20-12-2014  Saturday

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Al-Anbiyaa (21) Aya,76,77

وَنُوحًا إِذْ نَادَى مِن قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ

وَنَصَرْنَاهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ

اور نوح (علیہ السلام کو بھی یاد کریں) جب انہوں نے ان (انبیاء علیہم السلام) سے پہلے (ہمیں) پکارا تھا سو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑے شدید غم و اندوہ سے نجات بخشی،

اور ہم نے اس قوم (کے اذیت ناک ماحول) میں ان کی مدد فرمائی جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ بیشک وہ (بھی) بہت بری قوم تھی سو ہم نے ان سب کو غرق کر دیا،

And (remember) NuH, when he called (for help) earlier, so We responded to him and saved him and his family from the terrible agony,

and helped him against the people who gave the lie to Our verses. Indeed, they were the people of evil, therefore, We drowned them all.

نوح علیہ السلام کی دعا

نوح نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی قوم نے ستایا تکلیفیں دیں تو آپ نے اللہ کو پکارا کہ باری  تعالیٰ میں عاجز آگیا ہوں تو میری مدد فرما۔ زمین پر ان کافروں میں کسی ایک کو بھی باقی نہ رکھ ورنہ یہ تیرے بندوں کو بہکائیں گے۔ اور ان کی اولادیں بھی ایسی ہی فاجر کافر ہوں گی۔ اللہ  تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو اور مومنوں کو نجات دی اور آپ کے اہل کو بھی سوائے ان کے جن کے نام برباد ہونے والوں میں آگئے تھے ۔ آپ پر ایمان لانے والوں کی بہت ہی کم مقدار تھی۔ قوم کی سختی ، ایذاء دہی، اور تکلیف سے اللہ عالم نے اپنے نبی کو بچالیا۔ ساڑھے نوسو سال تک آپ ان میں رہے اور انھیں دین اسلام کی طرف بلاتے رہے مگر سوائے چند لوگوں کے اور سب اپنے شرک وکفر سے باز نہ آئے بلکہ آپ کو سخت ایذائیں دیں اور ایک دوسرے کو اذیت دینے کے لیے بھڑکاتے رہے۔ ہم نے ان کی مدد فرمائی اور عزت آبرو کے ساتھ کفار کی ایذاء رسانیوں سے چھٹکارا دیا اور ان برے لوگوں کوٹھکانے لگادیا۔ اور نوح علیہ السلام کی دعا کے مطابق روئے زمین پر ایک بھی کافر نہ بچا سب ڈبودئے گئے۔

ف٧ نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو برس تک قوم کو سمجھاتے رہے اتنی طویل مدت میں سخت زہرہ گداز سختیاں اٹھائیں۔ آخر دعا کی (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ) 54۔ القمر:10) اور (وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) 71۔نوح:26) حق  تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی۔ کافروں کو طوفان سے غرق کر دیا اور نوح علیہ السلام کو مع ہمراہیوں کے طوفان کی گھبراہٹ اور کفار کی ایذا دہی سے بچا لیا۔ ان کا مفصل قصہ پہلے گزر چکا۔

حدثنا محمد بن عبيد الغبري حدثنا أبو عوانة عن أبي حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم من کذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 6       حدیث متواتر حدیث مرفوع       مکررات  35   متفق علیہ 14

محمد بن عبید عنبری ، ابوعوانہ ، ابوحصین ، ابوصالح، حضرت  ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے ۔

Narrated 'Abdullah (May Allah Subhanahu wa ta'ala be pleased with him) -

We were with the Prophet (May Peace,blessings and mercy of Allah Subhanahu wa ta'ala be on him) while we were young and had no wealth whatever. So Allah's Apostle (May Peace,blessings and mercy of Allah Subhanahu wa ta'ala be on him) said, "O young people! Whoever among you can marry, should marry, because it helps him lower his gaze and guard his modesty (i.e. his private parts from committing illegal sexual intercourse etc.), and whoever is not able to marry, should fast, as fasting diminishes his sexual power."

Saih Bukhari: Volume 7, Book 62, Number 4

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah