السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کشف المحجوب

حصہ ۱۴ — سولھواں باب — کشفِ حجابِ ہشتم: حج

حصہ ۱۴
صفحہ ۴۸۸

سولھواں باب

محبت اور متعلقاتِ محبت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَیُحِبُّوْنَهٗ﴾ "اے ایمان والو! جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ سے محبت کرے گی اور اللہ ان سے محبت کرے گا۔" اور فرماتا ہے: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ﴾ "اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اوروں کو اللہ کا مدِ مقابل بناتے ہیں، محبت کرتے ہیں ان سے جیسے محبت کرنا چاہیے اللہ سے۔" اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام نے مجھے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

مَنْ اَهَانَ لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ بَارَزَنِیْ بِالْمُحَارَبَةِ وَمَا تَرَدَّدْتُ فِیْ شَیْءٍ كَتَرَدُّدِیْ فِیْ قَبْضِ نَفْسِ عَبْدِیَ الْمُؤْمِنِ یَكْرَهُ الْمَوْتَ وَاَكْرَهُ مَسَاءَتَهٗ وَلَا بُدَّ لَهٗ مِنْهُ وَمَا یَتَقَرَّبُ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ اَدَاءِ مَا افْتَرَضْتُ عَلَیْهِ وَلَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّهٗ فَاِذَا اَحْبَبْتُهٗ كُنْتُ لَهٗ سَمْعًا وَّبَصَرًا وَّیَدًا وَّمُؤَیِّدًا۔

۴۸۹

"جس شخص نے میرے ولی کی توہین کی اس نے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کیا۔ مجھے کسی شے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ ایک مومنِ کامل کی روح نکالنے میں، کیونکہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے، میں تکلیف دینا ناپسند کرتا ہوں، اس کے لیے موت کے بغیر چارہ نہیں اس لیے اس پر موت طاری ہوتی ہے۔ میرے زیادہ قریب وہی بندہ ہوتا ہے جو میری فرض کی ہوئی چیزوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرتا ہے اور نوافل کے ذریعے میرا بندہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں اور جب میں اُسے محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کے کان، آنکھ، ہاتھ اور زبان بن جاتا ہوں اور اس کی تائید کرنے والا ہو جاتا ہوں۔"

اور فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام نے یہ بھی کہا

مَنْ اَحَبَّ لِقَاءَ اللّٰهِ اَحَبَّ اللّٰهُ لِقَاءَهٗ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللّٰهِ كَرِهَ اللّٰهُ لِقَاءَهٗ

"جو اللہ سے ملنا پسند کرے اللہ اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنا پسند نہ کرے اللہ اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔"

اور فرمایا

اِذَا اَحَبَّ اللّٰهُ الْعَبْدَ قَالَ لِجِبْرِیْلَ یَا جِبْرِیْلُ اِنِّیْ اُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبَّهٗ فَیُحِبُّهٗ جِبْرِیْلُ ثُمَّ یَقُوْلُ جِبْرِیْلُ لِاَهْلِ السَّمَاءِ اِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی قَدْ اَحَبَّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْهُ فَیُحِبُّهٗ اَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ یُوْضَعُ لَهُ الْقَبُوْلُ فِی الْاَرْضِ فَیُحِبُّهٗ اَهْلُ الْاَرْضِ وَفِیْ بَعْضِ الرِّوَایَاتِ مِثْلُ ذٰلِكَ۔

"اور جب اللہ تعالیٰ کسی کو دوست بناتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیتا ہے کہ میں فلاں کو اپنا دوست بناتا ہوں تو بھی اُسے اپنا دوست رکھ، تو جبرئیل علیہ

۴۹۰

السلام اسے محبوب کرتے ہیں اور آسمان والوں کو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں کو دوست رکھتا ہے پھر آسمان والے اُسے دوست رکھتے ہیں۔ پھر زمین بھر میں وہ مقبول ہو جاتا ہے، اور ایسی روایتیں چند جگہ ہیں۔"

اب سمجھ لو کہ محبتِ الٰہی بندہ کے حق میں، اور بندہ کی محبت اللہ تعالیٰ کے ساتھ، کتاب و سنت سے ثابت ہے اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو دوست ہیں انہیں اللہ تعالیٰ بھی دوست رکھتا ہے بلکہ اس کے دوستوں کے دوستوں کو بھی محبوب رکھتا ہے اور لغوی تحقیق یہ ہے کہ محبت ماخوذ حبہ سے بکسرِ حا، اور وہ ان بیجوں کو کہتے ہیں جو صحرا میں زمین پر گر جاتے ہیں، تو حُبّ اسی لیے کہتے ہیں کہ اہلِ محبت انہیں میں سے ہیں، جیسے نباتِ صحرا انہیں دانوں میں ہوتی ہے۔

جس طرح تخمِ صحرا میں بکھیر اجا تا ہے اور خاک میں پنہاں ہو جاتا ہے۔ پھر بارشیں اس کی کونپلیں نکالتی ہیں اور آفتاب اسے گرم کر کے سرما و گرما کے موسم میں اسے سرسبز رکھتا ہے اور اس پر موسمی تغیرات اثر انداز نہیں ہوتے حتیٰ کہ ان کا موسم آتا ہے۔ وہ اُگتی ہے اور پھول پھل لاتی ہے۔ ایسے ہی محبت دل میں مسکن پکڑتی ہے اور حضور و غیبت، بلا و محنت، راحت و لذت، فراق و وصال سے متغیر نہیں ہوتی۔ اس معنی میں یہ شعر خوب ہے

یَا مَنْ سَقَامُ جُفُوْنِهٖ لِسَقَامِ عَاشِقِهٖ طَبِیْبُ جَرَتِ الْمَوَدَّةُ فَاسْتَوٰی عِنْدِیْ حُضُوْرُكَ وَالْمَغِیْبُ

"اے وہ ذات کہ اس کی پلکوں کی مستی اس کے عاشق کی بیماریوں کے لیے طبیب ہے۔ جاری ہوگئی دوستی تو برابر ہے میرے نزدیک حضور و غیب۔"

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ حُبّ ایسی حب (جوہڑ) سے مشتق ہے جس میں پانی بھرا ہوا ہو اور باہر کے چشمے کا پانی اس میں نہ آ سکے اور اندر کا پانی اس کا مانع ہو۔ ایسے ہی دوستی ہے کہ جب طالب کے دل میں آ جائے اور بھر جائے تو بجز حدیثِ دوست اس کے دل میں کسی غیر کی جگہ ہی نہ ہو۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے خلیل اللہ علیہ السلام کو خلعتِ خلت سے ایسا نوازا کہ انہیں خدمتِ حق تعالیٰ کے سوا کسی کی گنجائش نہ تھی اور تمام عالم ان سے محجوب تھا۔ حتیٰ کہ اس ایک ذات کی محبت میں دشمن بھی محجوب تھا اور حال گفتار نے ان کی ہم کو خبر دی اور فرمایا: ﴿فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ﴾ "تحقیق وہ میرے دشمن ہیں مگر ربّ العالمین۔"

اور حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: سُمِّیَتِ الْمَحَبَّةُ لِاَنَّهَا تَمْحُوْ مِنَ الْقَلْبِ مَا

۴۹۱

سِوَی الْمَحْبُوْبِ۔ "محبت کا نام محبت اس لیے رکھا گیا کہ وہ دلوں سے ماسوائے محبوب کے سب کو مٹا دیتی ہے۔" اور یہ بھی کہتے ہیں کہ حب نام ان چار لکڑیوں کا ہے جو چوکٹھے کی شکل میں جوڑ کر اس پر پانی کا کوزہ رکھتے ہیں (گھڑونچی) اس لیے کہ محبت، عزت، ذلت، رنج، راحت، بلا، محنت، جفاء، وفا، دوست کے تحمل کا نام ہے اور وہ محبت کرنے والے پر گراں نہیں ہوتے تو اس کا کام وہ ہے جو لکڑی کے چوکٹھے کا کام ہے کہ چاروں جڑ کر بوجھ کوزے کا اٹھاتی ہیں۔

تو محبت کی ترکیب اور پیدائش بدوست سے برداشت کرنے کو ہوتی ہے۔ اس پر کسی نے کہا

اِنْ شِئْتِ جُوْدِیْ وَاِنْ شِئْتِ فَمُنِعِیْ كِلَاهُمَا مِنْكِ مَنْسُوْبٌ اِلَی الْكَرَمِ

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حَب سے مشتق ہے اور اس کی جمع حِبّہ ہے اور حبہ دل محلِ لطیف ہے اور قوامِ دل اس کے ساتھ ہے اور اقامتِ محبت بھی اسی سے ہے۔ تو محبت کو اس کے نام کی جگہ حب کہتے ہیں اس لیے کہ اس کا قرار حبۂ دل میں ہے اور عرب عموماً ہر چیز کا نام اس کے موضع کے نام پر کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ماخوذ ہے: حَبَاءُ الْمَاءِ وَغَلَیَانُهٗ عِنْدَ الْمَطَرِ الشَّدِیْدِ "پانی کے جوش سے اور اس کے اُبلنے سے تیز بارشوں کے وقت۔" تو محبت کو حب اسی لیے کہتے ہیں: لِاَنَّهٗ غَلَیَانُ الْقَلْبِ عِنْدَ الْاِشْتِیَاقِ اِلٰی لِقَاءِ الْمَحْبُوْبِ "کہ اس کا جوش، دل میں اس اشتیاق پر ہوتا ہے کہ وہ محبوب سے ملے۔" اور اشتیاقِ رویتِ دوست میں مضطرب ہوتا ہے جیسے اجسام ارواح کے لیے مشتاق ہوتے ہیں۔ یا جیسے قیامِ جسم روح پر ہوتا ہے اور قیامِ دل محبت کے ساتھ اور قیامِ محبت رویت و وصلِ محبوب سے۔ اس معنی میں کسی نے کہا ہے

اِذَا مَا تَمَنَّی النَّاسُ رَوْحًا وَّ رَاحَةً تَمَنَّیْتُ اَنْ اَلْقَاكَ یَا عِزُّ خَالِیًا

اور یہ بھی کسی نے کہا ہے کہ حب ایک وہ نام ہے جو دوستی کی صفائی پر موضوع ہے۔ جیسے عرب صفاء بیاض چشمِ انسان کو "حَبَّةُ الْاِنْسَانِ" کہتے ہیں۔ ایسے ہی صفائی سوادِ دل کو "حَبَّةُ الْقَلْبِ"۔ تو یہ ایک محلِ محبت ہے اور وہ ایک محلِ رویت۔ اسی وجہ میں کہتے ہیں کہ دل اور دیدۂ دوستی میں مقارن ہوتے ہیں اور اس معنی میں کسی نے کہا

اَلْقَلْبُ یَحْسُدُ عَیْنِیْ لَذَّةَ النَّظَرِ وَالْعَیْنُ تَحْسُدُ قَلْبِیْ لَذَّةَ الْفِكَرِ

۱۔ آنکھ کی سفیدی

۴۹۲

اچھی طرح یاد رکھو کہ محبت کے لفظ کا استعمال علماء کے طبقہ میں چند معنی پر ہوتا ہے۔ ایک بمعنی ارادت جو محبوب کی طرف ہو جس سے سکونِ نفس اور آرزوئے دل اور ہوائے نفسانی کا میلان وانس اور تعلق پیدا کیا جائے۔ یہ تو قدماء سے ممنوع و ناروا ہے اور یہ عامۂ مخلوق سے ایک دوسرے ابناء جنس میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کی محبت اور روابط سے برتر و بالا ہے۔ تَعَالَی اللّٰهُ عُلُوًّا كَبِیْرًا۔

دوسرے محبت بمعنی احسان ہے جو بندہ پر من جانب اللہ وارد ہوتی ہے اور اس سے بندہ برگزیدہ کر لیا جاتا ہے جس کی بدولت وہ کمالِ ولایت حاصل کر لیتا ہے اور گوناگوں کرامتوں سے مخصوص فرما لیتا ہے۔

تیسری قسم بمعنی ثنائے جمیل ہے جو بندہ کی کی جائے۔

ایک گروہ متکلمین کا کہتا ہے کہ محبتِ حق کی ہمیں خبر دی گئی ہے۔ اگر کتاب و سنت کے ذریعہ وہ ہمیں نہ پہنچتی تو اس کا وجود حق تعالیٰ کے ساتھ معلوم کرنا بذریعہ عقل محال تھا۔ بہر حال ہم اُسے عقیدتاً تسلیم کرتے ہیں لیکن اس میں تصرف کرنے کے معاملہ میں ہم توقف کرتے ہیں اور درحقیقت محبت کا اطلاق حق تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حقیقتاً صحیح نہیں ہے بلکہ یہ صرف اقاویل ہیں کہ ہم انہیں یاد کر لیں اور میں تمہیں اس کی حقیقت بیان کرتا ہوں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی

اچھی طرح سمجھ لو کہ بندہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت کا جہاں بھی ذکر ہے یہ اس کی طرف سے ارادۂ خیر اور رحمت کرنے کے معنی میں ہے، جو بندہ پر کی جائے۔ اور محبت ایک نام ہے ارادۂ رضاءِ الٰہی کا۔ جیسے رضا اور سخط، رحمت اور رافت اور مثل اس کے جو الفاظ بھی اس قسم کے ہیں ارادۂ حق کے سوا کسی جگہ اور معنی نہیں لینے چاہئیں اور ارادت بھی ایک صفتِ قدیم ہے کہ اسے مشیتِ حق کے ساتھ منتسب کر سکتے ہیں تو بطورِ مبالغہ اظہارِ مشیتِ حق میں اس قسم کے الفاظ مستعمل ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ محبتِ الٰہی بندہ کے لیے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ پر نعمتیں کافی وافی نازل فرمائے اور اسے دنیا و عقبیٰ میں ثوابِ بے نہایت عطا فرمائے اور عذاب سے مامون کرے اور انتہاء اس کی یہ ہے کہ بندہ کو معصیت سے معصوم رکھے (جیسے انبیاء کرام) اور اس کے بلند احوال اور اعلیٰ مقامات کر دے اور اس کا رازِ سرّی اغیار سے پاک فرمائے اور عنایتِ ازلی اس کے لیے لازم فرمائے تا کہ وہ کل سے مجرد ہو جائے اور طلبِ رضائے حق میں اُسے منفرد کر دے۔

جب اللہ تعالیٰ بندہ کو اس معنی میں مخصوص کر لیتا ہے اور وہ تخصیص اس پر خاص ہو جاتی ہے

۴۹۳

تو اس کا نام مذہبِ محاسبی اور جنید میں "محبت" رکھا گیا ہے اور ایک جماعت اس کی مؤید ہے اور فقہا و متکلمین سنت بھی اس پر ہیں۔ اور جو کہتے ہیں کہ محبتِ حق جل مجدہ، بمعنی ثناء جمیل ہے جو بندہ کے لیے اس کے کلامِ حق نظام سے واضح ہو اور اللہ تعالیٰ کا کلام نامخلوق ہے۔ اور جو کہتے ہیں کہ محبت بمعنی احسانِ الٰہی ہے وہ بندہ پر من جانب اللہ ہوتا ہے اور معنی کی رو سے یہ سب اقوال باہم قریب المعنی ہیں۔ لیکن بندہ کی محبت اللہ تعالیٰ سے وہ ہے جو مومنِ مطیع کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور تعظیم و تکریم کے معنی میں مستعمل ہوتی ہے تا کہ بندہ محبوب کی رضا طلب کرے اور اس کی طلبِ رویت میں محو اور بے خبر ہو جائے اور آرزوئے قربت میں بے قرار ہو اور اس کے دل میں اس کے سوا کسی کی گنجائش نہ ہو اور اسی کے ذکر میں گم رہے اور اس کے ماسوا سب سے بیزار ہو اور اس کے تصور میں آرام اس پر حرام ہو اور تمام مالوفات و مستانسات منقطع ہو جائیں اور حرص و آز سے اعراض ہونے لگے اور اپنے سلطانِ حقیقی سے دوستی رکھے اور اپنے دوست کے حکم کے آگے گردنِ اطاعت جھکائے رکھے اور اس کے اوصافِ کمال کو پہچانے۔ اور یہ روا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کی محبت کو باہمی مخلوق کی محبت کی طرح جانے۔ اس لیے اس میں احاطہ و ادراکِ محبوب کی طرف میلان ہوتا ہے اور یہ صفت اجسام سے ہے۔ محبانِ حق اس کے قرب کی آرزو میں رہتے ہیں نہ کہ طالبانِ کیفیتِ ذات۔ اس لیے کہ طالب بخود قائم ہوتا ہے اور دوستی میں، اور طالب فنا ہو کر محبوب کے ساتھ قائم ہیں۔ اور عموماً دوستانِ حق میدانِ محبت میں ہلاک و متقہور ہوتے ہیں۔ تو محبت دو طرح پر ہوتی ہے: ایک جنس کی جنس سے محبت اور میلانِ نفس کا وطن کی طرف ہے۔ دوسرے ناجنس کی محبت جس میں محبوب کے اوصاف سے کسی صفت کے ساتھ آرام و انس کرے۔ جیسے بدون کلام سننا، بدون آنکھ دیکھنا اور جو گرویدۂ محبتِ حق ہیں وہ دو قسم ہیں

ایک وہ کہ حق کا انعام اور احسان اپنے شاملِ حال دیکھے اور اس کے دیکھنے سے منعم اور محسن کی محبت کا تقاضا ہو۔ دوسرا وہ جو ہر انعام کو دوستی کے حق میں حجاب جانے اور نعمت کے دیکھنے سے اُن کی راہ منعم کی طرف ہو اور یہ راہ منعم سے زیادہ بلند ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

لفظِ محبت تمام اصنافِ خلق میں مروّج اور تمام زبانوں میں مشہور ہے اور اربابِ لغات سے بھی مذکور ہے اور عقلاء کی تمام صنفیں اپنے اندر محبت مخفی نہ کر سکے۔ اور اس گروہ کے مشائخ سے سمنون المحب رضی اللہ عنہ ہیں، جو محبت کے مسئلہ میں خاص مذہب و مشرب مخصوص رکھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں محبتِ راہِ حق تعالیٰ میں اصلِ اصول ہے اور اس کے احوال و مقامات کی منزلیں ہیں اور

۴۹۴

ہر منزل میں جبکہ طالب اس میں ہو، زوال روا ہو سکتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی محبت میں زوال جب تک طالب اس محل میں ہے، روا نہیں ہو سکتا۔ اور تمام مشائخ اس پر متفق ہیں۔

لیکن چونکہ لفظِ محبت عام تھا اور اربابِ ظاہر نے چاہا کہ اس کے معنی کا حکم خلقت میں چھپائیں تو اس کی تحقیق و جودِ معنی میں اس کے اسم کو بدل ڈالا۔ چنانچہ انہوں نے صفاء محبت کا نام صفوت رکھا اور محبّ کو صوفی۔

ایک گروہ نے حبیب کا اختیار ثابت کرنے میں محبت کے اختیار کو ترک کرنا ہی فقر بتایا اور فقیر کا نام محبّ رکھا۔ اس لیے کہ محبت میں درجات بہت کم درجہ موافقت ہے اور حبیب کی موافقت اور حب مخالفت کے برخلاف ہے۔ اور میں نے ابتداءِ کتاب فقر اور صفوت کا حکم بیان کر دیا ہے اور اسی بارہ میں پیر رگوار رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے: اَلْحُبُّ عِنْدَ الزُّهَّادِ اَظْهَرُ مِنَ الْاِجْتِهَادِ۔ "حب زاہدوں کے نزدیک شہرت میں اجتہاد سے زیادہ ظاہر ہے۔" وَعِنْدَ التَّائِبِیْنَ اَوْجَدُ مِنْ اَنِیْنٍ وَّحَنِیْنٍ۔ "اور تائبوں کے نزدیک نالہ و فریاد سے زیادہ آسان ہے۔" وَعِنْدَ الْاَتْرَاكِ اَشْهَرُ مِنَ الْفُتْرَاكِ۔ "اور ترکوں کے نزدیک ان کی آنکہ سواری سے زیادہ مشہور ہے۔" وَسَبْیُ الْمُحِبِّ عِنْدَ الْهُنُوْدِ اَظْهَرُ مِنْ سَبْیِ الْمَحْمُوْدِ وَزَخْمٍ وَّنَهْبٍ۔ "اور محبت کی قیدِ ہنود کے نزدیک محمود کی قید اور زخم اور لوٹ مار سے زیادہ مشہور ہے۔" وَقِصَّةُ الْحُبِّ وَالْمُحِبِّ عِنْدَ الرُّوْمِ اَشْهَرُ مِنَ الصَّلِیْبِ "اور قصہ حب و حبیب روم میں صلیب سے ظاہر تر ہے۔" وَقِصَّةُ الْحُبِّ فِی الْعَرَبِ اَدَبٌ فِیْ كُلِّ حَیٍّ مِّنْهُ طَرَبٌ اَوْ وَیْلٌ اَوْ هَرَبٌ اَوْ حُزْنٌ۔ "اور قصہ محبت عرب میں ہر جماعت کے اندر یا خوشی یا غم یا نیکی یا افسوس کے ساتھ موجود ہے۔"

ان تمام ضرب الامثال سے یہ مراد ہے کہ کوئی جنس انسان سے نہیں جسے غیب میں کام نہ پڑا ہو، کوئی دل ایسا نہیں جس میں فرحتِ محبت یا زخمِ محبت نہ ہو اور کوئی ایسا نہیں جس کا دل اس شراب سے مست نہ ہو یا اس کے غلبہ سے مخمور نہ ہو۔ اس لیے کہ دل مرکب ہی اطمینان و اضطراب سے ہے اور عقد دوستی کی شراب اس میں لازمی ہے، بلکہ دل کے لیے محبت طعام و شراب کے بجائے ہے اور جو دل خالی از محبت ہے وہ دل دل ہی نہیں بلکہ خراب اور ویرانہ ہے۔ اس کے حاصل کرنے یا دور کرنے میں کسی تکلیف کو راہ نہیں اور نفس کو ان لطائف سے جو دل پر گزرتے ہیں اطلاع نہیں۔

اور عمرو بن عثمان رضی اللہ عنہ نے محبت کے باب میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دل کو جسم سے سات ہزار سال پہلے پیدا فرمایا اور مقامِ قرب میں رکھا اور جانوں کو دلوں سے سات ہزار سال پہلے پیدا فرما کر درجۂ وصل میں رکھ کر ہر روز تین سو ساٹھ بار ان پر ظہورِ جمال فرمایا اور انہیں تین

۴۹۵

سو ساٹھ بار نظر سے سرفراز کیا اور کلمۂ محبت اسے سنایا اور تین سو ساٹھ لطیفۂ انس اس پر ظاہر و منکشف کیے۔ حتیٰ کہ کائنات پر نگاہ کر کے فیصلہ کیا کہ اپنے سے زیادہ کسی کو اس کا اہل نہ پایا تو اس میں فخر اور غرور پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کا امتحان فرمایا اور سر کو جان میں مقید کیا اور جان کو دل میں اور دل کو تن میں رکھ کر عقل سے انہیں مرکب کیا۔ پھر انبیاء کرام معبوث فرمائے اور اپنے احکام بھیجے تو ہر ایک اپنے اپنے مکان میں اسی کا متلاشی ہوا۔ حق تعالیٰ نے انہیں نماز کا حکم دیا تا کہ جسم نماز میں ہو اور دل محبت میں اور جان قربت میں اور سر وصل میں۔

غرضیکہ محبت کے لیے الفاظ نہیں جو عبارت میں لائے جا سکیں۔ اس لیے کہ محبت حال ہے اور حال قال میں نہیں آ سکتا۔ اگر سارا جہان مل کر محبت کو اپنی طرف کھینچنا چاہے تو ممکن نہیں اور کوشش کرے کہ اُسے دفع کر دے تو بھی جہان بھر کے قبضہ میں نہیں۔ کیونکہ وہ وہبی چیز ہے، نہ مکاسب کے ذریعہ آتی ہے نہ دفع ہو سکتی ہے۔ وہ الٰہی ہے اور انسان لاہی اور لاہی، الٰہی کا ادراک نہیں کر سکتا۔

لیکن عشق میں مشائخ کے بہت اقوال ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ بندہ کو عشقِ حق ہو سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا کسی پر عاشق ہونا ناروا نہیں اور بندہ کو حق تعالیٰ سے روکا گیا ہے اور حق تعالیٰ بندہ سے نہیں روکا جا سکتا۔ تو عشق بندہ پر جائز ہے اور حق تعالیٰ پر نہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ بندہ کا حق تعالیٰ پر عاشق ہونا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ عشق نام ہے حد سے متجاوز ہونے کا اور حق تعالیٰ محدود نہیں کہ اس سے تجاوز ہو سکے۔ پھر متاخرین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا عشق دونوں جہانوں میں درست نہیں ہو سکتا۔ مگر ادراکِ ذات کا عشق ممکن ہے تو جو مدرک ہو وہ معشوق ہو سکتا ہے اور ذاتِ حق تعالیٰ کا ادراک ممکن ہی نہیں۔ لہٰذا عشق بھی ممکن نہیں۔ اور یہ بھی قول ہے کہ عشق بلا دیدار صورت نہیں ہوتا اور محبت سننے سے بھی ہو سکتی ہے۔ تو جب عشق نظر سے ہوتا ہے تو حق تعالیٰ پر روا نہیں کیونکہ دنیا میں کوئی حق تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکتا۔ جب یہ سمجھ لیا کہ وہ دیکھنے سے بالا ہے تو ہر ایک نے عشقِ حق کو ممنوع کہہ دیا اس لیے کہ حق تعالیٰ شانہٗ ادراک و حس سے بالا ہے اس لیے اس کا عشق روا نہیں۔

جب اللہ تعالیٰ اپنے افعال و صفات سے احسان کرنے والا ہے اور وہ اپنے ولیوں پر احسان و اکرام فرماتا ہے تو اس کی محبت روا ہوئی اور عشق ممنوع۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جب یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام کی جدائی کے سبب مستغرقِ محبت ہوئے اور نظر جاتی رہی تو بحالتِ

۴۹۶

فرقت ان کے پیرہن کی بُو پا کر آنکھیں روشن ہو گئیں۔ اور جب زلیخا کو یوسف علیہ السلام کے عشق نے ہلاک کیا یا جب تک وصل نہ پایا آنکھیں روشن نہ ہوئیں۔

یہ عجیب معاملہ ہے کہ ایک خواہشِ نفسانی کی پیروی کرتا ہے اور ایک خواہشِ نفسانی چھوڑتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے عشق کی ضد ہے اور حق تعالیٰ کی ضد نہیں۔ اس لیے عشق اس پر جائز ہونا چاہیے اور اس پر بھی دلائل ہیں لیکن بوجہِ اختصار اس پر کفایت کی گئی۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ

اس گروہ کے مشائخ نے دوستی کی تحقیق میں بہت سی باتیں بیان کی ہیں۔ انہیں سے کچھ بیان کرتا ہوں، تمام کا احصاء تو نہیں ہو سکتا تا کہ تبرکاً اس جگہ آ جائے۔ ان شاء اللہ العزیز۔ حضرت استاد ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اَلْمَحَبَّةُ مَحْوُ الْمُحِبِّ بِصِفَاتِهٖ وَاِثْبَاتُ الْمَحْبُوْبِ بِذَاتِهٖ "محبت یہ ہے کہ محبّ اپنی صفتوں کو طلبِ محبوب میں محو کر دے اور محبوب کا اثبات اس کی ذات سے قائم کرے۔" یعنی جب محبوب باقی ہوگا تو محبّ لازمی فانی ہو جائے گا۔ اس لیے کہ بقاءِ ذاتِ محبوب، غیر محبوب کی نفی کر کے اپنا تصرف مطلق کرے گا اور صفتِ محبت فنا ہو تو ذاتِ محبوب کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ اور یہ ہرگز روا نہیں کہ محبت اپنی صفت میں قائم رہے کیونکہ جو اپنی صفت سے قائم ہوتا ہے وہ جمالِ محبوب سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور جب یہ جان لیتا ہے کہ اس کی حیات جمالِ محبوب سے ہے تو وہ بالضرور اسے اپنی صفات کی نفی اور محبوب کی ذات کا اثبات مطلوب ہوگا۔

اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ اپنی صفت ثابت ہونے سے محجوب عن المحبوب ہو جائے گا۔ اور مشہور ہے کہ حسین بن منصور رحمۃ اللہ علیہ کو جب سولی پر چڑھایا گیا تو ان کی زبان سے آخری جملے یہ نکلے تھے: "حُبُّ الْوَاحِدِ اِفْرَادُ الْوَاحِدِ" یعنی "ایک کی دوستی ایک کو یگانہ ماننا ہے۔" محبّ کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کی ہستی دوستی کی راہ سے صاف ہو جائے اور نفس کا اختیار اس کی حالتِ شوق میں ہو اور وہ متلاشی رہے۔

ابو یزید بسطامی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اَلْمَحَبَّةُ اِسْتِقْلَالُ الْكَثِیْرِ مِنْ نَفْسِكَ وَ اسْتِكْثَارُ الْقَلِیْلِ مِنْ حَبِیْبِكَ۔ "محبت یہ ہے کہ اپنی اکثر کو قلیل جانے اور دوست کی قلت کو کثرت سمجھے۔" اور بندہ کو حق طریقہ سے یہ سمجھنا ضروری ہے۔ اس لیے نعمتِ دنیا کو جو بندہ کو ملتی ہے، قلیل فرمایا ہے: ﴿قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ﴾ "فرما دیجیے اے محمد ﷺ! دنیا کی متاع کم

۴۹۷

ہے۔" اور اس قلیل متاع میں تھوڑی عمر کے باوجود بندہ کو تھوڑی ذات کو بہت فرمایا ہے: ﴿وَالذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ﴾ "یعنی ذکر کرنے والے اللہ کا بہت زیادہ، اور ذکر کرنے والیاں" تا کہ سب کو معلوم ہو جائے کہ حقیقی دوست اللہ تعالیٰ ہے اور ایسی دوستی خلقت سے صحیح نہیں۔ اس لیے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ سے بندہ کو ملے وہ کم نہیں اور خلقت سے جو کچھ ہو وہ بہت کم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے بندہ کی کم یاد کو بہت فرمایا اور اپنی بے حد نعمتوں کو کم کہا۔

حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلْمَحَبَّةُ مُعَانَقَةُ الطَّاعَاتِ وَمُبَایَنَةُ الْمُخَالَفَاتِ۔ "محبت یہ ہے کہ محبوب کی اطاعت سے معانق رہے اور مخالف امور سے مجتنب رہے۔" اس لیے کہ جب دل میں دوستی کی قوت زیادہ ہوتی ہے تو دوست کا حکم آسان ہو جاتا ہے۔ اور جو ملحدین کا یہ قول ہے کہ بندہ دوستی میں اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ اطاعت اسے معاف ہو جاتی ہے، یہ خالص زندقہ ہے۔

اس لیے کہ یہ محال ہے کہ صحتِ عقل کی حالت میں تکلیف کا حکم بندہ سے ساقط ہو جائے۔ اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ شریعتِ محمدیہ کبھی منسوخ نہیں ہوتی اور جب ایک شخص سے صحتِ عقل کی حالت میں اس شریعت کا حکم ساقط ہونا جائز ہو تو سب سے جائز ہوگا۔ یہ خیال خالص زندیقوں کا ہے البتہ مدہوش اور مغلوب العشق افراد کا اور حکم ہے (جیسے مجذوب) اور معتوہ العقل (پاگل مجنون) یا اس قسم کے دیگر امراض کا عذر۔ لیکن یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی دوستی میں یہ آزادی دے کہ اطاعت کی تکلیف سے اُسے مستثنیٰ کر کے حکمِ اطاعت اس پر ساقط کر دے بلکہ جتنی محبت زیادہ قوی ہوگی، اطاعت کرنے کی اتنی ہی توفیق اس پر آسان ہوگی۔

یہ حقیقتاً حضور ﷺ کی حالت میں ظاہر ہے کہ جب حق تعالیٰ نے لَعَمْرُكَ فرما کر جانِ پاک کی قسم یاد فرمائی تو حضور ﷺ نے رات دن سب کام چھوڑ کر عبادت زیادہ فرمائی، حتیٰ کہ پائے اقدس متورم ہو گئے۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے: ﴿طٰهٰ ۚ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی﴾ "اے ماہِ کامل! ہم نے قرآن کریم تم پر اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ تمہیں مشقت میں ڈالے" کا خطاب ہوا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تعمیلِ حکم کرتے ہوئے بجا آوریِ حکم کا خیال نہ رہے۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اِنَّهٗ لَیُغَانُ عَلٰی قَلْبِیْ وَاِنِّیْ لَاَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ فِیْ كُلِّ یَوْمٍ سَبْعِیْنَ مَرَّةً "بے شک میرا دل محجوب ہو جاتا ہے اور میں ہر روز ستر مرتبہ اللہ سے بخشش طلب کرتا

۳۔ اس حدیثِ پاک کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔

فائل 510 کے نتیجے میں وہی "ip_reminder" پھر آئی۔ یہ آپ کی طرف سے نہیں ہے، اس لیے میں اس پر عمل نہیں کر رہا۔ یہ صفحات 498 تا 507 کا اردو متن ہے۔ صفحہ 497 کا آخری جملہ ("مجھے ... کرتا") صفحہ 498 کی پہلی سطر پر "ہوں" سے مکمل ہوتا ہے۔

۴۹۸

ہوں۔" اور یہ بایں سبب ہوتا تھا کہ حضور ﷺ اپنے اعمال پر نظر نہیں فرماتے تھے تا کہ اپنی اطاعت پر کوئی گمان نہ ہو جائے بلکہ امرِ حق کی عظمت کی طرف نگاہ فرماتے اور یہ عرض کرتے کہ میرے اعمال اس جناب کے لائق نہیں۔

سمنون محبّ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ذَهَبَ الْمُحِبُّوْنَ لِلّٰهِ بِشَرَفِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ لِاَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔ "اللہ کے محبّ دنیا و آخرت کی شرف کے طرف گئے ہیں کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا: انسان اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے وہ محبت رکھے۔" تو یہ لوگ دنیا اور عاقبت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتے ہیں اور اس میں خطار وانہیں مگر جو پہلے ہو گئیں تو دنیا کا شرف وہ ہے کہ حق تعالیٰ ان کے ساتھ ہے اور عاقبت کا شرف یہ کہ حق کے ساتھ ہوتے ہیں۔

اور حضرت یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حَقِیْقَةُ الْمَحَبَّةِ مَا لَا یَنْقُصُ بِالْجَفَاءِ وَلَا یَزِیْدُ بِالْبِرِّ وَالْعَطَاءِ۔ "محبت کی حقیقت یہ ہے کہ جفا، یار سے کم نہ ہو اور بخشش، عطا سے زیادہ نہ ہو۔" یعنی اصلی محبت وہ ہے جو ظلم اور سختی سے کم نہ ہو۔ اس لیے کہ دونوں باتیں محبت میں سبب ہیں اور سببِ وجود اعیان کی حکمت میں گم ہوتے ہیں اور دوست دوست کی بلا پر خوش ہوتا ہے اور محبت کی راہ میں جفا اور وفا برابر ہیں۔ جب محبت حاصل ہو جائے تو وفا مثلِ جفا اور جفا مثلِ وفا ہوتی ہے اور حکایتوں میں مشہور ہے کہ شبلی علیہ الرحمہ کو جنون کی تہمت سے شفا خانہ لے گئے اور آپ کو قابو کیا تو ایک گروہ آپ کی زیارت کو آیا۔ آپ نے فرمایا: مَنْ اَنْتُمْ فَقَالُوْا اَحِبَّاءُكَ۔ فَرَمَا هُمْ بِالْحِجَارَةِ فَفَرُّوْا۔ "تم کون ہو؟ وہ بولے: ہم آپ کے دوست ہیں، آپ نے انہیں پتھروں سے مارا، وہ بھاگ گئے۔" تو حضرت شبلیؒ نے فرمایا: لَوْ كُنْتُمْ اَحِبَّائِیْ لَمْ فَرَرْتُمْ مِنْ بَلَائِیْ فَاصْبِرُوْا مِنْ بَلَائِیْ۔ "اگر تم میرے دوست ہوتے تو میری بلا سے کیوں بھاگتے ہو، صبر کرو اور بلا سہو۔" کیونکہ دوست دوست کی بلا سے نہیں بھاگتے۔ اس باب میں بہت سے اقوال ہیں۔ لیکن میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

کشفِ حجابِ ششم: زکوٰۃ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ﴾ اور اس کی مانند آیتیں ہیں یعنی نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ اور احادیث بھی بہت ہیں اور احکامِ فرائضِ ایمان سے ایک زکوٰۃ واجب ہے اس پر، جس پر واجب ہو جائے اس سے اعراض جائز نہیں۔ لیکن زکوٰۃ اتمامِ نعمت پر

۴۹۹

واجب ہے۔ جب ۲۰۰ درہم چاندی کی مقدار ہو کہ نعمت تمام ہو جاتی ہے اور وہ نعمت تصرف کسی آدمی کے آ جائے تو اس پر پانچ درہم واجب ہیں، جب اس پر ایک سال گزر جائے۔ اور بیس دینار طلائی بھی نعمتِ تمام ہے۔ اس سے نصف ادا کر دینا واجب ہے اور پانچ اونٹ بھی کامل نعمت ہے اس پر ایک بکری واجب ہے۔ وقس علی ہذا۔ لیکن مرتبہ پر بھی زکوٰۃ ہوتی ہے۔

حضور ﷺ نے فرمایا ہے: اِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰی فَرَضَ عَلَیْكُمْ زَكٰوةَ جَاهِكُمْ كَمَا فَرَضَ عَلَیْكُمْ زَكٰوةَ مَالِكُمْ "اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہاری وجاہت کی زکوٰۃ واجب کی ہے جیسے مال کی زکوٰۃ واجب ہے۔" اور حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا: اِنَّ لِكُلِّ شَیْءٍ زَكٰوةً وَزَكٰوةُ الْبَیْتِ الضِّیَافَةُ "ہر شے پر زکوٰۃ ہے اور گھر کی زکوٰۃ مہمان داری ہے۔" اور اصل میں زکوٰۃ نام ہے ادائے شکر کا، جو اس نعمت کی جنس سے ہو۔

۵۰۰

چنانچہ تندرستی بھی ایک نعمت ہے تو جسم کے ہر حصہ پر زکوٰۃ ہے۔ وہ اس طرح کہ اپنے تمام اعضاء کو عبادت میں مشغول رکھے اور لہو و لعب اور کھیل تماشہ میں ضائع نہ کرے تا کہ نعمتِ الٰہی کی زکوٰۃ ادا ہو جائے۔ پھر باطنی نعمت پر بھی زکوٰۃ لازم ہے۔ لیکن چونکہ یہ نعمت ایک ایسی بلند و بالا ہے کہ اس کی حقیقت کا شمار نہیں ہو سکتا لہٰذا اس کی زکوٰۃ ویسے ہو سکتی ہے کہ انسان نعمت کو پہچانے اور اسے نعمت جانے کہ وہ حدّ و شمار سے باہر ہے۔ تو اس کا شکر بھی حدّ و شمار سے زیادہ کرے اور وہ شکر گزاری ہے۔

غرضیکہ صوفیاء کرامؒ کے یہاں دنیاوی نعمت کی زکوٰۃ دینا پسندیدہ نہیں۔ اس لیے کہ وہ بخل پسند نہیں کرتے اور بخلِ کامل سے وہ بہت بُری صفت ہے کہ دو سو درہم ایک سال تک تحتِ تصرف لانے والا ہی پانچ درہم ادا کرے گا اور اہلِ کرم اتنا مال جمع ہی نہیں کرتے بلکہ جو کچھ پاس ہو سب خرچ کر ڈالتے ہیں، اور سخی کے پاس مال جمع نہیں ہو سکتا تو پھر وہ حدِ زکوٰۃ تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔

حکایت

ایک ظاہری عالم امتحاناً حضرت شبلیؒ سے سوال کرنے آیا کہ زکوٰۃ کیسے ادا کی جائے۔ آپؒ نے جواب دیا کہ جب بندہ میں بخل ہو اور مال جمع ہو جائے تو دو سو درہم چاندی سے پانچ درہم دینا چاہیے اور بیس دینار طلائی سے آدھا دینار۔ یہ تو تیرے مذہب کا مسئلہ ہے اور میرے مذہب میں تو کچھ مِلک میں رکھنا ہی نہیں چاہیے تا کہ زکوٰۃ سے بچا رہے۔ عالم نے کہا اس مسئلہ میں آپ کا امام کون ہے۔ شبلی نے فرمایا کہ: ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس مسئلہ میں میرے امام ہیں، کیونکہ ان کے پاس جو کچھ تھا سب اللہ کی راہ میں دے دیا اور حضور ﷺ نے جب فرمایا: مَا خَلَّفْتَ لِعَیَالِكَ؟ "ابو بکر! تم نے اپنے اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑا؟ تو آپ نے عرض کیا: اَللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ" "اللہ اور اس کا رسول کافی ہیں۔"

اور حضرت علی کرم اللہ وجہ نے اپنے قصیدہ میں فرمایا۔

۵۰۱

فَمَا وَجَبَتْ عَلَیَّ زَكٰوةُ مَالٍ ۔ وَهَلْ یَجِبُ الزَّكٰوةُ عَلَی الْجَوَادِ

"مجھ پر زکوٰۃ واجب نہیں اور بخشش کرنے والے سخی پر زکوٰۃ کیا واجب ہو۔"

تو اہلِ جود و کرم کا مال خرچ ہو جاتا ہے اور ان کا خون بھی معاف ہوتا ہے۔ وہ نہ تو مال میں بخل کرتے ہیں اور نہ خون پر جھگڑتے ہیں، اس لیے وہ کسی چیز کو اپنی مِلک نہیں جانتے۔ لیکن اگر کوئی جہالت سے یہ کہے کہ جب میرے پاس مال ہی نہیں تو میں علمِ زکوٰۃ کی کیوں پروائی کروں۔ یہ اس کا کہنا صحیح نہیں اس لیے کہ علم حاصل کرنا فرضِ عین ہے اور علم سے بے پروائی کرنا کفر۔ فسادات زمانہ میں ایک یہ بھی فساد ہے کہ لوگ صلاحیت اور فقر کے مدعی ہیں اور اپنی جہالت سے علم چھوڑ دیتے ہیں۔

میں مبتدیانِ جماعتِ متصوفہ کو پڑھا رہا تھا۔ ایک جاہل بھی آ کر بیٹھ گیا۔ میں زکوٰۃ میں اونٹ کا ذکر کر رہا تھا اور بنت لبون، بنت مخاض اور حقہ کے احکام بتا رہا تھا۔ اس جاہل کو ناگوار گزرا۔ وہ تنگ آ کر اٹھ گیا اور کہنے لگا میرے پاس اونٹ ہی نہیں تو بنت لبون وغیرہ کا علم میرے کس کام کا ہے! میں نے کہا اوہ جاہل یہ اچھی طرح یاد رکھ کہ جس طرح زکوٰۃ دینے کے لیے علم کی ضرورت ہے اسی طرح لینے کے لیے بھی علم چاہیے۔ کیوں کہ اگر کوئی تجھے بنت لبون دے اور تو اسے لے تو اس وقت بھی تجھے علم کی ضرورت ہے۔ ترکِ علم سے یہاں بہت نقصان ہے۔

اسلام میں اگر کسی کے پاس مال نہ ہو اور اُسے مال سے مناسبت نہ ہو تو بھی اُس پر سے فرضیتِ علم ساقط نہیں ہوتی۔ فَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الْجَهْلِ۔

مشائخ صوفیاء (رحمہم اللہ) میں سے اکثر ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے زکوٰۃ لی ہے اور ایسے بھی ہیں جنہوں نے زکوٰۃ نہیں لی۔ جنہوں نے خود فقر اختیار کیا ہے وہ زکوٰۃ نہیں لیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم مال نہیں لیتے تا کہ ہم پر زکوٰۃ واجب نہ ہو جائے اور دنیا والوں سے بھی ہم زکوٰۃ نہیں لیتے کہ اس سے ان کا ہاتھ اونچا اور ہمارا ہاتھ نیچا ہوتا ہے اور جو فقراء اضطرار میں ہوتے ہیں تو وہ اگر لیتے ہیں تو اپنی ضرورت کے لیے نہیں لیتے بلکہ اس لیے لیتے ہیں کہ ہمارے یہاں مسلمان سے فرض ادا ہو جائے۔ تو اس صورت میں انہیں کا ہاتھ اونچا ہوتا ہے نہ کہ دینے والے کا اور اگر دینے والے کا ہاتھ اونچا ہوتا تو لینے والے کا نیچا تو اللہ تعالیٰ کا فرمان بے معنی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَیَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ﴾ "اور لیتے ہیں زکوٰۃ۔"

۵۰۲

تو چاہیے تھا کہ زکوٰۃ دینے والا لینے والے کی نسبت زیادہ فضیلت رکھتا۔ اور یہ اعتقاد میں گمراہی ہے تو اونچا ہاتھ وہی ہے جو مسلمان بھائی سے کچھ بحکمِ وجوب لے تا کہ اس کا بوجھ اس کی گردن پر نہ رہے۔ یہ درویش عقبائی ہیں۔ اگر درویش عقبائی اہلِ دنیا سے نہ لیں تو ان پر فرض حکم بدستور ہے اور بروزِ قیامت گرفتار ہوں تو اللہ تعالیٰ نے عقبائی درویشوں کو تھوڑی سی ضروریات سے امتحان کیا تا کہ دنیا دار لوگ فرضیت کا بوجھ اپنی گردن سے اتار سکیں۔ تو ثابت ہوا کہ فقر کا ہاتھ اونچا ہے اور وہ بمطابقِ حکمِ شرع اپنا حق لیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق اس پر واجب تھا۔

اگر لینے والے کا ہاتھ اونچا ہوتا جیسا کہ اہلِ ظواہر سمجھتے ہیں تو اس صورت میں پیغمبرانِ اولو العزم کے ہاتھ بھی نیچے ہوتے۔ بنا بریں ان کا یہ خیال بھی غلط ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ انہوں نے جو لیا ہے وہ بامرِ حق لیا ہے اور ائمہ دین نے بھی یہی طریق جاری رکھا ہے، تو وہ غلطی پر ہیں۔ یعنی لینے والے کا ہاتھ نیچا اور دینے والے کا اونچا سمجھتے ہیں۔ اور یہ بحث چونکہ باب جود و سخا سے متعلق ہے اس لیے میں اس کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔

صفحہ ۵۰۳

سترہواں باب

جود و سخا

حضور ﷺ فرماتے ہیں

اَلسَّخِیُّ قَرِیْبٌ مِّنَ الْجَنَّةِ وَبَعِیْدٌ مِّنَ النَّارِ وَالْبَخِیْلُ قَرِیْبٌ مِّنَ النَّارِ وَبَعِیْدٌ مِّنَ الْجَنَّةِ

"سخی جنت کے قریب اور جہنم سے بعید ہے اور بخیل جہنم سے قریب اور جنت سے بعید ہے۔"

اور فرمایا: "كَافِرٌ سَخِیٌّ عِنْدَ اللّٰهِ اَفْضَلُ مِنْ مُّؤْمِنٍ بَخِیْلٍ"

"کافرِ سخی اللہ کے نزدیک مومنِ بخیل سے افضل ہے۔"

اور علماء کے نزدیک جود و سخا خلوق کی صفت میں ایک ہی معنی میں ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو "جواد" کہہ سکتے ہیں "سخی" نہیں۔ اس لیے یہ نام اللہ تعالیٰ نے اپنا فرمایا نہ رسالت مآب ﷺ نے کسی حدیث میں بیان کیا۔ پھر اجماعِ اہلِ سنت نے کبھی یہ نام روا نہ رکھا۔ یہ ایسے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں عالم آتا ہے، اسے عالم کہتے ہیں لیکن عاقل، فقیہ نہیں کہہ سکتے۔ اگرچہ یہ عالم، عاقل، فقیہ تینوں نام قریب قریب ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ جواد ہے تو اس میں

۵۰۴

توصیف ہے دوسرے نام سے، وہ پکارا نہیں جا سکتا کہ اس میں توصیف نہیں ہے۔ بعض نے جواد اور سخی کا یہ فرق بیان کیا ہے کہ سخی وہ ہے کہ جو بخشش کرتے وقت خویش و بیگانہ میں تمیز کرے، دوست و دشمن میں امتیاز رکھے اور اس میں کوئی سبب یا غرض ملحوظ ہو اور یہ جود کا ابتدائی مقام ہے۔ اور "جواد" وہ ہے کہ دیتے وقت اپنے بیگانہ میں فرق نہ کرے اور اس کا دینا بے غرض اور بے سبب ہو۔ اور یہ شان دو پیغمبروں میں خاص تھی، ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ۔

احادیث میں ہے کہ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس جب تک کوئی مہمان نہ آ جاتا، آپ علیہ السلام کھانا تناول نہ فرماتے۔ ایک دفعہ تین روز تک کوئی مہمان نہ آیا۔ اتفاقاً ایک کافر آپ کے دروازے سے گزرا۔ اس سے پوچھا تو کون ہے۔ اس نے عرض کیا کافر ہوں۔ آپ نے فرمایا چلا جا، تو میری مہمانی کے لائق نہیں۔ اسی وقت حق تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا: خلیل! جسے میں نے ستر سال پالا، تُو نے ایک روٹی اسے نہ دی۔

حضور ﷺ کی خدمت میں حاتم کی اولاد سے ایک لڑکا آیا۔ حضور ﷺ نے اسے چادر بچھا دی اور فرمایا: اِذَا اَتَاكُمْ كَرِیْمُ قَوْمٍ فَاَكْرِمُوْهُ۔ "جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز

۵۰۵

آئے تو اس کی عزت کرو۔"

جس نے تمیز کی اور کافر مومن میں فرق کیا وہ خلیل علیہ السلام تھے، ان کا درجۂ سخاوت تھا اور جنہوں نے کافر زادہ کے لیے چادر بچھائی، یہ مقامِ جود ہے۔ اس معنی میں بہترین یہ ہے جو کہا ہے کہ جود متابعتِ خاطرِ روی میں تھا۔ جب خاطرِ ثانی دل پر غالب آ جائے تو وہ علامتِ بخل ہے اور اربابِ تحصیل و تحقیق پہلی خاطر کو بزرگ رکھتے ہیں۔ بہر حال خاطرِ اول حق سے ہے۔ اور مجھے معلوم ہوا کہ نیشاپور میں ایک سوداگر مرد تھا جو ہر روز شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوتا تھا۔ ایک روز شیخؒ نے کسی درویش سے کچھ سوال کیا۔ اس سوداگر نے عرض کیا، میرے پاس ایک دینار ہے اور سونے کا ٹکڑا۔ تو اس کے دل میں آیا کہ دینار دوں۔ پھر اس نے سوچا کہ ریزۂ زر ہی دے دوں۔ تو اس نے ریزۂ زر دے دیا۔ پھر جب شیخؒ سے گفتگو ہوئی تو اُس نے پوچھا، کیا اللہ تعالیٰ سے تنازعہ کرنا جائز ہے؟ شیخؒ نے فرمایا: تو نے حق تعالیٰ سے تنازعہ کیا ہے اس لیے کہ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ دینار دے اور تو نے ریزۂ زر دیا۔

۵۰۶

یہ بھی مروی ہے کہ شیخ ابو عبد اللہ رود باریؒ رحمۃ اللہ علیہ ایک مرید کے یہاں تشریف لے گئے۔ وہ موجود نہ تھے۔ آپ نے حکم دیا کہ اس کے گھر کا سامان بازار میں لے جایا جائے۔ جب مرید گھر میں آیا تو دیکھا کہ سب سامان بازار جا چکا ہے تو وہ بہت خوش ہوا اور خاموش رہا۔ کیونکہ اسے شیخ کا خوش رکھنا منظور تھا۔

جب اس کی عورت گھر میں آئی اور یہ حال دیکھا تو گھر میں جا کر اپنے کپڑے بھی اتار دیئے اور کہا کہ یہ بھی گھر کا اسباب ہے، اس کا بھی وہی حکم ہے جو متاعِ خانہ کا تھا۔ گھر والے نے اس پر آواز کی اور بولا یہ تکلف اختیاری ہے، جو تو نے کیا۔ عورت بولی جو کچھ شیخ نے کیا اس کی جود تھی، مجھے بھی اب چاہیے کہ میں بھی اپنی مِلکِ نفس پر تکلف کر دوں تا کہ میرا وجود بھی ظاہر ہو۔ مرد بولا، ہاں یہ ٹھیک ہے لیکن جب ہم نے شیخ کو اپنے وجود پر تسلیم کر لیا تو وہ ہمارا شیخ کے حوالے کر دینا ہماری عین جود ہے اور جود آدمی کی صفت میں تکلف اور مجاز ہوتا ہے۔ اور مرید کو ہمیشہ چاہیے کہ اپنی مِلک اور نفس کو حکمِ الٰہی کے متابعت میں خرچ کرے۔

حضرت سہل بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اَلصُّوْفِیُّ دَمُهٗ هَدَرٌ وَّ مِلْكُهٗ مُبَاحٌ" "صوفی وہ ہے کہ اس کا خون معاف ہو اور اس کی مِلک مباح۔" اور شیخ ابو مسلم فارسیؒ سے میں نے سنا کہ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے ایک جماعت سے مل کر حجاز کا ارادہ کیا اور نواحِ طُوان میں قوم کُرد نے ہمارا راستہ روک لیا اور ہمارے تمام کپڑے چھین لیے۔ ہم نے اُن سے مقابلہ نہ کیا اور سوچا کہ اگر ہم مقابلہ نہ کریں تو یہ ہم سے خوش ہوں گے۔ ہمارے ساتھیوں میں سے ایک شخص بہت بے قرار ہوا۔ کرد نے اس پر تلوار سونتی اور اُسے قتل کر دینے کا ارادہ کیا۔ ہم سب نے اُس کرد سے سفارش کی۔ مردنے کہا کسی طرح جائز نہیں کہ میں اسے چھوڑ دوں۔ یہ جھوٹا ہے میں اسے ضرور قتل کروں گا۔

ہم نے کرد سے پوچھا یہ کیسے جھوٹا ہے۔ کردنے کہا یہ صوفی نہیں ہے اور صوفیوں میں رہ کر خباثت کرتا ہے۔ ایسا آدمی نابود کر دینا لازمی ہے۔ ہم نے کہا اسے آپ نے کس طرح صوفی نہیں مانا۔ کرد نے جواب دیا کہ صوفی مردوں کا خاصہ جود ہے اور اس کے لباس میں چند چیتھڑے اور پیوند ہیں، یہ اس پر صبر نہیں کر سکتا، یہ کیونکر صوفی ہو سکتا ہے کہ اپنے یاروں میں اتنا جھگڑتا ہے۔ ہم مدتوں سے تمہارا کام کر رہے ہیں اور تمہارا راستہ لوٹ رہے ہیں اور تمہارے تعلقات قطع کرتے ہیں۔ تم کبھی ملال نہیں کرتے۔

روایت ہے کہ عبد اللہ بن جعفر ایک گروہ کی چراگاہ میں پہنچے اور حبشی غلام کو دیکھا کہ

۵۰۷

بکریوں کی رکھوالی کر رہا ہے کہ ایک کتا آیا اور اس حبشی کے آگے بیٹھ گیا۔ اس نے روٹی نکالی اور کتے کے آگے ڈال دی۔ اس نے پھر چاہی۔ حبشی نے دوسری روٹی ڈال دی۔ پھر تیسری روٹی ڈال دی۔

عبد اللہ فرماتے ہیں: میں اس کے پاس گیا اور کہا اے غلام! تیرا روزانہ کا کھانا کتنا ہوتا ہے؟ اس نے جواب دیا اتنا ہی ہوتا ہے جو تم نے دیکھا۔ آپ نے فرمایا: پھر تُو نے سب کتے کو کیوں دے دیا۔ غلام نے کہا: اس لیے دے دیا کہ یہاں کتے نہیں ہیں اور یہ کہیں دُور سے آیا ہے۔ مجھے اچھا معلوم نہ ہوا کہ اس کی محنت ضائع کروں۔ آپ فرماتے ہیں مجھے اس کی یہ بات پسند آئی اور وہ چراگاہ اور بکریاں اور غلام خرید فرما کر اس غلام کو آزاد کیا اور اسے وہ چراگاہ اور بکریاں عطا فرمائیں۔ غلام نے آپ کو دعا دی اور بکریاں صدقہ کر دیں اور چراگاہ کی زمین وقف کر کے خود چل دیا۔

ایک مرد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے پر آیا اور سوال کیا۔ اے ابن رسول اللہ! چار سو درہم مجھ پر قرض ہیں۔ حضرت امامؓ نے چار سو درہم اُسے عنایت فرما دیئے اور گھر میں روتے ہوئے تشریف لے گئے۔ لوگوں نے عرض کیا حضور رونے کی کیا وجہ ہے۔ فرمایا: میں نے اس سائل سے دریافت کرنے میں غلطی کی جس کی وجہ سے اسے سوال کرنا پڑا۔

حضرت ابو سہل صعلوکی رحمۃ اللہ علیہ کبھی کسی درویش کے ہاتھ پر صدقہ نہ دیتے اور جو کسی کو بخشش فرماتے کسی کے ہاتھ میں دینے کی بجائے زمین پر رکھ دیتے تا کہ خود اٹھائے۔ لوگوں نے عرض کیا حضور! اس میں کیا حکمت ہے؟ فرمایا: دینار کی وہ قدر نہیں جو کسی مسلمان کے ہاتھ کی مجھے عزت ہے۔ اگر میں کسی کے ہاتھ میں دوں تو میرا ہاتھ اُونچا اور محتاج کا ہاتھ نیچا ہوگا اور یہ مجھے گوارہ نہیں۔

روایت ہے کہ حضور ﷺ کو شاہِ حبش نے دو من مشک پیش کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کا سب پانی میں ڈال دیا اور اپنے صحابہ کرام کے مَل دی۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سائل حضور ﷺ کی خدمت میں آیا۔ حضور ﷺ نے دو پہاڑوں کے درمیان ایک وادی تھی، وہ بکریوں سے بھر کر اُسے عطا فرما دیں۔ وہ اپنی قوم میں آیا اور پکارا: یَا قَوْمَاہُ! "اے میری قوم! جلدی مسلمان ہو جا کہ محمد ﷺ ایسی بخشش فرماتے ہیں کہ اپنے درویش ہونے کا خوف نہیں کرتے۔"

اور حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک روز حضور ﷺ کی خدمت میں ہزار درہم آئے۔ آنحضور ﷺ نے انہیں کملی مبارک پر ڈالا اور جب وہاں سے اٹھے

۵۰۸

تو سب تقسیم ہو چکے تھے۔ اس پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں: میں نے حضور کی طرف نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ بھوک کی وجہ سے شکمِ اقدس پر پتھر بندھا ہوا تھا۔

میں نے متاخرین سے ایک درویش دیکھا کہ بادشاہ نے اُسے تین سو درم زرِ خالص بھیجے۔ اس نے وہ لے لیے اور گرمابہ میں چلا گیا۔ واپس آیا تو تمام کے تمام درم گرم آبہ والے کو دے کر چلے گئے۔

ایسی بہت سی روایتیں مذہبِ نوریاں کی ہیں جس سے ایثار واضح ہوتا ہے لیکن میں اس پر اختصار کرتا ہوں۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔

کشفِ حجابِ ہفتم: روزہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ﴾

"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔"

اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

"اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِهٖ"

"روزہ میرے لیے ہے اور میں روزہ دار کا بدلہ ہوں۔"

روزہ ایک باطنی عبادت ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے کہ ظاہر سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور کسی غیر کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ اس سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس کی جزا بھی بے حد رکھی۔ اور کہتے ہیں کہ بہشت میں داخل ہونا رحمت سے ہے اور عبادت کا درجہ اور خلود بجزاءِ روزہ یہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے "اَنَا اَجْزِیْ بِهٖ" فرما کر بتایا۔

اور حضرت جنید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اَلصَّوْمُ نِصْفُ الطَّرِیْقَةِ۔ "روزہ نصف طریقت ہے۔" اور اکثر مشائخ کرام کو دیکھا گیا کہ وہ ہمیشہ روزہ رکھتے اور بعض کو دیکھا کہ وہ صرف رمضان میں روزہ رکھتے ہیں اور صرف رمضان میں روزہ رکھنا ترکِ اختیار اور اجتناب ریا کے واسطے ہے۔

اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ اکثر روزہ رکھتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا۔ جب کھانا سامنے آیا، کھا لیتے ہیں اور یہ مطابق سنت ہے۔

اور حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ ان کے پاس تشریف لائے۔ ہر دو ازواجِ مطہرات نے عرض کیا: اِنَّا قَدْ خَبَاْنَا لَكَ حَیْسًا فَقَالَ صَلَّی

۵۰۹

اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اَمَا اِنِّیْ كُنْتُ اُرِیْدُ الصَّوْمَ وَلٰكِنْ قَرِّبِیْهِ فَاَصُوْمُ یَوْمًا مَكَانَهٗ۔ "ہم نے حضور ﷺ کے لیے حیس تیار کیا ہے (حیس گوشت کے شوربہ میں روٹی بھگونے کو کہتے ہیں) حضور ﷺ نے فرمایا میں نے آج روزہ کا ارادہ کیا تھا لیکن لاؤ آج کی بجائے کل روزہ رکھ لیں گے۔" اور ہم نے دیکھا کہ حضور ﷺ ایامِ بیض یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ قمری تاریخوں میں اور عشرۂ محرم میں حضور ﷺ ہمیشہ روزہ رکھتے اور رمضان و شعبان میں بھی روزہ رکھتے اور میں نے دیکھا کہ صومِ داؤدی بھی رکھتے اور حضور ﷺ نے اُسے "خیر الصیام" فرمایا اور صومِ داؤدی اس طرح ہوتے ہیں کہ ایک روز روزہ، ایک روز افطار ہو۔

ایک بار میں حضرت احمد بن بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حلوے کی رکابی ان کے سامنے پڑی تھی اور آپ کھا رہے تھے۔ انہوں نے مجھے بھی اشارہ فرمایا۔ میں نے لڑکپن کی عادت کے موافق عرض کیا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیوں۔ میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب جو روزہ رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے فرمایا: خلقت کو ایک دوسرے کے مطابق کرنا درست نہیں۔ تو میں نے روزہ افطار کرنے کا ارادہ کیا۔ بخاری صاحبؒ نے فرمایا، جب تو نے ان کی موافقت ترک کی ہے تو میری موافقت بھی نہ کر، میں بھی مخلوق میں سے ایک بندہ ہوں یہ دونوں ایک جیسے ہیں۔ اور حقیقت میں روزہ بند ہونے کو کہتے ہیں اور تمام طریقت اس میں پوشیدہ ہے اور بہت کم درجہ روزہ یہ ہے۔ بزرگوں کا قول ہے: اَلْجُوْعُ طَعَامُ اللّٰهِ فِی الْاَرْضِ۔ "بھوک زمین میں خدا کا کھانا ہے۔" اور بھوک کو تمام لوگ عقل و شرع کی رُو سے پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک ماہ تو سال بھر میں ہمیشہ روزہ فرض ہے اور ہر ایک عاقل بالغ مسلمان تندرست اور مقیم پر وہ جب فرض ہوتا ہے جب چاند ماہِ رمضان کا دیکھ لے اور ہلال ماہِ شوال تک رہتا ہے اور ہر روزہ کے واسطے نیت لازم ہوتی ہے۔

لیکن بندر ہنے کے لیے بہت سی شرطیں ہیں: جیسے پیٹ کو شراب، طعام سے بند رکھنا

۱۔ یہ امام مالک کی روایت کردہ حدیث (کتاب الصوم: باب جواز الصوم النافلۃ بنیتہ من النہار قبل الزوال) کا جز ہے جوانہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے طریق سے روایت کی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ: یَا عَائِشَةُ! هَلْ عِنْدَكُمْ شَیْءٌ؟ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَا عِنْدَنَا شَیْءٌ، قَالَ: فَاِنِّیْ صَائِمٌ۔ ثُمَّ قَالَتْ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ، فَاَهْدِیَتْ لَنَا هَدِیَّةٌ، اَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ۔ قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اُهْدِیَتْ لَنَا هَدِیَّةٌ اَوْ جَاءَنَا زَوْرٌ، وَقَدْ خَبَاْتُ لَكَ شَیْئًا۔ قَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: حَیْسٌ۔ قَالَ: هَاتِیْهِ، فَجِئْتُ بِهٖ، فَاَكَلَ ثُمَّ قَالَ: قَدْ كُنْتُ اَصْبَحْتُ صَائِمًا۔

۵۱۰

آنکھوں کو شہوات سے بند رکھنا۔ کانوں کو غیبت سننے سے اور زبان کو فساد اور بے ہودہ بکنے سے، بدن کو متابعتِ دنیا سے اور مخالفتِ شرع سے، پھر یہ شخص جب دراصل روزہ دار ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا

اِذَا صُمْتَ فَلْیَصُمْ سَمْعُكَ وَبَصَرُكَ وَلِسَانُكَ وَیَدُكَ وَكُلُّ عُضْوٍ۔

"جب تو روزہ رکھے تو چاہیے کہ اپنے کان اور آنکھ اور زبان اور ہر عضو کو منہیات سے بند کرے۔"

اور یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا

رُبَّ صَائِمٍ لَیْسَ لَهٗ مِنْ صَوْمِهٖ اِلَّا الْجُوْعُ وَالْعَطَشُ۔

"بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ جن کو بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔"

اور میں علی بن عثمان جلابی عفی عنہ ہوں۔ میں نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! مجھے کچھ ہدایت فرمایئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اِحْبِسْ حَوَاسَّكَ۔ "اپنے حواس بند رکھ۔" اور حقیقت بھی یہ ہے کہ حواس بند رکھنا پورا مجاہدہ ہے۔ اس

۵۱۱

لیے کہ تمام علم انہیں حواسِ خمسہ سے حاصل ہوتا ہے۔ ایک دیکھنا، دوسرا سننا، تیسرا چکھنا، چوتھا سونگھنا، پانچواں چھونا۔ اور یہی پانچوں علم اور عقل کے شاہسوار اور سالار ہیں اور انہیں پانچ کے واسطے جگہ خاص ہے۔ ایک تمام بدن میں پھیلا ہوا ہے۔ آنکھ تمام دیکھنے کے مقام پر ہے کہ وہ ہر موجود چیز اور رنگت کو دیکھتی ہے۔ کان سننے کے مقام پر ہے جو خبر اور آواز سنتے ہیں اور زبان ذائقہ کا مقام ہے، ناک سونگھنے کا مقام ہے، خوشبو بد بو کو پہچانتی ہے اور چھونے کے لیے مزہ بے مزہ معلوم کرتی ہے۔ کوئی عضو مخصوص نہیں۔ یہ تمام بدن میں پھیلی ہوئی ہے جس سے نرم سخت، گرم سرد معلوم ہو سکتا ہے۔ اور علوم سے کوئی ایسا نہیں جسے آدمی حاصل نہ کر سکے اور ان حواسِ خمسہ کے ذریعے حاصل نہ ہو۔ مگر بدیہی اور الہامی جو من جانب اللہ عطا ہوتی ہیں، انہیں آفت روا نہیں۔

ان حواسِ خمسہ میں صفائی اور کدورت بھی ہے جیسے غیب کے علم اور عقل اور روح کو اس میں گنجائش ہے ویسے ہی نفس اور ہوا کو اس میں گنجائش ہے کیونکہ یہ آلت میں اطاعت و گناہ اور سعادت اور شقاوت میں مشترک ہیں۔ تو حق تعالیٰ کی ولایت کان، آنکھ اور دیکھنے سننے میں ہے۔

نفس کے لیے جھوٹ، سننے، شہوت، چھونے، ذائقہ اور سونگھنے میں اور اس امر کے موافق سنت کی متابعت ہے۔ نفس کے لیے فرمان اور شریعتِ حق کے خلاف۔

تو چاہیے کہ روزہ دار ان سب سے حواس کو قابو میں رکھے تا کہ جب تک روزہ ہو مخالفت سے موافقت میں آ جائے اور محض کھانے پینے سے روزہ رکھنا بوڑھوں عورتوں اور بچوں کا کام ہے۔ نفسانی مشرب اور دنیاوی امور سے روزہ رکھنا مردوں کا کام ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ

"اور ہم نے انہیں جسم نہیں دیا تا کہ کھانا نہ کھائیں۔"

اور یہ بھی فرمایا

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا

"کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے فائدہ پیدا کیا ہے۔"

یعنی سب کو کھانے کا محتاج نہیں کیا اور مخلوق کو کھیل کود کے لیے پیدا نہیں کیا۔ تو حرام اور کھیل سے روزہ رکھنا لازمی ہے، نہ کہ حلال کھانے سے۔

مجھے تعجب ہے اس پر جو نفلی روزہ رکھے اور فرض کو ترک کر دے۔ اس لیے کہ فرض کا ادا نہ

۵۱۲

کرنا گناہ ہے اور دائمی روزہ رکھنا سنت ہے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ قَسْوَةِ الْقَلْبِ۔ پھر ہم دل کی سیاہی سے خداوند کریم سے پناہ چاہتے ہیں۔ اور اگر کوئی شخص گناہ سے بچ جائے تو وہ ہر حال میں روزہ دار ہے۔

کہتے ہیں کہ حضرت سہل بن عبد اللہ تستریؒ جس روز سے پیدا ہوئے، روزہ دار پیدا ہوئے۔ اور جس دن دنیا سے رحلت فرمائی اس دن بھی روزہ سے تھے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ (یعنی ان کا وقتِ ولادت سے وقتِ رحلت تک روزہ دار ہونا کیسے سمجھ میں آ سکتا ہے) تو بتایا کہ جس روز ان کی ولادت ہوئی صبح کا وقت تھا۔ انہوں نے مغرب کی نماز تک دودھ نہ پیا اور جب دنیا سے وداع ہوئے تو اس حال میں کہ بغیر خور و نوش تھے۔

یہ روایت ابو طلحہ مالکی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمائی۔ لیکن روزہ وصال سے یعنی صائم الدہر ہونے کو حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ جب صحابہ کرامؓ نے حضور ﷺ کو صومِ وصال رکھتے دیکھا تو خود بھی موافقت کرنی چاہی تو حضور ﷺ نے منع فرمایا اور کہا

اِنِّیْ لَسْتُ كَاَحَدِكُمْ اِنِّیْ اَبِیْتُ عِنْدَ رَبِّیْ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِیْ۔

"میں تمہارے جیسا نہیں۔ میں اپنے ربّ کے پاس شب باش رہتا ہوں اور وہ مجھے کھانے پینے کو دیتا ہے۔"

تو اربابِ مجاہدہ کہتے ہیں یہ منع فرمانا شفقۃً تھا۔ یہ حرمت تحریمی نہیں بنتی۔

ایک گروہ کہتا ہے صومِ وصال کرنا خلافِ سنت ہے لیکن حقیقت میں وصال خود محال ہے۔ اس لیے کہ جب دن گزر گیا تو رات کو روزہ نہیں ہوتا اور جب رات کو روزہ سے ملا دیا جائے تو بھی وصال نہیں ہو سکتا۔

۵۱۳

حضرت سہل بن عبد اللہ تستریؒ سے ایک حکایت ہے کہ آپؒ پندرہ روز کے بعد کھانا تناول فرماتے اور جب ماہِ رمضان المبارک آتا تو عید تک کھانا تناول نہ فرماتے اور ہر رات چار سو رکعت نفل ادا کیا کرتے۔ یہ آپؒ کی کرامت تھی اس لیے کہ یہ طریقہ طاقتِ بشری سے وراء ہے اور بغیر خدائی عطا کے یہ طاقت نہیں آ سکتی۔ وہ ایک امدادِ غیبی ہے جو بمنزلۂ غذا ہوتی ہے۔ ایک وہ ہے کہ جس کی غذا دنیا کا کھانا ہوتا ہے۔ ایک وہ ہے جس کی غذا اللہ تعالیٰ کی اعانتِ محض ہے۔

حضرت شیخ ابو الفراس، طاؤس الفقراء، صاحبِ اللمعہ سے مشہور ہے کہ وہ رمضان المبارک میں بغداد میں پہنچے اور مسجد شونیزیہ میں انہیں ایک علیحدہ حجرہ دیا گیا اور وہاں کے درویشوں کی امامت ان کے سپرد کی گئی۔ آپ عید تک ان کی امامت فرماتے رہے اور تراویح میں روزانہ پانچ قرآن کریم ختم فرماتے۔ ہر رات ایک خادم حاضر ہوتا اور کوٹھری کے پاس ایک روٹی دے جاتا۔ جب عید کا دن ہوا تو وہ خادم آپ کے پاس آیا اور دیکھا کہ تمیں روٹیاں ویسی ہی رکھی ہوئی ہیں۔ حضرت علی بن بکار رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت حفص مصیبیؒ کو میں نے دیکھا کہ رمضان المبارک میں پندرہویں روزے کے سوا کچھ تناول نہ فرمایا۔ حضرت ابراہیم ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ایک روایت ہے کہ آپ نے رمضان میں شروع سے لے کر آخر تک کچھ نہ کھایا۔ مہینہ گرمی کا تھا اور آپ اسی حالت میں گندم کاٹتے اور اس کی مزدوری، جو ملتی فقیروں کو تقسیم فرما دیتے اور تمام شب طلوعِ آفتاب تک نوافل میں مشغول رہتے۔ ایک روز ان کی نگرانی کی گئی تو انہوں نے کچھ نہ کھایا اور نہ شب میں سوئے۔

اور حضرت شیخ ابو عبد اللہ خفیفؒ کے متعلق روایت ہے کہ جس روز آپ نے دنیا سے رحلت فرمائی اس وقت تک چالیس چلے لگا تار پورے کیے۔ اور میں نے بیابان میں ایک ضعیف العمر دیکھے کہ وہ سال میں دو چلے پورے کیا کرتے تھے۔ اور دانشمند حضرت ابو محمد بانویؒ جب دنیا سے وداع ہوئے میں ان کی خدمت میں تھا، اسّی روز آپ نے کچھ نہ کھایا اور آپ کی نماز بے جماعت ادا نہ ہوئی۔

متاخرین سے ایک درویش تھے جو اسّی روز شب کچھ نہ کھاتے اور ہر نماز باجماعت ادا کرتے۔ مرو میں دو ضعیف العمر تھے۔ ایک کا نام مسعود تھا اور دوسرے کا نام شیخ بو علی سیاح تھا۔ رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَیْهِمَا

کہتے ہیں مسعود رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ بو علی کی طرف آدمی بھیجا کہ کب تک یہ دعوےٰ کرو گے۔ آؤ چالیس روز تک ایک جگہ بیٹھیں اور کچھ نہ کھائیں پئیں۔ انہوں نے فرمایا آؤ اور ان میں

۵۱۴

تین بار کھائیں پئیں اور چالیس روز ایک وضو رکھیں۔

اس مسئلہ میں جو اشکال ہے وہ دونوں دعووں میں بحالہ قائم ہے۔ جہاں چالیس روز کھانا پینا مشکل ہے وہاں چالیس روز دن میں تین بار کھانا پینا اور ایک وضو سے چلہ پورا کرنا مشکل بلکہ محال معلوم ہوتا ہے۔ جاہل لوگ اس سے سندلے کر کہتے ہیں کہ صومِ وصال اس سے روا معلوم ہوتا ہے اور طبیب لوگ اس سے انکار کرتے ہیں۔ لیکن میں اس کی تصریح بیان کرتا ہوں تا کہ اشتباہ صاف ہو جائے۔

اچھی طرح سمجھ لو کہ ایسا وصال جو فرمانِ حق تعالیٰ کی اتباع میں خلل انداز نہ ہو کرامت ہے اور کرامت کے لیے خاص محل ہوتے ہیں۔ یہ قوت و استعداد عام نہیں ہوتی۔ جب اس کا حکم عام نہیں تو عوام کو درست نہیں۔ اگر کرامت عام ہوتی تو ایمان بالجبر ہوتا اور عارفوں کو معرفت پر ثواب نہ ہوتا۔ تو جب حضور ﷺ صاحبِ معجزہ تھے، انہوں نے صومِ وصال فرما کر اہلِ کرامت کو اس کے ظاہر کرنے سے منع کر دیا۔ اس کی یہی وجہ ہے کرامت کا چھپانا لازمی ہے اور معجزہ کا ظاہر کرنا لازمی ہے اور یہی فرق معجزہ اور کرامت کا ہے۔ مبتدی کے لیے اسی قدر بیان کافی ہے۔

ان کی چلہ نشینی کا اصول موسیٰ علیہ السلام کی حالت سے تعلق رکھتا ہے جو ہم کلامی کے مقام میں وارد ہوا۔ جب آپ نے چاہا کہ کلامِ حق تعالیٰ کانوں سے سنیں۔ حکم ہوا کہ چالیس روز بھوکے رہیں اور تیس روز گزر جانے کے بعد مسواک کریں اور دس روز ٹھہریں تو ضرور کلامِ الٰہی ان کے کان سنیں گے۔ اس لیے کہ جو چیز انبیاء کرام کو ظاہراً جائز ہوتی ہے، اولیاء کرام پر وہ خفیہ طور پر ہوتی ہے۔ تو طبیعت قائم رہنے کی حالت میں کلامِ حق سننا جائز نہیں ہوتا اور جہادِ طبع کے واسطے چالیس روز کھانے پینے کی ترک لازم ہے تا کہ وہ متھور ہوں اور صفائی محبت اور لطائفِ روح کے واسطے یہ امور لازم ہیں اور "باب الجوع" اسی کے موافق ہے اور ہم اس کی حقیقت ظاہر کرتے ہیں۔

اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی

صفحہ ۵۱۵

اٹھارہواں باب

بھوک اور اس کے احکام

اللہ عزّ و جل فرماتا ہے: ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ﴾ "البتہ آزمائیں گے تمہیں خوف، بھوک اور نقصان مال اور جان اور ثمرات سے۔" حضور ﷺ نے فرمایا: بَطْنٌ جَائِعٌ اَحَبُّ اِلَی اللّٰهِ تَعَالٰی مِنْ سَبْعِیْنَ عَابِدًا عَاقِلًا۔ "بھوکا پیٹ اللہ کو پیارا ہے ستر عابد عاقلوں سے۔"

واضح رہے کہ بھوک کو بڑا شرف ہے اور تمام امتوں اور مذہبوں میں پسندیدہ ہے۔ اس لیے کہ جب دیکھا جائے تو بھوکے کا دل ذکی ہوتا ہے اور طبیعت مہذب اور تندرستی زیادہ۔ خاص کر جو پینا بھی کم رکھے وہ ریاضت میں سب سے زیادہ اپنے آپ کو آراستہ کر لیتا ہے۔ لِاَنَّ الْجُوْعَ لِلنَّفْسِ خُضُوْعٌ وَّ لِلْقَلْبِ خُشُوْعٌ اس لیے کہ بھوک نفس میں خضوع پیدا کرتی ہے اور دنیا میں عجز و نیاز اس لیے کہ قوتِ نفسانی بھوک سے ٹوٹتی ہے۔

حضور ﷺ نے فرمایا: اَجِیْعُوْا بُطُوْنَكُمْ وَاَظْمِئُوْا اَكْبَادَكُمْ وَاَعْرُوْا اَجْسَادَكُمْ

۵۱۶

لَعَلَّ قُلُوْبَكُمْ تَرَوْنَ اللّٰهَ عَیَانًا فِی الدُّنْیَا۔ "اپنے شکم بھوکے رکھو اور جگر پیاسے اور بدن لاغر، شاید تم دنیا میں اللہ تعالیٰ کا جمال دل کی آنکھوں سے دیکھ لو۔"

اگرچہ بدن بھوک سے بلا میں مبتلا ہوتا ہے لیکن دل کو روشنی ہوتی ہے اور جان میں صفائی اور سر میں لقاءِ حق کا سودا حاصل ہوتا ہے۔ جب سر کو سودا حاصل ہو جائے اور جان میں صفائی آ جائے اور دل میں روشنی آ جائے تو تن اگر تنہا بلا میں پڑے تو کچھ نقصان نہیں۔ اور سیر ہو کر کھائے اگرچہ بڑا خطرہ نہیں۔ کیونکہ اگر خطرہ ہوتا تو بیل سیر ہو کر نہ کھاتے۔ اس لیے کہ بیل گائے کا کام سیر ہو کر کھانا ہے اور بھوک کا رہنا بیماروں کا علاج ہے اور یہ بھی ہے کہ بھوکا رہنے سے باطن آباد ہوتا ہے اور سیر ہو کر کھانے سے جوف و شکم کی آبادی ہے۔

ایک شخص عماراتِ باطن میں عمر بسر کرتا ہے تا کہ خالص اللہ کا ہو جائے اور علاقہ جات سے علیحدہ رہے تو وہ کب برابر ہو سکتا ہے اس شخص کے، جو عمارتِ بدن اور خواہشِ نفسانی میں عمر بسر کرے۔ ایک کو دنیا کھانے کے واسطے چاہیے، ایک کو کھانا عبادت کے واسطے۔ ان میں بڑا فرق ہے۔ كَانَ الْمُتَقَدِّمُوْنَ یَاْكُلُوْنَ لِیَعِیْشُوْا وَاَنْتُمْ تَعِیْشُوْنَ لِتَاْكُلُوْا۔ "متقدمین اس لیے کھاتے تھے تا کہ وہ زندہ رہیں اور تم اس لیے جیتے ہو کہ کھاؤ۔" اَلْجُوْعُ طَعَامُ الصِّدِّیْقِیْنَ وَمَسْلَكُ الْمُرِیْدِیْنَ وَقَیْدُ الشَّیَاطِیْنِ۔ "بھوک صدیقوں کا طعام ہے اور مریدوں کا راستہ اور شیطان کے قید کرنے کا ذریعہ۔" اور حضرت آدم علیہ السلام کا جنت سے باہر تشریف لانا اور قربِ حق سے دور ہونا اگرچہ بحکمِ قضا و قدر تھا لیکن بظاہر ایک لقمہ کے لیے ہی تھا۔

اور حقیقت یہ ہے کہ بھوک سے جو بے قرار ہو، وہ بھوکا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ کھانے کا طالب باخوراک ہوتا ہے اور جسے بھوک کا درجہ ملتا ہے وہ تارکِ طعام ہوتا ہے۔ وہ کھانے سے رکا ہوا نہیں ہوتا۔ جو کھانا موجود ہوتے ہوئے ترک کرے اور بھوک برداشت کرے وہ بھوکا نہیں اور یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ شیطان کا بند کرنا اور خواہشاتِ نفسانی کا روکنا بغیر بھوک کے رہنے کے ممکن نہیں۔ اور کتانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

مِنْ حُكْمِ الْمُرِیْدِ اَنْ یَّكُوْنَ فِیْهِ ثَلَاثَةُ اَشْیَاءَ: نَوْمُهٗ غَلَبَةً وَّ كَلَامُهٗ ضَرُوْرَةً وَّاَكْلُهٗ فَاقَةً۔

۱۔ اس حدیث پاک کو مرتضیٰ زبیدی نے اپنی تالیف اتحاف السادۃ المتقین بشرح احیاء علوم الدین کی جلد نمبر ۷ اور ص ۳۷۷ پر نقل کیا ہے۔

۵۱۷

"مرید کے لیے تین حکم ضروری ہیں۔ وہ غلبہ کے وقت سوئے، ضرورت سے زیادہ کلام نہ کرے، کھانا فاقہ بغیر نہ کھائے۔"

اب فاقہ کی مقدار بعض کے نزدیک اڑتالیس گھنٹہ اور بعض کے نزدیک بہتر گھنٹے اور بعض ایک ہفتہ کہتے ہیں۔ اور بعض چالیس دن بناتے ہیں اور محققین کہتے ہیں کہ صحیح فاقہ چالیس رات دن میں ہوتا ہے اور اس مدت میں وہ اتنا بلند حوصلہ رہے کہ درمیانی مدت میں جو کچھ اضطرار و اضطراب اور قلق پیدا ہو، اسے برداشت کرے۔

اور اللہ تجھے معاف فرمائے! یہ اچھی طرح جان لے کہ اہلِ معرفت کی رگیں سب اسرارِ الٰہی کی دلیل ہیں اور ان کے دل اس بلند مقام پر ہوتے ہیں جہاں سے آگے بلندی نہیں۔ ان کے سینوں کے دروازے کھلے ہیں اور عقل اور خواہشِ نفسانی ان کے محلوں میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ روح تو عقل کی مدد کرتی ہے اور نفس خواہشات کی اعانت میں ہوتا ہے۔

جتنی کہ غذاؤں سے طبیعت کی پرورش ہوتی ہے، نفس کو قوت ملتی ہے اور حرص و خواہشات بڑھ جاتی ہیں اور اعضاء میں اس کا قبلہ عام ہو جاتا ہے۔ پھر ہر رگ میں اس کا اثر پھیل کر ایک پردہ بن جاتا ہے اور جب غذاؤں کی طلب کم کر دی جائے تو خواہشات ضعیف ہو جاتی ہیں، عقل کی قوت بڑھ جاتی ہے، نفس کا تصرف ٹوٹ جاتا ہے۔ اس وقت اس کے اسرار و دلائل ظاہر ہوتے ہیں اور جب نفس اپنی حرکات سے عاجز ہو جاتا ہے اور خواہشات و جود سے فنا ہونے لگتی ہیں تو ہر باطل مٹ جاتا ہے اور اظہارِ حق میں محو ہو جاتا ہے اور مرید کی تمام مراد حاصل ہوتی ہے۔

حضرت ابو العباس قصاب رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ ہے کہ آپ نے فرمایا: اطاعت و معصیت میرے دو گروہ ہیں۔ جب میں کھاتا پیتا ہوں، اپنے وجود میں گناہ ہی گناہ پاتا ہوں۔ اور جب کھانا چھوڑ دیتا ہوں تو تمام وجود میں اطاعت و عبادت کی اصل دیکھتا ہوں۔ بھوک کا پھل مشاہدہ ہے اور اس کے لیے مجاہدہ لازمی ہے۔ جب شکم سیری میں مجاہدہ ہو تو وہ با مجاہدہ بھوکا رہنے سے بہتر ہے اس لیے کہ میدانِ جنگ اور مشاہدہ برابر ہے اور مجاہدہ بچوں کا کھیل ہے۔

فَلَشِبْعٌ بِشَاهِدِ الْحَقِّ خَیْرٌ مِّنَ الْجُوْعِ بِشَاهِدِ الْخَلْقِ۔

"یعنی شکم سیری میں مشاہدۂ حق بھوکا رہنے کے مشاہدہ سے افضل ہے، جس سے مشاہدۂ خلق ہو۔"

اور اس میں بہت سی حکایتیں ہیں لیکن میں اسی پر اختصار کرتا ہوں تا کہ کتاب طویل نہ ہو جائے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔

صفحہ ۵۱۸

کشفِ حجابِ ہشتم: حج

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

﴿وَلِلّٰهِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا﴾

"لوگوں پر اللہ کے لیے حج کرنا لازم ہے جس کے لیے راستہ میں آنے جانے کی طاقت ہو اور کوئی روک نہ ہو۔"

فرضِ عین میں سے ایک فرضِ حج ہے جو صحتِ عقل اور بلوغ اور اسلام اور استطاعت علی السبیل کی صورت میں بندہ پر فرض ہے۔

اور وہ میقات میں احرام باندھنا، عرفات کے میدان میں نویں ذوالحجہ کو پہنچنا ہے اور خانہ کعبہ کا طواف، زیارت کرنا بالاتفاق و بالا اختلاف اور سعی صفا و مروہ لیکن حرم میں بدون احرام جانا ممنوع ہے۔ حرم کو حرم اس سبب سے کہتے ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام اور جائے امن ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے لیے دو مقام ہیں۔ ایک جسم کے لیے، دوسرا دل کے لیے۔ مقامِ جسم مکہ معظمہ ہے۔ مقامِ دل خلت ہے، جو اُن کے مقامِ جسمانی کا ارادہ کرے اسے تمام لذات و شہوات سے منہ موڑنا لازمی ہے اور احرام باندھنا بھی ضروری ہے۔ حلال شکار ترک کرنا بھی لازمی ہے اور تمام حواس کا روکنا بھی لازم ہے۔

عرفات میں نویں ذوالحجہ کو حاضر ہونا، وہاں سے مزدلفہ جا کر کنکر چننا، مکہ معظمہ میں کعبہ کا طواف، منیٰ میں آ کر تین روز رہنا۔ رمی جمار کرنا۔ حلق یا قصر کرانا، قربانی کرنا۔

پھر جب ابراہیم علیہ السلام کے مقامِ دل کا ارادہ کرے تو مرغوب چیزوں کا ترک کرنا، لذات و راحات کا چھوڑنا۔ اغیار سے ان کے ذکر سے منہ موڑے، اس لیے کہ دنیا کی طرف متوجہ ہونا ایسی راہ میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ پھر معرفت کے عرفات میں کھڑا ہو اور مزدلفۂ الفت کا قصد کرے۔ پھر سرِ تنزیہِ حق کے طواف میں لے جائے اور خواہشات و خیالاتِ فاسدہ کو امن کے منیٰ میں اتارے اور نفس کو مجاہدۂ قربان گاہ میں قربان کرے تا کہ مقامِ خلت پر پہنچ جائے۔ تو تن کے مقام میں داخل ہونے کے بعد دشمن اور اس کی تلوار سے امن لینا ہے اور دل کے مقام میں داخل ہونے سے قطع ہونے سے امن ملتا ہے۔

☆ جیسا خسرو علیہ الرحمۃ نے فرمایا

ہر رگ من تار گشتہ حاجت زنار نیست

۵۱۹

حضور ﷺ نے فرمایا

اَلْحَاجُّ وَفْدُ اللّٰهِ یُعْطِیْهِمْ مَا سَاَلُوْا وَیَسْتَجِیْبُ لَهُمْ مَا دَعَوْا۔

"حاجی خدائی وفود ہیں جو چاہتے ہیں ان کو ملتا ہے اور جو دعا کریں مستجاب ہوتی ہے۔"

ایک گروہ پناہ چاہتا ہے نہ دعا مانگتا ہے بلکہ اپنے کو حق تعالیٰ کی مشیت کے حوالے کر دیتا ہے۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ہے

﴿اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴾

"جب ابراہیم کو اس کے ربّ نے فرمایا کہ فرمانبردار ہو تو عرض کیا میں فرمانبردار ہوں ربّ العالمین کا۔"

اور جب ابراہیم علیہ السلام مقامِ خلت پر پہنچے تو تعلقات چھوڑ دیئے اور غیر اللہ سے انقطاع فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا مقامِ خلت پر جلوہ نما ہونا چاہا۔ نمرود کو مقرر کر دیا تا کہ انہیں ماں باپ سے جدا کر دے۔ آگ دہکائی۔ شیطان آیا، اس کے کہنے پر انہیں گائے کے چمڑے میں باندھا اور منجنیق یعنی ڈھینکلی کے ذریعے آگ میں پھینکوایا۔ روح الامین حاضر ہوئے اور کہنے لگے

یَا اِبْرَاهِیْمُ هَلْ لَّكَ اِلَیَّ مِنْ حَاجَةٍ۔

یعنی اے ابراہیم! آپ کو مجھ سے کسی مدد کی ضرورت ہے؟

ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اَمَّا اِلَیْكَ فَلَا۔ "میری حاجت تجھ سے کچھ نہیں۔" جبریل علیہ السلام نے عرض کی مجھ سے نہیں تو اپنے ربّ سے کچھ عرض کر لیجیے۔ آپ نے فرمایا: حَسْبِیْ مِنْ سُؤَالِیْ عِلْمُهٗ بِحَالِیْ۔ "میرے سوال سے پہلے وہ مجھے کافی ہے۔ اُسے میرے حال کا علم ہے۔" وہ جانتا ہے کہ مجھے آگ میں کس لیے ڈالا جا رہا ہے۔ اس کی مشیت کے مقابل مجھے سوال کرنا ممنوع ہے۔

محمد بن فضلؒ فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو دنیا میں اس کا گھر ڈھونڈتا ہے۔

۵۲۰

وہ دل میں اس کا مشاہدہ کیوں نہیں چاہتا۔ کیونکہ بسا اوقات گھر نہیں ملتا اور کبھی مل جاتا ہے اور مشاہدہ ہر وقت رہتا ہے۔ جب وہ پتھر جس کی زیارت فریضہ میں داخل ہے جس پر ایک نظر فرمائی گئی (حجرِ اسود)۔ تو دل جس پر دن رات تین سو ساٹھ بار نظر فرمائی جائے، وہ کیوں اس سے اولیٰ و افضل نہ ہو۔

چنانچہ اہلِ تحقیق راہِ مکہ معظمہ میں ہر قدم پر ایک نشان بتاتے ہیں اور جب حرم میں پہنچتے ہیں اس ہر قدم کے بدلے ایک خلعت حاصل کرتے ہیں۔

ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو عبادتوں کا بدلہ اور نیکیوں کا ثواب کل پر چھوڑ دے وہ آج یہاں عبادت کیوں نہ کرے۔ جس میں ہر دم کا ثواب اور اجرِ مجاہدہ اسی وقت حاصل ہے اور جس نے وہی کہنا ہے کہ میں نے پہلے حج میں سوائے گھر کے اور کچھ نہیں دیکھا۔ دوسری مرتبہ (جب اس نظر و عقیدہ سے حاضر ہوگا تو کہے گا) میں نے بیت اور صاحب البیت کو دیکھا۔ اور جب (اس سے بھی زیادہ شہود حاصل ہوگا تو) تیسری بار کہے گا میں نے صرف صاحب البیت کو دیکھا۔ غرضیکہ جتنا مجاہدہ ہوتا ہے اتنا عزم نہیں ہوتا۔

بلکہ یہ مقام اسے ملتا ہے جس کے دل میں مشاہدۂ تعظیم ہو اور جسے تمام جہان چاہے میعادِ قرب اور خلوتِ خانۂ انس نہ ہو اسے دوستی سے ابھی کچھ خبر نہیں ہوتی اور جب بندہ مکاشفہ کی حالت میں ہو تو سب جہان اس کے لیے حرم ہوتا ہے اور جب حجاب کی حالت میں ہو تو خود حرم بھی اس کے لیے ظلم کا جہان ہوتا ہے۔ اَظْلَمُ الْاَشْیَاءِ دَارُ الْحَبِیْبِ بِلَا حَبِیْبٍ۔ "سب سے زیادہ اندھیرا حبیب کے گھر میں ہوتا ہے جب اس گھر میں حبیب نہ ہو۔" تو مقامِ خلت میں مشاہدے اور فنا کی قدر و قیمت ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان معنی میں کعبہ معظمہ کا دیدار لازم فرمایا ہے۔ باقی کعبہ کی قدر یا قیمت نہیں مگر مسبب کو ہر سبب سے تعلق لازمی ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی عنایت نامعلوم کس پہلو سے جلوہ دکھائے اور کہاں سے ظہور فرمائے۔

طالب کی مراد تو صرف مطلوب ہوتا ہے مگر اس کی جلوہ گری نامعلوم کس سمت سے ہو۔ اسی وجہ سے جنگل اور صحرا میں صحرا نوردی مجاہدوں کی ہوتی ہے تا کہ کسی طرح ان کی مراد پوری ہو۔ صرف حرم کا دیکھنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ دوست کا گھر دیکھنا تو حرام ہوتا ہے۔ یہ تو درحقیقت ایک قسم کا مجاہدہ ہے جو شوقِ دیدار یا بیقرار ہو کر کرتا ہے اور گدازِ محبت ہے جو دائمی ظہور بے چین کرتا ہے۔

ایک شخص حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے اس سے پوچھا تم

۵۲۱

کہاں سے آئے ہو۔ اس نے کہا حضور حج کر کے آیا ہوں۔ جنید نے فرمایا۔ تم حج کر کے آئے ہو؟ اس نے عرض کیا۔ جی ہاں! اس کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل سوالات کیے

جنید۔ جب تو بہ نیت حج گھر سے نکلا اور اپنے وطن سے کوچ کیا تو اس وقت سب گناہوں سے بھی کوچ کیا تھا یا نہیں؟

حاجی۔ حضور! یہ تو نہیں کیا۔

جنید۔ تو پھر گھر سے چلا ہی نہیں۔

اچھا جب تو گھر سے چلا اور منزل پر قیام کیا تو راہِ حق یعنی طریقت کا مقام بھی طے کیا یا نہیں؟

حاجی۔ حضور! اس کی تو مجھے خبر ہی نہ تھی۔

جنید۔ تو پھر تو نے منزلیں بھی طے نہ کیں۔

اچھا جب تو نے احرام باندھا تھا تو میقات میں صفاتِ بشریت سے علیحدگی کی جس طرح کپڑے اور عادات سے علیحدگی کرتے ہیں؟

حاجی۔ حضور! یہ بھی نہیں ہوا۔

جنید۔ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم نے احرام بھی نہیں باندھا۔

اچھا جب تو عرفات میں کھڑا ہوا تو تجھے کشف و مشاہدہ کا فرق واضح ہوا؟

حاجی۔ حضور! یہ بھی نہیں۔

جنید۔ تو گویا تو عرفات میں بھی کھڑا نہیں ہوا۔

اچھا تو مزدلفہ پہنچا تو تو نے نفسانی مرادیں ترک کیں؟

حاجی۔ حضور! نہیں۔

جنید۔ تو گویا تو مزدلفہ بھی نہیں گیا۔ اچھا جب تو نے طوافِ بیت اللہ کیا تو بہ چشمِ سرِ تنزیہ کے مقام میں لطائفِ جمالِ حق دیکھے۔

حاجی۔ حضور! نہیں دیکھے؟

جنید۔ اچھا تو گویا تو نے طواف بھی نہیں کیا۔

اچھا تو یہ بتا جب تو نے صفا و مروہ کی سعی کی تو تجھے صفا کا مقام اور راہِ حق پر گزرنے کا درجہ معلوم ہوا؟

حاجی۔ حضور! مجھے اس کی تمیز ہی نہیں تھی۔

۵۲۲

جنید۔ اچھا! تو ابھی تو نے سعیِ صفا و مروہ بھی نہیں کی۔

اچھا! جب تو منیٰ میں پہنچا تو تیری ہستی تجھ سے ساقط ہوئی؟

حاجی۔ نہیں!

جنید۔ تو گویا تو منیٰ بھی نہیں گیا۔

اچھا! جب تو قربان گاہ میں پہنچا تو اور قربانی کی، تو تُو نے خواہشاتِ نفسانیہ کو قربان کیا؟

حاجی۔ حضور! ایسا نہیں کیا۔

جنید۔ تو گویا تو نے قربانی بھی نہ کی۔

اچھا! جب تو رمی جمار کر رہا تھا تو اس وقت تو نے اپنی خواہشات جو تجھ میں تھیں، وہ بھی پھینکیں؟

حاجی۔ نہیں۔

جنید۔ تو گویا تو نے رمی بھی نہیں کی اور تو نے حج ہی نہ کیا۔ واپس جا اور ایسا حج کر جو ہم نے تجھے بتایا ہے۔ تو اس کے بعد تو مقامِ ابراہیم پر پہنچے گا۔

میں نے سنا ہے کہ ایک بزرگ کعبۃ اللہ کے سامنے بیٹھا اور یہ شعر پڑھ رہا تھا

وَاَصْبَحْتُ یَوْمَ النَّحْرِ وَالْعِیْسُ تَرْحَلُ وَكَانَ حُدَی الْحَادِیْ بِنَا وَ هُوَ مُعْجِلُ اَنَا سَائِلٌ عَنْ سَلْمٰی فَهَلْ مِنْ مُخْبِرٍ بِاَنَّ لَهٗ عِلْمًا بِهَا اَیْنَ مَنْزِلُ

"قربانی کے دن میں نے صبح کی جس حال میں سفید اونٹ کوچ کر رہے تھے اور حدی کرنے والے کی حدی تھی اور وہ جلدی کر رہا تھا۔ میں سلمیٰ سے سائل ہوں، کیا کوئی خبر دینے والا ہے۔ جس کو علم ہو اس کی منزل گاہ کہاں ہے۔"

لَقَدْ اَفْسَدْتُ حَجِّیْ وَنُسْكِیْ وَعُمْرَتِیْ وَفِی الْبَیْنِ لِیْ شُغْلٌ عَنِ الْحَجِّ مُشْغِلُ سَاَرْجِعُ مِنْ عَامٍ لِّحَجَّةِ قَابِلٍ فَاِنَّ الَّذِیْ قَدْ كَانَ لَا یَتَقَبَّلُ

"بیشک میں نے اپنا حج اور عمرہ تباہ کیا اور مرے باطن میں حج کے ساتھ مشغلہ رہا۔ عنقریب آئندہ سال لوٹ کر آؤں گا حج کے لیے، اس لیے کہ جو کر چکا

۵۲۳

ہوں وہ قبول نہیں ہوا۔"

حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک جوان کو دیکھا کہ موقف میں خاموش کھڑا تھا اور سر جھکایا ہوا تھا۔ سب لوگ دعا کر رہے تھے اور وہ سر جھکائے ہوئے شرمندہ ہو رہا تھا۔ میں نے کہا، اے نوجوان تو بھی دعا کر۔ اس نے کہا مجھے اس امر کا ڈر لگ رہا ہے کہ جو وقت مجھے حاصل ہوا وہ جاتا رہا۔ اب کس منہ سے دعا کروں۔ میں نے کہا دعا کر! تا کہ اللہ تجھے اس جماعت کی برکت سے کامیاب کرے۔ فضیل فرماتے ہیں اس نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھانا چاہا کہ ایک نعرہ اس کے منہ سے نکلا اور جان نکل گئی۔

حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں ایک جوان دیکھا کہ آرام سے بیٹھا ہوا ہے اور لوگ قربانیوں میں مشغول ہیں۔ میں اسے دیکھتا رہا کہ کیا کرتا ہے اور یہ کون ہے۔ اتنے میں وہ پکارا، خدایا! سب خلقت قربانیوں میں مشغول ہے۔ میں بھی تیرے حضور اپنے نفس کو قربان کرنا چاہتا ہوں، مجھے قبول فرما۔ یہ کہا اور انگشتِ سبابہ سے حلق کے درمیان اشارہ کیا اور گر پڑا تو جب میں نے دیکھا، اُسے مرا ہوا پایا۔

تو حج دو طرح پر ہے: ایک بحالتِ غیبت۔ جو محض مکہ معظمہ آنا اور قرب میں غائب رہنا ہوتا ہے۔ وہ ایسا ہی ہے جیسے گھر میں رہ کر غیبت میں تھا۔ اس لیے کہ کوئی غیبت دوسری غیبت سے اچھی نہیں۔ اور جو حضور میں اپنے گھر حاضر ہو وہ ایسا ہے کہ گویا مکہ معظمہ حاضر ہے اس لیے کہ ایک حضوری دوسری حضوری سے زیادہ اچھی نہیں۔ تو حج کشفِ مشاہدہ کے لیے ایک مجاہدہ ہے اور مشاہدہ، مجاہدہ کی علت نہیں ہوتا بلکہ سبب ہوتا ہے اور حقیقتِ معانی میں سب سے زیادہ تاثیر نہیں ہوتی۔ تو حج سے بیت اللہ دیکھنا مراد نہیں بلکہ کشفِ مجاہدہ مقصود ہے۔ اب میں ان معانی میں ایک باب مشاہدہ کے بیان لاتا ہوں تا کہ تجھے قریب الحصول مقصود حاصل ہو۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی