02 -03 2015   Monday

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Al-Muminoon (23) Aya,7,8,9

فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاء ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ

وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ

وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ

پھر جو شخص ان (حلال عورتوں) کے سوا کسی اور کا خواہش مند ہوا تو ایسے لوگ ہی حد سے تجاوز کرنے والے (سرکش) ہیں،

اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں،

اور جو اپنی نمازوں کی (مداومت کے ساتھ) حفاظت کرنے والے ہیں،

But those whose desires exceed those limits are transgressors;-

8. Those who faithfully observe their trusts and their covenants;

9. And who (strictly) guard their prayers;-

ف٤ یعنی اپنی منکوحہ عورت یا باندی کے سواء کوئی اور راستہ قضائے شہوت کا ڈھونڈے، وہ حلال کی حد سے آگے نکل جانے والا ہے۔ اس میں زنا، لواطت اور استمناء بالید وغیرہ سب صورتیں آگئیں، بلک بعض مفسرین نے حرمت متعہ پر بھی اس سے استدلال کیا ہے وفیہ کلام طویل لایسعہ المقام۔ راجع روح المعانی تحت ہذہ الایۃ الکریمہ۔

ف ٥ یعنی امانت اور قول و قرار کی حفاطت کرتے ہیں، خیانت اور بدعہدی نہیں کرتے نہ اللہ کے معاملہ میں نہ بندوں کے۔

ف ٦  نمازیں اپنے اوقات پر آداب و حقوق کی رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ بندوں کے معاملات میں پڑ کر عبادت الٰہی سے غافل نہیں ہوتے۔ یہاں تک مومنین مفلحین کی چھ صفات و خصال بیان کیں۔ (١) خشوع و خضوع سے نمازیں پڑھنا، یعنی بدن اور دل سے اللہ کی طرف جھکنا۔ (٢) باطل لغو اور نکمی باتوں سے علیحدہ رہنا۔ (٣)  زکوٰۃ  یعنی مالی حقوق ادا کرنا یا اپنے بدن، نفس اور مال کو پاک رکھنا۔ (٤) شہواتِ نفسانی کو قابو میں رکھنا۔ (٥) امانت و عہد کی حفاظت کرنا گویا معاملات کو درست رکھنا۔ (٦) اور آخر میں پھر نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرنا کہ اپنے وقت پر آداب و شروط کی رعایت کے ساتھ ادا ہوں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز کا حق  تعالیٰ کے یہاں کیا درجہ ہے اور کس قدر مہتم بالشان چیز ہے کہ اس سے شروع کر کے اسی پر ختم فرمایا۔

وعن محمد بن كعب القرظي قال حدثني من سمع علي بن أبي طالب قال إنا لجلوس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد فاطلع علينا مصعب بن عمير ما عليه إلا بردة له مرقوعة بفرو فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم بكى للذي كان فيه من النعمة والذي هو فيه اليوم ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف بكم إذا غدا أحدكم في حلة وراح في حلة ؟ ووضعت بين يديه صحفة ورفعت أخرى وسترتم بيوتكم كما تستر الكعبة ؟ . فقالوا يا رسول الله نحن يومئذ خير منا اليوم نتفرغ للعبادة ونكفى المؤنة . قال لا أنتم اليوم خير منكم يومئذ . رواه الترمذي .

مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 1297

حضرت محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کو سنا تھا (چنانچہ اس شخص نے بیان کیا کہ) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ایک دن ہم لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں (یعنی مسجد نبوی یا مسجد قبا میں) بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب ابن عمیر رضی اللہ عنہ بھی وہاں آ گئے اس وقت ان کے بدن پر صرف ایک چادر تھی اور اس چادر میں بھی چمڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو رو پڑے کہ ایک زمانہ وہ تھا جب مصعب اس قدر خوشحال اور آرام و راحت کی زندگی گزارتے تھے اور آج ان کی کیا ٹوٹی پھوٹی حالت ہے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار تعجب وحسرت کے طور پر فرمایا۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم میں کوئی شخص صبح کو ایک جوڑا پہن کر نکلے گا اور پھر شام کو دوسرا جوڑا پہن کر نکلے گا، تمہارے سامنے کھانے کا ایک بڑا پیالہ رکھا جائے گا اور دوسرا اٹھایا جائے گا اور تم اپنے گھروں پر اس طرح پردہ ڈالو گے جس طرح کعبہ پر پردہ ڈالا جاتا ہے (یعنی حضور نے اس ارشاد کے ذریعے آنے والے زمانہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ جب تم پر خوشحالی وترفہ کا دور آئے گا، اللہ تعالیٰ دنیا کے خزانوں کی کنجیاں تمہارے قدموں میں ڈال دے گا، تمہارے گھروں میں مال واسباب کی فراوانی ہوگی تو تم دن میں کئی کئی مرتبہ جوڑے بدلو گے، صبح کا لباس الگ ہوگا، شام کا الگ، تمہارے دستر خوان انواع واقسام کے کھانوں اور لذیذ و مرغوب اشیاء سے بھرے ہوں گے ، تمہارے مکان راحت و آسائش اور آراستگی و زیبائش کی چیزوں سے پر رونق ہوں گے اور گویا تمہاری زندگی عیش وعشرت کا گہوارہ اور اسراف و تنعم کی آئینہ دار ہو جائے گی۔ تو بتاؤ اس وقت تمہارے دل کی کیا حالت ہوگی اور تم کیا محسوس کرو گے؟ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم اس دن جب کہ خوشحالی وترفہ کی نعمت سے بہرہ مند ہوں گے آج کے دن سے (جب کہ ہم فقر و افلاس کی گرفت میں ہیں) بہتر حال میں ہوں گے۔ کیونکہ اس وقت ہم عبادت کے لئے اپنی معاشی جدوجہد کی الجھنوں اور حصول رزق کے فکر سے آزاد وفارغ ہوں گے اور ہمیں محنت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی (یعنی جب اس وقت ہمیں معاشی واقتصادی طور پر خوشحالی حاصل ہوگی اور نوکر چاکر ہمارے سارے کام کاج کریں گے تو ہم ذہنی وجسمانی طور پر پوری طرح بے فکر وآزاد ہوں گے اور اس صورت میں طاعت وعبادت اور دینی خدمت میں پوری دل جمعی اور سکون کے ساتھ منہمک رہ سکیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ ایسا نہیں ہے کہ اس وقت تم بہتر ہوگے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم اس دن کی نسبت آج کے دن زیادہ بہتر ہو۔ (ترمذی)

Narrated Abu Huraira (May Allah Subhanahu wa ta'ala be pleased with him)

Allah's Apostle (May Peace,blessings and mercy of Allah Subhanahu wa ta'ala be on him) said, "The invocation of anyone of you is granted (by Allah) if he does not show impatience (by saying, "I invoked Allah but my request has not been granted.")

Sahih Bukhari:Volume 8, Book 75, Number 352

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah