November 22, 2014 Saturday

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Al-Anbiyaa (21) Aya,28

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ

وہ (اﷲ) ان چیزوں کو جانتا ہے جو ان کے سامنے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں اور وہ (اس کے حضور) سفارش بھی نہیں کرتے مگر اس کے لئے (کرتے ہیں) جس سے وہ خوش ہوگیا ہو اور وہ اس کی ہیبت و جلال سے خائف رہتے ہیں،

He knows what is in front of them and what is behind them, and they make recommendation for none but for whom He likes, and in awe of Him they are fearful.

[٢٣] مشرکین مکہ دو وجوہ سے فرشتوں کی عبادت کرتے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی اولاد ہیں۔ دوسرے اس لئے کہ وہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اور اللہ کے حضور ہمارے قرب کا ذریعہ ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ سفارشی نہیں کریں گے کیونکہ کتاب و سنت کی رو سے انبیاو و صالحین فرشتوں اور خود قرآن کا سفارش کرنا ثابت ہے۔ بلکہ یوں فرمایا کہ وہ سفارش صرف اس کے حق میں کرسکتیں گے جس کے حق میں سفارش اللہ کو منظور ہو اور اس کی وجہ یہ بتلائی کہ فرشتوں کو علم غیب نہیں ہے۔ انھیں یہ معلوم نہیں کہ جس کے حق میں وہ سفارش کر رہے ہیں اس کے اعمال کی کیا صورت اور کیفیت ہے اور یہ حالات صرف اللہ ہی کو معلوم ہیں۔ اس لئے سفارش صرف انہی کے حق میں کرسکیں گے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور وہ اللہ سے ڈرتے بھی رہتے ہیں پھر اللہ کی اجازت کے بغیر سفارش کیسے کرسکیں گے۔ اب اگر کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسے سفارش کی اجازت ملے گی بھی یا نہیں۔ پھر بالخصوص فلاں شخص کے حق میں ملے گی یا نہیں تو پھر ایسے بے اختیار شفیع اس بات کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں کہ ان کے آگے سر نیاز خم کیا جائے اور اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے ان کے آگے دست سوال دراز کیا جائے یا انھیں پکارا جائے۔

وعن أم سلمة قالت : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي سلمة قد شق بصره فأغمضه ثم قال : " إن الروح إذا قبض تبعه البصر " فضج ناس من أهله فقال : " لا تدعوا على أنفسكم إلا بخير فإن الملائكة يؤمنون على ماتقولون " ثم قال : " اللهم اغفر لأبي سلمة وارفع درجته في المهديين واخلفه في عقبه في الغابرين واغفر لنا وله يا رب العالمين وافسح له في قبره ونور له فيه " . رواه مسلم

مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 98

حضرت ام سلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (میرے پہلے شوہر) حضرت ابوسلمہ کے پاس اس وقت تشریف لائے جب کہ ان کی آنکھیں پتھرا گئیں تھیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں کو بند کیا اور فرمایا کہ جب روح قبض کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ بینائی بھی چلی جاتی ہے۔ ابوسلمہ کے اہل بیت (یہ سن کر) سمجھ گئے کہ ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا چنانچہ وہ سب رونے، چلانے لگے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے نفسوں کے بارہ میں خیر و بھلائی ہی کی دعا کرو (یعنی واویلا اور بد دعا نہ کرو) کیونکہ تم (بری یا بھلی) جس دعا کے بھی الفاظ اپنے منہ سے نکالتے ہو اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ دعا ارشاد فرمائی ۔ (اللہم اغفر لابی سلمہ وارفع درجتہ فی المہدیین واخلفہ فی عقبہ فی الغابرین وغفرلنا ولہ یا رب العالمین وافسح لہ فی قبرہ ونور لہ فیہ)۔ اے اللہ٫ ابوسلمہ کو بخش دے اور اس کا مرتبہ بلند فرما ان لوگوں میں جو سیدھی راہ دکھائے گئے ہیں اور اس کے پسماندگان کا جو باقی رہے ہوئے لوگوں میں ہیں کا رساز بن جا اور اے دونوں جہاں کے پروردگار! ہمیں اور اس کو بخش دے اور اس کی قبر میں کشادگی کر اور اس کے لیے قبر کو منور فرما دے۔ آمین۔ (مسلم)

Abu Huraira (May Allah Subhanahu wa ta'ala be pleased with him) reported Allah's Messenger (May Peace,blessings and mercy of Allah Subhanahu wa ta'ala be on him) as saying: The similitude of mine and that of the Apostles before me is that of a person who built a house quite imposing and beautiful, but for one brick in one of its corners. People would go round it, appreciating the building, but saying: Why has the brick not been fixed here? He said: I am that brick and I am the last of the Apostles.

 

Sahih Muslim:Book 030, Number 5675

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah

web stats