کشفِ حجابِ دوم: توحید
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ اور یہ بھی کہا ہے ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ "کہہ اے نبی! وہ واحد ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔" اور فرماتا ہے: ﴿لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ اور حضور ﷺ نے فرمایا: بَیْنَا رَجُلٌ فِیْمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ اِلَّا التَّوْحِیْدَ فَقَالَ لِاَهْلِهٖ اِذَا مُتُّ فَاَحْرِقُوْنِیْ ثُمَّ اسْتَحْقُوْنِیْ ثُمَّ ذَرُّوْنِیْ نِصْفِیْ فِی الْبَرِّ وَنِصْفِیْ فِی الْبَحْرِ فِیْ یَوْمٍ رَائِحٍ فَفَعَلُوْا فَقَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلرِّیْحِ احْفَظِیْ مَا اَخَذْتِ فَاِذَا هُوَ بَیْنَ یَدَیْهِ فَقَالَ لَهٗ مَا حَمَلَكَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ فَقَالَ اسْتِحْیَاءً مِّنْكَ فَغَفَرَ لَهٗ۔
"تم سے پہلے ایک مردہ تھا اس نے کبھی نیک کام نہیں کیا مگر توحید پر قائم تھا تو مرتے ہوئے اس نے اپنے پسماندوں سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو جلا دینا، پھر میری خاک لے کر آندھی کے روز آدھی جنگل میں اڑا دینا اور آدھی دریا میں بہا دینا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حکم دیا کہ تمام خاک پیش کرے اور دریا کو حکم دیا کہ یہ سب خاک محفوظ رکھو تو وہ مجسمہ
۴۵۸بارگاہِ حق میں پیش کیا گیا تو اسے ارشاد ہوا: کس چیز نے تجھے اس کام پر آمادہ کیا تو وہ عرض کرتا ہے: الٰہی! تجھ سے شرم کرتے ہوئے ایسا کرنے پر آمادہ ہوا تھا۔ تو اُسے بخش دیا گیا۔
اور حقیقتِ توحید یہ ہے کہ کسی کے ایک ہونے پر یقین کیا اور اس کے بعد ایک ہونے پر یقین اور علم صحیح ہو۔ اور ظاہر ہے کہ جب حق تعالیٰ شانہٗ اپنی ذات اور صفات میں ایک اور لاثانی ہے اور اپنے افعال میں بے مثل ہے تو وہی ایک ہے۔ موحدوں نے اسے اسی صفت پر جانا ہے اور عقل نے اسی کا نام "توحید" رکھا ہے۔
توحید کی تین اقسام ہیں: ایک توحیدِ حق۔ اور یہ وہ توحید ہے جو اللہ کی ذات کے ساتھ مختص ہے۔ اس نے اپنے یگانہ ہونے کی تصدیق کی اور اسے اپنی وحدانیت کا علم ہے۔ دوسری توحیدِ خلق کے لیے، اور وہ حکمِ باری تعالیٰ ہر بندے کے لیے۔ تو اس پر بندے کے دل میں علمِ توحید اور یقینِ وحدانیت ہونا لازمی ہے۔ تیسری توحیدِ خلقت کی حق کے لیے اور اس کا وحدانیتِ حق تعالیٰ کو جاننا، یقین کرنا۔ تو جب بندہ عارفِ حق ہو تو وہ اس کی وحدانیت پر حکم کر سکتا ہے۔
یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور ایسا ایک ہے کہ اس میں وصل و فصل کی گنجائش نہیں۔ اس پر دوسرا جائز نہیں۔ اس کا ایک ہونا ایسا عدد نہیں کہ جس کے ساتھ دوسرا عدد ہو سکے۔ وہ محدود نہیں کہ اس کے لیے جہتیں ہوں اور وہ بے نہایت حدوں کا خالق ہے اس کے لیے مکان نہیں اور وہ مکان کا محتاج بھی نہیں۔
وہ عرض اور جوہر سے منزہ ہے۔ وہ حال نہیں کہ اپنے محل میں موجود ہے۔ جوہر اس لیے نہیں کہ اس کا مثل ہوتا ہے اور حق تعالیٰ کا مثل نہیں۔ طبعی نہیں کہ حرکت و سکون کے لیے میدان کا محتاج ہو۔ روحی نہیں کہ جسم کا محتاج ہو۔ جسم نہیں کہ اجزاء سے مرکب ہو۔ وہ کسی چیز سے مرکب نہیں۔ جمیع نقصانات سے مبرّا و منزہ ہے۔ تمام آفات سے پاک اور تمام عیوب سے بلند ہے۔ کوئی اس کا مثل و مانند نہیں۔ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ۔ اس کا کوئی فرزند نہیں کہ اس کی نسل اصل کے متقاضی ہو۔ اس کی ذات اور صفات میں تغیر و تبدل نہیں۔ لَا ضِدَّ وَلَا نِدَّ وَلَا مِثْلَ لِرَبِّیْ اَلْاٰنَ كَمَا كَانَ وَلَمْ یَلْقَ زَوَالًا۔
اس کی تمام صفات کامل ہیں حتیٰ کہ وہ صفتیں جنہیں مومن اور موحد بصارت کے حکم سے ثابت کرتے ہیں، ان سے وہ متصف ہے۔ ملحدین جو جو صفات اس کے سوا بیان کرتے ہیں اور اپنی ناقص رائے سے اختراع کرتے ہیں ان سے مبرّا و منزہ ہے۔ زندہ اور جاننے والا ہے، مہربان رحمٰن و رحیم ہے۔ ارادہ کرنے والا قادر علی الاطلاق ہے۔ سننے والا، دیکھنے والا، کلام کرنے والا ہے۔ باقی
۴۵۹ازلی و ابدی ہے۔ عالم ہے، اس کا علم اس میں حلول نہیں کرتا۔ اس کے کلام میں جز اور تحدید نہیں۔ وہ اپنی صفات میں قدیم ہے۔ معلومات اس کے علم سے باہر نہیں۔ موجودات کو اس کا ارادہ ضروری ہے۔ وہ کرتا ہے جو اس کے ارادہ میں ہے۔ وہی کرتا ہے جو اسے معلوم ہے۔ اس کے دوستوں کو تسلیم کے سوا اور کوئی سبیل نہیں۔ اس کا امر انجام کے سوا نہیں۔ اس کے بندوں کو اس کا حکم بجا لانے کے سوا چارہ نہیں۔ نیکی بدی کا اندازہ اس کے علم میں ہے۔ اس کے سوا امید و خوف نہیں۔ خالق کل ہے اسی کا حکم ہے۔ اس کے سوا کسی کا حکم حقیقی نہیں۔ اس کا ہر فعل اور ہر حکم سب حکمت ہے۔
اس کی قضا حق ہے۔ کوئی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسی کا دیدار خاصِ بہشتیوں کو روا ہے۔ تشبیہ و صورت سے بالا ہے۔ سامنے اور رو برو ہونا اس کے وجودِ واجب الوجود میں نہیں۔ دنیا میں اولیاء اللہ کو اس کا جمال دیکھنا جائز ہے اور اس بحث میں اصولی و صولی بہت سی باتیں ہیں۔ بخوفِ طوالت اسی پر اختصار کیا گیا۔
میں کہ علی، عثمان جلابی کا بیٹا ہوں۔ میں نے اس فصل کی ابتداء میں لکھا ہے کہ کسی چیز کی وحدانیت پر حکم کرنا، وحدانیت توحید ہوتا ہے اور حکم بدون علم کے نہیں ہو سکتا۔ یہ اس لیے کہ اہلسنت نے حکم کیا ہے اس کی یگانگت پر۔ اس لیے کہ انہوں نے اس کی صفتِ لطیف دیکھی اور افعالِ عجیب کا معائنہ کیا۔ اس کی صنعتِ عجیبہ و لطیفہ پر کافی نظر کی اور ان کا خود بخود ہونا محال جانا اور ہر چیز میں حدوث و تغیر کی علامت پائی۔ تو ضرور یہ صحیح سمجھا کہ اس کے لیے فاعل کی ضرورت ہے تا کہ وہ نیست سے ہست کرے۔ یعنی جہان میں زمین، آسمان، سورج، چاند، خشکی، تری، پہاڑ، جنگل اور ان کی حرکات و سکنات اور علم و کلام، موت و حیات یہ سب بلا صانع وجود میں آنے ممکن نہیں اور پھر دو تین صانع کا بھی یہ محتاج نہیں بلکہ ایک صانع کامل حی و قادر، مختار اور شریکوں کی شرکت سے بے نیاز لازمی ہے۔ جب فعل کو ایک فاعل کا ہونا ضروری ہے اس لیے کہ ایک فعل کے دو فاعل اگر ہوں تو ایک دوسرے کا محتاج ضرور ہوگا۔
علم و یقین سے بے شک و شبہ یہی ضروری ہے کہ ایک ہی فاعل ہو مگر اس اعتقاد میں طبقۂ ثنویاں نے ہم سے اختلاف کیا۔ انہوں نے نور و ظلمت ثابت کیا۔ دوسرے گبریان کہ انہوں نے یزدان و اہرمن مقرر کر ڈالے۔ تیسرے طبایعان کہ انہوں نے طبیعت و قوت ثابت کر ڈالی اور
۴۶۰چوتھے نجومی کہ انہوں نے سات ستارے تسلیم کر لیے۔ پانچویں معتزلہ نے خالق و صانع بے نہایت مان لیے۔ میں نے سب کے ردّ میں مختصری بات کہہ دی۔ اس لیے کہ یہ کتاب ان کے ان واہی خیال کے ردّ کرنے کو نہیں ہے۔ یہ مسئلہ اور کتابوں سے دیکھنا چاہیے۔ جہاں میں نے بیان کیا ہے۔ اس کتاب کا نام "اَلرِّعَایَةُ بِحُقُوْقِ اللّٰهِ" رکھا ہے، یا مقتدمین کی اصول کی کتابیں دیکھنا چاہیے۔
اب وہ رموز بیان کرتا ہوں جو مشائخ کرام نے توحید میں لکھے ہیں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ وَبِیَدِهِ الْاَمْرُ۔
حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: اَلتَّوْحِیْدُ اِفْرَادُ الْقِدَمِ عَنِ الْحَدَثِ۔ "توحید، قدیم کو جدا کرنا حادث سے ہے۔" یعنی توحید نام ہے قدیم کو محلِ حوادث نہ جاننے اور حوادث کو محلِ قدیم نہ سمجھنے اور یہ جاننے کہ حق قدیم ہے تو محدث اور محدث کی جنس سے کوئی چیز قدیم نہیں ملتی اور اس کی صفات سے کوئی چیز تجھ سے نہیں مل سکتی اس لیے کہ قدیم اور محدث میں کوئی مجانست نہیں۔ اس لیے کہ قدیم حوادث سے پہلے ہے تو جب وجودِ حوادث سے قبل قدیم تھا تو وہ حادث کا محتاج نہیں تھا تو بعد وجودِ حوادث بھی اس کا محتاج نہیں ہو سکتا۔
یہ بات ان لوگوں کے خلاف ہے جو ارواح کو قدیم کہتے ہیں۔ ان کا ذکر ہو چکا اور جب کوئی قدیم کو محدث میں نازل کہے یا محدث کو قدیم سے متعلق جانے تو حق کے قدیم ہونے اور جہان کے حادث ہونے پر دلیل نہیں رہتی اور یہ مذہبِ دہریہ ہے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ اِعْتِقَادِ السُّوْءِ۔ غرضیکہ حادثات و حرکات، توحید کے دلائل اور قدرتِ الٰہی کے گواہ ہیں اور اس کی قدامتی کو ثابت کرتے ہیں لیکن بندہ اس سے زیادہ عقل مند ہے کہ اس کے سوا اور سے مراد نہیں چاہتا اور اس کے ذکر کے سوا آرام نہیں کرتا جب کہ تیری نیست اور ہست کرنے میں اس کو شرکت کی ضرورت نہیں تو محال ہے کہ تیری پرورش میں اس کا شریک ہو۔
حسین بن منصور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اَوَّلُ قَدَمٍ فِی التَّوْحِیْدِ فَنَاءُ فِی التَّفْرِیْدِ۔ "پہلا قدم توحید میں تفرید کا فنا کرنا ہے۔" اس لیے کہ تفرید نام ہے کسی آفت سے جدا ہونے پر حکم کرنا، وحدثِ شے پر حکم کرنا۔ تو جدا کرنے میں غیریت ثابت ہو جاتی ہے اور غیرِ حق کے لیے نہیں چاہیے کہ اس صفت پر ہو جائے کہ وحدانیت میں غیر کا ثابت روا نہ رہے اور غیرِ حق کو اس صفت میں
۴۶۱نہ جاننا چاہیے۔ تو تفرید مشترک عبارت ہے اور توحید نام ہے شرک کو دور کرنا تو توحید کا پہلا قدم شرکت کی نفی کرنا ہے اور راستہ کے مزاج کا دور کرنا۔ کیونکہ عزاجِ راستہ میں مثلِ چراغ ہوتا ہے کہ راستہ اس کے ذریعے دیکھا جائے۔
حضرت حصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اُصُوْلُنَا فِی التَّوْحِیْدِ خَمْسَةُ اَشْیَاءَ: رَفْعُ الْحَدَثِ وَ اِثْبَاتُ الْقِدَمِ وَ هِجْرُ الْاَوْطَانِ وَ مُفَارَقَةُ الْاِخْوَانِ وَ نِسْیَانُ عِلْمٍ وَّ جَهْلٍ" "ہمارے اصول توحید میں پانچ چیزیں ہیں: حدث کا اٹھا دینا، قدم کا ثابت کرنا، وطن کا ترک کرنا، برادری سے علیحدگی اور علم و جہل کو بھول جانا۔" لیکن رفعِ حدث نفیِ محدثات ہے مقارنتِ توحید و استحالۂ حوادث سے ذاتِ باری تعالیٰ شانہٗ میں اور اثباتِ قدیم یہ ہے کہ عقیدہ رکھے کہ ذاتِ حق ابدی و ازلی ہے۔
اس کی شرح اس سے قبل حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے قول میں ہو چکی ہے اور ہجرِ وطن سے مراد یہ ہے مالوفاتِ نفس اور آرام گاہ اور دل اور قرار گاہِ طبیعت سے علیحدہ ہو اور رسومِ دنیا سے مریدوں کو خاص طور پر علیحدہ کرے اور مقاماتِ بنی اور احوال کی خوبی اور کرامات رفیع سے مراد کو دور رکھے اور مفارقتِ اخوان سے مراد اعراض کرنا ہے محبتِ خلق سے اور صحبتِ قبول کرنا اس لیے کہ اگر اس کے دل میں اندیشۂ غیر گزر کرنے لگے تو موحد کے لیے یہ بھی ایک حجاب ہے اور جتنا اس کے دل میں غیر کی محبت کا اثر ہوگا اتنا ہی وہ توحید میں محجوب ہوگا۔ اس لیے کہ امتِ موحدین کا اتفاق ہے کہ ہمتیں جمع کرنا توحید ہے اور غیر سے آرام لینا تفرقہ، اور علم و جہل سے بے نیاز ہونے کے یہ معنی ہیں کہ علم، یا صفت یا کیفیت یا جنس یا طبع سے ہوتا ہے اور جس چیز کو خلقت کا علم توحیدِ حق سے ثابت کرے، توحیدِ حقیقی اس کی نفی کرتی ہے۔
جو خلقت کی جہالت ثابت کرے وہ ان کے علم کے خلاف ہے اس لیے کہ جہالت توحید نہیں اور تحقیقِ توحید کا علمِ نفیِ تصرف کے سوا درست نہیں ہوتا اور علم وہی ہے جس پر جہل کا اثبات ہو، یہی وجہ ہے کہ جہل توحید نہیں اور علم و جہل میں سوائے تصرف کچھ نہیں۔ ایک بصیرت پر متصرف ہے تو دوسرا اغفلت پر۔
ایک مشائخ میں سے فرماتے ہیں کہ میں مجلسِ حصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تھا کہ نیند آ گئی۔ دو فرشتے دیکھے کہ آسمان سے زمین پر آئے اور تھوڑی دیران کا کلام سنا۔ ایک دوسرے سے کہنے لگے یہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ علمِ توحید ہے نہ کہ عینِ توحید۔ جب بیدار ہوا تو وہ توحید بیان کر رہا تھا۔ اس نے میری طرف رخ فرما کر کہا کہ اے شخص توحید سے بجز علم کہا نہیں جاتا۔
۴۶۲حضرت جنید رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے انہوں نے فرمایا: اَلتَّوْحِیْدُ اَنْ یَّكُوْنَ الْعَبْدُ شَخْصًا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ تَعَالٰی تَجْرِیْ عَلَیْهِ تَصَارِیْفُ تَدْبِیْرِهٖ فِیْ مَجَارِیْ اَحْكَامِ قُدْرَتِهٖ فِیْ لُجَجِ بِحَارِ تَوْحِیْدِهٖ بِالْفَنَاءِ عَنْ نَفْسِهٖ وَ عَنْ دَعْوَةِ الْخَلْقِ لَهٗ وَعَنِ اسْتِجَابَتِهٖ لَهُمْ بِحَقَائِقِ وُجُوْدِ وَحْدَانِیَّتِهٖ فِیْ حَقِیْقَةِ قُرْبِهٖ بِذِهَابِ حِسِّهٖ وَحَرَكَتِهٖ لِقِیَامِ الْحَقِّ لَهٗ فِیْمَا اَرَادَ مِنْهُ وَهُوَ اَنْ یَّرْجِعَ اٰخِرُ عَبْدِهٖ اِلٰی اَوَّلِهٖ فَیَكُوْنَ كَمَا كَانَ قَبْلَ اَنْ یَّكُوْنَ۔ "حقیقتِ توحید یہ ہے کہ بندہ مثلِ بیکل ہو جریانِ تصرفِ تقدیرِ حق میں اور اس کی قدرت اس پر ایسا تصرف کرے کہ وہ اپنے اختیار و ارادہ سے خالی ہو اور دریائے توحید سے فناءِ نفس خود اور انقطاعِ دعوتِ خلق کر کے ارادۂ حق پر اپنے کو بے حس کر دے۔ اس مقام پر آ جانے کے بعد بندہ کا آخر مثلِ اوّل ہوتا ہے جو اس ہستی سے پہلے تھا۔"
اس سے مراد یہ ہے کہ موحد کو اپنے اختیار میں کچھ تصرف نہ رہے اور حق تعالیٰ شانہٗ کی وحدانیت میں ایسا گم ہو جائے کہ اپنے آپ کو بھی نہ دیکھے اور محلِ قربت میں اس کا نفس فانی ہو جائے اور اس کی حس جاتی رہے اور احکامِ حق اس پر جاری ہوں اور ایسا ہو جائے جیسا ازل میں، بحالتِ توحید تھا کہ کہنے والا بھی حق تھا اور جواب دینے والا بھی حق تھا اور جو ایسا ہو خلقت کو اس سے آرام نہیں ہوتا اور اسے کسی شے سے انس نہیں ہوتا کہ ان کی دعوت قبول کرے اور اس بات میں اشارہ فنا صفت اور صحتِ سلیم سے ہے۔
جبکہ کشفِ جلالت بحالتِ قہر ہو کہ بندہ اپنے اوصاف سے فنا ہو جائے تو آلہ اور جوہرِ لطیف ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر جگر میں خنجر لگے تو یہ حالتِ بے حسی گذر جائے اور پشت پر لگے تو بے اختیار کٹ جائے اور ہر حال میں سب سے فناء ہو اور اس کا وجود مظہرِ اسرارِ حق ہو، تا کہ اس کا کلام حق کے حوالے ہو اور اس کا ہر فعل اس کی طرف منتسب ہو اور حجت ثابت کرنے کے لیے حکمِ شریعت اس پر باقی ہو اور وہ کل کے معائنہ سے فناء ہو۔
یہ صفت حضور ﷺ کی تھی کہ معراج کی شب جب آپ کو مقامِ قرب میں پہنچایا تو مقام کا فاصلہ تھا مگر قرب میں فاصلہ نہ تھا۔ آپ کا حال عوام کے فہم سے بالا ہے اور اوہام سے جدا۔ اس حد تک دنیا نے اسے گم کیا، وہ آپ سے گم ہوا اور صفت بے صفت کی فنا میں حیران۔ طبیعت کی ترتیب اور اعتدالِ مزاج پریشان ہوا، نفس دل کے مقام پر پہنچا اور دل جان کے درجہ تک اور جان سر کے مقام پر اور سر قرب کی صفت میں اور سب میں سے سب سے جدا ہوا۔ چاہا کہ وجود خراب ہو جائے اور جسم کو چھوڑے۔ اس سے مراد حجت قائم کرنا تھا۔ حکم ہوا کہ بحال ہو، تا کہ قوت پائے اور وہ قوت
۴۶۳اس کی قوت ہو اور اس کی ہستی سے ذات ظاہر ہو۔ چنانچہ فرمایا: اِنِّیْ لَسْتُ كَاَحَدِكُمْ اِنِّیْ اَبِیْتُ عِنْدَ رَبِّیْ فَیُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِیْ "میں تم جیسا نہیں، میں اپنے ربّ کے پاس شب باش ہوتا ہوں، وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے (جس سے میں زندہ اور قائم ہوں)" اور یہ بھی فرمایا: لِیْ مَعَ اللّٰهِ وَقْتٌ لَّا یَسَعُنِیْ فِیْهِ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ وَّلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ۔ "میرے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک وقت خاص ہے، جس میں ملکِ مقرب اور نبیِ مرسل بھی وسعت نہیں پاتا۔"
حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ فرمایا: ذَاتُ اللّٰهِ مَوْصُوْفَةٌ بِالْعِلْمِ غَیْرُ مُدْرَكَةٍ بِالْاِحَاطَةِ وَلَا مَرْئِیَّةٌ بِالْاَبْصَارِ فِیْ دَارِ الدُّنْیَا وَهِیَ مَوْجُوْدَةٌ بِحَقَائِقِ الْاِیْمَانِ مِنْ غَیْرِ حَدٍّ وَلَا حُلُوْلٍ وَّتَرَاهُ الْعُیُوْنُ فِی الْعُقْبٰی ظَاهِرًا وَّ بَاطِنًا فِیْ مُلْكِهٖ وَ قُدْرَتِهٖ وَقَدْ حَجَبَ الْخَلْقَ عَنْ مَعْرِفَةِ كُنْهِ ذَاتِهٖ وَدَلَّهُمْ عَلَیْهِ بِاٰیَاتِهٖ وَالْقُلُوْبُ تَعْرِفُهٗ وَالْعُقُوْلُ لَا تُدْرِكُهٗ یَنْظُرُ اِلَیْهِ الْمُؤْمِنُوْنَ بِالْاَبْصَارِ مِنْ غَیْرِ اِحَاطَةٍ وَّلَا اِدْرَاكِ نِهَایَةٍ۔ "نہایتِ توحید یہ ہے کہ بندہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات موصوف بہ علم ہے۔ وہ نہ حس میں آتا ہے، نہ دیکھنے میں، نہ دنیا میں آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے اور ایمان میں وہ موجود ہے اس کی حد و نہایت نہیں اور بغیر کسی آنے جانے کے اسے دریافت کیا اور وہ ظاہر ہے اپنے ملک میں اپنی صفتوں سے اور اپنی قدرت سے اور سب کنہِ ذات کی معرفت سے محجوب ہیں۔ اس نے اظہارِ عجائب و آیات سے راہ دکھائی ہے اور وہ لوگوں کو جانتا ہے اور یگانگی و عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتے اور مومنین بچشمِ سر عقبیٰ میں اسے دیکھیں گے۔" اور یہ لفظ جامع ہے توحید کو۔
اور حضرت جنید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اَشْرَفُ كَلِمَةٍ فِی التَّوْحِیْدِ قَوْلُ اَبِیْ بَكْرٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ: سُبْحَانَهٗ مَنْ لَّمْ یَجْعَلْ لِخَلْقِهٖ سَبِیْلًا اِلٰی مَعْرِفَتِهٖ اِلَّا بِالْعَجْزِ عَنْ مَعْرِفَتِهٖ۔ "بہترین کلمہ توحید میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا کلمہ ہے۔ پاک ہے وہ جو اپنی مخلوق کو اپنی معرفت میں۔ راہ نہیں دیتا بجز اس کے کہ عاجز ہو اس کی معرفت میں۔" اور علماء اس کلمہ میں غلطاں ہیں اور
۴۶۴سمجھتے ہیں کہ معرفت سے عجز بے معرفتی ہے اور یہ محال ہے اس لیے کہ عجز اپنی حالت میں ایک صورت رکھتا ہے اور بحالتِ معدومِ عجز کی کوئی صورت نہیں۔ جیسے مردہ حیات سے عاجز نہیں اس لیے کہ موت میں موت سے عاجز ہوتا ہے اس لیے عجز کا نام اس کی قوت کو محال کر دینا اور اندھا بصارت سے عاجز نہیں ہوتا۔ بلکہ بیٹھنے میں کھڑا ہونے سے عاجز ہوتا ہے جیسا کہ عارف معرفت سے عاجز نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ معرفت موجود ہوتی ہے اور جب اسے ضرورت ہوتی ہے۔
چنانچہ ہم قولِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ پر کہ ابو سہل صعلوکی اور ابو علی دقاق نے کہا کہ معرفت ابتداء میں کسبی ہوتی ہے اور انتہا میں ضروری۔ اور علمِ ضروری ہوتا ہے کہ اس علم کا عالم اس کے ہوتے ہوئے اس کے دور کرنے اور کشش سے بے قرار اور عاجز ہو۔ تو مطابق اس قول کے، توحید بندہ کے دل میں فعلِ حق ہوتا ہے۔ پھر حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اَلتَّوْحِیْدُ حِجَابُ الْمُوَحِّدِ عَنْ جَمَالِ اَحَدِیَّتِهٖ۔ "یعنی توحید موحد کے لیے جمالِ احدیت سے حجاب ہوتا ہے۔" اس لیے کہ توحید کو بندہ کا فعل کہتے ہیں اور بندہ کشفِ حق کی علامتیں ہوتا اور عینِ کشف میں جو چیز کشف کی علت نہ ہو وہ حجاب ہے اور بندہ معہ اپنے کل اوصاف کے غیر ہوتا ہے اس لیے کہ جب اپنی صفتِ کو حق سمجھے تو ضرور موصوف صفت کو بھی کہنا پڑے گا اور وہ بندہ ہے۔
پھر موحد اور توحید اور احد، تینوں ایک دوسرے کے وجود کی علت ہوتے ہیں اور یہ بقیہ ثالث ثلاثہ نصاریٰ کا ہوتا ہے اور جو صفت کہ طالب کو توحید میں اپنی فنا سے مانع ہے، ابھی اس صفت میں محجوب ہے اور جب تک محجوب ہے موحد نہیں۔ لِاَنَّ مَا سِوَاهُ مِنَ الْمَوْجُوْدَاتِ بَاطِلٌ۔ اس لیے ماسوا موجودات جو کچھ بھی ہے وہ باطل ہے۔ اس لیے ثابت ہوا کہ بدونِ حق جو کچھ بھی ہے سب باطل ہے اور طالب بھی اس کا غیر ہے اور تفسیرِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ یہ ہے کہ صفتِ طالب کشفِ جمالِ حق میں باطل ہو جائے۔
ایک حکایت مشہور ہے کہ حضرت ابراہیم خواص حضرت حسین بن منصور رضی اللہ عنہ کی زیارت کے لیے کوفہ حاضر ہوئے تو حسین بن منصور نے فرمایا: ابراہیم! تو نے اپنی عمر کس بات میں بسر کی۔ آپ نے جواب دیا میں نے اپنے کو توکل میں درست کیا ہے۔ حسین بن منصور نے فرمایا: یَا اِبْرَاهِیْمُ ضَیَّعْتَ عُمْرَكَ فِیْ عِمْرَانِ بَاطِنِكَ فَاَیْنَ اَنْتَ مِنَ الْفَنَاءِ فِی التَّوْحِیْدِ۔ "ابراہیم! تو نے اپنی عمر ضائع کر دی، تو نے اپنی عمر آبادانیِ باطن میں خرچ کر ڈالی تو اب تیری فنا توحید میں کہاں۔"
توحید میں مشائخ کے بہت سے اقوال ہیں۔ ایک گروہ نے اس کو بقا کہا ہے۔ اس لیے کہ
۴۶۵بقاءِ صفت کے سوا توحید درست نہیں ہوتی۔ ایک گروہ نے کہا کہ فنا کے سوا توحید کی صفت حاصل نہیں ہوتی اور اس کا قیاس جمع اور تفرقہ کرنا چاہیے تا کہ معلوم ہو جائے۔
اور میں علی بن عثمان جلابی (رضی اللہ عنہ) کہتا ہوں کہ توحیدِ حق سے بندہ کو اسرار حاصل ہوتے ہیں اور عبارت میں ظاہر نہیں ہوتے۔ اب چاہیے کہ کوئی اس کو بیہودہ عبارت سے آراستہ نہ کرے اس لیے کہ عبارت اور معنی میں بے حد فرق ہے۔ اور توحید میں غیر کا ثابت کرنا شرکت ہوتا ہے اس وقت وہ ہویدہ ہوتی ہے اور موحدِ الٰہی ہوتا ہے نہ کہ ایک لاہی۔ یہ ہے توحید کا حکم اور مسلکِ اربابِ معرفت یہاں پر بسبیلِ اختصار بیان کیے گئے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ
کشفِ حجابِ سوم: ایمان
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ﴾ اور دوسرے چند مقامات پر بھی فرمایا: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَلْاِیْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ اور ایمان لغت میں تصدیق کو کہتے ہیں، اور اس مبحث پر مردانِ الٰہی کے بہت اقوال ہیں اور شرعی احکام بھی کافی ہیں اور اختلاف کرنے والے معتزلہ اور خوارج بھی بہت سے ہیں۔
چنانچہ معتزلہ تو کہتے ہیں کہ علمی عملی اطاعت پر ایمان ہے اور گناہ کرنے سے بندہ خارج از ایمان ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی خارجی ہیں کہ بندہ کو گناہ کے سبب کافر مانتے ہیں۔ ایک گروہ ایمان کو قولِ فرد کہتا ہے۔ ایک گروہ معرفت کو ایمان کہتا ہے اور متکلمین کا ایک گروہ مطلق تصدیق کو ایمان کہتا ہے اور میں نے اس بیان میں علیحدہ کتاب تصنیف کی ہے۔ یہاں تو متصوفہ مشائخ کرام کا اعتقاد بیان کرنا مقصود ہے۔ صوفیوں میں دو قسم ہیں: جیسے فقہا میں دو فریق ہیں
ایک کہتا ہے اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ تَصْدِیْقٌ بِالْجَنَانِ اور عَمَلٌ بِالْاَرْكَانِ کا نامِ ایمان ہے۔ جیسے فضیل بن عیاض، بشر حافی، خیر النساج، سمنون المحب، ابو حمزہ بغدادی، محمد حریری اور مثل ان کی، کافی لوگ ہیں۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
ایک گروہ کہتا ہے ایمان نام ہے اقرار باللسان اور تصدیق بالجنان کا۔ جیسے ابراہیم بن ادہم، ذوالنون مصری، بایزید بسطامی، ابو سلیمان دارانی، حارث محاسبی، جنید بغدادی، سہل بن عبد اللہ تستری، شفیق بلخی اور سوا ان کے رحمہم اللہ علیہم۔ اور ایک جماعت فقہاءِ امت کی ہے جیسے امام مالک
۲۔ یہ امام مسلم کی صحیح میں روایت کردہ طویل حدیث کا ایک جز ہے۔
۴۶۶امام شافعی، احمد بن حنبل رحمہم اللہ اور ان کے سوا ایک جماعت اسی پہلے قول پر ہے۔ پھر امام ابو حنیفہ، حسن بن فضل بلخی اور امام صاحب کے اصحاب جیسے محمد بن حسن داؤد طائی، امام ابو یوسف رحمہم اللہ علیہم اجمعین اس پہلے قول پر ہیں اور حقیقت میں یہ اختلافِ عبارت ہے معنی میں نہیں۔
میں اس کا مختصر بیان کرتا ہوں تا کہ معلوم ہو جائے کہ اس اختلاف میں کسی کو ایمان میں مخالف الاصل نہیں کہنا چاہیے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ۔
اہلسنت و جماعت میں اس امر کا اتفاق ہے کہ ایمان کے لیے اصل اور فرع ہے۔ ایمان کی اصل تصدیق بالقلب ہے اور اس کی فرع یہ ہے کہ مراعاتِ اوامر و نواہی کی جائے اور عرف و عادت میں ہے کہ ایک چیز کی فرع کو بصورتِ استعارہ اصل کے نام سے بولتے ہیں۔ جیسے آفتاب کے نور کو عام طور پر آفتاب ہی کہتے ہیں۔ اس معنیٰ میں اطاعت کو ایمان کہا گیا اور اس ذات کے فضل سے بندہ بغیر عمل، عذاب سے بے غم نہیں ہو سکتا اور صرف تصدیق مقتضیِ امن نہیں جب تک حکم بجا نہ لائے۔ تو جس کی اطاعت زیادہ ہوگی اسے عذاب سے بھی زیادہ امن ہو گی۔ چونکہ اطاعت علتِ امن ہے اور اس میں شرط اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب ہے، اسی کو ایمان کہتے ہیں۔
پھر ایک گروہ نے کہا ہے کہ امن کی علت معرفت ہے نہ کہ اطاعت۔ اگرچہ اطاعت ہو اور معرفت نہ ہو تو اطاعت سے فائدہ نہیں۔ لیکن اگر معرفت ہو اور اطاعت نہ ہو تو نجات ہو سکتی ہے، اگر اس کا حکم ارادۂ الٰہی میں ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فضلِ خاص سے معاف فرمائے گا یا حضور شفیع المذنبین ﷺ کی شفاعت سے بخش دے گا یا اس کے گناہ کے اندازہ پر اسے عذاب کرے گا۔ پھر دوزخ سے نکال کر بہشت عطا فرمائے گا۔ تو اربابِ معرفت اگرچہ گناہ گار ہوں، بہ سببِ معرفت ہمیشہ دوزخ میں نہ رہیں گے اور اگر معرفت نہ ہو اور عمل ہی عمل ہو اس سے وہ داخلِ جنت نہ ہوں گے۔
تو اس سے ثابت ہوا کہ اطاعت علتِ امن نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: لَنْ یَّنْجُوَ اَحَدُكُمْ بِعَمَلِهٖ قِیْلَ وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ قَالَ وَلَا اَنَا اِلَّا اَنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰهُ بِرَحْمَتِهٖ۔ "تم میں سے کوئی عمل کے سبب نجات نہ پائے گا۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ بھی؟ فرمایا: میں بھی رہائی نہ پاؤں گا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں مجھے ڈھانپ لے۔"
۴۶۷تو بطریقِ تحقیق بلا اختلافِ امت ایمان معرفت ہے اور اقرار پذیرائی کا عمل ہے۔ جو شخص حق تعالیٰ کو پہچانے گا بہر حال کسی وصف سے پہچانے گا۔ اور اوصاف کی تین اقسام ہیں۔ بعض تو جمال سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض جلال سے اور بعض کمال سے، اور خلقت کو اس کے کمال کی طرف راہ نہیں سوا اس سے کہ اسے کمال سے ثابت کریں اور نقص اس سے دور کریں۔ باقی رہا جمال اور جلال۔ یہ اس کے لیے ہے جس کا معشوق جمالِ حق ہو۔ معرفتِ جمال میں طالب ہمہ اوست کا مشاق رہتا ہے اور جو عاشقِ جلالِ حق ہووہ ہمیشہ اپنے اوصاف سے متنفر رہتا ہے اور اس کا دل مقامِ حیرت میں ہوتا ہے۔ تو شوق تاثیرِ محبت کا نام ہے اور ایسا ہے اوصافِ بشریت سے متنفر ہوتا ہے اس لیے کہ کشفِ حجاب اور صفتِ بشریت عین محبت کے سوا نہیں۔ تو ایمان اور معرفت محبت ہے اور محبت کی علامت اطاعت ہے۔
اس لیے کہ جب دل دوستی کا مقام ہو اور آنکھیں دیکھنے کا مقام ہوں اور جائے عبرت اور دل جائے مشاہدہ ہو تو تن تارکِ امر نہ ہونا چاہیے اور جو اس کے سوا کچھ اور کہے وہ تارکِ امر ہے اور معرفت سے بے خبر۔ اس زمانہ میں یہ فساد صوفیوں کے مابین عام ہے۔ ملحدوں کے ایک گروہ نے ان کا جمال دیکھا اور اس کا مرتبہ معلوم کیا تو خود بھی ان کی صورت اختیار کی اور کہا کہ یہ اس وقت تک رائج ہے کہ تو نے نہیں پہچانا اور جب تو نے جان لیا تو تکلیفِ طاعت تن سے اٹھ گئی۔ لیکن یہ غلط ہے۔
میں کہتا ہوں کہ جب تو نے حق تعالیٰ کو پہچانا تو دل جائے شوق ہوا اور حکم کی عظمت زیادہ ہوئی اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مطیع اس درجہ کو پہنچ جائے کہ طاعت کا رنج اس سے اٹھا لیں اور طاعت گذاری کی اسے زیادہ توفیق ہو، تا کہ جو طاعتِ خلقت تکلیف جان کر کرتی ہے وہ تکلیف اسے محسوس نہ ہو اور یہ بات تب حاصل ہوتی ہے جب شوقِ اطاعت بے چین کرنے والا پیدا ہو جائے۔
پھر ایک گروہ کی طرف سے یہ اختلاف عام ہے، خاص کر ماوراء النہر میں۔ وہ کہتے ہیں جو کچھ ذاتِ حق کے متعلق کہتے ہیں وہ محض جبر ہے اس لیے بندہ اس میں مضطر چاہیے اور جو اپنے سے کہتے ہیں وہ سب محض قدر ہے۔ کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ معلوم نہ کرے بندہ اسے جان نہیں سکتا اور طریقۂ توحید جبر سے کم اور قدر سے زیادہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ بندہ کا فعل بہ ہدایتِ حق ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ۖ وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا﴾ "یعنی جس کو اللہ ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ رکھنا چاہتا ہے اس کا سینہ احساسِ تکلیف سے تنگ کر دیتا
۴۶۸ہے۔" اس آیۂ کریمہ کے ماتحت یہ ثابت ہوتا ہے کہ گردشِ ہدایتِ حق ہو اور ہونا بندہ کا فعل ہو تو ہونے کی علامت دل کا اعتقادِ توحید کا ہونا ہے اور آنکھوں پر منہیات سے بچنا اور علامت و نشانِ عبرت پانا اور کانوں پر اس کا کلام سننا، معدہ پر اس کے حرام سے خالی رہنا اور زبان پر سچ بولنا اور جسم پر منہیات سے پرہیز کرنا تا کہ معنیٰ اور دعویٰ موافق ہو جائے۔
اس سبب سے اس گروہ نے معرفتِ ایمان میں کمی بیشی رکھی ہے اور سب کا اس پر اتفاق ہے کہ معرفتِ ایمان میں کمی بیشی جائز نہیں کیونکہ اگر معرفت میں زیادتی اور نقصان ہوتا تو معرفت بھی کم زیادہ ہوتی۔ جب معرفت پر زیادتی اور نقصان روا نہیں تو معرفت پر بھی کمی زیادتی روا نہیں۔ کیونکہ معرفت ناقص نہیں ہوتی۔ تو لازم آیا کہ فرع اور عمل میں زیادتی اور نقصان نہ ہو اور اطاعت پر بالاتفاق زیادتی اور نقصان روا ہے، اور حشویوں کے دو فریق جو کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایک گروہ طاعت کو ایمان کہتا ہے۔ دوسرا گروہ ایمان کو صرف قول کہتا ہے۔
غرضیکہ حقیقت میں بندے کے کل اوصاف حق تعالیٰ کی طلب میں متفرق ہوں اور ہر ایمان والے کو اس پر اتفاق کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ سلطانِ معرفت کا غلبہ منکرِ اوصاف کو مغلوب کر دیتا ہے اور جہاں ایمان ہو وہاں اسبابِ انکار دور ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا: اِذَا طَلَعَ الصَّبَاحُ عَطَّلَ الْمِصْبَاحَ۔ "جب دن نکل آتا ہے تو چراغ معطل ہو جاتا ہے۔"
کسی عارف نے فرمایا کہ روشن دن کے واسطے دلیل کی حاجت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا﴾ "جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوئے اسے تباہ کر دیتے ہیں۔"
چنانچہ جب حقیقتِ معرفت عارف کے دل پر گزرے تو پھر ظن اور شک اور انکار دفع ہو جاتا ہے اور شہنشاہِ معرفت اس ہوئی و ہوس کو اپنی تسخیر میں لاتا ہے تا کہ جو کچھ کہے یا دیکھے یا کرے سب دائرۂ امر میں ہو۔ میں نے سنا ہے کہ لوگوں نے حضرت ابراہیم خواص سے پوچھا کہ حقیقتِ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اس وقت میں اس کا جواب نہیں رکھتا، اس لیے کہ جو کچھ میں کہوں صرف کہنا ہی ہوگا اور مجھے چاہیے کہ معاملہ سے جواب دوں لیکن میں مکہ شریف کو جانے والا ہوں، تو بھی اس ارادہ سے اس راستے پر میرے ساتھ چل تا کہ تو اپنے مسئلہ کا جواب پائے۔
انہی کا بیان ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب میں اس کے ساتھ جنگل پہنچا۔ ہر روز دو روٹی اور دو پیالہ پانی غیب سے آتے۔ وہ ایک میرے آگے رکھتے، ایک خود اٹھا لیتے۔ حتیٰ کہ ایک
۴۶۹روز جنگل میں ایک ضعیف العمر آ رہا تھا۔ اس نے جب ابراہیم خواص کو دیکھا، گھوڑے سے اترا اور سلام کے بعد کچھ دیر آپس میں اس سے گفتگو ہوئی۔ پھر وہ بوڑھا گھوڑے پر سوار ہو کر چل دیا۔ میں نے عرض کی اے شیخ! یہ بوڑھا کون تھا؟ آپ نے فرمایا: وہ تیرے سوال کا جواب تھا۔ میں نے عرض کی، یہ کس طرح؟ فرمایا: وہ حضرت خضر علیہ السلام تھے۔ انہوں نے میری مصاحبت چاہی، میں نے منظور نہ کی۔ میں نے عرض کی حضور کیوں منظور نہیں کی۔ آپ نے فرمایا میں اس بات سے ڈرا کہ اس کی مصاحبت غیر اللہ پر بھروسہ ہے، اس سے کہیں میرا توکل تباہ نہ ہو جائے اور حقیقتِ ایمان توکل کی حفاظت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَعَلَی اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴾ "اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم ایمان والے ہو۔"
اور حضرت محمد بن خفیف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اَلْاِیْمَانُ تَصْدِیْقُ الْقَلْبِ بِمَا عَلِمَ بِهِ الْغُیُوْبُ۔ "یعنی ایمان یہ ہے کہ جو کچھ اس پر غیب سے مکاشفہ ہوا اس پر یقین رکھے۔" اس لیے کہ ایمان غیب پر ہے کہ خداوند تعالیٰ سر کی آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ اور جب تک معنی میں قوت نہ ہو بندہ کا یقین ظاہر نہیں ہوتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ جب شناخت کرنے والا اور معلوم کرنے والا عارف اور عالم کا اللہ تعالیٰ ہے جس نے ان کے دلوں میں معرفتِ علم پیدا کی تو علم اور معرفت ان کے کسب کے قبضہ میں نہیں رہی۔ تو جو شخص اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی معرفت یقین دیتا ہے وہ مومن واصل باللہ ہوتا ہے۔ میں نے اس بحث پر اور جگہ بہت کچھ بیان کیا ہے۔ یہاں اس پر اکتفا کرتا ہوں تا کہ کتاب طویل نہ ہو اور اہلِ بصیرت کے لیے اس قدر کافی ہے۔ اب میں اسرارِ معاملات بیان کرتا ہوں، اس کے پردے کھولتا ہوں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ۔
کشفِ حجابِ چہارم: طہارت
ایمان کے بعد بندہ پر خصوصی فرض یہ ہے کہ نماز ادا کرنے کو طہارت حاصل کرے اور وہ بدن کو نجاست اور جنابت سے پاک کرتا ہے۔ بموجب حکمِ شریعت تین عضووں کا دھونا، سر کا مسح کرنا ہے۔ اور پانی نہ ہونے یا ایسی بیماری جو پانی سے بڑھ جائے اس کے بجائے تیمم کرنا اور اس کے احکام اس سب کو معلوم ہیں۔
یہاں یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ طہارت دو قسم کی ہے: ایک طہارتِ باطن، دوسری طہارتِ ظاہری۔ بدون طہارتِ ظاہر نماز درست نہیں۔ ایسی بدون طہارتِ باطن جس کا تعلق دل پاک کرنے سے ہے، معرفت درست نہیں ہوتی۔ بدن کی طہارت کے لیے پانی طاہر و مطہر ہونا
۴۷۰چاہیے۔ مستعمل اور مقید پانی نہ ہو۔ دل کی طہارت کے لیے آبِ توحید کی ضرورت ہے، جس میں اعتقاد مذبذب اور مشکوک نہ ہو۔
چنانچہ صوفیا کرام ہمیشہ طہارتِ ظاہری کے پابند رہتے ہیں اور اپنا باطن توحید سے مملور کھتے ہیں۔
حضور ﷺ نے اپنے ایک صحابی کو فرمایا: دُمْ عَلَی الْوُضُوْءِ یُحِبَّكَ حَافِظُكَ۔ "ہمیشہ باوضو رہ تیرا محافظ تجھے محبوب رکھے گا" اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ﴾ "اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔"
تو جو ہمیشہ باطہارت رہے، فرشتے اس سے محبت کرتے ہیں اور جو باطن کو توحید پر قائم رکھے، اللہ اسے محبوب رکھتا ہے۔ حضور ﷺ ہمیشہ اپنی دعا میں فرماتے تھے: اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ۔ "الٰہی میرا دل نفاق سے پاک رکھ۔" حالانکہ حضور ﷺ کے دل میں کسی حالت میں بھی نفاق نہیں تھا۔ لیکن اپنی کرامت کا دکھانا اثباتِ غیر نفاق لاتا ہے اور یہ مقامِ توحید نہیں ایک نفاق ہے۔ ہرچند کہ ذرہ بھر کرامتِ مشائخ سے سرمۂ دیدہ مریدان ہوتا ہے آخرش وہ محلِ کمال ہیں اس بلند مرتبہ حجاب پر ہوتا ہے اس لیے کہ جو غیر ہو اس کی رویت آفت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: نِفَاقُ الْعَارِفِیْنَ اَفْضَلُ مِنْ اِخْلَاصِ الْمُرِیْدِیْنَ۔ "یعنی خدا رسیدہ عارفوں کا نفاق، اخلاصِ مریدان سے بہتر ہے۔" یعنی وہ مقام جو مرید کا ہے، کامل کے لیے حجاب ہے۔ مرید کی توجہ اس پر ہوتی ہے کہ وہ کرامت کو پائے اور عارفِ کامل کی توجہ اس پر ہوتی ہے کہ وہ کرامت دینے والے کو پائے۔ غرضیکہ کرامت کا ظاہر کرنا اہلِ حق کے لیے نفاق ہے۔ اس واسطے کہ وہ غیر کا دیکھنا ہے۔ اسی لیے جسے خاصانِ حق آفت جانتے ہیں اس میں عام سیہ کار اپنی نجات سمجھتے ہیں، اس لیے الٰہی آفت جو عارف اپنے لیے جانے، وہ گمراہی سے نجات ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگر کافر یہ سمجھ لیں کہ ہمارے گناہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں جیسے سیہ کار اپنی سیہ کاری کو برا سمجھتا ہے تو سب کفر سے نجات پاتے اور اگر گنہگار یہ جانتے کہ ہمارے تمام اعمال محلِ علت ہیں تو سب گناہ سے نجات پا جاتے اور تمام آفتوں سے پاک ہو جاتے۔ تو چاہیے کہ ظاہری طہارت باطنی طہارت کے موافق ہو یعنی
ہاتھ دھوئیں تو اس کے ساتھ ہی دل کو دنیا کی محبت سے پاک کر لے۔
۴۷۱جب استنجا کریں تو جس طرح نجاست ظاہر سے پاکی حاصل کی ویسے ہی باطن کو غیر کی دوستی سے پاک کر لے۔
جب ناک میں پانی ڈالے تو خواہشات کو بھی اپنے اوپر حرام کرے۔
جب منہ دھوئے تو ساتھ ہی تمام خواہشاتِ نفسانی کی چیزوں سے منہ پھیر لے اور حق کی طرف متوجہ ہو۔
جب کہنیوں تک ہاتھ صاف کرے تو اپنے تمام نصیبوں سے علیحدہ ہو جائے۔
جب سر کا مسح کرے تو اپنے تمام کام اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دے۔
جب پاؤں دھوئے تو تمام مناہی راہ چلنے سے باز رہنے کی نیت کرے۔
اس طرح اسے ہر دو طہارتیں حاصل ہوں گی اس لیے کہ امورِ شرعی باطن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ جیسے اقرار باللسان، تصدیقِ قلب سے ہی ہوا ہے اور نیت، دل سے اور طاعت بموجب شریعت تن سے ہوتی ہے۔
چنانچہ دل کی طہارت کا طریقہ یہی ہے کہ آفاتِ دنیا میں تدبر و تفکر کر کے اس بات کے اوپر غور کرے کہ دنیا بے وفا ہے اور یہ جگہ خالص فنا ہے اس سے دل خالی کر کے یک سو ہو۔ مگر یہ کافی مجاہدہ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اور مجاہدہ میں اہم کام آدابِ ظاہری کی حفاظت ہے اور ہر حال میں اس کا التزام۔
حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے دنیا میں ابدی عمر چاہتا ہوں تا کہ تمام دنیا نعمتوں میں مشغول ہو کر، جب حق تعالیٰ بھلائے تو میں آدابِ شریعت کی حفاظت کروں اور یادِ حق میں رہوں۔
کہتے ہیں کہ ابو طاہر خرمی رحمۃ اللہ علیہ چالیس سال مکہ معظمہ میں رہے۔ مگر آپ نے ارضِ حرم میں طہارت نہ کی۔ جب آپ کو حاجت ہوتی حدودِ حرم سے باہر جاتے اور فرماتے جس زمین کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا میں اس پر مستعمل پانی ڈالنا مکروہ سمجھتا ہوں۔
اور حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ آپ "رے" کی جامع مسجد میں مرضِ اسہال سے بیمار ہوئے تو آپ رات دن میں ساٹھ بار غسل فرماتے۔ آخر اسی میں رحلت فرما گئے۔
اور حضرت ابو علی رود باری رحمۃ اللہ علیہ معاملۂ عبادت میں وسواس و توہم کے مریض تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں صبح دریا میں گیا اور طلوعِ آفتاب تک اسی میں رہا۔ اس پر میں آزردہ دل ہوا
۴۷۲اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کرنے لگا: اِلٰهَ الْعَالَمِیْنَ اَلْعَافِیَةَ اَلْعَافِیَةَ۔ ہاتفِ غیبی نے دریا سے جواب دیا: اَلْعَافِیَةُ فِی الْعِلْمِ۔ "ابو علی! عافیت علم میں ہے۔"
حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے ایک نماز کے لیے ساٹھ بار طہارت کی۔ اس حال میں آپ تھے کہ انتقال کا وقت آ گیا۔ آپ نے عرض کی: الٰہی! میں حکمِ موت آنے تک باطہارت ہوں۔
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کے واقعہ میں ہے کہ آپ ایک روز مسجد جانے کے لیے طہارت فرما رہے تھے کہ غیبی آواز آئی: شبلی! ظاہری طہارت تو کر لی، باطنی طہارت کہاں ہے؟ آپ واپس تشریف لائے اور تمام جائیداد، مال و دولت راہِ خدا میں خرچ کر کے ایک سال تک صرف ایک کپڑے میں رہے جس سے نماز ادا ہو سکے۔ پھر حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آئے۔ جنید نے کہا: اے ابو بکر شبلی! جو طہارت تم نے اختیار کی ہے وہ بہت مفید ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ باطہارت رکھے۔ چنانچہ حضرت شبلی! وقتِ رحلت تک بے طہارت نہ رہے۔ جب وقتِ انتقال آیا تو آپ کی طہارت نہ رہی۔ ایک مرید کو اشارہ کیا کہ مجھے طہارت کرائے۔ مرید نے طہارت کرائی مگر ریش مبارک میں خلال کرنا بھول گیا۔ اس وقت آپ میں کلام فرمانے کی قوت نہ تھی۔ آپ نے مرید کا ہاتھ پکڑ کر داڑھی کی طرف اشارہ کیا اس نے خلال کیا۔ یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: میں نے کسی رات بے طہارت شب نہ گزاری اور اگر سہواً طہارت نہ رہی تو مجھے میرے باطن نے یاد دلایا۔
حضرت بایزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میرے دل میں اندیشۂ دنیا گزرتا ہے تو میں طہارت کر لیتا ہوں اور جب اندیشۂ عاقبت گزرتا ہے تو غسل کر لیتا ہوں۔ اس لیے کہ دنیا محدث ہے اور اس کا اندیشہ حدث ہے اور عقبیٰ محلِ غیبت و آرام ہے اور اس کا اندیشہ جنابت ہے۔ تو حدث سے طہارت واجب ہے اور جنابت سے غسل۔
اور حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک روز آپ نے طہارت کی۔ جب مسجد کے دروازہ پر آئے تو آواز آئی اے ابو بکر شبلی! تیری وہ طہارت ہے جو ہمارے گھر میں گستاخ طہارت کر کے آتے ہیں۔ یہ سن کر آپ واپس لوٹے تو آواز آئی شبلی! ہمارے در سے واپس جا کر کہاں جائے گا۔ آپ نے ایک نعرہ مارا۔ آواز آئی شبلی! ہم پر طعن کرتا ہے۔ آپ وہیں خاموش کھڑے رہ گئے۔ تو آواز آئی تحمل بلا کا دعویٰ کرتا ہے۔ تو آپ نے عرض کی: اَلْمُسْتَغَاثُ بِكَ مِنْكَ۔ "تیرے حضور تحمل سے فریاد ہے۔"
۴۷۳مشائخ صوفیہ کی تحقیقِ طہارت میں بہت سی باتیں ہیں اور وہ ہمیشہ ظاہری باطنی طہارت کا مریدوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور بارگاہِ حق میں جانے کے ارادہ پر جب کوئی قصد کرے تو طہارتِ ظاہری پاکی کے لیے پانی سے ہوتی ہے اور باطنی طہارت توبہ اور درگاہِ الٰہی میں رجوع کرنے سے۔ اب میں توبہ اور اس کے لوازمات کا بیان کرتا ہوں۔
پندرھواں باب
توبہ اور متعلقاتِ توبہ
اچھی طرح سمجھ لو کہ رہروانِ طریقۂ حق کا پہلا مقام توبہ ہے۔ جیسے طالبانِ خدمت کا پہلا درجہ طہارت ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا﴾ "اے ایمان والو! توبہ کرو اللہ کے حضور توبۃ النصوح۔" اور فرمایا: ﴿وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ "توبہ کرو اے ایمان والو! اللہ کی طرف سب، تا کہ تم فلاح پاؤ۔" اور حضور ﷺ نے فرمایا: مَا مِنْ شَیْءٍ اَحَبَّ اِلَی اللّٰهِ مِنْ شَابٍّ تَائِبٍ اِلَی اللّٰهِ تَعَالٰی۔ "اللہ تعالیٰ کے نزدیک جوان توبہ کرنے والے سے زیادہ محبوب کچھ نہیں۔" اور فرمایا: اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهٗ "گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں۔" پھر حضور ﷺ نے فرمایا: اِذَا اَحَبَّ اللّٰهُ عَبْدًا لَنْ یَّضُرَّهٗ ذَنْبٌ "جب اللہ
۳۔ اسے ابن عدی نے الکامل فی ضعفاء الرجال (۴/۱۴۳۹) میں روایت کیا ہے جبکہ علی المتقی الہندی نے کنز العمال (حدیث: ۴۳۱۰۸) میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: مَا مِنْ شَیْءٍ اَحَبَّ اِلَی اللّٰهِ مِنْ شَابٍّ تَائِبٍ۔
۴۷۵کسی بندے کو محبوب بنا لے تو اُسے کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا۔" پھر حضور ﷺ نے تلاوت فرمائی: ﴿اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ﴾ "اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاک رہنے والوں کو محبوب بناتا ہے۔"
لوگوں نے حضور ﷺ سے توبہ کی دریافت کی۔ فرمایا: نادم ہونا۔ اور یہ جو فرمایا کہ گناہ اللہ کے دوستوں کو نقصان نہیں دیتا اس سے یہ مطلب ہے کہ گناہ گار کا فرنہیں ہوتا اور اس کے ایمان میں خلل نہیں آتا۔ تو جب گناہ سے سرمایہ کا نقصان نہیں تو اس گناہ کا نقصان کہ جس کا انجام نجات ہو، کچھ نقصان نہیں۔
واضح رہے کہ "توبہ" لغت میں رجوع کے معنی دیتی ہے۔ جیسے کہتے ہیں تَابَ اَیْ رَجَعَ "توبہ کی یعنی رجوع ہو گیا۔" تو اللہ تعالیٰ کی منع کی ہوئی بات سے توبہ کرنا یہ ہے کہ امرِ الٰہی کے خلاف کرنے سے خائف ہوا۔ یہ اصل توبہ ہے
اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَلنَّدَمُ تَوْبَةٌ "گناہ پر نادم ہونا توبہ ہے۔" اور یہ ایسی جامع تعریف ہے کہ اس میں توبہ کی تمام شرطیں آ جاتی ہیں۔ اس لیے توبہ کی پہلی شرط یہ ہے کہ مخالفِ حکم عمل پر افسوس کرے، دوسرے اسے ترک کرتے ہوئے منفعل ہو، تیسرے عہد کرے کہ پھر ایسا نہ کرے گا اور یہ تینوں شرائط ندامت میں آ جاتی ہیں۔ اس لیے کہ جب دل میں ندامت پیدا ہوئی تو بقیہ دو شرطیں اس کے ضمن میں آ گئیں۔ اور ندامت کے تین سبب ہوتے ہیں جیسے توبہ کی تین شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ جب خوفِ عذاب دل پر غالب ہو تو اعمالِ سیئہ کا غم دل پر آتا ہے اور ندامت پیدا
۴۷۶ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ حصولِ نعمت کا ارادہ جب دل پر غالب ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ برے کام اور نافرمانی سے یہ حاصل نہیں ہوتی تو پریشان ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اس پر بارگاہِ حق سے شرم غالب آئے اور مخالفتِ حکم سے پشیمان ہو تو پھر تائب ہو جاتا ہے۔ اور توبہ کے تین مقام ہیں: اوّل تائب، دوسرا عاجز، تیسرا اوّاب۔ تو توبہ خوفِ عذاب کے سبب ہوتی ہے اور انابت طلبِ ثواب کے لیے اور اوّاب رعایتِ فرمان کے واسطے۔
اس لیے کہ توبہ عام مومنوں کا مقام ہے اور وہ ارتکابِ کبائر سے ہوتی ہے۔ جیسے کہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا﴾ "اے ایمان والو! اللہ کی طرف خالص توبہ کرو۔" اور انابت، خالص اولیاء اور مقربانِ خاص کا مقام ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَجَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبٍ﴾ "جو اللہ تعالیٰ سے ڈرا اور آیا عاجز دل لے کر۔" اور اوّاب، یہ انبیاء و مرسلین کا مقام ہے۔ جب کہ فرمایا: ﴿نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ﴾ "بہت اچھا بندہ رجوع کرنے والا ہے۔"
تو پھر گناہِ کبیرہ سے باز آنا اور اطاعتِ الٰہی کی طرف جھکنا، یہ ایک درجہ ہے اور صفائی سے توبہ کرنا اور محبتِ الٰہی کی طرف رجوع ہونا یہ ایک درجہ ہے اور انانیت سے منحرف ہو کر اپنے اختیاراتِ خیار ذات میں دے دینا، یہ ایک درجہ ہے۔ ان میں فرق یہ ہوا کہ ایک شخص خواہش سے علیحدہ ہو کر اتباعِ امر کی طرف رجوع کرے اور اصلِ توبہ ممنوعاتِ حق سے باز رہنے کا نام ہے، دوسرا قصور اور اندیشۂ فاسد سے باز آنا، تیسرا اپنے آپ کو حق تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا، غفلت سے دل بیدار کرنا اور غیبتِ عالی کا دیکھنا۔
اور جب بندہ اپنے بُرے حال اور برے افعال پر غور و فکر کرے اور اس سے نجات چاہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اسبابِ توبہ آسان کر دیتا ہے۔ پھر اس کے گناہوں کی شامت سے رہائی دیتا ہے اور اُسے اطاعت کی حلاوت عطا فرماتا ہے۔ اہلسنت و جماعت اور تمام مشائخ کے نزدیک یہ مسلّم ہے کہ اگر ایک شخص گناہ سے توبہ کر کے دوبارہ گناہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے توبہ کا ثواب دیتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے اس کی توبہ کی برکت سے اور گناہوں کی بھی معافی ہو جائے، جیسے ایک شخص شرابی، زانی ہو تو وہ اگر زنا سے توبہ کرے اور شراب نوشی سے باز نہ آئے تو اس کے گناہوں کی توبہ درست ہے با آنکہ وہ دوسرے گناہ کا مرتکب ہے۔
اور معتزلہ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ جب ایک گناہ کا مرتکب ہے اور ایک سے تائب، تو یہ
۴۷۷توبہ صحیح نہیں جب تک تمام کبائر سے مجتنب نہ ہو، اور یہ محال ہے۔ اس لیے کہ ہر گناہ پر جس کا بندہ مرتکب ہوتا ہے اس پر اسے عذاب ضرور ہے، تو جب بندہ ترکِ معصیت کرے تو اسے اس کے عذاب سے بے غم بھی ہونا ضروری ہے اور ترکِ معصیت اس کی طرف سے توبہ ہوتی ہے اور یہ بھی ہے کہ جب بندہ بعض فرض ادا کرے اور بعض ترک کر دے تو لازمی طور پر جو ادا کیے جائیں وہ ماجور ہے اور جو ترک کیا ہے اس میں ماخوذ۔ اور اگر کسی کو گناہ کرنے کے آلہ موجود نہ ہوں اور اس پر اس گناہ کی طرف اصرار بھی نہ ہو اور پھر وہ اس کے ارتکاب سے توبہ کرے تو لازمی وہ تائب ہوگا۔
اس لیے کہ توبہ کا ایک رکن ندامت ہے۔ تو اگر اسے اپنے پہلے کیے پر ندامت ہوتی ہے تو یہ اس فعل سے روگردانی کے مترادف ہے اور اگر وہ کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اس کے اسباب موجود ہیں تو وہ ایسی حالت میں عہد کرتا ہے کہ میں اس گناہ کی طرف نہ جاؤں گا تو یہ بھی بڑی توبہ ہے اور توبہ کے اوصاف اور صحت میں مشائخ کا اختلاف ہے۔
سہل بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور ایک جماعت کہتی ہے کہ: اَلتَّوْبَةُ اَنْ لَّا تَنْسٰی ذَنْبَكَ۔ "توبہ یہ ہے کہ تائب اپنے کیے ہوئے گناہ کو نہ بھولے۔" اور اس سے ہمیشہ پریشان رہے۔ اور اس کے اگر اس کے عملِ صالح زیادہ ہوں تو ان پر غرور بھی نہ کرے اس لیے کہ برے کام پر افسوس کرنا اعمالِ صالح پر مقدم ہے۔ اور جو شخص گناہ نہیں بھولتا وہ کبھی نیکیوں پر غرہ بھی نہیں کرتا۔
اور جنید رحمۃ اللہ علیہ اور ایک جماعت اس طرف ہے کہ: اَلتَّوْبَةُ اَنْ تَنْسٰی ذَنْبَكَ۔ "توبہ یہ ہے کہ تائب اپنے گناہ کو بھی بھول جائے۔" اس لیے کہ تائب محبّ ہوتا ہے اور محبت مشاہدہ میں ہوتی ہے اور مشاہدہ کی حالت میں گناہ کا تصور براہوتا ہے اور پھر عرصۂ وفا میں گناہ کا ذکر وفا سے حجاب ہوتا ہے اور یہ مشاہدہ اور مجاہدہ میں نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی تفصیل مذہبِ سہلیہ میں دیکھنی چاہیے۔ ان کے مذہب میں تائب کو بذاتِ خود قائم کہتے ہیں اور اس کے گناہ کو فراموش کر دینے کو غفلت مانتے ہیں اور جو تائب کو قائمِ بحق مانتے ہیں وہ گناہ کے ذکر کو بھی شرک بتاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اگر تائب باقی الصفہ ہو تو اس سے عقیدۂ اسرار حل نہیں ہوتا اور اگر فانی الصفہ ہو تو ذکرِ صفت اس کے لیے جائز نہیں۔
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿تُبْتُ اِلَیْكَ﴾ "میں نے تیرے حضور توبہ کی۔" یہ قول حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بحالتِ بقاءِ صفت تھا۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا: لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْكَ "تیری ثناء کا احصا نہیں ہو سکتا۔" یہ بیان فناءِ صفت کی حالت میں تھا۔
۴۷۸غرض کہ مقامِ قربت میں ذکرِ وحشت، وحشت ہوتا ہے اور تائب کو چاہیے کہ اپنے آپ سے گناہ کا تصور نہ لائے اور جب وہ تصورِ معصیت بھی نہ آنے دے گا تو اسے گناہ کس طرح یاد آ سکتے ہیں۔ درحقیقت اس مقام پر اپنے گناہ یاد کرنا بھی گناہ ہے اس لیے کہ یہ مقام روگردانی ہے۔ جیسے گناہ روگردانی کا مقام ہے اور اس کے غیر کا ذکر بھی ویسا ہی ہے جیسے ذکرِ جرم خود جرم ہوتا ہے بنا بریں گناہ بھولنا بھی جُرم ہے اس لیے کہ ذکر اور فراموشی کا تعلق توبہ سے ہے۔ اور جنید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت کتابیں پڑھیں لیکن مجھے کسی سے اتنا فائدہ نہ ہوا جتنا اس بیت سے ہوا
اِذَا قُلْتُ مَا اَذْنَبْتُ قَالَتْ مُجِیْبَةً حَیٰوتُكَ ذَنْبٌ لَا قِیَاسَ بِهٖ ذَنْبٌ
"جب میں نے کہا میں نے گناہ نہیں کیا، تو مجھے جواب ملا تیری زندگی ایسا بے گناہ ہے جس پر کسی گناہ کا قیاس نہیں ہو سکتا۔"
جب دوست کا وجود ہی حضورِ دوست میں گناہ ہے تو اس کے وصف کی کیا قدر ہو سکتی ہے۔
غرضیکہ توبہ تائیدِ ربانی سے ہوتی ہے اور گناہ افعالِ جسمانی سے۔ جب دل پر ندامت ہو تو بظاہر کوئی ذریعہ نہیں ہوتا کہ دل کی ندامت کو دور کرے اور جب ابتداءِ فعل میں اس کی ندامت کو روک نہیں سکتی تو انتہا میں کیونکر روک سکتی ہے نہ کہ اس کا فعل توبہ کا نگہبان ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَتَابَ عَلَیْهِ ۖ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴾ "تو توبہ کی آدم نے اس پر، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔" اور قرآن کریم کی نصوص میں اس کی بہت نظیریں ہیں کہ ان کے بیان کی ضرورت نہیں۔ توبہ تین طریق پر ہوتی ہے: ایک خطا سے صواب کی طرف۔ ایک صواب سے دوسرے صواب کی طرف۔ ایک اپنی ہستی سے حق تعالیٰ کی طرف۔
خطا سے صواب کی طرف یہ ہے جو ارشاد ہوا
﴿وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ﴾
"وہ لوگ جو کر بیٹھے بے شرمی یا ظلم کر گزرے اپنے نفسوں پر اور اللہ کی یاد کر کے گناہ معاف کرا لیں۔"
اور صواب سے صواب کی طرف وہ توبہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام نے کی
۴۷۹﴿تُبْتُ اِلَیْكَ﴾ "میں نے تیری طرف رجوع کیا۔"
اور اپنی ہستی سے حق تعالیٰ کی طرف وہ توبہ ہے جو حضور ﷺ نے خود کی اور فرمایا
وَاِنَّهٗ لَیُغَانُ عَلٰی قَلْبِیْ وَاِنِّیْ لَاَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ فِیْ كُلِّ یَوْمٍ سَبْعِیْنَ مَرَّةً
"بیشک میرا دل حجاب میں آ جاتا ہے اور میں ہر دن میں اپنے ربّ سے ستر بار استغفار کرتا ہوں۔"
اور ارتکابِ خطا مذموم ہے اور خطا سے رجوع بصواب محمود ہے۔ یہ توبہ عام ہے اور اس کا حکم ظاہر ہے اور راہِ صواب میں رہ کر اس پر قائم رہنے کی آرزو کرنا صواب سے ثواب کی طرف رجوع کرنا ہے۔ اسے اہلِ ہمت نے پسند کیا ہے یہ خاص توبہ ہے۔
اور یہ محال ہے کہ خواص آدمی گناہ سے توبہ نہ کریں۔ عام طور پر سب جانتے ہیں کہ جہان رویتِ حق کی حسرت کرتا ہے اور موسیٰ علیہ السلام اس آرزو کو پیش کر کے توبہ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ آرزو اپنے اختیار سے کی۔ اور محبت کے رابطہ میں اختیار بھی آفت ہے تو اس اختیار کے ترک کے لیے آپ نے توبہ کی اور اپنی ہستی سے رجوع بحق کیا یہ محبت کا درجۂ اتم ہے۔ جیسے اونچے مقام کی آفت کے باعث اونچے مقام پر کھڑا ہونے سے توبہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ مرتبہ حضور ﷺ کا ہے کہ آپ ﷺ کا تعلق ترقی پر تھا جس مقام پر تھے اسے بلند ہی سمجھ رہے تھے، جب اس سے آگے بڑھے تو پہلے مقام سے استغفار فرمائی۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
جب بندہ مستقل عہد کرے کہ پھر گناہ کی طرف رجوع نہ کرے گا تو اس کی توبہ کے لیے تائید شرط نہیں۔ اگر تائب پر کوئی آفتِ نفس آ جائے کہ پھر گناہ کی طرف رجوع کر لے بعد اس کے کہ پہلے صحیح عہد کر چکا ہو تو صواب توبہ کے حکم میں آ جائے گا اور یہ تائبوں میں مبتدی ایسے ہوتے
۴۸۰ہیں کہ توبہ کرتے ہیں پھر خواہشِ نفسانی کا فساد غالب آتا ہے اور برائی کی طرف رجوع ہو جاتے ہیں۔
اور یہ ایک واقعہ بھی ہے کہ ستر بار توبہ کر کے رجوع بفساد ہوا اور اکہترھویں بار توبہ پر قائم ہوا۔ حضرت ابو عمر نے جنید رضی اللہ عنہ کو کہا کہ میں نے ابتداء میں ابو عثمان حیریؒ کی مجلس میں توبہ کی اور کچھ دن اس پر قائم رہا کہ دل میں معصیت کی خواہش غالب ہوئی تو ابو عثمان حیریؒ کی صحبت سے علیٰحدہ ہو کر گناہ کی طرف مائل ہو گیا۔ جب مجھے حیری نظر آتے، میں ان سے نظر چرا کر بھاگ جاتا۔ اتفاقاً ایک روز ان سے ملا۔ انھوں نے مجھے فرمایا: بیٹا! دشمنوں کی صحبت اچھی نہیں، جب تو دشمن کی عیب جوئی سے آنکھ بند کر کے خود عیب کرنے لگتا ہے، دشمن خوش ہوتا ہے اور جب تو اس سے بچتا ہے وہ غمگین ہوتا ہے۔ اگر تو گناہ سے بچنا چاہتا ہے تو میرے پاس آ، تا کہ میں تیری آفتِ معصیت اٹھاؤں اور دشمن کو ذلت جب ہی ہو سکتی ہے جب تو اس کا دم نہ بھرے۔ تو میں نے عرض کیا حضور! اب میرا دل گناہ سے سیر ہو چکا ہے اور توبہ کی طرف اب صحیح طور پر آتا ہوں۔
یہ بھی مشہور ہے کہ ایک شخص نے گناہ سے توبہ کی پھر اسی گناہ کا مرتکب ہوا۔ پھر نادم ہوا۔ ایک روز اس نے اپنے جی میں کہا کہ اگر میں پھر توبہ کر کے ادھر جاؤں تو میرا حال کیا ہوگا۔ تو اس کے مکان میں ہاتفِ غیبی کی آواز آئی: اَطَعْتَنَا فَشَكَرْنَاكَ ثُمَّ تَرَكْتَنَا فَاَمْهَلْنَاكَ فَاِنْ عُدْتَ اِلَیْنَا قَبِلْنَاكَ۔ "تو نے ہماری اطاعت کی ہم نے تجھے پسند کیا، پھر تو نے بیوفائی کی اور ہمیں چھوڑ دیا، ہم نے تجھے مہلت دی اگر پھر توبہ کرے تو ہم قبول کریں گے۔"
اب ہم اقوالِ مشائخ کی طرف رجوع کرتے ہیں
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
تَوْبَةُ الْعَوَامِ مِنَ الذُّنُوْبِ، تَوْبَةُ الْخَوَاصِ مِنَ الْغَفْلَةِ
"عوام کی توبہ گناہ سے ہوتی ہے اور خواص کی توبہ غفلت سے۔"
اس لیے کہ عوام کی باز پرس ان کے ظاہری اعمال پر ہوگی اور خواص سے ان کے باطنی معاملہ سے۔ اس لیے کہ غفلت عوام کے لیے نعمت ہے اور خواص کے لیے حجاب۔
۴۸۱حضرت ابو حفص حداد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
لَیْسَ لِلْعَبْدِ فِی التَّوْبَةِ شَیْءٌ لِاَنَّ التَّوْبَةَ اِلَیْهِ لَا مِنْهُ۔
"بندہ کو توبہ سے کچھ فائدہ نہیں اس لیے کہ توبہ حق کی طرف سے بندہ کو ہے نہ بندہ کی طرف سے حق کو۔"
اس قول کے مطابق چاہیے کہ توبہ مکتسب نہ ہو بلکہ وہبی ہو، مواہبِ الٰہی سے۔ اس قول کا تعلق مذہبِ جنیدیاں سے ہے۔
اور حضرت ابو الحسن بوشنجہؒ فرماتے ہیں
اَلتَّوْبَةُ اِذَا ذَكَرْتَ الذَّنْبَ ثُمَّ لَا تَجِدُ حَلَاوَتَهٗ عِنْدَ ذِكْرِهٖ فَهُوَ التَّوْبَةُ۔
"توبہ یہ ہے کہ جب گناہ یاد آئے تو اس کی لذت دل میں نہ پائے (بلکہ نفرت آئے)۔"
اس لیے کہ گناہ کا ذکر یا اس کی حسرت کے ساتھ ہوگا یا اس کی طرف ارادہ کے ساتھ۔ تو جو کسی کو حسرت و ندامتِ معصیت سے ہو تو وہ تائب ہے اور اگر بااراده معصیت دگنا یاد کرے تو عاصی ہے۔ اس لیے کہ گناہ کے ارتکاب میں اتنی آفت نہیں ہوتی جتنی اس گناہ کی خواہش میں ہے۔ اس لیے کہ وہ گناہ کرنا ایک وقت پر ہے اور اس کی خواہش ہمیشہ رہتی ہے۔ تو جو ایک ساعت جسم کے ساتھ ارتکابِ گناہ کرے وہ اسی وقت تک محدود ہے اور اس کی خواہش اگر کرے تو وہ مستمر ہوتی ہے۔
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
اَلتَّوْبَةُ تَوْبَتَانِ تَوْبَةُ الْاِنَابَةِ وَتَوْبَةُ الْاِسْتِحْیَاءِ فَتَوْبَةُ الْاِنَابَةِ اَنْ یَّتُوْبَ الْعَبْدُ خَوْفًا مِّنَ الْعُقُوْبَةِ وَتَوْبَةُ الْاِسْتِحْیَاءِ اَنْ یَّتُوْبَ حَیَاءً مِّنْ كَرَمِهٖ۔
"توبہ دو طرح پر ہے: ایک توبۂ انابت، دوسری توبۂ استحیاء۔ توبۂ انابت وہ ہے کہ بندہ خوفِ عذابِ حق تعالیٰ سے توبہ کرے اور توبۂ استحیاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور شرم سے توبہ کرے اور اس کے کرم کی امید رکھے۔"
تو خوف کے ذریعہ جو توبہ ہے اس میں جلالتِ حق کھل جاتی ہے اور حیاء کی توبہ نظارۂ جمال سے ہوتی ہے۔ تو ایک توبہ جلالتِ شان کے خوف سے ہوتی ہے اور ایک جمال کے مشاہدہ میں نور و حیاء سے متغیر ہو کر ہوتی ہے۔ ان دونوں میں سے ایک سکر میں ہوتا ہے
۴۸۲مدہوش۔ چنانچہ اہلِ حیا سکر میں ہوتے ہیں اور اہلِ خوف صحو میں۔ اس بحث میں بہت سی باتیں ہیں جسے میں اسی پر ختم کرتا ہوں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ
کشفِ حجابِ پنجم: نماز
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ﴾ "نماز قائم رکھو۔" اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَلصَّلٰوةُ وَمَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ "اور نماز بمعنی ذکر و انقیاد ہے۔" از روئے لغت اور فقہا کی اصطلاح میں عبادتِ مخصوص مراد ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ پانچ نمازیں وقت میں ادا کرو۔ اس میں داخل ہونے سے پہلے اس کی شرائط ہیں۔ اوّل طہارتِ نجاستِ ظاہری سے اور طہارتِ باطنی شہوت سے، دوسرے کپڑا پاک ہونا نجاستِ ظاہر سے اور باطن یعنی حرام سے، تیسرے جگہ کا پاک ہونا ظاہر میں حادثات اور آفات سے اور باطن میں فساد اور گناہ سے۔ چوتھے رو بقبلہ ہونا قبلۂ ظاہر یعنی کعبہ کی طرف اور قبلۂ باطن عرش اور قبلہ سے مشاہدۂ مقصود۔ پانچویں قیامِ ظاہر میں بحالتِ استطاعت اور قیامِ باطن باغِ قربت میں بشرطیکہ ظاہر شریعت سے وقت میں داخل ہو اور باطن درجۂ حقیقت میں ہو۔
چھٹے جنابِ حق میں خلوصِ نیت سے متوجہ ہونا۔ ساتویں تکبیر بہیتِ فنا کے مقام میں کہنا اور محلِ وصل میں قرأت آہستہ ترتیل و عظمت سے کرنا اور رکوع بخشوع اور سجدہ عاجزی و فروتنی سے ادا کرنا اور تشہد جمعیتِ خاطر سے پڑھنا اور فنا کی صفت سے پورا کرنا۔ حدیث میں آیا ہے: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ یُصَلِّیْ وَفِیْ جَوْفِهٖ اَزِیْزٌ كَاَزِیْزِ الْمِرْجَلِ۔ "حضور ﷺ جب نماز ادا فرماتے تو آپ کے جوفِ مبارک سے دیگ کے جوش کی آواز آتی۔" اور جب امیر المومنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نماز کا ارادہ فرماتے تو آپ کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور چادر سے سر نکالتے ہوئے کانپتے اور فرماتے کہ یہ امانت ادا کرنے کا وقت ہے، جس کی برداشت سے زمین و آسمان عاجز ہوئے۔
ایک شیخ فرماتے ہیں کہ میں نے حاتم اصمؒ سے پوچھا کہ آپ نماز کس طرح ادا کرتے ہیں
۴۸۳فرمایا؟ جب وقتِ نماز آتا ہے ایک ظاہری وضو کرتا ہوں اور ایک باطنی۔ ظاہری پانی سے اور باطنی توبہ سے۔ پھر میں مسجد میں جاتا ہوں تو خانہ کعبہ میرے سامنے ہوتا ہے اور مقامِ ابراہیم دونوں ابروؤں کے درمیان اور دائیں بازو پر بہشت کرتا ہوں اور بائیں پر دوزخ اور پلِ صراط زیرِ قدم لاتا ہوں اور ملک الموت کو اپنے پیچھے تصور کرتا ہوں۔ پھر تکبیر بالتعظیم کہتا ہوں اور بادب قیام کرتا ہوں اور قرأت خوفناک حالت میں۔ اور رکوع باتواضع اور سجود بتضرع اور جلسہ حلم اور وقار سے اور سلام شکر کے ساتھ۔ وَبِاللّٰهِ تَوْفِیْقُ۔
جاننا چاہیے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ مرید ابتداء تا انتہاء اس سے راہِ حق پاتا ہے اور نماز ہی میں اُسے اُس کے مقامات کا کشف ہوتا ہے۔ جیسے مرید کو اس سے بجائے طہارت توبہ ملتی ہے۔ اور اطاعت کی بجائے قبلہ شناسی۔ اور مجاہدۂ نفس کی بجائے قیام و دوام اور ذکر بجائے قربت اور تواضع بجائے رکوع۔ اور معرفتِ نفس بجائے سجود اور امن بجائے تشہد اور تَجَنُّبٌ عَنِ الدُّنْیَا بجائے سلام اور بند مقامات سے باہر آنا۔
اسی وجہ سے معمول تھا کہ جنابِ حضور ﷺ تمام اکل و شرب سے تجنب فرماتے اور کمال حیرت سے محلِ شوق کے طالب ہوتے اور صرف ایک مذہب سے متعلق ہوتے تو فرماتے: اَرِحْنَا یَا بِلَالُ بِالصَّلٰوةِ۔ "اے بلال! ہمیں نماز و اذانِ نماز سے خوش کر۔"
اور مشائخ کرام رضی اللہ عنہم کے اس میں بہت کلام ہیں اور ہر ایک گروہ اپنے اپنے درجہ پر اپنا مقام بیان کرتا ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے نماز آلۂ حضوری ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے نماز آلۂ غیبت ہے۔ اور بعض غائب ہو کر نماز میں حاضر ہوئے ہیں اور جو حاضر ہوئے ہیں وہ نماز میں غائب ہوئے۔ جس طرح عالمِ عقبیٰ میں رویت کے وقت جو لوگ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے غائب سے حاضر ہو جائیں گے اور جو حاضر ہوں گے، وہ غائب ہو جائیں گے۔
۴۸۴اور میں علی، عثمان جلابی (رضی اللہ عنہ) کا بیٹا کہتا ہوں کہ نماز امرِ حق تعالیٰ ہے، نہ آلۂ حضور ہے، نہ آلۂ غائب۔ اس لیے کہ امر کسی چیز کا آلہ نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ حضور کی علت میں حضور ہے اور غیبت کی علت میں غیبت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا حکم کسی چیز سے تعلق کا سبب نہیں کیونکہ اگر نماز آلۂ حضور ہے تو چاہیے تھا کہ بدکار نمازی بدکاری نہ کرتے اور اگر نماز علتِ غیبت ہوتی تو لازمی تھا کہ غائب اس کے ترک سے حاضر ہوتے اور غائب کو اس کی ادا اور ترک سے عذر نہ ہوتا تو نماز کو بذات خود غلبہ ہے اور غیبت و حضور میں وہ محدود نہیں۔
چنانچہ اہلِ مجاہدہ و استقامت اکثر نماز پڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں جیسے مریدوں کو حکم دیتے ہیں کہ رات دن میں چار سو رکعت ادا کر، تا کہ بدن کو عبادت کا خوگر بنا لے اور اہلِ استقامت بھی بارگاہِ حق میں عبادت قبول ہونے کے شکرانہ میں بہت نماز ادا کرتے رہے ہیں۔ باقی رہے اصحابِ حال، یہ دو طرح پر ہیں: ایک گروہ وہ ہے جس کی نماز کمالِ مشرف میں بجائے مقامِ جمع کے ہوتی ہے اور وہ اس کے ذریعے مجتمع ہوتے ہیں اور دوسرا گروہ وہ ہے جس کی نماز انقطاعِ مشرف میں بجائے مقامِ تفرقہ کے ہوتی ہے اور وہ اس کے ذریعے متفرق ہوتے ہیں۔ تو جو لوگ مقامِ جمع میں رہ کر نماز ادا کرتے ہیں وہ دن رات نماز میں رہتے ہیں، علاوہ فرائض و سنن، ان کی طرف سے نفلیں ادا ہوتی رہتی ہیں۔ اور جو لوگ تفریق میں ہوتے ہیں، فرائض و سنت کے سوا اور زائد نہیں پڑھتے اور حضور ﷺ نے فرمایا
جُعِلَتْ قُرَّةُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوةِ۔
"میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی۔"
گویا فرمایا میری تمام خوشی نماز میں ہے۔
اس لیے کہ مشرب اہلِ استقامت نماز میں ہی ہے اور وہ ایسے ہے جیسے حضور ﷺ کو معراج میں لے گئے اور مقامِ جمع و تقرب پر پہنچایا تو آپ ﷺ کا نفس دنیا کے بند سے چھڑایا گیا اور دل کے مقام پر پہنچایا اور دل جان کے درجہ پر اور جان سر کے درجہ پر اور سر درجۂ فنا سے مقامِ محویت میں تھا اور نشانہ بے نشان اور مشاہدۂ ذات میں مشاہدہ سے غائب ہوا اور معائنہ سے دور ہوئے اور مشرفِ انسانی پراگندہ ہوا اور مادۂ نفسانی حل اور قویٰ طبعی نابود ہوئے تو مشاہداتِ ربانی اپنی ولایت میں ظاہر ہوئے اور آپ سے آپ میں رہے اور معنیِ معنی کو پہنچے اور مکاشفہ لم یزل میں محو ہوئے اور اپنے اختیار سے باہر ہو کر راہِ شوق اختیار کر کے عرض کیا: الٰہی! مجھے اس بلا خانہ میں واپس نہ لے جا اور قیدِ ہوئی میں نہ ڈال۔ حکم ہوا کہ ہمارا فرمان یہی ہے کہ آپ دنیا میں واپس
۴۸۵جائیں اور قانونِ شرع قائم کریں اور جو کچھ آپ کو ہم نے یہاں دیا ہے وہاں بھی ملے گا۔
چنانچہ جب حضور ﷺ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ کے دل میں اس مقامِ معلّی کا شوق بار بار آتا تو آپ ﷺ ارشاد فرماتے: اَرِحْنَا یَا بِلَالُ بِالصَّلٰوةِ۔ "اے بلال! ہمیں اذان اور صلوٰۃ کی آواز سے مسرور کر۔" چنانچہ ہر نماز حضور ﷺ کے لیے معراج اور تقرب تھی۔ خلقت کی نگاہیں آپ ﷺ کو نماز میں دیکھتیں۔ در حقیقت آپ ﷺ کی جانِ پاک معہ دل کے، نیاز میں اور سر راز میں ہوتے تھے اور بدنِ مبارک سوز و گداز میں۔ اسی وجہ سے آپ کی آنکھ کی ٹھنڈک نماز ہوئی اور تنِ پاک ملک میں اور جانِ پاک ملکوت میں۔ اس لیے کہ تن اِنس ہے اور جان اُنس۔
حضرت سہل بن عبد اللہ تستریؒ فرماتے ہیں
عَلَامَةُ الصِّدْقِ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ تَابِعٌ مِّنَ الْحَقِّ اِذَا دَخَلَ وَقْتُ الصَّلٰوةِ یَبْعَثُ عَلَیْهَا وَیُنَبِّهُهٗ اِنْ كَانَ نَائِمًا۔
"علامتِ صدق یہ ہے کہ من جانب اللہ اس پر فرشتہ بطور گماشتہ مقرر ہو، جب وقتِ نماز آئے تو وہ بندہ کو ادائے نماز کے لیے ذکر بیدار کر دے اگر وہ سو رہا ہو۔"
اور یہ علامت سہل بن عبد اللہؒ میں تھی۔ اسی وجہ میں وہ پیرِ زمانہ ہوئے آپ کا یہ حال تھا کہ نماز کے اوقات میں آپ تندرست ہو جاتے اور جب فارغ ہوتے تو وہیں رہ جاتے۔
مشائخ میں سے ایک صاحب فرماتے ہیں
یَحْتَاجُ الْمُصَلِّیْ اِلٰی اَرْبَعَةِ اَشْیَاءَ: فَنَاءُ النَّفْسِ وَذِهَابُ الطَّبْعِ وَصَفَاءُ السِّرِّ وَكَمَالُ الْمُشَاهَدَةِ۔
"نماز کے لیے چار باتیں ضروری ہیں بغیران کی خاطر جمع نہیں ہوتا۔ فناء النفس، ذہابِ طبع، صفاء السر، مشاہدۂ کمال۔"
جب خاطر جمع ہو جاتی ہے ولائتِ نفس تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا وجود تفریق ہے، وہ عبارت میں نہیں آ سکتا۔ جب طبیعت دفع ہو جائے تو اثباتِ جلال حاصل ہوتی ہے اس لیے کہ اثباتِ جلالِ حق زوالِ غیر کے بغیر نہیں۔ صفاء سر بغیر محبت کے نہیں ہو سکتا اور کمالِ مشاہدہ بجز صفاءِ سر نہیں۔
مروی ہے کہ حسین بن منصور رحمۃ اللہ علیہ رات دن میں چار سو رکعت فرائضِ مقررہ کی
۴۸۶طرح ادا فرماتے تھے۔ لوگوں نے عرض کیا: حضور! اتنی محنت آپ کیوں کرتے ہیں آپ تو مقرب خاص ہیں۔ فرمایا: یہ تمام رنج و راحت تمہارے حال میں ہے اور جو فانی الصفت ہو گیا ہو اس میں رنج و راحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ کاہلی اور سستی کا نام کمال نہیں اور عرض کو طلب کہنا صحیح نہیں۔ ایک نے کہا کہ میں نے اقتداء ذوالنون میں نماز گزاری۔ جب پہلی تکبیر اللہ اکبر کہی تو ایسا بیہوش ہو کر گرا گویا تن میں جان ہی نہیں۔
حضرت جنید رضی اللہ عنہ جب ضعیف ہوئے تو جوانی کے اوراد سے ایک وردبھی ترک نہ کیا۔ لوگوں نے عرض کیا: حضور! آپ ضعیف ہو گئے ہیں لہٰذا بعض عبادات نافلہ ترک فرما دیجیے۔ فرمایا جو چیزیں ابتداء میں اللہ کے فضل سے میں نے حاصل کیں، محال ہے کہ اب انتہا میں چھوڑ دوں۔
مشہور ہے کہ فرشتے ہمیشہ عبادت میں ہیں اور ان کا مشرب ہی اطاعتِ حق ہے۔ ان کی غذا عبادت ہے اس لیے کہ وہ روحانی ہیں اور ان کا نفس نہیں جو انہیں طاعت سے منحرف کرے۔ اس لیے کہ مانعِ عبادت نفس ہوتا ہے، جس قدر وہ متصور کر دیا جائے، بندگی کا راستہ اتنا ہی آسان ہو جاتا ہے۔ جب نفس فانی ہو جاتا ہے تو بندہ کی غذا، اس کا مشرب صرف عبادت ہو جاتا ہے۔ جیسے فرشتوں سے فناءِ نفس کی وجہ سے عبادت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔
حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں نے بچپن کے زمانہ میں ایک عورتِ عابدہ کو دیکھا کہ نماز میں اس کے جسم پر بچھونے چالیس جگہ ڈنک مارا مگر اس کے چہرے پر تغیر نہیں آیا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو میں نے کہا: اماں جان! آپ نے اسے دور کیوں نہ کر دیا؟ وہ فرمانے لگیں: صاحبزادے! تم بچے ہو، تمہیں معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کے کام میں اپنا کام کرنا ناجائز ہے۔
حضرت ابو الخیر اقطعؒ کے پائے مبارک میں مرض آکلہ ہو گیا (یہ ایسا خبیث مرض ہے کہ گوشت گل کر گرتا ہے اور اس کا علاج سوائے قطع کے نہیں ہوتا) طبیبوں نے پاؤں کاٹنا تجویز کیا۔ آپ نے منظور نہ فرمایا۔ مریدوں نے کہا جب شیخ ابو الخیر نماز میں ہوں اس وقت پاؤں کاٹا جائے اس لیے کہ اس حال میں آپ کو اپنی خبر نہیں ہوتی۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو پیر کٹا ہوا پایا۔
حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ جب آپ نماز پڑھتے تو قرأت ہلکی آواز سے کرتے اور فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ بلند آواز سے قرأت کرتے۔ حضور ﷺ نے
۴۸۷دونوں سے اس کا سبب پوچھا۔ صدیقؓ نے جواب دیا: یَسْمَعُ مَنْ اَنَا اُنَاجِیْ۔ "وہ سننے والا ہے جس کے حضور میں مناجات کرتا ہوں۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اُوْقِظُ الْوَسْنَانَ وَاَطْرُدُ الشَّیْطَانَ۔ "سوتوں کو جگانا چاہتا ہوں اور شیطان کو بھگانا۔" اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: صدیق! تم کچھ اونچی کرو اور عمر! تم کچھ قرأت ہلکی کر دو۔ یعنی میانہ آواز میں قرأت کیا کرو۔
تو بعض گروہ جو نوافل پوشیدہ کرتا ہے اور فرائض ظاہر کر کے پڑھتا ہے اس میں ان کی منشاء ریا سے بچنا ہوتا ہے۔ جب کسی عمل میں ریاکاری آ جائے تو وہ عمل ضائع ہو جاتا ہے۔
چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ ہماری عبادات و ریاضات اگر ایسی صورت میں ہوں کہ خلق دیکھے تو یہ بھی ریا ہے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ ریا باطل ہے اور اطاعتِ حق میں محض باطل کے خوف سے حق پوشیدہ کرنا محال ہے تو ریا کو دل سے دور کرنا چاہیے اور عبادت سراپا اعلانیہ جب چاہے کرنی چاہیے
ایک شیخ فرماتے ہیں کہ میں نے چالیس سال سفر کیا۔ کوئی نماز جماعت کے بغیر نہیں گزاری۔ اور ہر جمعہ کو قصبہ میں رہا۔
غرضیکہ اس کے حکم شمار میں نہیں آتے اور جو نماز میں اور جو نماز میں ہے وہ مقامِ محبت میں ہوتا ہے، اب ہم اس کے حکم کا بیان کرتے ہیں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ