, July 05, 2015  SUNDAY

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Ash-Shu'araa (26) Aya,6,7

فَقَدْ كَذَّبُوا فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَاء مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُون

أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الْأَرْضِ كَمْ أَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ

سو بیشک وہ (حق کو) جھٹلا چکے پس عنقریب انہیں اس امر کی خبریں پہنچ جائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،

اور کیا انہوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس میں کتنی ہی نفیس چیزیں اگائی ہیں،

Thus they rejected (the Truth); well, soon will come to them the real descriptions of what they used to ridicule.

Have they not looked at the earth, how many of the noble pairs (of vegetation) We have caused to grow in it?

5 منکرین و مکذبین کے لیے آخری جواب نتیجہ وانجام کا انتظار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " عنقریب ہی آجائے گی انکے پاس حقیقت اس چیز کی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے تھے " تب ان کو اپنے اِعراض و اِنکار کا نتیجہ وانجام خود معلوم ہو جائے گا۔ یعنی جب آنکھ بند ہوتے ہی عالمِ آخرت کے وہ غیبی حقائق خود بخود روز روشن کی طرح ان کی آنکھوں کے سامنے آ جائیں گے اور وہ سب کچھ یہ لوگ خود بخود اور بچشمِ سر دیکھ لیں گے تب ان کو پتہ چل جائے گا۔ اور اس وقت یہ خوب سنیں اور مانیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا - { اَسْمِعْ بِہِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا } - ( مریم :38) " کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے یہ لوگ اس دن جس دن کہ یہ ہمارے پاس پہنچیں گے " ۔ مگر اس وقت کے اس دیکھنے سننے کا ان کو فائدہ نہیں ہوگا۔ سوائے حسرت و افسوس میں اضافہ کے - والعیاذ باللہ - سو انکے اس استہزاء کے نتیجے میں ان پر وہ عذاب بہرحال آکر رہے گا جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے تھے۔ خواہ عذاب عاجل کی صورت میں اسی دنیا میں یا پھر آخرت میں یا دونوں میں - والعیاذ باللہ - بہرحال اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین و مکذبین کے لیے آخری جواب یہی ہے کہ وہ اپنے نتیجہ و انجام کا انتظار کریں ۔ وقت آنے پر حقیقت خود بخود معلوم ہو جائے گی۔

6زمین کی نشانیوں میں نگاہِ عبرت ڈالنے کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے اس زمیں کو نہیں دیکھا کہ ہم نے کس طرح اس میں قسما قسم کی نفع بخش چیزیں اگائی ہیں " تو کیا یہ ہماری اس قدرت کی کوئی کم نشانی ہے؟ بھلا اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کس کے بس میں ہے کہ وہ زمین سے اگنے والی طرح طرح کی ان عمدہ اور نفع بخش چیزوں میں سے کوئی ایک بھی اگا سکے؟ اور اگانا تو درکنار آج تک کوئی بڑے سے بڑا دہریہ بھی اس کا کوئی دعوٰی نہیں کر سکا اور نہ کبھی کر سکتا ہے کہ یہ کام اس نے یا اس جیسی کسی اور مخلوق نے کیا ہے۔ تو پھر وہ کون ہو سکتا ہے جو خداوند قدوس کی اس قدرت میں شرکت کا دم مار سکے؟ سو اس طرح قدرت خداوندی کے یہ کھلے دلائل اِثباتِ توحید کے ساتھ ساتھ شرک کی بھی جڑ کاٹ کر رکھ دیتے ہیں - والحمد للہ رب العالمین - سو آخر یہ لوگ عذاب مانگنے کی بجائے انہی دلائل میں غور کیوں نہیں کرتے؟ ان کی عقلوں کو کیا ہو گیا ؟۔

مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 1364             حدیث مرفوع              مکررات  3   متفق علیہ 1

عامربن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے بھائی عمر مدینہ منورہ سے باہر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے بکریوں کے فارم میں چلے گئے، جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا ( تو وہ پریشان ہوگئے کہ اللہ خیر کرے ، کوئی اچھی خبر لے کر آیا ہو) اور کہنے لگے کہ اس سوار کے پاس اگر کوئی بری خبر ہے تو میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، جب وہ ان کے قریب پہنچے تو کہنے لگے اباجان! لوگ مدینہ منورہ میں حکومت کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں اور آپ دیہاتیوں کی طرح اپنی بکریوں میں مگن ہیں؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا خاموش رہو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتے ہیں جو متقی ہو، بے نیاز ہو اور اپنے آپ کو مخفی رکھنے والا ہو۔

"Narrated Abu Aiyub (May Allah Subhanahu wa ta'ala be pleased with him):

The Prophet (May Peace,blessings and mercy of Allah Subhanahu wa ta'ala be on him) said, ""It is not lawful for a Muslim to desert (not to speak to) his brother Muslim for more than three days while meeting, one turns his face to one side and the other turns his face to the other side. Lo! The better of the two is the one who starts greeting the other.""

Sahih Bukhari: Volume 8, Book 74, Number 254"

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah