, August 31, 2015  Monday

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Ash-Shu'araa (26) Aya,101,102,103

وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ

فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ

اور نہ کوئی گرم جوش دوست ہے،

سو کاش ہمیں ایک بار (دنیا میں) پلٹنا (نصیب) ہو جاتا تو ہم مومن ہوجاتے،

بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے، اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے،

101. "'Nor a single friend to feel (for us).

 

102. "'Now if we only had a chance of return we shall truly be of those who believe!'"

 

103. Verily in this is a Sign but most of them do not believe.

ف١ یعنی بت اور بت پرست اور ابلیس کا سارا لشکر، سب کو دوزخ میں اوندھے منہ گرا دیا جائے گا۔ وہاں پہنچ کر آپس میں جھگڑیں گے۔ ایک دوسرے کو الزام دے گا اور آخرکار اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے کہ واقعی ہم سے بڑی سخت غلطی ہوئی کہ تم کو (یعنی بتوں کو یا دوسری چیزوں کو جنہیں خدائی کے حقوق و اختیار دے رکھے تھے) رب العالمین کے برابر کر دیا۔ کیا کہیں یہ غلطی ہم سے ان بڑے شیطانوں نے کرائی، اب ہم اس مصیبت میں گرفتار ہیں نہ کوئی بت کام دیتا ہے نہ شیطان مدد کو پہنچتا ہے۔ وہ خود ہی دوزخ کے کندے بن رہے ہیں ۔ کوئی اتنا بھی نہیں کہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کر دے یا کم ازکم اس آڑے وقت میں کوئی دوست دلسوزی و ہمدردی کا اظہار کرے۔ سچ ہے (اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ) 43۔ الزخرف:67)

ف٢ یعنی اگر ایک مرتبہ ہم کو پھر دنیا کی طرف واپس جانے کا موقع دیا جائے تو اب وہاں سے پکے ایماندار بن کر آئیں لیکن یہ کہنا بھی جھوٹ ہے۔ ( وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ) 6۔ الانعام:28)

ف٣ یعنی ابراہیم کے اس قصہ میں توحید وغیرہ کے دلائل اور مشرکین کا عبرتناک انجام دکھلایا گیا ہے مگر لوگ کہاں مانتے ہیں ۔

حدثنا محمد بن بشار قال حدثنا غندر قال حدثنا شعبة قال سمعت عمرو بن عامر الأنصاري عن أنس بن مالک قال کان المؤذن إذا أذن قام ناس من أصحاب النبي صلی الله عليه وسلم يبتدرون السواري حتی يخرج النبي صلی الله عليه وسلم وهم کذلک يصلون الرکعتين قبل المغرب ولم يکن بين الأذان والإقامة شيئ قال عثمان بن جبلة وأبو داود عن شعبة لم يکن بينهما إلا قليل

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 602          حدیث مرفوع              مکررات  7   متفق علیہ 4

محمد بن بشار، غندر، شعبہ، عمرو، عامر انصاری، انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ جب مؤذن اذان کہتا تھا تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ستونوں کے پاس چلے جاتے تھے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے اور وہ اسی طرح مغرب سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور اذان اور اقامت کے درمیان میں کچھ فصل نہ ہوتا تھا اور عثمان بن حیدر اور ابوداؤد شعبہ سے ناقل ہیں کہ ان دونوں کے درمیان بہت ہی تھوڑا فصل ہوتا تھا۔

Narrated Anas bin Malik: "When the Mu'adhdhin pronounced the Adhan, some of the companions of the Prophet would proceed to the pillars of the mosque (for the prayer) till the Prophet arrived and in this way they used to pray two Rakat before the Maghrib prayer. There used to be a little time between the Adhan and the Iqama." Shu'ba said, "There used to be a very short interval between the two (Adhan and Iqama)."

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah