25-11-2014 Tuesday

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

Sura: Al-Anbiyaa (21) Aya,31

وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ

اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ (اپنے مدار میں حرکت کرتے ہوئے) انہیں لے کر کانپنے لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ (مختلف منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پاسکیں،

And We created mountains on the earth, lest it should shake with them, and We have made therein paths and ways, so that they are guided.

٣ ف یعنی اس سے لوگوں کو ایک سے دوسرے مقام تک جانے اور پہنچنے کے راستے مل سکیں۔ اور وہ زندگی کی مختلف ضروریات اور حاجات کی تکمیل کا سامان کر سکیں۔ چنانچہ وہ قدرت کی ان عنایات سے دن رات مستفید و فیض یاب ہوتے ہیں، اور طرح طرح سے ہوتے ہیں، نیز اسی سے وہ اس حقیقت تک رسائی کا راستہ پا سکیں کہ یہ عظیم الشان اور پُر حکمت نظام آخر کس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ و ثمرہ ہے؟ اور اس کا ہم پر کیا حق عائد ہوتا ہے؟ نیز اسی سے وہ اس اہم اور بنیادی حقیقت تک رسائی اور اسکی راہنمائی حاصل کر سکیں کہ جس ذات اقدس واعلیٰ نے ان کی دنیاوی، اور مادی ضرورتوں کی تحصیل و تکمیل کیلئے اس قدر حکمتوں بھرا نظام قائم فرمایا ہے، کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ انکی روحانی اور معنوی ضرورتوں کی تحصیل و تکمیل کا سامان نہ کرے، جبکہ انسان کے اندر اصل چیز روح ہی ہے؟ سو اس رب رحمان نے اپنی رحمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق انسان کی روحانی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے وحی کا سلسلہ قائم فرمایا جس کا نقطہ کمال اب قرآن حکیم کی صورت میں دنیا کو عطا فرمایا گیا ہے، اور جو اب قیامت تک تمام بنی نوع انسان کی روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کرتا رہے گا۔ فالحمد للہ رب العالمین الذی منہ الصدق والصواب، والیہ المرجع والماب،

عن عمر بن أبي سلمة قال : كنت غلاما في حجر رسول الله صلى الله عليه و سلم وكانت يدي تطيش في الصفحة . فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم " سم الله وكل يمينك وكل مما يليك "

مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 98

" حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش و تربیت میں تھا ( ایک دن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا ) اور میرا ہاتھ رکابی میں جلدی جلدی گھوم رہا تھا ( یعنی جیسا کہ بچوں کی عادت ہوتی ہے ، میں اپنے سامنے سے کھانے کے بجائے ادھر ادھر ہاتھ ڈال رہا تھا ) چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ " بسم اللہ کہو دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اس جانب سے کھاؤ جو تمہارے نزدیک ہے ( یعنی اپنے سامنے سے کھاؤ ۔ " ( بخاری ومسلم )

تشریح

اس حدیث میں کھانے کے تین بنیادی آداب کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ۔ سب سے پہلا ادب تو یہ ہے کہ کھانے کی ابتداء بسم اللہ کہہ کر ہونی چاہئے ۔ دوسرا ادب یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے کھانا چاہئے اور تیسرا ادب یہ ہے کہ کھانے کے برتن میں اپنے سامنے سے کھانا چاہئے ۔ جمہور علماء کا رجحان اس طرف ہے کہ اس حدیث میں مذکورہ بالا تینوں باتوں کا جو حکم دیا گیا ہے ، وہ استحباب کے طور پر ہے ۔ اسی طرح دوسری روایت میں کھانے کے بعد اللہ کی حمد و شکر کا جو حکم دیا گیا ہے وہ بھی مسئلہ ہے کہ اگر ایک دستر خوان پر کئی آدمی کھانے بیٹھیں تو سب لوگ بسم اللہ کہیں ! جب کہ بعض علماء کے نزدیک کہ جن میں حضرت امام شافعی بھی شامل ہیں یہ کہتے ہیں کہ محض ایک آدمی کا بسم اللہ کہہ لینا سب کے لئے کافی ہو جائے گا ۔ پانی یا دوا وغیرہ پینے کے وقت بسم اللہ کہنے کا بھی وہی حکم ہے جو کھانے کے شروع میں بسم اللہ کہنے کا ہے ۔

"Narrated Anas (May Allah Subhanahu wa ta'ala be pleased with him) -

If I had not heard the Prophet (May Peace,blessings and mercy of Allah Subhanahu wa ta'ala be on him) saying, ""You should not long for death,"" I would have longed (for it).

 

Sahih Bukhari: Volume 9, Book 90, Number 339"

Please. Forward to Others

Sadaq Allah ul Azeem

Was Salaatu Was Salaam 'ala Rasulillah