Tuesday, September 30, 2014

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Taa-haa (20) Aya 97,

قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيَاةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهُ وَانظُرْ إِلَى إِلَهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا لَّنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفًا

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: پس تو (یہاں سے نکل کر) چلا جا چنانچہ تیرے لئے (ساری) زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ تو (ہر کسی کو یہی) کہتا رہے: (مجھے) نہ چھونا (مجھے نہ چھونا)، اور بیشک تیرے لئے ایک اور وعدۂ (عذاب) بھی ہے جس کی ہرگز خلاف ورزی نہ ہوگی، اور تو اپنے اس (من گھڑت) معبود کی طرف دیکھ جس (کی پوجا) پر تو جم کر بیٹھا رہا، ہم اسے ضرور جلا ڈالیں گے پھر ہم اس (کی راکھ) کو ضرور دریا میں اچھی طرح بکھیر دیں گے،

He (Musa) said, :Then go away; it is destined for you that, throughout your life, you will say: _Do not touch me‘. And, of course, you have another promise that will not be broken for you. And look at your god to which you stayed devoted. We will certainly burn it, then we will scatter it thoroughly in the sea.

ف٩ یعنی مجھے ہاتھ مت لگاؤ مجھ سے علیحدہ رہو، چونکہ اس نے بچھڑا کا ڈھونگ بنایا تھا حُبِ جاہ و ریاست سے کہ لوگ اس کے ساتھ ہوں اور سردار مانیں اس کے مناسب سزا ملی کہ کوئی پاس نہ پھٹکے، جو قریب جائے وہ خوددور رہنے کی ہدایت کر دے۔ اور دنیا میں بالکل ایک ذلیل، اچھوت اور وحشی جانور کی طرح زندگی گزارے۔

ف١٠ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "دنیا میں اس کو یہ ہی سزا ملی کہ لشکر بنی اسرائیل سے باہر الگ رہتا۔ اگر وہ کسی سے ملتا یا کوئی اس سے تو دونوں کو تپ چڑھتی، اسی لیے لوگوں کو دور دور کرتا۔ اور یہ جو فرمایا کہ ایک وعدہ ہے جو خلاف نہ ہوگا۔ شاید مراد عذاب آخرت ہے اور شاید دجال کا نکلنا، وہ بھی یہود میں سامری کے فساد کی تکمیل کرے گا۔ جیسے ہمارے پیغمبر مال بانٹتے ہیں، ایک شخص نے کہا انصاف سے بانٹو۔ فرمایا "اس کی جنس کے لوگ نکلیں گے" وہ خارجی نکلے کہ اپنے پیشواؤں پر لگے اعتراض پکڑنے، جو کوئی دین کے پیشواؤں پر طعن کرے ایسا ہی ہے۔"

ف١١ یعنی تیری سزا تو یہ ہوئی۔ اب تیرے جھوٹے معبود کی قلعی بھی کھولے دیتا ہوں۔ جس بچھڑے کو تو نے خدا بنایا اور دن بھر وہاں دل جمائے بیٹھا رہتا تھا، ابھی تیری آنکھوں کے سامنے توڑ پھوڑ کر اور جلا کر راکھ کر دوں گا۔ پھر راکھ کو دریا میں بہادوں گا۔ تاکہ اس کے پجاریوں کو خوب واضح ہو جائے کہ وہ دوسروں کو تو کیا نفع نقصان پہنچا سکتا، خود اپنے وجود کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا۔

مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 172

" اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم یہود کی حدیثیں سنتے ہیں اور وہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہوتی ہیں کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیتے ہیں کہ ہم ان میں سے بعض کو لکھ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم بھی اسی طرح حیران ہو جس طرح یہود اور نصاریٰ حیران ہیں۔ (جان لو کہ) بلاشبہ میں تمہارے پاس صاف و روشن شریعت لایا ہوں، اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو وہ بھی میری پیروی پر مجبور ہوتے۔" (مسند احمد بن حنبل ، بیہقی)

تشریح :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہود و نصاریٰ حیران ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو اور اپنے پیغمبر کی حقیقی تعلیم کو چھوڑ دیا ہے اور اپنے خود غرض و لالچی علماء کی خواہشات کے مطیع ہوگئے ہیں، کیا اسی طرح تم بھی متحیر ہو کہ اپنے دین کو ناقص و نامکمل سمجھ کر دوسروں کے دین و شریعت کے محتاج ہو رہے ہو، حالانکہ میری لائی ہوئی شریعت اتنی مکمل اور واضح ہے کہ اگر آج موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی میری شریعت کے پابند اور میرے احکام کے مطیع ہوتے۔

Narrated Abu Huraira (May Allah Subhanahu wa ta'ala be pleased with him) -

 

Allah's Apostle (May Peace,blessings and mercy of Allah Subhanahu wa ta'ala be on him) said, "For every prophet there is one (special invocation (that will not be rejected) with which he appeals (to Allah), and I want to keep such an invocation for interceding for my followers in the Hereafter."

(Sahih Bukhari: Volume 8, Book 75, Number 317)

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah