Sunday, July 27, 2014

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Maryam (19)Aya,90 to 93

تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا

أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا

وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا

إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا

کچھ بعید نہیں کہ اس (بہتان) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر جائیں،

کہ انہوں نے (خدائے) رحمان کے لئے لڑکے کا دعوٰی کیا ہے،

اور (خدائے) رحمان کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ (کسی کو اپنا) لڑکا بنائے،

آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی (آباد) ہیں (خواہ فرشتے ہیں یا جن و انس) وہ اللہ کے حضور محض بندہ کے طور پر حاضر ہونے والے ہیں،

At it the skies are ready to burst, the earth to split asunder, and the mountains to fall down in utter ruin, (19:90)

That they should invoke a son for (Allah) Most Gracious. (19:91)

For it is not consonant with the majesty of (Allah) Most Gracious that He should beget a son. (19:92)

Not one of the beings in the heavens and the earth but must come to (Allah) Most Gracious as a servant. (19:93)

(ف151) یعنی یہ کلمہ ایسی بے ادبی و گستاخی کا ہے کہ اگر اللہ تعالٰی غضب فرمائے تو اس پر تمام جہان کا نظام درہم برہم کر دے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ کفار نے جب یہ گستاخی کی اور ایسا بےباکانہ کلمہ منہ سے نکالا تو جن و انس کے سوا آسمان ، زمین ، پہاڑ وغیرہ تمام خَلق پریشانی سے بےچین ہو گئی اور قریب ہلاکت کے پہنچ گئی ملائکہ کو غضب ہوا اور جہنم کو جوش آیا پھر اللہ تعالٰی نے اپنی تنزیہ بیان فرمائی ۔

ف١٠ یعنی یہ ایسی بھاری بات کہی گئی اور ایسا سخت گستاخانہ کلمہ منہ سے نکالا گیا جسے سن کر اگر آسمان زمین اور پہاڑ مارے ہول کے پھٹ پڑیں اور ٹکڑیں ٹکڑے ہوجائیں تو کچھ بعید نہیں۔ اس گستاخی پر اگر غضب الٰہی بھڑک اٹھے تو عالم تہ و بالا ہو جائے اور آسمان و زمین تک کے پرخچے اڑ جائیں۔ محض اس کا حلم مانع ہے کہ ان بیہودگیوں کو دیکھ کر دنیا کو ایک دم تباہ نہیں کرتا۔ جس خداوند قدوس کی توحید پر آسمان، زمین، پہاڑ، غرض ہر علوی و سفلی چیز شہادت دے رہی ہے، انسان کی یہ جسارت کہ اس کے لیے اولاد کی احتیاج ثابت کرنے لگے۔ العیاذ باللہ۔

ف١١ اس کی شان تقدیس و تنزیہ اور کمال غنا کے منافی ہے کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔ نصاریٰ جس غرض کے لیے اولاد کے قائل ہوئے ہیں یعنی کفارہ کے مسئلہ، خدا تعالٰی کو "رحمان" مان کر اس کی ضرورت نہیں رہتی۔

ف١ یعنی سب خدا کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں اور بندے ہی بن کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے پھر بندہ بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟ اور جس کے سامنے سب محکوم و محتاج ہوں اسے بیٹا بنانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔

مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 167

" اور حضرت عبداللہ بن عمرو راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ بلاشبہ میری امت پر (ایک ایسا زمانہ آئے گا جیسا کہ بنی اسرائیل پر آیا تھا اور دونوں میں ایسی مماثلت ہوگی) جیسا کہ دونوں جوتے بالکل برابر اور ٹھیک ہوتے ہیں یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں سے اگر کسی نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ بدفعلی کی ہوگی تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو ایسا ہی کریں گے اور بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی اور وہ تمام فرقے دوزخی ہوں گے ان میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا! یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم)! جنتی فرقہ کون سا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس میں میں اور میرے صحاب ہوں گے۔ (جامع ترمذی ) اور مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد نے جو روایت معاویہ سے نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ بہتر گروہ دوزخ میں جائیں گے اور ایک گروہ جنت میں جائے گا اور وہ جنتی گروہ " جماعت" ہے اور میری امت میں کئی قومیں پیدا ہوں گی جن میں خواہشات یعنی عقائد و اعمال میں بدعات اسی طرح سرائیت کر جائیں گی جس طرح ہڑک والے میں ہڑک سرایت کر جاتی ہے کہ کوئی رگ اور کوئی جوڑ اس سے باقی نہیں رہتا۔

 

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah