Wednesday, April 16, 2014

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Al-Kahf (18)Aya,18

وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ وَكَلْبُهُم بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا

اور (اے سننے والے!) تو انہیں (دیکھے تو) بیدار خیال کرے گا حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم (وقفوں کے ساتھ) انہیں دائیں جانب اور بائیں جانب کروٹیں بدلاتے رہتے ہیں، اور ان کا کتا (ان کی) چوکھٹ پر اپنے دونوں بازو پھیلائے (بیٹھا) ہے، اگر تو انہیں جھانک کر دیکھ لیتا تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا اور تیرے دل میں ان کی دہشت بھر جاتی،

And you would think they were awake while they were asleep. We turned them on their sides, right and left. And their dog had its forelegs stretched out to the doorstep. If you had a look at them, you would have fled away from them and would have been filled with awe of them.

ایک آنکھ بند ایک کھلی

یہ سو رہے ہیں لیکن دیکھنے والا انہیں بیدار سمجھتا ہے کیونکہ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں ۔ مذکور ہے کہ بھیڑیا جب سوتا ہے تو ایک آنکھ بند رکھتا ہے ، ایک کھلی ہوتی ہے پھر اسے بند کر کے اسے کھول دیتا ہے ۔

جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں اور دشمنوں سے بچانے کے لئے تو اللہ نے نیند میں بھی ان کی آنکھیں کھلی رکھی ہیں اور زمین نہ کھا جائے ، کروٹیں گل نہ جائیں اس لئے اللہ  تعالیٰ انہیں کروٹیں بدلوا دیتا ہے ، کہتے ہیں سال بھر میں دو مرتبہ کروٹ بدلتے ہیں ۔ ان کا کتا بھی انگنائی میں دروازے کے پاس مٹی میں چوکھٹ کے قریب بطور پہر یدار کے بازو زمین پر ٹکاتے ہوئے بیٹھا ہوا ہے دروازے کے باہر اس لئے ہے کہ جس گھر میں کتا تصویر جنبی اور کافر شخص ہو اس گھر میں فرشتے نہیں جاتے ۔ جیسے کہ ایک حسن حدیث میں وارد ہوا ہے ۔ اس کتے کو بھی اسی حالت میں نیند آ گئی ہے ۔ سچ ہے بھلے لوگوں کی صحبت بھی بھلائی پیدا کرتی ہے دیکھئے نا اس کتے کی کتنی شان ہو گئی کہ کلام اللہ میں اس کا ذکر آیا ۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے کسی کا یہ شکاری کتا پلا ہوا تھا ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بادشاہ کے باورچی کا یہ کتا تھا ۔ چونکہ وہ بھی ان کے ہم مسلک تھے ۔ ان کے ساتھ ہجرت میں تھے ۔ ان کا کتا ان کے پیچھے لگ گیا تھا ۔ واللہ اعلم ۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں حضرت ذبیح اللہ کے بدلے جو مینڈھا ذبح ہوا اس کا نام جریر تھا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو جس ہدہد نے ملکہ سبا کی خبر دی تھی اس کا نام عنفر تھا اور اصحاب کہف کے اس کتے کا نام قطیر تھا اور بنی اسرائیل نے جس بچھڑے کی پوجا شروع کی تھی اس کا نام مہموت تھا ۔ حضرت آدم علیہ السلام بہشت بریں سے ہند میں اترے تھے ، حضرت حواجدہ میں ابلیس دشت بیسان میں اور سانپ اصفہان میں ۔ ایک قول ہے کہ اس کتے کا نام حمران تھا ۔ نیز اس کتے کے رنگ میں بھی بہت سے اقوال ہیں ، لیکن ہمیں حیرت ہے کہ اس سے کیا نتیجہ ؟ کیا فائدہ ؟ کیا ضرورت ؟ بلکہ عجب نہیں کہ ایسی بحثیں ممنوع ہوں۔ اس لئے کہ یہ تو آنکھیں بند کر کے پتھر پھینکنا ہے بےدلیل زبان کھولنا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں وہ رعب دیا ہے کہ کوئی انہیں دیکھ ہی نہیں سکتا یہ اس لئے کہ لوگ ان کا تماشہ نہ بنا لیں کوئی جرات کر کے ان کے پاس نہ چلا جائے کوئی انہیں ہاتھ نہ لگا سکے وہ آرام اور چین سے جب تک حکمت الہی متقضی ہے باآرام سوتے رہیں ۔ جو انہیں دیکھتا ہے مارے رعب کے کلیجہ تھر تھرا جاتا ہے ۔ اسی وقت الٹے پیروں واپس لوٹتا ہے ، انہیں نظر بھر کر دیکھنا بھی ہر ایک کے لئے محال ہے ۔

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 952        حدیث مرفوع         مکررات 15 متفق علیہ 12 بدون مکرر

ابوکریب، محمد بن علاء ہمدانی، ابواسامہ، ولید ابن کثیر، سعید بن ابی سعید مقبری، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی پھر مڑے اور فرمایا اے فلاں تم نے اپنی نماز اچھی طرح ادا کیوں نہیں کی کیا نمازی کو دکھائی نہیں دیتا ہے کہ اس نے کس طرح نماز ادا کی ہے حالانکہ وہ اپنے ہی لئے نماز ادا کرتا ہے اور اللہ کی قسم میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح اپنے آگے دیکھتا ہوں۔

Abu Huraira reported: One day the Messenger of Allah (may peace be upon him) led the prayer. Then turning (towards his Companions) he said: 0 you, the man, why don't you say your prayer well? Does the observer of prayer not see how he is performing the prayer for he performs it for himself? By Allah, I see behind me as I see in front of me.

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah