Saturday, May 30, 2015

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: An-Noor (24) Aya,61

لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا مِن بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُون

اندھے پر کوئی رکاوٹ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے اور نہ خود تمہارے لئے (کوئی مضائقہ ہے) کہ تم اپنے گھروں سے (کھانا) کھا لو یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں (یعنی جن میں ان کے مالکوں کی طرف سے تمہیں ہر قسم کے تصرّف کی اجازت ہے) یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (کھانا کھا لینے میں مضائقہ نہیں)، تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم سب کے سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ، پھر جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے (گھر والوں) پر سلام کہا کرو (یہ) اللہ کی طرف سے بابرکت پاکیزہ دعا ہے، اس طرح اللہ اپنی آیتوں کو تمہارے لئے واضح فرماتا ہے تاکہ تم (احکامِ شریعت اور آدابِ زندگی کو) سمجھ سکو،

It is no fault in the blind nor in one born lame, nor in one afflicted with illness, nor in yourselves, that ye should eat in your own houses, or those of your fathers, or your mothers, or your brothers, or your sisters, or your father's brothers or your father's sisters, or your mohter's brothers, or your mother's sisters, or in houses of which the keys are in your possession, or in the house of a sincere friend of yours: there is no blame on you, whether ye eat in company or separately. But if ye enter houses, salute each other - a greeting of blessing and purity as from Allah. Thus does Allah make clear the signs to you: that ye may understand.

ف ٦  یعنی جو کام تکلیف کے ہیں وہ ان کو معاف ہیں مثلاً جہاد، حج، جمعہ اور جماعت اور ایسی چیزیں ۔ (کذافی الموضح) یا یہ مطلب ہے کہ ان معذور محتاج لوگوں کو تندرستوں کے ساتھ کھانے میں کچھ حرج نہیں ۔ جاہلیت میں اس قسم کے محتاج و معذور آدمی اغنیاء اور تندرستوں کے ساتھ کھانے سے رکتے تھے انھیں خیال گزرتا تھا کہ شاید لوگوں کو ہمارے ساتھ کھانے سے نفرت ہو اور ہماری بعض حرکات و اوضاع سے ایذاء پہنچتی ہو، اور واقعی بعضوں کو نفرت و وحشت ہوتی بھی تھی۔ نیز بعض مومنین کو غایت اتقاء سے یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسے معذوروں اور مریضوں کے ساتھ کھانے میں شاید اصول عدل و مساوات قائم نہ رہ سکے۔ اندھے کو سب کھانے نظر نہیں آتے لنگڑا ممکن ہے دیر میں پہنچے اور مناسب نشست سے نہ بیٹھ سکے۔ بیمار کا تو پوچھنا ہی کیا ہے اس بناء پر ساتھ کھلانے میں احتیاط کرتے تھے کہ ان کی حق تلفی نہ ہو ۔ دوسری ایک اور صورت پیش آتی تھی کہ یہ معذور محتاج لوگ کسی کے پاس گئے، وہ شخص استطاعت نہ رکھتا تھا، ازراہ بےتکلفی ان کو اپنے باپ، بھائی، بہن، چچا، ماموں وغیرہ کسی عزیز و قریب کے گھر لے گیا۔ اس پر ان حاجت مندوں کو خیال ہوتا تھا کہ ہم تو آئے تھے اس کے پاس، یہ دوسرے کے ہاں لے گیا۔ کیا معلوم وہ ہمارے کھلانے سے کارہِ اور ناخوش تو نہیں ۔ ان تمام خیالات کی اصلاح آیت حاضرہ میں کر دی گئی کہ خوا ہی نہ خواہی اس طرح کے اوہام و وساوس میں مت پڑو ۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے پھر تم خود اپنے اوپر تنگی کیوں کرتے ہو ۔

ف١ یعنی تمہارے زیر تصرف دیا گیا ہو ۔ مثلاً کسی نے اپنی چیز کا وکیل یا محافظ بنا دیا اور بقدر معروف اس میں سے کھانے پینے کی اجازت دے دی۔

ف٢ یعنی اپنایت کے علاقوں میں کھانے کی چیز کو ہر وقت پوچھنا ضروری نہیں ۔ نہ کھانے والا حجاب کرے نہ گھر والا دریغ کرے۔ مگر عورت کا گھر اگر اس کے خاوند کا ہو ۔ اس کی مرضی حاصل کرنی چاہیے اور مل کر کھاؤ یا جدا یعنی اس کی تکرار دل میں نہ رکھے کہ کسی نے کم کھایا کس نے زیادہ۔ سب نے مل کر پکایا سب نے مل کر کھایا۔ اور اگر ایک شخص کی مرضی نہ ہو تو پھر کسی کی چیز کھانی ہرگز درست نہیں اور تقید فرمایا سلام کا آپس کی ملاقات میں ۔ کیونکہ اس سے بہتر دعا نہیں ۔ جو لوگ اس کو چھوڑ کر اور الفاظ گھڑتے ہیں اللہ کی تجویز سے ان کی تجویز بہتر نہیں ہو سکتی۔ (تنبیہ) آیت سے تنہا کھانے کا جواز بھی نکلا۔ بعض حضرات کو لکھا ہے کہ جب تک کوئی مہمان ساتھ نہ ہو کھانا نہ کھاتے تھے۔ معلوم ہوا یہ غلو ہے۔ البتہ اگر کئی کھانے والے ہوں اور اکٹھے بیٹھ کر کھائیں تو موجب برکت ہوتا ہے۔ کما وردفی الحدیث۔

صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 4        حدیث متواتر حدیث مرفوع       مکررات  55   متفق علیہ 22

یحیی بن یحیی، مالک، نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک کا ذکر کیا تو فرمایا تم روزہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو اور افطار نہ کرو یہاں تک کہ تم چاند دیکھ لو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تم پر اس کی مقدار (تعداد پوری ) کرنا لازم ہے۔

Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying in connection with Ramadan: Do not fast till you see the new moon, and do not break fast till you see it; but if the weather is cloudy calculate about it.

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah