطَالِعُ وَلَا یُعَارِفُ غَیْرَهٗ فَتَرَكَ الْمُنَازَعَةَ مَعَهٗ وَالْاِعْتِرَاضَ عَلَیْهِ فِیْ اَحْكَامِهٖ وَاَفْعَالِهٖ۔

"جو شخص کسی شئے کو دیکھتا ہے وہ غیر سے خائف نہیں ہوتا اور جو کسی شئے سے محبت کرتا ہے وہ غیر کو نہ دیکھتا ہے نہ جانتا ہے تو منازعت ترک ہو جاتی ہے اور اعتراض اس پر احکام و افعال میں ہوتا ہے۔"

اور اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے حالاتِ معراج کی ہمیں خبر دی اور فرمایا: ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی﴾ (مِنْ شِدَّةِ شَوْقِهٖ اِلَی اللّٰهِ تَعَالٰی) "کسی چیز کی طرف آنکھ نہ کھولی اور نہ حد سے متجاوز ہوئے۔" (اس لیے کہ آپ ﷺ کو شوق الی اللہ کا جوش تھا) جو کچھ مناسب تھا دل سے دیکھ لیا۔ جب دوست نے موجودات سے آنکھ بند کرانی چاہی تو دل سے موجد کو دیکھ لیا اور اللہ عزّ وجل نے فرمایا: ﴿لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰی﴾ "یقیناً دیکھ لیا محمد ﷺ نے ربّ علی کو۔" اور یہ بھی فرمایا: ﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ﴾ "مومنوں کو فرما دیجیے

۵۲۶

کہ اپنی آنکھیں بند رکھیں۔" یعنی: اَیْ اَبْصَارِ الْعُیُوْنِ مِنَ الشَّهَوَاتِ وَاَبْصَارِ الْقُلُوْبِ عَنِ الْمَخْلُوْقَاتِ۔ "یعنی آنکھوں کی بینائی شہوتوں سے بند رکھیں اور دل کی آنکھیں مخلوقات سے۔" تو جو مجاہدہ سے سر کی آنکھیں شہوتوں سے بند رکھے، وہ ضرور حق کو سر کی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔

فَمَنْ كَانَ اَخْلَصَ مُجَاهَدَةً كَانَ اَصْدَقَ مُشَاهَدَةً۔

"جو مجاہدہ میں مخلص ہوتا ہے وہ مشاہدہ میں سچا ہوتا ہے۔"

سہیل بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مَنْ غَضَّ بَصَرَهٗ عَنِ اللّٰهِ طَرْفَةَ عَیْنٍ لَّا یَهْتَدِیْ طُوْلَ عُمْرِهٖ۔ "جو شخص اللہ تعالیٰ سے ایک پل آنکھ بند کرے وہ مادام العمر ہدایت نہیں پاتا۔" اس لیے کہ غیر کی طرف مائل ہونا غیر کی طرف جانا ہے اور جو غیر کی طرف مائل ہوا وہ ہلاک ہوا۔ چنانچہ اہلِ مشاہدہ حیات اسے کہتے ہیں جو مشاہدہ میں ہو اور جو مغائبہ میں ہو اسے زندگی نہیں سمجھتے بلکہ حقیقتِ حق کہتے ہیں۔

چنانچہ حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا: آپ کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: چار سال۔ لوگوں نے کہا: کس طرح؟ فرمایا: ستر سال میں دنیا کے حجاب میں رہا اور چار سال سے مشاہدہ میں ہوں، لہٰذا احجاب کے زمانہ کی عمر زندگی نہیں تھی۔

شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے دعا کے اندر فرمایا: اَللّٰهُمَّ اَخْبِئِ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فِیْ خَبَایَاءِ غَیْبِكَ حَتّٰی تُعْبَدَ بِغَیْرِ وَاسِطَةٍ۔ "الٰہی! جنت و دوزخ کو اپنے غیب کے خزانوں میں پوشیدہ رکھ اور اس کی یاد مخلوق کے دل سے فراموش فرما، تا کہ تجھے اس کے لیے نہ پوجیں۔" چونکہ بہشت میں طبیعت کو فائدہ ہے۔ اس لیے آج کے روز بے یقین، یقین کے حکم سے، عقلمند اس کی امید پر عبادت کرتا ہے اور جب دل کو محبت سے نصیب نہیں تو ضرور مشاہدہ سے محجوب ہوتا ہے اور حضور ﷺ نے حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کو معراج سے خبر دی کہ میں نے نہیں دیکھا۔

اور ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے فرمایا کہ میں نے حق کو دیکھا ہے۔ تو مخلوق اسی اختلاف میں رہی۔ جنہوں نے غور اور تامل اختیار کیا وہ مطلب کو پہنچے۔ یعنی جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اس کو نہیں دیکھا وہ سر کی آنکھوں سے مراد نہیں ہے اور جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے وہ بچشمِ سر دیکھنا مراد ہے۔ اس لیے کہ ایک ان دونوں سے اہلِ ظاہر ہے اور ایک اہلِ باطن۔ ہر ایک سے اس کے حال کے موافق کلام فرمایا۔ تو جب حضور ﷺ نے بچشمِ سر دیکھنا ظاہر فرمایا تو اگر آنکھ کا واسطہ نہ ہوتا تو نقصان ہے۔

حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر خداوند فرمائے کہ مجھے دیکھ، میں کبھی نہ دیکھوں۔

۵۲۷

کیونکہ دوستی کے عالم میں آنکھ غیر اور بے گانہ ہوتی ہے اور غیر کی غیریت مجھے دیدار سے روکتی ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں بلا واسطہ چشمِ دوست کو دیکھتا ہوں تو میں کسی واسطہ کا کیا کروں۔

وَاِنِّیْ لَاَحْسُدُ نَاظِرِیْ عَلَیْكَا ۔ وَاَغْضُ طَرْفِیْ اِذَا نَظَرْتُ اِلَیْكَا

"بے شک میں تیری طرف دیکھنے میں حسد کرتا ہوں۔ تو آنکھ بند کر لیتا ہوں جب تیری طرف نظر کرتا ہوں۔"

حضرت جنیدؒ سے لوگوں نے پوچھا حضرت! آپ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں؟ فرمایا: نہیں چاہتا۔ عرض کیا گیا۔ کیوں۔ فرمایا موسیٰ علیہ السلام نے چاہا تو نہ دیکھ سکے اور ہمارے حضور اعظم ﷺ نے نہ چاہا تو دیکھ لیا۔ اس لیے کہ ہماری خواہش ہی دیدارِ حق کے لیے حجابِ اعظم ہے۔ اور جب دنیا میں ارادت کامل ہو جائے تو مشاہدہ حاصل ہو جاتا ہے اور جب مشاہدہ ہو جائے تو دنیا و عقبیٰ یکساں ہے۔

حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اِنَّ لِلّٰهِ عِبَادًا لَوْ حُجِبُوْا عَنِ اللّٰهِ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ لَا رَتَدُّوْا۔ "اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں کہ اگر ایک پل دنیا و عقبیٰ میں اس کے جمال سے محجوب ہوں تو وہ اپنے کو مرتد سمجھیں۔" یعنی ان کی زندگی ہی مشاہدہ میں ہے اور محبت کی حیات ہی مشاہدہ سے ہے۔ اور جب اہلِ مکاشفہ حجاب میں آ جائیں تو انہی کو مرتد فی الطریق سمجھتے ہیں۔

حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں مصر جا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ ایک نوجوان کو پتھر مار رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا وجہ ہے جو اسے پتھر مارے جا رہے ہیں۔ لوگوں نے کہا یہ دیوانہ ہے۔ میں نے کہا اس پر جنون کی علامت کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہتا ہے میں خدا کو دیکھتا ہوں۔

میں نے اس سے پوچھا کہ فی الواقع تو ایسا کہتا ہے یا تجھ پر لوگ اتہام رکھتے ہیں۔ اس نے کہا لوگ ٹھیک کہتے ہیں، میں خدا کو دیکھتا ہوں اور اگر میں ایک لحظہ جمالِ حق نہ دیکھوں تو محجوب ہو جاتا ہوں اور پھر طاعت بھی بیکار ہوتی ہے۔ لیکن اس شہر کے لوگ غلطی پر ہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ دلوں کا دیکھنا اور مشاہدہ میں رہنا ایک ہی صورت میں ہے۔ حالانکہ دل میں اس کا وہم یا ذکر یا فکر یہ محض تسمیہ ہے اور گمراہی اسی کو کہتے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کسی اندازہ میں نہیں آ سکتا اور اس

۵۲۸

کا وہم رکھنا بھی ایک اندازہ ہے اور وہ عقل اور وہم و گمان سے بالا ہے۔ اور جتنا وہ وہم میں آتا ہے یہ بھی وہم کی جنس ہے۔ اور اگر وہ معقول ہو تو عقل کی جنس سے ہے اور اللہ تعالیٰ جنسوں کا ہم جنس نہیں۔

"گویا ان آنکھوں سے دیکھنے میں دریغ اس لیے ہے کہ آنکھ بیگانہ ہوتی ہے۔"

اسی طرح لطیفے اور مکاشفے سب ایک دوسرے کی جنس ہیں اور ضد کی حالت میں بھی ایک دوسرے کی جنس ہوتے ہیں۔

اس لیے کہ توحید کی تحقیق میں جنسِ قدیم کے مقابلہ میں ضد جنس ہوتی ہے اور ضدین حادث نہیں اور حادث خود حادث تو اللہ تعالیٰ ازلی ابدی قدیم کو اس سے کیا واسطہ۔ تَعَالَی اللّٰهُ عَنْ ذٰلِكَ وَعَمَّا یَصِفُهُ الْمُلَاحِدَةُ عُلُوًّا كَبِیْرًا۔ تو دنیا میں مشاہدہ عاقبت کے دیدار کی مانند ہے۔ اور جب بالاتفاق مشائخ عاقبت میں دیدار روا ہے تو دنیا میں مشاہدہ بھی روا ہے۔ تو جو دنیا میں مشاہدہ ہونے کی خبر دیتا ہے اور جو عاقبت میں دیدار کی خبر دیتا ہے۔ دونوں میں کیا فرق ہے۔ اگر ان دونوں معنوں میں جواز کی خبر دے اور کہے کہ دیدار اور مشاہدہ جائز ہے اور یہ نہ کہے کہ مجھے دیدار ہوا ہے، تو کیا خلاف ہے۔

اس لیے کہ مشاہدہ صفتِ سر ہے اور خبر دینا سر سے خود خبر ہے۔ اور وہ مشاہدہ نہیں بلکہ ایک دعویٰ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جس خبر کی حقیقت عقل میں نہ آئے، زبان اس کا بیان کیسے کر سکتی ہے۔ سوائے اس کے کہ معنیِ مجاز میں کہا جائے۔ لِاَنَّ الْمُشَاهَدَةَ قُصُوْرُ اللِّسَانِ بِحُضُوْرِ الْجَنَانِ۔ تو اس حال میں خاموش رہنا بولنے سے زیادہ بہتر ہے اور خاموش رہنا مشاہدہ کی علامت ہے اور گفتگو شہادت کا نشان اور ظاہر ہے کہ کسی چیز کی شہادت دینا اور اس چیز کا مشاہدہ کرنا اس میں بڑا فرق ہے۔ حضور ﷺ نے مقامِ اعلیٰ اور درجۂ قرب میں حق تعالیٰ کے لیے فرمایا۔ وہ "لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْكَ" تھا یعنی میں تیری ثناء کا احصاء نہیں کر سکتا۔ اس لیے وہ بحالتِ مشاہدہ تھی اور دوستی کے درجہ میں مشاہدہ کمال یگانگت ہے اور یگانگی میں بیان کرنا بیگانگی ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ اَنْتَ كَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِكَ۔ "تو وہ ذات ہے جیسا تو نے اپنی شان میں فرمایا۔" تو آپ کا کہنا میرا کہنا ہو گیا اور تیری ثناء میری طرف سے تیری ہی طرف سے ہے۔ اس لیے کہ میں اپنی زبان کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ تیرے کمال کا بیان کرے۔ اور بیان کو اس لائق نہیں جانتا کہ تیرا بیان کرے۔ اس پر کسی شاعر نے خوب کہا ہے

۱۔ اس حدیث پاک کا تفصیلی ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔

۵۲۹

تَمَنَّیْتُ مِنْ اَهْوٰی فَلَمَّا رَاَیْتُهٗ ۔ بُهِتُّ فَلَمْ اَمْلِكْ لِسَانًا وَّلَاطَرْفًا

"آرزو کی میں نے اس کی جسے میں دوست رکھتا ہوں۔ تو جب میں نے اسے دیکھا تو مبہوت ہو گیا اور زبان و اعضاء پر اپنے اختیار ہی نہ رہا۔"

یہ تمام مشاہدے کے احکام ہیں جو بطورِ اختصار بیان ہوئے۔

کشفِ حجابِ نہم: صحبت اور اس کے آداب و احکام

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِیْكُمْ نَارًا﴾ (اَیْ اَدِّبُوْهُمْ) "اے ایمان والو! اپنی جان اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ" یعنی انہیں ادب سکھاؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حُسْنُ الْاَدَبِ مِنَ الْاِیْمَانِ "ادب شائستہ ہونا ایمان سے ہے۔" اور فرمایا: اَدَّبَنِیْ رَبِّیْ فَاَحْسَنَ تَاْدِیْبِیْ۔ "میرے ربّ نے مجھے ادب سکھایا اور خوب تادیب فرمائی۔"

۵۳۰

یہ جاننا ضروری ہے کہ دین اور دنیا کے سب کاموں کی زیب و زینت ادب سے ہے اور مخلوقات کے ہر مقام پر ادب کی ضرورت ہے۔ اس اصول میں کافر، مسلمان، ملحد، سنی، بدعتی سب متفق ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ کاروبار میں ادب کی خوبی ہی لازمی ہے اور دنیا میں کوئی رسم بغیر ادب مقبول نہیں۔ لوگوں میں ادب ہی حفظِ مراتب کا ضامن ہے اور دین میں حفظِ سنت اور عزت باہم دست بگریبان ہیں۔ اس لیے کہ جس میں مروت اور ادب نہیں اس میں متابعتِ سنت نہیں ہو سکتی اور جس میں متابعتِ سنت نہ ہوگی وہ رعایتِ عزت نہیں کر سکتا اور کاروبار میں حفظِ ادب اور تعظیم اسی کی بدولت ہوتا ہے۔ جب دل میں ادب قرار پذیر نہ ہو تو انسان ادب کی بہبود و سود سے محروم رہتا ہے اور تعظیمِ حق اور شفا، انقاء سے ہوتی ہے۔ جو شخص بلا لحاظِ تعظیم شواہدِ حق زبان پر لائے اسے طریقتِ صوفیاء میں سے کچھ حصہ نہیں ملتا اور سکر و غالبہ کسی حالت میں طالب کو حفظِ ادب سے منع نہیں کرتا۔ اس لیے کہ یہ لوگ عادت پذیرِ ادب ہوتے ہیں اور عادت طبیعت کا قرینہ ہوتی ہے اور امورِ طبعی کا ساقط ہونا کسی حیوان سے بھی کسی حال میں مقصود نہیں ہوتا، کیونکہ جب تک زندگی قائم ہے اس کا سقوط ہونا محال ہے اسی طرح جب تک شخصیتِ انسان قائم ہے۔ ہر حالت میں آدابِ متابعت اس پر جاری ہیں خواہ تکلف سے ہوں یا بلا تکلف۔ جب انسان پر صحو یعنی ہوش کی حالت ہوتی ہے تو وہ تکلف سے حفظِ ادب کرتا ہے اور جب سکر کی حالت ہوتی ہے تو من جانب اللہ ان میں ادب ملحوظ رہتا ہے اور تارکِ ادب کسی صورت میں ولی نہیں ہو سکتا۔ "لِاَنَّ الْمَوَدَّةَ عِنْدَ الْاٰدَابِ وَ

۵۳۱

حُسْنُ الْاَدَبِ صِفَةُ الْاَحْبَابِ۔ "اس لیے کہ رابطۂ مودت ادب کے ساتھ ہے اور حسنِ ادب محبوں کی صفت ہے۔" جسے اللہ تعالیٰ کرامت عطا فرماتا ہے اس کی علامت یہی ہے کہ وہ آدابِ دین ملحوظ رکھتا ہے۔ جو ملحدین لَعَنَهُمُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ اَجْمَعِیْنَ کے ساتھ ہے وہ بیشک اس کے خلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بندہ محبت میں مغلوب ہوتا ہے تو متابعت کا حکم اس سے ساقط ہو جاتا ہے اور اس مسئلہ کو دوسری جگہ بیان کیا جائے گا۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی

اب یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آداب تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک توحید میں جو جنابِ حق تعالیٰ سے ہے۔ وہ یہ ہے کہ ظاہر و باطن اپنے آپ کو بے ادبی سے محفوظ رکھے اور اس طرح رہے جیسے دربارِ شاہی میں رہا کرتے ہیں اور صحیح حدیث میں ہے کہ ایک روز حضور ﷺ چار زانو تشریف فرماتے تھے کہ روح الامین حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یَا مُحَمَّدُ اِجْلِسْ جِلْسَةَ الْعَبْدِ۔ "حضور! نشست میں بندوں کی نشست پر تشریف رکھیں۔"

حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق مروی ہے کہ آپ نے چالیس سال دیوار سے تکیہ نہ لگایا اور آپ ہمیشہ دو زانو بیٹھتے تھے۔ لوگوں نے آپ سے اس کی وجہ پوچھی۔ آپ نے فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ بحضورِ حق کے مشاہدہ میں بندوں کی طرح نہ بیٹھوں۔

اور میں علی بن عثمان جلابی ہوں۔ میں خراسان کے ایک قصبہ پہنچا جسے "مکند" کہتے ہیں۔ وہاں ایک بزرگ تھے جنہیں ادیب مکندی کہتے تھے۔ یہ وہاں کے مشہور بزرگ تھے۔ بیس سال برابر قیام میں رہے۔ سوائے تشہد کے نماز میں کبھی نہ بیٹھے۔ ان سے میں نے اس کا سبب پوچھا۔ فرمایا: ابھی میرا وہ درجہ نہیں کہ حضورِ حق کا مشاہدہ بیٹھ کر کروں۔

اور حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا: بِمَ وَجَدْتَ مَا وَجَدْتَ "آپ نے جو کچھ پایا کس طرح پایا؟" فرمایا: بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ مَعَ اللّٰهِ تَعَالٰی عَزَّ وَجَلَّ "حق تعالیٰ کی خدمت میں بادب رہنے سے۔" میں ظاہر باطن میں یکساں رہا۔ آدمی کو چاہیے کہ اپنے معبود کے حضور میں رہنے کا حسنِ ادب زلیخا سے سیکھیں کہ جب وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی خلوت میں جا کر اپنی آرزو کی خواستگار ہوئی تو پہلے اپنے بت کو پردہ سے چھپایا۔ یوسف علیہ السلام نے پوچھا کہ یہ پردہ کیوں ڈال رہی ہے۔ زلیخا بولی: اپنے معبود سے اپنے کو چھپاتی ہوں تا کہ وہ مجھے تیرے ساتھ ایسی حالت میں نہ دیکھے کیونکہ اس کے آگے ایسا کام شرطِ ادب کے خلاف ہے۔

اور جب یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام سے ملایا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دولتِ وصل سے سرفراز فرمایا اور زلیخا کو پھر شباب بخشا اور وہ مشرف بااسلام ہوئی اور حضرت

۵۳۲

یوسف علیہ السلام کے نکاح میں آئی تو یوسف علیہ السلام نے ان کی طرف ارادہ فرمایا تو زلیخا آپ سے بھاگتی تھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: زلیخا! میں تیرا وہی محبوب ہوں، مجھ سے دور کیوں بھاگتی ہے۔ شاید میری دوستی تیرے دل میں نہیں رہی۔ زلیخا بولی نہیں قسم بخدا! دوستی قائم ہے بلکہ پہلے سے زیادہ ہے لیکن مجھے اپنے معبودِ حقیقی کا پاس ادب ہے، جس دن میں نے آپ کی طرف خلوت چاہی تھی وہاں ایک بت معبود تھا جو تم نے نہیں دیکھا۔ اس لیے کہ اس کی دونوں آنکھیں اندھی تھیں۔ میں نے اس پر پردہ ڈالا تا کہ بے ادبی نہ ہو۔ اب جبکہ میرا معبود دانا و بینا ہے، بلا بصر بصیر ہے اور بلا آلہ سب کچھ جانتا ہے، میں جس حال میں بھی ہوں وہ مجھے دیکھتا ہے اس لیے میں تارکِ ادب ہونا نہیں چاہتی۔

اور جب رسول اکرم ﷺ کو معراج میں لے گئے تو انہوں نے اپنے پاس ادب سے دونوں جہاں کی طرف نگاہ نہ فرمائی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی﴾ "یعنی دنیا دیکھنے کے لیے آنکھ مائل نہ ہوئی اور نہ حد سے متجاوز ہوئے۔"

دوسری قسم ادب باہمی کاروبار میں ہے کہ سب حالات میں اپنے نفس سے مروت کی رعایت کرے تا کہ خلقت میں ہو یا حضورِ حق، بندہ قطعی بے ادب نہ ہو۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ سوایچ کے نہ بولے۔ حتیٰ کہ جو کچھ اپنے حق میں خلاف جانے وہ زبان پر نہ لائے کیونکہ اس میں بے مروّتی ہوتی ہے۔ دوسرے کم کھائے تا کہ قضائے حاجت میں جانے کی ضرورت نہ ہو۔ تیسرے یہ کہ اپنے اس عضو کو نہ دیکھے جو غیر کو دیکھنا ناجائز ہو۔

کیونکہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنی شرم گاہ کو کبھی نہ دیکھا۔ لوگوں نے اس کا سبب پوچھا۔ فرمایا اپنی اس چیز کو دیکھنے سے میں شرم کرتا ہوں جس کی جنس کا نہ دیکھنا حرام ہو۔ دوسرا آدابِ صحبتِ خلق میں یہ بہترین چیز ہے کہ سفر و حضر میں خلق کے ساتھ خوبی معاملہ سے سلوک کیا جائے اور ہر سہ اقسامِ ادب ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔

اب میں اپنے مقدور کے مطابق انہیں باترتیب بیان کرتا ہوں تا کہ تم پر اور لوگوں پر آسان ہو۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ

صفحہ ۵۳۳

بیسواں باب

صحبت اور متعلقاتِ صحبت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴾ (اَیْ بِحُسْنِ رِعَایَتِهِمُ الْاِخْوَانَ)

"یعنی جو ایمان لائے اور عملِ صالح کیے تو کر دیتا ہے ان کے لیے اللہ تعالیٰ ان کا چاہنے والا" یعنی ان کے حسنِ رعایت کے صلہ میں لوگوں کو ان کا بھائی بنا دیتا ہے۔

اس لیے وہ دلوں کو خوش کرتے اور بھائیوں کے حق ادا کرتے ہیں اور انہیں اپنے اوپر فضیلت دیتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا

ثَلَاثٌ یُصَفِّیْنَ لَكَ وُدَّ اَخِیْكَ اَنْ تُسَلِّمَ عَلَیْهِ اِنْ لَقِیْتَهٗ وَتُوَسِّعَ لَهٗ فِی الْمَجْلِسِ وَتَدْعُوَهٗ بِاَحَبِّ اَسْمَائِهٖ۔

"تین چیزیں تیرے دوست کی محبت کو تیرے لیے خالص بناتی ہیں، یہ کہ سلام کرے اس پر جب تجھے ملے۔ دوسرے یہ کہ مجلس میں اس کے لیے فراخی دے۔ تیسرے یہ کہ اُسے ایسے نام سے پکارے جو اسے پسندیدہ ہو۔"

اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ﴾ "یعنی مومن تو مومنوں کے بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں میں صلح رکھو اور دونوں آپس میں مہر و عنایت سے پیش آؤ" تا کہ ایک دوسرے کا دل آرزومند نہ ہو۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَكْثِرُوْا مِنَ الْاِخْوَانِ فَاِنَّ رَبَّكُمْ حَیٌّ كَرِیْمٌ یَسْتَحْیِیْ اَنْ یُّعَذِّبَ عَبْدَهٗ بَیْنَ اِخْوَانِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ "بھائی زیادہ بناؤ اور حفظِ ادب اور معاملت سے اچھی طرح پیش آؤ کہ اللہ تعالیٰ حی و کریم ہے اور حیاء کرم سے اپنے بندہ کو اس کے

۱۔ مریم: ۹۶ ۲۔ الحجرات: ۱۰

۳۔ مذکورہ الفاظ تو نہیں ملے لیکن الفوائد المجموعہ للشوکانی میں یہ مذکور ہیں: اَكْثِرُوْا مِنَ الْاَصْدِقَاءِ فَاِنَّكُمْ شُفَعَاءُ لِبَعْضِكُمْ فِیْ بَعْضٍ۔

۵۳۴

بھائی اور برادری میں بروزِ قیامت عذاب نہیں کرنا چاہتا۔" لیکن ہمیں یہ چاہیے کہ محبت و صحبت اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، نہ ہوائے نفس اور کسی دنیاوی غرض کے لیے، تا کہ بندہ اس کے حفظِ ادب سے مشکور ہو جائے۔

اور حضرت مالک بن دینار رضی اللہ عنہ نے اپنے داماد مغیرہ بن شعبہ کو کہا: یَا مُغِیْرَةُ كُلُّ اَخٍ وَّصَاحِبٍ لَّمْ تَسْتَفِدْ مِنْهُ فِیْ دِیْنِكَ خَیْرًا فَانْبِذْ عَنْكَ صُحْبَتَهٗ حَتّٰی تَسْلَمَ۔ "اے مغیرہ! جس بھائی اور یار سے تجھے اس کی صحبت میں فائدۂ اخروی نہ ہو اس کے پاس نہ بیٹھ ایسے شخص کی صحبت تجھ پر حرام ہے۔" اس کا یہ مطلب ہے کہ یا تو اپنے سے اچھے کے پاس بیٹھ یا اپنے سے ادنیٰ کے پاس۔ کیونکہ اگر تو اپنے سے اچھے کے پاس بیٹھے گا تو تجھے اس سے دین کا فائدہ ہوگا اور اگر اپنے سے ادنیٰ کے پاس بیٹھے گا تو اسے تجھ سے دین کا فائدہ ہوگا۔

کیونکہ جب وہ تجھ سے کچھ سیکھے گا تو دینی فائدہ ہوگا اور اگر تو اس سے کچھ سیکھے گا تو تجھے دینی فائدہ پہنچے گا۔ اس بناء پر حضور ﷺ نے فرمایا۔ اِنَّ مِنْ تَمَامِ التَّقْوٰی تَعْلِیْمُ مَنْ لَّمْ یَعْلَمْ: "کمالِ پرہیز گاری یہ ہے کہ جو جاہل ہو اسے تعلیم دے۔"

اور یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا

بِئْسَ الصَّدِیْقُ صَدِیْقٌ تَحْتَاجُ اَنْ تَقُوْلَ لَهٗ اُذْكُرْ لِیْ فِیْ دُعَائِكَ وَبِئْسَ الصَّدِیْقُ صَدِیْقٌ تَحْتَاجُ اَنْ تَعِیْشَ مَعَهٗ بِالْمُدَارَاةِ وَبِئْسَ الصَّدِیْقُ صَدِیْقٌ یُلْجِئُكَ اِلَی الْاِعْتِذَارِ فِیْ زَلَّةٍ كَانَتْ مِنْكَ۔

"وہ دوست بہت بُرا ہے جس کا دوست، دوست سے اس امر کی احتیاج کرے کہ اس سے کہا جائے کہ اپنی دعا میں مجھے یاد رکھنا اس لیے کہ ایک ساعت کا حقِ محبت ہمیشہ یار کی دعا کا مقتضی ہے اور وہ دوست بہت برا دوست ہے جو زندگی میں ایسا رہے کہ اس کے ساتھ خوشامد ہو۔ اس لیے کہ صحبت کا سرمایہ خوشی ہے اور وہ دوست بہت برا ہے جس سے گناہ پر اعتذار کرنا پڑے اور اپنی ذلت اس کے آگے ظاہر ہو۔" اس لیے کہ عذر بیگانگی میں ہوتا ہے اور صحبت میں بیگانگی بری ہوتی ہے۔

اور حضور ﷺ نے فرمایا

اَلْمَرْءُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِهٖ فَلْیَنْظُرْ اَحَدُكُمْ مَنْ یُّخَالِلُ۔

"یعنی انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے تو دیکھنا چاہیے تمہیں کہ کون کس سے محبت رکھتا ہے۔"

۵۳۵

اگر نیکیوں سے اس کی محبت ہے تو وہ اگرچہ براہو مگر نیک ہے اس لیے کہ وہ صحبت اسے نیک کر دے گی اور اگر بروں کی صحبت میں رہتا ہے تو اگرچہ نیک ہو مگر برا ہے اس لیے کہ بری صحبت اُسے بُرا بنا دے گی۔

اور حکایتوں میں ہے کہ ایک مرد کعبہ کے طواف میں کہہ رہا تھا: اَللّٰهُمَّ اَصْلِحْ اِخْوَانِیْ فَقِیْلَ لَهٗ لِمَ لَا تَدْعُ لَكَ فِیْ هٰذَا الْمَقَامِ۔ "الٰہی! میرے بھائیوں کو صالح کر دے۔" اسے لوگوں نے کہا: اس مقام پر تو اپنے لیے دعا کیوں نہیں کرتا بلکہ بھائیوں کے لیے دعا کرتا ہے۔ اس نے جواب دیا: اِنَّ لِیْ اِخْوَانًا اَرْجِعُ اِلَیْهِمْ فَاِنْ صَلَحُوْا اَصْلَحْتُ مَعَهُمْ وَاِنْ فَسَدُوْا فَسَدْتُ مَعَهُمْ۔ "اے بھائی! جب ان میں جاؤں گا اگر وہ صالح ملے تو میں بھی ان کی صالحیت سے صالح ہوں گا اور اگر وہ فسادی رہے تو میں بھی ان کے فساد سے مفسد ہو جاؤں گا۔" جب صحبتِ صالحاں میرا قاعدہ ہے تو میں بھی ان کی صحبت سے صلاحیت اختیار کر لوں گا۔ اس لیے اپنے بھائیوں کے لیے دعا کرتا ہوں تا کہ ان کے ذریعہ میرا مقصد حاصل ہو جائے اور اس کی اصل یہ ہے کہ نفس کو سکون یادوں سے حاصل ہوتا ہے اور انسان جس گروہ میں رہے گا، اس کی عادت و خصلت اختیار کرے گا۔ اس لیے کہ عمل و ارادہ محبت سے پیدا ہوتا ہے جیسے عمل والے کی محبت ملے گی وہی عادت اس میں پرورش ہوگی اس لیے کہ محبت کا اثر طبیعت پر خاص اثر رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ صحبتِ عالم سے ایک جاہل عالم ہو جاتا ہے۔ طوطے کو دیکھو کہ آدمی کی صحبت اور تعلیم سے انسانوں کی زبان بولنے لگتا ہے۔

مشائخ صوفیاء رحمہم اللہ اسی وجہ میں پہلے صحبت و مصاحبت کرتے ہیں، پھر مرید کو تعلیم دیتے ہیں۔ اس پر مشائخ صوفیاء نے مبحثِ صحبت میں بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں اور صحبت کی بحث کو واضح فرمایا ہے۔

حضرت جنید رضی اللہ عنہ نے "تَصْحِیْحُ الْاِرَادَةِ" کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ احمد بن خضرویہ نے "اَلرِّعَایَةُ بِحُقُوْقِ اللّٰهِ" کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ محمد بن علی ترمذی کی ایک کتاب "آداب المریدین" ہے۔

ابو القاسم الحکیم اور ابو بکر وراق اور سہل بن عبد اللہ اور ابو عبد الرحمٰن سلمی اور استاذ ابو القاسم قشیری رحمہم اللہ سب نے اس بحث میں کتابیں تصنیف کی ہیں اور یہ لوگ اس فن میں امام ہوئے ہیں۔ اس کتاب میں میرا مقصد یہ ہے کہ جس کے پاس یہ کتاب ہو اسے دوسری کتابوں کی حاجت نہ رہے۔ جیسا کہ میں اس کتاب کے مقدمہ اور تیسرے سوال کے جواب میں کہہ چکا ہوں۔ بہر حال یہ کتاب طالبِ طریقت کو کافی ہے۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ

صفحہ ۵۳۶

اکیسواں باب

آدابِ صحبت

جب تو نے یہ سمجھ لیا کہ مرید کے لیے سب سے بہترین چیز صحبت ہے تو لازمی طور پر آدابِ صحبت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ بلا صحبت مرید کا تنہا رہنا اسے ہلاک کر دیتا ہے۔ پیغمبرِ اعظم سید اکرم ﷺ نے فرمایا: اَلشَّیْطَانُ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الْاِثْنَیْنِ اَبْعَدُ "شیطان تنہا کے ساتھ ہوتا ہے اور دو آدمی جہاں ہوں، ان سے شیطان دور رہتا ہے۔"

اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے

﴿مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ﴾

"نہیں ہوتے تین رازدار مگر چوتھا ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔"

تو مرید کے لیے تنہا رہنے سے بڑی آفت کوئی نہیں۔

ایک حکایت ہے کہ جنید رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مرید کو خیال آیا کہ میں مرتبۂ کمال کو پہنچ گیا ہوں اور اب مجھے صحبت کی بہ نسبت تنہا رہنا اچھا ہے۔ چنانچہ وہ گوشہ نشین ہو گیا اور صحبت ترک کر دی۔ جب رات ہوئی تو کوئی جماعت آئی اور اونٹ لائی اور اس صوفی کو کہا: تجھے بہشت میں جانا

۵۳۷

چاہیے۔ یہ اس بشارت پر فوراً اونٹ پر سوار ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں یہ ایسے مقام پر پہنچا جہاں باغ و بہار تھا اور خوبصورت لوگوں کا گروہ تھا اور عمدہ عمدہ لذیذ و نفیس کھانے اور بہتی نہریں۔ شب بھر یہ وہاں رہا۔ صبح جو ہوئی تو اپنے آپ کو اسی عبادت خانہ میں پایا جہاں تھا۔ چند روز ایسا ہوتا رہا حتیٰ کہ اس میں رعونتِ بشری سرایت کر گئی اور غرورِ جوانی غالب آیا۔ آخرش اس نے لوگوں پر اپنی کیفیت ظاہر کرنی شروع کر دی اور دعویٰ ولایت کرنے لگا۔

یہ خبر لوگوں نے حضرت جنید رضی اللہ عنہ کو پہنچائی۔ آپ اس کے حجرۂ عبادت پر تشریف لائے اور اس سے دریافتِ حال کیا۔ اس نے سب کیفیت عرض کی۔ آپ نے فرمایا آج رات جب تو یہ حال دیکھے تو لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ تین بار پڑھ لینا۔ مختصر یہ کہ جب شام ہوئی اور اس نے حسبِ معمول لے کر چلے تو اس کے دل میں حضرت جنیدؒ کی تعلیم سے بدگمانی ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد تجربہ کے خیال سے اس نے تین بار لاحول پڑھا تو وہ گروہ شور کرتا ہوا غائب ہو گیا اور اس نے اپنے آپ کو مزبلہ پر پایا جہاں گندگی اور جھوٹی ہڈیوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ تو یہ اپنی غلطی سے واقف ہوا اور تنہا بیٹھنے سے تائب ہوا اور صحبتِ اولیاء میں حاضری دینے لگا۔

بہر حال یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مرید کو تنہائی کی آفت سے زیادہ کوئی آفت نہیں اور صحبتِ مشائخ کی یہ بھی شرط ہے کہ جن کے پاس بیٹھے انھیں ان کے درجہ کے مطابق پہچانے۔ بوڑھوں سے بااداب رہے اور ہم جنسوں سے معاشرت میں عشرت بسر کرے۔ بچوں سے شفقت کے ساتھ زندگی بسر کرے۔ بلکہ معمر لوگوں کو باپ کی جگہ اور ہم عمروں کو بھائی کے برابر، بچوں کو اولاد کی جگہ جانے۔ ہر گناہ سے اجتناب کرے، حسد سے بچتا رہے، عداوت سے روگردانی کرے اور نصیحت کرنے میں دریغ نہ کرے۔ مجلس میں دوسرے کی غیبت کرنا اور خیانت کرنا ایک دوسرے کی عقل اور فعل پر حرف زنی کرنا بھی آدابِ صحبت میں ممنوع ہے۔

اس لیے کہ جب ابتداء میں صحبتِ حق تعالیٰ کے لیے ہو تو کسی قسم کا قول و فعل نا ملائم کسی بندے کے ساتھ نہیں کرنا چاہیے اور مصنفِ کتاب رحمۃ اللہ علیہ کہتا ہے کہ شیخ المشائخ ابو القاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے پوچھا کہ شرطِ صحبت کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ تجھے صحبت میں اپنی حفاظت کرنی چاہیے کیونکہ اس میں ہر قسم کی آفات موجود ہیں۔ اس لیے کہ ہر ایک اپنے مطلب کا خواہاں ہوتا ہے اور آسائش طلب کو صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔ جب بندہ اپنا حظ ترک کرے گا تو اپنے مصائب کے حظ کی رعایت کرے گا اور اس صحبت سے فائدہ لے گا۔

ایک درویش فرماتے ہیں کہ ایک وقت میں نے کوفہ سے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ کیا۔

یہ کتاب کشف المحجوب (تصنیف: حضرت علی بن عثمان ہجویری معروف بہ داتا گنج بخشؒ) کا متن ہے

۵۳۸

…تھا۔ آپ (ابراہیم خواص) کی صحبت میں رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ فرمانبرداری چاہے، تو کیا چاہتا ہے؟ میں خواستگار ہوا۔ آپ نے صحبت کے لیے امیری اور ماموری کا اختیار دیا۔ آپ نے فرمایا: "میرا فرمانبردار ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا تو فرمانبردار نہ ہوا"۔ میں نے عرض کیا: "آپ امیر ہوں اور میں آپ کے حکم سے باہر نہ آؤں گا"۔ میں نے تسلیم کر لیا۔

جب ہم اپنی منزل پر پہنچے تو انہوں نے مجھے حکم دیا: "بیٹھ جاؤ"۔ میں بیٹھ گیا۔ انہوں نے مجھ سے خدمت کی اور جب میں نے چاہا کہ کنویں سے پانی نکالوں جو نہایت سرد تھا، آپ نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی۔ میں چاہتا کہ یہ کام میں کروں تو فرماتے: "بیٹھ جاؤ"۔ میں بیٹھ جاتا اور شرم سے صبح تک شام ہوتی۔ اتفاق سے سخت بارش ہوئی۔ آپ نے گدڑی مجھ پر ڈال دی اور خود کھڑے رہے تاآنکہ صبح ہوئی، اور میرے پاس کھڑے رہے۔ مجھے شرم آئی، مگر شرطِ صحبت کے تحت خاموش رہا۔

پھر میں نے عرض کی: "اے شیخ! میں امیر بنتا ہوں"۔ ابراہیم خواص نے فرمایا: "اچھا"۔ جب ہم دوسری منزل پر پہنچے تو حضرت نے وہی خدمات اپنے ذمہ لیں۔ میں نے عرض کیا: "حضرت! میں امیر ہوں، میرا حکم مانیں"۔ آپ نے فرمایا: "وہ نافرمان نہیں ہوتا جو امیر کو اچھی خدمت کی اجازت دے"۔

نتیجہ یہ ہوا کہ شرم کی وجہ سے میں حضرت کے پاس سے بھاگ کر دو درویشوں کے ساتھ الرملہ آ گیا۔ مسجد میں حضرت نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: "بیٹا! اس غلام سے جس سے تم نے مصاحبت کی تھی، کچھ یاد نہیں رکھا جو میں نے تیرے ساتھ کیا؟"

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے

"فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ وَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ لِمَ لَمْ تَفْعَلْ كَذَا"

"حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں میں نے دس سال گزارے۔ خدا کی قسم! آپ نے کبھی مجھے اف تک نہ فرمایا، اور جو کام میں نے کیا اس پر یہ نہ فرمایا کہ یہ کیوں کیا، اور نہ اس پر جو میں نے نہیں کیا کہ فلاں کام کیوں نہیں کیا"۔

(اسے امام بخاری نے اپنی صحیح [کتاب الفضائل: باب کان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احسن الناس خلقا] میں، امام مسلم نے اپنی جامع [باب ما جاء فی خلق النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم] میں، اور الشمائل المحمدیہ [حدیث 329: باب تواضع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم] میں روایت کیا ہے)۔

۵۳۹

اور مقیم خدمت حق میں بیٹھتے ہیں۔ اس لیے کہ مسافروں میں طلب کا نشان ہوتا ہے اور مقیموں میں حصول کا اشارہ ہے۔ تو جس نے پا لیا وہ بیٹھ کر مقیم ہو گیا۔ یہ اس سے افضل ہے جو ابھی طلب میں ہے اور مسافر ہے، اور مقیم کو چاہیے کہ مسافر کو اپنے سے اچھا جانے۔ اس لیے کہ یہ صاحبِ تعلق ہیں اور مسافر تعلق سے مبرا، اور مقیم ایک طرف قائم ہیں اور مسافر طلب میں ہیں۔ مقیم اپنے موقف میں ہیں، اس اعتبار سے انہیں چاہیے کہ بوڑھے جوانوں کو بہتر سمجھیں۔ اس لیے کہ یہ دنیا میں تھوڑی دیر رہنے والے ہیں اور ان کے گناہ کم ہیں، اور جوانوں کو چاہیے کہ بوڑھوں کو افضل جانیں۔ اس لیے کہ یہ عبادت میں پیشرو ہیں اور خدمت میں مقدم۔ جب ہمارے بیان کے مطابق دونوں رہیں تو ایک دوسرے سے نجات پائیں گے ورنہ ہلاک ہو جائیں گے۔

اصل آداب کی اجتماع خصائلِ خیر ہے اور اسی وجہ سے ادب دہندہ کو ادیب کہتے ہیں۔ اس لیے کہ اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے وہ بہتر ہوتا ہے: فَالَّذِي اجْتَمَعَ فِيهِ خِصَالُ الْخَيْرِ فَهُوَ أَدِيبٌ۔ ادیب تو وہ ہے جس میں یہ اچھی خصلتیں جمع ہوں، وہی ادیب ہے۔ اور علمی رواج میں جو علمِ لغت اور نحو جانتا ہے اس کو ادیب کہتے ہیں۔

اور گروہِ صوفیاء کے نزدیک الْأَدَبُ هُوَ الْوُقُوفُ مَعَ الْحَسَنَاتِ وَمَعْنَاهُ أَنْ تُعَامِلَ اللهَ فِي الْآدَابِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَإِذَا كُنْتَ كَذَالِكَ كُنْتَ أَدِيبًا وَإِنْ كُنْتَ أَعْجَمِيًّا وَإِنْ لَمْ تَكُنْ كَذَالِكَ تَكُونُ عَلَى ضِدِّهِ۔ ادب نیکیوں پر قائم رہنا ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تمام معاملات ادب سے کرے، خفیہ ہو یا علانیہ؛ تو جب تو ایسا ہو جائے تو تو ادیب ہے اگرچہ تو عجمی ہو، اور اگر تو ایسا نہیں تو پھر اس کی ضد تجھ میں ہے۔ اس لیے کہ زبان کے معاملات میں کوئی قدر و قیمت نہیں اور ہر حال میں عالم عاقلوں سے زیادہ بزرگ ہیں۔

مشائخ رحمہم اللہ میں سے ایک کو لوگوں نے پوچھا کہ شرطِ ادب کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: "ایک جملہ میں تیرا جواب دیتا ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ ادب وہ ہے کہ جب تو بات کرے تو تیرا کلام صادق ہو، اگر معاملہ کرے تو معاملہ حق ہو، اور کلامِ صادق اگرچہ سخت ہو ملین ہوتا ہے اور معاملۂ نیک اگرچہ مشکل ہو خوب ہوتا ہے۔ تو جب تو بات کرے تو تیرا کلام سچ ہو اور جب خاموش رہے تو خاموشی حق پر ہو"۔

ابو نصر سراج، صاحب 'المع' اپنی کتاب 'بیانِ ادب' میں بہت وضاحت سے فرماتے ہیں

۵۴۰

"النَّاسُ فِي الْآدَابِ عَلَى ثَلَاثِ طَبَقَاتٍ: أَمَّا أَهْلُ الدُّنْيَا فَأَكْثَرُ آدَابِهِمْ فِي الْفَصَاحَةِ وَالْبَلَاغَةِ وَحِفْظِ الْعُلُومِ وَأَسْمَارِ الْمُلُوكِ وَأَشْعَارِ الْعَرَبِ، وَأَمَّا أَهْلُ الدِّينِ فَأَكْثَرُ آدَابِهِمْ فِي رِيَاضَةِ النَّفْسِ وَتَأْدِيبِ الْجَوَارِحِ وَحِفْظِ الْحُدُودِ وَتَرْكِ الشَّهَوَاتِ، وَأَمَّا أَهْلُ الْخُصُوصِيَّةِ فَأَكْثَرُ آدَابِهِمْ فِي طَهَارَةِ الْقَلْبِ وَمُرَاعَاةِ الْأَسْرَارِ وَالْوَفَاءِ بِالْعُهُودِ وَحِفْظِ الْوَقْتِ وَقِلَّةِ الِالْتِفَاتِ إِلَى الْخَوَاطِرِ وَحُسْنِ الْآدَابِ فِي مَوَاقِفِ الطَّلَبِ وَأَوْقَاتِ الْحُضُورِ وَمَقَامَاتِ الْقُرْبِ"

لوگ ادب میں تین قسم پر ہیں

اہلِ دنیا: ان کے نزدیک ادب فصاحت و بلاغت، حفظِ علوم، حکایاتِ ملوک اور اشعارِ عرب ہیں۔

اہلِ دین: ان کے نزدیک ادب نفس کی ریاضت، اعضاء کی تادیب، حدودِ الٰہی کی نگہداشت اور ترکِ شہوات ہے۔

اربابِ خصوصیت: ان کے نزدیک ادب دل کا پاک رکھنا، اسرار کی رعایت، ایفاءِ عہد، وقت کو محفوظ رکھنا، پراگندہ خیالات سے نظر روکنا، طلب میں نیک کام، مواقفِ دل میں نیک اور مقامِ قرب میں مودب رہنا اور حضوری کے موقع پر نیک عمل کرنا ہے۔ اور یہ جامع کلام ہے۔ اس کی تفصیل اس کتاب میں متفرق جگہ پر آئے گی۔

وَاللَّهُ وَلِيُّ التَّوْفِيقِ

۵۴۱

جب اختیار کرے، بدولن اور روی اقامت سفر۔ اس کے آداب یہ ہیں کہ جب کوئی مسافر آئے اور آگے کے مسافروں کے پاس جائے تو نہایت خندہ پیشانی سے ملے اور اسے باعزت بٹھائے، جیسا کہ ضیف علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے۔ اور وہی خشوع کرے جو ابراہیم علیہ السلام اپنے مہمانوں کے ساتھ کرتے تھے۔ جو کچھ حاضر ہو، بلا تکلف ان کے آگے پیش کرے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا: (فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ)۔

اور یہ نہ پوچھے کہ کہاں سے آئے ہو، کہاں جا رہے ہو، کیونکہ یہ خلافِ ادب ہے۔ ان کا آنا خدا کی طرف سے ہے اور ان کا جانا بھی خدا کی جانب۔ ان کا نام و نسب معلوم کرے۔ پھر اندازہ کرے کہ وہ خلوت میں راضی ہے یا جلوت میں۔ اگر وہ خلوت پسند ہو تو اس کے لیے ایک جگہ خالی کر دے۔ اگر وہ جلوت پسند ہو تو ویسا ہی اہتمام کرے تاکہ اسے انس و کثرت حاصل ہو اور تکلف نہ ہو۔

جب مسافر راہ پر قدم رکھے اور لیٹ جائے تو مقیم کو چاہیے کہ اس کے قدم پر ہاتھ رکھے۔ اگر وہ منع کرے اور کہہ دے کہ مجھے عادت نہیں تو اس پر اصرار نہ کرے۔

دوسرے روز حمام میں لے جائے تاکہ حمام میں صاف راہ ہو۔ اس کے کپڑے حمام میں خراب نہ ہوں اور اس کی خدمت ایسے خاداموں سے کرائے جو اس کی خدمت دلی سے کرنے والے ہوں تاکہ اس کے پاک اور صاف ہونے میں تمام آفتوں سے پاک ہو۔

میزبانی کو چاہیے کہ اپنے مہمان کی تواضع میں اس کی پشت، اس کے گھٹنوں، پاؤں، جوڑوں اور ہاتھوں کو ملے۔ اس سے زیادہ شرطِ ادب ہے۔ اور اگر اس کے لیے نیا کپڑا پہنائے تو مقدور ہو تو خدمت کرے، اور اگر نہ ہو تو طلب بھی نہ کرے اور وہی اس کے کپڑے دھو کر جب وہ حمام سے نکلے، پہنا دے۔

وہ مہمان اگر دو تین روز ٹھہرے اور اس شہر کے کسی بزرگ یا امامِ اسلام سے ملنا چاہے تو خوشی سے لے جائے، اور اگر وہ ملنا نہ چاہے تو اس پر اصرار و اجبار نہ کرے۔

۵۴۲

اس لیے کہ طالبانِ حق پر ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ اپنے دل کے اختیار میں نہیں رہتے۔ کیا تو نے دیکھا کہ ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ کو لوگوں نے پوچھا کہ اپنے سفر کے عجائبات سناؤ؟ آپ نے فرمایا: "خضر علیہ السلام نے مجھ سے مصاحبت چاہی، میں نے منظور نہ کی کیونکہ میرا دل نہیں مانا۔ اس لیے کہ ماسوائے حق تعالی کسی کی میرے دل میں قدر و عظمت نہ ہو"۔

لیکن یہ بھی نہ چاہے کہ مقیم آدمی مسافر کو کسی دنیا دار کے سلام کے لیے لے جائے یا ان کی مہمانی میں شریک کرے یا کسی دنیا دار کی بیمار پرسی کو لے جائے۔

جس مقیم کو مسافروں سے یہ طمع ہو کہ انہیں اپنی گدائی کا ذریعہ بنائے اور ایک گھر سے دوسرے گھر لے جائے، ایسے مقیم کو مسافروں کی خدمت نہ کرنی چاہیے، کیونکہ اس میں ان کی ذلت ہے۔ اور میں کہ علی بن عثمان جلابی ہوں، مجھے اپنے سفروں میں مشقت اور رنج سے زیادہ سخت یہ لگتا تھا کہ جاہل خادم اور ناپاک مقیم کبھی مجھے خواجہ کے گھر، کبھی کسی دہقان کے گھر لے جاتے اور میں باطن میں ان کے ساتھ کراہت سے جاتا اور بظاہر جوانمردی کرتا۔ اور جو بے طریقہ مقیم میرے ساتھ ایسا کرتا، میں دل میں عہد کرتا کہ جب میں مقیم ہوں گا تو اپنے مہمان کے ساتھ ایسا نہ کروں گا۔ اور بے ادبوں کی صحبت سے اس سے زیادہ فائدہ نہیں ہوتا کہ جو تجھے ناخوش معلوم ہو وہ تو نہ کرے۔

اور اگر کوئی درویش پاؤں پھیلائے تو چند روز اسے رکھ کر اس کی دنیاوی ضرورت فوراً رفع کر دے۔ اور اگر یہ مسافر بے ہمت ہو تو مقیم کو نہ چاہیے کہ محالاتِ ضروری میں بے ہمتی کرے اور اس کے تابع ہو جائے، کیونکہ یہ طریقہ آزادوں کا نہیں۔ جب ضرورت ہو تو بازار میں لین دین کو جانا چاہیے یا بادشاہوں کے حضور میں سپہ گری کو۔ اس کو آزادوں کی صحبت سے کیا کام!

روایت ہے کہ جنید رحمۃ اللہ علیہ اپنے اصحاب کے ساتھ ریاضت کے لیے بیٹھے تھے۔ ایک مسافر آیا۔ اس کی مہمانداری میں انہوں نے تکلف کیا اور کھانا لائے۔ اس نے کہا: "مجھے علاوہ اس کے فلاں چیز درکار ہے"۔ حضرت جنید نے فرمایا: "تجھے بازار میں جانا چاہیے، تو بازاری آدمی ہے، صاحبِ مسجد و حجرہ نہیں"۔

ایک دفعہ میں نے دمشق کے درویشوں کے ساتھ ابن المعلا کی زیارت کے لیے جانے کا قصد کیا۔ یہ رملہ کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ راستے میں ہم نے آپس میں باتیں کیں کہ کچھ دل میں سوچ کر چلو تاکہ وہ حضرت ہمیں ہمارے باطن سے مطلع کریں اور ہماری مشکل حل ہو۔ میں نے دل میں سوچا کہ مناجات ابن حسین کے اشعار ان سے سنوں۔ دوسرے نے سوچا کہ مجھے طحال (تلی) کا مرض ہے، یہ اچھا ہو جائے۔

۵۴۳

تیسرے نے کہا مجھے حلوہ صابونی ان سے لینا ہے۔

جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے ایک جزوِ کاغذ جس میں اشعارِ مناجاتِ ابن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھے تھے میرے آگے رکھ دیے، اور دوسرے کے طحال پر ہاتھ پھیرا وہ جاتی رہی۔ تیسرے کو کہا: "حلوہ صابونی سپاہیوں کی غذا ہے اور تو اولیاء کا لباس رکھتا ہے، اور اولیاء کے لباس والے کو سپاہیوں کا مطالبہ درست نہیں۔ دو باتوں سے ایک بات اختیار کر"۔

غرض کہ مقیم کو اس شخص کے حق کی رعایت ضرور چاہیے جو اپنے حق کی رعایت میں مشغول ہو اور حظ (نفسانی لذت) کا تارک ہو۔ جب کوئی حظ پر قائم ہو تو محال ہے کہ دوسرا شخص اس کے حظ حاصل ہونے میں اس سے متفق ہو، کیونکہ درویش ایک دوسرے کو راستہ دکھانے والا ہوتا ہے نہ کہ گمراہ کرنے والا۔ جب کوئی اپنے حظ پر قائم ہو تو دوسرے کو چاہیے کہ اس کے برخلاف ہو، اور جب وہ اپنے حظ کو ترک کر دے تو اس کے حظ پر قائم ہونا چاہیے تاکہ دونوں حال میں راہ یاب ہو اور گمراہ نہ ہو۔

ایک خبر مشہور ہے کہ حضور صلى اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابوذر غفاری رضی اللہ عنہما میں رشتہ داری (اخوت) قائم کی تھی اور دونوں سرہنگانِ اہل صفا تھے اور صاحبِ باطن۔ ایک روز سلمان، ابوذر کے گھر زیارت کو آئے۔ ابوذر کے عیال نے سلمان سے شکایت کی کہ تمہارے بھائی دن میں کچھ نہیں کھاتے اور رات میں سوتے نہیں۔ سلمان نے کہا: "کچھ کھانے کی چیز لاؤ"۔ چنانچہ لائی گئی۔ حضرت سلمان نے ابوذر کو کہا: "بھائی! میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ کھائیں کیونکہ یہ روزہ آپ پر فرض نہیں"۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے تعمیلِ ارشادِ سلمان کی اور کھایا۔

جب رات ہوئی تو فرمایا: "بھائی! آپ کو اب بھی میرے ساتھ موافقت کرنی چاہیے اور سونا بھی اختیار فرمائیں۔ اس لیے کہ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا" (تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے)۔

جب دوسرا دن ہوا تو حضور صلى اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ابوذر حاضر ہوئے تو حضور صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں بھی وہی کہتا ہوں جو کل تجھے سلمان نے کہا: إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا"۔

چونکہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے حصہ کو چھوڑے ہوئے تھے، حضرت سلمان…

۵۴۴

…اور ترکِ حظ کیا، چنانچہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا معمول چھوڑ دیا۔

اگر سچ ہو کر رہے وہ ہم ہے۔ ایک وقت میں عراق میں دنیا کی طلب اور آخرت میں تجارت کر رہا تھا تاکہ جو مجھ پر بہت ہو گیا، مجھے اس کی ضرورت ہوئی وہ میری طرف آ جائے اور میں خواہشیں ان کی پوری کرتے کرتے تھک گیا۔ وقت کے ایک سردار نے مجھ سے کہا: "اے بیٹا! خدا تعالیٰ کا یہ اپنا دل سے نہ ہٹنا فراغت ہے۔ اس دل کے سبب وہ جو اوقات میں مشغول ہوتی، اگر کوئی اپنے دل سے اپنے کو کسی چیز پر پائے، وہ جائز ہے۔ اس لیے کہ اس دل کے اثر کرنے میں دل کو مشغول کرے اور کام چھوڑ دے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو کافی ہے"۔

اب یہ ان لوگوں کے احکام ہیں جو مسافروں کی صحبت میں بیان ہوتے ہیں۔

۵۴۵

اب میں جب کوئی درویش سفر اختیار کرے اور اقامت ترک کرے تو اس کے لیے شرط ہے۔ جیسے ظاہر میں سفر کرے، ویسے ہی دل سے خدا کے لیے کرے نہ کہ خواہش کے لیے۔ اپنے معمولات و اوراد کو ضائع نہ کرے، کیونکہ یہ بھی خواہشِ نفسانی ہے۔ ہمیشہ سفر میں عصا (لاٹھی)، پیالہ يا لوٹا (کوزہ)، اور جوتا ضرور رکھے تاکہ سفر کرتے وقت اپنے ساتھ یہ چیزیں رکھے۔

عصا کے متعلق سنت پر عمل کرے، کوزے سے طہارت اور وضو کر کے نماز پڑھے اور جوتے کے ذریعے آفات سے محفوظ رہے۔ مسافر کے پاس اس کے علاوہ اور بھی سامان ہو سکتا ہے جیسے: سوئی، دھاگا، سرمہ دانی اور مسواک۔ اگر کوئی اس سے زیادہ آرائشی چیزیں اپنے پاس رکھنا چاہے تو یہ بزرگی کا موجب نہیں بلکہ مقامِ نقص ہے۔

اگر وہ ان اشیاء کی محبت رکھتا ہے تو اس کے لیے گرفتاری ہے اور اس سے رعایتِ نفس پیدا ہوگی۔ میں نے شیخ ابوالحسن علی بن احمد الخرقانی سے سنا کہ ایک روز وہ شیخ ابو سعید کی زیارت کے لیے گئے۔ فرماتے ہیں: "میں نے راستے میں دیکھا کہ وہ ایک جگہ چاروں طرف خیمہ لگائے اور چھتری تانے سو رہے ہیں، اور میں ایک گدڑی پہنے گرد آلود ریاضت و مجاہدہ سے رنگ زرد ہوا ہوا تھا۔ ان کا یہ مال و منال اور جاہ و جلال دیکھ کر اپنے دل میں سوءِ اعتقاد ہوا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ بھی ایک درویش ہیں اور میں بھی ایک درویش ہوں، یہ آرام میں ہیں اور میں اس قدر ریاضت میں ہوں"۔

۵۴۶

وہ اس وقت میرے باطن سے واقف ہوئے اور میرے غرور اور بد دلی کو دیکھا۔ مجھ سے فرمایا: "اے ابو مسلم! تو نے کسی کتاب میں پڑھا ہے کہ مغرور آدمی درویش ہوتا ہے؟ جب میں نے تمام کائنات میں حق ہی حق دیکھا تو حق تعالیٰ نے مجھے تخت نشین کیا، اور جب تو نے صرف اپنے آپ کو دیکھا اللہ تعالیٰ نے تجھے نیچے رکھا۔ ہمارے حصہ میں مشاہدہ آیا اور تیرے حصے میں مجاہدہ۔ اور یہ دونوں مقامات حق سے ہیں اور حق تعالیٰ اس سے پاک ہے، اور درویش مقامات سے فانی اور حالات سے بچا ہوا ہوتا ہے"۔

شیخ ابو مسلم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے ہوش جاتے رہے اور مجھ پر اندھیرا چھا گیا۔ جب ہوش آیا تو میں نے توبہ کی۔ انہوں نے توبہ منظور فرمائی۔ پھر میں نے عرض کیا: "اے شیخ! مجھے اجازت ہو کہ میں چلا جاؤں، اس لیے کہ مجھ میں آپ کی زیارت کی تاب نہیں"۔ فرمایا: "اے ابو مسلم! تو سچ کہتا ہے"۔ پھر بطورِ تمثیل یہ شعر پڑھا

آنچه گوشم نتوانست شنیدن بخیر

همه چشمم بعیان یکسره دید آن ببصر

(جس کی خبر میرے کان نہ سن سکے، وہ میری آنکھوں نے ظاہراً دیکھ لیا)

تو مسافر کو چاہیے کہ ہمیشہ حافظِ سنت رہے۔ جب کسی مقیم کے پاس جائے تو ادب سے اس کے پاس آئے اور سلام کہے۔ پہلے بایاں پاؤں دروازے سے نکالے کیونکہ حضور صلى اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ جب جوتا پہنے تو پہلے دائیں پاؤں میں پہنے پھر بائیں میں، اور جب پاؤں دھوئے تو پہلے داہنا پاؤں دھوئے پھر بایاں پاؤں۔ پھر دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھے۔

پھر رعایتِ حقوقِ درویشاں میں مشغول ہو اور مقیموں کے حال پر اعتراض نہ کرے، نہ کسی سے زیادتی کرے، نہ اپنے سفر کی سختیاں بیان کرے۔ اور لوگوں میں جب بات کرے، بزرگوں کی حکایتیں، روایتیں اور علم کی باتیں کرے۔ اور چاہیے کہ جاہلوں سے تکلیف برداشت کرے اور بنامِ خداوند ان کا بوجھ اٹھائے کیونکہ اس میں بہت سی برکتیں ہیں۔ اگر مقیم یعنی میزبان یا اس کے نوکر اس پر حکم کریں اور اس کو اہل کوچہ کے سلام یا کسی کی زیارت کے واسطے بلائیں تو اگر ہو سکے تو خلاف نہ کرے، لیکن دل سے دنیا داروں کی رعایت سے منکر ہونا چاہیے۔

یہ بھی لازم ہے کہ اپنی غرض حاصل ہونے کے لیے میزبانوں کو تکلیف نہ دے اور ان کو اپنے آرام و خواہشات کے لیے امیروں اور ملازمانِ شاہی کے حضور میں نہ لے جائے۔

غرضیکہ مقیم اور مسافر کو صحبت میں رضاۓ الٰہی کا طالب رہنا چاہیے اور ایک دوسرے سے...

۵۴۷

حسنِ ظن رکھ کر آپس میں منافرت سے محترز رہیں اور غیبت نہ کریں۔ اس لیے کہ صاحبِ حق پر خلقت کی بات کرنا برا ہے۔ کیونکہ محقق جب دیکھتے ہیں تو فاعل کا فعل دیکھتے ہیں اور جب خلقت کو جس صفت پر دیکھا جائے تو خالقِ عالم کی صنعت سمجھے۔ کوئی عیب دار یا بے عیب یا اہل کَشف ہو تو اس کے فعل پر جھگڑنا اس کے فاعل سے جھگڑنا ہے۔

اور جب بشریت کی آنکھ سے خلقت کی طرف نگاہ کی جائے تو سب کو ترک کرے اور جانے کہ سب خلقت مقہور و مغلوب ہے اور عاجزِ محض ہے۔ ہر ایک یہی کام کر سکتا ہے، اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی پیدائش ہی ایسی ہے اور خلقت کو اس کے ملک میں حقِ تصرف نہیں اور بدونِ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی حالت سے بدلنے کی طاقت نہیں۔ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ۔

صفحہ ۵۴۸

چوبیسواں باب

کھانے کے آداب

یہ حقیقت ہے کہ انسان کو غذا کے بغیر چارہ نہیں اس لیے کہ قواءِ بدن اور ترکیبِ طبیعت طعام و شراب کے سوا ناممکن ہے۔ لیکن شرطِ مروت یہ ہے کہ اس میں زیادتی نہ کرے اور دن رات کھانے کی فکر میں ہی مشغول نہ ہو۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: مَنْ كَانَتْ هِمَّتُهٗ مَا يَدْخُلُ فِيْ جَوْفِهٖ كَانَتْ قِيْمَتُهٗ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ۔ "جو اس بات کی ہمت کرے کہ جو کچھ ملے اسے پیٹ میں بھر لے، اس کی قیمت وہی ہے جو پیٹ سے نکلی ہوئی چیز کی ہوتی ہے۔"

اور مریدِ راہِ حق کے لیے کھانے سے زیادہ مصرف رساں کوئی چیز نہیں ہے۔ اور اس سے زیادہ اس کتاب کے "باب الجوع" میں اس کا بیان ہو چکا ہے۔ یہاں اسی قدر مناسب ہے۔ اور حکایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ آپ بھوک کی زیادہ تعریف کیوں کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر فرعون بھوکا رہتا تو ہرگز ﴿اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى﴾ نہ کہتا اور اگر قارون بھوکا ہوتا تو نافرمانی نہ کرتا اور ثعلبہ جب تک بھوکا رہا لوگ اس کی تعریف کرتے تھے۔ جب سیر ہوا تو اس نے نفاق ظاہر کیا۔ اللہ تعالیٰ کافروں کی صفت میں ﴿ذَرْهُمْ يَأْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا﴾ فرما رہا ہے، یعنی "انہیں چھوڑ دو کھائیں اور چند دن متمتع ہو لیں تو عنقریب وہ جان لیں گے"۔ اور فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَيَأْكُلُوْنَ كَمَا تَأْكُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ﴾ "جو کافر ہوئے اور دنیا سے تمتع حاصل کر کے کھاتے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں، ان کا ٹھکانا آگ ہے۔"

اور حضرت سہل بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ شراب سے پیٹ بھرنا حلال کھانے سے پیٹ بھرنے کی نسبت مجھے زیادہ پسند ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے صحیح ہے؟ فرمایا: جب شراب سے پیٹ بھرتا ہے تو عقل آرام کرتی ہے اور شہوت کی تسکین ہوتی ہے اور خلقت اس کے ہاتھ اور زبان سے امن میں ہوتی ہے۔ لیکن جب حلال کھانے سے پیٹ پُر ہوتا ہے تو بیہودہ گوئی چاہتا ہے اور شہوت زور پکڑتی ہے اور نفس اپنے نصیب کی طلب میں سر اٹھاتا ہے۔ کیونکہ مشائخ نے ان کی

۵۴۹

صفت میں کہا ہے: "اُكْلُهُمْ كَاُكْلِ الْمَرْضٰى وَنَوْمُهُمْ كَنَوْمِ الْغَرْقٰى وَكَلَامُهُمْ كَلَامُ الثُّكْلٰى"۔ "ان کا کھانا بیماروں کا سا کھانا ہے، ان کی نیند غرق ہونے والوں کی سی نیند، ان کا بولنا مرے ہوئے بچے کی ماں کا سا بولنا ہے۔"

تو کھانے کے آداب میں یہ بھی ہے کہ جب کھائے، تنہا نہ کھائے بلکہ اپنے کھانے میں سے ایثار کرے۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: شَرُّ النَّاسِ مَنْ اَكَلَ وَحْدَهٗ وَضَرَبَ عَبْدَهٗ وَمَنَعَ رِفْدَهٗ "بدترین انسان وہ ہے جو تنہا کھائے اور غلام کو مارے اور بخشش و جود سے روکے۔" اور جب دسترخوان پر بیٹھیں تو خاموش نہ بیٹھیں۔ کھانا شروع کریں تو بسم اللہ سے شروع کریں اور دسترخوان پر کوئی ایسی چیز نہ رکھیں اور نہ دکھائیں جس سے ساتھی کراہت کریں، اور شروع لقمہ نمکین سے ہونا چاہیے اور اپنے ساتھی کے ساتھ انصاف ملحوظ رکھیں۔

حضرت سہل بن عبداللہ سے لوگوں نے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ﴾ کے معنی پوچھے۔ آپ نے فرمایا کہ عدل یہ ہے کہ اپنے رفیق کے لقمہ میں رفیق سے انصاف کرے اور احسان یہ ہے کہ رفیق کو لقمہ میں زیادہ حق دار سمجھے۔

اور میرے شیخ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں اس مدعی سے تعجب کرتا ہوں جو کہے کہ میں تارک الدنیا ہوں اور لقمہ کی فکر میں ہو۔ اور کہا کہ اپنے ہاتھ سے کھائے اور دوسرے کے لقمے کی طرف نظر نہ ڈالے اور کھانے میں پانی کم پیوے مگر جب پیاس پوری لگ رہی ہو تو مضائقہ نہیں۔ اور جب کھائے تو کم کھائے تاکہ جگر تر ہو جائے اور لقمہ بڑا نہ اٹھائے اور اچھی طرح چبا کر کھائے۔ جلدی نہ کرے کیونکہ جلدی کھانے سے بدہضمی کا خوف ہوتا ہے اور سنت کے خلاف ہے۔ جب کھانے سے فارغ ہو تو اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہے اور ہاتھ دھوئے۔ اور جو لوگ ساتھیوں سے خفیہ دعوت میں جائیں اور کھائیں تو بعض مشائخ فرماتے ہیں یہ حرام ہے۔ اور یہ مجلس کے ساتھ خیانت ہے ﴿اُولٰٓئِكَ مَا يَأْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ﴾ "یعنی یہ لوگ وہ ہیں کہ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھرتے۔"

ایک گروہ کہتا ہے کہ جب جماعت ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہو تو تنہا دعوت پر جانا جائز ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ اگر ایک ہو تو جائز ہے اور اگر چند مصاحب ہوں تو انصاف سے جو

۵۵۰

حق دار ہو اس سے بھیجا جائے۔ اس لیے کہ تنہا پر سے حکمِ مجلس اُٹھ جاتا ہے، اس سے مواخذہ نہیں ہوتا۔

اور سب سے بڑی بات مذہبِ صوفیاء میں یہ ہے کہ درویش کی دعوت رد نہ کرے اور دنیا دار کی دعوت قبول نہ کرے۔ ان کے گھر نہ جائے اور ان سے کچھ نہ مانگے۔ کیونکہ اہلِ طریقت کی اس میں توہین ہے اس لیے کہ دنیا دار درویش کے محرم نہیں۔

غرضیکہ مردانِ طریقت دنیا دار سے نفع میں نہ ہوں اور اس کی قلت سے درویش بنیں اور جو فقر کو غنا پر فاضل ہونے کا معترف ہو وہ دنیا دار نہیں ہوتا اگرچہ بادشاہ ہو، اور جو فقر کا منکر ہو وہ دنیا دار ہے اگرچہ بھوکا ننگا ہو۔ اور جب دعوت میں جائے تو کھانے میں تکلف نہ کرے، مطابقِ ضرورت اور وقت کے بسر کرے۔ اور جب دعوت محرم ہو تو جائز ہے کہ قبیلے کو لے جائے اور اگر محرم نہ ہو تو اس کے گھر جانا جائز نہیں۔

سہل بن عبداللہ فرماتے ہیں

اَلدَّعْوَةُ ذِلَّةٌ۔

"مہمانی کرنا ہی ذلت ہے۔" وَ بِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ

صفحہ ۵۵۱

پچیسواں باب

چلنے پھرنے کے آداب

اللہ عز و جل فرماتا ہے: ﴿وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا﴾ "اللہ تعالیٰ کے بندے زمین پر باتمکین اور آہستہ چلتے ہیں۔"

اس بندے پر یہ لازم ہے کہ طالبِ حق ہو کر اپنی رفتار میں جو قدم رکھے وہ ایسے رکھے کہ اس میں یہ نہ جانے کہ یہ قدم کس چیز پر چلتا ہے اور وہ قدم اس پر ہے یا اس کا ہے۔ اگر اس پر ہے تو استغفار کرے اور اگر اس کا ہے تو کوشش کرے تاکہ زیادہ ہو جائے۔ حضرت داود طائی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک روز انہوں نے کچھ دوا کھائی تھی۔ لوگوں نے کہا کچھ دیر گھر کے صحن میں ٹہلیے تاکہ دوا کا فائدہ ظاہر ہو جائے۔ آپ نے فرمایا مجھے شرم آتی ہے کہ بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ چند قدم اپنے نفس کی خواہش سے چلا۔ چنانچہ جبارِ جلیل فرماتا ہے: ﴿وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ﴾ "اور گواہی دیں گے ان کے قدم جو کچھ وہ کرتے ہیں۔"

تو درویش کو چاہیے کہ ہوشیاری سے مراقبہ میں جائے اور سر جھکا کر بیٹھے اور کسی طرف نہ دیکھے اور راستہ میں اگر کوئی تنہا ہے تو اپنے آپ اس سے نہ کچھ کہے اور کسی سے اپنے کپڑے کو مس نہ کرے، کیونکہ مومن اور اس کا کپڑا پاک ہے اور یہ رعونت اور نمود نمائی ہے۔ اور اگر سامنے ملنے والا کافر ہے اور اس پر پلیدی ظاہر ہے تو اجتناب جائز ہے تاکہ اس سے اپنے کو بچائے۔ اور جب جماعت کے ساتھ چلے تو آگے چلنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ نمائش چاہنا تکبر کا کام ہے اور سب سے پیچھے چل کر تواضع کا ارادہ بھی نہ کرے، اس لیے کہ اپنے اندر تواضع پیدا کرنا بھی عین تکبر ہوتا ہے۔ چلنے میں بحد امکان اپنا جوتا چپل پلیدی سے بچائے تاکہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ شب میں اسے گندگی سے محفوظ رکھے۔ اور جب جماعت یا ایک درویش راستہ میں اس کے ساتھ ہو تو کسی کے واسطے کھڑا نہ ہو اور اپنے ساتھیوں کو زحمتِ انتظار میں تکلیف نہ دے۔

جب چلے آہستہ چلے، تیز رفتاری نہ کرے کہ یہ حریصوں کی رفتار ہے، اور آہستہ خرامی میں سعی نہ کرے کہ یہ بھی متکبروں کی رفتار ہے، اور قدم ثابت رکھے۔ اور لازم ہے کہ طالب کی چال ایسی

۵۵۲

صفت سے ہو کہ اگر کوئی اسے پوچھے کہ کہاں جا رہا ہے تو وہ کہہ سکے: اِنِّيْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ۔ "میں اپنے رب کی طرف جا رہا ہوں، وہ مجھے ہدایت فرمائے گا۔" اور اگر اس حال کے

(یہ صفحہ یہیں ختم ہو جاتا ہے، آگے کا صفحہ فائلوں میں نہیں آیا۔)

صفحہ ۵۵۳

چھبیسواں باب

سفر و حضر میں سونے کے آداب

مشائخِ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا سفر و اقامت میں سونے پر بہت اختلاف ہے۔ ایک جماعت کے نزدیک مرید کا سونا مسلّم نہیں۔ مگر جب نیند غلبہ کرے تو مضائقہ نہیں کیونکہ نیند دفع نہیں ہو سکتی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اَلنَّوْمُ اَخُ الْمَوْتِ "نیند موت کا بھائی ہے۔" اور زندگی نعمتِ خداوندی ہے اور موت بلا ہے اور ظاہر ہے کہ نعمت، بلا سے افضل ہے۔

شبلی علیہ الرحمہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اِطَّلَعَ الْحَقُّ عَلَيَّ فَقَالَ مَنْ نَامَ غَفَلَ وَمَنْ غَفَلَ حُجِبَ۔ "مجھے اللہ تعالیٰ نے مطلع فرمایا کہ جو سویا وہ غافل ہوا اور جو غافل ہوا وہ محجوب ہوا۔"

ایک جماعت کہتی ہے: مرید کو بحالتِ اختیار سونا جائز ہے اور خواب میں تکلف نہ کرے مگر جب کہ ہر امر کا حق بجا لایا ہو۔ کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتّٰى يَنْتَبِهَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتّٰى يَحْتَلِمَ وَعَنِ الْمَجْنُوْنِ حَتّٰى يُفِيْقَ۔ "تین قسم کے آدمیوں سے قلم اٹھ جاتا ہے اور وہ مرفوع القلم ہوتا ہے یعنی اس سے مواخذہ نہیں: ایک سویا ہوا جب تک بیدار نہ ہو۔ دوسرا بچہ جب تک بالغ نہ ہو۔ تیسرا دیوانہ جب تک ہوش میں نہ آ جائے۔" کیونکہ مخلوقات اس کی بدی سے امن میں رہتی ہے اور اس کا اختیار رکا ہوا ہوتا ہے اور اس کا نفس مردوں سے بے خبر ہوتا ہے، اور کراماً کاتبین اس کے اعمال لکھنے سے آرام میں رہتے ہیں اور اس کی

۵۵۴

زبان دعویٰ سے کوتاہ اور دروغ بافی اور غیبت سے محفوظ رہتی ہے اور اس کی عبادت تکبر و ریا سے جدا ہوتی ہے۔ لَا يَمْلِكُ لِنَفْسِهٖ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا مَوْتًا وَّلَا حَيٰوةً وَّلَا نُشُوْرًا۔ "وہ اپنے نفس کے نقصان اور نفع اور موت و حیات کا مالک نہ ہوگا اور نہ نشر کا مختار ہوگا۔" لَا شَيْءَ اَشَدُّ عَلٰى اِبْلِيْسَ مِنْ نَوْمِ الْعَاصِيْ فَاِذَا نَامَ الْعَاصِيْ يَقُوْلُ مَتٰى يَنْتَبِهُ وَيَقُوْمُ حَتّٰى يَعْصِيَ اللّٰهَ۔ "شیطان پر گنہگار کی نیند سے کوئی چیز زیادہ سخت نہیں، تو جب گنہگار سو جاتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ کب بیدار ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔"

اس میں حضرت جنید اور حضرت علی بن سہل اصفہانی کا اختلاف ہے اور اس کے متعلق حضرت علی بن سہل نے حضرت جنید کو ایک لطیف خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے لکھا کہ خواب غفلت ہے اور عوارضات کا قرار ہے، اور محبت کو لازم ہے کہ غفلت و قرار سے اعراض کرے، اور محب کو چاہیے کہ روز و شب میں قرار نہ ہو، اور اگر اسے غنودگی بھی ہوئی تو اس کا حال مقصد سے مفقود ہو گیا اور وہ اپنے حال سے غافل ہو کر حق تعالیٰ کی طرف سے رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داود علیہ السلام کو وحی کی: يَا دَاوُدُ كَذَبَ مَنِ ادَّعٰى مَحَبَّتِيْ فَاِذَا جَنَّهُ اللَّيْلُ نَامَ۔ "اے داود! وہ جھوٹا ہے جو میری محبت کا دعویٰ کرے اور جب رات ہو تو سو جائے اور میری محبت سے بے تعلق ہو جائے۔"

حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا جواب لکھا: ہمارا بیدار رہنا راہِ حق میں ہمارا عمل ہے اور ہمارا سونا فعلِ الٰہی ہے، تو ہم سے جو راہِ حق میں بے اختیار ہو جائے وہ اس سے زیادہ کامل ہوتا ہے جو ہمارے اختیار سے حق کے ساتھ ہو۔ وَالنَّوْمُ مَوْهِبَةٌ مِّنَ اللّٰهِ تَعَالٰى عَلَى الْمُحِبِّيْنَ "اور نیند حق تعالیٰ کی طرف سے محبین پر عطا ہے۔" اور اس مسئلہ کا تعلق صحو اور سکر سے ہے اور اس کا مفصل بیان ہو چکا ہے۔ لیکن یہ بیان عجیب ہے کہ جنید رضی اللہ عنہ صاحبِ صحو تھے اور یہاں انہوں نے سکر کی قوت دی اور وہ اس وقت مغلوب ہوئے ہیں اور ان کی زبان وقت پر ناطق ہو گئی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اصلیت اس کے برخلاف ہو، کیونکہ خواب خود عینِ صحو ہے اور بیداری عینِ سکر۔ اس لیے کہ خواب آدمی کی صفت ہے۔ جب تک آدمی اپنے اوصاف کے اندھیرے میں ہو، صحو ہے اور صحو سے ہی اسے منسوب کرتے ہیں، اور نہ سونا حق کی صفت ہے، اور جب آدمی اپنی صفت سے مراد ہو تو مغلوب ہوتا ہے۔

میں نے ایک جماعتِ مشائخ کو دیکھا کہ خواب کو بیداری سے افضل جانتی ہے۔ جیسے

۵۵۵

حضرت جنید افضل جانتے تھے۔ اس لیے کہ نمائش بزرگوں، ولیوں اور اکثر پیغمبروں کے خواب سے تعلق رکھتی ہے، یعنی خواب دیکھتے ہیں اور اپنا مقصد پاتے ہیں۔ حضور ﷺ نے بھی فرمایا

اِنَّ اللّٰهَ يُبَاهِيْ بِالْعَبْدِ الَّذِيْ نَامَ فِيْ سُجُوْدِهٖ وَيَقُوْلُ اللّٰهُ اُنْظُرُوْا يَا مَلَائِكَتِيْ اِلٰى عَبْدِيْ رُوْحُهٗ فِيْ مَحَلِّ النَّجْوٰى وَبَدَنُهٗ عَلٰى بِسَاطِ الْعِبَادَةِ۔

"اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے جب بندہ کو سجدہ میں سویا ہوا پاتا ہے۔ فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! اس بندۂ مومن کو دیکھو کہ اس کی جان رازگوئی میں ہے اور اس کا بدن بساطِ عبادت پر ہے۔"

اور حضور ﷺ نے فرمایا

مَنْ نَامَ عَلٰى طَهَارَةٍ يُؤْذَنُ لِرُوْحِهٖ اَنْ تَطُوْفَ بِالْعَرْشِ وَيَسْجُدَ لِلّٰهِ تَعَالٰى۔

"جو باطہارت سو جائے اس کی روح کو اجازت ہے کہ عرش کا طواف کرے اور اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرے۔"

اور میں نے حکایتوں میں معلوم کیا ہے کہ شاہ شجاع کرمانی رحمۃ اللہ علیہ چالیس سال بیدار رہے۔ جب ایک رات سو گئے تو لقاءِ ربانی نصیب ہوا۔ پھر ہمیشہ لقا کی امید میں سو جاتے۔

ایک جماعت کو میں نے دیکھا کہ وہ بیداری کو سونے سے افضل جانتی ہے، جیسے علی بن سہل رضی اللہ عنہ۔ اس لیے کہ وحی کا رسولوں پر آنا اور اولیاء کی کرامتیں بیداری میں ہوتی ہیں۔

ایک شیخ فرماتے ہیں: لَوْ كَانَ فِي النَّوْمِ خَيْرًا لَكَانَ فِي الْجَنَّةِ۔ "اگر نیند میں بہتری ہوتی تو وہ جنت میں بھی ہوتی۔" کیونکہ جنت مقامِ قرب کا نام ہے اور قرب میں نیند نہیں ہوتی، اور نیند چونکہ حجاب ہے تو معلوم ہوا کہ حجاب جنت میں نہیں۔ اور اربابِ لطائف فرماتے ہیں کہ جب آدم صفی اللہ بہشت میں سو گئے تو ان کے بائیں پہلو سے حضرت حواء علیہا السلام پیدا ہوئیں اور سب بلائیں جو آپ پر وارد ہوئیں حضرت حواء کے باعث ہوئیں۔ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو فرمایا: ﴿يٰبُنَيَّ اِنِّيْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّيْٓ اَذْبَحُكَ﴾ "بیٹا میں نے خواب میں دیکھا کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں۔" تو اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا: هٰذَا جَزَاءُ مَنْ نَامَ عَنْ حَبِيْبِهٖ لَوْ لَمْ تَنَمْ لَمَا اُمِرْتَ بِذَبْحِ الْوَلَدِ۔ "یہ جزا ہے اس کی جو اپنے حبیب سے

۵۵۶

غافل ہو کر سو جائے۔ اگر آپ نہ سوتے تو بیٹا ذبح کرنے کا حکم نہ ہوتا۔" تو آپ کے خواب نے آپ کو بے پسر کیا اور مجھے بے جان۔ لیکن میرا درد تو ایک ساعت ہوگا مگر آپ کا درد دوامی ہے۔

حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ہر رات آپ نمک کا پانی سکورے میں بھر کر اپنے سامنے رکھتے اور ایک سلائی۔ جب غلبۂ خواب ہوتا تو سلائی بھر کر آنکھ میں ڈال لیتے۔

اور میں (علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) نے ایک پیر مرد کو دیکھا کہ جب ادائے فرض سے فارغ ہوتا، سو جاتا۔ اور شیخ احمد سمرقندی کو دیکھا کہ آپ بخارا میں تھے کہ چالیس رات خواب نہ فرماتے اور دن میں تھوڑی دیر سوتے۔ یہ مسئلہ اس طرف راجع ہے کہ جب کسی کے خیال میں موت زندگی سے بہتر ہو تو اسے چاہیے کہ زیادہ سوئے، اور جس کے نزدیک زندگی موت سے محبوب ہو اُسے چاہیے کہ جاگے۔ تو قدر و قیمت اُسے بیداری کی نہیں ہو سکتی جو تکلف سے بیدار رہا، بلکہ بیداری کی قدر اسے ہے جسے بیدار رکھنے والا بیدار رکھے۔

جیسا کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدہ فرما کر درجۂ عالی پر پہنچایا۔ آپ ﷺ نہ خواب میں تکلف فرماتے نہ بیداری میں۔ پھر جب فرمانِ حق آیا: ﴿قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا ۝ نِّصْفَهٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا﴾ "شب میں بیدار رہو مگر تھوڑے، آدھی رات یا اس سے کم۔" تو قدر و قیمت اسے کیا ہو جو بتکلف سوئے۔ قدر و قیمت اسے ہی ہو سکتی ہے جسے سلانے والا سلائے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کو برگزیدہ فرما کر اعلیٰ مقام بخشا اور لباسِ کفران ان کی گردن سے اُتارا۔ وہ نہ سونے میں تکلف کرتے ہیں نہ بیداری میں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خواب ہی میں رکھا اور وہ بے غیر اختیارِ حق تعالیٰ میں پرورش پا رہے ہیں جیسا کہ فرمایا: ﴿وَتَحْسَبُهُمْ اَيْقَاظًا وَّهُمْ رُقُوْدٌ وَّنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ﴾ یہ دونوں بے اختیاری کے حال میں ہیں۔ اور جب بندہ کسی ایسے درجے پر پہنچ جائے کہ بے اختیار ہو اور سب سے بے تعلق ہو جائے اور اس کا رابطہ غیر سے منقطع ہو جائے تو اگر سو جائے یا بیدار رہے، جس حال میں بھی ہو، عزیزِ حق ہوتا ہے۔ تو مرید کا سونا ایسا ہونا چاہیے کہ وہ اس سونے کو آخری سونا سمجھے اور گناہوں سے توبہ کرے اور دشمنوں کو خوش کرتا ہوا پاکیزہ لباس میں رُو بہ قبلہ ہو کر دنیاوی کاروبار سے دست بردار اور نعمتِ اسلام

۱۔ قیس بن عامر نے خوب کہا ہے

وَاِنِّيْ لَاَسْتَغْشِيْ وَمَا بِيْ نَعْسَةٌ لَعَلَّ خَيَالًا مِنْكَ يَلْقَى خَيَالِيَا

(میں بہ تکلف نیند چاہتا ہوں اور مجھے نیند نہیں، شاید کہ خواب میں تیرے خیالات میرے خیالات سے ملیں)

۵۵۷

پر شکر گزار ہو، اور یہ عہد کرے کہ اگر بیدار ہوگا تو پھر گناہ نہ کرے گا۔ تو جس نے بحالتِ بیداری اپنا کام تمام کیا ہو، اُسے نہ خواب کا خوف اور نہ موت کا خطرہ۔ مشہور حکایتوں میں ہے کہ ایک پیر اس امام کے پاس جایا کرتا تھا جو مرتبہ، کلاہ پوشی اور رعونت میں رہ چکا تھا اور کہا کرتا تھا کہ غافلوں کو مرنا چاہیے۔ اس امام کو اس سے رنج پہنچتا کہ یہ مرد ہر وقت مجھ سے ایسی باتیں کرتا ہے۔ ایک روز اس نے امام سے کہا کہ آج میں تمام عیب ترک کر کے اطاعت شروع کروں گا۔

جب دوسرے دن وہ آیا تو امام نے کہا اے پیر! اب مرنا چاہیے۔ اس نے مصلیٰ بچھایا اور سر رکھا اور لیٹ گیا اور کہا میں مر رہا ہوں اور جان دے دی۔ امام کو اس سے آگاہی ہوئی۔ اس نے کہا یہ پیر مجھے کہا کرتے تھے کہ موت کے لیے تیار رہ، اور آج خود رخصت ہو گئے، اور ان مریدوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب تک نیند غالب نہ ہو سونا نہ چاہیے اور جب بیدار ہو تو اسے دوبارہ سونا حرام ہے۔ اس بحث میں بہت طویل کلام ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

صفحہ ۵۵۸

ستائیسواں باب

بولنے اور چپ رہنے کے آداب

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّٰهِ وَعَمِلَ صَالِحًا﴾ "اور کون اچھا ہے بات میں جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیے۔" اور فرمایا: ﴿وَقُوْلُوْا اٰمَنَّا﴾ "اور کہو ہم سب ایمان لائے۔" اور فرمایا ﴿قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ﴾ "قولِ معروف۔" واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اچھے کام کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ جیسے اس کی خداوندی کا اقرار اس کی ثناء اور مخلوق کو اس کی طرف آنے کی دعوت دینا اور بندہ کلامِ حق تعالیٰ کی روشنی میں ممیز اور منتخب کیا ہوا۔ جیسے فرمایا: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ﴾ "اور بیشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔" ایک جماعتِ مفسرین اس معنی میں اعزاز بہ کلامِ حق مراد لیتی ہے اور اگرچہ کلامِ حق بندہ ہونا بڑی زبردست نعمت ہے لیکن اس کی ذمہ داری کی آفت بھی بڑی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اَخْوَفُ مَا اَخَافُ عَلٰى اُمَّتِي اللِّسَانُ "زیادہ جس سے میں اپنی امت پر خوف کرتا ہوں وہ زبان ہے۔" اس لیے کہ کلام مثلِ شراب ہے کہ یہ عقل کو مست کرتی ہے۔ انسان جب اس کے پینے میں مبتلا ہوتا ہے، بچ نہیں سکتا۔

جب اہلِ طریقت پر یہ امر منکشف ہوا کہ کلام بھی ایک آفت ہے تو انہوں نے بلا ضرورت کلام ترک کر دیا اور اپنے ہر کلام کی ابتدا و انتہا پر خاص نگران رہے اور اگر وہ تمام کلامِ حق ہو تو کہہ دیتے ہیں ورنہ خاموش رہتے ہیں، اس لیے انہیں یقین ہے کہ اللہ راز دان ہے اور وہ بہت

۵۵۹

برے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو راز دان نہیں جانتے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ﴾ "کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کے رازہائے نہاں نہیں جانتے؟ یہ غلط ہے بلکہ ہم بھی جانتے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کے پاس رہ کر لکھتے ہیں۔" اور ہم عالم الغیب ہیں۔ چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا: مَنْ صَمَتَ نَجَا "جو خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔" تو خاموشی میں جو فائدہ ہے وہ کلام کرنے میں نہیں، اس لیے کہ بولنے میں بہت آفتیں ہیں۔

ایک جماعتِ مشائخِ کرام رحمہم اللہ تو خاموشی کو بولنے پر فضیلت دیتی ہے اور ایک جماعت کلام کو خاموشی پر ترجیح دیتی ہے۔ ان میں سے حضرت جنیدؒ نے فرمایا کہ عبارتیں تمام دعوے ہیں اور جہاں معنی ثابت ہوں وہاں دعویٰ بے فائدہ ہوتا ہے اور ایک وقت ہوتا ہے کہ بحالتِ اختیار قولِ ساقط کرنے میں معذور ہوتا ہے اور جب حالتِ خوف ہو تو باوجود قوتِ کلام نہ کلام کرنے کا عذر ہوتا ہے لیکن معنی ساقط نہیں ہوتے اور اگر حقیقتِ معرفت کا انکار کرے تو جب معنی باقی ہوں تو بلا زبان کہنا موجود ہوتا ہے۔ اور کسی وقت بندہ بغیرِ معنی کے صرف دعوے سے معذور نہیں ہوتا۔ اس کا حکم منافق کا ہے اس لیے کہ بے معنی دعویٰ نفاق ہے اور بلا دعویٰ اور بے معنی اخلاص۔ لِاَنَّ مَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰى بَيَانٍ لَّمْ يَسْتَغْنِ عَنِ اللِّسَانِ وَ مَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰى عِيَانٍ اِسْتَغْنٰى فِيْمَا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ رَبِّهٖ مِنَ اللِّسَانِ۔ "اس لیے کہ جو بنیاد ڈالے اس پر کہ ایک راز جنابِ ربانی اس میں ظاہر ہے، اس کے عرض کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔" یعنی جب بندہ پر راستہ کھلے تو وہ گفتگو کرنے سے بے پرواہ ہو جاتا ہے اور عبارت کے معنی بتانے کو غیر کی خبر دینا سمجھتا ہے اور اللہ تعالیٰ

۱۔ الزخرف: ۸۰

۵۶۰

تفسیرِ احوال سے بے نیاز ہے۔ اسے پرواہ نہیں کہ بیان غیر سے اس کی طرف مشغول ہو۔ اور جنید رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول: "مَنْ عَرَفَ اللّٰهَ كَلَّ لِسَانُهٗ" اس کی تائید کرتا ہے۔ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کا عرفان دل سے کر لیا اس کی زبان بیان سے گونگی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ عبارت کا بیان حجاب ہے۔

اور شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے کھڑے ہو کر بآوازِ بلند فرمایا: "یا مرادی" اور اس میں اشارہ حق تعالیٰ کی طرف کیا۔ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اے ابا بکر شبلی! اگر تیری مراد حق تعالیٰ سے ہے تو تُو نے یہ اشارہ کیوں کیا؟ کیونکہ وہ اس سے بے نیاز ہے اور اگر تیری مراد یہ نہیں تو تُو نے کیوں کہا، حق تعالیٰ تیرے کہنے پر آگاہ ہے؟ تو حضرت شبلی نے اپنے کہنے پر استغفار کی۔

اور جس جماعت نے کلام کو چپ رہنے پر فضیلت دی وہ کہتے ہیں کہ اپنی حالتِ حق سے بیان کرنا لازم ہے کیونکہ دعویٰ بمعنی قائم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ہزار سال دل اور سر کا عارف ہو اور ضرورت مانع نہ ہو تو اس کا قرارِ معرفت سے متعلق نہ ہو اور اس کا حکم کا فروں کا ہے۔

اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو شکرِ نعمت اور حمد و ثناءِ منعم کا حکم دیا ہے اور حضور ﷺ کو ﴿وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ "اپنے رب کی نعمتوں کا بیان کر" فرمایا اور تحدیثِ نعمت یہ کلام ہے اور ہماری طرف سے ثناء و حمد یہ بھی کلام ہے اور اللہ تعالیٰ نے ﴿اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ "مجھ سے مانگو میں قبول کروں گا" بھی فرمایا اور ﴿اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ﴾ "میں پکارنے والوں کی دعائیں قبول کرتا ہوں جب وہ پکارتا ہے" اور اس طرح کے اور بیان بھی ہیں۔

ایک شیخ فرماتے ہیں کہ جس کا حال اپنے وقت سے بیان نہ ہو اس کا وقت وقت نہیں۔ چونکہ تیرا وقت بیان کرنے والی تیری ذات ہے۔

لِسَانُ الْحَالِ اَفْصَحُ مِنْ لِّسَانِ وَ صَمْتِيْ عَنْ سُؤَالِيْ تَرْجُمَانِ

"میری زبانِ حال میری زبان سے فصیح تر ہے اور میری خاموشی میرے سوال کا ترجمہ ہے۔"

میں نے حکایتوں میں دیکھا کہ ایک روز ابوبکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ بغداد کے ایک محلہ میں جا رہے تھے کہ ایک مدعی کو دیکھا کہ کہہ رہا تھا: اَلسُّكُوْتُ خَيْرٌ مِّنَ الْكَلَامِ۔ شبلی نے فرمایا: سُكُوْتُكَ خَيْرٌ مِّنْ كَلَامِكَ وَكَلَامِيْ خَيْرٌ مِّنْ سُكُوْتِيْ لِاَنَّ كَلَامَكَ لَغْوٌ وَسُكُوْتَكَ هَزْلٌ وَكَلَامِيْ خَيْرٌ مِّنْ سُكُوْتِيْ لِاَنَّ سُكُوْتِيْ حِلْمٌ وَكَلَامِيْ عِلْمٌ۔ "خاموش

۵۶۱

رہنا بولنے سے اچھا ہے۔" حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تیرا خاموش رہنا تیرے بولنے سے اچھا ہے اور میرا بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ اس لیے کہ تیرا بولنا لغو اور تیری خاموشی ہزل ہے اور میرا کلام مرے سکوت سے یوں بہتر ہے کہ میرا سکوت بھی حلم ہے اور میرا کلام علم ہے۔ "اگر میں علم نہ کہوں تو حلم اس پر ہے اور کہوں تو علم ہے۔ اگر نہ کہوں تو حلیم ہوں اور کہوں تو علیم۔"

اور میں علی بن عثمان (رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ کلام کی دو قسمیں ہیں اور سکوت بھی دو قسم کے ہیں۔ کلام ایک حق ہے، ایک باطل، اور سکوت ایک حصولِ مقصود کے لیے، دوسرے غفلت میں۔ تو جسے بیان کرنا درپیش ہو تو اس کی گفتگو اور خاموشی میں دیکھا جائے گا۔ اس کا کہنا حق ہے۔ تو یہ بولنا چپ رہنے سے اچھا ہے اور اگر کلام باطل ہے تو بولنے سے چپ رہنا اچھا ہے اور اگر حجاب اور غفلت سے خاموش ہے تو بولنا چپ رہنے سے بہتر ہے۔ اور بہت لوگ اس پر حیران ہیں۔ ایک گروہ مدعیوں سے بیہودہ اور ہوس کا شکار ہے۔ وہ جو کہتا ہے کہ بولنا چپ رہنے سے افضل ہے، اور جاہلوں کا گروہ جو منارہ اور کنویں میں فرق نہیں کرتا وہ خاموشی کو بولنے سے اچھا کہتا ہے۔ یہ دونوں کسی کو بلائیں یا خاموش کرائیں، ایک سے ہیں۔ اَلَّا مَنْ نَطَقَ اَصَابَ اَوْ غَلِطَ وَ مَنْ اُنْطِقَ عُصِمَ مِنَ الشَّطَطِ "جو کلام کرتا ہے یا خطا کرتا ہے یا صحیح بولتا ہے اور جو بُلا رہا ہے وہ خطا و خلل سے بچا ہوا ہے۔" جبکہ ابلیس لعنۃ اللہ علیہ نے کہا: ﴿اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ﴾ "میں اس سے بہتر ہوں۔" اور آدم علیہ السلام بولے: ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا﴾ "اے ہمارے رب ہم نے ظلم کیا اپنی جان پر۔" یہ مدعیانِ طریقت اپنے کلام میں اجازت یافتہ ہو کر اضطرار میں ہوتے ہیں اور خاموشی میں شرم زدہ اور بیچارہ ہوتے ہیں: مَنْ كَانَ سُكُوْتُهٗ حَيَاءً كَانَ كَلَامُهٗ حَيٰوةً۔ "جو حیاء کے باعث خاموش رہا، اس کا کلام دل کو زندہ کرتا ہے۔" کیونکہ یہ دیکھ کر کلام کرتا ہے اور بغیر دیکھے کلام کرنا معیوب جانتا ہے اور نہ بولنا بولنے سے زیادہ پسند کرتا ہے، جب تک ہوش میں ہو اور جب بے خود ہو جاتا ہے تو لوگ اس کا بولنا جان پر لکھتے ہیں۔ اسی بناء پر پیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مَنْ كَانَ سُكُوْتُهٗ ذَهَبًا كَانَ كَلَامُهٗ لِغَيْرِهٖ مُذْهَبًا۔ "جس کا چپ رہنا بحالتِ بے خودی ہو اس کا کلام غیر کے لیے مذہب ہوتا ہے۔" تو طالبِ ربانی کو چاہیے کہ عبودیت میں محو ہو کر چپ رہے تاکہ ربانی آدمی جس کا کلام ربوبیت سے ہو، کلام کرے اور اس کا کلام مریدوں کے دل شکار کرے اور کلام میں یہ ادب ہے کہ بدون امر کے نہ کہے اور امر سے باہر بھی نہ کہے اور چپ رہنے میں یہ ادب ہے کہ جاہل نہ ہو اور نہ جہالت پر راضی اور نہ غافل ہو۔

۵۶۲

مرید کو لازم ہے کہ پیروں کی بات میں دخل اور تصرف نہ کرے اور عبارت عجیب اور پراگندہ نہ رہے جیسے زبان سے کلمۂ شہادت کہا ہے اور اقرارِ توحید کیا ہے۔ اسی طرح جھوٹ اور غیبت نہ کرے اور مسلمانوں کو رنج نہ دے اور درویشوں کو صرف نام سے نہ بلائے اور درویش کے چپ رہنے کی شرط یہ ہے کہ حق کے سوا وہ کچھ نہ کہے اور اس کی بہت شاخیں ہیں اور بیشمار لطیفے۔ لیکن میں اسی پر اکتفاء کرتا ہوں تاکہ کتاب طویل نہ ہو جائے۔ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ