Monday, October 20, 2014

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Taa-haa (20) Aya,120

فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَى

پس شیطان نے انہیں (ایک) خیال دلا دیا وہ کہنے لگا: اے آدم! کیا میں تمہیں (قربِ الٰہی کی جنت میں) دائمی زندگی بسر کرنے کا درخت بتا دوں اور (ایسی ملکوتی) بادشاہت (کا راز) بھی جسے نہ زوال آئے گا نہ فنا ہوگی،

Then the Satan instigated him. He said, :‘Adam, shall I guide you to the tree of eternity and to an empire that does not decay?

٤ ف سو ابلیس نے ان کو یہ دھوکہ دیا کہ میں تم کو شَجَرَۃُ الُخُلْد یعنی ہمیشہ کی زندگی سے سرفراز کرنے والے درخت کی خبر دیتا ہوں، اور ایک ایسی عظیم الشان بادشاہی کا پتہ دیتا ہوں جس کو کبھی زوال نہیں ہوگا۔ سو تمہاری زندگی بھی ہمیشہ کی ہوگی۔ اور تمہاری بادشاہی بھی ہمیشہ کی اور لازوال ہوگی۔ اور ساتھ ہی اس نے قسمیں کھا کھا کر ان کو اس بات کا یقین دلایا کہ میں تمہارا پکا سچا خیر خواہ ہوں۔ جس سے وہ دونوں اسکے دھوکے میں آگئے۔ اور جس چیز سے ان کو روکا گیا تھا اس کا ارتکاب کر بیٹھے، کیونکہ یہ بات ان کے تصور سے بھی باہر تھی کہ کوئی خدا کی قسم کھا کر بھی جھوٹ بول سکتا ہے،

مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 182

" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں ایک درخت ہے ( جس کا نام طوبی ہے ) اگر کوئی سوار اس درخت کے سائے میں سو برس تک چلتا رہے تب بھی اس کی مسافت ختم نہ ہوگی اور جنت میں تمہارے کمان کی برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر وبرتر ہے جن پر آفتاب طلوع یا غروب ہوتا ہے " ۔ " (بخاری ومسلم )

تشریح :

" جن پر آفتاب طلوح وغروب ہوتا ہے ۔ " سے مراد تمام دنیا اور دنیا کی تمام چیزیں ہیں ۔ " طلوع یا غروب " میں حرف " یا " یا تو راوی کے شک کو ظاہر کرنے کے لئے ہے یا اظہار حیرت کے لئے ہے ، یا " اور " کے معنی میں ہے اس طرح کی پہلے جو حدیث گزری ہے اس میں " ایک کوڑے کے برابر جگہ " کا ذکر ہے اور یہاں " ایک کمان کی برابر جگہ " کا ذکر کیا گیا ہے تو دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، اور یہاں بھی وہی وضاحت پیش نظر رہنی چاہئے جو پہلے بیان ہوچکی ہے، التبہ اس فرق کو سامنے رکھنا چاہئے کہ سفر کے دوران سوار تو اترنے کی جگہ اپنا کوڑا ڈال دیا کرتا تھا اور جو شخص پیدل ہوتا تھا وہ جس جگہ ٹھہرنا چاہتا وہاں اپنی کمان ڈال دیتا تھا تاکہ وہ جگہ اس کے ٹھہرنے کے لئے مخصوص ہو جائے ۔

Narrated Abu Said Al-Khudri (May Allah Subhanahu wa ta'ala be pleased with him)

 

Allah's Apostle said, "When the believers pass safely over (the bridge across) Hell, they will be stopped at a bridge in between Hell and Paradise where they will retaliate upon each other for the injustices done among them in the world, and when they get purified of all their sins, they will be admitted into Paradise. By Him in Whose Hands the life of Muhammad is everybody will recognize his dwelling in Paradise better than he recognizes his dwelling in this world."

 

Sahih Bukhari:Volume 3, Book 43, Number 620

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah