Daily update face Book   LINK

Saturday, February 13, 2016

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

Sura:Al-Qasas.(28) 52,53,54

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ

وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ

أُوْلَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ

جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عطا کی تھی وہ (اسی ہدایت کے تسلسل میں) اس (قرآن) پر (بھی) ایمان رکھتے ہیں،

اور جب ان پر (قرآن) پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ ہمارے رب کی جانب سے حق ہے، حقیقت میں تو ہم اس سے پہلے ہی مسلمان (یعنی فرمانبردار) ہوچکے تھے،

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں اور اس عطا میں سے جو ہم نے انہیں بخشی خرچ کرتے ہیں،

[٧٠] سابقہ آیات میں مشرکوں کا حال یہ بتلایا گیا کہ موسیٰ کے معجزات کی بات کرنے کے باوجود نہ تورات پر ایمان لاتے ہیں اور نہ قرآن پر اور اس کی وجہ محض ان کا تعصب اور خواہش نفس کی پیروی ہے۔ اب ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جن کی عادات و خضائل ان کے بالکل برعکس ہیں۔ یعنی وہ خواہش نفس کی کسی وقت بھی پیروی نہیں کرتے۔ بلکہ ہر وقت اللہ کے فرمانبردار بن کر رہتے ہیں۔ تورات نازل ہوئی تو وہ اس پر ایمان لائے۔ اور جب قرآن نازل ہوا تو اس پر ایمان لائے۔

[٧١] اس لئے کہ تورات اور قرآن کی بنیادی تعلیمات آپس میں ملتی جلتی ہیں۔ اور جن لوگوں کے دلوں میں تعصب نہ ہو نہ ہی ان کے ذاتی مفادات قبولِ حق کی راہ میں ان کے آڑے آئیں وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ یہ قرآن بھی اللہ کی طرف ہی نازل شدہ کتاب ہے۔ پھر اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور حقیقت تو یہ کہ وہ پہلے ہی مسلمان تھے۔ اور اب بھی مسلمان ہی رہے۔ کیونکہ اسلام تو دل و جان سے اللہ کی فرمانبرداری کا نام ہے اور وہ ان میں پہلے ہی موجود تھی قرآن میں اس حقیقت کی متعدد مقامات پر صراحت کردی گئی ہے کہ اللہ کے نزدیک قابل قبول دین اسلام یعنی دل و جان سے اللہ کی فرمانبرداری ہی ہے۔ رہا مسئلہ کسی دین کو اس کے پیغمبر کے نام سے منسوب کرنے کا۔ جیسے یہودیت، نصرانیت اور محمدیت وغیرہ تو یہ زمانہ مابعد کی ایجادات ہیں۔ جو لوگوں نے خود ہی رکھ لئے۔ اللہ نے نہیں رکھے تھے۔ ہر نبی پر ایمان لانے والوں کا نام اللہ نے مسلمان ہی رکھا ہے۔

[٧٢] ثابت قدمی سے مراد ایک تو وہ استقلال ہے جو قبولِ حق کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ ان کے دلوں میں اللہ کی فرمانبرداری کا جو مستقل جذبہ موجود تھا۔ اسی نے اسے اس نبی پر ایمان لانے کی ترغیب دی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مذہب تبدیل کرنے میں اور پھر کسی دین کو ابتداًء قبول کرتے وقت ان مسلمانوں کو طرح طرح کی مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مصائب کو بھی انہوں نے صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کیا۔ ایسے لوگوں کے لئے دوہرا اجر ہے ایک پہلے نبی کی کتاب پر لانے کا اور ایک دوسرے نبی اور اس کی کتاب پر لانے کا۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے تین طرح کے آدمیوں کا ذکر کیا ہے جن کو دوہرا اجر ملے گا ان میں سے ایک وہ یہودی یا نصرانی ہے۔ جو پہلے اپنے پیغمبروں پر ایمان رکھتا تھا پھر رسول اللہ پر ایمان لاکر مسلمان ہوگیا۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب فضل اسلم من اہل الکتابین)

[٧٣] یہاں یَدْرَءُ وْنَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور وَرَءَ کے معنی دفع کرنا، دور کرنا یا پرے ہٹانا ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اگر کوئی شخص ان سے برا سلوک کرے یا نقصان پہنچائے تو اس کا جواب برائی یا نقصان سے نہیں شدیتے۔ بلکہ اس سے بھی اچھا سلوک کرتے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی برائی ہوجائے تو بعد میں نیک اعمال کرکے اس برائی کے اثر کو دور کردیتے ہیں۔

[٧٤] جب رزق کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد ہمیشہ طیب اور پاکیزہ رزق ہوتا ہے کیونکہ حرام کی کمائی سے تو صدقہ بھی قبول نہیں ہوتا۔ اور خرچ کرنے سے مراد اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرنا ہے اور جائز کاموں میں بھی یعنی اپنی ذات پر اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی وغیرہ پر اور اس معاملہ سے بخل سے کام نہیں لیتے۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 277 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 19 متفق علیہ 10

احمد بن حنبل، اسماعیل بن ابراہیم، ابوحیان، شعبی، ابن عمر، عمر فرماتے ہیں کہ جس دن شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ قسم کی شراب کے بارے میں تھی، انگور کی شراب، کھجور کی شراب، شہد کی شراب، گہیوں کی شراب اور جو کی شراب اور شراب وہ ہے جس سے عقل زائل ہوجائے اور تین چیزیں ایسی تھیں جن کے بارے میں میں چاہتا تھا کہ حضواکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے جدا نہ ہوجائیں جب تک کہ ہمیں ان کے بارے میں بتلا نہ دیں، ایک تو میراث میں دادا کا حصہ، دوسرے کلالہ کا حکم، تیسرے سود کے چند ابواب و مسائل۔