Sunday, January 25, 2015

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Al-Hajj (22) Aya,26,27

وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ

وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ

اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اﷲ (یعنی خانہ کعبہ کی تعمیر) کی جگہ کا تعین کر دیا (اور انہیں حکم فرمایا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا اور میرے گھر کو (تعمیر کرنے کے بعد) طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کر نے والوں اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک و صاف رکھنا،

اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر (سوار) حاضر ہو جائیں گے جو دور دراز کے راستوں سے آتے ہیں،

And (remember) when We pointed out for Ibrahim the place of the House (of Allah) saying, :Do not associate anything with Me as My partner, and purify My House for those who make Tawaf (circumambulation around it), and those who perform Qiyam (standing up in worship) and those who perform Ruku_ (bowing down) and Sujud (prostration),

and announce among people about (the obligation of) Hajj, so that they should come to you on foot, and on every camel turned lean, traveling through every distant hilly pathway,

ف٣ کہتے ہیں کعبہ شریف کی جگہ پہلے سے بزرگ تھی، پھر مدتوں کے بعد نشان نہ رہا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ بیت اللہ تعمیر کرو۔ اس معظم جگہ کا نشان دکھلایا گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ تعمیر کیا۔ (تنبیہ) "مسجد حرام" کا ذکر پہلے آیا تھا اس کی مناسبت سے کعبہ کی بناء کا حال اور اس کے متعلق بعض احکام دور تک بیان کیے گئے ہیں۔

ف٤ یعنی اس گھر کی بنیاد خالص توحید پر رکھو، کوئی شخص یہاں آکر اللہ کی عبادت کے سوا کوئی مشرکانہ رسوم نہ بجا لائے۔ کفار مکہ نے اس پر ایسا عمل کیا کہ وہاں تین سو ساٹھ بت لا کر کھڑے کر دیئے۔ العیاذ باللہ جن کی گندگی سے ہمیشہ کے لیے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے گھر کو پاک کیا۔ فللّٰہ الحمد والمنہ۔

ف ٥ یعنی خالص ان ہی لوگوں کے لیے رہے اور سب سے پاک کیا جائے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "پہلی امتوں میں رکوع نہ تھا یہ خاص اسی امت محمدیہ کی نماز میں ہے۔ تو خبر دی کہ آگے لوگ ہوں گے اس کے آباد کرنے والے "وفیہ نظر فتامل"

ف ٦  جب کعبہ تعمیر ہوگیا تو ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پکارا کہ لوگو! تم پر اللہ نے حج فرض کیا ہے حج کو آؤ۔ حق  تعالیٰ نے یہ آواز ہر طرف ہر ایک روح کو پہنچا دی (بلا تشبیہ جیسے آجکل ہم امریکہ یا ہندوستان میں بیٹھ کر لندن کی آوازیں سن لیتے ہیں) جس کے لیے حج مقدر تھا اس کی روح نے لبیک کہا۔ وہ ہی شوق کی دبی ہوئی چنگاری ہے کہ ہزاروں آدمی پا پیادہ تکلیفیں اٹھاتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں اور بہت سے اتنی دور سے سوار ہو کر آتے ہیں کہ چلتے چلتے اونٹنیاں تھک جاتی اور دبلی ہو جاتی ہیں، بلکہ عموماً حاجیوں کو عمدہ سانڈنیاں کہاں ملتی ہیں ان ہی سوکھے دبلے اونٹوں پر منزلیں قطع کرتے ہیں۔ یہ گویا اس دعا کی مقبولیت کا اثر ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی (فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ) 14۔ ابراہیم:34)

و حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا يحيی بن أبي بکير عن إبراهيم بن طهمان حدثني سماک بن حرب عن جابر بن سمرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم إني لأعرف حجرا بمکة کان يسلم علي قبل أن أبعث إني لأعرفه الآن

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1442          حدیث مرفوع              مکررات  6   متفق علیہ 1

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحیی بن ابی بکیر ابراہیم، بن طہمان سماک بن حرب، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں کہ جو مکہ مکرمہ میں میرے مبعوث ہونے سے پہلے مجھ پر سلام کیا کرتا تھا۔

Jabir b. Samura reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: I recognise the stone in Mecca which used to pay me salutations before my advent as a Prophet and I recognise that even now.

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah