Monday, September 15, 2014

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Taa-haa (20) Aya, 74,75

إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى

وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُوْلَئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَى

بیشک جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا تو بیشک اس کے لئے جہنم ہے، (اور وہ ایسا عذاب ہے کہ) نہ وہ اس میں مر سکے گا اور نہ ہی زندہ رہے گا،

اور جو شخص اس کے حضور مومن بن کر آئے گا (مزید یہ کہ) اس نے نیک عمل کئے ہوں گے تو ان ہی لوگوں کے لئے بلند درجات ہیں،

74. Verily he who comes to his Lord as a sinner (at Judgment),- for him is Hell: therein shall he neither die nor live.

 

75. But such as come to Him as Believers who have worked righteous deeds,- for them are ranks exalted,-

[٥٢] ایمان لانے والے جادوگروں کا بیان ختم ہو کر اب یہ آیت اور اس سے اگلی دو آیات اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جن میں ساتھ ہی ساتھ تذکیر و نصائح اور اشارات کا سلسلہ بھی حسب دستور چل رہا ہے۔

] ـ٥٣] دنیا کی تکلیفیں خواہ کس قدر زیادہ اور سخت ہوں۔ موت ان سب کا خاتمہ کردیتی ہے اور دوزخ میں کافروں کو سب سے بڑی جو سزا ملے گی وہ یہ ہوگی کہ انھیں موت نہیں آئے گی۔ وہ موت کو ایسی مصیبت کی زندگی پر ترجیح دے گا اور اس کا مطالبہ یہی کرے گا مگر اسے موت نصیب نہ ہوگی۔ اور زندگی موت سے بھی بدتر ہوگی۔

(ف103) یعنی جن کا ایمان پر خاتمہ ہوا ہو اور انہوں نے اپنی زندگی میں نیک عمل کئے ہوں ، فرائض اور نوافل بجا لائے ہوں ۔

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1066          حدیث مرفوع   مکررات 14 متفق علیہ 11

عبداللہ بن مسلمہ مالک ابن شہاب عروہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو امر کے درمیان جب بھی اختیار دیا تو ان میں جو آسان صورت تھی اس کو اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو اگر وہ گناہ ہوتا تو لوگوں میں سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے (یعنی سب سے زیادہ اس سے پرہیز کرتے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا مگر جو شخص حرمت الہیہ کی پردہ دری کرتا یعنی احکام الٰہی کے خلاف کرتا تو اللہ کی خاطر اس سے انتقام لیتے۔

Narrated 'Aisha:

Whenever Allah's Apostle was given the choice of one of two matters he would choose the easier of the two as long as it was not sinful to do so, but if it was sinful, he would not approach it. Allah's Apostle never took revenge over anybody for his own sake but (he did) only when Allah's legal bindings were outraged, in which case he would take revenge for Allah's sake." (See Hadith No. 760. Vol. 4)

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah