Wednesday, August 20, 2014

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Taa-haa (20) Aya,46,47

قَالَ لَا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى

فَأْتِيَاهُ فَقُولَا إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَاكَ بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى

ارشاد فرمایا: تم دونوں نہ ڈرو بیشک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں میں (سب کچھ) سنتا اور دیکھتا ہوں،

پس تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور کہو: ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے (رسول) ہیں سو تو بنی اسرائیل کو (اپنی غلامی سے آزاد کرکے) ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں (مزید) اذیت نہ پہنچا، بیشک ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں، اور اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی،

46. He said: "Fear not: for I am with you: I hear and see (everything).

 

47. "So go ye both to him, and say, 'Verily we are apostles sent by thy Lord: Send forth, therefore, the Children of Israel with us, and afflict them not: with a Sign, indeed, have we come from thy Lord! and peace to all who follow guidance!

ف١٠ یعنی جو باتیں تمہارے اور اس کے درمیان ہوں گی یا جو معاملات پیش آئیں گے وہ سب میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں مَیں کسی وقت تم سے جدا نہیں، میری حمایت و نصرت تمہارے ساتھ ہے۔ گھبرانے اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

[٣١] فرعون کو دعوت دینے پانچ کلمات :۔ گویا فرعون کے سامنے دعوت کا پانچ نکاتی پروگرام ان پیغمبروں کو دیا گیا۔ ان میں سے چار تو دعوت دین کے بنیادی نکات اور ایک مطالبہ ہے۔ پہلی بات یہ تھی کہ اسے کہنے کہ ہم تمہارے پروردگار کے رسول ہیں۔ اس میں دو نکات آگئے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے پروردگار تم نہیں بلکہ وہ ذات ہے جو ہر چیز کا، ہمارا اور خصوصا ً تمہارا بھی پروردگار ہے، دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم دونوں اسی پروردگار کے بھیجے ہوئے تیرے پاس آئے ہیں خود نہیں آئے۔ گویا اس ایک حملہ میں توحید و رسالت کا ذکر آگیا۔ تیسرا نکتہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنا چھوڑ دے اور انھیں اپنی غلامی سے آزاد کر اور انھیں ہمارے ہمراہ کر دے تاکہ وہ آزادانہ زندگی بسر کرسکیں اور یہ تیسرا نکتہ خاص اس قسم کے حالات کے مطابق تھا۔ چوتھا نکتہ یہ تھا کہ جو شخص اس راہ ہدایت یعنی اللہ کی توحید اور ہماری رسالت پر ایمان لے آئے گا اور اللہ ہی کی عبادت اور ہماری اطاعت کرے گا اس کے لئے اس دنیا میں امن اور سلامتی ہوگی اور آخر میں بھی۔ اور پانچویں یہ تھا کہ ہمیں بذریعہ وحی اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ جو شخص ہماری دعوت سے منہ پھیرے گا آخر میں اس کے لئے عذاب ہوگا۔ گویا چوتھے اور پانچویں نکتہ میں ایمان کے نہایت اہم جزء ایمان بالأخرت کی دعوت پیش کی گئی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بات کہہ دینا کہ ہمارا یہ دعویٰ رسالت بے دلیل نہیں بلکہ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں۔

سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1748           حدیث مرفوع    مکررات  5   متفق علیہ 0

ہشام بن عمار، سعید بن یحییٰ لخمی، محمد بن عمرو، مصعب بن ثابت، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ کے ہاں روزہ افطار کیا تو دعا دی کہ روزہ دار تمہارے ہاں افطار کریں نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں اور فرشتے تمہارے لئے دعائیں کریں ۔

It was narrated that Abdullah bin Zubair said : The Messenger of Allah P.B.U.H broke his fast with Saad bin Muadh and said: Aftara indakamus-saimun wa akala ta amakumul-abrar , wa-sallat alaikumul malaikah (May fasting people break their fast with you, may be the rightoeous eat your food  and may be the Angels send blessing upon you) (sahih)

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah