Thursday, October 23, 2014

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Taa-haa (20) Aya,124

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى٤]

اور جس نے میرے ذکر (یعنی میری یاد اور نصیحت) سے روگردانی کی تو اس کے لئے دنیاوی معاش (بھی) تنگ کردیا جائے گا اور ہم اسے قیامت کے دن (بھی) اندھا اٹھائیں گے،

As for the one who turns away from My message, he shall have a straitened life, and We shall raise him blind on the Day of Judgment.

ف ٦  جو آدمی اللہ کی یاد سے غافل ہو کر محض دنیا کی فانی زندگی ہی کو قبلہ مقصود سمجھ بیٹھا ہے، اس کی گزران مکدّر اور تنگ کر دی جاتی ہے گو دیکھنے میں اس کے پاس بہت کچھ مال و دولت اور سامان عیش و عشرت نظر آئیں۔ مگر اس کا دل قناعت و توکل سے خالی ہونے کی بناء پر ہر وقت دنیا کی مزید حرص، ترقی کی فکر اور کمی کے اندیشہ میں بے آرام رہتا ہے۔ کسی وقت ننانوے کے پھیر سے قدم باہر نہیں نکلتا۔ موت کا یقین اور زوالِ دولت کے خطرات الگ سوہان روح رہتے ہیں۔ یورپ کے اکثر متنعّمین کو دیکھ لیجئے کسی کو رات دن میں دو گھنٹے اور کسی خوش قسمت کو تین چار گھنٹے سونا نصیب ہوتا ہوگا۔ بڑے بڑے کروڑ پتی دنیا کے مخمصوں سے تنگ آکر موت کو زندگی پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اس نوع کی خود کشی کی بہت مثالیں پائی گئی ہیں۔ نصوص اور تجربہ اس پر شاہد ہیں کہ اس دنیا میں قلبی سکون اور حقیقی اطمینان کسی کو بدون یادِ الٰہی کے حاصل نہیں ہو سکتا۔ (اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ) 13۔ الرعد:28) " لیکن " ذوق این بادہ ندانی بخدا تانہ چشی" بعض مفسرین نے "معیشۃِ ضنک" کے معنی لیے ہیں وہ زندگی جس میں خیر داخل نہ ہو سکے۔ گویا خیر کو اپنے اندر لینے سے تنگ ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ ایک کافر جو دنیا کے نشہ میں بدمست ہے اس کا سارا مال و دولت اور سامان عیش و تنعم آخرکار اس کے حق میں وبال بننے والا ہے۔ جس خوشحالی کا انجام چند روز کے بعد دائمی تباہی ہو۔ اسے خوشحالی کہنا کہاں زیبا ہے بعض مفسرین نے "مَعِیْشَۃً ضَنْکًا" سے قبر کی برزخی زندگی مراد لی ہے۔ یعنی قیامت سے پہلے اس پر سخت تنگی کا ایک دور آئے گا جبکہ قبر کی زمین بھی اس پر تنگ کر دی جائے گی۔ "معیشۃ ضنک" کی تفسیر عذاب قبر سے بعض صحابہ نے کی ہے بلکہ بزار نے باسناد جید ابو ہریرہ رضی اللہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ بہرحال "معیشۃً ضنکًا" کے تحت میں یہ سب صورتیں داخل ہوسکتی ہیں۔ واللہ اعلم۔

ف٧ یعنی آنکھوں سے اندھا کر کے محشر کی طرف لایا جائے گا۔ اور دل کا بھی اندھا ہوگا کہ کسی حجت کی طرف راستہ نہ پائے گا۔ یہ ابتدائے حشر کا ذکر ہے پھر آنکھیں کھول دی جائیں گی۔ تاکہ دوزخ وغیرہ احوالِ محشر کا معائنہ کرے۔

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 60    حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  23   متفق علیہ 10

ابوالنعمان، ابوعوانہ، ابی بشر، یوسف بن ماہک، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے، جب آپ ہمارے قریب پہنچے تو نماز میں تاخیر ہونے (کی وجہ سے) ہم (جلد جلد) وضو کر رہے تھے، اسی وجہ سے ہم اپنے پیروں پر پانی ملنے لگے (کیونکہ دھونے میں دیر ہوتی) پس آپ نے اپنی بلند آواز سے دو یا تین مرتبہ فرمایا کہ (پیروں کے) ٹخنوں کو آگ کے (عذاب) سے خرابی (ہونے والی) ہے۔

Narrated 'Abdullah bin 'Amr: Once the Prophet remained behind us in a journey. He joined us while we were performing ablution for the prayer which was over-due. We were just passing wet hands over our feet (and not washing them properly) so the Prophet addressed us in a loud voice and said twice or thrice: "Save your heels from the fire."

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah