شرک
1
حدیث نمبر 1
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے آدم کے بیٹے، تو جب تک مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید بنائے رکھے گا، میں تجھے معاف کرتا رہوں گا، چاہے تو کسی حالت میں ہو اور مجھے کچھ بھی پرواہ نہیں۔ اے آدم کی اولاد، تیرے گناہ اگر اتنے زیادہ ہوں کہ آسمانوں تک پہنچ جائیں اور تو مجھ سے مغفرت طلب کرے، تو بھی میں ان گناہوں کو معاف کر دوں گا اور مجھے کچھ بھی پرواہ نہیں۔ اے آدم کے بیٹے، اگر تو مجھ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ تیرے پاس اتنی خطائیں ہوں جن سے زمین بھر جائے، لیکن ان خطاؤں اور گناہوں میں شرک نہ ہو تو میں تجھ سے اتنی ہی بخشش کے ساتھ ملوں گا۔“
حوالہ: (ترمذی، احمد)
2
حدیث نمبر 2
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”جس شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ مجھے اس کے گناہ معاف کر دینے کا اختیار ہے، تو میں اس کی خطائیں بخش دیتا ہوں اور کچھ پرواہ نہیں کرتا، شرط یہ ہے کہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو۔“
حوالہ: (شرح السنۃ)
3
حدیث نمبر 3
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ”اے آدم کے بیٹے، جب تک تو میری بندگی اور عبادت کرتا رہے گا، اور مجھ سے امید رکھے گا، اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے گا، تو میں تجھے معاف کرتا اور تجھے بخشتا رہوں گا۔ تو اگر آسمان اور زمین کو بھر دینے والی خطائیں لے کر میرے سامنے آئے گا، تو میں اتنی ہی بخشش اور معافی لے کر تجھ سے ملوں گا اور تیرے گناہوں کو معاف کر دوں گا اور کچھ پرواہ نہ کروں گا۔“
حوالہ: (طبرانی)
4
حدیث نمبر 4
حضرت عیاض بن حمار مجاشعیؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ایک دن اپنے خطبہ میں کہا کہ لوگو، جان لو کہ میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ باتیں بتا دوں جو تم نہیں جانتے جو مجھے اللہ نے آج بتائی ہیں۔ یہ کہ (اللہ کہتا ہے) ”جو مال میں نے کسی بندے کو دیا ہے، وہ اس کے لئے حلال ہے۔ اور بے شک میں نے اپنے سبھی بندوں کو حق کی طرف مائل پیدا کیا۔ لیکن ان کے پاس شیاطین آئے اور ان کو ان کے دین سے بہکا دیا۔ اور جو چیزیں میں نے ان کے لئے حلال کی تھیں ان کو ان پر حرام کر دیا۔ اور انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرائیں جن پر کوئی دلیل میں نے نہیں اتاری۔“
حوالہ: (مسلم)
5
حدیث نمبر 5
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں سبھی شرکاء کے شرک سے بڑھ کر بے پرواہ ہوں کہ کسی کو اپنا شریک بناؤں۔ جس کسی نے کوئی عمل کیا اور اس میں اس نے کسی اور کو بھی میرا شریک ٹھہرایا تو میں اس سے اور اس کے شرک سے بے تعلق ہو جاتا ہوں۔“
حوالہ: (مسلم، ابن ماجہ)
6
حدیث نمبر 6
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں شرک کرنے والوں کے شرک سے بالکل بے نیاز ہوں، جس کسی شخص نے کسی عمل میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کیا، تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں“ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”وہ عمل اسی کے لئے ہے، جس کے لئے وہ کیا گیا، میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں۔“
حوالہ: (مسلم)
7
حدیث نمبر 7
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ عزّ وجلّ فرماتا ہے: ”تیری امت کے لوگ ہمیشہ کہتے رہیں گے کہ یہ کیسے ہوا اور یہ کیسے ہوا؟ یہاں تک کہ وہ کہیں گے اس کائنات کا خالق تو اللہ ہے پھر اللہ عزّ وجلّ کو کس نے پیدا کیا؟“
حوالہ: (مسلم)
8
حدیث نمبر 8
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”آدم کا بیٹا زمانے کو برا کہہ کر مجھے تکلیف پہنچاتا ہے حالانکہ زمانہ تو میں ہوں۔ سارے کاموں کی باگ ڈور میرے ہاتھ میں ہے۔ میں ہی رات دن کو الٹتا پلٹتا ہوں۔“
حوالہ: (بخاری و مسلم)
9
حدیث نمبر 9
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”آدم کے بیٹے نے مجھے جھٹلایا حالانکہ یہ اس کے لئے مناسب نہ تھا۔ اور اس نے مجھے برا کہا جبکہ یہ اس کے لئے مناسب نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ نے جس طرح مجھے پہلی بار پیدا کیا ہے دوبارہ ہرگز پیدا نہ کرے گا۔ جبکہ میرے لئے اس کو پہلی بار پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ زیادہ آسان تو نہ تھا۔ اور اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے حالانکہ میں یکتا، بے نیاز ہوں، نہ مجھ سے کوئی پیدا ہوا اور نہ میں کسی سے پیدا ہوا، نہ کوئی میرے برابر ہے۔“
حوالہ: (بخاری، نسائی)
10
حدیث نمبر 10
حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ہمیں حدیبیہ میں سویرے کی نماز پڑھائی۔ اس رات بارش ہوئی تھی۔ نماز کے بعد نبیؐ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتا ہے۔ آپؐ نے کہا کہ اللہ فرماتا ہے: ”میرے کچھ بندوں نے اس حال میں صبح کی کہ وہ مجھ پر ایمان رکھتے تھے اور کچھ نے اس حال میں کہ انہوں نے میرا انکار کیا۔ جس نے یہ کہا کہ ہم پر اللہ کی مہربانی اور اس کے رحم سے بارش ہوئی، وہ تو مجھ پر ایمان رکھنے والا ہے، اور ستاروں کو نہ ماننے والا ہے اور جس نے یہ کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی، اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور وہ ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔“
حوالہ: (مسلم، بخاری، مالک، نسائی)
اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا
14
حدیث نمبر 14
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان رکھتا ہے، میں اس کے مطابق ہوں۔ اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے پاس ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور اگر وہ مجھے کسی محفل میں یاد کرتا ہے تو میں ایک ایسی محفل میں اس کی چرچا کرتا ہوں جو اس بندے کی محفل سے کہیں اچھی اور اونچی ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس سے قریب ہو جاتا ہوں۔ اور جب کوئی بندہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ اس سے قریب ہو جاتا ہوں۔ اور اگر کوئی بندہ میری طرف دھیرے دھیرے چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر بڑھتا ہوں۔“
حوالہ: (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
15
حدیث نمبر 15
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ عزّ وجلّ فرماتا ہے: ”میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان رکھتا ہے میں اس کے مطابق ہوں۔ وہ جیسا چاہے میرے ساتھ گمان رکھے۔“
حوالہ: (بیہقی، طبرانی فی الکبیر)
16
حدیث نمبر 16
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ عزّ وجلّ فرماتا ہے: ”میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان رکھتا ہے میں اس کے مطابق ہوں۔ اگر وہ مجھ سے اچھا گمان رکھے تو یہ اسی کے لئے اچھا ہے۔ اور اگر برا گمان رکھے تو یہ اسی کے لئے برا ہے۔“
حوالہ: (احمد، مسلم)
17
حدیث نمبر 17
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے۔ اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔“
حوالہ: (ترمذی)
18
حدیث نمبر 18
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ عزّ وجلّ فرماتا ہے: ”میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ مجھ سے رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جہاں مجھے وہ یاد کرتا ہے۔“ اور خدا کی قسم خدا اپنے بندے کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے، جتنا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے کھوئے ہوئے اونٹ کو کسی چٹیل میدان میں پا کر خوش ہوتا ہے۔ اور (وہ کہتا ہے:) ”جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جو مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے، میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جو میری طرف چل کر آتا ہے، میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔“
حوالہ: (بخاری و مسلم)
19
حدیث نمبر 19
اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے: ”میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے۔ اگر وہ اچھا گمان رکھتا ہے تو میں بھی اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرتا ہوں اور اگر وہ برا گمان رکھتا ہے تو میں بھی وہی سلوک کرتا ہوں۔“
حوالہ: (طبرانی)
20
حدیث نمبر 20
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ عزّ وجلّ فرماتا ہے: ”جب میرے کسی بندے کو مجھ سے ملنے کی آرزو ہوتی ہے تو مجھے بھی اس سے ملنے کی آرزو ہوتی ہے اور جب کوئی مجھ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے، تو میں بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہوں۔“
حوالہ: (بخاری، نسائی، مالک)
اللہ کی یاد اور اس کا ذکر
21
حدیث نمبر 21
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”جب میرا بندہ مجھے یاد کرتا ہے اور اس کے دونوں ہونٹ میرے ذکر سے ہلتے ہیں تو میں اس کے قریب ہی ہوتا ہوں۔“
حوالہ: (بخاری)
22
حدیث نمبر 22
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے، چلنے پھرنے والے فرشتوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے کہ اس گروہ کے فرشتے ذکر کی مجلسوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں اور جب وہ ایسی کوئی مجلس پا لیتے ہیں جس میں اللہ کا ذکر ہو رہا ہوتا ہے تو وہ لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور وہ اپنے پَر ایک دوسرے پر پھیلا لیتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے اور قریبی آسمان کے بیچ کے حصّے کو بھر دیتے ہیں۔ جب لوگ چلے جاتے ہیں تو یہ فرشتے آسمانوں کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ نبیؐ کہتے ہیں کہ اللہ عزّ وجلّ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خود ان کے بارے میں اچھی طرح سے جانتا ہے: ”تم کہاں سے آئے ہو؟“ وہ کہتے ہیں کہ زمین میں تیرے کچھ ایسے بندوں کے پاس سے ہم آئے ہیں جو تیری بزرگی اور تیری بڑائی بیان کر رہے تھے اور صرف تجھی کو معبود کہہ کر پکار رہے تھے اور تیری تعریف کر رہے تھے، اور تجھ سے کچھ مانگ رہے تھے۔ اللہ کہتا ہے: ”وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟“ وہ کہتے ہیں: ”وہ سب تجھ سے جنت مانگ رہے تھے۔“ اللہ کہتا ہے: ”کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟“ وہ کہتے ہیں: ”نہیں اے میرے رب۔“ اللہ کہتا ہے: ”اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیں تو پھر ان کا کیا حال ہو!“ فرشتے کہتے ہیں: ”اور وہ تجھ سے پناہ بھی چاہتے تھے۔“ اللہ کہتا ہے: ”کس چیز سے وہ میری پناہ چاہتے تھے؟“ وہ کہتے ہیں: ”تیری آگ (دوزخ) سے اے رب۔“ اللہ کہتا ہے: ”کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے؟“ وہ کہتے ہیں: ”نہیں۔“ اللہ کہتا ہے: ”اگر وہ میری آگ دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو؟“ پھر فرشتے کہتے ہیں: ”وہ تجھ سے بخشش طلب کر رہے تھے۔“ نبیؐ کہتے ہیں کہ اس پر اللہ کہتا ہے: ”میں نے ان کی بخشش کر دی اور جو کچھ انہوں نے مانگا وہ میں نے ان کو دیا اور جس چیز سے انہوں نے پناہ مانگی میں نے اس سے انہیں پناہ دی۔“ نبیؐ فرماتے ہیں کہ وہ (فرشتے) کہیں گے: ”ہمارے رب ان میں تو ایک آدمی ایسا بھی تھا جو بڑا خطا کار ہے وہ تو راستے سے گزر رہا تھا تو ان لوگوں کے ساتھ (بس یونہی) بیٹھ گیا۔“ نبیؐ کہتے ہیں کہ اللہ کہے گا: ”میں نے اسے بھی بخش دیا۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بدنصیب نہیں ہوگا۔“
حوالہ: (مسلم، بخاری، ترمذی، نسائی)
23
حدیث نمبر 23
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے: ”جس شخص کو میرے ذکر (یاد) نے اتنا مشغول رکھا کہ وہ مجھ سے کچھ مانگ نہ سکا، تو میں ایسے بندے کو مانگنے والے سے زیادہ دیتا ہوں۔“
حوالہ: (بخاری، بیہقی)
24
حدیث نمبر 24
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے میرے بندے اگر تو مجھے تنہائی میں یاد کرے گا تو میں بھی تجھے تنہائی میں یاد کروں گا اور اگر تو مجھے کسی محفل میں یاد کرے گا تو میں تجھے ان سے اچھے لوگوں کی (یعنی فرشتوں کی)، اور بڑی محفل میں یاد کروں گا۔“
حوالہ: (بیہقی)
اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت
25
حدیث نمبر 25
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ”جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا تو اپنی کتاب میں لکھ دیا جو عرش پر اس کے پاس ہے: ”یقیناً میری رحمت میرے غضب سے آگے بڑھ گئی ہے۔“ ایک حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: ”بلاشبہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“
حوالہ: (بخاری و مسلم)
26
حدیث نمبر 26
حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ جب کوئی بندہ اللہ کی رضامندی کی تلاش میں رہتا ہے اور لگاتار اسی تلاش میں لگا رہتا ہے، تو اللہ عزّ وجلّ جبرئیلؑ سے کہتا ہے: ”میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنے کی تلاش میں گیا ہوا ہے۔ جان رکھو کہ میری رحمت اس پر ہے۔“ حضرت جبرئیلؑ کہتے ہیں: ”اللہ کی رحمت فلاں بندے پر ہو!“ اور پھر آسمان کو اٹھانے والے (فرشتے) اور ان کے آس پاس کے فرشتے بھی یہی کہتے ہیں، یہاں تک کہ یہی بات ساتوں آسمان کے رہنے والے بھی کہنے لگتے ہیں۔ پھر وہ رحمت اس کے لئے زمین پر اترتی ہے۔
حوالہ: (احمد)
27
حدیث نمبر 27
حضرت ابوسعیدؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ شیطان مردود نے اللہ سے کہا کہ مجھے تیرے جلال کی قسم، جب تک تیرے بندوں کی روح ان کے جسم میں رہے گی میں انہیں بہکاتا اور تیرے راستے سے بھٹکاتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: ”مجھے اپنی عزّت و جلال اور بزرگی کی قسم، جب تک میرے بندے مجھ سے معافی طلب کرتے رہیں گے میں انہیں معاف کرتا رہوں گا۔“
حوالہ: (احمد)
28
حدیث نمبر 28
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے میرے بندو، میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے لئے بھی ظلم کو حرام کر دیا۔ اس لئے آپس میں تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔ اے میرے بندو! تم سب راستے سے بھٹکے ہوئے ہو سوائے اس شخص کے جس کو میں نے راہ دکھائی۔ تم مجھ سے سیدھے راستے پر چلنے کی دعا کرو، میں تمہیں راہ دکھاؤں گا اور تمہیں سیدھے راستے پر چلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو سوائے اس کے جس کو میں کھلاؤں۔ اس لئے مجھ ہی سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب ننگے ہو۔ سوائے اس کے جس کو میں کپڑا پہناؤں۔ اس لئے مجھ سے کپڑے مانگو، میں تمہیں پہناؤں گا۔ اے میرے بندو! تم رات دن خطائیں کرتے رہتے ہو اور میں سب گناہوں کو بخشتا ہوں۔ اس لئے تم مجھ ہی سے معافی طلب کرو، میں تمہیں معاف کروں گا۔ اے میرے بندو! تم مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے لوگ اور تمام انسان اور تمام جن سب کے سب بڑے متقی شخص کے دل کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری حکومت میں کچھ بھی اضافہ نہ ہوگا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے لوگ اور تم میں سے تمام انسان اور تمام جن سب کے سب ایک بڑے فاسق و فاجر شخص کے دل کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری حکومت میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ اے میرے بندو! تمہارے اگلے اور پچھلے لوگ اور تمام انسان اور تمام جن سب کے سب ایک میدان میں کھڑے ہوں اور مجھ سے مانگنے لگیں، اور میں ہر ایک کو جو وہ مانگیں دوں، تو اس سے جو کچھ میرے پاس ہے اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ لیکن بس اتنی جتنی سمندر میں سوئی ڈال کر نکال لینے سے سمندر کے پانی میں کمی ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تو تمہارے ہی اعمال ہیں جن کو تمہارے لئے میں گنتا رہتا ہوں۔ پھر تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ اس لئے جو شخص اچھا بدلہ پائے تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ کی بڑائی بیان کرے اور جو اس کے علاوہ (برا بدلہ) پائے تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔“
حوالہ: (مسلم)
29
حدیث نمبر 29
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے میرے بندو! تم میں سے ہر ایک گناہ گار ہے سوائے اس شخص کے جسے میں نے بچا لیا۔ اس لئے تم مجھ سے معافی طلب کرو میں تم کو معاف کروں گا۔ تم میں سے جو شخص یہ جانتا ہے کہ مجھے معاف کرنے اور بخشنے کا اختیار اور قوت حاصل ہے پھر وہ مجھ سے معافی اور بخشش کے لئے درخواست کرتا ہے، میں اسے معاف کر دیتا ہوں اور گناہ معاف کرنے میں کچھ پرواہ نہیں کرتا۔ تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں نے راہ دکھائی۔ اس لئے تم مجھ سے سیدھا راستہ پانے کی التجا کرو۔ میں تمہیں سیدھی راہ دکھاؤں گا۔ تم میں سے ہر ایک غریب ہے سوائے اس کے جس کو میں دولت مند اور غنی کر دوں۔ اس لئے تم مجھ سے مانگو میں تمہیں غنی کر دوں گا۔ اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے اور تمہارے مرے ہوئے اور زندہ لوگ اور تمہارے کمزور اور طاقتور سب کے سب میرے پرہیزگار بندوں میں سے کسی ایک شخص کے ڈر رکھنے والے دل کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری حکومت میں ایک مچھر کے پَر کے برابر بھی اضافہ نہیں ہو سکتا اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے اور تمہارے مرے ہوئے اور زندہ لوگ اور تمہارے کمزور اور طاقتور سب کے سب میرے بدنصیب بندوں میں سے کسی شخص کے دل کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری حکومت میں ایک مچھر کے پَر کے برابر بھی کمی نہیں ہو سکتی اور تمہارے اگلے اور پچھلے، مرے ہوئے اور زندہ لوگ اور کمزور اور طاقتور سب کے سب ایک میدان میں اکٹھا ہو جائیں پھر ہر ایک آدمی اپنی دلی تمناؤں کو پورا کرنے کے لئے مجھ سے دعا کرے اور میں ہر ایک مانگنے والے کی تمنا پوری کر دوں تو اس سے میری حکومت اور خزانے میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ یہ تو بات ایسی ہوگی جیسے تم میں سے کوئی سمندر سے گزرتے ہوئے ایک سوئی سمندر میں ڈال کر پھر اسے اٹھا لے۔ یہ اس لئے کہ میں بہت زیادہ سخی ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میری عطا و بخشش بھی کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے۔ جب میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں، تو میں بس یہ کہتا ہوں کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔“
حوالہ: (ترمذی، احمد، ابن ماجہ)
30
حدیث نمبر 30
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے اپنے رب عزّ وجلّ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: کہ ایک بندے نے کوئی گناہ کیا اور کہا اے اللہ! میرے گناہ کو معاف کر دے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے گناہ کیا اور یہ سمجھا کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ کو بخشتا اور گناہ پر پکڑ کرتا ہے۔“ اس نے کچھ مدّت کے بعد پھر گناہ کیا اور کہا اے میرے رب میرا گناہ معاف فرما دے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے کوئی گناہ کیا اور یہ سمجھا کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ کو بخش دیتا ہے اور گناہ پر پکڑ کرتا ہے۔“ کچھ دنوں کے بعد وہ پھر گناہ کر بیٹھا اور اس نے دعا کی اے میرے رب میرا گناہ معاف کر دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے گناہ کیا اور اس نے یہ سمجھا کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ کو معاف کرتا ہے اور گناہ پر مؤاخذہ کرتا ہے۔ (اگر احساسِ گناہ اور رب سے معافی چاہنے کا تیرا یہی حال ہے) تو اب تو جو چاہے کر میں نے تجھے معاف کر دیا۔“
حوالہ: (بخاری و مسلم)
31
حدیث نمبر 31
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں پھر ان نیکیوں اور برائیوں کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے۔ اس لئے جو شخص کسی نیکی کا پکّا ارادہ کر لے لیکن وہ نیکی نہ کر سکے تب بھی اللہ تعالیٰ اس کی ایک پوری نیکی لکھ دیتا ہے۔ اور اگر ارادے کے بعد وہ نیکی بھی کر لے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس نیکیوں سے لے کر سات سو تک بلکہ اس سے بھی زیادہ لکھتا ہے۔ اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اس کو کرتا نہیں تو اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ ایک پوری نیکی لکھ دیتا ہے۔ اور اگر برائی کا ارادہ کر کے وہ شخص برائی اور گناہ کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ صرف ایک گناہ لکھتا ہے۔“
حوالہ: (بخاری و مسلم)
32
حدیث نمبر 32
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”جب میرا بندہ کسی نیکی کا اپنے دل میں ارادہ کرتا ہے لیکن وہ اسے کر نہیں پاتا تو میں ایک نیکی اس کے اعمال نامہ میں لکھ دیتا ہوں۔ اور اگر وہ نیکی کر لیتا ہے تو میں اس کی نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا تک کر کے لکھتا ہوں۔ اور جب کوئی بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے لیکن اس کا مرتکب نہیں ہوتا تو میں اس کے نامہ اعمال میں اسے نہیں لکھتا۔ اور اگر وہ گناہ کر لیتا ہے تو میں ایک ہی گناہ لکھتا ہوں۔“
حوالہ: (ترمذی)
33
حدیث نمبر 33
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ ”(قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ مومن کو قریب کرے گا اور پھر اس پر اپنا پردہ ڈالے گا اور اسے چھپا لے گا۔ پھر فرمائے گا: ”کیا تم اس گناہ کو جانتے ہو؟ کیا تم اس گناہ کو جانتے ہو؟“ بندہ کہے گا: ”ہاں میرے رب!“ یہاں تک کہ وہ اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرا لے گا۔ وہ بندہ اپنے دل میں خیال کرے گا کہ میں ہلاک ہوا۔ اللہ فرمائے گا: ”میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں کو چھپایا تھا اور آج میں انہیں معاف کر دیتا ہوں۔“ پھر اسے اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دے دیا جائے گا۔ رہے کفار اور منافقین تو انہیں برسرِ عام پکارا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب پر تھوپ کر جھوٹ بولتے تھے۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے ایسے ظالموں پر۔
حوالہ: (بخاری و مسلم)
محبت اللہ کے لئے اور عداوت اللہ کے لئے
34
حدیث نمبر 34
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کہے گا: ”کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے عزّ و جلال کے سبب آپس میں ایک دوسرے سے محبت کیا کرتے تھے؟ آج میں انہیں اپنے سایہ میں رکھوں گا۔ آج میرے سایہ کے علاوہ کہیں کوئی سایہ نہیں۔“
حوالہ: (بخاری، مالک)
35
حدیث نمبر 35
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اگر ایک شخص مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں اور یہ دونوں آپس میں اللہ کے لئے محبت کرتے ہوں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان دونوں کو ایک جگہ کر کے ہر ایک سے کہے گا: ”یہ ہے وہ شخص جس سے تو میرے لئے محبت کرتا تھا۔“
حوالہ: (بیہقی)
36
حدیث نمبر 36
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولؐ کو یہ کہتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میری محبت کے مستحق وہی لوگ ہیں جو میری وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے۔ اور میری ہی وجہ سے آپس میں اُٹھتے بیٹھتے تھے اور میری ہی وجہ سے ایک دوسرے کے پاس ملنے اور ملاقات کرنے جایا کرتے تھے۔ اور میری ہی وجہ سے ایک دوسرے پر اپنا مال خرچ کرتے تھے۔“
حوالہ: (مالک، ترمذی)
37
حدیث نمبر 37
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبرئیلؑ کو بلاتا ہے اور کہتا ہے: ”میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔“ حضرت جبرئیلؑ اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر حضرت جبرئیلؑ آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں۔ اس لئے تم بھی اس بندے سے محبت کرو۔“ پس آسمان پر رہنے والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر زمین میں اس کی مقبولیت پھیلا دی جاتی ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو حضرت جبرئیلؑ کو بلا کر ان سے کہتا ہے: ”میں فلاں بندے سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے نفرت کرو۔“ چنانچہ حضرت جبرئیلؑ اس شخص سے نفرت اور عداوت رکھتے ہیں۔ پھر آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ فلاں بندے سے اللہ تعالیٰ کو عداوت ہے۔ اے آسمان والو! تم بھی اس سے نفرت کرو اور اس سے عداوت رکھو۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ آسمان والے بھی اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ پھر زمین میں اس کے سلسلے میں نفرت اور عداوت پھیلا دی جاتی ہے۔
حوالہ: (مسلم، بخاری، مالک، ترمذی)
نماز کی اہمیت
42
حدیث نمبر 42
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر نماز ٹھیک نکلی تو وہ کامیاب ہوگا اور نجات پا جائے گا۔ اور اگر نماز میں خرابی نکلی تو وہ ناکام ہوا اور گھاٹے میں پڑا۔ فرض کی ادائیگی میں اگر اس سے کوتاہی ہوئی ہوگی تو عزّت و جلال والا رب کہے گا: ”دیکھو کیا میرے بندے کے پاس کچھ نفل نمازیں ہیں؟“ اگر ہیں تو فرض کی کمی ان نفل نمازوں کے ذریعہ پوری کر دی جائے گی۔ پھر اس کے تمام کاموں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا۔
حوالہ: (ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ، احمد)
43
حدیث نمبر 43
حضرت عقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تمہارے رب کو پہاڑ کی چوٹی پر مینڈھے چرانے والا وہ چرواہا بہت بھلا اور اچھا لگتا ہے جو (نماز کے وقت وہاں) اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ عزّ وجلّ کہتا ہے: ”میرے اس بندے کو دیکھو، وہ اذان دیتا ہے اور نماز قائم کرتا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے۔ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنّت میں داخل کر دیا۔“
حوالہ: (نسائی)
44
حدیث نمبر 44
حضرت عبدالرحمٰن بن عائشؓ اور ابن عباسؓ اور معاذ بن جبلؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے کہا کہ میں نے اپنے عزّت اور جلال والے رب کو خواب میں بہت ہی اچھی صورت میں دیکھا۔ اس نے فرمایا: ”اے محمد کیا تم جانتے ہو کہ ملأ اعلیٰ (اونچے دربار والے فرشتے) کس بات میں جھگڑ رہے ہیں؟“ میں نے کہا ہاں گناہ کو دور کرنے والی چیزوں کے بارے میں، اور گناہ کو دور کرنے والی چیزیں یہ ہیں۔ مسجد میں نماز کے بعد ٹھہرے رہنا اور جماعتوں کے لئے پیدل چلنا اور ناگوار حالتوں میں پورا پورا وضو کرنا۔ اور جس نے ایسا کیا وہ بھلائی کے ساتھ جیا اور بھلائی کے ساتھ مرا اور وہ اپنی خطاؤں سے ایسا پاک ہو جائے گا جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا۔ اور اللہ نے فرمایا: ”اے محمد جب تم نماز پڑھ لو تو یہ دعا پڑھو: ”اے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں کہ میں اچھے کام کروں اور برائیوں کو چھوڑ دوں اور محتاجوں سے محبت کروں اور جب تو اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کرے تو مجھے اپنی طرف اٹھا لے اس حالت میں کہ میں فتنے میں نہ پڑا ہوا ہوں۔“ اور اللہ نے فرمایا: ”اور اونچے درجوں کی چیزیں یہ ہیں۔ سلام کو پھیلانا (رواج دینا)، کھانا کھلانا اور رات میں نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں۔“
حوالہ: (مصابیح، شرح السنۃ)
45
حدیث نمبر 45
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”جس کسی نے میرے ولی (محبوب) سے دشمنی کی اس کے خلاف میری طرف سے لڑائی کا اعلان ہے۔ میرا بندہ میری قربت کسی دوسرے کام سے جو مجھے پسند ہو اتنی حاصل نہیں کر سکتا جتنی اس عمل سے حاصل کر سکتا ہے جو میں نے اس پر فرض کیا ہے۔ میرا بندہ نفلوں کے ذریعہ میری قربت برابر ڈھونڈتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا وہ کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی وہ آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا وہ ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے۔ اور اس کا وہ پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے گا تو میں اسے ضرور دوں گا اور اگر وہ میری پناہ میں آنا چاہے گا تو ضرور ہی میں اسے اپنی پناہ میں لے لوں گا۔ اور مجھے کسی کام کے کرنے میں جو مجھے کرنا ہے اتنی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی جتنی ہچکچاہٹ مجھے مومن کی جان قبض کرنے میں ہوتی ہے۔ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اسے کوئی تکلیف دینی پسند نہیں۔“
حوالہ: (بخاری)
46
حدیث نمبر 46
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں اُمّ القرآن (سورہ فاتحہ) نہیں پڑھی تو وہ ناقص و ناتمام ہے۔ اسے آپﷺ نے تین مرتبہ فرمایا۔ ابوہریرہؓ سے کہا گیا کہ کبھی ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اسے اپنے دل میں پڑھ لو۔ کیونکہ میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ عزّ وجلّ کا ارشاد ہے: ”میں نے نماز (سورہ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصّوں میں تقسیم کر دیا ہے اور میرا بندہ جو بھی مانگے وہ اسے ملے گا۔“ جب بندہ کہتا ہے: حمد و ثنا اللہ کے لئے ہے جو سارے عالم کا رب ہے، تو اللہ عزّ وجلّ کہتا ہے: ”میرے بندے نے میری حمد (تعریف) کی“ اور جب وہ کہتا ہے: جو مہربان اور رحم کرنے والا ہے، تو اللہ عزّ وجلّ کہتا ہے: ”میرے بندے نے میری ثنا کی“ اور جب وہ کہتا ہے: اس دن کا مالک ہے جب اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، تو اللہ عزّ وجلّ کہتا ہے: ”میرے بندے نے میری بڑائی اور بزرگی بیان کی۔“ اور جب وہ کہتا ہے: ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، تو اللہ کہتا ہے: ”یہ میرے اور میرے بندے کے بیچ مشترک طور سے ہے۔ اور میرے بندے کو وہ چیز ملے گی جو اس نے مانگی۔“ اور جب وہ کہتا ہے: ہم کو سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا جو نہ معتوب ہوئے اور نہ گمراہ ہوئے، تو اللہ کہتا ہے: ”یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کو وہ چیز ملے گی جو اس نے مانگی۔“
حوالہ: (مسلم)
47
حدیث نمبر 47
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے آدم کے بیٹے، تو میری عبادت کے لئے فرصت نکال، تو میں تیرے سینے (دل کو) غنا اور بے نیازی سے بھر دوں گا۔ تیری محتاجی کو روک دوں گا۔ ورنہ تیرے ہاتھوں کو کام کی زیادتی سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کو نہیں روکوں گا۔“
حوالہ: (احمد، ابن ماجہ)
روزہ اور عید
48
حدیث نمبر 48
اللہ کے رسولؐ نے کہا کہ اللہ عزّ وجلّ فرماتا ہے: ”روزہ ایک ڈھال ہے۔ اس ڈھال سے بندہ دوزخ کی آگ سے بچایا جاتا ہے۔ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔“
حوالہ: (احمد)
49
حدیث نمبر 49
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”بندوں میں سے وہ بندہ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے جو روزہ کھولنے میں جلدی کرتا ہے۔“
حوالہ: (ترمذی)
50
حدیث نمبر 50
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ بندہ اپنی خواہشات کو اور اپنے کھانے پینے کو میرے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ ایک ڈھال ہے اور روزے دار کے حصّے میں دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی تو اسے اس وقت ملتی ہے، جب وہ روزہ کھولتا ہے اور ایک خوشی اسے اس وقت ہوگی جب وہ اپنے رب سے ملے گا۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے یہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے۔“
حوالہ: (بخاری، مسلم، مالک، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
51
حدیث نمبر 51
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ آدم کے بیٹے کے ہر عمل کا ثواب دس گنے سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”مگر روزہ کی بات اور ہے کیونکہ روزہ میرے ہی لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ بندہ اپنی خواہشات اور اپنے کھانے کو میرے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی تو روزہ کھولنے کے وقت ہوتی ہے اور ایک اپنے رب سے ملاقات کرتے وقت ہوگی۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کی نگاہ میں مشک کی بو سے زیادہ بہتر ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ اس لئے جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو نہ تو گندی بات زبان پر لائے اور نہ شور مچائے۔ اور اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔“
حوالہ: (بخاری و مسلم)
52
حدیث نمبر 52
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں جن کی دعا رد نہیں کی جاتی۔ ایک روزے دار جب وہ روزہ کھولے، دوسرا انصاف کرنے والا امام (حاکم) اور تیسرا جس پر ظلم ہوا ہو۔ اس کی دعا کو جس پر ظلم ہوا ہو، اللہ تعالیٰ بادلوں کے اوپر اٹھا لیتا ہے اور آسمان کے دروازے مظلوم کی دعا کے لئے کھول دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ”مجھے اپنی عزّت کی قسم، میں تیری مدد کروں گا اگرچہ یہ مدد کچھ عرصہ کے بعد ہو۔“
حوالہ: (ترمذی)
53
حدیث نمبر 53
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ لیلۃ القدر (رمضان کی ایک مبارک رات) میں حضرت جبرئیلؑ فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ اترتے ہیں۔ اور جو بندے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں لگے ہوتے ہیں چاہے وہ کھڑے ہو کر ذکر کر رہے ہوں یا بیٹھ کر، یہ فرشتے ان کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ پھر جب ان کی عید کا دن یعنی افطار کا دن ہوتا ہے تو اللہ ان کے کاموں پر فخر کرتا ہوا فرشتوں سے کہتا ہے: ”اے میرے فرشتو، جب کوئی مزدور اپنا کام پورا کر لے تو اس کا بدلہ کیا ہے؟“ وہ کہتے ہیں: ”اے ہمارے رب، اس مزدور کا بدلہ یہ ہے کہ اسے اُس کی پوری مزدوری دے دی جائے۔“ اللہ کہتا ہے: ”میرے فرشتو، میرے غلاموں اور میری لونڈیوں نے میرا فرض جو ان پر تھا ادا کر دیا۔ پھر دعا کے الفاظ پکارتے ہوئے نکلے۔ مجھے میری عزّت میرے جلال میرے کرم و فضل اور میری بلندی اور میرے اونچے مرتبہ کی قسم، یقیناً ہی میں ان کی دعا قبول کروں گا۔“ پھر وہ کہتا ہے: ”لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا۔“ آپؐ کہتے ہیں کہ وہ اس حال میں لوٹتے ہیں کہ بخشش ہو چکی ہوتی ہے۔
حوالہ: (بیہقی، شعب الایمان)
جہاد
60
حدیث نمبر 60
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ عزّ وجلّ فرماتا ہے: ”میرے بندوں میں سے جو بندہ اللہ کی راہ میں جہاد کے مقصد سے نکلتا ہے، میں اس کے لئے دو باتوں کی ضمانت لیتا ہوں۔ اگر اس کو واپس لاؤں گا تو اس کو ثواب یا غنیمت کے مال کے ساتھ واپس لاؤں گا اور اگر اسے قبض کر لوں گا (یعنی موت دے دوں گا) تو اسے بخش دوں گا اور اس پر رحم کروں گا۔ اور اسے جنت میں داخل کروں گا۔“
حوالہ: (نسائی)
61
حدیث نمبر 61
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ ایک شخص جنّت والوں میں سے لایا جائے گا۔ اللہ عزّ وجلّ اس سے کہے گا: ”اے آدم کے بیٹے، تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟“ وہ کہے گا کہ اے رب، بہت ہی اچھا ٹھکانہ۔ اللہ کہے گا: ”مانگو اور اپنی خواہش ظاہر کرو۔“ وہ کہے گا کہ میری مانگ یہ ہے کہ مجھے دنیا میں لوٹا دیا جائے کہ میں تیری راہ میں دس بار قتل کیا جاؤں۔ یہ بات وہ شہید ہونے کی فضیلت اور بڑائی دیکھ کر کہے گا۔
حوالہ: (نسائی)
62
حدیث نمبر 62
حضرت مسروقؓ کہتے ہیں کہ ہم نے یا میں نے عبداللہ ابن مسعودؓ سے اس آیت ”جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزی پاتے ہیں“ کا مطلب پوچھا۔ انہوں نے کہا ہم نے اس کا مطلب (اللہ کے رسولؐ) سے پوچھا تھا، تو آپؐ نے کہا کہ شہیدوں کی روحیں ہرے رنگ کی چڑیوں میں رہتی ہیں۔ ان کے لئے عرش سے لٹکی ہوئی قندیلیں ہیں۔ یہ روحیں جنّت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی پھرتی ہیں، پھر ان قندیلوں میں واپس آ کر ٹھہرتی ہیں۔ ان کا رب ان کی طرف رخ کر کے کہتا ہے: ”تم کس چیز کی خواہش رکھتے ہو؟“ وہ شہید کہتے ہیں کہ ہم کس چیز کی خواہش ظاہر کریں، جبکہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں جاتے ہیں۔ اللہ ان سے تین بار اس طرح کا سوال کرتا ہے۔ جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ان سے سوال کا سلسلہ جاری ہے، تو وہ کہتے ہیں اے رب، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے بدن میں پھر لوٹا دیا جائے تاکہ ہم تیری راہ میں دوبارہ قتل کئے جائیں۔ پھر جب اللہ دیکھتا ہے کہ ان کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے، تو انہیں چھوڑ دیتا ہے۔
حوالہ: (مسلم)
63
حدیث نمبر 63
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ ہمارا رب دو آدمیوں سے بہت خوش ہوتا ہے۔ ایک تو وہ آدمی جو اپنے نرم بستر اور لحاف سے اور اپنی پیاری بیوی کے پاس سے نماز کے لئے اٹھا۔ اللہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے: ”میرے بندے کو دیکھو، جو میرے پاس کی چیزوں (جنت اور ثواب) کے شوق میں اور میرے پاس کی چیزوں (دوزخ اور عذاب) کے ڈر سے اپنے فرش اور نرم بستر اور اپنی پیاری بیوی کو چھوڑ کر اپنی نماز ادا کرنے کے لئے اٹھا ہے۔“ اور دوسرا آدمی وہ جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن کے مقابلہ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ پھر اس نے محسوس کیا کہ بھاگنے میں کتنا گناہ اور لوٹ کر لڑنے میں کتنا ثواب ہے، تو وہ لوٹ پڑا اور دشمن سے لڑا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ یہ دیکھ کر اللہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے: ”میرے بندے کو دیکھو، جو میرے پاس کی چیزوں (جنّت اور ثواب) کے شوق میں اور میرے پاس کی چیزوں (دوزخ اور عذاب) کے ڈر سے (لڑائی کے میدان میں) لوٹ آیا یہاں تک کہ اپنی جان دے دی۔“
حوالہ: (شرح السنۃ)
لوگوں کے ساتھ
69
حدیث نمبر 69
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ تو بات کرے گا اور نہ ان کی طرف رحمت کی نظر کرے گا۔ ایک وہ شخص جس نے خریدار سے کسی مال پر جھوٹی قسم کھا کر کہا کہ مجھے اس مال کا اس قیمت سے زیادہ مل رہا تھا جو اس وقت لگائی گئی۔ دوسرا وہ شخص جو عصر کی نماز کے بعد جھوٹی قسم اس لئے کھاتا ہے کہ اس سے کسی مسلمان کا مال مار لے۔ اور تیسرا وہ شخص جس نے ضرورت سے بڑھ کر پانی کو روک لیا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: ”جس طرح تم نے اس ضرورت سے بڑھ کر پانی کو روکا جس میں تیری محنت کو کوئی دخل نہ تھا، اسی طرح میں نے آج اپنے فضل (مہربانی) کو تجھ سے روک لیا۔“
حوالہ: (بخاری و مسلم)
70
حدیث نمبر 70
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”تین آدمی ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن میں جھگڑوں گا۔ ایک وہ شخص جس نے میری قسم کھا کر وعدہ کیا پھر اسے توڑ دیا۔ دوسرا وہ شخص جو کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھا گیا اور تیسرا وہ شخص جس نے ایک مزدور کو مزدوری پر لگایا اور اس سے پورا پورا کام لیا لیکن اس کی مزدوری اس کو نہیں دی۔“
حوالہ: (بخاری، ابن ماجہ، احمد)
71
حدیث نمبر 71
حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولؐ کو یہ کہتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں اللہ ہوں اور میں رحمٰن ہوں۔ میں نے رشتہ ناطے کو پیدا کیا اور اپنے نام سے اس کا نام نکالا۔ اس لئے جس کسی نے اسے جوڑا، میں اسے جوڑوں گا اور جس نے اسے توڑا، میں اسے منتشر کر دوں گا۔“
حوالہ: (ابو داؤد)
72
حدیث نمبر 72
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ ایک شخص نے کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا تھا، البتہ وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ جب وہ اپنے آدمی کو تقاضے کے لئے بھیجتا، تو کہتا تھا کہ جو آسانی سے وصول ہو جائے وہ لے لینا اور جس کو وصولی میں مشکل پیش آئے اسے چھوڑ دینا اور درگزر سے کام لینا، شاید اللہ تعالیٰ ہم سے بھی درگزر کرے۔ جب اس شخص کا انتقال ہوا تو اللہ تعالیٰ نے کہا: ”کیا تو نے کوئی نیک عمل کیا ہے؟“ اس نے کہا نہیں، البتہ ایک لڑکا میرا ملازم تھا، میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور جب اسے تقاضے کے لئے بھیجتا تو اس سے کہہ دیا کرتا تھا کہ جو آسانی سے وصول ہو جائے وہ لے لینا اور جس کی وصولی میں مشکل پیش آئے اسے چھوڑ دینا۔ اور (تنگ دست کے معاملہ میں) درگزر سے کام لینا، شاید اللہ تعالیٰ ہم سے بھی درگزر کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے تجھ سے درگزر کیا۔“
حوالہ: (نسائی)
جنت، دوزخ
85
حدیث نمبر 85
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے: ”میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی آدمی کے دل میں اس کا خیال آیا۔“ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ”جیسی کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے (نیک لوگوں کے لئے) چھپا کر رکھی گئی ہے، اسے کوئی نہیں جانتا۔“ [سورہ السجدہ: 17]
حوالہ: (بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ)
86
حدیث نمبر 86
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ جب اللہ نے جنت اور دوزخ کو پیدا کیا، تو حضرت جبرئیلؑ کو جنت کی طرف بھیجا اور کہا: ”جنت کو اور جو چیزیں میں نے جنت والوں کے لئے تیار کر رکھی ہیں ان کو دیکھو۔“ آپؐ نے فرمایا کہ حضرت جبرئیلؑ جنت میں آئے اور جنت کی نعمتوں کو جو اللہ نے جنت والوں کے لئے تیار کر رکھی ہیں ان کو دیکھا۔ آپؐ کہتے ہیں کہ پھر وہ اللہ کے پاس واپس آئے اور کہا کہ تیری عزّت کی قسم، جو بھی اُن کے بارے میں سنے گا جنت میں داخل ہو کر رہے گا۔ پھر اللہ نے جنت کے بارے میں حکم دیا اور وہ ناگوار چیزوں (تکلیفوں اور مشقتوں) سے گھیر دی گئی۔ پھر جبرئیلؑ سے کہا: ”لوٹ کر جنت کی طرف جاؤ اور دیکھو کہ میں نے جنت والوں کے لئے کیا کچھ اُس میں تیار کر رکھا ہے۔“ وہ جنت کی طرف گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ناگوار چیزوں سے گھری ہوئی ہے۔ وہ لوٹے اور کہا، تیری عزت کی قسم، مجھے تو ڈر ہے کہ اب کوئی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔ اللہ نے (جب دوزخ کو پیدا کیا تو حضرت جبرئیلؑ سے) کہا: ”دوزخ کی طرف جاؤ اور اسے دیکھو اور اسے بھی جو میں نے دوزخ والوں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔“ وہ کیا دیکھتے ہیں جہنم کی لپٹیں ایک دوسرے پر چھا رہی ہیں۔ وہ اللہ کے پاس لوٹ آئے اور کہا، تیری عزت کی قسم، جو کوئی بھی ان کے بارے میں سنے گا وہ کبھی بھی اس میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرے گا۔ پھر اللہ نے دوزخ کے بارے میں حکم دیا، تو اُسے چاہتوں اور خواہشوں سے گھیر دیا گیا۔ پھر اللہ نے (جبرئیلؑ سے) کہا: ”دوزخ کی طرف لوٹ کر (دوبارہ) جاؤ۔“ حضرت جبرئیلؑ اس کی طرف گئے اور واپس آ کر کہا کہ تیری عزت کی قسم، مجھے یہ ڈر ہے کہ دوزخ میں داخل ہونے سے کوئی نہ بچ سکے گا۔
حوالہ: (ترمذی، ابو داؤد)
87
حدیث نمبر 87
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا کہ اللہ اس شخص سے جو قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب میں ہوگا کہے گا: ”اگر زمین کی ساری چیزیں تیرے قبضے میں ہوں تو کیا تُو اس کو اس کے بدلے میں دے دے گا کہ تو عذاب سے چھوٹ جائے؟“ وہ کہے گا ہاں۔ پھر اللہ کہے گا: ”میں نے تو اس سے بھی آسان بات تجھ سے چاہی تھی جب کہ تو آدم کی پشت میں تھا۔ اور یہ کہ تُو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کر، لیکن تو میرا شریک ٹھہرا کر رہا۔“
حوالہ: (بخاری و مسلم)
88
حدیث نمبر 88
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ دوزخ والوں میں سے قیامت کے دن ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں بہت زیادہ خوشحال تھا۔ اس کو دوزخ میں ایک غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اس سے پوچھا جائے گا: ”اے آدم کے بیٹے، کیا تو نے خوشحالی دیکھی؟ کیا تجھ پر عیش و آرام کی کوئی گھڑی گزری؟“ وہ کہے گا: ”اے رب، اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی عیش و آرام نہیں دیکھا۔“ اور جنت والوں میں سے ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں بہت ہی پریشانیوں اور مصیبتوں میں گھر ا رہ چکا ہوگا۔ اس کو جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا: ”اے آدم کے بیٹے، کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی اور تجھ پر کبھی مشکل وقت گزرا؟“ وہ کہے گا: ”اے رب، نہیں۔ نہ تو مجھ پر کبھی کوئی تکلیف گزری؟ اور نہ کبھی کوئی مشکل گھڑی دیکھی۔“
حوالہ: (مسلم)