Saturday, March 28, 2015

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Al-Muminoon (23) Aya,61,62

أُوْلَئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ

وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا وَلَدَيْنَا كِتَابٌ يَنطِقُ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

یہی لوگ بھلائیوں (کے سمیٹنے میں) جلدی کر رہے ہیں اور وہی اس میں آگے نکل جانے والے ہیں،

اور ہم کسی جان کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی استعداد کے مطابق اور ہمارے پاس نوشتۂ (اَعمال موجود) ہے جو سچ سچ کہہ دے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا،

61. It is these who hasten in every good work, and these who are foremost in them.

62. On no soul do We place a burden greater than it can bear: before Us is a record which clearly shows the truth: they will never be wronged.

٣ ف سو ان آیات کریمات سے ایک تو اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ  تعالیٰ کے یہاں کامیابی اور فائز المرامی کی اساس و بنیاد ذات پات یا کسی قوم قبیلے پر نہیں۔ بلکہ انسان کے اپنے کردار و عمل اور اسکے اخلاق و صفات پر ہے۔ کیونکہ کسی قوم یا قبیلے سے ہونا یا کسی ذات پات سے تعلق رکھنا انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اور غیر اختیاری امور معیار فضیلت نہیں بن سکتے، بلکہ فضیلت و شرف کا مدار و انحصار انسان کے اپنے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر ہے، اور یہاں پر فائز المرام لوگوں کی جن صفات کو ذکر فرمایا گیا، ان میں سے پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عظمت اور اسکے خوف و خشیت سے ڈرتے رہتے ہیں۔ سو خوف وخشت خداوندی اصلاح احوال اور فوز و فلاح سے سرفرازی کیلئے اولین اساس ہے۔ اسکے بعد دوسری صفت ان کی یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں، اور تیسری صفت یہ کہ وہ اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ اور چوتھی صفت یہ کہ وہ جو کچھ دیتے اور خرچ کرتے ہیں وہ اپنے رب کی رضا و خوشنودی کیلئے کرتے ہیں، اور ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے بہرحال لوٹ کر اپنے رب کے یہاں جانا ہے۔ سو ایسے خوش نصیبوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہیں وہ خوش نصیب لوگ جو نیکیوں اور بھلائیوں کی راہ میں آگے بڑھتے اور اس میں سبقت لے جانے والے ہیں، اور یہی ہیں وہ جو اپنی ان نیکیوں کے ثمرات پا کر رہیں گے۔ و باللہ التوفیق لما یُحِبُّ ویرید، وعلٰی ما یُحِبُّ ویرید، بِکُلِّ حَالٍ مِّنَ الاحوال، وفی کل موطنٍ مِّنَ المواطن فی الحیاۃ،

ف١٣ یعنی اوپر جو اعمال و خصال بیان کیے گئے کوئی ایسے مشکل کام نہیں جن کا اٹھانا انسانی طاقت سے باہر ہو۔ ہماری یہ عادت نہیں کہ لوگوں کو تکلیف مالایطاق دی جائے۔ یہ سب باتیں وہ ہیں جن کو اگر توجہ کرو تو بخوبی حاصل کر سکتے ہو۔ اور جو لوگ سابقین کاملین کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتے انھیں بھی اپنی وسعت و ہمت کے موافق پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اسی کے مکلف ہیں۔ ہمارے یہاں صحائف اعمال میں درجہ بدرجہ ہر ایک کے اعمال لکھے ہوئے موجود ہیں جو قیامت کے دن سب کے سامنے کھول کر رکھ دیئے جائیں گے اور ان ہی کے موافق جزا دی جائے گی جس پر رتی برابر ظلم نہ ہوگا نہ کسی کی نیکی ضائع ہوگی۔ نہ اجر کم کیا جائے گا، نہ بےوجہ بےقصور دوسرے کا بوجھ اس پر ڈالا جائے گا۔

سنن ابن ماجہ:جلد دوم:حدیث نمبر 155           حدیث مرفوع              مکررات  21   متفق علیہ 11

عیسی بن حماد، لیث بن سعد، عبداللہ بن سعد، عبداللہ بن ابی ملیکہ، مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کو فرماتے سنا ، جب آپ منبر پر تھے کہ بنی ہشام بن المغیرہ نے مجھ سے اجازت مانگی کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کر دیں ؟ میں کبھی اجازت نہیں دیتا۔ کبھی اجازت نہیں دیتا۔ کبھی اجازت نہیں دیتا (تین بار ارشاد فرمایا) ہاں ! یہ ہوسکتا ہے کہ علی میری بیٹی (فاطمہ) کو طلاق دے اور ان کی بیٹی سے نکاح کرلے۔ اس لئے کہ فاطمہ میرا (جگر کا) ٹکڑا ہے اور جو اسے ناگوار لگے مجھے بھی لگتی ہے اور جس سے اسے صدمہ پہنچے مجھے بھی اس سے تکلیف ہوتی ہے ۔

It was narrated that Mishwar bin Makhramah said: "I heard the Messenger of Allah P.B.U.H when he was on the pulpit, say: 'Banu Hisham bin Mughirah asked me for permission to marry their daughter to 'Ali bin Abu Talib, but I will not give them permission, and I will not give them permission, and I will not give them permission, unless 'Ali bin Abu Talib wants to divorce my daughter and marry their daughter, for she is a part of me, and what bothers her bothers me, and what upsets her upsets me.''' (Sahih)

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah