السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کشف المحجوب

حصہ ۱۱ — چودھواں باب

حصہ ۱۱

چودھواں باب

جاری ہے۔

مدعیِ الوہیت سے ظہورِ معجزہ

مشائخ صوفیہ اور تمام اہلسنت و جماعت اس امر پر متفق ہیں کہ کافر کے ہاتھ سے بھی کوئی ایسا فعل ظاہر ہو سکتا ہے جو خارقِ عادت ہو اور مثلِ معجزہ یا کرامت کے ظاہر ہو اور تمام اسبابِ شبہ اس کے ظہور سے منقطع ہو جائیں اور کسی کو اس کے کذاب ہونے میں شک نہ ہو اور اس فعل کا ظہور اس کے کذب ہونے کے لیے مغائر ہو۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ فرعونِ لعین (کہ اس کا نام رقیون تھا جو موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں تھا) اس نے چار سو برس کی عمر پائی اور اسی مدت العمر میں اسے کوئی بیماری اور مرض نہ ہوا اور پانی اس کے پیچھے پیچھے چلتا۔ جب یہ کھڑا ہو جاتا، پانی بھی کھڑا رہ جاتا لیکن باوجود اس کے عقلاء کی نظر میں یہ جھوٹا تھا اور اس کے خدائی دعویٰ کی تصدیق سمجھ داروں نے نہیں کی۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مجسم و مرکب نہیں۔ علاوہ ازیں اگر اور بھی ایسے خارقِ عادات افعال اس سے ظہور میں آتے تو عقلاء اس کے کذبِ دعویٰ میں کبھی شک نہ کرتے۔

اور ایسے ہی شداد، صاحبِ ارم (یعنی جس نے دنیا میں ارم کے نام سے بہشت بنایا تھا) اس کا حال ہے اور ایسے ہی نمرود کے بہت سے واقعات ہیں اور اس پر قیاس کر لو اور اسی قسم کے واقعات سے ہمارے مخبرِ صادق ﷺ نے خبر دی اور بتایا کہ آخر زمانہ میں دجال خارج ہوگا اور خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اس کی چپ و راست میں دو پہاڑ ہوں گے۔ داہنی طرف والا پہاڑ نمونۂ بہشت ہوگا اور بائیں طرف والا نمونۂ جہنم۔ مخلوق کو اپنی الوہیت تسلیم کرانے پر دعوت دے گا۔ جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس پر عذاب کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے لوگوں کو موت و حیات کا مشاہدہ کرائے گا وہ اپنی گمراہی و ضلالت میں جسے چاہے گا مار دے گا، جسے چاہے گا زندہ کر دے گا۔ دنیا میں دجال کا حکم مطلق ہوگا۔ لیکن اس کے علاوہ اگر اس سے سوگنا افعال بھی وہ دکھائے تو عقلاء اس کے کاذب ہونے میں شک نہ کریں گے۔ عاقل یقینی طور پر سمجھ لے گا کہ اللہ تعالیٰ گدھے سوار نہیں ہے اور وہ ذات ہے کہ کبھی متغیر و متلون نہیں ہو سکتی، وہ اندھا نہیں۔ غرضیکہ ایسے امور جو اس قسم کے آدمی سے صادر ہوں، اسے استدراج کہتے ہیں (اس کا نام کرامت یا معجزہ رکھنا ہی غلط ہے)۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ مدعیِ نبوتِ کاذب سے بھی ایسے افعال ظاہر ہو جائیں مگر یہ اس

۳۹۷

کے کذب کی دلیل ہوتے ہیں۔ اگرچہ ایسے ہی امورِ خارقِ عادات ایک سچے نبی کے ہاتھ سے بھی ظاہر ہوتے ہیں مگر وہ اس کے صدق کی دلیل ہوتے ہیں۔

لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ جھوٹے سے کوئی ایسا فعل بھی ظاہر ہو سکے جس میں دیکھنے والوں کو نبوتِ صادقہ کا شبہ ہو جائے اور اگر ایسا بھی ہونا ممکن ہوتا تو پھر سچے کو جھوٹے سے پہچاننا مشکل تھا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ایسی صورت میں طالبِ حق کسے سچا سمجھتا اور کسے جھوٹا۔ اس حالت میں حکمِ نبوتِ صادقہ ہی باطل تھا۔

ہاں! یہ روا ہے کہ مدعیِ ولایت سے کرامت کی مثل کوئی ایسی بات ظاہر ہو جائے جو دین میں درست ہو، اگرچہ اس کا عمل اچھا نہ ہو۔ اس لیے کہ وہ رسول کی صداقت کا ثبوت ہے اور اپنے ربّ کا فضل ظاہر کرتا ہے، نہ یہ کہ وہ اس فعل کو اپنی قوت کی طرف نسبت کرے اور اصلیتِ ایمان میں بلا دلیل راست گو ہو۔ وہ تمام حالات میں اعتقاد کے ساتھ ولایت میں راست گو ہوتا ہے کیونکہ جب اس کا اعتقاد تمام حالات میں ولی کے اعتقاد کی صفت سے ہوتا ہے، تو اگرچہ اس کے عمل اس کے اعتقاد کے موافق نہ ہوں، مگر ترکِ عمل کی وجہ میں دعویٰ ولایت اس سے ضبط نہیں ہوتا۔ جیسے دعویٰ ایمان (کہ وہ بلا عمل بھی درست ہے)۔ اور درحقیقت منصبِ ولایت و کرامت کسبی نہیں۔

تو خلاصہ یہ ہے کہ کسب و عملِ انسان ہدایت کے لیے علت نہیں ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل ہی ہم بتا چکے ہیں کہ اولیاء کرام معصوم نہیں ہوتے اس لیے کہ عصمت شرطِ نبوت ہے نہ کہ شرطِ ولایت۔ مگر اولیاء الٰہی ہر قسم کے آفاتِ معصیت سے محفوظ ضرور ہوتے ہیں۔

اس لیے کہ وجودِ معصیت نفیِ ولایت کی متقضی ہے اور نفیِ ایمان کی مقتضی نہیں اس لیے کہ نفیِ ایمان ردت ہے نہ کہ معصیت۔ یہ حضرت حکیم ترمذی محمد بن علی رضی اللہ عنہ کا مسلک ہے۔

اور اسی پر حضرت جنید بغدادی اور حضرت ابو الحسن نوری اور حضرت حارث محاسبی اور دیگر اہلِ حقائق رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق ہے۔ لیکن جو اربابِ عمل ہیں حضرت سہل بن عبد اللہ تستری اور حضرت ابو سلیمان دارانی اور حضرت ابو حمدون قصار وغیرہ رضی اللہ عنہم اجمعین ان کا

۲۔ کہ جسے انسان اپنے مجاہدہ و ریاضت سے حاصل کر سکے۔ بقول سعدی علیہ الرحمۃ: ایں سعادت بزورِ بازو نیست ۔ تا نہ بخشد خدائے بخشندہ یعنی جب مبدأ فیاض سے افاضہ ولایت و کرامت ہو بلکہ مواہبِ حق سے اس کا تعلق ہے تو ولی ولی ہو سکتا ہے۔

۳۹۸

مسلک ہے کہ شرطِ ولایت مداومتِ اطاعت ہے۔ حتیٰ کہ اگر ولی کے دل پر کسی کبیرہ کا خطرہ بھی گزرتا ہے تو وہ ولایت کے منصب سے معزول ہو جاتا ہے۔

مگر ہم اس سے پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اس امر پر اجماعِ امت ہے کہ بندہ کبیرہ کے ارتکاب سے بھی خارج از ایمان نہیں ہوتا اور کوئی ولایت۔ سے افضل نہیں ہے تو جب درجۂ معرفت جو اصلِ جمیع کرامات ہے، معصیت سے زائل نہیں ہوتا (تو محض ولایت کیونکر زائل ہو سکتی ہے) بلکہ محال ہے کہ جو چیز معرفت سے درجہ میں کمتر ہے وہ معصیت سے زائل ہو اور یہ اختلاف مشائخ کرام میں بہت لمبا ہے۔ اس مقام پر میرا مقصود اس بحث میں کسی کے دعویٰ کا ثبوت دینا نہیں ہے بلکہ میرا مقصد اس مقام پر اس اہم حقیقت کا سمجھانا ہے کہ ولی پر کرامت کس حال میں ظاہر ہوتی ہے۔ صحو میں، سکر میں، غلبہ میں یا تمکین میں۔

صحو اور سکر کی شرح تو ہم حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے بیان میں مفصل کر چکے ہیں۔ مگر حضرت بایزید اور ذوالنون مصری اور محمد بن خفیف اور حسین بن منصور اور یحییٰ بن معاذ رحمہم اللہ اور ایک جماعت کہتی ہے کہ ولی پر اظہارِ کرامت کا بہت سکر ہوتا ہے، اس کے سوا نہیں اور جو بحالتِ صحو ظاہر ہو وہ کرامت نہیں بلکہ ولی کے پردہ میں نبی کا معجزہ ہے۔ ان کے مذہب کے مطابق معجزہ اور کرامت میں بھی فرقِ بیّن ہے کہ کرامتوں کا اظہار ولی کی حالتِ سکر میں ہوتا ہے جب کہ وہ مغلوب الحال ہو اور اس کے لیے دعوت نہیں ہوتی اور نبی پر اظہارِ معجزہ بحالتِ صحو ہوتا ہے تاکہ وہ لوگوں پر اپنی تصدیقِ نبوت میں ظاہر کرے اور قوم کو طلبِ معارضہ کے لیے بلائے۔ صاحبِ معجزہ حکم کی دونوں اطراف پر مختار ہوتا ہے۔

چنانچہ ایک اس کے ظاہر کرنے پر معارضہ چاہتا ہے دوسرا اس کے پوشیدہ کرنے پر۔ پھر ولیوں کے لیے یہ بات نہیں بلکہ وہ کبھی کرامت دکھانا بھی چاہیں تو ممکن ہے نہ دکھا سکیں اور کبھی وہ نہ دکھانا چاہیں اور ظاہر ہو جائے۔ اس لیے کہ ولی دعوت کرنے والا نہیں ہوتا کہ اس کا حال بقاءِ اوصاف سے منسوب ہو بلکہ وہ پوشیدہ ہوتا ہے اور اس کا حال صفت کی فنا سے موصوف ہوتا ہے۔

تو خلاصہ یہ نکلا کہ ایک صاحبِ شرع ہے دوسرا صاحبِ سرّ۔ تو چاہیے کہ کرامت کا اظہار حالِ غیبت و دوحشت کے سوا کسی حال میں ظاہر نہ ہو اور اس کے تمام تصرفات تصرفِ حق کے ساتھ ہوں اور اس کے کسی قسم کے حال میں تمام بول چال تالیفِ حق سے ہو۔ اس لیے کہ صفتِ بشریت کا تحقق یا لاہی کو ہوتا ہے یا ساہی کو یا عام بندگانِ الٰہی کو اور انبیاء کرام لاہی و ساہی نہیں

۱۔ لاہی: لہو و لعب میں رہنے والا۔ ۲۔ ساہی: یادِ خدا میں غفلت کرنے والا۔

۳۹۹

ہوتے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے سوا مطلق عبدِ الٰہی نہیں ہوتے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اولیاء کے سوا (جزم عوام کی طرف خاص صورت کے سوا لاحق بھی نہیں ہوتا) تو اس جگہ اولیاء ہی رہے کہ جب تک ان پر اقامتِ حالِ بشریت ہو وہ باخود ہوتے ہیں اور جب ان پر (تجلیاتِ الٰہی کا انکشاف ہوتا ہے) تو وہ مکاشف ہو کر بحالتِ بیخودی متحیر ہو جاتے ہیں اور الطافِ حق کے حقیقت و منتہیٰ کو نہ پاتے ہوئے دریائے تحیر میں متفرق رہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جس کے اندر اظہارِ کرامت ہوتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ یہی درجۂ تقرب ہے اور یہی وہ مقام اور وقت ہے کہ عارف کی نظر میں حجر و ذہب سب یکساں ہوں۔

علاوہ اس کے کسی حال میں انبیاء کرام کے سوا کسی انسان کو یہ حقیقت نہیں ملتی۔ مگر اس سے جس میں عاریتہً یہ کیفیت پیدا ہو جائے اور یہ کیفیتِ عاریتہ سوائے سکر کے نہیں ہوتی۔ جیسے حضرت حارث بن زید رضی اللہ عنہ ایک روز دنیا سے علیحدہ ہو گئے اور دنیا و عاقبت کے مکاشف بن گئے اور کہنے لگے: عَزَفْتُ نَفْسِیْ عَنِ الدُّنْیَا فَاسْتَوٰی عِنْدِیْ حَجَرُهَا وَذَهَبُهَا وَفِضَّتُهَا وَمَدَرُهَا۔ "میں نے اپنے نفس کو دنیا سے معرض کر لیا تو میرے نزدیک دنیا کا پتھر اور سونا چاندی اور کنکر سب یکساں ہو گئے۔" دوسرے روز آپ کو دیکھا کہ خرما کا کام کر رہے تھے۔ لوگوں نے پوچھا، حارثہ کیا کر رہے ہو؟ فرمایا: روزی تلاش کر رہا ہوں، اس لیے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں، وہ ساعت وہ تھی، یہ ساعت یہ ہے۔

تو مقامِ صحو میں اولیاء کرام کو درجۂ عوام ملتا ہے اور مقامِ سکر میں ان کو درجۂ انبیاء سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ جب اس مقام پر اُتر کر باخود ہوتے ہیں تو اپنے کو عوام کی حیثیت میں جانتے ہیں اور جب بیخود ہو کر اپنے سے مخفی ہو جاتے ہیں تو تجق راجع ہوتے ہیں۔

اور ان کا یہ سکر اتنا مہذب ہوتا ہے کہ اپنے کو سوائے ذاتِ حق کے کسی سے وابستہ نہیں رکھتے اور تمام عالم کو اپنے حق میں مثلِ سونے کے سمجھتے ہیں۔ شبلی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں

ذَهَبٌ اَیْنَمَا ذَهَبْنَا وَدُرٌّ ۔ حَیْثُ دُرْنَا وَفِضَّةٌ فِی الْفَضَاءِ

"جہاں ہم گئے سونا ہی تھا اور جہاں ہم نے دورہ کیا موتی ہی ملے اور میدانوں میں چاندی ہی چاندی تھی۔" میں نے استاذ ابو القاسم قشیری سے سنا۔ فرماتے تھے کہ میں نے ایک بار طائرانی سے پوچھا کہ آپ اپنا ابتدائی حال سنائیں۔ فرمایا: ایک وقت مجھ پر وہ تھا کہ ایک پتھر کی ضرورت پڑی، رودِ خانہ سرخس میں جو پتھر میں نے اُٹھایا وہی جوہر بن گیا۔ میں نے اُسے پھینک دیا۔ یہ اس لیے نہیں کہ ان کی نظر میں جوہر اور پتھر یکساں تھے، بلکہ اس لیے کہ انہیں پتھر کی ضرورت

۴۰۰

تھی، جوہر درکار نہ تھا۔

حضرت خواجہ امام خزری رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے سنا ہے۔ فرماتے تھے کہ میں سرخس میں لڑکوں کی عمر کا تھا اور قرمز کے لیے شہتوت کے درخت کے پتے جھاڑنے کو ایک محلہ میں گیا اور پتے جھاڑ رہا تھا کہ شیخ ابو الفضل بن حسین رحمۃ اللہ علیہ اس کوچے سے گزرے۔ میں درخت پر تھا۔ آپ نے مجھے نہ دیکھا، میں نے ان کی طرف سے کوئی شک نہ کیا بلکہ میں نے اس امر پر یقین کیا کہ وہ ازخود غائب اور بدل بارگاہِ حق میں حاضر ہیں اور اس حال میں خوش ہیں، کہ لیکا یک آپ نے سرِ مبارک اُٹھایا اور فرمایا: الٰہی! ایک سال سے زائد ہو گیا کہ تو نے مجھے ایک وانگ بھی نہ دیا کہ سر کے بال تو درست کرا لیتا، کیا اپنے دوستوں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں! امام خزری فرماتے ہیں کہ اُسی وقت شہتوت کے تمام پتے اور ڈالیاں، تنا اور جڑ سب زَرِّیں ہو گئے۔

آپ نے یہ دیکھ کر فرمایا: تعجب ہے، آپ کی بارگاہ میں کنایہ کرنا یہ بھی موجبِ اعراض ہے۔ مقصود تو میرا یہ تھا کہ کشائشِ قلب کے لیے کوئی نعمت ملے اور یہ ظاہر یہ فرمایا۔ بے شک آپ کے حضور زبان ہلانا ہی جرم ہے۔

حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ آپ نے چار ہزار دینار دجلہ میں پھینک دیئے۔ لوگوں نے کہا: شبلی کیا کر رہے ہو۔ فرمایا پتھروں کو پانی میں ہی رہنا بہتر ہے۔ لوگوں نے کہا کہ حضرت! بجائے اس کے کہ دریا میں پھینکتے لوگوں کو کیوں نہ دے دیئے۔ فرمایا: تم لوگ بھی خوب ہو۔ میں اپنے ربّ سے یہ چاہوں کہ میرے دل سے حجاب اٹھ جائے اور اس حجاب کو اپنے مسلمان بھائیوں پر ڈال دوں۔ یہ شرطِ دیانت نہیں کہ اپنے بھائی کے لیے وہ چیز پسند کروں جو اپنے لیے بدتر جان رہا ہوں اور یہ تمام کیفیت بحالتِ سکر ہوتی ہے۔

اس کی شرح ہم بیان کر چکے ہیں۔ یہاں تو اس کے بیان سے مقصود صرف اثباتِ کرامت ہے۔

پھر حضرت جنید بغدادی اور حضرت ابو العباس سیاری اور حضرت ابو بکر واسطی اور حضرت محمد بن علی ترمذی رضی اللہ عنہم اجمعین اس امر پر متفق ہیں کہ کرامت بحالتِ صحو و تمکین ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ حالتِ سکر میں، اور یہ تمام کے تمام اصحابِ مذہب ہیں۔

اس لیے کہ اولیاءِ الٰہی مدبرانِ ملک اور احوالِ عالم کے خبردار اور تمام عالم کے والی ہوتے ہیں اور نظامِ عالم ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ہر قسم کے حل و عقدان سے وابستہ ہوتے ہیں اور احکامِ

۱۔ بقولے: ہر چہ بر خود نہ پسندی بہ دیگراں مپسند

۴۰۱

عالم میں ان کا تصرف ہوتا ہے۔ بنابریں یہ ضروری ہے کہ ان کی رائے تمام اہلِ الرائے پر فائق ہو اور تمام قلوب کے مقابلے میں مخلوق کے ساتھ ان کا دل شفیق تر ہو کیونکہ یہ لوگ خدا رسیدہ ہوتے ہیں اور ان کی ابتداءِ حال میں تکوین و سکر ہوتا ہے۔

اور جب ان کے حال کا بلوغ ہوتا ہے تو وہی تکوین تمکین کے ساتھ متبدل ہو جاتی ہے اور پھر وہ ولی حقیقتاً ولی ہوتا ہے اور اس کی کرامتیں صحیح ہوتی ہیں۔

اہلِ طریقت میں مشہور ہے کہ اوتاد ہر شب میں تمام جہان کی سیر کرتے ہیں اور اس سیر میں جو جگہ ان کی سیر سے رہ جاتی ہے وہاں لازمی طور پر خلل واقع ہوتا ہے۔ تو وہ اسی وقت قطبِ مدار کو حکم کرتے ہیں تا کہ وہ اپنی توجہ اور ہمت اس طرف مبذول کرے اور وہ خلل و نقصان ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ زائل فرما دے۔

اور جو یہ کہتے ہیں کہ عرفاء کے نزدیک سونا اور پتھر یکساں ہیں، یہ درحقیقت کیفیتِ سکر ہے اور دیدارِ یار میں نقصان اور کمی کے اندر ہوتا ہے اور یہ کوئی بڑا کمال نہیں، بلکہ کمال یہی ہے کہ عارف کی نظر میں سونا سونا ہو اور پتھر پتھر، مگر ان کی آفات پر ان کی نظر ہو اور وہ صاف کہہ سکیں: یَا صَفْرَاءُ یَا بَیْضَاءُ غُرِّیْ غَیْرِیْ غَیْرِیْ لَا بَنِیْ لَا اَمُوْتُ مَعَكُمَا۔ "اے سونے چاندی! میرے سوا کسی اور کو مغرور بنا، میں تیرے ساتھ مغرور نہیں ہو سکتا۔" (جیسا کہ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں مال کی فراوانی ملاحظہ فرما کر کہا تھا) تو جس پر سیم و زر کی آفت منکشف ہے اس کے لیے یہ سیم و زر آفت محل نہیں اور اس سے ان پر حجاب نہیں آتا بلکہ حقیقتاً وہ اسے ترک کرتے ہیں اور اس کا ثواب پاتے ہیں۔

اور جس کی نظر میں زر و کلوخ یکساں ہیں انہیں ترک کرنے سے کیا فائدہ اور ان کی طرف سے حکمِ ترک بھی بیکار ہے۔ تم نے دیکھا نہیں کہ حضرت حارث جب تک صاحبِ سکر رہے فرماتے تھے کہ میرے نزدیک زر و سنگ بکلوخ و دفتر ہ سب یکساں ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ صاحبِ صحو تھے اور آفاتِ فیضِ دنیا دیکھ چکے تھے اور اس کے ترک میں جو ثواب تھا وہ آپ پر روزِ روشن کی طرح عیاں تھا۔ جب دنیا اور مالِ دنیا سے ہاتھ اُٹھایا تو حضور ﷺ نے فرمایا: صدیق! بیوی بچوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو۔ عرض کی: اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کو۔

حضرت ابو بکر وراق ترمذی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے فرمایا کہ اے ابو بکر وراق! ہم تجھے آج ایک جگہ لے جائیں گے۔ میں نے عرض کی کہ حضور کا جہاں حکم ہو میں وہاں چلوں گا۔ چنانچہ حضرت محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ کے

۴۰۲

ساتھ چلا اور تھوڑی دیر چلا تھا کہ ایک جنگل نظر آیا جو بکث اور دشوار گزار تھا اور اس کے اندر ایک زرّیں تخت بچھا ہوا دیکھا اور ایک سبز درخت کے نیچے ایک چشمہ جاری نظر آیا اور ایک بزرگ دیکھے جو اس تخت پر نہایت شاندار لباس میں تشریف فرما تھے۔

جب حضرت محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ اُن کے نزدیک پہنچے تو وہ بزرگ اُٹھے اور آپ کو اس تخت پر بٹھالیا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ ہر طرف سے لوگ آنے لگے۔ حتیٰ کہ چالیس آدمی اس جگہ جمع ہو گئے۔ پھر اُنہوں نے، جو تخت زریں افروز تھے، آسمان کی طرف اشارہ کیا، یکا یک کچھ کھانے کی چیز آ گئی۔ ہم سب نے اُسے کھایا۔ پھر حضرت محمد بن علی ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے کوئی سوال کیا۔ اُنہوں نے بہت تفصیل سے اس کا جواب دیا مگر میں ان کی گفتگو کو بالکل نہ سمجھ سکا۔ اس کے بعد سب نے اجازت لی اور رخصت ہوئے۔ مجھے بھی حکم ہوا کہ تو بھی جا، اب تو نیک اور سعید ہو گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد جب ہم ترمذ سے واپس آئے تو میں نے حضرت محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ حضور وہ کون سا مقام تھا اور وہ تخت پر جو تشریف فرما تھے کون تھے۔ فرمایا وہ مقام "تیہ بنی اسرائیل" تھا اور وہ بزرگ قطبِ مدار تھے۔

میں نے عرض کی حضور اتنی سی مدت میں ترمذ سے بنی اسرائیل کے جنگل میں ہم کیونکر پہنچ گئے۔ فرمایا، ابو بکر تجھے پہنچنے سے کام تھا، پوچھنے سے غرض نہیں ہونی چاہیے۔ یہ علامتِ صحتِ حال کی ہے نہ کہ سکر کی۔

اب ہم اس بحث کو مختصر کرتے ہیں۔ اس لیے کہ اگر ہم اس کی تفصیل کی طرف مشغول ہو گئے تو کتاب طویل ہو جائے گی اور مقصود بیان رہ جائے گا۔

اب ہم بعض دلائل اور کرامات و حکایات بیان کریں گے تاکہ پڑھنے والا متنبہ ہو جائے اور علماء کے لیے ان کے بیان میں قوت دے اور محقق لوگوں کے لیے بہترین تذکرہ ہے اور عوام کو یقین حاصل کرنے میں مدد ملے اور ان کے شبہات رفع ہوں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

کراماتِ اولیاء

یاد رکھو کہ جب کرامتوں کا ثبوت دلیلِ عقلی سے ثابت ہو گیا تو اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دلیلِ نقلی سے بھی اس کا ثبوت واضح ہو جائے اور جو صحیح احادیث میں آیا ہے اور کتاب و سنت سے اس کی صحت ثابت ہے تو اس کا انکار کرنا نص کا انکار کرنا ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی﴾ "تم پر ہم نے بادلوں

۴۰۳

کا سایہ کیا اور تمہارے لیے تم پر من و سلویٰ نازل فرمایا۔" منکروں میں سے کوئی اگر کہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا اور ہم معجزہ کے قائل ہیں، تو ہم کہتے ہیں کراماتِ اولیاء درحقیقت حضور ﷺ کا معجزہ ہے۔ اگر منکرین کہیں کہ یہ کرامتیں غیبت میں ہیں، ہم پر واجب نہیں کہ ہم اسے حضور ﷺ کا معجزہ تسلیم کریں ان کا معجزہ وہی تھا جو ان کے وقت میں تھا۔

ہم کہتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل سے غائب ہوئے اور کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو ان کی غیبت میں جو کچھ ظاہر ہوا وہ سب ان کی ہی طرف منسوب ہے۔ تو زمان اور مکان کی غیبت مساوی ہے۔ تو جب غیبتِ مکان میں یعنی موسیٰ علیہ السلام کے غائب ہونے کے بعد ان کا معجزہ روا ہے تو اس مقام پر صرف غیوبتِ زمانی حضرت محمد ﷺ کی ہے اور اولیاء کرام کا موجود ہونا ان کے زمانہ کی دلیل ہے تو ایسی صورت میں حضور ﷺ کے معجزات کا ظہور پردۂ اولیاء میں کیوں نا روا ہوا۔

دوسرے حضرت آصف بن برخیا کی جو کرامت ہے، وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی موجودگی میں ہے۔ چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے چاہا کہ تختِ بلقیس اس کے آنے سے پہلے آئے اور فرمایا: تم میں کون ہے جو اس تخت کو بلقیس کے آنے سے پہلے ہمارے سامنے پیش کرے۔ تو قرآن کریم میں ارشاد ہے: ﴿قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ﴾ "ایک جن نے عرض کی، میں اس تخت کو آپ کے دربار سے اُٹھنے سے پہلے حاضر کر سکتا ہوں۔" سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: اس سے بھی پہلے وہ پیش کیا جائے۔ تو حضرت آصف بن برخیا نے عرض کی: ﴿اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ﴾ "میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے وہ تخت حاضر کیے دیتا ہوں۔" تو جب سلیمان علیہ السلام نے اس تخت کو اپنے پاس دیکھا تو فرمایا: ﴿هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ﴾ "یہ میرے ربّ کا فضل ہے" اور اس دعوے سے حضرت سلیمان علیہ السلام نے انکار نہ فرمایا بلکہ وہ کرامتِ آصف دیکھ کر خوش ہوئے۔ اور فرمایا: ﴿هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ﴾ اور یہ حقیقت واقعہ ہے کہ تخت کا مُلکِ سبا سے طرفۃ العین میں حاضر کر دینا کسی صورت سے معجزہ سے کم نہ تھا بلکہ یہ کرامت تھی۔ اس لیے کہ آصف بن برخیا ہرگز پیغمبر نہ تھے اور معجزہ پیغمبر کے سوا جائز نہیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ یہ معجزہ نہ تھا بلکہ کرامت تھی۔ اگر معجزہ ہوتا تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے دستِ حق پرست سے اس کا مظاہرہ ہوتا۔

۴۰۴

دوسرے ہمیں قرآن کریم نے قصۂ مریم علیہا السلام میں خبر دی ہے کہ جب زکریا علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے پاس تشریف لائے تو ان کے پاس تیز گرمی کے موسم میں، سردی کے موسم کے میوے دیکھے اور تیز سردی میں گرمی کے، حتیٰ کہ آپ نے ان سے دریافت فرمایا: ﴿اَنّٰی لَكِ هٰذَا﴾ "اے مریم! یہ میوے تمہارے پاس کہاں سے آتے ہیں۔" حضرت مریم علیہا السلام نے جواب میں عرض کی: ﴿قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ﴾ "کہا یہ سب میرے ربّ کی طرف سے آتے ہیں۔" حالانکہ یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام پیغمبر نہ تھیں اور حضرتِ جلت مجدہٗ عزّ اسمہٗ نے ہم کو غیر مبہم الفاظ میں دوسری جگہ خبر دی اور ان کے حالات سے مطلع فرمایا۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ﴿وَهُزِّیْٓ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا﴾ "اے مریم! اپنی طرف سے اس خرمہ کے درخت کی ڈالی ہلاؤ یہ تمہیں تازہ خرمہ گرائے گا۔"

علاوہ ازیں قصۂ اصحابِ کہف میں اس کتے کا اصحابِ کہف کے ساتھ مکالمہ کرنا اور ان کا اس غار میں ایک مدت مدید تک سونا۔ پھر بحالتِ خواب ان کا کروٹیں بدلنا اور دائیں بائیں پلٹنا۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ ۖ وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ﴾ "اور ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ پر بدلتے ہیں اور ان کا کتا اپنے بازو پھیلائے غار کے دہانہ پر ہے۔" یہ تمام باتیں خارقِ عادات امور میں سے ہیں۔

اور یہ نا قابلِ انکار حقیقت ہے کہ یہ معجزہ نہیں تو لازمی طور پر ماننا پڑے گا کہ یہ کرامت ہے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کرامت بمعنی استجابتِ دعوات ہو کہ شے موہوم و معدوم اس کے ذریعہ حاصل ہوتی اور ایسی شان سے کہ بعد مسافت سے ساعتوں میں تخت آ گیا اور کیا ہوا۔ غیر مقرر مقام پر اچانک کسی چیز کا آ جانا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو انسان کے وہم و گمان سے بالا تر ہیں اور اسی کے موافق مضامین احادیثِ صحیحہ میں حضور ﷺ سے وارد ہیں۔ چنانچہ حدیثِ الغار کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے کہ ایک دن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بارگاہِ رسالت میں عرض پیرا ہوئے کہ حضور! ہمیں عجائباتِ امم ماضیہ کا کچھ فرمائیں۔

۱۔ چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا: تم سے قبل تین آدمی کہیں جا رہے تھے۔ جب شام ہو گئی تو شب باشی کی غرض سے کسی غار کی تلاش کی اور رات وہاں سو گئے۔ کچھ رات گزری تھی کہ اچانک ایک بھاری پتھر اس غار کے منہ پر لڑھک آیا اور اس سے غار کا منہ بند ہو گیا۔ یہ تینوں سخت پریشان

۴۰۵

ہوئے۔ ایک دوسرے سے کہنے لگے، اب یہاں سے ہمیں کوئی چیز ایسی نہیں جو نجات دلا سکے، سوا اس کے کہ اپنی عمر کے کسی نیک کام کو اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کر کے اسے نجات کا ذریعہ بنایا جائے۔

ایک ان میں سے بولا: میرے ماں باپ تھے اور میں مال و منالِ دنیاوی سے کچھ نہیں رکھتا تھا بجز ایک بکری کے، تو میں ہمیشہ اُس بکری کا دودھ انہیں پلا دیتا تھا اور لکڑیوں کا گٹھا جو جنگل سے لاتا اُسے فروخت کر کے اس کی قیمت سے سب کی پرورش کرتا۔ ایک روز مجھے دیر ہو گئی۔ جب میں آیا تو میں نے بکری کا دودھ نکال کر اس میں روٹی بھگوئی اور ان کے سونے کی جگہ آ کر ان کے پیروں کے پاس وہ پیالہ لیے کھڑا رہا اور خود بھی کچھ نہ کھایا کہ جب تک انہیں نہ کھلاؤں میں کیسے کھاؤں۔ ان کے بیدار ہونے کا انتظار کرتے کرتے صبح ہو گئی۔ جب وہ بیدار ہوئے اور کھانا کھا لیا تو میں بیٹھا۔ تو میں عرض کرتا ہوں الٰہی! اگر میں اس خدمت میں سچا ہوں تو مجھ پر کشادگی فرما اور میری فریاد رسی کر۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ پتھر اس توسل کی برکت سے ہلا اور کچھ کشادگی ہو گئی۔

دوسرا کہنے لگا: میرے چچا کی لڑکی حسین جمیلہ تھی جس پر میں فریفتہ تھا۔ میں اسے اپنی طرف بلاتا تو وہ رجوع نہ ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ میں نے اسے ایک سو بیس دینار بھیجے کہ وہ ایک شب میرے ساتھ خلوت کرے۔ جب وہ میرے پاس آ گئی تو میرے دل میں خوفِ خدا پیدا ہوا اور میں نے اس سے پرہیز رکھا اور وہ سنہری دینار بھی اُسے دے دیئے۔ یہ کہہ کر اس نے بارگاہِ متعال میں عرض کی: الٰہی! اگر میں اس بات میں سچا ہوں تو مجھے اس پتھر سے فراخی عطا کر۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ پتھر یک لخت ہلا اور غار پہلے سے کچھ زیادہ فراخ ہو گیا مگر ابھی اتنا فراخ نہیں ہوا تھا کہ آسانی سے باہر نکل سکیں۔

تیسرا بولا کہ میرے پاس مزدور کام کرتے تھے۔ دن گزرنے پر سب اپنی اپنی مزدوریاں لے جاتے تھے۔ ایک دن ایک مزدور غائب ہو گیا اور اس کی مزدوری میرے پاس رہ گئی۔ میں نے اس سے گوسپند خرید لیا۔ دوسرے سال وہ دو گوسپند ہو گئے۔ پھر وہ تیسرے سال چار ہو گئے۔ اسی طرح ہر سال بڑھتے رہے۔ جب چند سال گزر گئے تو یہ ایک مالِ عظیم بن گیا کہ وہ مزدور بھی آ گیا اور اس نے مجھ سے کہا میں نے آپ کی مزدوری کی تھی، شاید آپ کو بھی یاد ہو، اب مجھے اس کی ضرورت ہے مجھے دے دو۔ میں نے کہا جاؤ وہ تمام گوسپند اور مال ملکِ تیرا ہی ہے، تو لے لے۔ تو مزدور کہنے لگا: کیا آپ کو ناگوار گزرا۔ میں نے کہا نہیں درحقیقت وہ سب مال تیرا ہے، میں سچ کہہ

۴۰۶

رہا ہوں۔ چنانچہ وہ سب مال میں نے اُسے دے دیا۔ الٰہی! اگر میرا یہ بیان صحیح ہے تو مجھے اس بلا سے نجات دے۔ حضور ﷺ نے فرمایا وہ پتھر دورِ غار سے ہلا اور نیچے گر گیا اور یہ تینوں آدمی وہاں سے باہر آ گئے۔

یہ حال بھی ناقص عادت تھا۔ (اور اسے بھی کرامت کہا جائے گا)

۲۔ اور حضور ﷺ سے ایک حدیث جریج راہب کی ہے جس کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: طفولیت کے ایامِ رضاعت میں اپنے گہوارہ میں کسی نے بات نہ کی مگر تین آدمیوں نے

ایک عیسیٰ علیہ السلام نے جس کا تمہیں علم ہے۔ ﴿قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ۖ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا وَّجَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا﴾

دوسرا بنی اسرائیل کا ایک راہب جس کا نام جریج مجتہد تھا۔ اس کی والدہ ایک گہوارہ رکھتی تھی۔ ایک دن اپنے بیٹے کو دیکھنے آئی۔ جریج اپنے صومعہ میں مصروفِ نماز تھے، دروازہ نہ کھولا، دوسرے روز پھر ایسا ہی ہوا، تیسرے روز آئیں، اس دن بھی صومعہ نہ کھولا۔ چوتھے روز بھی اسی طرح آئیں اور دروازہ نہ کھولا۔ تو ان کی والدہ نے تنگ آ کر کہا: الٰہی! اسے رسوا کر، میرا بیٹا ہو کر میرے حقِ مادریت کی بھی پرواہ نہیں کرتا، یعنی میرے حق کے معاملہ میں اس کی گرفت کر۔ اس زمانہ میں ایک بدچلن عورت تھی، اس نے کسی گروہ سے وعدہ کیا کہ میں جریج کو گمراہ کر دوں گی۔ چنانچہ وہ صومعہ یعنی عبادت خانہ جریج میں داخل ہوئی مگر جریج نے اس کی طرف اصلاً التفات نہ کیا۔

اس نے کسی چرواہے کے ساتھ حرام فعل کرایا اور حاملہ ہو گئی۔ جب بیٹا ہوا تو اس نے کہہ دیا کہ یہ بچہ جریج کا ہے۔ لوگوں نے جریج کی طرف انبوہِ کثیرہ کے ساتھ دھاوا بول دیا حتیٰ کہ انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر دیا۔ جب پیشی ہوئی تو جریج نے اس کے گود کے بچے سے فرمایا: اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ وہ شیر خوار مہد مادر میں گویا ہوا: "اے جریج میری والدہ تجھ پر جھوٹا اتہام لگا رہی ہے، میرا باپ ایک چرواہا ہے۔"

تیسرا مہد مادر میں بولنے والا ایک عورت کا شیر خوار بچہ ہے، جس کا یہ واقعہ ہے کہ: ایک عورت اپنی گود میں بچہ لیے اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھی تھی کہ ایک سوار حسین و جمیل جوان اور خوش پوشاک ادھر سے گزرا۔ عورت کہنے لگی: الٰہی! میرے اس بچے کو اس سوار جیسا رعنا کر دے۔ تو بچہ ماں کی گود سے کہنے لگا: الٰہی! مجھے اس سوار جیسا نہ کر۔ جب ایک مدت گزر گئی

۴۰۷

تو ایک عورت بدنام اُدھر سے گزری۔ عورت کہنے لگی: الٰہی! میرے بچے کو اس عورت جیسا بدنام نہ کرنا۔ تو بچہ کہنے لگا: الٰہی! مجھے مثلِ اس عورت کے کر دے۔

بچہ کی ماں متعجب ہوئی اور کہنے لگی اس بچے نے ایسی دعا کیوں کی۔ بچہ کہنے لگا: یہ دعا میں نے اس لیے کی کہ وہ سوار ظالم و جابر لوگوں میں سے تھا اور یہ عورت نہایت نیک خصلت ہے مگر لوگ اسے بُرا کہتے ہیں اور عوام جانتے نہیں، میں نہیں چاہتا کہ میں ظالم و جابر بنوں۔

۳۔ ایک حدیث زائدہ کنیز کی امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے کہ ایک روز حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور سلام عرض کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے زائدہ میرے پاس دیر سے کیوں آتی ہے۔ میں تجھے محبت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ زائدہ نے عرض کیا: حضور آج میں ایک عجیب و غریب بات لے کر حاضر ہوئی ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: وہ کیا ہے۔ عرض کیا: حضور! میں نے ایک لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر ایک پتھر پر رکھا کہ اسے اٹھاؤں کہ ایک سوار دیکھا جو آسمان سے زمین پر آیا اور مجھے سلام کر کے کہنے لگا: محمد ﷺ کی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا اور عرض کرنا کہ رضوان خازنِ بہشت نے عرض کیا ہے کہ حضور کو بشارت ہو کہ بہشت بریں آپ کی امت کے لیے تین طرح تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک تو اس گروہ کے لیے ہے جو بلا حساب و کتاب جنت میں داخل ہوگا۔ دوسرا حصہ اس گروہ کا ہے جو آسان حساب و کتاب سے جنت میں داخل ہوگا۔ تیسرا گروہ وہ ہے جو حضور کی شفاعت سے داخلِ جنت ہوگا۔ یہ کہا اور آسمان کی طرف چلا گیا۔

مجھ سے یہ گفتگو اس نے میان زمین و آسمان معلق رہ کر کی۔ پھر اس نے مجھے اس حال میں پایا کہ وہ گٹھا پتھر سے نہ اٹھا سکی تو اس سوار نے آواز دی: زائدہ گٹھا کو پتھر پر چھوڑ دے اور پتھر کو کہا: اے پتھر یہ گٹھا حضرت عمر تک لے جا۔ پتھر نے وہ گٹھا لیا اور میرے ساتھ آ کر درِ خانۂ عمر تک پہنچا گیا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے قیام فرمایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ خانۂ عمر رضی اللہ عنہ پر تشریف لائے اور اس پتھر کے آنے کا اثر راہ میں ملاحظہ فرمایا اور اس پتھر کو بھی دیکھا اور فرمایا الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دنیا سے باہر نہ فرمایا (اگر ایسا ہوتا اور دنیا سے الگ ہوتے تو) رضوان میری امت کو بشارت نہ دیتا اور اللہ تعالیٰ میری امت سے کسی کو درجۂ مریم تک نہ پہنچاتا (مگر چونکہ ہم بھی تمہاری دنیا میں ہیں اور امت بھی اس لیے یہ عجائب و غرائب مشاہدہ میں ہے)۔

۴۰۸

گویا حضرت زائدہ کنیزۂ فاروق کو مثلِ مریم علیہا السلام یہ مشاہدہ ہو گیا۔

۴۔ مشہور ہے کہ حضور سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے علاء بن الحضرمی کو کسی غزوہ میں بھیجا۔ راستہ میں دریا کا کچھ حصہ پڑتا تھا۔ آپ جب وہاں پہنچے تو سطحِ آب پر قدم رکھ کر پار ہو گئے اور آپ کا پائے مبارک بھی تر نہ ہوا۔

۵۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ تشریف لے جا رہے تھے کہ جنگل میں آپ نے دیکھا کہ ایک گروہ رُکا کھڑا ہے اور شیر نے اُن کا راستہ روک رکھا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر فرمایا: او کتے! اگر تو بحکمِ الٰہی راستہ روک کھڑا ہے تو کھڑا رہ ورنہ ہٹ جا اور ہمیں راستہ دے تا کہ ہم گزر سکیں۔ وہ شیر دم ہلانے لگا اور راہ سے ہٹ گیا۔

۶۔ حضرت قطب الانبیاء سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ایک روایت مشہور ہے کہ آپ نے ایک آدمی کو ہوا پر بیٹھا ہوا دیکھا۔ فرمایا: اے خدا کے بندے یہ درجہ تو نے کیسے پایا۔ اس نے عرض کیا: تھوڑی بات سے۔ آپ نے فرمایا: وہ کیا بات تھی۔ عرض کیا: حضور! دنیا سے تنفر اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا اتباع۔ پھر مجھ سے کہا: آپ کیا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: میں بھی ہوا میں ٹھہرنے لگوں تا کہ میرا دل جہان سے آزاد ہو جائے۔

۷۔ جب ایک جوان مردِ مدینہ آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت حاضر ہونے کا ارادہ کیا۔ تو بتایا گیا کہ آپ اس خراب خانہ سے اپنی جان کو بے خبر کیے ہوئے ہیں۔ وہ چلا اور حضرت امیر المومنین سے ملا، دیکھا کہ آپ سو رہے ہیں زمین پر اور اپنا درہ سر کے نیچے رکھے ہوئے ہیں تو اس نے اپنے دل سے بات کی اور کہا اے عجمی! یہ تمام فتنہ اس جہان میں اس شخص سے ہی ہے، اب اس کا قتل میرے نزدیک آسان ہے۔ یہ سوچ کر اس نے تلوار سونتی کہ اچانک دو شیر ظاہر ہوئے جو اس جوان کی طرف جھپٹ رہے تھے۔ جوان یہ دیکھ کر پکارا اور فریاد کرنے لگا کہ حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ بیدار ہو گئے۔ آپ نے اس سے حال دریافت کیا۔ اس نے سب سرگزشت سنائی اور شرفِ اسلام سے مشرف ہو گیا۔

۸۔ روایت ہے کہ عہدِ خلافتِ صدیقی میں جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سوادِ عراق میں تھے تو بادشاہ کی طرف سے ایک پہلوان جو تحفے لے کر آیا اس میں ایک شیشی بھی تھی جس میں سخت زہر تھا اور کہا کہ اس سے زیادہ قیمتی چیز اس بادشاہ کے خزانے میں نہیں۔ حضرت خالد نے وہ شیشی کھولی اور کفِ دست پر اس میں سے ڈالا اور بسم اللہ پڑھ کر منہ میں ڈال لیا۔ آپ کو اس سے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا۔ لوگ متحیر ہو گئے اور اکثر راہِ راست پر آ گئے۔

۴۰۹

۹۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبادانِ خاص میں سے ایک سیاہ فام جنگل میں رہتے تھے۔ ایک دن آپ نے ان کے لیے کچھ بازار سے خریدا اور ان کے پاس لے گئے۔ انہوں نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ فرماتے ہیں: میں نے کہا: حضرت! کچھ کھانا ہے، آپ کے لیے جنگل لایا ہوں کہ شاید آپ کو ضرورت ہو۔ تو وہ میری طرف اشارہ کر کے ہنسے۔ میں نے دیکھا کہ جنگل کے پتھر روڑے سب سونے کے ہیں۔ میں شرمندہ ہوا اور جو کچھ لے گیا تھا وہ سب وہیں چھوڑ کر ان کی ہیبت سے بھاگا۔

۱۰۔ حضرت ابراہیم ادھم فرماتے ہیں کہ میں ایک چرواہے کے پاس سے گزرا۔ میں نے اس سے پانی مانگا۔ اس نے مجھ سے کہا یہاں تو دودھ ہے اور پانی کہاں سے چاہتا ہے۔ میں نے کہا مجھے پانی چاہیے۔ تو وہ چرواہا اُٹھا اور اپنی لکڑی ایک پتھر پر ماری تو پانی کا چشمہ بہہ نکلا۔ میں یہ دیکھ کر متحیر ہو گیا تو وہ مجھ سے کہنے لگا تعجب نہ کر، جب بندہ اپنے ربّ کا مطیع فرمان ہو جاتا ہے تو عالم اس کا مطیع ہو جاتا ہے۔

۱۱۔ حضرت ابو درداء اور سلیمان پارسی رضی اللہ عنہما آپس میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ پیالہ سے تسبیح کی آواز آنے لگی۔

۱۲۔ حضرت ابو سعید خراز رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ تین روز میں ایک وقت میں کھانا کھاتا تھا۔ ایک دن میں جنگل میں جا رہا تھا مجھے ضعف محسوس ہوا اور کھانا نہ ملا۔ طبیعت نے حسبِ عادت کھانا مانگا۔ میں ایک جگہ بیٹھ گیا۔ غیب سے آواز آئی کہ اے ابو سعید! نفس کو آرام دینے کو کھانا چاہتا ہے یا کھانے سے اپنی جسمانی سستی کو دور کرنا چاہتا ہے۔ میں نے جواب دیا، الٰہی! میں چلنے پھرنے کی قوت چاہتا ہوں۔ فوراً مجھ میں ایسی قوت آئی کہ بارہ منزل تک میں چلا گیا۔ حالانکہ میں نے کھایا کچھ بھی نہ تھا اور نہ کچھ پیا تھا۔

۱۳۔ مشہور ہے کہ حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ کے گھر کو تستر میں "بیت السباع" کہتے تھے۔ اس لیے کہ اہالیانِ تستر متفقہ طور پر کہتے ہیں کہ سہل بن عبد اللہ کے پاس درندے شیر وغیرہ آتے تھے اور آپ انہیں کھلاتے تھے اور رکھوالی فرماتے تھے با ایں کہ تستر میں کافی آبادی تھی۔

۱۴۔ حضرت ابو القاسم مروزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ابو سعید خراز کے ساتھ جا رہا تھا۔ کنارۂ دریا پر ایک جوان دیکھا کہ گدڑی پہنے ہوئے ایک حجرہ پہاڑ میں بنا کر رہتا تھا۔ حضرت

۴۱۰

ابو سعید نے فرمایا: اس جوان کی پیشانی عیاش معلوم ہوتی ہے اور اس کا عجیب حال ہے کہ جب سے دیکھتا ہوں تو کبھی سمجھتا ہوں کہ شاید یہ رسیدگانِ کمال سے ہے اور کبھی دیکھتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ یہ طالبِ حق ہے۔ آؤ اس سے باتیں کریں۔ چنانچہ خراز اس کے پاس پہنچے اور فرمایا: خدا تک پہنچنے کا کون سا راستہ ہے؟ اس جوان نے جواب دیا: دو راستے ہیں، ایک راہِ عوام ہے اور ایک راہِ خواص۔ اور تم کو راہِ خواص کی کچھ خبر نہیں۔ البتہ راہِ عوام یہ ہے کہ جس پر تو چل رہا ہے اور اسے واصلِ بحق ہونے کی علت جانتا ہے اور حجرہ کو آلۂ حجاب سمجھتا ہے۔

۱۵۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک جماعت کے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر مصر سے جدہ روانہ ہوا۔ ہمارے ساتھ ایک جوان خرقہ پوش بھی سوار ہوا۔ میرے دل میں اس کے پاس بیٹھنے کی خواہش ہوئی مگر اس کی ہیبت سے ہمت نہ پڑتی تھی۔ اس وجہ سے میں اس سے کلام بھی نہ کر سکا اس لیے کہ وہ بڑا بزرگ تھا۔ اس کی ایک ساعت بھی یادِ الٰہی سے غفلت نہ تھی۔ ایک روز کشتی میں لوگوں سے کسی کی تھیلی سے ایک جوہر گم ہو گیا۔ تھیلی والے نے اس جوہر کا الزام اس جوان خرقہ پوش کے سر لگایا اور اس کے ساتھ بدسلوکی کرنے پر آمادہ ہوئے۔ میں نے لوگوں کو روکا اور اس بہانے سے میں ان کے قریب ہو گیا اور گفتگو شروع کی۔ جب میں نے لوگوں کی بدگمانی ان پر ظاہر کی اور بتایا کہ ان کا گمان یہ ہے کہ وہ جوہر تھیلی سے آپ نے لیا ہے، اب فرمائیں کیا کرنا چاہیے۔ یہ سن کر اُس جوان باخدا نے آسمان کی طرف منہ کر کے کچھ فرمایا کہ میں نے دیکھا سمندر کی تمام مچھلیاں سطحِ سمندر پر آ گئیں اور ایک ایک جوہر منہ میں لیے ہوئے تھیں۔ آپ نے ایک جوہر لے کر اس کو دے دیا جس کی تھیلی کا جوہر گم ہوا تھا۔ کشتی کے سب لوگوں نے یہ کمال دیکھ کر آپ کی طرف عقیدت مندی کا مظاہرہ شروع کرنا چاہا۔ انہوں نے اس کشتی سے پاؤں دریا میں ڈال دیا اور سطحِ آب پر چلنے لگا۔ یہ جوہر چرانے والا ملاحوں میں سے ایک تھا۔ اس نے گھبرا کر وہ جوہر دے دیا اور اہالیانِ کشتی شرمندہ ہوئے۔

۱۶۔ حضرت ابراہیم وتی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ابتدائی عمر میں حضرت مسلم مغربی کی زیارت کا ارادہ کیا۔ جب میں ان کی مسجد میں آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ امامت کر رہے ہیں اور الحمد غلط پڑھ رہے ہیں۔ مجھے اس سفر پر ملال ہوا اور میں نے دل میں کہا کہ یہ محنت ضائع ہو گئی۔ رات تو میں رہا۔ صبح بغرضِ غسل میں دریائے فرات کے کنارے پر گیا۔ وہاں دیکھا کہ راہ میں ایک شیر سو رہا ہے۔ میں اُسے دیکھ کر واپس ہوا تو شیر نے میرا تعاقب کیا۔ میں گھبرایا اور پکارنے لگا کہ میں عاجز ہو گیا ہوں، کہ مسلم مغربی اپنے حجرے سے نکلے تو شیر انہیں دیکھ کر دم

۴۱۱

ہلانے لگا۔ آپ نے اس کا کان پکڑا اور فرمایا: اے خدا کے کتے! میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے مہمانوں کو نہ چھیڑا کرو۔ پھر مخاطبہ کرتے ہوئے فرمایا: اے ابو اسحاق! (یہ ابراہیم وتی کی کنیت ہے) تم لوگوں کا ظاہر درست کرنے میں مشغول ہو اس لیے مخلوقاتِ الٰہی سے خوف زدہ ہو اور ہم باطن حالِ مخلوق کی اصلاح کرتے ہیں۔ اس لیے خلقتِ الٰہی ہم سے ڈرتی ہے۔

۱۷۔ ایک روز میرے شیخ رضی اللہ عنہ (یعنی حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مرشد) "بیت الجن" دمشق کا قصد فرما رہے تھے کہ بارش کی وجہ سے اتنی کیچڑ تھی کہ مشکل سے چلا جاتا تھا اور میں چلنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ میں نے اپنے شیخ قدس سرہٗ کو دیکھا کہ ان کے کپڑے اور نعلین مبارک بالکل خشک اور صاف تھے۔ فرمایا: ہاں! جیسے ہم نے اپنی ہمت توکل کی راہ سے اٹھائی ہے اور دل کو وحشت و حرص سے صاف کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کے غل و غش اور کیچڑ سے محفوظ کر لیا ہے۔

اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابی رحمۃ اللہ علیہ) نے ایک وقت جب کہ مجھے مشکل پڑی اور اس کا حل مجھ پر دشوار تھا تو میں نے زیارتِ شیخ ابو القاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ کا ارادہ کر کے طوس جانے کا قصد کیا تو میں نے دیکھا کہ آپ اپنے گھر کی مسجد میں تنہا تشریف فرماہیں اور میرے اس حال کا تذکرہ مسجد کے ستون سے فرما رہے ہیں جس کی وجہ سے میں حاضر ہوا تھا اور میں اپنے معاملے کا اسی گفتگو میں جواب پا رہا تھا۔ میں نے عرض کیا: حضور! یہ گفتگو کس سے فرمائے جار ہے ہیں۔ فرمایا: بیٹا! اس ستون کو اللہ تعالیٰ نے اس گھڑی ناطق کر دیا ہے تا کہ یہ مجھ سے سوال کرے اور فرغانہ سے سلا تک پہنچا دے۔ فرغانہ سے سلا تک وہ سرزمین ہے جس پر ایک ضعیف العمر منصبِ اولاد الاوالارض پر فائز رہتے ہیں۔ انہیں "بابِ عمر" کہتے ہیں اس لیے کہ اس ملک میں باب، درویش اور باخدا کو کہا جاتا ہے۔

اور ان کی ایک بجوزہ بڑھیا ہیں جن کا نام فاطمہ ہے۔ میں نے آذر کند سے اس کی زیارت کا قصد کیا۔ جب میں ان کے پاس گیا تو مجھ سے پوچھا: کیوں آیا ہے؟ میں نے عرض کی: شیخ کی زیارت کو تا کہ ان کی شفقت سے میں بھی فیض یاب ہو سکوں۔ تو انہوں نے فرمایا: بیٹے میں خود فلاں روز سے تجھے دیکھ رہا ہوں تا کہ مجھ پر غائب نہ ہو جائے اور میں تجھے چاہتا ہوں کہ دیکھتا رہوں۔ جب میں نے اس دن سے حساب لگایا تو وہ ابتدائی دن میری توبہ کا تھا۔ فرمایا: بیٹا سفر کرنا اور طے مراحل میں پڑنا بچوں کا کام ہے۔ اس زیارت کے بعد ارادہ کرکہ جسم کے روبرو ہونے میں کچھ تعلق نہیں بڑھتا۔ پھر فرمایا: فاطمہ! جو موجود ہے لاؤ تا کہ یہ درویش کھائے۔ ایک طبق تازہ

۴۱۲

انگور کا لایا گیا۔ حالانکہ وہ موسمِ انگوروں کا نہ تھا اور کچھ چھوہارے بھی لائے گئے حالانکہ فرغانہ میں تازے چھوہارے ملنا ناممکن تھا۔

۱۸۔ ایک بار میں تربت حضرت شیخ ابو سعید رضی اللہ عنہ پر تنہا حاضر تھا کہ ایک کبوتر سفید دیکھا کہ آیا، زیرِ غلاف جا کر غائب ہو گیا۔ میں نے غلاف ہٹا کر دیکھا مگر وہ کبوتر غائب تھا۔ دوسرے روز بھی ایسا ہی دیکھا۔ میں متعجب تھا کہ یہ راز کیا ہے! حتیٰ کہ ایک شبِ خواب میں بھی دیکھا تو میں نے حضرت سے استفسار کیا۔ فرمایا وہ کبوتر ہمارے صفاءِ معاملت ہے ہر روز ہماری قبر میں آتا ہے۔

اگر اس کے علاوہ اور حکایتیں پیش کروں تو بھی سیری نہ ہو اور کتاب پُر ہو جائے اور اثباتِ اصولِ طریقت فروغ میں اور معاملات و مقالات میں ناقلانِ طریقت نے خود کئی کتابیں تصنیف کیں اور جمع کی ہیں اور مبلغین منبروں پر جو نشر کرتے ہیں سب ہی میں جی بھر کر اس کتاب میں لاتا ہوں تا کہ طالبِ معنی کو اور جگہ تلاش کی ضرورت نہ رہے۔

علاوہ اس کے مترجم کشف المحجوب میں یہاں ایک روایت زائد ملی ہے جسے شمس الہند مترجم کشف المحجوب نے نقل کیا ہے۔ وہ بھی ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ روایت سمرقندی کشف المحجوب میں بھی ہے۔

حضرت ابو بکر وراق رحمۃ اللہ علیہ روایت فرماتے ہیں کہ ایک روز محمد بن علی حکیم ترمذی نے اپنی تصانیف سے چند جز مجھے دیئے اور فرمایا: یہ دریائے جیحوں میں ڈال دے۔ جب میں باہر آیا تو میں نے دیکھا وہ جز نہایت عجیب علمی جواہر پارے تھے۔ میرا دل نہ چاہا کہ میں یہ تعمیلِ حکم دریا بُرد کروں۔ میں نے بجائے دریا بُرد کرنے کے وہ جز اپنے پاس محفوظ کر لیے اور واپس آ کر عرض کر دیا کہ حسبِ حکم وہ اجزاء دریا بُرد کر آیا ہوں۔ مجھ سے سوال ہوا کہ جب تو نے وہ جز دریا میں ڈالے تو کیا دیکھا۔ میں نے جواب دیا۔ کچھ نہیں۔ فرمایا: پھر تو نے وہ جز دریا بُرد نہیں کیے۔ میں حیران تھا کہ دریا میں ڈالنے کے بعد کیا نظر آنا تھا جس کی وجہ سے مجھ پر حکم لگا دیا کہ تو نے وہ اجزاء دریا بُرد نہیں کیے۔ آخرش بادلِ نخواستہ میں وہ اجزاء لے کر جیحوں پہنچا اور وہ جزیں دریا میں ڈال دیں۔ اُن اجزاء کا دریا میں ڈالنا تھا کہ دریا پھٹا اور اس سے ایک صندوق برآمد ہوا اور اس کا ڈھکنا کھلا اور اس میں وہ اجزاء داخل ہو گئے، پھر صندوق کا منہ بند ہوا اور وہ دریا میں بہہ گیا اور پانی کی سطح ہموار ہو گئی۔

میں حاضر ہوا اور اطلاع دی کہ وہ اجزاء اب ڈال کر آیا ہوں۔ اس کے بعد جو میں نے دیکھا تھا سب سنا دیا۔ فرمایا: ہاں اب تو نے یقیناً وہ اجزاء دریا بُرد کر دیئے۔ میں نے عرض کی، حضور! اس راز سے مجھے بھی مطلع فرمائیں۔ آپ نے فرمایا ہم نے علمِ

۴۱۳

طریقت پر ایک کتاب لکھی تھی جو عقولِ انسانی کے فہم سے بالا تھی تو میرے بھائی حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا وہ کتاب ہمیں دے دو۔ چنانچہ انہیں کے حکم سے وہ صندوق آیا تھا اور بحکمِ الٰہی وہ اسی راستے سے حضرت خضر علیہ السلام تک پہنچ گیا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ وَ عِلْمُهٗ اَحْكَمُ وَاَتَمُّ۔

انبیاء کی اولیاء پر فضیلت

اچھی طرح یاد رکھو کہ ہر وقت ہر حال میں بالاتفاق جمیع مشائخِ طریقت اولیاء، متابعتِ انبیاء میں ہیں اور ان کی دعوت کے مصداق۔ اور یہ بھی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ انبیاء کا رتبہ اولیاء سے فاضل و افضل ہے۔ اس لیے کہ نہایتِ ولایت ابتداءِ منصبِ نبوت ہے۔ اسی بناء پر ہر نبی کا ولی ہونا لازمی ہے لیکن کوئی ولی نبی نہیں ہو سکتا۔

انبیاءِ کرام علیہم السلام نفیِ صفاتِ بشری کے اندر متمکن ہوتے ہیں اور اولیاء کرام کا ہر حال عارضی ہوتا ہے۔ اولیاء کرام کا جو مقامِ اعلیٰ ہے وہ انبیاء کرام علیہم السلام کا ایک مقامِ حجاب ہے۔ اس تفصیل سے تمام محققینِ طریقت متفق ہیں۔ کسی نے اس کے خلاف نہیں کہا۔ سوائے گروہ حشویہ کے، جو خراسانی ہے۔ ان کا کلام متکلمین کے کلام سے متناقص ہے اصولِ توحید میں، کہ انہوں نے اصلِ توحید کو نہیں سمجھا اور برخود غلط اپنے کو ولی کہلاتے ہیں اور اس میں شک بھی نہیں کہ وہ ولی ہیں مگر ولیِ شیطان۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اولیاء معاذ اللہ انبیاء سے فاضل تر ہیں اور یہ دعویٰ ان کے لیے خالص گمراہ کرنے والا ہے۔ اس لیے کہ ایک جاہل کو فاضل تر جنابِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء سے ماننا ضلالت ہے۔

دوسرا ایک گروہ مشبہ سے ہے۔ وہ بھی ایسے ہی گمراہ راستہ پر ہے۔ وہ حلول و نزولِ حق بمعنی انتقال روا رکھتا ہے اور ذاتِ واحد تعالیٰ شانہٗ کی تجزی روا مانتا ہے اور یہ دونوں گروہ مذہب میں مذموم ہیں۔

ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اس کتاب میں ان کا مفصل حال بیان کریں گے ان شاء اللہ۔ یہ دونوں گروہ مدعیِ اسلام بھی ہیں اور نفیِ تخصیصِ انبیائے کرام بھی کرتے ہیں اور جو نفیِ تخصیصِ انبیاء کرام کا عقیدہ رکھے وہ کافر ہے۔ اس لیے کہ انبیاء کرام صلواۃ اللہ والسلام علیہم داعی الی اللہ ہیں اور اولیاء عظام تمام ان کے تابع ہیں اور یہ محال ہے کہ ماموم امام سے فاضل تر ہو، تمام صفات میں سے کسی صفت میں۔

۴۱۴

اچھی طرح سمجھ لو کہ اگر احوال و انفاس جملہ اولیاء کو انبیاء کے ایک قدمِ صدق کے پہلو میں لایا جائے تو وہ تمام احوال و انفاس اس مقام کے متلاشی نظر آئیں گے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمام اولیائے کرام گروہِ انبیاء کے آستانہ کے طالب ہیں اور یہ راہِ متعین پہ چل رہے ہیں اور اپنا مقصود پا چکے ہیں۔

اب ان کا ہم میں اور اولیاء میں تشریف لانا بحکمِ دعوت ہے کہ قوم کو ہانکیں اور منزل کی طرف چلائیں اور اگر کوئی ملحد ملاحدہ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ سے کہے کہ یہ عادتِ قدیم ہے کہ جو رسول کسی طرف آتا ہے وہ ملک ہی ہوتا ہے تا کہ مبعوث الیہ اس سے فاضل تر ہو۔ جیسے کہ پیغمبرانِ اولو العزم صلواۃ اللہ علیہم اجمعین جبرائیل علیہ السلام سے افضل ہیں، یہ تمام صورتیں مبنی بر خطا ہیں۔

میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی بادشاہ کسی کو پیامبر کر کے بھیجے کسی کی طرف تو اس اصول کے تحت لازم ہوگا کہ مرسل الیہ اس قاصد سے افضل ہو۔ جیسے کہ جبرائیل علیہ السلام کسی رسول کی طرف آئیں تو ہر رسول کا جبرائیل (علیہ السلام) سے افضل ہونا لازم ہے۔ لیکن جب خود رسول من جانبِ اللہ کسی قوم یا جماعت کی طرف مبعوث ہو تو لامحالہ اس قوم سے وہ رسول افضل ترین ہوگا۔ جس طرح کہ پیغمبرانِ اولو العزم امتوں سے افضل ہوتے ہیں اور اس حقیقت میں کسی عقلمند کو بموجبِ احادیثِ صحیحہ کوئی اشکال واقع نہیں ہو سکتا بلکہ نفسِ نفیسِ انبیاء کرام کا تمام عالم سے افضل ہونا مسلّم ہے۔

اولیاء کرام اگرچہ عرف و عادت میں نہایت عرفان کو پہنچے ہوئے ہیں اور اپنے مشاہدات سے خبر دیتے ہیں اور حجابِ بشریت سے خلاصی پا چکے ہیں، لیکن باوجود ان تمام فضائل کے وہ عین بشر ہوتے ہیں اور پھر رسول کو جو اول قدمِ صدق کو مشاہدہ ہوتا ہے، وہ بہ ہدایتِ رسول ولی کا درجۂ نہایت ہوتا ہے۔ اسے پہلے نظریات پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہیں۔

کیا تو نہیں دیکھتا کہ طالبانِ حق از اولیاء اس امر پر متفق ہیں کہ مقامِ جمع تفاریقِ کمالِ ولایت سے ہے اور اس کی صورت اس طرح ہے کہ جب بندہ ایک کسی درجہ کو پہنچتا ہے تو غلبۂ دوستی کی وجہ سے اس کی عقل نظر کرنے سے مغلوب ہو جاتی ہے اور شوقِ فاعلِ حقیقی سے حیرت میں آ کر کہہ دیتا ہے کہ تمام عالم وہی ہے اور وہ اپنی نظرِ باطن سے دیکھتا بھی ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ ابو علی رود باری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لَوْ زَالَتْ عَنَّا رُؤْیَتُهٗ مَا عَبَدْنَاهُ۔ "اگر جمالِ جمیل دیدہ ہم سے زائل ہو جائے تو اسمِ عبودیت ہم سے ساقط ہو جائے اور شرفِ عبادت بغیر دیدارِ یار میسر نہیں۔" اور یہی معنی انبیاء کرام کے ہدایت حال کے ہیں کہ ان کے لیل و نہار تفرقہ صورت نہیں پکڑتے۔ اس لیے کہ ان کی نفی و اثبات اور مسلک و مقطع و اقبال و اعراض و ہدایت و نہایت تمام عینِ جمع میں ہیں۔ جیسے

۴۱۵

کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب آفتاب کو دیکھا فرمایا: ﴿هٰذَا رَبِّیْ﴾ اور چاند ستارے کو دیکھا تو فرمایا: ﴿هٰذَا رَبِّیْ﴾ اس کی وجہ صرف غلبہ تھا، جو اُن کے دل اور ان کی اجماع کے اندر عین صحیح تھا تو وہ اپنی نظر میں کسی کو غیر نہیں دیکھتے تھے۔

جب سب کا ملاحظہ فرمایا تو اپنے عینِ دیدار میں سب سے تبرّی فرما کر کہہ دیا: ﴿لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ﴾ تو ان کی ابتدا جمع کے ساتھ تھی اور انتہا بھی جمع کے ساتھ۔ اس لیے کہ ولایت کے لیے ہدایت و نہایت ہے اور نبوت کے لیے نہیں۔ جب علمِ اللہ میں تھے نبی تھے، جب ظاہر ہوئے نبی ہوئے۔

حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے حال کس طرح ہیں۔ آپ نے فرمایا: معاذ اللہ ہمیں ان کے حال پر کوئی تصرف حاصل نہیں جس کی تصویر ہم تمہیں دکھا سکیں جو ہم ہیں وہ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی نفی و اثبات ایک ایسے درجے میں رکھی ہے کہ چشمِ مخلوق وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔ تو جس طرح مراتبِ اولیاء ادراکِ خلق سے پنہاں ہیں، تمام تر انبیاء تصرف و ادراکِ اولیاء سے نہاں ہیں۔

حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ با آنکہ محبّ روزگار ہیں۔ فرماتے ہیں

اَوَّلُ مَا سِرْتُ اِلَی الْوَحْدَانِیَّةِ فَصِرْتُ طَیْرًا جِسْمُهٗ مِنَ الْاَحَدِیَّةِ وَجَنَاحُهٗ مِنَ الدَّیْمُوْمِیَّةِ فَلَمْ اَزَلْ اَطِیْرُ فِیْ هَوَاءِ التَّنْزِیْهِ ثُمَّ اَشْرَفْتُ عَلٰی مَیْدَانِ الْاَزَلِیَّةِ وَرَاَیْتُ شَجَرَةَ الْاَحَدِیَّةِ فَنَظَرْتُ فَعَلِمْتُ اَنَّ هٰذَا كُلَّهٗ لَیْسَ غَیْرِیْ۔

"میں نے دیکھا کہ میرا سر آسمان پر لے گئے اور کسی چیز پر نگاہ نہ کی اور بہشت و دوزخ اُسے دکھائے تو اُس نے بھی اس کی کسی چیز پر التفات نہ کیا تو مکتومات و حجابات سے اُسے عبور کرا کے دیکھا تو میں ایک پرندِ مرغ ہو گیا۔ جس کا جسم احدیت تھا اور پر و بال دیمومیت سے تھے۔ وہ اُڑتا رہا حتیٰ کہ ہوائے ہویت سے گزر کر تو امیدانِ ازلیت میں پہنچ کر مشرف ہوا۔ وہاں میں نے درخت احدیت کو دیکھا۔ تو جب میں نے اس پر نظر کی تو سب کچھ میں ہی نظر آیا۔"

تو میں نے عرض کی: الٰہی! تو میرے ساتھ ہے مگر مجھے تجھ تک پہنچنے میں کوئی راہ نہیں ملتی

۴۱۶

اور مجھے اپنی خودی سے گزرنا ممکن نہیں تو مجھے کیا کرنا چاہیے۔ فرمانِ الٰہی آیا، کہ اے بایزید! تیری خلاصی تجھی سے ہے۔ تو میرے دوست کی متابعت میں رہ اور اس کے خاکِ قدم کا سرمہ آنکھوں میں ڈال اور اس کی اطاعت پر مداومت کر۔

یہ حکایت بہت طویل ہے۔ اسے اہلِ طریقت "معراجِ بایزید" کہتے ہیں اور معراج سے قربِ خاص مراد لیتے ہیں۔ تو معراجِ النبی الانبیاء ﷺ بطورِ ظہور معہ شخصیت و جسم تھی اور معراجِ اولیاء کرام از روئے صرفِ ہمت اور اسرارِ تن۔ انبیاء علیہم السلام صفا و پاکیزگی سے مقرب بہ بارگاہ تھے مثلِ دلِ اولیاء اور یہ ان کا سرِّ خاص تھا اور فعل ظاہر۔

اسے یوں سمجھو کہ ان کے دل کو حال میں مغلوب کر دیا گیا تا کہ مست ہو جائیں اور درجاتِ سر میں اتنے غائب ہوں کہ قربِ حق میں پہنچ کر آرام کریں اور جب حالتِ صحو میں ہوں تو وہ تمام براہین ان کے دل پر صورت بن کر سامنے ہوں اور وہ علم انہیں حاصل ہو۔ تو ثابت ہوا کہ فرق بہت ہے اس شخص میں جسے وہاں لے جایا جائے کہ اس میں دوسرے کا فکر ساتھ ہوتا ہے۔

وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

انبیاء و اولیاء کی فرشتوں پر فضیلت

اہلسنت و جماعت اور جمہور مشائخِ طریقت کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء کرام اور جو محفوظ ہیں، وہ ملائکہ سے افضل ہیں۔ بخلافِ معتزلہ، کہ یہ ملائکہ کو انبیاء پر فضیلت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملائکہ بلحاظِ رتبہ رفیع تر ہیں اور من حیث التخلیق لطیف تر ہیں اور اطاعتِ الٰہی میں ایسے مطیع کہ لَا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَا اَمَرَهُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۔ ان کی تعریف قرآن کریم میں ہے۔

میں (یعنی حضور داتا صاحب گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ) کہتا ہوں کہ حقیقتاً تمہارا یہ دعویٰ خلافِ حقیقت ہے، اس لیے کہ تنِ مطیعِ مرتبۂ رفیع اور تخلیقِ لطیف یہ سب فضیلت میں حق تعالیٰ کی علت نہیں ہو سکتے۔ درحقیقت فضیلت اسے ہے کہ حق تعالیٰ اس میں رکھے اور اگر انہی علل و اسباب کو ملحوظ رکھ کر فضیلت تسلیم کی جائے تو شیطان لعین کو بھی افضل ماننا پڑے گا حالانکہ وہ بالاتفاق ملعون و معزول ہو چکا ہے۔

تو فضیلت اس کے لیے مختص مانی جائے گی، جسے حق تعالیٰ شانہٗ افضل فرمائے اور مخلوق میں سے برگزیدہ کرے اور ملائکہ پر افضلیتِ انبیاء کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ

۴۱۷

حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ حالِ مسجود عالی ہونا چاہیے حالِ ساجد سے، اور اگر کہیں کہ خانہ کعبہ پتھر اور بے جان مصالحہ کا ہے اور مومن اس سے فاضل تر ہوتا ہے تو اُسے سجدہ نہیں کرنا چاہیے مگر انسان اسے سجدہ کرتا ہے۔ تو اسی طرح روا ہو سکتا ہے کہ ملائکہ افضل بھی ہوں اور سجدہ بھی کر لیں۔

میں کہتا ہوں کہ دنیا میں کوئی یہ نہیں کہے گا کہ میں خانہ کعبہ کو یا محراب یا دیوار کو سجدہ کرتا ہوں مگر یہ سب ضرور کہیں گے کہ سجدہ ہمارا اللہ تعالیٰ کو ہے (اور سمتِ کعبۃ اللہ ہے)۔ تو اسی طرح سب یہی کہتے ہیں کہ ملائکہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جو سجدہ کیا وہ بہ امتثالِ امرِ الٰہی کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: ﴿اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ﴾ "یعنی ہم نے ملائکہ کو حکم دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو"، مگر ذکرِ مومنین کیا تو فرمایا: ﴿وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ﴾ "یعنی سجدہ کرو اللہ تعالیٰ کو اور اسی کی بندگی کرو۔" تو خانہ کعبہ مثلِ آدم تھا۔ تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسافر گھوڑے پر سوار ہو کر اللہ تعالیٰ کی پرستش کر سکتا ہے، اگرچہ اس کا منہ کعبۃ اللہ کی طرف نہ ہو تو وہ معذور ہوگا اور اگر دلائلِ سمتِ قبلہ جنگل بیابان میں گم ہو جائیں تو جدھر منہ کر کے عبادت کرے، کر سکتا ہے اور ملائکہ کو سجدہ کرنے میں آدم علیہ السلام کی طرف کوئی عذر نہ تھا اور وہ ابلیس جب اپنی طرف سے عذر رکھ کر سجدہ سے منحرف ہو گیا تو ملعون و رذیل ہو گیا۔ یہ دلائل واضح ہیں کہ انہیں جن کو بصیرت تھی اور انہیں جو ملکِ مقرب تھے، دونوں کس طرح حقِ معرفت میں برابر رہ سکتے ہیں۔

اس لیے کہ انہیں عام مخلوق کی سی شہوت نہیں تھی اور وہ اپنے دل میں حرص و آفت نہیں رکھتے تھے۔ ان کی غذا اطاعتِ حق تعالیٰ، ان کا مشرب امتثالِ امرِ الٰہی۔ اور ہر آدم کے خمیر میں من حیث الانسان شہوت کا مرکب ہونا ضروری اور اس سے ارتکابِ گناہ ممکن اور خواہشِ دنیا و حرص اس کی طبیعت کا جز۔ پھر شیطان کو اس کے وجود میں اس قدر تصرف حاصل ہے کہ اس کے تمام دنیائے جسم میں خون کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ اس کے ساتھ وہ نفسِ امارہ، جو تمام شرارتوں کا داعی ہے اس کے وجود میں مضمر ہے۔

تو غور کرو! جس کے وجود میں یہ سہ صفتیں موجود ہوں اور وہ باوجود احکامِ غلبۂ شہوت، ہر فسق و فجور سے اجتناب کرے اور باوجود حرص و ہوا کے دنیا سے انحراف کرے اور باوجود کہ اس کے

۴۱۸

دل میں وساوسِ شیطان ہر آن پیدا ہوں، گناہ سے بچے اور آفتِ نفسانی سے اعراض رکھے اور عبادت پر قائم اور اطاعت پر دائم رہ کر مجاہدۂ نفس کرے اور شیطان سے مجادلہ میں مشغول ہو، وہ بہر حال افضل ہوگا، اس سے جس کے وجود میں شہوانیات نہ ہوں۔ جس کی طبیعت میں نہ لذات و شہواتِ غذا ہوں، جو عورت اور اولاد سے بے تعلق ہو، آلہ اور سبب کا محتاج نہ ہو، نہ حرص و آفاتِ نفس میں مبتلا ہو۔ مجھے اپنی جان کی قسم! کہ مجھے تعجب ہے کہ اُن پر جو فضیلتِ افعال میں دیکھتا ہے یا جمال و مال میں عزت و بزرگی جانتا ہے۔ اسے چاہیے کہ مالکِ اعیان کے فضل و انفضال کو دیکھے۔ پھر اُسے ظاہر ہو باہر ہو جائے گا اور وہ سمجھ لے گا کہ رضائے حق میں عزت ہے اور معرفتِ ایمان میں بزرگی ہے۔ پھر اس پر یہ نعمتِ الٰہی دوام رہے گی اور دونوں جہان میں اس کا دل خوش رہے گا اور وہ سمجھ لے گا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام جو کوئی ہزار سال سے انتظارِ خلعت میں عبادت کر رہا تھا، وہ صرف غاشیہ برداری جنابِ مصطفیٰ ﷺ چاہتا تھا، تا کہ لیلۃ المعراج میں حضور ﷺ کے براق کی باگ تھامے۔ وہ کس طرح افضل ہو سکتا ہے اس سے جو دنیا میں نفس کو ریاضت سے مغلوب کر چکا ہو۔ شب و روز مجاہدہ کر کے فضلِ الٰہی کے ساتھ دیدارِ حق سے مشرف ہوا ہو اور تمام خطرات سے سلامت رہا ہو، اگرچہ ملائکہ نے جب اپنی ذات میں صفا و نور دیکھا تو انہوں نے اپنی فضیلت کی دلیل دی اور مخلوقِ انسان پر زبانِ ملامت دراز کی۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا حال ظاہر فرمانے کو انہیں حکم دیا۔ تم میں سے تین فرشتے جو سب سے زیادہ تمہاری نظر میں بزرگ ہوں، انہیں پیش کرو تا کہ وہ زمین پر جائیں اور زمین کے خلیفہ بنیں، ہماری مخلوق کی اصلاح کریں اور ان میں اپنے عدل و انصاف کا سکہ بٹھائیں۔ غرضیکہ تین منتخب ہوئے۔ ایک تو زمین پر اُترنے سے پہلے ہی فسادِ نفس کا شکار ہو گیا، اسے تو واپس کیا گیا۔ دو جور ہے، وہ زمین پر آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خلقتِ ملکی بدل کرانہیں جبلتِ انسانی دی، جس سے وہ خور و نوش کی طرف مائل ہوئے، رگِ شہوانی نے بھی انہیں خراب کیا۔

مختصر یہ کہ جو ہُوا وہ ہُوا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں شہوانیات کے بدلے سزا دی۔ اس سے ملائکہ پر انسانی فضیلت کا مظاہرہ فرمایا۔ غرض کہ خاص مومن، خاص فرشتوں پر فضیلت رکھتا ہے اور

۴۱۹

عام مومن، عام ملائکہ سے افضل ہے۔ تو جو انسان معصیت شعاری سے اجتناب کرے اور ارتکابِ منہیات سے بچار ہے، وہ جبرائیل و میکائیل سے افضل ہے اور جو معصوم تو نہیں مگر گناہ سے بچنے میں کوشاں رہے وہ کراماً کاتبین اور حفظہ سے افضل ہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔

غرض کہ اس بحث میں بہت سے کلام ہیں اور ہر ایک شیخِ محقق نے علیحدہ علیحدہ بیان دیئے ہیں، بہر حال جسے اللہ تعالیٰ چاہے فضیلت دے۔ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ

یہ نیک مذہب حکماء نے تصوف سے متعلق جو کہا ہے اور صوفیوں نے اس سے جو اختلاف کیا ہے، وہ مختصراً بیان کر دیا گیا اور حقیقت تو یہ ہے کہ ولایت اسرارِ الٰہی سے ایک سرّ ہے، اس پر چلنے کے بغیر کچھ ظاہر نہیں ہوتا۔ اور "ولی را ولی می شناسد" اسی لیے کہا گیا۔ اس لیے کہ اسرارِ اولیاء کا اظہار اگر عقولِ انسانی پر روا ہوتا تو دوست اور دشمن، واصل و غافل میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتی۔ بنابریں مشیتِ الٰہی کا مقتضیٰ ہی یہ ہے کہ اس کوچہ میں آنے والا دوستی کے جو ہرِ جان "کربلا" کے دریا میں غوطہ زنی کرے اور طلبِ حق میں اپنی عزیز جان دینے سے بھی خائف نہ ہو۔

اس جان ستاں بحرِ عمیق میں غوطہ لگا کر اس کی تہہ میں پہنچ کر (عروج و نزول کے نشیب فراز دیکھ کر) جب واپس ہو تو بامراد واپس ہو یا جان سپرد جانا ں کر کے جان سے گزر جائے۔

میں چاہتا ہوں کہ اس بحث کو طول نہ دوں، اس لیے کہ مجھے اس کتاب کے پڑھنے والے کی علالتِ طبع اور سیری کے بعد عدم تو جہی کا خطرہ ہے۔ یوں میرا قلم رک گیا ہے اور یہ بھی بات ہے کہ مریدِ صادق کے لیے طریقت میں اتنا ہی کافی ہے۔

اور خرازیوں کے طبقہ کو حضرت ابو سعید خراز کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ ان کی اس طریقت میں بہت تصانیف ہیں۔ وہ مجرد ہونے اور خلقت سے علیحدہ رہنے میں بہت دسترس رکھتے ہیں۔ انہوں نے فنا و بقا کے تمام طریقہ کو صرف دو عبارتوں میں مخفی کیا ہے۔ لہٰذا اب ہم ان عبارتوں کے صحیح معنی اور اس گروہ کی غلطیاں اب اس باب میں لاتے ہیں تا کہ سائل سمجھ سکے کہ ان کا مذہب کیا ہے اور ان عبارات متداولہ سے اس گروہ کا کیا مقصود ہے۔

۱۔ اور بقولِ اقبال: بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی کے مطابق اس جان ستان بحرِ عشق سے گزر جانے تک۔

۴۲۰

فنا و بقا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ﴾ "یعنی جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ کم ہوتا جائے گا اور جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔" اور دوسری جگہ فرمایا: ﴿كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ ۚ وَیَبْقٰی وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ﴾ "جو کچھ زمین پر ہے وہ سب کچھ فنا ہونے والا ہے اور تیرے ربّ کی ذات باقی رہے گی جو صاحبِ جلال و اکرام ہے۔"

اب یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ از روئے علم، فنا و بقا کسے کہتے ہیں اور اربابِ حال کی زبان میں اس کے کیا معنی ہیں۔ اور ظاہر یہ ہے کہ اربابِ ظواہر اس لغت کی کسی عبارت سے اتنے متحیر نہیں جتنے اس گروہ کے لوگ تحیر میں ہیں۔ بقا از روئے لغت تین قسم پر ہے: ایک وہ کہ ایک طرف بقا ہو تو اس کے دوسری طرف فنا ہو اور اس کی پہلی طرف بھی درحقیقت فنا ہو۔ جیسے یہ جہان کہ اس کی ابتداء کتمِ عدم میں تھی اور انتہا بھی منصۂ شہود پر آنے کے بعد عدم ہی ہے، اس کے مابین اس وقت باقی ہے۔

دوسری قسم یہ کہ بقا درحقیقت اوّل نہ ہو اور جو ہو وہ فانی نہ ہو۔ جیسے جنت، دوزخ اور جہانِ عقبیٰ اور یہ جہان۔ تیسری قسم وہ بقا ہے جو حق ہے۔ جیسے بقائے حق تعالیٰ اور اس کی صفات لم یزل ولایزال کہ وہ بھی اس کی ذات کے ساتھ قدیم ہیں۔ اس بقا سے مراد دوام اور ابدیت وجود ہے اور اس میں کسی کو اس کے ساتھ مشارکت نہیں، تو وہ علمِ فنا ہے جسے تو دیکھ رہا ہے کہ وہ فانی ہے اور علمِ بقا وہ ہے کہ جو عقبیٰ میں ہے کہ وہ باقی ہے۔ جیسے ذاتِ حق تعالیٰ شانہٗ اور ﴿وَالْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی﴾۔ اس جگہ عقبیٰ بصیغۂ مبالغہ فرمایا، اس لیے کہ اس جہان کی وہ بقا ہے جسے فنا نہیں ہے۔

لیکن فنا و بقا کا یہ حال ہے کہ جب جہل فانی ہو جائے تو علم لامحالہ باقی ہوتا ہے اور جب معصیت فانی ہو جائے، اطاعت باقی رہتی ہے اور جب بندہ علمِ طاعت اپنے میں حاصل کر لیتا ہے، غفلت فنا ہو جاتی ہے۔ تو بقا کا ذکر یہ ہے کہ جب بندہ بحق عالم ہوتا ہے تو اس کا علم باقی ہوتا ہے اور جہل اس سے فانی ہو جاتا ہے۔ اور جب غفلت فانی ہو جاتی ہے تو وہ ذکر کے ساتھ باقی ہو جاتا ہے اور یہ اسقاطِ اوصافِ مذموم ہے، قیامِ اوصافِ محمود کے ساتھ۔

لیکن اس قصہ میں خاص لوگوں کی اس عبارت سے وہ مراد نہیں جو ہم نے بیان کی اور

۴۲۱

اس اصل میں ان کا اشارہ علم اور حال سے نہیں ہے۔ یہ طائفہ جو اہلِ ولایت سے ہے بقا و فنا کو ولایت کا درجۂ کمال جان کر اسے اس مقام کے سوا استعمال نہیں کرتا۔ جو لوگ مشقت و مجاہدہ سے نکل چکے ہیں اور مقامات کے تغیرِ حال کی قید سے رہائی پا چکے ہیں اور طلب کے بعد فنا کو پہنچ چکے ہیں، وہ ہر دیکھنے کی چیز کو اور کانوں سے سننے والی آواز کو بھی دل سے سننے کے بعد سب سے منہ موڑ کر قصدِ مراد میں فنا ہو کر انجام اور دعویٰ سے بیزار اور معنی سے علیحدہ ہو کر کرامتوں کو بھی حجاب جانتے ہیں اور دیکھے ہوئے تمام مقامات کو لباسِ آفت میں ملبوس پا کر چھوڑ دیتے ہیں اور عینِ مراد پر پہنچ کر مراد سے بھی بے مراد ہو کر تمام مشرب ساقط کر کے اُلفت و انس سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے: ﴿لِیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَیِّنَةٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَةٍ﴾ یعنی "تا کہ ہلاک ہو جو ہلاک ہوا دلائل میں اور زندہ ہو جو زندہ ہوا مکاشفہ سے۔" اور اس معنی کی تفسیر ہم اس رباعی میں ظاہر کرتے ہیں

فَنِیْتُ فَنَائِیْ بِفَقْدِ هَوَائِیْ ۔ فَصَارَ هَوَائِیْ فِی الْاُمُوْرِ هَوَاكَ فَاِذَا فَنَی الْعَبْدُ عَنْ اَوْصَافِهٖ ۔ اَدْرَكَ الْبَقَاءَ بِتَمَامِهٖ

"میں نے فنا کو اپنی خواہش کے کم کرنے سے فنا کیا تو اب ہو گئی میری خواہش تمام امور میں تیری خواہش، تو جب بندہ فنا کر دے اپنے اوصاف کو تو پالیتا ہے بقاءِ تام کو۔"

"یعنی جب بندہ اپنے اوصاف کی کیفیت سے، اوصاف کی آفت سے فنا ہو جاتا ہے تو فنا ءِ مراد میں بقاءِ مراد کے ساتھ باقی ہو جاتا ہے تا کہ اُسے قرب و بُعد اور اُنس و مودّت اور صحو و سکر، فراق و وصل طمس و اصلاح اور علم و ارقام کچھ نہ ہو اور سب سے بے خبر ہو۔ اس حقیقت کے اظہار کے لیے مشائخ رحمہم اللہ کی یہ رباعی خوب ہے

وَطَاحَ مَقَامِیْ وَالرُّسُوْمُ كِلَاهُمَا ۔ فَلَسْتُ اَرٰی فِی الْوَقْتِ قُرْبًا وَلَا بُعْدًا اَفْنَیْتُ بِهٖ عَنِّیْ فَبَانَ لِیَ الْهُدٰی ۔ فَهٰذَا ظُهُوْرُ الْحَقِّ عِنْدَ الْفَنَاءِ قَصْدًا

"میرا مقام اور رسوم دونوں فنا ہو گئے تو میں کسی وقت میں قُرب و بُعد نہیں دیکھتا۔ میں اپنے آپ سے اس میں فنا ہوا تو مجھے ہدایت ملی تو یہ ظہورِ حق ہی ہے۔ جو فنا بالقصد سے حاصل ہوتا ہے۔"

جب فنا کا قصد کر لیا اور رتمام فنا کی چیز سے رویت کی آفت اور اس کی نفیِ ارادت ہو

۴۲۲

درست نہیں ہوتی، جو کوئی بستہ صورت ہے اور اس کا یہ خیال ہے کہ کسی چیز سے فنا ہونا بدون اس کے کہ اب چیز سے حجاب ہوتا ہے وہ غلطی پر ہے۔ ایسا نہیں کہ جب آدمی کسی چیز کو دوست رکھے اور کہے کہ میں اس سے باقی ہوں اور کسی چیز کو دل میں رکھے اور کہے کہ میں اس سے فانی ہوں، کیونکہ یہ دونوں صفتیں طالب کی ہیں اور فنا میں محبت اور عداوت نہیں اور بقا میں جمع اور تفریق کو دیکھا نہیں جاتا۔

ایک گروہ ان معانی میں غلطی پر ہے جو خیال کرتا ہے کہ فناءِ ذات کا گم ہونا اور قفس کا نیست ہونا ہے اور بقا وہ ہے کہ بقاءِ حق سے بندہ کو ملے کیونکہ یہ دو امر محال ہیں۔

میں نے ہندوستان میں ایک مرد کو دیکھا کہ وہ تفسیر، وعظ اور علم کا دعویٰ کرتا تھا۔ اُس نے اس بارے میں مجھ سے بحث کی۔ جب میں نے دیکھا اور اس پر نظر کی تو وہ فنا و بقا کو جانتا ہی نہ تھا۔ ایسے بہت سے جاہل ہیں کہ فناءِ کلی کو روا رکھتے ہیں اور یہ خالص مکابرہ عیاں ہے کیونکہ فنا کے واسطے اجزاءِ طینت اور ان کا جدا ہونا کبھی جائز نہیں ہوتا۔

میں ان غلط کار جاہلوں کو کہتا ہوں کہ اس فنا سے تمہاری کیا غرض ہے؟ اگر وہ کہیں کہ فنا عینِ مراد ہے تو یہ محال ہے اور اگر کہیں کہ فنا میں وصف تو ہم روا رکھتے ہیں اس لیے کہ فنا ایک ایسی صفت ہے جس سے دوسری صفت بقا پائے اور یہ دونوں صفتیں بندے کے حوالے ہوتی ہیں۔ اور رومی اور نصاریٰ نسطوریوں کا یہ مذہب ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام بہ برکتِ مجاہدہ تمام اوصافِ ماسوی اللہ سے فانی ہو چکی ہیں، بقاءِ لاہوتی سے مل گئی ہیں اور اوصافِ ناسوتی فنا کر چکی ہیں۔ اسی وجہ میں اُنہوں نے وہ بقا پائی جو بقاءِ الٰہی ہے اور اسی کے ساتھ وہ باقی ہیں اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ان سے ظاہر ہونا اس کا نتیجہ سمجھتے ہیں، جو مایۂ انسانی نہیں بلکہ ان کی بقاء، بقاءِ الٰہی سے ہے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ اور خدائے تعالیٰ یہ تینوں ایک صفتِ بقا پر ہیں، معاذ اللہ۔ گویا اللہ تعالیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام تینوں قدیم ہیں اور ان کی صفات، صفاتِ الٰہی کے مماثل ہیں اور یہی عقیدہ جماعتِ حشویہ کا ہے، بلکہ وہ مجسمہ و مشبہ بھی ذاتِ واجب تعالیٰ شانہٗ مان کر حادث بھی تسلیم کرتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ صاحبِ صفاتِ قدیمہ کو صفتِ محدث میں تسلیم کرنا قدیم کو حادث کہنا ہے۔

میں کہتا ہوں: کہ یہ تمام محدث کیا محلِ قدیم میں ہوں، اور قدیم کیا محلِ محدث میں، اور کیا قدیم کا وصف محدث ہو، اور کیا محدث کا وصفِ قدیم۔ اس مذہبِ دہریہ کا جوازِ دلیلِ حدوثِ عالم کو باطل کرتا ہے اور اس سے صفتِ مصنوع صانع کو لازم آتا ہے کہ قدیم کہا جائے، اور مخلوق کو نامخلوق سے ملانا اور نامخلوق کا مخلوق میں حلول ہونا لازم آتا ہے اور یہ اُن کی جہالت کا خسارہ ہے۔

۴۲۳

اس لیے کہ جب قدیم کو حادث کہیں یا حادث کو قدیم تو صنعت اور صانع کو قدیم کہنا چاہیے۔ پھر اس اصول کے مطابق صنع محدث ہوگی اور جب صنع محدث ہوئی تو صانع بھی محدث ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ ایک چیز کا محل، عین چیز کے مثل ہوتا ہے۔ جب محل محدث ہو تو چاہیے کہ حال بھی محدث ہو۔ تو اس سبب سے لازم آتا ہے کہ محدث کو قدیم کہیں یا قدیم کو محدث اور یہ دونوں باتیں خالص گمراہی ہیں۔

مختصر یہ کہ جو چیز کسی کے ساتھ ملی ہوئی ہو تو وہ دونوں چیزیں ایک ہی ہوں گی۔ تو ہماری بقاء جب ہماری صفت ہے تو ہماری فنا بھی ہماری صفت ہے اور ہمارے اوصاف کی تخصیص میں ہماری فنا ہماری بقا کے مثل ہے اور ہماری بقا ہماری فنا کی مثل ہے۔ تو فنا ایک صفت ہے دوسری صفت کی بقا سے۔ پھر اگر کوئی فنا سے وہ مراد لے کہ بقا کو اس سے تعلق نہ ہو تو جائز ہے اور وہ بقا سے مراد لے کہ فنا کو اس سے تعلق نہ ہو تو بھی جائز ہے۔ اس لیے کہ اس فنا سے ذکرِ غیر کی فنا مراد ہوتی ہے اور بقا سے بقاءِ ذکرِ حق۔ مَنْ فَنِیَ مِنَ الْمُرَادِ بَقِیَ بِالْمُرَادِ "یعنی جو اپنی مراد سے فانی ہے، اس لیے کہ وہ مراد فانی ہے اور مرادِ حق باقی۔ تو جو ہو جائے وہ مرادِ بحق کے ساتھ باقی ہوتا ہے۔ تو جو اپنی مراد پر قائم ہو جائے تو اس کی مراد فانی ہو جاتی ہے اور اس کے فنا کے ساتھ وہ قائم ہو جاتا ہے۔

اس کی مثل ایسی ہے جیسے کسی بادشاہ کی آتشِ غضب و قہر ظہور میں آئے تو یہ اس کی صفت ہو جاتی ہے۔ تو جب وہ بادشاہ اپنے وصفِ غضب و آتشِ قہر کو بدلنا چاہے تو بدل لیتا ہے۔ ایسے ہی حق تعالیٰ اس سلطانِ آتش و قہر سے اولیٰ تر ہے۔ لیکن یہ تصرفِ آتشِ قہر اپنے وصف میں لوہا ہے مگر وہ سلطان وہی ہے جو تھا۔ لوہا اور آگ ہرگز نہیں ہو جاتا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

حضرت ابو سعید خراز رحمۃ اللہ علیہ جو صاحبِ مذہب ہیں، فرماتے ہیں

اَلْفَنَاءُ فَنَاءُ الْعَبْدِ عَنْ رُؤْیَةِ الْعُبُوْدِیَّةِ وَالْبَقَاءُ بَقَاءُ الْعَبْدِ بِمُشَاهَدَةِ الْاُلُوْهِیَّةِ۔

۴۲۴

"یعنی فنا، عبد کا فانی ہونا ہے اپنی رویتِ عبودیت سے اور بقا بندے کا باقی رہنا ہے مشاہدۂ الٰہیہ کے ساتھ۔"

یعنی اپنے کام میں بندگی کا دیکھنا بندے کے لیے آفت ہے اور بندہ بندگی کی حقیقت تک جب ہی پہنچتا ہے جب اپنے فعل کی طرف نگاہ نہ کرے اور اپنے عمل و عبادت کے دیکھنے سے فنا ہو جائے اور فعلِ ذاتِ سبحانہٗ کے مشاہدہ میں باقی رہے، تا کہ اس کے تمام اعمال و عبادات منسوب بقا عمل ہوں نہ کہ وہ اس کے ارادہ اور طاقت کی طرف۔ اس لیے کہ بندہ کا ہر فعل ناقص ہوتا ہے، اور جو فعل فاعلِ حقیقی کی طرف سے بندے کو بہ توفیق و فضلِ الٰہی پہنچے، وہ کامل ہوتا ہے۔ چنانچہ جب بندہ تعلقات سے فانی ہو جاتا ہے تو جمالِ الوہیت کے ساتھ باقی ہو جاتا ہے۔

حضرت ابو یعقوب نہر جوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

صِحَّةُ الْعُبُوْدِیَّةِ فِی الْفَنَاءِ وَالْبَقَاءِ۔

"عبودیت و بندگی کی صحت فنا و بقا میں ہے۔"

اس لیے کہ جب تک بندہ اپنے ہر حصۂ نصیب سے تبرّی و بیزاری نہ کر لے، اس وقت تک مردِ خدمت و عبادتِ با اخلاص کی اہلیت ہی نہیں ہوتی، تو پہلے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر قسم کے نصیب و حصہ سے بیزاری کرے تا کہ وہ خدمت و عبادتِ با اخلاص کے قابل ہو سکے۔ تو انسان کا اپنے ہر قسم کے نصیب و حصہ سے بیزار ہونا فنا ہے اور جب اس طرح فنا ہو جائے تو بندگی میں با اخلاص ہو سکتا ہے جو حقیقتاً بقا ہے۔

حضرت ابراہیم بن شیبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

عِلْمُ الْفَنَاءِ وَالْبَقَاءِ یَدُوْرُ عَلَی الْاِخْلَاصِ وَالْوَحْدَانِیَّةِ وَصِحَّةِ الْعُبُوْدِیَّةِ وَمَا كَانَ غَیْرَ هٰذَا فَهُوَ الْمَغَالِیْطُ وَالزَّنْدَقَةُ۔

"علمِ فنا و بقا کا قاعدہ اخلاص اور وحدانیت ہے اور یہی صحیح عبودیت ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے وہ غلوط اور زندقہ ہے۔"

یعنی جب بندہ وحدانیتِ حق کا مقر ہوتا ہے اور اپنے آپ کو متہورِ حکمِ الٰہی سمجھ لیتا ہے اور ہر پہلو سے اپنے آپ کو مغلوب و عاجز جان لیتا ہے، تو یہی فنا ہے۔ اور جب اس کا فنا ہونا اس پر صادق آ جاتا ہے تو اس کا اقرارِ عجز و انکسار کے سوا چارہ ہی نہیں ہوتا، پھر وہ حلقۂ بارگاہِ متعال پر پنجہ مار کر حقیقی بندہ ہو جاتا ہے اور جو فنا و بقا سے اور معنی مراد لیتا ہے یعنی فنا کو فنا عین سمجھتا ہے اور بقا کو بقاءِ حق قرار دیتا ہے، وہ زندیق اور مذہبِ نصاریٰ کا پیرو ہوتا ہے۔ ایسے اغلوطے اور زندقہ ان کے اندر ہیں۔

۴۲۵

جیسا کہ ہم پہلے بیان کرا آئے ہیں اور میں (یعنی حضرت علی بن عثمان جلابیؒ) سمجھتا ہوں کہ یہ سب قول باعتبارِ معنی ایک دوسرے کے نزدیک ہیں۔ اگرچہ بقاء کو عبادت میں مخالف کہے مگر اصل اس کی یہی ہے کہ بندہ جلالتِ حق دیکھنے سے فنا ہوتا ہے۔ مگر جب اس کے دل پر کشفِ عظمتِ حق ہوتا ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ غلبۂ جلالت میں وہ دنیا و عقبیٰ کو اپنے دل سے محو کر دیتا ہے اور حالات و مقامات اس کی نظر میں ہمت حقیر اور ہیچ ہو جاتے ہیں اور کرامات کی اہمیت اس کے حال میں پراگندہ ہو جاتی ہے تو عقل اور نفس سے فارغ ہو کر فنا سے بھی فنا ہو جاتا ہے۔

پھر اس فنا کی فنا میں اس کی زبان حق کے ساتھ ناطق ہوتی ہے اور دل وتن محض عاجز و فروتن ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ ابتدا میں ذُرِّیتِ آدم علیہ السلام پشتِ آدم سے نکلنے کے وقت عہدِ عبودیت کی آفات سے مرکب نہ تھی۔ عربی کے کسی بزرگ نے خوب فرمایا ہے

لَكُنْتُ اِذَا كُنْتُ اَدْرِیْ ۔ كَیْفَ السَّبِیْلُ اِلَیْكَ اَفْنَیْتَنِیْ عَنْ جَمِیْعِیْ ۔ فَصِرْتُ اَبْكِیْ عَلَیْكَ

"اگر میں جانتا کہ تیرا راستہ کون سا ہے تو میں اپنی تمام ہستی سے فنا ہو جاتا اور تیری یاد میں روتا رہتا۔"

ایک اور شیخ فرماتے ہیں

فَفِیْ فَنَائِیْ فَنَاءُ فَنَائِیْ ۔ وَفِیْ فَنَائِیْ وَجَدْتُكَ اَنْتَ مَحَوْتُ اِسْمِیْ وَاسْمَ جِسْمِیْ ۔ سَاَلْتَ عَنِّیْ قُلْتُ اَنْتَ

"میرے فنا ہونے میں میری فنا کا فنا ہونا ہے اور میں نے اپنی فنا میں تجھے پایا۔ میں نے اپنا نام اور اپنے جسم کا نام مٹایا تو تُو نے مجھ سے پوچھا۔ میں نے کہا تو ہی تو۔"

فقر اور تصوف کے باب میں فنا و بقا کے یہ حکم ہیں، جو ہم نے کچھ بیان کیے اور اس کتاب میں جہاں بھی فنا و بقا کا ذکر ہوگا وہاں یہی مراد ہوگی۔ یہ خزاریوں کا اصل مذہب ہے اور تمام لوگ اس نیک اصل کے پیرو کار ہیں۔ جو تفریقِ وصل کی دلیل ہو وہ بے اصل نہیں۔ اس گروہ میں یہ عبارت گروہِ صوفیہ میں زبانِ زدِ عام ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

فرقۂ خفیفیہ

خفیفیوں کا واسطہ حضرت ابو عبد اللہ محمد بن خفیف شیرازی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے۔ ابو عبد اللہ اس طائفہ کے کبرائی سادات اور اپنے وقت کے عالمِ علومِ ظاہر و باطن گزرے ہیں۔ آپ

۴۲۶

کی تصانیفِ علمِ طریقت میں بہت مشہور ہیں۔ مردانِ خدا میں محبوب اور عفیف النفس تھے اور شہواتِ نفسانیہ سے معرض و محترز تھے۔ اور یہ بھی سنا ہے کہ ایک زمانہ آپ کا ایسا بھی گزرا کہ آپ نے چالیس نکاح کیے، چونکہ آپ شہزادگانِ ملوک سے تھے۔ جب تائب ہوئے تو اہلِ شیراز جتنے آپ سے متنفر تھے، توبۃ النصوح کے بعد اتنی تعظیم اور محبت کرنے لگے۔ شیرازی شہزادیاں اور رئیسوں کی لڑکیاں یہ آرزو کرنے لگیں کہ ابو عبد اللہ ہمیں اپنے عقد میں لے لیں تا کہ ہم مشرف بانتساب زوجیت ہو جائیں۔

چنانچہ آپ نے ان کی آرزو اس طرح پوری فرمائی کہ عقد تو کیا اور ایجاب و قبول کے بعد قبل از خلوتِ صحیحہ انہیں طلاق دے دی۔ مگر چالیس خواتین مختلف وقت کے ساتھ آپ کی عمر میں دو دو تین تین، ایک وقت آپ کے حبالۂ عقد میں رہ کر خادمِ فراش رہیں۔

ایک وزیر زادی پورے چالیس سال آپ کی صحبت میں رہی۔ شیخ ابو الحسن علی بن بکران شیرازی اپنے عہدِ حکومت کا حال بیان فرماتے ہیں کہ ایک باران خواتین کو مجتمع کر کے پوچھا گیا کہ ابو عبد اللہ کا کچھ حال سناؤ۔ سب نے متفقہ بیان کیا کہ حضرت ابو عبد اللہ میں ہم نے شہوانی شان قطعی نہیں دیکھی اور سب متعجب تھیں۔ اور یہ بھی بیان کرتی تھیں کہ شیخ ابو عبد اللہ کا ہر ایک کے ساتھ برتاؤ ایسا تھا کہ ہم میں سے ہر ایک یہ سمجھتی تھی کہ شیخ ہمارے ساتھ زیادہ ملتفت ہیں۔ ان میں وہ خاتون جو دخترِ وزیر تھیں جنہوں نے چالیس سال آپ کی خدمت کی تھی، ان سے پوچھا گیا کہ تمہارے ساتھ تو کافی شیخ عبد اللہ کی صحبت رہی ہے۔ تم ان کے اندرونی راز سے ہمیں مطلع کرو۔ تو وزیر زادی کا بیان یہ تھا کہ جب شیخ عبد اللہ کی زوجیت میں آئی ایک دن مجھے اطلاع ملی کہ آج شیخ میرے یہاں رونق افروز ہوں گے۔ میں نے اعلیٰ اعلیٰ کھانے تیار کیے، خود زیب و زینت کی۔ شیخ جب تشریف لائے تو میں نے کھانا سامنے رکھا۔ شیخ نے کھانوں کی طرف نگاہ ڈالی اور تھوڑی دیر میری طرف نگاہ ڈالی۔ پھر میرا ہاتھ تھاما اور اپنے گریبان میں ڈالا۔

میں نے دیکھا کہ سینے سے ناف تک شکمِ مبارک میں پندرہ گھانٹھیں پڑی تھیں۔ فرمایا: اے وزیر زادی! تو نے گرہ تو دیکھ لیں اور یہ نہ پوچھا کہ کیسی گرہ ہیں۔ میں نے عرض کی فرمائیں: تو آپ نے فرمایا یہ تمام گرہ سوزشِ صبر اور مجاہدۂ نفس کی ہیں، ان کے ذریعے میں طعام و شہوات سے محفوظ ہوں۔ یہ فرمایا اور کمڑے ہو گئے۔ اس سے زائد میرا اُن کا معاملہ جو ہوا وہ یہ کہ میں نے انہیں مشاہدۂ عین میں پایا اور حضوری حضور کی جو شان تھی اس کے بیان کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ لہٰذا (یعنی حضور داتا صاحب) اسے بیان کرتا ہوں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی

۴۲۷