السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کشف المحجوب

حصہ ۱۲ — چودھواں باب — کشفِ حجابِ اول: معرفتِ الٰہی

حصہ ۱۲

چودھواں باب

جاری ہے۔

غیبت و حضور

غیبت و حضور: یہ ایسی عبادت ہے کہ جب اس کا عکس کیا جائے تو عینِ معنی میں باعتبارِ مقصود مفہوم متضاد نظر آتی ہیں۔ اور اہلِ زبان و اہلِ معنی میں یہ مستعمل و متداول ہے۔ تو فنِ تصوف میں حضور سے مراد حضورِ دل ہے یہ دلالتِ یقین۔ یعنی جب تک حکمِ عین کو غائب نہ کر دے، حضور ممکن نہیں اور غیب سے مراد غیوبیتِ دل ہے جو ماسوی اللہ سے اس حد تک غائب ہو کہ صفت و غیوبیت سے بھی اپنے کو غائب کرے تا کہ وہ غیب میں خود نظارہ اپنا کرے اور اس کی علامت یہ ہے کہ حکم رسوم سے روگرداں ہو جائے۔ جیسے جملہ انبیاء کرام، حرام و جملہ معاصی سے معصوم ہوتے ہیں۔ تو طالب اسی طرح غائب ہو کر حضورِ حق میں حاضر رہے اور ظاہر ہے کہ جو حضورِ حق میں حاضر ہوگا وہ خود سے لازمی غائب ہوگا۔ اس کے دل کا مالک بمعنی حقیقی حق تعالیٰ شانہٗ ہے۔ تو جب جذبۂ حق جل علا کی کشش طالب کو مقہور کرے تو اس کے نزدیک غیبتِ دل حضور کی طرح ہوتی ہے اور پھر شرکت اور تقسیم اُٹھ جاتی ہے۔ پھر کسی حرکت و فعل کا اپنی طرف منسوب کرنا قطع ہو جاتا ہے اور یہی فرمانِ حق تعالیٰ کا مفہوم واضح ہے: ﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ "یعنی تم ہمارے حضور فرد ہی آؤ گے جیسے ہم نے تمہیں فرد و تنہا پہلی بار پیدا فرمایا تھا۔"

چنانچہ حضرت حارث محاسبی، جنید، سہل بن عبد اللہ، ابو حفص حداد، ابو حمدون قصا، ابو حریری، حصری اور صاحبِ مذہب حضرت محمد بن خفیف رضی اللہ عنہم اور دوسری جماعتوں نے متفقہ طور پر فرمایا: حضور کو مقدم از غیبت کہتے ہیں۔ اس لیے کہ تمام جمالِ جمیل حضوری میں ہے اور غیبتِ خود بخود جو سے جاتی رہتی ہے اور جب حضورِ حق تعالیٰ کی پیش گاہ تک پہنچ جائے جو آفت کی راہ ہوتی ہے تو جو از خود غائب ہوگا وہ لامحالہ دربارِ حق میں حاضر ہوگا۔ اور غیبت کے فنا کا فائدہ حضور ہے اور غیبت بے حضور میں کیا نور ہو سکتا ہے۔ تو ہر طالب کو چاہیے کہ تارکِ غفلت ہو، تا کہ مقصودِ غیبت حضور حاصل ہو جائے اور جب مقصد موجود ہوا تو علت ساقط ہو جائے گی۔

لَیْسَ الْغَائِبُ مَنْ غَابَ مِنَ الْبِلَادِ ۔ اِنَّمَا الْغَائِبُ مَنْ غَابَ مِنَ الْمُرَادِ وَلَیْسَ الْحَاضِرُ مَنْ لَیْسَ لَهٗ مُرَادٌ ۔ اِنَّمَا الْحَاضِرُ مَنْ لَیْسَ لَهٗ فُؤَادٌ حَتّٰی اسْتَقَرَّ فِیْهِ الْمُرَادُ

"وہ غائب نہیں ہے جو شہرِ ولایت سے غائب ہو۔ غائب وہی ہے جو کہ مراد سے غائب ہو جائے۔ وہ حاضر نہیں جس کی کوئی مراد نہ ہو۔ حاضر وہی

۴۲۸

ہے جس کے دل ہی نہ ہو۔ حتیٰ کہ وہ تیری فکر میں دنیا و عقبیٰ سے بے تعلق ہو جائے اور اس کا مستقر وہ ہے جہاں اس کی مراد ہو۔"

ایک خادم مریدانِ ذوالنون مصری حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کو روانہ ہوئے۔ جب وہ عبادت خانہ کے در پر دستک دینے لگے تو حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کون ہے اور کسے چاہتا ہے؟ مرید نے عرض کیا: بایزید کو۔ آپ نے فرمایا: وہ کون ہے اور کہاں ہے اور وہ کیا ہے؟ مجھے مدت ہو گئی کہ بایزید کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ میں نے اُسے اب تک نہیں پایا۔

جب وہ واپس ہو کر خدمتِ ذوالنون میں آیا اور بایزید کا حال سنایا تو آپ نے فرمایا: اَخِيْ ذَهَبَ فِي الذَّاهِبِيْنَ فِي اللّٰهِ۔ "بھائی بایزید جانے والوں کے ساتھ چلا گیا حق تعالیٰ کی حضوری میں۔"

ایک شخص حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ فرمایا: کچھ مدت میرے ساتھ رہ تاکہ چند باتیں تجھ سے کروں۔ پھر فرمایا: اے جوان مرد! تو مجھ سے کچھ مانگ رہا ہے۔ مجھے دیر ہو گئی کہ میں وہی چیز طلب کر رہا ہوں، بلکہ مجھے سالہا سال گزر گئے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ ایک نفس خود بخود حاضر ہو سکوں مگر نہ ہو سکا۔ اب اس گھڑی تیرے ساتھ حاضر ہو سکا ہوں۔ تو جب غیبت میں وحشت و حجاب ہے (تو محجوب کسی کو کیا دے)۔ اس معنی میں شیخ ابو سعید رحمۃ اللہ نے فرمایا ہے

تَقَشَّعَ غَيْمُ الْهَجْرِ عَنْ قَمَرِ الْحُبِّ وَاَسْفَرَ نُوْرُ الصُّبْحِ عَنْ ظُلْمَةِ الْغَيْبِ

"محبت کے چاند سے جدائی کا بادل پھٹ گیا اور غیب کے اندھیرے سے صبح کا نور روشن ہو گیا۔"

اور ان معنی میں مشائخِ کرام کے بہت سے لطائف حامی ہیں اور از روئے ظہور سب فانی ہیں اور یہ عبارتیں آپس میں نزدیک معلوم ہوتی ہیں۔ یعنی حاضرِ بحق ہونا اور از خود غائب رہنا۔ کیونکہ خود کے غائب ہونے سے حضور حاصل ہوتا ہے اور جو آپ سے غائب نہیں وہ حاضرِ بحق نہیں ہو سکتا اور جو حق میں حاضر ہے وہ غائب اور یقیناً غائب ہے۔

جیسا کہ حضرت ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ بلا میں بیقرار ہوئے۔ اس حال میں بھی آپ یقیناً از خود غائب تھے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے جزع کو صبر سے جدا نہ

۴۲۹

فرمایا اور جب آپ نے بارگاہِ حق میں ﴿اَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ﴾ عرض کیا تو فرمایا: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ﴾ "ہم نے اُسے قبول کیا اور جو اُسے رنج تکلیف تھی دور کر دی۔" اور یہ حکم بعینہٖ اس قصہ میں عیاں ہے۔ اسے بغور دیکھو۔

حضرت جنید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ایک وقت ہم پر ایسا ہوتا ہے کہ زمین آسمان والے میری حیرت پر روتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں ان کی آرزوئے عنایت پر روتا ہوں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں ان سے باخبر ہوتا ہوں نہ اپنے سے۔ اور یہ درجۂ کمال کی طرف اشارہ ہے اور یہی حضوریٔ خاص ہے۔ یہاں تک معنی غیبت و حضور کو مختصر بیان کیا گیا۔ بہر حال اس بیان سے مسلکِ خفیفیان تیری سمجھ میں آ گیا ہوگا کہ اس جماعت کی مراد غیبت و حضور سے کیا ہے اور اس کی شرح و بسط چونکہ کتاب کو طویل کر دے گی، اس لیے اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور جو میرا مذہب ہے وہ اس کتاب میں مختصر ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ۔

فرقۂ سیاریہ

اب سیاریہ کا مذہب بھی سمجھنا چاہیے۔ جماعتِ سیاریان حضرت ابو العباس سیاری سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ مرو کے امام تھے اور تمام علوم میں عالمِ کامل اور حضرت ابو بکر واسطی کے ہم عصر ہیں۔ مقامِ نسا اور مرو میں ان کے اصحاب اور مرید کافی ہیں۔ اگرچہ مذہبِ تصوف میں کوئی بھی بحال نہیں رہا مگر ان کا مذہب قائم ہے۔ اس لیے مرو اور نسا کے لوگ ان کی پیروی سے منحرف نہیں ہیں اور جو لوگ ان کے مذہب پر قائم ہیں وہ مرو اور نسا میں ہی ہیں بلکہ اہالیانِ مرو کے بعض اصحاب نے تو نہایتِ بحث پر رسالے لکھے ہیں۔ بذریعہ خط و کتابت مسائل طے کرتے رہے ہیں اور بعض خطوط میں نے خود بھی مرو میں دیکھے ہیں جو نہایت تفسیرِ مضمون سے مملو تھے۔ ان میں "جمع و تفریق" پر اچھی بحث تھی اور یہ لفظ اہلِ علم میں مشترک ہے اور ہر گروہ اس لفظ کو اپنے کام میں لاتا ہے تاکہ ان کی عبارتیں سمجھی جائیں۔ مگر اس سے ہر گروہ کی مراد علیحدہ ہوتی ہے۔

اہلِ حساب جمع و تفریق کا لفظ ضرور استعمال کرتے ہیں۔ مگر اس سے ان کی مراد کسی چیز کے اعداد کا جمع کرنا یا فرق کرنا ہوتی ہے۔ اربابِ نحو اتفاقِ اسامیٔ لغوی اور افتراقِ معنی مراد لیتے ہیں۔ اربابِ فقہ جمعِ قیاس اور تفرقۂ صفات یا جمعِ معنی اور تفرقۂ قیاس اس سے مراد لیتے ہیں۔ اربابِ اصول جمعِ صفاتِ ذات اور تفرقۂ صفاتِ فعل مراد لیتے ہیں۔ لیکن اس طائفۂ صوفیاء میں اس سے جو مراد ہے، اس میں اختلافِ مشائخ کی تفصیل بیان کرتا ہوں تاکہ ان کی مراد کی جو حقیقت ہے وہ تم پر منکشف ہو اور جمع اور تفرقہ سے مشائخ جو مراد لیتے ہیں وہ معلوم ہو۔ ان شاء اللہ

۴۳۰

جمع تفرقہ

اللہ تعالیٰ نے اپنی دعوت میں خلقت کو جمع فرما کر ارشاد کیا: ﴿وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ﴾ "یعنی اللہ تعالیٰ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کی طرف (یعنی جنت کی طرف)۔" پھر ہدایت کے ساتھ تفریق کی اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ﴾ "اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف لے جاتا ہے۔"

گویا تمام مخلوق کو از روئے دعوت دارالسلام کی طرف بلا کر اپنی مشیت ظاہر کرنے کے لیے ایک گروہ کو دور کر دیا اور ایک گروہ کو دارالسلام کی طرف جمع فرمایا۔ یعنی ایک گروہ کو عصمت عطا کی اور ایک گروہ کو آفت کی طرف مائل کر دیا۔ تو اس معنی میں جمع کا راز مرادِ حق تعالیٰ معلوم ہوئی اور تفریق میں اظہارِ امر و نہی واضح فرما دی۔ جیسے کہ ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا کہ سرِ اسماعیل کاٹ اور چاہا کہ سر نہ کٹے اور آدم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ گندم نہ کھانا اور مشیت یہ ہوئی کہ وہ کھائیں اور مثل اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ اَلْجَمْعُ مَا جَمَعَ بِاَوْصَافِهٖ وَالتَّفْرِقَةُ مَا فَرَّقَ بِاَفْعَالِهٖ۔ اور یہ سب کچھ انقطاع اور وہ خودی اور ترکِ تصرفِ خلق ہے اثباتِ ارادۂ حق میں اور اس حد تک جمع و تفریق میں اجماع ہے اہلِ سنت کا۔ سوائے معتزلہ کے کہ وہ مشائخِ طریقت سے مختلف ہیں۔

اس کے علاوہ اس عبارتِ جمع و تفریق کے استعمال میں مختلف جماعتیں ہیں۔ ایک گروہ اسے توحید کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک گروہ اوصافِ حق کی طرف، ایک گروہ اوصافِ عہد کی طرف ایسے کہ جو اوصاف بندے میں ہوں وہ توحید سے ہوں، اس کے صدقِ عقیدہ اور صحتِ عزیمت سے۔ اور یہ قول حضرت ابو علی رود باری رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔

ایک گروہ اور ہے جو کہتا ہے کہ اوصافِ بندہ میں ہوں وہ تمام صفتِ حق تعالیٰ سے ہوں اور اس میں فرق یہ ہو کہ کسبِ بندہ کا اس سے منقطع ہو اور جو مشیتِ الٰہی میں ہو اس سے وہ متنازع نہ ہو تو جمعِ ذات و صفات اس کے اندر ہو۔ اس طرح کہ اَلْجَمْعُ تَسْوِيَةٌ فِي الْاَصْلِ اور سوا اس کی ذات و صفات کے کوئی اس کا مساوی نہ ہو اور اس کے فرق کرنے میں عبارت اور تفصیلِ خلقت کے جمع نہیں۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ حق تعالیٰ کی صفات قدیم ہیں اور وہی اس سے خاص ہے اور صفات کا قیام اس سے ہے اور اس کے وجود کی خصوصیت اسی سے ہے اور وہ اور اُس کی صفات دو ہیں۔ اس لیے کہ وحدانیت میں فرقِ عدد روا نہیں اور اس صورت میں سوا اس معنی کے حکمِ جمع روا نہیں (لیکن تفرقہ فی الحکم)۔

۴۳۱

یہ افعالِ حق تعالیٰ ہیں کہ تمام حکم میں متفرق ہیں۔ ایک گروہ کو حکمِ وجود کا ہے، دوسرے کو حکمِ عدم کا۔ لیکن عدمِ ممکن الوجود ہوتا ہے۔ تو ایک کو حکمِ فنا کا اور ایک کو حکمِ بقا کا۔ پھر ایک گروہ اور ہے کہ اسے علم پر لے جا کر کہتا ہے: اَلْجَمْعُ عِلْمُ التَّوْحِيْدِ وَالتَّفْرِقَةُ عِلْمُ الْاَحْكَامِ "جمعِ علمِ توحید کا نام ہے اور تفریق علمِ احکام کو کہتے ہیں۔" تو علمِ اصول جمع ہے اور علمِ فروع تفرقہ اور اس کے معنی بھی وہی ہوئے کہ حق تعالیٰ کی صفات قدیم ہیں اور وہ بھی قدیم جو اس ذات کے ساتھ مخصوص۔

چنانچہ مشائخ رحمۃ اللہ علیہم میں سے ایک فرماتے ہیں: اَلْجَمْعُ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ اَهْلُ الْعِلْمِ وَالْفَرْقُ مَا اخْتَلَفَ فِيْهِ۔ "یعنی جمع وہ ہے جس پر اہلِ علم اجماع کر لیں اور تفریق وہ ہے جس پر اہلِ علم نے اختلاف کیا۔" پھر سب محققینِ تصوف نَصَرَ اللّٰهُ وُجُوْهَهُمْ کی عبارتیں اس طرف ہیں کہ مکاسب تفریق ہے اور مواہب جمع ہے، یعنی مجاہدہ و مشاہدہ۔ تو جب تک بندہ مجاہدہ سے راہ بنا رہا ہے وہ تفریق میں ہے اور جب بندہ پر عنایت و ہدایتِ حق ہونے لگے وہ مقامِ جمع ہے اور بندہ کی وہ قربت ہے کہ اس میں بندہ اپنے افعال اور احکام میں مجاہدہ بہ جمالِ حق میں ہر آفت سے اپنے فعل سے بچا ہوتا ہے اور اپنے کو حق تعالیٰ شانہٗ کے فضل میں متفرق جانتا ہے اور مشاہدہ کو ہدایت کے پہلو میں منفی سمجھتا ہے تو اس کا قیام حق سے ہوتا ہے۔ پھر وہ ذاتِ حق کے ساتھ ایسا محو ہوتا ہے کہ اس کی ذاتِ حق بمعنی وکیلِ حقیقی ہوتی ہے اور اس کا ہر فعل ذاتِ حق کی طرف منسوب ہو جاتا ہے اور بندہ اپنے کسب کی نسبت سے نکل جاتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر آخر الزماں علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمیں جبرائیل نے آ کر کہا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے: لَا يَزَالُ عَبْدِيْ يَتَقَرَّبُ اِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى اُحِبَّهٗ فَاِذَا اَحْبَبْتُهٗ كُنْتُ لَهٗ سَمْعًا وَبَصَرًا وَيَدًا وَفُؤَادًا وَلِسَانًا فَبِيْ يَسْمَعُ وَبِيْ يُبْصِرُ وَبِيْ يَبْطِشُ۔

یعنی جب میرا بندہ بہ مجاہدہ میرے ساتھ تقرب کرتا ہے تو میں اُسے محبوب بنا لیتا ہوں اور اس کی ہستی کو اس میں فنا کر دیتا ہوں اور اس کی نسبت افعال سے اُٹھا لیتا ہوں، یہاں تک کہ وہ میرے ساتھ سُنتا ہے اور مجھ سے ہی وہ بات کرتا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے میری ہی قوت سے کہتا ہے، جو دیکھتا ہے میری قوت سے دیکھتا ہے اور جو پکڑتا ہے میری قوت سے پکڑتا ہے۔ یعنی میری یاد میں اتنا مغلوب ہو جاتا ہے کہ میری ہی یاد باقی رہتی ہے اور اس کا ہر فعل میرے ذکر میں فنا ہو جاتا ہے اور میری یاد اُس کی سلطانِ ذکر ہو جاتی ہے اور اُس کی نسبتِ آدمیت میرے ذکر سے منقطع ہو جاتی ہے

۴۳۲

اور اس کا ذکر میرا ذکر ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ غلبۂ حال میں اس صفت تک پہنچ جاتا ہے جیسے ابو یزید نے کہا: سُبْحَانِيْ مَا اَعْظَمَ شَاْنِيْ۔ "میں پاک ہوں میرا کتنا بڑا درجہ ہے۔" اور یہ کہنا اُن کی گفتار کا نشانہ ہے اور در حقیقت یہ کہنے والا حق تعالیٰ ہی پردۂ عبد میں ہے اور حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: اَلْحَقُّ يَنْطِقُ عَلٰى لِسَانِ عُمَرَ۔ "حق زبانِ عمر (رضی اللہ عنہ) پر کلام کرتا ہے۔"

اس کی حقیقت یہ ہے کہ قہریتِ حق انسان پر اپنی سلطانیت ظاہر کرتی ہے اور اسے اس کی ہستی سے اپنی طرف لے لیتا ہے تاکہ اس کا بولنا اس کے رب کا بولنا ہو۔ اس وقت حق تعالیٰ شانہٗ اپنی شان اس میں مخروج کرتا ہے۔ اس سے یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو دوسرے میں حلول مانا جائے یا صانع اپنی مصنوع میں ایک ہو جائے یا وہ معاذ اللہ کسی میں حلول کرے۔ تَعَالَى اللّٰهُ عَنْ ذٰلِكَ عَمَّا يَصِفُهُ الْمُلَاحِدَةُ عُلُوًّا كَبِيْرًا۔

تو یہ جائز ہے کہ حق تعالیٰ کی دوستی بندہ کے دل پر غالب ہو جائے اور اس کے غلبۂ محبت اور افراطِ حال سے عقل اور طبیعت اس کی برداشت سے عاجز ہو جائے۔ پھر ہر امر اس کے کسب اور فعل سے ساقط ہو۔ اس وقت کے اس درجہ کا نام جمع ہے۔ چنانچہ حضور ﷺ مستغرق اور مغلوب تھے۔ ان سے جو فعل ظہور میں آتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو حضور ﷺ کی نسبت سے اٹھا کر اپنی طرف منسوب فرمایا اور فرما دیا کہ جو تیرا فعل ہے اے محبوب وہ میرا فعل ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى﴾ "یعنی اے محبوب وہ مٹی یا کنکریاں تو نے نہیں پھینکیں جو تو نے پھینکیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکیں۔" جیسا اس قسم کا فعل حضرت داؤد علیہ السلام سے ظاہر ہوا۔ اسے فرمایا: ﴿وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ﴾ "یعنی داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا۔" یہ حال بحالِ تفریق تھا۔ اور ظاہر ہے جو فعل بندے کی طرف سے منتسب ہو وہ محلِ آفت

۴۳۳

اور حوادثات کے پہنچنے کا موجب ہے اور فعلِ بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف منتسب ہو وہ قدیم اور آفت سے مبرا ہوتا ہے۔ تو اگر ایسا فعل آدمی سے سرزد ہو جو جنسِ افعالِ انسانی سے نہ ہو تو ضرور اس کا فاعل حق تعالیٰ شانہٗ ہوتا ہے اور معجزات و کرامات سب اسی جنس سے ہیں اور جو فعل مطابقِ عادت ہو وہ تفریق ہے اور جو خلافِ عادت ہو وہ جمع ہے۔ اسی وجہ سے بحسابِ جمع ایک رات کے ادنیٰ حصہ میں قابَ قوسین ہو جانا اگرچہ عادت نہیں مگر اس کا فاعل حق تعالیٰ شانہٗ ہوتا ہے جس میں عقلِ انسان کی رسائی نہیں۔ یہ منصب اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور اولیاء کو عنایت فرماتا ہے اور اپنا فعل ان کی طرف منسوب کرتا ہے اور ان کے افعال کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور بات بھی یہ ہے کہ اس کے دوستوں کے افعال اسی کے ہونے چاہئیں۔

یہی وجہ ہے کہ خاصۂ حق کی بیعت اس کی بیعت ہوتی ہے اور محبوبِ خاص کی اطاعت اس کی اطاعت جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ﴾ "بیشک جو آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ ضرور اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں" اور اطاعت پر حکم لگایا ﴿مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ﴾ "جو رسول کا تابع ہو وہ یقیناً اللہ کی اطاعت کرنے والا ہے۔" تو خلاصہ یہ ہوا کہ حق تعالیٰ شانہٗ کے اولیاء اسرار سے جمع اور اظہار میں تفریق کے ساتھ جدا، تاکہ اسرارِ مودّت کے جمع ہونے میں مضبوط ہوں اور فرقِ صحت اقامتِ عبودیت کے ظاہر کرنے میں صحیح ہے۔

چنانچہ مشائخ رضی اللہ عنہم میں سے ایک بڑے شیخ فرماتے ہیں

قَدْ تَحَقَّقْتَ بِسِرِّيْ فَتَنَاجَاكَ لِسَانِيْ فَاجْتَمَعْنَا لِمَعَانٍ وَّ افْتَرَقْنَا لِمَعَانِيْ فَلَيْسَ غَيْرَكَ التَّعْظِيْمُ عَنْ لَحْظِ عَيَانِيْ فَلَقَدْ صَيَّرَكَ الْوَجْدُ مِنَ الْاَحْشَاءِ اَمَانِيْ

"تو میرے باطن میں محقق ہو گیا تو میری زبان نے تجھ سے سرگوشیاں کیں۔ پس کتنے ہی امور میں ہم جمع ہوئے اور کتنے ہی امور میں ہم میں تفریق ہوئی۔ اب اگر تیری عظمت نے تجھے میری آنکھوں سے غائب کر دیا ہے تو میرا شوق اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ یہ غیبت بھی میرے لیے 'حضوری' کی پناہ گاہ ہے۔"

۴۳۴

خلاصہ یہ کہ اجتماعِ اسرار کو جمع کہتے ہیں اور مناجاتِ لسانی کو تفریق اور جب جمع اور تفریق ایک جگہ جمع ہو کر دل میں مرکوز ہو جائیں تو پھر اس کیفیت کا اس حال والا خود ہی قاعدہ ہو جاتا ہے۔ نہایت لطیف بات ہے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ

اب رہا وہ خلاف گروہ جو کہتا ہے کہ اظہارِ جمع تفرقہ ہے۔ اس لیے یہ متضاد ہے کیونکہ جب سلطانِ ہدایت مستولی ہوتا ہے تو ولایت کسب و مجاہدہ ساقط ہو جاتا ہے اور محض تعطل ہے۔ اس لیے کہ جب تک امکانِ عمل اور طاقتِ کسب و مجاہدہ تھا، ہرگز وہ بندے سے ساقط نہیں ہوتا۔ اس وجہ میں کہ تفرقہ سے جدا نہیں ہے۔ جیسے نورِ آفتاب سے اور عرض جوہر سے اور صفت موصوف سے۔ تو مجاہدہ ہدایت سے اور شریعت حقیقت سے اور طلب حاصل ہونے سے اسما جدا نہیں لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ مجاہدہ مقدم ہو یا مؤخر لیکن یہ بہتر ہے کہ مجاہدہ مقدم ہو۔ اس پر مشقت زیادہ ہو اور اس پر کہ مجاہدۂ مؤخر سے رنج و کلفت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ حضوریٔ حضور میں ہوتا ہے اور اسے اس کی نفیٔ مشقتِ اعمال ہو تو نفی عینِ عمل نظر آتی ہے اور وہ عظیم غلطی میں ہے اور جائز نہیں کہ بندہ ایسے درجہ میں پہنچے کہ کل اپنے اوصاف کو معیوب اور معلولی جانے۔ جب اوصافِ محمود کو اپنی نظر سے عیب دار نہیں کر سکتا تو ناقص بھی دیکھنا چاہیے تاکہ اوصافِ مذموم معیوب تر نظر آئیں۔

یہ اس معنی میں میں لا رہا ہوں کہ ایک قوم جہاں سے اس معنی میں غلطی پڑ گئی ہے اور وہ بیگانگی کے قریب ہو گئی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ پانا کسی مجاہدہ سے وابستہ نہیں اور ہمارے اعمال و اطاعت معیوب ہیں اور ناقص مجاہدات نہ کرنے ہی بہتر ہیں ایسے کرنے سے۔ میں انہیں کہتا ہوں کہ ہمارے کردار کو بالا تفاق مقرر کرتے ہو اور فعلوں کو محلِ مشقت اور شر اور آفت کا منبع کہتے ہو تو ضرور نہ کرنے کو بھی ایک فعل کہنا پڑ گیا تو جب کرنا اور نہ کرنا دونوں فعل ہوئے اور فعل محلِ علت ہے تو کیوں نہ کرنے کو کرنے سے اولیٰ تر جانتے ہو۔ یہ تو خسرانِ ظاہر اور غبنِ واضح ہے۔

تو یہ کفر اور ایمان میں اچھا فرق ہے اس لیے کہ مومن اور کافر میں اتفاق ہے کہ ان کے فعل محلِ علت ہیں تو مومن حکم سے کچھ کر کے نہ کرنے سے اچھا جانتا ہو اور کافر بیکاری کے حکم سے نہ کرنے کو کرنے سے اچھا جانتا ہے۔ تو جمع اسے کہتے ہیں کہ آفت دیکھنے میں تفریق کا حکم اس سے ساقط ہو جائے اور تفریق یہ ہے کہ جمع میں حجاب ہو تو تفریق کو ہی جمع جاننے۔ زین کبیر کہتے ہیں: اَلْجَمْعُ الْخُصُوْصِيَّةُ وَالتَّفْرِقَةُ الْعُبُوْدِيَّةُ مَوْصُوْلٌ اَحَدُهُمَا بِالْاٰخَرِ غَيْرُ مَفْصُوْلٍ عَنْهُ۔ "یعنی حق تعالیٰ شانہٗ کی خصوصیت کے لیے جمع ہوتی ہے اور بندہ کی عبودیت اس کیلیے تفرقہ ہوتا ہے

۴۳۵

اور یہ اس سے جدا نہیں ہوتا اس لیے کہ نشانِ خصوصیت حفظِ عبودیت ہے۔" جب مدعی معاملہ میں اپنے عمل پر قائم نہ رہے تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہوتا ہے۔ تو جائز ہے کہ بارِ مجاہدہ و رنج و کلفت میں وقت گزارنا حقِ مجاہدہ و تکلیف اس کے بندہ سے اٹھ جاتی ہے لیکن یہ جائز نہیں کہ عینِ مجاہدہ و تکلیف میں انہیں عینِ جمع میں سوا کسی عذر کے۔ واضح رہے کہ یہ حکم اس کیلیے ہے جو احکامِ شرع میں عالم ہو اور اب میں اس کے معنی بیان کرتا ہوں تاکہ تجھے معلوم ہو جائے۔

سمجھ لو کہ جمع دو قسم کی ہے۔ ایک جمعِ سالم اور ایک جمعِ تکسیر۔ جمعِ سالم وہ ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے غلبۂ حال اور قوتِ عمل اور وجد و قلق میں شوق ظاہر ہو اور حق تعالیٰ ہی اپنے بندہ کا محافظ ہو اور اپنے حکم اس کے ظاہر پر جاری فرمائے اور بندہ کی اس کی تکمیل میں نگاہ رکھنے والا وہی ہو اور اسے مجاہدہ میں نہ ڈالے جیسا کہ سہل بن عبداللہ اور ابو حفص حداد اور ابو العباس سیاری مروزی امام مرو صاحبِ مذہب اور ابو یزید بسطامی اور ابو بکر شبلی اور ابو الحسن حصری اور ایک جماعت کبار مشائخ قدس اللہ ارواحہم اس سے وابستہ اور مغلوب الحال تھے۔ جب نماز کا وقت آتا تو اپنے حال میں آ کر نماز ادا کرتے جب فارغ ہوتے پھر مغلوب ہو جاتے۔

اس لیے کہ جب تو محلِ تفرقہ میں ہوگا تو ٹوٹو ہی ہوگا اور تکمیلِ احکام کرے گا اور جب اس طرف تجھے جذب کیا جائے گا تو حکم سے جو اولیٰ تر ہے وہ تجھ پر نگاہ رکھے گا۔ باعتبارِ جہت دو معنی کے لیے ایک یہ کہ نشانِ بندگی تجھ سے نہ اٹھیں، دوسرے یہ کہ حکم وعد پر قیام کرے کہ میں ہرگز شریعتِ محمدی علیہ السلام منسوخ کرنا نہیں چاہتا۔

اور جمعِ تکسیر یہ ہے کہ بندہ حکم اور اس کے متعلقات سے مدہوش ہو۔ اس کا حکم مثلِ مجانین کے ہوگا۔ تو ایک ان میں معذور ہوتا ہے اور ایک مشکور۔ مشکور کا حال معذور سے قوی تر ہوتا ہے اور تمام ان حالوں میں جمع کا کوئی مقام مخصوص نہیں ہوتا۔ حال مفرد نہ کہ جمع۔ جمعِ ہمت اس معنی میں اپنا مطلوب ایک گروہ کا کشفِ معنی مقامات میں ہوتا ہے اور ایک گروہ کشف اندر احوال چاہتا ہے اور یہ دونوں وقت صاحبِ مراد کے لیے جمعِ ہمی کے حاصل ہوتے ہیں۔ لِاَنَّ التَّفْرِقَةَ فَصْلٌ وَالْجَمْعَ وَصْلٌ۔ "اس لیے کہ تفرقہ فصل ہے اور جمع وصل" اور یہ بہر صورت دُرست ہے جیسے ہمتِ یعقوب علیہ السلام، یوسف علیہ السلام کی طرف جمع ہوئی۔ اس لیے کہ ان کے لیے سوائے ارادۂ یوسفی اور کوئی ارادہ باقی نہ رہا تھا اور مجنوں کی ہمت لیلیٰ میں اتنی جمع ہوئی کہ مجنوں کو سوائے لیلیٰ کے کچھ نظر نہ آیا۔ تمام عالم اس کی نظر میں لیلیٰ ہی تھا اور اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں۔ جیسا کہ ابو یزید رضی اللہ عنہ ایک روز اپنے عبادت خانے میں تھے کہ کوئی شخص آیا اور پکارا: هَلْ اَبُوْ يَزِيْدَ فِي الْبَيْتِ؟ فَقَالَ اَبُوْ

۴۳۶

يَزِيْدَ مَا فِي الْبَيْتِ اِلَّا اللّٰهُ "کیا بایزید گھر میں ہیں؟ تو حضرت بایزید نے جواب دیا۔ گھر میں سوائے خدا کے کوئی نہیں۔"

مشائخ رضی اللہ عنہم میں سے ایک کہتے ہیں کہ ایک درویش مکہ معظمہ آئے اور اپنی قیام گاہ میں مشاہدہ خانہ میں ایک سال رہے۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا، نہ سوئے، نہ غسل کیا۔ اپنی اجماعِ ہمت کہ جو تھی رویت خانہ میں اُسے اپنی طرف مضاف کرتے رہے، اور یہی ہمت ان کی غذائے تن اور مشربِ جاں رہی۔

ان تمام (مغلق) باتوں کی اصل یہ ہے کہ جب خداوند تعالیٰ کو اپنا مایۂ محبت بنا لیا جائے تو ایک جوہر سے ہو جاتا اور اپنے آپ کو اس سے متجزی و مقسوم کر لیتا ہے اور ہر ایک مجانِ خاص بقدرِ گرفتاری اس جزو سے اجزاءِ کل کے ساتھ مخصوص کر لیتا ہے۔ اس وقت جوشِ انسانیت اور لباسِ طبیعت اور غاشیۂ خراج اور حجابِ روح اس سے فروگذاشت ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ اجزاء اپنی قوت سے اس جزو میں مل کر اپنی صفت میں متصف کر لیتے ہیں۔ تاکہ کل محب، محبت ہی ہو اور تمام حرکات و لحظات اس کی شرط ہو جائیں اور اس حال کو تمام اربابِ معانی اور اہلِ لسان جمع کہتے ہیں اور اس معنی میں حضرت حسین بن منصور رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ يَا سَيِّدِيْ وَمَوْلَائِيْ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ يَا مَقْصِدِيْ وَمَعْنَائِيْ يَا عَيْنَ عَيْنِيْ وَجُوْدِيْ يَا مُنْتَهٰى هِمَّتِيْ يَا مَنْطِقِيْ وَاِشَارَتِيْ وَاِيْمَائِيْ يَا كُلَّ كُلِّيْ وَيَا سَمْعِيْ وَبَصَرِيْ وَيَا جُمْلَتِيْ وَيَا عُنْصُرِيْ وَاَجْزَائِيْ

"میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، اے میرے سردار! میرے مولا! میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، اے میرے مقصد! اے میرے معنی! اے میری عین! عینِ وجود کے، اے میری ہمت کی انتہا! اے میرے کلام! اے میرے اشارہ! اے ایماء! اے میرے کل کے کل! اے میری سماعت و بصارت! اے میرے کل! اے میرے عنصر! اے میرے اشارۂ دل!!"

تو وہ جو اپنے اوصاف میں مستعار ہوتا ہے، وہ اس کی اثباتِ ہستی مستعار ہوتا ہے اور اس کا التفات کونین کے ساتھ زنار ہے اور موجودات اس کی ہمت میں خوار ہوتی ہے۔

پھر ایک گروہ اربابِ لسان اپنے دقیق کلام میں نفیس و پسندیدہ عبارت کہتا ہے کہ "جمع الجمع"۔ یہ کلمہ بطریقِ عبارت اچھا ہے۔ لیکن بمعنی بہتر یہ ہے کہ جمع کو جمع نہ کہا جائے۔ اس لیے کہ تفریق لازمی ہے تاکہ جمع اُس پر درست کرے، اور کس طرح جمع ہو سکتی ہے جب کہ خود جمع

۴۳۷

تفریق ہے اور جمع ایک حال سے نہیں ہوتی اور یہ عبارت محلِ تہمت ہے۔ اس لیے کہ مجتمع کو فوق وتحت سے باہر دیکھنا نہیں ہو سکتا۔

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کونین اور تمام عالم شبِ معراج حضور ﷺ نے ملاحظہ فرمائے اور کسی چیز کی طرف کچھ التفات نہ فرمایا اس لیے کہ وہ جمع کے ساتھ جمع تھے۔ اور مجتمع کا تفرقہ آپ نے مشاہدہ نہ فرمایا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى﴾

اور میں نے اس موضوع پر بحالتِ ہدایت کتاب لکھی ہے اور اس کا نام "کتاب البیان لاہل العیان" ہے اور بحر القلوب میں جہاں باب جمع ہے کافی فصول بیان ہو چکی ہیں۔ اب ہم بخیالِ اختصار اسی کو کافی سمجھتے ہیں اور یہ طریقہ مذہبِ سیاریان کا ہے جو متصوفہ سے ہیں اور طبقۂ صوفیاء میں مقبول محقق ہیں۔

اب اس گروہِ ملاحدہ کی طرف رجوع کرتے ہیں جو صوفیاء سے متعلق بنتے ہیں اور ان کے مضامین اظہارِ الحاد کا آلہ ہیں اور ان کی گمراہی اور ذلت پر پردۂ اعزاز ڈالتے ہیں تاکہ ان کی گمراہی ظاہر نہ ہو سکے اور مریدان کی باتوں سے پرہیز کریں اور اپنے کو ایسے لوگوں سے بچائیں۔ انشاء اللہ عز و جل وَالْاَمْرُ كُلُّهٗ بِيَدِهٖ۔

بیانِ فرقۂ حلولیہ لعنہم اللہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ﴾ "تو کیا ہے حق کے بعد مگر گمراہی تو کیا بھٹکتے پھرتے ہو۔" ان دو مردود گروہ سے جو اس جماعت سے اتباع کرتے ہیں اور گمراہی میں انہیں اپنا یار جانتے ہیں۔ ایک نو گروہ ابو حلمان دمشقی سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی روایتیں لاتا ہے، جس کے خلاف کتبِ مشائخ میں اس سے مسطور ہے اور روایت کرنے والے اس قصہ کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ یہ ملاحدہ اس ابو سلیمان دمشقی کو حلول و امتزاج و نسخِ ارواح کے عقیدہ کے ساتھ منسوب کرتے ہیں اور میں نے بھی ایک کتابِ مقدس میں دیکھا کہ اس میں طعن کی ہے اور عالمانِ اصول کو بھی اس کا خیال ہے۔ حقیقتِ حال کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ایک جماعت اپنے کو فارس سے منسوب کرتی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ مذہب حسین بن منصور کا ہے، اس جماعت کے سوا اور حسین بن منصور کی جماعت والے یہ مذہب نہیں رکھتے۔

میں نے ابو جعفر صیدلانی کو دیکھا ہے۔ ان کے مرید چار ہزار کے قریب عراق میں تھے اور وہ سب خلاجی تھے اور سب فارس کے اس کلام پر لعنت کرتے تھے اور ابو حلمان دمشقی کی کتابوں

۴۳۸

میں جو ان کی تصنیف ہیں تحقیق کے سوا (حشو و زوائد) نہیں۔

اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ میں نہیں جانتا کہ فارس اور ابو حلمان کون ہے اور انہوں نے کیا کہا ہے۔ لیکن جو شخص ایسا کلام کرے جو توحید و تحقیق کے خلاف ہو، اسے دین سے کچھ واسطہ نہیں۔ اس لیے کہ جب دین کی اصل ہی محکم نہ ہو تو تصوف جو فرع اور نتیجہ ہے، بدرجۂ اولیٰ خلل پذیر ہوگا۔ اس لیے کہ کرامات اور کشفِ اہلِ دین کے نشان کے سوا صورت پذیر نہیں اور اس امر کے قائلوں کو حقیقتِ روح میں غلطی واقع ہوئی ہے۔

اب میں سنت کے طور پر سب کلام اور احکامِ روح کے بیان کرتا ہوں اور ملحدوں کی گفتگو اور غلطیاں اور شبہات بیان کرتا ہوں تا کہ تجھے اللہ تعالیٰ قوتِ فہم بخشے کیونکہ اس مبحث میں بہت مفاسد ہیں۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ

روح کی بحث

اچھی طرح سمجھ لو کہ ہستیِ روح کا علم ضروری ہے اور اس کی کیفیت سے عقل عاجز ہے اور عالموں حکیموں نے اگرچہ اپنے قیاس کے مطابق اس کے بارے میں سب نے کچھ نہ کچھ کہا ہے اور کافروں کے طبقات نے بھی اس میں کلام کیا ہے۔ جب یہودیوں کی تعلیم سے کفارِ قریش نے نضر بن حارث کو حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا کہ وہ حضور ﷺ سے روح کے متعلق سوال کرے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک کو اس کے عین ثابت کرنے کو فرمایا: ﴿وَیَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ﴾ "یعنی اے محبوب آپ سے روح کی ماہیت پوچھ رہے ہیں۔" تو اس وقت روح کی قدامت کی نفی فرمانے کا حکم دیا: ﴿قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ﴾ "فرما دیجیے روح امرِ ربّ ہے" اور حضور ﷺ نے فرمایا: اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُّجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا اِئْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ۔ "یعنی ارواح ایک جمع شدہ لشکر ہیں جو اُن میں آپس میں آشنا ہیں وہ محبت و مراد سے ملے ہوئے ہیں اور جو ناواقف ہیں، وہ مختلف ہیں۔"

۴۳۹

اور اس کی مانند بہت سے دلائل ہیں مگر اس کی کیفیت پر کسی کا تصرف نہیں ہوا۔ ایک گروہ کہتا ہے

اسی طرح امام دیلمی نے بغیر کسی سند کے حضرت معاذ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: لَوْ اَنَّ رَجُلًا مُّؤْمِنًا دَخَلَ مَدِیْنَةً فِیْهَا اَلْفُ مُنَافِقٍ وَمُؤْمِنٌ وَاحِدٌ لَشَمَّ رُوْحُهٗ رُوْحَ ذٰلِكَ الْمُؤْمِنِ وَعَكْسُهٗ۔

۴۴۰

اَلرُّوْحُ هُوَ الْحَیٰوةُ الَّتِیْ یُحْیِیْ بِهِ الْجَسَدُ۔ "روح وہ ایک زندگی ہے کہ جسم اس سے زندہ ہوتا ہے۔"

ایک گروہ متکلمین کا بھی یہی کہتا ہے اور اس معنی سے روح عرض ہوئی کہ حیوان اس سے بفرمانِ الٰہی زندہ ہوتا ہے اور اس سے تالیف و حرکت اور اجتماع ہے اور اس طرح اعراض سے ہے کہ اس سے ہر جاندار ایک حال سے دوسرے حال میں جاتا ہے۔

دوسری جماعت والے کہتے ہیں کہ

هُوَ غَیْرُ الْحَیٰوةِ وَلَا یُوْجَدُ الْحَیٰوةُ اِلَّا مَعَهَا كَمَا لَا یُوْجَدُ الرُّوْحُ اِلَّا مَعَ الْجَسَدِ وَاَنْ لَّا یُوْجَدَ اَحَدُهُمَا دُوْنَ الْاٰخَرِ كَالْاَلَمْ وَالْعِلْمِ بِهَا لِاَنَّهُمَا شَیْئَانِ لَا یَفْتَرِقَانِ۔

"یعنی روح ایک جوہر ہے بلا حیوۃ، جس کے سوا زندگی کا وجود روا نہیں ہوتا جیسے روح بلا جسم معتدل نہیں ہوتی اور ایک دوسرے کے بغیر نہیں، وجود نہیں ہوتا اور احساس بھی معدوم ہوتا ہے۔ جیسے درد اور درد کا علم تو جسم و روح دونوں ایسی چیزیں ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔"

اور اس معنی میں بھی یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ روح بغیر حیوۃ کے، اپنے وجود میں غیر محسوس ہے۔ جیسے بغیر شخصیتِ معتدلہ روح علیحدہ محسوس نہیں ہو سکتی۔ جیسے کہ درد اور اس کا احساس۔ تو اس کے معنی بھی عرض ہی ہوئے جیسے حیات۔ پھر جمہور مشائخ اور اکثر اہلسنت و جماعت اس طرف گئے ہیں کہ روح عینی جوہر ہے۔ نہ کہ وصفی کہ قالب سے موصول ہو۔ اجرائے عادت اللہ کے موافق حیوۃ کو پیدا کرتی ہے اور حیوۃ انسان صفت ہے اور اسی کے ذریعہ اسے زندہ جانا جاتا ہے۔ لیکن روح من جانب اللہ جسدِ انسانی میں ودیعت ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ بھی جائز ہے کہ روح انسان سے جدا ہو جائے اور وہ حیات کے ساتھ رہے جس طرح سوتے ہوئے انسان سے روح نکل جاتی ہے اور حیات باقی رہتی ہے۔ مگر یہ جائز نہیں کہ روح کے چلے جانے کے بعد علم و عقل باقی رہے۔ اس لیے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ارواحِ شہداء طیورِ جنت میں رہتی ہیں۔ اس بناء پر لامحالہ ماننا پڑے گا کہ وہ عین جوہر ہو اور سرورِ عالم ﷺ نے فرمایا: اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُّجَنَّدَةٌ۔ "روحیں جمع کیے ہوئے لشکر ہیں" اور یہ عرض پر باقی نہیں رہ سکتے اور عرض خود بخود قائم نہیں ہوتا تو روح ایک جسمِ لطیف ہے کہ فرمانِ الٰہی سے آتا ہے اور اسی فرمان سے جاتا ہے۔

حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہم نے ایک ہی رات میں معراج والی شب آدم صفی اللہ

۴۴۱

یوسف صدیق اللہ، موسیٰ کلیم اللہ، ہارون کلیم اللہ، عیسیٰ روح اللہ اور ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا و علیہم الصلوٰۃ والسلام کو آسمانوں پر دیکھا تو لامحالہ ان کی روحیں تھیں اور اگر روح عرضی ہوتی، بخود قائم ہوتی حتیٰ کہ بحالتِ اسے دیکھ نہیں سکتا۔ اگر عرض ہوتا تو اس کے وجود کے لیے کوئی محل ہوتا جہاں وہ عارضی ہوتی اور اس کا محل جوہر ہوتا اور جوہر مؤلف اور کثیف ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ اگر روح لطیف جوہر اور جسیم ہے تو اس کا دیکھنا جائز بھی ہونا چاہیے۔ لیکن دل کی آنکھ سے دیکھ لی جاتی ہے اور بستہ پروں میں وہ جنت میں ہوتی ہے اور اسے اپنی قبر اور قنادیلِ عرش میں آنے جانے کی راہ ہے۔ جیسا کہ اس کے ثبوت میں اخبار و احادیث ناطق ہیں اور ان کا آنا جانا بحکمِ الٰہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ﴾ "اے محبوب فرما دیجیے کہ روح میرے ربّ کے امر میں سے ایک امر ہے۔"

یہاں ملاحدہ کا اختلاف ہے۔ اس لیے کہ وہ روح کو قدیم کہتے ہیں اور اسے پوجتے ہیں۔ اسے فاعلِ اشیاء اور مدبر بھی اس حد تک مانتے ہیں کہ اسے بغیر تدبیر امور نہیں ہو سکتے۔ اسے ارواحِ آلہ اور لم یزل کہتے ہیں۔ اس عقیدہ پر نصاریٰ بھی ہیں اور تبت اور چین کے تمام ہندو بھی عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور ادھر سے شیعہ اور قرامطہ اور فرقۂ باطنیہ بھی اسی عقیدہ پر ہے۔ ہر گروہ کے متعلق ہم ذکر کریں گے۔ اس میں سوال طلب جو چیز ہے وہ یہ کہ روح قدیم کس معنی میں مانتے ہیں۔

محدث مقدم مانتے ہیں جو وجود میں ہے۔ یا ایسا قدیم مانتے ہیں کہ ہمیشہ باقی رہے۔ اگر وہ کہیں کہ ہماری مراد محدث متقدم ہے وجود سے۔ تو ایسی صورت میں اصل کے اندر خلاف پیدا ہو گا۔ اس لیے کہ ہم بھی روح کو محل ضرور کہتے ہیں۔ اس لیے کہ تقدمِ وجود روح کو وجودِ شخصی پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ الْاَرْوَاحَ قَبْلَ الْاَجْسَادِ بِمِائَتَیْ اَلْفِ عَامٍ۔ "بیشک اللہ نے ارواح کو اجسام سے دو لاکھ سال قبل پیدا فرمایا۔" تو جب اسے محدث مانا جائے تو لامحالہ محدث کو محدث کے ساتھ محدث ماننا پڑے گا اور یہ ایک قسم ہوگی مخلوقِ حق سے جسے دوسری جنس کے ساتھ ملایا گیا ہو اور اس ملانے سے لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ حیوۃ سے

۴۴۲

حاصل نہیں لایا اپنی تقدیر سے۔ یعنی ارواح ایک ایسی جنس ہیں کہ خلق کے اندر ہیں اور اجساد دوسری ایک جنس ہے۔ تو جب تقدیرِ حیوۃ، حیوۃ پیدا کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا صرف یہ حکم رہ جاتا ہے کہ وہ حیات روح، روحِ جسدِ انسانی میں پیوستہ ہوتا کہ اس میں زندگی حاصل ہو اور وہ جو کہ ایک شخص سے کسی شخص میں اس اصول کو روا نہیں رکھتے جیسے کہ ایک شخص کو دو حیوۃ روا نہیں ہوتی اور ایک روح دو شخصوں میں روا نہیں ہوتی۔

اگر اخبار میں یہ تصریح نہ ہوتی اور رسولِ اکرم ﷺ اپنی صادق خبروں میں اس کی خبر نہ دیتے تب بھی از روئے عقل یہی روح بدون حیات کے نہ ہوتی اور وہ صفت ہونا کہ عین۔ اگر کہیں کہ اس قول سے ہماری مراد ہمیشہ قدیم ہے تو میں کہتا ہوں کہ وہ خود بخود قائم ہے یا غیر سے۔ پھر اگر کہیں کہ قدیم اور بنفسہٖ قائم ہے تو میں کہتا ہوں کہ خداوندِ عالم وہ ہے یا نہیں۔ اگر کہیں کہ خداوندِ عالم وہ نہیں تو دوسرا قدیم ثابت ہوگا۔ اور یہ معقول نہیں کیونکہ قدیم معدوم نہیں ہوتا اور ایک ذات کا وجود دوسری کی ضد ہوتا ہے اور یہ محال ہے۔

اور اگر کہیں کہ خداوندِ عالم ہے، تو میں کہتا ہوں کہ وہ قدیم ہے اور حادث کو قدیم سے ملانا یا ایک کر دینا یا ایک ہو جانا یا حلول کرنا حادث کا مکانِ قدیم میں ہونا یا قدیم کا اسے حاصل ہونا محال ہوتا ہے۔ کیونکہ جو چیز کسی سے ملتی ہے وہ اس کی مثل ہوتی ہے اور وصل یا فصل کے سوا حادث روا نہیں ہوتا۔ تَعَالَی اللّٰهُ عَنْ ذٰلِكَ عُلُوًّا كَبِیْرًا۔

اور اگر کہیں کہ یہ نفسِ خود قدیم اور دوسرے سے قائم ہے تو وہ حال سے خالی نہیں یا صفت ہوگا یا عرض۔ اگر عرض کہیں تو ضرور اس کے لیے محل ہوگا یا لامحل ہوگا۔ اگر محل کہیں تو محل اس کا کس کے مثل ہوگا۔ تو اسمِ قدیم باطل ہو جائے گا اور اگر لامحل کہیں تو اس کا وجود عقل نہیں مانتی اور اگر کہیں کہ صفتِ قدیم ہے جیسا کہ حلولی اور تناسخی کہتے ہیں اور اس صفت کو صفتِ حق بتاتے ہیں تو یہی محل ہے کہ حق کی صفت قدیم مخلوق کی صفت ہو جائے گی۔

اور اگر جائز رکھیں کہ حیات صفتِ خلق ہو تو بس روا نہیں۔ اس لیے کہ پھر قادر کی صفت مخلوق و مقدور کی صفت ہو جائے گی۔ اور پھر صفت موصوف سے قائم ہوگی تو پھر قدیم کی صفت کے لیے حادث کی صفت کی طرح جائز ہوگی۔ اور نا قابلِ انکار حقیقت ہے کہ حادث کو قدیم سے کچھ تعلق نہیں۔ اور اقوالِ ملحدہ اس صورت میں باطل ہیں اور روح چونکہ امرِ حق سے ہے اس کے سوا جو کہے وہ علانیہ مکابرہ ہے اور حادث و قدیم سے جہل ہے۔ اور یہ ممکن نہیں کہ ولی اپنی ولایت کی صحت میں اوصافِ حق سے جاہل ہو۔

۴۴۳

یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم کو خطرہ سے محفوظ رکھا ہے اور عقل دی ہے جس سے ہم دلیل دے سکتے ہیں اور ایمان دیا ہے کہ اس کی روشنی میں اُسے پہچانتے ہیں اور وہ حمد جس کا انجام و حد نہ ہو کرتے ہیں۔ اس لیے کہ محمد و حمد بے حد نعمتوں کے مقابل مقبول نہیں۔ جب ظاہر داروں نے یہ بات اہلِ اصول کی سنی تو انہوں نے خیال کیا کہ سب صوفیوں کا یہی عقیدہ ہے تو وہ خسران و نقصان میں پڑ کر محجوب ہو گئے اور ولایتِ حق کا لطیفہ اور چمک اور تجلیِ ربانی اُن سے پوشیدہ ہو گئی۔ اس لیے بزرگوں نے فرمایا کہ عامۂ خلق کی تردید ان کے قبول کے برابر ہوتی ہے اور ان کا قبول ردّ کے برابر ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

مشائخ کرام میں سے ایک حضرت فرماتے ہیں رحمۃ اللہ علیہ: اَلرُّوْحُ فِی الْجَسَدِ كَالنَّارِ فِی الْفَحْمِ فَالنَّارُ مَخْلُوْقَةٌ وَالْفَحْمُ مَصْنُوْعَةٌ۔ "جانِ جسم میں مثلِ اس آگ کے ہے جو کوئلوں میں ہے تو آگ مخلوق ہے اور کوئلہ مصنوع ہے۔" اور عقیدۂ قدامت سوائے ذات و صفاتِ حق تعالیٰ روا نہیں۔

اور حضرت ابو بکر واسطی نے روح میں بہت کچھ فرمایا ہے اور اُن سے جو روایتیں آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ: اَلْاَرْوَاحُ عَلٰی عَشَرَةِ مَقَامَاتٍ۔ "روح دس مقامات پر قائم ہے۔" اول لازمی طور پر خطا کاروں کی روحیں جو مقید ہیں ظلمت کدۂ عذاب میں، وہ نہیں جانتیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ دوسرے روحِ پارسا زُہاد جو آسانوں میں اپنے عمل کے بدلے میں خوش و خرم رہ رہے ہیں اور بطاعتِ الٰہی مسرور ہیں اور اسی قوت سے وہ جا رہے ہیں۔ تیسرے ارواحِ مریدان کہ آسمان چہارم میں لذتِ صدقِ اعمال کے ساتھ سایۂ اعمال میں ملائکہ کے ساتھ ہیں۔ چوتھے ان کی روحیں جو اہلِ منّ سے ہیں، وہ قنادیلِ عرش میں رہتی ہیں، ان کی غذا رحمت اور ان کا پینا لطف و قربت ہے۔ پانچویں وہ ارواحِ اہلِ وفا ہیں جو حجابِ صفا و مقامِ اصطفیٰ میں بایش و طرب ہیں۔ چھٹے ارواحِ شہداء ہیں جو مرغانِ بہشت کے اجسام میں ریاضِ خلد میں ہیں وہ جہاں چاہیں سیر کریں اُن کے لیے وقت بے وقت کی قید نہیں۔

ساتویں ارواحِ مشتاقان ہیں کہ وہ پردہ ہائے انوارِ صفات میں بساطِ ادب پر مقیم ہیں۔

آٹھویں ارواحِ عارفان ہیں کہ وہ کوشکِ قدس میں رات دن کلامِ الٰہی سننے میں مست ہیں اور وہ اپنے اماکن و مقامِ بہشت اور دنیا دونوں دیکھتے ہیں۔ نویں ارواحِ دوستانِ خاص ہیں کہ وہ مشاہدۂ جمال و مقامِ کشف میں مستغرق ہیں اور سوائے جمالِ جمیل کے کسی کو نہیں جانتے یہ

۴۴۴

محبوب کے جلوے کے سوا کسی سے نیاز مندی نہیں رکھتے۔

دسویں ارواحِ درویشاں ہیں کہ وہ مقامِ فنا میں مقرب ہیں ان کے اوصاف متبدل اور ان کے حال متغیر ہوتے ہیں۔

بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ انہیں ہم نے دیکھا کہ ہر ایک اپنی علیحدہ صورت میں ہے اور یہ جائز نہیں جو ہم نے کہا کہ ان کا وجود ہے اور جسمِ لطیف ہے۔ یہ حقیقت بغیر دیکھے سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ البتہ جب اللہ تعالیٰ دکھانا چاہے تو بندہ دیکھ سکتا ہے۔ اور میں (علی بن عثمان جلابی) کہتا ہوں کہ ہماری زندگی کا خلاصہ صَرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اور ہماری بقا و فنا اور حیات و ممات اسی کی قوت سے قائم ہے۔ ہمیں زندہ رکھنا اسی کا ایک فعل ہے اور ہماری زندگی اس کی تخلیق کے ماتحت ہے نہ کہ اس کی ذات و صفات کی بقا کے ساتھ، اور طبقۂ رومیاں کا وہ قول باطل ہے اور سخت گمراہی، جو کہتا ہے کہ روح قدیم ہے اگرچہ انہوں نے عبارتیں بہت کچھ بدلی ہیں۔

ایک گروہ اُسے نفس اور ہوئی کہتا ہے۔ ایک گروہ نور اور ظلمت۔ اور اس طرح وہ طریقت کے مشائخ کے اصول باطل کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی فنا و بقا کہتا ہے یا جمع اور تفرقہ۔ ایسی بیہودہ عبارتیں انہوں نے بنا رکھی ہیں اور ان کے ذریعہ اپنے کفر کو سراتے ہیں اور صوفی لوگ ان کی باتوں سے بیزار ہیں۔ اس لیے کہ مقامِ ولایت کا ثابت کرنا بغیر محبتِ الٰہی اور اس کی معرفت کے ظاہر ہو ہی نہیں سکتا اور جو قدیم و حادث کا فرق نہیں سمجھتا وہ جاہل ہے اور اہلِ بصیرت و عقل ایسے جاہلوں کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ یہاں تک اس گروہ باطل کا مقصد جو کچھ تھا بیان ہو چکا ہے۔ اب اس سے زیادہ وضاحت مطلوب ہو تو ہماری دوسری کتابوں میں دیکھیے۔ اب میں کشفِ حجاب اور معاملات کے حالات اور اہلِ تصوف کی حقیقتیں بہ دلائل ثابت کرتا ہوں تا کہ تجھے زیادہ آسانی رہے اور منکروں میں سے جسے بصارت حاصل ہو گئی وہ گمراہی سے راستے پر آ جائے اور مجھے اس کا اجر ملے۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی

صفحہ ۴۴۵

کشفِ حجابِ اول: معرفتِ الٰہی

معرفتِ الٰہی کی شرائط میں

یعنی معرفتِ الٰہی کی جو شرائط ہیں اور اس کے جو مفاد ہیں ان پر مفصل بیان

اللہ تعالیٰ جل وعلا فرماتا ہے: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ﴾ "تم نے نہ جانا اللہ تعالیٰ کو حق جاننے کا۔" اور حضور ﷺ نے فرمایا: لَوْ عَرَفْتُمُ اللّٰهَ حَقَّ مَعْرِفَتِهٖ لَمَشَیْتُمْ عَلَی الْبُحُوْرِ وَلَزَالَتْ بِدُعَائِكُمُ الْجِبَالُ "اگر تم اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرو حقِ عرفان تک تو یقیناً تم دریا پر چلنے لگو اور تمہاری دعا سے پہاڑ متزلزل ہو جائیں۔"

اب معرفتِ الٰہی کی دو قسمیں ہیں ایک علمی، ایک حالی۔

معرفتِ علمی تمام نیکیوں کی جڑ ہے جو دنیا و آخرت میں حاصل ہوتی ہے اور بندہ کے لیے عرفان میں اہم ترین چیز یہ ہے کہ وہ اوقاتِ احوال میں حق تعالیٰ شانہٗ کو دنیا و آخرت کے اندر پہچانے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ﴾ (اَیْ لِیَعْرِفُوْنِ) "ہم نے آدمی اور جن پیدا نہیں کیے مگر اس لیے کہ اسے پہچان کر پوجیں۔"

تو اکثر مخلوق میں سے بہت سے وہ ہیں کہ عرفانِ حق میں قاصر ہیں سوائے اس کے کہ اتنا سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان و جن مخلوق کو اپنے لیے برگزیدہ کر رکھا ہے اور ظلمتِ دنیا سے آزاد رکھا ہے اور اس کے دل کو زندہ کر دیتا ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے حالِ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے ہمیں خبر دی اور فرمایا: ﴿وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ﴾ "یعنی اور کیا ہم نے اس کے لیے نور جس سے وہ لوگوں میں چلتا ہے۔" یعنی عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔ (كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا)۔ "کیا اس شخص کی مثل ہے جو اندھیروں میں ہے اس سے نہیں نکل سکتا۔" یعنی ابو جہل لعین۔ تو معرفت حیاتِ دل کا نام ہے، اللہ تعالیٰ شانہٗ کے ساتھ ہے اور ماسوا اللہ سے اعراض رکھنا اور یہ درجہ معرفتِ حق سے ہوتا ہے اور جسے معرفتِ حق نہ ہو وہ ذلیل و بے قدر ہے۔ تو آدمیوں میں سے علماء فقہاء وغیرہ جو علم کی صحت کو اپنے ربّ کی معرفت پر سمجھتے ہیں وہ عارف ہیں اور ایسے ہی مشائخ اس طائفہ کی اپنی صحتِ حال کو عرفانِ حق پر موقوف رکھتے ہیں اور اسی

۴۴۶

وجہ میں عرفانِ حق کو محض علم پر فضیلت دیتے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ صحتِ حال بغیر صحتِ علم نہیں اور صحتِ علم بغیر صحتِ حال نہیں۔ یعنی وہ عارف عارف نہیں جو اپنے ربّ کا عارف نہ ہو۔ اور وہ عالم جو عارف نہیں اگرچہ عالم ہوگا مگر بغیر عرفان ہوگا۔ اور وہ لوگ جو اس معنی سے جاہل ہیں ان سے وہ اس مقام پر بے فائدہ مناظرہ کرتے پھرتے ہیں اور جاہلین میں ایک دوسرے کو اس مسئلہ سے انکار کرتا پاؤ گے۔

اب میں اس مسئلہ کا راز ظاہر کرتا ہوں تا کہ دونوں گروہ پر فائدہ حاصل ہو سکے۔ ان شاء اللہ۔ اللہ تمہیں سعادت دارین عطا فرمائے۔ لوگوں میں معرفتِ الٰہی اور صحتِ علم پر بہت اختلاف ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ معرفتِ حق تعالیٰ عقل سے ہے اور سوا عقل معرفتِ حق روا نہیں۔ اور یہ قول محض باطل ہے اس لیے کہ وہ دیوانے جو اوّل دار السلام میں تھے، ان پر حکمِ معرفت کا لگایا جاتا ہے۔ دوسرے وہ بچے جو عاقل نہیں ہوتے ان پر حکمِ ایمان لگایا جاتا ہے۔ تو اگر معرفتِ حق عقل پر ہوتی تو انہیں عقل نہیں ہوتی تو ان پر ایمان و عرفان کا حکم لگانا صحیح نہیں ہوگا اور کافروں پر کہ ان میں عقل ہے حکمِ کفر نہیں چاہیے اور اگر عقل معرفتِ حق کی علت ہے تو چاہیے کہ جس میں عقل ہو وہ عارف ہو اور جتنے بے عقل ہوں سب کو جاہل کہا جائے اور یہ علانیہ مکابرہ ہے۔

ایک گروہ کہتا ہے کہ معرفتِ حق کی علت استدلال ہے اور بلا استدلال معرفت نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی دعویٰ باطل ہے اس لیے کہ شیطان وہ ہے جس نے بہت سے دلائل دیکھے مثلِ بہشت، دوزخ، عرش و کرسی وغیرہ۔ تو یہ دیکھنا اس کے لیے دلیل ہے اور دلیل علتِ معرفت ہے تو اسے عارف کہنا پڑے گا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰی وَحَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ "اگر ہم فرشتوں کو نازل کرتے ان کافروں کی طرف تا کہ وہ گفتگو کرتے اور مُردے ان سے کلام کر لیتے تو وہ ایمان لانے والے نہ ہوتے مگر جسے اللہ چاہے۔" تو اگر آیت و استدلال عرفان کی علت ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان باتوں کو علت گردانتا "اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ" فرما کر اپنی مشیت کو۔ اہلِ سنت و جماعت صحتِ عقل و رویتِ آیت کو بھی معرفت کہتے ہیں نہ کہ علتِ معرفت۔ اس لیے کہ اس کی علت عنایت و مشیتِ حق کے سوا کچھ نہیں۔ بغیر

۴۴۷

عنایتِ الٰہی عقل نابینا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ عقل خود جاہل ہے اور کسی کی عقل حق تعالیٰ شانہٗ کی حقیقت نہیں جان سکتی۔ جب عقل خود جاہل ہے تو اپنے غیر کو وہ کس طرح عارف بنا سکتی ہے اور بلا عنایتِ حق جل جلالہٗ استدلال اور آیتِ الٰہیہ میں فکر کرنے سے خطا ممکن ہے۔ اہلِ ہوئی اور جماعتِ ملحدین اکثر دلائل رکھتے ہیں مگر بہت سے عارف نہیں ہوتے اور وہ جو عنایتِ حق کے اہل ہو گئے ان کی تمام حرکات معرفت ہوتی ہیں اور ان کا استدلال بھی ترکِ استدلال میں مسلم ہوتا ہے اور وہ صحتِ معرفت میں تسلیم کو طلب سے اولیٰ نہیں سمجھتے اس لیے کہ طلب وہ چیز ہے کہ اس کے ترک کرنے کی کوئی راہ نہیں اور تسلیم وہ ہے کہ اس کی اصل میں اضطراب کی کوئی راہ نہیں، اور وجود کے لیے عقل و دلائل کو موجبِ ہدایت نہیں کہہ سکتے اور کوئی دلیل اس سے واضح تر نہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ﴾ "یعنی اگر کر فرلوٹائے جائیں قیامت کے بعد دنیا میں تو اپنے اس کفر پر واپس لوٹیں۔" جیسے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے معرفت کے متعلق سوال ہوا، فرمایا: عَرَفْتُ اللّٰهَ بِاللّٰهِ وَعَرَفْتُ مَادُوْنَ اللّٰهِ بِنُوْرِ اللّٰهِ۔ "اللہ تعالیٰ کو میں نے اس سے پہچانا اور ماسوا اللہ کو نورِ الٰہی سے جانا۔"

تو اللہ تعالیٰ نے جسموں کو پیدا فرمایا اور زندگی کو روح عطا کی اور دل کو پیدا فرمایا اور زندگی کا تمام اختیار اپنے قبضہ میں رکھا۔ تو جب عقل و آلات و آیات و قدرت کو زندگی بغیرِ تن میں نہیں رکھا تو محال ہے کہ دل کو زندہ کرے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿اَوَمَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ﴾ "یعنی جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا۔" یہاں قدرتِ حیات اپنی طرف رکھی۔ پھر فرمایا: ﴿وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ﴾ "اور ہم نے اس کے لیے نور رکھا کہ چلتا ہے اس نور سے لوگوں میں۔" تو آفرید گارِ نور اللہ تعالیٰ ہے جس کا بندہ چلتا ہے۔ اور فرمایا: ﴿یَنْشَرِحُ بِهٖ فِی النَّاسِ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ﴾ "کیا جس کا سینہ اللہ نے کھولا اسلام کے لیے اپنے ربّ کی طرف سے تو وہ ایک نور پر ہے۔" اس آیہ کریمہ میں بھی شرح صدر کا فعل اپنی طرف منسوب کیا اور اس کا باندھنا بھی اپنی طرف منسوب فرمایا اور فرمایا: ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰی سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلٰٓی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ﴾ "اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔" پھر فرمایا: ﴿وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا﴾ "اس کا اتباع نہ کرو جس کے دل کو ہم نے غفلت میں ڈال دیا ہے اپنے ذکر سے۔"

۱۔ سورۃ الانعام: ۲۸ ۲۔ سورۃ الانعام: ۱۲۲ ۳۔ سورۃ الانعام: ۱۲۲ ۴۔ سورۃ الزمر: ۲۲ ۵۔ سورۃ البقرہ: ۷ ۶۔ سورۃ الکھف: ۲۸

۴۴۸

تو جب قبض و بسط اور شرحِ ختمِ دل اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تو محال ہے کہ راہنمائی بغیر حق تعالیٰ ہو سکے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے سوا امور ہیں وہ سب سبب علت ہو سکتے ہیں اور علت و سبب بلا عنایت مسبّب راہ نہیں پا سکتے۔ بلکہ تمام حجاب راہبر ہوں گے اور نہ راہبر۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ میں فرمایا: ﴿وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ﴾ "لیکن اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا تمہاری طرف ایمان اور اس میں تمہارے دلوں کو مزیّن کیا۔" تزئین و تحسیب کو اپنی طرف مضاف کیا اور لزومِ تقویٰ جو عینِ معرفت ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور عارف کو اپنے الزام میں دفع و جلب کا اختیار اس حال میں نہیں ہوتا۔ تو ثابت ہوا کہ بغیر عرفانِ حق مخلوق میں نصیبِ معرفت بغیر مجزہ نہیں ہو سکتا۔

حضرت ابو الحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لَا دَلِیْلَ عَلَی اللّٰهِ سِوَاهُ اِنَّمَا الْعِلْمُ یُطْلَبُ لِاٰدَابِ الْخِدْمَةِ۔ "کوئی دلیل سوائے حق تعالیٰ کے اس عرفان میں دل کے لیے نہیں اور علم محض آدابِ خدمت کو طلب کرتا ہے۔" نہ کہ صحتِ معرفت کو اور مخلوقات میں سے کسی کو یہ قدرت نہیں کہ وہ خدا تک پہنچا سکے۔

دلائل لانے والوں میں ابو طالب سے زیادہ کوئی عقلمند نہ تھا اور حقانیت کی دلیل حضور ﷺ سے بزرگ تر کچھ نہیں ہو سکتی تھی۔ مگر جب کہ جریانِ حکمِ شقاوت ابو طالب پر ہو چکا تھا، لا محالہ حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس بھی اسے فائدہ نہ پہنچا سکی۔ تو خصوصیت سے ماننا پڑے گا کہ درجۂ استدلال محض اعراض ہے جل علا شانہٗ سے۔ اس لیے کہ استدلال نام ہے غیر میں تامل کرنے کا اور معرفت کی حقیقت غیر سے اعراض کرنا ہے اور عادتاً تمام مطلوبات کا وجود دلیل سے ہے اور حق تعالیٰ شانہٗ کی معرفت عادت کے برخلاف ہے۔

تو جب یہ ثابت ہو گیا کہ معرفتِ عقل جبروت دوامی کے سوا نہیں اور اس کا ملنا بندہ کے کسب سے نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے کہ خلقت کے کسب کا اس میں راستہ نہیں اور بدونِ حق تعالیٰ بندہ کا کوئی راہنما نہیں۔ وہ دلوں کی کشائش اور غیبی خزانوں سے ہے۔ اس لیے کہ جو اس ذات کے سوا ہے سب حادث ہے اور یہ جائز ہے کہ حادث کو حادث پہنچے اور یہ کسی طرح روا نہیں کہ آفریدگارِ عالم جو قدیم ازلی سرمدی کو بھی پہنچے۔ با آنکہ حق تعالیٰ اس کا کسب کنندہ ہو اور جو کسب کنندہ کے کسب کے ماتحت ہو تو سب کا کسب غالب ہوتا ہے اور حاصل شدہ مغلوب و مقہور۔

اسی وجہ میں کرامت وہ نہیں کہلاتی جو عقل کی دلیل سے فاعل کو ثابت کرے بلکہ کرامت

۴۴۹

وہ ہوتی ہے کہ ولیِ الٰہی نورِ حق تعالیٰ شانہٗ سے اپنی ہستی کی نفی کر لے تو معرفت قوی ہو جائے اور دوسرے معرفتِ حال۔ اور جس چیز کو ایک گروہ معرفت کی علت سمجھتا ہے وہ عقل ہے۔ اسے کہنا چاہیے کہ دل میں عینِ معرفت سے کیا چیز ثابت ہوتی ہے اور جو کچھ عقل ثابت کرتی ہے معرفت اس کی نفی کرتی ہے۔ یعنی جو کچھ دل میں بدلالتِ عقل صورت آتی ہے وہ اسے خدا کہتا ہے اور حقیقتاً وہ اس کے خلاف ہے۔ اگر اس کے خلاف کوئی اور صورت آتی ہے تو وہ برخلافِ حقیقت ہے۔ کیا عقل کی مجال نہیں کہ استدلال سے معرفت حاصل ہو۔ اس لیے کہ عقل و وہم دونوں ایک جنس ہیں اور جب کہ جنس ثابت ہو، معرفت کی نفی ہو جائے گی۔ تو اثبات باستدلالِ عقل سے تشبیہ میں آئے گا اور نفیِ استدلال سے عقل میں تعطیل ہوگی اور اس کی گنجائش ان دو اصل سے باہر نہیں اور یہ دونوں معرفت میں زبوں ہیں اس لیے کہ مشبہہ اور معطلہ ایک نہیں ہوتے۔ تو عقل جب اپنے مقدور کے موافق چلتی ہے اور اس سے جو ظہور پذیر ہوتا ہے وہ سب عقل ہی کا ہوتا ہے۔

اور دل ہائے دوستاں کو طلب بغیر چارہ نہیں ہوتا۔ وہ درگاہ و عجز میں بے آلہ آرام کرتے ہیں اور اس آرام میں جب اپنے کو بے آرام دیکھتے ہیں تو اپنے ہاتھ زاری کے ساتھ اٹھاتے اور اپنے دل کے لیے مرہم ڈھونڈتے ہیں اور یہ انواعِ طلب و قدرت سے اس تک پہنچتے ہیں۔ پھر قدرتِ حق اس جگہ اُن کی قدرت میں آتی ہے۔ یعنی اس ذات کو دور راستوں سے پاتے ہیں اور رنجِ غیبت سے آسودہ ہو کر روضۂ انس میں جگہ لیتے ہیں اور وہاں آرام کرتے ہیں اور روحِ سرور میں قرار پاتے ہیں۔

جب عقل دلوں کو مراد تک پہنچا دیتی ہے تو اپنے تصرف سے اس حاصل شدہ مقام سے روکتی ہے۔ جب اس کا تصرف نہیں چلتا تو بعالمِ تحیر معزول ہو جاتی ہے۔ جب معزول ہو جاتی ہے تو اس وقت حق تعالیٰ لباسِ خدمت اسے پہنا دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جب تک تو اپنی خودی میں تھا تو اپنے آلات و تصرف سے محجوب تھا اور جب کہ آلات فانی ہو گئے تو اب رہ گیا وہاں جہاں پہنچا۔ تو دل کو منصبِ قرب مل جاتا ہے اور عقل کو خدمت اور اس کی معرفت کو عرفانِ تام۔ پھر اللہ تعالیٰ اس بندہ کو اپنی تعریف اور تصرف سے آشنا کر دیتا ہے تا کہ وہ پہچان لے اُسے بھی جس کا نہ پہچاننا موصول آلہ سے تھا، بلکہ وہ پہچان جو بندہ میں عاریتاً تھی تا کہ پھر وہ تمام وجوہات سے عارف کو انانیت و خیانت سے محفوظ کر کے اُسے بے نسیان کر دے اور اس کے لیل و نہار بے تقصیر ہو جائیں اور اس کی معرفت حالی ہو جائے نہ کہ قالی۔ ایک گروہ نے یہ بھی کہا کہ ایسے درجہ پر اس کی معرفت، معرفتِ الٰہی ہے۔ اور یہ بھی محال ہے، اس لیے کہ معرفت کو برہانِ باطل و حق ہوتے ہیں؛ اور اہلِ الہام

۴۵۰

خطرے میں رہتے ہیں، ان کا وہ الہام برہان نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مکان میں ہے اور ایک کہے کہ میرا الہام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مکان نہیں۔ لامحالہ دونوں اپنے دعوے میں متضاد ہیں اور ان میں ایک مقرون بہ حق ہے۔ اور دونوں دعوے کر رہے ہیں تو لامحالہ اس کے لیے دلیل چاہیے تا کہ اس کے ذریعے فرق کیا جائے صدق و کذب میں دونوں مدعیوں کے، اور اس وقت دلیل سے جانا جائے گا اور حکمِ بالہام باطل ہو جائے گا۔ اور برہمنوں اور الہامیوں کو میں نے اپنے زمانہ میں دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک قوم بہت غلو کرتی ہے اور وہ اپنے زمانہ کا انہیں پار سا سمجھتی ہے اور تمام کے تمام حقیقت میں گمراہ ہیں اور ان کا قول تمام عقل والوں کے بھی خلاف ہے۔ عقلائے اہلِ کفر اور اہلِ اسلام دونوں ہی ان کے خلاف ہیں۔ اور اس قسم کے مدعیانِ الہام کے دس قول متناقض ہیں جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں، اور ہر ایک اپنے اپنے دعوے میں باطل ہے اور کوئی حق پر نہیں، اور اگر کہیں کہ کہنے والا اگر خلافِ شرع کہے تو وہ الہام نہیں ہوگا۔

میں کہتا ہوں کہ اصل میں وہی خطا پر ہے جو قیامِ شریعت کو الہام پر موقوف کرے۔ اور اگر کوئی کہے کہ الہام کا ثبوت معرفتِ شریعت پر ہونا چاہیے اور اس کا ثبوت صحیح ہونے پر اسے الہام کہا جا سکتا ہے تو سمجھ لو کہ حکمِ الہام مقامِ معرفت میں بہ ہمہ وجود باطل ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ معرفتِ حق ضروری ہے، اور یہ بھی محال ہے۔ اس لیے کہ جو چیز بندے کے علم میں ضروری ہے وہ لازمی طور پر عقل کی شرکت سے ہوگی اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ عاقلوں کی ایک جماعت اس سے انکاری ہے اور تشبیہ و تعطیل روا رکھتی ہے تو بھی کہنا صحیح ہوگا کہ عرفان از جانبِ خود ضروری نہیں اور اگر ضروری ہوتا تو اس پر تکلیف نہ آتی۔ اس لیے کہ کسی چیز کے جاننے نہ جاننے میں تکلف محال ہے۔ جیسے کہ اپنا جاننا، آسمان و زمین، روز و شب کا آلام و لذات اور مثلِ اس کے جو چیزیں ہیں ان کے جاننے میں عقل و وجودِ انسان کو شک میں ایسے نہیں ڈال سکتی کہ اس کے دیکھنے کے لیے مضطر ہو اور اگر چاہے کہ نہ پہچانے تو ہو سکتا ہے قصداً نہ جانے۔

لیکن ایک جماعتِ متصوفین کی ہے وہ کہ اپنے یقین کی صحت پر نگاہ کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ہم اسے بہ ضرورت جاننے پر مجبور نہیں اور ایسے جانتے ہیں کہ دل میں بھی کوئی شک نہیں پاتے اور اس یقین کا نام ضرورت رکھتے ہیں اور وہ اس معنی میں مصیب ہیں، لیکن اس عبارت کے اندر وہ غلطی پر ہیں کہ علمِ ضروری میں صحت کی تخصیص روا نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ تمام عقلاء یکساں عقلاء ہیں۔ اور اس میں بھی کہ علمِ ضروری علم ہوتا ہے کہ دوستوں کے دل میں سبب اور دلیل پیدا کرتا ہے

۴۵۱

اور خداوند اور اس کی معرفت کو حاصل کرنا سبب ہے۔

لیکن استاد علی دقاق اور شیخ ابو سہل صعلوکی اور ان کے والد ماجد ابو سہل نیشاپور میں امامِ قوم ہیں، اس پر ہیں کہ معرفت کی ابتداء استدلال سے ہے اور انتہا علمِ ضروری سے ہے۔ جیسے صنعتوں کا جاننا ابتداء میں کسب ہوتا ہے اور انتہا میں ضروری۔ اہلسنت و جماعت کے ایک قول سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ حق تعالیٰ شانہٗ کا جاننا ضروری ہے اور علمِ ضروری روا ہوا تو ضرورت جائز ہوگی۔

اس دنیا میں انبیاء کرام علیہم السلام کلامِ الٰہی سنتے ہیں اور یہ سننا بے واسطہ بھی تھا تا کہ بضرورت وہ پہچانے اور بواسطہ بھی جیسے کسی فرشتہ کے ذریعے یا بطریقِ وحی۔ اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ بہشتی بہشت میں اللہ تعالیٰ کو بضرورت پہچانیں گے اور اس لیے کہ بہشت دارِ تکلیف نہیں اور پیغمبرانِ اولو العزم مامون العاقبت ہوتے ہیں اور انقطاع سے ایمن۔ تو وہ بضرورت پہچانتے ہیں۔ اسی وجہ میں وہ قطعیت کے خوف سے مامون ہوتے ہیں۔ اور جس نے اسے بالضرورت پہچانا اسے بھی خوف نہیں۔ اس لیے وہ ذاتِ حق سے منقطع نہیں۔ اسی وجہ میں ایمان اور معرفت اس سبب سے فضیلت ہے کہ غیب سے جب عین ہو گیا تو ایمان اس سے غیر ہوگا اور اس کے عین میں اختیار نہ ہوگا اور اصولِ شرع بیقرار ہوں گی اور حکمِ رویت باطل ہوگا اور بلعم باعور اور ابلیس اور برصیصا کو کافر کہنا درست نہ ہوگا۔ کیونکہ بالاتفاق یہ عارف گزرے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہ مردود ابلیس کیا گیا اور برصیصا سنگسار ہوا۔ اس کی بھی اطلاع نبی اکرم ﷺ سے مل چکی ہے۔ ﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَ﴾ "تیری عزت کی قسم البتہ میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا۔"

اور حقیقت میں کہنا اور جواب سننا مقتضاءِ معرفت ہے اور عارف جب تک عارف ہے، بے غم ہے اور جب جدائی اور انقطاع ہوتا ہے تو معرفت میں زوال آتا ہے، اور ضرورت یعنی امرِ بدیہی کے علم میں زوال نہیں ہو سکتا اور یہ مسئلہ خلقت کے اندر آفت ہے۔ اسی بنا پر عارف کے عرفان کی یہ شرط رکھی گئی کہ اس کا عرفان آفت سے محفوظ ہو اور بندہ کو جب صحیح عرفان حاصل ہو جائے گا تو وہ ہدایتِ ازلی کا محور بھی نہیں ہو سکتا۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ درجۂ عرفان کبھی زیادہ ہو کبھی کم۔ اور اس عرفان میں تقلید نہ ہو بلکہ عرفان کا کامل صفتوں کے ساتھ اس کا عرفان حاصل ہو اور یہ درجہ من جانب اللہ محض عنایتِ حق سے حاصل ہوتا ہے اور دلائلِ عقلیہ سب حق تعالیٰ شانہٗ کے تصرف و اختیار میں ہیں۔ اگر چاہے تو دنیا کے کسی فعل کو ہی رہنما بنا کر بندہ کو اس سے راہ دکھا دے اور اگر چاہے تو اس فعل کو

۴۵۲

اس کے لیے حجاب بنا دے تو وہ اس فعل کے سبب محروم رہ جائے۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک قوم کے حق میں موجبِ رہنمائی ہوئے اور دوسری قوم کے لیے حجاب۔ ایک گروہ جسے آپ کی ذات سے ہدایت ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ یہ مقبولِ حق اور عبد اللہ ہیں۔ اور جس گروہ کے حق میں آپ حجاب ہوئے اس نے آپ کو "ابن اللہ" کہہ ڈالا۔ ایسے ہی بت اور آفتاب و قمر نے ایک گروہ کو راہِ حق بتائی اور دوسرا گروہ رہ گیا۔ تو ثابت ہوا کہ اگر دلیل علتِ معرفت ہوتی تو لازم تھا کہ اتنی دلیل لانے والا بھی عارف ہوتا اور بظاہر مکابرہ ہے۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ جسے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے اس کے لیے تمام اشیاء اس کی راہبر بنا دیتا ہے اور وہ مقامِ معرفت تک پہنچ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو جان لیتا ہے۔ تو یہاں دلیل بندہ کے حق میں سبب ہوئی نہ کہ علت اور سبب دوسرے سبب سے اچھا نہیں ہوتا۔ مسبب کے لیے سبب کے حق میں وارد ہے

﴿لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴾ "اے محمد ﷺ! تیری حیاتی کی قسم ہے کہ تحقیق تیری قوم کے کافر لوط کی طرح اپنی گمراہی میں حیران و سرگرداں ہیں۔"

تیری قسم یہ ہے کہ عارف کو معرفت میں سبب کا ثابت کرنا ایک زنار ہے اور غیر معرفت کی طرف متوجہ ہونا شرک۔ ﴿مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ﴾ "جسے اللہ گمراہ کرے اُسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں۔" تو جب لوحِ محفوظ میں بلکہ علم و ارادۂ حق میں شقاوت کسی کے نصیب میں ہو تو دلیل کسی طرح اس کی ہادی نہیں ہو سکتی۔ مَنِ الْتَفَتَ اِلَی الْاَغْیَارِ فَمَعْرِفَتُهٗ زُنَّارٌ۔ "جو غیروں کی طرف توجہ کرے تو اس کی معرفت زنار ہے۔" یعنی جو اللہ تعالیٰ کے غیر میں پراگندہ اور غرق ہو تو وہ سوا اللہ تعالیٰ کی اعانت کے کس طرح غیر پر قابو کر سکتا ہے۔

جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام غار سے تشریف لائے تو دن کو کچھ نہ دیکھا۔ حالانکہ دن میں دلائل و جود زیادہ تھے۔ جب رات ہوئی تو "رَاٰی كَوْكَبًا" یعنی ستارا دیکھا (اور اس کے مظاہرہ سے توحیدِ الٰہی کی طرف چلے)، تو اگر معرفتِ ذات کی علت دلیل ہوتی تو دن میں دلائل کا ظہور زیادہ تھا اور اس قادرِ قیوم کے عجائبات روشن تر تھے۔

تو ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے بندہ کو اپنی طرف رہنمائی فرما دیتا ہے اور اس پر درِ معرفت کشادہ کر دیتا ہے اور اس قدر تقرب بخشتا ہے کہ عینِ معرفت بھی اُسے غیر معلوم ہوتی ہے اور اس کے لیے وہ معرفت آفت ہوتی ہے اور معرفت سے معروضات محجوب ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کی معرفت اس درجہ تک پہنچتی ہے کہ معرفت پر اس کا دعویٰ ہو جاتا

۴۵۳

ہے۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اِیَّاكَ اَنْ تَكُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ مُدَّعِیًا۔ شعر

یَدَّعِی الْعَارِفُوْنَ مَعْرِفَةً ۔ اَقِرُّ بِالْجُهْدِ ذَاكَ مَعْرِفَتِیْ

"تجھے چاہیے کہ دعوائے معرفت نہ کرے کہ اس سے ہلاک ہو جائے گا تو اپنا تعلق اس کے معنی سے رکھ تا کہ نجات پائے۔"

جو کشفِ جلالِ ذات کے ساتھ اکرام حاصل کر لیتا ہے اس کی ہستی و بال ہو جاتی ہے اور جمیع صفات آفت ہو جاتی ہے اور جو حق سے وابستہ ہو جائے تو حق اس کی طرف ہو جاتا ہے۔ پھر اسے دنیا و مافیہا سے بے خبری ہو جاتی ہے۔ جسے یہ نسبت مل جائے تو حق کا یہ مقام ہے کہ وہ سوائے ذاتِ حق، سب سے خبردار ہو جاتا ہے اور ہر حرکت و سکون کو ملکِ الٰہی سمجھتا ہے۔ تو جب بندہ سب ملک ملکِ خدا سمجھ لے، اسے خلق سے کوئی واسطہ نہیں رہتا اور وہ تمام موجودات کو ملکِ حق سے سمجھنے لگتا ہے تو وہ مخلوق سے محجوب ہو جاتا ہے اور وہ حجاب جو بوجہِ جہل تھا وہ فنا ہو جاتا ہے اور اس کی دنیا بھی بمنزلۂ عقبیٰ ہو جاتی ہے۔

اور مشائخ رحمۃ اللہ علیہم کو اس بحث میں بہت سی رموز ہیں۔ ان میں سے بعض احوال میں یہاں بیان کرتا ہوں۔

حضرت عبد اللہ مبارک فرماتے ہیں: اَلْمَعْرِفَةُ اَنْ لَّا تَتَعَجَّبَ مِنْ شَیْءٍ۔ "معرفت یہ کہ کوئی شے تجھے حیرت میں نہ ڈالے۔" اس لیے کہ تعجب اور حیرت اس فعل سے ہوتی ہے جو اپنے مقدور سے زیادہ ہو۔ اور جب وہ قادر اپنے کمالِ قدرت میں کامل ہو تو عارف کو اس میں تحیر و تعجب محال ہوتا ہے۔ اگر تعجب ہی کرتا تو جب کہ اس نے ایک مشتِ خاک کو کیا کیا درجہ عطا فرمایا اور ایک قطرۂ خون کس بلند مقام پر پہنچایا کہ اس کی دوستی اور معرفت اور طلب و رویتِ ذات کرنے لگا اور قصدِ قربت و وصل کی آرزو کرتا ہے۔

حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حَقِیْقَةُ الْمَعْرِفَةِ اِطْلَاعُ الْحَقِّ عَلَی الْاَسْرَارِ بِمُوَاصَلَةِ لَطَائِفِ الْاَنْوَارِ۔ "معرفت کی حقیقت یہ ہے کہ اسرارِ حق پر مطلع ہو اور لطائفِ انوار اس پر کھل جائیں۔" یعنی جب تک اللہ تعالیٰ اپنی عنایت سے بندہ کے دل کو انوار عقل سے آراستہ نہ کرے اور تمام آفتوں سے اسے دور نہ رکھے حتیٰ کہ موجودات اس کے سامنے رائی کے

۴۵۴

دانے کے برابر بھی نہ رہے، تو جب اس مقام پر بندہ آ جاتا ہے تو تمام معانی مشاہدات ہو جاتے ہیں۔

حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلْمَعْرِفَةُ دَوَامُ الْحَیْرَةِ۔ "معرفت نام ہے ہمیشہ متحیر رہنے کا۔" اور حیرت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک ہستی میں، دوسری میں کہ اس کی ہستی میں جو کچھ ہے۔ حیرت اندر ہستی شرک ہے اور کفر۔ اور چگونگیِ وجود میں حیرت کرنا عینِ معرفت ہے۔ اس لیے کہ اس کی ہستی میں عارف کو شک نہیں ہو سکتا اور اس کی کیفیت میں عقل کو گنجائش نہیں۔ باقی رہا ہستیِ باری تعالیٰ کا یقین اور حیرت۔ اس کی کیفیت میں، اس پر ایک عارف فرماتے ہیں: یَا دَلِیْلَ الْمُتَحَیِّرِیْنَ زِدْنِیْ تَحَیُّرًا۔ "اے حیرانوں کی دلیل! مجھے میری حیرت زیادہ دے۔"

یہاں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہی ذات مقصودِ خلق اور قبول کنندہ اس کی دعا کا ہے اور متحیرین کو اس کے سوا کوئی حیرت نہیں۔ اور جب کہ متحیر اس کے وجود میں اپنے اندر تحیر چاہتا ہے اور جانتا ہے کہ معاملۂ مطلوب میں عقل کو بجز حیرت و سرگردانی اور کسی تصرف کا دخل نہیں اور اس کی وہاں کچھ وقعت ہی نہیں اور حقیقت میں یہ معنی بھی نہایت لطیف ہیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ ہستیِ حق کی معرفت اپنی ہستی میں حیرت ہی کا تقاضا کرتی ہے اس لیے کہ جب بندہ نے حق تعالیٰ کو پہچانا اور اپنے وجود کو اس کے قہر و تصرف کی قید میں پایا تو سمجھا کہ اس کا وجود بھی اس سے ہے اور عدم بھی اس سے۔ تو جان لیا کہ میں کیا ہوں اور خود کون ہوں۔ اس حقیقت آشنائی کو حضور ﷺ نے فرمایا: مَنْ عَرَفَ نَفْسَهٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهٗ۔ "جو اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے یقیناً وہ اپنے ربّ کو جان لیتا ہے۔" تو پھر عقل فنا ہو کر صفت باطل ہو جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ جب عین عقل میں نہ آئے تو اس کی معرفت سوائے تحیر کے ممکن نہیں۔

حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اَلْمَعْرِفَةُ اَنْ تَعْرِفَ اَنَّ حَرَكَاتِ الْخَلْقِ وَسَكَنَاتِهِمْ بِاللّٰهِ۔ "معرفت یہی ہے کہ بندہ جان لے کہ مخلوقات کی تمام حرکتیں اور جملہ سکون حق تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے ہیں۔" اور کسی کو اس کے اذن کے بغیر اس کی ملک میں حق تصرف نہیں۔ عین اس سے عین ہے اور اثر اس سے اثر ہے اور صفت اس سے صفت ہے اور متحرک اس سے متحرک ہے اور ساکن اس سے ساکن ہے اور وہ وجودِ عبد میں توفیق پیدا نہ فرمائے اور دل میں قوت و ارادہ نہ ڈالے، تو بندہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔ تو بندہ کا ہر فعلِ مجازی ہے حقیقتاً فعلِ اللہ تعالیٰ کا ہے۔

حضرت محمد بن واسع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عارف میں یہ صفات ہونی چاہئیں: مَنْ عَرَفَ اللّٰهَ قَلَّ كَلَامُهٗ وَدَامَ تَحَیُّرُهٗ۔ "جو عارفِ حق ہو جائے وہ کم سخن اور دائم التحیر ہوگا۔" اس

۱۔ اس حدیث پاک کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔

۴۵۵

لیے کہ بولا اس کے معاملے میں کرتے ہیں جس کا بیان احاطہ بیان میں آ سکے اور اصولِ عبارت میں حد ہو اور وہ احاطۂ بیان میں آ سکے اور جب اس کی تعریف کسی حد میں ہی نہ ہو تو اسے کسی عبارت کے تحت لانا کیونکر ممکن ہے۔ تو بندہ کو سوا اس کے چارہ ہی نہیں کہ اس کی قدرت میں متحیر رہے۔ اس حیرت کے سوا اس کے پاس کوئی تدبیر نہیں۔

حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا

حَقِیْقَةُ الْمَعْرِفَةِ الْعَجْزُ عَنْ مَعْرِفَةِ اللّٰهِ۔

"حقیقتِ معرفت یہ ہے کہ معرفتِ حق سے بندہ خود کو عاجز سمجھے۔"

اور ہمیشہ بندہ اس راہ میں سوا عجز کے کوئی اور پتہ دے۔ بندہ کے لیے یہ روا نہیں کہ ادراکِ ذات میں خود دعویٰ کرے۔ اس لیے اس کا عجز عینِ طلب ہے اور طالب اپنے ارادۂ طلب میں جب تک ہے، اسے اپنے کو عاجز کہنا صحیح نہیں۔

ایک گروہ مدعیانِ حال سے کہتا ہے کہ اثباتِ صفتِ آدمیت اور بقاءِ تکلف بصحتِ خطاب و قیامِ حجت معرفت کرنے والا وہ ہے جو کہے معرفت میں عجز ہی ہے اور میں عاجز ہوں اور تمام مدارج سے رہ چکا ہوں۔ یہ کھلی گمراہی ہے اور نقصان و خسران ہے۔

میں کہتا ہوں کہ تم طلب میں کہاں عاجز ہوئے۔ اس عاجزی کے دو نشان ہیں۔ دونوں تم میں نہیں۔ ایک نشان تو یہ ہے کہ آلۂ طلب فنا ہو جائے۔ دوسرا یہ کہ اظہارِ تجلی اس درجہ تک کہ جہاں آلۂ طلب فنا ہو، جو عبارت ہے متلاشی سے، تو اگر عجز سے عاجزی کرتے ہو تو بجز عجز کے کچھ نہیں۔ اور اس جگہ کا جہاں اظہارِ تجلی ہے، کوئی نشان نہیں دے سکتا اور وہاں تمیزِ صورت بھی نہیں۔ جس سے عاجز اپنے کو عاجز کہہ سکے با آنکہ وہ عاجز ہوتا ہے اور جسے عجز کہتے ہیں وہ بھی صورت پذیر نہیں۔ اس لیے عجز غیر ہے اور معرفت کا ثابت کرنا معرفت کے سوا کچھ نہیں البتہ عجز کو دل میں جگہ نہیں کہ وہ غیر ہے اور غیر سے کنارہ نہ کرے وہ عارف ہو نہیں سکتا۔

حضرت ابو حفص رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: قَدْ عَرَفْتُ اللّٰهَ مَا دَخَلَ فِیْ قَلْبِیْ حَقٌّ وَلَا بَاطِلٌ۔ "جب سے میں نے اللہ کو جانا میرے دل میں اندیشۂ حق ہے نہ باطل۔" اس لیے کہ خلقت کی مراد اور خواہش تو دل کی طرف رجوع کرتی ہے۔ جب تک دل اس کو نفس کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ دل دل ہی نہیں محض باطل ہے۔ اور جب ہمیشہ کی عزت پاتا ہے تو ذلت کی طرف رجوع کرتا ہے، جب اُسے روح کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو ضیعِ حق اور حقیقت ہے۔ جب دل میں غیر آیا تو

۱۔ سمجھ آئی سمجھ میں کچھ نہ آیا ........... سمجھنا ہی بس تمہاری خطا ہے۔ (مؤلف)

۴۵۶

عارف کا رجوع بڑھتا ہے تو جب خلقت برہانِ معرفت اور طلبِ دلیل سے کی اور مقصود و خواہش کی طلب بھی دل سے کی تو ان سے مراد حاصل نہ ہوئی۔ آخرش وہ دل سے علیٰحدہ ہو کر حق کے سوا سے آرام نہ ملا تو حق دل سے طلب کیا۔ جب نشان اور دلیل یہاں سے نہ ملا تو حق کی طرف رجوع ہوا اور دل سے التفات ہٹا لیا۔ اس سے اس بندہ جس کا دل روح کی طرف ہو اور جس کا رجوع حق کی طرف ہو، فرق ظاہر ہو گیا۔

حضرت ابو بکر واسطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

مَنْ عَرَفَ اللّٰهَ انْقَطَعَ مِنَ الْكُلِّ بَلْ خَرَسَ وَانْقَمَعَ

"جس نے اللہ کو پہچانا سب سے منقطع ہو گیا بلکہ گونگا ہو کر سب سے جدا ہو گیا۔"

نبی ﷺ نے فرمایا

لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْكَ

"میں تیری ثنا کا احصا نہیں کر سکتا۔"

تو خلاصہ یہ نکلا کہ جس نے اللہ کو جان لیا وہ سب چیزوں سے جدا ہو گیا بلکہ تمام عبارتوں کے بیان سے گونگا ہوا اور اپنے سب اوصاف سے فانی۔ جیسے حضور ﷺ جب تک عالمِ غیبت میں تھے فصیح العرب تھے۔ جیسا کہ فرمایا: "اَنَا اَفْصَحُ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ" جب آپ ﷺ حضوریِ حضور میں پہنچے تو عرض کی میری زبان میں تیری ثنا کی قوت نہیں، میں کیا ہوں، بے زبان، اور تو وہی ہے جو ہے، میری زبان میں قوتِ احصائے ثنا کمال نہیں، میں کیا کہوں، کہنے میں نہ کہنے والا ہوں اور حال سے بے حال اور تو وہ ہے تو ہی ہے۔ میری گفتار میری طرف سے ہو یا تیری طرف سے، اگر میں خود سے بولوں تو فنا سے محجوب ہوتا ہوں۔ اگر تیری قال سے بولوں تو قربتِ ذات کے منصب میں معیوب ہوا۔ لہٰذا میں قال کو ہی چھوڑتا ہوں۔ تو فرمان آیا کہ اے محمد ﷺ اگر تو نہیں کہتا تو میں کہتا ہوں۔ لَعَمْرُكَ اِذَا سَكَتَّ عَنْ ثَنَائِیْ فَالْكُلُّ مِنْكَ ثَنَائِیْ "تیری جان پاک کی قسم! جب تو میری ثناء سے ساکت ہے تو جو کچھ تو فرمائے گا وہ میری ثناء ہوگی۔" جب تو اپنے کو میری ثناء کا اہل نہیں کہتا تو میں تمام اجزاءِ عالم کو تیرا نائب مقرر کرتا ہوں تا کہ وہ میری ثناء کریں اور تمام ثنائیں تیرے حوالے کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم